کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ اپنی محنت کی کمائی سے خریدی گئی سگریٹ کا ہر کش دراصل آپ کی زندگی کا ایک حصہ جلا رہا ہوتا ہے؟ کیا آپ نے کبھی یہ محسوس کیا ہے کہ جس دھویں کو آپ اپنے منہ سے باہر نکالتے ہیں، وہ دراصل آپ کے خوابوں، آپ کی صحت، آپ کے مستقبل اور آپ کے خاندان کی خوشیوں کو بھی ساتھ لے جا رہا ہوتا ہے؟
پاکستان ایک نوجوان ملک ہے۔ یہاں کروڑوں نوجوان اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں، لیکن افسوس کہ انہی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد تمباکو نوشی جیسی مہلک عادت کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ ہر روز ہزاروں افراد اپنی جیب سے پیسے نکال کر ایسی چیز خریدتے ہیں جو نہ صرف ان کے جسم کو کھوکھلا کر رہی ہے بلکہ ان کی زندگی کو بھی مختصر بنا رہی ہے۔سوچیے، ایک مزدور جو سارا دن دھوپ میں پسینہ بہا کر چند سو روپے کماتا ہے، وہ ان میں سے کچھ رقم سگریٹ پر خرچ کر دیتا ہے۔ ایک طالب علم جو اپنے والدین کی امیدوں کا مرکز ہوتا ہے، وہ اپنی جیب خرچ کا حصہ تمباکو پر ضائع کر دیتا ہے۔ ایک باپ جو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب دیکھتا ہے، وہ اپنے ہی ہاتھوں اپنے خاندان کی خوشیوں کو دھویں میں اڑا دیتا ہے۔
آپ پیسے بھی دے رہے ہیں، اپنی صحت بھی کھو رہے ہیں، اپنے پھیپھڑوں کو بھی تباہ کر رہے ہیں اور اپنے پیاروں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسی چیز ہو جسے خریدنے والا خود بھی نقصان اٹھائے اور اس کے آس پاس موجود لوگ بھی متاثر ہوں، مگر تمباکو ایسی ہی ایک لعنت ہے۔ہر سال لاکھوں لوگ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ کینسر، دل کے امراض، فالج، سانس کی بیماریاں اور بے شمار دیگر مسائل انسان کو وقت سے پہلے قبر کے قریب لے جاتے ہیں۔ مگر افسوس کہ اس کے باوجود بہت سے لوگ یہ سوچ کر سگریٹ سلگا لیتے ہیں کہ "ایک سگریٹ سے کیا ہوگا؟”حقیقت یہ ہے کہ تباہی کبھی ایک ہی دن میں نہیں آتی۔ ایک ایک کش، ایک ایک سگریٹ اور ایک ایک دن انسان کو اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں واپسی ممکن نہیں رہتی۔
پاکستان کو آج مضبوط معیشت، صحت مند نوجوانوں اور باصلاحیت افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ لیکن جب ہماری نوجوان نسل اپنے خون میں زہر گھول رہی ہو تو ترقی کا خواب کیسے پورا ہوگا؟ ایک بیمار قوم کبھی مضبوط قوم نہیں بن سکتی۔ جو سرمایہ تعلیم، تحقیق، کاروبار اور خاندان پر خرچ ہونا چاہیے، وہ سگریٹ اور دیگر تمباکو مصنوعات کے دھویں میں برباد ہو رہا ہے۔ذرا اپنے بچوں کے چہروں کو دیکھیے۔ ان کی آنکھوں میں سجے خوابوں کو دیکھیے۔ کیا وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے والدین اپنی صحت کو تباہ کر کے انہیں وقت سے پہلے یتیمی، بیماری یا معاشی مشکلات کے حوالے کر دیں؟ کیا ہمارے نوجوان اس قابل نہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں، اپنے ملک کا نام روشن کریں اور اپنی زندگی کو کامیابی کی مثال بنائیں؟یاد رکھیے، سگریٹ صرف ایک کاغذ میں لپٹا ہوا تمباکو نہیں ہوتا۔ یہ انسان کے ارادے، صحت، خوشیوں اور مستقبل کا دشمن ہوتا ہے۔ یہ آہستہ آہستہ انسان سے اس کی طاقت، خوبصورتی، اعتماد اور زندگی کی رونق چھین لیتا ہے۔
آج وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے ایک سوال پوچھیں: آخر کیوں؟ آخر کیوں ہم اپنی محنت کی کمائی کو آگ لگا رہے ہیں؟ کیوں ہم اپنے بچوں کے حق کا پیسہ دھویں میں اڑا رہے ہیں؟ کیوں ہم اپنی زندگی کو مختصر کرنے پر تلے ہوئے ہیں؟ کیوں ہم ایک ایسی صنعت کو فائدہ پہنچا رہے ہیں جو ہماری صحت کی قیمت پر اربوں کماتی ہے؟اگر آپ تمباکو نوشی کرتے ہیں تو آج ہی فیصلہ کیجیے کہ آپ اپنی زندگی کو اس قید سے آزاد کریں گے۔ اگر آپ کے دوست یا عزیز اس عادت میں مبتلا ہیں تو انہیں سمجھائیے، ان کا ہاتھ پکڑیے اور انہیں اس تباہ کن راستے سے واپس لائیے۔ ایک سگریٹ چھوڑنا مشکل ضرور ہو سکتا ہے، مگر ناممکن نہیں۔ اور یاد رکھیے کہ ہر وہ دن جس میں آپ تمباکو سے دور رہتے ہیں، آپ اپنی زندگی میں اضافہ کر رہے ہوتے ہیں۔
ہمیں ایک ایسے پاکستان کی ضرورت ہے جہاں نوجوانوں کے ہاتھوں میں کتابیں ہوں، سگریٹ نہیں۔ جہاں سانسوں میں تازگی ہو، زہر نہیں۔ جہاں ہسپتالوں کی قطاریں کم اور کامیابیوں کی داستانیں زیادہ ہوں۔ جہاں قوم اپنی دولت بیماریوں پر نہیں بلکہ ترقی پر خرچ کرے۔آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے وطن کو تمباکو سے پاک پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ ہم اپنی نسلوں کو اس لعنت سے بچائیں گے۔ ہم اپنی صحت، اپنے خاندان اور اپنے مستقبل کو دھویں کی نذر نہیں ہونے دیں گے۔کیونکہ زندگی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، اور کوئی بھی نعمت اس قابل نہیں کہ اسے اپنے ہی ہاتھوں دھویں میں اڑا دیا جائے۔








