Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • دور حاضر کے مسائل اور علماءکرام کے احسانات…از…, بنت طاہر قریشی

    دور حاضر کے مسائل اور علماءکرام کے احسانات

    علماءکرام امت مسلمہ کے لئے اللہ رب العزت کا نہایت ہی عظیم انعام ہیں۔
    ہر دور میں یہی رجال عظیم تھے جنہوں نے امت مسلمہ کی راہنمائی اور انکو راہ راست پر رکھنے کا مقدس فریضہ انجام دیا اور اب اس دور پر فتن اور پرآشوب میں بھی تمام مخالفتوں، تمام دشنام طرازیوں اور باطل فرقوں کی مسلسل سازشوں کے باوجود بھی اپنے اس مقدس فریضے کی انجام دہی میں صرف رضائے الہی کے خاطر ہمہ تن مشغول ہیں۔
    حضورﷺ کے بعد دین کی ترویج اور دین اسلام کے تمام احکامات کو اصل حالت میں برقرار رکھنے اور اس امانت کو ہم تک بالکل صحیح صحیح پہنچانے کا سبب بھی یہی علمائے کرام ہیں۔
    تصور تو کیجئے ۔۔۔!
    اگر ہمارے علمائے کرام بھی بنی اسرائیل کے اکثر علماءکی طرح دولت کے لالچ میں گرفتار ہوجاتے اور اللہ رب العزت کے صریح احکامات میں اپنی من پسند تحریفات کرتے تو کیا آج ہمارے پاس اتنا کامل اور مکمل دین ہوتا؟ یقینا آپکا جواب “نہیں”ہوگا اور ہونا بھی چاہئیے۔
    امت محمدیہ ﷺ پر اس امت کے علماء حق کا احسان عظیم ہے کہ انہوں نے اپنی گردنیں تو کٹادیں، قیدوبند کی صعوبتیں تو برداشت کرلیں مگر دین اسلام کے کسی صریح حکم میں کوئی تبدیلی یا تحریف نہ ہونے دی۔
    امام احمد بن حنبل ؒ کی مثال لیجئے “عقیدہ خلق قرآن” جیسے کتنے بڑے اور عظیم فتنے کے سامنے تن تنہا سینہ سپر ہوگئے، اذیت ناک قید کاٹی، سرعام کوڑے لگائے جاتے، کمر سے خون کے فوارے جاری ہوجاتے، مگر حق سے ایک انچ سرکنے پر آمادہ نہ ہوئے آپکی اسی لازوال قربانی کی وجہ سے امت مسلمہ ایک عظیم فتنے سے محفوظ ہوئی۔
    زیادہ دور نہ جائیں، وطن عزیز کے علمائے کرام کی ہی مثال لیجئے، تخم برطانیہ کے ناجائز خودکاشت پودے ” قادیانیوں”نے وطن عزیز میں اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کرنی چاہی، بڑی ہی مکاری اور چالاکی سے خود کو مسلمان ثابت کرنا چاہا مگر علمائے کرام نے انکے مذموم اور ناپاک عزائم کو کامیاب نا ہونے دیا، ملک گیر تحریکیں چلائی گئیں، قادیانیوں کے دونوں گروہوں کو پارلیمنٹ میں ہونے والے مناظرے میں عبرتناک شکست دی اور بالآخر کئی سالوں کی جدوجہد کے بعد قادیانیوں کو نا صرف غیر مسلم قرار دلوایا بلکہ پاکستان میں انکی تمام مذہبی سرگرمیوں پر پابندی لگاکر انکی اہم عہدوں اور اداروں میں تعیناتی ختم کردی گئی۔
    اگر اس وقت علماء کرام یہ عظیم کام سرانجام نہ دیتے تو میں حلفیہ کہتی ہوں کہ میرا پاکستان آج ان ناپاک قادیانیوں کے ہاتھوں کا کھلونا ہوتا۔
    تو میرے عزیزو! علماء کی قدر کیجیے، ان کو طنزو تشنیع کا نشانہ نہ بنائیے، اپنے دل سے علماء کرام کا بغض ختم کیجئے۔
    اللہ کے رسولﷺ کا فرمان ہے:
    “جب میری امت اپنے علماء سے بغض رکھنے لگے گی اور بازاروں کی عمارتوں کو بلند اور غالب کرنے لگے گی تو اللہ تبارک وتعالیٰ ان پر چار قسم کے عذاب مسلط فرمادیں گے۔
    ①قحط سالی ہوگی
    ②حاکم وقت کی طرف سے مظالم ہوں گے۔
    ③حکام خیانت کرنے لگیں گے۔
    ④دشمنوں کے پےدرپے حملے ہوں گے (حاکم) “
    غور کیجئے ان میں کونسا ایسا عذاب ہے جو آج امت مسلمہ پر مسلط نہیں ہے؟
    لیکن اسکے باوجود ہم اُن افعال پر تائب نہیں ہورہے، جو ان عذابات کا موجب ہیں۔
    ایک اور حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے:
    “جس نے کسی عالم کو ایذاء دی اس نے اللہ کے نبیﷺ کو ایذاء دی”
    اسلئے خدارا!
    علماء سے نفرت و عداوت ختم کیجئے، ان سے عقیدت و محبت کا تعلق استوار کیجئے، یہ محبت اور تعلق دنیا میں تو سود مند ہوگا ہی، ان شاءاللہ آخرت میں بھی “ألمرء مع أحب”کے مصداق علماء کرام کی ہم نشینی کے شرف عظیم کے حصول کا باعث بن جائے گا۔
    از قلم:
    عائشہ طاہر

  • ریڑھ کی ہڈی…از…حامد المجید

    ریڑھ کی ہڈی
    باد سحر کے ٹھنڈے جھونکے اس کے دل میں مرجھائے سکون کے گلوں کو تازہ دم کرنے کی سعی میں تھے۔۔۔
    مگر حیدر کے دل پہ چھائی بے چینی بڑھتی ہی جارہی تھی۔۔
    "کیا! میری بات اثر کرے گی یا وہ ویسا ہی رہے گا۔۔۔اگر وہ نہ سمجھا تو” پریشانی و اداسی نے اس کے وجود پہ مکمل طور پہ قبضہ جما لیا تھا۔۔
    چند دن پہلے سوچ کے جو پنچھی خیالات کی شاخوں پہ اٹکھیلیاں کررہے تھے اب سہمے بیٹھے تھے۔۔۔
    "خیال” اسے اپنے ساتھ پھر اسی جگہ لے گیا جہاں سے بے چینی کا آغاز ہوا تھا۔۔۔۔
    صفوان سے حیدر کی ملاقات کل یونیورسٹی سے واپس آتے ہوئے بس میں ہوئی تھی۔۔
    حیدر کے ساتھ بیٹھتے ہی اس نے ایسے سلام کیا جیسے وہ بہت عرصے سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں۔۔۔
    حیدر نے اس کے سلام کا جواب دیتے ہوئے ایک سرسری سی نظر اس کے چہرے پہ ڈالی جہاں اطمینان کے بادل سایہ فگن تھے وہ اپنی توجہ ہٹانا چاہتا تھا پر نظریں اس کے چہرے پہ رک گئیں۔۔
    صفوان بیگ جھولی میں رکھ کہ اب موبائل پہ مشغول ہوگیا تھا۔۔۔
    اس کی انگلیاں بڑی تیزی سے موبائل کی پیڈ پہ رقص کناں تھیں اور چہرے پہ ہلکی ہلکی مسکراہٹ پھیل رہی تھی۔۔۔
    "کیا کرتے ہیں آپ!” صفوان نے ایک نظر حیدر پہ ڈالتے ہوئے پوچھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
    "میں ماسٹرز کررہا ہوں” واااہ پھر تو ہم دونوں کی ایک ہی منزل ہے صفوان نے کہا اور پھر موبائل کی طرف متوجہ ہوگیاا۔۔۔
    کافی دیر دیکھنے کے بعد حیدر نے حیرت سے اسے پوچھا "کیا لکھ رہے ہیں آپ؟”
    "میں تحریر لکھ رہا ہوں” صفوان نے جواب دیا۔۔
    اچھا تو آپ ماشاءاللہ لکھاری ہیں۔۔
    جی میں سوشل میڈیا کی دنیا کا ایک اچھا لکھاری ہوں۔۔
    "واااااہ کیا ہم آپ کی تحریر سے مستفید ہوسکتے ہیں”۔
    "جی کیوں نہیں! صفوان نے اپنا موبائل حیدر کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔
    "آپ واقعی ہی اچھے قلمکار ہیں اور خوب لکھتے ہیں پر مجھے آپکی یہ تحریر پسند نہیں آئی” حیدر نے کچھ دیر پڑھنے کے بعد کہا۔۔
    صفوان کے چہرے سے اطمینان اچانک سے غائب ہوگیا۔۔
    اچھا تو اپ کو اس میں کیا کمی لگی۔
    "چلیں بتائیں تو میری تحریر کی کون سی بات آپکو پسند نہیں آئی”۔۔
    صفوان نے بڑے تحمل سے پوچھا۔۔
    بھائی اصل میں بات یہ ہے کہ جو ہمارے محافظ ہیں ہمیں ان کا پشت بان بننا چاہیے نا کہ کسی کی باتوں میں آکہ ان کی پشت میں چھرا گھوپنا چاہیے۔۔
    حیدر نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔۔
    "میں آپ کی بات سمجھا نہیں آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں”۔۔
    آپ کی تحریر میں بجائے دشمن عناصر کو نشانہ بنانے کے محافظوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔۔
    صفوان نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا تو پھر اس میں کوئی جھوٹ تو نہیں ہے اور تخلیق کار سچ ہی لکھتا ہے اور اسے لکھنے میں بالکل نہیں گھبراتا۔۔
    تو آپ سچ لکھیں نا لوگوں کی باتوں میں آ کہ اپنے قلم و قرطاس کو بے مقصد نہ بنائیں۔۔
    حیدر کی باتوں سے اس کے ماتھے پہ سلوٹیں ابھر آئی تھیں” تو آپ کہنا کیا چاہتے ہیں”
    "گرمیوں کی تپتی دوپہر اور سردیوں کی یخ بستہ راتوں میں سرحد پہ کھڑا محافظ ہمہ تن ہماری حفاظت پہ مامور ہے اور ہم انہی کے ہی دشمن بنے ہوئے ہیں آپ ایک اچھے تخلیق کار ہیں اور تب تک ہی اچھے ہیں جب آپ اچھائی اور بُرائی کی تمیز کرتے ہوئے لکھیں گے”
    حیدر کی باتیں اس کے دل میں کچھ روشنی پھیلا رہی تھی۔۔
    "آپ اپنے قلم کا سہی استعمال کریں”
    حیدر نے چہرے پہ مسکان سجائے اسے بڑے پیار سے کہا۔۔
    صفوان ابھی کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ موبائل کی رنگ ٹون بجنے لگی اس نے فون کان کے ساتھ لگایا اور حیدر کو کچھ اشارہ کرنے لگا حیدر نے اسے اپنا موبائل تھمایا جس پہ اس نے نمبر لکھا اور حیدر کو واپس پکڑا دیا۔۔۔
    صفوان اب اترنے کی تیاری کر رہا تھا شاید اس کا سٹاپ آگیا تھا حیدر کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس نے سلام کیا اور آگے بڑھ گیا۔۔
    حیدر کی نظریں اسی کے پیچھے تھی اور دیکھتے دیکھتے وہ منظر سے غائب ہوگیا۔۔
    حیدر نے موبائل پہ لکھا ہوا نمبر سیو کیا اور اسے میسج کردیا "آپ کے جواب کا انتظار رہے گا”۔۔
    گھر پہنچنے کے بعد بھی وہ اس کے رپلائی کا انتظار کرتا رہا پر کوئی پیغام موصول نہیں ہوا۔۔
    وہ اب بھی صبح سے صحن میں بیٹھے بے چینی کا شکار تھا کہ اچانک موبائل کی ٹیون بجی اس نے جیسے ہی دیکھا ساری کی ساری بے چینی کافور ہوگئی اس کے خیالات کے سہمے پنچھی پھر سے اٹکھیلیاں کرنے لگے۔۔۔۔
    اسے پڑھ کہ خوشی ہوئی کہ ایک قلمکار کی اصلاح ہوئی۔۔
    "میں ریڑھ کی ہڈی بنوں گا نہ کہ کسی کے ہاتھوں کا کھلونا”

    ریڑھ کی ہڈی…از…حامد المجید

  • آج کا انسان…… از….نعیم شہزاد

    آج کا انسان

    آج جب زندگی تیز ہو چکی ہے اور لوگوں کے پاس ایک دوسرے کے لئے وقت نہیں رہا تو مجھے اقبال کا یہ شعر یاد آتا ہے

    ہے دل کیلئے موت مشینوں کی حکومت
    احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات

    بچپن میں صرف فیکٹری کی مشینوں اور آلات کا تصور تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھ پر یہ بات عیاں ہوئی کہ چھوٹی سے چھوٹی چیز جیساکہ موبائل فون کا تعلق بھی ایسے ہی آلات سے ہے جو انسان کو ایک دوسرے سے دور لے جا رہے ہیں آج اگر کسی کا انتقال ہو جائے تو ہم محض چند لمحات کے لیے ظاہری طور پر سوگوار نظر آتے ہیں اور بعد میں پھر وہی زندگی کے اشغال میں مصروف، ایسا کیوں ہے؟

    اگر ہم کسی کے جنازے میں جاتے ہیں تو وہ بھی صرف اظہار تعزیت کے لیے لئے نہ کہ خوشنودی رب کے لیے؟ آج ہم لوگ ایک دوسرے سے دور کیوں ہو رہے ہیں ؟ حالانکہ اسلامی معاشرہ تو وہ ہے کہ جس کے متعلق اقبال رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں

    اخوت اس کو کہتے ہیں چبھے کانٹا جو کابل میں تو ہندوستان کا ہر پیرو جواں بے تاب ہو جائے

    آج ہم اس شعر کا مصداق کیوں نہیں ہیں ؟ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ہم دین محمدی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے دور ہوتے جارہے ہیں ہم کیوں نہیں قرآن و حدیث پر عمل کرتے؟ تو اس کا جواب ہے ٹیکنالوجی پر وقت کا ضیاں!
    جی ہاں بہت سے لوگ میری اس بات کو پر توجہ نہیں دیں گے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ہم موبائل فون ٹیلی ویژن کمپیوٹر اور اس طرح کی دیگر چیزوں میں اتنا مصروف ہو چکے ہیں کہ ہمارے پاس ماں باپ بہن بھائی اور دوست جیسے عظیم رشتوں کے لیے کوئی وقت بچا ہی نہیں آج اگر دوستی کی بات کی جائے تو لوگ اپنے مفادات کی خاطر دوسروں کو دھوکا دینے میں مصروف ہیں

    میں خود لپٹ گیا تھا جسے دوست جان کر
    وہ سانپ کی طرح مجھے ڈستا چلا گیا

    اب یہ بات بھی نہیں کی ان چیزوں کا استعمال سرے سے ہی غلط ہے لیکن

    Excess of everything is bad.

    یعنی ایک حد تک ان کا استعمال درست ہے مگر جب ہم اس حد کو پار کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں ایسے نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی تلافی بہت مشکل ہوتی ہے اور بعض اوقات ناممکن ہمیں اس بات کا ادراق یونا چاہئیے
    قارئین کرام ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نوجوان نسل کو یہ بات سمجھائیں تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو اس ناسور سے بچاسکیں۔

    انداز بیاں گر چہ بہت شوخ نہیں ہے
    شاید کہ اتر جائے ترے دل میں میری بات

    آج کا انسان…… از….نعیم شہزاد

  • "افواج پاکستان عوام کی محافظ یا چوکیدار” تحریر: غنی محمود قصوری

    "افواج پاکستان عوام کی محافظ یا چوکیدار” تحریر: غنی محمود قصوری

    ہماری ہاں فوج مخالف لوگوں کی طرف سے فوج پر ایک جملہ ،چوکیدار بہت کسا جاتا ہے جب کسی کو کوئی دلیل نا ملے تو فوری جملہ داغتا ہے کہ جی فوج تو چوکیدار ہے فوج کا کیا کام ملکی معاملات اور سیاست میں سب سے پہلے تو میں ان لوگوں کو بتاءونگا گا کہ چوکیدار کو جو تنخواہ دی جاتی ہے وی اپنی آمدن سے بلکل کم دی جاتی ہے جیسا کہ آجکل ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر 15000 سے 30000 ہزار روپیہ چوکیدار کو دیا جاتا ہے جبکہ آپ کی آمدن اور بچت لاکھوں روپیہ ہوتی ہے مگر حیرت ہے فوج کو چوکیدار کہنے والوں پر کہ ایک طرف تو اسے چوکیدار کہہ رہے ہوتے ہیں مگر دوسری جانب اسی چوکیدار کی شکایت بھی کرتے ہیں کہ 80 فیصد ہماری فوج یعنی چوکیدار کھا رہا ہے اب بھلا کوئی ذی ہوش شحض خیسے مان سکتا ہے کہ کوئی ہو بھی چوکیدار اور آپ کی آمدن کا 80 فیصد بطور تنخواہ بھی لے رہا ہو یقینا یہ بہت کم عقلی والی بات ہے جوکہ ہماری تمام سیاسی پارٹیوں کی طرف سے بطور افواہ پھلائی گئی ہے آپ اس سال بجٹ کا ریکارڈ چیک کر لیں تو آنکھیں کھل جائینگی کہ فوج کتنے فیصد لے رہی ہے
    حالانکہ بجٹ میں ہر ادارے اور صوبے کو ملنے والی رقم کا حساب ہوتا ہے مگر پھر بھی لوگ بجٹ کی جمع تفریق نہیں کرتے بلکہ رٹی رٹائی باتیں ازبر کرتے چلے جاتے ہیں یقینا اس قسم کی باتیں کرنے والے لوگ حد درجہ جھوٹے ہیں جن کی اپنی بات میں بھی وزن نہیں جو 80 فیصد کا بہتان لگا کر چوکیدار کا لقب دے رہے ہیں اور ان کی بجٹ کی جمع تفریق سے ثابت ہوا کہ وہ جھوٹے ہیں اور جھوٹے لوگ کسی کو چوکیدار کہیں یاں کچھ اور ان کی بات مانی نہیں جا سکتی
    یقینا فوج بھی دوسرے اداروں کی طرح ایک ادارہ ہے اور اس کے اندر بھی انسان ہی ہیں اور انسان خطا کا پتلا ہے میں کوئی مقدس گائے نہیں مانتا فوج کو مگر دنیا جانتی ہے فوج اور سول اداروں کی سزاءوں کو جب کوئی سول ادارے کا اہلکار غلطی کرتے پکڑا جاتا ہے اسے معطل کر دیا جاتا ہے مگر فوج میں ایسا نہیں غلطی ثابت ہونے پر کورٹ مارشل کر دیا جاتا ہے پینشن جی پی فنڈ ختم ہونے کیساتھ پوری زندگی کورٹ مارشل شد فوجی کوئی بھی سرکاری نوکری نہیں کر سکتا اور جب تک کورٹ مارشل مکمل نا ہو جیل سے چھٹی نہیں ملتی جبکہ سول اداروں کے لوگ ضمانت اور قبل از ضمانت کروا لیتے ہیں
    اس کے علاوہ مذید کہتے ہیں کہ جی فوج کرتی کیا ہے مفت کی تنخواہ لیتی ہے تو ان سے میرے چند سوال ہیں کہ 1948 میں آزاد کشمیر کو ہندو کے چنگل سے اپنے غیور قبائلیوں کیساتھ مل کر کس نے آزاد کروایا تھا فوج نے یاں کسی سیاستدان نے ؟
    1965 کی پاک بھارت جنگ میں دشمن کو ناکو چنے کس نے چبوائے اور ملک کا دفاع کس نے کیا تھا فوج نے یاں کسی غیرت مند سیاستدان نے ؟
    1967 اور پھر 1973 کی عرب اسرائیل جنگ میں جب سارے عرب ملک عملی طور پر اسرائیل کے قبضے میں چلے گئے تھے اور پوری دنیا اسرائیل کو سپر پاور تسلیم کرنے کے قریب تھی تب اس وقت پاکستانی ائیر فورس نے تل ابیب کا خاک غرور میں ملایا پاک ائیر فورس کے جوانوں نے اپنی جانیں تو دے دیں مگر اسرائیل کا ایٹمی پاور پلانٹ تباہ کرکے تمام عرب ملکوں کو اسرائیل کے قبضے سے آزاد کروایا تو اس وقت کونسا غیرت مند سیاستدان پاکستان سے جنگی جہاز اڑا کے تل ابیب کو تباہ کرنے گیا تھا؟
    1971 میں انڈیا کیساتھ مل کر اقتدار کی خاطر پاکستان کے دو ٹکڑے کرنے کیلئے مسلح فورس،مکتی باہنی کس نے بنائی تھی اور باوجود اسلحہ کی کمی کی بدولت لڑائی کس نے کی تھی ہندوستانی فوج سے اور پھر دشمن کی قید کس نے کاٹی تھی کیا کوئی سیاستدان انڈین جیلوں میں قید رہا ؟
    1980 کی دہائی میں جب سپر پاوری کی طاقت کے نشے میں چور روس افغانیوں پر چڑھ دوڑا تو اس وقت افغانیوں کو کونسے سیاستدان نے ٹریننگ دی کے تم ہمارے مسلمان بھائی ہو اپنا دفاع کرو ؟
    1999 میں کارگل پر قبضہ کرکے انڈیا کی طرف سے کشمیر جانے والا راستہ پاک فوج نے بند کر دیا جس کے پیش نظر مقبوضہ وادی کشمیر میں ہندوستانی فوج بھوکوں مرنے کے قریب تھی جس کا اقرار خود سابق آرمی چیف ٹی وی پر کر چکا بھلا اس وقت یونائیٹڈ نیشن کے تلوے چاٹنے کوئی فوجی گیا تھا کہ سیاستدان ؟ دنیا جانتی ہے اس وقت کا حکمران یونائیٹڈ نیشن کے حکم کی پیروی نا کرتا تو آج کشمیر بھی آزاد ہوتا بلکہ پاک فوج کے ہزاروں سپاہی اور افسران شہید نا ہوتے بھلا ان قربانیوں میں کونسا سیاستدان جس نے کارگل جا کر گولیاں چلائیں؟
    2001 میں جب امریکہ نے پتھر ئکے دور میں پہنچانے کی دھمکی دی اس وقت افغانستان کی سرحد پر فوج کے علاوہ کونسے سیاستدان نے پہرہ دیا ؟
    2008 میں بمبئی حملے ہوئے انڈیا نے الزام پاکستان پر لگایا مگر وہ اس الزام کو ثابت نا کر سکا مگر ہمارا ہی ایک سیاستدان اٹھا اور شور شروع کر دیا کہ بمبئی حملے آئی ایس آئی اور ایک مذہبی جماعت نے کروائے جس کی پاداش میں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف نے گرے لسٹ میں شامل کر دیا اور آج تک ہم اس کا خمیازہ ہمیں آج بھی بھگتنا پڑ رہا ہے لہذہ سوچئے پھر بولئے ،چوکیدار نہیں محافظ

  • "مسیحاؤں کی غنڈہ گردی اور حکومت کی بے بسی” تحریر: محمد عبداللہ

    جی یہ قوم کے مسیحا ہیں جو گزشتہ ایک مہینے سے قوم کو عذاب میں ڈالے ہوئے ہیں. ہر دوسرے روز سرکاری اسپتالوں کا عملہ بشمول نرسز، خاکروب سڑکیں بلاک کرکے جبکہ ڈاکٹرز آرام سے پرائیویٹ کلینکس میں بیٹھے پیسے چھاپ رہے ہوتے ہیں.ایم ٹی آئی ایکٹ کی نامنظوری اور دیگر چند مطالبات کی منظوری کے لیے ہڑتال کے نام پر سرکاری اسپتالوں کی او پی ڈیز اور یہاں تک کہ ایمرجنسی تک کو بند کرکے خود پرائیویٹ کلینکس میں جا بیٹھتے ہیں اور سرکاری اسپتالوں کا عملہ سڑکوں پر آبیٹھتا ہے. ایک طرف تو ان اسپتالوں میں دور دراز سے آئے ہوئے ہزاروں غریب افراد جو پرائیویٹ علاج افورڈ نہیں کرسکتے وہ بے چارے رل رہے ہوتے ہیں، ڈاکٹرز اور عملے کی منتیں کر رہے ہوتے ہیں جبکہ قوم کے یہ مسیحا فرعون کے لہجے میں رعونت بھری نگاہ ڈال کر گاڑی میں جا بیٹھتے ہیں.
    پولیس کے نظام میں اصلاحات کیوں ضروری ہیں؟ ؟؟ محمد عبداللہ
    ابھی کچھ دن قبل ہی ساہیوال سے ہمارے دوست کہ جن کے والد صاحب لاہور جناح اسپتال میں ایمرجنسی میں وارڈ میں تھے مگر کوئی ڈاکٹر ان کو پوچھنے تک نہ آیا اور وہ ایمرجنسی وارڈ ہی میں اپنی جان ہار گئے. یہ ایک کہانی نہیں ایسی سینکڑوں کہانیاں ہیں کبھی اقتدار کی غلام گردشوں میں بیٹھے لوگ کبھی اپنی اونچی مسندوں سے نیچے اتریں اور آکر دیکھیں کہ کیسے ان کی رعایا صحت و انصاف کے لیے اسپتالوں اور کچہریوں میں رل رہی ہے اور باقی ماندہ سڑکیں بند ہونے اور قوم کے ان مسیحاؤں کی بدمعاشی سے سڑکوں پر لمبی لائنوں میں کھڑی ہے. دور دراز سے محنت مزدوری اور دیگر ضروریات کے لیے لاہور آنے والے اور شہر کے اندر ہی سے کام کاج کے سلسلے میں سفر کرنے والے لوگ جب روزانہ کی بنیاد پر یوں سڑکوں پر ہی خوار ہوتے رہیں گے تو خاک کاروبار ہوگا اور ملکی معیشت چلے گی.

    عورت اور اسلامی معاشرہ ….. محمد عبداللہ
    جس غریب کی ان احتجاجوں کی وجہ سے دیہاڑی نہ لگ سکے اس کا چولہا کیسے جلے گا؟ کیا قوم کے ان مسیحاؤں کو یہ احساس ہے کہ ان کی آئے دن ہڑتالیں کتنے گھروں کے چولہے بجھا دیتی ہیں اور کتنے مجبور اور بے کس باپوں کو بھوک سے بلکتے بچوں کو دیکھنے کی تاب نہ لاتے ہوئے خودکشیوں پر مجبور کردیتی ہیں. کیا ہمارے حکمرانوں کو احساس ہے کہ ان کی گورنس میں کیسے یہ مٹھی بھر طبقہ پورے معاشرے اور قوم کو عذاب میں ڈالے ہوئے ہے؟
    کیوں یہ ہر دوسرے دن سڑکوں پر آن موجود ہوتے ہیں اور ملک و قوم کو عذاب میں مبتلا کردیتے ہیں، سرکاری اسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات کی بندش سے غربت کی چکی میں پستے مریضوں کے لیے سامان مرگ کررہے ہیں. قوم ان مسیحاؤں کی غنڈہ گردی پر حکمرانوں سے سراپا سوال ہیں کہ ان ریاست ان کو کنٹرول کرنے میں ناکام کیوں ہے؟

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ

    محمد عبداللہ کے دیگر مضامین پڑھیے اور انکے بارے میں جانیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • صحت کے شعبے میں قصور وار کون ؟؟  تحریر: غنی محمود قصوری

    صحت کے شعبے میں قصور وار کون ؟؟ تحریر: غنی محمود قصوری

    ملک پاکستان میں صحت کے شعبے میں بڑی لوٹ مار کا بازار گرم ہے جس سے اس شعبہ کی حالت ابتر ہے جس کی دو وجوہات ہیں
    1 ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کی کمی
    2 پیرامیڈیکس کی ذاتی محدود پریکٹس کی ممانعت
    کسی بھی شعبے میں گھر پڑھنے کیساتھ چھوٹا موٹا کاروبار کر کے آپ اپنا روزگار شروع کر سکتے ہیں اور اپنی تعلیم کے اخراجات نکال سکتے ہیں جبکہ ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر بننے کیلئے ایف ایس سی کرنے کے بعد کسی میڈیکل کالج میں داخلہ لینا لازم ہے اور پانچ سال تک کالج اٹینڈ کرنا بھی لازم ہے
    جس کیلئے بڑا سخت میرٹ ہوتا ہے جو طالب علم میرٹ کی بنا پر سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلہ نہیں لے پاتے وہ پھر پرائیویٹ کالجز کا رخ کرتے ہیں کیونکہ وہاں کم نمبروں والے کو بھی آسانی سے داخلہ مل جاتا ہے
    پرائیویٹ کالجز کی پانچ سالہ فیس 50 سے 90 لاکھ ہے جو کہ کوئی غریب پوری زندگی بھر بھی نہیں کما سکتا.
    یوں غریب طالبعلم بچے اپنے حق سے محروم رہ جاتے ہیں
    ہمارے ملک میں ڈسپنسر ایک سالہ کورس کر کے ڈاکٹر کی معاونت کرتا ہے امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی دور دراز علاقوں میں جہاں ڈاکٹرز میسر نہیں وہاں پیرامیڈیکس ڈاکٹرز کی جگہ کام کرتے جبکہ ہمارے ہاں ایک سالہ کورس ڈسپنسر کرنے والا اتائی ڈاکٹر کہلواتا ہے حالانکہ یہی اتائی ہمارے ڈی ایچ کیو،ٹی ایچ کیو،آر ایچ سی اور بی ایچ یو میں ایک ماہر ڈاکٹر کی طرح انجیکشن بھی لگاتے ہیں نسخہ بھی تجویز کرتے ہیں دوائی بھی دیتے ہیں مگر سرکاری ہسپتالوں کے بعد یہی کوالیفائڈ ڈسپنسر اپنے نجی کلینک کھولنے پر اتائی کہلواتے ہیں افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ملک میں پرائس کنٹرول کا کوئی نظام نہیں سرکاری ہسپتال کا ایم بی بی ایس ڈاکٹر اپنے نجی کلینک میں کم از کم فیس 500 روپیہ لے رہا ہے جبکہ سپیشلسٹ ڈاکٹرز کی فیس ہزاروں روپیہ ہے اور دوائی جو میڈیکل سٹور سے خریدنی ہے وہ الگ جبکہ مزدور کی دیہاڑی 700 روپیہ ہے یہی کوالیفائڈ ڈاکٹرز اپنے سرکاری ہسپتالوں میں کسی غریب کی بات سننے کے روادار نہیں ہوتے ایک غریب انسان بخار کی دوائی لینے سرکاری ہسپتال جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ پرچی بنوانے سے اپنی بھاری آنے پر معائنہ کروا کر دوائی حاصل کرنے تک کم از کم ٹائم 3 گھنٹے جبکہ مزدور کی مزدوری کا ٹائم صبح 7 بجے شروع ہو جاتا ہے اور ہمارے ان سرکاری ہسپتالوں کا ٹائم 8 بجے یعنی کہ اگر کوئی 60 سے 70 روپیہ کی دوائی سرکاری ہسپتال سے لینے جائے تو اسے اپنے 700 روپیہ سے ہاتھ دھونے پڑینگے ویسے تو گورنمنٹ کی طرف سے ہر یونین کونسل کی سطح پر ایک بی ایچ یو ہسپتال ہوتا ہے جس میں دفتری اوقات کے بعد بھی ایل ایچ ڈبلیو یعنی لیڈی ہیلتھ ورکر اپنے گھروں میں فرسٹ ایڈ میڈیسن کیساتھ موجود ہوتی ہیں مگر افسوس کہ ان کو بھی صرف پیراسیٹامول ،فولک ایسڈ اور کنڈومز کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملتا جبکہ یہی پیراسیٹامول ہر گھر میں موجود ہوتی ہے
    کچھ عرصہ قبل سٹیرائیڈ اور اینٹی بائیوٹک کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا مگر آج جلد آرام اور اپنے نجی کلینک کی رینکنگ بڑھانے کے علاوہ میڈیکل سٹورز سے کمیشن حاصل کرنے کے چکر میں ہمارے یہ پانچ سالہ تربیت یافتہ ڈاکٹرز ڈبل ٹرپل اینٹی بائیوٹکس میڈیسن تک دینے سے گریز نہیں کرتے اگر کوئی ٹرپل نا بھی دے تو ڈبل تو لازم ہے جیسے کہ انجیکشن میں سیفٹرائیکزون سوڈیم تو لازمی جز ہے جبکہ گولیوں میں ،کو اماکسی سلین،سیفراڈون اور سیفیکزائم وغیرہ بلا ضروت دی جاتی ہے
    ایک جانب تو گورنمنت نے چوروں ڈاکوءوں کے خلاف کریک ڈاون کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ دوسری جانب ان ایم بی بی ایس ڈاکٹرز کی بے جا لوٹ مار بداخلاقی اور ناجائز آمدن پر خاموش بھی ہے بلکہ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی آڑ میں ان کو مذید تحفظ حاصل ہو گیا ہے کیونکہ ڈسپنسر اور دیگر شارٹ ہیلتھ کورسز والے کوئی بھی ذاتی پریکٹس نہیں کر سکتے جس سے بہت سے کوائیک یعنی اتائی کاروبار چھوڑ چکے ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں نے ذاتی طور پر ادویات کا استعمال شروع کر دیا ہے جو کہ سخت حیران کن بات ہے کم ازکم ڈسپنسر ایک سال ہسپتال میں دوران کورس ،ڈرپ ،انجیکشن اور پیشاب کی نالی لگانا سیکھ جانے کے علاوہ بہت سی ادویات بارے پڑھ کر ہسپتال میں عملی طور پر ڈاکٹرز کیساتھ تجربہ بھی حاصل کر چکا ہوتا ہے لہذہ گورنمنٹ کو ان پیرامیڈیکس کے بارے سوچنا ہوگا ورنہ غریب اپنی صحت کا دشمن تو پھر بنا ہی ہے.

  • ہیش ٹیگ می ٹو ، پھیلتا ہوا ناسور—-از— ترانابرکی

    ہیش ٹیگ می ٹو ، پھیلتا ہوا ناسور—-از— ترانابرکی

    ہیش ٹیگ می ٹو کیمپنگ کا ۔آج یو ٹیوب میں می ٹو کے بانی ترانا برکی کا انٹرویو دیکھ رہا تھا ۔انہوں نے بڑے صاف الفاظ میں بتادی کہ یہ ایک مہم ہے جو دنیا بھر میں چل رہا ہے ۔جسکو میں نے 2006میں می ٹو کے نام سے شروع کیا تھا دراصل می ٹو عورتوں پر بے جا زیادتی اور خصوصا جنسی زیادتی کے بارے میں ہے ۔جسکا ریزلٹ اب میں دیکھ پا رہا ہوں۔لیکن ہاں اب اس میں تھوڑی سی تبدیلی آئ ہے پہلے ہیش ٹیگ نہیں تھا اب ہیش ٹیگ لگا کر اس کو اور سنسنی خیز بنا دیا گیا ہے ۔

    ترانا کہ رہی ہیں میں نے اس کیمپنگ کی شروعات اس لئے کی تاکے عورتیں اپنے اوپر ہوئے جنسی زیادتی کو بیان کرے اس زیادتی کے شکار چاہے وہ کبھی بھی ہوئ ہوں یا ابھی ابھی حالیہ کچھ مہنہ سال پہلے اپنے اپنے واقعات کو ہیش ٹیگ می ٹو کرکے شیر کریں ۔اس سے نہ صرف بیداری آئے گی بلکہ آنے والی نسل کو بھی فائدہ ہوگا ۔

    ترانا دراصل ایک امریکی شوشل ورکر ہی نہیں بلکہ ایک تانیثت کے علمبردار بھی ہیں ۔ظاہر ہے ایسے معروف عورت کی باتوں میں لبیک کہنا کوئ بڑی بات نہیں لیکن مزے کی بات یہ ہیکہ دوہزار چھ سے یہ کیمپنگ چل رہی تھی تب می ٹو کے نام سے تھا اور اب ہیش ٹیگ می ٹو کے نام سے ہے۔اس وقت تو کسی نے خاطر خواہ اپنے اوپر ہوئے جنسی زیادتی کے واقعات کو شیر نہیں کیا ۔اور اب جبکہ بارہ سال سے بھی زیادہ کا عرصہ گز گیا ہے تو سبکو اپنی اپنی پرانی باتیں یاد آرہی ہیں ۔بلکہ کچھ لوگوں نے تو اپنے بچپن کی باتوں کو کچھ نے اپنے شروعاتی جوانی کے دنوں کی باتوں کو بھی بغیر ہچکچائے کہ ڈالا ہے ۔

    دیکھئے دراصل ہیش ٹیگ کیمپنگ میں ٹویسٹ اسوقت آیا جب پچھلے سال نومبر دوہزار سترہ میں ہالی ووڈ کے مشہور و معروف فلم شاز شخصیت ہاروی وائنسٹن پر جنسی زیادتی کے الزام لگے ۔ان پر الزام لگانے والی بھی کوئ اور نہں ہالی ووڈ کے ہی مشہور و معروف اداکارہ الیسا میلانے ہی ہیں۔انہوں نے وائنسٹن پر جنسی زیادتی کا الزام لگایا ۔اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ آگ پوری طرح ہالی ووڈ کو اپنے چپٹ میں لے لیا ۔ الیسا کے ٹوئٹ کے بعد کچھ ہی گھنٹہ میں دو لاکھ لوگوں نے ہیش ٹیگ می ٹو کو ری ٹوئٹ کیا اور شام تک پانچ لاکھ مرتبہ لوگونے اس بات کو اپنی ٹوئٹ میں دہرا دیا۔ چوبیس گھنٹہ تک لگ بھگ 4.7ملین لوگوں نے اس مہم کا ساتھ دیا ۔بلکہ حقیقی بات یہ ہیکہ یو ایس کے پینتالیس فیصد لوگوں نے اس ہیش ٹیگ می ٹو کا استعمال کیا وہ بھی صرف شروعات کے چوبیس گھنٹوں میں ۔الیسا کے بعد ہالی ووڈ سے وائنسٹن پر الزامات کے بوچھار لگنے لگے اس لسٹ میں لویتھ مالیٹرو ،کارا ڈیو لین ،این جیلینا جولی ،لیا سیڈ لاس روزانہ ارکوئن اور میرا جیسی نامور اداکاروں نے جنسی زیادتی کی شکایت کر دی ۔

    اس بھنڈا پھوڑ کے بعد بہت سارے لوگوں نے اپنی اپنی پوسٹ گوائیں بہتوں کو اپنی پوزیشن سے معطل ہونا پڑا کتنے لوگ اپنی اپنی عزت کا مٹی پلید کئے اور کتنوں کا بنے بنائے ستارہ دوبارہ گردش کرنے لگا ۔اسی زمانے میں یہ الزام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی لگا یہی وجہ ہیکہ انکو ایک پریس انٹر ویو میں یہ بات کہنی پڑی کہ بہت سارے لوگ اس ہیش ٹیگ می ٹو مہم کو اپنی شہرت کا ذریعہ بنا رہے ہیں بہت سارے لوگ اس مہم سے ناجائز پیسہ کمانا چاہ رہی ہیں۔الغرض موٹے طور پر انہونے کہا ہیش ٹیگ می ٹو مہم ہمارے ملک کے لئے مہلک ہے۔

    ابھی تک یہ سب باتیں یوروپین ممالک پر ہی چل رہی تھی ۔اور مذکورہ واقعات بھی پچھمی ممالک میں ہی ہوئے تھے ۔مگر بات وہیں ختم نہیں ہوئ ۔ترانا اپنے مہم میں لگاتار محنت کرتی رہی اور اب انہوں نے شوشل میڈیا پر اپنی مہم کو بہت تیز کردیا ۔ایک رکاڈ جسکو راینن نے شائع کیا ہے۔عورتیں جو جنسی زیادتی کے خلاف 1998 تک اپنا رپورٹ لکھوائ تھیں ان سب کی تعداد ۔17,7000,000 ہے ۔یاد رہے کہ یہ اس زمانے کی بات ہے جب عورتیں اپنی جنسی زیادتی کی بات کو کسی کو بولنا ہی نہیں چاہتی تھیں ۔اسی رپورٹ میں یہ بھی دیکھایا گیا ہیکہ پچاس فیصد عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی انکے گھر میں یا گھر کے اس پاس ہی ہوتے ہیں ۔اور 82فیصد سیکسول گالیاں برداشت کرنے والی عورتیں ہی ہوتی ہیں وغیرہ وغیرہ ۔

    خیر اسی زمانے میں اپنے ہندوستان کے کچھ بالی ووڈ اداکارئیں بھی ادھر مغربی ممالک میں اپنی زندگی گم نامی کے ساتھ گزار رہی تھیں ان میں ایک نام جمشید پور جھارکھنڈ کے معروف کوئن اور 2004 کے مس انڈیا اوراسی سال کے مس ورلڈ تنوشری دتا کا بھی ہے ۔انکو ہیش ٹیگ می ٹو بہت اچھا لگا ۔اور کود پڑی اس میدان کار زار میں ۔چا ہے اسکا جو بھی مقصد رہا ہو آنا فانا ہندوستان آئ اور بالی ووڈ کے لوگوں کو جگانا شروع کی ۔سب سے پہلے اپنی واقعہ ہیش ٹیگ می ٹو کے ساتھ شروع کی اور بر سر عام کہ ڈالا کہ میرے ساتھ دس سال پہلے نانا پاٹیکر نے جنسی زیادتی کی تھی جسکو اسوقت بھی میں نے اٹھایا تھا لیکن لوگوں نے اس پر دھیان نہیں دیا تھا۔اب اچھا موقع ہے مجھے انصاف ملنا چاہئے ۔

    اب کیا تھا لگ گئ آگ اور ایک دم سے سونامی کی طرح آگ کی لہر چلنے لگی۔کچھ ہی دنوں بعد ایشوریہ ،کاجول ،عامر خان امیتابھ بچن سرکار کے طرف سے اسمرتی ایرانی وغیرہ نے سہمے سہمے اداکارہ تنوشری دتا کا سپورٹ کیا ۔اب اس آگ میں ویکاس بہل،آلوک ناتھ اور کیلاش کھیر سبھاش گھئ ساجد خان وغیرہ کو بھی جلا ڈالا ۔پھر کیا تھا جیسے ہی ان لوگوں کے دامن میں آگ کا چھیٹا پڑا یہ لوگ بڑ بڑھانے لگے ۔اور الٹی سیدھی دلائل دینے لگے ۔

    رکئے ابھی کہانی ختم نہیں ہوئ ہے ابھی کہانی اور ٹوئسٹ باقی بلکہ اب تو آگ کا گولا اور افان مارنے لگا ہے۔اب باری آئ ہندوستانی جرنلسٹوں کی جرنلسٹوں نے سب سے زیادہ جس شخص پر آگ لگائ وہ ہے ایم جے اکبر اکبر صاحب پہلے پرومیننٹ جرنلسٹ تھے اب بہت بڑے سیاست داں ہیں اس کے علاوہ بھی کچھ چند لوگوں پر آگ لگی ہے مگر وہ لوگ بڑے چالو ہیں پانی ساتھ میں رکھتے ہیں آگ لگنے سے پہلے ہی بجھانے کا مادہ خوب جانتے ہیں ۔

    اور ہاں یہ بات الگ ہے کہ ابھی تک کسی پر کوئ خاطر خواہ کاروائ بھی نہیں ہوئ ہے سوائے ہلکا پھلکا نانا پاٹیکر کے۔اور کاروائ شاید نہ بھی ہو کیونکہ پچھلے کئ سال پہلے امیت شاہ بھی ایک لڑکی کے جاسوسی میں بری طرح پھسے تھے اسوقت بہت ہنگامہ بھی ہوا تھا اسلئے بعید نہیں کے ہیش ٹیگ می ٹو کرکے وہ لڑکی بھی اپنی اسٹوری لکھ دے ۔اور پھر سے دوہزار انیس کا بنے بنایا ماحول مکدر ہوجائے ۔اور پرانا قضیہ ایک بار پھر سامنے آجائے اسلئے سرکار اس بات کو زیادہ طول دینا نہیں چائے گی ۔

    ہم لوگ جانتے ہیں فلم انڈسٹری اور جرنلزم دو ایسی انڈسٹری ہے جہاں سیکس کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ہے یہاں تو ہر چیز کی آزادی ہے کھلی چھوٹ ہے زنا نام کی کوئ چیز یہاں ہے ہی نہیں ۔سیکس کرنا بوس وکنار کرنا حتی کہ ایک دوسرے کے بیویوں کا تبادلہ کرنا بھی یہاں آزاد خیالی اور مہذب مانا جاتا ہے ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کو تو یہ لوگ معیوب ہی نہیں سمجھتے پھر یہ ہیش ٹیگ می ٹو کا جلوہ آخر سب کے سر چڑھ کر کیوں بول رہا ہے ۔میرے سمجھ سے پرے ہے ۔کہیں ایسا تو نہیں کے رافیل کے سیاہ دھبا کو چھپانے کے لئے سرکار ہیش ٹیگ کو زیادہ طول دے رہاہے ۔

    پھر یہی سمجھ لیا جائے کہ صدر صاحب ڈولنڈ ٹرمپ جی کی بات صحیح ہےکہ یہ سب نیم فیم اور پیسہ کے لئے کیا جارہا ہے بات قابل غور ضرور ہے۔ دوسری اور آخری بات ہم ہندوستانی کب تک نقل کرینگے کب تک مغرب کو ہی اپنا مائ باپ سمجھیں گے ۔ارے یار ان لوگوں نے ہیش ٹیگ می ٹو شروع کیا ہے دوہزار چھ سے ان کے یہاں چل رہا ہے ۔ان لوگون نے اپنے سوسائٹی اور سماج کے حساب سے می ٹو کو ایجاد کیا ہے ہم کیوں اسکو ڈھوتے پھریں ۔ لیکن حقیقی بات یہ ہے کہ ہم اسی مغربی آزادی کو ہی تو نسوانی آزادی کا ٹیگ دے رکھے ہیں اب ہمیں انکی چیز کو تو فالو کرنا ہی پڑیگا ۔ ایک بات یاد رکھیں ہم آج بھی غلام ہیں غلام لیکن ہم جسمانی غلام نہیں بلکہ ہم ذہنی غلام ہیں ۔اور صاحب آدمی جسمانی غلامی سے تو آزاد ہوجاتا ہے مگر ذہنی غلامی سے کبھی آزاد نہیں ہو سکتا

    ہیش ٹیگ می ٹو ، پھیلتا ہوا ناسور—-از— ترانابرکی

  • خود کشی ایک خوفناک المیہ—-از– جویریہ چوہدری

    خود کشی ایک خوفناک المیہ—-از– جویریہ چوہدری

    زندگی ایک ایسی گراں قدر اور انمول نعمت ہے کہ ہماری کامیابی کا دارومدار اس نعمت سے وابستہ ہے کہ ہم اس زندگی میں کیا کیا خوش رنگ اعمال کی کشیدہ کاری کر گئے۔۔۔؟؟
    زندگی ہر انسان کو پیاری ہوتی ہے ایک کانٹا چبھنا انسان پسند نہیں کرتا تو آخر کیا وجہ ہے کہ اس انتہائی قیمتی زندگی کو انسان اپنے ہاتھوں سے ختم کر ڈالے۔۔۔۔؟؟؟
    یہ ایک خوفناک المیہ ہے جو بتدریج ہمارے معاشرے میں سرایت کرتا جا رہا ہے اور ہر روز ہمارے اخبارات کی خبریں صبح صبح ہی دل افسردہ کرنا شروع کر دیتی ہیں۔۔۔۔
    اس بات کا پتہ چلانا بہت ضروری ہے کہ انسان اپنی جان کا دشمن کیوں بن جاتا ہے؟
    یہ عمل تشدد،عدم برداشت اور ضمیر مردہ ہو جانے کا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔۔۔
    اور اسے ہی خود کشی کہا جاتا ہے۔۔۔۔
    یعنی اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ۔۔۔
    چاہے وہ گلے میں پھندا ڈال کر ہو۔۔۔۔۔یا۔۔۔۔زہر کا پیالہ پی کر۔۔۔
    آگ سے خود کو جلا لینا ہو یا پانی میں کود جانا۔۔۔۔
    اپنے ہی پسٹل یا ہتھیار کو خود پر تان لینا ہو یا کسی بلند عمارت سے زندگی کے خاتمہ کے لیئے چھلانگ لگا دینا ہو۔۔۔۔
    یہ تمام پہلو انتہائی تکلیف دہ ہیں اور کسی بھی معاشرے میں افسردگی کی بڑھتی شرح کا واضح بڑھتا گراف بھی۔۔۔۔
    غیر مسلم ممالک میں خود کشی کا رجحان بہت زیادہ ہے اور وہ اس زندگی کے خاتمہ کو دکھ سے نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔۔۔۔لیکن اسلام ایک انسانیت پرور دین ہے۔۔۔۔سلامتی وسکون کا دین ہے۔۔۔۔محبت و اخوت کا دین ہے۔۔۔
    جو ایک انسان کی جان بچانے کو پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف سمجھتا ہے۔۔۔
    اور ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل قرار دے وہ اپنے ماننے والوں کو اپنی ہی جان سے کھیلنے کی تعلیم کیسے دے سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ اللّٰہ تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں:
    "ولا تقتلو انفسکم۔۔۔۔(النسآ :29)
    مفسرین کے نزدیک اس آیت میں تین مطالبے ہیں۔۔۔
    خود کشی کا ارتکاب نہ کرنا۔۔۔
    معصیت کا ارتکاب کر کے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالنا۔۔۔
    کسی مسلمان کی جان نہ لینا۔۔۔
    کہ یہ سب کبیرہ گناہ ہیں۔۔۔۔
    مگر افسوس کہ آج ہم نے اپنی روح افزا تعلیمات کو پسِ پشت ڈال کر فلمی سین آزمانے کو اپنی زندگی کا حاصل بنا لیا ہے۔۔۔
    پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "جو شخص اپنا گلا گھونٹ کر مارے وہ دوزخ میں بھی ایسا ہی کرتا رہے گا اور جو خود کو کسی ہتھیار سے مار ڈالے،وہ دوزخ میں بھی خود کو ایسے ہی مارتا رہے گا۔”
    (صحیح بخاری)۔
    یعنی ہمارا دین خود کشی کو ایک حرام فعل کہہ کر اپنے دامن کو اس کی آلودگی سے پاک صاف رکھنے کا حکم دیتا ہے۔۔۔ !!!!
    یعنی کتنے گھاٹے کا سودا ہے کہ محض چند منفی جذبات کا شکار ہو کر انسان خود کو ابدی خسارے میں مبتلا کر دے؟؟؟
    کسی ایک خواہش کے پورا نہ ہونے پر زندگی کے انمول ہیرے کو ریزہ ریزہ کر ڈالے۔۔۔؟

    آج ہمارے اندر خود کشی بڑھنے کی وجوہات کون سی ہیں ؟
    ہم ان پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے چلیں کہ
    جب انسان اللّٰہ کی رحمت سے مایوس ہو جاتا ہے۔۔۔
    تو وہ ایسی حرکت کا ارتکاب کرتا ہے۔۔۔جبکہ وہ اپنی رحمت سے نا امید ہو جانے والوں کو خسارہ پانے والے کہتا ہے اور فرماتا ہے
    لا تقنطو من رحمۃ اللہ۔۔۔۔(الزمر)۔
    انسان جب قضا و قدر کے بارے میں بے یقینی کی صورتحال سے دوچار ہوتا ہے تو وہ اس فعل کا ارتکاب کرتا ہے۔۔۔۔
    حالانکہ اس کا نظام مبنی بر انصاف ہے اور جو شخص جس قابل ہے اسے اس کی نعمتیں مل رہی ہیں۔۔۔۔
    مال و دولت کی کمی پر بھی کئی انسان دل برداشتہ ہو کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں۔۔۔
    جبکہ ہمارا دین مشکلات کو صبر سے برداشت کرنے اور عسر کے بعد یسر کی دلنشین اور امید بھری تعلیم دیتا ہے۔۔۔۔
    یہ دنیا کا سرکل ہے جو چلتا رہتا ہے۔۔۔۔کبھی خوشحالی،کبھی تنگدستی لیکن اس سلسلے میں اپنی زندگی کا خاتمہ کر لینا انتہائی منفی سوچ اور خود کو شدید نا امیدی کی کیفیت میں چھوڑ دینا ہے۔۔۔۔
    کیونکہ انسان کسی نفسیاتی دباؤ اور خواہش نفسانی کے تحت ہی خود کشی کرتا ہے۔
    غیر اللہ سے تعلق جوڑنا بھی انسان کو مایوسی میں مبتلا اور خود کشی پر آمادہ کرتا ہے۔۔۔۔
    اسی طرح جعلی عاملوں کی من گھڑت باتوں پر یقین کر لینا اور خود کو بس بد قسمت ہی تصور کرتے رہنا۔۔۔ !!!!
    حقوق العباد کی پامالی بھی انسان کو منفی دباؤ میں دھکیل دیتی ہے اور وہ تنگ دل ہو جاتا ہے۔
    معاشرتی و سماجی رویوں کی نا ہمواری بھی انسانوں کو مایوس کرتی ہے۔۔۔اور وہ اپنے سے روا رکھے جانے والے سلوک سے ہار کر خود کشی کر لیتے ہیں۔
    چھوٹے چھوٹے مسائل کو ذہن پر سوار کر لینا۔۔۔
    کبھی عشق میں ناکامی اور کبھی امتحان میں ناکامی پر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھنا۔۔۔
    کبھی شوہر کی ڈانٹ پر بیوی اور کبھی بیوی کی ناراضگی پر شوہر کا اپنی زندگی کا خاتمہ۔
    والدین کی تنبیہہ پر اولاد کی خود کشیاں اور سسکتی اولاد کے والدین کی خود کشیاں۔۔۔۔
    یہ سب معاشرتی المیے ہیں۔۔۔
    دنیا کے سبھی مذاہب کی تعلیم میں خود کشی کی ممانعت ہے مگر سب مذاہب کے پیروکار اس سے نجات بھی نہیں پا رہے تو کوئی وجہ تو ہے جسے ہم اپنی زندگیوں سے خارج کر دیتے ہیں۔۔۔؟
    سب سے پہلے والدین کو چاہیئے کہ گھر کے ماحول میں ایسی تربیت اور انداز شامل کریں کہ جس سے بچوں کی نفسیات پر منفی اثرات مرتب نہ ہونے پائیں۔۔۔
    ان کی جائز اور شرعی حقوق کا دفاع کیا جائے اور مقدور بھر مسائل کو اپنی ذمہ داری میں حل کرنے کی کوشش کی جائے۔۔۔
    ان کی پریشانیوں کو سمجھا اور سنا جائے۔۔۔۔ان کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی جائے۔
    کیونکہ آجکل ٹین ایجرز میں یہ رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔۔۔۔
    منفی خیالات اور رویوں کا خاتمہ۔۔۔وہ چاہے گھر ہوں یا ادارے،
    میڈیا ہو یا ایوان۔۔۔۔
    مثبت سوچ اور اندازِ فکر کو فروغ دینے والی سرگرمیوں کا اجراء۔

    منفی خیالات اور اسباق پر مشتمل چیزوں کی تشہیر کی ممانعت ہو۔

    خود کشی کے رجحان کو کم کرنے کے لیئے معاشی نا ہمواریوں کے خاتمے کے اقدامات کیئے جائیں۔

    صاحب حیثیت افراد اپنے ارد گرد کے مستحقین پر نظر اور خیال رکھیں۔۔۔۔اپنی ذات کے خول سے باہر نکل کر بھی سوچیں اور دیکھیں۔۔۔تاکہ معاشرہ میں مثبت رویوں کو فروغ ملے۔۔۔۔ہمدردی و غمگساری کے جذبات پیدا کیئے جائیں۔

    اسلامی تعلیمات کو عام کیا جائے۔
    تعلیمی اداروں میں میں نوجوانوں کے زہن صاف کیئے جائیں اور انہیں بتایا جائے کہ خود کشی مسائل کا حل نہیں بلکہ دائمی عذاب ہے۔۔۔۔ایسی سوچ اور سرگرمیوں پر قابو پایا جائے جو تعلیمی اداروں میں بھی خود کشی کی وجہ بنتی ہیں۔۔۔اور اسے سب جانتے ہیں۔۔۔۔
    خواتین کے لیئے ہر جگہ عزت و احترام والے جذبات کی تعلیم و تربیت کو عام کیا جائے۔۔۔ !!!

    مضبوط عزائم اور ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھنے کا جذبہ بیدار کیا جائے۔۔۔
    راستے کی مشکلات کو کاٹنے اور ان پر قابو پانے کے گُر اور متبادل راستوں کی طرف راہ نمائی کی جائے۔۔۔۔تاکہ سوسائٹی سے مایوسی،ناشکری اور پست ہمتی کا تدارک کیا جا سکے اور جسمانی و روحانی طور پر ایک مضبوط قوم تیار ہو،
    اور خوب صورت زندگیوں کا زیاں نہ ہو۔۔۔۔ !!!آمین۔

    خود کشی ایک خوفناک المیہ
    بقلم:(جویریہ چوہدری)۔

  • کیسی بیماری کہ اجر بھی نہیں۔۔۔؟؟؟— از جویریہ چوہدری

    کیسی بیماری کہ اجر بھی نہیں۔۔۔؟؟؟— از جویریہ چوہدری

    قارئین!
    ایک بندہ مومن کے لیئے اللّٰہ تعالی نے ہر تکلیف،پریشانی اور بیماری پر اجر رکھا ہے یہاں تک کہ اسے کانٹا بھی چبھے تو اس پر بھی اجر ہے۔
    مگر یہ کیسی بیماری ہے کہ انسان اپنے آپ کو کھپا دے،گھلا دے مگر اجر بھی نہیں۔۔۔؟؟؟
    کون سی ہے وہ بیماری؟
    جی وہ بیماری ہے حسد کی۔۔۔!!!!
    حسد کی بیماری ایک ایسی قدیم بیماری ہے جو جسم کو تیزاب کی طرح راکھ کر دیتی ہے،ڈیپریشن کا مریض بنا دیتی ہے،روگ لگا دیتی اور حسنات چھین لیتی ہے،

    پرائم منسٹر مرغی پال اسکیم کا باقاعدہ آغاز، قرعہ اندازی کی گئی

    سکون معدوم،
    خوشیاں مفقود کردیتی ہے۔۔۔
    حاسد ہمیشہ محسود سے زوالِ نعمت کا متمنی رہتا ہے اور پھر بے سکونی،عدم برداشت،رنج وکدورت،بے مقصد زندگی معمول بن جاتے ہیں۔
    کوئی فلاں کے پاس بیٹھا کیوں؟
    فلاں سے بولا کیوں؟
    فلاں کے ہاں کیوں گیا وغیرہ۔۔۔
    اور یوں حسد کرنے والا سب سے پہلے خود کو ہی مار دیتا ہے۔۔۔ !
    ڈاکٹر کارل مانینگز ایک نفسیاتی معالج کا کہنا ہے کہ:
    "ڈاکٹر مانینگز تمہیں اضطراب سے بچنے کے قواعد نہیں بتائے گا بلکہ ایک وحشت ناک رپورٹ دے گا کہ کیسے ہم اپنے جسموں اور عقلوں کو قلق و اضطراب،حسد،خوف اور تحقیر جیسی آفتوں سے توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔
    حاسد کی مصیبت یہ ہوتی ہے کہ وہ رب کے انصاف پر شک کرتا ہے،وہ خود کو عبث تھکاتا ہے،خون جلا کر،نیند اُڑا کر خود کو تباہ کرتا ہے،
    گھر ہو یا دفتر،
    سکول ہوں یا ہسپتال،
    جامعات ہوں یا مدارس،

    4 نئی ٹیکنیکل یونیورسٹیز کے قیام کا اعلان، تبدیلی آگئی

    حسد سے بندہ تب ہی محفوظ رہ سکتا ہے جب وہ "جیسا اور جسطرح "ہر حال میں الحمدللہ کی کیفیت کو اپنا لیتا ہے۔۔۔
    اپنی صورت،لباس،گھر،روزگار،آسائشات کو من و عن تسلیم کر لینے پر آمادہ ہو،
    اللّٰہ کی تقسیم پر راضی اور مطمئن ہو۔
    کسی کے گھر،گاڑی،یا سہولیات پر نظر ہی نہ ہو۔۔۔۔
    کہ یہ دنیا بہت عارضی اور ناپائدار ہے۔۔۔تو غم کیسا؟
    یہاں بہت کچھ ادھورا رہ جاتا،اگر یہ سمٹ کر ایک انسان کے پاس بھی آ جائے تو بالآخر فنا ہی اس کا مقدر ہے۔
    یوں سوچئے کہ بس میرے پاس جو کچھ بھی ہے،اللّٰہ نے مجھے جس قابل سمجھا اور دیا بس پرفیکٹ ہے۔۔۔ !!!
    مجھے دنیا والوں سے کچھ نہیں لینا اور کچھ نہیں سوچنا۔۔۔۔
    ذرا دیکھیئے!
    صحابہ کرام کا دور بلاشبہ دنیا کا بہترین دور تھا اور قیامت تک کے لیئے ویسا دور دوبارہ نہیں لوٹنا،مگر ان کی زندگی کیسی تھی؟
    آسانی،
    سادگی،،
    عدم تکلف،،،
    بابرکت علم تھا اور عمل کی دولت تھی۔۔۔
    متاع دنیا کم سے کم اور نتیجتاً راحت و سعادت اور اطمینان کی دولت تھی۔

    صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی کی اہلیہ محترمہ بھی ڈاکٹربن گئیں

    انقلاب محمدی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ابتدائی دور میں علم وحی اور ہدایت ربانی کا عَلم جن لوگوں نے اٹھایا وہ فقیر ومحتاج تھے اور دعوت حق کی مخالفت میں پیش پیش رہنے والے رئیس اور ثروت مند مگر رضوان کن کو ملی؟
    یہ حسد حق پرست فقیروں سے بھی ہوتا رہا ہے
    یہ دنیوی اسباب اللّٰہ کے ہاں مچھر کے پر جتنی حیثیت بھی نہیں رکھتے،
    چنانچہ ان چیزوں کی چاہ میں خود کو حسد میں دھکیلنے کی بجائے اپنی زندگی میں نظم و ضبط کی عادت ڈالیئے۔
    ولیم جیمس کہتا ہے:
    "ہم انسان ان چیزوں کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں جو ہماری ملکیت نہیں ہوتیں،اور جو پاس ہوں ان کی قدر نہیں کرتے۔۔۔؟
    نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    آدمی کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہو سکتے۔(رواہ النسائی)
    کبھی فرمایا:”لوگوں میں افضل وہ ہے جس کے دل میں بغض و حسد نہ ہو۔(ابن ماجہ)
    تو سوچئے کہ اگر ہمیں حسد کا مرض لاحق ہو گیا تو پھر ایمان کی خیر منانی چاہیئے اور اگر ایمان کامل ہے تو پھر حسد کا جذبہ کبھی نہیں ابھرے گا،
    کسی کا دکھ ہمارا دکھ،
    کسی کی خوشی ہماری خوشی ہو گی۔۔۔
    آئیے عہد کریں کہ اس تکلیف میں خود کو کیوں تڑپائیں جو ممنوع ہے،
    اپنی زندگی میں جینے کا ہنر سیکھیں،
    محبت،خوشبو اور پھولوں کی سوداگری کریں،
    کانٹوں اور اذیتوں سے دامن چھڑا لیں اپنے حصے کا سفر طے کرتے جائیں کہ یہی سکونِ زندگی ہے۔۔۔ !اللّٰہ ہمیں اس بیماری سے بچائے جس کا کوئی اجر ہی نہیں۔۔۔۔ !!!

    کیسی بیماری کہ اجر بھی نہیں۔۔۔؟؟؟
    بقلم:(جویریہ چوہدری)۔

  • "سوچ ہمیں کیسے بڑا بناتی ہے” تحریر: عبداللہ قمر

    "سوچ ہمیں کیسے بڑا بناتی ہے” تحریر: عبداللہ قمر

    ہر انسان کی زندگی کے اندر کچھ ایسے موڑ آتے ہیں جب اس لگنے لگتا ہے کہ وہ ہار گیا ہے، وہ اپنا مقصد پورا نہیں کر سکا. وہ ٹھکرا دیا گیا ہے، کائنات نے اسے ٹھکرا دیا ہے، اللہ نے اسے ٹھکرا دیا ہے (معاذاللہ). لوگوں میں اس کی مقبولیت نہیں رہی اور اس کی اونچی آواز سے سماعت چھین لی گئی ہے، اس کی بات سنتا کوئی نہیں. لوگ اس کو پسند نہیں کرتے، اس کی شان میں قصیدے پڑھنے والے اب اس کے پاس نہیں بیٹھتے. ہر طرف مایوس ہی مایوسی ہے، اندھیر ہی اندھیرا ہے. بات تو کسی حد تک درست ہے، اکثریت لوگ یہاں آ کر ہار قبول کر لیتے اور زندگی کی اس مشکل دوڑ سے باہر نکل جاتے ہیں.

    لیکن!!!

    یہ اندھیرے یہ مایوسیاں، ان کا وجود صرف اور صرف ہمارے دل و دماغ میں ہوتا ہے. چیزوں کی حقیقت ضرور ہوتی ہے مگر جس حد تک ہم سوچ رہے ہوتے ہیں ویسا بالکل نہیں ہوتا. ہم اس قدر مایوس ہو جاتے ہیں یہ بھی ہماری سوچ ہی کی طاقت ہوتی ہے. ان مایوس سوچوں کی واحد وجہ ہماری سوچ، ہمارے مقصد، ہماری شخصیت اور ہمارے زاویہ نظر کا چھوٹا ہونا ہے. زندگی ایک طویل اور اعصاب شکن جنگ کا نام ہے اور چھوٹی بڑی ناکامیاں اس سفر کی خوبصورتی اور اس جنگ کی معراج ہیں، تاج ہیں.

    لیکن

    اگر آپ کا مقصد یہ شان و شوکت، یہ تعریفوں کے پل، یہ ڈگریوں کی دوڑ اور شہرت کی بھوک تھا تو اچھے سے سمجھ لیجیے آپ اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں، جو کچھ آپ کے ساتھ ہو گیا ہے وہی ہونا تھا. کیونکہ یہ چیزیں عارضی ہیں، یہ چیزیں کھوکھلی ہیں اور چِھن جانے والی ہیں. لہٰذا، زندگی کی یہ طویل المدت اور اعصاب شکن جنگ لڑنے کے لیے، اپنے اعصاب کو مضبوط کرنے کے لیے اپنی سوچ میں وسعت پیدا کریں، اپنے زاویہ نگاہ کو بڑا کریں. اپنے اندر کے اک خوبصورت فرد کو ایک قد آور شخصیت بنانے کے لیے اپنی کھوکھلی بنیادوں کو توکل، محاسبہ، عزم، دوام، استقلال، مستقل مزاجی، مردم شناسی، علم، تدبر، تفکر اور تعلق باللہ کے ساتھ بھریں. وگرنہ، زندگی کی یہ جنگ بہت مشکل ہے، گھپ اندھیرا اور بے گھڑے ہیں. ہمارا کام اس سفر میں، اس رستے ہر چلتے رہنا ہے، راستے کھولنا، خوبصورت وادیاں دکھانا اور بالآخر منزل تک پہنچانا اللہ کا کام ہے. کامیابیوں کی اس وادی میں ڈر جانے والوں، بغیر حکمت عملی ترتیب دیے بس چل پڑنے والوں اور رب کی مدد اترنے کا یقین نہ رکھنے والوں کی کوئی جگہ نہیں.

    لہذا..!

    اپنے آپ کو مایوسیوں کے اس جکڑ لینے والے چنگل سے چھڑوانے کے لیے اور اس اندھیرے میں روشنی کے حصول کے لیے اپنے آپ کو چھوٹی سوچ سے آزاد کریں، لوگوں کی باتوں اور ان عبادتوں سے نکلیں، اگر ہمارے دل میں رشتہ داروں، دوستوں، ہمسایوں سے مقابلہ، حسد، بغض اور غرور کے جراثیم بھرے ہوئے ہیں تو پھر میرے بھائی اس اندھیرے میں آپ کو روشنی نہیں مل سکتی.