Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • ‏”پاکستان کا لوکل گورنمنٹ سسٹم اور معاشرتی ترقی”. تحریر:محمد محسن رفیق

    ‏”پاکستان کا لوکل گورنمنٹ سسٹم اور معاشرتی ترقی”. تحریر:محمد محسن رفیق

    پوری دنیا اس وقت سات بڑے براعظموں میں تقسیم ہے۔ ہر براعظم بلکہ ھر ریجن اور ملک اپنی اپنی ضروریات کے مطابق اپنے نظام کو چلا رھا ھے۔ ھر ملک کا اک الگ طور طریقہ اور الگ قسم کی ثقافت ہے۔ ان تمام عوامل کے ساتھ ساتھ تقریباً ہر ملک کا سیاسی اور انتظامی نظام بھی الگ الگ قسم کا ہے۔ اگر آپ تاریخ میں نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ ماضی میں جسکی لاٹھی اسکی بھینس والا قانون تھا۔ جس کے ھاتھ میں طاقت ھوتی تھی وہ اسکو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرتا تھا۔ تب یہ دنیا اتنے ملکوں نہیں بلکہ بڑی بڑی امپائرز میں تقسیم تھی مثلاً رومن امپائر، پرشین امپائر اور اوٹمان امپائر وغیرہ وغیرہ۔ ان امپائرز میں بادشاہ جو کہتا تھا وہی ٹھیک ھوتا تھا۔ مجال ہے کہ کوئی اس کے سامنے بولنے کی جراءت بھی کرتا چاھے بادشاہ پرلے درجے کا ان پڑھ اور ناسمجھ ھوتا۔ اس زمانے میں چاپلوسی بھی بھت اعلیٰ درجے کی ھوتی تھی۔ خیر یہ تمام خوبیاں تو آج بھی ھمارے نظام میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا کا سیاسی اور انتظامی نظام بدلنے لگا۔ لوگ بادشاہت کے خلاف بولنے لگے۔ لوگوں نے غلامی کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔ جمھوریت کا نعرہ گونجنے لگا۔ پوری دنیا میں لوگوں نے آزادی اور جمہوریت کی جدوجھد کے لیے اپنی لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اس طرح جمھوری نظام نے بادشاہی نظام کی جگہ لے لی۔

    جمھوری نظام کا مطلب کہ تمام شھری قانونی اور آئینی لحاظ سے برابر ہیں۔ کسی کو کسی دوسرے پر ذات، رنگ، نسل اور مزھب کے لحاظ سے کوئی برتری حاصل نھیں۔ اس نظام میں بادشاہت کے نظام کے بر خلاف ھر شھری کو ائینی، قانونی اور سیاسی نظام میں شرکت کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ لھذا جمھوریت میں انتظامی اور سیاسی نظام میں عام عوام نے بھی کھل کر حصہ لینا شروع کر دیا جسکی بدولت اک نیا انتظامی سسٹم معرضِ وجود میں آیا جسکو ھم عام طور پر لوکل گورنمنٹ سسٹم کے نام سے جانتے ہیں۔ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ چلنے والا جمھوری نظام ہے اور ہر جمھوری ملک میں اک لوکل گورنمنٹ سسٹم پایا جاتا ہے جو کہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اس ملک میں سیاسی طاقت کو عام عوام تک پہنچایا گیا ہے۔ لوکل گورنمنٹ سسٹم کے بنیادی کاموں میں تعلیم، صحت، پارکس، لوکل فنکشنز، سینیٹیشن، صاف پانی اور گلیاں وغیرہ شامل ہیں۔ ہر ملک کا لوکل گورنمنٹ سسٹم دوسرے ملک سے مختلف ھوتا ھے کیونکہ انکی ضروریات اور ریسورسز اک جیسے نہیں ہوتے۔ باقی تمام اچھے اچھے کام کرنے میں اچھے نمبرز لینے والے ممالک لوکل گورنمنٹ سسٹم میں بھی پہلے نمبروں پر براجمان ہیں۔ لوکل گورنمنٹ سسٹم میں پہلا نمبر سوئٹزرلینڈ کا ھے۔ دوسرا نیوزی لینڈ، تیسرا ڈنمارک اور چوتھا سویڈن کا ھے۔ بلکل دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں لوکل گورنمنٹ سسٹم موجود ہے جو کہ مختلف ادوار کے داؤ پیچ کھاتا ہوا اور کچھوے کی چال چلتا چلتا ھمارے سیاسی نظام کے ساتھ ساتھ براجمان ہے۔ اگر آپ پاکستان کے لوکل گورنمنٹ سسٹم کی تاریخ دیکھیں تو کوئی خاطر خواہ سکوں نھیں ملتا کیونکہ کسی بھی گورنمنٹ نے اسکو اس کے اختیارات سے ھمکنار ہی نہیں کیا سوائے جنرل پرویز مشرف کے ڈیولیوشن پلان کے جس کے تحت پاکستان میں لوکل گورنمنٹ سسٹم کو خاطر خواہ اختیارات اور فنڈز مہیا کیے گئے۔ پاکستان میں سب سے پہلے ایوب خان نے چار درجوں پر مشتمل لوکل گورنمنٹ سسٹم متعارف کروایا جس میں ڈویثرنل، ڈسٹرکٹ، تحصیل/تلکہ، اور یونین کونسل شامل تھی۔ مشرف کی طرح یہ لوکل باڈی سسٹم کی کارکردگی بھی جمھوری حکومتوں کی نسبت ٹھیک تھی۔ ان دونوں آمروں نے نئے لوکل گورنمنٹ سسٹمز متعارف کروائے تا کہ سیاسی پاور کو گراس روٹ لیول تک تقسیم کیا جائے۔ اس علاؤہ جمھوری حکومتوں نے انہیں کو توڑ مروڑ کر اپنی چلتی گاڑی کو دھکا دیا۔ خیر مختصراً یہ کہ پاکستان میں لوکل گورنمنٹ سسٹم برائے نام ھی ھے کسی بھی حکومت نے اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش نھیں کی۔ اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ آج ھر گلی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، گندا پانی سڑکوں پر نکل رھا ھے، صاف پانی دور دور تک نظر نھیں آتا، دیھاتی علاقوں میں صحت اور تعلیم کا نظام درھم برہم ھے۔ لوکل فنکشنز نہ کروانے کی وجہ سے ھماری آنے والی نسلیں اپنے کلچر سے دور ھوتی جا رھی ھیں وغیرہ وغیرہ۔۔

    موجودہ دور میں بھی لوکل گورنمنٹ سسٹم کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ جب عمران خان کی حکومت آئی تو جناب وزیراعظم صاحب نے پاکستان کے لوکل گورنمنٹ سسٹم پر بھرپور محنت کی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اب بس چٹکی میں پاکستان کے حالات ٹھیک ھو جانے ھیں۔ عمران خان آمروں کی طرح پاکستان میں اک نیا لوکل گورنمنٹ سسٹم متعارف کروانے جا رھا تھا یھاں تک کہ نئے سسٹم کی ڈرافٹنگ بھی مکمل ہو گئی تھی لیکن پھر پتہ نہیں کیا بنا سب کچھ اک دم سے جیسے منظرنامہ سے غائب ہو گیا۔ پاکستان کے لوکل گورنمنٹ سسٹم کے فلاپ ھونے کی ویسے تو بہت سی وجوہات ہیں لیکن چند اک بہت نمایاں ہیں۔ سب سے پہلے تو یھاں لوکل باڈیز کے الیکشن وقت پر نھیں ھوتے۔ ہر حکومت ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ھوے آخری اک ڈیڑھ سال میں الیکشن منعقد کرواتی ہے۔ دوسری بڑی وجہ برادری سسٹم ھے کہ لوگ اپنی برادری کو ھی ووٹ ڈالتے ہیں چاھے وہ بلکل ان پڑھ ھو اور اسکو معاشرے کی خاص طور پر نئی ضروریات کے بارے کؤی علم نہیں ھوتا۔ تیسری وجہ ان لوکل باڈیز کے منتخب نمائندوں کو کوئی ٹریننگ نہیں کروائی جاتی جسکی وجہ سے یہ سسٹم تقریباً ناکارہ ہو جاتاہے۔ آخری اور سب سے اہم وجہ فنڈز کی کمی ہے۔ اگر عمران خان واقع ملک میں تبدیلی لانا چاہتا ہے تو وہ ڈیویلپمنٹ فنڈز کو سیدھا یونین کونسل کے حوالے کرے اور اک نھایت سخت قسم کا اکاؤنٹیبلٹی سسٹم بھی متعارف کروائے تا کہ یہ پیسے بجائے ایم۔پی۔اے یا ایم۔این۔اے کی جیبوں میں جانے کے سیدھا عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ھوں۔ اور اگر ایسا ھو جائے اور 2,3سال جو بچے ہیں ان میں ڈیویلپمنٹ کا فنڈ لوکل گورنمنٹ سسٹم کے تحت ایمانداری کے ساتھ لگا دیا جائے تو نہ تو ھمارا کوئی تعلیم کا مسلہ رہے، نہ صحت کا، نہ صاف پانی کا، نہ گلیوں نالیوں کا اور نہ ھی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کا۔ اور اگر خان نیا لوکل گورنمنٹ سسٹم متعارف کروانے میں ناکام رہا تو پھر ھمارہ ھمیشہ کی طرح اللہ ہی حافظ۔۔۔۔۔

  • درس گاہوں میں ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ تحریر: رانا عزیر

    درس گاہوں میں ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ تحریر: رانا عزیر

    لاہور کے ایک مدرسے میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ، کیا ہماری تہذیب پر مغرب اور امریکہ کاحملہ ہے؟ کچھ لوگوں کا خیال تو یہی معلوم ہوتا ہے۔

    17 جون کو وفاق المدارس کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس بورڈ کے ساتھ وابستہ ملک بھر سے تیرہ سو علما جمع ہوئے۔ ان میں شیخ التفسیر تھے اور شیخ الحدیث بھی، مفتی بھی اور مناظر بھی۔ خیال یہی تھاکہ اس واقعے پر بورڈ کا متفقہ موقف سامنے آئے گا اور وفاق کم ازکم ایک قرارداد کی صورت میں اپنی اس تشویش کا اظہار ضرور کرے گا تاکہ معاشرے کو یہ پیغام ملے کہ ادارہ اسے ایک حساس واقعہ سمجھتا ہے۔ یہ توقع پوری نہیں ہو سکی۔
    وگ جب اپنے بچے مدارس کے سپرد کرتے ہیں تو یہ ان کے پاس امانت ہوتے ہیں۔ مدرسہ عام سکول یا کالج نہیں ہے۔ یہ ایک طرح سے ایک طالب علم کی پوری زندگی اور معاملات کا محافظ ہے، ایک کیڈٹ کالج کی طرح۔ وہ بچے کی تعلیم، رہائش اور کھانے ہی کے لیے مسئول نہیں، اس کے اخلاق، کردار اور عزت و ناموس کی حفاظت کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے۔ معاشرہ اگر وسائل کے ساتھ اپنے بچے بھی ان کے حوالے کرتا ہے تو اس بھروسے پرکہ ان وسائل کا صحیح استعمال کیا جا ئے گا اور اس کے ساتھ بچے کی معصومیت اور عزتِ نفس کا بھی لحاظ رکھا جائے گا۔

    مدرسے اور معاشرے کے درمیان اعتماد کا یہ رشتہ کسی صورت مجروح نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایک مدرسے کے مہتمم کی ذمہ داری ہے کہ اگر کہیں کوئی افسوسناک واقعہ ہو تو اس کی نیند حرام ہوجائے، اس کا سکون برباد ہو جائے۔ وہ اس وقت تک چین کی نیند نہ سوئے جب تک اس بات کو یقینی نہ بنالے کہ اس طرح کا واقعہ دہرایا نہیں جائے گا۔

    یہ اسی وقت ہوگا جب مہتمم کو یہ معلوم ہوکہ وہ اس دنیا میں کسی کے سامنے جواب دہ ہے۔ ایک مسلمان کے لیے اگرچہ یہ احساس کافی ہونا چاہیے کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے اور وہ اس کے حضور میں مسئول ہے لیکن انسان کمزور ہے اور ہمیشہ حضوری کے اس احساس میں نہیں رہتا۔ اس لیے قانون اور ایک حاکم قوت کی ضرورت رہتی ہے جو اس کی کمزوری پر نظر رکھے۔ مدرسے کے معاملے میں یہ کام وفاق المدارس کا ہے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وفاق نے اس معاملے میں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔

    وفاق یا علما یہ دلیل نہیں دے سکتے کہ باقی مقامات پر بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ پہلی بات کہ اگر اسے درست مان لیا جائے تو بھی یہ ایسے حادثوں کے لیے جواز نہیں بن سکتا۔ ہر آدمی اور ہر ادارہ اپنے افعال کا ذمہ دار ہے۔ وہ یہ دلیل نہیں پیش کر سکتاکہ جب دوسرے یہ کام کررہے ہیں تو وہ کیوں نہ کرے؟ دوسرا یہ کہ جو دین کے نام پر معاشرے میں کھڑا ہے… وہ کوئی عالم ہو یا سیاستدان، کالم نگار ہو یا استاد… اس کی اخلاقی ذمہ داری دوسروں سے سوا ہے۔ مذہب تو نام ہی اخلاقی وجود کی تطہیر کا ہے۔ جو مذہب کا علمبردار ہے، اس کے لیے بدرجہ اتم لازم ہے کہ وہ اپنے اخلاقی وجود کے بارے میں سنجیدہ ہو اور اسے ہر لمحہ اپنی فکر لگی رہے۔ وہ دوسروں سے زیادہ اپنا محتسب ہو۔

    ممکن ہے یہ کہا جائے کہ بند کمرے کے کسی اجلاس میں اس پر تشویش کا اظہار ہوا۔ ممکن ہے ایسا ہواہو لیکن جب ایک معاملہ عوام میں زیرِ بحث آجائے اور اس کی بڑے پیمانے پر تشہیر ہو جائے تو پھر بند کمرے کا کوئی اجلاس اس کا مداوا نہیں کر سکتا۔ پھر لازم ہو جاتا ہے کہ آپ کا کوئی موقف ہو اور وہ عوام کے سامنے آئے۔ گناہ کی خبر چند افراد تک محدود ہوتو اس کی تشہیر مناسب نہیں لیکن جب سماج میں پھیل جائے تو اس سے صرفِ نظر اس گناہ کو سماجی قدر کے طور پر قبول کرنا ہے۔ لازم تھا کہ جب خبر پھیل گئی تھی تو وفاق کی مجلسِ عاملہ کا اجلاس بلا کر اس پر اپنا موقف دیا جاتا۔ کسی اہتمام کے بغیر ایک سنہری موقع وفاق کے ہاتھ آگیا تھاکہ عہدے داروں کے انتخابات کے لیے، اس کے ذمہ داران پہلے سے طے شدہ اجلاس میں جمع تھے۔ اس سے فائدہ اٹھا کر عوام کو اعتماد میں لیا جاسکتا تھا۔ افسوس کہ یہ توقع پوری نہیں ہوئی۔ مولانا فضل الرحمن اپنے خطاب میں ایران توران کی خبرلائے۔ مغرب اور امریکہ کی تہہ زمین سازشوں کا انکشاف کیا۔ اگر ذکر نہیں کیا تو لاہور کے اس واقعے کا۔ یہ باور کرنا ممکن نہیں کہ ان جیسا باخبر آدمی ایک ایسے واقعے کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا جو اس وقت ہر اس آدمی کے علم میں ہے جو سوشل میڈیا سے کوئی مس رکھتا ہے۔ اس واقعے سے ان کی یہ بے اعتنائی بتاتی ہے کہ وہ اسے کتنا اہم سمجھتے ہیں اور خود احتسابی کے معاملے میں کتنے حساس ہیں۔

    برادرم مولانا محمد حنیف جالندھری پندرہ سال سے وفاق کے ناظم اعلیٰ چلے آرہے ہیں۔ اب مزید پانچ سال کے لیے انہیں ایک بارپھر اس ذمہ داری کا اہل سمجھا گیاہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں عمرِ خضر دے اور ہم انہیں ہمیشہ اس منصب پر متمکن دیکھیں، انہوں نے بھی اس کی ضرورت نہیں محسوس کی حالانکہ وہ سب سے زیادہ اور براہ راست اس واقعے کے بارے میں مسئول ہیں۔ ان کو چاہیے تھا کہ وہ اس پر اپنی تشویش کا نہ صرف اعلانیہ اظہار کرتے بلکہ یہ بھی بتاتے کہ مدارس میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے وفاق نے کیا حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔

    میں اس حادثے کو عموم کا رنگ دینے کے حق میں نہیں۔ میں اسے ایک منفرد واقعہ کے طور پردیکھ رہاہوں۔ میں مدرسے سے وابستہ ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو اجلے کردار کی شہرت رکھتے ہیں۔ بعض سے میں شخصی طور پر واقف ہوں۔ مولانا عبدالرؤف ملک کو کم و بیش تیس سال سے جانتا ہو۔ میں نے انہیں وسیع القلب اورایک صاف ستھرا انسان پایا ہے۔ کئی سال ہو گئے، مولانا زاہدالراشدی سے ایک تعلق قائم ہوئے۔ ان سے مل کرہمیشہ ایک پاکیزہ آدمی کا تاثر ملا۔ ذاتی تعلق رکھنے والوں کی ایک طویل فہرست ہے جن کا تعلق مدرسے سے ہے، اس لیے میں اس واقعے کو عمومی رنگ دینے کے حق میں نہیں۔

    تاہم اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ اس بار سوشل میڈیا نے اس پر مٹی ڈالنے کو ممکن نہیں رہنے دیا۔ اس کے بعد لازم ہو گیا ہے کہ وفاق المدارس اسے بنیاد بنا کر مدرسوں کی اخلاقی تطہیر کا ایک منظم منصوبہ بنائے۔ پہلے تجزیہ اور پھر روک تھام کے لیے حکمتِ عملی۔ اس میں مدرسے سے باہر کے لوگوں کوبھی شامل کرے جن میں ماہرینِ نفسیات ہوں اور سکالر بھی۔ وہ اس بات کو کھوج لگائیں کہ درس گاہوں میں ایسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟ ان کا کتنا تعلق ہماری تفہیمِ دین اور سماجی روایت سے ہے؟ وہ کون سے نفسیاتی عوامل ہیں جن کے زیرِ اثر عمر رسیدہ لوگ بھی خود پر قابو نہیں رکھ پاتے۔ جدید علمِ نفسیات میں اس پر بہت تحقیق ہو چکی۔

    یہ واقعات صرف وفاق المدارس کا مسئلہ نہیں، مدارس کے تمام بورڈز کو اس معاملے میں حساسیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاہم چونکہ یہ وفاق کے حوالے سے موضوع بناہے، اس لیے اصلاحِ احوال کے لیے بھی وفاق ہی کو پہل کرنی چاہیے۔ مولانا صاحب کے خطاب سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ بھی جیسے امریکہ اور مغرب کی کوئی سازش ہے کیونکہ اس وقت جس نے مدرسے کی ناموس کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے، وہ یہی واقعہ ہے۔ انہیں سوچنا چاہئے کہ سازش کا یہ بیانیہ اب زیادہ بکنے والا نہیں۔ معاشرہ ان باتوں سے آگے بڑھ چکا ہے

  • آزادی افکار. تحریر:تحریر حسن ساجد

    آزادی افکار. تحریر:تحریر حسن ساجد

    اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ
    جب کوئی شخص ایمان کی نیت سے اس کلمہ طیبہ کو صدق دل سے پڑهتے ہوئے دائرہ اسلام میں داخل ہوتا ہے تو اسے ہم مسلمان کہتے ہیں۔ ایک مسلمان کے نزدیک اس کلمہ طیبہ کا دل و زبان سے اقرار کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کے تمام تر معاملات اور اپنی سوچ کو اللہ اور رسول پاک حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکامات کے تابع کر چکا ہے۔ یعنی وہ اپنے آپکو انکی بیعیت میں دیتے ہوئے اللہ رب العزت کے حضور اپنی بندگی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکمل اطاعت کا اظہار کر رہا ہے. جب ایک شخص دائرہ اسلام میں داخل ہو چکا ہو تو اس کے بعد ایک مسلمان کو یہ ہرگز زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے معاملات زندگی میں "میرے نزدیک” ، "میری سوچ کے مطابق” یا "میری رائے یہ ہے کہ” جیسے الفاظ کا سہارا لیتے ہوئے کسی مسئلے کا حل تلاش کرے یا کسی چیز کی وضاحت پیش کرے۔ یہ اصول بالخصوص ایسے معاملات و امور کے لیے اٹل اور ابدی ہے جن معاملات یا امور کے بارے میں اللہ اور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالصراحت اپنے احکامات جاری کر چکے ہوں. ایسی صورتحال میں بحیثیت مسلمان احکامات الہی و رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں تبدیلی یا ان میں اپنی مرضی کے مطابق گنجائش نکالنا یا ان کی نافرمانی کی کوشش ایک مجرمانہ اور صریح نافرنانی پر مشتمل عمل ہے۔ عقائد و ایمانیات سے روگردانی کا عمل اس سے کہیں بڑا، سنگین اور قابل اعتراض جرم ہے کہ کسی ملک کے قوانین کی خلاف ورزی کی جائے یا ان میں ترمیم کی کوشش کی جائے ۔ یعنی اس سے مراد ہے کہ جس طرح آپ کو کسی ملک کے قوانین میں ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر تبدیلی یا ترمیم کی اجازت نہیں بلکل اسی طرح دینی امور یا قوانین کی ذاتی رائے پر نفی کی قطعی طور پر اجازت نہیں۔

    بات کو سمجھنے کے لیے ایک مثال کا سہارا لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ امریکی شہریت کے حامل شخص ہیں تو آپ کو ذاتی پسند و ناپسند سے بالائے طاق ہوکر ان تمام قوانین کی پیروی کرنی ہوگی جو امریکہ میں نافذ العمل ہیں ان قوانین کے سامنے آپکی ذاتی رائے کی مہمل حیثیت ہے اور اگر آپ ان قوانین سے منحرف ہوکر ذاتی رائے کو فوقیت دیں گے تو آپکا یہ عمل ریاستی قوانین سے انحراف اور غداری کے زمرے میں آئے گا جس کی بنیاد پر آپکو ریاستی قوانین کے مطابق جزاوسزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بالکل یہی معاملہ ایک دین کے پیروکار کے لیے ہے کہ جب متعلقہ شخص اپنے دینی احکامات کی روگردانی یا نفی کرے گا یا صریح دینی احکامات پر ذاتی رائے کو فوقیت دے گا تو اسکا یہ عمل گناہ اور قابل جرم گردانا جائے گا۔
    گزشتہ چند دہائیوں سے آزادی افکار اور فریڈم آف سپیچ کے نام پر الہامی ادیان بالخصوص اسلام کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ نظریہ اسلام پر قائم وطن عزیز خاص طور پر اسلام دشمن قوتوں کے نشانے پر ہے جس کے عوام کو لبرل ازم، سیکولرازم اور ایتھزم (لادینیت) جیسے جھانسوں میں پھنسا کر اسلامی تعلیمات اور احیائے دین سے دور کیا جارہا ہے۔ چونکہ پاکستان کی زیادہ تر آبادی مسلمان ہے اور یہاں اسلامی حکومت قائم ہے جسکی بدولت یہاں کھلے عام دین دشمنی کی تبلیغ ممکن نہیں اس لیے دین دشمن قوتیں ماڈریٹ مسلمان اور سیکولر طبقہ پیدا کرکے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کوشاں ہیں۔

    سیکولرازم کے قائل حضرات "مذہبی” اور "لبرل” لوگوں کے بین بین ہوتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ منافقانہ پالیسی اختیار کیے ہوئے ہوتے ہیں. اگر مزید وضاحت سے کہا جائے تو اردو زبان کا محاورہ ” آدها تیتر آدها بٹیر ” انکی فلاسفی کی مکمل ترجمانی کرتا ہے. یہ لوگ مذہب پر عمل پیرا ہونے کے دعویدار بھی ہوتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ آزادی رائے کے تحت مختلف مقامات پہ احکامات شریعت پر "اپنی سوچ” اور "اپنی فکر” کو فوقیت دیتے ہوئے معاملات زندگی میں اسلام کے قوانین سے روگردانی کرتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اس فتنہ کا سامنا ہمیں ملالہ یوسفزائی کے ایک انتہائی متنازعہ بیان کی صورت میں کرنا پڑا۔ ملالہ یوسفزائی نے اپنے بیان میں نکاح جیسے متبرک اور معتبر عمل کا ناصرف انکار کیا گیا بلکہ ہماری نوجوان نسل کو بے راہ روی کی طرف راغب کرنے کی مکروہ کوشش بھی کی۔ ملالہ یوسفزائی کی جانب سے صریح اسلامی احکامات کا انکار اور حضور نبی کریم کی سنت سے روگردانی قابل سزا جرم ہے جس پر حکومت پاکستان، اسلامی نظریاتی کونسل اور عدلیہ کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملالہ کو اپنی حیثیت واضح کرنے کے لیے کسی مناسب پلیٹ فارم پر بلانا چاہیے تھا۔

    نظریات کی اس جنگ میں نشانے پر ہماری نوجوان نسل ہے جسے اپنے نصب العین سے ہٹانے اور بے راہ روی کا شکار کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ میں نوجوان نسل سے مخاطب ہوں اور ان کو یہ واضح کردینا چاہتا ہوں اگر اللہ پاک نے آپ کو ایک مسلمان پیدا کیا ہے تو سجدہ شکر بجا لاو کہ تمہیں زندگی بسر کرنے کے لیے ایک جامع اور مکمل نصب العین ملا ہے۔ کیونکہ اسلام محض عبادات و ایمانیات سے جڑا مذہب ہی نہیں بلکہ ایک کامل و اکمل دین اور ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو عقائد، عبادات، معاشرت، معاشیات، اخلاقیات اور معاملات سمیت زندگی کے تمام پہلووں سے متعلق انسان کو مکمل اور بہترین راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس کی پیروی کے دعویدار اور ایک مسلمان شخص کو زیب نہیں دینا کہ وہ ان معاملات کہ بارے میں "اپنی سوچ” یا "اپنی رائے” کو معیار قرار دے جن سے متعلق شریعت محمدی میں تصریح پائی جاتی ہے. میری مسلم نوجوانوں سے درخواست ہے کہ دور حاضر کے تمام دھوکوں اور فتنوں سے بچنے کے لیے "ادخلو فی السلمہ کافته” پر مکمل طور پر عمل پیرا ہوجائیں اور شریعت محمدی کو معیار سمجهتے ہوئے اپنی سوچ کو اسکے تابع کر لیں اسی میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے.
    اور دوسری جانب مادر پدر آزاد خیالات کے حامل وہ لوگ جو حکامات شریعت کو ترک کرنے کا جواز ” مگر میرے نزدیک ایسا ہے کہ” کہہ کر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ اپنے اوپر اسلام کی جعلی ملمع کاری کرنے کی بجائے اخلاقی جرات کا مظاہرہ کریں اور اپنی سوچ کو معیار قرار دیتے ہوئے سیکولر یا لبرل یا ماڈریٹ مسلمان کہلوانے کی بجائے لادین یا ایتھیسٹ کہلوانا شروع کر دیں۔ اس دوغلی صورتحال میں آپکا حساب ایسا ہی ہے کہ "دهوبی کا کتا گهر کا نہ گهاٹ کا”۔ اور رہی بات تمہاری فریڈم آف سپیچ، آزاد سوچ یا آزادی رائے کی تو ایسی فریڈم آف سپیچ یا آزادی رائے جو دین اور اپنی روایات سے دور کرے وہ ہمارے نزدیک ایک شیطانی عمل ہے۔ الحمدللہ پاکستان کا نوجوان طبقہ بیدار مغز اور پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کا محافظ ہے وہ تمہاری اصلیت سے واقف ہوچکا ہے اور اب تمہارے جھانسوں میں بلکل بھی نہیں آئے گا۔
    ایسے سرخوں اور ضمیر فروش خود ساختہ دانشوروں کی نظر حضرت اقبال کے ایک شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔ حضرت اقبال نے فرماتے ہیں کہ

    اس قوم ميں ہے شوخي انديشہ خطرناک
    جس قوم کے افراد ہوں ہر بند سے آزاد
    گو فکر خدا داد سے روشن ہے زمانہ
    آزادئ افکار ہے ابليس کی ايجاد

  • ہراسمنٹ کا نشانہ صرف عورتیں ہی نہیں مرد بھی ہیں ،تحریر:طلعت کاشف سلام

    ہراسمنٹ کا نشانہ صرف عورتیں ہی نہیں مرد بھی ہیں ،تحریر:طلعت کاشف سلام

    پاکستان اسلامی ملک ہے لیکن آج تک پاکستان میں نا تو کسی کو شرعی سزا دی گئی اور نا ہی کسی شرعی قانون کو نافذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے اسی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ہراسمنٹ کا شکار صرف عورت کو ہی سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت میں اس کا شکار عورتوں کے ساتھ مرد بھی ہیں۔

    بہت سے کیسز ایسے رپورٹ ہوتے ہیں جہاں سکول کالجز میں جوان لڑکوں، آفسز میں مردوں کو بھی ہراس کیا جاتا ہے

    مدارس میں طالب علموں کو بھی ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے
    کبھی ان کو نمبروں کے بہانے تو کبھی سیلیری کے بہانے
    کبھی سکول کالجز میں چھٹی کے بہانے تو

    کبھی آفس میں ڈیوٹی میں نرمی کے بہانے ان کو بلیک میل کیا جاتا ہے تو کبھی ان کو جنسی زیادتی کا نشانہ تک بنایا جاتا ہے۔

    لیکن مرد بیچارہ عزت کی خاطر کسی سے بات نہیں کر سکتا اور چپ ہو کر ہراسمنٹ کا شکار بنتا رہتا ہے
    ہمارے ہر ادارے میں ایسے درندے موجود ہیں جو مردوں پے بھی عورتوں کی طرح کی نظر رکھتے ہیں
    موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں کیسے ان کو موقع ملے وہ اپنا کام پورا کریں

    اور مرد کو بھی جنسی زیادتی کا نشانہ بنائیں۔

    اسلام میں زانی کے لیے سخت سزا کا حکم دیا گیا ہے
     زنا کرنے والا شخص اگر غیر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سو (۱۰۰) کوڑے ہیں اور اگر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سنگسار کیا جانا ہے، آدھا جسم زمین میں گاڑ کر پتھروں سے اسے مارا جائے یہاں تک کہ اس کی جان نکل جائے۔ ایسی سزا کو حدود اللہ کہا جاتا ہے جس کا جاری کرنا حاکم اسلام کا کام اور ذمہ داری ہے

    حضرت لوط علیہ سلام کی قوم پر عذاب بھی اسی وجہ سے آیا تھا وہ نوجوان لڑکوں کے ساتھ زناء کیا کرتے تھے
    اللہ پاک نے قرآن پاک میں کہی مقام پر لوط علیہ سلام کی قوم کا ذکر کیا ہے

    قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے’’اور لوطؑ کو یاد کرو،

    جب اُنہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ’’ تم بے حیائی (کے کام) کیوں کرتے ہو؟ کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر لذّت (حاصل کرنے) کے لیے مَردوں کی طرف مائل ہوتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم احمق لوگ ہو۔‘‘
    (سورۃ النمل54,55)

    اج بھی ہم اگر اپنے ارد گرد معاشرے میں دیکھیں تو ہمیں بہت سے مرد ایسے ملیں گے جن کے ساتھ زیادتی ہوئی ہوتی لیکن وہ مرد ہونے کے ناطے کسی سے ذکر کرنے کے بجائے یا تو اس زیادتی کا شکار بنتے رہتے ہیں یا پھر وہ ادارہ، سکول کالج چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

    ایک اور جگہ اللہ پاک نے فرمایا

    "اور قومِ لوط ؑ نے بھی پیغمبروں کو جھٹلایا ۔ جب اُن سے اُن کے بھائی، لوطؑ نے کہا کہ’’ تم کیوں نہیں ڈرتے، مَیں تو تمہارا امانت دار پیغمبر ہوں۔ تو اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو اور مَیں تم سے اِس (کام )کا بدلہ نہیں مانگتا، میرا بدلہ (اللہ) ربّ العالمین کے ذمّے ہے۔ کیا تم اہلِ عالَم میں سے لڑکوں پر مائل ہوتے ہو اور تمہارے پروردگار نے جو تمہارے لیے تمہاری بیویاں پیدا کی ہیں، اُن کو چھوڑ دیتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے نکل جانے والے ہو۔‘‘
    (سورۂ الشعرا 160-166)

    ہمیں اپنے ارد گرد کے معاشرے میں اپنی بہن بیٹیوں کے ساتھ ساتھ ایسے لوگوں کو بھی بے نقاب کرنے، ان کو سزائیں دلوانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا

    ہمارے اداروں کو بھی ایسے لوگوں پر نظر رکھنی ہو گی جہاں پر ایسے درندے موجود ہیں جو عورتوں کے ساتھ مردوں کو بھی زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں
    @alwaystalat

  • نوجوان نسل اور ملک و قوم کی ترقی۔ ‏تحریر: ایمان تیمور

    نوجوان نسل اور ملک و قوم کی ترقی۔ ‏تحریر: ایمان تیمور

    کسی بھی قوم کی باگ ڈور اس کی نئی نسل کے ہاتھ میں ہوتی ہے،جس طرح ایک عمارت کی تعمیر میں اینٹ ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے کہ اینٹ سے اینٹ مل کر عمارت وجود میں آتی ہے،اسی طرح ملک کی تعمیر میں ہر نوجوان کی اپنی الگ اہمیت ہوتی ہے، جس سے انکار ممکن نہیں،لیکن ہماری نوجوان نسل کو بھی اپنی اہمیت اور زمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیئے۔نوجوانوں کو بھی بڑھ چڑھ کر ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ
    کسی بھی ملک، قوم یا معاشرے میں حقیقی اور مثبت تبدیلی نوجوان ہی لاسکتے ہیں، جب نوجوان مخلص ہوکر اپنے ملک و قوم کے لیے محنت اور جدوجہد کرنے لگتے ہیں تو مثبت تبدیلی، ترقی اور بہتری کو کوئی نہیں روک سکتا، کامیابی ان کے قدموں کی دھول ضرور بنتی ہے۔ نوجوان ہی وہ قوت ہیں، جو اگر ارادہ کرلیں تو ملک کی باگ ڈور سنبھال کر ملک کو اوج ثریا پر پہنچا کر دم لیتے ہیں۔کامیابی اور کامرانی ان اقوام کی قدم بوسی کرتی ہے جن کے نوجوان مشکلات سے لڑنے کا ہنر جانتے ہیں۔ خوش حالی ان اقوام کا مقدر بنتی ہیں جن کے نوجوانوں کے عزائم آسمان کو چھوتے ہیں۔

    ترقی ان اقوام کی منزل بنتی ہیں جن کے نوجوان خوددار، اور اپنی مدد آپ کے تحت دن رات محنت، لگن اور جانفشانی سے آگے بڑھنے کی لگن رکھتے ہوں ۔
    ہمیں اپنی نوجوان نسل پہ پورا بھروسہ ہے ایک دن ہم ایک مضبوط قوم کے طور ضرور ابھریں گے

    شاخیں رہیں تو پھول بھی پتے بھی آئیں گے
    یہ دن اگر برے ہیں تو اچھے بھی آئیں گے.

    انشاللہ۔۔
    پاکستان ذندہ باد۔

  • شور اور شعور .تحریر:فروا منیر

    شور اور شعور .تحریر:فروا منیر

    شور اور شعور .تحریر:فروا منیر
    شور اور شعورمیں واضح فرق "ع” کا ہے جس کا مطلب ہے علم۔ ہر وہ بات جو بغیر علم کے ہو شور کہلاتی ہے۔
    ہر اونچی آواز کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حق کی ہی آواز ہو بغیر دلیل اور بغیر علم کے کی جانے والی آواز اس خالی برتن کی مانند ہے جو کہ صرف شور مچاتا ہے۔
    بات کرتے ہیں اس ملک کے مقدس ایوان اور عوامی نمائیندوں کی جو اس عوام کا اعتماد ووٹ کے نام پر اس لیے حاصل کرتے ہیں کہ وہ عوام کی نمائیندگی کریں گے اور عوام کے مسائل کو  نیشنل اسمبلی کے ایوان میں پیش کریں گے ۔
    نیشنل اسمبلی وہ ایوان کےجس میں اس ملک کے پڑھے لکھے افراد عوام کی نمائیندگی کرتے ہیں

    مگر ٹھرئیے!
    یہاں تو منظر ہی کچھ اور ہے عوام کی مسائل کی بجائے ہر کوئی اپنے مسائل حل کرنے میں لگا ہے۔
    کہیں سے سیٹیاں گونج رہی ہیں ،کہیں سے تالیاں
    عوامی نمائیندے عوامی مسائل سے گتھم گتھا ہونے کی بجائے آپس میں گتھم گتھا ہیں
    ہر کوئی ایک دوسرے کو چور کہہ رہا ہے۔ اگر سب ہی چور ہیں تو چوروں کا یہاں کیا کام؟؟
    جناب شعور سے "ع” غائب ہو چکا ہے "ع” سے علم جاتے ہی "ع” سے عقل بھی جانے لگی اور بس شور شور رہ گیا۔
    پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نمائیندے عوامی نمائیندگی کر رہے ہیں
    تو کیا دنیا سوچنے پرمجبور نہ ہو گی کہ اگر نمائیندے ایسے تو عوام کیسی ہوگی؟

    اسلاف کی میراث بچانے والے مال بچانے میں مصروف ہیں
    خدارا اپنے  مفادات سے باہر نکل کر اس ملک کے مفادکا سوچئے۔
    اگر یہی حال اس ملک کے حکمرانوں کا ہے تو اس عوام کا اللہ ہی خافظ۔

  • بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز.تحریر: طلعت کاشف سلام

    بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز.تحریر: طلعت کاشف سلام

    بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز.تحریر: طلعت کاشف سلام

    پاکستان ایک اسلامی ملک ہے جو کہ اسلامی ممالک میں واحد ایٹمی قوت ہے۔

    اسلامی ملک میں اسلامی قانون اور شرعی حدود کے ہوتے ہوئے بھی بہت سے کام ایسے ہو رہے ہیں جو غیر مسلم ممالک میں بھی نہیں ہوتے وہاں بھی ایسے کاموں پے پابندی اور سخت ترین سزائیں ہیں۔

    پاکستان میں آئے روز بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

    ہر روز ہر صوبے ہر شہر سے کوئی نا کوئی خبر رپورٹ ہو رہی ہوتی ہے
    زیادتی کا شکار ہونے والوں میں اکثریت بچوں کی ہے جو ابھی سمجھ بوجھ بھی نہیں رکھتے لیکن درندہ صفت لوگ ان کو بہلا پھسلا کر ادھر ادھر لے جاتے ہیں اور پھر وہاں پہلے ان کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں پھر ان کو قتل کر کے کسی ویرانے میں پھینک دیتے ہیں۔
    تو اس طرح کیسز میں اگر دیکھا جائے تو 3 طرح کی ایف آئی آر بنتی ہیں
    پہلی بچوں کو اغواء کرنی کی
    دوسری زیادتی کی
    تیسری قتل کی
    لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے یہ کیسز بنائے گا کون؟

    https://twitter.com/AlwaysTalat/status/1405573144602107904?s=19

    کون دے گا ایسے درندوں کو سزائیں
    کون کرے گا ایسے کیسز کی پیروی
    اکثر ایسا بھی رپورٹ ہوا ہے کچھ لڑکے جوان لڑکیوں کے ساتھ دوستی کرتے ہیں پھر ان کے ساتھ جسمانی تعلق بناتے ہیں اور خفیاء طور پر ویڈیو بنا کر ان کو بلیک میل کرنا شروع کر دیتے ہیں
    جس میں کبھی پیسوں تو کبھی جنسی حوس کا نشانہ بناتے رہنے کا مطالبہ ہوتا ۔

    جب لڑکی اپنی عزت بچانے میں ناکام ہو جاتی ہے تو اس کے پاس آخری آپشن خود کشی ہوتا ہے وہ غیرت کے مارے خود کشی کو ترجیح دیتی ہے اور بلیک میلنگ سے بچنے کے لئے وہ آپ جان دے دیتی ہے۔

    پاکستان میں گزشتہ کچھ سالوں سے بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے کو ملا ہے
    پاکستان کی قومی اسمبلی میں زینب الرٹ بل کے نام سے ایک بل تو پاس کر لیا گیا لیکن ابھی تک اس بل پر نا تو عمل ہوا اور نا ہی دوبارہ اس بل کو دیکھا گیا۔

    صرف پاس کی حد تک وہ اسمبلی سے پاس ہو کر اسمبلی تک ہی رہ گیا
    آج پاکستان کے ہر ادارے میں جنسی ہراساں کرنے لے کیسز سامنے آرہے ہیں
    کبھی پشاور کی لڑکیاں بینر اٹھائے احتجاج کرتی نظر آتی ہیں تو کبھی سرکاری محکموں کی خواتین شکایت کرتی نظر آتی ہیں.
    کبھی مدارس سے زیادتی کے کیسز سامنے ا رہے ہوتے ہیں تو کبھی یونیورسٹیز سے۔

    آخر کب تک اسلامی ملک میں ایسے ہی چلتا رہے گا؟
    کب تک ہماری بہنیں بیٹیاں جنسی زیادتی، ہراسمنٹ کا نشانہ بنتی رہیں گی؟
    کب تک زینب، فروا، جیسی معصوم کلیوں کو نوچا جاتا رہے گا
    اسلام میں بھی زانی کے لیے سزا متعین کی گئی ہے لیکن آج تک پاکستان میں میں زانی کو کوئی سزا نہیں ہوئی.

    اسلام میں زانی کی سزا کچھ یوں ہے
    "”زنا کرنے والا شخص اگر غیر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سو (۱۰۰) کوڑے ہیں اور اگر شادی شدہ ہے تو اس کی سزا سنگسار کیا جانا ہے، آدھا جسم زمین میں گاڑ کر پتھروں سے اسے مارا جائے یہاں تک کہ اس کی جان نکل جائے””

    اگر صرف دو یا چار کیسز کو نشان عبرت بنایا جائے تو پھر باقی خود بخود زیادتی کے کیسز میں کمی دیکھنے کو ملے گی.

    اس وقت پاکستان میں زیادتی کے کیسز میں بہت حد تک اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے

    اس پر حکومت وقت، متعلقہ اداروں کا کام ہے وہ اسلامی قانون کے مطابق ان درندوں کو سزائیں دیں تاکہ آئندہ ایسے کیسز کا سامنا نا کرنا پڑے.
    ہماری آنے والی نسلیں ان درندوں سے محفوظ رہ سکیں.

    ہم جو انسانوں کی تہذیب لئے پھرتے ہیں …… !

    ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں..

    تحریر::: طلعت کاشف سلام

  • سیکس ایجوکیشن عیب کیوں؟؟؟ تحریر :عمار احمد عباسی

    سیکس ایجوکیشن عیب کیوں؟؟؟ تحریر :عمار احمد عباسی

    مولوی sex edeucation کے بارے میں سوشل میڈیا پہ کھلے عام لکھنے پہ فتوے جاری کر دیتے ہیں ۔ آج تک خود ان کی جانب سے کوui ویڈیو یا تحریری مواد تو سامنے آیا نہیں البتہ کرتوت کبھی کبھار منظر عام پہ آ جاتے ہیں ۔موٹیویشنل اسپیکرز دنیا کے ہر موضوع پہ پیسہ کمانے کی خاطر لیکچر دیتے نظر آتے ہیں مگر اس sex education کو حساس معاملہ سمجھتے ہوٸے لب کشاٸ سے گریزاں رہتے ہیں ۔

    سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کی اکثریت نے فیس بُکیے دانشوروں کو ایڈ کر رکھا ہوتا ہے جسے فیس بک کا منٹو کہا جاٸے تو غلط نہ ہو گا اور جو کسی بھی موضوع پہ کھل کر لکھ لیتا ہے مگر اس کے باوجود یہ سوشل میڈیا کے نامور لکھاری sex education کے بارے کھل کر اپنا مٶقف پیش نہیں کر سکتے کہ مولویوں کی تنقید کا سامنا ہو گا ، معاشرہ تنقید کرے گا ، ان کو خواتین کے سامنے بات کرنے میں مشکل کا سامنا ہو سکتا اور ممکن ہے تنقید کا نقطہ عروج ان کی فین فالونگ میں کمی کا سبب بن جاٸے ۔۔۔!!!

    ” مگر ” سوال یہ ہے کہہ کیا مسجد کے منبر پہ بیٹھے ذمہ دار مدرسین ، اسکول کے اساتذہ ، موٹیوشنل اسپیکرز ، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس ، میڈیا پرسنز اور سب سے بڑھ کر والدین کی ہزار مجبوریوں کے باوجود یہ ذمہ داری نہیں کہہ بچوں کو کم عمری میں ہی اتنا ایجوکیٹ کر دیں کہہ انہیں اٹھارہ بیس سال کی عمر تک پہنچ کر بھی شرماتے ہوٸے مسجد کے مولوی ، اسکول کے معلم ، بس ڈراٸیور یا بڑی عمر کے دوست کی لذت کو پورا کروانے میں مدد نہ کرنی پڑ جاٸے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ ذمہ داری ان کی نہیں کہہ ان پڑھ والدین میں یہ آگاہی پیدا کی جاٸے کہ بچوں کی تربیت اس طرح کریں کہ سات آٹھ سال کی عمر میں ان کے بستر الگ کر دیں ، ماں بیٹا ، باپ بیٹی ، بہن بھائی ایک ساتھ نہ سوٸیں ۔۔۔۔؟؟؟ بچوں کو ہم عمر یا عمر سے بڑے خالہ زاد ، پھوپھو زاد ، ماموں زاد اور چچا زاد کے ساتھ سونے سے روکنا ہے ۔۔۔۔؟؟؟ کیا یہ ذمہ داری والدین کی نہیں کہ چھوٹی عمر کے بچوں کو مدرسہ یا ہاسٹل میں کسی پہ اعتبار کرتے ہوٸے مت چھوڑیں ، بچوں کو اسکول یا مدرسہ اپنی نگرانی میں لے کر آٸیں جاٸیں ۔۔۔؟؟ کس کے ساتھ ہاتھ ملانا ہے کس کے ساتھ نہیں ، کس کو چُمی لینے دینی ہے کس کو نہیں ، کسی کی گود میں نہیں بیٹھنا ، کسی سے کوئی شے گفٹ نہیں لینی ، کسی جنسی ہیجان رکھنے والے درندے کی ٹھرک پہ کیسے رسپانڈ کرنا ہے ، یہ سب کس نے بتانا اور سکھانا ہے ؟؟؟؟؟ بچوں کی دوستیوں ، گیدرنگز ، ٹیچر کے ساتھ ریلیشن ، پڑھائی کے اوقات کار ، ان سب پہ نظر کس نے رکھنی ہے ۔۔۔؟؟؟

     پولیس نے مدرسے کے لڑکے سے بد فعلی کے ملزم مفتی عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کر دی

    مولانا کی بچے سے زیادتی ، ویڈیو لیک ، اصل حقیقت کیا ہے ، سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    مذہبی رہنماوں کا ردعمل

    طالب علم نے چائے پلائی اور پھر….مفتی عزیرالرحمان کی زیادتی کیس میں وضاحتی ویڈیو

    طالب علم سے زیادتی کرنیوالے مفتی کو مدرسہ سے فارغ کر دیا گیا

    تین سال سے ہر جمعہ کو مفتی عزیز الرحمان میرے ساتھ…..متاثرہ طالب علم مزید کتنی ویڈیوز سامنے لے آیا؟

    جب تک ہم بطور معاشرہ مل کر بچوں کی تربیت کا خیال نہیں کریں گے ، ان کی تربیت اور نگرانی نہیں کریں گے تب تک لاہور اور سکھر جیسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے ۔ مسجد ، مدسہ ، اسکول ہو یا مفتی ، عالم اور اسکول و کالج کا پروفیسر ان سے عوام کا اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے ۔ ایسا نہ ہو کہ کل کلاں بے اعتمادی اس نہج پہ پہنچ جاٸے کہ ترقی کے اس دور میں بھی عوام بچوں کو تعلیمی اداروں میں بھیجنے سے ہی انکار کر دیں ۔۔۔!!!

  • ہم جنس پرستی ناسور ہے ، تحریر: حنا

    ہم جنس پرستی ناسور ہے ، تحریر: حنا

    ہم جنس پرستی ناسور ہے ، تحریر: حنا سرور

    ہم جنس پرستی ایک معاشرتی لعنت ہے جس کے خلاف حال ہی میں وزیراعظم نے ہم جنس پرستی کی جتنی این جی او ہے ان کے خلاف کاروائ کا حکم دیا تھا ۔۔جی ہاں یہ حکم تب دیا تھا جب عورت مارچ کے چاہنے والے سڑکوں پر نکل کر اسلام کے خلاف گستاخانہ بینر لگا رہے تھے ۔۔یہ حکم تب دیا تھا جب ان عورت مارچ والیوں کے خلاف جنرل حمید گل صاحب کے بیٹے عبداللہ اور شاہیر سیاہلوی نے دھرنے کا اعلان کیا تھا ۔۔۔اس کاروائ کے حکم کو کافی مہینے ہو گے ہیں ۔۔لیکن اللہ جانے کاروائی ہوتے ہوتے کیوں رہ گئی ۔اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی ہزار بار مختلف سوشل میڈیا ٹیمز نے ۔ٹک ٹاکر کے گھٹیا عمل پر ٹرینڈز چلا کر حکومت وقت کو متوجہ کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے ۔۔۔ ہم جنس پرستی ایک لعنت ایک گھٹیا عمل ہے

    جس کی تمام آسمانی مذاہب میں یکساں طور پر مذمت کی گئی ہے اور قرآن و سنت کی طرح بائبل میں بھی اسے لعنتیوں کا کام اور قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ اسی جرم پر حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کو اس سنگین سزا اور عذاب کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کی نشانی آج بھی بحیرۂ مردار کی صورت میں سطح زمین پر موجود ہے مگر آسمانی تعلیمات سے انحراف نے انسانی سوسائٹی کو ذلت کے اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ اقوام عالم کی ایک اچھی خاصی تعداد اس لعنتی عمل کو انسانی حقوق میں شامل کرنے کے لیے بے چین ہے۔۔۔۔ان میں سے ہی کچھ شیطانی طاقتوں نے ٹک ٹاک سنیک ایپ بنائ ۔انھوں نے مسلمانوں کو اس طرح اپنے جال میں جھکڑ لیا.کہ مسلمان کو اس سے منافع بھی ملے اور ان کی شیطانی چال بھی چلتی رہے ۔۔ان شیطانی قوتوں نے اسلام بیزار مسلمانوں کو یہ دکھایا کہ یہ ایپ بزنس ہے وڈیو بناو ۔پیسے کماو ۔وڈیو لگاو پیسے کماو ۔۔وڈیو دیکھو پیسے کماو ۔۔۔پیسہ ہی پیسہ ۔شہرت راتوں رات..

    بے حیائی کا ایسا شرمناک مظاہرہ کہ کوئی باحیاء انسان دیکھ کر اس کا سر شرم سے جھک جائے ۔۔
    قوم کی وہ بیٹیاں جنہیں اسلام نے گھر سے باھر مجبوری نکلتے وقت زیب و زینت کرنے سے روکا تھا وہی خوب بن سنور کر اس فحاشی اور بے حیائی میں لڑکوں سے آگے نکل چکی ہیں ۔۔
    وہ نوجوان جن کو قوم کا اثاثہ قرار دیا جاتا ہے
    جنہیں قوم کے معمار تصور کیا جاتا ہے
    جن کو اقبال نے شاہین اور قوم رسول ہاشمی قرار دیا تھا وہی معمار اخلاقیات سے عاری قوم کو مسمار کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔۔
    وہ بوڑھے جن کی سفید داڑھی سے حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق خدا کو بھی حیاء آتی ہے وہ خود اس قدر بے حیاء ہوچکے ہیں کہ نہ تو اپنے بڑھاپے کا بھرم رکھتے ہیں اور نہ ہی اپنی عمر کا خیال کرتے ہیں ۔۔
    وہ بچے اور بچیاں جن سے قوم کو امید تھی کہ امت کی خستہ حالی یہی نسل اپنے کردار سے بدل دے گی لیکن ان کو والدین نے با کردار بنانے کی بجائے اسی روش پر لگا دیا جس سے امت میں مثبت نہیں بلکہ منفی اثر پڑتا ہے ۔۔

    الغرض عمر کی کسی بھی سٹیج سے تعلق رکھنے والے اس لعنت سے محفوظ نہیں ۔۔
    ٹک ٹاک کا بے حیاء دریا اس قدر روانی سے آگے بڑھ رہاہے کہ خطرہ محسوس ہوتاہے اگر بروقت اس دریا کے آگے بند نہ باندھا گیا تو آنے والی نسل ہمیں کبھی بھی معاف نہیں کرے گی ۔۔
    اس میں تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اس امت اور اس قوم کے معماروں سے دردمندوں سے انتہائی مودبانہ گذارش ہے کہ ہر کوئی حسب استطاعت اپنا کردار ادا کرے۔۔۔حناء سرور

    ٹک ٹاک ہم جنس پرستی کوپروموٹ کررہا ہے حکومت اس شیطانی ایپ پر پابندی لگائے ، پاکستانی عوام کا مطالبہ

     بھارت میں ہم جنس پرست خواتین کو عدالت نے سیکورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے

    سرائے عالمگیر کے رہائشی محمد علی کی طرف سے ہائی کورٹ میں درخواست دی گئی کہ وہ ہم جنس پرست ہے

    ہم جنس پرستی اور شریعت کے احکام

    بلاول ہم جنس پرست ،فواد چودھری مینٹل، ایسا کس نے کہا؟

    ۔

    Article Writer Name

    Hina 

     

  • نیوکلیئر ہتھیار غیر محفوظ . تحریر، فروا منیر

    نیوکلیئر ہتھیار غیر محفوظ . تحریر، فروا منیر

    نیوکلیئر ہتھیار غیر محفوظ . تحریر، فروا منیر

    پوری دنیا میں ایٹم بنانے والے ملکوں پے مخصوص قسم کی پابندیاں ہیں جن میں ایٹم میں استعمال ہونے والی دھات یورینیم کا عام استعمال اور اس کی عام عوام تک رسائی سب سے اہم پابندی ہے
    دنیا میں یورینیم کو 2 کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جن میں انرجی (بجلی بنانے) اور ایٹم بنانا ہے شامل ہیں
    دنیا پوری میں بہت کم ممالک ہیں جہاں یارینیم  سی بجلی بنائی جاتی ہے  اور پھر ان ممالک میں بھی مخصوص مقدار میں بجلی بنائی جاتی ہے  باقی پوری دنیا میں جہاں بھی یورینیم استعمال ہو رہی ہے اس کا استعمال صرف ایٹم کے لیے ہو رہا ہے
    اس طرح اگر یہ دھات عام عوام یا کسی مخصوص گروہ کے ہاتھ لگ جائے تو اس کو دنیا کے امن کو خواب کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے
    دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکہ نے جاپان ہے صرف 2 بم گرائے تھے اور دونوں الگ الگ مقامات پر گرائے تھے جس کا اثر آج تک دنیا محسوس کر رہی ہے
    جاپان میں آج بھی ہیرو شیما اور ناگا ساکی شہروں میں سبزہ نہیں اگتا اور نا ہی وہ انسان سکون کا سانس لے رہے ہیں
    آج بھی پیدا ہونے والے بچوں میں جسمانی کمزوری اور بہت سی بیماریاں جنم لے رہی ہیں
    80 سال بعد بھی اگر ایٹم بم کا اثر ہے تو اگر زیادہ مقدار میں استعمال کیا جائے تو کیا ہو گا
    دنیا کو اس پے سوچنا ہو گا

    گزشتہ ایک مہینے کے دوران بل ترتیب انڈیا میں 2 دفعہ یورینیم پکڑی گئی ہے جس کی مقدار جاپان میں استعمال ہونے والے ایٹم بم سے زیادہ یا اس کے برابر بتائی جاتی ہے
    انڈیا میں پکڑی جانے والی یورینیم کوئی خاص لوگوں سے نہیں بلکہ انڈین حکمران جماعت کے زیر اثر چلنے والی دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کے کچھ لوگوں سے پکڑی گئی ہے جو دنیا کے لیے الارمنگ سیچوایشن ہے اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کو اس پے سختی سے نوٹس لینا ہو گا اور انڈیا پے سخت پابندیاں لگانی ہوں گی تاکہ دنیا کا امن قائم رہ سکے اور دنیا اٹیمی ہتھیاروں کو محفوظ رکھنے میں اپنا کردار ادا کر سکے

    یاد رہے انڈیا میں پکڑی جانے والی یورینیم میں ابھی تک کی انڈین رپورٹس کے مطابق کوئی بھی مسلمان ملوث ہونے کا کوئی شواہد نہیں ملے
    پکڑے جانے والوں میں زیادہ ہندو اور پھر آر ایس ایس کے لوگ شامل ہیں
    پوری دنیا خصوصی طور پر امریکہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اس پر سختی سے نوٹس لینا ہو گا