Baaghi TV

Category: متفرق

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:ملک اویس

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:ملک اویس

    کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ اپنی محنت کی کمائی سے خریدی گئی سگریٹ کا ہر کش دراصل آپ کی زندگی کا ایک حصہ جلا رہا ہوتا ہے؟ کیا آپ نے کبھی یہ محسوس کیا ہے کہ جس دھویں کو آپ اپنے منہ سے باہر نکالتے ہیں، وہ دراصل آپ کے خوابوں، آپ کی صحت، آپ کے مستقبل اور آپ کے خاندان کی خوشیوں کو بھی ساتھ لے جا رہا ہوتا ہے؟

    پاکستان ایک نوجوان ملک ہے۔ یہاں کروڑوں نوجوان اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں، لیکن افسوس کہ انہی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد تمباکو نوشی جیسی مہلک عادت کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ ہر روز ہزاروں افراد اپنی جیب سے پیسے نکال کر ایسی چیز خریدتے ہیں جو نہ صرف ان کے جسم کو کھوکھلا کر رہی ہے بلکہ ان کی زندگی کو بھی مختصر بنا رہی ہے۔سوچیے، ایک مزدور جو سارا دن دھوپ میں پسینہ بہا کر چند سو روپے کماتا ہے، وہ ان میں سے کچھ رقم سگریٹ پر خرچ کر دیتا ہے۔ ایک طالب علم جو اپنے والدین کی امیدوں کا مرکز ہوتا ہے، وہ اپنی جیب خرچ کا حصہ تمباکو پر ضائع کر دیتا ہے۔ ایک باپ جو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا خواب دیکھتا ہے، وہ اپنے ہی ہاتھوں اپنے خاندان کی خوشیوں کو دھویں میں اڑا دیتا ہے۔

    آپ پیسے بھی دے رہے ہیں، اپنی صحت بھی کھو رہے ہیں، اپنے پھیپھڑوں کو بھی تباہ کر رہے ہیں اور اپنے پیاروں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسی چیز ہو جسے خریدنے والا خود بھی نقصان اٹھائے اور اس کے آس پاس موجود لوگ بھی متاثر ہوں، مگر تمباکو ایسی ہی ایک لعنت ہے۔ہر سال لاکھوں لوگ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ کینسر، دل کے امراض، فالج، سانس کی بیماریاں اور بے شمار دیگر مسائل انسان کو وقت سے پہلے قبر کے قریب لے جاتے ہیں۔ مگر افسوس کہ اس کے باوجود بہت سے لوگ یہ سوچ کر سگریٹ سلگا لیتے ہیں کہ "ایک سگریٹ سے کیا ہوگا؟”حقیقت یہ ہے کہ تباہی کبھی ایک ہی دن میں نہیں آتی۔ ایک ایک کش، ایک ایک سگریٹ اور ایک ایک دن انسان کو اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں واپسی ممکن نہیں رہتی۔

    پاکستان کو آج مضبوط معیشت، صحت مند نوجوانوں اور باصلاحیت افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ لیکن جب ہماری نوجوان نسل اپنے خون میں زہر گھول رہی ہو تو ترقی کا خواب کیسے پورا ہوگا؟ ایک بیمار قوم کبھی مضبوط قوم نہیں بن سکتی۔ جو سرمایہ تعلیم، تحقیق، کاروبار اور خاندان پر خرچ ہونا چاہیے، وہ سگریٹ اور دیگر تمباکو مصنوعات کے دھویں میں برباد ہو رہا ہے۔ذرا اپنے بچوں کے چہروں کو دیکھیے۔ ان کی آنکھوں میں سجے خوابوں کو دیکھیے۔ کیا وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے والدین اپنی صحت کو تباہ کر کے انہیں وقت سے پہلے یتیمی، بیماری یا معاشی مشکلات کے حوالے کر دیں؟ کیا ہمارے نوجوان اس قابل نہیں کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں، اپنے ملک کا نام روشن کریں اور اپنی زندگی کو کامیابی کی مثال بنائیں؟یاد رکھیے، سگریٹ صرف ایک کاغذ میں لپٹا ہوا تمباکو نہیں ہوتا۔ یہ انسان کے ارادے، صحت، خوشیوں اور مستقبل کا دشمن ہوتا ہے۔ یہ آہستہ آہستہ انسان سے اس کی طاقت، خوبصورتی، اعتماد اور زندگی کی رونق چھین لیتا ہے۔

    آج وقت آ گیا ہے کہ ہم خود سے ایک سوال پوچھیں: آخر کیوں؟ آخر کیوں ہم اپنی محنت کی کمائی کو آگ لگا رہے ہیں؟ کیوں ہم اپنے بچوں کے حق کا پیسہ دھویں میں اڑا رہے ہیں؟ کیوں ہم اپنی زندگی کو مختصر کرنے پر تلے ہوئے ہیں؟ کیوں ہم ایک ایسی صنعت کو فائدہ پہنچا رہے ہیں جو ہماری صحت کی قیمت پر اربوں کماتی ہے؟اگر آپ تمباکو نوشی کرتے ہیں تو آج ہی فیصلہ کیجیے کہ آپ اپنی زندگی کو اس قید سے آزاد کریں گے۔ اگر آپ کے دوست یا عزیز اس عادت میں مبتلا ہیں تو انہیں سمجھائیے، ان کا ہاتھ پکڑیے اور انہیں اس تباہ کن راستے سے واپس لائیے۔ ایک سگریٹ چھوڑنا مشکل ضرور ہو سکتا ہے، مگر ناممکن نہیں۔ اور یاد رکھیے کہ ہر وہ دن جس میں آپ تمباکو سے دور رہتے ہیں، آپ اپنی زندگی میں اضافہ کر رہے ہوتے ہیں۔

    ہمیں ایک ایسے پاکستان کی ضرورت ہے جہاں نوجوانوں کے ہاتھوں میں کتابیں ہوں، سگریٹ نہیں۔ جہاں سانسوں میں تازگی ہو، زہر نہیں۔ جہاں ہسپتالوں کی قطاریں کم اور کامیابیوں کی داستانیں زیادہ ہوں۔ جہاں قوم اپنی دولت بیماریوں پر نہیں بلکہ ترقی پر خرچ کرے۔آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے وطن کو تمباکو سے پاک پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ ہم اپنی نسلوں کو اس لعنت سے بچائیں گے۔ ہم اپنی صحت، اپنے خاندان اور اپنے مستقبل کو دھویں کی نذر نہیں ہونے دیں گے۔کیونکہ زندگی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، اور کوئی بھی نعمت اس قابل نہیں کہ اسے اپنے ہی ہاتھوں دھویں میں اڑا دیا جائے۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:نور فاطمہ

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:نور فاطمہ

    پاکستان نوجوانوں کا ملک ہے۔ یہاں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جو قوم کا قیمتی سرمایہ، ترقی کا محور اور مستقبل کی امید ہیں۔ یہی نوجوان اگر علم، ہنر اور صحت کے زیور سے آراستہ ہوں تو ملک ترقی کی نئی منزلیں طے کرتا ہے، لیکن اگر وہ مضر عادات کا شکار ہو جائیں تو نہ صرف ان کی اپنی زندگی متاثر ہوتی ہے بلکہ پورا معاشرہ اس کے منفی اثرات بھگتتا ہے۔ ان مضر عادات میں تمباکو نوشی ایک ایسی خاموش تباہی ہے جو آہستہ آہستہ انسان کی صحت، کردار، معاشی حالت اور مستقبل کو نگل جاتی ہے۔

    تمباکو نوشی بظاہر ایک معمولی عادت محسوس ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک خطرناک زہر ہے۔ سگریٹ، شیشہ، ویپنگ اور دیگر تمباکو مصنوعات انسانی جسم کے تقریباً ہر عضو کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ عالمی سطح پر لاکھوں افراد ہر سال تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ پھیپھڑوں کا کینسر، دل کے امراض، فالج، سانس کی بیماریاں اور متعدد دیگر جان لیوا مسائل تمباکو نوشی کے براہِ راست نتائج ہیں۔افسوسناک امر یہ ہے کہ بہت سے نوجوان محض شوق، دوستوں کے دباؤ، وقتی تفریح یا خود کو جدید ثابت کرنے کی خواہش میں اس عادت کا آغاز کرتے ہیں۔ ابتدا میں ایک یا دو سگریٹ سے شروع ہونے والا سفر جلد ہی ایسی لت میں تبدیل ہو جاتا ہے جس سے چھٹکارا پانا آسان نہیں رہتا۔ تمباکو میں موجود نکوٹین ایک نشہ آور مادہ ہے جو انسان کو ذہنی اور جسمانی طور پر اپنا غلام بنا لیتا ہے۔ یوں نوجوان اپنی صلاحیتوں، توانائی اور خوابوں کو ایک دھوئیں کے بادل میں گم کر دیتے ہیں۔

    نوجوانوں کو یہ حقیقت سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تمباکو نوشی غلامی ہے،کمزوری کی نشانی ہے۔ حقیقی آزادی اس میں ہے کہ انسان اپنی خواہشات اور غلط رجحانات پر قابو پائے۔ جو نوجوان سگریٹ کے دھوئیں سے دور رہتا ہے، وہ اپنی صحت، عزتِ نفس اور مستقبل کی حفاظت کرتا ہے۔تمباکو نوشی کا نقصان صرف پینے والے تک محدود نہیں رہتا۔ گھر کے افراد، دوست احباب اور اردگرد موجود لوگ بھی اس کے دھوئیں سے متاثر ہوتے ہیں۔ بچے، بزرگ اور خواتین غیر ارادی طور پر اس زہریلے دھوئیں کو سانس کے ذریعے اپنے جسم میں داخل کرتے ہیں جس سے ان کی صحت کو بھی شدید خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ایک فرد کی بری عادت پورے خاندان کی زندگی پر منفی اثر ڈالتی ہے۔

    معاشی اعتبار سے بھی تمباکو نوشی ایک تباہ کن عمل ہے۔ روزانہ سگریٹ پر خرچ ہونے والی رقم بظاہر معمولی محسوس ہوتی ہے، مگر مہینوں اور سالوں میں یہی رقم ایک بڑی رقم بن جاتی ہے۔ یہ سرمایہ تعلیم، کاروبار، کتابوں، صحت اور خاندان کی ضروریات پر خرچ ہو سکتا ہے، لیکن تمباکو نوشی اسے دھوئیں میں اڑا دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بیماریوں کے علاج پر آنے والے اخراجات الگ بوجھ بن جاتے ہیں۔پاکستان کو ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے ضروری ہے کہ نوجوان نسل تمباکو سے مکمل دوری اختیار کرے۔ تعلیمی اداروں، والدین، اساتذہ، میڈیا اور سماجی تنظیموں کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں، کھیلوں، مطالعے اور مثبت مشاغل کی طرف راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جب نوجوان اپنی توانائیاں تعمیری کاموں میں صرف کریں گے تو وہ خود بخود ایسی مضر عادات سے دور رہیں گے۔

    آج ہر نوجوان کو اپنے آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہیے: کیا چند لمحوں کی جھوٹی تسکین میرے خوابوں، صحت اور مستقبل سے زیادہ قیمتی ہے؟ یقیناً جواب نفی میں ہوگا۔ زندگی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے اور اس نعمت کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ تمباکو نوشی نہ صرف صحت کے خلاف جرم ہے بلکہ اپنے مستقبل کے ساتھ ناانصافی بھی ہے۔آج عہد کریں کہ ہم خود بھی تمباکو نوشی سے دور رہیں گے اور اپنے دوستوں، بھائیوں، بہنوں اور معاشرے کے دیگر افراد کو بھی اس زہر سے بچانے کی کوشش کریں گے۔ تمباکو سے پاک پاکستان قومی ضرورت ہے۔ جب ہمارے نوجوان صحت مند ہوں گے، ان کے خواب زندہ ہوں گے، ان کی صلاحیتیں محفوظ ہوں گی اور ان کی توانائیاں مثبت مقاصد کے لیے استعمال ہوں گی تو پاکستان ترقی، خوشحالی اور کامیابی کی نئی داستان رقم کرے گا۔

    تمباکو کا دھواں وقتی طور پر فضا میں تحلیل ہو جاتا ہے، لیکن اس کے اثرات زندگی بھر انسان کا پیچھا کرتے ہیں۔ اس لیے آج ہی فیصلہ کیجیے، ابھی فیصلہ کیجیے، اور اپنے آپ کو اس زہر سے ہمیشہ کے لیے آزاد کر لیجیے۔ ایک صحت مند نوجوان ہی ایک مضبوط پاکستان کی بنیاد ہے، اور تمباکو سے پاک پاکستان ہی ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: محمد راشد تبسم

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: محمد راشد تبسم

    دنیا بھر میں ہر سال 31 مئی کو تمباکو نوشی کے خلاف عالمی دن منایا جاتا ہے۔اس دن کا مقصد لوگوں کو ان خطرناک اثرات سے آگاہ کرنا ہے جو تمباکو کے استعمال کی وجہ سے انسانی صحت، معیشت اور معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ تمباکو نوشی ایک ایسی خاموش وبا بن چکی ہے جو ہر سال لاکھوں جانیں نگل رہی ہے۔ بالخصوص پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے اس دن کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہاں تمباکو نوشی صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ قومی ترقی، معاشی استحکام اور نوجوان نسل کے مستقبل کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ تمباکو نوشی کے خلاف عالمی مہم کا آغاز 1987 میں کیا گیا تاکہ دنیا بھر میں تمباکو کے نقصانات کے بارے میں شعور پیدا کیا جا سکے۔ ہر سال اس دن کے لیے ایک خاص موضوع منتخب کیا جاتا ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کو ان طریقوں سے آگاہ کرنا ہے جن کے ذریعے تمباکو کمپنیاں اپنی مصنوعات کو جدید فیشن اور پرکشش طرز زندگی کے طور پر پیش کرتی ہیں۔

    اگر دنیا بھر میں تمباکو نوشی کی صورتحال دیکھی جائے تو اعداد و شمار انتہائی تشویشناک تصویر پیش کرتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال 7 ملین سے زائد افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ ان میں تقریباً 13 لاکھ ایسے افراد بھی شامل ہیں جو خود تمباکو استعمال نہیں کرتے مگر دوسروں کے دھوئیں، یعنی سیکنڈ ہینڈ سموک، کا شکار ہو کر مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں تمباکو استعمال کرنے والوں کی تعداد تقریباً 1.3 ارب تک پہنچ چکی ہے اور ان میں بڑی تعداد ایسے ممالک کی ہے جہاں صحت کے وسائل محدود ہونے کی وجہ سے یہ مسئلہ مزید سنگین بن جاتا ہے۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے کینسر، دل کے امراض، فالج، سانس کی دائمی بیماریوں اور کئی دیگر خطرناک پیچیدگیوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اگرچہ ترقی یافتہ ممالک نے سخت قوانین، بھاری ٹیکس اور آگاہی مہمات کے ذریعے تمباکو نوشی کی شرح میں واضح کمی کی ہے، لیکن ترقی پذیر ممالک بشمول پاکستان میں اس کا رجحان اب بھی خطرناک حد تک موجود ہے۔
    پاکستان میں لاکھوں افراد تمباکو کی مختلف قسمیں استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سگریٹ کے علاوہ نسوار، گٹکا، پان، شیشہ اور بیڑی جیسی مصنوعات بھی عام ہیں۔ مختلف قومی سرویز کے مطابق ملک میں مردوں میں تمباکو نوشی کی شرح خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہے، تاہم خواتین اور نوجوان لڑکیوں میں بھی اس رجحان میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مزیدتشویشناک بات یہ ہے کہ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ چونسٹھ ہزار سے زائد افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تمباکو نوشی ایک خاموش مگر انتہائی خطرناک بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

    تمباکو نوشی کے اثرات صرف تمباکو استعمال کرنے والوں تک محدود نہیں رہتے۔ حقیقت یہ ہے کہ گھروں، دفاتر اور عوامی مقامات پر پھیلنے والا دھواں بچوں، خواتین اور بزرگوں کے لیے بھی شدید نقصان دہ ہوتا ہے۔
    ماہرین کے مطابق تمباکو کے دھوئیں میں سات ہزار سے زائد کیمیائی مادے موجود ہوتے ہیں جن میں درجنوں ایسے ہیں جوکینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔ حاملہ خواتین میں تمباکو نوشی بچوں کی کمزور پیدائش، قبل از وقت ولادت اور دیگر پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے ۔ اسی طرح بچوں میں سانس کی بیماریاں، الرجی اور پھیپھڑوں کی کمزوری بھی تمباکوکے دھوئیں سے جڑی ہوئی ہیں۔
    تمباکو کی صنعت کا سب سے بڑا ہدف نوجوان نسل ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق پاکستان میں روزانہ تقریباً بارہ سو بچے تمباکو نوشی کا آغاز کرتے ہیں۔ نوجوانی میں شروع ہونے والی یہ عادت اکثر پوری زندگی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔ مزید یہ کہ جدید دور میں ای سگریٹ اور ویپنگ نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ انہیں ”محفوظ متبادل“ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ ماہرین کے مطابق ان میں موجود نیکوٹین نوجوان دماغ کی نشوونما پر منفی اثر ڈالتی ہے اور انسان کو مستقل نشے کی طرف لے جاتی ہے۔

    پاکستان کی معیشت پر تمباکو نوشی کے اثرات بھی بہت خطرناک ہیں۔ اگرچہ حکومت کو تمباکو کی صنعت سے ٹیکس حاصل ہوتا ہے، مگر تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج، ادویات، ہسپتالوں کے اخراجات اور افرادی قوت کے نقصان کی صورت میں قومی معیشت کو کہیں زیادہ نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کو ہر سال تمباکو نوشی کی وجہ سے تقریباً 1800 ارب روپے سے زائد کا معاشی نقصان ہوتا ہے جس سے قومی پیداوار اور معاشی ترقی پر منفی اثر پڑتا ہے۔
    حکومت پاکستان نے تمباکو نوشی پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات بھی کیے ہیں۔مثلاً عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی، سگریٹ کے پیکٹوں پر تصویری انتباہات، اشتہارات پر پابندیاں اور ٹیکسوں میں اضافہ انہی کوششوں کا حصہ ہیں۔ تاہم ان قوانین پر موثر عمل درآمد اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ دوسری طرف غیر قانونی سگریٹ کی فروخت، کم قیمت مصنوعات کی دستیابی اور تمباکو کمپنیوں کا اثر و رسوخ اکثر ان پالیسیوں کی کامیابی میں رکاوٹ بنتا ہے۔
    دنیا کے کئی ممالک میں سخت پالیسیوں کے ذریعے تمباکو نوشی کی شرح میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔تمباکو پر بھاری ٹیکس، مارکیٹنگ پر مکمل پابندی اور مسلسل آگاہی مہمات نے مثبت نتائج دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگرپاکستان میں تمباکو مصنوعات پر مزید ٹیکس عائد کیے جائیں، نوجوانوں تک ان کی رسائی محدود کی جائے اور آگاہی مہمات کو فروغ دیا جائے تو تمباکو نوشی کی شرح میں واضح کمی ممکن ہے۔ اس مقصد کے لیے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس کے لیے تعلیمی ادارے نوجوانوں میں شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ والدین بچوں کو اس لت کے خطرات سے آگاہ کریں اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔ اسی طرح میڈیا بھی تمباکو نوشی کو فیشن یا تفریح کے بجائے ایک سنگین خطرے کے طور پر پیش کرے۔
    اسلامی تعلیمات بھی انسانی جان کے تحفظ اور صحت کی حفاظت پر زور دیتی ہیں۔ چنانچہ اسلام ہر اس عمل سے بچنے کی تلقین کرتا ہے جو انسان کے لیے نقصان دہ ہو یا دوسروں کو تکلیف پہنچانے کاسبب بنے۔ تمباکو نوشی نہ صرف انسان کی اپنی صحت تباہ کرتی ہے بلکہ اردگرد موجود لوگوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ مزید برآں،یہ غریب خاندانوں کے محدود وسائل کو ایک نقصان دہ عادت پر خرچ کرنے کا سبب بنتی ہے، جبکہ یہی وسائل تعلیم، خوراک اور بہتر زندگی پر خرچ ہو سکتے ہیں۔
    حقیقت یہ ہے کہ 31 مئی صرف ایک عالمی دن نہیں بلکہ ایک اجتماعی احساس ذمہ داری کی یاد دہانی ہے۔ اسی لیے پاکستان میں ہر سال تمباکو نوشی کی وجہ سے ہونے والی ایک لاکھ چونسٹھ ہزار اموات اور اربوں روپے کے معاشی نقصانات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ اب خاموش رہنے کی بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔ حکومت، میڈیا، تعلیمی اداروں، والدین، مذہبی رہنماوں اور سول سوسائٹی سب کو مل کر موثر کردار ادا کرنا ہو گا۔ ورنہ اگر آج اس خطرے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو آنے والی نسلیں ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزاریں گی جہاں بیماری، کمزور صحت اور معاشی مسائل مزید بڑھ چکے ہوں گے۔
    ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو تمباکو کی لت سے بچائیں، صحت مند طرز زندگی کو فروغ دیں اور ایسا ماحول پیدا کریں جہاں صاف ہوا میں سانس لینا ہر انسان کا بنیادی حق ہو۔ کیونکہ ایک صحت مند قوم ہی ایک مضبوط، محفوظ اور خوشحال پاکستان کی بنیاد بن سکتی ہے۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان ،تحریر: بینا علی

    تمباکو سے پاک پاکستان ،تحریر: بینا علی

    تمباکو آج کی دنیا میں صحتِ عامہ کا سب سے بڑا قابلِ تدارک خطرہ بن چکا ہے۔ اگرچہ تمباکو ایک پودا ہے اور اس کی کاشت زرعی معیشت کا حصہ رہی ہے لیکن اس کے مسلسل استعمال نے لاکھوں زندگیاں نگل لیں اور کروڑوں خاندانوں کو جسمانی، ذہنی اور معاشی نقصان پہنچایا۔ جدید سائنس نے ثابت کیا ہے کہ تمباکو میں موجود نکوٹین ایک طاقتور نشہ آور مادہ ہے جو دماغ کے کیمیائی نظام کو بدل دیتا ہے اور انسان کو جسمانی و نفسیاتی طور پر اس کا عادی بنا دیتا ہے۔قدیم زمانے میں امریکہ کے مقامی قبائل تمباکو کو مذہبی رسومات اور دوائی کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ سولہویں صدی میں جب یورپی مہم جو امریکہ پہنچے تو وہ تمباکو اپنے ساتھ یورپ لے گئے۔ رفتہ رفتہ کپاس، گندم اور مکئی کی طرح تمباکو کی کاشت بھی تجارتی فصل کے طور پر پوری دنیا میں پھیل گئی۔ نباتاتی درجہ بندی کے مطابق تمباکو “نکوٹیانا” خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ اس پودے میں پایا جانے والا بنیادی کیمیائی مادہ “نکوٹین” ہے، جس کے نام پر اس خاندان کا نام بھی رکھا گیا۔

    نکوٹین بہت کم مقدار میں بھی دماغ میں موجود نکوٹینک رسیپٹرز کو متحرک کر دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ڈوپامین اور دیگر نیوروٹرانسمیٹر خارج ہوتے ہیں، جس سے عارضی طور پر سکون، توجہ اور خوشی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ مگر بار استعمال سے دماغ ان رسیپٹرز کی تعداد بڑھا دیتا ہے، اور جسم نکوٹین پر انحصار کرنے لگتا ہے۔ اسی لیے تمباکو نوش کو سگریٹ نہ ملنے پر بے چینی، چڑچڑاپن، سر درد اور نیند کی خرابی جیسی علامات محسوس ہوتی ہیں۔ کسی شخص کا نکوٹین پر انحصار اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کتنی مقدار میں، کتنے عرصے سے اور کس طریقے سے تمباکو استعمال کر رہا ہے۔ سگریٹ، حقہ، نسوار، ہان اور چیونگ تمباکو میں نکوٹین کی مقدار مختلف ہوتی ہے اور یہ فرق بھی عادت کی شدت پر اثر انداز ہوتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 1.1 ارب افراد تمباکو استعمال کرتے ہیں، یعنی بالغ آبادی کا تقریباً ایک تہائی حصہ۔ ہر سال تقریباً 80 لاکھ افراد تمباکو سے متعلق بیماریوں کے باعث موت کا شکار ہوتے ہیں۔ ان میں سے 70 لاکھ سے زائد اموات براہِ راست تمباکو نوشی کے نتیجے میں ہوتی ہیں، جبکہ 12 لاکھ اموات “سیکنڈ ہینڈ سموک” یعنی غیر تمباکو نوش افراد کے تمباکو کے دھوئیں میں سانس لینے سے واقع ہوتی ہیں۔

    تمباکو صرف جان ہی نہیں لیتا بلکہ معیشت پر بھی بھاری بوجھ ڈالتا ہے۔ علاج کے اخراجات، پیداواری صلاحیت میں کمی اور قبل از وقت اموات کی وجہ سے عالمی معیشت کو سالانہ تقریباً 1.4 ٹریلین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے، اس بوجھ کو برداشت کرنے کی کم صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ یہاں صحت کا نظام پہلے ہی محدود وسائل کا شکار ہے۔تمباکو کو “خاموش قاتل” کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے اثرات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتے لیکن طویل مدت میں یہ جسم کے تقریباً ہر عضو کو نقصان پہنچاتا ہے۔ تمباکو کے دھوئیں میں 7000 سے زائد کیمیائی مادے ہوتے ہیں، جن میں سے کم از کم 250 زہریلے اور 70 کینسر پیدا کرنے والے ہیں۔ طبی شواہد کے مطابق تمباکو نوشی منہ، گلے، خوراک کی نالی، پھیپھڑوں، اور لبلبے کے کینسر کا بڑا سبب ہے۔یہ دَمہ، نمونیا، دل کے دورے، فالج، ہائی بلڈ پریشر اور خون کی نالیوں کی بیماریوں کا خطرہ کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ حاملہ خواتین میں تمباکو کا استعمال قبل از وقت ولادت، کم وزن کے بچے اور اسقاطِ حمل کا باعث بن سکتا ہے۔ نوجوانوں میں تمباکو کا آغاز دماغی نشوونما کو متاثر کرتا ہے اور بعد میں منشیات کے استعمال کا امکان بڑھاتا ہے۔

    پاکستان میں تمباکو نوشی صحتِ عامہ کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ قومی اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 3 کروڑ سے زائد افراد تمباکو استعمال کرتے ہیں، جن میں سگریٹ نوشوں کے ساتھ نسوار اور حقہ استعمال کرنے والے بھی شامل ہیں۔ ہر سال ہزاروں افراد منہ، گلے اور پھیپھڑوں کے کینسر، دل کی بیماریوں اور سانس کے امراض کی وجہ سے موت کا شکار ہوتے ہیں۔ نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھ رہا ہے، کیونکہ کم قیمت سگریٹ اور اشتہارات تک آسان رسائی انہیں اس عادت کی طرف کھینچتی ہے۔اس خطرناک صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے حکومت، سول سوسائٹی اور معاشرے کو مل کر سنجیدہ اور مربوط اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔پہلا اور سب سے اہم قدم تمباکو کنٹرول کے لیے بنائے گئے قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔ پاکستان میں تمباکو کے استعمال کے نقصانات سے تحفظ کا قانون” موجود ہے، جس میں عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کی ممانعت، پیکیج پر صحت کے انتباہات اور نابالغوں کو تمباکو کی فروخت پر پابندی شامل ہے۔ مگر کمزور نفاذ کی وجہ سے یہ قانون مؤثر ثابت نہیں ہو سکا۔ ہوٹلوں، دفاتر، پارکوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی کا نفاذ نہ صرف غیر تمباکو نوشوں کو دھوئیں سے بچائے گا بلکہ سماجی طور پر تمباکو کو ناپسندیدہ بھی بنائے گا۔

    دوسرا مؤثر ہتھیار قیمت اور ٹیکس کا ہے۔ اقتصادی تحقیق سے ثابت ہے کہ سگریٹ کی قیمت میں 10 فیصد اضافہ نوجوانوں میں استعمال کو 4 فیصد اور بالغوں میں 2 فیصد تک کم کر دیتا ہے۔ سگریٹ اور دیگر تمباکو مصنوعات پر بھاری اور یکساں ایکسائز ڈیوٹی لگانے سے ان کی قیمت بڑھے گی اور یہ نوجوانوں اور کم آمدنی والے طبقے کی پہنچ سے دور ہو جائیں گی۔ حاصل شدہ اضافی آمدنی کو صحت کے نظام اور تمباکو ترک کرنے کے پروگراموں پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔تیسرا کام آگاہی اور تعلیم ہے۔ میڈیا، اسکولوں، کالجوں اور مذہبی و سماجی فورمز کے ذریعے بڑے پیمانے پر مہم چلانا ضروری ہے تاکہ لوگ تمباکو کے حقیقی نقصانات سے باخبر ہوں۔ پیکیج پر خوفناک تصویری انتباہات، ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر آگاہی پیغامات، اور اسکول کے نصاب میں تمباکو کے مضمرات کو شامل کرنا نئی نسل کو اس عادت سے بچا سکتا ہے۔

    چوتھا اہم اقدام تمباکو چھوڑنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ جو لوگ تمباکو ترک کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے مفت یا کم قیمت پر مشاورتی خدمات، ہیلپ لائن اور نیکوٹین متبادل تھراپی جیسے گم، پیچ اور ادویات کی فراہمی ضروری ہے۔ بنیادی صحت کے مراکز میں ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو “تمباکو ترک کرنے کی مختصر مداخلت” کی تربیت دینے سے لاکھوں افراد کو بروقت مدد مل سکتی ہے۔پانچواں قدم تمباکو کی ہر قسم کی تشہیر، پروموشن اور سپانسرشپ پر مکمل پابندی ہے۔ تمباکو کمپنیاں اکثر کھیلوں، موسیقی اور ثقافتی تقریبات کی سپانسرشپ کے ذریعے نوجوانوں کو متاثر کرتی ہیں۔ اس روایت کو ختم کیے بغیر طلب میں کمی ممکن ہے

    تمباکو کے رجحان کو کم کرنے کے لیے صرف پابندی کافی نہیں بلکہ نوجوانوں کو صحت مند متبادل ذرائع بھی فراہم کرنا ہوں گے۔ ملک میں مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینا ہوگا۔ نوجوانوں کو کھیلوں، تعلیم، فنون اور سماجی خدمات کی طرف راغب کرنا چاہیے۔ اس کے لیے کھیلوں کے میدان آباد کرنے ہوں گے، اسکولوں میں جسمانی تعلیم کو فعال بنانا ہوگا اور مقامی سطح پر کھیلوں کے مقابلے منعقد کرنے ہوں گے تاکہ بچے اور نوجوان اپنا وقت سگریٹ نوشی کے بجائے کھیل کود اور تخلیقی سرگرمیوں میں صرف کریں۔

    تمباکو وہ واحد بڑی وجہِ اموات ہے جس کا تدارک مکمل طور پر ممکن ہے۔ اگر حکومت قوانین پر سختی سے عمل کرے، ٹیکس بڑھائے، آگاہی پھیلائے، ترک کرنے میں مدد دے اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف لائے تو پاکستان کو تمباکو سے پاک بنانا ایک حقیقت بن سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں لاکھوں زندگیاں بچیں گی، صحت کے خراجات کم ہوں گے اور ایک صحت مند، پیداواری نسل پروان چڑھے گی۔ تمباکو کے خلاف جنگ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری خاندان اور ادارے کا فرض ہے کہ وہ اپنے حصے کا کردار ادا کرے۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:تحریر:ڈاکٹر عالیہ فیض

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:تحریر:ڈاکٹر عالیہ فیض

    یہ بات تو طے ہے کہ تمباکو نوشی پاکستان کی جڑوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے اور کھوکھلا کر رہی ہے بے شمار پاکستانی صرف اور صرف تمباکو نوشی کے ذریعے اپنی قیمتی جانیں تلف کر بیٹھے ہیں۔۔۔اور مزید اعداد و شمار میں اضافہ ہی ہو رہا ہے اموات میں بھی اور اس لت میں مبتلا ہونے والے نشئی افراد میں بھی اضافہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔۔اگر یہی عمل جاری و ساری رہا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان(خدا نخواستہ) تباہی کے دلدل میں ڈوب جائے گا.

    یہ بڑی خوبصورت سوچ ہے کہ چند تجاویز حکومت کے سر منڈھ کر چین کی بنسی بجائیں اور خود ہر امر سے مبرّا ہو جائیں۔۔۔دراصل پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ کی یہی سب سے بڑی وجہ ہے ہر میدان میں ہم بڑھ چڑھ کر بولتے تو ہیں لیکن جب بات ذاتیات کی آتی ہے تو ہم ببانگ دہل نعرہ بلند کرنے والے پیچھے کھسک لیتے ہیں۔۔ہماری ہر بات میں زندہ دلی تو ہوتی ہے لیکن مردہ کرداروں کے ساتھ ہر اچھی بات کہنا نصیحت کرنا باعث ثواب سمجھا جاتا ہے لیکن عملی طور پر فقدان پایا جاتا ہے اور یہی شخصی جھول ہماری خو بن چکا ہے۔

    یہ آج کا مسئلہ نہیں ہے کہ پاکستان تمباکو نوشی سمیت مختلف نشوں کی مد میں سر فہرست کھڑا ہے۔اسکے سدّ باب کے لئے بہت کچھ کیا چکا ہے اور کیا جا رہا ہے لیکن فکر انگیز پہلو یہ ہے کہ وہی ڈھاک کے تین پات کے مصداق مسئلہ،معاملہ جوں کا توں قائم ہے…اعداد و شمار میں چنداں کمی محسوس نہیں ہو رہی بلکہ روز افزوں یہ لعنت اپنے پنجے گاڑھ رہی ہے۔۔۔پاکستان جیسی پاکیزہ سر زمین کو مفلوج کر رہی ہے۔۔۔کیونکہ اسکے ذریعے ہماری نو جوان نسل کے اعصاب شل کئے جا رہے ہیں ذہن مکدّر و پراگندہ کئے جا رہے ہیں اور یہ سب ایک بھیانک سازش ہے۔ہمارے ادارے غیر فعال ہو رہے ہیں ہمارے گھروں میں آپسی رنجشیں اور چپقلشیں پنپ رہی ہیں نفرتوں کے ستون تعمیر ہو رہے ہیں،ماں بہن بیوی بیٹی کی عزت و ناموس خاک میں مل رہی ہے۔۔۔رشتوں کا احترام خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے۔بے روزگاری عام ہو چکی ہے چوری ڈکیتی غرض یہ کہ کونسی برائی ہے جو اس تمباکو نوشی جیسی لعنت کے زیر اثر نہیں ہے۔نقصانات کی ایک طویل فہرست ہے جنکی اصل وجہ صرف اور صرف تمباکو نوشی ہے۔

    اس سلسلے میں بے شمار فلاحی تنظیمیں،حکومتی ادارے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن وغیرہ سب نے بڑے مؤثر انداز میں اپنے فرائض ادا کئے لیکن نتیجہ آٹے میں نمک کے برار۔دراصل اب وقت ہے کہ ہمیں نہایت سنجیدہ ہو کر اسکے اصل عوامل کیطرف توجہ کرنی ہو گی۔غور طلب امر اور پہلو یہ ہے کہ بہت کچھ کیا جا چکا ہے۔۔اسکے سدباب کے لئے لیکن اسکے باوجود نتائج حوصلہ افزاء نہیں حاصل ہو رہے ہیں تمام کوششیں کیوں بے ثمر و بے سود ثابت ہو رہی ہیں۔لہذا غور طلب پہلو یہ ہے

    میری نظر میں اس لعنت میں اگر کمی یا خاتمہ ممکن ہے تو جواسکی بنیادی وجہ سمجھ میں آتی ہے وہ تربیت کا فقدان ہے اگر ہم نونہالوں کی اسلامی نظریات پر بنیادیں تعمیر کریں تو۔۔۔۔یقیناً امید کی جاسکتی ہے کہ کم و بیش ہم اس لعنت پر اسی نوے فیصد قابو پا سکتے ہیں۔۔۔دراصل کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی اسکی آئندہ آنے والی نسلیں ہوا کرتی ہیں اور ریڑھ کی ہڈی کا درست ہونادراصل صحت کی بنیادی علامت ہوا کرتی ہے۔
    جسطرح درخت کی نرم شاخ کو ہم حسب منشاء موڑ سکتے ہیں بالکل یہی مثال ایک معصوم بچے کی بھی ہے،ہم بچپن میں بچے کو جو ماحول دیں گے وہ وہی اپنائے گا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہر بچہ کو اسکے والدین اپنی طرف سے بہترین تربیت دے رہے ہوتے ہیں تو معزرت کے ساتھ عرض ہے کہ ایسا در حقیقت ہو نہیں رہا جسے والدین بہترین کہہ رہے ہیں وہ دراصل۔۔۔غیبت،لالچ،ایک دوسرے کو نیچا دکھانا،رشتوں کی بے حرمتی،احساس کمتری یا برتری کے حبس زدہ ماحول میں آداب مجلسی کی تنزلی کا شکار زدہ ماحول دیا جا رہا ہے۔
    جسکے نتیجہ میں بچوں میں گھبراہٹ،خوف،بے سکونی،اعتماد میں شدید ترین کمی کیوجہ سے بچوں میں اوائل عمر میں ہی تنہائی میں تحفظ کا احساس جاگنے لگتا ہے اور آگے چل کر یہی تنہائی مختلف جرائم کی بنیاد بنتی ہے۔تنہائی کے عادی بچے کاہل الوجود ہو جاتے ہیں ایسے میں وہ اپنی بھوک مٹانے کے لئے چھوٹی موٹی چوریاں کرتے ہوئے بالآخر ان لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو انہیں اپنے اغراض و مقاصد کے لئے استعمال کرتے اور نشہ دیکر ڈھیٹ بنا دیتے ہیں لہذا وہ معاشرے کا نا کارہ پرزہ ثابت ہونے لگتے ہیں اسی کے پیش نظر انہیں واپس پلٹنے کا راستہ نہیں ملتا۔

    لہذا حکومت کو چھوٹے بچوں کے لئے ہر علاقے میں ایسے ادارے ضرور بنانے چاہیں جہاں غیر تعلیم یافتہ والدین اپنے بچوں کو بھیج سکیں جہاں بچوں کو فری میں تعلیم اور چھوٹے ہنر سکھائے جائیں اور مصروف رکھا جائے۔۔وقتاً فوقتاً والدین کو بھی آگاہی پروگرامز کے ذریعے تعلیم دی جائے ایسی ورک شاپس منعقد کی جائیں کہ کہ جووالدین بیروزگار ہیں انکی آمدنی کا ذریعہ بن سکے۔دوسری جانب اعلیٰ تعلیم یافتہ ہائی فائی طبقہ بھی تمباکو کی لت کا شکار ہوتا ہے اور دراصل یہ ہی طبقہ ہے جو پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے۔۔اور دراصل یہ ہی تمباکو کی ترسیل کا آلہ کار طبقہ ہے انکی اولادیں دراصل آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا کہ پیش نظر اس لت کا شکار ہو جاتی ہیں۔

    ان لوگوں کو بلا تفریق سزائیں ملنی چاہیں تاکہ اس گندگی سے پاک۔۔۔پاک سر زمینِ پاکستان پنپ سکے۔
    ” الہی خیر ہو ایمان کے کمزور بیڑے ہیں
    ہوائیں تند ہیں اور باد سر سر کے تھپیڑے ہیں..
    ہوائے شطنیت کمزور بیڑوں کو ڈبوتی ہے
    مگر اولاد آدم تخت غفلت پر سوتی ہے۔”

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:ڈاکٹر ادیب عبدالغنی شکیل

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:ڈاکٹر ادیب عبدالغنی شکیل

    اللہ تبارک تعالی’ سب کا خالق ، مالک ، رازق ہے. یوں تو اس کی ساری مخلوقات خوب صورت اور پیاری ہیں لیکن اشرف المخلوقات انسان کی تو بات ہی کچھ اور ہے.”بیشک یقینا”ہم نے آدمی کو سب سے اچھی صورت میں پیدا کیا ۔”
    یہی انسان اپنی منفی سوچ ، بد اعمالیوں اور عادات بد کی وجہ سے اسفل سافلین کے گڑھے میں جاگرتا ہے.عادات بد میں سب سے بری عادت سگریٹ نوشی کی عادت ہے.بدقسمتی سے وطن عزیز پاکستان کی آبادی کا قابل ذکر حصہ اس عادت بد میں مبتلا ہے.امراء میں اس کا تناسب کم ہے اور امیر عورتوں میں تو نہ ہونے کے برابرجبکہ سگریٹ نوشی کی عادت بد میں مبتلا زیادہ تر افراد کا تعلق غریب گھرانوں سے ہے. ان میں عورتوں کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے.
    جیب میں نہیں دھیلہ
    کرنے چلی میلہ میلہ
    کھانے کو دانے ہوں نہ ہوں سگریٹ کی ڈبی ضرور لینی ہے یا پھر مانگ کر ہی پینی پڑے، پینی ضرور ہے.

    سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
     ”بے شک اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے اور اس بات کو بھی پسند کرتا ہے کہ اپنے بندے پر اپنی نعمت (کا اثر) دیکھے اور وہ مصیبت اور محتاجی (دکھانے) سے نفرت کرتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 1067]

    لباس سے ،جسم سے ، رہائش سےمفلسی جھلک رہی ہو ، اسے رفع کرنے کی کوشش نہیں کرنی ہاں اس میں اضافہ کے لیے ، صورت حال کو گھمبیر بنانے کے لیے سگریٹ ضرور پینی ہے.
    لگے دم
    مٹے غم

    کہنے سے ، سگریٹ کے کش لگانے سے غم غلط نہیں ہوتے بلکہ بڑھتے ہیں.سگریٹ نوشی اصل میں اپنے آپ کو دھوکہ دینا، اپنے آپ کو جھوٹی تسلی دینا ہے ،زندگی کی حقیقتوں سے فرار ہے جیسا کہ کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ بلی اسے نہیں دیکھ رہی.
    یہ لوگ روٹی خریدنے کی بجائے بیماری خریدتے ہیں.
    سگریٹ بیڑی حقہ پان
    قاطع صحت جسم و جان
    دنیا بھر میں ٹی بی (تپ دق)بہت کم ہو گئی ہے. ہمارے ہاں آج بھی امراض سینہ کے وارڈز بھرے پڑے ہیں ٹی بی کے مریضوں سے.ایک وقت تھا کہ ذرائع ابلاغ پر سگریٹ نوشی کے پرکشش اور ترغیب دلاتے اشتہارات کی بھرمار ہوتی تھی.
    کے ٹو کا پاکستان سے لے کر
    ولز اینڈ کرکٹ گو ٹوگیدر
    Wills and cricket go together. تک
    اللہ کا شکر سگریٹ کی تشہیر مرحلہ وار ختم ہوئی اور تمباکو سے پاک پاکستان کی طرف ایک نہایت مثبت قدم اٹھایا گیا.
    پاکستان کو ، خصوصا” نسل نو کو تمباکو نوشی سے روکنے کے لیے فیصلہ کیا گیا کہ اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کو سگریٹ نہیں بیچی جائے لیکن ہمارے ہاں قانون بنتا ہی اس لیے کہ اسے توڑا جائے اب بیشتر سگریٹ فروشوں کی دکانوں پر ایک مخفی جگہ پر سٹیکر لگا ہوتا ہے جس پر سگریٹ پر سرخ لائن کے ساتھ 18 کا ہندسہ لکھا ہوتا ہے
    کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی.

    چند جگہ پرلکھا ہوتا ہے
    ہم 18 سال سے کم عمر پچے کو سگریٹ فروخت نہیں کرتے.لیکن کرتے ہیں.عوامی مقامات پر تمباکو نوشی کہنے سننے کی حد تک ممنوع ہے حقیقت میں تو ہر جگہ ڈنکے کی چوٹ پر کی جارہی ہے.تمباکو سے پاک پاکستان کے لیے ان قوانین پر عمل درآمد کرانا قانون نافذ کرانے والے اداروں کی ذمہ داری ہے.

    پی ٹی وی کے مزاحیہ پروگرام ففٹی ففٹی میں ایک خاکے کے ذریعہ سمجھایا گیا کہ تمباکو نوشی ہے خود کشی کا آسان طریقہ.ایک اشتہار میں معروف کرکٹر وسیم اکرم بڑے میدان کے چکر پر چکر لگاتے نظر آتے ہیں. دو نو عمر لڑکے انہیں دیکھتے ہیں اور پوچھتے ہیں”وسیم بھائی آپ تھکتے نہیں ہیں؟” جواب میں وسیم اکرم کہتے ہیں ” میں سگریٹ نہیں پیتا”سگریٹ وہ سفید چھڑی ہے جس کے ایک سرے پر آگ اور دوسرے پر بے وقوف ہوتا ہے.اس طرح کے خاکوں، اشتہارات اور مقولوں کے ذریعہ تمباکو نوشی کے خلاف رائے عامہ ہموار کی جاسکتی
    ہے.

    تمباکو نوشی دیگر نشوں کی ابتدائی سیڑھی ثابت ہوتی ہے اور غلط و غلیظ چیزوں کے استعمال سے قبل ہونے والی جھجک کون ختم کردیتی ہے.تمباکو سے پاک پاکستان نسل نو کو منشیات کے چنگل میں پھنسنے سے روکے گا.
    اکثر سگریٹ نوش حضرات کا کہنا ہے بلکہ پختہ یقین ہے کہچھٹتی نہیں ہے کافر منہ کو لگی ہوئی ،لیکن اگرکوئیرشتہ دار نقصان پہنچائے تو اس سے رشتہ داری ختم کردیتے ہیں. سگریٹ سے تعلق کیوں ختم نہیں کرتے
    جبکہ یہ جان ،مال، عزت ، آبرو سب کا نقصان کیا کباڑہ کردیتی ہے.

    عقل مند اور بے وقوف دونوں عشق میں مبتلا ہو جائیں ٹو ان میں کوئی فرق نہیں رہتا.ان پڑھ اور پڑھا لکھا دونوں تمباکو نوشی کریں تو پڑھا لکھا زیادہ قابل نفرین ہے.
    سگریٹ ساز اور سگریٹ فروش ایک سکیم متعارف کراتے ہیں کہ اتنی خالی ڈبی واپس دے کر بھری ڈبی حآصل کریں تمباکو نوش اس لالچ میں زیادہ سے زیادہ سگریٹ پیتے ہیں وہ بھول جاتے ہیں کہ تیز چلو گے جلد مروگے،تیز رفتاری موت انجام،تمباکو سے پاک پاکستان کے لیے حکومت ایسی تمام سکیموں پر پابندی لگائے.

  • تمباکو سے پاک پاکستان ،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

    تمباکو سے پاک پاکستان ،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

    ہمارے ملک پاکستان کی سر زمین کو تمباکو نوشی سے پاک کرنے کے لیے سب سے پہلے حکومت کو اقدامات کرنے ہوں گے ـ منشیات مافیا کے خلاف قانونی کارروائی کر کے ان کے اڈوں کا خاتمہ کرنا چاہیے تاکہ منشیات کا دھندا بند ہو جائےـ
    نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کو فروغ دیا جائےـ والدین اپنے بچوں کی نگرانی کریں-
    نوجوان نسل کی تربیت دینے میں کوشاں رہنا چاہیے تاکہ لڑکے بری صحبت اختیار نہ کریں-

    غربت کا شکار عوام کو سہولیات فراہم کی جائے۔ ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے امداد کی جائے تاکہ ان کے بچے کسی غلط کام میں ملوث نہ ہوں، غریب عوام کی خدمت کے لیے تعلیمی نظام بنایا جانا چاہیے اور بہترین روزگار ، مہنگائی کا خاتمہ کیا جائے- ہمارے ملک پاکستان میں ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مہنگائی اور بےروزگاری ہے۔

    ہمارے ملک پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے طوفان نے انسان کو ذہنی دباؤ کا شکار کیا ہوا ہے – ایک وجہ بےایمانی ، چوری، دہشت گردی،کھلے عام ڈکیتی ہو رہی ہے۔

    تمباکو نوشی سے پاک کرنے کے لیے اپنی عادت کو بدلنا ہو گا۔جب تمباکو کھانے کا دل چاہتا ہو تو اس کی جگہ پر سونف یا تل، بادام، کاجو، اخروٹ وغیرہ کھانے کی عادت ڈالیں۔ چاکلیٹ کھائیں۔ تمباکو نوشی سے پاک پاکستان بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

    ہمارے معاشرے میں تعلیم کی کمی کی وجہ سے کم سن بچے غلط صحبت اختیار کرتے ہیں ۔۔ باہر نکل کر نشے کرنے والوں کے ہاتھوں سے برباد ہو رہے ہیں اور نشے کی لت پڑ جاتی ہے ۔ امیر طبقے کے لوگوں کے والدین نے بچوں کو آزادی دے کر بگاڑا ہوا ہوتا ہے اور ان کے بچے کہاں بیٹھتے اٹھتے ہیں ۔ انہیں فکر نہیں ہوتی نوجوان نسل کو نشے کی لت لگ جاتی ہے ۔ اور والدین بے خبر رہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ آ ج کل ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ رجحان موبائل کا استعمال ہو چکا ہے ۔سب سے زیادہ خطرناک ترین صورتحال ہوچکی ہے ۔ موبائل ایک نشہ بن چکا ہے ۔ جس کی وجہ سے زندگی کے حالات میں بیشتر تبدیلی آچکی ہے ۔ آ پس کے تعلقات رشتوں میں دوری کی وجہ بھی یہی ہے ۔ پہلے کے اخلاقیات میں کمی، وقت کی کمی ہونے کی صورت میں معاشرتی تلخیاں بڑھتی جا رہی ہیں ۔موبائل کے نشے کی لت سے چھٹکارا پانے کے لیے ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، بڑے ہوں یا بچے ، نوجوان نسل نشے سے تباہی کا شکار ہو رہی ہے ۔ کچھ سمجھ دار لوگ موبائل سے آ ن لائن کاموں کو کر کے فائدے بھی حاصل کررہے ہیں اور دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ نشے کی مختلف اقسام ہیں ۔ مثال کے طور پر تمباکو نوشی ، پان، سگریٹ ، گوٹکا ،چھالیہ ، شیشہ پینے کا رواج عام ہو گیا ہے ۔

    بچوں کی پہلی درسگاہ اس کا اپنا گھر ہوتا ہے ۔ جہاں تربیت ملتی ہے ۔پرورش کے ساتھ تربیت اور اچھی تعلیم دونوں ضروری ہوتی ہے ۔ ایک کامیاب زندگی بسر کرنے کے لیے بہترین معاشرے کی تشکیل دینے کی ضرورت ہے ۔اچھے سکول کے ساتھ بچوں کی اچھی پڑھائی کا ہونا لازمی ہے۔تعلیم یافتہ اساتذہ کا ہونا بہت ضروری ہے ۔اچھی تعلیم معاشرے کی اصلاح کر سکتی ہے ۔معاشرہ بہترین ہو گا تو ملک پاکستان کی ترقی کے لیے کوشاں ہو گا ۔ہمارےملک پاکستان کے لیے ہر فرد اہم ہے ۔معاشرے کی نشوونما کے لیے ماں کو فکر مند ہونا چاہیے ۔غریب گھرانے کے بچوں کی تعلیم کے لیے حکومت کو اقدامات کرنے چاہیے ۔ہر پاکستانی بچہ اہم ہے ۔
    نشے سے چھٹکارے کے لیے حکومت کو قدم اٹھانا ہوگا۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان ،تحریر :  انیلا صفدر

    تمباکو سے پاک پاکستان ،تحریر : انیلا صفدر

    تمباکو سے پاک پاکستان ایک ایسا موضوع ہے ۔ جو آج کے دور میں ایک المیہ کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ پہلے لوگ تکیوں اور ڈیروں پر بیٹھ کر حقہ پیتے تھے ۔ یہ شام کے مخصوص اوقات میں جب حقہ گرم کیا جاتا تھا ۔ اور جب حقہ ڈال لیا جاتا تھا ۔ تو گرد و نواح سے دوست احباب اکٹھے ہو کر محفل کو گرمایا کرتے تھے۔

    جیسے وقت کے ساتھ باقی روایات بدلیں۔ویسے ہی حقے کو بنانے کا تردد کرنے کی بجائے بآسانی سگریٹ خرید کر اس طلب کو پورا کیا جانے لگا ۔ اور حقہ چند مخصوص لوگوں تک محدود ہو کر رہ گیا ۔ اور آہستہ آہستہ معاشرے میں تمباکو نوشی پھیلے لگی۔ کوئی عادتا پیتا ۔ اور کوئی شوقیہ دیکھا دیکھی پینے لگا۔ کوئی اپنے غم کو غلط کرنے کے لیے پیتا ہے ۔ اور کوئی اپنے آپ کو اسٹائل دینے کیلئے اس دھوئیں کو پھونکنے لگا ہے ۔ اور آج کا ہمارا المیہ ہماری نوجوان نسل ہے جونشے کی دلدل میں دھنستی جارہی ہے ۔ کیونکہ ہر نشے کا آغاز سگریٹ نوشی سے ہی ہوتا ہے۔ پہلے مذاق مذاق میں دوست ایک دوسرے سے سگریٹ لے کر پیتے ہیں۔ اور جو نہیں پیتے ان کو زبردستی پلایا جاتا ہے ۔

    اور سگریٹ نوشی کوئی کسی بھی نشے کو کرنے کی پہلی سیڑھی کہا جاتا ہے ۔ کہ سگریٹ نوشی سے جسم میں نکوٹین کی طلب بڑھتی جاتی ہے ۔اور یوں سگریٹ پینے والا اس طلب کو پورا کرنے کے لیے بار بار سگریٹ پیتا ہے ۔اور یوں وہ زندگی بھر کے لئے اس کا عادی ہو جاتا ہے ۔ تمباکو نوشی کرنے والا صرف خود کو ہی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ اس کے گرد و نواح لوگ بھی اس کے خارج کردہ دھوئیں سے متاثر ہوتے ہیں۔ بالخصوص بچوں، بوڑھوں اور بیمار لوگوں کے لئے کہا جاتا ہے ، کہ ان کی موجودگی میں سگریٹ نوشی سے پرہیز کیا جائے، کیونکہ وہ دھواں سانس کے ذریعے دوسرے لوگ اندر (inhale ) لے جاتے ہیں

    اور وہ دھواں ان لوگوں کے لیے ایسے ہی نقصان دہ ہے جیسے کسی سگریٹ نوش کے لئے ہے ۔ لیکن لوگ اس بات کی قطعی پرواہ نہیں کرتے، اور جہاں ان کا دل کرتا سگریٹ سلگھا کر محظوظ ہونے لگتے ہیں۔

    سگریٹ نوشی انسانی صحت پر بہت برے اثرات مرتب کرتی ہے ۔ جس میں سرفہرست کینسر آتا ہے ۔اس کے بعد دل کے امراض، منہ اور مسوڑوں کے مسائل، پھیپھڑوں اور سانس کے امراض لاحق ہو جاتے ہیں ۔ کچھ لوگوں کو معدے کا السر بھی ہو جاتا ہے ۔ ایسے بہت سے مسائل ہیں جو سگریٹ نوشی کی بدولت روزمرہ زندگی میں تنگی کا باعث بن جاتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود لوگ اس کو ترک کرنے سے قاصر ہیں۔

    دنیا بھر میں پانچ میں سے ایک فرد کسی نہ کسی صورت میں تمباکو استعمال کرتا ہے ۔ جس میں مرد، عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ پاکستان میں اس کے اعداد و شمار کے مطابق 2 کروڑ 90 لاکھ سے زائد لوگ اس وقت تمباکو استعمال کر رہے ہیں ۔ اور اسی حساب سے تمباکو کی وجہ سے تقریبا 3 لاکھ 37 ہزار لوگ موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔

    اس کے تدارک کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں ۔جو کہ کافی نہیں ہیں ۔

    31 مئی کو تمباکو نوشی کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔ جس کا مقصد تمباکو سے ہونے والے نقصانات سے لوگوں کو آگاہی کروانا ہے ۔ اور تمباکو نوشی کی روک تھام کے اقدام کو مرتب کرنا اور ان کے لئے لائحہ عمل کو مقرر کرنا ہے ۔کہ کیسے ہم اس لعنت سے اپنے ملک ، معاشرے، لوگوں اور نئی آنے والی نسلوں کو بچا سکتے ہیں ۔ اس تحریک کا باقاعدہ آغاز 1987 میں عالمی ادارہ صحت کی قرارداد کے ذریعے کیا گیا ۔ لیکن ابھی تک اس سے کوئی خاطرخواہ نتائج حاصل نہیں کر سکے۔ بلکہ تمباکو کمپنیوں نے اس کو مزید بہتر بناتے ہوئے ویب اور ای سگریٹ کی شکل میں نوجوانوں کو جدید تحفہ دے دیا ہے ۔ جس کو بالخصوص نوجوانوں نسل لڑکے اور لڑکیاں ایک فیشن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اس کے لیے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور اینٹی نارکوٹکس بورڈ کو مل کر ایسا لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے ۔ جس سے نارکوٹکس کمپنیوں کی حوصلہ شکنی ہو ۔ ایسے قوانین مرتب کرنے چاہئیں، جس سے ان کاروبار کی ترسیل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی ہوں۔اور ان کے لئے ٹیکس کا نظام اتنا سخت اور کڑا ہونا چاہیے کہ ان کو اپنا کاروبار چلانے میں خاطرخواہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

    یہی نہیں بلکہ اپنے بچوں کی تربیت اس طرح کریں کہ وہ بجائے اس کے کہ والدین اور اپنے بڑوں سے چوری یہ کام کریں، وہ خود ان چیزوں سے دور رہیں۔ اور اپنے اچھے برے کا فیصلہ کر سکیں۔ اس کی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ خود بچوں کے سامنے وہ کام نہ کریں، جس سے وہ کل کو اپنے بچے کو روکتے ہوئے جھجک محسوس کریں۔

    تمباکو نوشی کرتے ہوئے صحت کے ساتھ ساتھ مالی نقصان بھی کیا جاتا ہے ۔ کہ ہم خود اپنے ہاتھوں سے اپنا مال اور صحت دھوئیں میں اڑا دیتے ہیں ۔ اور بدلے میں نکوٹین کا زہریلا اور نشہ آور مادہ ہماری رگوں میں دوڑنے لگتا ہے اور ہم اپنے ہاتھوں سے اپنی جانوں کو جوکھم میں ڈال دیتے ہیں۔ خود ذاتی کوشش کے ساتھ اداروں کو بھی اس کاروبار کی حوصلہ شکنی کے لئے سخت اور دیرپا اقدامات کرنے پڑیں گے ۔ چند لوگوں کے مفادات کے سامنے نسلوں کی قربانی نہ دیں ۔ بلکہ ان نشے کی طرف بڑھتے ہوئے قدموں میں ابھی سے قانون کی بیڑیاں ڈال کر اپنی آنے والی نسلوں کو بچا کر تمباکو سے پاک پاکستان کی بنیاد رکھ دیں ۔
    پاکستان زندہ باد

  • تمباکو سے پاک پاکستان ،تحریر:بابر امین ابر

    تمباکو سے پاک پاکستان ،تحریر:بابر امین ابر

    تمباکو کا آغاز سب سے پہلے امریکہ کے مقامی باشندوں کے ہاں ہوا۔ ریڈ انڈینز اسے استعمال کیا کرتے تھے۔ قریباً چھ ہزار قبل مسیح میں وسطی اور جنوبی امریکہ میں تمباکو کے پودوں کی کاشت کاری کی گئی۔ ابتدائی طور پر اسے مذہب رسومات، علاج اور روحانی تقریبات میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ان کے نزدیک دھواں دعائیں آسمان پر پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔ 1492ء میں کرسٹوفر کولمبس جب امریکہ پہنچا تو اس نے مقامی لوگوں کو تمباکو پیتے دیکھا پھر وہ تمباکو کے بیج اور پتے یورپ لے گیا۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ اس کی لت پھیلنا شروع ہوئی۔ ابتدا میں لوگ اسے پینے کے لیے لکڑی اور مٹی کے پائپ استعمال کرتے تھے۔ سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں اسے بادشاہوں، فوجی حلقوں اور امراء کی شان و شوکت کی علامت سمجھا جانے لگا۔ سگار میں تمباکو بھر کر پینا بھی شان و شوکت اور امراء کی عزت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔انیسویں صدی میں مشینوں کی مدد سے سگریٹ تیار ہونا شروع ہو گئے۔ اس کے بعد تمباکو نوشی کے پھیلاؤ میں تیزی آ گئی۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں سپاہیوں کو سکون مہیا کرنے کے مواد کے طور پر سگریٹ بھی دیے جاتے تھے۔ تاہم 1950ء میں سائنس نے یہ بات ثابت کی کہ تمباکو نوشی سے پھیپھڑوں کا کینسر، سانس کے مسائل اور دل کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔
    تمباکو نوشی ایسی عادت ہے جس سے صرف فرد واحد کی زندگی نہیں بلکہ معاشرہ تباہ و برباد ہوتا ہے۔ آج پاکستان بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں تمباکو نوشی اور منشیات کا استعمال ستعمال جنون کی حد سے گزرنے والا ہو چکا ہے۔ تمباکو اپنے اندر نکوٹین اور کئی زہریلے کیمیکل رکھتا ہے جو دل، دماغ اور پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس سے فالج ہونے کا اندیشہ بھی لاحق رہتا ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والا صرف خود ہی متاثر نہیں ہوتا ہے بلکہ آس پاس بیٹھے لوگوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ یہ پیسو سموکنگ کہلاتا ہے۔

    آج کی نئی نوجوان نسل ملکِ عزیز کی ترقی کا زینہ بننے کی نسبت تمباکو نوشی اور دیگر نت نئے ایجاد ہونے والے نشوں میں ڈوبتے جانا زیادہ پسند کرتی ہے۔ نا صرف ذاتی زندگی تباہ و برباد کرتے ہیں بلکہ حلقۂ احباب کو بھی اس لت کا عادی بناتے ہیں۔ سگریٹ، آئس اور پائپ جیسے نشے آج بطور فیشن استعمال کیے جاتے ہیں۔ دوست احباب آپس میں مل بیٹھ کر علمی مباحث کرنے کی بجائے سگریٹ، آئس اور پائپ یا حقے کی مختلف فلیور استعمال کر کے زیادہ روحانی خوشی حاصل کرتے ہیں۔ اسے شخصی آزادی اور ہائی ویلیو سٹیٹس کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
    پاکستان میں نئی نسل کو اس برائی سے بچانے کے لیے حکومت کو اپنا ٹھوس کردار ادا کرنا پڑے گا۔ حکومتی اقدامات اور تنبیہات کے باوجود بھی تمباکو نوشی کا استعمال اپنی حدود سے تجاوز کرتا جا رہا ہے۔ اب تو سکول، کالج اور گرلز ہوسٹل بھی اس کی زد میں آ چکے ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی اس مسئلے کے سلجھاؤ کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ اساتذہ جو کہ معمارِ قوم ہیں۔ ان کے پاس علم کی نورانی قوت موجود ہے۔ انھیں چاہیے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت اور عادات پر توجہ مرکوز کریں۔ انھیں تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے بچاؤ کے لیے رہنمائی فراہم کریں اور تربیتی ورکشاپس کا انعقاد اولین ترجیح بنائیں۔ تمباکو نوشی کے خلاف آگاہی مہم چلائیں۔ والدین کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں اور بری صحبت پر خصوصی طور پر نظر رکھیں۔

    سگریٹ کی تشہیری مہم اور پروگرامز کی سختی سے حوصلہ شکنی کی جائے۔ علماء اور سماجی رہنما اس سلسلے میں معاون کا کردار ادا کریں۔ عوام میں تمباکو نوشی اور دیگر نشہ جات کے خلاف سماجی بیداری اور آگاہی کی مہم چلائیں۔

    کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے نئی نسل ایک بیش قیمت خزانہ ہوتی ہے۔ اس کی حفاظت اور کردار سازی کے لیے حکومت اور عوام کو مل جل کر کردار ادا کرنے ضرورت ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اپنی نوجوان نسل کو ہنر، مہارتیں اور ترقی کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ جبکہ پاکستان کے نوجوان بجائے مہارتوں کے حصول، فنی خدمات اور ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کے، کلف لگے اکڑے لباس پہن کر ہاتھوں میں سگریٹ اور دیگر نشے تھامے ناصرف خود کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ ملک و قوم کے نقصان کے ضامن بنتے ہیں۔

    دینِ اسلام حلال اشیاء کی ترغیب دیتا ہے اور برائی اور بری اشیاء چھوڑنے کا حکم دیتا ہے۔ اسلام ہر اس نشہ آور شے کو حرام قرار دیتا ہے جو انسان کو ہوش و حواس سے بیگانہ کرے اور اسے کسی بھی بری لت کا شکار بنائے۔
    اس ضمن میں حکومت کو خصوصی اقدامات اٹھانے اور قوانین کے نفاذ کی اشد ضرورت ہے۔ تب ہم کہیں جا کر پاکستان کو تمباکو سے پاک صاف پاکستان بنا سکتے ہیں۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان ،تحریر:تابندہ طارق عکس

    تمباکو سے پاک پاکستان ،تحریر:تابندہ طارق عکس

    جاڑے کا موسم عروج پر تھا۔گہرے کالے بادل،ہر طرف دھند ہی دھند اور دھند سے اٹھتا ہوا دھواں باہر کے ماحول کو شفافیت سے محروم کر رکھا تھا،وہاں ایک گاؤں آباد تھا جس میں ہزاروں گھر تھے،ان ہزاروں گھروں میں ایک گھر ایسا بھی تھا جس کی در و دیوار پر ہاتھوں کی دلکش کشیدہ کاری کی گئی تھی۔ہاتھ کے باریک پھول دار لکڑی کے بڑے بڑے دروازے تھے جو اس گھر کی خوبصورتی میں چار چاند لگا رہے تھے۔جیسے کسی راجا مہاراجہ کے محل کا گمان ہوتا ہو۔گہری دھند میں چودھویں کے چاند کا عروج مندمل ہوچکا تھا۔چاند کے ارد گرد اڑتا دھواں کبھی چاند کو نمایاں کرتا اور کبھی اوجھل کر دیتا۔لیکن یہ دھواں صرف آسمان پر نہیں تھا بل کہ اس شاندار گھر جس کو دیکھتے ہی کسی محل کا گمان ہوتا تھا اس گھر کے ایک کمرے کی باہر سے کھڑکیوں کے شیشے دھندلکے ہو رہے تھے۔کمرے کے اندر بھی کھڑکیوں کے شیشے داغ دار ہو چکے تھے،ان پر دھواں پڑ پڑ کر اب شیشے سے زیادہ دھواں دھار جمی ہوئی تہہ دکھائی دیتی تھی۔اس کمرے سے دھواں اٹھتا ہوا کمرے میں پھیلتا جا رہا تھا کمرے کے گوشے گوشے میں دھواں رقص کر رہا تھا اور سرخ مائلی روشنی کسی موم بتی کی طرح روشن تھی۔دروازے پر دستک ہوئی جیسے کسی نے اسے پیچھے کی سمت کھولنے کی کوشش کی ہو۔ہلکی قدموں کی چاپ سے کوئی اندر داخل ہوا، آندھرا اور دھواں اس کے ساتھ سرخ مائلی روشنی مدھم جگنو کی مانند ٹمک رہی تھی۔ایک آواز نے سارا ماحول بدل دیا تھا۔
    "سائیں! آپ اندھیرے میں بیٹھ کر آج پھر سگریٹ پر سگریٹ سلگائے جا رہے ہیں۔”
    بورڈ پر لگے بٹن کی آواز کے ساتھ کمرہ روشن ہو گیا۔
    "ٹک۔”
    ایک ٹرے اس میں رکھا کپ اور کپ سے نکلتی بھاپ جو گرم ہونے کا تاثر دے رہی تھی۔چائے پکڑتے ہوئے گویا ہوئی۔
    "یہ آپ کی چائے۔”
    "شہر بانو! آج بہت سردی ہے۔شکر ہے تم چائے لے آئی۔”
    وہ بلنگ کی دوسری طرف آکر بیٹھ گئی اور پھر سے کہنے لگی۔
    "سائیں! آپ اتنے سگریٹ مت پیا کریں،آپ جانتے ہیں یہ اچھی چیز نہیں ہے۔”

    "شہر بانو! سردیوں کی طویل راتیں،ماضی کے گہرے دکھ،آج کے گہرے سناٹے اور یہ خالی حویلی جیسے جیسے میرا جی جلاتے ہیں ویسے ہی میں اس سگریٹ سے اپنے اندر کے خلا کو جلانے کی کوشش کرتا ہوں۔”

    سائیں خیر دین جہاں دیدہ گھاگ تھا،لیکن عمر کے اس حصے میں اسے اولاد کے نہ ہونے کا دکھ اس پر تیر تلوار کی طرح کاٹتا تھا دوسری طرف شہر بانو بھی گہرے صدمے میں تھی لیکن اس کے باوجود وہ اپنے دکھ پر ضبط کر لیتی،اپنی گہری نشیلی آنکھوں میں آنسوؤں کے امنڈنے والے سمندر کو پیتی رہتی۔لیکن وہ سائیں کے سامنے خود کو بہت مضبوط ظاہر کرتی۔چائے پینے کے بعد وقت دیکھا تو کافی رات گزر چکی تھی۔لائٹ آف کرکے دونوں سو گئے۔کچھ گھنٹوں بعد اچانک ایک طرف باہر بادل گرجنے کی آواز دھرتی کو جھنجھوڑ رہی تھی اور دوسری طرف اچانک سائیں کو کھانسی کا دورہ پڑا یہ کھانسی کا دورہ بہت شدید تھا اتنا کے شہر بانو ڈر کے مارے جلدی سے آٹھ کھڑی ہوئی۔لائٹ آن کی اور جلدی سے پانی لینے کے لیے کمرے سے باہر گئی لیکن جب واپس آئی تو سائیں کی حالت دیکھ کر پانی کا گلاس ہاتھ سے چھوٹ کر گرا اور ٹوٹ گیا۔
    "سائیں! یہ کیا ہوا آپ کو؟”
    سائیں کھانستے کھانستے زمین پر گر پڑا تھا اور اس کے منہ سے خون رسنے لگا۔شہر بانو نے جلدی سے اٹھانے کی کوشش کی اور با مشکل بیڈ پر لیٹا کر منہ سے خون صاف کیا۔پھر جلدی سے اپنے رشتے داروں کو کال کرنے لگی لیکن رات کافی ہوچکی تھی اسی لیے کوئی بھی کال نہیں اٹھا رہا تھا۔گاؤں کے قریب ایک ہسپتال تھا شہر بانو نے وہاں کال کرکے ایمرجینسی ایمبولینس سے مدد لی اور سائیں کو ہسپتال لے گئی۔ڈاکٹر نے فورا چیک کیا اور کچھ ٹیسٹ لکھ کر نرس کو دیے اور کہا۔
    "نرس! یہ ٹیسٹ جلد از جلد کروائیں اور جیسے ہی رپورٹ آ جائے فورا مجھے مطلع کیجیے۔”
    شہر بانو ساری رات روتی رہی دعائیں کرتی رہی۔صبح ہوتے ہی ڈاکٹر وارڈ میں آیا تو شہر بانو جھٹ سے کہنے لگی۔
    ” ڈاکٹر صاحب! یہ ٹھیک تو جائیں گے نا زیادہ خطرے والی بات تو نہیں ہے نا؟”

    ” حد سے زیادہ تمباکو نوشی کی وجہ سے ان کے پھیپھڑے خراب ہو گئے ہیں اور انہیں کینسر بھی ہے۔آپ کوشش کیجیے یہ تمباکو نوشی ترک کر دیں۔کینسر ابھی دوسری سٹیج پر ہے تو اس پر قابو پایا جا سکتا ہے احتیاط ہی اب ان کی زندگی بچا سکتی ہے۔ورنہ سوری۔”
    شہر بانو یہ سنتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔سائیں کے پاس گئی اس کے ہاتھ پر اپنے ہاتھ کا لمس رکھا جس سے سائیں کی نیم غنودگی والی آنکھیں دھیرے دھیرے کھلنے لگی۔وہ کپکپاتی آواز سے کہنے لگا۔
    "شہر بانو! تم کیوں رو رہی ہو؟ دیکھو! میں بالکل ٹھیک ہوں۔”
    شہر بانو نے پہلی بار رعب دار آواز میں کہا۔
    "آج آپ کی ایک سخت فیصلہ کرنا ہے آپ بتائیں آپ کے لیے زیادہ اہم کون ہے میں یا پھر سگریٹ؟”

    "تم سے زیادہ اہم کوئی نہیں ہے میرے لیے شہر بانو!”
    شہر بانو نے اپنے رخسار سے اپنے پلو سے آنسوؤں کو صاف کیا اور کہنے لگی۔
    "آپ کے لیے میں اہم ہوں،تو میں آپ سے آج پوری زندگی کا پہلا تحفہ مانگتی ہوں خدارا سگریٹ چھوڑ دیجیے۔”
    "تم نے زندگی میں مجھ سے پہلی بار کچھ مانگا ہے،آج تمہارے لیے سگریٹ کو ترک کر دیا ہے۔”
    شہر بانو آج بہت خوش تھی۔وقت گزرتا گیا لیکن اس دن کے بعد سائیں نے کبھی بھی سگریٹ کو ہاتھ نہیں لگایا۔مکمل علاج کروانے کے بعد آج وہ اپنی زندگی پرسکون جی رہے تھے اور باقی لوگوں کو بھی تمباکو نوشی ترک کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہتے۔
    "تمباکو سے پاک پاکستان۔”