Baaghi TV

Category: متفرق

  • فیلڈ مارشل آصف منیر، وزیراعظم  اور اسحاق ڈار کی کوششوں سے آبنائے ہرمز کشیدگی کا خاتمہ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    فیلڈ مارشل آصف منیر، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کی کوششوں سے آبنائے ہرمز کشیدگی کا خاتمہ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    وزیر داخلہ محسن نقوی اور متعلقہ اداروں کی حکمتِ عملی سے پاکستان عالمی برادری میں ذمہ دار امن پسند ملک ثابت

    سفارتی کامیابی کے بعد اب پاکستان کے لیے داخلی معاشی اصلاحات، بیرونی سرمایہ کاری اور عالمی اقتصادی تعاون ناگزیر

    تجزیہ شہزاد قریشی

    اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم ہونے، جہاز رانی کی بحالی، تیل و گیس کی عالمی ترسیل کے دوبارہ معمول پر آنے اور امریکہ و ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت کو دیکھا جائے تو پاکستان کا کردار بین الاقوامی سطح پر نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پاکستان اور قطر نے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کو آگے بڑھانے میں اہم سفارتی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔ پاکستان کی قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر، وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر متعلقہ اداروں نے خاموش لیکن مؤثر سفارتکاری کے ذریعے پاکستان کو ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر منوایا۔ عالمی سطح پر یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پاکستان صرف اپنے قومی مفادات ہی نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی استحکام کے لیے بھی مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی سپلائی لائن کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی رکاوٹ سے عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں، صنعتوں اور تجارت پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بحران کے ٹلنے پر امریکہ، یورپی یونین، خلیجی ممالک اور عالمی منڈیاں اطمینان کا اظہار کر رہی ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ سفارتی کامیابی کو معاشی کامیابی میں تبدیل کرنے کے لیے پاکستان کو اندرونی اقتصادی اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ، برآمدات میں اضافے اور گورننس کی بہتری پر توجہ دینا ہوگی۔

    بین الاقوامی مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان کی اس سفارتی کامیابی سے سرمایہ کاری، تجارت اور عالمی اعتماد میں اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن پائیدار معاشی فوائد کے لیے داخلی استحکام بھی ضروری ہے۔ میری رائے میں اگر پاکستان نے واقعی عالمی امن، علاقائی استحکام اور توانائی کے بحران کو ٹالنے میں مؤثر کردار ادا کیا ہے تو امریکہ، یورپی یونین، خلیجی ممالک اور دیگر عالمی شراکت داروں کو پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری، تجارت اور ترقیاتی منصوبوں میں مزید کردار ادا کرنا چاہیے۔ امن کے لیے کردار ادا کرنے والے ممالک کی حوصلہ افزائی صرف الفاظ سے نہیں بلکہ عملی اقتصادی تعاون سے بھی ہونی چاہیے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں دنیا کو تقسیم کرتی ہیں جبکہ سفارتکاری دنیا کو جوڑتی ہے۔ اگر موجودہ پیش رفت پائیدار ثابت ہوتی ہے تو یہ پاکستان کی حالیہ سفارتی تاریخ کی ایک اہم کامیابی تصور کی جا سکتی ہے۔

  • پرامن حج انتظامات،امت مسلمہ کیلئے تحفہ ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    پرامن حج انتظامات،امت مسلمہ کیلئے تحفہ ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    حرمین شریفین اور حجاج کرام کی خدمت کے حوالے سے خلافت عثمانیہ کا دور مثالی رہاہے تاہم جب خلافت عثمانیہ کی گرفت کمزور ہوئی تو سرزمین حجاز میں ابتری پھیل گئی ، راستے پر خطر ہوگئے ، حجاز کے شہر، دیہات اورعام شاہرائیں بھی محفوظ نہ رہیں ۔ حالت یہ تھی کہ حجاج کرام کو مکہ مکرمہ اور حدود حرم میں بھی تحفظ حاصل نہ تھاکیونکہ مکہ مکرمہ ا ور اس کے گرد ونواح میں ڈاکوئوں اور لٹیروں کا راج تھا۔

    پھر اللہ رب العزت والجلال کو اپنے بندوں پر رحم آیااور اطراف عالم سے تشریف لانے والے اپنے مہمانوں اور بیت اللہ کے زائرین کی حفاظت کا بندوبست اس طرح سے کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک موحد، مجاہد،بہادر ،دین کے داعی، امن کے سپاہی اور انصاف پسند بندے شاہ عبدالعزیز آل سعود کو حرمین شریفین اور حجاج کرام کی خدمت کے لئے منتخب فرمایا۔شہزادہ عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن السعود نہایت ہی زیرک اور جرأت مند حکمران تھے انھوں سے صرف دس افراد کے ہمراہ پانچ جنوری 1902ء کو ریاض شہر فتح کرکے ایک ایسی مملکت توحید کی بنیاد رکھی جو آج ’’ مملکت سعودی عرب ‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے ۔ دس افراد کے ہمراہ ریاض کی فتح ایک ایسا کارنامہ ہے جسے مورخین نے تاریخ عالم کا محیر العقول واقعہ قرار دیا ہے ۔ شاہ عبدالعزیز مجاہد ، بہادر ، انصاف پسند اور عالم باعمل حکمران تھے ۔ انھوں نے 1926ء میں مسجد الحرام میں حجاز کے بادشاہ کی حیثیت سے حلف اٹھایا ۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے مملکت کے تمام علاقوں میں شریعت محمدی کے نفاذ کا اعلان کیا،حدود اللہ ، نظام قصاص ودیت کا اجرا کیا اور یہ حکم صادر فرمایا کہ حجاج کرام ضیوف الرحمن کو لوٹنے، قتل کرنے والے مجرموں کیساتھ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے مطابق سلوک کیا جائے گا چاہئے اس کا تعلق کتنے ہی بڑے قبیلے سے کیوں نہ ہو ۔شاہ عبدالعزیز نے اس کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ آج کے بعد اگر کسی بھی شخص ، کسی بھی گروہ یا قبیلہ نے یا قبیلہ کے کسی فرد نے حجاج کرام کو لوٹنے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ سختی سے نمٹاجائے گا جو قبیلہ ایسے فرد کو پناہ دے گا اس قبیلے کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے گا جو مجرموں کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔حقیقتاََ ہوا بھی ایسے ہی حجاج کرام کو لوٹنے والے لاتعداد ڈاکوئوں ، لیٹروں ، رہزنوں کو عبرتناک سزائیں دی گئیں، قاتلوں کی گردنیں ماردی گئیں اور ان کی بستیاں جلادی گئیں اس سے سفر حج پرامن ہوگیا ۔

    شاہ عبدالعزیز مرحوم کی وفات کے بعدان کی اولاد اور جانشین اپنے والدکے نقش قدم پرچلتے ہوئے آج بھی ان سنہری روایات کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔اب حج انتظامات کو مزید بہتر بنانے اور حجاج کرام کو ان کے ملکوں میں سفر کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے خادم الحرمین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030ء کے تحت روڈ ٹو مکہ جیسا عظیم الشان اور تاریخ ساز پراجیکٹ شروع کیا گیاہے جس سے سعودی عرب پہنچنے پر طویل امیگریشن اور کسٹم کی چیکنگ کے مراحل سے نہیں گزرنا پڑتا اور عازمین حج کے ہوائی اڈوں پر انتظار کے وقت میں بھی نمایاں کمی ہوتی ہے۔
    امسال بھی روڈٹومکہ کے تحت پاکستان سمیت پانچ مسلم اکثریتی ممالک کے عازمین حج کے امیگریشن اور کسٹم کلئیرنس کے مراحل ان کے اپنے ملک کے ہوائی اڈوں ہی پر مکمل کیے گئے۔پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ائیرپورٹ اور کراچی ائیرپورٹ سے روڈ ٹو مکہ کے تحت پروازیں جاری کی گئیں ۔ اسلام آباد ائیرپورٹ سے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف اور سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے عازمین حج کو رخصت کیا۔جبکہ امسال اسلام آباد اور کراچی سے پچاس ہزار سے زائد عازمین حج روڈ ٹو مکہ پروجیکٹ کے تحت فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے گئے ۔وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف جو کہ بہت ہی نیک نام ، شریف النفس انسان ،تجربہ کار اور حجاج کرام کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیںان کا کہنا تھا ہم کوشش کررہے ہیں کہ جلد ہی پاکستان کے دیگر بڑے شہروں سے بھی روڈ ٹو مکہ کے تحت پروازیں شروع کی جائیں ۔

    اسی طرح انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے سوئیکارنو ائیرپورٹ ، ملائشیا کے دارلحکومت پتراجایا ائیرپورٹ ، بنگلہ دیش کے ڈھاکہ ائیرپورٹ اور تیونس کے ائیرپورٹ سے روڈ ٹومکہ پراجیکٹ کے تحت عازمین حج فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب پہنچے ۔اس سہولت کافائدہ یہ ہے کہ سعودی عرب میں آمد سے قبل ہی حجاج کے سعودی عرب میں داخلے اور دیگر انتظامات کو حتمی شکل دے دی جاتی ہے تا کہ انھیں سعودی عرب میں کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ بلارکاوٹ اپنی قیام گاہوں پرمنتقل ہوسکیں ۔ پاکستان میں یہ سہولت لاہور ائیرپورٹ پر بھی فراہم کرنے کیلئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ اس سے یقینا حجاج کرام اور معتمرین کو بہت زیادہ سہولتیں دستیاب ہوں گی ۔

    حقیقت یہ ہے کہ آل سعود نے مملکت سعودی عرب کے وسائل کا ایک بڑا حصہ حرمین شریفین ،مشاعر مقدسہ اور حجاج کرام کی خدمت کے لئے وقف کیا ہوا ہے، سعودی وزارت حج اور دیگر محکمے سال بھر خوب سے خوب تر کی تلاش میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے حجا ج کرام کی خدمت اور سہولیا ت کی فراہمی کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔آج حجاج کرام اور زائرین حرمین شریفین کے آرام وراحت اور پرسکون و پرامن طریقہ سے مناسک حج کی ادائیگی کے لئے جو وسیع تراور خوبصورت انتظامات کئے گئے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیںکہ ہر انصاف پسند شخص حرمین شریفین کے خوبصورت، وسیع تر انتظامات اور آل سعود کی حجاج کرام اور معتمرین کے لئے خدمات میں کوئی کمی یا کوتاہی کی شکایت نہیں کرسکتا ۔الحمد للہ نہ ہی آج تک کسی سلیم الفطرت شخص کو ایسا کرتے دیکھا یا سنا ہے ۔

    یہ بات معلوم ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ حجاج کرام کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ جیسے جیسے حجاج کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اس کے ساتھ ساتھ سعودی حکومت انتظامات کو بہتر سے بہتر بنارہی ہے ۔ اس کیلئے جدید ترین وسائل اور ٹیکنالوجی استعمال کی جارہی ہے ۔عازمین حج کی تعداد دنیا کے کئی ملکوں کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ ہوتی ہے لیکن۔۔۔۔صفائی کا ایسا عمدہ انتظام کہ کہیں ایک تنکا بھی نظر نہ آئے یہ ایسا روحانی اور ایمانی منظر ہے کہ جسے دیکھ کر ہی غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہوجاتے ہیں ۔ میدان عرفات میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے نگرانی کی جاتی ہے اور فضائی ایمبولینسیں مسلسل گردش میں رہتی ہیں ۔ جب کسی حاجی کی طبیعت ناساز ہونے کی اطلاع ملے تو اسے پانچ یادس منٹ میں ہسپتال پہنچا دیا جاتا ہے ۔ ایک طرف سعودی حکومت حجاج کرام کی خدمت کے بھرپور انتظامات کرتی ہے تو دوسری سعودی عوام بھی ایمانی جذبے سے حجاج کرام کی خدمت کرتے ہیں ۔ حجاج میں مشروبات ، کھانے اور تحائف تقسیم کرتے ہیں ۔
    الغرض امت مسلمہ کا ہر سلیم الفطرت فرد وہ کسی بھی خطہ زمین یا کسی بھی نسل یا قوم سے تعلق رکھتا ہووہ حرمین شریفن کی تعمیر وترقی ، حجاج کرام اور معتمرین کی خدمت کے لئے سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود ، انکے جانشین شہزادہ محمد بن سلمان اور دیگر سعودی حکام جو حرمین شریفین اور زائرین حرمین شریفین کی خدمت کے لئے دن رات کوشاں رہتے ہیں کے ممنون ہیں اور انکی خدمات پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہیں ۔بے مثال عدیم النظیرحج انتظامات ، حرمین شریفین کی تعمیر وترقی، حجاج بیت اللہ کے آرام وسکون اور خدمت کے لئے اپنے تمام تر وسائل اور صلاحیتیں وقف کرنے پر امت مسلمہ کی طرف سے ہم خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ان کے جانشین شہزادہ محمد بن سلمان، سعودی وزارت حج اور دیگر سعودی حکام کے صدق دل سے شکر گزار ہیں اور انکی خدمات کو تحسین کی نظرسے دیکھتے ہیں اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سمیت تمام سعودی حکام کی حفاظت فرمائے ،اور انہیں توفیق مزید سے نوازے آمین یا رب العالمین۔

  • آم کی گٹھلی اور ہماری ذمہ داری،تحریر :ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    آم کی گٹھلی اور ہماری ذمہ داری،تحریر :ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    پاکستان میں ہرسال لاکھوں آم کی گٹھلیاں کھانے کے بعد کچرے میں پھینک دی جاتی ہیں اور اس طرح ہم پورا سیزن یہی کام کرتے ہیں حالانکہ ہم ان گٹھلیوں سے آم کے درخت بنا سکتیں ہیں اور فری میں اپنے ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں
    آئیں آج ہم اس کے بارے میں آپ کو بتائیں ہیں یہ کیسے ممکن ہے ۔

    پاکستان کو آموں کا دیس کہا جاتا ہے۔ گرمیوں کا موسم آتے ہی ملک بھر میں آم کی مختلف اقسام بازاروں کی زینت بن جاتی ہیں۔ آم نہ صرف ذائقے کے اعتبار سے پھلوں کا بادشاہ تصور کیا جاتا ہے ۔بلکہ غذائیت اور معاشی اہمیت کے لحاظ سے بھی نمایاں مقام رکھتا ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آم کھانے کے بعد اس کی گٹھلی اکثر کوڑے دان کی نذر ہو جاتی ہیں، حالانکہ یہی گٹھلی ایک نئے درخت اور سرسبز مستقبل کی بنیاد بن سکتی ہے۔

    دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلی، درجہ حرارت میں اضافہ اور جنگلات کی کمی ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں ہر فرد کا ایک پودا لگانا بھی ماحول کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ آم کی گٹھلی سے پودا اگانا ایک آسان، کم خرچ اور دلچسپ عمل ہے جو بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے فائدہ مند سرگرمی ثابت ہو سکتا ہے۔

    ماہرین زراعت کے مطابق آم کی گٹھلی کو اچھی طرح صاف کرنے کے بعد اس کے سخت خول کو احتیاط سے کھول کر اندر موجود بیج نکالا جاتا ہے۔ اس بیج کو نم مٹی والے گملے میں تقریباً ایک انچ گہرائی میں لگایا جائے اور مٹی کو مناسب حد تک نم رکھا جائے۔ اگر گملے کو روشن اور ہوادار جگہ پر رکھا جائے تو چند ہفتوں میں ننھا سا پودا نمودار ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ ننھا پودا دراصل مستقبل کے ایک تناور درخت کا آغاز ہوتا ہے۔

    آم کا درخت صرف پھل ہی نہیں دیتا بلکہ ماحول کو آکسیجن فراہم کرتا، فضائی آلودگی کم کرتا اور پرندوں کے لیے مسکن کا کام بھی کرتا ہے۔ ایک بالغ آم کا درخت کئی دہائیوں تک پھل دیتا رہتا ہے اور آئندہ نسلوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ دیہی علاقوں میں آم کے باغات مقامی معیشت کو مضبوط بنانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    حالیہ دنوں میں مختلف اداروں اور تنظیموں کی جانب سے "مینگو مانیا ویک” جیسی سرگرمیوں کے ذریعے آم کی اہمیت کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر آم کی اقسام، اس سے تیار ہونے والی غذائیں، کوئزز اور دیگر تفریحی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ آم کی گٹھلی سے پودا اگانے کی ترغیب بھی دی جا رہی ہے۔ یہ ایک مثبت قدم ہے جو لوگوں میں شجرکاری کے رجحان کو فروغ دے سکتا ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آم کھانے کے بعد اس کی گٹھلی کو ضائع کرنے کے بجائے اسے ایک نئے پودے میں تبدیل کریں۔ اگر ہر فرد اس موسم میں صرف ایک آم کا پودا لگا دے تو آنے والے برسوں میں ہزاروں نئے درخت ہمارے ماحول کا حصہ بن سکتے ہیں۔ یہ نہ صرف ماحولیاتی بہتری کا ذریعہ ہوگا بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک قیمتی تحفہ ثابت ہوگا۔

    آئیے عہد کریں کہ اس بار آم کی مٹھاس سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی گٹھلی سے ایک نئی زندگی بھی اگائیں گے، کیونکہ آج کا ایک پودا کل کا سایہ دار درخت بن سکتا ہے
    اس امید کے ساتھ یہ درخت لگائیں،یہ صدقہ جاریہ ہے اور آنے والی نسلوں کی بقا

  • امن کا نیا سفیر اور بدلی ہوئی دنیا.تحریر :جان محمد رمضان

    امن کا نیا سفیر اور بدلی ہوئی دنیا.تحریر :جان محمد رمضان

    دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں ہمیشہ تباہی لاتی ہیں، لیکن مستقل امن صرف عقل، فہم اور مذاکرات کی میز پر ہی ممکن ہوتا ہے۔ گزشتہ طویل عرصے سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی نے پوری دنیا، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ تیل کی سپلائی کے راستے بند ہو رہے تھے اور عالمی معیشت ڈوب رہی تھی۔ ایسے نازک موڑ پر پاکستان نے دنیا کے سامنے ایک سچے امن ساز کا کردار پیش کیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والا حالیہ امن معاہدہ نہ صرف عالمی سیاست کا رخ بدل رہا ہے، بلکہ اس نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کا سب سے بڑا ضامن ہے۔
    فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خاموش اور کامیاب سفارت کاری کام کرگئی اس پورے امن عمل کے پیچھے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کئی مہینوں کی انتھک محنت اور شاندار حکمت عملی شامل ہے۔ جب دنیا جنگ کے شعلوں میں جل رہی تھی، انہوں نے پسِ پردہ رہ کر تہران، بیجنگ اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں کا ایک مضبوط پل بنایا۔ ان کی اس ‘بیک چینل سفارت کاری’ کا نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں کٹر دشمن ایک دوسرے کی شرطیں ماننے اور ہتھیار ڈال کر امن کا راستہ اپنانے پر راضی ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی حکومت اور بین الاقوامی مبصرین ان کے اس تاریخی کردار کی کھل کر تعریف کر رہے ہیں۔
    معاہدے کے بڑے نکات اور اثرات پوری دنیا دیکھے گی
    عالمی ذرائع کے مطابق، اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک فوری طور پر تمام فوجی کارروائیاں روک دیں گے۔ امریکہ ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا اور ایرانی بندرگاہوں سے اپنے جنگی جہاز ہٹا لے گا۔ اس کے بدلے میں دنیا بھر کے لیے تیل کی سپلائی کا اہم ترین راستہ، یعنی آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ مزید برآں، امریکہ کی طرف سے روکے گئے ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے بھی مرحلہ وار واپس کیے جائیں گے۔ اس معاہدے پر باقاعدہ دستخط کی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہونے جا رہی ہے، جس کی میزبانی خود پاکستان کرے گا۔

    پاکستان کے لیے فخر کا مقام ھے کہ دنیا کے طاقتور ملک کے ثالث ھم ہیں
    اس کامیابی نے عالمی سطح پر پاکستان کی عزت کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی جنگ کا حصہ بننے کے بجائے دنیا میں امن پھیلانے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس معاہدے سے نہ صرف مسلم امہ کی پریشانیاں کم ہوں گی، بلکہ پاکستان کی اپنی معیشت اور پاک-ایران بارڈر پر تجارت کو بھی بہت بڑا فروغ ملے گا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستانی قیادت کی اس تاریخی کامیابی کو تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا، کیونکہ انہوں نے دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچا کر امن کا نیا راستہ دکھایا ہے۔
    فیلڈمارشل حافظ سید عاصم منیر صاحب نے کر دکھایا کہ پاکستان ہمیشہ زندہ باد تھا ہمیشہ زندہ باد رھے گا ۔

  • پسینے میں نہائی ہوئی نیند،تحریر: بینا علی

    پسینے میں نہائی ہوئی نیند،تحریر: بینا علی

    یہ ایک باپ کی لکھی ہوئی تحریر کے چند الفاظ جس نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ جو لوگ ہماری تپش کو محسوس نہیں کر سکتے، وہ ہماری مشکلات کو کیا سمجھیں گے؟
    بیٹی بار بار پوچھ رہی تھی: بابا بجلی کب آئے گی؟
    میں ہر بار یہی کہتا: بیٹا بس ابھی آ جائے گی۔
    لیکن بجلی نہیں آئی۔ اور میری بیٹی انتظار کرتے کرتے سو گئی۔سخت گرمی تھی۔ پسینے سے وہ ایسی بھیگی ہوئی تھی جیسے ابھی نہائی ہو۔
    یہ صرف ایک باپ کے جذبات نہیں ہر غریب گھر کی کہانی ہے۔ یہاں لوگوں کو گھنٹوں لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔گرمی میں بہت مجبور ہو کر رہنا پڑتا ہے۔اور جن لوگوں کے ہاتھ میں ہمارے فیصلے ہیں وہ گھروں سے نکلتے ہیں تو اے سی والی گاڑیوں میں جاتے ہیں۔ ان کی میٹنگیں بھی ایسے بڑے ہوٹلوں میں ہوتی ہیں جہاں ہر طرف ٹھنڈک ہوتی ہے۔ ان کے بجلی کے بل تو معاف ہوتے ہیں۔ ان کے شاندار گھروں اور بڑے بڑے بنگلوں میں بھی اے سی کی سہولت ہر وقت موجود ہوتی ہے۔ جن کے عالیشان محلات میں بجلی جاتیہی نہیں ۔انہوں نے تو کبھی گرمی کی تپش محسوس ہی نہیں کی۔تو وہ عوام کے درد کو کیسے سمجھیں گے؟ وہ اس بچی کی تکلیف کو کیسے محسوس کریں گے؟ وہ ایک باپ کی بے بسی کو کیسے جانیں گے؟کاش! ایک دن کے لیے ہی سہی یہ بڑے لوگ اپنے اے سی بند کر کے ہمارے گھروں میں آ کر بیٹھیں۔ ایک رات یہ اپنی بیٹیوں کو اس گرمی میں سوتا دیکھیں۔ تب انہیں پتہ چلے کہ بجلی جانا صرف "لوڈشیڈنگ” نہیں ہوتا۔ یہ ایک باپ کا مان ٹوٹنا ہوتا ہے۔ یہ ایک معصوم بچے کے خوابوں کا پگھلنا ہوتا ہے۔
    یہ بجلی نہیں گئی ہمارا سکون چلا گیا۔ بچوں کا بچپن جل گیا۔
    کاش! کوئی تو ہماری تکلیف کو سمجھے۔

  • عید کے کپڑوں سے کفن تک،تحریر: بینا علی

    عید کے کپڑوں سے کفن تک،تحریر: بینا علی

    گزشتہ ہفتے سے روز ایک سانحہ ہوتا ہے جو دل جھنجھوڑ دیتا ہے۔ثوبیہ شاہد نو سال کی معصوم بچی۔ثوبیہ اپنے ماں باپ کے ساتھ آسٹریلیا میں رہتی تھی۔ عید کی خوشیاں منانے اپنے بزرگوں سے ملنے اور یادیں سمیٹنے برسوں بعد پاکستان آئی تھی۔ چکوال میں دادا، دادی کی آغوش رشتوں کی محبت اور عید کی رونقیں اس کی منتظر تھیں۔مگر وہ واپس نہ جا سکی۔آج سی ٹی ڈی کی فائرنگ میں ننھی ثوبیہ کی جان چلی گئی، جبکہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہو گئے۔ بتایا گیا کہ انہیں "2025 ماڈل گاڑی میں دہشتگرد” سمجھ لیا گیا۔سوال صرف اتنا ہے: اگر شک تھا تو تصدیق کیوں نہ کی گئی؟ گولی چلانے سے پہلے حقیقت جاننے کی کوشش کیوں نہ کی گئی؟ قانون اور ریاستی اداروں کا کام شہریوں کی حفاظت ہے ان کے دلوں میں خوف پیدا کرنا نہیں۔

    ثوبیہ ساتویں جماعت کی طالبہ تھی۔ اس کے خواب ابھی پوری طرح آنکھوں میں سجے بھی نہ تھے کہ زندگی نے اس سے منہ موڑ لیا۔ اس کی ہنسی اب کبھی گھر کے صحن میں نہیں گونجے گی اس کے عید کے نئے کپڑے اب کبھی نہ پہنے جائیں گے اور دادا دادی کی نظریں اب ہمیشہ اس دروازے کو تکتی رہیں گی جس سے وہ دوبارہ اندر نہیں آئے گی۔

    اس کی چوڑیوں کی کھنک، اس کی شرارتیں، اس کے سوال اور اس کی مسکراہٹیں اب صرف یادوں کا حصہ ہیں۔ ہر عید، ہر سالگرہ اور ہر خوشی کے موقع پر اس کے ماں باپ کے دل میں ایک خاموش کسک جاگے گی کہ ان کی بیٹی ان کے ساتھ نہیں۔اگر ایک بیرونِ ملک سے آنے والے خاندان کو محض شک کی بنیاد پر دہشتگرد سمجھ لیا جائے تو پھر عام شہری خود کو محفوظ کیسے محسوس کرے؟کوئی انکوائری، کوئی رپورٹ اور کوئی وضاحت ثوبیہ کو واپس نہیں لا سکتی۔ کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ مدھم تو ہو جاتے ہیں مگر کبھی مکمل نہیں بھرتے۔ یہ سانحہ بھی ان ہی زخموں میں سے ایک ہے۔اللہ تعالیٰ ننھی ثوبیہ کی مغفرت فرمائے، اس کے درجات بلند کرے اور اس کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

  • ماؤں کے مشترکہ درد ،تحریر: بینا علی

    ماؤں کے مشترکہ درد ،تحریر: بینا علی

    آسمان پہ دھواں زمین پر بکھرتا درد بن گیا ہے ہر ماں کے لیے جس کی گود اجڑ گئی ہے۔
    دارالحکومت مظفرآباد میں پاکستانی فوج کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا۔ حادثے کے بعد پورا آسمان دھوئیں کے کالے بادلوں میں ڈوب گیا۔ مقامی شہریوں کے مطابق وہ سیاہ بادل پورے شہر سے نظر آ رہے تھے سوشل میڈیا پر جو تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئیں ان میں دھوئیں کا وہ ہولناک ستون دیکھ کر ہر ماں کا دل اداس ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ISPR کے مطابق یہ حادثہ تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا۔ حادثے کے نتیجے میں ہیلی کاپٹر میں سوار تمام جوان شہید ہو گئے۔ یہ ہیلی کاپٹر حادثے کے وقت نیلم سٹیڈیم سے پرواز بھرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
    وہ ویڈیو ہے جو میں نے دیکھی.
    ایک ماں ایک عام کشمیری ماں اپنی مقامی زبان میں بار بار بس یہی پکار رہی تھی:
    (ہائے پتہ نہیں کناں ماواں دے بچے سڑ گئے) ہائے پتہ نہیں کن ماؤں کے بچے جل گئے!

    وہ بین کر کے رو رہی تھی ایسے جیسے اس کے اپنے جگر کے ٹکڑے آگ میں جل رہے ہوں۔
    مائیں صرف مائیں ہوتی ہیں..
    ان کا دل صرف اپنی اولاد کے لیے نہیں دھڑکتا۔ دوسری ماں کی گود اجڑے تو ان کا کلیجہ بھی اس درد کو محسوس کرتا ہے ۔مظفرآباد میں کتنی ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں؟ کتنی بہنوں کے دوپٹے سفید ہو گئے؟ کتنے باپوں کے سہارے ٹوٹ گئے؟
    یہ وردی والے بھی کسی کے بیٹے ہیں۔ یہ بھی کسی کے لعل ہیں۔ ان کے جنازے پر سیاست مت کرو، ان کے خون پر تقریں مت کرو بس دعا کرو کہ رب ہر ماں کی گود سلامت رکھے۔
    گھروں کو صبر دے، اور وطن کی ماؤں کو کبھی ایسا دن نہ دکھائے۔ آمین۔
    کیونکہ گود ماں کی ہی اجڑتی ہے۔
    حکومتِ وقت اس طرح غائب ہے جس طرح گدھے کے سر سے سینگ۔خدارا نفر توں کی خون کی سیاست بند کریں جلتی پہ تیل نہ چھڑکیں اور مذاکرات کا راستہ ہموار کریں۔

  • معصوم خدیجہ کی ہوپ،تحریر:غنی محمود قصوری

    معصوم خدیجہ کی ہوپ،تحریر:غنی محمود قصوری

    یہ دنیا امید پر قائم ہے
    کسی کو امیر ہونے کی امید ہے تو کسی کو محض دو وقت کی روٹی کی امید ہی کافی ہوتی ہے اور کوئی بیچارا محض سانسیں بحال رکھنے کی امید پر ہی قائم ہوتا ہے کہ کسی تک زندگی کی ڈور چلتی رہے
    یعنی ہر بندہ Hope Line پر چل رہا ہے
    ویسے تو دنیا میں بیشمار خطرناک بیماریاں ہیں تاہم ایک خطرناک ترین بیماری تھیلیسیمیا بھی ہے جو بچوں کو پیدائش سے لے کر موت تک سانسوں کی بحالی کیلئے Hope Line کے راستے پر چلتے رہنے پر کاربند رکھتی ہے
    اس مرض کا بچہ پیدائش سے موت تک اس بیماری سے نکل ہی نہیں سکتا
    دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی موذی مرض تھیلیسیمیا کے ہزاروں بچے موجود ہیں جن کی جینے کی امید یعنی Hope Line کیلئے ایک خدمت انسانیت کا ادارہ
    ہوپ لائن ویلفئیر فاؤنڈیشن کے نام سے پاکستان ضلع قصور کے شہر کنگن پور میں بنا ہوا ہے جو تھیلیسیمیا کے سینکڑوں بچوں کا مفت علاج معالجہ کرتا ہے

    ویسے تو ہر ذی روح نے ایک نا ایک دن مرنا ہی ہوتا ہے مگر تھیلیسیمیا کے مریض یہ بچے وہ ہوتے ہیں جن کی عمریں بہت کم یعنی 10 سے 14 سال تک ہوتی ہیں کیونکہ بار بار خون لگنے سے ان کے جسم کے اعضاء ناکارہ ہو جاتے ہیں اور یہ بہت جلد وفات پا جاتے ہیں

    یہ مرض کیسے بنتی ہے اور اس سے بچاؤ کا کیا طریقہ کار ہے ان شاءاللہ پھر کبھی لکھوں گا ،مگر آج میں ہوپ لائن کی ایک مریضہ بچی خدیجہ کی خوشی کا ذکر کرنے لگا ہوں کہ جسے اپنے جینے کی ہلکی سی Hope یعنی امید ہوئی تو وہ کیسے خوش ہوئی.اس ادارے کے سربراہ سردار منیر حسین اور پروفیسر عبدالستار سے بات ہو رہی تھی، تو انہوں نے بتایا کہ آج ایک تھیلیسیمیا کی مریض چھوٹی سی بیٹی خدیجہ نے اپنی ہیموگلوبن رپورٹ (HB) چیک کروانے کے بعد خوشی سے اپنے والد محترم کو پیغام بھیجا کہ الحمدللہ پاپا میری ہیموگلوبن پوری ہو گئی ہے
    اس بچے کے والد نے وہ پیغام ہمارے ساتھ شیئر کیا جو چند الفاظ پر مشتمل تھا جو دراصل برسوں کی آزمائش، تکلیف، انتظار اور امید کی ایک مکمل داستان تھے
    ننھی بیٹی خدیجہ نے لکھا تھا
    بابا الحمدللہ سات ماہ گزرنے کے باوجود بغیر خون لگے میری ہیموگلوبن (HB) 11.4 ہے جو کہ پہلے 9.0 سے بھی کم ہو جایا کرتی تھی
    اللہ اللہ اتنی خوشی اس بچی کی صرف ایک ہیموگلوبن پوری ہونے پر ،ذرا تصور کریں اس بیٹی کی کیا حالت ہوتی ہو گی جب اس کی HB پوری نہیں ہوتی ہو گی اور اس کے جسم کا ایک ایک حصہ دکھ رہا ہو گا
    وہ بیچاری دوسرے بچوں میں کھیلنے کی بجائے اپنے درد سے کھیل رہی ہو گی
    آپ تصور کریں کہ بے بسی سے اس کے ماں باپ کیا کرتے ہونگے؟
    سوچیں کہ کبھی کسی تھیلیسیمیا کے مریض بچے یا اس کے والدین کی ایسی خوشی کے بارے میں سنا تھا؟
    وہ والدین جو برسوں اپنے بچوں کو ہر ہفتے یا پندرہ دن بعد خون لگوانے کے لئے ہسپتالوں کے چکر لگواتے رہتے ہیں، جو ہر رپورٹ، ہر سوئی چبنے اور ہر نئی آزمائش کے ساتھ اندر ہی اندر گھلتے رہتے ہیں
    جنہیں بارہا یہ سننے کو ملا کہ ان کا بچہ بس چند برسوں کا مہمان ہے
    ان والدین کے دلوں پر کیا گزرتی ہوگی؟
    بعض والدین تو یہ کہتے تھے کہ ہم اپنے بچوں کو دیکھ دیکھ کر جینے کے بجائے روز مر رہے ہوتے ہیں اور ہر لمحہ یہ خوف ساتھ رہتا ہے کہ نہ جانے آنے والا کل کیا لے کر آئے گا؟

    ایسے میں اگر کسی گھر میں امید کی ایک کرن روشن ہو جائے تو اس خوشی کا اندازہ صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہوں نے یہ کٹھن سفر طے کیا ہو
    ہوپ لائن کے سربراہ نے بتایا کہ یہ ہماری پیاری بیٹی خدیجہ کی کہانی ہے جس کا خون کا گروپ او نیگیٹو ہے جو کہ ملتا بھی بہت کم ہے

    انہوں نے بتایا کہ جب اس کے والد روزگار کے سلسلے میں بیرونِ ملک روانہ ہوئے تو اپنی بیٹی کو ہمارے سپرد کر گئے
    اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی کہ ہم اس کی دیکھ بھال اور رہنمائی میں اپنا کردار ادا کر سکیں
    انہوں نے بتایا کہ بعد ازاں ہم خدیجہ کو پشاور لے گئے جہاں علاج کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج سات ماہ گزر چکے ہیں اور اسے خون لگانے کی ضرورت پیش نہیں آئی
    چند روز قبل خدیجہ اپنی والدہ کے ساتھ سندس فاؤنڈیشن میں ہیموگلوبن رپورٹ چیک کروانے گئی تو وہاں موجود عملہ اور ڈاکٹر صاحبان بھی اس کی کیفیت سن کر خوش ہوئے
    ڈاکٹر صاحبہ نے بڑی توجہ سے اس کی بات سنی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ اس حوالے سے مذید معلومات حاصل کی جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو فائدہ پہنچ سکے
    ہوپ لائن فاؤنڈیشن نے بتایا کہ ہم پشاور اس لئے جاتے ہیں کہ اگر کہیں کوئی ایسا مؤثر علاج، طریقہ کار یا طبی رہنمائی موجود ہے جو تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کی زندگی میں آسانی لا سکتی ہے تو اس کی حقیقت کو سمجھنا ہم پر لازم ہے اور لازم ہے کہ اس کے نتائج کا جائزہ لیا جائے اور پھر اس معلومات کو زیادہ سے زیادہ ضرورت مند خاندانوں تک پہنچایا جائے
    انہوں نے بتایا نیز کہ ہمارا مقصد کسی فرد، ڈاکٹر یا ادارے کی تشہیر نہیں بلکہ بچوں اور والدین کے لئے امید، آسانی اور بہتری کے امکانات تلاش کرنا ہے اور ہم اپنے تمام دوست احباب کے بھی تہہ دل سے شکر گزار ہیں جو مسلسل بچوں اور ان کے والدین کی مالی خدمت اور رہنمائی کیساتھ حوصلہ افزائی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور ساتھ ان بچوں کو خون اور ادویات بھی مہیا کرتے ہیں

    اللہ تعالیٰ ہوپ لائن کے تمام معاونین، محبین، مخیر حضرات اور خدمتِ انسانیت کے جذبے سے سرشار افراد کو بہترین جزائے خیر عطا فرمائے اور تمام بیمار بچوں کو صحتِ کاملہ، لمبی زندگی اور خوشیوں بھرا مستقبل نصیب فرمائے
    آمین ثم آمین

    پاکستان میں بہت سے ادارے تھیلیسیمیا کے بچوں کی زندگیوں کی خاطر امید کی ایک کرن ہیں جو عوامی تعاون سے چل رہے ہیں اگر ایسا کوئی ادارہ آپ کے قریب ہے تو اس ادارے کی ہوپ بن کر تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کی ہوپ بن کر جئیں کیونکہ ہو سکتا یہ مریض بچے ہم سے پہلے رب کے حضور پہنچ کر ہماری بخشش کی ہوپ بن جائیں
    ہوپ لائن ویلفئیر فاؤنڈیشن کنگن پور ضلع قصور کیساتھ مالی تعاون کرنے کیلئے اس جاز کیش اکاؤنٹ نمبر
    03041472158
    بنام محمد زبیر پر تعاون کیا جا سکتا ہے نیز بلمشافہ ملنے اور بچوں کے تاثرات دیکھنے کیلئے ہوپ لائن ویلفئیر فاؤنڈیشن نزد گرڈ اسٹیشن کنگن پور تحصیل چونیاں ضلع قصور میں وزٹ کیا جا سکتا ہے
    مہنگائی کے اس دور میں خصوصاً موجودہ گورنمنٹ کی مہنگائی کی بدولت بھی ہمارے خیراتی اداروں کا پہلے کی طرح چلتے رہنا مملکت پاکستان کی عوام کو ایک عظیم قوم ظاہر کرتا ہے جو اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کے جینے کی بھی،ہوپ، ہیں
    وگرنہ آج تو اپنے گھر کا نظام چلانا ہی بہت مشکل ہو گیا ہے
    اللہ تعالیٰ ہم سب کی جان و مال اور اعمال میں برکت عطا فرمائے آمین

  • کس قدر ارزاں ہوا خون مسلماں کا،تحریر: بینا علی

    کس قدر ارزاں ہوا خون مسلماں کا،تحریر: بینا علی

    کل سے خطے میں جو بےچینی، اضطراب اور بےسکونی کی فضا قائم ہے اس نے دل دہلا دیے ہیں۔ ایک گھٹن زدہ کیفیت نے پورے کشمیر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ آزاد کشمیر میں نیٹ سروسز بند ہیں، اور یہ بندش صرف انٹرنیٹ کی نہیں بلکہ دلوں کی بھی ہے۔ دور دراز علاقوں میں رہنے والے ماں باپ اپنے بچوں کی خیریت جاننے سے قاصر ہیں۔ بہنیں اپنے بھائیوں کے لیے دعائیں مانگ رہی ہیں، بیویاں شوہروں کی سلامتی کی منتظر ہیں اور بچے اپنے پیاروں کی ایک آواز سننے کے لیے بےتاب ہیں۔ فون کی خاموشی اب دلوں میں خوف اور اندیشوں کی گونج بن چکی ہے۔خون، چاہے کشمیری کا ہو، پاکستانی کا، فوجی کا، پولیس والے کا، یا کسی عام شہری کا یا کسی غیر مسلم کا خون بہرحال خون ہوتا ہے۔ اس کا درد ایک جیسا ہوتا ہے۔ ہر لاش کے پیچھے ایک ماں کی اجڑی ہوئی دنیا ہوتی ہے، ایک باپ کی ٹوٹی ہوئی امید ہوتی ہے، ایک بیوی کا بکھرا ہوا سہارا اور معصوم بچوں کا لٹتا ہوا مستقبل ہوتا ہے۔ والدین کے لیے اولاد کا جنازہ اٹھانا زندگی کا سب سے بڑا دکھ ہے۔ یہ ایسا زخم ہے جو وقت کے ساتھ بھرنے کے بجائے اور گہرا ہو جاتا ہے۔ ماں عمر بھر دروازے کی طرف دیکھتی رہتی ہے جیسے اس کا بیٹا ابھی لوٹ آئے گا۔ باپ اپنے آنسو چھپاتا ہے مگر اندر ہی اندر ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔ بیوی زندگی بھر اس آواز کو ڈھونڈتی رہتی ہے جو کبھی اس کی زندگی کا سکون تھی۔ بچے ہجوم میں بھی اپنے باپ کا چہرہ تلاش کرتے رہتے ہیں۔افسوس کہ ایسے نازک وقت میں بھی سوشل میڈیا پر نفرت، تلخی اور بدزبانی کا بازار گرم ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک چھڑک رہے ہیں۔ اختلافِ رائے کو دشمنی بنا دیا گیا ہے اور انسانیت کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔خدارا! اب رک جائیے۔کتنا خون اور بہے گا؟ کتنی مائیں اپنے جوان بیٹوں کے انتظار میں دروازوں پر بیٹھی رہیں گی؟ کتنی بہنوں کی دعائیں ادھوری رہ جائیں گی؟ کتنے بچے یتیمی کی اذیت سہنے پر مجبور ہوں گے؟

    خون جب زمین پر گرتا ہے تو صرف ایک انسان نہیں مرتا ایک خاندان بکھر جاتا ہے، کئی خواب دفن ہو جاتے ہیں اور بے شمار خوشیاں ماتم میں بدل جاتی ہیں۔اس وقت دل صرف غمزدہ نہیں، مضطرب بھی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا خطہ سوگ میں ڈوبا ہوا ہو۔ ہر طرف خوف ہے، بے یقینی ہے اور دعاؤں کا ایک خاموش سلسلہ جاری ہے۔ایسے وقت میں ضرورت نفرت کے نعرے بلند کرنے کی نہیں بلکہ انسانیت کی آواز بلند کرنے کی ہے۔ ضرورت ایک دوسرے کو گرانے کی نہیں بلکہ ایک دوسرے کا سہارا بننے کی ہے۔
    آئیے ایک ایسی تحریک کا آغاز کریں جس کا نام محبت ہو، جس کا مقصد امن ہو اور جس کا پیغام انسانیت ہو۔ ایک ایسی تحریک جو ہمیں یاد دلائے کہ خون کا کوئی مذہب، کوئی زبان اور کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ خون صرف خون ہوتا ہے، اور اس کا درد ہر دل یکساں محسوس کرتا ہے۔

    آئیے ایسی زبان بولیں جو زخموں پر مرہم رکھے، ایسے الفاظ لکھیں جو دلوں کو جوڑیں اور ایسی دعائیں کریں جو نفرت کی آگ کو ٹھنڈا کر سکیں۔کیونکہ قومیں نفرت سے نہیں، محبت سے بنتی ہیں۔ معاشرے انتقام سے نہیں، برداشت سے پروان چڑھتے ہیں۔ اور انسانیت کی سب سے بڑی فتح یہ نہیں کہ ہم اپنے مخالف کو ہرا دیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو بچا لیں۔خدایا! اس دھرتی پر امن نازل فرما۔ ماؤں کی گودیں اجڑنے سے بچا، بچوں کے سروں سے سایہ نہ اٹھا، بہنوں کی دعاؤں کو قبول فرما اور ہمیں اتنی انسانیت عطا فرما کہ ہم خون کے رنگ میں سیاست نہیں بلکہ انسانی جان کی حرمت دیکھ سکیں۔آمین
    خدارا اب بس کر دیں بس

  • تمباکو نوشی، پاکستان پر چھایا موت کا دھواں،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    تمباکو نوشی، پاکستان پر چھایا موت کا دھواں،تحریر:اعجازالحق عثمانی

    جب کبھی کسی چائے خانے پر بیٹھتا ہوں، گلیوں سے گزرتا ہوں، یا کسی بازار میں قدم رکھتا ہوں،تو ایک منظر جو سب سے پہلے آنکھوں سے ٹکراتا ہے، وہ ہے سگریٹ کا دھواں۔ نوجوان لڑکے، ادھیڑ عمر مرد، حتی کہ کئی مقامات پر خواتین کے ہاتھوں میں جلتا ہوا سگریٹ نظر آتا ہے۔ ہم سب کےلیے یہ تمام عام مناظر ہوتے ہیں۔لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ کتنی زندگیاں، کتنے خاندان، کتنے خواب اس دھوئیں میں گم ہو رہے ہیں؟
    اعداد و شمار کے مطابق اس دھوئیں میں گھرے پاکستان کی تصویر انتہائی تشویشناک ہے۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ریسرچ کونسل کی معلومات اور PMC میں شائع شدہ مختلف تحقیقات کے مطابق، پاکستان میں تمباکو نوشی کی اوسط قومی شرح 21.6 فیصد ہے۔جس میں مردوں کی شرح 36 فیصد اور خواتین کی قریبا 9 فیصد ہے۔ یہ تحقیق 9441 افراد پر شہری و دیہی دونوں علاقوں میں کی گئی۔

    گلوبل ایڈلٹ ٹوبیکو سروے (GATS) 2024 کے نتائج کے مطابق پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 27 لاکھ بالغ افراد ابھی بھی تمباکو مصنوعات استعمال کر رہے ہیں۔ یہ تعداد پاکستان کی کل آبادی کا ایک بڑا حصہ بنتی ہے، جو کسی بھی ذی شعور شخص کو چونکا دینے کے لیے کافی ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں کو چونکا دینے کےلیے یہ شرح بھی ناکافی ثابت ہوئی ہے۔ پاکستان میں تمباکو نوشی محض سگریٹ تک محدود نہیں۔ یہاں تمباکو کی مختلف اشکال و اقسام موجود ہیں، جیسا کہ سگریٹ، حقہ، شیشہ، نسوار، گٹکا، بیڑی اور ویپ وعیرہ۔شیشہ کا رواج تو خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ تحقیقات کے مطابق اس کی شرح 33 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ یہ ایک سنگین صورتحال ہے، کیونکہ شیشہ کو عام طور پر کم نقصان دہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ سائنسی شواہد اس کے برعکس ہیں۔

    لوگ تمباکو نوشی کیوں شروع کرتے ہیں؟اس کا جواب آسانی سے اور درست دینا تو مشکل ہے، تاہم پاکستان میں شائع ہونے والی سائنسی تحقیق ‘Causes of Smoking in Pakistan: An Analysis of Social Factors’ کے مطابق تمباکو نوشی کے آغاز میں کئی سماجی، نفسیاتی اور ماحولیاتی عوامل کار فرما ہوسکتے ہیں۔
    ہم جماعتوں کا دباؤ ، Peer Pressure:

    ایک اور تحقیق کے مطابق 50 فیصد نوجوان اپنے ساتھیوں کے ساتھ سگریٹ شیئر کرنے کے بعد تمباکو نوشی کی عادت میں مبتلا ہوتے ہیں۔

    گھریلو ماحول اور خاندانی اثر:
    پاکستان میں گھر کا ماحول بھی تمباکو نوشی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر گھر میں باپ، چچا یا بڑا بھائی تمباکو نوشی کرتا ہو، تو بچہ اسے ایک معمول کا عمل سمجھنے لگتا ہے۔ جرنل آف اسموکنگ سیسیشن میں شائع ایک تحقیق کے مطابق کم تعلیم یافتہ اور غریب طبقوں میں تمباکو نوشی کی شرح زیادہ ہے۔

    تناؤ، غربت اور مایوسی:
    پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں تعلیم کی کمی،معاشی بحران، بے روزگاری اور سماجی مسائل کی بھرمار ہے۔ وہاں بہت سے لوگ کم علمی کی وجہ سے تمباکو نوشی کو ذہنی سکون کا ذریعہ سمجنے لگتےہیں۔ اور کئی لوگوں جب کسی مسئلے کا شکار ہوں، یا گھریلو لرائی جھگڑے میں سگریٹ پی کر سکون محسوس کرتے ہیں۔ اور وقت کے ساتھ یہ عادت لت بن جاتی ہے۔

    تمباکو نوشی کے صحت پر اثرات:
    عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق تمباکو دنیا بھر میں قابل گریز اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
    ۔The Friday Times میں جون 2026 میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تمباکو ہر سال 1 لاکھ 92 ہزار سے زائد انسانی جانوں کا قتل کرتا ہے۔یعنی روزانہ 526 سے زیادہ اموات، ہر گھنٹے میں 22 قتل۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، یہ ہم میں سے کسی کا بھائی، باپ، شوہر اور بیٹے ہوتے ہیں۔ اگر آپ تمباکو نوشی نہیں کر رہے تو یہ مت سمجھتے رہیے گا کہ ہم محفوظ ہیں کیونکہ تمباکو نوشی کا خمیازہ صرف وہ نہیں بھگتتے جو خود پیتے ہیں۔ بلکہ ان کے اردگرد بیٹھے بے قصور لوگ بھی اس دھوئیں کا شکار بنتے ہیں۔ گلوبل برڈن آف ڈیزیز رپورٹ (2019) کے مطابق پاکستان میں ہر سال 31000 اموات صرف پسیو اسموکنگ (سیکنڈ ہینڈ اسموک) کی وجہ سے ہوتی ہیں۔دنیا بھر میں پبلک مقامات پر تمباکو نوشی کرنا جرم ہے۔ لیکن پاکستان میں صرف کاغذوں کے حد تک، گاڑیوں، ہوٹلوں، دفاتر حتی کہ صحت کے مراکز میں بھی آپ بطور پسیو سموکر متاثر ہوتے ہیں، مگر پوچھنے والا کیوئی نہیں۔

    پاکستان میں مردوں کی کینسر سے ہونے والی اموات میں سے 23 فیصد منہ کے کینسر اور پھیپھڑوں کے سرطان کی وجہ سے ہوتی ہیں اور ان دونوں کا براہ راست تعلق تمباکو نوشی سے ہے۔ تمباکو مجموعی طور پر پاکستان میں غیر متعدی امراض (NCDs) سے ہونے والی 17.53 فیصد اموات کا ذمہ دار ہے۔ایک اور تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ پاکستان میں روزانہ 1200 بچے جن کی عمر قریبا 15 سال سے 17 کے درمیان ہوتی ہے جو تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں۔ یہ بچے نیکوٹین کی لت کا شکار ہو کر نہ صرف اپنی صحت برباد کرتے ہیں بلکہ تعلیمی کارکردگی، ذہنی نشوونما اور مستقبل برباد کر بیٹھتے ہیں۔

    معاشی تباہی اور تمباکو نوشی:
    یون کہنے کو تو تمباکو کی صنعت سے لوگوں کو روزگار ملتا ہے اور حکومت کو ٹیکس ملتا ہے۔ لیکن یہ دلیل اس وقت بالکل کھوکھلی ثابت ہو جاتی ہے جب ہم اس کا معاشی حساب کریں۔
    پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) 2021 کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں تمباکو نوشی کا کل سالانہ معاشی بوجھ 615.07 ارب روپے (یعنی 3.85 ارب امریکی ڈالر) ہے۔ جو پاکستان کی جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے۔ یہ تمباکو صنعت کی حکومتی آمدنی سے پانچ گنا زیادہ ہے۔
    ۔PubMed میں شائع 2022 ایک آرٹیکل کے مطابق کیسنر، دل کی بیماریوں اور سانس کی تکالیف جیسی تین بڑی بیماریوں کا علاج معالجہ اکیلے 437.8 ارب روپے (2.7 ارب ڈالر) سالانہ کھا جاتا ہے۔ اگر یہ پیسہ صحت، تعلیم یا دیگر ملکی بنیادی ڈھانچے پر خرچ کیا جائے تو کتنے ہسپتال بن سکتے ہیں، کتنے اسکول کھل سکتے ہیں، کتنے غریب گھرانوں کی زندگی بدل سکتی ہئے۔ تمباکو نوشی صرف انسانی صحت کا دشمن نہیں، بلکہ معاشی قاتل بھی ہے۔

    پاکستان نے 2004 میں عالمی ادارہ صحت کے فریم ورک کنوینشن آن ٹوبیکو کنٹرول (FCTC) پر دستخط کیے۔ اس کے بعد سے ملک میں تمباکو کنٹرول کے قوانین موجود ہیں۔ تعلیمی اداروں کے قریب فروخت پر پابندی، تشہیر پر پابندی وغیرہ ہےلیکن حقیقت یہ ہے کہ ان قوانین پر عمل نہیں ہوتا۔ تمباکو پروڈکٹس پر ٹیکس کے حوالے سے بھی صورتحال مایوس کن ہے۔ جبکہ بھاری ٹیکس لگانا، تمباکو نوشی میں کمی کا بہت موثر طریقہ ہوسکتا ہے۔
    ایک خوش آئند خبر یہ ہے کہ GATS 2024 کے نتائج کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 10 سالوں میں تمباکو کے استعمال میں 15.7 فیصد کمی آئی ہے۔ لیکن یہ کمی ناکافی ہے اور اس رفتار کو بہت تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ یہ نسل تباہ ہوجائے گی۔ تمباکو کا دھواں صرف سگریٹ کی نوک سے نہیں اٹھاتا بلکہ یہ معاشی وسائل اور قومی مستقبل کو بھی جلا کر راکھ کر دیتا ہے۔

    (نوٹ: یہ آرٹیکل مختلف سائنسی و تحقیقاتی رپورٹس سے ماخوذ ہے)