Baaghi TV

تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: مدثریوسف پاشا

آئیں! آج عہد کریں تمباکو سے جان چھڑائیں، خود بھی بچیں، دوسروں کو بھی بچائیں

انسانی صحت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ صحت مند جسم ہی ایک خوشحال زندگی کی بنیاد بنتا ہے، مگر افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں کئی ایسی عادات عام ہو چکی ہیں جو آہستہ آہستہ انسان کو موت کے قریب لے جاتی ہیں۔ ان ہی خطرناک عادات میں ایک تمباکو نوشی بھی ہے۔ سگریٹ، نسوار، گٹکا، شیشہ اور دیگر تمباکو سے بنی اشیاء نہ صرف استعمال کرنے والے فرد کی صحت تباہ کرتی ہیں بلکہ اس کے اردگرد موجود لوگوں کو بھی مختلف بیماریوں میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی کے خلاف شعور اجاگر کیا جا رہا ہے تاکہ انسان خود کو اور اپنی آنے والی نسلوں کو اس زہر سے محفوظ بنا سکے۔

تمباکو ایک خاموش قاتل ہے۔ ابتدا میں انسان اسے صرف شوق یا فیشن سمجھ کر استعمال کرتا ہے لیکن آہستہ آہستہ یہ عادت نشے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ پھر انسان چاہ کر بھی اس سے جان نہیں چھڑا پاتا۔ نوجوان طبقہ اکثر دوستوں کی صحبت، فلموں کے اثرات یا وقتی ذہنی دباؤ کی وجہ سے سگریٹ نوشی شروع کرتا ہے۔ ابتدا میں چند کش لگانے والا نوجوان جلد ہی اس کا عادی بن جاتا ہے اور پھر یہ عادت اس کی صحت، تعلیم، کردار اور مستقبل سب کچھ تباہ کر دیتی ہے۔

ماہرینِ صحت کے مطابق تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے کینسر، دل کے امراض، فالج، دمہ، سانس کی بیماریوں اور منہ کے کینسر جیسی مہلک بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پاکستان میں ہر سال ہزاروں لوگ صرف تمباکو کے استعمال کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ اب کم عمر بچے بھی اس لعنت کا شکار ہو رہے ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں کے باہر کھلے عام سگریٹ اور گٹکا فروخت ہونا ایک خطرناک صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔

تمباکو نوشی صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ جب ایک شخص سگریٹ پیتا ہے تو اس کا دھواں اردگرد بیٹھے افراد کے پھیپھڑوں میں بھی داخل ہوتا ہے۔ اسے “Passive Smoking” کہا جاتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان بچوں، خواتین اور بزرگوں کو پہنچتا ہے۔ کئی بچے ایسے گھروں میں سانس کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں جہاں والد یا دیگر افراد مسلسل سگریٹ نوشی کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم صرف خود کو ہی نہیں بلکہ دوسروں کو بھی اس زہر سے بچائیں۔

تمباکو نوشی کے معاشی نقصانات بھی بے شمار ہیں۔ ایک غریب آدمی جو روزانہ سگریٹ پر پیسے خرچ کرتا ہے، اگر وہی رقم اپنے بچوں کی تعلیم، خوراک یا علاج پر خرچ کرے تو اس کے گھر کی حالت بہتر ہو سکتی ہے۔ تمباکو پر خرچ ہونے والی دولت دراصل بیماریوں کو خریدنے کے مترادف ہے۔ حکومت کو بھی تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج پر اربوں روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ اگر یہ لعنت کم ہو جائے تو ملک کی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اسلام بھی ہر اس چیز سے منع کرتا ہے جو انسانی جان اور صحت کے لیے نقصان دہ ہو۔ چونکہ تمباکو انسان کی صحت کو تباہ کرتا ہے، اس لیے علما کرام بھی اس کے استعمال سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ایک باشعور مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے جسم کو نقصان پہنچانے والی عادات سے دور رہیں۔

تمباکو سے پاک پاکستان صرف حکومت کی کوششوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں بری صحبت سے بچائیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ تعلیمی اداروں میں آگاہی مہم چلائیں۔ میڈیا کو چاہیے کہ تمباکو نوشی کے نقصانات پر زیادہ پروگرام نشر کرے۔ حکومت کو چاہیے کہ کم عمر بچوں کو تمباکو کی فروخت پر سخت پابندی عائد کرے اور عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروائے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ تمباکو نوشی چھوڑنا ناممکن نہیں۔ اگر انسان مضبوط ارادہ کر لے تو وہ اس بری عادت سے نجات حاصل کر سکتا ہے۔ ابتدا میں مشکل ضرور پیش آتی ہے لیکن آہستہ آہستہ انسان اس نشے سے دور ہو جاتا ہے۔ ورزش، مثبت سرگرمیاں، اچھی صحبت اور اہلِ خانہ کی حوصلہ افزائی اس عادت کو ترک کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر ایک عہد کریں کہ نہ خود تمباکو استعمال کریں گے اور نہ دوسروں کو اس کی ترغیب دیں گے۔ ہمیں اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرے کو اس زہر سے پاک بنانا ہوگا۔ ایک صحت مند قوم ہی ترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت بن سکتی ہے۔

آئیں! آج یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی، اپنے خاندان اور اپنے وطن کو تمباکو جیسی خطرناک لعنت سے بچائیں گے۔ کیونکہ ایک تمباکو سے پاک پاکستان ہی ایک صحت مند، خوشحال اور روشن پاکستان کی بنیاد ہے۔

More posts