Baaghi TV

Category: معاشرہ و ثقافت

  • قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کا مقصد : علی چاند

    قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی کا مقصد : علی چاند

    انتہاٸی پروقار ، دلفریب ، بلند حوصلہ ،جرأت مند ہستی ، جو نہ کبھی کسی کے آگے جھکے ، نا کبھی ہمت ہاری ، نہ کبھی حوصلہ کم ہوا ، جس بات پر ڈٹ گٸے اس سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے ،اور پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ پروقار انسان ایسا بہادر ، قوی ، جرأت مند نکلا کہ مسلمانوں نے ان کی قیادت میں صرف چند ماہ میں ہی پاکستان جیسا عظیم ملک بنا لیا ۔
    کون جانتا تھا کہ 25 دسمبر 1876 کو پونجا جناح کے گھر پیدا ہونے والا بچہ ایک دن اپنا نام اتنا روشن کرے گا کہ دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیے جیتی جاگتی زندہ مثال بن جاٸے گا ۔ لوگ غلامی سے چھٹکارا پانے کے لیے اس عظیم انسان کی مثالیں دیں گے ۔ کون جانتا تھا کہ مظلوموں کو آزادی دلوانے والے اس عظیم لیڈر کو اپنا راہنما اور مشعل راہ سمجھیں گے ۔

    قاٸد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو ایک تاجر پونجا جناح کے گھر پیدا ہوٸے ۔ والدین نے آپ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی جس کے اثرات پھر پوری دنیا نے دیکھے ۔ والدین نے چھ سال کی عمر میں آپ کو مدرسے میں داخل کروا دیا ۔ پراٸمری تعلیم کے لیے آپ کو گوگل داس پراٸمری سکول میں داخل کروایا گیا ۔ میٹرک کا امتحان آپ نے اعلی نمبروں کے ساتھ سندھ مدرسة السلام ہاٸی سکول سے پاس کیا ۔ 1892 میں آپ نے وکالت کا امتحان پاس کیا ۔ پھر اعلی تعلیم کے لیے انگلستان چلے گے اور بیرسٹر بن کر واپس آٸے ۔ پہلے آپ نے کراچی اور پھر ممبٸی میں وکالت کر کے بہت نام کمایا ۔ آپ کو سیاست سے بہت دلچسپی تھی ۔ شروع میں قاٸد اعظم ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے اس لیے آپ نے 1906 میں کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی ۔ کچھ مسلمان راہنماٶں نے آپ کومسلم لیگ میں شمولیت کی دعوت دی اور آپ کو اس پر راضی بھی کر لیا بالآخر آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی ۔ 1913 میں آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی ۔ مسلم لیگ پہلے صرف بڑے لوگوں کی جماعت سمجھی جاتی تھی لیکن آپ کی مسلم لیگ میں شمولیت کے بعد لوگ اسے عام مسلمانوں یعنی اپنی جماعت سمجھنا شروع ہوگے ۔

    1929میں قاٸداعظم نے اپنے مشہور چودہ نکات پیش کٸیے جو درج ذیل ہیں :

    ہندوستان کا آئندہ دستور وفاقی نوعیت کا ہو گا۔

    تمام صوبوں کو مساوی سطح پر مساوی خود مختاری ہو گی۔

    ملک کی تمام مجالس قانون ساز کو اس طرح تشکیل دیا جائے گا کہ ہر صوبہ میں اقلیت کو مؤثر نمائندگی حاصل ہو اور کسی صوبہ میں اکثریت کو اقلیت یا مساوی حیثیت میں تسلیم نہ کیا جائے۔

    مرکزی اسمبلی میں مسلمانوں کو ایک تہائی نمائندگی حاصل ہو۔

    ہر فرقہ کو جداگانہ انتخاب کا حق حاصل ہو۔

    صوبوں میں آئندہ کوئی ایسی سکیم عمل میں نہ لائی جائے جس کے ذریعے صوبہ سرحد، پنجاب اور صوبہ بنگال میں مسلم اکثریت متاثر ہو۔

    ہر قوم و ملت کو اپنے مذہب، رسم و رواج، عبادات، تنظیم و اجتماع اور ضمیر کی آزادی حاصل ہو۔

    مجالس قانون ساز کو کسی ایسی تحریک یا تجویز منظور کرنے کا اختیار نہ ہو جسے کسی قوم کے تین چوتھائی ارکان اپنے قومی مفادات کے حق میں قرار دیں۔

    سندھ کو بمبئی سے علاحدہ کر کے غیر مشروط طور پر الگ صوبہ بنا دیا جائے۔

    صوبہ سرحد اور صوبہ بلوچستان میں دوسرے صوبوں کی طرح اصلاحات کی جائیں۔

    سرکاری ملازمتوں اور خود مختار اداروں میں مسلمانوں کو مناسب حصہ دیا جائے۔

    آئین میں مسلمانوں کی ثقافت، تعلیم، زبان، مذہب، قوانین اور ان کے فلاحی اداروں کے تحفظ کی ضمانت دی جائے۔

    کسی صوبے میں ایسی وزارت تشکیل نہ دی جائے جس میں ایک تہائی وزیروں کی تعداد مسلمان نہ ہو۔

    ہندوستانی وفاق میں شامل ریاستوں اور صوبوں کی مرضی کے بغیر مرکزی حکومت آئین میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔

    یہ چودہ نکات تحریک پاکستان میں سنگ میل کی حثیت رکھتے ہیں ۔ 1940 میں لاہور منٹو پارک ( موجودہ نام اقبال پارک ) میں ایک قرار داد پیش کی گٸی جسے قرارد داد پاکستان بھی کہا جاتا ہے اس قرار داد میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کا مطالبہ کیا گیا ۔ ہندوٶں اور انگریزوں کی طرف سے اس قرارداد کا بہت مذاق اڑایا گیا لیک مسلمان ارادے کے پکے اور ایمان کے سچے تھے انہوں نے قاٸد اعظم جیسے عظیم لیڈر کی راہنماٸی میں 14 اگست 1947 کو مسلمانوں نے الگ وطن حاصل کر لیا ۔ اس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ۔ قاٸد اعظم نے پاکستان بننے کے بعد مہاجرین کی آباد کاری ، پاکستانی معیشیت اور اداروں کی بحالی کے لیے انتھک محنت کی جس کی وجہ سے آپ بہت زیادہ علیل ہوگے ۔

    آپ کو ڈاکٹرز کے مشورے سے زیارت کے مقام پر بھیج دیا گیا تاکہ آپ کی صحت کچھ سنبھل سکے ۔ لیکن آپ کی صحت جواب دیتی جارہی تھی ۔ 10 ستمبر کو کرنل الہی بخش نے قاٸد اعظم کی صحت کے حوالے سے فاطمہ جناح کو جواب دے دیا ۔ اگلی صبح قاٸد اعظم کو کوٸٹہ سے کراچی اٸیرپورٹ لایا گیا ۔ وہاں سے ایک ایمبولینس میں آپ کا سٹریچر رکھا گیا ۔ ایمبولیس میں آپ کی بہن فاطمہ جناح بھی بیٹھ گٸی ۔ جب ایمبولینس مہاجروں کی ایک گنجان آباد بستی سے زرا آگے پہنچی تو ایمبولینس چلنا رک گٸی ۔ فاطمہ جناح کو بتایا گیا کہ پیٹرول ختم ہوگیا ہے ۔ ایک گھنٹہ بعد دوسری ایمبولینس آٸی اور پھر قاٸد اعظم کو دوسری ایمبولینس کے ذریعے قاٸد اعظم گورنر ہاٶس پہنچایا گیا جہاں انہوں نے کلمہ پڑھتے ہوٸے اپنی جان خالق حقیقی کے حوالے کر دی ۔

    کیا ایمبولینس کا واقعی پیٹرول ختم ہوا تھا یا پھر یہ بھی ایک سازش تھی ۔ اگر پیٹرول واقعی ختم ہوا تھا تو کیا ایمبولینس روانہ کرتے وقت چیک نہ کیا گیا تھا ۔ کیا کوٸی اس قدر احمق بھی ہوسکتا ہے کہ اپنے محسن کی حالت کو جانتا ہو پھر بھی ایسا کرے ۔ اور اگر یہ ایک سازش تھی تو قاٸد اعظم اور پاکستان کے ساتھ غداری تھی ۔ دونوں صورتوں میں کیا کبھی کسی نے اس سازش کے پیچھے چھپے چہرے تلاش کرنے کی کوشش کی ۔ کیا کسی نے ان چہروں کو بے نقاب کر کے انہیں سزا دلوانے کی کوشش کی ۔ اگر نہیں تو کیا ہم ایک بے حس قوم نہیں ہیں جنہوں نے اپنے عظیم لیڈر کے احسانات کو بھلا دیا اور کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ آخر کون لوگ تھے جو پاکستان سے دشمنی میں اس قدر آگے نکل گے کہ انہوں نے قاٸد اعظم کی جان کی پرواہ بھی نہ کی ؟

    کیا ہم میں سے کوٸی اس بہن کا درد محسوس کر سکتا ہے جس کے بھاٸی کو ڈاکٹرز جواب دے چکے ہوں اور اس ایمبولینس کو جان بوجھ کر روکے رکھا گیا ہو جس میں ایک بہن کے سامنے اس کا بھاٸی زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہو ۔ جو کہتے ہیں پیٹرول ختم ہو گیا تھا ،ان کی عقل کو داد دیں یا پھر اپنی قوم کی بے حسی کو ۔ اگر پٹرول ختم ہوگیا تھا تو گنجان آبادی قریب تھی وہاں سے کسی گاڑی کا انتظام کیوں نہ ہوا ۔ اس آبادی سے کسی کی گاڑی سے کہیں سے بھی پٹرول مل سکتا تھا پھر ایک گھنٹے تک کیوں اس بہن کو اذیت میں رکھا گیا جس کے بھاٸی نے اپنی بہن کے ساتھ اپنی تمام تر زندگی اس وطن کے نام کر دی ۔ آخر کیوں کون سے وجوہات تھی کہ ہم نے باباٸے قوم اور مادر ملت کو اذیت دینے والوں کے گریبان نہیں پکڑے ۔ آخر کیوں ہم اتنے بے حس ہوگے کہ محسن پاکستان محمد علی جناح کے ساتھ ان کی بہن کے ساتھ ایسا ظلم کرنے والوں کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا گیا ۔ وہ بہن جو مادر ملت تھی کہتی ہیں زندگی میں جتنی بھی مشکلات آٸیں یہ ایک گھنٹہ ان سب مشکلات سے بھاری تھا ، تکلیف دہ تھا ۔ آخر کیوں اس بات کو جاننے کی کوشش نہیں کی گٸی کہ آخر کون تھا جس پر قاٸد اعظم کی سانسیں باعث تکلیف تھی ، آخر ایمبولینس کو جان بوجھ کر روکنے میں کسی کا کیا فاٸدہ تھا ؟ ہمیں بحثیت قوم ان حقاٸق کو جاننا ہوگا ۔ ان کالی بھیڑوں کو ڈھونڈنا ہوگا جو تب سے لے کر آج تک وطن پاکستان اور اس سے جڑے ہر مخلص انسان کو نقصان پہنچا رہی ہیں ۔

  • ہمیں 65 کی زبان بھی آتی ہے : علی چاند

    ہمیں 65 کی زبان بھی آتی ہے : علی چاند

    پاکستان 14 اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا تھا ۔ پاکستان بنانے کا مقصد ایک الگ اسلامی معاشرے کی تشکیل تھا جہاں مسلمان اسلامی قوانین پر آزادی کےساتھ عمل کر سکیں ۔ لیکن بھارت کو کبھی بھی یہ بات گوارا نہیں ہوٸی کہ مسلمان پر امن طریقےسے زندگی گزاریں ۔ بھارت نے پاکستان کو ختم کرنے کے لیے مسلمانوں کی الگ پہچان ختم کرنے کے لیے 6 ستمبر 1965 کو پاکستان پر حملہ کر دیا ۔ پاکستانی افواج نے اپنی غیور اور بہادر عوام کے ساتھ مل کر دشمن کے ناپاک عزاٸم کو خاک میں ملا دیا اور اپنے دشمن کو ایسی ذلت سے دوچار کیا جس کا داغ اگر دشمن دھونا بھی چاہے تو بھی صدیوں میں بھی نا دھو پاٸے گا ۔ پاکستان میں یہ دن یعنی 6 ستمبر کا دن یوم دفاع پاکستان کہلاتا ہے اور تمام پاکستانی ہر سال یوم دفاع پاکستان پورے جوش و جذبے کے ساتھ مناتے ہیں اور اس دن بھارت کو دوبارہ باور کرواتے ہیں کہ اگر تم نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو ہم تمہارا وہی حال کریں گے جو 1965 کی جنگ میں کیا تھا ۔ پاکستانی افواج اور عوام نے 6 ستمبر 1965 کی جنگ میں ثابت کردیا کہ ہم بدر و حنین والوں کے وارث ہیں جو نہ تو ڈرتے ہیں نہ بزدلی دیکھاتے اور نہ ہی اپنے کسی دشمن سے خوف زدہ ہوتے ہیں ۔ اس جنگ میں بھی پاکستانیوں نے مسلمانوں کی تاریخ دہراتے ہوٸے دشمن کا تکبر خاک میں ملا دیا اور اپنے سے کٸی گنا بڑے دشمن کو سر اٹھانے کے قابل نہ چھوڑا ۔

    اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم دشمن ہر واضع کر دیں کہ ہم اپنے دشمن کا نام و نشان مٹانا جانتے ہیں ، اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں اور اپنے وطن کی طرف میلی نگاہ ڈالنے والے کو نیست و نابود کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں ۔ یوم دفاع پاکستان پاکستان کی غیور ، بہادر اور پر عزم افواج اور عوام کا دن ہے جس دن سب پاکستانی چاہے ان کا تعلق کسی بھی شعبے سے ہو یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے وطن پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے اور پاکستان کی حفاظت میں سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے ۔ یوم دفاع پاکستان شجاعت و بہادری کا دن ہے وہ دن جس دن پاکستانی افواج نے اپنی عوام سے مل کر اپنے سے کٸی گنا دشمن کا غرور و تکبر نیست و نابود کر دیا ۔ یوم دفاع پاکستان وہ دن ہے جس دن کی ذلت کا داغ دشمن کبھی نہیں دھو سکتا ۔ یہ دن ناقابل تسخیر جذبوں کا دن ہے ، یہ دن ہر پاکستانی کا سر فخر سے بلند کرنے کا دن ہے ، یہ دن ہماری آن ، بان ، شان اور وطن سے محبت کے ثبوت کا دن ہے ۔ یہ میرے شہیدوں غازیوں ان کے گھر والوں کے زندہ و جاوید جذبوں اور بہادری و جرات کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ مسلمان ماٸیں اپنے جگر کے ٹکڑوں کو میدان جنگ میں بھیجتے ہوٸے ذرا بھی خوف نہیں کھاتیں ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ ایک بہن اپنے بھاٸی کو وطن کی محبت میں کیسے وطن پر لٹا دیتی ہے ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ ایک باپ اپنا جوان خون اور ایک بھاٸی اپنا بازو ( بھاٸی ) کیسے وطن پر قربان کرتا ہے ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ یہاں لڑکیاں جوانی میں بیوہ تو ہوسکتی ہیں لیکن کبھی شوہر کو جہاد سے غافل نہیں ہونے دیتی ۔ یہ وہ دن ہے جس نے ثابت کیا کہ یہاں بچے یتیم تو ہو سکتے ہیں لیکن اپنے پیارے وطن پاکستان پر کوٸی آنچ نہیں آنے دیں گے ۔ اس دن نے ثابت کیا کہ یہاں ماتم کر کے اپنے بچوں کے لاشے وصول نہیں ہوتے بلکہ ایک جوان کی شہادت باپ اور بھاٸی کا سینہ فخرسے اور بھی چوڑا کر دیتی ہے ۔ اس دن نے ثابت کیاکہ یہاں ایک جوان کی شہادت بوڑھی ماں کو جوانی کی طاقت ، اور یتیموں کو وقت سے پہلے جوان کر دیتی ہے ۔ اس دن نے ثابت کیا کہ یہاں ایک گھر میں اگر ایک جوان شہیدہو کر آٸے تو اس پر ایسا فخر ہوتا ہے کہ اسی گھر سے دو تین مرد اور رتبہ شہادت پانے کو نکلیں گے ۔ پاکستانی افواج اور عوام نے اس دن دنیا کو ثابت کر دیکھایا کہ ہاں ہم زندہ قوم ہیں ، پاٸیندہ قوم ہیں ۔

    اس دن پاکستانیوں نے ثابت کر دیا کہ دنیا کی کوٸی طاقت ہمیں ہرا نہیں سکتی ، دنیا کی کوٸی طاقت ہمیں بزدل نہیں بنا سکتی ۔

    پاکستان نے اس سال اپنایوم دفاع پاکستان اپنی شہہ رگ کشمیر کے ساتھ یوم یکجہتی کے طور پر منانے کا علان کیا ہے ۔ بھارت جب پاکستان سے منہ کی کھاتا ہے تو وہ پاکستان کا غصہ مجبور اور بے بس کشمیریوں پر نکالتا ہے ۔ نہ صرف کشمیریوں بلکہ انڈیا میں بسنے والی اقلیتوں کا بھی جینا حرام کر دیا جاتا ہے ۔ اب بھی ایک ماہ ہونے کو ہے بھارت نے کشمیر میں کرفیو لگایا ہوا ہے کشمیری عوام کو بنیادی انسانی حقوق تک میسر نہیں ۔ ادویات اور غذا کی انتہاٸی شدید قلت ہے ۔ عالمی میڈیا چیخ چیخ کر مودی کی ظلم و بربریت دنیا والوں کو دیکھا رہا ہے کہ کیسے بھارتی افواج کشمیری جوانوں ، بوڑھوں ، بچوں اور عورتوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں ۔ پاکستان نے یوم دفاع پاکستان کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منانے کا اعلان اس وجہ سے کیا ہے تاکہ دنیا بھر کی نظریں کشمیریوں کے حق خود ارادیت اور بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کی طرف دلاٸی جاسکے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت پر یہ بھی واضح کیا جاٸے گا کہ ہم نے جس طرح تمہارا غرور 1965 میں خاک میں ملایا تھا اب بھی ہم تم سے اپنہ شہہ رگ چھڑوا کر تمہیں خاک میں ملاٸیں گے ۔ ابھی ہم پر امن اس لیے ہیں تاکہ یہ مسلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق پر امن طریقے سے حل ہوجاٸے لیکن اگر بھارت نے ہماری امن کی زبان نہ سمجھی تو پھر اسے اسی زبان میں سمجھاٸیں گے جو ہم ان 1965 کی جنگ میں استعمال کی تھی ۔

    اللہ پاک میرے وطن کے تمام شہیدوں اور ان کے گھر والوں کے درجات بلند فرماٸے ۔ ہمیں وطن پر مر مٹنے کی توفیق عطا فرماٸے ۔ ہمارے پیارے پاکستان کو شاد و آباد رکھے اور ہمیں ملی غیرت عطا فرماٸے ۔ کشمیر کو آزاد فضاٸیں نصیب فرماٸے ۔ آمین

  • "نشان حیدر” پانے والے گیارہ شہیدوں کی لازوال داستان: علی چاند

    "نشان حیدر” پانے والے گیارہ شہیدوں کی لازوال داستان: علی چاند

    ” نشان حیدر ” مطلب شیر کا نشان ، یہ پاکستان کا سب سے بڑا فوج اعزاز ہے جو دشمن کے مقابلے میں بہادری کے شاندار جوہر دیکھانے والے پاک فوج کے جوانوں کو ملتا ہے ۔ نشان حیدر جنگ میں دشمن سے حاصل ہونے والے اسلحے کو پگھلا کر بنایا جاتا ہے جس میں 20 فیصد سونا بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔
    اب تک نشان حیدر پانے والوں میں سے سب سے زیادہ عمر طفیل محمد شہید ہیں جنہوں نے 44 سال کی عمر میں شہادت پاٸی اور سب سے کم عمر نشان حیدر پانے والے راشد منہاس شہید ہیں جنہوں نے 20 سال 6 مہینے میں شہادت کی عمر پاٸی ۔نشان حیدر پانے والے بہادر جوانوں کے نام اور کارنامے درج ذیل ہیں

    راجہ محمد سرور شہید :
    ضلع راولپنڈی تحصیل گوجر خاں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ سب سے پہلے نشان حیدر پانے والے جوان ہیں ۔ 1948 میں راجہ محمد سرور شہید کو کشمیر میں آپریشن پر مامور کیا گیا ۔ 27 جولاٸی کو آپ نے اوڑی سیکٹر میں دشمن کی اہم فوجی پوزیشن پر حملہ کیا تو معلوم ہوا کہ دشمن نے اپنے مورچوں کو خار دار تاروں سے محفوظ کیا ہوا ہے ۔ آپ نے اپنے 6 جوانوں کے ساتھ مل کر شدید گولیوں کی بوچھاڑ میں ان خار دار تاروں کو کاٹ دیا ۔ آپ پر بیشمار گولیاں برساٸی گٸیں جن میں سے ایک آپ کے سینے پر لگی اور آپ جام شہادت نوش کیا ۔ آپ کے جذبہ شہادت کو دیکھتے ہوٸے آپ کے جوانوں نے دشمن پر بھرپور حملہ کیا جس کی وجہ سے دشمن اپنے مورچے چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا ۔

    میجر طفیل محمد شہید :
    آپ صوبہ پنجاب میں ہوشیار پور میں پیدا ہوٸے ۔ اگست 1958 میں آپ کو چند بھارتی مورچوں کا صفایا کرنے کا کام سونپا گیا ۔ 7 اگست کو آپ نے دشمن کے ایک مورچے کو اپنے گھیرے میں لے لیا ۔ جب بھارتیوں نے اپنی مشین گن سے فاٸرنگ شروع کیا تو اس فاٸرنگ کا نشانہ بننے والے سب سے پہلے جوان طفیل محمد شہید تھے ۔ بہادری کے جوہر دیکھاتے ہوٸے آپ نے دشمن کی مشین گنوں کو مکمل خاموش کروا دیا ۔ اور شدید زخمی ہونے کے باوجود آپ اپنے جوانوں کی قیادت کرتے رہے یہاں تک کے دشمن اپنی چار لاشیں اور تین قیدی چھوڑ کر فرار ہوگے ۔ شدید زخموں کی وجہ سے آپ جام شہادت پی گے ۔

    میجر عزیز بھٹی شہید :
    6 ستمبر 1965ء کو جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر میں برکی کے علاقے میں کمپنی کی کمان کررہے تھے ۔
    12 ستمبر کی صبح عزیز بھٹی شہید نے دیکھا کہ ہزاروں دشمن سپاہی برکی کے شمال کی طرف درختوں میں چھپے ہوٸے ہیں ۔ آپ نے اپنے جوانوں کے ساتھ مل کر فاٸرنگ شروع کی جس سے دشمن کے سپاہی وہیں ڈھیر ہوتے گے ۔ عزیز بھٹی دوبارہ دشمن کی نقل و حرکت کا جاٸزہ لینے لگے تو دشمن نے گولہ باری شروع کر دی ۔ایک گولہ عزیز بھٹی شہید کے سینے میں لگا جس سے آپ وہی شہید ہوگے ۔

    راشد منہاس شہید :
    آپ کراچی میں پیدا ہوٸے ۔ راشد منہاس نے اپنے ماموں سے متاثر ہو کر پاک فضاٸیہ کا انتخاب کیا ۔ 20 اگست 1971ء کو راشد کی تیسری تنہا پرواز تھی۔ وہ ٹرینر جیٹ طیارے میں سوار ہوئے ہی تھے کہ ان کا انسٹرکٹر سیفٹی فلائٹ آفیسر مطیع الرحمان خطرے کا سگنل دے کر کاک پٹ میں داخل ہو گیا ۔ وہ تیارے کو اغوا کر کے بھارت لے جانا چاہتا تھا ۔ راشد منہاس کو ماڑی پور کنٹرول ٹاور سے ہدایت دی گٸی کہ طیارے کو ہر صورت اغوا ہونے سے بچایا جاٸے ۔ جب اپنے آفیسر سے کشمکش کے درمیان راشد منہاس نے محسوس کیا کہ طیارے کو کسی محفوظ جگہ لینڈ کرنا ناممکن ہے تو راشد منہاس نے اپنے طیارے کا رخ زمین کی طرف کر دیا ۔ جس کی وجہ سے راشد منہاس نے جام شہادت نوش کیا اور نشان حیدر جیسے اعزاز کے حق دار قرار پاٸے ۔


    میجر شبیر شریف شہید :
    میجر شبیر شریف پنجاب کے ضلع گجرات میں ایک قصبے کنجاہ میں پیدا ہوٸے ۔ 3 دسمبر 1971 میں سلیمانکی ہیڈ ورکس پر آپ کو طعینات کیا گیا تاکہ آپ اونچی زمین پر قبضہ کر سکیں جو کہ اس وقت دشمن کے قبضے میں تھی ۔6 دسمبر کو دشمن نے شدید حملہ کر دیا جس کی وجہ سے میجر شبیر شریف شہید نے اپنی اینٹی ٹنیک گن سے دشمن پر حملہ کر دیا ۔ دشمن کی فاٸرنگ کے نتیجے میں آپ نے جام شہادت نوش کیا ۔


    سوار محمد حسین شہید :

    سوار محمد حسین 18 جون 1949 کو ضلع راولپنڈی تحصیل گوجر خاں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ نے بطور ڈراٸیور پاک فوج جواٸن کی اس کے باوجود جنگ میں عملی طور پر حصہ لیا ۔ آپ نے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں حصہ لیا ۔ آپ نے بہادری کے عظیم جوہر دیکھاٸے ۔ دس دسمبر 1971 کی شام دشمن کی مشین گن سے نکلی گولیاں آپ کے سینے پر پیوست ہوگٸی اور آپ جام شہادت نوش فرما گٸے ۔
    میجر محمد اکرم شہید :
    آپ ضلع گجرات کے گاٶں ڈنگہ میں پیدا ہوٸے ۔ 1971 کی پاکستان اور بھارت جنگ میں ہلی کے مقام پر آپ نے اپنے جوانوں کے ساھ مل کر دشمن کا بھاری جانی اور مالی نقصان کیا اور بہادری کے جوہر دیکھاتے ہوٸے جام شہادت نوش کر لیا ۔

    لانس ناٸیک محمد محفوظ شہید :
    آپ ضلع راولپنڈی کے گاٶں پنڈ ملکاں میں 25 اکتوبر 1944 میں پیدا ہوٸے ۔ 1962 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی ۔ لانس ناٸیک محمد محفوظ شہید نے پاکستان اور بھارت کی جنگ میں حصہ لیا ان کا یونٹ واہگہ اٹاری سیکٹر پر تعینات تھا اور بہادری و شجاعت کے عظیم جوہر دیکھاتے ہوٸے دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کیا ۔ آپ نے دشمن کے بنکر میں گھس کر ایک دشمن فوجی کی گردن دبوچ لی اور اسے جہنم واصل کر دیا جب کہ دوسرے دشمن فوجی نے آپ پر حملہ کرکے آپ کو شہید کر دیا ۔

    کرنل شیر خاں شہید :
    آپ ضلع صوابی کے ایک گاٶں میں پیدا ہوٸے ۔ آپ کارگل تنازعہ کے دوران عظم وہمت اور شجاعت کی ایک نٸی علامت بن کر ابھرے ۔ آپ نے بہادری کی نٸی مثالیں قاٸم کیں اور دشمن کو بھاری جانی نقصان پہنچایا ۔ آپ نے دشمن کی چوکیوں پر قبضہ کے دوران مشین گن کا نشانہ بم گے اور آپ نے شہادت کا رتبہ پالیا ۔

    حوالدار لالک جان شہید :
    گلگت بلتستان کی وادی یاسین میں پیدا ہوٸے ۔ 1999 میں جب کارگل تنازعہ چل رہا تھا تو لالک جان کو ایک اہم ترین چوکی پی حفاظت کا ذمہ سونپا گیا ۔ 5 اور 6 جولاٸی کی درمیانی شب دشمن نے اس چوکی پر بھرپور حملہ کیا ۔لالک جان اور ان کے جوانوں نے دشمن کا بھرپور مقابلہ کیا اور دشمن کا کافی جانی اور مالی نقصان کیا جس پر دشمن پسپا ہوکر چلا گیا ۔ اگلی رات دشمن نے پھر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں لالک جان شدید زخمی ہوگے لیکن پھر بھی علاج کروانے کی بجاٸے دشمن سے مقابلہ کرتے رہے ۔ اگلی صبح زخموں کی تاب نا لاتے ہوٸے آپ شہید ہوگے ۔

    سیف علی جنجوعہ :
    انہوں نے اپنی ایک پلاٹون کی نامکمل اور مختصر نفری سے ایک بریگیڈ فوج کا اس وقت تک مقابلہ کیا اورثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اُن کی پوسٹ پر دشمن نے ٹینکوں اورتوپخانے اور جنگی جہازوں سے حملہ کیا دشمن نے تمام حربے استعمال کیے مگر تمام بے اثر رہے دشمن نے اُن کی پوسٹ پر ہر طرف سے دباؤ ڈال دیا مگر سیف علی جنجوعہ ڈٹے رہے اس طرح انہوں نے مشین گن سے دشمن کا ایک جہاز بھی مار گرایا ۔جب تک مزید پاکستانی فوج نہیں پہنچی آپ نے اپنے جوانوں کے ساتھ مل کر دشمن کو ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھنے دیا ۔ بم گرنے کی وجہ سے آپ جام شہادت نوش فرما لیا ۔اس وقت پاکستان کے تمغے نہیں بنے تھے اس لئے حکومت پاکستان نے “ہلال کشمیر” اعزاز کو برطانیہ کے “وکٹوریہ کراس” کے برابر لکھا تھا ۔جب پاکستان کے تمغے بنے تو سیف علی جنجوعہ شہید کے کمپنی کمانڈ ر لیفٹیننٹ محمد ایاز خان (ستارہ سماج) صدر پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے حکومت پاکستان کو مسلسل اڑتالیس سال لکھا کہ نائیک سیف علی شہید کو نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان کیا جائے۔ پی ایس اے کی سفارش پرچیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے6ستمبر 1999کو نائیک سیف علی جنجوعہ شہید کیلئے نشان حیدر کے اعزاز کا اعلان کیا ۔

  • غریب کی بیٹی کا دوپٹہ : علی چاند کا بلاگ

    غریب کی بیٹی کا دوپٹہ : علی چاند کا بلاگ

    مسجد میں قالین بچھانے سے بہتر ہے کہ کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، مسجد میں پتھر لگوانے سے بہتر ہے کہ کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، میلاد پر پیسہ لگانے سے بہتر ہے کسی غریب کی بیٹی کو چادر لے دی جاٸے ، حج پر اتنے پیسے لگانے سے بہتر ہے انسان غریب کی بیٹیوں کو چادر لے دے ، عمرہ پر جانے سے بہتر ہے کہ انسان غریب کی بیٹیوں کو کپڑے لے دے انہیں چادریں لے دے ۔

    یہ ہیں وہ چند جملے جو آٸے دن ہمیں سوشل میڈیا پر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ یہ ہیں وہ چند جملے جن کا پرچار کچھ نام نہاد مسلمان کرتے نظر آتے ہیں ۔ میں ان لوگوں کو پوچھنا چاہوں گا کہ آخر تکلیف مسجد ، عمرہ ، میلاد اور حج کی ہے یا پھر واقعی غریب کی بیٹی کا درد ہے دل میں ۔ اگر تو درد ان لوگوں کو مسجد ، منبر ، محراب ، حج اور عمرے کا ہے تو میں ایسے لوگوں کو مشورہ دوں گا کہ وہ کسی عالم دین کی صحبت میں بیٹھیں ، اللہ کے احکامات پڑھیں ، دین سیکھیں تاکہ ان لوگوں کو پتہ چلے کہ جب حکم خدا ماننا ہوتا ہے تو پھر آدم کو سجدہ بھی کرنا پڑتا ہے ورنہ انکار پر سب سے بڑا عبادت گزار بھی مردود کہلاتا ہے ۔ جہاں حکم ربی آجاتا ہے وہاں یہ نہیں دیکھنا ہوتا کہ اس کی بجاٸے یہ کر لیں یا اس کی بجاٸے وہ کر لیں ۔ پھر صرف اور صرف اللہ کا حکم ماننا ہوتا ہے ۔

    رہی بات غریب کی بیٹی کے دوپٹے اور چادر کی تو اللہ پاک ان غریبوں کی بیٹیوں کی عزتیں سلامت رکھے ۔ جو یہ بھی اچھی طرح جانتی ہیں کہ پھٹی ہوٸی چادر سے سر کیسے ڈھانپنا ہے اور یہ بھی جانتی ہے کہ اسے نامحرم مردوں سے اپنی عزت کو کیسے بچانا ہے ۔ یہ جو لوگ ایسی باتیں کر کے اپنی دانشوری کے جوہر دیکھاتے ہیں کہ غریب کی بیٹی کے سر پر چادر دو ، عمرہ چھوڑو ، حج چھوڑو ، میلاد چھوڑو ، مسجد چھوڑو ، مسجد کا خیال نہ کرو صرف اور صرف غریب کی بیٹی کی چادر کا سوچو تو میں ایسے دانشوروں سے کہنا چاہوں گا کہ اپنی آنکھوں اور عقل پر بندھی پٹی کو کھول کر دیکھو کسی غریب کی بیٹی بغیر چادر کے نظر آگٸی تو کہنا ، کسی غریب کی بیٹی پھٹی ہوٸی جینز میں نظر آگٸی تو کہنا ، کسی غریب کی بیٹی بغیر دوپٹے کے نظر آگٸی تو کہنا ، اگر غریب کی بیٹی اپنی عزت کا سودا کرتی نظر آگٸی تو کہنا ، غریب کی بیٹی اگر کسی سے محبت بھی کرے گی ، اسے ٹوٹ کر چاہے گی بھی تو بھی کبھی بھی اس کے سامنے بغیر دوپٹے پھٹی ہوٸی جینز اور عریاں لباس پہن کر نہیں جاٸے گی ۔ خدارا بند کرو یہ تماشا غریب کی بیٹی ، غریب کی بیٹی ، غیب کی بیٹی ، خدا کے لیے مت بناو تماشا غریب کی بیٹی کے دوپٹے کا کیونکہ غریب ہے تو کیا ہوا اس کے پاس غیرت مند باپ ، عزت دار بھاٸی ، عزت دار شوہر موجود ہے اس کی فکر کرنے کے لیے جو اس کےسر پر سے کبھی چادر اترنے نہیں دیتے ، غریب کی بیٹی کے پاس چار محافظ موجود ہیں جو اس کی عزت کے رکھوالے ہیں ۔

    غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والے دانشوروں فکر کرنی ہے تو آٶ فکر کرتے ہیں ، اس بیچاری غریب لڑکی کا جس کے پاس نا تو غیرت مند باپ ہے نا عزت دار بھاٸی اور شوہر ، آٶ فکر کریں اس بیچاری عورت کی جسے روز نیم عریاں لباس پہن کر ، کبھی چند روپے کے شیمپو اور صابن کے لیے ٹی وی پر آ کر نہانا پڑتا ہے سب کے سامنے ، کبھی اسے چند منٹ کے ڈرامے کے لیے کسی نامحرم کے بستر پر اس کے ساتھ لیٹنا پڑتا ہے ، کبھی اسے عریاں لباس پہن کر ایوارڈ شو میں نامحرم کی بانہوں میں ناچنا پڑتا ہے ، تاکہ اس بیچاری کے باپ ، بھاٸی ، شوہر کو اس کا بوجھ نا اٹھانا پڑے بلکہ یہ خود کما کر انہیں کھلاٸیں ۔ غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والو ! ان امیروں کی بیٹیوں کے دکھ سمجھو ، انہیں اپنی زکوة ، خیرات اور صدقات میں سے حصہ دیں تاکہ یہ بیچاریاں پھٹی ہوٸی جینز ، عریاں لباس اور بغیر دوپٹے کے گھومنے کی بجاٸے با پردہ اور پورا لباس خرید کر پہن سکیں ۔ غریب کی بیٹی کی چادر کی فکر کرنے والے مفکرو ! آٶ امیر کی بیٹی کا درد سمجھیں تاکہ اسے دو دو ٹکے کے نامحرم لوگوں کے ساتھ ناجاٸز ڈرامے اور اشتہار نا کرنے پڑیں ، آٶ بنو سہارا ان امیروں کی بیٹیوں کا جن کے تم دیوانے ہو ، جن کے تم فین ہو ، جن کی ذات سے تم متاثر ہو کر ان کی Ids کو فالو کرتے ہو ، ان کی فضول پوسٹس پر پاگلوں کی طرح کمنٹ کرتے ہو تاکہ وہ کسی طرح تم لوگوں کو رپلاٸے دیں ۔ پھر اگر کوٸی رپلاٸے دے دے تو کمنٹ کو سیو کر کے اسے پوسٹ کر کے اپنے چھوٹے پن کاثبوت دیتے ہو ، اور ایسا کرنے سے پہلے یہ بھی نہیں سوچتے کہ یہی ہیں وہ عورتیں جو تماری نسلوں میں بے حیاٸی پھیلا رہی ہیں ، یہی ہیں وہ عورتیں جن کی وجہ سے غریب کی بیٹی کی زندگی عذاب ہورہی ہے ، یہی ہیں وہ عورتیں جن کی وجہ سے غریب کی بیٹی کے باپ کو جہیز کے لیے لمبی لمبی لسٹیں ملتی ہیں ۔ خدارا غریب کی بیٹی کا تماشا نا بناٸیں ،
    ، غریب کی بیٹی اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ وہ نا صرف اپنا سر ڈھانپنا جانتی ہے بلکہ اپنی ، اپنے باپ ، اپنے بھاٸی ، اپنے شوہر اور اپنے بیٹے کی عزت کی حفاظت کرنا بھی جانتی ہے ۔

    اللہ پاک نام نہاد امیروں کی بیٹیوں کو ہدایت عطا فرماٸے اور سب بیٹیوں کی عزت و آبرو کی حفاظت فرماٸے ۔ آمین

  • پیسے کا دور۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟ جویریہ چوہدری

    پیسے کا دور۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟ جویریہ چوہدری

    "پیسے کا دور۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟”
    پڑوس سے ایک آنٹی آئیں کہ بیٹا دو ہزار روپے چاہئیں۔۔۔میری تنخواہ مل نہیں رہی۔۔۔۔جونہی تنخواہ ملتی واپس کر جاؤں گی،
    رمضان کا مہینہ ہے تو ضرورت پڑ جاتے۔۔۔۔۔
    میں نے پکڑاتے ہوئے تسلی دلائی کہ آپ بے فکر رہیں،
    آسانی سےہو گئے تو ٹھیک، نہیں تو کوئی ضرورت نہیں واپسی کی۔۔۔
    صرف دو سو روپے ہوں گے آپ کے پاس۔۔۔۔۔بیٹے نے کام پر جانا تھا،تو کرائے کے لیئے چاہیئے تھے۔۔۔۔۔دوسری آنٹی آئیں۔۔۔۔ !!!!

    آج کا دور واقعی پیسے کا دور ہے۔۔۔۔
    میں نے امی جی سے مجلس سجاتے ہوئے کہا۔۔۔۔!!!!!
    کیونکہ امی جی آج تو ہر چیز پیسے کی ہو گئی ہے۔۔۔۔تعلیم،صحت،خوشی،غمی۔۔۔ چند قدم تک جانا ہو تو پیسے کے ساتھ۔۔۔
    بچوں کو تعلیم دلانے کا خواب سجے تو لاکھوں کی فیسیں ایڈوانس بینک میں موجود ہوں تب۔۔۔۔
    صحت کی بات آئے تو ہزاروں جیب میں موجود ہوں تب کسی ڈاکٹر کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔۔۔۔
    خوشی کا موقع آئے تو ہوٹلوں کے اخراجات لاکھوں میں۔۔۔۔
    ملبوسات،زیورات اور جہیز کی مد میں کروڑوں کو چھوتے بِل۔۔۔
    غمی کا لمحہ آئے تو پہلی فکر مہمانوں کو ڈیل کرنے کی،،،
    ان کی چائے،پانی کے بندوبست کی۔۔۔۔
    ہر فنکشن کے لیئے نیا جوڑا۔۔۔۔
    ہر ملاقات کے لیئے الگ سوٹ۔۔۔۔
    ہر روز نئی ڈشز،اور اخراجات۔۔۔
    بچوں کے روزانہ کے الگ حساب۔۔۔
    واقعی ماں جی یہ دور پیسے کا آ گیا ہے ناں۔۔۔
    اس کے بغیر تو اب اک قدم بھی چلنا مشکل ہو گیا ہے۔۔۔۔؟؟؟؟
    صحیح کہا تم نے۔۔۔۔
    اب تو رشتہ داریاں بھی پیسے کے بل بوتے پر ہی ہیں۔۔۔۔
    جس کے پاس دولت ہے اس سے سب کے تعلقات۔۔۔۔اور جس کا ہاتھ ذرا تنگ اس سے ایک گھر کے بندے بھی اجنبی اجنبی۔۔۔۔
    مائیں،بہنیں بھی اس بیٹے،بھائی کے ساتھ رہتی اور چلتی ہیں جو زرا عیش کرا دے۔۔۔۔!!!!!
    لیکن ماں دیکھیں ناں پہلے وقتوں میں بھی لوگ گزارا کرتے تھے ناں؟
    تو کیسے ہو جاتا تھا۔۔۔؟؟؟؟؟
    بیٹی!!!!
    تب لوگ کپڑوں کے اندر رہتے تھے۔۔۔۔پھٹ کر باہر نکلنے کے عادی نہ تھے۔۔۔
    عاجزی و شکر کے پیکر تھے۔۔۔
    ہزاروں ایکڑ زمینیں رکھنے کے باوجود بطور فصل ہونے والی دال پر گزارا کر لیتے تھے۔۔۔۔
    بچوں کو سرکاری سکولوں میں پڑھا لیتے تھے کہ جس نے پڑھنا ہے وہ جہاں بھی جائے پڑھ لے گا۔۔۔۔اس کے لیئے پرائیوٹ ادارے یا بھاری فیس سٹیٹس نہ تھی۔۔۔
    سبزی روزانہ لانے کا رواج ہی نہیں تھا۔۔۔۔۔دال پہ دل نہ کرتا تو دیسی مرغ ذبح کر کے بھون لیتے۔۔۔۔مٹن لے آتے تھے یا پھر گھر میں ہی موجود بکری کا چھوٹا موٹا بچہ ذبح کر لیا جاتا تھا۔۔۔۔
    دن میں دہی،لسی کا استعمال کرتے تھے اور صحتمند و توانا رہتے تھے۔۔۔۔
    لباس عزت والا پہنتے تھے۔۔۔۔سادہ زیب تن کرتے تھے
    اور ہر فنکشن پر پیسے پھونکنے کا رواج کوئی نہیں تھا بلکہ ایک ہی سوٹ سے کئی تقریبات اٹینڈ ہوتی تھیں۔۔۔
    بڑے بڑے سرداروں کے گھر بھی ہر وقت پیسہ ہی پیسہ کی کوئی رٹ نہ ہوتی تھی۔۔۔۔
    اور بمشکل چند روپے ہی گھر میں موجود ہوتے تھے۔۔۔۔!!!!!!
    خوشی،غمی کے مواقع مل جل کر ڈیل کیئے جاتے تھے اور ایک دوسرے کی مالی معاونت بھی کر دی جاتی تھی،
    کسی کے مہمانوں کو سنبھال لیا جاتا۔۔۔۔کسی کے لیئے کھانے کی ذمہ داری اٹھا لی جاتی تھی۔۔۔!!!!!
    بیماریاں تھیں ہی بہت کم کہ لوگوں کو اسپتالوں کا رخ کرنے کی نوبت ہی کم آتی تھی۔۔۔۔
    اور گھر کے ہر ہر فرد کے لیئے الگ الگ مہنگے ڈاکٹروں کے علاج کی رسم ایجاد نہ ہوئی تھی۔۔۔
    بلڈ پریشر تھے،نہ شوگر کی پریشانی،
    آلودگی کے مسائل تھے نہ ڈپریشن کے عارضے۔۔۔۔

    خاندانی نظام مضبوط تھا،
    سب کی عزت سانجھی تھی۔۔۔۔
    ایک کا دکھ سب کا دکھ تھا
    اور ایک کی پریشانی سب کی پریشانی ہوتی تھی۔۔۔۔۔
    ایک دوسرے کے پیچھے قربانی کا جذبہ موجود تھا۔۔۔۔
    بچوں کو گھر پر ہی مائیں خالص خوراک کھلا پلا دیتی تھیں،
    جو ان کے توانا،مضبوط،قد بڑھنے میں معاون ثابت ہوتی تھی،
    آج کی طرح پیسے کے بل بوتے پر،برگر،پیزا اور جنک فوڈز کے کاروبار نے ترقی نہیں پکڑی تھی،،،
    اور بچوں کی کم عمری میں ہی صحت کو سنجیدہ خطرات لاحق نہیں ہوتے تھے۔۔۔۔!!!!!
    بچے کس کو پیارے نہیں ہوتے مگر ان کی تربیت کا تقاضا ہوتا تھا کہ
    ہزاروں کے ڈریسز لے کر پھر انہیں ایک ہی بار پہن کر الماریوں کی زینت بنا دینے کا رواج نہیں تھا۔۔۔بلکہ ایسے اچھے لباس تو شاذ و نادر ہی تیار ہوتے تھے۔۔۔
    اور ایک بار لے کر پھر کئی کئی مواقع پر وہی زیب تن کیۓ جاتےتھے۔۔۔۔۔بڑے بھی اسی اصول پر چلتے تھے۔۔۔
    تکلف،بناوٹ،ریا نہیں تھا۔۔۔۔!!!!
    مجھے یاد آئی کہ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کی وہ بات یاد آگئی کہ جو انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے کہی تھی کہ:
    "جو چادریں میں نے لپیٹ رکھی ہیں،مجھے انہی میں کفنانا۔۔۔۔۔کیونکہ نئی چادریں زندہ مسلمانوں کا حق ہیں”۔۔۔۔رضی اللّٰہ عنہ۔۔۔
    آج ہم نے اپنی پریشانیاں خود تخلیق کر لی ہیں۔۔۔۔

    میں سوچ میں ڈوبتی چلی جا رہی تھی۔۔۔۔
    واقعی ماں وہ دور تو بہت اچھا تھا پھر۔۔۔۔!!!!!!
    سکون،آشتی والا۔۔۔۔۔حسد بغض سے دور،
    سادگی اور اخلاص والا۔۔۔!!!
    آج اگر امیر امیر ترین ہے،
    تو غریب،غریب تر واحساس کمتری میں مبتلا۔۔۔۔
    عدم توازن کا شکار زندگیاں ہیں۔۔۔
    اور ہر شئے کی فراوانی کے باوجود جزو بدن بننے سے انکاری۔۔۔!!!!
    ہم آج خالص غذا سے محروم ہیں،
    کھادوں والی خوراک،لذت و ذائقہ سے خالی،،،
    مہنگائی کے جن نے لوگوں کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔۔۔
    بجٹ میں توازن آنے کا نام نہیں لیتا۔۔۔۔ایک کام نمٹاؤ،دوسرا تیار۔۔۔

    واقعی ماں جی۔۔۔
    یہ سچ ہے اب آپ صرف سبزی،فروٹ کی مد میں مہینہ کے ہزاروں روپے خرچ کر دیتی ہیں،
    اور دال کا پکنا ہمیں پسند نہیں ہوتا،
    لیکن سچ پوچھیں تو روٹی تو اسی دن مزے سے کھائی جاتی ہے۔۔۔۔جس دن آپ اپنے خاص طریقہ سے دال بنا کر دیتی ہیں۔۔۔میں نے مزاح کرتے ہوئے کہا
    ہاں !!!
    بچے یہ بھی خوراک کا حصہ ہے اور انسان کو متفرق اشیاء استعمال کرنی چاہئیں۔۔۔۔
    لیکن امی جی!
    مجھے اکثر سوچ آتی ہے کہ
    وہ غریب آدمی جو دن کا بمشکل پانچ سو روپیہ کما لائے تو اس سے کیا کیا ضرورت پوری ہوتی ہو گی۔۔۔۔؟؟؟؟
    بجلی،گیس کے اخراجات،
    آسمان کو چھوتی اشیائے خوردونوش کی قیمتیں۔۔۔۔
    سبزی فروٹ کے استعمال کی خواہش،،،
    مکانوں کےکرائے،
    گاڑی کا کرایہ،
    گھر میں بچوں کی معصوم فرمائشیں یا چھوٹی چھوٹی چیزوں پر قیمت کے برابر لگے ٹیکسوں کی ادائیگی۔۔۔۔؟؟؟
    بچوں کے تعلیمی اخراجات یا والدین کی بیماریوں کا علاج۔۔۔۔؟
    اور نفسا نفسی کے عالم میں یہ جنگ ہر کوئی خود ہی لڑ رہا ہے۔۔۔۔
    اور دل تو ہر ایک کا ہوتا ہے ناں۔۔۔؟؟؟؟

    ہم تو اڑوس پڑوس سے بھی بے خبر رہتے ہیں۔۔۔
    مصروف دور ہے ناں۔۔۔۔
    پیسے کا دور ہے۔۔۔۔۔
    اپنے کاموں سے ہی فرصت کہاں؟

    میرے پاس سب اپنا ہے،
    کوئی ضرورت نہیں کسی کی۔۔۔
    مجھے بھلا کیا تَک ہے کسی کی؟؟؟
    یہ ہوتے ہیں وہ الفاظ جو ہمارا تکیہ کلام ہوتے ہیں اکثر۔۔۔
    ہم بے حسی کے دور میں جی رہے ہیں ناں۔۔۔۔۔
    بے سکونی کے دور میں۔۔۔۔
    پیسے کے دور میں۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    بس یہی ہمارا اوڑھنا بچھونا ہے ناں؟
    ہمارے پاس دولت کی کمی نہیں ہے،،،
    ہاں ہم نے دولت کے خرچ کا فن تاحال نہیں سیکھا،،،
    یہی وجہ ہے کہ نیچے سے اوپر تک کرائسز کا رونا ہماری فطرت میں شامل ہو گیا ہے۔۔۔۔
    اور بہتری کی امید پر ہی ہمارے روز و شب گزر رہے ہیں۔۔۔۔؟؟؟
    کئی سالوں سے۔۔۔۔۔
    عشروں سے۔۔۔۔
    نصف سے زائد صدی سے۔۔۔۔
    مگر مرض بڑھتا گیا،جوں جوں دوا کی والی صورت حال سے دوچار و نبرد آزما رہتے ہیں۔۔۔۔
    کیا واقعی آج کا دور پیسے کا دور ہے؟
    کیا پیسے کے بغیر اک پل بھی جینا ناممکن ہے۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    کیا ہمارے آباء و اجداد ہم سے بھلے چنگے باعزت وقت گزار کر نہیں گئے۔۔۔۔؟؟؟
    اس سب پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔۔۔۔
    قوم کے نوجوانوں کے لیئے باعزت روزگار کے حصول کو آسان و یقینی بنانا بھی۔۔۔۔
    کہ اپنے ہاتھ سے کمائے گئے چند لقمے سب سے بہترین کمائی ہے۔۔۔۔!!!!!
    یہی وجہ ہے کہ آج ہماری ڈگریوں کا مقصد بھی صرف آگے نکل کر کچھ کما لینے کے سوا کچھ نہیں رہا۔۔۔۔؟؟؟؟
    سوسائٹی کے ضرورت مندوں کا خیال واحساس سب سے اول ذمہ داری ہے۔۔۔۔۔
    کہ یہ دور تو بلاشبہ پیسے کا ہے۔۔۔اور اس کے بغیر اک قدم بھی چلنا مشکل ہے ناں۔۔۔۔؟؟؟؟
    اورسہولیات و آسانیوں کی فراہمی ہی اس کے بخار کے ٹمپریچر کو کم کر سکتی ہے۔۔۔!!!!
    کیونکہ ہمارے کچھ انداز بدل گئے ہیں۔۔۔کچھ کردار۔۔۔۔۔؟
    اور منزل کے حصول کے لیئے ان دونوں کی اصلاح ازحد ضروری ہے۔۔۔ہم جس قدر زیادہ کے چکر میں گھومتے رہتے ہیں۔۔۔۔
    ہم سے آگے بٹورنے والے ہم سے بھی زیادہ مستعد نظر آئیں گے۔۔۔ !!!
    ہم نےاس سوچ کوبھی پروان چڑھانا ہے کہ ہر کام کے لیئے پیسہ ہی نہیں چاہیئے ہوتا۔۔۔۔بلکہ کردار،ٹیلنٹ ، فن،سکون اور اخلاقیات بھی اس دنیا کی رونقوں میں اضافہ کر سکتے ہیں۔۔۔۔ہر وقت پیسہ کے فوبیا میں ہی مبتلا ہو کر ہم حقائق سے بہت دور تو نہیں نکلتے جا رہے ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟

  • ذرا ٹھہریئے۔۔۔۔۔!!!!!!!!!! جویریہ چوہدری

    ذرا ٹھہریئے۔۔۔۔۔!!!!!!!!!! جویریہ چوہدری

    قارئین !!!!
    پرانے وقتوں میں کسی شادی بیاہ کے موقع پر۔۔۔۔جو زیادہ ہی انجوائے منٹ کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔وہ ناچنے گانے والے بلا لیا کرتا تھا۔۔۔۔ !!!!!
    یعنی یہ کام شرفاء کو زیب نہیں دیتا تھا کہ وہ خود ایسے کام کرنے لگ جائیں۔۔۔۔
    اور جو حد سے بڑھ کر ناچنے کودنے والیوں کو بلانے پر مصر ہوتا تو گھر کا کوئی بزرگ اس بات کو اپنی توہین تصور کرتے ہوئے ناراضگی کا عندیہ دے دیتا تھا کہ۔۔۔۔اگر تم ایسا کرو گے۔۔۔۔تو میں نے ایسی محفلوں میں بیٹھنا ہی نہیں ہے۔۔۔۔!!!!!!
    یعنی تم جانو اور تمہارے کام۔۔۔۔
    بلکہ بعض اوقات تو گھر سے چلے جانے کی دھمکی بھی دے دی جاتی تھی۔۔۔۔
    چنانچہ اس بات کو بھی اپنی توہین تصور کرتے ہوئے کہ اگر اس موقع پر بزرگ نہ ہوں تو لوگوں کو کیا منہ دکھائیں گے۔۔۔۔؟؟؟
    تو نو جوان ایسی سوچ و حرکت سے باز رہ جاتے تھے۔۔۔۔

    رفتہ رفتہ ہم ترقی کی منازل طے کرنے لگ گئے۔۔۔۔اور ہر کام میں مہارت اور سب فن خود سیکھنے لگ گئے۔۔۔۔
    سو آج کسی بھی شادی کے موقع پر یہ سارا کام ہم خود ہی کر لیتے ہیں ناں؟
    گھر کی بیٹیاں۔۔۔۔۔کزنیں۔۔۔رشتہ دار خواتین دھرتی کو ہلاتی خود ہی یہ کام کر سکتی ہیں۔۔۔۔
    بلکہ بعض اوقات تو ماں جیسے عظیم اور قابل احترام رشتے سے بھی کہا جاتا ہے کہ:
    محفل تاں سجدی۔۔۔۔جے نچے منڈے دی ماں۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
    اور مرد کزنز اور دولہا کے دوست اپنوں کے روپ میں آنکھوں کی تسکین کے ساتھ ساتھ وڈیو آپریٹنگ میں مصروف نظر آتے ہیں۔۔۔؟؟؟

    ہر ہاتھ میں موجود موبائل فون نے یہ کام اور بھی آسان اور ممکن کر دیا ہے۔۔۔
    اور یہ سب کندھے جھٹک کر جواب دیا جاتا ہے کہ:
    Its our culture…no problem….!!!!
    لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اسلامی ثقافت کے فروغ اور بقاء کے لیئے ہمارے آباء نے اتنی عظیم قربانیاں دی تھیں تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کو اپنی شناخت اور ثقافت برقرار رکھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔۔۔۔
    مگر وہ نسلیں آج بھی انڈین گانوں کی دھن پر ناچنا اپنا وقار سمجھتی ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟

    پہلے وقتوں میں مووی والا بلایا جاتا تھا۔۔۔۔اور اسے بھی شرفاء اپنی عزت کے خلاف سمجھتے تھے کہ ہماری بہنوں،بیٹیوں کی تصاویر کوئی اجنبی کیوں لیتا پھرے۔۔۔۔؟؟؟
    اور سائیڈ پر۔۔۔ذرا ہٹ کر بیٹھنے کو ترجیح دی جاتی تھی۔۔۔
    مگر رفتہ رفتہ ہم نے آگے بڑھنا سیکھ لیا اور شادی اٹینڈ کرنے والی خواتین نے یہ فریضہ سنبھال لیا۔۔۔۔مخلوط نظام میں مرد بھی پیچھے نظر نہیں آتے۔۔۔۔ اور ایک دن میں ہزاروں تصاویر ایک دلہن کی بآسانی لے لی جاتی ہیں۔۔۔۔۔ !!!!
    گھر جا کر جس جس کو دکھائیں۔۔۔۔جس جس سے شیئر کریں۔۔۔۔کچھ غلطی تصور نہیں کی جاتی۔۔۔اسے خیانت قطعاً نہیں کہا جاتا۔۔۔!!!!!!
    آج ہماری اور غیر مسلموں کی شادی میں کوئی واضح فرق نظر نہیں آتا۔۔۔۔فلموں اور ڈراموں کے مکمل سین آزمائے جاتے ہیں۔۔۔
    ہم فتویٰ بازی اور تنقید کرنے میں بس ماہر ہو گئے ہیں۔۔۔۔
    برائیوں کے سدباب کے لیئے ہمارے پاس پلان نہیں ہیں۔۔۔۔!!!!
    آج بزرگ دھیمے لہجے میں کہتے نظر آتے ہیں جی کیا کریں۔۔۔۔بس بچوں کی مرضی تھی۔۔۔۔
    یعنی طوفان مچائے رکھا۔۔۔۔ہماری اب کون سنتا ہے۔۔۔؟وغیرہ

    ایک وقت تھا کہ والدین کی مرضی کے خلاف کچھ کرنا اولاد کی رسوائی سمجھی جاتی تھی۔۔۔
    مگر رفتہ رفتہ ہم نے ترقی کر لی اور والدین کو اپنی خواہشات کے سامنے جھکا کر آگے لگا لیا۔۔۔۔؟؟؟
    ہماری تعلیم تو یہ ہے کہ پیارے رسول حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
    "بے شک ہر دین کی ایک خصلت ہوتی ہے،اور اسلام کی خصلت حیاء ہے۔۔۔۔”
    (رواہ ابن ماجہ)۔

    یاد رکھیئے کہ ہر انسان آزاد ہے۔۔۔
    اور اپنی منشا کے مطابق جینے کا حق دار بھی۔۔۔۔
    مگر امت محمدیہ کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک اچھائی سے محبت اور تلقین اور برائی سے نفرت و بچانے کی بھی سخت تاکید کی گئی ہے۔۔۔!!!

    سب سے اوّل ذمہ داری تو والدین کی ہوتی ہے۔۔۔۔
    کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت اس انداز میں کریں کہ وہ تا حیات ان کے لیئے باعث فخر اور سرمایہ افتخار بنیں۔۔۔۔
    اسلام کی حقیقی تصویر اور وقار کہلائیں۔۔۔۔
    اور اس فطری و آسان۔۔۔با برکت اور باعث فلاح پیغام کی عملی تصویر بن جائیں۔۔۔۔
    اگر ہم خود ہی اپنی تہذیب و ثقافت کو بیچنے والے بن گئے۔۔۔۔
    تو ہماری ثقافتی اقدار کے بقاء کا ذمہ دار کون ہو گا۔۔۔۔
    تعلیمی ادارے اپنی قوموں کی اصل پہچان کے ضامن ہوتے ہیں۔۔۔۔
    اور ذرائع ابلاغ قوم کی تربیت اور رائے عامہ ہموار کرنے کا باعث۔۔۔۔
    کسی بھی قوم کی نسل نو کی تربیت کے یہ تین ستون ہیں۔۔۔
    اگر ایک ستون میں بھی لرزش پیدا ہو گی تو سمجھیئے کہ تربیت کی عمارت لرزاں رہے گی۔۔۔!!!!!!!!
    آج ہماری تربیت کی کمی کے ہی المیے ہیں کہ کوئی کسی بے بس کی توہین کرتے ہوئے وڈیو بنا رہا ہوتا ہے۔۔۔۔تو کوئی تشدد اور جان سے مار دینےکے واقعات کی اپ لوڈ۔۔۔۔
    ہمارے اخلاق و اقدار کہاں کھو گئے۔۔۔۔؟؟؟
    ہم خود ہی خود کو تماشہ بنا دینے پر کیوں بضد ہیں۔۔۔۔؟؟؟؟آئیے!
    اخلاق کے سب سے بڑے علمبردار اسلام۔۔۔اور داعی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے اپنے روح و بدن کو منور کرنے کی کوشش کریں۔۔۔
    حیا کا لبادہ اوڑھ لیں۔۔۔۔
    اور دوسروں کے لیئے بھی آسانیاں بانٹنے والے۔۔۔۔نقصان ہٹانے والے۔۔۔اور عزتوں کے محافظ بن جائیں۔۔۔۔
    اللّٰہ تعالی کے پیغام کو مکمل سمجھنے کی کوشش کریں۔۔۔۔ادھوری نہیں۔۔۔۔
    اپنے گھر سے معاملات کی درستگی کا بیڑہ اٹھائیں۔۔۔۔کہ پہلی مملکت آپ کی وہی ہے۔۔۔۔
    بنی اسرائیل پر اللّٰہ تعالی نے بے شمار انعامات کیۓ تھے۔۔۔۔
    مگر وہ ایسی قوم تھی کہ اللہ کے احکامات میں ردوبدل کرنے اور اپنی خواہشات کے تابع کرنے سے باز نہ آتی تھی۔۔۔۔
    تو اللّٰہ غضب کا شکار ہوئی۔۔۔ان کی اسی خرابی کو یوں بیان کیا گیا۔۔۔۔
    ارشاد ربانی ہے:
    "کیا تم لوگوں کو بھلائیوں کا حکم دیتے ہو،
    اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو۔۔۔۔باوجود یہ کہ تم کتاب پڑھتے ہو۔۔۔کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں۔۔۔؟؟؟”
    (البقرۃ:44)

    کہیں فرمایا:
    "کیا تم بعض احکام پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو۔۔۔؟
    تو جو بھی ایسا کرے اس کی سزا اس کے سوا کیا ہو کہ دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذابِ شدید۔۔۔۔اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں۔۔۔”
    (البقرۃ:85)
    اور ہمیں اللّٰہ تعالی کے احکامات کے عموم کو سمجھنا ہو گا۔۔۔۔
    کیونکہ اللّٰہ تعالی کے احکامات پر ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کا ہی یہ امتحان ہے۔۔۔۔
    بہت آگے بڑھتے بڑھتے۔۔۔۔ہمیں اپنی اقدار۔۔۔۔اخلاقیات۔۔۔۔تعلیمات کو کسی بھی میدان میں پسِ پشت نہیں ڈالنا۔۔۔۔۔
    تہذیب،جدت اور حیا و کردار کا اسلام سے بڑھ کر کوئی پیامبر ہے ہی نہیں۔۔۔۔۔
    جو ہر خلافِ تہذیب بات کو مہذب ہی نہیں کہتا۔۔۔۔۔۔ !!!!!
    اپنے گریبان میں جھانک کر۔۔ذرا ٹھہر کر۔۔۔۔کچھ سوچیں تو سہی۔۔۔۔
    کیا خبر ہمارے دلوں کے بند دریچے اس امن و بہار بھرے پیغام کے جھونکوں سے کھل جائیں۔۔۔۔اور ہم حقیقی خوشی کی تلاش میں نکل کھڑے ہوں۔۔۔۔
    ہاں حقیقی خوشی۔۔۔۔
    اپنے پروردگار کی رضا والے کاموں پر عمل کی خوشی۔۔۔۔۔
    ہمارے دلوں کو اطمینان سا مل جائے۔۔۔۔
    اور ارد گرد ایک سکون سا چھا جائے۔۔۔۔۔
    اور اس سکون کا بدلہ۔۔۔۔”ابدی سکون”ہو گا۔۔۔۔ان شآ ء اللّٰہ۔۔۔ !!!!
    ¤¤¤¤¤ ¤¤¤¤¤

  • موروثیت ۔۔۔ زین اللہ خٹک

    موروثیت ۔۔۔ زین اللہ خٹک

    مشرق خصوصاً انڈو پاک میں موروثیت ہر شعبۂ زندگی میں نفوذ کرگئی ہے۔ موروثیت صرف سیاست میں نہیں بلکہ ہر شعبے میں موجود ہیں۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں معاشی، معاشرتی اور سماجی انصاف نہیں۔ ہم عموما سنتے ہیں کہ آباؤ اجدا کی روایات اور نقش قدم نہیں چھوڑ سکتے ہیں۔ مولوی کا بیٹا مولوی، کلرک کا بیٹا کلرک، استاد کا بیٹا استاد، چوکیدار کا بیٹا چوکیدار، پیر کا بیٹا پیر، چیئرمین کا بیٹا چیئرمین ،سیاست دان کا بیٹا سیاست دان یہ سب موروثیت کی مثالیں ہیں۔ جن کو عام زبان میں خاندانی پیشہ کہا جاتا ہے۔ چونکہ ہمارے معاشرے میں سوچ وفکر کی کمی ہے۔ لہذا ہم ہر شعبۂ زندگی میں روایات پسند واقع ہوئے ہیں۔ روایات کو آگے بڑھاتے ہیں۔اور یہ سب سے آسان کام ہے۔ کیونکہ ہر کردار نے روابط پیدا کیے ہیں۔ ان آسانیوں کی وجہ سے بچوں اور خاندان کے دیگر افراد کو ایڈجسٹ کرنا آسان ہو تا ہے۔ مثال کے طور پر چوکیدار ریٹائرمنٹ سے پہلے اپنے بیٹے کو با آسانی اپنی جگہ ایڈجسٹ کرسکتا ہے۔ بیٹے کے لیے بھی چوکیداری آسان ہوتی ہے۔ مولوی صاحب اپنی جگہ بیٹے کو ایڈجسٹ کرتے ہیں تاکہ یہ سیٹ کسی اور کے ہاتھ میں نہ چلی جائے۔ اسی طرح سیاست دان بھی اپنے بچوں کو سیاسی میدان میں اتارتے ہیں۔ تاکہ جانشین کا کردار ادا کریں۔ اس وقت پاکستان کی اسمبلیوں میں 53 فیصد موروثی سیاست دان موجود ہیں۔ ان موروثی سیاست دانوں کی وجہ سے ملک کے مسائل حل نہیں ہوتے کیونکہ ان کا تعلق عوام سے نہیں۔ بلکہ یہ اسلام آباد ، پشاور ، لاہور، کراچی اور کوئٹہ کے پوش علاقوں کے بنگلوں میں عالی شان زندگی گزارتے ہیں۔ الیکشن کے دنوں میں فصلی بٹیروں کی طرح نازل ہوتےہیں۔ مقامی لوگوں اور مسائل سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ پہلے زمانے میں ہر گاؤں میں چند کرائے کے ایجنٹ ملتے تھے۔ آج کل سوشل میڈیا نے آسانی پیدا کردی۔ ان موروثی سیاست دانوں کی وجہ سے سیاست اور سیاسی پارٹیاں فروغ نہیں پاتیں۔ یوں یہ موروثی سیاست دان ہر پارٹی کی ضرورت بن جاتے ہے۔ یہ موروثی سیاست دان الیکشن سے پہلے پارٹیاں تبدیل کرتے ہیں۔ عوام بھی ذہنی طور پر موروثیت کی شکار ہوتی ہیں لہذا موروثیت جیت جاتی ہے۔ موروثیت ہمارا موروثی مسئلہ ہے۔ موروثیت کی شکست اس صورت ممکن ہے جب معاشرے میں معاشی، معاشرتی اور سماجی انصاف ہو اور سوچنے کے زاویوں کو بدل کر کے رکھ دے۔

  • قادیانیت اور سوشل میڈیا پر ایک نظر ۔۔۔ حافظ عبدالرحمٰن منہاس

    قادیانیت اور سوشل میڈیا پر ایک نظر ۔۔۔ حافظ عبدالرحمٰن منہاس

    پہلے کبھی اخبارات کا دور تھا جو کچھ ہوتا تھا سامنے آ جاتا تھا لیکن آج کل سائنس و ٹیکنالوجی نے ہم کو سوشل میڈیا کا زمانہ دے دیا نہ جانے آگے چل کر اور کیا کیا ایجاد ہو گا نہ جانے اس لیے کہا کہ ہم لوگ صرف فرقہ واریت ، لسانیت اور نہ جانے کن کن لڑائی جھگڑوں میں پڑے ہوئے ہیں اور جن کو ہم اپنا دشمن کہتے ہیں وہ سائنس و ٹیکنالوجی میں دن بہ دن ترقی کرتے جا رہے ہیں ہم اس معاملے میں کوئی مقابلہ نہیں کر پا رہے

    _______________________
    خیر بات تھی قادیانیوں کی تو میرے دوستو سوشل میڈیا پر فیس بک ہو یا پھر ٹویٹر ہر جگہ ہمارے پاکستانیوں کے اکاونٹ ہیں اور شاید نماز بھی پڑھیں یا نہ پڑھیں لیکن فیس بک اور ٹویٹر پر اکاونٹ بنانے والے ہم لازمی اپنا سٹیٹس اپڈیٹ کرتے ہیں یا پھر کسی نہ کسی کی پوسٹ پر کمنٹ اور لائک تو لازمی کرتے ہیں دیکھا جائے تو ہر طرح کے گروپس اور پیجز بنے ہیں اور ہر طرح کی آئی ڈیز بھی بنی ہیں اب اگر ہم آئی ڈیز کے ناموں پر غور کریں تو لازمی بات ہے اپنے نام پر ہی آئی ڈی بنائیں گے یعنی میں مسلمان ہو تو میرا نام بھی اسلامی ہو گا تو میری آئی ڈی اسلامی نام سے ہی بنے گی اور میں جہاں بھی کسی بھی گروپ یا پیجز میں کمنٹ یا لائک کروں گا تو دیکھنے والے یا میرے کمنٹ کا جواب دینے والے سمجھ جائیں گے کہ یہ مسلمان ہے

    بالکل اسی طرح قادیانی جن کو الحمد اللہ پاکستان کے قانون کے مطابق غیر مسلم قرار دے دیا گیا تھا جو آج بھی اسی قانون کے اندر آتے ہیں پاکستان کے قانون کے تحت کافر ہی ہیں ___________مگر قادیانی خود کو کافر نہیں سمجھتے بلکہ وہ خود کو مسلمان ہی سمجھتے ہیں لہذا اسی کی بنیاد پر قادیانی اپنے نام بھی مسلمانوں کے ناموں کی طرح ہی رکھتے ہیں تو جس طرح ہم مسلمان فیس بک ٹویٹر استعمال کرتے ہیں بالکل ایسے ہی قادیانی بھی کرتے ہیں اب نام ہمارے اور قادیانیوں کے ایک جیسے ہی ہیں اسی بات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے قادیانی سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹوں پر کمنٹ کرتے ہیں اور ایسے پیجز اور گروپس بھی چلاتے ہیں جو مسلمانوں میں فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہوں جو پاک فوج کے خلاف باتیں کرتے ہوں لیکن ہم کو علم نہیں ہوتا کہ یہ قادیانی ہے یا نہیں جس کی وجہ سے ہم بھی مسالے دار فرقہ واریت کی باتوں میں آ کر قادیانیوں کا ساتھ بھی دیتے ہیں اور اپنی آخرت بھی خراب کرتے ہیں

    اب یہ کام بہت بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے بلکہ قادیانیت کے زیر سایہ ایسے ادارے بھی چلائے جا رہے ہیں جن کا کام ہی صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کو جتنا ہو سکے آپس میں لڑواؤ کیوں کہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ جو قادیانی نہیں وہ مسلمان ہی نہیں

    لہذا میرے دوستو فرقہ واریت ،لسانیت ،مذہب ، پاکستان اور پاک آرمی پر تنقید کرتے ہوئے یا بحث کرتے ہوئے اس بات کا خیال بھی رکھا کریں کہ جو بات میں کر رہا ہوں کیا اس بات سے یا اس کو آگے پھیلانے سے میرے دین اسلام میرے وطن پاکستان کو نقصان تو نہیں ہو گا یہ سوچ کر کمنٹ ،لائک اور شئیر کیا کریں کہ جو پوسٹ میں شئیر کر رہا ہوں کیا اس سے مسلمانوں کا آپس میں نقصان تو نہیں ہو گا ،اور مسلمانوں میں آپس میں نفرتیں تو نہیں بھریں گی ان ساری باتوں کا خاص خیال رکھنا بہت لازمی ہے

    کیوں کہ ہم بلاوجہ ہی کفار کی سازشوں کا شکار ہو رہے ہیں اگر کوئی ایک ادارہ چلا رہا ہے مسلمانوں کو آپس میں لڑوانے کے لیے تو ہم سب مل کر اُن کی سازشوں کو پروان چڑھا رہیں ہیں

    ہم کو سوچنا ہو گا بلکہ قدم قدم سوچ رکھنا ہو گا کیوں کہ ہمارے بڑوں نے بہت زیادہ قربانیاں دے کر یہ وطن عزیز پاکستان حاصل کیا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اللہ نے مسلمانوں کو پاکستان ایک خاص تحفہ دیا ہے اب تحفے کی حفاظت ہمارا کام ہے۔

  • نوجوانان پاکستان اور اقبال ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    نوجوانان پاکستان اور اقبال ۔۔۔ عبدالحفيظ چنیوٹی

    کچھ روز پہلے سفر کیلئے نکلا گھر سے تو دوران سفر اک تعلیمی ادارے کی دیوار پر لکھے گئے شاعر مشرق کے اشعار اور اک ملی نغمہ کے جملے پڑھے،

    شاعر مشرق کے اشعار

    نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر

    تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

    اقبال کے شاہین اور قائداعظم کی امیدوں کے محور و مرکز نوجوان جنہیں قائداعظم اور اقبال ؒ قوم کا سرمایہ قوم کا معمار اور قوم کا مستقبل کہتے تھے ، اقبال اور قائد کو اس ملک کے نوجوانوں سے بہت سی توقعات وابستہ تھی ، قائداعظم چاہتے تھے کہ نوجوان سیاست میں شامل ہو کر ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں لیکن افسوس قیام پاکستان کے بعد ہماری وڈیرہ شاہی اورہماری اشرافیہ نے نوجوان نسل کوروکنے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے ان کو اپنے ذاتی مفادات کی خاطر تعلیمی اداروں میں بھی استعمال کیا گیا ان کو استعمال کرکے اپنی گندی سیاست کا بازار چمکایا گیا نوجوان نسل کو ایسے مشغلے ایسا نصاب اور ایساکلچر دیا گیا کہ وہ قیام پاکستان کا مقصد ہی بھول گئے ہندو دوستی کا ایسا راگ الاپا گیا کہ ہمارے نوجوان یہ سوچنے پر مجبورہوگئے کہ اگر ہندو اتنے ہی اچھے تھے تو اتنی قربانیاں دے کر علیحدہ وطن حاصل کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔ ہمارے نوجوان جن کے ہیروز قائداعظم ، علامہ اقبال ؒ خالد بن ولید اور محمد بن قاسم ہونے چاہیے تھے آج ان کے ہیروز غیر مسلم ہیں آج وہ ہندو کلچر کے دلدادہ بن چکے ہیں آج کا نوجوان اس ملک کے حالات کو دیکھ کر صرف کڑھ سکتا ہے کیونکہ اسے مجبوریوں میں ایسے مقید کردیا گیا کہ وہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتا اعلی ڈگریاں لے کر اسے سڑکوں پر ذلیل کیا جارہا ہے حالانکہ اسی ملک میں جعلی ڈگریوں والے اونچی اونچی اقتدار کی کرسیوں پر فائز ہیں 
    آج کا نوجوان اس ملک سے دور بھاگنے کی کوشش کرتا ہے آج ہماری نوجوان نسل بیرون ملک کے خواب دیکھتی نظرآتی ہے رشوت ، سفارش ، اور اقربا پروری کے زہر نے اسے ملک سے بدظن کر دیا ہے،
    حالانکہ یہ ملک ٹیلنٹ کے لحاظ سے بہت زرخیز ہے ارفع کریم جیسے نام ہماری نوجوان نسل کیلئے تابندہ مثال ہیں بس آج کے نوجوان کو اچھی اور مخلص لیڈر شپ کی ضرورت ہے۔ اچھی لیڈر شپ ہی نوجوانوں کو قومی دھارے میں لا سکتی ہے اور ان شاءاللہ میں اس بات سے بالکل مایوس نہیں آج کا نوجوان ضرور اس ملک کو دشمنوں کی سازشوں اور اپنوں کی عنایتوں سے بچائے گا اور ہم من حیث القوم آپس کے تمام اختلافات کو چاہے و ہ فرقہ بندی کے ہو لسانی ہو جیسے بھی ہو بھلا کر ایک ہو کر اس کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں اور یہ وقت دور نہیں

    اور دوسرا ملی نغمہ شعر تھا

    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں

    اور میں سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ ہم اس پرچم کے سائے تلے کہاں کہاں ایک ہیں؟
    ہم تو اپنی اپنی برادریوں اور سیاسی وابستگیوں میں الجھے ہوئے ہیں اور ہم غیر برادری اور سیاسی کارکنوں سے الجھنے والے اور سیاسی تماش بینوں کے لیڈروں کے دفاع میں ملکی مفاد اور ملک کی املاک کو نقصان پہنچانے کا سبب بن کر
    نعرہ لگانے والے ہیں کہ
    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں،

    ہم سب کو اپنی اپنی اصلاح کرکے ملکی ترقی کیلئے کام کرنا چاہئیے تاکہ
    ہم یہ کہنے میں ذرا بھی شرم اور جھجک محسوس نا کریں
    نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر

    تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں

    اور۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں

  • صوفی ازم، وقت کی اہم ضرورت ۔۔۔ زین اللہ خٹک

    صوفی ازم، وقت کی اہم ضرورت ۔۔۔ زین اللہ خٹک

    صوفی ازم لفظ کے بارے میں محتلف روایات موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق صوفی عربی لفظ ‘صوف’ سے ہے جس کے معنی اون کے ہیں۔ کیونکہ شروع میں مسلمان اون کے بنے ہوئے کپڑے استعمال کرتے تھے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ یہ لفظ ‘صفہ’ سے ماخوذ ہے جو صحابی حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں علم حاصل کرتے اور ذکر کرتے تھے۔ بعض ماہرین کے مطابق یہ یونانی Sophia سے ماخوذ ہے۔جو معاشرے میں عقل شعور کی ترویج کرتے تھے۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ عربی لفظ صفا سے ہے جسکی معنی خالص اور صاف کے ہیں۔ کیونکہ صوفی دلوں کو بغض، گناہوں، اور برائیوں سے پاک صاف کرتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق صوفا جو لوگ اسلام سے پہلے خانہ کعبہ کی خدمت کرتے تھے۔ المختصر صوفی وہ لوگ ہیں۔ جو بغیر کسی لالچ اور، ذاتی مفاد کے تمام انسانوں کے دلوں کو پاک و صاف کرنے کی کوشش کریں۔ دل کی صفائی و اصلاح صوفی ازم کا کام ہے۔ بنیادی طور پر صوفی ازم کسی مذہب کا محتاج نہیں کیونکہ صوفی ازم بین المذاہب سوچ وفکر ہے۔ صوفی ازم مختلف ناموں سے ہر مذہب میں موجود ہے۔ صوفی کا کام پیار، محبت، امن، بھائی چارہ اور قربانی کا درس دینا ہے چاہے مذہب ہندو ازم ہو، عیسائیت ہو یا اسلام، سکھ ازم ہو یا بدھ مت۔ لہذا موجود دور میں نفرتوں، لالچ،خود غرضی، انتہا پسندی اور دیگر معا شرتی بیماریوں کے خاتمہ کے لیے صوفی ازم کی ترویج وقت کی ضرورت ہے۔