میری پیاری رکی ہوئی گھڑی!
سلامِ عقیدت!
آج تمہیں اپنی کلائی پر باندھتے ہوئے دل ایک بار پھر بائیس برس پیچھے چلا گیا ہے۔ وقت گزر گیا، موسم بدل گئے، زندگی نے کئی کروٹیں لیں، مگر تم آج بھی وہیں ہو، جہاں میری زندگی کی ایک خوبصورت یاد ٹھہر گئی تھی۔ تم میرے لیے محض ایک گھڑی نہیں، میرے ابو کی محبت، ان کی شفقت، ان کی یاد اور میری زندگی کے سب سے قیمتی لمحوں کی ایک ایسی نشانی ہو، جسے وقت بھی مجھ سے جدا نہیں کر سکا۔
مجھے آج بھی بائیس سال پہلے کا وہ دن یاد ہے، جب میں نے آٹھویں جماعت کے بورڈ میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ وہ دن میری زندگی کے خوبصورت دنوں میں سے ایک تھا۔ کامیابی کی خوشی اپنی جگہ تھی، مگر اس خوشی کو میرے ابو کے ہاتھوں ملنے والے تمہارے تحفے نے اور بھی یادگار بنا دیا تھا۔
میرے ابو نے مجھے ایک خوبصورت، سرخ، چمکتی ہوئی گھڑی تحفے میں دی تھی۔ مجھے تم اس قدر پسند آئیں کہ میں نے تمہیں فوراً اپنی کلائی میں پہن لیا۔ شاید مجھے بورڈ میں پوزیشن لینے کی اتنی خوشی نہیں تھی، جتنی تمہیں اپنی کلائی میں دیکھ کر ہوئی تھی، کیونکہ تم ابو کا تحفہ تھیں۔ میرے لیے تمہاری قیمت تمہاری خوبصورتی میں نہیں، بلکہ اس محبت میں تھی جو تمہارے ساتھ میرے ابو نے میرے ہاتھ میں تھمائی تھی۔
اگلے دن جب میں اسکول گئی تو دوستوں کے سامنے تمہیں اس طرح دکھا رہی تھی، جیسے میرے پاس کوئی قیمتی خزانہ آگیا ہو۔ میں بڑے فخر سے سب سے کہہ رہی تھی، ’’یہ میری زندگی کا سب سے قیمتی تحفہ ہے۔‘‘ اس وقت شاید مجھے معلوم بھی نہیں تھا کہ ایک دن یہی گھڑی میری زندگی کی سب سے قیمتی یاد بن جائے گی، اور اس کی رکی ہوئی سوئیاں میرے لیے وقت کی سب سے بڑی گواہی بن جائیں گی۔
اس کے بعد زندگی میں بہت سے تحفے ملے، بہت سی خوشیاں آئیں، مگر تم جیسا قیمتی کوئی نہ تھا۔
پڑھائی کے کئی مرحلے گزرے، زندگی آگے بڑھتی رہی، شادی ہوئی، گھر بدلا، ذمہ داریاں بڑھیں، زندگی نے کئی رنگ بدلے، مگر تم کبھی میری کلائی سے جدا نہ ہوئیں۔ ایک ہاتھ کی چوڑیاں بدلتی رہیں، موسموں کے ساتھ لباس بدلتے رہے، زندگی کے انداز بدلتے رہے، مگر دوسری کلائی پر تم ہمیشہ اسی محبت سے موجود رہیں۔
تم میری زندگی کے کئی برسوں کی خاموش ساتھی رہیں۔ میری خوشیوں کو دیکھا، میری پریشانیوں کی گواہ بنیں، میری دعاؤں کے لمحے دیکھے اور میری زندگی کے کئی خوبصورت اور مشکل دنوں کو اپنی خاموش سوئیوں میں محفوظ کرتی رہیں۔
پھر وہ بائیس رمضان المبارک کا دن آیا، جس نے میری زندگی کا وقت ہی بدل دیا۔
تم صبح سے کبھی رک جاتیں اور کبھی خود ہی چل پڑتیں۔ میں بار بار تمہیں دیکھتی اور پریشان ہوتی۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ تم کسی آنے والے لمحے کی خبر دے رہی ہو۔ عبادات کے دوران بھی ذہن تمہاری طرف ہی جاتا رہا۔ افطاری کے وقت بھی میں تمہیں دیکھتی رہی۔ دل میں ایک عجیب سی بے چینی تھی، مگر اس بے چینی کا سبب سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
پھر اسی پریشانی کے ساتھ سو گئی۔
رات کو اچانک میری آنکھ فون کی تیز آواز سے کھلی۔ دل عجیب بے چینی میں مبتلا تھا۔ میں نے گھڑی دیکھی تو وہ رک چکی تھی۔ شاید اس لمحے بھی میں یہ سمجھ نہیں پائی کہ تمہاری سوئیاں میری زندگی کے سب سے بڑے صدمے کو اپنے اندر محفوظ کر چکی ہیں۔
میں نے فون اٹھایا تو بھائی کی روتی ہوئی آواز سنائی دی:
’’ابو نہیں رہے، تم فوراً آجاؤ۔‘‘
یہ چند الفاظ تھے، مگر ان الفاظ نے میری پوری دنیا بدل دی۔ وہ لمحہ میری زندگی کا سب سے بڑا صدمہ تھا۔ ابو ٹھیک تین بج کر پچاس منٹ پر دنیا سے رخصت ہوئے تھے، اور تم بھی اسی وقت رک گئی تھیں۔
اس لمحے سے میرے لیے وقت کی تعریف ہی بدل گئی۔ دنیا کے لیے گھڑی کی سوئیاں رک گئی تھیں، مگر میرے لیے ایک پورا زمانہ وہیں ٹھہر گیا تھا۔ ابو چلے گئے، مگر ان کی محبت، ان کی آواز، ان کی شفقت اور ان کی یادیں میرے اندر ہمیشہ کے لیے زندہ رہ گئیں۔ اور تم… تم اس آخری لمحے کی گواہ بن کر میری کلائی پر موجود رہیں۔
میں نے تمہیں اتار کر ایک سال تک سنبھال کر رکھا۔ شاید تمہیں دیکھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی، شاید ہر بار تمہاری رکی ہوئی سوئیاں مجھے اس حقیقت کی طرف لے جاتی تھیں جسے قبول کرنا میرے لیے آسان نہیں تھا۔ مگر پھر ایک دن میں نے تمہیں دوبارہ اپنی کلائی میں باندھ لیا۔
اب جب کوئی پوچھتا ہے کہ تمہیں ٹھیک کیوں نہیں کرواتیں تو میں خاموش سی مسکراہٹ کے ساتھ کہتی ہوں:
’’یہ گھڑی میرے ابو کے جانے کے وقت رکی ہے، اسے ٹھیک کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔ یہ سب قدرت کی طرف سے ہے۔‘‘
لوگوں کے لیے شاید ایک گھڑی کا رک جانا معمولی بات ہو، مگر میرے لیے یہ ایک یاد کا ٹھہر جانا ہے۔ میں تمہاری سوئیوں کو دوبارہ چلتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتی، کیونکہ ان کا رک جانا میرے ابو کی آخری یاد سے جڑا ہوا ہے۔
اے میری پیاری رکی ہوئی گھڑی!
تم میرے لیے گزرے ہوئے وقت کی نشانی نہیں، بلکہ میرے ابو کی محبت کا آخری لمس ہو۔ تمہاری خاموشی میں مجھے ان کی آواز سنائی دیتی ہے، تمہاری رکی ہوئی سوئیوں میں ان کی یاد دھڑکتی محسوس ہوتی ہے اور تمہیں اپنی کلائی پر باندھ کر یوں لگتا ہے جیسے میرے ابو کی محبت آج بھی میرے ساتھ سفر کر رہی ہے۔
تم اسی طرح رکی ہوئی میری زندگی کے سفر کی ساتھی رہو گی۔ تمہاری سوئیاں شاید وقت کے ساتھ آگے نہ بڑھ سکیں، مگر تم سے جڑی یادیں میرے دل میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔
وقت گزر جائے گا، سال بدل جائیں گے، میری زندگی کے سفر میں نہ جانے کتنے اور موسم آئیں گے، مگر تمہارے لیے میرے دل میں موجود محبت کبھی کم نہیں ہوگی۔ کیونکہ تم صرف ایک گھڑی نہیں، میرے ابو کی محبت کی وہ نشانی ہو جسے میں اپنی آخری سانس تک اپنے ساتھ رکھنا چاہتی ہوں۔
جب تک میری سانس جسم کا ساتھ نہ چھوڑ دے، تم اسی طرح رکی ہوئی میری زندگی کے سفر کی ساتھی رہو گی۔
تمہاری برسوں کی ساتھی
Category: متفرق
-

رکی ہوئی گھڑی کے نام خط،تحریر: ماہ جبین اظہر
-

نیکٹا کادہشت گردی کے خلاف ایک نیا عزم،تحریر: جان ایم رمضان
پاکستان ایک طویل عرصے سے دہشت گردی، انتہاپسندی اور بدامنی کے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں قومی سلامتی کے اداروں کی مضبوط قیادت، مؤثر رابطہ کاری اور بروقت فیصلے غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔
جنرل فیصل نصیر کے نیکٹا کی کمان سنبھالنے کے بعد قومی سلامتی کے حلقوں میں یہ تاثر نمایاں ہوا ہے کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف ریاستی حکمتِ عملی میں مزید فعالیت پیدا ہوئی ہے۔ بعض حلقوں کی رائے ہے کہ ان کی آمد کے بعد فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سے منسلک عناصر پر دباؤ بڑھا ہے اور ان کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی محسوس ہوئی ہے۔تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف کسی ایک شخصیت یا ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں۔ یہ پوری ریاست، قانون نافذ کرنے والے اداروں، انٹیلی جنس نظام، انتظامیہ اور عوام کے مشترکہ عزم کا تقاضا کرتی ہے۔ کامیابی اسی وقت پائیدار ہو سکتی ہے جب دہشت گردی کے ساتھ ساتھ اس کے سہولت کاروں، مالی معاونت، انتہاپسندانہ بیانیے اور منظم نیٹ ورکس کا بھی مؤثر سدباب کیا جائے۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ہماری افواج، پولیس، ایف سی اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی اس جنگ میں شہید ہوئے۔ اس لیے قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنا وقت کی ضرورت ہے۔جنرل فیصل نصیر کی نیکٹا میں ذمہ داری کو بھی اسی وسیع تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ اگر قومی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ، انٹیلی جنس شیئرنگ، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور قانون کے مطابق کارروائی مضبوط ہوتی ہے تو دہشت گرد تنظیموں کے لیے پاکستان میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنا یقیناً مشکل ہو سکتا ہے۔آج پاکستان کو ایسے ہی قومی عزم کی ضرورت ہے جس میں ریاست واضح پیغام دے کہ ملک کی سلامتی، عوام کی جان و مال اور قومی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
فتنہ کوئی بھی ہو، اس کا مقابلہ ریاستی طاقت کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی، قانون کی حکمرانی اور عوام کے اعتماد سے ہی کیا جا سکتا ہے۔پاکستان امن چاہتا ہے، مگر امن کی خواہش کو کمزوری سمجھنے والوں کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ پاکستان اپنی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
پاکستان زندہ باد۔
-

خانپور تا چاچڑاں شریف ریلوے، ماضی کی یاد سے مستقبل کے سفر تک،تحریر: رئیس عنایت اللہ چاچڑ
خانپور تا چاچڑاں شریف ریلوے لائن صرف لوہے کی پٹڑی نہیں تھی بلکہ اس پورے خطے کی معاشی، زرعی، سماجی اور سفری زندگی کی ایک متحرک علامت تھی۔ اس تاریخی ریلوے لائن کا منصوبہ 1909ء میں منظور ہوا اور 1911ء میں اسے باقاعدہ کھول دیا گیا۔ یہ لائن سابق ریاست بہاولپور کے دربار کی مالی معاونت سے تعمیر ہوئی اور برطانوی دور کی نارتھ ویسٹرن ریلوے کے ذریعے اس کا انتظام و آپریشن کیا جاتا تھا۔ خانپور سے چاچڑاں شریف تک تقریباً 36 کلومیٹر طویل اس ریلوے لائن پر پانچ اہم اسٹیشن خانپور جنکشن، کوٹلہ پٹھان، ججہ عباسیاں، ظاہر پیر اور چاچڑاں شریف قائم تھے۔ برسوں تک اس پٹڑی پر چلنے والی ٹرین ہزاروں مسافروں کے لیے آسان، محفوظ اور نسبتاً سستا ذریعۂ آمدورفت تھی۔ کسان اپنی زرعی پیداوار منڈیوں تک پہنچاتے، کاروباری سرگرمیاں بڑھتیں اور دور دراز علاقوں کے درمیان رابطے مضبوط ہوتے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ترقی کا پہیہ واقعی ریل کی پٹڑی پر دوڑ رہا ہو۔ افسوس کہ وقت کے ساتھ یہ تاریخی سلسلہ ماند پڑ گیا۔ دستیاب مختلف حوالوں میں مسافر سروس کی بندش کا سال مختلف بیان ہوا ہے؛ بعض حوالوں کے مطابق 1998ء تک یہاں مسافر ٹرین چلتی رہی، جبکہ مقامی طور پر اس سے پہلے بندش کا ذکر بھی ملتا ہے۔ بعد ازاں ٹریک بھی اکھاڑ دیا گیا اور ایک ایسا سفری و معاشی باب بند ہوگیا جس کی یاد آج بھی اس خطے کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں ریلوے کو صرف آمدورفت نہیں بلکہ سیاحت، خوشی، سہولت اور معاشی ترقی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، مگر ہمارے ہاں ایک تاریخی ریلوے راستہ وقت کی گرد میں گم ہوگیا۔ ریلوے کی قیمتی اراضی کے بعض حصوں پر تجاوزات اور قبضوں کے باعث گھر، دکانیں اور کھیت بن گئے، جس نے بحالی کے عمل کو مزید مشکل بنا دیا۔ چاچڑاں شریف کی اپنی ایک منفرد روحانی اور تاریخی شناخت ہے۔ یہی وہ خطہ ہے جسے حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی نسبت حاصل ہے اور دریائے سندھ کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے یہاں مذہبی، تاریخی اور سیاحتی اہمیت بھی موجود ہے۔ اگر خانپور تا چاچڑاں شریف ریلوے لائن ازسرِنو تعمیر کی جائے تو یہ صرف ٹرین کی بحالی نہیں بلکہ زراعت، تجارت، سیاحت، روزگار اور علاقائی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوسکتا ہے۔ آج خانپور، ظاہر پیر، ججہ عباسیاں، کوٹلہ پٹھان اور چاچڑاں شریف کے عوام کی آواز ایک ہی ہے کہ اس تاریخی ریلوے لائن کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ ماضی کی وہ پٹڑی جو کبھی خوشحالی کا راستہ تھی، اگر آج جدید تقاضوں کے مطابق دوبارہ بچھا دی جائے تو شاید دفن شدہ ماضی کا یہ شاندار باب ایک بار پھر روشن مستقبل کی بنیاد بن جائے۔
-

جہادِ افضل،تحریر: مبراء عبدالقیوم
جہادِ افضل وہ عظیم جدوجہد ہے جو انسان اپنے اندر موجود کمزوریوں، خواہشوں اور لغزشوں کے خلاف کرتا ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جسے نہ دنیا دیکھتی ہے، نہ لوگ اس کا شور سنتے ہیں مگر اللہ کے نزدیک یہی سب سے اعلیٰ جہاد ہے۔ ہر شخص کے دل میں ایک محاذ قائم ہے۔ کوئی اپنی زبان کی تلخی سے لڑ رہا ہے۔ کوئی حسد کے زہر کو ختم کرنے کی کوشش میں ہے۔ کوئی برائی سے بچنے کی جدوجہد میں ہے۔ اور کوئی مایوسی کے طوفان کو روکنے میں مصروف ہے۔ یہی اندرونی کشمکش انسان کے اصل حوصلے اور کردار کا امتحان بنتی ہے۔
جہادِ افضل کا مجاہد وہ ہوتا ہے جو تنہائی میں بھی اپنے آپ کو برائی سے روکے، کیونکہ وہاں نہ تعریف کا لالچ اور نہ ہی بدنامی کا ڈر ہوتا ہے۔ وہ دل کو پاک رکھنے، نیت کو درست رکھنے اور عمل کو بہتر بنانے کے لیے روز کوشش کرتا ہے۔ جب انسان اپنے نفس کو قابو میں رکھ لیتا ہے۔ تو دنیا کا کوئی میدان اس کے لیے مشکل نہیں رہتا، کیونکہ جو اپنے اندر کے دشمن کو شکست دے دے، اسے باہر کا دشمن کیا نقصان پہنچا سکتا ہے؟
یہ جدوجہد انسان کو مضبوط بناتی ہے اور دل میں یقین دلاتی ہے۔
یہ جہاد مسلسل ہے، عمر بھر جاری رہتا ہے۔ کبھی انسان جیتتا ہے، کبھی ہار جاتا ہے مگر اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ کوشش نہ چھوڑے۔ ہر نیا دن ایک نئی امید اور موقع لے کر آتا ہے۔ جو شخص خود کو بہتر بنانے کی نیت کے ساتھ اٹھے، وہی اللہ کے نزدیک حقیقی مجاہد ہے۔
جہادِ افضل یہی ہے کہ انسان خود کو بدلنے کی جدوجہد جاری رکھے، نیکی سے جڑے، برائی سے لڑے اور اللہ کی رضا کو اپنا سب سے بڑا مقصد بناۓ۔ -

دل کا بوجھ اتار دیجیے،تحریر: زینب جہانزیب
کبھی کبھی ہم اپنے دل میں اتنا کچھ جمع کر لیتے ہیں کہ ہمیں خود بھی یاد نہیں رہتا کہ ہم آخر کس کس سے ناراض ہیں۔ کسی کی ایک بات، کسی کا بدلتا ہوا رویہ، کسی کی بے رخی، کسی کا دھوکا… کچھ باتیں وقت کے ساتھ بھلا دی جاتی ہیں، مگر کچھ دل کے کسی کونے میں ویسے ہی پڑی رہتی ہیں۔ ہم زندگی میں آگے بڑھ جاتے ہیں، لوگوں سے ملتے ہیں، ہنستے ہیں، اپنی مصروفیات میں لگے رہتے ہیں، مگر اندر کہیں وہ ایک چھوٹی سی رنجش زندہ رہتی ہے۔
اور شاید ہم یہ نہیں سمجھتے کہ دل میں کسی کے لیے ناراضی رکھنا بھی ایک بوجھ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے اسے سزا دے دی، اس سے بات نہیں کی، اسے معاف نہیں کیا… مگر حقیقت میں اس سب کا بوجھ ہم خود اٹھا رہے ہوتے ہیں۔ جس شخص سے ہم ناراض ہوتے ہیں، ضروری نہیں وہ ہر وقت ہماری ناراضی کے بارے میں سوچ رہا ہو، مگر ہم اسے اپنے ساتھ ہر جگہ لیے پھرتے ہیں۔
کبھی اپنے دل سے پوچھ کر دیکھیں، آخر کتنی پرانی باتیں ہیں جنہیں ہم آج بھی اپنے اندر زندہ رکھے ہوئے ہیں؟ کتنے لوگوں کے نام ایسے ہیں جنہیں سوچتے ہی دل میں ایک چبھن سی محسوس ہوتی ہے؟ اور کتنے ایسے ہیں جنہیں ہم نے زبان سے تو معاف کر دیا، مگر دل ابھی تک ان کے خلاف گواہی دے رہا ہے؟
شاید دل صاف کرنے کا مطلب یہی ہے کہ ہم ایک دن خاموشی سے بیٹھیں اور اپنے اندر دیکھیں۔ جو گزر گیا، اسے ہر روز دوبارہ جینے کی کیا ضرورت ہے؟ جس نے غلطی کی، وہ اپنی جگہ جواب دہ ہے، مگر ہم اپنی روح کو اس غلطی کی سزا کب تک دیتے رہیں گے؟
معاف کرنا ہمیشہ اس لیے نہیں ہوتا کہ سامنے والا صحیح تھا۔ کبھی کبھی ہم اس لیے معاف کرتے ہیں کیونکہ ہم مزید اس درد کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ ہم اپنے دل کو یہ حق دیتے ہیں کہ وہ پرانی تکلیف سے باہر نکل سکے۔
لیکن ایک بات اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ہم اکثر اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ وہ رحیم ہے، وہ ہماری خطائیں معاف کر دے گا۔ اور بے شک اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے۔ لیکن جب معاملہ بندوں کا ہو تو ہمیں ذرا رک کر سوچنا چاہیے۔ کسی کا حق مارا ہو، کسی کا دل دکھایا ہو، کسی کی عزت کو نقصان پہنچایا ہو، کسی کے ساتھ زیادتی کی ہو… تو صرف یہ کہہ دینا کہ "اللہ معاف کر دے گا” شاید کافی نہیں۔
کیونکہ اللہ کے حقوق کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہے، مگر بندوں کے حقوق میں ایک انسان بھی شامل ہے۔
ہم کبھی کبھی بہت آسانی سے کسی کو تکلیف دے کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے بات چھوٹی تھی، اتنی بھی بڑی نہیں تھی۔ مگر جس دل پر گزرتی ہے، شاید اس کے لیے وہ بات اتنی چھوٹی نہ ہو۔ ہم تو ایک جملہ کہہ کر بھول جاتے ہیں، لیکن سامنے والا شاید وہی جملہ کئی راتوں تک اپنے اندر لیے پھرتا ہے۔
اس لیے کبھی اپنے آپ کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے۔ صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ لوگوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا، بلکہ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہم نے لوگوں کے ساتھ کیا کیا ہے۔
کیا کبھی ہماری وجہ سے کسی نے اکیلے میں آنسو بہائے؟ کیا کبھی کسی کا حق ہمارے پاس رہ گیا؟ کیا کبھی ہم نے کسی کی خاموشی کو اس کی رضامندی سمجھ لیا؟ کیا کبھی اپنی انا کی وجہ سے کسی ایسے انسان سے معافی نہیں مانگی جسے واقعی ہماری معافی کی ضرورت تھی؟
یہ سوال آسان نہیں ہیں، لیکن شاید ضروری ہیں۔ہمیں نہیں معلوم ہماری زندگی میں کون سی ملاقات آخری ملاقات ہے۔ کس سے ہوئی آخری گفتگو واقعی آخری تھی۔ کبھی کبھی انسان سوچتا رہتا ہے کہ ابھی وقت ہے، بعد میں بات کر لیں گے، بعد میں معافی مانگ لیں گے، بعد میں سب ٹھیک کر لیں گے… اور پھر وہ "بعد میں” کبھی نہیں آتا۔
زندگی کا سب سے بڑا دکھ شاید یہی ہے کہ کچھ باتیں ہم وقت پر کہہ نہیں پاتے۔ کچھ معافیاں ہم وقت پر مانگ نہیں پاتے اور کچھ لوگوں کو وقت پر معاف نہیں کر پاتے۔
اس لیے اگر کسی سے ناراضی ہے اور دل کہتا ہے کہ اسے چھوڑ دینا چاہیے، تو چھوڑ دیجیے۔ اگر کسی سے معافی مانگنی ہے تو اپنی انا کو تھوڑا سا پیچھے کر دیجیے۔ اگر کسی کا حق آپ کے پاس ہے تو واپس کر دیجیے۔ ہر چیز کو کل پر مت ڈالیے، کیونکہ ہمیں کل کا وعدہ نہیں ملا۔
اور ہاں، اگر کسی نے آپ کے ساتھ زیادتی کی ہے تو اسے معاف کرنے میں بھی جلدی نہ ہو تو کوئی بات نہیں۔ انسان ہیں، دل ہے، وقت لگتا ہے۔ مگر کم از کم اس نفرت کو اپنی پوری زندگی کا حصہ نہ بنائیے۔ کسی کے کیے ہوئے ظلم کو اپنی روح میں ہمیشہ کے لیے گھر نہ بنانے دیجیے۔
آخر میں ہم سب نے اپنے رب کے پاس جانا ہے۔ وہاں شاید یہ اہم نہ ہو کہ دنیا میں ہم کتنے صحیح ثابت ہوئے، کتنے لوگوں کو خاموش کرایا، کتنی بحثیں جیتیں۔ شاید اصل سوال یہ ہو کہ ہم نے کتنے دل بچائے اور کتنے دل توڑے؟
اس لیے آج ذرا اپنے دل کو دیکھیں۔ اگر اس میں کسی کے لیے شکوہ ہے تو اسے اللہ کے حوالے کر دیں۔ اگر کسی کا حق ہے تو لوٹا دیں۔ اگر کسی سے معافی مانگنی ہے تو مانگ لیں۔
اور اگر کسی کو معاف کرنا ہے تو کر دیں۔
دل بہت چھوٹی سی جگہ ہے، اسے لوگوں کی نفرتوں اور پرانے حسابوں سے مت بھریں۔
کیا خبر، جس دن ہمیں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونا ہو، اس دن ہمارے پاس دنیا کے سارے جواب ہوں… مگر دل کا سکون نہ ہو۔
اس سے پہلے کہ زندگی ہمیں مہلت دینا چھوڑ دے، اپنے دل کا بوجھ اتار دیجیے۔ -

خدا کی خاموشی،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی
خدا مجھے سمجھ ہی نہ سکا، یا شاید میں ہی اسے سمجھنے میں بہت دیر کر گیا۔ اسے یہی لگتا رہا کہ میں اس کا نافرمان ہوں، اس کے سامنے اکڑ کر کھڑا ہوں، اس کے فیصلوں سے الجھ رہا ہوں، اس کی مرضی کے آگے اپنی مرضی رکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ مگر میری حقیقت اس سے کہیں مختلف تھی۔ میری حیثیت تو اس کی کسی ادنیٰ مخلوق کے سامنے بھی اکڑ کر کھڑے ہونے کی نہیں تھی، میں اس کے سامنے کیا اکڑتا؟ میں تو بس یقین کر بیٹھا تھا کہ وہ علیٰ کل شئیٍ قدیر ہے۔
میں اس سے لڑ نہیں رہا تھا، میں اس سے بات کرنا چاہتا تھا۔ دو لمحے اس سے شکوہ کرتا اور اگلے چار لمحے رو دیتا۔ کبھی کہتا، تو مجھ سے اتنا دور کیوں ہے؟ کبھی خاموش ہو جاتا، جیسے شاید وہ میرے آنسوؤں کی زبان سمجھ لے گا۔ میں اسے اپنے اندر محسوس کرنا چاہتا تھا۔ کوئی دلیل نہیں، کوئی معجزہ نہیں، کوئی آسمان سے اترتی ہوئی آواز نہیں بس ایک احساس کہ ہاں میرا خدا میرے ساتھ ہے۔
مجھے شاید دوزخ میں جلنا بھی منظور تھا، اگر اس آگ میں مجھے یہ احساس مل جاتا کہ میرا خدا مجھ سے ناراض ہے۔ کم از کم ناراضی میں بھی تعلق تو ہوتا۔ سزا میں بھی ایک رشتہ ہوتا۔ میں سوچتا، اگر وہ مجھے سزا دے رہا ہے تو شاید وہ مجھے دیکھ رہا ہے، شاید میری طرف متوجہ ہے، شاید میں اس کی نظر میں اب بھی کہیں موجود ہوں۔ مگر اس کی خاموشی مجھے مار رہی تھی۔
انسان کے لیے خدا کی ناراضی برداشت کرنا شاید اتنا مشکل نہیں جتنا خدا کی خاموشی برداشت کرنا ہے۔ ناراضی میں بھی ایک جواب ہوتا ہے، خاموشی میں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ آدمی سوال کرتا رہتا ہے، اپنے ہی سوالوں کے جواب بناتا رہتا ہے، پھر انہی جوابوں سے خود کو توڑتا رہتا ہے۔ میں بھی ٹوٹتا رہا۔
کبھی اپنے گناہوں کو دیکھتا تو لگتا شاید واقعی میں اس کے قابل نہیں۔ پھر اپنی تنہائی کو دیکھتا تو دل کہتا، اگر وہ واقعی میرا خدا ہے تو مجھے اتنا اکیلا کیوں چھوڑ دیا؟ میں سجدے میں جاتا، کچھ مانگنے کے لیے نہیں، صرف یہ جاننے کے لیے کہ دوسری طرف کوئی ہے بھی یا نہیں اور یہی میری سب سے بڑی بے بسی تھی۔
میں خدا سے دنیا نہیں مانگ رہا تھا۔ میں کامیابی نہیں مانگ رہا تھا۔ میں دولت، شہرت، محبت، اقتدار، حتیٰ کہ جنت بھی نہیں مانگ رہا تھا۔ میں تو صرف اس کا احساس مانگ رہا تھا۔ ایک ایسا احساس جس میں انسان اپنے اندر کے تمام شور سے آزاد ہو جائے اور اسے یقین ہو جائے کہ اس کائنات کے بے شمار چہروں کے درمیان ایک ہستی ایسی بھی ہے جو اسے جانتی ہے۔
شاید انسان کی سب سے بڑی بھوک روٹی کی نہیں ہوتی، معنی کی ہوتی ہے۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ وہ کیوں ہے؟ کس کے لیے ہے؟ اس کے آنسو کس کے سامنے ہیں؟ اس کی دعائیں کہاں جاتی ہیں؟ اور جب وہ رات کے آخری پہر سب سے چھپ کر ٹوٹتا ہے تو کیا واقعی کوئی اسے دیکھ رہا ہوتا ہے؟
میں بھی یہی جاننا چاہتا تھا۔ اسی لیے میرے شکوے دراصل بغاوت نہیں تھے۔ وہ ایک ایسے شخص کی فریاد تھے جو دروازہ چھوڑ کر جانا نہیں چاہتا تھا، بلکہ دروازہ کھٹکھٹاتے کھٹکھٹاتے تھک گیا تھا۔ میں خدا سے دور نہیں جانا چاہتا تھا، میں تو اتنا قریب جانا چاہتا تھا کہ میرے اور اس کے درمیان سوال باقی نہ رہیں۔
مگر شاید ہم انسان قربت کو ہمیشہ اپنے طریقے سے سمجھنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں خدا ہمیں فوراً جواب دے، ہماری دعا اسی لمحے قبول ہو، ہماری زندگی ہماری مرضی کے مطابق چلنے لگے، اور جب ایسا نہ ہو تو ہم سمجھتے ہیں کہ خدا ہم سے دور ہو گیا ہے۔
شاید خدا کی خاموشی ہمیشہ دوری نہیں ہوتی۔ شاید بعض اوقات وہ خاموش رہ کر انسان کو اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں انسان خدا کو اپنی خواہشوں میں نہیں، اپنی بے بسی میں تلاش کرنا سیکھتا ہے۔
اور شاید میری سب سے بڑی غلطی یہی تھی کہ میں خدا سے اس کا جواب مانگ رہا تھا، جبکہ وہ شاید مجھے میرے سوال سے نکال کر اپنے وجود تک لے جانا چاہتا تھا۔ اتنا ضرور جانتا ہوں کہ جس خدا سے میں شکوہ کرتا رہا، اسی کے سامنے روتا رہا۔ جس سے ناراض ہوتا رہا، اسی کو پکارتا رہا۔ جس کی خاموشی مجھے مار رہی تھی، اسی کی تلاش میں زندہ رہا۔
میں نے خدا کو چھوڑا نہیں تھا۔ میں صرف چاہتا تھا کہ ایک بار وہ مجھے یہ احساس دلا دے کہ میں بھی اس کا ہوں۔
-

اپنے بچوں کو گھروں سے بھاگنے سے بچائیں ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر
کسی بھی گھر کی دہلیز محض لکڑی یا لوہے کا ایک ٹکڑا نہیں ہوتی، بلکہ یہ تحفظ، اعتماد، خلوص اور خاندانی وقار کی وہ لکیر ہوتی ہے جس کے اندر انسان خود کو دنیا کے تمام طوفانوں سے محفوظ سمجھتا ہے۔ مگر جب یہی دہلیز کسی نوجوان بیٹے یا بیٹی کے لیے تحفظ کے بجائے قید خانہ بن جائے اور وہ رات کی تاریکی یا دن کے اجالے میں چپکے سے قدم باہر نکال کر فرار ہو جائیں، تو دراصل وہ صرف ایک مکان چھوڑ کر نہیں جاتے بلکہ رشتوں، خوابوں اور نسلوں کی عزت کے تار و پود بکھیر جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں لڑکے اور لڑکی کے گھر سے بھاگنے کا سانحہ روز بروز ایک سنگین اور روح فرسا المیے کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اخبارات کے صفحات اور سوشل میڈیا کی سرخیاں ایسے اندوہناک واقعات سے بھری پڑی ہیں، مگر ہم بحیثیت مجموعی اس مسئلے کو محض چند لمحوں کے سنسنی خیز قصے یا وقتی بدنامی کے تذکرے تک محدود کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں، کبھی اس کے پیچھے سلگتی ہوئی نفسیاتی آگ، خاندانی کھوکھلے پن اور سماجی بے حسی کو کریدنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔
اعداد و شمار کی زبان میں اگر اس تلخ حقیقت کو دیکھا جائے تو دل دہل کر رہ جاتا ہے۔ مختلف سماجی تنظیموں، چائلڈ پروٹیکشن بیوروز اور غیر سرکاری اداروں کے جائزے بتاتے ہیں کہ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں نوعمر لڑکے اور لڑکیاں اپنے ہی گھروں سے بھاگ کر سڑکوں، ریلوے اسٹیشنوں، بس اڈوں اور اجنبی بستیوں کی خاک چھاننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ سرکاری و غیر سرکاری ہیلپ لائنز پر درج ہونے والی گمشدگی اور فرار کی شکایات اس برفانی تودے کا محض بالائی حصہ ہیں، کیونکہ دیہی اور نیم شہری علاقوں میں خاندانی بدنامی کے خوف سے بیشمار واقعات تھانوں یا میڈیا تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔ اگر بڑے شہروں میں ریلوے اسٹیشنوں یا پناہ گاہوں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ فرار ہونے والے ان کمسن اور ناتجربہ کار بچوں میں سے ایک بڑی تعداد یا تو انسانی اسمگلروں اور گداگر مافیا کے ہتھے چڑھ جاتی ہے، یا پھر تشدد اور استحصال کا شکار ہو کر اپنی شناخت ہی کھو بیٹھتی ہے۔ جو جوڑے پسند کی شادی یا رفاقت کے نام پر فرار ہوتے ہیں، ان میں سے ستر فیصد سے زائد چند ہی مہینوں کے اندر سنگین مالی بحران، قانونی مقدمات اور باہمی تلخیوں کے بعد شدید مایوسی اور خودکشی کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار فقط جمع تفریق کے بے جان ہندسے نہیں ہیں، بلکہ یہ ہمارے معاشرتی نظام، خاندانی ڈھانچے اور پرورش کے انداز پر وہ سنگین سوالیہ نشان ہیں جن کا جواب دینے سے ہم سب کتراتے ہیں۔
اس خوفناک قدم کے پیچھے لڑکوں اور لڑکیوں کی الگ الگ مگر گہری نفسیاتی کیفیات کارفرما ہوتی ہیں۔ لڑکی کے معاملے میں یہ فرار عموماً خوف، بے بسی اور گھٹن کا آخری دفاعی ردِعمل ہوتا ہے۔ مشرقی معاشرے میں ایک بیٹی اپنے جذبات اور آرزوؤں کو ہمیشہ دل میں دبائے رکھتی ہے، مگر جب اسے یہ مکمل یقین دلا دیا جائے کہ اس کے مستقبل، تعلیم یا شریکِ حیات کے چناؤ میں اس کی مرضی کا کوئی دخل نہیں، اور خاندانی روایات یا نام نہاد انا کی قربان گاہ پر اس کی زندگی کی قربانی طے پا چکی ہے، تو اس کا شعور خوف کے شدید جھٹکے میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف اگر گھر کے ماحول میں بیٹیوں کو بیٹے کے مقابلے میں مسلسل کمتر جانا جائے، ان کی خوشیوں کو نظرانداز کیا جائے، اور گھر کے اندر محبت و شفقت کا قحط ہو، تو باہر کی دنیا سے ملنے والی معمولی توجہ، جھوٹی ہمدردی یا سستی محبت ان کے لیے ایک مضبوط پناہ گاہ کا دھوکہ بن جاتی ہے۔ نوعمری کی ناتجربہ کاری، جذباتیت اور رومانوی ڈراموں کے سحر میں مبتلا یہ لڑکیاں زمینی حقائق، قانونی پیچیدگیوں اور آنے والے خطرات کا اندازہ لگائے بغیر سب کچھ داؤ پر لگا دیتی ہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ گھر کی قید سے نکلنا ہی ان کی بقا کی واحد ضمانت ہے۔
اس کے برعکس جب ایک لڑکا گھر چھوڑ کر بھاگتا ہے، تو اس کے نفسیاتی محرکات اکثر انا کی شکستگی، مسلسل تذلیل، اور ناقابلِ برداشت توقعات کے گرد گھومتے ہیں۔ ہمارے ہاں لڑکے کو بچپن سے ہی کامیابی، روزگار اور خاندان کے سہارے کا استعارہ بنا کر دیکھا جاتا ہے۔ جب والدین اس کی صلاحیتوں کو سمجھے بغیر روزانہ کی بنیاد پر دوسروں سے اس کا موازنہ کرتے ہیں، جب اسے بات بات پر ناکارہ اور نالائق کہہ کر اس کی خودداری کچلی جاتی ہے، یا امتحان میں ناکامی اور بے روزگاری پر مسلسل طعنوں کے نشتر برسائے جاتے ہیں، تو لڑکے کا اضطراب بغاوت کا روپ دھار لیتا ہے۔ وہ اپنی اہمیت ثابت کرنے یا اس تذلیل سے بھاگنے کے لیے گھر کی دہلیز پار کر جاتا ہے تاکہ وہ دنیا پر یہ ظاہر کر سکے کہ وہ تنہا بھی جی سکتا ہے۔ بعض اوقات کسی رشتے کی مخالفت، دوستوں کی غلط صحبت، مہم جوئی یا من مانی کی ضد بھی لڑکے کو اس نہج پر لے آتی ہے جہاں وہ اپنے خاندان کی عزت اور اپنے مستقبل کو لمحوں میں خاک میں ملا دیتا ہے۔
اس پورے المیے میں ہمارے معاشرے کا کردار انتہائی منافقانہ اور سفاکانہ رہا ہے۔ ہمارا سماج مسئلے کی جڑ تک پہنچنے اور دکھی خاندان کا ہاتھ تھامنے کے بجائے محفلوں میں چٹخارے لینے، افواہیں تراشنے اور انگلیاں اٹھانے کا عادی ہے۔ جب کسی گھر سے کوئی بچہ فرار ہوتا ہے، تو پڑوس سے لے کر رشتہ داروں تک سبھی اس بدقسمت گھرانے کو زندہ درگور کرنے پر تل جاتے ہیں۔ لڑکی کے کردار پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے، اس کے دیگر معصوم بہن بھائیوں کے رشتے روک دیے جاتے ہیں، اور والدین کو اس طرح نظروں سے گرایا جاتا ہے جیسے وہ کسی سنگین گناہ کے مرتکب ہوئے ہوں۔ اگر کوئی بھٹکا ہوا بچہ اپنی غلطی کا ادراک کر کے پچھتاوے کے ساتھ واپس لوٹنا بھی چاہے، تو معاشرے کے تضحیک آمیز رویے، طعنے اور سرد مہر نگاہیں اس کی واپسی کے تمام راستے بند کر دیتی ہیں۔ ہم بحیثیت قوم ملامت کرنے میں بہت تیز ہیں مگر اصلاح، درگزر اور بحالی کے معاملے میں ہمارے پاس پتھر دل کے سوا کچھ نہیں۔ یہی معاشرتی بے حسی بچوں کو واپس آنے کے بجائے خودکشی یا جرائم کے دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔
اگر ہم واقعی اپنی نسلوں کو اس تباہی سے بچانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے والدین کو اپنے روایتی اندازِ تربیت اور رویوں میں بنیادی تبدیلی لانا ہوگی۔ والدین کو یہ حقیقت کھلے دل سے تسلیم کرنی چاہیے کہ گھر صرف قواعد و ضوابط نافذ کرنے والی جیل نہیں بلکہ محبت اور سکون کی آماجگاہ ہے۔ اولاد کے ساتھ دوستانہ اور شفاف مکالمے کی فضا قائم کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اپنے بچوں کو اتنا اعتماد دیں کہ اگر ان سے کوئی سنگین غلطی بھی سرزد ہو جائے، یا ان کے دل میں کوئی الجھن یا غیر معمولی خواہش پیدا ہو، تو وہ مار پیٹ اور ردِعمل کے خوف کے بغیر سب سے پہلے اپنے والدین کے پاس آ کر بات کر سکیں۔ جب گھر کے دروازے سننے اور سمجھنے کے لیے کھل جاتے ہیں، تو باہر فرار کی کوئی کھڑکی باقی نہیں بچتی۔ اولاد کی جائز رائے اور حقِ انتخاب کا احترام کریں، خاص طور پر ان کی شادی اور مستقبل کے معاملات میں ان کی خوشی کو خاندانی انا کے بتوں پر قربان مت کیجیے۔ بچوں کے درمیان تقابل اور مسلسل طعنہ زنی کا خاتمہ کیجیے، کیونکہ احساسِ کمتری انسان کو اپنوں سے دور اور غیروں کے قریب کر دیتا ہے۔
ہمیں اس المیے کی روک تھام کے لیے اجتماعی شعور بیدار کرنا ہوگا۔ اسکولوں، کالجوں اور مساجد سے لے کر میڈیا تک، ہر سطح پر نوجوانوں کو جذباتیت اور حقیقت پسندی کے فرق سے روشناس کرانا ہوگا۔ انہیں یہ سمجھانا ہوگا کہ وقتی محبت کے جھوٹے سراب حقیقی زندگی کے کٹھن معاشی و سماجی حقائق کے آگے ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں، اور والدین کا سایہ چھن جانے کے بعد بیرونی دنیا کا بے رحم سمندر کسی پر رحم نہیں کرتا۔ ریاست کو بھی چاہیے کہ وہ خاندانی کونسلنگ، ذہنی صحت کے مراکز اور جبری فیصلوں کے خلاف قانونی تحفظ کے مؤثر نظام کو فعال کرے۔ خاندان اور معاشرہ اگر باہمی احترام، درگزر اور مکالمے کو اپنا شعار بنا لیں، تو نہ کسی بیٹی کو بے بس ہو کر چپکے سے نکلنا پڑے گا اور نہ ہی کسی بیٹے کو اپنی انا بچانے کے لیے گھر کی دہلیز چھوڑنی پڑے گی۔ ہمارے گھر جب تک محبت اور احساس سے آباد رہیں گے، تب تک ہماری نسلیں فرار کے اندھیروں میں بھٹکنے سے محفوظ رہیں گی۔
-

بچپن کہاں کھو گیا ؟تحریر:انعم عباسی
کبھی کبھی زندگی کی بے ہنگم دوڑ میں اچانک کوئی خوشبو، کوئی آواز یا کوئی پرانا منظر ہمیں برسوں پیچھے لے جاتا ہے۔ پھر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت نے لمحہ بھر کے لیے اپنا سفر روک دیا ہو۔ میں جب بھی اپنے بچپن کی گلیوں میں لوٹتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم واقعی خوش قسمت تھے۔ ہمارے پاس آسائشیں کم تھیں، مگر زندگی زیادہ تھی۔ سہولتیں محدود تھیں، مگر خوشیاں بے شمار تھیں۔
ہماری خوشیوں کا تعلق مہنگے کھلونوں سے نہیں تھا۔ گلی ہماری دنیا تھی، دوست ہماری دولت تھے، اور کھیل ہماری سب سے بڑی تفریح۔ چھپن چھپائی، آنکھ مچولی، پٹھو گرم، رسہ کود، کنچے، لٹو، بارش میں کاغذ کی کشتیاں، گرمیوں کی شامیں اور سردیوں کی دھوپ… یہ سب ہمارے بچپن کے ایسے باب ہیں جنہیں وقت آج تک دھندلا نہیں سکا۔ ہم دوڑتے تھے، گرتے تھے، ہنستے تھے، روٹھتے تھے، پھر چند لمحوں بعد ایک دوسرے کو منا بھی لیتے تھے۔ اس زمانے میں کھیل صرف جسمانی سرگرمی نہیں تھے، وہ ہمیں صبر، برداشت، دوستی، تعاون اور ہار جیت کا سلیقہ بھی سکھاتے تھے۔
کراچی جیسے بڑے شہر میں رہتے ہوئے بھی ہماری زندگی میں ایک خوبصورت نظم تھا۔ صبح جلدی جاگنا معمول تھا اور رات دیر تک جاگنے کا تصور بھی نہیں کیا جاتا تھا۔ آج بھی یاد ہے کہ ہفتے کا وہ ایک ڈرامہ پورے گھر کو ایک جگہ جمع کر دیتا تھا۔ ہم سب ایک ساتھ بیٹھ کر اسے دیکھتے، ہنستے، سوچتے اور اکثر اس سے کوئی سبق بھی سیکھتے۔ اُس دور کے ڈرامے صرف وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں تھے بلکہ کردار سازی کا حصہ تھے۔ ان میں خاندان، احترام، محبت، ایثار، سچائی اور اخلاقی اقدار کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا جاتا تھا۔
پھر گھڑی کی سوئیاں جیسے ہی رات کے نو بجنے کا اعلان کرتیں، پورے گھر کا ماحول بدل جاتا۔ ٹیلی ویژن بند ہو جاتا، امی کی آواز آتی، "اب سونے کا وقت ہے۔” کبھی دادی اپنی جوانی کے قصے سناتیں، کبھی نانی کسی تاریخی واقعے سے ہمیں روشناس کراتیں، کبھی ابو انبیائے کرامؑ یا صحابۂ کرامؓ کے واقعات سناتے اور کبھی امی ہمیں سونے سے پہلے کی دعائیں یاد کراتیں۔ ہم دعائیں پڑھتے، سکون سے سوتے اور اگلی صبح سورج کی پہلی کرن کے ساتھ ایک نئی توانائی کے ساتھ جاگتے۔
آج سوچتی ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ ہمارے والدین شاید اعلیٰ ڈگریوں کے حامل نہیں تھے، مگر وہ تربیت کے ایسے معلم تھے جنہوں نے ہمیں صرف پڑھنا نہیں، بلکہ جینا سکھایا۔ انہوں نے ہمیں ادب، احترام، رشتوں کی حرمت، پڑوسیوں کے حقوق، سادگی، قناعت، نماز، روزہ اور اخلاقیات کی وہ تعلیم دی جو آج بھی زندگی کا سرمایہ ہے۔ ہمیں اپنے خاندان کے ہر فرد کی پہچان تھی، رشتوں کی قدر تھی اور محبتوں کی زبان سمجھ آتی تھی۔
پھر وقت بدلا۔ ٹیکنالوجی نے دنیا کو بدل دیا۔ اس تبدیلی نے بے شمار آسانیاں پیدا کیں، علم تک رسائی آسان ہوئی، فاصلے سمٹ گئے اور زندگی کے کئی مسائل حل ہوئے۔ اس ترقی سے انکار ممکن نہیں، نہ ہی ہونا چاہیے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس ترقی کی قیمت ہمارے بچوں کا بچپن تو نہیں بن گیا؟آج کا بچہ ڈیجیٹل دنیا میں پیدا ہوتا ہے اور اسی میں بڑا ہو رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ والدین بھی اسی دوڑ کا حصہ بن چکے ہیں۔ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے ہر فرد اپنی الگ اسکرین میں گم ہے۔ دور بیٹھے لوگوں سے مسلسل رابطہ ہے، مگر ایک ہی کمرے میں بیٹھے افراد کے درمیان گفتگو کم ہوتی جا رہی ہے۔ کھیل کے میدان سنسان ہیں، مگر موبائل فون کی اسکرینیں آباد ہیں۔ بچوں کو دنیا بھر کی معلومات میسر ہیں، مگر بعض اوقات انہیں اپنے قریبی رشتہ داروں کے نام تک معلوم نہیں ہوتے۔
یہ تحریر ہرگز ماضی کی اندھی تعریف یا حال کی بے جا تنقید نہیں۔ ہر دور کی اپنی خوبیاں ہوتی ہیں اور ہمیں یقیناً وقت کے ساتھ چلنا چاہیے۔ مگر وقت کے ساتھ چلنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی تہذیب، اپنی ثقافت، اپنی خاندانی روایات اور اپنے بچوں کی معصوم خوشیوں کو پیچھے چھوڑ دیں۔
اگر آج ہم نے بچوں کو صرف اسکرینوں کے حوالے کر دیا، اگر کھیل، کہانیاں، مشترکہ کھانے، بزرگوں کی صحبت، دعائیں، ہنسی، شور اور خاندان کا ساتھ ان کی زندگی سے نکل گیا تو نقصان صرف ایک بچے کا نہیں ہوگا، بلکہ ہماری پوری معاشرت، ہماری ثقافت اور ہماری خاندانی شناخت آہستہ آہستہ کمزور پڑ جائے گی۔
بچپن کہیں کھویا نہیں… ہم نے اسے اپنی مصروفیات، اپنی بے پناہ سہولتوں اور چمکتی ہوئی اسکرینوں کے نیچے دبا دیا ہے۔ اگر ہم چاہیں تو اسے دوبارہ زندہ کر سکتے ہیں۔ روزانہ چند لمحے اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر، ان سے باتیں کرکے، انہیں کہانیاں سنا کر، ان کے ساتھ کھیل کر اور انہیں رشتوں کی گرمی کا احساس دلا کر ہم ان کا بچپن واپس لا سکتے ہیں۔
آخر میں بس ایک سوال…
ہم اپنی اولاد کو جدید ترین موبائل، بہترین لباس اور اعلیٰ تعلیم تو دینا چاہتے ہیں، مگر کیا ہم انہیں ایسا بچپن بھی دے رہے ہیں جسے وہ چالیس سال بعد ہماری طرح محبت، مسکراہٹ اور نم آنکھوں کے ساتھ یاد کر سکیں؟ -

مکالمہ ،ختمِ نبوت ،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ
استاد: عزیز طلبہ! یاد رکھیے، عقیدہ ختمِ نبوت دین اسلام کی بنیاد ہے اور اس کے بغیر ہمارا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔
شاگرد: جی استادِ محترم! نبی محمد ﷺ آخری نبی ہیں، جیسا کہ حدیث میں ہے: "أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي”۔ اس عقیدے کے بغیر ہر مسلمان کا ایمان نامکمل اور ادھورا ہے۔
استاد: شاباش! بالکل درست کہا آپ نے۔ یہ ایک ایسا حتمی سچ ہے جس پر پوری امت کا اجماع ہے۔
شاگرد: استادِ محترم! اگر کوئی غیر مسلم یا عقل پرست ہم سے اس عقیدے کی قرآن سے سب سے مضبوط دلیل مانگے، تو ہم اسے کیا جواب دیں گے؟
استاد: اس کے لیے قرآنِ مجید کی سورہ الاحزاب کی آیت نمبر 40 سب سے بڑی اور واضح دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَکِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ”۔ یعنی محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔ یہاں لفظ ‘خاتم’ کا مطلب وہ مہر ہے جو کسی چیز کے مکمل ہونے پر لگا دی جائے تاکہ اس میں کچھ اور داخل نہ ہو سکے۔
شاگرد: سبحان اللہ! کتنی واضح دلیل ہے۔ استادِ محترم، کیا احادیث میں بھی اس کی مزید کوئی مثال ملتی ہے؟
استاد: جی ہاں! رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ نبوت کو ایک خوبصورت محل سے تشبیہ دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص نے بہت خوبصورت محل بنایا، مگر اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی۔ لوگ اس محل کو دیکھتے اور حیران ہو کر کہتے کہ یہ اینٹ بھی کیوں نہ رکھ دی گئی؟ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: "فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ” یعنی میں ہی وہ آخری اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النبیین ہوں۔ اس کا مطلب ہے کہ نبوت کا یہ عالی شان محل آپ ﷺ کی ذاتِ مبارکہ پر مکمل ہو چکا اب اس میں کسی نئی اینٹ یا نئے نبی کی گنجائش ہی نہیں رہی۔
شاگرد: اللہ اکبر! اس خوبصورت مثال نے تو سارے شک و شبہات دور کر دیے۔ استادِ محترم، اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا دائرۂ اسلام سے خارج ہے؟
استاد: بالکل! آپ ﷺ نے خود اپنی زندگی میں ہی امت کو خبردار فرما دیا تھا کہ میری امت میں تیس کے قریب جھوٹے آئیں گے اور ان میں سے ہر ایک یہی دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں آخری نبی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی کذاب نے یہ ناپاک جسارت کی، امتِ مسلمہ نے متحد ہو کر اس فتنے کو کچل دیا۔ عہدِ صدیقی میں مسیلمہ کذاب کے خلاف صحابہ کرام کا جہاد اس کی سب سے پہلی اور روشن مثال ہے۔
شاگرد: جزاک اللہ استادِ محترم! آج کی گفتگو سے مجھے اندازہ ہوا کہ عقیدہ ختمِ نبوت کی ہماری زندگی اور ایمان میں کیا اہمیت ہے۔ ہمیں اس کی حفاظت کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔
استاد: بہت خوب! اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے آخری نبی ﷺ کی سنت پر عمل کرنے اور اس عظیم عقیدے پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
-

موسمی تبدیلیاں اور ہماری صحت ،تحریر:ڈاکٹر نازیہ ندیم
موسموں کا تغیر قدرت کا ایک سدا بہار اور ناگزیر نظام ہے، جو کائنات میں تنوع، تازگی اور حسن بکھیرتا ہے۔ کڑی دھوپ کے بعد رم جھم بارشیں، بارشوں کے بعد خنک ہوائیں اور پھر برف بار جاڑے کی آمد بلاشبہ فطرت کے حسن کو دوچند کرتی ہے، لیکن اس حسن کے ساتھ انسانی وجود پر ان تبدیلیوں کے گہرے اور ہمہ گیر اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ انسانی بدن بیرونی ماحول سے جدا کوئی خود مختار اکائی نہیں، بلکہ وہ اپنے گرد و پیش کے درجہ حرارت، فضائی دباؤ، رطوبت اور ہوا کے مزاج کے تابع ہے۔ جب بھی ایک موسم رخصت ہو کر دوسرے موسم کو راستہ دیتا ہے، تو جسم کے دفاعی، تنفسی، عضلاتی اور اعصابی نظام کو اس نئے سانچے میں ڈھلنے کے لیے کڑی جدوجہد کرنا پڑتی ہے، اور یہی وہ عبوری دور ہوتا ہے جب انسانی صحت کو کٹھن آزمائشوں کا سامنا رہتا ہے۔
موسمِ گرما سے برسات اور پھر برسات سے موسمِ سرما کی طرف سفر کے دوران سب سے زیادہ زد پر نظامِ تنفس آتا ہے۔ فضا میں نمی کی زیادتی اور درختوں، پودوں سے جھڑنے والے زیرہ دانوں (Pollen) کے سبب دمہ، الرجی، نزلہ، زکام اور کھانسی کی وبا تیزی سے پھیلتی ہے۔ بدلتے موسم کے ساتھ خردبینی جراثیم، وائرس اور بیکٹیریا ہوا میں تیزی سے سرگرم ہو جاتے ہیں۔ گلے میں خراش، بخار اور نمونیا جیسے عوارض خصوصاً کمسن بچوں اور معمر افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں، جن کا مدافعتی نظام بیرونی درجہ حرارت کے اچانک گرنے یا بڑھنے کی مدافعت اتنی جلدی نہیں کر پاتا۔
اسی طرح موسمی اتار چڑھاؤ دورانِ خون اور دل کے نظام پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ سردیوں کی آمد پر جب پارہ اچانک نیچے آتا ہے تو انسانی جسم اپنی حرارت برقرار رکھنے کے لیے رگوں کو سکیڑ دیتا ہے۔ اس انقباض سے دل پر خون پمپ کرنے کا بوجھ بڑھ جاتا ہے، جس سے بلڈ پریشر میں اچانک اضافہ، دل کے دورے اور فالج کے خطرات نمایاں حد تک بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جب شدید گرمی کا دور دورہ ہوتا ہے تو بے تحاشا پسینے کے باعث جسم میں پانی اور اہم معدنی نمکیات کا زبردست ضیاع واقع ہوتا ہے، جس کا نتیجہ ہیٹ اسٹروک، بلڈ پریشر کی خطرناک حد تک کمی اور گردوں پر بوجھ کی صورت میں نکلتا ہے۔
عضلاتی اور جوڑوں کی تکالیف بھی بدلتے موسم کے مستقل ساتھی ہیں۔ فضائی دباؤ کی تبدیلی اور حبس یا خنکی کے دورانیے میں پٹھوں کا کھچاؤ، گردن کا اکڑاؤ، شیاٹیکا اور جوڑوں کا درد بے پناہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔ جسم کے بافتوں میں اندرونی دباؤ بڑھنے سے پرانے درد جاگ اٹھتے ہیں اور انسان خود کو سست اور لاچار پاتا ہے۔ جسمانی اثرات کے ساتھ ساتھ یہ تغیرات ذہنی و نفسیاتی صحت پر بھی گہرا سایہ ڈالتے ہیں۔ جاڑے کی چھوٹی دوپہریں، دھند اور سورج کی دھوپ کا طویل تعطل دماغ میں سیروٹونن اور میلاٹونن کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے، جس کے نتیجے میں موسمی اداسی یا ڈیپریشن جنم لیتی ہے، نیند کے معمولات درہم برہم ہوتے ہیں اور مزاج میں اکتاہٹ سرایت کر جاتی ہے۔
ان منفی اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے قدرت کے ساتھ ہم آہنگی اور دور اندیشی ناگزیر ہے۔ بدلتے موسم میں خوراک کا انتخاب موسمی ضروریات کے مطابق کیا جائے۔ تر و تازہ موسمی پھل، سبزیاں، گرم مشروبات جیسے یخنی اور سبز چائے مدافعت کو طاقت بخشتے ہیں۔ پانی کے متوازن استعمال کو پیاس کا احساس نہ ہونے پر بھی جاری رکھنا چاہیے تاکہ رطوبتوں کا نظام مستحکم رہے۔ سحر اور شام کی خنکی میں مناسب لباس، گردن اور سینے کی حفاظت، اور اچانک ٹھنڈک یا گرمی کے بے دریغ تصادم سے گریز انسان کو بے شمار الجھنوں سے بچا سکتا ہے۔ موسم کا تغیر درحقیقت انسان کو اپنے طرزِ زندگی کو تجدید کرنے کی یاد دہانی کراتا ہے، اور وہی شخص تندرست رہتا ہے جو ماحول کے بدلتے تقاضوں کو بروقت سمجھ کر خود کو احتیاط کی ڈھال پہنا لے۔