Baaghi TV

Category: متفرق

  • جنگ کے بغیر جنگ،معیشت، اطلاعات اور ٹیکنالوجی کی بدلتی ہوئی عالمی بساط،تحریر: طاہر محمود

    جنگ کے بغیر جنگ،معیشت، اطلاعات اور ٹیکنالوجی کی بدلتی ہوئی عالمی بساط،تحریر: طاہر محمود

    دنیا بدل رہی ہے، اور اس کے ساتھ جنگ کا مفہوم بھی بدل چکا ہے۔ کبھی طاقت کا اظہار توپوں، ٹینکوں اور میزائلوں سے ہوتا تھا، مگر آج دنیا ایک ایسی جنگ کے دور میں داخل ہو چکی ہے جس میں بارود کم اور معیشت، اطلاعات، ٹیکنالوجی اور ذہنوں کی طاقت زیادہ استعمال ہو رہی ہے۔ یہ جنگ سرحدوں پر کم اور منڈیوں، ذرائع ابلاغ، سائبر دنیا اور عالمی سفارت کاری کے ایوانوں میں زیادہ لڑی جا رہی ہے۔

    اکیسویں صدی کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آنے والے برسوں میں دنیا پر اثر و رسوخ کس کا ہوگا؟ اس کا جواب صرف فوجی طاقت میں تلاش کرنا اب کافی نہیں۔ آج وہی ملک زیادہ طاقتور سمجھا جاتا ہے جو مضبوط معیشت، جدید ٹیکنالوجی، معیاری تعلیم، تحقیق، اطلاعاتی برتری اور مؤثر سفارت کاری رکھتا ہو۔

    معیشت اب محض دولت پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ عالمی سیاست کا ایک اہم ہتھیار بن چکی ہے۔ تجارتی پابندیاں، معاشی دباؤ، توانائی کے وسائل، عالمی منڈیاں، اہم معدنیات اور جدید صنعتی ٹیکنالوجی اب طاقت کے ایسے ستون ہیں جن کے ذریعے ممالک ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ایک ملک کے خلاف فوجی کارروائی کے بجائے اس کی معیشت کو کمزور کرنا زیادہ مؤثر سمجھا جاتا ہے۔

    اسی طرح اطلاعات کا میدان بھی عالمی کشمکش کا نیا محاذ بن چکا ہے۔ ایک خبر، ایک تصویر، ایک مختصر ویڈیو یا چند جملے کروڑوں انسانوں کی رائے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے ہر شخص کو خبر کا ممکنہ ذریعہ بنا دیا ہے، لیکن اس آزادی کے ساتھ غلط معلومات، افواہوں اور مصنوعی طور پر تیار کردہ مواد کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔

    مصنوعی ذہانت نے اس صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آج ایک ایسی تصویر بنائی جا سکتی ہے جو کبھی حقیقت میں موجود ہی نہ ہو، کسی شخص کی آواز کی نقل تیار کی جا سکتی ہے اور ایسا مواد تخلیق کیا جا سکتا ہے جو بظاہر حقیقت محسوس ہو۔ آنے والے دور میں شاید سب سے اہم سوال یہ نہیں ہوگا کہ خبر کتنی تیزی سے ہم تک پہنچی، بلکہ یہ ہوگا کہ جو کچھ ہم دیکھ اور سن رہے ہیں، وہ حقیقت بھی ہے یا نہیں؟

    یہی وجہ ہے کہ جدید دنیا میں قومی سلامتی کا تصور بھی وسیع ہو گیا ہے۔ اب کسی ملک کی حفاظت صرف سرحدوں کی نگرانی سے ممکن نہیں۔ اس کی معیشت، توانائی، مواصلاتی نظام، سائبر ڈھانچے، تعلیمی ادارے، تحقیقی مراکز اور اطلاعاتی نظام بھی قومی سلامتی کا حصہ ہیں۔

    اس عالمی کشمکش میں بڑی طاقتیں اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے نئی ٹیکنالوجیز پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ مصنوعی ذہانت، نیم موصل صنعت، سائبر ٹیکنالوجی، خلائی تحقیق اور جدید مواصلاتی نظام آنے والے برسوں کی طاقت کا تعین کریں گے۔ جو قومیں تحقیق اور علم میں آگے ہوں گی، وہ صرف معاشی طور پر نہیں بلکہ سفارتی اور سیاسی طور پر بھی زیادہ مؤثر ہوں گی۔

    پاکستان کے لیے اس بدلتی ہوئی دنیا میں ایک واضح پیغام موجود ہے۔ ہماری جغرافیائی اہمیت یقیناً ایک بڑی طاقت ہے، مگر صرف جغرافیہ مستقبل کی ضمانت نہیں۔ ہمیں اپنی اصل طاقت اپنے نوجوانوں، تعلیم، ہنر، تحقیق، برآمدات، ٹیکنالوجی اور مضبوط معیشت میں تلاش کرنا ہوگی۔

    پاکستان کی نوجوان آبادی دنیا کے کئی ممالک کے مقابلے میں ایک بڑا سرمایہ ہے۔ اگر نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید ہنر، تحقیق کے مواقع اور روزگار فراہم کیا جائے تو یہی انسانی سرمایہ پاکستان کو عالمی معیشت میں ایک اہم مقام دلا سکتا ہے۔ ہمیں صرف صارف بننے کے بجائے علم، ٹیکنالوجی اور مصنوعات پیدا کرنے والی قوم بننا ہوگا۔

    اسی طرح عالمی سطح پر پاکستان کی سفارت کاری کو بھی نئی دنیا کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانا ہوگا۔ ہمیں طاقت کے مختلف مراکز سے متوازن تعلقات رکھتے ہوئے اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا ہوگا۔ دنیا اب کسی ایک طاقت کے گرد محدود نہیں رہی؛ اس لیے دانش مندانہ، متوازن اور دوراندیش خارجہ پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    اصل کامیابی یہ نہیں کہ کون زیادہ ہتھیار جمع کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون اپنی قوم کو زیادہ تعلیم یافتہ، خوشحال، باصلاحیت اور باخبر بناتا ہے۔ بندوق دشمن کو خوفزدہ کر سکتی ہے، مگر علم نسلوں کو بدل دیتا ہے۔ میزائل سرحدوں کی حفاظت کر سکتا ہے، مگر مضبوط معیشت ملک کو عالمی سطح پر باوقار مقام دیتی ہے۔

    دنیا کی یہ نئی جنگ شاید واقعی جنگ کے بغیر جنگ ہے۔ اس میں بارود کی آواز کم سنائی دیتی ہے، مگر فیصلے بہت دور رس ہوتے ہیں۔ یہ جنگ زمین پر قبضے سے زیادہ ذہنوں، منڈیوں اور ٹیکنالوجی پر برتری کی جنگ ہے۔

    اور اس نئی عالمی بساط پر پاکستان کے لیے راستہ بالکل واضح ہے: علم کو طاقت، معیشت کو بنیاد، ٹیکنالوجی کو ہتھیار اور امن کو اپنی سفارت کاری کا اصول بنانا ہوگا۔ کیونکہ آنے والی دنیا میں وہی قومیں باوقار رہیں گی جو وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کو سمجھ کر خود کو بدلنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔

  • سانس لیتے مُردے،تحریر: عبدالحفیظ شاہد

    سانس لیتے مُردے،تحریر: عبدالحفیظ شاہد

    بہت عرصہ نہیں گزرا،ایک وقت تھا، آج سے کوئی نو دس سال پہلے تک، جب محلے کا بچہ صرف اپنے گھر کا بچہ نہیں سمجھا جاتا تھا۔ وہ پوری بستی کا بچہ ہوتا تھا۔ گلی میں کھیلتا ہوا کوئی بچہ اگر کسی بڑے کی نظر میں آ جاتا تو وہ اسے یوں دیکھتا جیسے اپنی اولاد کو دیکھ رہا ہو۔ کسی کے گھر کی بچی گلی میں کھیل رہی ہوتی تو محلے کے بزرگ اس کی حفاظت کو اپنا فرض سمجھتے تھے۔ کسی کی بیٹی راستے میں نظر آ جاتی تو اسے اپنی بیٹی سمجھا جاتا تھا۔ ماں باپ کو یہ اطمینان ہوتا تھا کہ اگر ان کا بچہ کچھ دیر گھر سے باہر بھی ہے تو محلے میں کئی آنکھیں اس کی نگہبان ہیں۔ وہ زمانہ شاید بہت زیادہ ترقی یافتہ نہیں تھا، لوگوں کے پاس آج جیسی سہولتیں نہیں تھیں، موبائل فون نہیں تھے، ہر ہاتھ میں کیمرہ نہیں تھا مگر دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت تھی۔ بچوں کی شرارتیں سب کی مشترکہ تھیں اور ان کی حفاظت بھی سب کی مشترکہ ذمہ داری تھی۔ کسی گھر کا بچہ دیر تک واپس نہ آتا تو صرف اس کے والدین ہی پریشان نہیں ہوتے تھے، پڑوسی بھی دروازے سے باہر نکل آتے تھے۔ کسی بچے کو کوئی اجنبی بہلا پھسلا کر لے جانے کی کوشش کرتا تو پوری گلی اس کے پیچھے کھڑی ہو جاتی تھی۔ شاید اسی کو بستی کہتے تھے، شاید اسی کو معاشرہ کہتے تھے، شاید اسی کو زندہ انسانوں کی آبادی کہتے تھے۔

    مگر پھر جانے ہمیں کیا ہوا۔ ہماری بستیاں وہی رہیں، مکان بڑے ہو گئے، دروازے خوب صورت ہو گئے، سڑکیں پکی ہو گئیں، موبائل فون جدید ہو گئے، انٹرنیٹ ہماری ہتھیلی میں آ گیا، لیکن ہمارے دل چھوٹے ہوتے گئے۔ ہم اپنے اپنے گھروں میں بند ہوتے گئے۔ ہمیں اپنے بچوں کی فکر تو ہے مگر دوسرے کے بچے سے ہماری دلچسپی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ہمیں اپنے گھر کی چار دیواری کے اندر کی عزت عزیز ہے مگر گلی کے دوسرے گھر میں ہونے والے ظلم سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ ہم خبریں سنتے ہیں، چند لمحے افسوس کرتے ہیں، ایک پوسٹ شیئر کرتے ہیں، دو چار غصے والے جملے لکھتے ہیں اور پھر اپنی زندگی میں واپس چلے جاتے ہیں۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

    اور سب سے زیادہ خوفناک بات یہ ہے کہ جنہیں ہم نے اپنی حفاظت اور اپنے مستقبل کی علامت سمجھا تھا وہی بچے آج سب سے زیادہ غیر محفوظ دکھائی دیتے ہیں۔ کبھی کوئی بچہ اغوا ہو جاتا ہے، کبھی کوئی معصوم بچی کئی دن لاپتہ رہنے کے بعد مردہ ملتی ہے، کبھی کسی ننھی جان کے ساتھ ایسا ظلم ہوتا ہے کہ انسان خبر پڑھ کر بھی اپنے آپ سے نظریں نہیں ملا پاتا۔ پانچ سالہ آیت نور کا واقعہ ہمارے سامنے ہے۔ ہری پور میں لاپتہ ہونے والی اس معصوم بچی کی لاش ایک کنویں سے برآمد ہوئی اور پولیس و میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کے ساتھ زیادتی کے بعد اسے قتل کیا گیا۔ یہ صرف ایک بچی کی موت نہیں تھی بلکہ یہ ہماری اجتماعی بے حسی کے منہ پر ایک اور طمانچہ تھا۔ اس مقدمے کی تفتیش اور پولیس کے کردار پر بھی سوالات اٹھے اور معاملہ ابھی قانونی مراحل سے گزر رہا ہے، اس لیے ہمیں الزام اور فیصلے میں فرق بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔ مگر ایک سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر ایک پانچ سالہ بچی کو ہم نے کس دنیا کے حوالے کر دیا ہے؟

    یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ زینب کا نام آج بھی ہماری اجتماعی یادداشت پر ایک زخم کی طرح موجود ہے۔ ایک معصوم بچی کے ساتھ ہونے والے ظلم نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ مجرم گرفتار ہوا، عدالت سے سزا ہوئی اور بالآخر اسے پھانسی دی گئی، مگر اس سانحے نے ہم سے ایک ایسا سوال پوچھا تھا جس کا جواب آج بھی ہم پوری طرح نہیں دے سکے کہ ہم اپنے بچوں کو محفوظ کیوں نہیں بنا سکے؟

    ہمیں شاید اب یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی، اغوا اور قتل صرف ایک فرد کا جرم نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہ اس وقت بھی ہمارا مسئلہ ہے جب متاثرہ بچہ ہمارے گھر کا نہ ہو۔ کیونکہ آج کسی دوسرے کا بچہ نشانہ بنا ہے، کل ہمارا بچہ بھی کسی سڑک، کسی گلی، کسی سکول، کسی مدرسے، کسی پارک یا کسی ایسے شخص کے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے جس کے چہرے سے اس کے ارادے پہچانے نہیں جا سکتے۔

    بچوں کی حفاظت صرف انہیں گھر میں بند کر دینے کا نام نہیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم انہیں سکھائیں کہ اگر کوئی شخص انہیں ڈرائے، دھمکائے، کسی غلط لمس کی کوشش کرے، کوئی راز رکھنے چھپانے پر مجبور کرے یا کسی بہانے سے الگ جگہ لے جانے کی کوشش کرے تو فوراً کسی قابلِ اعتماد بڑے کو بتائیں۔ والدین کو بچوں کی بات سننے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔ بعض اوقات بچہ کچھ کہنا چاہتا ہے مگر اسے ڈانٹ کے خاموش کر دیا جاتا ہے۔ بعض اوقات وہ اشاروں میں بات کرتا ہے اور ہم اسے بچوں کی معمولی شرارت سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کے دوست بننا ہوگا۔

    قرآن ہمیں اپنی ذات کے ساتھ اپنے گھر والوں کی ذمہ داری بھی یاد دلاتا ہے: "قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا”، یعنی اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔ یہ ذمہ داری صرف کھانا، کپڑا، تعلیم اور مکان فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ اولاد کی اخلاقی تربیت، ان کی حفاظت، ان کی نگرانی اور ان کے لیے محفوظ ماحول پیدا کرنا بھی اسی ذمہ داری کا حصہ ہے۔

    اسلام نے نگاہ کی حفاظت، پاکیزگی اور حدود کی پابندی کو صرف کسی ایک فرد کا معاملہ نہیں بنایا بلکہ ایک پاکیزہ معاشرے کی بنیاد قرار دیا۔ قرآن مجید میں مومن مردوں اور عورتوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنی عصمت کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔مگر افسوس کہ ہم نے دین کو بھی اپنی سہولت کے مطابق تقسیم کر لیا ہے۔ نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، مذہبی گفتگو کرتے ہیں، لیکن اپنے گھر کے بچے کی بات سننے، اسے محفوظ ماحول دینے اور دوسروں کے بچوں کو بھی امان دینے کو شاید اتنی اہمیت نہیں دیتے۔ دین صرف عبادات کا نام نہیں، دین انسان کو انسان سے جوڑتا ہے۔ جس دل میں اللہ کا خوف ہو، وہ کسی کمزور پر ہاتھ اٹھانے سے پہلے ہزار بار سوچتا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے فتنوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ نیک اعمال میں جلدی کرو، اس سے پہلے کہ ایسے فتنے آئیں جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں۔ آج ہمیں اس حدیث پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ فتنہ ہمیشہ اچانک ایک بڑے دھماکے کی صورت میں نہیں آتا۔ پہلے ہم ایک بری خبر سن کر حیران ہوتے ہیں، پھر دوسری خبر پر صرف افسوس کرتے ہیں، پھر تیسری خبر پر چند لمحوں کے لیے رک کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ دل آہستہ آہستہ عادی ہو جاتا ہے۔ یہی سب سے بڑا خطرہ ہے کہ ظلم بڑھتا رہے اور ہماری حساسیت کم ہوتی رہے۔

    میڈیا کا کردار بھی یہاں بہت اہم ہے۔ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات کو محض سنسنی خیز سرخی، خوفناک تفصیل اور کلکس حاصل کرنے کے لیے پیش کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ بچے کی شناخت، تصویر اور ایسی تفصیلات جو اس کی عزت یا مستقبل کو نقصان پہنچائیں، ان سے مکمل احتیاط ضروری ہے۔ میڈیا کو جرم چھپانا نہیں چاہیے مگر جرم کو تماشہ بھی نہیں بنانا چاہیے۔ خبر ایسی ہونی چاہیے جو عوام کو خبردار کرے، اداروں کو جواب دہ بنائے اور والدین کو اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے متوجہ کرے، نہ کہ مجرم ذہن رکھنے والوں کے لیے جرم کی تفصیلات کا نقشہ بن جائے۔
    ریاست کی ذمہ داری اس سے بھی بڑی ہے۔ قانون موجود ہونا کافی نہیں، قانون کا بروقت اور غیر جانب دارانہ نفاذ ضروری ہے۔ پولیس کو ابتدائی رپورٹ سے لے کر تفتیش تک ہر مرحلے میں سنجیدگی دکھانا ہوگی۔ عدالتوں کو قانون کے مطابق جلد اور مؤثر انصاف دینا ہوگا۔ مجرم کو سزا ضرور ملنی چاہیے، مگر سزا قانون کے ذریعے، مکمل ثبوت اور عدالتی عمل کے بعد کیونکہ غصے میں کیا گیا ہجوم کا انصاف بھی معاشرے کو جنگل بنا دیتا ہے۔
    ہمیں اپنے سکولوں، مدارس، مساجد اور گھروں میں بچوں کی حفاظت کے بارے میں عمر کے مطابق تعلیم دینی ہوگی۔ انہیں یہ بتانا ہوگا کہ اچھا لمس کیا ہے، برا لمس کیا ہے، کون سی بات فوراً والدین یا کسی قابلِ اعتماد بڑے کو بتانی چاہیے، اور اگر کوئی انہیں ڈرائے تو خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ یہ تعلیم بے حیائی نہیں، حفاظت ہے۔ بچے کو خطرے سے آگاہ کرنا اسے خطرے میں ڈالنا نہیں بلکہ خطرے سے بچانا ہے۔
    اور ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ بچوں کے گرد کون لوگ موجود ہیں۔ ہر اجنبی خطرناک نہیں ہوتا اور ہر جاننے والا محفوظ نہیں ہوتا۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے والدین کو سمجھنا ہوگا۔ بچے کو صرف یہ سکھانا کافی نہیں کہ اجنبی سے چیز نہ لینا بلکہ اسے یہ بھی سمجھانا ہوگا کہ اگر کوئی شناسا شخص اسے ایسی بات کہے جو اسے عجیب یا شرمندہ کرنے والی لگے تو وہ فوراً والدین کو بتائے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچہ یہ یقین رکھے کہ اگر میں کچھ بتاؤں گا تو مجھے ڈانٹا نہیں جائے گا، میری بات سنی جائے گی۔
    ہمیں اپنے محلوں کو پھر سے زندہ کرنا ہوگا۔ اگر گلی میں کوئی بچہ رو رہا ہے تو یہ سوچ کر آگے نہ بڑھ جائیں کہ اس کے گھر والے دیکھیں گے۔ اگر کوئی بچہ کئی گھنٹے غیر معمولی طور پر اکیلا دکھائی دے تو پوچھ لینا جرم نہیں۔ اگر کسی بچے کے رویے میں اچانک خوف، خاموشی یا غیر معمولی تبدیلی آئے تو اسے محض ضد یا بدتمیزی سمجھ کر نظرانداز نہ کریں۔ کبھی کبھی بچے زبان سے نہیں، اپنے رویے سے فریاد کر رہے ہوتے ہیں۔
    اور شاید ہمیں اپنے اندر یہ سوال بھی پیدا کرنا ہوگا کہ آخر ہم کہاں پہنچ گئے ہیں؟ کیا یہ وہی معاشرہ ہے جہاں کسی کی بیٹی کو اپنی بیٹی سمجھا جاتا تھا؟ کیا یہ وہی گلیاں ہیں جہاں بچے بے فکری سے کھیلتے تھے؟ کیا ہماری ترقی نے ہمیں انسان سے صرف تماشائی بنا دیا ہے؟ ہمارے ہاتھوں میں موبائل ہیں، مگر کیا کسی روتے ہوئے بچے کا ہاتھ تھامنے کی ہمت بھی باقی ہے؟ ہمارے پاس ہزاروں دوستوں کی فہرست ہے، مگر کیا ہمارے پڑوس کے بچے کا نام بھی ہمیں معلوم ہے؟
    یہ مسئلہ صرف حکومت کا نہیں، صرف پولیس کا نہیں، صرف والدین کا نہیں۔ یہ ہم سب کا مسئلہ ہے۔ اگر ایک بچہ محفوظ نہیں تو ہماری کوئی ترقی مکمل نہیں۔ اگر ایک بچی اپنے گھر سے نکلتے ہوئے خوف محسوس کرتی ہے تو ہماری بلند عمارتیں، ہماری بڑی بڑی سڑکیں اور ہماری معاشی کامیابیاں سب بے معنی ہیں۔ معاشرے کی اصل ترقی اس وقت ہوتی ہے جب اس کا کمزور ترین فرد خود کو محفوظ سمجھے، جب ایک بچہ کسی بڑے کو دیکھ کر خوفزدہ نہ ہو بلکہ مدد کی امید کرے۔
    ہمیں اپنے بچوں کو صرف مستقبل کے ڈاکٹر، انجینئر، افسر، استاد یا سائنس دان نہیں بنانا، پہلے انہیں محفوظ انسان بنانا ہے۔ اور اس کے لیے ہمیں خود بھی انسان بننا ہوگا۔ ہمیں اپنے گھروں کے دروازے کھولنے ہوں گے، اپنے دلوں کے دروازے کھولنے ہوں گے، اپنے محلے کی خبر رکھنی ہوگی، اپنے بچوں کی بات سننی ہوگی، ظلم کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی اور خاموشی کو معمول بننے سے روکنا ہوگا۔
    اور اگر ہم اپنی یہ روٹین تبدیل نہیں کرتے پھر ہمیں ضرور سوچنا چاہیے کہ کیاہم مر چکے ہیں؟ کیا ہم ایک ایسی بستی کے رہنے والے ہیں جہاں معصوم بچوں کی چیخیں ہمارے کانوں تک تو پہنچتی ہیں مگر دل تک نہیں پہنچتیں؟ کیا ہم واقعی زندہ ہیں، یا صرف سانس لے رہے ہیں؟ کیا ہمارے اندر کا باپ، ماں، بھائی، بہن، استاد، پڑوسی اور انسان ابھی زندہ ہے؟ کیا ہم ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں دیکھنے والی آنکھیں تو ہیں مگر محسوس کرنے والے دل نہیں رہے، جہاں ظلم ہوتا ہے اور لوگ دیکھتے رہتے ہیں، جہاں ایک بچہ مدد کے لیے پکارتا ہے اور ہم اپنے دروازے بند کر لیتے ہیں، جہاں کسی کی بیٹی اجڑ جاتی ہے اور ہماری زندگی معمول کے مطابق چلتی رہتی ہے؟ کبھی وہ وقت تھا جب محلے کا بچہ سب کا بچہ ہوتا تھا، کسی کی بیٹی سب کی بیٹی سمجھی جاتی تھی، کسی معصوم کے آنسو پورے محلے کی نیند حرام کر دیتے تھے۔ آج اگر ایک بچے کی چیخ بھی ہمیں اپنی جگہ سے نہیں ہلاتی تو پھر ہمیں اپنے مکانوں، اپنی گلیوں اور اپنی بستی سے پہلے اپنے دلوں کا ماتم کرنا چاہیے۔ ذرا اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا وہاں اب بھی ایک درد محسوس کرنے والا دل دھڑک رہا ہے؟ اگر ہاں تو پھر اٹھیں، اپنے بچوں کو سینے سے لگائیں، اپنے اردگرد کے بچوں کو اپنی ذمہ داری سمجھیں اور اس خاموشی کو توڑ دیں۔ کیونکہ جس دن کسی معصوم بچے کی چیخ ہمیں اندر سے بیدار کرے گی، شاید اسی دن ہماری بستی پھر سے زندہ ہونا شروع ہو جائے گی۔ ورنہ تاریخ ہمیں صرف بے حس لوگوں کے نام سے یاد رکھے گی کہ وہاں بچے مرتے رہے اور لوگ زندہ ہونے کے باوجود مردوں سے بدتر زندگی گزارتے رہے۔

  • شہدا کی قربانیاں اور ہمارا فرض،تحریر: محمد عثمان

    شہدا کی قربانیاں اور ہمارا فرض،تحریر: محمد عثمان

    ”شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے
    لہو جو ہے شہید کا، وہ قوم کی زکوٰۃ ہے“

    شہدا وہ عظیم لوگ ہوتے ہیں جو اپنے وطن کی ”جغرافیائی اور نظریاتی“ سرحدوں کی خاطر قربانی دے کر قوم کے وقار اور عزت کو دوبالا کرتے ہیں۔ یہ اپنے دین کی حفاظت اور سر بلندی کے لیے اپنی جانیں دے کر ملت کو استحکام بخشتے ہیں۔ ان کی کٹی گردنیں انسانیت کی ”بقا و سلامتی“ کی ضامن بنتی ہیں۔ شہدا کا لہو آنے والی نسلوں کی آزادی کا سنگِ بنیاد کہلاتا ہے۔ یہ لوگ امن کی بحالی، اقدار کے تحفظ اور روایات کے فروغ کے لیے اپنے جان و مال کی قربانی پیش کرتے ہیں۔ یہ لوگ ثقافت اور تہذیب کے مابین ہم آہنگی اور معاشرے میں ”نفاذِ عدل“ کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔ شہدا… حق کے دیپ اپنے لہو سے جلاتے ہیں۔  وہ ہماری آزاد سانسوں اور سکون کی زندگی کے لیے… اپنے آرام و آسائش، خواہشات و جذبات یہاں تک کہ اپنی زندگی کو بھی قربان کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ ہمارے کل کی خاطر اپنا آج داؤ پر لگاتے ہیں۔ اگر آج ہم آزادی کے ساتھ بول سکتے ہیں۔ بغیر روک ٹوک کے اپنی ”عبادت و ریاضت“ میں مشغول ہیں۔ کھلے عام اپنے حقوق کے ساتھ زندہ ہیں تو اس کے پیچھے بھی بے شمار ”شہدا“ کا لہو شامل ہے۔

    ”حق بات پہ کٹتی ہے تو کٹ جائے زباں میری
    اظہارِ حق تو کر جائے گا جو ٹپکے گا لہو میرا“

    شہدا… ہر میدان میں دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے خون میں نہا کر یہ ثابت کرتے ہیں کہ: ”ان کے دلوں میں حب الوطنی، ایمان اور قربانی کا جذبہ کس قدر موجزن تھا..!“ یہی وجہ ہے کہ شہدا زندہ قوموں کا فخر ہوتے ہیں اور ان کا نام ہمیشہ عزت سے لیا جاتا ہے۔ شہدا کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے اسلام میں شہادت کا بہت بلند مقام بتایا گیا ہے۔ ”کتاب و سنت“ میں شہید کو مردہ نہیں، بل کہ زندہ قرار دیا گیا ہے۔ شہدا کی قربانی ہمارے لیے حق اور سچائی کی راہ ہموار کرتی ہے۔ ان کی زندگیاں ہمیں بہادری، صبر، ایثار اور وفاداری کا سبق دیتی ہیں۔ ماہر القادری کہتے ہیں:

    ”شہیدوں کے لہو سے جو زمین سیراب ہوتی ہے
    بڑی زرخیز ہوتی ہے، بہت شاداب ہوتی ہے“

    ”جہاں سے غازیانِ ملّتِ بیضا گزرتے ہیں
    وہاں کی کنکری بھی گوہرِ شب تاب ہوتی ہے“

    معزز قارئین کرام!
    تاریخِ انسانی میں بہت بڑے بڑے جنگی حادثات و واقعات رونما ہوئے ہیں، جن میں ”انبیا و مرسلین علیہم السلام“ اور ان کی پیروی کرنے والے متوالوں نے غلبہِ دین اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے اپنی جانیں نچھاور کی ہیں؛ لیکن جو مقام و مرتبہ اور جاہ و جلال اسلام نے جہاد اور شہادت کو بخشا ہے اس کی نظیر ملنا مشکل ہی نہیں بل کہ ناممکن ہے۔ جذبہِ حریت اور شوقِ شہادت جو اس ملت کے جوانوں میں ہے اس کی مثال کوئی دوسرا پیش نہیں کر سکتا۔ دودھ پیتے بچوں کو جہاد کی لوریاں سنانا اور شہادت کے سبق پڑھانا اس امت کی ماؤں کا ہی تو شیوہ ہے۔ اقبال کہتے ہیں:

    ”شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
    نہ مال غنیمت نے کشور کشائی“

    شہادت کے کچھ اغراض و مقاصد بھی ہیں۔ آئیے ان کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ اس کے بعد ہم فرائض کو بخوبی جان سکیں اور انھیں پورا کرنے میں کامیاب ہوں۔
    * شہید کی شہادت کا اوّلین مقصد رضائے الہٰی کا حصول ہوتا ہے۔
    * شہید اپنے کام کو کمال تک پہنچانے یعنی اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے اپنی جان نچھاور کرتا ہے۔
    * غلبہِ دین اور اساسِ مذہب کی پختگی بھی انھی مقاصدِ عظیمہ میں شامل ہے۔
    * وطن کی حفاظت اور سلامتی کی خاطر جان دینا۔
    * اپنے اہل و عیال، اپنی جان و مال کی حفاظت کرنا بھی شہادت کے مقاصد کا ایک حصہ ہے۔
    * اپنے عقیدے کا تحفظ اور فروغِ سنت و شریعت۔

    قارئین محترم!
    شہدا کی قربانیوں کے بعد ہماری ذمہ داری صرف ان کے نام پر تقریبات منعقد کرنا اور ان کی یاد میں برسیاں منانا ہی نہیں، بل کہ ہماری اصل ذمہ داری ان کے مشن کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہے۔ ہمارے شہدا نے اپنے نظریے پر قائم رہتے ہوئے لازوال قربانیاں پیش کیں اور ”رزم گاہِ حق و باطل“ میں دشمنانِ اسلام و وطن کے دانت کھٹے کیے۔ بدر و احد سے لے کر حنین و تبوک، یمن و یمامہ سے لے کر یرموک و قادسیہ، آبنائے باسفورس سے لے کر ماورألنھر سے ہوتے ہوئے بغداد و دہلی کی گلیوں میں جس مقصد کی خاطر شہدا نے اپنی جانیں نچھاور کیں اس مقصد کو زندہ رکھنا اور اس پر ”صدقِ دل“ سے کاربند ہونا ہی شہدا سے اصل وفا ہے۔ ہمارا یہ فرض ہے کہ شاملی اور میسور کے ریگزاروں میں اٹھنے والی چنگاری کو بجھنے نہ دیں اور خود کو ہر طرح کی ذہنی و جسمانی اور فکری و عملی غلامی سے آزاد کریں۔ 13 اگست 1947ء کی رات کو یاد رکھتے ہوئے ہم قومی اتحاد کو مضبوط بنائیں۔ ملک کے استحکام کے لیے نظامِ خلافتِ راشدہ کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے اور ہر شہری کو قانون و اخلاقیات کی پابندی کرنی چاہیے۔ یہی شہدا کے خون کا حق اور ہمارا فرض ہے۔ اس کے علاوہ شہدا کے خاندانوں کا احترام اور خیال رکھنا، ان کے دکھ درد میں شریک ہونا بھی ہمارا قومی و اخلاقی فریضہ ہے۔ اگر ہم شہدا کے مشن سے وفا نہ کر سکیں، ان کی قربانیوں کی لاج نہ رکھ سکیں اور ان کے پیغام کو سمجھ کر آگے نہ بڑھ سکیں تو پھر یقینا شہدا کی روحیں ہم سے نالاں ہوں گی۔ بزبان شاعر:

    ”شہدا نے پکارا ہے تم کو فردوس کے بالا خانوں سے
    ہم راہِ خدا میں کٹ آئے، تمھیں ابھی تک ہے پیار اپنی جانوں سے“

    آخر میں یہ کہنا بجا ہو گا کہ شہدا کسی بھی قوم کا سرمایہ اور فخر ہوتے ہیں۔ ان کی قربانیاں ہمیں ہمیشہ یہ یاد دلاتی رہیں گی کہ آزادی اور امن مفت حاصل نہیں ہوتے، بل کہ اس کے لیے کئی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کیے جاتے ہیں۔
    یاد رکھیے! اگر ہم ایک مضبوط، باوقار اور ترقی یافتہ قوم بننا چاہتے ہیں تو ہمیں شہدا کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے فرائض پوری ایمانداری سے نبھانا ہوں گے۔

    ”شکوہِ شبِ ظلمت سے کہیں بہتر تھا
    اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے“

  • خون کا عطیہ، زندگی بانٹنے کا نام،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    خون کا عطیہ، زندگی بانٹنے کا نام،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    انسانی زندگی قدرت کا وہ انمول تحفہ ہے جس کی کوئی قیمت مقرر نہیں کی جا سکتی۔ زندگی کی اہمیت کا حقیقی احساس اُس وقت ہوتا ہے جب کوئی انسان بیماری، حادثے یا کسی خطرناک طبی مرحلے کے باعث موت اور زندگی کی کشمکش میں ہو اور اس کی زندگی بچانے کے لیے خون کے چند قطروں کی ضرورت پڑ جائے۔ ایسے نازک لمحات میں ایک صحت مند انسان کا عطیہ کردہ خون محض ایک طبی ضرورت نہیں رہتا بلکہ کسی کے لیے زندگی کی نئی امید، ایک ماں کے لیے اپنے بچے کی سانسوں کی واپسی اور ایک خاندان کے لیے خوشیوں کا پیغام بن جاتا ہے۔
    ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں روزانہ ایسے بے شمار مریض موجود ہوتے ہیں جو خون کے منتظر ہوتے ہیں۔ ٹریفک حادثات میں زخمی افراد، تھیلیسیمیا کے مریض بچے، بڑی سرجری سے گزرنے والے مریض اور مختلف پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے خون زندگی کی بنیادی ضرورت بن جاتا ہے۔ بعض اوقات خون کی بروقت فراہمی نہ ہونے کے باعث ایک قیمتی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ یہی وہ موقع ہوتا ہے جب معاشرے کے باشعور اور درد مند افراد کا کردار سب سے زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔
    یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں خون عطیہ کرنے کا جذبہ ابھی تک اُس سطح تک نہیں پہنچ سکا جس کی ضرورت ہے۔ اکثر لوگ صرف اپنے کسی عزیز یا جاننے والے کی ضرورت کے وقت خون دینے کے لیے آگے بڑھتے ہیں، جبکہ انسانیت کا اصل تقاضا یہ ہے کہ ہم بلا تفریق اور بغیر کسی ذاتی مفاد کے ضرورت مند انسانوں کی زندگی بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
    خون کا عطیہ دراصل انسانیت سے محبت اور معاشرتی ذمہ داری کا عملی اظہار ہے۔ ایک خون عطیہ کرنے والا شخص شاید یہ نہ جانتا ہو کہ اس کے خون سے کس کی زندگی محفوظ ہوگی، مگر وہ کسی نہ کسی گھر میں امید کا چراغ ضرور روشن کرتا ہے۔ اس کا دیا ہوا خون کسی بچے کے چہرے پر مسکراہٹ، کسی ماں کی آنکھوں میں خوشی اور کسی خاندان کے لیے نئی زندگی کا سبب بن سکتا ہے۔
    ہمارے نوجوان اس عظیم انسانی خدمت میں سب سے مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ نوجوان نسل اگر اپنی توانائی اور جذبے کو مثبت سرگرمیوں میں استعمال کرتے ہوئے رضاکارانہ خون عطیہ کرنے کی روایت کو فروغ دے تو معاشرے میں ایک بڑی تبدیلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں، فلاحی اداروں اور مقامی انتظامیہ کو بھی چاہیے کہ وہ خون کے عطیات کے حوالے سے آگاہی مہمات کو مزید مؤثر بنائیں اور نوجوانوں کو اس عظیم خدمت کے لیے تیار کریں۔
    یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ خون عطیہ کرنا صرف ایک فرد کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اجتماعی سماجی فریضہ ہے۔ ہمیں اپنے شہروں اور علاقوں میں ایسے منظم نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں ضرورت مند مریض کو بروقت خون فراہم کیا جا سکے۔ رضاکارانہ بلڈ ڈونرز کے نیٹ ورک اور فلاحی تنظیمیں اس سلسلے میں نہایت اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
    آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم صرف مسائل پر گفتگو کرنے کے بجائے ان کے حل کا حصہ بنیں۔ اگر ہم صحت مند ہیں، دوسروں کے کام آ سکتے ہیں اور ہماری ایک چھوٹی سی کوشش کسی انسان کی جان بچا سکتی ہے تو اس سے بڑھ کر انسانیت کی خدمت اور کیا ہو سکتی ہے؟
    ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ زندگی صرف اپنے لیے جینے کا نام نہیں بلکہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا نام بھی ہے۔ کسی اجنبی کی زندگی بچانے کے لیے بڑھایا گیا ہاتھ انسانیت کی سب سے خوبصورت تصویر ہے۔
    آئیے! ہم عہد کریں کہ ضرورت کے وقت خون عطیہ کرنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ کیونکہ ہمارے جسم سے نکلنے والا خون کا ایک قطرہ شاید کسی ایسے انسان کے لیے زندگی بن جائے جس کے گھر والے اس کی سانسوں کے لیے دعائیں مانگ رہے ہوں۔
    خون کا عطیہ صرف ایک عطیہ نہیں، بلکہ زندگی بانٹنے، امید جگانے اور انسانیت کو زندہ رکھنے کا نام ہے۔

  • بعض لوگ کبھی واپس نہیں آتے، مگر کبھی جاتے بھی نہیں،تحریر: زینب جہانزیب

    بعض لوگ کبھی واپس نہیں آتے، مگر کبھی جاتے بھی نہیں،تحریر: زینب جہانزیب

    زندگی کی سب سے عجیب حقیقت یہ نہیں کہ لوگ ہمیں چھوڑ جاتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کچھ لوگ چلے جانے کے بعد بھی ہمارے اندر رہ جاتے ہیں۔ وقت آگے بڑھتا رہتا ہے، موسم بدلتے رہتے ہیں، نئے لوگ زندگی میں آتے ہیں، پر کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو دل کے کسی خاموش گوشے میں ہمیشہ کے لیے ٹھہر جاتے ہیں۔
    ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ جدائی صرف جسموں کے درمیان فاصلے کا نام ہے، مگر اصل جدائی تو وہاں شروع ہوتی ہے جہاں یادیں روز ملنے لگتی ہیں۔ کچھ لوگ برسوں سے ہمارے ساتھ نہیں ہوتے، لیکن ایک خوشبو، ایک سڑک، ایک پرانا گیت یا کسی کی ہنسی اچانک ہمیں انہی لمحوں میں واپس لے جاتی ہے جہاں سے ہم بہت پہلے نکل آئے تھے۔

    انسان کا حافظہ عجیب ہے۔ وہ تاریخیں بھول جاتا ہے، مگر احساس نہیں بھولتا۔ اسے یہ یاد نہیں رہتا کہ آخری ملاقات کس دن ہوئی تھی، مگر یہ ہمیشہ یاد رہتا ہے کہ اس ملاقات کے بعد دل کی کیفیت کیا تھی۔ شاید اسی لیے کچھ رشتے ختم ہونے کے باوجود ختم نہیں ہوتے، کیونکہ وہ تعلق لفظوں سے نہیں، احساس سے جڑا ہوتا ہے۔ہم اکثر خود کو یقین دلاتے ہیں کہ وقت ہر زخم بھر دیتا ہے، لیکن شاید وقت زخم نہیں بھرتا، وہ صرف انسان کو درد کے ساتھ جینا سکھا دیتا ہے۔ کچھ خالی جگہیں کبھی پُر نہیں ہوتیں، بس ہم ان کے ساتھ سمجھوتہ کرنا سیکھ لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مسکراہٹوں کے پیچھے برسوں پرانی خاموشیاں چھپی ہوتی ہیں جن کا ذکر کبھی کسی محفل میں نہیں ہوتا۔

    لیکن ہر یاد تکلیف نہیں ہوتی۔ کچھ یادیں ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہیں کہ ہم کبھی دل سے جینا جانتے تھے، کسی پر بےلوث اعتماد کرنا جانتے تھے، کسی کی خوشی میں اپنی خوشی تلاش کر لیتے تھے۔ اگر کوئی شخص آج بھی ہماری یادوں میں زندہ ہے تو شاید اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم آگے نہیں بڑھے، بلکہ یہ ہے کہ کچھ لوگ ہماری شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ انہیں بھلایا نہیں جاتا، صرف قبول کیا جاتا ہے۔

    شاید زندگی کا حسن بھی یہی ہے کہ ہر آنے والا ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آتا۔ کچھ لوگ ہمیں بدلنے آتے ہیں، کچھ ہمیں سنبھالنے، کچھ ہمیں آئینہ دکھانے، اور کچھ صرف یہ سکھانے کہ ہر ساتھ ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔ اگر ہر شخص ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتا تو شاید ہم کبھی مضبوط ہونا نہ سیکھتے۔اس لیے اگر آپ کی زندگی میں بھی کوئی ایسا شخص ہے جو برسوں پہلے جا چکا ہے مگر آج بھی کسی خاموش لمحے میں یاد آ جاتا ہے، تو اس یاد سے جنگ مت کیجیے۔ ہر یاد کو بھلانا ضروری نہیں ہوتا۔ کچھ یادیں انسان کو کمزور نہیں کرتیں، بلکہ اسے اس کی اپنی کہانی یاد دلاتی ہیں۔

    آخرکار، زندگی صرف ان لوگوں سے نہیں بنتی جو ہمارے ساتھ چلتے رہتے ہیں، بلکہ ان لوگوں سے بھی بنتی ہے جو راستہ بدل لینے کے باوجود ہمارے اندر کہیں رہ جاتے ہیں۔ شاید اسی لیے بعض لوگ کبھی واپس نہیں آتے… مگر کبھی جاتے بھی نہیں۔

  • ڈیجیٹل دنیا کا فریب،تحریر: ماہ جبین اظہر

    ڈیجیٹل دنیا کا فریب،تحریر: ماہ جبین اظہر

    ایک وقت تھا جب زندگی اتنی تیز رفتار نہیں تھی۔ نہ ہر ہاتھ میں موبائل تھا، نہ ہر لمحہ انگلیوں کی جنبش پر دنیا سمٹ آتی تھی، نہ انٹرنیٹ نام کی کوئی ایسی دنیا تھی جہاں انسان چند لمحوں میں ہزاروں میل دور بیٹھے شخص سے جڑ جائے۔ لوگ کم سہولتوں میں بھی مطمئن تھے۔ رشتوں میں اپنائیت تھی، ملاقاتوں میں خلوص تھا اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کا احساس دلوں میں زندہ تھا۔ دھوکہ دہی اور فریب اگرچہ اس وقت بھی دنیا کا حصہ تھے، مگر آج کی طرح ہماری روزمرہ زندگی کا لباس نہیں بنے تھے۔

    پھر آہستہ آہستہ موبائل ہماری زندگی میں داخل ہوا، اس کے بعد انٹرنیٹ آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا ہماری ہتھیلی میں سما گئی۔ جو کام کبھی گھنٹوں کی محنت سے ہوتے تھے، آج ایک کلک پر مکمل ہو جاتے ہیں۔ آن لائن شاپنگ ہو، دفتری کام، سکول کالج کی پڑھائی یا کھانا پکانے کی ترکیب، سب کچھ انگلی کے ایک اشارے پر ہمارے سامنے موجود ہے۔ ٹک ٹاک، انسٹاگرام، فیس بک اور سنیپ چیٹ نے ہماری زندگیوں میں مستقل جگہ بنا لی ہے۔ چھوٹے ہوں یا بڑے، حتیٰ کہ گھریلو خواتین بھی اس ڈیجیٹل دنیا کا حصہ بن چکی ہیں۔
    بلاشبہ یہ دنیا ہمارے لیے بے شمار آسانیاں لے کر آئی ہے، لیکن ہر آسانی اپنے ساتھ ایک آزمائش بھی لاتی ہے۔ ڈیجیٹل دنیا نے فریب کے ایسے راستے بھی کھول دیے ہیں جن کا تصور کبھی ممکن نہ تھا۔ آج انسان گھر بیٹھے دنیا سے جڑ سکتا ہے، لیکن اسی رابطے کے ذریعے کوئی اجنبی اس کی زندگی میں داخل ہو کر اسے نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔

    آج ایک فون کال، ایک غلط لنک یا معمولی سی غفلت انسان کو برسوں کی محنت سے کمائی ہوئی رقم سے محروم کر سکتی ہے۔ کبھی بینک اکاؤنٹ بند ہونے کا خوف دکھایا جاتا ہے، کبھی اے ٹی ایم کارڈ بلاک ہونے کا پیغام آتا ہے اور کبھی لاکھوں روپے کے انعام کا لالچ دے کر ذاتی معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ انسان کو خبر بھی نہیں ہوتی اور اس کی جمع پونجی چند لمحوں میں ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ بعض اوقات لوگ جعلی ویب سائٹس اور جھوٹے پیغامات پر یقین کر لیتے ہیں اور بعد میں پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔

    ڈیجیٹل فریب کا ایک خطرناک پہلو نوجوانوں کی زندگیوں میں بھی نظر آتا ہے۔ مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی تصاویر، جعلی شناختیں اور جھوٹی محبت کے دعوے پہلے اعتماد حاصل کرتے ہیں، پھر اسی اعتماد کو بلیک میلنگ کا ذریعہ بنا لیا جاتا ہے۔ کسی کی تصویر میں ردوبدل کرکے اسے خوف زدہ کرنا، پیسوں کا مطالبہ کرنا اور کسی کی عزت و سکون کو داؤ پر لگا دینا صرف ایک جرم نہیں بلکہ انسانیت کے زوال کی علامت ہے۔

    سوشل میڈیا نے جہاں لوگوں کو اظہار کا موقع دیا ہے، وہیں دکھاوے کی ایک ایسی دوڑ بھی پیدا کر دی ہے جس میں ہر شخص اپنی زندگی کا خوبصورت رخ دنیا کو دکھانا چاہتا ہے۔ تصویروں میں خوشیاں، کامیابیاں اور آسائشیں نظر آتی ہیں، مگر حقیقت ہمیشہ اس کے پیچھے موجود نہیں ہوتی۔ بعض لوگ دوسروں کی دکھائی ہوئی زندگی کو حقیقت سمجھ کر احساسِ محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یوں ڈیجیٹل دنیا کا فریب صرف پیسوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ سوچ، احساس اور ذہنی سکون کو بھی متاثر کرتا ہے۔

    افسوس تو یہ ہے کہ کچھ لوگ محنت اور حلال روزی کے بجائے فوری دولت کو کامیابی سمجھنے لگے ہیں۔ دوسروں کی لاعلمی اور اعتماد سے فائدہ اٹھا کر حاصل کیا گیا مال شاید جیب تو بھر دے، مگر ضمیر کو خالی کر دیتا ہے۔ چند لمحوں کی لالچ کسی دوسرے انسان کی برسوں کی محنت برباد کر سکتی ہے۔
    اس صورتِ حال میں والدین، اساتذہ اور معاشرے کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ بچوں اور نوجوانوں کو صرف موبائل استعمال کرنا نہیں بلکہ اسے محفوظ طریقے سے استعمال کرنا بھی سکھانا ہوگا۔ انہیں سمجھانا ہوگا کہ ہر آن لائن دوست قابلِ اعتماد نہیں ہوتا، ہر پیغام سچا نہیں ہوتا اور ہر خوبصورت تصویر حقیقت کی عکاس نہیں ہوتی۔ اپنی ذاتی معلومات، پاس ورڈز اور ضروری دستاویزات کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری ہے۔

    ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ٹیکنالوجی سے دور نہ بھاگیں، بلکہ شعور کے ساتھ اسے استعمال کرنا سیکھیں۔ کیونکہ مسئلہ موبائل، انٹرنیٹ یا ڈیجیٹل دنیا نہیں، مسئلہ وہ نیت ہے جو اسے استعمال کرتی ہے۔ یہی ٹیکنالوجی علم کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے اور فریب کا ہتھیار بھی۔
    یاد رکھیے! ہر چمکتی اسکرین روشنی نہیں دیتی، کچھ اسکرینوں کے پیچھے فریب کے اندھیرے بھی چھپے ہوتے ہیں۔ اگر شعور ہماری انگلی تھامنے والا نہ ہو تو یہی ایک کلک، برسوں کی محنت، اعتماد اور سکون ہم سے چھین سکتا ہے۔ اس لیے ڈیجیٹل دنیا میں قدم قدم پر احتیاط، سمجھ داری اور شعور ضروری ہے، کیونکہ جدید دور میں محفوظ وہی ہے جو ٹیکنالوجی کا استعمال تو کرے، مگر آنکھیں بند کرکے اس پر اعتماد نہ کرے۔

  • اللّٰہ دیکھ رہا ہے،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

    اللّٰہ دیکھ رہا ہے،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

    اللّٰہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ ہم لوگ کوئی بھی کام کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں یہ بات بہت کم ہوتی ہے۔ ہمیں یقین ہونا چاہیے کہ ہم ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے ہیں۔ نماز پڑھتے وقت بھی ہمارے ذہن میں یہ خیال ہونا چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہیں۔ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔
    ہمیں اپنا محاسبہ خود کرنا چاہیے تاکہ ہم دنیا وآخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں:
    ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینا ہوگا۔
    سب سے پہلے ہمیں ایک ڈائری بنانی ہے اور اس میں دو کالم بنا کر ایک طرف اپنے نیک اعمال لکھنے ہیں اور دوسرے کالم میں گناہوں کے بارے میں لکھنا ہے۔
    اس طرح سے روزانہ اپنا معمول بنائیں اور ہم خود اپنی اصلاح کر سکتے ہیں۔

    اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کے کندھوں پر دو فرشتے مقرر کیے ہوئے ہیں۔ جنھیں کراما کاتبین کہتے ہیں۔ دونوں فرشتے ہمارے اعمال لکھتے ہیں ـ ایک ہمارے نیک اعمال لکھتے ہیں اور دوسرے گناہوں والے اعمال لکھتے ہیں۔
    فرشتے بار بار موقع دیتے ہیں کہ اب یہ انسان گناہ سے رک جائے گا، توبہ کرے اور جب تک وہ انسان گناہ نہیں کرتا: اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
    مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان گناہ کرنے کا سوچتا ہے اور وہ گناہ نہیں کرتا: اس کا ارادہ بدل جاتا ہے۔
    ہماری نیت خالص ہو گی تو ہم سب کاموں کو انجام دینے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ "حدیث کا مفہوم ہےکہ سارے عمل نیت سے ہیں۔”( بخآری ومسلم)
    اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کے لیے کتنی محنت اور محبت سے ہمارے اعضاء بنائیں اور ہم نے کیا کیا؟
    ہم نے اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کی۔
    اللّٰہ تعالیٰ نے کائنات میں کتنی ساری نعمتیں عطا کی ہیں۔
    ہم نے ان ساری نعمتوں پر شکر ادا کیا؟
    نعمتوں پر غور وفکر کیا؟
    اللّٰہ تعالیٰ کے احکامات پر ہم نے
    عمل کیا؟
    نبی کریم محمد ﷺ کی سنتوں پر عمل کیا؟
    ہم نے اپنا محاسبہ کرنا ہےاور دوسروں کو بھی تلقین کرنی چاہیے۔
    زندگی بہت مختصر ہے۔
    کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کب اس دنیا سے رخصت ہو جائے تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔
    آج سے اپنے اعمال کا جائزہ لیںتے ہیں۔
    ذہنی سکون حاصل کرنے کے لیے بہت ضروری ہےکہ ہم خود پر قابو پانے کی کوشش کریں اور گناہوں سے بچنے کے لیے اپنے نفس کے خلاف جہاد کریں۔

  • پاکستان کی خارجہ پالیسی، بدلتی دنیا میں توازن، تدبر اور قومی مفادات،تحریر: شمسہ رانی

    پاکستان کی خارجہ پالیسی، بدلتی دنیا میں توازن، تدبر اور قومی مفادات،تحریر: شمسہ رانی

    دنیا اس وقت ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں عالمی سیاست کی بساط تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ طاقت کے مراکز بدل رہے ہیں، نئی معاشی صف بندیاں وجود میں آ رہی ہیں، علاقائی تنازعات عالمی امن کو متاثر کر رہے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، موسمیاتی تبدیلی، توانائی اور عالمی تجارت خارجہ پالیسی کے نئے عنوانات بن چکے ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی خارجہ پالیسی محض سفارتی تعلقات کا نام نہیں بلکہ قومی سلامتی، اقتصادی استحکام اور بین الاقوامی وقار کا بنیادی ستون بن چکی ہے۔

    پاکستان کو قدرت نے ایک غیر معمولی جغرافیائی حیثیت عطا کی ہے۔ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور بحیرۂ عرب کے سنگم پر واقع یہ ملک خطے کی سیاست، تجارت اور توانائی کے عالمی نقشے میں اہم مقام رکھتا ہے۔ یہی جغرافیہ پاکستان کو بے شمار مواقع بھی فراہم کرتا ہے اور بڑی ذمہ داریاں بھی سونپتا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں اس خطے میں اپنے اپنے مفادات رکھتی ہیں، اس لیے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ جذبات کے بجائے تدبر، توازن اور قومی مفادات کو اپنی خارجہ پالیسی کی بنیاد بنائے۔

    پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اصل روح یہ ہونی چاہیے کہ ملک کسی بھی عالمی کشمکش میں فریق بننے کے بجائے امن، تعاون اور باہمی احترام کا داعی رہے۔ موجودہ دور میں وہی ممالک کامیاب سمجھے جاتے ہیں جو اختلافات کے باوجود مکالمے کے دروازے بند نہیں کرتے بلکہ اپنے قومی مفادات کا تحفظ دانشمندانہ سفارت کاری کے ذریعے کرتے ہیں۔

    چین کے ساتھ پاکستان کی دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری دونوں ممالک کے باہمی اعتماد کا مظہر ہے۔ اقتصادی تعاون، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور علاقائی روابط نے اس تعلق کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ اسی طرح سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکی اور دیگر برادر اسلامی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مذہبی، تاریخی، اقتصادی اور عوامی سطح پر گہرے ہیں۔ ان روابط کو مزید وسعت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    دوسری طرف امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم پہلو ہیں۔ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، صحت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے شعبوں میں تعاون دونوں جانب کے مفاد میں ہے۔ عالمی سیاست میں مستقل دوست یا مستقل دشمن نہیں ہوتے، بلکہ مستقل قومی مفادات ہوتے ہیں۔ یہی اصول ہر بالغ نظر خارجہ پالیسی کی بنیاد بنتا ہے۔

    پاکستان کے لیے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات بھی ناگزیر ہیں۔ افغانستان میں پائیدار امن نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ ایران کے ساتھ اقتصادی روابط، وسطی ایشیائی ریاستوں تک تجارتی رسائی اور جنوبی ایشیا میں کشیدگی کے خاتمے کی سنجیدہ کوششیں پاکستان کو علاقائی تجارت کا اہم مرکز بنا سکتی ہیں۔ اسی طرح مسئلۂ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو ہے، جسے بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق سفارتی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرتے رہنا پاکستان کی ذمہ داری ہے۔

    آج کی دنیا میں سفارت کاری کا سب سے مؤثر ہتھیار مضبوط معیشت ہے۔ کمزور معیشت کے ساتھ مضبوط خارجہ پالیسی تشکیل دینا آسان نہیں ہوتا۔ اس لیے پاکستان کو اقتصادی سفارت کاری کو اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگا۔ برآمدات میں اضافہ، بیرونی سرمایہ کاری کا فروغ، معدنی وسائل کا بہتر استعمال، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زرعی جدت، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت کو عالمی منڈی سے جوڑنا خارجہ پالیسی کے اہم اہداف ہونے چاہییں۔ جب معیشت مستحکم ہوگی تو سفارتی مؤقف بھی زیادہ مضبوط ہوگا۔

    پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور عالمی امن کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں پاکستانی اہلکاروں کی خدمات، انسانی امداد میں تعاون اور عالمی فورمز پر ذمہ دارانہ کردار پاکستان کے مثبت تشخص کا اہم سرمایہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کامیابیوں کو جدید سفارتی ذرائع، مؤثر میڈیا حکمتِ عملی اور عالمی ابلاغ کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔

    یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خارجہ پالیسی صرف وزارتِ خارجہ کے دفاتر میں نہیں بنتی بلکہ اس کی بنیاد ملک کے اندر سیاسی استحکام، قومی اتحاد، مضبوط معیشت، مؤثر اداروں، معیاری تعلیم اور قانون کی حکمرانی پر استوار ہوتی ہے۔ اندرونی کمزوری بیرونی سفارت کاری کو بھی متاثر کرتی ہے، جبکہ قومی یکجہتی بین الاقوامی اعتماد میں اضافہ کرتی ہے۔

    بدلتی ہوئی عالمی سیاست پاکستان کے لیے ایک آزمائش بھی ہے اور ایک سنہری موقع بھی۔ اگر ہم اپنے جغرافیے کو اقتصادی طاقت، اپنی نوجوان نسل کو انسانی سرمایہ، اپنی سفارتی روایت کو قومی وقار اور اپنی خارجہ پالیسی کو مستقل قومی مفادات کے تابع بنا دیں تو پاکستان نہ صرف خطے بلکہ عالمی برادری میں ایک مؤثر، باوقار اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر مزید مضبوط مقام حاصل کر سکتا ہے۔

    آج ضرورت نعروں کی نہیں بلکہ دوراندیش فیصلوں کی ہے۔ خارجہ پالیسی کا مقصد صرف دنیا سے تعلقات قائم رکھنا نہیں بلکہ ہر تعلق کو پاکستان کے عوام کی خوشحالی، معاشی ترقی، قومی سلامتی اور عالمی وقار سے جوڑنا ہے۔ جب ریاست اپنے قومی مفادات کو سیاسی مصلحتوں سے بالاتر رکھ کر مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھتی ہے تو دنیا بھی اس کی آواز کو سنجیدگی سے سنتی ہے۔

    پاکستان کے پاس محلِ وقوع کی طاقت، نوجوانوں کی صلاحیت، سفارتی تجربہ اور قدرتی وسائل کی دولت موجود ہے۔ اگر ان تمام قوتوں کو ایک واضح قومی وژن اور متوازن خارجہ پالیسی کے تحت بروئے کار لایا جائے تو آنے والا دور پاکستان کے لیے نئی سفارتی کامیابیوں، معاشی استحکام اور عالمی احترام کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی ایک مضبوط، باوقار اور خوداعتماد پاکستان کی سمت ہے۔

  • ایک دوسرے کی رہنمائی کیجئے۔تحریر : ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

    ایک دوسرے کی رہنمائی کیجئے۔تحریر : ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

    زندگی دکھوں کا گھر ہے۔اس میں کبھی خوشی اور کبھی غم کے لمحات میسر آتے ہیں۔ یہ جسم و روح کے درمیان قائم ہونے والا ایک دائمی تعلق ہے۔ صدیوں سے قائم و دائم ہے۔انسان جب تک بدن کے وطن میں زندہ ہے۔ اسے اچھا اور برا وقت میسر آتا ہے۔ وہ طرح طرح کے آثار و کیفیات کا سامنا کرتا ہے۔ بچپن جوانی اور بڑھاپے کے الگ الگ دور ہیں۔

    یہ ایک تلخ، ترش اور کڑک حقیقت ہے۔ انسان کو جگہ جگہ مشکلات ، دکھوں اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہم دنیا بھر میں بے بس لوگوں کا ایک سرسری جائزہ لیں تو یہ بات ہم پر واضح ہو جائے گی کہ لوگ کن کن دکھوں میں گرے ہوئے ہیں۔ انھیں کن کن مشکلات کا سامنا ہے؟ وہ کتنے بے بس اور دکھی ہیں؟ ان کا مداوا کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
    وہ غربت سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔کوئی مالی طور پر پریشان ہے۔کوئی جسمانی طور پر پریشان ہے۔کوئی روحانی طور پر بیمار ہے۔ دکھ نفسیاتی طور پر پریشان کرتے ہیں۔ مختلف بیماریوں میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ چلنے پھرنے سے قاصر بنا دیتے ہیں۔ ان کا تجسم پوچھے بغیر ہوتا ہے۔
    یہ بے سمت سفر کے عادی ہوتے ہیں۔انھیں جس جگہ پنپنے کا موقع ملے یہ دل و دماغ پر حملہ کر کے اسے مفلوج بنا دیتے ہیں۔سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم بنا دیتے ہیں۔ انسان بے چارہ یک دم مدہوش ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے۔اسے پل بھر کی خبر نہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہو سکتا ہے۔ انسان کو اس بات کا ادراک تو بعد میں ہوتا ہے کہ میرے ساتھ کیا ہو گیا۔

    اگر ہم اپنے ملک و قوم اور معاشرے کا مطالعہ کریں تو ہمیں روزمرہ زندگی میں بہت سے ایسے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے، جو اپنی منزل سے بھٹکے ہوتے ہیں۔ان کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔بلکہ ایسے لوگوں سے لوگ ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ان کی کمزوریوں کو بنیاد بنا کر لوٹ لیتے ہیں۔ دھوکہ دہی ہمارے معاشرے کی عام سی بات ہے۔ شاید ہم اس بات کو معمولی بات سمجھتے ہیں۔اسے گناہ نہیں سمجھتے۔ ہمیں جگہ جگہ ایسے دل خراش واقعات سننے کو ملتے ہیں۔مثال کے طور پر کسی جگہ قتل ہو جاتا ہے۔ کہیں راہ زنی جیسے واقعات پیش آتے ہیں۔ کہیں ٹارگٹ کلنگ کی جاتی ہے۔ کہیں لوگوں کو لوٹ گھسوٹ لیا جاتا ہے۔ کہیں منشیات فروشی کا دھندہ ہے۔ کہیں زنا کاری کے اڈے ہیں۔ ایسے تمام واقعات جسم روح میں لرزہ طاری کر دیتے ہیں۔ انھیں دیکھ کر انسان کا دل مرجھا جاتا ہے۔ روح کانپ جاتی ہے۔دماغ ماؤف ہو جاتا ہے۔ یہ انسانی فطرت کا خاصا ہے کہ وہ کسی چیز کے اثرات کو بہت جلد قبول کرتی ہے۔ خواہ اس کے نتائج مثبت یا منفی صورت میں سامنے آئیں۔ انسان جو کچھ اپنے معاشرے میں ہوتا ہوا دیکھتا ہے۔وہ اسی کی پیروی کرنا شروع کر دیتا ہے۔ زندگی تجربات و مشاہدات کا نام و پرچار ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی بجائے ہنگامی بنیاد پر رہنمائی کرنی چاہیے۔ خوفناک گمراہی اور برگشتگی سے بچانا چاہیے۔کسی کی راہ میں بچھے کانٹوں کو اٹھا دینا چاہیے۔اگر آج ہم اچھا کام کریں گے تو کل اس کا اجر بھی ملے گا۔ہمیں دین و دنیا کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ایسے سماچ کو تشکیل دینا ہے جہاں نفرت جھوٹ ، فریب اور مکر نہ ہو۔یہی انسانیت اور بشریت کا تقاضا ہے۔ ورنہ دنیا تو گناہ کی دلدل میں پھنسی ہوئی ہے۔

    یقینا فتح کا جھنڈا لہرانے کے لیے قوت فیصلہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر انسان بروقت اچھے فیصلے کی بنیاد رکھ لے تو وہ بہت سی مشکلات سے بچ سکتا ہے۔ وہ اپنی اور دوسروں کی ذات کو محفوظ بنا سکتا ہے۔ فقط ایک فیصلہ ہمارا مقدر سنوار دیتا ہے۔تباہ ہونے سے بچا لیتا ہے، جو ذہن کے بند کواڑ سے نکلتے ہی امن کی چادر بچھا سکتا ہے۔بھٹکی روحوں کو پاس لا سکتا ہے۔زندگی کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے رہنمائی بہت ضروری ہے۔کیونکہ سماج میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کے پاس قوت فیصلہ کی کمی ہوتی ہے۔وہ اپنی کم فہمی کے باعث بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ان کی ترقی کا خواب ادھورا رہ جاتا ہے۔ایسے لوگوں کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ یہ خدا اور انسان کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے۔انسان کو اپنے منشور اور نفسیات کے ساتھ اس بات کو نتھی کر لینا چاہیے کہ میرے قدم اٹھانے سے نہ جانے کتنے لوگوں کی زندگی بچ سکتی ہے۔وہ زمانے کی ٹھوکروں سے بچ سکتے ہیں۔ اپنے بچوں کی بہتر پرورش کر سکتے ہیں۔ یہ حکمت و بصیرت کا حسین امتزاج ہے۔ وقت کو غنیمت جانتے ہوئے کسی بھی حالات وقت اور موسم میں ایک دوسرے کی رہنمائی ضرور کیجئے۔ یہ وقت کی ضرورت بھی ہے اور پکار بھی۔ ماضی کو چھوڑ دیجئے ۔مستقبل کی طرف قدم بڑھائیے۔ یقینا خدا دو قدم ساتھ بڑھائے گا۔

  • اے چاند غزہ سے صبر لانا،تحریر: فاطمہ زہراء

    اے چاند غزہ سے صبر لانا،تحریر: فاطمہ زہراء

    رات اپنی تمام تر خاموشی کے ساتھ شہر پر اتر چکی تھی۔
    وہ چھت پر اکیلی بیٹھی تھی سامنے آسمان پر چاند پوری آب و تاب سے روشن تھا، مگر آج اس کی روشنی میں بھی اسے ایک عجیب سی اداسی محسوس ہو رہی تھی۔ ہاتھ میں چائے کا کپ تھا چائے کب کی ٹھنڈی ہو چکی تھی، مگر وہ اب بھی اسے دونوں ہاتھوں میں تھامے بیٹھی تھی، جیسے اس کپ میں چائے نہیں، زندگی کی کوئی آخری حرارت باقی ہو۔
    اس نے چاند کو دیکھا تو اچانک زندگی کے تمام دکھ ایک ایک کرکے اس کے سامنے آ بیٹھے۔
    وہ رشتے جو وقت کے ساتھ اجنبی ہو گئے تھے۔۔
    وہ لوگ جنہیں اپنا سمجھ کر دل دیا اور جنہوں نے اسی دل کو توڑ دیا۔۔۔
    وہ خواب جو آنکھوں میں سجائے تھے مگر حالات نے انہیں خاک کر دیا۔۔۔
    وہ راتیں جن میں وہ تکیے میں منہ چھپا کر روتی رہی تھی، تاکہ گھر کی دیواریں بھی اس کے دکھ سے واقف نہ ہوں
    ایک آنسو اس کی پلک سے ٹوٹا اور چائے کے کپ میں جا گرا۔
    پھر دوسرا۔۔۔
    پھر تیسرا۔۔۔
    وہ بے اختیار تڑپ اٹھی۔
    "آخر کتنا درد ہے اس دنیا میں؟”
    اس کی آواز رات کی خاموشی میں کہیں دور جا کر بکھر گئی
    یا اللہ! انسان آخر کب تک برداشت کرے؟ ایک دکھ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا سامنے آ کھڑا ہوتا ہے آخر میرے ہی حصے میں اتنی آزمائش کیوں؟ آخر کب تک؟”
    چاند اسے خاموشی سے دیکھتا رہا۔
    وہ کچھ دیر اسے تکتی رہی پھر جیسے اچانک اسے یاد آیا کہ یہ وہی چاند ہے جو ہر رات دنیا کے ان حصوں پر بھی اپنی روشنی ڈالتا ہے جہاں رات صرف رات نہیں ہوتی۔ قیامت بن کر اترتی ہے۔
    وہ چاند سے مخاطب ہو گئی
    "اے چاند! تم تو غزہ کی راتوں کے بھی گواہ ہو نا؟”
    چاند خاموش رہا۔
    وہ بولتی گئی
    "تم نے وہاں کی وہ راتیں دیکھی ہیں جن میں ستاروں کے بجائے آسمان بارود کی چنگاریوں سے روشن ہوتا ہے؟ تم نے وہ مائیں دیکھی ہیں جو بچوں کو گود میں سلانے کے بجائے کفن میں لپیٹتی ہیں؟ تم نے وہ ننھے چہرے دیکھے ہیں جن سے بچپن چھین لیا گیا؟”
    اس کی آواز بھرا گئی۔
    "تم نے وہ گھر دیکھے ہیں جو ایک لمحے میں ملبہ بن گئے؟ وہ باپ دیکھے ہیں جو اپنے بچوں کے ٹکڑے سمیٹتے ہیں؟ وہ بچے دیکھے ہیں جو اپنی ماں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے خود خاموش ہو جاتے ہیں؟”
    چاند پھر بھی خاموش تھا۔
    مگر اس خاموشی میں جیسے صدیوں کی گواہی تھی۔
    اسی لمحے ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا اور اس کے بالوں کو بکھیر گیا۔
    وہ ہوا۔۔۔ جو ظلم و ستم کی اس بستی پر مدتوں سے چیتھڑے اڑاتی پھرتی تھی، ملبے کی گرد، دھوئیں کی بو اور مظلوموں کی آہیں اپنے دامن میں سمیٹ کر دنیا کے کونے کونے تک پہنچاتی تھی۔۔۔ اس کے کانوں میں سرگوشی کرنے لگی۔
    "میں وہاں سے آتی ہوں۔۔۔”
    وہ چونک کر ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔
    ہوا پھر سرسرائی:
    "میں نے ان ماؤں کی چیخیں سنی ہیں جن کے بچے ان کی آنکھوں کے سامنے چھین لیے گئے۔ میں نے ان بچوں کی سسکیاں سنی ہیں جو ملبے تلے اپنے ماں باپ کو پکارتے رہے۔ میں نے گھروں کو راکھ بنتے دیکھا ہے، خوابوں کو ملبے میں دفن ہوتے دیکھا ہے۔۔۔ مگر میں نے انہی ملبوں کے درمیان ایسے دل بھی دیکھے ہیں جو اب بھی اپنے رب پر یقین رکھتے ہیں۔”
    اس کے ہاتھ میں تھاما کپ لرزنے لگا۔
    اچانک اس کے سامنے ایک ننھی سی بچی کا چہرہ ابھرا۔
    صرف پانچ برس کی عمر۔۔۔ مگر آنکھوں میں پوری دنیا کا ماتم۔
    اس کی پوری فیملی دنیا سے جا چکی تھی، مگر وہ خود اپنے بھائی کی فیملی بن گئی تھی۔ جس عمر میں اسے کسی کی انگلی تھام کر چلنا چاہیے تھا، وہ اپنے بھائی کی انگلی تھامے اسے زندگی کا راستہ دکھا رہی تھی۔
    وہ دیر تک اس بچی کو دیکھتی رہی۔
    اسے اپنا درد یاد آیا۔
    اور پہلی مرتبہ اسے اپنا درد بہت چھوٹا محسوس ہوا۔
    پھر منظر بدلا۔
    ایک ماں سامنے تھی۔
    اس کے سارے بچے ایک ایک کرکے شہید ہو چکے تھے۔ اب وہ اپنے آخری سپوت کو بھی الوداع کہہ رہی تھی۔ دل شاید ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا تھا، مگر زبان پر شکوہ نہیں تھا۔
    وہ اپنے آنسوؤں کے درمیان کہہ رہی تھی
    "حسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل۔”
    اس کے سینے سے ایک سسکی نکلی۔

    "یہ کیسا صبر ہے؟”
    وہ آسمان کی طرف دیکھ کر بولی
    "یا اللہ! میں تو ایک دکھ پر ٹوٹ جاتی ہوں۔۔۔ یہ لوگ اپنے پورے خاندان کھو کر بھی تجھ سے شکوہ نہیں کرتے؟”
    پھر اچانک اسے ایک بچے کی آواز سنائی دی۔
    بہت دور سے آتی ہوئی۔۔۔
    بہت کمزور۔۔۔
    مگر اس کے ضمیر کو چیرتی ہوئی
    "اے مسلمانوں! ہمیں بچا لو۔۔۔ ہم ختم ہو رہے ہیں۔”
    اس کے ہاتھ سے چائے کا کپ چھوٹ کر زمین پر جا گرا۔
    وہ اپنے گھٹنوں میں سر دے کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔
    اب اس کا ضمیر اس کے سامنے کھڑا تھا۔
    وہ سوال کر رہا تھا
    "کیا تمہارا درد ان سے بھی بڑا ہے؟”
    وہ جواب دینا چاہتی تھی۔
    کہنا چاہتی تھی کہ میرا درد بھی حقیقی ہے میری تکلیف بھی اپنی جگہ سچی ہے۔۔۔ میرے زخم بھی گہرے ہیں۔
    مگر اس کے لب خاموش رہے۔
    کیونکہ کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جن کے سامنے دلیلیں دم توڑ دیتی ہیں۔
    اس کے پاس صرف آنسو تھے۔
    اور خاموشی۔
    وہ دیر تک روتی رہی۔
    پھر آہستہ سے سر اٹھایا۔
    چاند اب بھی وہیں تھا۔
    وہی چاند جو غزہ کی راتوں کا گواہ تھا۔
    وہی چاند جو ملبے پر بھی چمکتا تھا اور ان ننھے چہروں پر بھی جنہوں نے اپنی آنکھوں میں بچپن کے بجائے جنگ دیکھی تھی۔
    اس نے چاند سے کہا
    "تم ہر رات وہاں بھی جاتے ہو نا؟”
    چاند خاموش رہا
    وہ مسکرائی، مگر آنکھیں اب بھی نم تھیں۔
    "تم ہر رات غزہ کے آنگن سے ہو کر گزرتے ہو نا؟ وہاں کی ماؤں کا صبر، وہاں کی بیٹیوں کا حوصلہ اور ان بچوں کی دعائیں بھی دیکھتے ہو نا؟”
    وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر دھیرے سے بولی:
    "اے چاند! میرے لیے بھی غزہ سے ذرا سا صبر لیتے آنا۔۔۔”
    اسی لمحے درخت کی شاخوں کو ہلاتی ہوئی ہوا اس کے قریب سے گزری۔ اس نے آنکھیں موند لیں، جیسے ہوا کے دامن سے کوئی امانت مانگ رہی ہو۔
    "اور اے ہوا۔۔۔!”
    اس کی آواز لرز گئی۔
    "تم بھی جب غزہ کی گلیوں سے گزرنا تو میرے لیے وہاں کی بیٹیوں جیسا ایمان لے آنا۔۔۔ ایسا ایمان جو اپنے عزیزوں کو اذیت و بے بسی آخری حد پر دیکھ کر بھی شکوہ نا کرے اپنوں کے بچھڑنے پر بھی شکوہ نہ کرے جو آنکھوں میں سمندر لیے بھی لبوں پر صرف یہ کہے حسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل۔”
    وہ چھت سے نیچے اترنے لگی
    پیچھے چاند اب بھی غزہ کی طرف دیکھ رہا تھا
    اور ہوا۔۔۔
    وہ پھر اسی سمت جا رہی تھی جہاں ماؤں کی گودیں اجڑی ہوئی تھیں، بچے یتیم تھے، گھر ملبہ تھے، مگر ایمان اب ابھی زندہ تھا