گزشتہ ہفتے سے روز ایک سانحہ ہوتا ہے جو دل جھنجھوڑ دیتا ہے۔ثوبیہ شاہد نو سال کی معصوم بچی۔ثوبیہ اپنے ماں باپ کے ساتھ آسٹریلیا میں رہتی تھی۔ عید کی خوشیاں منانے اپنے بزرگوں سے ملنے اور یادیں سمیٹنے برسوں بعد پاکستان آئی تھی۔ چکوال میں دادا، دادی کی آغوش رشتوں کی محبت اور عید کی رونقیں اس کی منتظر تھیں۔مگر وہ واپس نہ جا سکی۔آج سی ٹی ڈی کی فائرنگ میں ننھی ثوبیہ کی جان چلی گئی، جبکہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہو گئے۔ بتایا گیا کہ انہیں "2025 ماڈل گاڑی میں دہشتگرد” سمجھ لیا گیا۔سوال صرف اتنا ہے: اگر شک تھا تو تصدیق کیوں نہ کی گئی؟ گولی چلانے سے پہلے حقیقت جاننے کی کوشش کیوں نہ کی گئی؟ قانون اور ریاستی اداروں کا کام شہریوں کی حفاظت ہے ان کے دلوں میں خوف پیدا کرنا نہیں۔
ثوبیہ ساتویں جماعت کی طالبہ تھی۔ اس کے خواب ابھی پوری طرح آنکھوں میں سجے بھی نہ تھے کہ زندگی نے اس سے منہ موڑ لیا۔ اس کی ہنسی اب کبھی گھر کے صحن میں نہیں گونجے گی اس کے عید کے نئے کپڑے اب کبھی نہ پہنے جائیں گے اور دادا دادی کی نظریں اب ہمیشہ اس دروازے کو تکتی رہیں گی جس سے وہ دوبارہ اندر نہیں آئے گی۔
اس کی چوڑیوں کی کھنک، اس کی شرارتیں، اس کے سوال اور اس کی مسکراہٹیں اب صرف یادوں کا حصہ ہیں۔ ہر عید، ہر سالگرہ اور ہر خوشی کے موقع پر اس کے ماں باپ کے دل میں ایک خاموش کسک جاگے گی کہ ان کی بیٹی ان کے ساتھ نہیں۔اگر ایک بیرونِ ملک سے آنے والے خاندان کو محض شک کی بنیاد پر دہشتگرد سمجھ لیا جائے تو پھر عام شہری خود کو محفوظ کیسے محسوس کرے؟کوئی انکوائری، کوئی رپورٹ اور کوئی وضاحت ثوبیہ کو واپس نہیں لا سکتی۔ کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ مدھم تو ہو جاتے ہیں مگر کبھی مکمل نہیں بھرتے۔ یہ سانحہ بھی ان ہی زخموں میں سے ایک ہے۔اللہ تعالیٰ ننھی ثوبیہ کی مغفرت فرمائے، اس کے درجات بلند کرے اور اس کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
