Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • حُسنِ اَخلاق .تحریر:مبین خان

    حُسنِ اَخلاق .تحریر:مبین خان

    حسن اَخلاق کی ایک پہلو کے اعتبار سے تعریف:‏
    ’’حسن‘‘ اچھائی اور خوبصورتی کو کہتے ہیں، ’’اَخلاق‘‘ جمع ہے ’’خلق‘‘ کی جس کا معنی ہے ’’رویہ، برتاؤ، عادت‘‘۔یعنی لوگوں کے ساتھ اچھے رویے یا اچھے برتاؤ یا اچھی عادات کو حسن اَخلاق کہا جاتا ہے۔امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں:

    ’’اگر نفس میں موجود کیفیت ایسی ہو کہ اس کے باعث عقلی اور شرعی طور پر پسندیدہ اچھے اَفعال ادا ہوں تو اسے حسن اَخلاق کہتے ہیں اور اگر عقلی اور شرعی طور پر ناپسندیدہ برے اَفعال ادا ہوں تو اسے بداَخلاقی سے تعبیر کیاجاتا ہے۔‘‘
    حسن اَخلاق میں شامل نیک اعمال:

    حقیقت میں حسن اَخلاق کا مفہوم بہت وسیع ہے، اس میں کئی نیک اعمال شامل ہیں چند اعمال یہ ہیں:معافی کو اختیار کرنا، بھلائی کا حکم دینا، برائی سے منع کرنا،جاہلوں سے اعراض کرنا، قطع تعلق کرنے والے سے صلہ رحمی کرنا،محروم کرنے والے کو عطا کرنا،ظلم کرنے والے کو معاف کردینا،خندہ پیشانی سے ملاقات کرنا،کسی کو تکلیف نہ دینا،نرم مزاجی، بردباری، غصے کے وقت خود پر قابو پالینا، غصہ پی جانا، عفو ودرگزر سے کام لینا، لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملنا، مسلمان بھائی کے لیے مسکرانا، مسلمانوں کی خیر خواہی کرنا، لوگوں میں صلح کروانا، حقوق العباد کی ادائیگی کرنا، مظلوم کی مدد کرنا، ظالم کو اس کے ظلم سے روکنا، دعائے مغفرت کرنا، کسی کی پریشانی دور کرنا، کمزوروں کی کفالت کرنا، لاوارث بچوں کی تربیت کرنا، چھوٹوں پر شفقت کرنا، بڑوں کا احترام کرنا، علماء کا ادب کرنا، مسلمانوں کو کھانا کھلانا، مسلمانوں کو لباس پہنانا، پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنا ، مشقتوں کو برداشت کرنا، حرام سے بچنا، حلال حاصل کرنا، اہل وعیال پر خرچ میں کشادگی کرنا۔ وغیرہ:
    آیت مبارکہ:‏

    اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے:( وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴))(پ۲۹، القلم: ۴)ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور بے شک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے ۔‘‘اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے:حضرت اُمُّ المومنین عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ سیّدِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا خُلْق قرآن ہے ۔ حدیث شریف میں ہے سیّدِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اللہ تَعَالٰی نے مجھے مَکارِمِ اَخلاق و محاسنِ افعال کی تکمیل وتتمیم (مکمل وپورا کرنے)کے لئے مبعوث فرمایا ۔

    ترے خُلْق کو حق نے عظیم کہا

    تر ی خِلْق کو حق نے جمیل کیا
    کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہوگا شہا!

    (حدیث مبارکہ) میزان عمل میں سب سے وزنی شے:

    حضرتِ سیِّدُناابودَرْداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ تاجدارِ مدینہ، راحت قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ باقرینہ ہے: ’’ قیامت کے دن مؤمن کے میزان میں حسنِ اَخلاق سے زیادہ وزنی کوئی شے نہیں ہو گی۔‘‘

    حسن اَخلاق کا حکم:
    حسن اخلاق کے مختلف پہلو ہیں اسی وجہ سے بعض صورتوں میں حسن اخلاق واجب، بعض میں سنت اور بعض صورتوں میں مستحب ہے۔
    حسن اَخلاق اپنانے کے دس(10)طریقے:
    (1)اچھی صحبت اِختیار کیجئے:
    (2) حسن اَخلاق کے فضائل کا مطالعہ کیجئے:
    (3)بداَخلاقی کی دُنیوی واُخروی برائیوں پر غور کیجئے:
    (4)حسن اَخلاق میں شامل نیک اَعمال کی معلومات حاصل کیجئے:
    (5)دِل میں احترامِ مسلم پیدا کیجئے:
    (6)نفسانی خواہشات سےپرہیز کیجیے:‏
    (7)حسن اَخلاق کی بارگاہِ اِلٰہی میں دعا کیجئے:
    (8)بُرائی کا جواب اچھائی سے دیجیے:
    (9)بد اَخلاقی کے اَسباب کو دُور کیجئے:
    (10)بلا وجہ غصہ چھوڑ دیجیے:

    تحریر مبین خان

  • صحت عظیم نعمت ہے .تحریر : محمد اویس

    صحت عظیم نعمت ہے .تحریر : محمد اویس

    صحت عظیم نعمت ہے .تحریر : محمد اویس

    دنیا کی ایک تحقیق بھی یہ ثابت نہیں کرسکی کہ کھانے کے بعد Cold Drink پینے سے کھانا ہضم ہوجاتا ہے۔کھانے کے بعد ڈکار (Burp) آنے کو ہم کھانا ہضم ہونے کی علامت سمجھتے ہیں ، جو کہ غلط ہے۔
    دراصل ڈکار آنا کھانا ہضم ہونے کی علامت نہیں بلکہ جب ہم کھانا تیزی سے کھاتے ہیں تو ہمارے پیٹ میں کھانے کے ساتھ ساتھ ہوا (air) بھی چلی جاتی ہے۔ پھر جب ہم کھانے سے فراغت حاصل کر لیتے ہیں تو ہمارے پیٹ میں داخل ہوا (air) منہ کے راستہ سے باہر آتی ہے جس کی وجہ سے ایک آواز پیدا ہوتی ہے جسے ہم ڈکار (burp) کہتے ہیں۔
    کوشش کریں کہ کھانے کے آخر میں پانی نہ پیا جائے کیونکہ کھانے کے آخر میں پانی پینا کھانے کو ہضم کرنے میں رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے۔

    کیونکہ جب کھانا انسانی پیٹ میں جاتا ہے تو چھوٹے چھوٹے ذرّات کی صورت میں ہوتا ہے مگر جب کھانے کے اوپر سے پانی پی لیا جائے یاں کوئی بھی liquid پی لیا جائے تو کھانے کے ذرّات بڑے بڑے ہوجاتے ہیں جو کھانا ہضم کرنے میں رکاوٹ ثابت ہوتے ہیں۔
    انسانی زندگی کے بعض مواقع ایسے ہوتے ہیں جب Cold Drink کا استعمال بہت زیادہ ہوجاتا ہے مثلاً شادی بیاہ ، پارٹیز اور عید جیسی تقریبات کے موقع پر۔

    تو یاد رکھیں صرف ایک Cold Drink کا can جو 330 ملی لیٹر پر مشتمل ہوتا ہے اُس میں 9.75 چائے کے چمچ کے برابر چینی (sugar) شامل ہوتی ہے یعنی 330 ملی لیٹر کولڈ ڈرنک کا can جب انسان کے پیٹ میں جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ کہ liquid کے ساتھ ساتھ 39 گرام چینی (sugar) بھی انسان کے پیٹ میں جارہی ہوتی ہے
    جس کی وجہ سے انسان کے جسم میں diabetes ، bloodpressure ، وزن میں اضافہ اور جگر کے امراض جیسی مہلک بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں تو کوشش کریں کولڈ ڈرنکس کی جگہ تازہ پھلوں سے تیار کردہ juice کا استعمال کریں جس کے حقیقتاً فوائد ہیں۔

    اللہ پاک ہمیں طرح طرح کی بیماریوں سے محفوظ فرمائے۔
    اپنی صحت کا خیال رکھیں کیونکہ ” صحت عظیم نعمت ہے۔”

  • گمان  تحریر:   سیف اللہ عمران

    گمان تحریر: سیف اللہ عمران

    گمان ۔۔۔۔تحریر:: عمران علی

    یقین کچے گھڑے کو پکا رنگ دیتا ہے اور گمان محلات میں رہ کر لرزتا ہے، خوفزدہ ہوتا ہے زرا سہمہ رہتا ہے

    آپ کے گمان پر آپ کی زندگی کا تسلسل ہے

    مطلب کہ آپ جس چیز کا گمان زیادہ کر لیں کہ یہ ایسی ہے. تو آگے چل کر آپ کو وہی کچھ ملے گا جیسا آپ نے گمان کیا

    اللہ پاک فرماتے ہیں اے میرے بندے تومجھ سے جیسا گمان کرے گا میں تجھ سے تیرےگمان کے مطابق معاملہ کرتا رہوں گا پختہ یقین منزل کو قدموں کی دھول بنا دیتا ہے اللہ پر یقین مثبت سوچ اور مضبوط ارادہ جس کے کردار اور شخصیت ہوں وہ ماحول میں نہیں ماحول خود ان میں ڈھلتا ہے کیوں کہ انسان کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی نہیں مانتا

    عبرت اور مقدر میں بڑا فرق ہے
    کچھ لوگ عبرت حاصل کرکے مقدر سنوار لیتے ہیں.
    اور کچھ لوگ مقدر پر چھوڑ کر عبرت بن جاتے ہیں.

    تمھیں پتہ ہے تمہارا مسئلہ کیا ہے ۔۔۔؟
    تم نے اپنے فیصلے اللہ پر چھوڑ تو دیے ہیں مگر دل سے نہیں چھوڑے تم اب بھی چاہتے ہو کہ کاش فیصلہ وہی ہو جو تمہاری خواہش ہے

    یہ کیسا اعتبار ہے بھلا ۔۔۔؟
    سمندر کے بیچ کھڑے شخص کو اس بات سے کیا غرض کشتی آر لگے یہ پار اسے تو بس یہ یقین ہونا چاہیے٬
    میں ڈوب بھی گیا تو یہ میرے لیے آر پار جانے سے بہتر ہوگا
    یہی تو اعتبار امتحان ہے
    اللہ جتنی محبت اپنے بندے سے کرتا ہے آپ کے گمان سے بھی آگے ہے ہم صرف دیکھتے ہیں جو ظاہری خوبصورتی ہے جب کے اللہ یہ بھی جانتا ہے آپ کے لیے کیاخوب صورت ہے
    یقین کرو جس دن اس اعتبار پے فیصلہ اللہ پے چھوڑو گے کہ جو بھی ہوا میرے لیے وہی بہترین ہوگا اس دن نہ صرف آپ بےچینی سے نکل آئیں گے بلکہ فیصلہ آپ کے یقین سے ذیادہ بہترین ہوگا کیوں کہ اللہ ساری دنیا اور لوگوں کے دلوں سمیت ان کی سوچ کے رخ تک بدلنے پے قادر ہے۔

  • سائبان اُجڑ رہے ہیں! تحریر:عقیل احمد راجپوت

    سائبان اُجڑ رہے ہیں! تحریر:عقیل احمد راجپوت

    کراچی میں اس وقت نا جائز تجاوزات کے خلاف آپریشن بہت تیزی سے جاری ہے جس میں برساتی نالوں کے اطراف قبضہ کرکے یا کے ایم سی اور کے ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ اصل یا جعلی کاغذات کے حصول کے بعد بنائے گئے سائبان کو گرایا جائے گا اور گرایا جا بھی رہا ہے دوسری جانب کراچی سرکلر ریلوے کی زمین پر بنائی گئی تعمیرات پر بھی ہر دن بلڈوزر پہنچ جاتے ہیں یہ سب کچھ ایک دم سے نہیں ہوگیا یہ سالوں کی عقل مندی اور ذہانت کا وہ پھل ہے جو کراچی کے عوام اب جا کر چکھ رہے ہیں کیونکہ کراچی میں ادارے تو بہر حال ہر وقت موجود ہی تھے ایسا تو کبھی بھی نہیں ہوا ہوگا کے کراچی کی تعمیراتی اور آبادکاری کرنے والے ادارے چھٹیوں پر گئے ہوئے ہو اور عوام نے ان کی ادوار میں ناجائز تعمیرات کرلی ہو ایسا بھی نہیں ہوسکتا کے کراچی شہر میں آپ ایک دیوار جائز زمین پر بنا رہے ہو اور آپ کو مٹھائی کا ہرجانہ نا بھرنا پڑا ہو کراچی والے یہ سب جانتے ہیں لیکن ایسا کیا ہوا جو ہزاروں گھروں کی تعمیرات ہوتی رہی اور کراچی سے ہر ماہ کروڑوں روپے تنخواہیں وصول کرنے والے ادارے سوتے رہے ہوا کچھ یوں کے ہر منسلک ادارے نے اپنے حصے کا مال غنیمت وصول کیا اور آنکھوں کو بند کئے رکھا کیونکہ ان کی سمجھ کے مطابق بنی گالا کو ریگولیشن کے لئے چھوٹ مل سکتی ہے تو یہ تو بچاری غریبوں کی بستیاں ہیں یہاں کس نے آجانا ہے لیکن ہوا کچھ الٹ بلکہ وہ ہوا جس کا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کراچی میں برسوں کی محکمہ جاتی نااہلی کا سارا بوجھ ان غریبوں پر ڈال دیا گیا جو پہلے ہی اپنے حصے سے زیادہ تاوان ادا کرچکے تھے اور کچھ تو ایسے بھی تھے جن کی قسمت میں ساری زندگی کی کمائی جمع کرنے کے بعد لینے والے اپنے آشیانے میں رہنے کا موقع چند دنوں پہلے ہی میسر آیا تھا اطلاعات کے مطابق لوگ خد کشیاں کر رہے ہیں پاگل دیوانے کی طرح اس ملک خداداد پاکستان کی ریاست جو کے ایک ماں کی طرح اپنے بچوں کو اپنی باہوں میں سمولے گی سوچ کر ادھر ادھر بھاگتے گرتے پڑتے کسی معجزے کی امید کا انتظار کررہے ہیں بچیوں کے رشتے ختم ہوگئے لوگ ایک ہی لمحے میں روڈ پر آگئے مگر نیا پاکستان ہے کے ہلنے کا نام ہی نہیں لے رہا ریاست مدینہ کے دعویدار ان غریبوں کے آشیانوں کو ایک آرڈیننس کے زریعے بچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر ہر کام کی کوئی قیمت ہوتی ہے یہ غریب چیئرمین سینیٹ کے انتخابات تھوڑی ہیں جو تعداد پوری نا ہونے کے باوجود جیتا جاسکتا ہے یہ یوسف رضا گیلانی بھی نہیں جو سینیٹ میں معجزہ دکھا کر سینیٹر بن جائے یہ غریب جہانگیر ترین بھی نہیں جو اپنا علیحدہ گروپ بناکر اپنے حق میں حکومتوں کو جھکا سکیں یہ تو وہ غریب پاکستانی ہیں جو دودھ سے لیکر مرغی اور چینی سے لیکر پیٹرول تک ہر چیز میں اضافی رقم دیکر بھی اپنے حصے کا آئینی حق جو انہیں پاکستان کے آئین کے مطابق حاصل ہے وہ ہی حاصل کر لیں

    چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل ہے کہ آبادکاری کا فزیکل ریویو کروا کر جس سن سے آبادکاری شروع ہوئی آج تک پوسٹ ہونے والے تمام ہی افسران سے عوام کے نقصانات کا حرجانہ وصول کیا جائے ہرجانہ ادا نا کرنے والے کی جائیدادوں کی نیلامی کرکے رقم وصول کی جائے این او سی جاری کرنے والے محکموں سے حاصل کردہ ریونیو غریبوں میں واپس تقسیم کیا جائے اگر انصاف کا عمل کراچی سے شروع ہو ہی گیا ہے تو اس کو پاکستان کے طول وعرض میں پہنچایا جائے آل آصف اسکوائر کے قبضے ہوئے الاٹیز کو ان کے آشیانے واپس کرائے جائے قابضین سے دہائیوں رہنے کا رینٹ الاٹیز کو دلوایا جائے .اور میں تو کہتا ہوں کے بس انصاف کیا جائے جو دنیا کے سامنے چیخ چیخ کر اپنے ہونے کا اعلان کرے

  • دوسری شادی، خانہ آبادی یا بربادی؟ .تحریر:نبیلہ شہزاد

    دوسری شادی، خانہ آبادی یا بربادی؟ .تحریر:نبیلہ شہزاد

    دوسری شادی، خانہ آبادی یا بربادی؟ .تحریر:نبیلہ شہزاد
    شیخ نوازش علی بالائی منزل کے اس کمرے کی کھڑکی کے پاس بیٹھے اپنے ہم دکھ سکھ دوست سے خوش گپیوں میں مشغول تھے، جہاں سے گھر کے بیرونی گیٹ کی طرف جاتا راستہ صاف دکھائی دیتا تھا۔ با ذوق انسان، نوازش علی نے اس راستے کے اطراف پر پھولوں کے پودے لگا رکھے تھے، جن کی خوبصورتی اپنے جو بن پر تھی، لیکن اس بہار کے عین وسط میں کھڑی شیخ صاحب کی زوجین ایک دوسری کو بے مثال کلمات سنا رہی تھی۔ کھڑکی کھلی ہونے کی وجہ سے یہ سریلے نغمات شیخ صاحب کے بھی کانوں تک رسائی حاصل کر رہے تھے۔ اس نے اپنی دونوں بیگمات کو گھر ایک مگر الگ الگ پورشنز میں رکھا تھا۔ پھر بھی جب کبھی ان کا ٹاکرا ہوتا تو خوب ہوتا۔ اب اگلا مرحلہ دونوں کا شیخ صاحب کے پاس شکایت لے کر آنا تھا۔ اس لیے وہ ان کے آنے سے پہلے ہی گھر سے نکل جانا چاہتا تھا۔ اس نے حواس باختگی میں ہی جلدی سے گاڑی کی چابی پکڑی اور کمرے سے نکلنے لگا۔ مخلص دوست نے آگے بڑھ کر چابی اس کے ہاتھ سے پکڑی اور کہا، ”شیخ صاحب! آپ کی گاڑی گیراج میں کھڑی ہے، وہاں جائیں گے تو بیگمات کی بمباری کی زد میں آنے کا خدشہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان کے منہ سے نکلا کوئی گولا بارود آپ کی شہادت کا باعث بن جائے اور میں اپنے پیارے دوست سے محروم ہو جاؤں۔“ لہٰذا یہ میری گاڑی کی چابی پکڑیں، جو گھر کے پچھلی طرف کھڑی ہے۔ آپ پچھلے دروازے سے نکلیں۔ میں آپ کی گاڑی لے کر مین گیٹ سے نکلتا ہوں۔“ شیخ صاحب مشکور نظروں سے عزیز دوست کو دیکھتے ہوئے کمرے سے نکل گئے۔

    بیچارے شیخ نے دوسری شادی بڑے چاؤ سے کی تھی لیکن انسان کا برا وقت کب پوچھ کر آتا ہے۔ دوسری بیوی پہلی سے بھی چار ہاتھ تیز نکلی۔ کہتے ہیں کہ گیدڑ کا جب برا وقت آتا ہے تو وہ جنگل سے شہر کا رخ کر لیتا ہے۔ اسی طرح مرد اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارتے ہوئے دوسری شادی کی طرف رخ کر لیتا ہے۔ دوسری شادی ایک ایسا لڈو ہے جسے کھانے کی حسرت ہر مرد کے دل میں ہوتی ہے۔ اکثر بیچارے تو اس حسرت کو دل کے تہہ خانوں میں ہی چھپائے رکھتے ہیں اور کچھ ببانگ دہل اس کارخیر کو سر انجام دیتے ہیں۔ پھر چاہے یہ شادی خانہ بربادی کی ہی تصویر بنی رہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جس مرد کی دوسری شادی ہو جائے، اس کی ماں کبھی نہیں مرتی۔ پوچھنے والوں نے پوچھا وہ کیسے؟ کہا جب وہ ایک بیوی کے گھر میں جاتا ہے تو دوسری کہتی ہے، ”آ گیا ہے اس ماں کے گھر سے“ اور جب وہ دوسری کی طرف جاتا ہے تو وہاں سے بھی یہی پیار بھرا جملہ سننے کو ملتا ہے، جس کی وجہ سے دونوں گھر اس کی ماں کے گھر بن جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں کچھ، ایک شادی والے مردوں کی خوش فہمی ہے کہ دو بیویوں والوں کی خدمت خوب ہوتی ہے۔ دونوں بیگمات اپنا نمبر بنانے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر شوہر کی خدمت کرنے کی کوشش کرتی ہیں، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب زیادہ خدمت والا فلسفہ بھی وقت کے دریا میں بہہ چکا ہے۔ اب تو جدید دور کی جدید بیویاں، اتنی خدمت کرتیں ہیں کہ نہ صرف شوہروں کے سر سے بال اڑ جاتے ہیں بلکہ انہیں نقدی کا بوجھ بھی نہیں اٹھانے دیتیں۔ ایک اگر ہزار روپے خرچ کرتی ہے تو دوسری اگلے لمحے دو ہزار کا شوہر کو ٹیکہ لگا کر سکون کا سانس لیتی ہے۔ پھر اس مسکین بچہ نما شوہر کو زیادہ تر اپنی آمدن ان سے چھپا کر رکھنی پڑتی ہے اور ان کے سامنے اپنی تنگدستی کا رونا رونے کے لیے الفاظ بھی ذہن نشین کرنے پڑتے ہیں۔

    اگر کوئی دو بیویاں رکھنے والا آدمی مردوں کی محفل میں بیٹھ کر نہ صرف دوسری شادی کے فوائد بتا رہا ہو بلکہ انہیں دوسری شادی کرنے کی ترغیب بھی دے رہا ہو تو سمجھ لیں کہ وہ بیچارہ اپنے گھر میں جی بھر کر دکھی ہے اور اب انتقاماً دوسروں کو بھی اس کشت ویراں میں جھونکنا چاہتا ہے۔ کچھ کی بیگمات اتنی جابر ہوتیں ہیں کہ ان بیچاروں کی حسرت ہی رہتی ہے کہ یہ بنات حوا کبھی تو اکٹھی مل بیٹھ کر تھوڑی بہت گپ شپ بھی لگا لیں۔ کیونکہ حقیقت حال میں ان کی بیگمات غصے کی بندوق پکڑ کر ٹریگر پر ہاتھ رکھے بیٹھی ہوتیں ہیں۔ کہ اگر کبھی آمنا سامنا ہوا تو یک لخت ایک دوسرے کو اڑا دیں گی۔ لیکن کچھ حضرات اس فیلڈ میں اتنے جینیئس ہوتے ہیں کہ اندر لے کھاتے۔ بے شک بیگمات کے سامنے ہاتھ جوڑ کر انہیں باہر سب اچھا دکھانے کی منتیں کریں لیکن باہر آ کر پر اعتماد انداز میں دعویٰ کرتے ہیں کہ انکی بیگمات کے درمیان مثالی محبت ہے اور بیگمات بھی اس شوق میں کہ شاید کوئی چینل والے ان کی آپس کی مثالی محبت دیکھ کر ان کا انٹرویو ہی لینے آ جائیں۔ پھر چاہے آپس میں منہ بسور کر دور دور ہی کیوں نہ بیٹھیں ہوں، لیکن کسی کی اپنے گھر میں آمد پر دکھاوے کے طور پر ایسے جڑ کر بیٹھ جائیں گی۔ جیسے یہ بیچاریاں پیدا ہی جڑواں ہوئی ہوں۔ مردوں کے دوسری شادی کروانے کے بھی اپنے اپنے انداز ہیں۔ کچھ دھوم دھڑکے سے مگر زیادہ تر بچارے لک چھپ کر ہی کرواتے ہیں۔ چند سال پہلے کی بات ہے کہ ہمارے گھر سے چھٹے گھر میں رہنے والے زبیر صاحب نے تبلیغ کے بہانے گھر سے ایک ہفتہ چھٹی لی اور یار بیلیوں کے ساتھ برات لے کر دوسری شادی رچانے چلے گئے۔ یہ ایک ایسا تبلیغی سفر تھا، جس کا ثواب موصوف آج تک خوب کما رہے ہیں اور ڈھول کی طرح پٹ رہے ہیں۔ اب ہمیں اس مبلغ صاحب کی حالت زار کو دیکھ کر دکھ تو ہو گا نا، کیونکہ شریعت نے اسے ہمارا ہمسایہ کہا ہے۔ میں مردوں کی ایک سے زیادہ شادی کی مخالف نہیں۔ کروائیں ضرور کروائیں، مگر اپنی ہڈی پسلی دیکھ کر۔ بھئی! جنہوں نے کھائی گاجریں، ان کے پیٹ میں درد ہمیں اس سے کیا؟

  • کراچی روشنیوں سے کچرے کا سفر. تحریر: عقیل احمد راجپوت

    کراچی روشنیوں سے کچرے کا سفر. تحریر: عقیل احمد راجپوت

    کراچی دنیا کے چھٹے بدترین رہائشی شہروں میں شامل ہوگیا جس پر کراچی کے شہری مبارک باد کے مستحق ہیں کیونکہ پورے پاکستان کو ٪67 ریونیو اور سندھ کا ٪90 پرسنٹ ریونیو اکھٹا کرکے دینے پر کراچی کے شہری کچرے گٹر ملے پانی سیوریج کے ناکارہ نظام اور ٹوٹی سڑکوں کے ساتھ صحت کی سہولیات کے فقدان کے حقدار ہیں اور ہونا بھی چاہئے کیونکہ یہ ہر سال ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ خیرات کرتے ہیں مگر مستحق تک کتنی پہنچتی ہے کوئی نہیں جانتا کیونکہ کراچی کا فقیر مقامی نہیں ہے سفید پوش لوگوں کا حق مارنے کی طرح سندھ اور وفاق بھی کراچی کا حق ہمیشہ سے مارتا آیا ہے کوٹہ سسٹم سے لیکر مردم شماریوں تک ہر چیز میں کراچی کی حق تلفی کی گئی مگر کراچی موجودہ اور سابق حکمرانوں نے ان کی امیدوں کو پورا کرنے کے بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دی ماسوائے پرویز مشرف کے دور حکومت نعمت اللہ خان اور مصطفیٰ کمال کی نظامت میں کراچی نے عروس البلاد کراچی کا کچھ فیصد ہی حسن دیکھا مگر پیپلز پارٹی کی 13 سالوں کی محنت اور لگن نے کراچی کو کچراچی میں ایسا تبدیل کیا کے لوگ موئن جو دڑو کو بھول کر کراچی کی مثالیں پیش کرنے لگے ہیں احوال یہ ہے کے کراچی سی پورٹ اور ریونیو کی بہتات کے باوجود اپنے حصے کا آئینی حق مانگ تو رہا ہے مگر حکمرانوں میں دم خم نظر نہیں آتا موجودہ حکمرانوں کو دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کراچی کے حکمرانی کے دعویدار کہلاتے ہیں مگر سندھ وفاق پر اور وفاق سندھ پر کراچی سے تعصب کی بناء پر سوتیلی ماں جیسا سلوک کررہا ہے کا الزام عائد کرتے ہیں رہی ایم کیو ایم تو اسے کوئی فرق نہیں پڑتا وزارت لو سائٹ میں بیٹھ کر کبھی وفاق پر کبھی سندھ حکومت پر لسانی صوبے کے نعرے کے نام پر بلیک میل کرو کی سیاست پر عمل پیرا ہے کیونکہ شائد وہ اس بات کا یقین کرچکے ہیں کے کراچی والے اتنے بھولے ہیں کے ہماری کسی بھی کارکردگی کو پس پشت ڈال کر صرف مہاجر نعرے پر انہیں تاقیامت ووٹ ملتے رہیں گے حالانکہ 2018 کے الیکشن کا رزلٹ جیسا بھی رہا ہے ایم کیو ایم کو اس کے ووٹرز نے متنبہ کیا ہے کے سمبھل جاؤ حد تو یہ کے 2021 کے بلدیہ ٹاؤن کے حلقہ این اے 249 میں ایم کیو ایم ٹاپ فور میں بھی جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی

    بہرحال کراچی کا موسم اور کراچی والوں کا دماغ کب بدل جائے کوئی نہیں جانتا 2023 کے جنرل الیکشن سے پہلے شائد بلدیاتی انتخابات ہوجائے مشکل ہے مگر ناممکن نہیں اگر ایسا ہوا تو کراچی والوں کا انتخاب کیا ہوگا
    دو بڑے کانٹے دار مقابلے کی امید کی جارہی ہیں اگر بلدیاتی انتخابات سیدھا ناظم کے لئے ہوئے تو کراچی کی پہلی پسند سید مصطفیٰ کمال ہی ہونگے یہ بات کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکنوں سے بھی پوچھ لی جائے تو وہ انکاری نہیں ہوسکتا دوسرا مقابلہ یونین کونسل کی سطح پر ہونے والے انتخابات کی صورت میں اس وقت مشکل اختیار کر سکتا ہے جب کراچی کو ضلعی سطح پر مزید تقسیم کرنے کی پیپلز پارٹی کی پالیسیوں کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے روک دیا جائے یا کورٹ سے ان پر حکم امتناعی جاری ہوجائیں تو کراچی میں اس بار مقابلہ پاک سر زمین پارٹی اور دیگر جماعتوں کے ساتھ مشترکہ طور پر ہوسکتا ہے کیونکہ بلدیہ ٹاؤن کے ضمنی انتخابات میں پاک سر زمین پارٹی نے پورے پاکستان کے سامنے اپنی کامیاب انتخابی مہم کے زریعے منوا لیا ہے اور لوگوں نے انہیں ناقابل یقین پزیرائی سے بھی نوازا ہے جو بھی ہے مصطفیٰ کمال اپنے ماضی کے کاموں کے حوالے سے اپنی مہم کو کامیاب طور پر عوام کے سامنے رکھنے میں کامیاب ہوگئے تو کراچی اور حیدرآباد کے شہری علاقوں سے ان کی جیت کا تناسب بہت بھاری اکثریت سے نکلنے کا امکان ہے مصطفیٰ کمال اپنی روز مرہ کی چھوٹی چھوٹی کانر میٹنگ کو مستقل جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی انتخابی مہم این اے 249 کے بعد رکی نہیں بلکہ جاری وساری ہے وہ کراچی حیدرآباد میرپور خاص کے دوروں کے دوران اپنے ذمے داران کو مستقل طور پر لوگوں کے درمیان تعلقات کو بحال رکھنے اور عوامی رابطوں کو فعال رکھنے کی تاکید کر رہے ہیں مصطفیٰ کمال خود بھی پارٹی کے دیگر ارکان کے ساتھ روز کسی نا کسی گلی محلے میں چھوٹے اور بڑے جلسے اور کارنر میٹنگ سے خطاب کرکے کراچی کے لوگوں تک ان کی محرومی ختم کرنے کا کیا فارمولا ہے بتا بھی رہے ہیں اور لوگوں میں موجود بے چینی کو اپنی سیاسی قوت کے طور پر اپنی رائے سے ملانے کی کامیاب انتخابی مہم پر کامیابی سے عمل پیرا بھی ہیں

  • سقوطِ ڈھاکہ، پاکستان کے لئے ففتھ جنریشن وار فیئر کا  آغاز.تحریر: امان الرحمٰن

    سقوطِ ڈھاکہ، پاکستان کے لئے ففتھ جنریشن وار فیئر کا آغاز.تحریر: امان الرحمٰن

    جو قومیں اپنی تاریخ سے سبق نہیں لیتی ہیں وہ خود تاریخ بن جاتی ہیں
    16 اور 17 دسمبر 1971 کی درمیانی شب، جب ریڈیو ڈھاکہ نے بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان کیا ، یہ اعلان قیامت کے دن کی طرح دونوں اطراف کے مسلم پاکستانیوں کےدلوں پر پڑ گیا۔ پاک سرزمین کا ایک بڑا حصہ ہم سے الگ ہوچکا ہے۔ ایک بازو ٹوٹ گیا تھا۔ بہت سے لوگوں کی چیخیں اور ہچکیاں بند ہوگئیں اور بہت سے دلوں نے دھڑکنا بند کردیا۔ سقوط ڈھاکہ بھی جنگ کے متاثرین اور اس کے نتیجے میں کہکشاں طاقت کے طور پر سامنے آنے کے لئے قیامت کا دن تھا۔ آج تک ہم یہ تعین نہیں کرسکے ہیں کہ سقوط ڈھاکہ کے ذمہ دار کون تھا۔
    سقوط ڈھاکہ شروع ہوتا ہے
    مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیاد وہ سوچ تھی جو ملک کے دونوں حصوں میں پیدا ہوئی۔ مشرقی پاکستان کے لوگوں کو یہ باور کرایا گیا کہ وہ مغربی پاکستان کی ایک ذیلی کالونی ہیں اور مغربی پاکستان ریشم کیڑا اور چائے کھا رہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ مرکز میں ان کی نمائندگی کا فقدان ہے۔ اسی طرح مغربی پاکستان میں یہ خیال بھی پھیل گیا تھا کہ مشرقی پاکستان میں آج سیلاب کی وجہ سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے۔ بنگالی ایک بیکار قوم ہیں اور علم و عقل سے محروم ہیں۔ یہ پاکستان میں پانچویں نسل کی جنگ کا آغاز تھا۔
    1958 سے ، مغربی اور مشرقی پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے علاقوں میں انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے اور ایک مخلوط حکومت تشکیل دی گئی ہے۔ لیکن دسمبر 1970 میں ، یحییٰ خان کے ماتحت ملک کے سب سے پرامن اور پہلے بالغ ریفرنڈم کے انتخابات کے نتائج ایک جھٹکے کے طور پر سامنے آئے۔
    جب مجیب الرحمٰن نے مغربی پاکستان میں اپنی غیر مقبولیت کو دیکھا تو انہوں نے اندرا گاندھی کے ساتھ سازش کی ، جسے اگرتلا سازش کہا جاتا ہے۔ لیکن جلد ہی مکتی باہنی نے مشرقی پاکستان میں مغربی شہریوں کا بے دردی سے قتل عام کرنا شروع کردیا۔ اگر صرف کوئی سازش ہوتی جس کے لئے مجیب نے اپنی جان دے کر قیمت ادا کی۔
    1970 کے انتخابات کے بعد ، مشرقی پاکستان کے وزیر اعظم بننا ان کا حق تھا۔ تب بھٹو صاحب نے اس وقت کے حالات کی نزاکت کو نہ سمجھے ، اور کہا کہ صدر مشرقی پاکستان سے ہوں گے ، ورنہ آپ یہاں ہیں اور ہم یہاں ہیں۔ اس نعرے کے معنی بنگالیوں نے پہلے ہی ہی پلٹ دیئے تھے جو پہلے ہی ہندوستانی پروپیگنڈے کے زیر اثر تھے اور ہندوستان کی مالی اعانت سے چلنے والی مکتی باہنی کو زیادہ کھل کر اپنا کھیل کھیلنے کا موقع ملا۔
    ہندوستانی حکومت 1965 کی جنگ میں پاکستانی فوج پر ڈھائے جانے والے بدترین ذلت کا بدلہ لینے کے لئے بے چین تھی کیونکہ ہندوستان کی فوج کو پہلے ہی 1962 میں چین کے ہاتھوں ایک بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
    ملکی اور بین الاقوامی سطح پر تذلیل محسوس کرتے ہوئے ، ہندوستانی فوج نے پاکستان کے خلاف پراکسی وار کا آغاز کیا۔ کیونکہ جنگ کا براہ راست نتیجہ یہ تھا کہ انہوں نے دیکھا کہ پاکستانی ، بحیثیت قوم ، دشمن کو کس طرح رد .عمل دیتے ہیں۔ لہذا ہندوستان نے اپنے پیسوں کا استعمال دونوں طرف تقریر کرنے اور ریڈیو پروگرام نشر کرنے کے لئے کیا جس سے فاصلے پیدا ہوئے۔ پھر اس نے مکتی باہنی کی بنیاد رکھی جس نے بنگالیوں کے حقوق کے نعرے لگائے اور احساس محرومی میں اضافہ کیا۔
    ایک طرف اندرا گاندھی مکتی باہنی کے توسط سے مسلمان بھائیوں کا قتل کررہی تھیں ، دوسری طرف وہ کہہ رہی تھیں کہ … آج ہم نے خلیج بنگال میں نظریہ پاکستان کو ڈبو دیا ہے۔
    سقوط ڈھاکہ
    جب مکتی باہنی نچلی سطح پر اپنا زہر پھیلارہا تھا تب بھی اقتدار کے ایوان میں حکومت سازی کی جدوجہد جاری تھی۔ ماننے کو تیار نہیں۔ اور بھارت کے دانت تیز تھے
    آخر کار ، پاکستان کی تاریخ میں ، تکلیف دہ دن وہ آیا جب دنیا نے حیرت سے دیکھا کہ 1965 میں ہندوستانی فوج کو کچلنے والی فوج صرف چھ سال بعد ہتھیار ڈال رہی ہے۔
    پاکستانی فوج نے ہائی کمان کے حکم کی تعمیل کی کیونکہ اسے اپنے ادارے پر اعتماد تھا۔ آرمی چیف جانتے تھے کہ سپلائی لائن ٹوٹی ہے۔ ہندوستانی فوج کی سپلائی بحال ہوگئی۔ غدار بنگالی پاکستانی فوج کو آگاہ کرکے ہندوستانی فوج کی خبریں پھیلا رہے تھے۔ مکتی باہنی نے فوجی بیرکوں کو کھانے پینے اور ایندھن کی فراہمی کے تمام راستے بند کردیئے تھے۔ تو پاک فوج کس کے لئے لڑے گی؟ سیاست کے لئے اور مکتی باہنی اقتدار کے لئے لڑ رہے ہیں یا غدار بنگالیوں کے لئے؟
    آج تک یہ بحث ختم نہیں ہوئی کہ سیاست دان ذمہ دار تھے یا فوج۔
    یاد رکھیں جب کلکتہ کے بازاروں میں مکتی باہنی کے بنگالیوں نے مغربی پاکستانی اساتذہ ، ڈاکٹروں ، انکم ٹیکس افسران اور دیگر طبقاتی ملازمین اور عام لوگوں کے قتل عام کے بعد اپنی بیویوں ، بیٹیوں اور بہنوں کو کچھ پیسوں میں فروخت کیا تھا۔ یہ نہ تو فوج کا کام تھا اور نہ ہی کسی سیاستدان کا۔ یہ مسلمان بنگالیوں کا کام تھا جو دشمن پروپیگنڈے کا نشانہ بنے۔
    مکتی باہنی نے لاکھوں غیر بنگالی مسلمانوں کو قتل کیا اور اپنی تقریبا Muslim 1.5 ملین مسلمان بہنوں کو کولکتہ میں ہندوؤں کو فروخت کیا۔ وجہ پروپیگنڈا تھا جس نے بھائی کو بھائی کی عزت اور زندگی کا دشمن بنا دیا۔

    موجودہ صورت حال
    مکتی باہنی بنگالیوں کے حقوق کے نعرے کے تحت تشکیل دی گئی تھی اور مسلمانوں کا خون بہانے سے ملک کو فنا کردیا گیا اور جب مقصد حاصل ہوا تو ہندوستان نے مکتی بہنی اور مجیب کو بھی ختم کردیا۔
    کراچی میں ایم کیو ایم نے مہاجروں کے حقوق کے نام پر اپنے آپ کو قائم کیا اور کراچی کو خون میں نہلایا۔
    اب پی ٹی ایم پختون حقوق کے نام پر قائم کیا گیا ہے اور پختونوں کی لاشوں پر گھناؤنا کھیل کھیل رہا ہے۔
    ان تمام تنظیموں کا ایک ہی طریقہ ہے اور ایک ہی مقصد تمام پاکستانیوں کو ختم کرنا ہے۔ یہ پانچواں نسل کی جنگ ہے جس سے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے بار بار پاکستان کی موجودہ نوجوان نسل کو آگاہ کیا ہے۔
    ہمارا دشمن چالاک ہے ، وہ رات کے اندھیرے میں چپکے سے حملہ کرتا ہے اور اندھیرے میں غداروں کو خریدتا ہے۔ لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ ہم سب سے پہلے اور سب سے اہم پاکستانی ہیں ، یہی ہماری شناخت ہے۔ آج بنگالیوں کے آلو … چائے اور چاول بین الاقوامی مارکیٹ میں ہندوستانی لیبل کے تحت فروخت ہوتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ہونے کے بجائے بنگلہ دیش ایک سیکولر جمہوریہ بن گیا ہے جہاں مسلمان علماء کو پھانسی دی جارہی ہے۔ مودی کہتے ہیں کہ یہ اپنا دوسرا گھر ہے۔
    اندرا گاندھی ، شیخ مجیب اور بھٹو اپنی خواہشات اور سازشوں سے اپنے انجام کو پہنچے۔ لیکن یہ پراکسی جنگ آج بھی جاری ہے۔ دشمن اب بھی وہی سازشیں کر رہا ہے۔ آج بھی غدار ہیں۔ لیکن اب جب ہم واقف ہیں ، تو آئیے مل کر جواب دیں دُشمن کے اُن تمام حربوں کو ناکام بنائیں اور جس کے لئے ہمارا سب سے بڑا اور مضبوط ہتھیار ہمارا اتحاد، اتفاق ہے اور ہم نے ہر حال میں اپنا اتحاد قائم رکھنا ہے اِن شاء اللہ
    اللہ کریم پاکستان کی حفاظت فرمائے آمین
    پاکستان پائندہ باد

  • میڈیا کے نوجوانوں پر اثرات .تحریر :فضل عباس

    میڈیا کے نوجوانوں پر اثرات .تحریر :فضل عباس

    آج کے دور میں نوجوان نسل سب سے زیادہ میڈیا سے متاثر ہے اس پر کچھ لکھنے سے پہلے میڈیا کی اقسام بیان کر لیتے ہیں

    میڈیا کی تین بڑی اقسام ہیں
    1: ذرائع ابلاغ
    2: اخبارات
    3: سوشل میڈیا
    سب سے پہلے ذرائع ابلاغ کی بات کرتے ہیں

    ذرائع ابلاغ میں تمام ٹیلی ویژن چینل اور ریڈیو کے چینلز شامل ہیں ٹیلی ویژن انسانی زندگی پر بہت گہرا اثر ڈال رہا ہے یہ اثر مثبت بھی ہے منفی بھی،کیوں کہ ہر چیز کا مثبت پہلو پہلے دیکھنا چاہیے اس لیے سب سے پہلے ہم ذرائع ابلاغ کے مثبت پہلو کو نمایاں کرتے ہیں ہم ذرائع ابلاغ کے ذریعے تازہ ترین خبروں سے آگاہ رہتے ہیں جو واقعہ ہو جہاں پر ہو ہم میں سے ہر ایک کو اسی وقت پتہ چل جاتا ہے اس طرح ہم پوری دنیا سے جڑے رہتے ہیں اس کے علاوہ مختلف پروگراموں میں مختلف ماہرین کی رائے جان سکتے ہیں جس سے ہمیں جھوٹ سچ کا اندازہ ہو سکتا ہے اور اس سے ہم اپنا نظریہ بنا سکتے ہیں

    نیوز چینلز نے سیاست کے میدان میں انقلاب برپا کردیا ہے اب ہر ایک لیڈر قوم کو جواب دہ ہے اب کسی لیڈر کا غلط کام نہیں چھپ سکتا ہے اب عوام لیڈرز کی اصلیت دیکھ کر منتخب کرتے ہیں اس کے علاوہ ان چینلز پر ماضی کی حکومت اور موجودہ حکومت کی کارکردگی کا موازنہ کیا جاتا ہے جس سے لوگوں کو اندازہ ہوتا ہے کہ کونسی حکومت کتنی اچھی ہے اور کس حکومت نے عوام کے لیے کیا کیا ہے

    آگاہی پھیلانے میں ذرائع ابلاغ کا اہم کردار ہے مختلف وقت میں مختلف مقاصد کے لیے ذرائع ابلاغ نے نمایاں کردار ادا کیا ہے خاص کر ابھی کورونا وباء کے دوران ذرائع ابلاغ نے عوام میں بھرپور آگاہی پھیلائی ہے کورونا وائرس سے بچنے کے لیے جو احتیاط لازم ہے اس کی آگاہی کے لیے مختلف اشتہارات اور ڈاکیومنٹریز چلائی ہیں

    اس کے بعد آتی ہے ڈرامہ انڈسٹری
    ذرائع ابلاغ میں ڈرامہ انڈسٹری کے ذریعے انقلاب لایا جا سکتا ہے نوجوان نسل کو تعلیم،جہاد اور اچھائی کی ترغیب دی جا سکتی ہے بچوں کو اخلاقیات کا درس دیا جا سکتا ہے برائیوں کے خاتمے کی مہم چلائی جا سکتی ہے اور یہ سب ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہی ممکن ہے لیکن افسوس کی بات ایسا نہیں ہو رہا

    آج کے دور میں کھیل اور ذرائع ابلاغ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بن چکے ہیں اب ذرائع ابلاغ کے بغیر کھیل منعقد کروانے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا دنیا میں ہونے والے تمام کھیلوں کے بین الاقوامی میچز کسی نہ کسی چینل پر براہِ راست نشر ہو رہے ہوتے ہیں کھلاڑی کھیل کے علاوہ ذرائع ابلاغ میں نشر ہونے والے اشتہارات سے کروڑوں روپے کماتے ہیں اس طرح کھیل اور ذرائع ابلاغ ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بن چکے ہیں

    اب بات کرتے ہیں اخبارات کی
    اخبار پر انسان کی اپنی مرضی چلتی ہے جب انسان کو وقت ملے اخبار اٹھائے اور پڑھ لے
    اخبارات میں انسان کو یہ بھی اختیار ہوتا ہے کہ جہاں سے پڑھنا چاہے پڑھ لے جبکہ ذرائع ابلاغ پر آپ اپنی مرضی نہیں چلا سکتے
    اخبارات میں آپ کو سیاست انٹرٹینمنٹ اور کھیل کی خبریں میسر ہوتی ہیں اس کے علاوہ مختلف کالم نگاروں کے لکھے گئے کالم بھی پڑھنے کو ملتے ہیں

    اس کے بعد آتا ہے تیزی سے پھیلتا سوشل میڈیا
    تقریباً ہر ایک نوجوان آج سوشل میڈیا سے منسلک ہے اور اس کے بے شمار فوائد ہیں آپ آسانی سے اپنی رائے دے سکتے ہیں کوئی بھی موضوع ہو آپ اس پر اپنی رائے دے سکتے ہیں اس پر تبصرہ کر سکتے ہیں آپ اس میں مکمل آزاد ہیں

    اب دوسرے پہلو کا جائزہ لیتے ہیں اور میڈیا کے نقصانات کو بیان کرتے ہیں
    میڈیا میں ہونے والے ٹاک شوز میں سیاستدانوں کی گرتی ہوئی اخلاقی اقدار نوجوانوں کو بے راہ روی کا شکار کر رہی ہیں نوجوان صحیح راہ سے بھٹک کر اخلاق کی نچلی منزلیں طے کر ریے ہیں وہ بھی سیاست دانوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو رہے ہیں ،اس کے بعد آتی ہے ڈرامہ انڈسٹری جو اس وقت بے راہ روی کا شکار ہے اور بے حیائی کو فروغ دے رہی ہے ڈرامہ انڈسٹری سے نوجوان نسل بری طرح متاثر ہے نوجوان نسل جہاد اور تعلیم کے بجائے بے حیائ کی جانب راغب ہے جو کہ افسوس ناک امر ہے

    جہاں تک بات ہے کھیل کی تو کھیل کھیلنا دیکھنے سے نسبتاً بہتر ہے لیکن نوجوان کھیل کھیلنے کو نظر انداز کر رہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ کھیل کھیلنے کو فروغ دیا جائے اس کے بعد اخبارات کی بات کریں تو اس کے نقصانات قدرے کم ہیں لیکن آج کی نوجوان نسل اخبارات سے دور ہو چکی ہے سوشل میڈیا کے جس طرح سب سے زیادہ فوائد ہیں اسی طرح نقصانات بھی سب سے زیادہ ہیں نوجوان ہر کام چھوڑ کر سارا دن سوشل میڈیا پر رہتے ہیں اور اکثر اوقات غلط سرگرمیوں میں مشغول ہو جاتے ہیں جو کہ ان کے مستقبل کے لیے قدرے افسوس ناک ہے

    اس سب کے باوجود نوجوان نسل کو چاہیے کہ میڈیا سے جس قدر فوائد حاصل کر سکیں اس قدر حاصل کریں اور نقصانات کو کم سے کم کیا جائے حکومت وقت کو چاہئے کہ میڈیا میں آ کر گفتگو کرنے والے سیاستدانوں کو اچھی زبان استعمال کرنے کا پابند بنائے اور بے حیائ پر مبنی ڈراموں پر پابندی لگائے تا کہ نوجوان ایسی سرگرمیاں دیکھیں جن سے انہیں فائدہ ہو

    سوشل میڈیا کو ایک ضابطہ میں لا کر بہتر سے بہتر تر بنایا جا سکتا ہےاور یہ نوجوان نسل کے لیے ایک رحمت ثابت ہو سکتا ہے

  • نشہ بیماری بھی جرم بھی .تحریر: ملک ضماد

    نشہ بیماری بھی جرم بھی .تحریر: ملک ضماد

    پاکستان میں منشیات کا استعمال دن بدن بڑھتا چلا جا رہا ہے
    ہر زور کئی لوگ پولیس کے ہاتھوں گرفتار بھی ہوتے ہیں اور کئی لوگ مر بھی جاتے ہیں نشہ کا استعمال میں اس وقت نوجوان نسل زیادہ ہے جو سکول کالجز میں پڑھتے ہیں اس کے بعد پھر کاروباری شخصیات کو بھی منشیات کے استعمال ریکارڈ کیا گیا ہے منشیات کا استعمال پہلے تو لوگ ذہنی و جسمانی سکون کے کیے کرتے ہیں لیکن بعد میں وہ ہی سکون برباد کو جاتا ہے اور لوگ نشے کی حالت میں کبھی درد بدر کی ٹھوکریں اور کبھی کہیں سڑک کنارے یا کسی ندی نالے میں پڑے ملتے ہیں اسلام میں بھی نشہ آور چیزوں کے استعمال سے منع کیا گیا ہے
    اللہ تبارک وتعالیٰ قرآن مقدس میں ارشادفرماتاہے:

    (1)(اے محبوبﷺ)تم سے شراب اورجوئے کاحکم پوچھتے ہیں ۔تم فرمادوکہ ان دونوں میں بڑاگناہ ہے۔اورلوگوں کاکچھ دنیوی نفع بھی،لیکن ان دونوں کاگناہ ان کے نفع سے بڑاہے۔(سورۂ بقرہ:آیت219،پ2)

    ترجمہ: ائے ایمان والوں !نشہ کی حالت میں نمازکے پاس نہ جاؤ جب تک اتناہوش نہ ہوکہ جوکہواسے سمجھو۔(کنزالایمان،النساء4؍43،پ5)

    رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں ۔شراب پیتے وقت شرابی کا ایمان زائل ہوجاتاہے۔ایک اورجگہ ارشادفرمایاکہ :جوزناکرے یاشراب پیئے اللہ تعالیٰ اس سے ایمان کھینچ لیتاہے جیسے آدمی اپنے سرسے کرتاکھینچ لے۔(فتاویٰ رضویہ،ج۱۱)

    حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔قسم ہے میرے عزت کی جوبندہ شراب ایک گھونٹ بھی پیئے گامیں اس کواتنی ہی پیپ پلاؤں گا۔اورجوبندہ میرے خوف سے اُسے چھوڑے گامیں اس کومقدس حوض سے پلاؤ ں گا۔(امام احمد)

    منشیات فروش معاشرے کے لیے بربادی کا سبب بنتے ہیں اور اپنی ذات کا نقصان بھی کرتے ہیں منشیات کے استعمال سے معاشرے میں بڑھتی برائیوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جو کہ اداروں کے لیے سوچنے کا مقام ہے ہم سب کا فرض ہم مل کر معاشرے سے اس لعنت کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کریں متعلقہ اداروں ساتھ بھی مکمل تعاون کریں

  • کہاں گئی میری جنت . تحریر: ریحانہ جدون

    کہاں گئی میری جنت . تحریر: ریحانہ جدون

    کہاں گئی میری جنت . تحریر: ریحانہ جدون

    انسان کو جب تک دکھ, تکلیفیں نہیں ملتیں اُسے خوشیوں کا احساس نہیں ہوتا اور بعض دفعہ ایسا دکھ ملتا ہے کہ وہ گزرے لمحات کو یاد کرکے روتا ہے کہ وہ وقت کتنا اچھا تھا…
    پھر چاہ کر بھی وہ وقت انسان واپس نہیں لا سکتا, وہ ایک یاد بن کر ہمیں اس چیز کا احساس بھی دلاتا رہتا ہے کہ تب ہم اتنے لاعلم, اتنے لاپروا کیوں تھے, تب ہم نے ایسا کیوں سوچا کہ تھا کہ یہ وقت ہمیشہ ہی رہے گا…
    اپنی زندگی میں مشغول ایسے تھے کہ کبھی سوچا نہیں تھا کہ ایک پل میں سب کی زندگی بدل جائے گی کہ پھر ہنسنے کا دل کریگا بھی تو ….. آ نکھوں میں آ نسو آ جائیں گے.
    میرا خاموش رہنا صرف میری ماں ہی محسوس کرتیں تھیں, میرے چہرے کو اداس دیکھ کر وہ سمجھ جاتیں تھیں کہ آ ج میرا دل اداس ہے.
    زندگی پُرسکون رواں دواں تھیں کہ ایک صبح 4:30 پہ سوات کے پولیس اسٹیشن سے کال آ ئی کہ ایک گاڑی نے ہماری گاڑی کو پیچھے سے ہٹ کیا ( جس کا ڈرائیور سو گیا تھا) اور اس ایکسیڈنٹ میں میرے بھائی کی موت ہوگئی ہے یہ خبر کسی قیامت سے کم نہیں تھیں بھائی کے چھوٹے چھوٹے بچے یتیم ہوگئے
    اُس لمحے کسی کو کچھ سمجھ نہ آئی کہ ہمارے ساتھ ہوا کیا ہے .
    سبھی دُکھی تھے پر میری ماں کو کسی طرح صبر نہیں آ رہا تھا وہ بس ایک ہی بات کہہ جارہی تھیں میری زندگی کا وسیلہ میرا بیٹا مجھے کیسے چھوڑ کے جاسکتا ہے. سب انکو تسلیاں دے رہے تھے بھائی کی میت شام کو گھر پہنچی ایک کہرام برپا تھا ہر آ نکھ اشک بار تھی میری ماں بار بار بے ہوش ہوجاتیں تھیں آ دھی آ دھی رات اٹھ کے بھائی کی قبر پہ چلی جاتیں پھر شاید میری ماں کی تڑپ ہی تھی کہ بھائی کے چالیسویں کی رات میری ماں مجھے چھوڑ کر بھائی کے پاس چلی گئیں بھائی کا ایکسیڈنٹ رات 1:30 کے قریب ہوا اور یہی وقت میری ماں کو ہارٹ اٹیک ہوا اور 10 منٹ میں ہی میری ماں مجھے چھوڑ کے بھائی کے پاس چلی گئیں…

    اُس رات میرے ساتھ رات 12:15 تک بیٹھیں باتیں کرتیں رہیں, باتوں باتوں میں کچھ نصیحتیں کرتیں رہیں مجھے نہیں پتا تھا کہ یہ اُنکی آ خری باتیں ہونگیں اور جن کا احساس اُنکی موت کے بعد ہُوا… انکی کہی یہ بات کہ بیٹا بڑا وہی ہوتا ہے جس کا دل بڑا ہوتا ہے تم سب سے چھوٹی ہو کوئی بات کہہ بھی جائے تو دل بڑا کرلیا کرو…
    میں اب کس سے کہوں کہ ماں میرا دل اتنا بڑا نہیں ہے میری آ نکھوں کے آ گے سے آ پکا چہرہ ہٹتا ہی نہیں ہے..
    میرے کانوں میں آ پکی آ واز گونجتی رہتی ہے, میں کسی محفل میں بھی جاتی ہوں تو میری آ نکھوں میں آ نسو آ جاتے ہیں.
    میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ماں آ پ اسطرح اچانک سے مجھے چھوڑ جائیں گی.. کیا آ پ کے لئے بھائی ہی سب کچھ تھا..
    ماں آ پ کے ہوتے میں نے کبھی خود خیال نہیں کیا کہ اب میں بڑی ہوگئی ہوں میری آ پ سے ضد کرکے بات منوانا ویسے ہی رہا جیسے ایک بچہ اپنی ماں سے ضد کرکے منواتا ہے..
    میں نے کئی لوگوں کی موت دیکھی میں نے کبھی ان لوگوں کے درد کو محسوس نہیں کیا جو کسی اپنے کی موت دے کے جاتی ہے…
    میں سوچتی تھی کہ ماں باپ جب بوڑھے ہوجاتے ہیں تو انکی خدمت کی جاتی ہے جب بیمار ہوتے ہیں اُنکی خدمت کی جاتی ہے..
    پر مجھ بدنصیب کو کیا معلوم تھا کہ ماں کی خدمت میرے نصیب میں ہے ہی نہیں,
    میری ماں تو آخری دن تک میرا خیال کرتیں رہیں…
    میری چیزیں سنبھال کے رکھنا اور پھر اُنکا یہ کہنا کہ میں کب تک تیری چیزوں کو سنبھالو گی..
    پھر ماں سے کسی بات پہ ناراض ہوجانا اور انکا پھر میری پسند کی چیزیں ابو سے منگوانا…
    ماں مجھے احساس ہوگیا ہے پر اب میرے پاس آپ نہیں ہو,
    میں خود کو بہت ٹوٹا ہوا بہت ادھورا محسوس کرتی ہوں…
    اب تو میں نے ناز نخرے کرنا بھی چھوڑ دیا ہے
    ماں اب تو میں نے روٹھنا بھی چھوڑ دیا ہے…
    ماں سب کا مقام اپنی اپنی جگہ خاص ہے پر ماں آ پکے گلے لگ کے خوشی یا غم کا رونا کسی اور کے ساتھ ممکن نہیں…
    ایسا کوئی نہیں جو بنا پوچھے سمجھ جائے.. میری وہ بے فکر زندگی صرف آ پکے بدولت تھی ماں
    میرے دل کی حالت بیان کرنے کو سمجھ نہیں آ تا الفاظ کہاں سے لاؤں بس اتنا ہی کہ

    افسانہِ دلِ برباد کیا سناؤں ماں
    اجڑ گئ میری دنیا کہاں میں جاؤں ماں
    کہاں تلاش کروں ہائے اب متاعِ سکوں
    کہاں گئی میری جنت ، کہاں سے لاؤں ” ماں "