Baaghi TV

Category: متفرق

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:عبدالحفیظ شاہد

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:عبدالحفیظ شاہد

    کسی بھی اچھے معاشرے کی پہچان اس کی ظاہری ترقی، اس کی سڑکوں، عمارتوں یا مضبوط معیشت سے نہیں کی جا سکتی بلکہ لوگوں کی ذہنی اور جسمانی صحت اور فکری بالیدگی کسی بھی معاشرے کے بنیادی ستون ہیں۔ اگر انسان ہی کمزور، بیمار اور نشے کی زنجیروں میں جکڑے ہوں تو ترقی کے تمام دعوے کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں۔ پاکستان آج جن بڑے سماجی اور صحت کے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، ان میں تمباکو نوشی ایک ایسا مسئلہ ہے جو خاموشی سے نسلوں کو صحت کو متاثر کر رہا ہے۔ یہ صرف ایک عادت نہیں ہے بلکہ ایک ایسا رجحان ہے جو صحت، معیشت اور معاشرتی ڈھانچے تینوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ "تمباکو سے پاک پاکستان” اسی لیے ایک خواب نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت ہے۔

    پاکستان میں تمباکو نوشی کی صورتحال تشویشناک حد تک سنگین ہے۔ مختلف قومی اور بین الاقوامی سرویز کے مطابق ملک میں تقریباً 3 کروڑ 16 لاکھ افراد کسی نہ کسی شکل میں تمباکو استعمال کرتے ہیں، جو کہ بالغ آبادی کا تقریباً 19.9 فیصد بنتا ہے۔ یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کی بربادی کی کہانی ہے۔ ہر سال تمباکو سے متعلق بیماریوں کے باعث ہزاروں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اموات کی شرح 91.1 فی ایک لاکھ افراد ہےجو کہ جنوبی ایشیا اور عالمی اوسط دونوں سے زیادہ ہیں۔
    تمباکو نوشی کے نقصانات صرف سانس کی بیماریوں یا پھیپھڑوں کے کینسر تک محدود نہیں۔ یہ دل کے امراض، فالج، منہ اور گلے کے کینسر اور مدافعتی نظام کی کمزوری کا بھی بڑا سبب ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں 80 لاکھ سے زائد افراد تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جن میں ایک بڑا حصہ ترقی پذیر ممالک کا ہوتا ہے۔ پاکستان بھی انہی ممالک میں شامل ہے جہاں صحت کا نظام پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے اور تمباکو نوشی اس بوجھ کو مزید بڑھا رہی ہے۔

    معاشی لحاظ سے دیکھا جائے تو صورتحال اور بھی تشویشناک ہے۔ پاکستان اپنی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا تقریباً 1.4 فیصد تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور پیداواری نقصان پر خرچ کرتا ہے۔ اگر اسے سادہ زبان میں سمجھا جائے تو یہ اربوں روپے بنتے ہیں جو صحت کے نظام، علاج معالجے اور کام کرنے کی صلاحیت میں کمی کی وجہ سے ضائع ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ رقم ہے جو اگر تعلیم، روزگار اور انفراسٹرکچر پر خرچ ہو تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

    آج کل سگریٹ، شیشہ اور دیگر تمباکو مصنوعات کو بعض اوقات فیشن اور اسٹیٹس کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد محض تجسس یا دوستوں کے دباؤ میں آ کر اس عادت کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایک بار یہ سلسلہ شروع ہو جائے تو اس سے نکلنا آسان نہیں رہتا۔اگر ہم سماجی سطح پر دیکھیں تو تمباکو نوشی صرف فرد کو نہیں بلکہ پورے گھرانے کو متاثر کرتی ہے۔ ایک سگریٹ نوش نہ صرف اپنی صحت بلکہ اپنے اردگرد موجود بچوں، خواتین اور بزرگوں کی صحت کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے۔ گھر کا معاشی بجٹ متاثر ہوتا ہے، کیونکہ محدود آمدنی کا ایک حصہ تمباکو پر خرچ ہو جاتا ہے۔ یوں یہ عادت ایک خاموش معاشی بوجھ بھی بن جاتی ہے۔

    اسلامی تعلیمات بھی انسانی جان کی حفاظت پر زور دیتی ہیں۔ قرآن مجید میں انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے منع کیا گیا ہے۔ جب جدید طب یہ ثابت کر چکی ہے کہ تمباکو نوشی انسانی جان کے لیے نقصان دہ ہے تو اسے محض ایک عادت سمجھنا درست نہیں رہتا۔ یہ دراصل اپنی اور دوسروں کی صحت کے ساتھ ایک
    سنگین غفلت ہے۔

    اب سوال یہ ہے کہ تمباکو سے پاک پاکستان کیسے ممکن ہے؟
    اس کے لیے صرف قوانین بنانا کافی نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد سب سے اہم ہے۔ پاکستان میں تمباکوکنٹرول کے قوانین موجود ہیں، لیکن ان پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کے باعث ان کے اثرات محدود رہتے ہیں۔ ضروری ہے کہ سگریٹ کی فروخت پر سخت نگرانی کی جائے، کم عمر افراد کو تمباکو فروخت کرنے پر مکمل پابندی ہو اور عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کے قوانین پر سختی سے عمل کیا جائے۔مزید یہ کہ حکومت کو چاہیے کہ تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمباکو نوشی چھوڑنے کے مراکز ہر ضلع اور تحصیل کی سطح پر قائم کیے جائیں جہاں لوگوں کو طبی اور نفسیاتی مدد فراہم کی جا سکے۔

    میڈیا کا کردار بھی اس جنگ میں نہایت اہم ہے۔ ٹی وی، فلمیں اور سوشل میڈیا اگر سگریٹ نوشی کو ”اسٹائل“ کے طور پر دکھائیں گے تو نوجوان متاثر ہوں گے۔ اس کے برعکس اگر آگاہی مہمات چلائی جائیں، حقیقی کہانیاں دکھائی جائیں اور نقصانات کو واضح کیا جائے تو سوچ میں تبدیلی آ سکتی ہے۔تعلیمی ادارے اس تبدیلی کا مرکز بن سکتے ہیں۔ اگر اسکولوں اور کالجوں میں باقاعدہ آگاہی پروگرام، ورکشاپس اور سیمینارز منعقد کیے جائیں تو نوجوان نسل کو شروع ہی میں اس عادت سے بچایا جا سکتا ہے۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ کھل کر بات کریں اور خود ایک مثال قائم کریں۔

    آخر میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ تمباکو سے پاک پاکستان صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اجتماعی قومی عزم کا نام ہے۔ یہ وہ سفر ہے جس میں ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایک استاد، ایک والد، ایک ڈاکٹر، ایک صحافی اور ایک طالب علم سب اس تبدیلی کا حصہ بن سکتے ہیں۔

    اگر آج ہم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والے برسوں میں صحت کا نظام مزید دباؤ کا شکار ہوگا، معاشی نقصان بڑھے گا اور نئی نسلیں بیماریوں میں جکڑ جائیں گی۔ لیکن اگر ہم نے آج فیصلہ کر لیا تووہ وقت دور نہیں جب پاکستان میں سانسیں، ماحول اور آب و ہوا صاف ستھری ہوگی۔ زندگی صحت مند ہوگی اور آنے والی نسلیں ایک روشن اور محفوظ ملک میں پروان چڑھیں گی۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: ام صائمہ

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: ام صائمہ

    اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو زندگی جیسی عظیم نعمت سے نوازا ہے اور اس زندگی کو صحت و تندرستی کے ساتھ گزارنا ہر انسان کا حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ کسی بھی ملک کا اصل سرمایہ اس کے کارخانے، عمارتیں یا سڑکیں نہیں ہوتیں، بلکہ اس کے تندرست اور باشعور عوام ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے، آج ہمارا پیارا وطن پاکستان ایک ایسی خاموش وبا کی لپیٹ میں ہے جو ہماری نوجوان نسل کو اندر ہی اندر گھن کی طرح چاٹ رہی ہے۔ یہ وبا کوئی اور نہیں، بلکہ تمباکو نوشی کی بڑھتی ہوئی لت ہے۔ "تمباکو سے پاک پاکستان” صرف ایک نعرہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ ہمارے محفوظ اور روشن مستقبل کے لیے ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔

    اگر ہم اپنے ارد گرد مشاہدہ کریں، تو آج سگریٹ نوشی ہمارے معاشرے میں ایک فیشن بن چکی ہے۔ کبھی دور تھا جب بڑوں کے سامنے سگریٹ پینا عیب سمجھا جاتا تھا، لیکن آج گلی محلوں، چائے کے ہوٹلوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے باہر نو عمر لڑکے اور یہاں تک کہ لڑکیاں بھی دھواں اڑاتی نظر آتی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اب روایتی سگریٹ کے ساتھ ساتھ شیشہ اور ویپ (Vape) جیسے نئے نشوں نے جنم لے لیا ہے، جنہیں نوجوان یہ سوچ کر اپناتے ہیں کہ شاید یہ نقصان دہ نہیں ہیں یا یہ جدید دور کا فیشن ہے۔ یہ ایک بہت بڑا دھوکہ ہے، جس کے پیچھے تمباکو بنانے والی کمپنیوں کی کروڑوں روپے کی مارکیٹنگ چھپی ہوئی ہے۔

    تمباکو نوشی صرف ایک انسان کی صحت کو برباد نہیں کرتی، بلکہ یہ پورے خاندان کو ذہنی اور معاشی طور پر مفلوج کر دیتی ہے۔ سگریٹ کا دھواں جب پھیپھڑوں میں جاتا ہے، تو وہ صرف کینسر، دل کے امراض اور سانس کی بیماریاں ہی پیدا نہیں کرتا، بلکہ گھر کے بجٹ کو بھی چاٹ جاتا ہے۔ ایک غریب یا مڈل کلاس گھرانے کا فرد جب اپنی محنت کی کمائی کا بڑا حصہ سگریٹ کے دھوئیں میں اڑا دیتا ہے، تو اس کے بچوں کی تعلیم اور اچھی غذا کا حق چھن جاتا ہے۔

    اس سے بھی بڑا المیہ "پیسو اسموکنگ” (Passive Smoking) ہے، یعنی سگریٹ پینے والے کے پاس بیٹھنے والے معصوم بچے اور گھر کے دیگر افراد بھی اس زہریلے دھوئیں کا شکار ہو کر انھی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جن کا انہوں نے کبھی گناہ بھی نہیں کیا ہوتا۔

    ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں ہر سال لاکھوں افراد تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ذرا سوچیے، کتنے ہی گھروں کے چراغ گل ہو جاتے ہیں،

    کتنی مائیں اپنے جوان بیٹوں سے محروم ہو جاتی ہیں اور کتنے بچے یتیم ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ نقصان ہے جس کا اندازہ پیسوں سے نہیں لگایا جا سکتا۔ ہماری نوجوان نسل، جو اس ملک کا مستقبل ہے، اگر وہ ہسپتالوں کے چکر کاٹنے پر مجبور ہو جائے گی، تو ملک کی ترقی کا خواب کیسے پورا ہوگا؟

    ایک بیمار نسل کبھی ایک مضبوط ملک کی بنیاد نہیں رکھ سکتی۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے پاکستان کو تمباکو سے پاک کیسے بنا سکتے ہیں؟

    یہ کام صرف حکومت کے اکیلے کرنے کا نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سب سے پہلی اور بڑی ذمہ داری والدین اور اساتذہ پر عائد ہوتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے دوستوں اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ ان کے ساتھ ایک دوستانہ ماحول قائم کریں تاکہ بچے کسی ذہنی دباؤ یا دیکھا دیکھی میں آ کر غلط راستے پر نہ چل پڑیں۔ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو صرف کتابی علم دینے کے بجائے کردار سازی پر توجہ دینی چاہیے اور تمباکو کے نقصانات کے بارے میں باقاعدگی سے سیمینارز اور لیکچرز منعقد کرنے چاہئیں۔

    دوسری اہم ضرورت میڈیا کی طاقت کا درست استعمال ہے۔ ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں سگریٹ پینے کے مناظر کو "بہادری” یا "اسٹائل” کے طور پر دکھانا بالکل بند ہونا چاہیے، کیونکہ نوجوان نسل اپنے پسندیدہ اداکاروں کی نقل کرتی ہے۔ اس کے برعکس، باغی ٹی وی جیسے پلیٹ فارمز کی طرح، ڈیجیٹل میڈیا پر ایسی مہم چلانی چاہیے جو تمباکو نوشی کے بھیانک انجام کو سامنے لائے، تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس زہر سے نفرت پیدا ہو۔

    اس کے ساتھ ساتھ، حکومت کو قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروانا ہوگا۔ پبلک مقامات، پارکوں، دفاتر اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سگریٹ نوشی پر عائد پابندی کو صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد ہونے چاہئیں۔

    تعلیمی اداروں کے ارد گرد تمباکو اور سگریٹ کی دکانوں پر مکمل پابندی ہونی چاہیے اور سگریٹ پر ٹیکسز اس حد تک بڑھا دیے جائیں کہ یہ عام نوجوان کی پہنچ سے دور ہو جائے۔

    آج ہمیں ایک قوم بن کر یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اس خاموش قاتل کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو ایک صحت مند، صاف ستھرا اور روشن پاکستان دینا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے گھروں، اپنے محلوں اور اپنے شہروں سے اس دھویں کا خاتمہ کرنا ہوگا۔

    زندگی اللّٰہ کی امانت ہے، اسے سگریٹ کے چند کشوں کی نذر کر کے ضائع مت کیجیے۔ آئیں، آج ہی سے عہد کریں کہ ہم خود بھی اس لت سے دور رہیں گے اور دوسروں کو بھی بچائیں گے، کیونکہ ایک صحت مند نوجوان ہی "تمباکو سے پاک پاکستان” کا ضامن ہے۔ اللّٰہ پاک ہمارے وطن کو اس زہر سے نجات دلائے اور ہمیں ایک تندرست اور مضبوط قوم بنائے، آمین۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان کی ایک نئی تعبیر،تحریر: عامر عباس ناصر اعوان

    تمباکو سے پاک پاکستان کی ایک نئی تعبیر،تحریر: عامر عباس ناصر اعوان

    رات کے سناٹے میں شہر کی ایک گلی کے نکڑ پر چند نوجوان کھڑے تھے۔ ہنسی مذاق جاری تھا، موبائل فونز کی روشنی چہروں پر پڑ رہی تھی اور درمیان میں سگریٹ کا دھواں فضا میں ایسے بکھر رہا تھا جیسے کسی نے اندھیروں کو اور گہرا کر دیا ہو۔ ان میں سے ایک لڑکا خاموش کھڑا تھا۔ اس کی عمر بمشکل سترہ برس ہوگی۔ دوستوں نے ہنستے ہوئے اُس کی طرف سگریٹ بڑھایا اور کہا،
    “لو! مرد بنو!”

    وہ چند لمحے خاموش رہا۔ اُس کے ذہن میں اپنی ماں کا چہرہ آیا، باپ کی محنت یاد آئی، چھوٹے بہن بھائیوں کی معصوم ہنسی گونجی۔ اُس نے سگریٹ لینے کے بجائے آہستگی سے ہاتھ پیچھے کر لیا۔ دوست قہقہہ لگا کر ہنس پڑے، مگر اُس لڑکے نے اسی لمحے ایک جنگ جیت لی تھی؛ اپنے نفس کی جنگ، اپنے مستقبل کی جنگ۔

    تمباکو نوشی صرف ایک عادت نہیں، یہ آہستہ آہستہ انسان سے اُس کی زندگی چھیننے والا خاموش قاتل ہے۔ یہ ابتدا میں دوست لگتی ہے مگر انجام میں انسان کو تنہائی، بیماری اور پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں دیتی۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں سگریٹ کو بعض اوقات “فیشن”، “اسٹیٹس” یا “جدید سوچ” کی علامت بنا دیا گیا ہے، حالاں کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ایک جلتی ہوئی سگریٹ دراصل انسان کی صحت، خوشیوں اور خوابوں کو جلاتی ہے۔

    پاکستان ایک نوجوان ملک ہے۔ یہاں کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی نوجوان اگر تعلیم، تحقیق، ہنر اور مثبت سوچ کی طرف آئیں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ترقی سے نہیں روک سکتی۔ مگر جب یہی نوجوان تمباکو جیسے زہر کا شکار ہو جائیں تو ان کی صلاحیتیں وقت سے پہلے مرجھانے لگتی ہیں۔ سگریٹ صرف پھیپھڑوں میں دھواں نہیں بھرتی بلکہ انسان کے ارادوں، توانائی اور زندگی کے رنگ بھی مدھم کر دیتی ہے۔

    اکثر نوجوان دباؤ، تنہائی یا وقتی پریشانی سے بچنے کے لیے سگریٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے سکون ملتا ہے، مگر یہ سکون ایسا ہے جیسے کوئی پیاسا شخص سمندر کا پانی پی لے۔ چند لمحوں کی جھوٹی راحت کے بعد نقصان کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ تمباکو انسان کو جسمانی طور پر کم زور کرنے کے ساتھ ذہنی اور معاشی نقصان بھی دیتا ہے۔ روزانہ سگریٹ پر خرچ ہونے والی رقم اگر تعلیم، کتابوں، گھر والوں یا کسی مثبت مقصد پر لگائی جائے تو نہ جانے کتنی زندگیاں سنور سکتی ہیں۔

    سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ تمباکو نوشی صرف پینے والے تک محدود نہیں رہتی۔ اس کا دھواں اردگرد موجود لوگوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ایک باپ جب اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ پیتا ہے تو وہ صرف دھواں نہیں اڑاتا بلکہ انجانے میں ایک غلط مثال بھی قائم کرتا ہے۔ ایک ماں جب کھانسی سے تڑپتی ہے یا ایک بچہ سانس کی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو کہیں نہ کہیں اس کے پیچھے یہی زہریلا دھواں موجود ہوتا ہے۔

    ہمیں سوچنا ہوگا کہ آخر ہم کیسا پاکستان چاہتے ہیں؟ ایسا پاکستان جہاں اسپتال بھرے ہوں، نوجوان بیمار ہوں اور خواب ادھورے رہ جائیں؟ یا ایسا پاکستان جہاں کھیل کے میدان آباد ہوں، کتابیں ہاتھوں میں ہوں، چہرے صحت مند ہوں اور فضائیں تازہ سانسوں سے مہک رہی ہوں؟ فیصلہ ہمیں خود کرنا ہے۔

    آج ضرورت صرف قوانین بنانے کی نہیں بلکہ شعور بیدار کرنے کی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں سے دوستانہ تعلق قائم کریں تاکہ وہ بری صحبت یا نقصان دہ عادتوں کا شکار نہ ہوں۔ اساتذہ صرف نصاب تک محدود نہ رہیں بلکہ کردار سازی پر بھی توجہ دیں۔ میڈیا اگر چاہے تو نوجوانوں کی سوچ بدل سکتا ہے۔ فلموں، ڈراموں اور اشتہارات میں سگریٹ کو کشش کے بجائے تباہی کی علامت بنا کر پیش کیا جائے تو بہت کچھ بدل سکتا ہے۔

    لیکن اصل انقلاب اُس دن آئے گا جب نوجوان خود فیصلہ کریں گے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی کو دھوئیں میں نہیں اڑائیں گے۔ اصل بہادری یہی ہے کہ انسان برائی کو “نہ” کہنے کا حوصلہ پیدا کرے۔ دوستوں کے دباؤ میں آکر اپنی صحت تباہ کرنا بہادری نہیں، کم زوری ہے۔ طاقت ور وہ ہے جو اپنی خواہشات پر قابو پا لے۔

    تصور کریں ایک ایسے پاکستان کا جہاں کالجوں کے باہر سگریٹ کے ٹکڑے نہیں بلکہ کتابوں کی خوشبو ہو۔ جہاں نوجوانوں کے ہاتھوں میں دھواں نہیں بلکہ ہنر ہو۔ جہاں سانس لینا بیماری نہیں، زندگی کی خوشی محسوس ہو۔ ایسا پاکستان صرف خواب نہیں، حقیقت بن سکتا ہے، اگر ہم آج سے آغاز کریں۔

    آئیے! ہم سب اپنے حصے کا چراغ جلائیں۔ اپنے دوستوں کو تمباکو سے دور رکھیں، اپنے گھروں کو دھوئیں سے محفوظ بنائیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو ایک صحت مند فضا تحفے میں دیں۔ کیونکہ جب نوجوان محفوظ ہوں گے تو قوم مضبوط ہوگی، اور جب سانسیں پاک ہوں گی تو پاکستان بھی پاکیزہ اور روشن ہوگا۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    تمباکو نوشی نہ صرف پینے والے کی صحت کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس کے اثرات معاشرے اور اس کے خاندان پر بھی مرتب ہوتے ہیں ۔

    تمباکو نوشی ایک ایسی خاموش تباہی ہے جو انسان کی صحت معیشت اور معاشرتی زندگی کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر رہی ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں افراد تمباکو کے استعمال کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ کروڑوں لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں تمباکو نوشی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ نوجوان نسل، طلبہ اور یہاں تک کہ کم عمر بچے بھی اس زہر کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں تمباکو سے پاک پاکستان صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ قومی ضرورت بن چکا ہے۔

    تمباکو نوشی انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ سگریٹ نسوار حقہ اور دیگر تمباکو مصنوعات پھیپھڑوں، دل، گردوں اور جگر کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو نوشی کینسر، دل کے امراض اور سانس کی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ نہ صرف تمباکو استعمال کرنے والا شخص متاثر ہوتا ہے ۔ گھروں میں بچےخواتین اور بزرگ اس دھوئیں کے سبب مختلف بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔پاکستان میں تمباکو نوشی کے بڑھتے رجحان کی ایک بڑی وجہ آگاہی کی کمی ہے۔ نوجوان اکثر دوستوں کی صحبت، فیشن یا ذہنی دباؤ کے باعث سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔ ابتدا میں یہ صرف شوق ہوتا ہے مگر بعد ازاں یہ ایک خطرناک نشہ بن جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں، بازاروں اور عوامی مقامات پر سگریٹ کی آسان دستیابی نوجوانوں کو اس طرف مائل کرتی ہے۔ اگر حکومت سخت قوانین نافذ کرے اور کم عمر بچوں کو تمباکو مصنوعات کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کرے تو اس مسئلے پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

    معاشی اعتبار سے بھی تمباکو نوشی ایک بڑا بوجھ ہے۔ ایک عام مزدور یا متوسط طبقے کا فرد روزانہ اپنی کمائی کا ایک حصہ سگریٹ پر خرچ کرتا ہے۔ اگر یہی رقم تعلیم، خوراک یا صحت پر خرچ کی جائے تو خاندان کی زندگی بہتر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب حکومت کو تمباکو سے حاصل ہونے والا ٹیکس وقتی فائدہ ضرور دیتا ہے مگر اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج پر کہیں زیادہ اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ہسپتالوں میں کینسر اور دل کے مریضوں کی بڑھتی تعداد اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے۔

    تمباکو نوشی کے خاتمے کے لیے صرف حکومت ہی نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں اس زہر کے نقصانات سے آگاہ کریں۔ اساتذہ تعلیمی اداروں میں شعور بیدار کریں جبکہ علماء کرام خطبات میں انسانی صحت کے تحفظ کی اہمیت اجاگر کریں۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ تمباکو کمپنیوں کے اشتہارات کی حوصلہ شکنی کرے اور عوامی آگاہی مہمات چلائے۔

    دنیا کے کئی ممالک نے تمباکو نوشی کے خلاف مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی، سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ اور تعلیمی مہمات کے ذریعے لاکھوں جانیں بچائی گئی ہیں۔ پاکستان میں بھی ایسے اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ ہر شہر، قصبے اور گاؤں میں انسداد تمباکو مہم شروع ہونی چاہیے تاکہ نوجوان نسل کو اس لعنت سے بچایا جا سکے۔ حقیقت بھی قابل غور ہے کہ ایک صحت مند قوم ہی ترقی کی ضامن ہوتی ہے۔ اگر ہماری نوجوان نسل بیماریوں کا شکار ہو جائے گی تو ملک کی ترقی کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکے گا۔ ہمیں اپنے بچوں کو صاف ماحول، بہتر صحت اور روشن مستقبل دینا ہوگا۔ “تمباکو سے پاک پاکستان” دراصل ایک صحت مند، خوشحال اور مضبوط پاکستان کی بنیاد ہے۔ ہم سب مل کر عہد کریں کہ نہ صرف خود تمباکو نوشی سے دور رہیں گے بلکہ دوسروں کو بھی اس کے نقصانات سے آگاہ کریں گے۔ ہر فرد اگر اپنی ذمہ داری محسوس کرے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان واقعی تمباکو سے پاک ملک بن جائے گا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ صحت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور اس نعمت کی حفاظت ہم سب پر فرض ہے۔ ہم سب مل کر ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھیں، ایسا پاکستان جہاں نوجوان صحت مند ہوں، فضاء صاف ہو اور ہر چہرے پر زندگی کی روشنی نظر آئے۔ یہی ایک کامیاب، ترقی یافتہ اور خوشحال قوم کی پہچان ہے۔

  • ‎ تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:شفق عابد

    ‎ تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:شفق عابد

    ‎آج کے دور میں تمباکو نوشی ایک خطرناک عادت بنتی جا رہی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ سگریٹ، گٹکا، نسوار اور شیشہ استعمال کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے شوق سمجھتے ہیں جبکہ کچھ لوگ دوستوں کی صحبت یا ذہنی پریشانی کی وجہ سے اس عادت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تمباکو نوشی انسان کی صحت، گھر اور پورے معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اسی لیے ہمیں ایک ایسے پاکستان کی ضرورت ہے جو تمباکو سے پاک ہو۔

    ‎تمباکو نوشی سب سے زیادہ انسانی صحت کو متاثر کرتی ہے۔ سگریٹ کے دھوئیں میں ایسے زہریلے مادے موجود ہوتے ہیں جو پھیپھڑوں اور دل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ مسلسل تمباکو استعمال کرنے والے افراد کو سانس کی تکلیف، کھانسی، دل کی بیماری اور کینسر جیسے خطرناک امراض لاحق ہو سکتے ہیں۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف سگریٹ پینے والا ہی متاثر ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے اردگرد بیٹھے لوگ بھی دھوئیں سے نقصان اٹھاتے ہیں۔ خاص طور پر بچے اور بوڑھے اس سے جلد متاثر ہوتے ہیں۔

    ‎پاکستان میں نوجوان نسل تیزی سے اس بری عادت کا شکار ہو رہی ہے۔ اکثر نوجوان صرف فیشن یا دوستوں کی نقل میں سگریٹ پینا شروع کر دیتے ہیں۔ شروع میں وہ اسے معمولی چیز سمجھتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ یہ عادت بن جاتی ہے۔ بعد میں اسے چھوڑنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلبہ کی تعلیم اور صحت دونوں متاثر ہوتی ہیں۔ ایک صحت مند نوجوان ہی ملک کا روشن مستقبل بن سکتا ہے، اس لیے نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے بچانا بہت ضروری ہے۔

    ‎تمباکو نوشی صرف صحت ہی نہیں بلکہ پیسے کا بھی ضیاع ہے۔ بہت سے لوگ روزانہ سگریٹ پر بڑی رقم خرچ کرتے ہیں۔ اگر یہی پیسہ تعلیم، خوراک یا کسی اچھے کام پر لگایا جائے تو انسان اپنی زندگی بہتر بنا سکتا ہے۔ غریب لوگ جب تمباکو پر پیسہ خرچ کرتے ہیں تو ان کے گھر کے دوسرے اخراجات متاثر ہوتے ہیں۔ اس طرح پورا خاندان مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔

    ‎تمباکو نوشی کے خلاف مہم چلانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر سخت پابندی لگائے۔ اسکولوں اور کالجوں کے قریب سگریٹ فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ سگریٹ کے اشتہارات کم کیے جائیں تاکہ نوجوان اس کی طرف راغب نہ ہوں۔

    ‎والدین اور اساتذہ بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں اچھی صحبت اختیار کرنے کی نصیحت کریں۔ اساتذہ کو اسکول میں طلبہ کو تمباکو نوشی کے نقصانات کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے۔ اگر بچپن سے ہی بچوں کو اس کے برے اثرات بتائے جائیں تو وہ اس عادت سے دور رہ سکتے ہیں۔

    ‎میڈیا بھی لوگوں میں شعور پیدا کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ ٹی وی، ریڈیو اور سوشل میڈیا پر ایسے پروگرام دکھائے جانے چاہییں جو لوگوں کو تمباکو نوشی کے نقصانات کے بارے میں بتائیں۔ جب لوگ اس کے نقصان کو سمجھیں گے تو وہ خود بھی اس سے بچنے کی کوشش کریں گے۔

    ‎اسلام بھی ہمیں ان چیزوں سے بچنے کا حکم دیتا ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہوں۔ تمباکو نوشی چونکہ انسان کی جان اور صحت کو نقصان پہنچاتی ہے، اس لیے ہمیں اس سے دور رہنا چاہیے۔ صحت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور ہمیں اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔

    ‎آخر میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو پاکستان کو تمباکو سے پاک بنایا جا سکتا ہے۔ ہمیں خود بھی اس بری عادت سے بچنا چاہیے اور دوسروں کو بھی اس سے دور رہنے کا مشورہ دینا چاہیے۔ ایک صحت مند قوم ہی ترقی کر سکتی ہے۔ اگر ہمارا پاکستان تمباکو سے پاک ہوگا تو ہمارے نوجوان زیادہ صحت مند، خوشحال اور کامیاب ہوں گے۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: عالیہ رمضان

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: عالیہ رمضان

    تمباکو نوشی اس دور کا ایک ایسا خطرناک ناسور ہے جو خاموشی کے ساتھ انسان کی صحت، خاندان کی خوشیوں اور پورے معاشرے کو تباہ کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں لوگ تمباکو نوشی کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ کروڑوں افراد مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کر اذیت بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں بھی سگریٹ، گٹکا، نسوار، شیشہ اور دیگر تمباکو مصنوعات کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ نوجوان نسل اس لت کا سب سے زیادہ شکار ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے مستقبل خطرے میں دکھائی دیتا ہے۔ اسی لیے “تمباکو سے پاک پاکستان” محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک قومی ضرورت ہے۔

    تمباکو نوشی ابتدا میں ایک عام عادت محسوس ہوتی ہے مگر آہستہ آہستہ یہ انسان کی زندگی پر مکمل قبضہ کر لیتی ہے۔ ایک شخص وقتی سکون یا دوستوں کی دیکھا دیکھی سگریٹ پینا شروع کرتا ہے، لیکن پھر یہی عادت اس کی مجبوری بن جاتی ہے۔ اکثر نوجوان یہ سوچتے ہیں کہ صرف ایک یا دو سگریٹ سے کچھ نہیں ہوگا، مگر یہی ایک قدم بعد میں خطرناک نشے میں بدل جاتا ہے۔ بہت سے لوگ ذہنی دباؤ، پریشانی، ناکامی یا تنہائی کے باعث تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ عادت مسائل کم نہیں بلکہ مزید بڑھا دیتی ہے۔

    سگریٹ کے دھوئیں میں ہزاروں زہریلے کیمیکل شامل ہوتے ہیں۔ یہ کیمیکل انسانی جسم کے مختلف اعضا کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ پھیپھڑوں کا کینسر، دل کے امراض، سانس کی تکلیف، دمہ، فالج، ہائی بلڈ پریشر اور گردوں کی بیماریاں تمباکو نوشی کے عام نتائج ہیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق تمباکو نوشی انسان کی قوتِ مدافعت کو کمزور کر دیتی ہے، جس کی وجہ سے جسم بیماریوں کا آسان شکار بن جاتا ہے۔ صرف تمباکو استعمال کرنے والا شخص ہی متاثر نہیں ہوتا بلکہ اس کے اردگرد موجود افراد بھی دھوئیں سے متاثر ہوتے ہیں۔ اسے “پیسو اسموکنگ” کہا جاتا ہے۔ ایک باپ اگر گھر میں سگریٹ پیتا ہے تو اس کے بچے اور اہلِ خانہ بھی انہی بیماریوں کے خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔

    پاکستان میں نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے بڑھتے رجحان کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ بری صحبت ہے۔ نوجوان اکثر دوستوں کے دباؤ میں آ کر سگریٹ پینا شروع کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات فلموں، ڈراموں اور سوشل میڈیا پر سگریٹ نوشی کو ایک فیشن یا اسٹیٹس سمبل کے طور پر دکھایا جاتا ہے، جس سے نوجوان متاثر ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ خود کو جدید یا بہادر ثابت کرنے کے لیے بھی تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ یہ ایک افسوسناک سوچ ہے کیونکہ حقیقت میں سگریٹ انسان کو کمزور، بیمار اور دوسروں کا محتاج بنا دیتا ہے۔

    تمباکو نوشی صرف صحت کے لیے ہی نقصان دہ نہیں بلکہ یہ معاشی مسائل بھی پیدا کرتی ہے۔ ایک غریب مزدور جو دن بھر محنت کرکے چند روپے کماتا ہے، اگر انہی پیسوں کا کچھ حصہ سگریٹ پر خرچ کرے تو اس کے گھر کے اخراجات متاثر ہوتے ہیں۔ وہ رقم جو بچوں کی تعلیم، دوائی یا کھانے پر خرچ ہونی چاہیے، دھوئیں میں اڑا دی جاتی ہے۔ اسی طرح حکومت کو بھی تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج پر اربوں روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ اسپتالوں میں کینسر اور دل کے مریضوں کی بڑی تعداد تمباکو نوشی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس طرح یہ بری عادت فرد کے ساتھ ساتھ پورے ملک کی ترقی کو نقصان پہنچاتی ہے۔

    اسلام نے بھی ہر اس چیز سے منع کیا ہے جو انسانی صحت اور زندگی کے لیے نقصان دہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو صحت ایک نعمت کے طور پر عطا کی ہے اور اس نعمت کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ تمباکو نوشی چونکہ جسم کو تباہ کرتی ہے، اس لیے یہ ایک نقصان دہ عمل ہے۔ علما کرام بھی اس کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں اور نوجوانوں کو اس بری عادت سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ایک باشعور مسلمان کبھی ایسا عمل نہیں کرے گا جو اس کی جان اور دوسروں کی صحت کے لیے نقصان کا باعث بنے۔

    تمباکو سے پاک پاکستان بنانے کے لیے صرف حکومت ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں اچھی تربیت دیں۔ اگر بچپن سے بچوں کو تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے تو وہ مستقبل میں اس عادت سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں خصوصی آگاہی پروگرام منعقد کیے جائیں تاکہ طلبہ میں شعور بیدار ہو۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ نوجوان نسل کی درست رہنمائی کریں اور انہیں صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔

    میڈیا بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ڈراموں اور فلموں میں سگریٹ نوشی کو فیشن کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اس کے نقصانات دکھائے جائیں۔ سوشل میڈیا پر آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ نوجوان حقیقت کو سمجھ سکیں۔ اسی طرح حکومت کو عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر سخت پابندی عائد کرنی چاہیے۔ کم عمر بچوں کو سگریٹ فروخت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ سگریٹ کے پیکٹوں پر خوفناک تصاویر اور وارننگز کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگ اس زہر سے دور رہیں۔

    جو افراد تمباکو نوشی چھوڑنا چاہتے ہیں انہیں بھی حوصلہ افزائی اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاندان اور دوست اگر ان کا ساتھ دیں تو وہ اس عادت سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ کھیل، ورزش، مطالعہ اور مثبت سرگرمیاں انسان کو بری عادتوں سے دور رکھتی ہیں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی صحت، خوابوں اور مستقبل کو ترجیح دیں، کیونکہ ایک صحت مند جسم ہی کامیاب زندگی کی بنیاد ہوتا ہے۔

    آئیے ہم سب مل کر اس مہم کا حصہ بنیں اور اپنے وطن کو ایک صحت مند، خوشحال اور روشن پاکستان بنائیں۔ اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری محسوس کرے اور تمباکو نوشی کے خلاف آواز بلند کرے تو وہ دن ضرور آئے گا جب ہمارا پیارا وطن حقیقت میں “تمباکو سے پاک پاکستان” کہلائے گا۔

  • تحصیل چونیاں کے شہری صاف پانی جیسے بنیادی انسانی حق سے محروم کیوں؟تحریر: میاں عدیل اشرف

    تحصیل چونیاں کے شہری صاف پانی جیسے بنیادی انسانی حق سے محروم کیوں؟تحریر: میاں عدیل اشرف

    "جو ووٹ کی خاطر گلیوں میں دستک دینے آتے ہیں
    وہ پیاسی عوام کو سسکتا چھوڑ کر غائب ہو جاتے ہیں
    سرکاری پائپوں سے اب پانی نہیں، بیماری بہتی ہے
    یہ کیسے حکمران ہیں جو عوام کو صاف پانی تک نہیں دے پاتے..!۔”

    ایک لاکھ سے زائد کی آبادی پر مشتمل تحصیل کا درجہ رکھنے والا شہرِ چونیاں جو ایک پرانی تاریخ کا حامل قدیمی شہر ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ پورا شہر آج پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی ترین انسانی ضرورت سے بھی محروم ہو چکا ہے۔ جہاں دیگر ممالک میں صاف پانی کی فراہمی ریاست کی پہلی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے، وہی پاکستان میں شہری آج بھی کئی شہروں اور دیہات میں اس نعمت سے محروم ہیں۔ چونیاں، الہ آباد، کنگن پور اور چھانگا مانگا کے عوام کے لیے یہ بنیادی انسانی ضرورت ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔ چونیاں شہر کا زیرِ زمین پانی قدرتی طور پر کھارا یعنی نمکین ہے، جس کا واحد حل واٹر فلٹریشن پلانٹس یا منظم واٹر سپلائی سسٹم تھا۔ مگر افسوس! یہاں فلٹریشن پلانٹس نہ ہونے کے برابر ہیں اور جو گنتی کے چند فلٹریشن پلانٹس موجود ہیں، وہ انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔ رہی سہی کسر واٹر سپلائی کے ناقص نظام نے پوری کر دی ہے، چونیاں شہر میں بچھائی گیی واٹر سپلائی کی پائپ لائنیں جگہ جگہ سے لیک ہو چکی ہیں۔ نالیوں کا گندا اور بدبودار پانی ان لیکجز کے ذریعے واٹر سپلائی لائنوں میں شامل ہو کر شہریوں کے گھروں تک پہنچ رہا ہے۔ شہری اس گندے اور زہر آلود پانی کو پینے پر مجبور ہیں اور جو لوگ یہ پانی پی رہے ہیں، وہ ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس، گردوں اور معدے جیسی دیگر موذی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ کیونکہ میڈیکل سائنس کے مطابق آدھی سے زیادہ انسانی بیماریوں کی جڑ آلودہ پانی کا استعمال ہے، اور چونیاں کی عوام کو دانستہ طور پر اس دلدل میں سرعام بے فکر ہو کر دھکیلا جا رہا ہے۔

    اس مجرمانہ غفلت کے اصل ذمہ دار وہ عوامی نمائندے، اسمبلی ممبرز اور سول سوسائٹی کے نام نہاد لیڈران ہیں جو الیکشن کے دنوں میں چونیاں، الہ آباد، چھانگامانگا اور کنگن پور کی گلیوں میں ووٹ کی بھیک مانگنے آتے ہیں۔ چاہے کسی بھی سیاسی جماعت کا ایم این اے (MNA) ہو یا ایم پی اے (MPA)، ووٹ لے کر اسمبلی کے ایوانوں تک پہنچنے کے بعد ان سب کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ انہوں نے آج تک چونیاں کی پیاسی عوام کے اس سنگین مسئلے پر اسمبلی کے فلور پر آواز اٹھانا تو دور، کبھی مقامی سطح پر بھی اس کے حل کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا۔ ان عوامی نمائندوں کی ترجیحات میں عوام کی صحت نہیں، بلکہ اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات ہیں۔ ضلعی اور تحصیل انتظامیہ کی حالت یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر سے لے کر اسسٹنٹ کمشنر اور میونسیپل کمیٹی کے افسران تک، سب ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ شہریوں اس مسلئے پر ہونے ولے متعدد احتجاج، سوشل میڈیا پر اٹھتی آوازیں اور میڈیا رپورٹس ان خاموش تماشائیوں کو جگانے میں ناکام رہی ہیں۔ عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے اور مٹھی بھر بیوروکریسی پورے علاقے کے مستقبل سے کھیل رہی ہے۔

    جب ایک لاکھ سے زائد آبادی والا مرکزی شہر چونیاں اس بنیادی ترین سہولت کے حق سے محروم ہے، تو الہ آباد، کنگن پور، چھانگا مانگا اور ان سے ملحقہ سینکڑوں دیہاتوں کا تو کوئی نام لینے والا ہی نہیں ہے۔ ان دیہی علاقوں اور قصبوں میں رہنے والے لاکھوں انسانوں کو تو شاید حکومت انسان ہی نہیں سمجھتی۔ وہاں کے لوگ آج بھی دور دراز سے پانی بھر کر لانے پر مجبور ہیں یا پھر زیادہ ٹی ڈی ایس کا حامل گندا پانی پی کر اپنے بچوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔ اگر ہم عالمی سطح پر ترقی کا جائزہ لیں تو دنیا کے پسماندہ ترین ممالک میں بھی پینے کا صاف پانی ریاست بلا معاوضہ فراہم کرتی ہے۔ لیکن پاکستان میں جدید دور کے دعووں کے باوجود، پاکستان بھر میں زیر زمین پانی ہونے کے باوجود تمام شہر پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں۔ یہ اس نظام کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ آخر اس بدترین مسئلے کا ذمہ دار کون ہے؟ کس نے اس مسئلے کو حل کرنا ہے اور کب تک چونیاں اور اس کے گردونواح کے لوگ یہ زہر پی کر بیمار ہوتے رہیں گے؟ اگر عوام اپنے کسی بھی حق تلفی پر روڈ بلاک یا احتجاج کرے تو ان پر ایف آئی آر درج کر دی جاتی ہیں۔ اور ریاست اپنی ذمہ داریاں بھول چکی ہے تو عوام جائے تو کہاں جائے۔

    چونیاں شہر کا پانی تو مکمل طور پر کھارا یعنی نمکین ہونے کی بنا پر پینے لائق ہی نہیں۔ لیکن تحصیل بھر کے شہروں اور متعدد گاؤں دیہات میں جا کر جب ٹی ڈی ایس میٹر سے پانی چیک کیا گیا تو وہاں بھی پانی کے ٹی ڈی ایس 400 سے 600 تک آ رہے ہیں، جو انسانی جانوں کے لیے نقصان دہ پانی ہے۔ چونیاں تحصیل بھرکی تقریباً 9 لاکھ سے زائد لوگوں پر مشتمل آبادی آج صاف پانی جیسی عظیم نعمت سے مزید محروم ہوتی جا رہی ہے۔
    شہریوں نے نہ صرف حکومتِ پاکستان سے بلکہ عالمی اداروں سے بھی مطالبہ کیا ہے وہ یہاں اپنی ٹیمیں بھیجیں اور پانی چیک کریں۔ انہوں نے خاص طور پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) اور یونیسف (UNICEF) جیسی بین الاقوامی تنظیموں سے پرزور اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چونیاں میں پینے کے پانی کے اس سنگین انسانی بحران کا نوٹس لیں۔ ان عالمی اداروں کو یہاں آ کر پانی کے نمونے ٹیسٹ کرنے چاہئیں تاکہ دنیا دیکھے کہ کیسے شہریوں کو بنیادی حق سے محروم کر کے "سلو پوائزن” پلایا جا رہا ہے۔ حکومتِ پنجاب، وزیرِ اعلیٰ مریم نواز اور سیکرٹری پبلک ہیلتھ سے شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ چونیاں کی واٹر سپلائی لائنوں کو ہنگامی بنیادوں پر تبدیل کیا جائے، بند فلٹریشن پلانٹس کو چالو کر کے مزید نئے پلانٹس لگائے جائیں اور الہ آباد، کنگن پور اور چھانگا مانگا کے لیے بھی فوری طور پر کلین واٹر اسکیمیں شروع کی جائیں۔ اگر پبلک ہیلتھ اور مقامی انتظامیہ یہ بنیادی ترقیاتی کام نہیں کر سکتی، تو تحصیل اور ضلعی لیول پر تعینات تمام ناکارہ عملے کو فارغ کیا جائے تاکہ عوام کا پیسہ ان افسران کی عیاشیوں اور تنخواہوں پر ضائع ہونے کے بجائے مقامی واٹر اسکیموں پر لگے۔ چونیاں کے شہریوں کو صاف پانی فراہم کر کے ان کی زندگیوں کو بچانا اب ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، پانی کی فراہمی نہ صرف ریاست کی ذمہ داری ہے بلکہ ہر شہری کی بنیادی ضرورت اور حق ہے۔ عوام سے ان کا کوئی بھی حق چھیننا یا فراہم نہ کرنا ریاست کو ظالم بناتا ہے۔

  • بیوروکریسی کو داغدار کرتے ٹک ٹاکر افسران،تحریر:ملک سلمان

    بیوروکریسی کو داغدار کرتے ٹک ٹاکر افسران،تحریر:ملک سلمان

    وزیر اعظم شہباز شریف نے میرے کالمز پر ایکشن لیتے ہوئے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن پر پابندی کا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا حکم دیا۔

    وزیراعظم کے احکامات پر گذشتہ ماہ سول سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 2026 میں بہت واضح انداز میں سرکاری ملازمین کی سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن اور صحافتی سرگرمیوں پر پابندی کا Statutory Regulatory Order جاری کردیا گیا۔
    اس مشن امپاسیبل کو پاسیبل کرنے کا کریڈٹ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان اور وفاقی سیکرٹریز کو جاتا ہے جنہوں نے سول سروس کی بے توقیری کو روکنے کیلئے سخت قوانین کے فوری اطلاق کی بھرپور حمایت کی۔
    بیوروکریسی کے سنئیر افسران کو یقین کامل ہے کہ سیکرٹری اسٹیبشمنٹ نبیل اعوان جیسے بااصول افیسر کی موجودگی میں سیلف پروجیکشن اور اختیارات سے تجاوز کرنے والے افسران کا احتساب ضرور ہوگا۔ سنئیر کالم نویس محسن گورائیہ کا کہنا تھا کہ بہت جلد سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نا صرف قانون شکن ٹک ٹاکر افسران کے خلاف سخت کاروائی کریں گے بلکہ روٹیشن پالیسی کے تحت کئی سال سے ایک ہی صوبے اور وفاق میں تعیناتی کی بہاریں لوٹنے والوں کو بھی صوبہ بدر کریں گے۔

    کوئی بھی سرکاری افسر ذاتی سوشل میڈیا پیج یا اکاؤنٹ پر وردی، سرکاری دفتر اور آفیشل گاڑی سمیت سرکاری سرگرمیاں نہیں شئیر کرسکتا نہ ہی موٹیویشنل سپیکر اور رہمنائی کا ٹھیکیدار بن سکتا ہے۔ تمام سرکاری سرگرمیاں سرکاری پیج پر ہی شئیر کی جاسکتی ہیں، ذاتی ناموں سے قائم کردہ پیجز اور اکاؤنٹس پر سرکاری سرگرمیاں لگانا ناصرف غیر قانونی ہے بلکہ انتہائی تھڑی ہوئی اور واحیات حرکت ہے۔ سرکاری پیجز پر اگاہی پیغامات والی پوسٹ میں سرکاری افسران کی تصاویر لگانا بھی شہرت کی بھوک کیلیے ہلکان ہونے کے مترادف ہے۔ آسان سا طریقہ ہے کہ ضلعی انظامیہ، کمشنر، آرپی او آفس یا جو بھی متعلقہ آفس ہے اس کا نام لکھا جائے نہ کہ عزت ماب جانب فلاں صاحب مع تصاویر۔

    عجیب بیہودگی ہے کہ فلاں افسر کی ہدایات،فلاں افسر کی پالیسی کے تحت فلاں افسر نے عوام کیلئے یہ ریلیف پہنچانے کا حکم صادر کیا۔ بھائی تم ہو کون ہدایات دینے والے؟ بیوروکریٹ اور سرکاری افسران پالیسی میکرز نہیں ہیں۔پالیسی میکرز پارلیمینٹرین ہوتا ہے نہ کہ سرکاری ملازم۔

    وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ منتخب عوامی نمائندے اور وسائل کے امین ہیں تمام تر مثبت تشہیر کا حق صرف عوامی نمائندوں کا ہے نہ کہ سرکاری ملازمین۔

    چیف سیکرٹری پنجاب ناجانے کس مصلحت کی وجہ سے پنجاب کو بنانا ریپبک بنانے والے ٹک ٹاکر افسران کے خلاف کاروائی سے گریزاں ہیں۔ چیف سیکرٹری کی ٹک ٹاکر افسران کی خلاف کاروائی نہ کرنے کا نتیجہ ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے تمام اچھے کاموں کا کریڈیٹ افسران خود لیتے ہیں جبکہ ناکامی کا ملبہ وزیراعلیٰ پر ڈال دیا جاتا ہے۔

    انہی حرکات کی وجہ سے آج بیوروکریسی گالی بن چکی ہے پاکستان کا ہر بچہ جوان اور بوڑھا بیوروکریسی سے نفرت کرنے لگا ہے بیوروکریسی کو وسائل پر قابض غندہ، بدمعاش اور لعین سمجھتا ہے۔گاڑی، ڈالے، دفاتر اور وردی پبلک سروس کیلئے ہے ناکہ تمہاری عیاشیوں اور سیلف پروجیکشن کیلئے۔عوام کے پیسے سے عوامی فلاح و بہبود کی بجائے افسران کی ذاتی پروجیکشن اختیارات سے تجاوز کی بدترین مثال ہے۔ایکٹنگ اور ماڈلنگ کی بات کی جائے تو ستھرا پنجاب کے ورکر سے لیکر ڈی سی اور کمشنر تک سپاہی سے لیکر ڈی پی او اور ایڈیشنل آئی جی تک وردی گاڑی اور کرسی کا فرق نہ ہو تو ایک جیسے آوارہ لونڈے لپاڑے لگتے ہیں۔اے سی، ڈی سی اور ڈی پی او تو ابھی بچے ہیں وہ شودے پن کی جہالت کا مظاہرہ کریں تو اتنی حیرت نہیں ہوتی لیکن جب کمشنر اور ڈی آئی جی لیول کے افسران سیلف پروجیکشن جیسی چھچھوری حرکتیں کرنے لگ جائیں تو پھر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

    پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس کے سنئیر افسران قابل تعریف ہیں جو سیلف پروجیکشن والی اس بے حیائی، بے غیرتی اور گھٹیاپن کے راستے سے اعلان لاتعلقی کرکے افسری کی Grace اور تقدس قائم رکھے ہوئے ہیں۔ ماضی میں خوش لباسی اور اخلاقی اقدار بیوروکریسی کی پہچان ہوتی تھی اس لیے آج بھی لوگ سنئیر افسران کا احترام کرتے ہیں جبکہ موجودہ اے سی، ڈی سی نیکر شرٹ پہن کر گرلز سکول اور نرسنگ ہاسٹل وزٹ کرتے ہیں،خواتین کے سکول کالج وزٹ کے بہانے تلاشتے ہیں جبکہ آئے روز شہریوں سے بدتمیزی کی ویڈیوز وائرل ہوتی رہتی ہیں۔

    مجھے حیرانگی ہے ان ٹک ٹاکر افسران پر جنہوں نے افسری کی عزت کی بجائے لچوں اور لفنگوں والا ٹک ٹاکری کا راستہ اپنایا۔
    قانون شکنو تم نے سوشل میڈیا پر دفاتر کھول لیے ؟
    بے شرمو تمہیں کسی قانون کا ڈر نہیں؟
    او ظالمو تم اس قدر فسطائیت پرست ہوچکے ہو کہ اپنی ٹک ٹاک ویڈیو کے لیے عوام کی پرائیویسی خراب کر رہے ہو؟
    جناب سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ان ٹک ٹاکرز پر سول سرونٹ ایفیشینسی رولز اور پیڈا ایکٹ کی خلاف ورزی کی کاروائی کریں عوام کی پرائیویسی خراب کرنے پر پیکا ایکٹ کا پرچہ کٹوائیں۔
    اس میں کچھ شک نہیں کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور کے مترادف سرکاری افسران اپنی کرپشن، نااہلی اور تمام قانون شکن اقدامات کو چھپانے کیلئے سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کا سہارا لیتے ہیں۔ جب سے سرکاری افسران نے سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کا دھندہ شروع کیا ہے کارگردگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔
    پولیس اور دیگر افسران سوشل میڈیا پر کارگردگی دکھانے کیلئے جعلی اور پلانٹنڈ ویڈیو شوٹنگ میں مصروف ہوتے ہیں۔بیوروکریسی کے عزت دار افسران ناصرف سیلف پروجیکشن کے شدید خلاف ہیں بلکہ خود بھی ٹک ٹاکر افسران کو لعین سمجھتے ہیں۔بیوروکریسی اور سرکاری افسران نے سوشل میڈیا کو جس طرح Misuse بلکہ Abuse کیا ہے اس کی سنگینی کو سامنے رکھتے ہوئے چند افسران کو نوکریوں سے فارغ اور عہدوں سے ہٹانا ناگزیر ہے تاکہ باقی سب کو واضح پیغام دیا جائے کہ تمہارا کام عوامی خدمت اور سرکاری امور کی بروقت ادائیگی ہے نہ کہ سوشل میڈیا پر اینکرنگ اور ماڈلنگ کرکے ”افسری“ کو داغدار کرنا۔
    سرکاری ملازمین کو واضح حکم نامہ جاری کیا جانا چاہئے کہ اگر تم نے ایکٹنگ کرنی ہے تو تمہارے لیے سرکاری ملازمت کی کوئی جگہ نہیں۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • پاکستان نیوی کی توسیع پذیر ساحلی دفاعی حکمتِ عملی: 300 کلومیٹر سے 500 کلومیٹر تک بحری دفاعی حصار،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    پاکستان نیوی کی توسیع پذیر ساحلی دفاعی حکمتِ عملی: 300 کلومیٹر سے 500 کلومیٹر تک بحری دفاعی حصار،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    میجر (ر) ہارون رشید،
    دفاعی و اسٹریٹیجک تجزیہ کار، جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، دفاعی جدیدکاری اور بازدارانہ حکمتِ عملی کے ماہر، نیز ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن

    بحیرۂ عرب کا تزویراتی ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ بحرِ ہند کے خطے (IOR) میں بڑھتی ہوئی بحری رقابت، بھارت کی بلیو واٹر نیوی کی توسیع پسندانہ خواہشات، اور سمندر سے حاصل ہونے والی بازدارانہ صلاحیت کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے پاکستان نیوی کو اپنی بحری دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان پیش رفتوں میں سب سے اہم مگر نسبتاً کم زیرِ بحث موضوع پاکستان کے ساحلی دفاعی راکٹ اور میزائل نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن ہے، جسے غیر رسمی طور پر “منی نیول راکٹ فورس” بھی کہا جاتا ہے۔

    دفاعی حلقوں اور علاقائی عسکری تجزیوں کے مطابق پاکستان اپنی ساحلی دفاعی رسائی کو تقریباً 300 کلومیٹر سے بڑھا کر 500 کلومیٹر تک لے جانے کی سمت میں پیش رفت کر رہا ہے۔ یہ تبدیلی انتہائی اہم ہے کیونکہ اس سے شمالی بحیرۂ عرب میں بحری جنگ کے عملی خدوخال تبدیل ہو سکتے ہیں۔

    پاکستان کے ساحلی دفاعی نظریے کا ارتقا*
    تاریخی طور پر پاکستان کی بحری حکمتِ عملی مہنگی طاقت کے اظہار (Power Projection) کے بجائے دفاعی نوعیت کے “Sea Denial” پر مبنی رہی ہے۔ بھارتی بحریہ کے مقابلے میں وسائل اور بجٹ کی محدودیت کے باعث پاکستان نے درج ذیل شعبوں پر سرمایہ کاری کی:

    * تیز رفتار حملہ آور کشتیاں
    * اینٹی شپ میزائل سسٹمز
    * آبدوزی جنگی صلاحیت
    * ساحلی میزائل بیٹریاں
    * بحری نگرانی اور انٹیگریٹڈ سرویلنس

    اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد ہمیشہ یہ رہا کہ دشمن بحری افواج کو پاکستان کے ساحل اور اہم بحری تنصیبات کے قریب آزادانہ کارروائی سے روکا جائے۔

    اس نظریے کی اہمیت مزید بڑھ گئی جب
    * بھارت نے اپنے کیریئر بیٹل گروپس میں اضافہ کیا،
    * طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والے بحری طیارے تعینات کیے،
    * براہموس میزائل کو بحری پلیٹ فارمز میں شامل کیا،
    * اور بحرِ ہند میں بھارت اور امریکہ کے بحری تعاون میں اضافہ ہوا۔

    نتیجتاً پاکستان کو ایک ایسی کثیر پرت (Layered) اینٹی ایکسس/ایریا ڈینائل (A2/AD) صلاحیت کی ضرورت محسوس ہوئی جو دشمن بحری بیڑوں کے لیے بھاری قیمت کا باعث بن سکے۔

    300 کلومیٹر سے 500 کلومیٹر: اس کی اہمیت کیا ہے؟
    ساحلی حملہ آور صلاحیت کو 500 کلومیٹر تک بڑھانا جنگی ماحول کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیتا ہے۔
    300 کلومیٹر کی حد تک ساحلی دفاع بنیادی طور پر تحفظ فراہم کرتا ہے
    * کراچی کے بحری راستوں کو،
    * گوادر کے قریب سمندری علاقوں کو،
    * اہم بندرگاہوں کو،
    * اور ساحل کے قریب موجود بحری اثاثوں کو۔

    جبکہ 500 کلومیٹر کی رسائی پاکستان کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ
    * دشمن جہازوں کو بحیرۂ عرب کے زیادہ اندر تک نشانہ بنایا جا سکے،
    * بحری بازدارانہ صلاحیت میں اضافہ ہو،
    * میزائل انگیجمنٹ زونز ایک دوسرے سے جڑ جائیں،
    * سمندری تجارتی راستوں کا بہتر تحفظ ممکن ہو،
    * اور دشمن کے کیریئر گروپس کی کارروائیاں پیچیدہ بن جائیں۔

    عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ دشمن بحری کمانڈروں کو پاکستان کی سمندری حدود کے قریب پہنچنے سے بہت پہلے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی شپ میزائلوں کے خطرے کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

    جدید بحری جنگ میں انضمام
    جدید بحری جنگ صرف پلیٹ فارمز کی جنگ نہیں رہی بلکہ اب یہ نیٹ ورک سینٹرک جنگ بن چکی ہے۔ آج کے ساحلی میزائل سسٹمز انحصار کرتے ہیں
    * اوور دی ہورائزن ٹارگٹنگ پر،
    * سیٹلائٹس پر،
    * میری ٹائم پیٹرول طیاروں پر،
    * ڈرونز پر،
    * الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز پر،
    * اور ریئل ٹائم ڈیٹا فیوژن پر۔

    دفاعی ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون غالباً پاکستان کی مدد کر رہا ہے:
    * ہدف کے حصول میں،
    * میزائل رہنمائی کے نظام میں،
    * ساحلی ریڈار نیٹ ورکنگ میں،
    * اور مربوط بحری نگرانی میں۔

    ممکنہ مقصد ایک ایسا مربوط “Kill Chain” تشکیل دینا ہے جو درج ذیل اجزاء کو آپس میں جوڑ دے:
    1. بحری نگرانی کے ذرائع
    2. ساحلی کمانڈ مراکز
    3. میزائل لانچ بیٹریاں
    4. بحری فضائیہ
    5. آبدوزی قوت

    اس قسم کا انضمام حملہ آور صلاحیت اور بقا دونوں میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔

    “منی نیول راکٹ فورس” کا تصور
    اگرچہ “منی نیول راکٹ فورس” کوئی سرکاری اصطلاح نہیں، لیکن تزویراتی اعتبار سے یہ ایک اہم تصور ہے۔ یہ ساحلی دفاع کے روایتی جامد نظام سے نکل کر ایک متحرک، نیٹ ورکڈ اور درست نشانہ لگانے والی قوت میں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔

    اس میں شامل ہو سکتے ہیں:
    * ٹرک پر نصب اینٹی شپ میزائل لانچرز،
    * طویل فاصلے تک مار کرنے والی ساحلی راکٹ آرٹلری،
    * موبائل کمانڈ گاڑیاں،
    * دھوکہ دہی (Decoy) سسٹمز،
    * اور تیز رفتار مقام کی تبدیلی کی صلاحیت۔

    متحرک لانچر اس لیے اہم ہیں کیونکہ مستقل ساحلی تنصیبات پیشگی فضائی یا میزائل حملوں کا آسان ہدف بن سکتی ہیں۔

    یہ تصور ان نظریات سے مشابہت رکھتا ہے جو
    * چین،
    * ایران،
    * اور دیگر چھوٹی بحری ریاستیں
    غیر متناسب بازدارانہ حکمتِ عملی کے طور پر اپناتی جا رہی ہیں۔

    بحیرۂ عرب پر تزویراتی اثرات
    500 کلومیٹر تک مؤثر ساحلی دفاعی صلاحیت کے کئی اہم نتائج ہو سکتے ہیں:
    1۔ گوادر کا بہتر تحفظ
    گوادر بندرگاہ پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کا ایک اہم ستون ہے۔ وسیع میزائل کوریج سے تحفظ ملے گا:
    * تجارتی جہاز رانی کو،
    * توانائی کی سپلائی لائنز کو،
    * بحری لاجسٹکس کو،
    * اور مستقبل کی بحری تنصیبات کو۔

    2۔ کیریئر بیٹل گروپس کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ
    طیارہ بردار بحری جہاز محفوظ فاصلے سے کارروائی پر انحصار کرتے ہیں۔ طویل فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی شپ میزائل ان کی آپریشنل منصوبہ بندی کو زیادہ پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔

    3۔ دوسری جوابی ضرب (Second Strike) کے ماحول کو مضبوطی
    پاکستان کی بحری بازدارانہ حکمتِ عملی بتدریج ایسی صلاحیتوں کی جانب بڑھ رہی ہے جو دوسری جوابی ضرب کی بقا کو یقینی بنائیں۔ ساحلی دفاعی نظام بحری اثاثوں اور سمندر میں موجود بازدارانہ قوت کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

    4۔ کم لاگت میں مؤثر غیر متناسب دفاع
    طیارہ بردار بحری جہازوں کی تعمیر اور دیکھ بھال انتہائی مہنگی ہے، جبکہ ساحلی میزائل سسٹمز نسبتاً کم لاگت میں بڑی بحری طاقتوں کے خلاف مؤثر بازدارانہ صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔

    پاکستان کو درپیش چیلنجز
    ترقی کے باوجود کئی چیلنجز باقی ہیں
    * انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی (ISR) میں خلا،
    * بیرونی ٹیکنالوجی پر انحصار،
    * سیٹلائٹ صلاحیتوں کی محدودیت،
    * الیکٹرانک وارفیئر کے خطرات،
    * اور مقامی میزائل پیداوار کی محدود گہرائی۔

    صرف میزائل کی رینج بڑھا دینا کافی نہیں، جب تک:
    * قابلِ اعتماد ٹارگٹنگ سسٹمز،
    * محفوظ مواصلاتی نظام،
    * اور جنگی حالات میں مضبوط کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچہ
    موجود نہ ہو۔

    وسیع علاقائی تناظر

    بحرِ ہند تیزی سے عسکری نوعیت اختیار کر رہا ہے۔ اس خطے میں:
    * بھارت،
    * چین،
    * امریکہ،
    * اور خلیجی بحری قوتوں
    کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت علاقائی بحری نظریات کو نئی شکل دے رہی ہے۔

    اس ماحول میں پاکستان کی بحری جدیدکاری محض دفاعی اقدام نہیں بلکہ بحیرۂ عرب میں تزویراتی توازن برقرار رکھنے کی ایک وسیع کوشش کا حصہ ہے۔

    نتیجہ
    پاکستان کی جانب سے ساحلی دفاعی رسائی کو 300 کلومیٹر سے بڑھا کر 500 کلومیٹر تک لے جانے کی کوشش بحری بازدارانہ حکمتِ عملی میں ایک بڑی پیش رفت کی نمائندگی کرتی ہے۔ ساحلی میزائل فورسز کی جدیدکاری، نگرانی کے مربوط نظام، اور متحرک اینٹی شپ حملہ آور صلاحیتوں کی ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نیوی اکیسویں صدی کی بحری جنگ کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہے۔

    بڑی بحری طاقتوں سے روایتی انداز میں مقابلہ کرنے کے بجائے پاکستان اپنی غیر متناسب بحری حکمتِ عملی کو مزید مؤثر بنا رہا ہے، جس کا مرکز سمندری انکار (Sea Denial)، بقا (Survivability) اور درست نشانہ لگانے کی صلاحیت ہے۔

    اگر یہ تمام صلاحیتیں ایک جامع A2/AD نظام میں مؤثر طور پر ضم کر دی جائیں تو یہ جدید ساحلی دفاعی نیٹ ورک شمالی بحیرۂ عرب میں آپریشنل توازن کو نمایاں طور پر متاثر کر سکتا ہے اور آنے والے برسوں میں پاکستان کی بحری تزویراتی پوزیشن کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔

  • محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان ،تحریر: بینا علی

    محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان ،تحریر: بینا علی

    ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے!!
    بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا!!

    عظیم انسان روز روز پیدا نہیں ہوتے؛ ایسے افراد کے لیے تاریخ کو مدتوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ محسنِ پاکستان، ڈاکٹر عبد القدیر خان بھی انہی عظیم شخصیات میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنی بے مثال ذہانت، محنت اور حب الوطنی سے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔
    آپ ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد 1947ء میں اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آئے اور یہاں نئی زندگی کا آغاز کیا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے یورپ کا رخ کیا جہاں آپ نے فزکس کے میدان میں اپنی علمی قابلیت کا لوہا منوایا۔ بعد ازاں آپ نے یورپ میں ہی ملازمت شروع کر دی جہاں جدید سائنسی علوم خصوصاً ایٹمی ٹیکنالوجی کے میدان میں مہارت حاصل کی۔جب بھارت نے ایٹمی تجربات کیے تو آپ یورپ ہی میں مقیم تھے، مگر وطنِ عزیز کی سلامتی آپ کے دل کے نہایت قریب تھی۔ آپ نے فوراً پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کیا تاکہ ملک کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا جا سکے۔ حکومتِ پاکستان نے آپ کی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر ممکن وسائل فراہم کیے۔ آپ کی شبانہ روز محنت، عزمِ صمیم اور انتھک جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان نے مختصر عرصے میں ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی۔

    بالآخر 28 مئی 1998ء کو چاغی کے مقام پر کامیاب ایٹمی دھماکے کیے گئے، جس کے ساتھ ہی پاکستان دنیا کی ایٹمی طاقتوں میں شامل ہو گیا۔ یہ دن پاکستان کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا گیا اور اسے یومِ تکبیر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
    ڈاکٹر عبد القدیر خان نہ صرف ایک عظیم سائنس دان تھے بلکہ ایک سچے محبِ وطن بھی تھے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ خلوصِ نیت، محنت اور عزم کے ساتھ کوئی بھی مشکل ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ آج بھی قوم ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور انہیں ہمیشہ فخر و احترام کے ساتھ یاد کرتی رہے گی۔