Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • سات درخت ۔۔۔ اظہر محمود

    سات درخت ۔۔۔ اظہر محمود

    زندگی میں یہ سات درخت ضرور لگائیں
    1۔ معاش کا درخت
    ہم درخت سے دوچیزیں لیتے ہیں ایک چھاؤں اور دوسرا پھل، چھاؤں ٹھنڈی ہوتی ہے جبکہ پھل میٹھا ہوتا ہے ، اگر ہمیں زندگی میں ٹھنڈی چھاؤں اور میٹھے پھل کو لینا ہے تو ہمیں سات درخت لگانے پڑیں گے ۔ اس شخص کی زندگی میں روشنی ہوگی جس کی زندگی میں سات درخت ہیں ،لوگ زندگی میں سات درخت نہیں لگاتے صرف ایک ہی درخت لگاتےہیں اور اسی کو کامیابی سمجھتےہیں اور اس درخت کانام ہے معاش ۔ جب تک بقیہ چھ درخت نہیں لگائیں گے کامیابی نہیں ملے گی۔
    بگ بینگ کے مفروضے کے مطابق اس کائنا ت کی عمر یا زندگی کی عمر چودہ کھرب سال ہے جبکہ اس زمین کی عمر چار کھرب پانچ سو ارب سال ہے اور اس میں انسانی زندگی کی عمر پینتیس لاکھ ہے ۔ اتنے زیادہ وقت میں آج کے انسان کے پاس صرف ساٹھ برس ہوتے ہیں ان ساٹھ برس میں شعور والی زندگی بہت تھوڑی ہوتی ہے ۔جس کے پاس شعور ہوتا ہے اس کے پاس قوت فیصلہ ہوتی ہے جبکہ شعور کا حساب ہونا ہے کیو نکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے میں نے حساب لینا ہے ۔ جب شعور والی زندگی اتنی مختصر اور مہنگی ہے تو پھر سوال ہے کہ کیا ہم نے کبھی اس کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا ؟ کیا کبھی اس کی ترجیحات بنائیں ؟ ہمیں مہینے کی ایک کمائی تنخوا ہ کی صورت میں ملتی ہے ہم اس کی پلاننگ کرتےہی جبکہ جو کل کمائی ہے اس کے بارے میں سوچتے نہیں ہیں ،ہم نے صرف پیسے کو اپنی ترجیح بنایا ہوا ہے ،ہم نے ہر چیز کو مادے کے ساتھ جوڑ دیا ہے ۔لوگوں کے پاس پیسہ ہوتا ہے لیکن بعض اوقات سکون نہیں ہوتا ، بعض اوقات عز ت نہیں ہوتی ، بعض اوقات اپنے آپ کا پتا نہیں ہوتا ، بعض اوقات ایمان نہیں ہوتا ، بعض اوقات اپنی ذات نہیں ہوتی ۔ معاش کا درخت ضرور ہونا چاہیے لیکن صرف معاش کا درخت نہیں ہونا چاہیے۔

    2۔ خدمت کا درخت
    زندگی میں سب سے خوبصورت چیز اطمینان قلب ہے ۔ جو سکون بانٹنے میں ملتا ہے وہ کمانے میں نہیں ملتا یہ شائد اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت ب بھی بانٹنا ہے ۔ زندگی میں دوسرا خدمت کا درخت ضرور لگائیں، ” جو بندہ یہ کہتا ہے میں امیر ہو جاؤں تو بانٹوں گا وہ کبھی نہیں بانٹےگا کیو نکہ وہ امیر تو ہو جائے گا لیکن حوصلہ نہیں ہوگا ” جو بندہ آدھی روٹی خود کھاتا ہے اور آدھی بانٹ دیتا ہے وہ بڑا انسان بنتا ہے ۔ خدمت کا قطعی مطلب یہ نہیں ہے کہ پیسے ہوں تو خدمت ہو گی ہے خدمت تو مزاج سے ہوتی ہے حدیث مبارک کا مفہوم ہے "سخاوت دل سے ہے مال سے نہیں "۔ خدمت کا مطلب ہے معاوضہ بندے سے نہیں ملنا اللہ تعالیٰ سے ملنا ہے ۔ خدمت میں چوکیداری نہیں کرنی بس نیکی کرنی ہے اور دریا میں ڈال دینی ہے ۔ خدمت عقل کی زکوٰۃ ہے، یہ فہم کی زکوۃ ہے ،یہ ذہانت کی زکوۃ ہے ، یہ بڑے پن کی زکوۃ ہے ۔ اگر میٹھا پھل کھانا اور ٹھنڈی چھاؤں لینی ہے تو پھر خد مت اللہ تعالیٰ کےلیے ہونی چاہیے ۔

    3۔ فیملی کا درخت
    فیملی بہت اہم ہے اور اس کو اہم سمجھنا بھی چاہیے اس کی ضروریات کو اہم سمجھنا چاہیے ۔ فیملی کی تین ضروریات ہوتی ہیں ہم ایک کو پورا کر کے دو سے کنارہ کشی کر جاتے ہیں ، پہلی ضرورت پیسہ ہے دوسری توجہ ہے ، توجہ کا مطلب ہے بچوں کی تمام چیزوں کے ساتھ تعلق ہو، تیسری ضرورت قربانی ہے کیو نکہ تعلق کی قیمت قربانی ہے ، تعلق قربانی مانگتا ہے ۔ وہ لوگ جوان تینوں میں سے ایک رکھتے ہیں باقی نکال دیتےہیں وہ زیادتی کرتےہیں ان کا درخت کبھی بھی میٹھا پھل اور ٹھندی چاؤں نہیں دیتا ۔

    4۔ پیشے کادرخت
    زندگی میں انسان کا دو چیزوں کے ساتھ زیادہ وقت گزرتا ہے ایک پیشہ دوسرا بیوی اس لیے دونوں کا انتخاب سو بار سوچنے کے بعد کرنا چاہیے ۔ ہم نے دنیا کا کوئی کام کرنا ہو اس میں چاہے کپڑے خریدنے ہوں، جوتے خریدنے ہو ، کوئی بیماری ہو یا کوئی اور چیز ہو اس کے لیے سو لوگوں سے مشورہ کرتے ہیں لیکن جس کے ساتھ ہماری زندگی گزرنی ہوتی ہے اس کے بارے میں مشورہ ہی نہیں کرتے ۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے انتخاب کی طاقت دی ہے یہ کسی اور مخلوق کو نہیں ملی،انسان اپنے مزاج کے مطابق اپنے پیشے کو منتخب کرتا ہے ، انتخاب میں غلطی ہو سکتی ہے ممکن ہے نوکری والا بندہ کاروبار کرتا ہو، ممکن ہے کاروبار والا نوکری کرتا ہو ، ممکن ہے نوکری جس طرح کی چاہیے تھی ویسی نہ ہو ، ممکن ہے کاروبار جس طرح کا چاہیے تھا ویسا نہ ہو لیکن اس بارے میں سوچنا ضرور چاہیے اور مشور ہ ضرور کرنا چاہیے۔ زندگی میں غلط ٹرین ہو ں تو اتر کر صحیح ٹرین پکڑنےمیں شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے ۔ اپنی زندگی میں چیزیں چھوڑنے کی طاقت ، ہمت ، جرات پیدا کریں کیو نکہ جو چھوڑ سکتا ہے وہی آگے جا سکتا ہے پھر اس کو ٹھنڈی چھاؤ ں ملتی ہے اور میٹھا پھل بھی ملتا ہے ۔ جس پیشے سے بندہ انجوائے نہیں کرتا وہ پیشہ پھرسوالیہ نشان ہے ، جس کے لیے اس کا ہم سفر راحت کا سبب نہیں ہے تو پھر سوالیہ نشان ہے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں "دوست سے سکون نہیں ہے اورد شمن سے تکلیف نہیں ہے تو پھر نہ دوست دوست ہے اور نہ دشمن دشمن۔ ”

    5۔ ساکھ کا درخت
    اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عزت اور ذلت اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے لیکن بندے کو وہ کام کرنے چاہییں جو عز ت کا سبب بنیں کیو نکہ اللہ تعالیٰ نے بتا دیا ہے یہ کام عزت والے ہیں یہ ذلت والے ہیں ۔یہ اتنی اہم چیز ہے کہ بندے کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ اس کی ساکھ کو دیکھا جاتا ہے اس لیے ہمیشہ زندگی میں ساکھ برقرار رکھیں لیکن یہ بات بھی یاد رہیں کہ ساکھ ہو نے کے باوجود بھی مسئلے رہیں گے ، اچھا ہونے کے باوجود لوگ برا کہیں گے ۔ جس چیز کاکوئی حل نہیں ہے اس کی فکر مندی چھوڑ دیں بس آنکھیں نیچی کر کے چلتے جائیں ایک دن سر اٹھے گا دنیا ساتھ ہوگی ۔ اپنی نگاہوں میں اپنے آپ کو بھی گرنے نہ دیں۔ دنیا میں سب سے بڑا مجرم اپنی ذات کا مجرم ہوتا ہے ، لوگوں میں چور پن ہوتا ہے ، جس کی اپنی نگاہوں میں اپنی عزت نہیں ہے وہ کسی کی عزت کیا کرے گا ، جو چیز ہے ہی نہیں وہ کیسے دی جا سکتی ہے عزت تو عزت دار بند ہ کرتا ہے ۔ساکھ کو اہم سمجھیں اس پر انوسٹمنٹ کریں ، وقت لگائیں ۔ بندے کی دوستوں اور دشمنوں سے بھی پہچان ہونی چاہیے ، شاہین شاہین کے ساتھ ہی اڑتا ہے مردار کھانے والے گدھ کے ساتھ نہیں اڑتا۔ تعلق کی وجہ پیسہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ نظریہ ہونا چاہیے حضرت علی المرتضی ؒ رضی اللہ عنہ فرماتےہیں "نظریے کا ساتھ ازلی اور ابدی ہوتا ہے۔” طے کریں کن کے ساتھ کام کرنا ہے کن کے ساتھ کام نہیں کرنا کئی، لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے ساتھ صرف دوستی رکھی جا سکتی ہے کام نہیں کیاجا سکتا کیو نکہ اپنے کا جواب دیا جا سکتا ہے ۔جس کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا جاسکتا اس کے ساتھ تعلق مت رکھیں۔

    6۔ مذہب کا درخت
    زندگی میں یقین ہے، ایمان ہے ، روحانیت ہے ، روح زندہ ہے ، عباد ت ہے،اس درخت کو بھی اہم سمجھنا چاہیے ۔حضور اکرم ﷺ نے جن تمام انداز کے ساتھ نماز ادا کی وہ سب سنت ہیں اب جو بھی جس انداز میں پڑھ رہا ہےاگر اس کی نیت یہ ہے کہ یہ میرے رسول کریم ﷺ کی سنت ہےتو ثواب ہے۔ وہ تمام نیکیوں کے کام جو آپ کو سکون دیتےہیں ان کو ضرور کریں کیو نکہ آپ کی عبادت ، روحانیت اور دین ان سے جڑا ہوا ہے ۔

    7۔ ذات کا درخت
    اپنی ذات کو بھی سکون چاہیے اس درخت کو بھی اہم سمجھنا چاہیے ۔ تنہائی کو انجوائے کرنا سیکھیں، اپنی پسند کی کتابیں خریدیں ، اپنے بے لوث دوست کے ساتھ وقت گزاریں، صبح کے وقت گیلے گھاس پر چل سکون حاصل کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کااحساس ہو ۔ ہم نے سب سے زیادہ اپنی ذات کے ساتھ وقت گزارنا ہوتا ہے اگر ہم اپنے اچھے دوست نہیں ہیں ، اپنی ذات کے ساتھ اچھا تعلق نہیں ہے تو پھر یہ درخت ٹھنڈی چھاؤں نہیں دے گا اور نہ ہی میٹھاپھل دے گا ۔
    آج سے ان درختوں کے بیج لگائیے کچھ دنوں بعد آپ کو محسو س ہوگا کہ پودابننا شروع ہوگیا ہے۔

  • حق سچ، بت پرستی اور عذاب الہی، بلال شوکت آزاد

    حق سچ، بت پرستی اور عذاب الہی، بلال شوکت آزاد

    "جیے بھٹو”، "اک واری فیر شیر”، "25 لاکھ علماء کا وارث”، "انتہا درجے کی بوٹ پالشی”، "لارڈ میکالوی مطالعہ پاکستان عرف مغالطہ پاکستان پر قرآن و حدیث سے بڑھ کر ایمان” اور "سانہو کی سے تہانو کی” سطحی اور نیچ نعرے وہ گھٹیا افعال اور افکار ہیں جن سے ہماری مجموعی اور عمومی ذہنیت اور دماغی استعداد کار کا انداز کرنا بالکل مشکل اور ناممکن نہیں۔

    ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر منحصر لوگ ہیں جن کا انحصار ہمیشہ دوسروں پر رہا ہے, کبھی ہم میں سے کسی کو یہ خیال نہیں ستاتا کہ میں بھی انسان ہوں اور اللہ نے مجھے بھی دماغ دے کر پیدا کیا ہے سو میں کیونکر مسلسل ایک سوراخ سے بار بار ڈسا جاؤں؟

    ایسی قومیں ترقی نہیں تنزلی کی منزلیں بہت جلد اور تیز رفتار سے طے کرتی ہیں۔

    ہم اتنے پکے پیر مقلد اور مکلف ہیں اپنے بیچ موجود طاقتور افراد اور اداروں کے کہ ہمیں محسوس ہی نہیں ہوتا کہ ہم ایک دائرے میں گھوم رہے ہیں جس کا نہ کوئی سرا ہے نہ ہی حد۔

    خود سے تحقیق اور تفتیش کا نہ ہم میں یارا ہے اور نہ ہی کوئی خاص شوق کہ ہم جان پائیں کہ آخر ہم کن نظریات اور افکار کی پیروی میں تباہی کی طرف گامزن ہیں۔

    ہماری محبتوں کی طرح ہماری نفرتیں بھی سیانی ہیں کہ یہ پسندیدہ اور ناپسندیدہ کا فرق ہمارے کہے بنا کرلیتی ہیں۔

    پاکستان کو اللہ نے ہی سنبھالا ہوا ہے ورنہ ہم نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی خود اس کو تباہ کرنے کی۔

    آج ہمیں قرضوں کی دلدل نظر آرہی ہے, ہمارا معاشی دیوالیہ نظرآرہا ہے, ہمارے موجودہ حکمرانوں کی نااہلی اور بیوقوفی یا سیدھے لفظوں میں عوام دشمنی نظر آرہی ہے پر ہمیں پہلے خبر ہونے کے باوجود سابقہ کسی بھی حکمران خواہ وہ جمہوری تھا یا غیر جمہوری کی کوئی برائی بھی برائی نہیں لگی۔

    ہم نے ہمیشہ لاڈلی اولاد کی طرح اپنے اپنے من پسند حکمرانوں کی لوٹ مار اور غلط فیصلوں کی حمایت ہی نہیں کی بلکہ ایک دوسرے کا گریبان پکڑ کر دفاع بھی کیا اور آج جب بھوکوں مرنے کی نوبت آگئی ہے تب بھی ہمارے اندر سے ان ناعاقبت اندیش حکمرانوں کی محبت جانے کا نام نہیں لے رہی۔

    واللہ آج جب اپنے اردگرد نظر دوڑاتا ہوں تو سمجھ پاتا ہوں کہ جب جب اللہ نے بت پرستی اور شرک کا قلع قمع کرنے کو نبی معبوث کیئے تو انہیں شدید ردعمل اور تنقید کا سامنا کیوں کرنا پڑا اور کیونکر بت پرست امتوں کو بت پرستی گناہ نہیں لگی اور کیونکر وہ بت پرستی سے دستبردار نہیں ہوئے؟

    ہمارے بیچ بھی بت پرستی نے جڑیں بہت گہری کرلی ہیں۔

    ہم نے شخصیات کے بت سجا لیے ہیں, نظریات کے بت سجا لیے ہیں, اداروں کے بت سجا لیے ہیں, افکار کے بت سجا لیے ہیں, ذاتیات کے بت سجا لیے ہیں, آزادی نام کی دیوی کے بت سجا لیے ہیں, بغاوت کے بت سجا لیے ہیں, دولت کے بت سجا لیے ہیں, شہرت کے بت سجا لیے ہیں, علم و عمل اور الفاظ کے بت سجا لیے ہیں, اور تو اور حق اور سچ کے بت بھی سجا لیے ہیں, غرض ہر وہ چیز؟ انسان، واقعہ، جگہ اور نظریہ ہماری بتوں کی لسٹ میں موجود ہے جس سے ہم متاثر ہوسکیں اور جن پر انحصار کرکے ہم زندہ رہنے کا بے ڈھنگا مقصد طے کرسکیں۔

    بت پرستوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ انہیں ایک تو بتوں میں خدا اور ناخدا دونوں نظر آتے اور دوم انہیں کسی صورت اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ وہ بت پرست ہیں۔

    آج ذرا ن لیگ والوں کا حال ملاحظہ کرلو, پیپلز پارٹی والوں کا حال ملاحظہ کرلو, پی ٹی آئی والوں کا حال ملاحظہ کرلو, جمعیت والوں کا حال ملاحظہ کرلو, جماعت اسلامی والوں کا حال ملاحظہ کرلو, فنڈا مینٹلز کا حال ملاحظہ کرلو, لبرلز کا حال ملاحظہ کرلو, ڈیموکریٹکس کا حال ملاحظہ کرلو, سینٹرکس کا حال ملاحظہ کرلو, صحافیوں کا حال ملاحظہ کرلو, ایکٹیوسٹس کا حال ملاحظہ کرلو, بوٹ پالشیوں کا حال ملاحظہ کرلو, فرقہ بازوں کا حال ملاحظہ کرلو, عصبیت والوں کا حال ملاحظہ کرلو, ملحدوں کا حال ملاحظہ کرلو, میں حق سچ کہتا اور لکھتا رہوں گا چاہے میری جان چلی جائے کہنے والوں کا حال ملاحظہ کرلو, فیمنسٹس کا حال ملاحظہ کرلو اور دانشوروں کا حال ملاحظہ کرلو۔

    کون ہے ان مذکورہ اور وغیرہ وغیرہ میں جو کسی نا کسی بت کا پجاری اور اس بت کے مندر کا پروہت نہیں؟

    اب جب ان میں کوئی اللہ کا بندہ کوئی اللہ کا ولی اٹھ کر احساس دلاتا ہے, ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے یہ بتا کر کہ تمہارا مسئلہ بھوک, مہنگائی اور بیروزگاری مطلب روٹی, کپڑا اور مکان نہیں بلکہ بت پرستی ہے جو تم میں وطن پرستی, شخصیت پرستی, نظریہ پرستی اور انجمن پرستی وغیرہ کی شکل میں موجود ہے تو اسے لٹھ لیکر سب مارنے پر تل جاتے ہیں اور جہاں تک زور چلتا ہے کردار کشی اور گالیوں کے تیرو تفنگ کے ساتھ اس پر ہر وقت حملہ آور رہتے ہیں۔

    یہ جو سب افرا تفری اور تباہی و پریشانی کے ساز بج رہے ہمارے گردو نواح میں انہیں اب برداشت کرو کہ پوجا کا لازمی جزو ہے بے ہنگھم اور سر دردی والی موسیقی۔

    حق اور سچ کا صرف ایک ہی میعار ہوتا ہے اور وہ ہے خالص پن اور مضبوط دلائل, لہذا اپنے ذاتی میعارات سے دستبرداری اختیار کرو اور بت پرستی چھوڑ کر حق کی طرف چلے آؤ۔

    اذانِ حق ہر دور میں دی جاتی رہی ہے خواہ دور کوئی بھی ہو لہذا اپنے اپنے صنم کدے مسمار کرکے حق و سچ کے قبلے کی طرف منہ کرو اور حق و سچ کی پہچان یہی ہے کہ وہ تاثیر میں ٹھنڈے جبکہ ذائقے میں شدید کڑوے ہوتے ہیں۔

    جی ہاں جن جن بتوں کی ہم پوجا کررہے ان کی بدولت ہم بت پرست ہی ہوئے کہ یہ بت بھی ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتے اور خود کو کسی نقصان سے بچا نہیں سکتے لہذا ان کی پوجا سوائے ہمارے ایمان کو دیمک کی طرح چاٹنے کہ اور کچھ نہیں کررہی۔

    آئیے سوچنا اور تحقیق کرنا شروع کیجیے اور کڑوے سے کڑوے سچ کا سامنا کرنے کی ہمت کیجیے تاکہ ہم پر نادیدہ بتوں کی پوجا کی بدولت جو نادیدہ و دیدہ عذاب مسلط ہیں ان سے چھٹکارہ مل سکے۔

    سوچیے گا ضرور۔

  • دردِ شقیقہ ۔۔۔ حکیم حبیب الرحمن کمبوہ

    دردِ شقیقہ ۔۔۔ حکیم حبیب الرحمن کمبوہ

    تعریف

    یہ درد اکثر سر کے نصف حصہ میں دائیں یا بائیں جانب ہوتا ہے.
    بعض اوقات سارے سر میں درد ہوتا ہے.
    شقیقہ کے معنی ایک شق یعنی ایک طرف کے ہیں.
    یہ درد طلوع آفتاب سے شروع ہو کر دوپہر تک بڑھتا ہے اور جوں ہی زوال آفتاب شروع ہوتا ہے تو کم ہوتا جاتا ہے.

    اسباب

    تھکاوٹ، کمزوری، کثرت حیض، خرابی نظر، کثرت جماع، قبض اور بے خوابی اس کے اسباب ہیں.
    یہ مردوں کی نسبت عورتوں میں زیادہ ہوتا ہے.

    علامات

    درد کے شروع ہونے سے پہلے طبیعت سست ہو جاتی ہے.
    یہ عموماً پندرہ سے پچیس سال کی عمر میں زیادہ ہوتا ہے.
    اس میں دماغ کی رگیں پھیل جاتی ہیں.
    دماغ میں خون زیادہ مقدار میں پہنچتا ہے.
    سر گھومنے لگتا ہے اُبکائیاں آتی ہیں. مریض روشنی اور آواز برداشت نہیں کرتا اور چہرے کا رنگ پھیکا پڑ جاتا ہے.

    علاج

    درد شروع ہونے سے پہلے اور درد کی حالت میں کوئی غذا کھانے کو نہ دیں.
    مریض کو مکمل آرام کرائیں.

    سفوف اکسیر دافع درد شقیقہ

    کشنیز خشک 30 گرام
    کلونجی 10 گرام
    اسطوخودوس 50 گرام
    فلفل سیاہ 15 گرام

    چاروں اجزاء کو بایک پیس کر سفوف بنائیں۔

    مقدار خوراک

    3 تا 6 گرام
    صبح، دوپہر اور شام استعمال کریں۔

  • شبِ یاس میں ضیائے آس ۔۔۔ رضی الرحمن جانباز

    شبِ یاس میں ضیائے آس ۔۔۔ رضی الرحمن جانباز

    میں جیسے ہی ریاضی کا پرچہ دے کر کمرہ امتحان سے باہر نکلا مجھے اپنا ایک سینئر ساتھی راہداری میں کھڑا نظر آیا۔ اس کے چہرے پر چھائی گہری پثمردگی اور مایوسی دیکھ کر میں نے اس سے پرچے کی بابت کوئی سوال نہ کیا۔ لیکن وہ مجھے ملتے ہی پھوٹ پڑا اور روہانسے انداز میں اپنے پرچے کی خرابی کا احوال سنانے لگا۔ کینسر کی آخری سٹیج پر زندگی سے ہارے ہوئے ایک مایوس مریض کی طرح وہ ناامیدی کی آخری سٹیج پر آگے مزید تعلیم جاری نہ رکھنے کا مصمم ارادہ کر چکا تھا۔ اس کی زبان سے نکلتے ہوئے ناامیدی سے لبریز جملے میرے کانوں سے ٹکرا کر فضاء کی پر سکون لہروں میں ارتعاش پیدا کر رہے تھے۔ جب وہ اپنے دل کی بھڑاس نکال چکا تو میں اس سے گویا ہوا "بتاؤ تھامس ایڈیسن نے بلب ایجاد کرتے وقت کتنی مرتبہ ناکامی کا سامنا کیا تھا؟” کہنے لگا "نو سو ننانوے مرتبہ۔” میں نے کہا "اگر وہ بھی تمھاری مثل پہلی دوسری ناکامی کے بعد ناامید ہو جاتا اور کہتا کہ یہ مجھ سے نہ ہو پائے گا تو وہ کبھی بلب ایجاد نہ کر سکتا۔” مختصر یہ کہ میں نے اسے مایوسی کے متعفن جوہڑ سے نکال کر امید، ہمت اور جذبے کے پاکیزہ چشمے سے اشنان کروانے کی سعی کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج بھی جب وہ مجھے ملتا ہے تو کہتا ہے کہ اگر آج میں یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہوں تو تمھاری وجہ سے ہوں۔
    معزز قارئین! مایوسی ایک ایسا گناہ ہے جو لذت سے تہی دامن ہے۔ آخر مایوسی کو کفر کیوں قرار دیا گیا؟ آخر کیوں اللہ نے بنی نوع انسان کو ناامیدی سے حکما روکا ہے؟ درحقیقت ناامید ہونا اللہ کی رحمت کا انکار ہے۔ مایوسی کا مطلب اس رحمت خداوندی کا انکار ہے جو اس کے غضب پر ہاوی ہے۔ مگر صد افسوس! کہ آج ہر سمت مایوسی و ناامیدی کے تعفن سے معاشرے کی فضاء بوجھل ہے۔ آج طلباء سے لے کر حکومتی ایوانوں تک تمام شعبہ ہائے زندگی اور عوام کے تمام طبقات میں یاس و ناامیدی کے ڈیرے ہیں۔ آج اگر ایک طالب علم کو دیکھیں تو وہ اپنے مستقبل کے حوالے سے، کسان اپنی زراعت سے، صنعت کار اپنی صنعت سے، نوجوان روزگار سے، الغرض کہ ہمارے عوام مہنگائی، بے روزگاری، توانائی کے بحران، ڈالر کی اونچی اڑان، سیاسی و مذہبی فرقہ واریت اور کہیں عصبیت و لسانیت کی وجہ سے مایوس نظر آتے ہیں۔ یاد رہے مایوسی ہمیشہ ابلیس کی طرف سے ہوتی ہے۔ ابلیس کا کام بنی نوع انسان کو اللہ کی رحمت سے ناامید کرنا ہے۔ اور جب انسان رب کی رحمت سے ناامید ہوتا ہے تو پھر وہ اپنے مستقبل سے، سونے جاگنے سے، چلنے پھرنے سے، اپنی مصروفیت و فراغت سے، جزاء و انعام سے، موت و آخرت سے حتی کہ اپنی زندگی سے بھی مایوس ہو جاتا ہے۔ اور پھر عموما اس یاس و ناامیدی کا نتیجہ خودکشی کی صورت میں نکلتا ہے، معاملہ پھر صرف خودکشی پر ختم نہیں ہوتا بلکہ ذلت و رسوائی کا ایک طویل سلسلہ عذاب الہی کی صورت میں شروع ہو جاتا ہے۔
    معزز قارئین! ستم تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس شب یاس میں ضیائے آس دکھانے والے مفقود ہیں۔ چہار سو آدھا گلاس خالی دیکھنے اور دکھانے والے ہیں۔ ہر سمت ایسے لوگوں کی بھیڑ ہے جو سادہ لوح عوام کو ملک و قوم کے حوالے سے مایوسی کے اندھیروں میں دھکیلتی نظر آتی ہے۔ اس حوالے سے میڈیا کا منفی کردار جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اقتصادی، معاشرتی، انتظامی اور سیاسی کمزوریوں کے متعلق عوام الناس کو آگہی دینا میڈیا کی اہم ذمہ داری ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ مثبت پہلؤں کو یکسر ہی نظر انداز کر کے تصویر کا صرف ایک رخ ہی دیکھایا جائے۔ قوموں پر کڑے وقت آتے ہی ہیں، لیکن تاریخ صرف ان کے نام درخشندہ حروف میں لکھتی ہے جو مشکل حالات میں ڈھارس بندھانے والے ہوتے ہیں۔ مایوسی اور ناامیدی کا پرچار کرنے والوں کا نام تو ملک و قوم کے مجرموں کی فہرست میں آتا ہے۔
    غزوہ خندق کے موقع پر مسلمانوں پر کڑا وقت تھا۔ دس ہزار کا ٹڈی دل مدینہ کی نوزائیدہ ریاست کو نگل جانے کے لیے آیا تھا۔ دوسری طرف مسلمانوں کے حالات انتہائی پتلے تھے۔ کہیں فاقہ کشی کا یہ عالم تھا کہ پیٹ پر پتھر بندھے تھے اور کہیں منافقوں اور غداروں نے پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا۔ خوف کا یہ عالم تھا کہ کلیجے منہ کو آ رہے تھے۔ ایسے دگرگوں حالات میں رہبر اعظم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے چٹان پر ضربیں لگاتے ہوئے فارس، روم اور یمن کی فتح کی بشارتیں دے کر صحابہ اکرام رضی اللہ تعالی عنہم کی ڈھارس بندھائی اور انھیں تابناک مستقبل کی نوید سنائی۔
    معزز قارئین! آج ہمارے معاشرے کو بھی ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہے جو مایوسی کے ظلمت کدوں میں امید کے دیپ جلائیں۔ آج ہمارے طلباء کو ایسے اساتذہ کی ضرورت ہے جو روشن مستقبل کی نوید سے ان کے جذبوں کو جلا بخشیں۔ آج ہمارے کسان کو، صنعت کار کو، مزدور کو، کھلاڑی کو، بچوں، بوڑھوں اور جوانوں کو حوصلہ اور جذبہ دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ بقول اقبال:
    ذرا نم ہو یہ مٹی تو بڑی زرخیز ہے ساقی
    اور یہ سب امید، جذبہ اور حوصلہ دینے کے لیے کوئی خلائی مخلوق نہیں اترے گی۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے اردگرد موجود ایسے لوگوں کو امید دلائیں۔ ایک ہارے ہوئے شخص کے جذبوں کی راکھ کو چنگاری دیں، کہ نہیں! تم جیت سکتے ہو۔ ایک انتہائی نگہداشت کی یونٹ میں پڑے مریض کو امید دلائیں کہ نہیں! تم ابھی جی سکتے ہو۔ امتحان میں ناکام ہونے والے طلباء کو بجائے ملامت کرنے کے یہ کہہ کر ڈھارس بندھائیں کہ کیا ہوا جو اس بار فیل ہو گئے محنت کرو آئندہ ان شاءاللہ کامیاب ٹھہرو گے۔ لوگوں کے رویوں سے مایوس شخص کو تلقین کریں کہ مخلوق سے توقعات اور امیدیں ختم کر کے خالق سے امیدیں وابستہ کر لو کبھی مایوس نہیں ہو گے۔ مایوسی ایک ایسا ناسور ہے جو انسان کی صلاحیتوں کو سلب کر لیتا ہے۔ مایوس شخص ہر وقت ڈپریشن کا شکار رہتا ہے۔ایسا شخص خود بھی پریشان رہتا ہے اور دوسروں کی پریشانی کا باعث بھی بنتا ہے۔ اس لیے ہم نے خود بھی ہمیشہ رحمت خداوندی سے پرامید رہنا ہے اور لوگوں کو بھی مایوسی کے گھٹاٹوپ اندھیروں سے نکال کر امید کے اجالے میں لانا ہے۔ کیونکہ ہمارا رب ہمیں حکم دیتا ہے "لا تقنطو من رحمة الله” (اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو جانا)۔ ناامید تو وہ لوگ ہوں جن کا رب نہ ہو۔ ہمارا تو رب الحي و القيوم ہے اس لیے ہم کیوں ناامید ہوں۔

  • خود کلامی ۔۔۔ مریم محمد

    خود کلامی ۔۔۔ مریم محمد

    اپنے بے ربط اور ٹوٹے پھوٹے الفاظ سے کونسا معرکہ سر کرنا ہے تم نے؟؟
    یہاں ایک نہیں ہزاروں لکھاری ہیں جو لکھتے ہیں اس میں تمھارے الفاظ کسی پہ کیا اثر انداز ہوں گے؟؟

    آخر تمھارے ساتھ مسئلہ کیا ہے ہر وقت کہاں کا غم، کہاں کی سوچ یہ دنیا اس کے لوگ جن کے لیے تمھارا دل تڑپتا ہے یہ تمھیں کچھ نہی سمجھتے۔ تمھاری باتیں ان کے لیے بے معنی ہیں !!! تم لب کھولو یہ سن بھی لیں تو چند دن میں دوبارہ اپنی دنیا میں لوٹ جائیں گے۔ یہ دنیا بڑی مزے کی چیز ہے پیاری چند لمحوں میں انسان کا دل لبھا لیتی ہے !! کبھی کبھار تو بہت بڑے ایمان اور تقوی والے لوگ اس کے آگے اپنا سب ہار دیتے ہیں — یہ نگاہ کو ایسا خیرہ کرتی ہے کہ یہاں رب کے کہے گئے کلمات لوگوں کے دلوں پر اثر کرنا چھوڑ دیتے ہیں —
    اور تمھیں لگتا ہے کہ تم نے آواز دی اور دنیا پلٹ آئی۔ لب کھولے اور ہدایت کی روشنیاں بٹ گئیں ؟؟؟؟؟ تم نے کہا اور تمھاری قوم نے صدیوں کے اختلاف بھلا کر حق کے جھنڈے تلے اکھٹے ہونے کا عزم کر لیا؟ یہ سوچیں نظریات اور حق گویائی بہت مہنگی چیز ہے۔ یہ بدلے میں جانوں کی قربانیاں مانگتی ہے۔ چھوڑ دو !!
    اس چیز کے لیے تڑپنا کہ ماضی میں بغداد کے گلی کوچوں میں تمھاری قوم نے اجتماعی زندگی پر انفرادی موت کو ترجیح کیوں دی تھی —
    چھوڑ دو یہ سوچنا کہ تمھاری قوم کو برسوں سے مذہبی فرقہ پرستی کے نام پر جو زہر پلایا جا رہا ہے اس نے اس مسلم امت کے کتنے نوجوانوں کو نگل لیا چھوڑ دو یہ پریشانیاں اور رونے۔ مجھے سنو میں تمھارا مخلص دوست — میری مانوں ضمیر کا گلا دبا دو بے حس بن جاؤ اور جینا شروع کرو یقین مانو مزے کی دنیا تمھاری منتظر ہے!!

    یعنی میرے دوست تم یہ کہنا چاہتے ہو غلامی کی زندگی اپنا لوں میں ؟؟ شعور کا گلا دبا دوں اور اس دنیا کے دھوکے میں مگن ہو جاؤں اور میری قوم ؟؟؟

    اپنی قوم کو بھول جاؤں صرف اس لیے کہ وہ بہت کم سنتے ہیں !!!
    مجھے علم ہے میرے بے ترتیب الفاظ کی کوئی اہمیت نہیں یہ بھی علم ہے کہ یہاں ایک نہیں ہزاروں لکھاری موجود ہیں لیکن کروڑوں دنیا پرستوں کے مقابلے میں بہت کم !!!!

    حق گویائی اگر جرم ہے تو کیا اس جرم کے ڈر سے انسان عقیدہ چھوڑ دے ؟ نظریات بیچ دے غلامی قبول کر کے طاغوت کے آگے سر جھکا دے؟
    نظریات کی کوئی قیمت نہیں ہوتی میرے دوست گردنیں سولی پر چڑھ جاتی ہیں نظریات نہیں بکتے !!!!

    ہر وہ شخص جو غلامی کی زندگی کو ترک کر کے خوداری کی موت کو ترجیح دیتا ہے اس کا سب سے بڑا کام یہی ہے کہ وہ اپنی قوم کو غفلت کی نیند سے جگانے میں کامیاب ہو جائے!!
    سو میرے دوست مجھے بہکانا چھوڑو مجھے لگے رہنے دو اس بات کا غم نہ کرو کہ قافلہ کتنا کم ہے — انقلاب انسانوں کی بہتات سے نہیں برپا ہوتے انقلاب نظریات پر ڈٹ جانے سے برپا ہوا کرتے ہیں۔

  • پردہ، اقدار اور معاشرہ ۔۔۔ عبداللہ صالح جتوئی

    پردہ، اقدار اور معاشرہ ۔۔۔ عبداللہ صالح جتوئی

    لفظ عورت کا معنی ڈھکی ہوئی یا چھپی ہوئی چیز ہے یعنی سر سے لے کر پاؤں تک چھپی ہوئی چیز کو عورت کہا جاتا ہے.

    پردہ اسلامی معاشرے کا لازمی جزو ہے جس کا حکم رب العالمین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہم تک پہنچایا تاکہ عورت معاشرے کے لیے فتنہ کی بجاۓ تعمیر و ترقی کا باعث بنے اور اس کی کوکھ سے پیدا ہونے والا بچہ دین کی سربلندی میں اپنا کردار ادا کرتے ہوۓ اسلام دشمنوں کی سازشوں کو بے نقاب کرے اور اسلام کا عَلم پوری دنیا میں اونچا کرے لیکن آج کل کے معاشرے میں سب کچھ الٹ چل رہا ہے۔ یہاں تو پردے کو دل کا پردہ کہہ کے اسلام کا مذاق اڑایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے عورت آج درندوں کی ہوس کا شکار ہے اور جابجا عصمت دری کا شکار ہے.

    پردے سے عورت محفوظ رہتی ہے جس کی مثال میں کچھ یوں گوش گزار کرنا چاہوں گا کہ جب بھی آپ قصاب کی دوکان پہ تشریف لے جاتے ہیں تو آپ اس کو اچھی طرح لفافے سے ڈھانپ لیتے ہیں تاکہ کوئی جانور یا پرندہ اس کو نقصان نہ پہنچا دے اور اگر آپ اسے کھلا چھوڑیں گے تو شاید آپ گھر تک بھی بحفاظت نہ پہنچ پائیں.

    میں نے جس معاشرے میں آنکھ کھولی وہ معاشرہ الحمدللہ اسلامی احکامات اور صوم و صلوٰۃ کا پابند تھا اور اللہ کے فضل سے پردہ بھی اس کا بہترین شعار تھا جس کی برکتیں میں ابھی تک سمیٹ رہا ہوں. ہمارے بڑے گھر میں ٹی وی نہیں رکھنے دیتے تھے کیونکہ ان کا یہ مؤقف تھا کہ یہی فساد کی جڑ ہے اور یہی عورت کو اس کے مقصد سے ہٹا کے اسے بے پردگی اور گمراہی کے رستے پر لے جاتا ہے. تب ہمیں بہت عجیب سا لگتا تھا کہ ہمیں گھر والے ٹی وی کیوں نہیں دیکھنے دیتے ہم کوئی بچے ہیں جو بگڑ جائیں گے۔ بھلا ٹی وی دیکھ کے بھی کوئی گمراہ ہوا ہے..

    اس سوال کا جواب ہمیں آج معلوم ہوا جب آج کے والدین یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ہم نے اپنے بچوں کو اس لیے گلوکار بنانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اسے فلاں گلوکار بہت اچھا لگتا ہے اور وہ بہت اچھا گاتا ہے یہ اس کی نقل بھی بہت اچھی کر لیتا ہے اس کا آئیڈیل فلاں اداکار یا اداکارہ ہے اس کو شوبز کا فلاں سٹار بہت اچھا لگتا ہے میری بیٹی نے جینز اور ٹی شرٹ پہننی ہے کیونکہ ہم نے ایک ڈرامہ میں دیکھا تھا کہ اس لڑکی کو بہت خوبصورت لگ رہی تھی فلاں فلاں..

    آج کبھی ٹی وی چینل پہ لڑکی بھگانے کے اشتہار تو کبھی داغ تو اچھے ہوتے ہیں کی آڑ میں ہونے والی فحاشی تو کبھی گھر کی چار دیواری کو داغ قرار دے کے معاشرے کو فحاشی و عریانی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے اور کئی ایسے اشتہارات ہیں جو یہاں زیربحث لانا بھی مناسب نہیں ہے ان کا مقصد صرف اور صرف عورت کو اسلام اور پردہ سے دور کرنا ہے اور یہی سازشوں کی جنگ ہے جس میں ہمیں دھکیل کے ہم پر کافر مسلط ہونا چاہتے ہیں اور ہو بھی رہے ہیں.

    یہی وجہ ہے کہ آج ٹی وی ڈراموں اور فحش اشتہارات کی آڑ میں کفار ہماری اسلامی تہذیب میں بگاڑ پیدا کر رہے ہیں اور ہمارے بچے بگڑتے جا رہے ہیں اور اسلامی تہذیب سے کنارہ کشی اختیار کرتے جا رہے ہیں ہماری عورتوں کو پردہ کرنے سے گھبراہٹ ہوتی ہے اور طرح طرح کے بہانے بناۓ جاتے ہیں یہاں تک کہ مائیں بچوں کو ترغیب دینے کی بجاۓ اپنے بچوں کے ذہن میں ڈالنا شروع کر دیتی ہیں کہ اگر ابھی سے پردہ کرو گی تو لوگ ولون کہیں گے اور کسی نے دیکھنا تک نہیں ہے تمہیں اور کون تجھ سے شادی کرے گا جیسے طعنے مار مار کے اس کو اسلام سے دور کر لیتے ہیں.

    افسوس ہوتا ہے ان ماؤں پہ جنہوں نے عائشہ رضی اللہ عنھا و فاطمتہ الزھرا رضی اللہ عنہا کی مثالیں دینی تھی آج وہ اداکاراؤں کے نقش قدم پہ چل پڑی ہیں اور فحاشی و عریانی کو فیشن کا نام دے کر اپنی آنے والی نسلوں کو تباہ و برباد کر رہی ہیں.

    آج بچے بچے کو اداکاراؤں کے نام آتے ہیں اور ان کے کپڑے اور اسٹائل تک زیر بحث آتے ہیں لیکن مجال ہے کسی کو آخری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور ان کی قربانیوں کے متعلق بھی علم ہو آج جو بچی بھی دوپٹہ یا اسکارف لینے کی کوشش بھی کرتی ہے تو اسے اپنے گھر والے بھی طعنے مارنا شروع ہو جاتے ہیں کہ ابھی سے بوڑھی بننا ہے اتارو تمہیں بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا جب بڑی ہوگی تب پہن لینا اور پھر جب وہ بڑی ہوتی ہے تو اسے یہ عادت ہی نہیں ہوتی کہ دوپٹہ بھی سر پہ لینا ہوتا ہے یا یہ صرف گلے کی حد تک ہی رکھنا ہے..

    خدارا اپنے بچوں کو بچپن سے ہی اسلام سے محبت سکھائیں اور انہیں اداکاروں کی بجاۓ اصحاب نبی صل اللہ علیہ وسلم کی بہادری کے قصے سنایا کریں اور ٹی وی جیسی لعنت سے ان کو کوسوں دور رکھیں تاکہ آپ کا بچہ اس جاہلیت کا شکار ہو کر درندوں کی درندگی کا نشانہ نہ بن جاۓ..
    اللہ ہمیں اللہ کے احکامات کو صحیح معنوں میں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین یا رب العالمین..

  • ہماری خواتین ہی نشانے پر کیوں ؟؟؟ محمد فہیم شاکر

    ہماری خواتین ہی نشانے پر کیوں ؟؟؟ محمد فہیم شاکر

    کہا جاتا ہے کہ مرد کی تعلیم فرد کی تعلیم ہے جبکہ عورت کی تعلیم خاندان کی تعلیم ہے
    گذشتہ کچھ عرصے سے وطن عزیز پاکستان میں خواتین کے اندر بے چینی پیدا کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں
    اگر غور کریں تو کبھی خواتین مارچ کے نام پر عورتوں کو خاندان سے باغی کیا جاتا ہے
    تو کبھی بیکن ہاوس سکولوں میں لڑکیوں سے زیر جامہ کپڑوں کی خوب تشہیر کروائی جاتی ہے

    پھر لڑکیوں کو گھر سے بھاگنے کے لیے کریم کار بک کروانے کا مشورہ نما اشتہار چلایا جاتا ہے

    اور پھر لڑکیوں کو باپ کی بات ماننے سے انکار پر اکسایا جاتا ہے وہی باپ جو بیٹیوں کی پرورش کی خاطر زمانے کی سرد و گرم برداشت کرتا ہے

    اور پھر اب لڑکیوں ہی کو چادر اور چاردیواری سے متنفر کیا جا رہا ہے
    اور یہ سب اچانک نہیں ہوا اور نہ ہی کسی ایک فرد کا کام ہے
    اس کو نظریاتی جنگ کے طور پر دشمن لڑ رہا ہے اور ہماری خواتین کو خاندان، مذہب اور معاشرے سے بد ظن کر رہا ہے کیونکہ اپنا خاندانی نظام تو امریکہ و یورپ تباہ کروا بیٹھے ہیں اب پاکستان کے اس سسٹم کو تباہ کرنے کے در پر ہیں اسی لیے تو خواتین ان کا نشانہ ہیں، شاید خواتین سادہ لوح ہوتی ہیں اور جلدی کسی کا بھی شکار ہوجاتی ہیں، اس لیے ان کا انتخاب کیا گیا ہے
    امریکہ و یورپ میں سب سے زیادہ بکنے اور والی عمارت چرچ کی ہے اور سب سے زیادہ تباہ ہونے والا نظام خاندانی نظام ہے خاندانی نظام کی تباہی کا بہت سے یورپی وزیراعظم اقرار بھی کر چکے ہیں
    یہ خاندانی نظام خواتین اور بچوں کو معاشرتی دھوپ سے بچانے کے لیے ڈھال کا کام کرتا ہے اور اب یورپی و دیگر اقوام پاکستان کے اسی نظام کو تباہ کرنے کے در پے ہیں
    یاد رکھیے گا یورپ و امریکہ میں خواتین کو مردوں کے برابر حقوق چاہیں تھے لہذا انہوں نے مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا شروع کردیا سارا دن محنت مزدوری اور حقوق کے حصول کی دوڑ کے بعد تھکی ہاری عورت جب گھر پہنچتی تو بچوں کی دیکھ بھال اور خاوند کے جائز و ناجائز مطالبات پورے کرنا اور اس کی سیوا کرنے کی ذمہ داری نبھانا پڑتی، سارا دن عورت بن کر رہنے والی کو گھر آکر بیوی بننا پڑتا تھا اس ساری صورتحال میں سب سے زیادہ استحصال عورت ہی کا ہوا جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ اس عورت نے اپنے معاشرے سے الگ ہونا شروع کر دیا اور اب مغرب میں سب سے زیادہ اسلام عورتیں قبول کر رہی ہیں کیونکہ یہ اسلام ہی ہے جو خاوند کو عورت کا سربراہ بنانے کے ساتھ اس کی تمام تر ضرورتوں کی تکمیل کا ذمہ دار قرار دیا ہے ج کہ عورت اپنے گھر میں ملکہ کی طرح رہے گی
    لیکن مغرب پاکستان کے اندر جو کھلواڑ کر رہا ہے اس سے اس کا مقصود عورت تک پہنچنے کی آزادی حاصل کرنا ہے کیونکہ مغرب اب تازہ مال چاہتا ہے اسے یورپ کی استعمال شدہ عورت سے بےزاری محسوس ہونے لگ گئی ہے لہذا وہ اسلامی ممالک اور بالخصوص پاکستان کے اندر خوشنما نعروں کی آڑ میں خواتیں کی ذہن سازی کر رہا ہے بلکہ یوں کہیے کہ مسلمان خواتین میں انسٹالڈ سافٹویئر کو وائرس کے ذریعے کرپٹ کر رہا ہے تاکہ اپنی مرضی کا سافٹویئر انسٹال کر کے اس عورت پر غلبہ اور قابو پا سکے تاکہ اپنی مرضی کے مطابق اسے استعمال کر سکے اور بدقسمتی سے اس سارے دھندے کے لیے اسے پاکستان سے لبرلز کے نام پر چند ایسی فاحشہ عورتیں دستیاب ہو چکی ہیں جو اسلامی اقدار کو براہ راست نشانہ بنا کر مسلمان خواتین کو باور کرا رہی ہے کہ اسلامی حدود و قیود ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں لہذا آو اور ان حدود کو توڑ دو تاکہ تم ترقی کر سکو
    یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ آسمان سے لگنے والی پابندی ترقی کی ضامن تھی لیکن آج فارمولے بدلے اور آسمانی پابندیوں کو پاوں کی ٹھوکر پر رکھنا ترقی کا ضامن قرار پایا ہے

    آپ ایریل ڈٹرجنٹ کا اشتہار دیکھ لیجیے کہ کس قدر ڈھٹائی سے خواتین کو سمجھایا جا رہا ہے کہ *چار دیواری میں رہو* یہ جملے نہیں داغ ہیں پر یہ داغ ہمیں کیا روکیں گے
    قرآنی آیت مبارکہ
    وقرن فی بیوتکن
    کا کھلم کھلا مذاق اڑایا گیا اور مسلم خاتون کو حوصلہ دیا گیا کہ وہ آسمانی حکم کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے چار دیواری کو توڑ کر باہر نکلیں اور شومئی قسمت سے اسے ترقی کا نام دیا جاتا ہے
    مورخ سوال کرتا ہے کہ آخر ہماری خواتین ہی نشانہ کیوں؟
    دوسری بات یہ ہے کہ انڈین ڈرامے جن کی اقساط تین تین سو تک جا پہنچتی ہیں لیکن وہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے
    ان سب کا مقصد بھی پاکستانی خاندانی نظام کو تباہ کرنا ہے
    آسٹریلیا ان ڈراموں کے اخراجات برداشت کرتا ہے تاکہ پاکستانی لڑکیاں شادی کے بعد اپنے خاوندوں کو الگ گھر لینے پر مجبور کر دیں
    اور جب الگ گھر ہوگا تو ظاہری سی بات ہے کہ فریج اے سی اوون واشنگ مشین و دیگر لوازمات کی ضرورت پڑے گی تو آسٹریلیا پھر ان کی مانگ پوری کرنے کے لیے اپنی پراڈکٹس مارکیٹ میں لاتا ہے

    یہ بھی ایک پہلو ہے
    لہذا خواتین کے ذہنی، نظریاتی اور فکری تحفظ کی جس قدر آج ضرورت ہے شاید اس سے پہلے نہ تھی
    مورخ پھر سوال کرتا ہے کہ آخر ہماری خواتین ہی نشانہ کیوں؟
    اور پھر مورخ خود ہی جواب بھی دیتا ہے کہ مرد کی تعلیم فرد کی تعلیم ہے اور عورت کی تعلیم خاندان کی تعلیم ہے لہذا عورت کو نشانہ بناکر دراصل مسلمانوں کے خاندانی نظام کی بنیادیں ہلانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ جب عورت ہی باغی ہو گی تو خاندانی نظام کہاں باقی رہے گا اور جب خاندانی نظام باقی نہیں رہے گا تو اولاد کی تربیت کرنا اور انہیں اطاعت الہی کا سبق ازبر کروانا، نیکی و بدی کا کانسپٹ دینا، جنت کے وعدے یاد دلانا اور جہنم سے ڈرانا، ایمان داری، ایفائے عہد، اور دیگر روشن اقدار کا سبق کون پڑھائے گا
    جب یہ بنیادی لوازمات ہی نہیں ہوں گے تو وہ مثالی اسلامی معاشرہ کیسے تشکیل پایے گا جو مظلوم مسلمانوں کی پکار پر لبیک کہنے والا ہوگا
    اور جب مائیں روشن خیال ہو کر ترقی کی دوڑ میں شامل ہوجائیں گی تو ابن قاسم، محمد بن اسماعیل البخاری، ابن تیمیہ، ثناء اللہ امرتسری کہاں سے پیدا ہوں گے
    تو سمجھ لیجیے کہ عورت کو روشن خیال کر کے چار دیواری سے باہر نکالنا دراصل اسلام کو نہتا اور بے سروپا کرنا ہے۔

  • "شادی” اور "دوسری شادی” ۔۔۔ عبدالرب ساجد

    "شادی” اور "دوسری شادی” ۔۔۔ عبدالرب ساجد

    مرد چاھے کنوارہ ھو یا شادی شدہ، شادی کی بجائے دوسری شادی کا ذکر ہر حال میں کیف آور ھوتا ہے۔۔۔

    اب کیا کریں، ہمارے ماڑے مقدر کہ ہم پیدا ھو گئے خالص مشرقی معاشرے میں۔۔۔ سنا تو ھے کہ پہلے پہل یہاں ‘پہلی’ شادی آسانی سے ھو جایا کرتی تھی۔۔۔ مگر اب کہ تو لوگ پہلی کو ترس رھے ھیں، دوسری کا کیا ذکر۔۔۔ خرچہ پورا ھوتا ھے نہ تعلیم۔۔۔ کوئی معیار پر پورا اترتا ھے نہ نظروں میں۔۔۔ کئی جھمیلوں کے بعد شادی ھو بھی جائے تو مشرقی معاشرے کا سب سے بھیانک تصور "جوائنٹ فیملی سسٹم” شادی کے ساتھ جڑے تمام ارمانوں پر پانی پھیر دینے کے لیے کافی ھے۔۔۔

    ایک نکاح ھوتے بڑے مشکل سے ھیں اور ٹوٹ بڑی جلدی سے جاتے ھیں۔۔۔ ساس بہو کے پھڈے سے بچ گئے تو نند بھابھی کا جھگڑا۔۔۔ دوسروں کی ٹانگ نہ بھی اڑے تو تتی تاولی جوانی کے اپنے نخرے نہیں مان۔۔۔ اور تو اور آج کل کے مولوی بھی نکاح سے زیادہ طلاقیں کرواتے پھرتے ھیں۔۔۔

    تفصیل ھر امر کی بہت لرزہ خیز ھے۔۔۔ بات سے بات نکل جائے تو بہت پھیل جائے گی۔۔۔ مگر "شادیوں” یعنی ھمہ قسم نکاح کے حوالے سے ھمارے ھاں جو "معاشرتی آلودگی” پھیل رھی ھے وہ "آسودگی” نہیں سراسر "فرسودگی” اور حکومتی اقدامات تو خالص "بے ھودگی” پر مبنی ھیں۔۔۔

    ابھی کنوارے پہلی شادی پر لگے ٹیکس کو رو رھے تھے کہ شادی شہیدوں کو معلوم ھوا کہ انکے لئے اگلی منزلیں اور کٹھن بنا دی گئی ھیں۔۔۔ گویا اگر کوئی اپنی محبوبہ سے مزید محبت کی اجازت لے بھی لے تو اسے مصالحتی کونسل سے اس ایکسٹرا محبت کے لیے سند جواز بھی لینی ھوگی۔۔۔!!!

    کوئی سال بھر پہلے ایک انگریزی روزنامے کی رپورٹ کا عنوان تھا۔۔۔
    UN wants consensual sex decriminalised in Pakistan
    آسان لفظوں میں کہ اقوام متحدہ چاھتا ھے کہ سارے پاکستان کو ھیرا منڈی بنا دیا جائے۔۔۔ مزید بھی یونیسیف اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے وقتا فوقتا پاکستان سے ایسے مطالبات سامنے آتے رھتے ھیں کہ جس سے شادیوں کو مشکل بلکہ ناممکن بنایا جاسکے۔۔۔ نکاح سے بغاوت اور شادی سے نفرت مغربی معاشرت کے لیے سب سے بڑا زھر ثابت ھوئی۔۔۔ مگر جانے انجانے میں ھمارا معاشرہ انہی کی ھدایات اور نقالی پر عمل پیرا ھے۔۔۔

    ناولز، ڈراموں اور فلموں میں ایکسٹرا میریٹل افئیرز کو کوئی سنسر کرنے والا نہیں۔۔۔ تعلیمی اداروں میں چلنے والے عشق معشوقی کے چکر بھی کسی کو نہیں کھٹکتے۔۔۔ سمعی و بصری سہولتوں سے مزین موبائل سے مستفید ھو کر اپنی حرص و ھوس کو بجھانا بھی اب معیوب نہیں رھا۔۔۔ پھر انٹرنیٹ کے سمندر میں تیرتے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لیے پورنو اینڈ سیکسو گرافی بھی ایک آرٹ اور فیشن بن چکا ھے۔۔۔ راتوں کو سرعام لاھور کی سڑکوں پر پھرتے زنخوں اور طوائفوں پر بھی کوئی قانون لاگو نہیں ھوتا۔۔۔ جگہ جگہ پھیلتے مساج سنٹرز پر بھی کسی کو کوئی فکر دامن گیر نہیں ھوتی۔۔۔
    ویلنٹائن اب ایک ڈے سے بڑھ کر ویک بن چکا ھے، مگر کوئی خطرے کی بات نہیں۔۔۔!!!
    اس سب پر طرہ یہ کہ شادی اور نکاح کے بندھن سے بدظن کرنے کے لیے لطیفے، قصے، جگتیں، مزاحیہ ویڈیوز اور شارٹ سٹیٹسز۔۔۔ اس سب کو شئیر کر دینا اور آگے پھیلا دینا ھم بالکل بھی نقصان دہ نہیں سمجھتے۔۔۔

    مگر کوئی نوجوان ان سب غلاظتوں سے محفوظ رھنے کو اگر شادی کا ذکر ھی کر دے تو سب سے مہذب اور مسکت جواب یہ ھوتا ھے کہ "پہلے شادی کے قابل تو ھو جاؤ”۔۔۔ اور "تینوں بڑی اگ لگی اے” جیسا والا جواب تو اب کوئی نیا نہیں رھا۔۔۔

    کوئی استطاعت رکھنے والا اور انصاف کرنے والا اگر شریعت کے مطابق اپنی جائز ضرورت کے لئے دوسری شادی کا نام لے لے، پھر تو جہان سارا ای دشمن۔۔۔!

    ایک جاننے والے نے دوسری شادی کر لی تو اسکے برادر نسبتی (سالے) اس کے گھر آکر کہنے لگے:
    ” تیرا فلاں چکر وی اسی معاف کیتا۔۔۔ تیرا او رولا وی اسی چھڈ دتا۔۔۔ ھن تے توں حد ای مکا دتی۔۔۔ ویاہ ای کر لیا ای۔۔۔ ”

    بس۔۔۔ یہی ھمارا المیہ ھے کہ ایک نوجوان خود لذتی سے گناہ گار ھوتا رھے۔۔۔ کسی کے گھر کی عزت سے کھیلتا رھے۔۔۔ چاھے تو کوٹھے پر چلا جائے۔۔۔ مگر نکاح کا نام لے جب تک۔۔۔!!!
    اور شادی شدہ اپنی پہلوٹی بیوی کے ھاتھوں بلیک میل ھوتا رھے، اسکے ساتھ بیمار بنا رھے۔۔۔ مگر جائز طریقے سے کسی دوسری عورت کا نہ گھر بسنے پائے نہ اس مرد کا بھلا ھونے پائے۔۔۔

    اس مسئلے میں کسی دوسرے کا نہ بھی سوچو، کم ازکم ھم میں سے ھر کوئی اپنا ھی بھلا سوچے تو معاشرے کی سوچ اور ڈگر بدلی جا سکتی ھے۔۔۔

  • دوسری شادی جرم یا معاشرے پر احسان ؟؟  محمد عبداللہ

    دوسری شادی جرم یا معاشرے پر احسان ؟؟ محمد عبداللہ

    ویسے مزے کی بات یہ ہے کہ دوسری شادی پر لاگو شرائط مثلاً بیوی سے اجازت کے ساتھ ساتھ مصالحتی کونسل کی اجازت کے حوالے سے سب سے زیادہ آواز وہ اٹھا رہے ہیں جن کی ابھی ایک بھی نہیں ہوئی اور اگلے کئی سالوں تک دور دور تک ان کی کنوارگی ختم ہونے کے امکانات نظر نہیں آ رہے.

    بہر حال یہ شرائط کسی طور بھی مدینہ کی اسلامی ریاست میں لاگو نہیں تھیں. دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کرنا خالصتا کسی بھی فرد کا ذاتی، انفرادی اور خاندانی ایشو یا عمل ہے گورنمنٹ اور مصالحتی کمیٹیوں اور کونسل کو ان میں دخل دینے کا اختیار بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے. یہ ہمارے برصغیر کا ہی ایشو ہے جس میں دوسری، تیسری شادی کو برائی کی حد تک معیوب سمجھا جاتا ہے. یہاں پر سوکن اور دوسری شادی جیسے لفظوں کو گالی کی حد تک برا سمجھا جاتا ہے اور ان کے حوالے سے ہمارے مقامی معاشرے میں بالکل بھی برداشت یا قبولیت نہیں ہے.

    عورت اور اسلامی معاشرہ ….. محمد عبداللہ

    حالانکہ دوسری شادی کرنے والا نہ تو جہیز وغیرہ کا طالب ہوتا اور نہ ہی دیگر سخت شرائط عائد کرتا ہے جن کی وجہ سے بیٹیوں کے والدین کی زندگیاں عذاب بنی ہوتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ فضول رسموں اور رواجوں میں بھی دوسری شادی کے وقت پیسہ اور وقت برباد نہیں کیا جاتا ہے دوسری طرف کیفیت یہ ہے کہ سینکڑوں یا ہزاروں نہیں لاکھوں بیٹیاں اور بہنیں وطن عزیز میں ایسی ہیں جو جہیز اور لڑکے والوں کی سخت ترین شرائط پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے دل میں لاکھوں ارمان لیے والدین کے گھروں میں بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں. پاکستان میں خواتین کی ویسے ہی ماشاءاللہ سے کثرت ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ دوسری شادی پر پہلے ہی والدین ڈرتے رہتے ہیں. ایسے میں جب آپ دوسری ، تیسری شادی کے حوالے سے اتنی سخت شرائط عائد کردو گے تو اس سے معاشرے میں انصاف نہیں پھیلے گا صاحب بلکہ شادیوں کی شرح کم ہوگی اور جس معاشرے میں شادی کی شرح کم ہوتی ہیں وہاں بے حیائی اور زناء کی شرح بڑھ جاتی ہے.

    اس کے ساتھ ساتھ گھروں اور خاندانوں کے عائلی مسائل جب آپ ان مصالحتی کونسلوں کے سپرد کرو گے تو اس سے بھی گھروں اور معاشروں میں اصلاح کی بجائے بگاڑ ہی پیدا ہوں گے. کوئی بھی بندہ یہ نہیں چاہتا کہ اس کی بہن، بیوی اور بیٹی کا مسئلہ باہر کے لوگ حل کرتے پھریں.
    ہاں آپ اس پر چیک اینڈ بیلنس رکھو کہ کہیں کوئی شوہر اپنی بیوی سے ناروا سلوک تو نہیں کرتا، ظلم و زیادتی کا رویہ تو نہیں روا رکھتا.

    لہذا جو صاحب استطاعت ہیں ان کو کسی بھی شرط کے بغیر دوسری یا تیسری شادی وغیرہ کی اجازت ہونی چاہیے بلکہ اس عمل کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے. سب سے بڑھ کر جب اسلام نے دوسری شادی پر کوئی قدغن، پابندی یا شرط نہیں لگائی بلکہ کتاب و سنت سے اس پر واضح احکام ملتے ہیں اور اسلام اس عمل کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں اسلام سے بھی آگے نکل کر یہ شرائط اور پابندیاں لگانے والے؟؟

    Muhammad Abdullah
  • حمزہ عباسی اور آئٹم سانگ، نوید شیخ کا بلاگ

    حمزہ عباسی اور آئٹم سانگ، نوید شیخ کا بلاگ

    پاکستان میڈیا انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے حمزہ علی عباسی آج کل ایک نجی ٹی وی چینل سے رئیلٹی شو کو جج کر رہے ہیں۔ اس شو میں ایک بچی کی پاکستانی آئٹم سانگ "مجھے کہتے ہیں بلی” پر کی گئی پرفارمنس کو حمزہ علی عباسی نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ حمزہ نے لڑکی کو پرفارمنس کے دوران ہی روک دیا اور بھاشن دیتے ہوئے کہا ” میں پاکستانی فلم ڈائریکٹرز و پروڈیوسرز کی منتیں کرتا ہوں کہ ہماری فلموں میں آئٹم سانگ نہ رکھا کریں ہماری بچیاں ان گانوں پر پرفارم کرتی ہیں جو کہ مناسب نہیں ہے”۔

    مزید پڑھیئے: تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    حمزہ علی عباسی کے اس رویے کو مختلف شعبہ ہائے زندگی تعلق رکھنے والے افراد نے مختلف طریقے سے جج کیا۔ جہاں بعض حلقوں نے حمزہ کی اس بات کو سراہا وہاں کئی حلقوں نے اسے کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ خصوصا سوشل میڈیا پر ان کی اس رائے کو خوب آڑھے ہاتھوں لیا گیا۔
    شوبز کے اندرونی حلقوں نے حمزہ کی رائے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حمزہ عباسی اپنی فلم میں نازیبا اور فحش سین بھی فلما چکے ہیں۔ فلم "جوانی پھر نہیں آنی” میں انہوں نے مختصر لباس میں موجود لڑکی کے ساتھ سوئمنگ پول میں اور ساحل سمندر پر ایسے سین عکسبند کئے جن پر آج وہ تنقید کر رہے ہیں۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    شوبز کی بعض حلقوں میں تو یہ چہ مگوئیاں بھی ہیں کہ اس آئٹم سانگ "مجھے کہتے ہیں بلی” پر فلم میں صدارتی ایوارڈ یافتہ پاکستانی فلمسٹار مہوش حیات نے پرفارم کیا تھا اور چونکہ حمزہ علی عباسی اور مہوش حیات کی آپس میں بنتی نہیں ہے تو حمزہ علی عباسی نے موقع کا فائدہ اٹھا کر در پردہ مہوش حیات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    رئیلٹی شو میں حمزہ علی عباسی کے اس رویے اور لڑکی کے آئٹم سانگ پر کی گئی پرفارمنس کی تنقید کو "پبلسٹی سٹنٹ” بھی کہا جا رہا ہے تاکہ اس سے رئیلٹی شو اور چینل کی ریٹنگ میں اضافہ ہو۔ اگر چینل اور ججز آئٹم سانگ پر کی گئی پرفارمنس کے خلاف تھے تو وہ گانا اس سٹیج پر کیوں چلایا گیا اور ظاہر ہے یہ گانا چینل کی مینجمنٹ کی اجازت اور پروڈیوسر/ڈائریکٹر کی مرضی سے ہی چلایا گیا ہوگا۔ اگر چینل اور ججز کی پالیسی میں ایسے گانے نہیں تھے تو ایسا گانا منتخب کیوں ہوا اور اس پر پرفارمنس کیسے ہو گئی، یہ ایک ایسا سوال ہے جو حمزہ عباسی کی تنقید کے بعد ججز اور انتظامیہ کے کردار کو مشکوک بناتا ہے کیونکہ شو میں حصہ لینے والی بچی اور گانا تو پہلے سے ہی فائنل کیا جا چکا ہوتا ہے تو پھر پرفارمنس کی بعد ایسی دوغلی پالیسی کیوں ؟
    امید ہے کہ چینل انتظامیہ اور حمزہ علی عباسی اس کی وضاحت ضرور دیں گے۔

     

     

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں