Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • ایک تلخ حقیقت .تحریر: ریحانہ جدون

    ایک تلخ حقیقت .تحریر: ریحانہ جدون

    ایک تلخ حقیقت .تحریر: ریحانہ جدون
    ہم اپنے خوابوں کو پانے کے لئے بہت کوشش کرتے ہیں اسکے لئے در در کی ٹھوکریں بھی کھاتے ہیں.. کئی بار ہمیں ناکامیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور پھر کبھی قسمت مہربان ہوتو انسان کامیابی کی بلندیوں کو چھو لیتا ہے.
    کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کچھ لوگ کامیابی کے مقام پہ پہنچ کر خود کو بڑا محسوس کرنے لگتے ہیں (سب نہیں مگر موسٹلی ایسا ہوتا ہے) وہ اپنے سے چھوٹے کو کمتر اور حقیر سمجھنے لگتے ہیں, وہ بھول جاتے ہیں جس خدا نے انکو کامیابی دی وہی خدا ان لوگوں کا بھی ہے جن کو وہ کمتر سمجھ رہے ہیں.
    کیونکہ انسان کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو, کتنا ہی کامیاب اور مشہور کیوں نہ ہو آ خر اُس نے اُسی مٹی میں دفن ہونا ہے جس میں ایک عام انسان دفن ہوگا, خاک سے بنا جسم آ خر خاک میں ہی تو ملنا ہے کیونکہ موت کا ایک دن مقرر ہے اور یہ ہم سب جانتے بھی ہیں لیکن وہ وقت کونسا ہے اس راز سے ہم ناواقف ہیں.

    موت ہی ایسی چیز ہے جسکے آ گے طاقتور سے طاقتور بےبس ہوجاتے ہیں. پھر نہ تو شہرت اور نہ روپیہ پیسہ اسکی موت ٹال سکتے ہیں اور نہ ہی ذندگی کے دن بڑھا سکتے ہیں.. اصل میں انسان اپنی عارضی خوشیوں کو پانے کے لئے اسقدر بہت آ گے نکل جاتا ہے کہ واپسی ممکن نہیں رہتی اور تب اُسے اللہ یاد آ تا ہے تب وہ سوچتا ہے کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا.
    آ ج اپنے اردگرد دیکھ سکتے ہیں کونسا گناہ, کونسی ایسی بُرائی نہیں جس میں ہم کسی نہ کسی طرح جھکڑے ہوئے ہیں, کسی کے حق پہ ڈاکہ ڈالتے ہوئے, جھوٹ بولتے ہوئے, چوری, قتل , یا (یہ جو آ جکل معصوم بچوں کو نوچا جارہا) ہم اپنی موت کو کیوں بھول جاتے ہیں؟؟

    ہم اپنے اس رب کو کیوں بھول جاتے ہیں جو ہماری شہ رگ سے بھی قریب ہے ؟
    ہم کسی کی ذات پہ تہمت لگاتے زرا دیر نہیں لگاتے پر اپنے پہ بات آ تی تو ہزاروں دلیلیں لئے بیٹھے ہوتے خود کو بےگناہ ثابت کرنے کے لیے…
    اللہ کے بندوں.. یہ کیوں بھول جاتے ہو کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے
    اللہ کے بندوں.. اللہ کے بندوں پہ ظلم کرتے کیوں بھول جاتے ہوکہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے.
    آ ج اللہ نے اگر شہرت دی پیسہ دیا, عہدہ دیا تو اسکا صحیح استعمال کرنا سیکھو, غلط استعمال کروگے تو ایک نہ ایک دن منہ کے بل گر جاؤ گے, اللہ کی بنائی ہوئی مخلوق کو حقیر مت جانو…
    تمھارا تکبر کہیں تمھیں رسوا نہ کردے کیونکہ تکبر اللہ کو پسند نہیں.
    کہیں کسی کی حق تلفی ہوتے دیکھو تو اسکو روکو
    کہیں ظلم ہوتے دیکھو تو ظلم کے خلاف اپنی طاقت استعمال کرو اپنی آ واز بلند کرو.
    اپنی غلطی کو تسلیم کرنا سیکھو, یہ دولت یہ شہرت آ پکو دنیا میں تا کام آ سکتی ہے پر آخرت میں تمھارے اعمال ہی تمھیں بچائیں گے..

    کسی شہنشاہ کسی شہزادے یا کسی صدر کی میت کو کسی نے سجا کے نہیں رکھا… اور نہ کوئی رکھے گا. جانا اسی مٹی میں ہے جس میں ایک غریب ایک عام انسان جائے گا.
    آ ج کسی عہدے دار کو دیکھ لیں لوگ اپنی درخواستیں لیے انکے انتظار میں گھنٹوں بیٹھے رہے ہونگے مگر وہ جب آ ئے گا تو ٹھاٹ سے اور انکو ٹھیک سے سنے گا بھی نہیں اور خود کو اپنے مقام (جو اللہ نے دیا ہوا) پر فخر کرتا گزر جائے گا.. کیا اس لئے اللہ نے تمھیں طاقت, عہدہ, مقام دیا ؟

    دولت اور شہرت کے پیچھے بھاگنے والوں یہ ہمیشہ رہنے والی نہیں
    بہتر ہے اپنی اپنی جگہ درست کرلیں کیونکہ یہ ذندگی تو عارضی ہے اسے ایک سفر سمجھ کے گزاریں. لوگوں کے دکھ درد میں کام آنا ہی ایک انسان کا کام ہے. دنیا کے لالچ میں اندھے ہوکے اپنی آ خرت نہ بگاڑیں.

  • باپ کم نہیں میری ماں سے.تحریر: ملک ضماد

    باپ کم نہیں میری ماں سے.تحریر: ملک ضماد

    آج دنیا میں لوگ "”فادر ڈے”” کے نام سے والد کا دن منا رہی ہے
    کیا والد کی عزت پیار صرف دن منانے تک محدود ہے یا اس کے کچھ حقوق و فرائض بھی ہیں
    ہم بطور معاشرہ مغرب کے پیچھے چل رہے ہیں تو معاشرے مین بہت سی باتوں کو ہم نا سمجھتے ہیں نا ہی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں
    وہ باپ جو گرمی، سردی
    دھوپ، بارش
    دن، رات
    جمعہ، اتوار محنت کر کے اپنے بچوں کو پالتا ہے
    وہ اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کی ضروریات پوری کرتا ہے
    وہ خود بھوکا رہتا ہے لیکن بچوں ہو پیٹ بھر کر کھلاتا ہے
    خود کبھی کئی کئی سال تک ایک ہی جوتوں کے جوڑے میں ٹائم گزار دیتا ہے لیکن بچوں کو ہر سال نئے جوتے لے کر دیتا ہے
    خود کپڑے نہیں لیتا لیکن بچوں کے لیے ہر سال، ہر عید، ہر نئی کلاس کے لیے نئے کپڑے لیتا ہے
    پھر کبھی محسوس بھی نہیں ہونے دیتا اپنی اولاد کو کہ وہ بھوکا ہے یا اس کو کسی چیز کی ضرورت ہے
    اس کا بھی دل کرتا ہے وہ نئے کپڑے پہنے لیکن یہ سوچ کر اپنی خواہشات کو دفنا دیتا ہے کہ میں پھر لے لوں گا بچوں کے لیے لازمی لینے ہیں

    باپ بھلے غریب ہو لیکن اپنی اولاد کو وہ شہنشاہوں کے بچوں کی طرح رکھتا ہے
    باپ خود کھانا نہیں کھاتا لیکن بچوں کو کبھی بھی بھوکا نہیں سونے دیتا
    خود پھٹے پرانے کپڑے پہن لیتا ہے لیکن بچوں کو کبھی احساس کمتری کا شکار نہیں ہونے دیتا
    آخر وہ باپ جب کما کما کر بچوں کو کھلاتا ہے
    وہ باپ جب خود بچوں کا محتاج ہوتا ہے تو بچے پھر اس کو یہ ہی کہتے نظر آتے ہیں
    "”آپ نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے””
    یہ وہ الفاظ ہیں جو ہمارے معاشرے میں عام ہو چکے ہیں
    بچے یہ نہیں سوچتے آج ہم جس مقام پے ہیں اس میں میرے باپ کی کتنی محنت ہے
    اس میں باپ کا کتنا خون پسینہ نکلا ہے
    میرا باپ کتنا بھوکا رہا
    وہ یہ سوچتے ہیں باپ کماتا رہا اور کھاتا رہا ہے بس
    اس نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا

    اس کے متعلق اﷲ تبارک وتعالیٰ نے والدین کے حق کو مقدم کیا ہے۔
    ارشاد ہورہا ہے:’’ہم نے آدمی کو حکم دیا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے‘‘
    (سورۃ الاحقاف آیۃ 15)

    باپ کو جنت کا دروازہ کہا گیا ہے جب یہ دروازہ کھلے گا تو ہی انسان جنت میں داخل ہو سکے گا
    اللہ نا کرے یہ دروازہ بند رہتا ہے تو ہم بھلے نیکی کے کام کرتے رہیں آخر میں جا کر دروازہ ہی نے ہو گا تو کیسے ہم جنت میں داخل ہوں گے

    خدارا اپنے والدین کی قدر کریں
    حقوق العباد میں سب سے پہلے والدین کے حقوق بیان کیے گئے ہیں

    حدیث شریف کا مفہوم ہے امام طبرانی نے اس حدیث پاک کو نقل کیا ہے۔ فرماتے ہیں’’نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    والد کی اطاعت میں اﷲ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔ والدین کی نافرمانی اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی ہے””

    والد کی نافرمانی کو اللہ پاک کی نافرمانی کہا گیا ہے تو کیا کوئی شخص اللہ پاک کی نافرمانی کر کے جنت میں جا سکتا ہے
    حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اﷲعلیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    حسن سلوک کرنے والی اولاد جب بھی محبت کی نظر سے والدین کو دیکھے تو ہر نظر کے بدلے اﷲ تعالیٰ مقبول حج کا ثواب لکھ دیتا ہے۔ صحابہ رضی اﷲ عنہم اجمعین نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! اگر کوئی اپنے والدین کی زیارت دن میں سومرتبہ کرے تو ؟  حضوراکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اﷲاکبر اطیب ﷲ تعالیٰ بہت بڑا، نہایت ہی تقدس والا ہے‘‘

    والدین کو دیکھنے کا اتنا بڑا ثواب ہے تو ان کی خدمت کرنے کی کیا فضیلت ہو گی

    مذہب اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے، جس نے والدین کے متعلق کہا ہے کہ:
    ٭  جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔
    ٭  باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے۔
    ٭  رب کی رضامندی والدین کی رضامندی پرہے۔
    ٭  رب کی ناراضگی والدین کی ناراضگی پر ہے۔
    ٭  والدین کی فرمابرداری میں اﷲتعالیٰ کی فرمابرداری ہے۔
    ٭  والدین کی نافرمانی میں اﷲتعالیٰ کی نافرمانی ہے۔
    ماں باپ کی نافرمانی تو کجا ، ناراضگی وناپسندید گی کے اظہار اور جھڑکنے سے بھی روکا گیا ہے اور ادب کے ساتھ نرم گفتگو کا حکم دیا گیا ہے
    ’’ وَلَاَ تْنہَرْ ہُمَا وقُلْ لَّہُما قَوْلًا کَرِیْمَا‘‘
    ساتھ ہی ساتھ بازوئے ذلت پست کرتے ہوئے تواضع وانکساری اور شفقت کے ساتھ برتاؤ کا حکم ہوتا ہے
    ’’ واخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمۃِ‘‘
    اور پوری زندگی والدین کے لئے دعا کرنے کا حکم ان کی اہمیت کو دوبالا کرتا ہے
    وقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہماکَما رَبّیَانِی صَغِیْرًا
    * اور تم سب اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو
    سورہ النساء ۳۶
    * ہم نے ہر انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کی ہے
    سورہ العنکبوت ۸

    اپنے والدین کے ساتھ ایسے حسن سلوک کے ساتھ پیش جیسے وہ بچپن میں آپ کے ساتھ آتے رہے

    اللہ پاک ہمیں اپنے والدین کی نافرمانی سے بچائیں اور ان حقوق کو صحیح معنوں میں ادا کرنے اور ان کی خدمت کرنے کی توفیق دیں
    آمین

  • باپ  ، خلوص و ایثار کا سرچشمہ .تحریر : حمزہ احمد صدیقی

    باپ ، خلوص و ایثار کا سرچشمہ .تحریر : حمزہ احمد صدیقی

    ان کا اٹھنا نہیں ہے حشر سے کم
    گھر کی دیوار باپ کا سایا

    باپ صرف ایک لفظ ہی نہیں بلکہ احساس محبت، شفقت، پیار اور وفا جیسے ایک جذبے کا نام ہے،
    باپ کی شفقت اور دعاٶں کی حدت خاموش سمندر کی مانند ہے جس کی لہروں میں شدت پنہاں ہوتی ہے،باپ خلوص و مہر کا پیکر ، محبت کا ضمیر، باپ خدا کا دیا ہوا انمول خرانہ ہے، باپ اللہ تعالیٰ کی نعمتِ عظیم ، وہ دُنیا میں اپنے اہل و عیال کا ساٸبان ہوتاہے، باپ شفقت ، خلوص ، بے لوث محبت اور قربانی کا دوسرا نام ہے باپ ایک ٹھنڈک کا احساس ہے جو چلچلاتی دھوپ میں اپنے بچوں کو پیار اور سکون کا احساس دلاتا ہے۔

    ہمت شفقت چاہت قربانی
    یکجا لکھوں تو بابا جانی

    باپ ایک ایسا رشتہ ہے جو اپنی پوری زندگی اپنوں کیلئے وقف کردیتا ہے، اس کے صبر اور خلوص کی کوئی مثال نہیں ، باپ ایک ہستی جس کی تعریف بیان کرنے کیلئے لفظوں کا ذخیرہ بھی کم پڑ جائے۔ ہمارے معاشرے میں ماں کا مقام ومرتبہ تو ہرلحاظ سے اجاگر کیا جاتا ہے لیکن باپ کا مقام کسی حدتک نظرانداز کردیا جاتا ہے باپ وہ سایہ بے مثل ہے جس کی مثال اس دنیا میں کہیں بھی نہیں ہے ،باپ جیسی عظیم ہستی سے پیار ، خلوص اور عقیدت کا نام ہے ہر مہذب اور تہذیب میں باپ کو عظیم اور مقدس قرار دیا ہے۔

    باپ اک چھت کی مانند ہوتا ہے جس طرح اک چھت گھر کے مکین کو موسم کے سرد گرم ماحول سے محفوظ رکھتی ہیں، باپ جیسا بھی ہو باپ ہوتا ہے۔ اک گھنا سایہ دار درخت جو خود تو دھوپ طوفان بارش میں کھڑا رہتا ہے پر اپنے سائے میں رہنے والوں کو تحفظ دیتا ہے۔ اس کی شاخوں پہ کتنے ہی پرندے پلتے پھولتے ہیں۔ باپ کا وجود بے پناہ عزیز اور ضروری ہوتا ہے۔ باپ جیسا کوئی نہ ہوتا ہے اور نا ہوسکتا ہے

    ان کے سائے میں بخت ہوتے ہیں
    باپ گھر میں درخت ہوتے ہیں

    باپ وہ ہستی ہے جو دن کو دن نہیں سمجھتا۔ راتوں کو بھی فکر معاش میں بے چین رہتاہے۔ باپ کبھی ہمیں اپنی پریشانی یا الجھن نہیں بتاتا بلکہ خود سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہر مشکل اور دشواری کا سامنا کرتا ہے۔ باپ وہ ہستی ہے جو اپنے اہل خانہ کی کفالت کے لے دن رات جتا رہتا ہے۔ نہ اس کو اپنے آرام کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ ہی اپنے صحت کی۔ وہ اپنے دن رات صرف اس جہد میں صرف کرتا ہے کہ کچھ اور محنت کرلوں تو اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کرلوں۔اپنی اولاد کی ہر اس خواہش کو پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے جو وہ اپنے بچپن میں پوری نہیں کرپایا

    مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ
    میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے

    باپ دنیا کی وہ عظیم ترین ہستی ہے جو اپنے بچوں کی بہترین پرورش اور ان کی راحت کے لیے ہمہ وقت کوشش کرتا ہے، کاوش اور مشقت میں پڑ کر زندگی گزارتا اور ضرورت پڑنے پر اپنے بچوں کے لیے جان تک کی قربانی سے دریغ نہیں کرتا۔

    باپ وہ عظیم ہستی ہے جو اپنی اولاد کے لئے ساری جہاں سے لڑ سکتا ہے۔ باپ اپنی خوشی کی پروا کیے بغیر اولاد کی ہر خواہشات کو پورا کرتا ہے، ویسے تو مرد مضبوط ہوتا ہے مگر فولادی اعصاب کا مالک مرد بھی جب باپ بن جائے تو بچے کی معمولی سی تکلیف پر ٹوٹ جاتا ہے باپ ایک ایسا کریڈٹ کارڈ ہے جس کے پاس بیلنس نہ بھی ہو پھر بھی وہ اولاد کی خواہشات پورے کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ اولاد کو کبھی نہ نہیں کر سکتا چاہے حالات کتنے ہی برے کیوں نہ ہوں ،باپ دنیا جہاں کے دکھوں اور غموں کو اپنے سینے کے اندر سمیٹے رواں دواں رہتا ہے۔ آندھی آئے یا طوفان اسکی محبت میں کمی نہیں آتی، خلوص و ایثار کے اس سرچشمے کی حدود کا اندازاہ لگانا ممکن نہیں۔

    جیب خالی ہو تب بھی نہ نہیں کرتا
    اپنے باپ سے امیر شخص میں نے دیکھا نہیں کوئی

    والد کی قدر کرنی چاہیے۔ باپ کی کمائی اور ورثے کی تو اولاد حق دار بنتی ہے، مگر اس کے دیگر تجربات اور اصولوں سے کم ہی فائدہ اٹھاتی ہے۔ حالاں کہ باپ تجربات کا ایسا خزانہ ہوتا ہے۔ ہر لمحے زندگی کے نت نئے تجربے سے گزر کر اولاد کی بہترین پرورش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سمجھدار اولاد اس خزانے سے سبق لے کر اپنی زندگی کو احسن طریقے سے گزارتی ہے جبکہ بد قسمت اولاد اپنی زندگی کو بے جا خواہشات کے حصول کیلئے تباہ کر ڈالتی ہے اور باپ ایک ایسی کتاب ہے جس پر تجربات تحریر ہوتے ہیں۔ اپنے باپ کو خود سے دور مت کریں بلکہ اس کے تجربات سے سیکھیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ نئی نسل والدین سے خود کو زیادہ عقل مند خیال کرتی ہے جب یہ جاہلیت کے سوا کچھ نہیں ہے

    باپ ہی سرمایہ اولاد ہے
    باپ ہی اجداد کی بنیاد ہے
    گود ماں کی ،درسگاہ اولین
    باپ ہے ،روح جمال دلنشین

    باپ ایک عظیم تحفہ خداوندی ہے ،جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ باپ محبت و چاہت ،صبرو خلوص،ایثارو بردباری کا پیکر ہے۔ ہم جس طرح دریا کو کوزے میں قید نہیں کر سکتے اس طرح والد کی محبت و شفقت ٍ، عنایات و خدمات ،محنت،حوصلہ وہمت کو لفظوں میں بیان نہیں کر سکتے ۔یہ حقیقت ہے کہ باپ کی محبت ایک بحر بیکراں کی طرح ہے ۔ باپ کی بے پایاں محبت کو لفظوں میں نہیں پُرویا جا سکتا اس لیے کچھ وقت اپنے باپ کے پاس بیٹھا کرو اس طرح وہ بوڑھا جوان رہتا ہے۔ اس کی خدمت کر کے اپنے لیے کامیابی کی راہیں ہموار کر لوں۔ دنیا میں جب بھی کوئی پریشانی آئے اپنے باپ سے مشورہ لو کیونکہ باپ سے بہتر کوئی استاد نہیں، اس سے بہتر کوئی ہمدرد نہیں، اس سے بہتر کوئی غمخوار نہیں اور اس سے بہتر کوئی دردمند نہیں

    آج میں اک پیغام دینا چاہتا ہوں کہ جن کے باپ حیات ہیں ان کی قدر کیجئے۔ کیونکہ باپ سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی دُنیا میں پیدا نہیں ہوئی ،آندھی چلے یا طوفان آئے، اُس کی محبت میں کبھی کمی نہیں آتی ۔ وہ نہ ہی کبھی احسان جتاتا ہے اور نہ ہی اپنی محبتوں کا صلہ مانگتاہے بلکہ بے غرض ہو کر اپنی محبت اولاد پر نچھاورکرتا رہتا ہے، یہ ہستی اک بار کھو گئی تو کبھی اور کسی قیمت واپس نہیں ملتی باپ شفقت محبت اور ایثار کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

    یہ سوچ کے ماں باپ کی خدمت میں لگا ہوں
    اس پیڑ کا سایا مرے بچوں کو ملے گا

    اللہ رب العزتﷻ سے دعا ہے کہ ہمیں صحیح معنوں میں اپنے والد محترم کی خدمت کی توفیق نصیب فرمائے اور ان کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر قائم و دائم رکھے اور جن کے والد محترم اس دنیا سے چلے گئے ان کی اولاد کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے اللہ تعالیٰﷻ ہم سب کو والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

  • عورت اور معاشرہ . تحریر: ریحانہ جدون

    عورت اور معاشرہ . تحریر: ریحانہ جدون

    ایک معاشرے کی تعمیر میں عورت کا اہم کردار ہے.. عورت ہی ہے جو ایک اچھا اور مکمل معاشرہ بنا سکتی ہے, وہ بحیثیت ایک ماں اپنے بچوں کی ایسی تربیت کرے کہ وہ آ گے چل کے ایک اچھے معاشرے کو تشکیل دے سکے اور ہر ماں یہ کوشش بھی کرتی ہے کہ اسکے بچے ایک اعلیٰ مقام تک پہنچ سکیں, اسکے لئے وہ اپنی بھرپور کوشش کرتی ہے. میں نے ایسی کئی ماؤں کو دیکھا ہے جو بیوہ یا طلاق یافتہ ہونے کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور حالات کا ڈٹ کے مقابلہ کررہی ہوتیں ہیں, محنت مزدوری کرکے اپنے بچوں کو پال رہی ہوتی ہیں.. افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اگر کسی عورت کو طلاق ہوجائے تو اس پہ انگلی اٹھانے والی ہی عورتیں ہوتیں ہیں کہ اس میں ہی کوئی قصور ہوگا تبھی اسے طلاق ہوئی ہوگی. میں نے کسی مرد کو ایسی گفتگو کرتے نہیں دیکھا لیکن ہمارے معاشرے میں ایک طلاق یافتہ عورت کو کھلی تجوری کی طرح دیکھا ضرور جاتا ہے کہ اس تک رسائی آ سان ہے اور ہر کوئی بآسانی اس تک رسائی حاصل کر سکتا ہے. ایک طلاق یافتہ عورت سے کم ہی کوئی کنوارا شادی کرتا ہے کیونکہ طلاق کا دھبہ اسکے کردار کو مشکوک بنا دیتا ہے چاہے وہ کتنی ہے بےگناہ یا بےقصور ہو.

    اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب لڑکی جوان ہوتی ہے تو یہی معاشرہ اسکے والدین میں یہ خوف بھی ڈال دیتا ہے کہ اگر ابھی اسکی شادی نہ ہوئی تو کبھی نہیں ہوگی کوئی اچھا رشتہ نہیں ملے گا. بیشک وہ اپنی ذندگی میں خوش ہو ایک کامیاب ذندگی گزار رہی ہو لیکن معاشرہ اسکو یہ بات بار بار یاد کراتا ہے آ پ خود بھی کسی نہ کسی طرح یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ شاید ہم میں کوئی کمی رہ گئی ہے اور بہت سے لوگ یہ چاہتے بھی ہیں کہ آ پ اس کمی کو محسوس کریں. بعض اوقات ایسی ہی وجوہات ایک عورت کے لیے مشکلات کھڑی کردیتے ہیں.
    ایک عورت کو جب ایک فُل سپورٹ ملتی ہے ( جو اسکے خاوند کی یا والدین کی) تو وہ نہ صرف ایک اچھی ماں بلکہ ایک اچھی بیوی بیٹی بہن بن کر دکھاتی ہے.
    جس گھر میں عورت کی عزت نہ کی جاتی ہو اسکو کوئی اہمیت نہ دی جاتی ہو تو وہ احساس محرومی کا شکار ہوجاتی ہے, وہ اپنی ہی ذات میں الجھ کر رہ جاتی ہے تو وہ کیا ایک اچھا معاشرہ تشکیل دے پائے گی جہاں اسکے اپنے بچے اسکا اپنا خاوند اسکی عزت نہ کرے…
    ہمیں سوچنا ہوگا کہ ایک عورت کا مقام کیا ہے اسکی ضرویات کیا ہیں..
    جب اس کا جواب ملے گا اور اس پہ عمل ہوگا تو آنے والی نسلوں کو ایک اچھا معاشرہ خوش آمدید کہےگا

  • ‏”پاکستان کا لوکل گورنمنٹ سسٹم اور معاشرتی ترقی”. تحریر:محمد محسن رفیق

    ‏”پاکستان کا لوکل گورنمنٹ سسٹم اور معاشرتی ترقی”. تحریر:محمد محسن رفیق

    پوری دنیا اس وقت سات بڑے براعظموں میں تقسیم ہے۔ ہر براعظم بلکہ ھر ریجن اور ملک اپنی اپنی ضروریات کے مطابق اپنے نظام کو چلا رھا ھے۔ ھر ملک کا اک الگ طور طریقہ اور الگ قسم کی ثقافت ہے۔ ان تمام عوامل کے ساتھ ساتھ تقریباً ہر ملک کا سیاسی اور انتظامی نظام بھی الگ الگ قسم کا ہے۔ اگر آپ تاریخ میں نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ ماضی میں جسکی لاٹھی اسکی بھینس والا قانون تھا۔ جس کے ھاتھ میں طاقت ھوتی تھی وہ اسکو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتا تھا۔ تب یہ دنیا اتنے ملکوں نہیں بلکہ بڑی بڑی امپائرز میں تقسیم تھی مثلاً رومن امپائر، پرشین امپائر اور اوٹمان امپائر وغیرہ وغیرہ۔ ان امپائرز میں بادشاہ جو کہتا تھا وہی ٹھیک ھوتا تھا۔ مجال ہے کہ کوئی اس کے سامنے بولنے کی جراءت بھی کرتا چاھے بادشاہ پرلے درجے کا ان پڑھ اور ناسمجھ ھوتا۔ اس زمانے میں چاپلوسی بھی بھت اعلیٰ درجے کی ھوتی تھی۔ خیر یہ تمام خوبیاں تو آج بھی ھمارے نظام میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا کا سیاسی اور انتظامی نظام بدلنے لگا۔ لوگ بادشاہت کے خلاف بولنے لگے۔ لوگوں نے غلامی کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔ جمھوریت کا نعرہ گونجنے لگا۔ پوری دنیا میں لوگوں نے آزادی اور جمہوریت کی جدوجھد کے لیے اپنی لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اس طرح جمھوری نظام نے بادشاہی نظام کی جگہ لے لی۔

    جمھوری نظام کا مطلب کہ تمام شھری قانونی اور آئینی لحاظ سے برابر ہیں۔ کسی کو کسی دوسرے پر ذات، رنگ، نسل اور مزھب کے لحاظ سے کوئی برتری حاصل نھیں۔ اس نظام میں بادشاہت کے نظام کے بر خلاف ھر شھری کو ائینی، قانونی اور سیاسی نظام میں شرکت کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ لھذا جمھوریت میں انتظامی اور سیاسی نظام میں عام عوام نے بھی کھل کر حصہ لینا شروع کر دیا جسکی بدولت اک نیا انتظامی سسٹم معرضِ وجود میں آیا جسکو ھم عام طور پر لوکل گورنمنٹ سسٹم کے نام سے جانتے ہیں۔ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ چلنے والا جمھوری نظام ہے اور ہر جمھوری ملک میں اک لوکل گورنمنٹ سسٹم پایا جاتا ہے جو کہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اس ملک میں سیاسی طاقت کو عام عوام تک پہنچایا گیا ہے۔ لوکل گورنمنٹ سسٹم کے بنیادی کاموں میں تعلیم، صحت، پارکس، لوکل فنکشنز، سینیٹیشن، صاف پانی اور گلیاں وغیرہ شامل ہیں۔ ہر ملک کا لوکل گورنمنٹ سسٹم دوسرے ملک سے مختلف ھوتا ھے کیونکہ انکی ضروریات اور ریسورسز اک جیسے نہیں ہوتے۔ باقی تمام اچھے اچھے کام کرنے میں اچھے نمبرز لینے والے ممالک لوکل گورنمنٹ سسٹم میں بھی پہلے نمبروں پر براجمان ہیں۔ لوکل گورنمنٹ سسٹم میں پہلا نمبر سوئٹزرلینڈ کا ھے۔ دوسرا نیوزی لینڈ، تیسرا ڈنمارک اور چوتھا سویڈن کا ھے۔ بلکل دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں لوکل گورنمنٹ سسٹم موجود ہے جو کہ مختلف ادوار کے داؤ پیچ کھاتا ہوا اور کچھوے کی چال چلتا چلتا ھمارے سیاسی نظام کے ساتھ ساتھ براجمان ہے۔ اگر آپ پاکستان کے لوکل گورنمنٹ سسٹم کی تاریخ دیکھیں تو کوئی خاطر خواہ سکوں نھیں ملتا کیونکہ کسی بھی گورنمنٹ نے اسکو اس کے اختیارات سے ھمکنار ہی نہیں کیا سوائے جنرل پرویز مشرف کے ڈیولیوشن پلان کے جس کے تحت پاکستان میں لوکل گورنمنٹ سسٹم کو خاطر خواہ اختیارات اور فنڈز مہیا کیے گئے۔ پاکستان میں سب سے پہلے ایوب خان نے چار درجوں پر مشتمل لوکل گورنمنٹ سسٹم متعارف کروایا جس میں ڈویثرنل، ڈسٹرکٹ، تحصیل/تلکہ، اور یونین کونسل شامل تھی۔ مشرف کی طرح یہ لوکل باڈی سسٹم کی کارکردگی بھی جمھوری حکومتوں کی نسبت ٹھیک تھی۔ ان دونوں آمروں نے نئے لوکل گورنمنٹ سسٹمز متعارف کروائے تا کہ سیاسی پاور کو گراس روٹ لیول تک تقسیم کیا جائے۔ اس علاؤہ جمھوری حکومتوں نے انہیں کو توڑ مروڑ کر اپنی چلتی گاڑی کو دھکا دیا۔ خیر مختصراً یہ کہ پاکستان میں لوکل گورنمنٹ سسٹم برائے نام ھی ھے کسی بھی حکومت نے اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش نھیں کی۔ اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ آج ھر گلی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، گندا پانی سڑکوں پر نکل رھا ھے، صاف پانی دور دور تک نظر نھیں آتا، دیھاتی علاقوں میں صحت اور تعلیم کا نظام درھم برہم ھے۔ لوکل فنکشنز نہ کروانے کی وجہ سے ھماری آنے والی نسلیں اپنے کلچر سے دور ھوتی جا رھی ھیں وغیرہ وغیرہ۔۔

    موجودہ دور میں بھی لوکل گورنمنٹ سسٹم کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ جب عمران خان کی حکومت آئی تو جناب وزیراعظم صاحب نے پاکستان کے لوکل گورنمنٹ سسٹم پر بھرپور محنت کی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اب بس چٹکی میں پاکستان کے حالات ٹھیک ھو جانے ھیں۔ عمران خان آمروں کی طرح پاکستان میں اک نیا لوکل گورنمنٹ سسٹم متعارف کروانے جا رھا تھا یھاں تک کہ نئے سسٹم کی ڈرافٹنگ بھی مکمل ہو گئی تھی لیکن پھر پتہ نہیں کیا بنا سب کچھ اک دم سے جیسے منظرنامہ سے غائب ہو گیا۔ پاکستان کے لوکل گورنمنٹ سسٹم کے فلاپ ھونے کی ویسے تو بہت سی وجوہات ہیں لیکن چند اک بہت نمایاں ہیں۔ سب سے پہلے تو یھاں لوکل باڈیز کے الیکشن وقت پر نھیں ھوتے۔ ہر حکومت ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ھوے آخری اک ڈیڑھ سال میں الیکشن منعقد کرواتی ہے۔ دوسری بڑی وجہ برادری سسٹم ھے کہ لوگ اپنی برادری کو ھی ووٹ ڈالتے ہیں چاھے وہ بلکل ان پڑھ ھو اور اسکو معاشرے کی خاص طور پر نئی ضروریات کے بارے کؤی علم نہیں ھوتا۔ تیسری وجہ ان لوکل باڈیز کے منتخب نمائندوں کو کوئی ٹریننگ نہیں کروائی جاتی جسکی وجہ سے یہ سسٹم تقریباً ناکارہ ہو جاتاہے۔ آخری اور سب سے اہم وجہ فنڈز کی کمی ہے۔ اگر عمران خان واقع ملک میں تبدیلی لانا چاہتا ہے تو وہ ڈیویلپمنٹ فنڈز کو سیدھا یونین کونسل کے حوالے کرے اور اک نھایت سخت قسم کا اکاؤنٹیبلٹی سسٹم بھی متعارف کروائے تا کہ یہ پیسے بجائے ایم۔پی۔اے یا ایم۔این۔اے کی جیبوں میں جانے کے سیدھا عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ھوں۔ اور اگر ایسا ھو جائے اور 2,3سال جو بچے ہیں ان میں ڈیویلپمنٹ کا فنڈ لوکل گورنمنٹ سسٹم کے تحت ایمانداری کے ساتھ لگا دیا جائے تو نہ تو ھمارا کوئی تعلیم کا مسلہ رہے، نہ صحت کا، نہ صاف پانی کا، نہ گلیوں نالیوں کا اور نہ ھی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کا۔ اور اگر خان نیا لوکل گورنمنٹ سسٹم متعارف کروانے میں ناکام رہا تو پھر ھمارہ ھمیشہ کی طرح اللہ ہی حافظ۔۔۔۔۔

  • درس گاہوں میں ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ تحریر: رانا عزیر

    درس گاہوں میں ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ تحریر: رانا عزیر

    لاہور کے ایک مدرسے میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ، کیا ہماری تہذیب پر مغرب اور امریکہ کاحملہ ہے؟ کچھ لوگوں کا خیال تو یہی معلوم ہوتا ہے۔

    17 جون کو وفاق المدارس کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس بورڈ کے ساتھ وابستہ ملک بھر سے تیرہ سو علما جمع ہوئے۔ ان میں شیخ التفسیر تھے اور شیخ الحدیث بھی، مفتی بھی اور مناظر بھی۔ خیال یہی تھاکہ اس واقعے پر بورڈ کا متفقہ موقف سامنے آئے گا اور وفاق کم ازکم ایک قرارداد کی صورت میں اپنی اس تشویش کا اظہار ضرور کرے گا تاکہ معاشرے کو یہ پیغام ملے کہ ادارہ اسے ایک حساس واقعہ سمجھتا ہے۔ یہ توقع پوری نہیں ہو سکی۔
    وگ جب اپنے بچے مدارس کے سپرد کرتے ہیں تو یہ ان کے پاس امانت ہوتے ہیں۔ مدرسہ عام سکول یا کالج نہیں ہے۔ یہ ایک طرح سے ایک طالب علم کی پوری زندگی اور معاملات کا محافظ ہے، ایک کیڈٹ کالج کی طرح۔ وہ بچے کی تعلیم، رہائش اور کھانے ہی کے لیے مسئول نہیں، اس کے اخلاق، کردار اور عزت و ناموس کی حفاظت کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے۔ معاشرہ اگر وسائل کے ساتھ اپنے بچے بھی ان کے حوالے کرتا ہے تو اس بھروسے پرکہ ان وسائل کا صحیح استعمال کیا جا ئے گا اور اس کے ساتھ بچے کی معصومیت اور عزتِ نفس کا بھی لحاظ رکھا جائے گا۔

    مدرسے اور معاشرے کے درمیان اعتماد کا یہ رشتہ کسی صورت مجروح نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایک مدرسے کے مہتمم کی ذمہ داری ہے کہ اگر کہیں کوئی افسوسناک واقعہ ہو تو اس کی نیند حرام ہوجائے، اس کا سکون برباد ہو جائے۔ وہ اس وقت تک چین کی نیند نہ سوئے جب تک اس بات کو یقینی نہ بنالے کہ اس طرح کا واقعہ دہرایا نہیں جائے گا۔

    یہ اسی وقت ہوگا جب مہتمم کو یہ معلوم ہوکہ وہ اس دنیا میں کسی کے سامنے جواب دہ ہے۔ ایک مسلمان کے لیے اگرچہ یہ احساس کافی ہونا چاہیے کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے اور وہ اس کے حضور میں مسئول ہے لیکن انسان کمزور ہے اور ہمیشہ حضوری کے اس احساس میں نہیں رہتا۔ اس لیے قانون اور ایک حاکم قوت کی ضرورت رہتی ہے جو اس کی کمزوری پر نظر رکھے۔ مدرسے کے معاملے میں یہ کام وفاق المدارس کا ہے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وفاق نے اس معاملے میں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔

    وفاق یا علما یہ دلیل نہیں دے سکتے کہ باقی مقامات پر بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ پہلی بات کہ اگر اسے درست مان لیا جائے تو بھی یہ ایسے حادثوں کے لیے جواز نہیں بن سکتا۔ ہر آدمی اور ہر ادارہ اپنے افعال کا ذمہ دار ہے۔ وہ یہ دلیل نہیں پیش کر سکتاکہ جب دوسرے یہ کام کررہے ہیں تو وہ کیوں نہ کرے؟ دوسرا یہ کہ جو دین کے نام پر معاشرے میں کھڑا ہے… وہ کوئی عالم ہو یا سیاستدان، کالم نگار ہو یا استاد… اس کی اخلاقی ذمہ داری دوسروں سے سوا ہے۔ مذہب تو نام ہی اخلاقی وجود کی تطہیر کا ہے۔ جو مذہب کا علمبردار ہے، اس کے لیے بدرجہ اتم لازم ہے کہ وہ اپنے اخلاقی وجود کے بارے میں سنجیدہ ہو اور اسے ہر لمحہ اپنی فکر لگی رہے۔ وہ دوسروں سے زیادہ اپنا محتسب ہو۔

    ممکن ہے یہ کہا جائے کہ بند کمرے کے کسی اجلاس میں اس پر تشویش کا اظہار ہوا۔ ممکن ہے ایسا ہواہو لیکن جب ایک معاملہ عوام میں زیرِ بحث آجائے اور اس کی بڑے پیمانے پر تشہیر ہو جائے تو پھر بند کمرے کا کوئی اجلاس اس کا مداوا نہیں کر سکتا۔ پھر لازم ہو جاتا ہے کہ آپ کا کوئی موقف ہو اور وہ عوام کے سامنے آئے۔ گناہ کی خبر چند افراد تک محدود ہوتو اس کی تشہیر مناسب نہیں لیکن جب سماج میں پھیل جائے تو اس سے صرفِ نظر اس گناہ کو سماجی قدر کے طور پر قبول کرنا ہے۔ لازم تھا کہ جب خبر پھیل گئی تھی تو وفاق کی مجلسِ عاملہ کا اجلاس بلا کر اس پر اپنا موقف دیا جاتا۔ کسی اہتمام کے بغیر ایک سنہری موقع وفاق کے ہاتھ آگیا تھاکہ عہدے داروں کے انتخابات کے لیے، اس کے ذمہ داران پہلے سے طے شدہ اجلاس میں جمع تھے۔ اس سے فائدہ اٹھا کر عوام کو اعتماد میں لیا جاسکتا تھا۔ افسوس کہ یہ توقع پوری نہیں ہوئی۔ مولانا فضل الرحمن اپنے خطاب میں ایران توران کی خبرلائے۔ مغرب اور امریکہ کی تہہ زمین سازشوں کا انکشاف کیا۔ اگر ذکر نہیں کیا تو لاہور کے اس واقعے کا۔ یہ باور کرنا ممکن نہیں کہ ان جیسا باخبر آدمی ایک ایسے واقعے کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا جو اس وقت ہر اس آدمی کے علم میں ہے جو سوشل میڈیا سے کوئی مس رکھتا ہے۔ اس واقعے سے ان کی یہ بے اعتنائی بتاتی ہے کہ وہ اسے کتنا اہم سمجھتے ہیں اور خود احتسابی کے معاملے میں کتنے حساس ہیں۔

    برادرم مولانا محمد حنیف جالندھری پندرہ سال سے وفاق کے ناظم اعلیٰ چلے آرہے ہیں۔ اب مزید پانچ سال کے لیے انہیں ایک بارپھر اس ذمہ داری کا اہل سمجھا گیاہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں عمرِ خضر دے اور ہم انہیں ہمیشہ اس منصب پر متمکن دیکھیں، انہوں نے بھی اس کی ضرورت نہیں محسوس کی حالانکہ وہ سب سے زیادہ اور براہ راست اس واقعے کے بارے میں مسئول ہیں۔ ان کو چاہیے تھا کہ وہ اس پر اپنی تشویش کا نہ صرف اعلانیہ اظہار کرتے بلکہ یہ بھی بتاتے کہ مدارس میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے وفاق نے کیا حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔

    میں اس حادثے کو عموم کا رنگ دینے کے حق میں نہیں۔ میں اسے ایک منفرد واقعہ کے طور پردیکھ رہاہوں۔ میں مدرسے سے وابستہ ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو اجلے کردار کی شہرت رکھتے ہیں۔ بعض سے میں شخصی طور پر واقف ہوں۔ مولانا عبدالرؤف ملک کو کم و بیش تیس سال سے جانتا ہو۔ میں نے انہیں وسیع القلب اورایک صاف ستھرا انسان پایا ہے۔ کئی سال ہو گئے، مولانا زاہدالراشدی سے ایک تعلق قائم ہوئے۔ ان سے مل کرہمیشہ ایک پاکیزہ آدمی کا تاثر ملا۔ ذاتی تعلق رکھنے والوں کی ایک طویل فہرست ہے جن کا تعلق مدرسے سے ہے، اس لیے میں اس واقعے کو عمومی رنگ دینے کے حق میں نہیں۔

    تاہم اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ اس بار سوشل میڈیا نے اس پر مٹی ڈالنے کو ممکن نہیں رہنے دیا۔ اس کے بعد لازم ہو گیا ہے کہ وفاق المدارس اسے بنیاد بنا کر مدرسوں کی اخلاقی تطہیر کا ایک منظم منصوبہ بنائے۔ پہلے تجزیہ اور پھر روک تھام کے لیے حکمتِ عملی۔ اس میں مدرسے سے باہر کے لوگوں کوبھی شامل کرے جن میں ماہرینِ نفسیات ہوں اور سکالر بھی۔ وہ اس بات کو کھوج لگائیں کہ درس گاہوں میں ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ ان کا کتنا تعلق ہماری تفہیمِ دین اور سماجی روایت سے ہے؟ وہ کون سے نفسیاتی عوامل ہیں جن کے زیرِ اثر عمر رسیدہ لوگ بھی خود پر قابو نہیں رکھ پاتے۔ جدید علمِ نفسیات میں اس پر بہت تحقیق ہو چکی۔

    یہ واقعات صرف وفاق المدارس کا مسئلہ نہیں، مدارس کے تمام بورڈز کو اس معاملے میں حساسیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاہم چونکہ یہ وفاق کے حوالے سے موضوع بناہے، اس لیے اصلاحِ احوال کے لیے بھی وفاق ہی کو پہل کرنی چاہیے۔ مولانا صاحب کے خطاب سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ بھی جیسے امریکہ اور مغرب کی کوئی سازش ہے کیونکہ اس وقت جس نے مدرسے کی ناموس کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے، وہ یہی واقعہ ہے۔ انہیں سوچنا چاہئے کہ سازش کا یہ بیانیہ اب زیادہ بکنے والا نہیں۔ معاشرہ ان باتوں سے آگے بڑھ چکا ہے

  • آزادی افکار. تحریر:تحریر حسن ساجد

    آزادی افکار. تحریر:تحریر حسن ساجد

    اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ
    جب کوئی شخص ایمان کی نیت سے اس کلمہ طیبہ کو صدق دل سے پڑهتے ہوئے دائرہ اسلام میں داخل ہوتا ہے تو اسے ہم مسلمان کہتے ہیں۔ ایک مسلمان کے نزدیک اس کلمہ طیبہ کا دل و زبان سے اقرار کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کے تمام تر معاملات اور اپنی سوچ کو اللہ اور رسول پاک حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکامات کے تابع کر چکا ہے۔ یعنی وہ اپنے آپکو انکی بیعیت میں دیتے ہوئے اللہ رب العزت کے حضور اپنی بندگی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکمل اطاعت کا اظہار کر رہا ہے. جب ایک شخص دائرہ اسلام میں داخل ہو چکا ہو تو اس کے بعد ایک مسلمان کو یہ ہرگز زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے معاملات زندگی میں "میرے نزدیک” ، "میری سوچ کے مطابق” یا "میری رائے یہ ہے کہ” جیسے الفاظ کا سہارا لیتے ہوئے کسی مسئلے کا حل تلاش کرے یا کسی چیز کی وضاحت پیش کرے۔ یہ اصول بالخصوص ایسے معاملات و امور کے لیے اٹل اور ابدی ہے جن معاملات یا امور کے بارے میں اللہ اور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالصراحت اپنے احکامات جاری کر چکے ہوں. ایسی صورتحال میں بحیثیت مسلمان احکامات الہی و رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تبدیلی یا ان میں اپنی مرضی کے مطابق گنجائش نکالنا یا ان کی نافرمانی کی کوشش ایک مجرمانہ اور صریح نافرنانی پر مشتمل عمل ہے۔ عقائد و ایمانیات سے روگردانی کا عمل اس سے کہیں بڑا، سنگین اور قابل اعتراض جرم ہے کہ کسی ملک کے قوانین کی خلاف ورزی کی جائے یا ان میں ترمیم کی کوشش کی جائے ۔ یعنی اس سے مراد ہے کہ جس طرح آپ کو کسی ملک کے قوانین میں ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر تبدیلی یا ترمیم کی اجازت نہیں بلکل اسی طرح دینی امور یا قوانین کی ذاتی رائے پر نفی کی قطعی طور پر اجازت نہیں۔

    بات کو سمجھنے کے لیے ایک مثال کا سہارا لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ امریکی شہریت کے حامل شخص ہیں تو آپ کو ذاتی پسند و ناپسند سے بالائے طاق ہوکر ان تمام قوانین کی پیروی کرنی ہوگی جو امریکہ میں نافذ العمل ہیں ان قوانین کے سامنے آپکی ذاتی رائے کی مہمل حیثیت ہے اور اگر آپ ان قوانین سے منحرف ہوکر ذاتی رائے کو فوقیت دیں گے تو آپکا یہ عمل ریاستی قوانین سے انحراف اور غداری کے زمرے میں آئے گا جس کی بنیاد پر آپکو ریاستی قوانین کے مطابق جزاوسزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بالکل یہی معاملہ ایک دین کے پیروکار کے لیے ہے کہ جب متعلقہ شخص اپنے دینی احکامات کی روگردانی یا نفی کرے گا یا صریح دینی احکامات پر ذاتی رائے کو فوقیت دے گا تو اسکا یہ عمل گناہ اور قابل جرم گردانا جائے گا۔
    گزشتہ چند دہائیوں سے آزادی افکار اور فریڈم آف سپیچ کے نام پر الہامی ادیان بالخصوص اسلام کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ نظریہ اسلام پر قائم وطن عزیز خاص طور پر اسلام دشمن قوتوں کے نشانے پر ہے جس کے عوام کو لبرل ازم، سیکولرازم اور ایتھزم (لادینیت) جیسے جھانسوں میں پھنسا کر اسلامی تعلیمات اور احیائے دین سے دور کیا جارہا ہے۔ چونکہ پاکستان کی زیادہ تر آبادی مسلمان ہے اور یہاں اسلامی حکومت قائم ہے جسکی بدولت یہاں کھلے عام دین دشمنی کی تبلیغ ممکن نہیں اس لیے دین دشمن قوتیں ماڈریٹ مسلمان اور سیکولر طبقہ پیدا کرکے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کوشاں ہیں۔

    سیکولرازم کے قائل حضرات "مذہبی” اور "لبرل” لوگوں کے بین بین ہوتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ منافقانہ پالیسی اختیار کیے ہوئے ہوتے ہیں. اگر مزید وضاحت سے کہا جائے تو اردو زبان کا محاورہ ” آدها تیتر آدها بٹیر ” انکی فلاسفی کی مکمل ترجمانی کرتا ہے. یہ لوگ مذہب پر عمل پیرا ہونے کے دعویدار بھی ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ آزادی رائے کے تحت مختلف مقامات پہ احکامات شریعت پر "اپنی سوچ” اور "اپنی فکر” کو فوقیت دیتے ہوئے معاملات زندگی میں اسلام کے قوانین سے روگردانی کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اس فتنہ کا سامنا ہمیں ملالہ یوسفزائی کے ایک انتہائی متنازعہ بیان کی صورت میں کرنا پڑا۔ ملالہ یوسفزائی نے اپنے بیان میں نکاح جیسے متبرک اور معتبر عمل کا ناصرف انکار کیا گیا بلکہ ہماری نوجوان نسل کو بے راہ روی کی طرف راغب کرنے کی مکروہ کوشش بھی کی۔ ملالہ یوسفزائی کی جانب سے صریح اسلامی احکامات کا انکار اور حضور نبی کریم کی سنت سے روگردانی قابل سزا جرم ہے جس پر حکومت پاکستان، اسلامی نظریاتی کونسل اور عدلیہ کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملالہ کو اپنی حیثیت واضح کرنے کے لیے کسی مناسب پلیٹ فارم پر بلانا چاہیے تھا۔

    نظریات کی اس جنگ میں نشانے پر ہماری نوجوان نسل ہے جسے اپنے نصب العین سے ہٹانے اور بے راہ روی کا شکار کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ میں نوجوان نسل سے مخاطب ہوں اور ان کو یہ واضح کردینا چاہتا ہوں اگر اللہ پاک نے آپ کو ایک مسلمان پیدا کیا ہے تو سجدہ شکر بجا لاو کہ تمہیں زندگی بسر کرنے کے لیے ایک جامع اور مکمل نصب العین ملا ہے۔ کیونکہ اسلام محض عبادات و ایمانیات سے جڑا مذہب ہی نہیں بلکہ ایک کامل و اکمل دین اور ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو عقائد، عبادات، معاشرت، معاشیات، اخلاقیات اور معاملات سمیت زندگی کے تمام پہلووں سے متعلق انسان کو مکمل اور بہترین راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس کی پیروی کے دعویدار اور ایک مسلمان شخص کو زیب نہیں دینا کہ وہ ان معاملات کہ بارے میں "اپنی سوچ” یا "اپنی رائے” کو معیار قرار دے جن سے متعلق شریعت محمدی میں تصریح پائی جاتی ہے. میری مسلم نوجوانوں سے درخواست ہے کہ دور حاضر کے تمام دھوکوں اور فتنوں سے بچنے کے لیے "ادخلو فی السلمہ کافته” پر مکمل طور پر عمل پیرا ہوجائیں اور شریعت محمدی کو معیار سمجهتے ہوئے اپنی سوچ کو اسکے تابع کر لیں اسی میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے.
    اور دوسری جانب مادر پدر آزاد خیالات کے حامل وہ لوگ جو حکامات شریعت کو ترک کرنے کا جواز ” مگر میرے نزدیک ایسا ہے کہ” کہہ کر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ اپنے اوپر اسلام کی جعلی ملمع کاری کرنے کی بجائے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کریں اور اپنی سوچ کو معیار قرار دیتے ہوئے سیکولر یا لبرل یا ماڈریٹ مسلمان کہلوانے کی بجائے لادین یا ایتھیسٹ کہلوانا شروع کر دیں۔ اس دوغلی صورتحال میں آپکا حساب ایسا ہی ہے کہ "دهوبی کا کتا گهر کا نہ گهاٹ کا”۔ اور رہی بات تمہاری فریڈم آف سپیچ، آزاد سوچ یا آزادی رائے کی تو ایسی فریڈم آف سپیچ یا آزادی رائے جو دین اور اپنی روایات سے دور کرے وہ ہمارے نزدیک ایک شیطانی عمل ہے۔ الحمدللہ پاکستان کا نوجوان طبقہ بیدار مغز اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ ہے وہ تمہاری اصلیت سے واقف ہوچکا ہے اور اب تمہارے جھانسوں میں بلکل بھی نہیں آئے گا۔
    ایسے سرخوں اور ضمیر فروش خود ساختہ دانشوروں کی نظر حضرت اقبال کے ایک شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔ حضرت اقبال نے فرماتے ہیں کہ

    اس قوم ميں ہے شوخي انديشہ خطرناک
    جس قوم کے افراد ہوں ہر بند سے آزاد
    گو فکر خدا داد سے روشن ہے زمانہ
    آزادئ افکار ہے ابليس کی ايجاد

  • ہراسمنٹ کا نشانہ صرف عورتیں ہی نہیں مرد بھی ہیں ،تحریر:طلعت کاشف سلام

    ہراسمنٹ کا نشانہ صرف عورتیں ہی نہیں مرد بھی ہیں ،تحریر:طلعت کاشف سلام

    پاکستان اسلامی ملک ہے لیکن آج تک پاکستان میں نا تو کسی کو شرعی سزا دی گئی اور نا ہی کسی شرعی قانون کو نافذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے اسی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ہراسمنٹ کا شکار صرف عورت کو ہی سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت میں اس کا شکار عورتوں کے ساتھ مرد بھی ہیں۔

    بہت سے کیسز ایسے رپورٹ ہوتے ہیں جہاں سکول کالجز میں جوان لڑکوں، آفسز میں مردوں کو بھی ہراس کیا جاتا ہے

    مدارس میں طالب علموں کو بھی ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے
    کبھی ان کو نمبروں کے بہانے تو کبھی سیلیری کے بہانے
    کبھی سکول کالجز میں چھٹی کے بہانے تو

    کبھی آفس میں ڈیوٹی میں نرمی کے بہانے ان کو بلیک میل کیا جاتا ہے تو کبھی ان کو جنسی زیادتی کا نشانہ تک بنایا جاتا ہے۔

    لیکن مرد بیچارہ عزت کی خاطر کسی سے بات نہیں کر سکتا اور چپ ہو کر ہراسمنٹ کا شکار بنتا رہتا ہے
    ہمارے ہر ادارے میں ایسے درندے موجود ہیں جو مردوں پے بھی عورتوں کی طرح کی نظر رکھتے ہیں
    موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں کیسے ان کو موقع ملے وہ اپنا کام پورا کریں

    اور مرد کو بھی جنسی زیادتی کا نشانہ بنائیں۔

    اسلام میں زانی کے لیے سخت سزا کا حکم دیا گیا ہے
     زنا کرنے والا شخص اگر غیر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سو (۱۰۰) کوڑے ہیں اور اگر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سنگسار کیا جانا ہے، آدھا جسم زمین میں گاڑ کر پتھروں سے اسے مارا جائے یہاں تک کہ اس کی جان نکل جائے۔ ایسی سزا کو حدود اللہ کہا جاتا ہے جس کا جاری کرنا حاکم اسلام کا کام اور ذمہ داری ہے

    حضرت لوط علیہ سلام کی قوم پر عذاب بھی اسی وجہ سے آیا تھا وہ نوجوان لڑکوں کے ساتھ زناء کیا کرتے تھے
    اللہ پاک نے قرآن پاک میں کہی مقام پر لوط علیہ سلام کی قوم کا ذکر کیا ہے

    قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے’’اور لوطؑ کو یاد کرو،

    جب اُنہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ’’ تم بے حیائی (کے کام) کیوں کرتے ہو؟ کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر لذّت (حاصل کرنے) کے لیے مَردوں کی طرف مائل ہوتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم احمق لوگ ہو۔‘‘
    (سورۃ النمل54,55)

    اج بھی ہم اگر اپنے ارد گرد معاشرے میں دیکھیں تو ہمیں بہت سے مرد ایسے ملیں گے جن کے ساتھ زیادتی ہوئی ہوتی لیکن وہ مرد ہونے کے ناطے کسی سے ذکر کرنے کے بجائے یا تو اس زیادتی کا شکار بنتے رہتے ہیں یا پھر وہ ادارہ، سکول کالج چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

    ایک اور جگہ اللہ پاک نے فرمایا

    "اور قومِ لوط ؑ نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا ۔ جب اُن سے اُن کے بھائی، لوطؑ نے کہا کہ’’ تم کیوں نہیں ڈرتے، مَیں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں۔ تو اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو اور مَیں تم سے اِس (کام )کا بدلہ نہیں مانگتا، میرا بدلہ (اللہ) ربّ العالمین کے ذمّے ہے۔ کیا تم اہلِ عالَم میں سے لڑکوں پر مائل ہوتے ہو اور تمہارے پروردگار نے جو تمہارے لیے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں، اُن کو چھوڑ دیتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے ہو۔‘‘
    (سورۂ الشعرا 160-166)

    ہمیں اپنے ارد گرد کے معاشرے میں اپنی بہن بیٹیوں کے ساتھ ساتھ ایسے لوگوں کو بھی بے نقاب کرنے، ان کو سزائیں دلوانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا

    ہمارے اداروں کو بھی ایسے لوگوں پر نظر رکھنی ہو گی جہاں پر ایسے درندے موجود ہیں جو عورتوں کے ساتھ مردوں کو بھی زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں
    @alwaystalat

  • نوجوان نسل اور ملک و قوم کی ترقی۔ ‏تحریر: ایمان تیمور

    نوجوان نسل اور ملک و قوم کی ترقی۔ ‏تحریر: ایمان تیمور

    کسی بھی قوم کی باگ ڈور اس کی نئی نسل کے ہاتھ میں ہوتی ہے،جس طرح ایک عمارت کی تعمیر میں اینٹ ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے کہ اینٹ سے اینٹ مل کر عمارت وجود میں آتی ہے،اسی طرح ملک کی تعمیر میں ہر نوجوان کی اپنی الگ اہمیت ہوتی ہے، جس سے انکار ممکن نہیں،لیکن ہماری نوجوان نسل کو بھی اپنی اہمیت اور زمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیئے۔نوجوانوں کو بھی بڑھ چڑھ کر ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ
    کسی بھی ملک، قوم یا معاشرے میں حقیقی اور مثبت تبدیلی نوجوان ہی لاسکتے ہیں، جب نوجوان مخلص ہوکر اپنے ملک و قوم کے لیے محنت اور جدوجہد کرنے لگتے ہیں تو مثبت تبدیلی، ترقی اور بہتری کو کوئی نہیں روک سکتا، کامیابی ان کے قدموں کی دھول ضرور بنتی ہے۔ نوجوان ہی وہ قوت ہیں، جو اگر ارادہ کرلیں تو ملک کی باگ ڈور سنبھال کر ملک کو اوج ثریا پر پہنچا کر دم لیتے ہیں۔کامیابی اور کامرانی ان اقوام کی قدم بوسی کرتی ہے جن کے نوجوان مشکلات سے لڑنے کا ہنر جانتے ہیں۔ خوش حالی ان اقوام کا مقدر بنتی ہیں جن کے نوجوانوں کے عزائم آسمان کو چھوتے ہیں۔

    ترقی ان اقوام کی منزل بنتی ہیں جن کے نوجوان خوددار، اور اپنی مدد آپ کے تحت دن رات محنت، لگن اور جانفشانی سے آگے بڑھنے کی لگن رکھتے ہوں ۔
    ہمیں اپنی نوجوان نسل پہ پورا بھروسہ ہے ایک دن ہم ایک مضبوط قوم کے طور ضرور ابھریں گے

    شاخیں رہیں تو پھول بھی پتے بھی آئیں گے
    یہ دن اگر برے ہیں تو اچھے بھی آئیں گے.

    انشاللہ۔۔
    پاکستان ذندہ باد۔

  • شور اور شعور .تحریر:فروا منیر

    شور اور شعور .تحریر:فروا منیر

    شور اور شعور .تحریر:فروا منیر
    شور اور شعورمیں واضح فرق "ع” کا ہے جس کا مطلب ہے علم۔ ہر وہ بات جو بغیر علم کے ہو شور کہلاتی ہے۔
    ہر اونچی آواز کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حق کی ہی آواز ہو بغیر دلیل اور بغیر علم کے کی جانے والی آواز اس خالی برتن کی مانند ہے جو کہ صرف شور مچاتا ہے۔
    بات کرتے ہیں اس ملک کے مقدس ایوان اور عوامی نمائیندوں کی جو اس عوام کا اعتماد ووٹ کے نام پر اس لیے حاصل کرتے ہیں کہ وہ عوام کی نمائیندگی کریں گے اور عوام کے مسائل کو  نیشنل اسمبلی کے ایوان میں پیش کریں گے ۔
    نیشنل اسمبلی وہ ایوان کےجس میں اس ملک کے پڑھے لکھے افراد عوام کی نمائیندگی کرتے ہیں

    مگر ٹھرئیے!
    یہاں تو منظر ہی کچھ اور ہے عوام کی مسائل کی بجائے ہر کوئی اپنے مسائل حل کرنے میں لگا ہے۔
    کہیں سے سیٹیاں گونج رہی ہیں ،کہیں سے تالیاں
    عوامی نمائیندے عوامی مسائل سے گتھم گتھا ہونے کی بجائے آپس میں گتھم گتھا ہیں
    ہر کوئی ایک دوسرے کو چور کہہ رہا ہے۔ اگر سب ہی چور ہیں تو چوروں کا یہاں کیا کام؟؟
    جناب شعور سے "ع” غائب ہو چکا ہے "ع” سے علم جاتے ہی "ع” سے عقل بھی جانے لگی اور بس شور شور رہ گیا۔
    پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نمائیندے عوامی نمائیندگی کر رہے ہیں
    تو کیا دنیا سوچنے پرمجبور نہ ہو گی کہ اگر نمائیندے ایسے تو عوام کیسی ہوگی؟

    اسلاف کی میراث بچانے والے مال بچانے میں مصروف ہیں
    خدارا اپنے  مفادات سے باہر نکل کر اس ملک کے مفادکا سوچئے۔
    اگر یہی حال اس ملک کے حکمرانوں کا ہے تو اس عوام کا اللہ ہی خافظ۔