Baaghi TV

Category: متفرق

  • پردیس کی زندگی . تحریر: ثاقب محمود ستی

    پردیس کی زندگی . تحریر: ثاقب محمود ستی

    اپنوں سے بہت دور پردیس کی زندگی کتنی مشکل ہے وہی لوگ جان سکتے ہیں جو پردیس میں رہ کر آئے ہوں ۔خاص کر وہ لوگ جو پرائے دیس میں مزدوری کے لئے جاتے ہیں ۔ زرا سوچئے اپنے ماں پاب سے دور بیوی بچوں سے دور بہن بھائیوں سے دورپردیس کی زندگی کیسی ہو گی ؟

    خدا نخواستہ!
    اگر کسی کی موت ہوجائے اور آپ پردیس میں ہیں لیکن آ نہیں سکتے مرنے والا آپکا بہت پیارا ہے ۔ تو آپکے دل پر سے کیا گزرے گی ؟
    اگر آپکے کسی پیارے کی شادی ہے گھر میں کوئی خوشی کا موقع ہے اور آپ کسی عرب ملک میں کفیل کے پاس پھنسے ہیں جو آپکو چھٹی نہیں دے رہا تو آپکے دل پر کیا گزرے گی ؟

    یقینا” آپ تڑپ جائیں گے ترس جائیں لیکن چارو ناچار کیا کر سکتے ہیں کسی خوشی کے موقع پر یا غم کے موقع پر آپ اپنے پیاروں
    کے پاس پہنچ نہیں سکتے ۔ مپردیس کی زندگی کیسی ہے یے پردیسی ہی بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ پردیس میں صبح اٹھنا اپنا ناشتا خود بنانا ۔
    پھر ڈیوٹی پر جانا ٹائم سے لیٹ ہو جانے کاڈراگر لیٹ پہنچے تو تنخواہ کاٹ لی جائے گی ۔ ہائے واپس آکر اپنے کپڑے بھی خود دھونے ہیں اپنی ہانڈی روٹی بھی خود کرنی ہے اور اس کے بعد ٹائم نکال کر گھر فون کال بھی کرنی ہے ۔ پورا دن مدیروں کی گر گر سننے کے بعد کچھ سکون کے لئے گھرفون کریں گے تو نئی نئی فرمائشیں تیار ہونگی گھر سے بیوی بچوں کی بہن بھائیوں کی نئی سے نئی ڈیمانڈ پوری کرنی ہیں ۔

    لیکن افسوس !
    صد افسوس کسی نے یے نہیں پوچھنا کے آپ ٹھیک بھی ہوآپ اتنا کام کرتے ہو کہیں تھک تو نہیں گئے طبیعت تو صحیح ہے آپکی ۔ لیکن نہیں فرمائش ہوگی نئے فون کی ٹیب چاہیے بچوں کے لئے نئے کپڑے کسی نہ کسی رشتہ دار کی شادی آرہی ہے آپ بس پیسے
    بھیجتے جاو پیسے بنانے والی مشین بن کے رہوبس ۔ اگر آپ بیمار ہو گئے تو بھی آپ نے اپنا خیال خود رکھنا ہے کیونکہ یہاں اماں جی تو بیٹھی نہیں پردیس ہے ۔ یہاں لوگ یے سمجھتے ہیں کے بیرون ملک میں مقیم ہے بہت کماتا ہے ریالوں میں لیکن پتا اسی کو ہوتا ہے کے کن مشکلات میں رہ کرکماتا ہے ۔ گھر والوں کی ڈیمانڈ پوری کرنے کے لئے تین تین سال گھر سے دوررہتا ہے ۔ پرائے لوگوں کی باتیں سنتا ہے اوراپنا ہر کام خود کرتا ہے ۔ پردیس میں مزدوری کرنے کے بعد جب گھر آو تو کچھ دن تو اپنے بیوی بچے بہت خوشی کا اظہارکرتے ہیں لیکن جیسے جیسے دن گزرتے ہیں اور آپ اپنے بچوں کو کسی برے کام سے روکتے ہیں بچوں کو آپ انتہائی برے لگنے لگتے ہیں ہٹلر ٹائپ باپ اچھا بھلا پردیس میں تھا اب گھر آکر ناک میں دم کیا ہوا ہے ۔ پھر چارو ناچار پوچھنا شروع کردیں گے پاپا آپنے واپس نہیں جانا کیا ؟

    آپ واپس کب جائیں گے اتنا نہیں سوچیں گے کے ہمارے سکھ کی خاطر اس باپ نے اپنی پوری زندگی پردیس میں کاٹی اب بوڑھا
    ہونے کو ہے کچھ آرام کرلے ۔ نلیکن نہیں کس کو احساس ہی پردیس میں میں رہنے والے تو پیسے بنانے کی مشین بن کر رہ گئے ہیں۔ ہمیں کم ازکم اپنوں کے ساتھ تو یے ظلم نہیں کرنا چاہیے اپنے پیاروں کا احساس کرنا چاہیے ۔ نمیری گزارش ہے تمام لوگوں سے جن کے پیارے پردیس میں یعنی بیرون ممالک میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہوں ۔ ان کا بہت خیال رکھیں اور ان کو فضول ڈیمانڈ نہ کریں جو وہ پوری نہ کرسکیں ۔ جب کوئی بیرون ملک سے فون کرے تو اس کی بات توجہ سے سنیں ۔ تاکہ اس کی دل آزاری نہ ہو کیونکہ یے آپکے لئے تمام مشکلات جھیل رہا ہے ۔

    اللہ پاک تمام پردیسی بھائیوں کی مشکلات آسان فرمائے آمین ۔

    @Ssatti_

  • امریکہ کی افغانستان میں 20 سالہ جنگ . تحریر : محمد وقاص

    امریکہ کی افغانستان میں 20 سالہ جنگ . تحریر : محمد وقاص

    ورلڈ ٹریڈ سینٹر پرحملہ کے بعد امریکہ افغانستان پر چڑھ دوڑا۔ اس وقت افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم تھی ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کا ماسٹر مائنڈ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ٹھہرایا گیا۔جو اس وقت افغانستان میں پناہ گزیر تھے ۔امریکہ نے طالبان کے امیر ملا عمر پر دباو ڈالا کہ وہ اسامہ بن لادن کو ہمارے حوالے کر دے ورنہ بعد میں آنے والے نتائج کا ذمہ دار ہمیں نہ ٹھہرایا جائے۔طالبان کے امیر ملا عمر نے اس امریکی پیشکش کو مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ اسامہ بن لادن کو نہ ملک سے دربدر کریں گے اور نہ ہی کسی کے حوالے کریں گے۔

    اس کے کچھ عرصے بعد ہی امریکہ اپنی اتحادی فوجوں کے ساتھ افغانستان پر ٹوٹ پڑا۔افغانستان سے بھی کافی لوگ جو طالبان کی سخت اسلامی شرائط کی وجہ سے متنفر تھے انہوں نے بھی امریکہ کا بڑھ چڑھ کر اس میں ساتھ دیا اور یوں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے طالبان حکومت کا خاتمہ کر دیا۔یوں امریکہ نے افغانستان میں اپنی مرضی کی ایک حکومت قائم کر دی جو ان کے اشاروں پر چلتی تھی۔

    بات یہیں ختم نہیں ہوتی امریکہ اور اس کی اتحادی فوجیوں اور افغان فورسزز نے طالبانوں کے خلاف جگہ جگہ محاز آرائی شروع کر دی۔اس کے بعد نیٹو اتحادی فورسز نے ایک ایبٹ آباد میں خفیہ آپریشن کا کیا جس میں انہوں نے القاعدہ کے سربراہ اسامی بن لادن کو مارنے کا دعوی کیا۔20 سال جنگ کرنے کے بعد امریکہ کو افغانستان میں اپنی شکست ہی نظر آ رہی تھی۔امریکہ نے کھربوں ڈالراس جنگ میں جھونک دئیے مگر ہاتھ میں ناکامی کے سوا کچھ نہ آیا۔لہذا انہوں نے اپنی عافیت اسی میں سمجھی کہ اب افغانستان سے کسی طرح انخلا کر لیا جائے۔اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ بھی نہ تھا۔

    چناچہ امن معائدہ کا ٹاسک پاکستان کو سونپا کو گیا۔پاکستان کی ان تھک کوششوں کی وجہ سے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لایا گیا۔جس کا اعتراف خود امریکہ اور دنیا بھی کرتی ہے ورنہ یہ امن معائدہ کھبی نہ طے پاتا اور یہ خونی جنگ کھبی نہ رک پاتی۔طالبان نے امن معائدہ میں شرط رکھی کہ تمام غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد ہی ہم امن معائدہ کر سکتے ہیں ورنہ ہمیں یہ معائدہ قابل قبول نہیں۔چونکہ امریکہ کی بھی یہ خواہش تھی کیونکہ امریکہ اس جنگ میں میں بھاری مالی نقصان اور جانی نقصان اٹھا چکا تھا اس نے یہ شرط قبول کر لی ۔اس طرح اس طویل 20 سالہ جنگ کا اختام ہوا۔

    امریکہ کی اس طویل 20 سالہ جنگ کے نتائج کچھ اس طرح سے بیان کیے جا سکتے ہیں۔2001سے 2020 تک 71000شہریوں کی جانیں گئیں۔66سے69 ہزارافغان فوجی جان سےگئے۔نیٹو کے 3500 فوجی ہلاک ہوئے.3800نجی سیکورٹی اہلکارجان سے گئے۔طالبان/دیگرجنگجوؤں نے84000جانیں گنوائیں۔27 لاکھ لوگ پڑوسی ملکوں میں چلے گئے۔32 لاکھ ملک کے اندر ہی در بدر ہیں۔پاکستان میں تقریبا 80 ہزار شہریوں کی جان گئی۔پاکستان کو ایک سو پچاس ارب ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔امریکہ نے افغانستان کی تعمیر نو پر 1.43 کھرب ڈالر خرچ کئے۔کل ملا کر جنگ پر 22.6 کھرب ڈالر خرچ ہوئے۔ اور نتیجہ صرف تباہی تباہی اور تباہی نکلا.

    @WaqasUmerPk

  • کروناکی بھارتی قسم نئی مصیبت . تحریر: سید لعل بُخاری

    کروناکی بھارتی قسم نئی مصیبت . تحریر: سید لعل بُخاری

    پچھلے کچھ دنوں سے وطن عزیز میں مثبت کرونا کیسز کی شرح میں پھر سے اضافہ نظر آنے لگا ہے۔اس معاملے کی سنگینی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے،جب یہ انکشاف ہوتا ہے کہ نئے کیسز میں زیادہ تر بھارت سے آنے والا ڈیلٹا ویرئینٹ پایا جا رہا ہے۔اس ویریئنٹ کا پھیلاؤ دوسرے ویرئینٹ کے مقابلے میں 100فیصد تک زیادہ ہوتاہے۔

    اس ویریئنٹ کے پھیلاؤ کی روک تھام کے کئے جہاں حکومت کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے،وہیں ہماری زمہ داریاں بطور ایک زمہ دار شہری کے بڑھ جاتی ہیں۔ تمام لوگوں کو خواہ انہوں نے ویکسین لگوالی ہو،یا نہ لگوائ ہو۔کرونا سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات پر عمل کرنا ہو گا۔ہمارے اس عمل سے جہاں ہم،ہماری فیملیز محفظ رہ پائیں گی۔وہیں دوسرے لوگ بھی اس مہلک بیماری سے بچ پائیں گے۔

    کچھ لوگوں ویکسی نیشن کے بعد احتیاطوں کا دامن بالاۓ طاق رکھتے ہوۓ اپنے آپ کو آزاد تصور کرتے ہوۓ ماسک اور سینی ٹائزر کا استعمال بندکر دیتے ہیں۔جس سے وائرس انہیں کسی بھی وقت دبوچ سکتا ہے،ویکسی نیشن کا مطلب 100فیصد بچاؤ نہیں بلکہ یہ ہر ایک ویکسین کی افادیت کے لحاظ سے ہوتا ہے،جو اب تک کی سٹڈی کے مطابق 95فیصد ہے،جو فائزر ویکسین سے مہیا ہوتا ہے۔برطانیہ کے وزیر صحت آسٹرازنیکاویکسین کی دو خوراکوں کے باوجود گزشتہ روز کرونا مثبت پاۓ گئے،جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ویکسین کی دو ڈوزز کے بعد بھی بچاؤ کا راستہ صرف اور صرف SOPsپر عمل درامد ہی ہے۔

    اسکے ساتھ ساتھ سازشی تھیوریوں کا شکار ہونے سے سے بھی بچنا ہو گا،ایسی افواہوں میں زرا برابر حقیقت نہیں ہوتی کہ جن میں کہا جاتا ہے کہ حکومت ہر تہوار سے پہلے جان بوجھ کر کرونا مثبت کیسز کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کرنا شروع کر دیتی ہے،تاکہ لوگ ڈر کے احتیاطوں پر عمل کرنا شروع کر دیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں اعداد وشمار چھپانا نا ممکن ہے، دوسری بات یہ ہے کہ اگر فرض کر لیں کہ حکومت لوگوں کی جانیں بچانے کے لئے جھوٹ بول رہی ہے تو پھر ہم سب کو اس جھوٹ کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔

    @lalbukhari

  • صبر اور شکر۔تحریر: کنزہ صادق

    صبر اور شکر۔تحریر: کنزہ صادق

    ایمان کے دو حصے جنکا نام صبر اور شکر ہے۔ اور یہ دونوں ہی اللہ تعالٰی کو نہایت پسند ہیں۔
    قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے صبر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے :

    أُوْلَئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا وَيَدْرَؤُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَO

    ’’یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دوبار دیا جائے گا اس وجہ سے کہ انہوں نے صبر کیا اور وہ برائی کو بھلائی کے ذریعے دفع کرتے ہیں اور اس عطا میں سے جو ہم نے انہیں بخشی خرچ کرتے ہیں۔‘‘

    القصص، 28 : 54
    عربی لغت میں صبر کے لفظی معنی ہیں برداشت کرنا اور دوسری طرف شکر کے معنی ہیں اظہارِ احسان مندی۔
    مسلمان کی پوری زندگی صبر اور شکر کے دائرے میں آتی ہے
    شکر اخلاق، اعمال اور عبادات کا بنیادی جزو ہے۔ شکر کے بغیر تمام اعمال و عبادات بے معنی ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں شکر کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے :
    کی
    مَّا يَفْعَلُ اللّهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَآمَنتُمْ وَكَانَ اللّهُ شَاكِرًا عَلِيمًاO

    ’’اللہ تمہیں عذاب دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزار بن جاؤ اور ایمان لے آؤ، اور اللہ (ہر حق کا) قدر شناس ہے (ہر عمل کا) خوب جاننے والا ہےo‘‘

    النساء، 4 : 147
    ہمارے پیارے نبی اللہ پاک کا شکر ادا کیا کرتے تھے دن رات اللہ کا شکر ادا کرتے تھے
    چرند پرند بھی اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور شکر ادا کرتے ہیں انسان کو چاہیے کہ وہ بھی ہر حال میں اپنے رب کا شکر ادا کرئے اپنی ہر سانس پہ اللہ کا احسان مند ہو الحمدللہ ہم سانس لیتے ہیں چلتے پھرتے ہیں ہمارے ہاتھ پاوں سلامت ہیں ہم دیکھ سکتے ہیں اپنے رب کی نعمتوں کا احسان مند ہونا ضروری ہے
    شکر کے متعلق ایک حدیث ہے کہ
    حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو کثرت سے قیام فرماتے اور عبادتِ الٰہی میں مشغول رہتے۔ کثرتِ قیام کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک پاؤں سوج جاتے۔ آپ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اﷲ علیک وسلم ! آپ تو اللہ تعالیٰ کے محبوب اور برگزیدہ بندے ہیں پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

    اَفَلَا اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا.

    ’’کہا میں اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں۔‘‘
    جب آقا دو جہان کے شکر کا یہ عالم تھا جنکے لیے دنیا بنائی گئ تو ہمیں تو ہر حال میں رب کے آگے جھکنا چاہیے
    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ آزمائش جتنی سخت ہوتی ہے اسکا بدلہ بھی اتنا ہی بڑا ملتا ہے اللہ پاک جب کسی قوم سے محبت فرماتے ہیں تو اسے آزمائش میں ڈال دیتے ہیں پھر جب وہ اس آزمائش پہ راضی رہا (یعنی صبر سے کام لیا) تو اللہ پاک بھی اس سے راضی ہوجاتے ہیں اور جو اس پر ناراض ہوا تو اللہ پاک بھی اس سے ناراض ہوجاتے ہیں۔
    (سنن الترمذی 2396)
    ہماری روزمرہ کی زندگی میں یہ دونوں چیزیں آجائیں تو زندگی گزارنا بھی آسان ہے گھریلو معاملات بھی آسان ہو جائیں سادہ سی بات ہے کہ اگر گھر میں لڑائی جھگڑے کا ماحول ہے آپ 2 منٹ صبر سے کام لیں تو آدھا مسلہ تو اسی طرح ختم ہوجاتا ہے
    اسی طرح گھریلو خواتین کم خرچے میں گھر چلائیں اور اسی پر شکر ادا کریں تو بھی زندگی کے آدھے مسائل کا خاتمہ ہوجائے یہاں یہ مثال دینا اس لیے بھی ضروری تھا کہ آج کل معاشرے میں یہی دو مسلے سب سے زیادہ ہیں برداشت کی کمی کتنے گھر اجاڑ چکی ہے اور تنگدستی کتنے ہی مسائل کو جنم دیتی ہے لہذا ہم سب اللہ اور اسکے رسول کے بتائے ہوئے رستے پہ چلیں تو زندگی بھی سنور جائے اور آخرت بھی۔

    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

  • ‎ انسانی حیات پر منڈلاتے خطرات .تحریر :محمد محسن خان

    ‎ انسانی حیات پر منڈلاتے خطرات .تحریر :محمد محسن خان

    ‎دنیا کو ایک وبائی وائرس کرونا لاحق ہے ، جسے حکومتوں کی طرف سے سیاسی الزام تراشیوں کے پس منظر میں مجرمانہ نااہلی کی وجہ سے نہیں روکا گیا ہے۔ یہ کہ دولت مند ممالک میں ان حکومتوں نے عالمی ادارہ صحت اور سائنسی تنظیموں کے ذریعہ جاری کیے گئے بنیادی سائنسی پروٹوکول کو سنجیدہ انداز میں ایک طرف رکھ دیا ۔ بنیادی طریقہ کار جیسے جانچ ، رابطے کا سراغ لگانا ، اور تنہائی کے ذریعہ وائرس کے نظم و نسق کی طرف توجہ دینے سے پہلوتہی برتی گئی اور اگر یہ کافی نہیں رہا تو پھر عارضی طور پر اسمارٹ لاک ڈاؤن لگانابے وقوفی ہے۔ یہ اتنا ہی تکلیف دہ ہے کہ ان امیر ممالک نے "عوام کی ویکسین” بنانے کی پالیسی کے بجائے ویکسین امیدواروں کو ذخیرہ کرکے "ویکسین نیشنلزم” کی پالیسی اپنائی۔ انسانیت کی خاطر ،دانشورانہ املاک کے قواعد کو معطل کرنا اور تمام لوگوں کے لئے عالمی سطح پر ویکسین تیار کرنے کا طریقہ کار تیار کرنا دانشمندانہ فیصلہ ہوتا۔اگرچہ وبائی مرض انسانی دماغوں پر مسلط ایک بنیادی مسئلہ رہے ہیں، لیکن دوسرے بڑے ہمارے پیدا کئے ہوئے مسائل مستقبل کی نسلوں اور زمین کی لمبی عمر کو خطرہ بناتے ہیں:

    ‎جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ جنوری 2020 میں ، جوہر سائنس دانوں کے بلیٹن نے ڈومس ڈے گھڑی کو آدھی رات کو 100 سیکنڈ تک طے کیا ، جو آرام کے قریب تھا۔ 1945 میں پہلے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے دو سال بعد بنائی گئی اس گھڑی کا ہر سال تشخیص بلیٹن کے سائنس اور سیکیورٹی بورڈ کے ذریعہ کیا جاتا ہے ، جو فیصلہ کرتے ہیں کہ منٹ کو منتقل کرنا ہے یا اسے اپنی جگہ پر رکھنا ہے۔ جب وہ دوبارہ گھڑی طے کرتے ہیں تو ، یہ فنا کے قریب ہوسکتا ہے۔ پہلے سے ہی محدود اسلحہ کنٹرول معاہدوں کو ختم کیا جا رہا ہے کیونکہ بڑی طاقتیں 13500 جوہری ہتھیاروں پر قابض ہیں (جن میں 90 فیصد سے زیادہ صرف روس اور امریکہ کے پاس ہے)۔ ان ہتھیاروں کی پیداوار آسانی سے اس سیارے کو اور بھی غیر آباد بنا سکتی ہے۔ امریکہ کی بحریہ نے پہلے ہی کم پیداوار والے تاکتیکی W76-2 نیوکلیائی وار ہیڈ تعینات کردیئے ہیں۔جوہری تخفیف اسلحے کی طرف فوری اقدامات کو دنیا کے ایجنڈے پر مجبور کرنا ہوگا۔ ہر سال 6 اگست کو منائے جانے والے یوم ہیروشیما کو غور و فکر اور احتجاج کا ایک اور مضبوط دن بننا چاہئے

    مشائع ہونے والا ایک سائنسی مقالہ حیران کن سرخی کے ساتھ آیا: "21 ویں صدی کے وسط تک بیشتر اٹول غیر آباد ہوجائیں گے کیونکہ سطح کی سطح میں اضافے نے لہر سے چلنے والے سیلاب کو بڑھاوا دیا ہے۔” مصنفین نے پایا کہ سیچلس سے جزیرے مارشل تک اٹول ختم ہونے کے قابل ہیں۔ اقوام متحدہ کی 2019 کی ایک رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ 10 لاکھ جانوروں اور پودوں کی نسلوں کو معدوم ہونے کا خطرہ ہے۔ اس میں تباہ کن جنگل کی آگ اور مرجان کی چٹانوں کی شدید گرمی شامل کریں اور یہ بات واضح ہے کہ ہمیں اب آب و ہوا کی تباہی کی کوئلے کی کان میں کنری ہونے کی وجہ سے کسی چیز یا کسی اور چیز کے بارے میں جکڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ خطرہ مستقبل میں نہیں ، بلکہ حال میں ہے۔ریو ڈی جنیرو میں 1992 میں اقوام متحدہ کے ماحولیات اور ترقی سے متعلق کانفرنس میں قائم کی جانے والی "مشترکہ لیکن امتیازی ذمہ داریوں” کے نقطہ نظر پر عمل پیرا ہونے کے لئے ، جو فوسل ایندھن سے مکمل طور پر تبدیل ہونے میں پوری طرح ناکام ہونے والی بڑی طاقتوں کے لئے ضروری ہے۔ یہ بتا رہا ہے کہ جمیکا اور منگولیا جیسے ممالک نے 2020 کے اختتام سے قبل اقوام متحدہ میں اپنے آب و ہوا کے منصوبوں کی تازہ کاری کی۔ جیسا کہ پیرس معاہدے کے تحت لازمی قرار دیا گیا ہے ، حالانکہ یہ ممالک عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کا ایک چھوٹا سا حصہ تیار کرتے ہیں۔ اس فنڈز میں جو ترقی پذیر ممالک کو ان کے عمل میں حصہ لینے کے لئے مصروف عمل تھے وہ عملی طور پر خشک ہوچکے ہیں جبکہ بیرونی قرضوں کا غبار ختم ہوگیا ہے۔ اس سے "بین الاقوامی برادری” کی بنیادی سنجیدگی کا فقدان ظاہر ہوتا ہے۔یہ بتا رہا ہے کہ جمیکا اور منگولیا جیسے ممالک نے 2020 کے اختتام سے قبل اقوام متحدہ میں اپنے آب و ہوا کے منصوبوں کی تازہ کاری کی۔ جیسا کہ پیرس معاہدے کے تحت لازمی قرار دیا گیا ہے ، حالانکہ یہ ممالک عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کا ایک چھوٹا سا حصہ تیار کرتے ہیں۔ اس فنڈز میں جو ترقی پذیر ممالک کو ان کے عمل میں حصہ لینے کے لئے مصروف عمل تھے وہ عملی طور پر خشک ہوچکے ہیں جبکہ بیرونی قرضوں کا غبار ختم ہوگیا ہے۔ اس سے "بین الاقوامی برادری” کی بنیادی سنجیدگی کا فقدان ظاہر ہوتا ہے۔یہ بتا رہا ہے کہ جمیکا اور منگولیا جیسے ممالک نے 2020 کے اختتام سے قبل اقوام متحدہ میں اپنے آب و ہوا کے منصوبوں کی تازہ کاری کی۔ جیسا کہ پیرس معاہدے کے تحت لازمی قرار دیا گیا ہے ، حالانکہ یہ ممالک عالمی سطح پر کاربن کے اخراج کا ایک چھوٹا سا حصہ تیار کرتے ہیں۔ اس فنڈز میں جو ترقی پذیر ممالک کو ان کے عمل میں حصہ لینے کے لئے مصروف عمل تھے وہ عملی طور پر خشک ہوچکے ہیں جبکہ بیرونی قرضوں کا غبار ختم ہوگیا ہے۔ اس سے "بین الاقوامی برادری” کی بنیادی سنجیدگی کا فقدان ظاہر ہوتا ہے۔
    ‎شمالی امریکہ اور یورپ کے ممالک اپنا عوامی کام سرانجام دے چکے ہیں کیونکہ ریاست کو منافع بخش افراد کے حوالے کردیا گیا ہے اور نجی معاشرے کو سول سوسائٹی نے متناسب کردیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے ان حصوں میں معاشرتی تغیر پذیر کے راستوں کو انتہائی سنجیدگی سے رکاوٹ بنایا گیا ہے۔ خوفناک معاشرتی عدم مساوات مزدور طبقے کی نسبت سے سیاسی کمزوری کا نتیجہ ہے۔ یہی کمزوری ہے جو ارب پتی افراد کو ایسی پالیسیاں متعین کرنے کے قابل بناتا ہے جس کی وجہ سے بھوک کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ ممالک کو ان کے حلقہ بندیوں میں لکھے ہوئے الفاظ سے نہیں بلکہ ان کے سالانہ بجٹ کے ذریعے فیصلہ کیا جانا چاہئے۔ مثال کے طور پر ، امریکہ اپنی جنگی مشین پرتقریباً ایک کھرب ڈالر (اگر آپ تخمینہ والے انٹلیجنس بجٹ کو شامل کرتے ہیں) خرچ کرتے ہیں ، جبکہ اس کا تھوڑا سا حصہ عوام کی بھلائی پر خرچ کرتا ہے (جیسے صحت کی دیکھ بھال پر ، وبائی امور کے دوران واضح چیز)۔مغربی ممالک کی خارجہ پالیسیاں ہتھیاروں کے سودوں سے خوب چکنا چور ہیں: متحدہ عرب امارات اور مراکش نے اس شرط پر اسرائیل کو تسلیم کرنے پر اتفاق کیا کہ وہ بالترتیب 23 ارب اور 1 بلین ڈالر کے امریکی ساختہ اسلحہ یا طیارے خرید سکتے ہیں۔ فلسطینیوں ، سحروی اور یمنی عوام کے حقوق کو ان سودوں میں شامل نہیں کیا گیا۔ کیوباڈ ، ایران ، اور وینزویلا سمیت 30 ممالک کے خلاف امریکہ کی جانب سے غیر قانونی پابندیوں کا استعمال ، کوویڈ ۔19 صحت عامہ کے بحران کے باوجود بھی زندگی کا معمول بن گیا ہے۔ یہ سیاسی نظام کی ناکامی ہے جب سرمایہ دارانہ بلاک میں انسانی آبادی اپنی حکومتوں کو مجبور نہیں کرسکتی – جو کہ صرف نام کے ہی جمہوری ہیں – اس ہنگامی صورتحال کے بارے میں عالمی تناظر اپنانے کے لئے۔بھوک کی بڑھتی ہوئی شرح سے پتا چلتا ہے کہ بقا کی جدوجہد کرہ ارض پر موجود اربوں لوگوں کے لئے افق ہے (یہ سب کچھ جبکہ چین مطلق غربت کا خاتمہ کرنے اور بڑے پیمانے پر بھوک کو ختم کرنے کے قابل ہے)۔
    ‎جوہری تباہی اور آب و ہوا کی تباہی سے ناپید ہونا سیارے کے لئے دو خطرات ہیں۔ دریں اثنا ، پچھلی نسل نے جو نوعمری حملہ کیا ہے اس کے شکار افراد کے ل their ، ان کے محض وجود کو برقرار رکھنے کے قلیل مدتی مسائل ہمارے بچوں اور پوتے پوتوں کی قسمت کے بارے میں بنیادی سوالات کی جگہ لے لیتے ہیں۔

    ‎اس پیمانے کے عالمی مسائل کے لئے عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔ 1960 کی دہائی میں تیسری دنیا کی ریاستوں کے دباؤ پر ، بڑی طاقتوں نے 1968 کے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر اتفاق کیا ، اگرچہ انہوں نے 1974 کے نئے بین الاقوامی معاشی آرڈر کے قیام سے متعلق گہرے اہم اعلان کو مسترد کردیا۔ بین الاقوامی سطح پر ایسے طبقاتی ایجنڈے کو چلانے کے لئے دستیاب قوتیں اب نہیں ہیں۔ مغرب کے ممالک خصوصا، ترقی پذیر دنیا کی بڑی ریاستوں (جیسے برازیل ، ہندوستان ، انڈونیشیا ، اور جنوبی افریقہ) میں سیاسی حرکیات حکومتوں کے کردار کو تبدیل کرنے کے لئے ضروری ہیں۔ معدومیت کے خطرات کی طرف فوری اور فوری توجہ دینے کے لئے ایک مضبوط بین الاقوامییت ضروری ہے: جوہری جنگ ، آب و ہوا کی تباہی کے ذریعہ ، اور معاشرتی خاتمے کے ذریعہ ناپید ہوجانا۔آگے کے کام مشکل ہیں ، اور ان کو موخر نہیں کیا جاسکتا اور یہی آج کاسچ ہے

    تحریر محمد محسن خان

  • پاک، افغان امن اورانڈیا . تحریر : بینیش عباس

    پاک، افغان امن اورانڈیا . تحریر : بینیش عباس

    نیٹو امریکی اتحاد اپنی ایک رپورٹ کہتا ہے کہ ”پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے لیکن انڈیا اس کے مخالف ہے“
    یہاں پر انڈیا افغانستان میں امن کیوں نہیں چاہتا؟
    افغانستان میں بدامنی و دہشتگردی کی فضا سے انڈیا کے وابستہ مفادات کیا ہیں؟ جیسے کئی سوال ذہن میں آتے ہیں.

    انڈیا افغانستان میں امن اس لئیے نہیں چاہتا کہ اگر افغانستان میں امن قاٸم ہوتا ہے تو اس کا سب سے بڑا فاٸدہ پاکستان کو اورنقصان انڈیا کو ہے کیونکہ اگر امن ہوتا ہے تو پاکستان افغان سرحد پر لگاٸی گٸی فوج کو کم کر کے انڈین سرحدوں کی طرف بڑھا دے گا اور افغانستان میں جنگ بندی سے پاک فوج اور طالبان کے آپریشنز افغانستان میں نیٹو امریکی جنگ کی بجاٸے کشمیر کی طرف موو کریں گے جس کا سیدھا نقصان انڈیا کو ہو گا اور دوسرا افغانستان میں جنگ بندی سے امریکی بلاک میں انڈیا کی اہمیت بہت حد تک کم ہو جاٸے گی جس سے انڈیا کے مفادات کو نقصان پہنچے گا اور یہ انڈیا کے لیے بہت بڑا دھچکا ہو گا کیونکہ جس امریکہ کا وہ اتحادی ہے وہ دنیا کے پرلے کونے پر بیٹھا ہے جبکہ اس کے ہمساٶں سے تعلقات کافی خراب ہیں.

    اس صورت حال میں اگر افغانستان میں امریکہ جنگ بلکل ختم ہوتی ہے اور امن قاٸم ہوتا ہے تو انڈیا کی وہ اہمیت باقی نہیں رہے گی جو امریکہ اتحاد میں اس وقت ہے کیونکہ واحد وہی اتحادی اس وقت خطے میں امریکہ کے ساتھ کھڑا ہے جس نے امریکہ کے کہنے پر چین ( شہر پاور کمپیٹیٹر) سے بھی تعلقات خراب کر لئے اورباقی ہمسایوں سے بھی قابل ذکر تعلقات نہیں ہیں۔ سعودی عرب اور یو ای اے سے تعلقات کا اچھا ہونا ڈیڑه ارب کی آبادی کی مارکیٹ ہونے کی وجہ سے ہے ورنہ اس کے علاوہ ان تعلقات کی کوٸی خاص بنیاد نہیں کیونکہ پاکستان سعودی عرب سے چارارب ڈالر کا تیل لیتا ہے اور انڈیا چالیس ارب ڈالر کا تو ظاہر ہے عرب نے اپنے کاروبار اور معشیت کو بھی دیکھنا ہے اس لیے سعودی عرب بھی پاکستان انڈیا کے معاملے میں مسلمان ملک ہونے کے باوجود برابری کے تعلقات کو دیکھتا ہے اورکشمیر یا دوسرے معاملات پرکسی ایک ملک کی سپورٹ نہیں کرتا لیکن انڈیا ہمیشہ سے اپنی مارکیٹ کا فاٸدہ اٹھاتا رہا ہے اور شاید آج بھی اٹھا رہا ہے اور نہیں چاہتا کہ افغانستان میں امن قاٸم ہو اور امریکی اتحاد میں اس کی اہمیت کم ہو اس لیے انڈیا جنگ بندی کی مخالفت کے ساتھ ساتھ کھل کر اففغانستان حکومت کو نہ صرف اسلحہ فراہم کر رہاہے جبکہ دوسری طرف بدلتے کنٹرول کو دیکھتے طالبان سے مذاکرات کا بھی خواہاں ہے، لیکن پچھلے دنوں سفارتی ملازمین کی واپسی کے نام پر آئے جہاز میں موجود اسلحے نے اس دوہری و دوغلی حکمت کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑ دیا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان کے حالیہ دورہ کابل پر اشرف غنی کا سرعام پاکستان کو افغان امن کا حریف کہنا غنی پر پیسہ لگانے والی ہندوستانی حمکت عملی کھل کر آخری حربے کے طور پر سامنے آ گئی ہے کہ غنی حکومت ہو یا انڈیا افغانستان میں امن ہوتا نکلنا مشکل ہے ان کے لئے۔

    جبکہ دوسری طرف پاکستان کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ افغانستان میں ایک مضبوط اسلامی حکومت ہو تاکہ وہاں امن ہو جس سے پاکستان میں امن ہو۔ حالیہ دورہ کابل میں وزیراعظم پاکستان عمران خان اشرف غنی کے لگائے بے بنیاد الزام اور امن کی راہ میں رکاوٹ ڈالتی اس کوشش کو بے نقاب کرتے ہوئے افغانستان میں بدامنی سے پاکستان کے ہونے والے نقصان کی یاددہانی بھی کروا دی۔ الحمدللہ اسلامی حکومت والے تیزی سے علاقے فتح کرتے جا رہے ہیں۔ کفار حریف کی ساری چالیں ناکام ہوتی نظر آ رہیں۔ افغانستان میں خالص اسلام کی فتح علاقے میں نہ صرف اسلامی اقدار کی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گی بلکہ مسلم اتحاد اور جیو سٹرٹیجک پوزیشننگ کو ایک نئے رخ کی طرف موڑ دیتی نظر آ رہی ہے۔

  • قرۃالعین اور انصاف : تحریر عینی سحر

    قرۃالعین اور انصاف : تحریر عینی سحر

    حیدر آباد کے علاقے بیراج کالونی کے رہائشی عمر خالد میمن نے اپنی بیوی قرۃالعین کو تشدد کرکے ہلاک کر دیا _ انکی میڈیکل رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کے انھیں بہیمانہ تشددکرکے ہلاک کیا گیا _ بہت ممکن ہے کے یہ گھناؤنا جرم چھوٹے بچوں کے سامنے کیا گیا ہے _

    میاں بیوی ایک دوسرے کے خوشی اور غم کے ساتھی ہوتے ہیں جنھیں قرآن میں ایکدوسرے کا لباس قرار دیا گیا ہے

    بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بیوی کو اکثر پاؤں کی جوتی سمجھا جاتا اور اسکا استحصال کیا جاتا ہے _ چاہے وو کتنی پڑھی لکھی اور خودمختار ہو اکثر مرد اسے برابری کا مقام نہیں دیتے اور اپنی ملکیت سمجھتے ہوۓ اسکی تذلیل اور اسکے حقوق کی پامالی کرتے
    ہیں

    آخر کسی کی اس مظلوم بیٹی کا کیا قصور تھا کے نہ عدالت لگی نہ گواہ پیش ہوۓ اور نہ ہی کوئی منصف فیصلہ دے سکا اور محض عام گھریلو تکرار پر اسکے شوہر نے خود ہی عدالت لگائی تشدد کیا اور ایک بے بس اور مظلوم کی زندگی ختم کر دی

    بیٹیاں ماں باپ کی جان اور انکا مان ہوتی ہیں _ کتنے ارمانوں سے وہ اپنی بیٹیوں کو پروان چڑھاتے ہیں اور محنتوں سے انکا جہیز تیار کرکے اللہ سے انکے بسنے اور آباد رہنے کی دعائیں کرتے ہوۓ انھیں سسرال بھیجتے ہیں _ وہ بیٹی اپنے والدین کا جگر کا ٹکڑا ہوتی ہے جو والدین کسی اور گھر میں رخصت کرتے ہوۓ صرف یہ خواہش کرتے ہیں کے انکی بیٹی خوش اور آباد رہے

    ان بہیمانہ جرائم کیوجہ سے جو سسرال میں ہوتے ہیں والدین کو چاہئیے کے اپنی بیٹیوں کو باور کرائیں کے ظلم سہنے کی ضرورت نہیں اگر اس کے حقوق کی پامالی ہوتی ہے اس کیساتھ کوئی ظلم ہوتا ہے تو میکے کا دروازہ کھلا ہے لوٹ آنا_ اس لیے کے کہیں کوئی زور بیٹی قرۃالعین کیطرح بے بسی سے اپنے ظالم شوہر کے ہاتھ نہ مر سکے

    اسلام بھی اس چیز کی اجازت نہیں دیتا کے بیویوں کے حقوق ضبط کرکے ان پر ظلم ڈھایا جاۓ بلکے ناچاقی کی صورت میں راستے الگ کرلینے کی اجازت بھی ہے کوئی شک نہیں طلاق اسلام میں پسندیدہ فعل نہیں لیکن اسلام ظالم شوہر کے ہاتھوں ظلم سہنے کو نہیں کہتا

    بربریت کی یہ مثالیں معاشرے میں کب تک رہیں گیں ؟ ضروری ہے کے ایسے ظالم لوگوں کو کڑی سزا دی جاۓ جو جرم کرتے ہوۓ خوفزدہ نہیں ہوتے کے وہ قانون کے شکنجے میں آئیں گے یا اللہ کا غضب کا شکار ہونگے _ قرۃالعین کے شوہر کو پھانسی ہو بھی جاۓ تو نہ تو ان معصوم بچوں کو انکی ماں واپس ملے گی نہ وہ دنیا میں لوٹ کر آے گی اور نہ ہی اسکے والدین کو انکی بیٹی واپس ملے گی لیکن مظلوم کو انصاف ملنا چاہئیے

    سوشل میڈیا سمیت ہر جگہ یہ آواز اٹھائی جارہی ہے کے قرۃالعین کو انصاف دو _ #justiceforquratulain

    قانون اور انصاف سے یہ معاشرہ دہائی دیتا ہے کے قانون کی عملداری کروائیں اور ایسے بہیمانہ جرائم کا خاتمہ کریں

  • کیا دانش صدیقی کو واقعی طالبان نے قتل کیا؟ . وحید گل

    کیا دانش صدیقی کو واقعی طالبان نے قتل کیا؟ . وحید گل

    یہ ایک عام تاثر ہے کہ بھارتی میڈیا پرموجود صف اول کے صحافی سوائے عوام کو بھڑکانے کے کوئی دوسرا کام نہیں کرتے۔ دراصل یہی بھارت کی خارجہ پالیسی ہے جسکی میڈیا پیروی کر رہا ہوتا ہے۔ یہ بھی عام دیکھنے میں آیا ہے کہ میڈیا کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ ملکر سوائے خطے میں بدامنی پھیلانے کے اور کسی کام پر توجہ نہیں دی جاتی۔ 9/11 کی ہی مثال لے لیں جب امریکہ پر ہونے والے حملے کے بعد بھارت نے ڈرامہ رچایا تھا کہ انکا مسافر طیارہ بھی ہائی جیک ہوگیا ہے۔ اس ڈرامے میں بھارتی میڈیا پیش پیش رہا اور عوام کو تین گھنٹے متواتر ایک نہ ختم ہونے والے کرب میں مبتلا رکھا۔ 9/11 کے بعد امریکہ کی مسلم ممالک کے خلاف جارہانہ پالیسی کی نقل کر کے "دس قدم اور پاکستان ختم” جیسی ڈینگیں میڈیا پر مارتے رہے۔

    پلوامہ حملے کے بعد بھی ابھینندن جیسے "بالی ووڈ” متاثرین اورخوابوں کی دنیا میں رہنے والے صحافی حضرات اچھل اچھل کرمیڈیا پربڑکیں مارنے لگے تھے کہ ہمارے جہازوں نے فضائی بمباری کی اور پاکستان میں 300 لوگ مارے گے جبکہ حقیقت میں تین درخت اورایک کوا شہید ہوا تھا۔ یہ تاریخی پس منظر بتاتا ہے کہ بھارت میں کس قسم کے صحافی حضرات کو پروموٹ کیا جاتا ہے۔۔۔ ایسے میں دانش صدیقی نامی مسلمان بھارتی صحافی جس نے بھارت کے کووڈ۔19 بحران کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا تھا کے افغانستان میں نہایت مشکوک حالات میں اچانک قتل کی خبریں گردش میں آتے ہی ٹوئیٹر دانش صدیقی ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔۔ شالنی نامی ساتھی صحافی کا کہنا تھا کہ "ڈینش صدیقی کی روہنگیا مہاجرین ، دہلی پوگرام ، اور ہندوستان کے کوڈ بحران پر نقش نگاری کی تصاویر ہمیشہ ہمارے ذہنوں میں مسلط رہیں گی”

    https://t.co/SMwgmiLNTG”

    افغان صحافی عمران فیروز نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا "مجھے یہ بات نہایت ناگوار گزری ہے کہ مودی کے بہت سارے فاشسٹ صدیقی کی قابل ذکر رپورٹنگ کرنے کے باوجود اسکی موت کا جشن منا رہے ہیں”

    Caummunist نے کہا کہ "یہ دونوں تصاویر ڈینش صدیقی اور عدنان عابدی نے فیبر2020 میں دیہی پوگرام میں لی تھیں۔ وہ عصرحاضر کی ہندوستانی صورتحال کو مکمل طور پر گھیر لیتے ہیں۔
    (رائٹرز انڈیا نے یہ تصاویر (اس سال کی) بطور بہترین تصویر منتخب کیا)

    https://t.co/lmmvzFUQMB”

    پاکستانی صحافی عمرقریشی کے مطابق "ایسا لگتا ہے کہ مودی سرکارکے کچھ حامی روئٹرز کے فوٹو جرنلسٹ (اور دہلی کے رہائشی) دانش صدیقی کی افغانستان میں موت کی خوشی منا رہے ہیں
    کیوں؟

    کیونکہ جب اس نے ہندوستان میں کوویڈ سے ہونے والی اموات اور آخری رسومات کی تصویریں وائرل کیں تو یہ بات انہیں ناگزیر گزری”

    مقبوضہ کشمیر کے سابقہ وزیراعلی عمرعبداللہ نے کہا کہ یہ افسوسناک بات ہے کہ دانش اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے طالبان کی کراس فائرنگ سے جاں بحق ہوا مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ اسکی موت کا جشن بھارت میں موجود وہ کمینے منا رہے ہیں جنھیں اسکی رپورٹنگ سے بے آرامی ہوا کرتی تھی۔ اپنے ٹوئیٹر میسج میں انہوں نے رائیٹ ونگ کے ٹرولز کو کہا کہ جہنم میں جاؤ

    بھارت میں ایک خاص طبقے کی جانب سے دانش صدیقی کی موت پر اسطرح جشن منانا صحافتی اقدار کی نہ صرف توہین ہے بلکہ آزادی صحافت کے منہ پر ایک زناٹے دار طمانچہ بھی ہے جسکی گونج اس وقت پورے خطے میں سنائی دے رہی ہے

    Waheed Gul is a freelance Journalist and columnist; He has been writing for different forums. His major areas of interest are Current Affairs, Technology and Web Media. He can be reached at Twitter: @MrWaheedgul

  • جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا .تحریر :فضیلت اجالہ

    جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا .تحریر :فضیلت اجالہ

    حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پِیٹوں جِگر کو میں
    مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
    خاتم الرسل پیغمبر خدا حضرت محمد مصطفی ﷺ مشرکین مکہ کے مظالم سے تنگ آکر مدینہ ہجرت کیا کرتے تھے لیکن یہ کیسا عجب منظر ہے زمیں حیراں آسماں پریشان ہے
    کہ نواسہ رسول امام حسین علیہ السلام کو نانا ( ص) کہ شہر میں ستایا جا رہا ہے ،ولید بن عتبہ یزید کی اطاعت کیلیے ظلم کا باب رقم کر رہا ہے
    اہل کوفہ تو مان لیا کہ بے وفاتھے لیکن اہل مکہ کو کیا ہوا کہ نبی آخر الزماں محمد مصطفی ﷺ کے لاڈلے کو مدینہ سے مکہ ہجرت پر مجبور کردیا ۔

    اُس طرف ظلم پر آماده زمانے والے
    اِس طرف سارے محمدﷺ کے گھرانے والے

    یوں امام حسین علیہ السلام 28 رجب کی رات اپنے اہل و ایال اور صحابہ کے ساتھ سفر مکہ کیلیے نکلے ،کچھ آگے بڑھے تو علمدار حسین ابن علی مولا عباس علیہ السلام نے کلام کیا اے جگر گوشہ رسول ہمارے قافلے کے پیچھے ایک چھوٹا قافلہ ہے نواسہ رسول گردن پلٹ کے دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے صحابی ارم غفار رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ساتھ معصوم بیٹا ہے اس قدر ضعیف ہیں کہ گھوڑے پہ سوار نہی ہو پا رہے ۔نواسہ رسول نے فوراً ذوالجناح کو انکی سمت موڑا پاس پہنچے تو پوچھا کیا ارادہ ہے ۔
    صحابی رسول نے ادب سے سر کو جھکایہ آنکھوں میں نمی ہے اورکہتے ہیں ایک دفعہ نبی پاک ﷺ مسجد نبوی میں خطبہ دے رہے تھے کہ ایک بچہ بھاگتا ہوا آیا رسول خداﷺ فوراً منبر سے اترتے ہیں اس بچے کو اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں اے صحابہ اسے پہچان لو یہ میرا نواسہ ہے کبھی اسے ہجرت کرنی پڑے تو اسکا ساتھ نبھانا ،اے نواسہ رسول میں اپنا وہی عہد نبھا رہا ہوں ۔قربان جائیں اس صحابی رسول کے اس عہد کے اور اس جزبہ وفا کے کہ سید زادیوں کے احترام میں ساتھ نہی چلتے چپکے سے پیچھے چلے آتے ہیں ۔

    پانچ دن کے بعد سفر اختتام پزیر ہوتا ہے یا شائد یہیں سے سفر حسین کا آغاز ہوتا ہے 3 شعبان 60 ہجری کو سرزمین مکہ پر نواسہ رسول کہ پاؤں پڑتے ہیں تو زمیں مہکنے لگتی ہیں فضائیں جھومتی ہیں کہ آج نبی کے نور نے ہمیں زینت بخشی ہے ۔قافلہ حسین نے مکہ میں تقریبا چار ماہ کا عرصہ گزارا ۔ رسول اللہ ﷺ کے عاشق نواسہ رسول کی قدم بوسی کیلیے حاضر ہوتے ہیں رہتی، اگر دو نواح کی خبر پہنچاتے رہتے ہیں ۔

    حج قریب آیا تو امتیوں نے عرض کی حسین علیہ السلام اس دفعہ پچھلی باریوں کے برعکس آپ حج پہ آئے ہیں لیکن قربانی کے جانور نہی لائے کیا اس دفعہ منی پہ قربانی نہی کریں گے اس پہ نواسہ رسول اپنے ہم شکل پیغمبر بیٹے جناب علی اکبر علیہ السلام اور اپنے بھائی امام حسن علیہ السلام کی نشانی اپنے بھتیجے امیر قاسم علیہ السلام کو آواز دیتے ہیں جب دونوں شہزادے آ کے امام حسین علیہ السلام کے دائیں بائیں کھڑے ہوتے ہیں تو نواسہ رسول آسمان کی طرف دیکھتے ہیں مسکراتے ہیں اور جواب کے منتظر لوگوں کی طرف دیکھ کہ کہتے ہیں یہ ہیں میرے شہزادے میں اس سال انہیں راہ خدا میں ،نانا کے دین کی سر بلندی کیلیے قربان کروں گا اور یہ قربانی مکہ میں نہی کربلا کی منی پہ ہو گی ، کیسی قربانی ہےیہ کیسا جزبہ ہے کہ لخت جگر کو دین اسلام پہ قربان کرنے کیلیے تیار ہیں ۔وہ بھتیجا جسکی جوانی کی دھوم ہے کربلا کی خاک کو اسکے خون سے رنگنے کی تیاری ہے ۔

    اور پھر 8 زوالحج کا وہ دن جب نواسہ رسول کوفیوں کے جھوٹے خطو ں پر اعتبار کرتے ہوئے سفر کوفہ کا رادہ کرتے ہیں ،حرمت حج کی خاطر نواسہ رسول اپنا احرام کھول دیتے ہیں صحابہ کرام روکنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن آپ کو کوفیوں کی گزشتہ بیوفائ یاد دلاتے ہیں لیکن امام حسین علیہ السلام ارادہ باندھ چکے ہیں کہ عشق کی آخری بازی لگانی ہے
    پھر مکہ کی فضاؤں نے وہ درد انگیزمنظر بھی دیکھا جب

    ایک طرف دنیا بھر سے قافلے حج ادا کرنے کے لیے مکہ میں جوق در جوق چلے آرہے تھے وہیں میرے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و ا له وسلم کا لاڈلہ نواسہ اپنے اہل خانہ کے ہمرا سرزمین مکہ کو الوداع کہ رہے ہیں آج ہی کے دن امام حسین علیہ اسلام نے اپنے مکہ سے کربلا کے سفر کا آغاز کیا تھا۔
    ‎ ‏چلے ہیں حسین وعدہ نبھانے،
    گھر کو لٹانے، اسلام بچانے
    نواسہ رسول کا سفر جاری ہے اور جنتی نوجوانوں کا سردار یہ بات ثابت کرنے کیلیے پر عظم ہے کہ یزید صرف ظلم پے اور مولا علی علیہ السلام کا لاڈلہ امن کا نشان ہے ،یزید مائل جبرہے تو جگر گوشہ بی بی فاطمہ زہرہ سلام الله علیہ صبر کا پہاڑ ہے۔ امام حسین علیہ اسلام حق اور صداقت کے بے تاج بادشاہ ہیں جس کا کربلا کے تپتے ریگزاروں میں کیا اک سجدہ کائنات کے تمام سجدوں پہ بھاری ہے ۔
    وقت نے یہ بات تاریخ کے صفحوں پہ نقش کی کہ دریا کے کنارے پہرے لگانے والے معصوم بچوں کو پیاسہ رکھ کر خود سیراب ہونے والے مر گئے اور خشک ہونٹوں کے ساتھ جام شہادت نوش کرنے والے ہمیشہ کیلیے امر ہوگئے

    افضل ہے کُل جہاں سے گھرانہ حسین ؓکا نبیوں کا تاجدار ہے نانا حسین ؓکا اک پل کی تھی بس حکومت یزید کی صدیاں حسینؓ کی ہیں زمانہ حسینؓ کا

  • رفاہی کام عید قربان پر ہی کیوں ؟ تحریر میمونہ سحر

    رفاہی کام عید قربان پر ہی کیوں ؟ تحریر میمونہ سحر

    عید قربان ہمارے نبی ابراہیم علیہ السلام کی سنت مبارکہ کو تازہ کرنے کے لیے منائی جاتی ہے ۔ جو کہ آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی ہر سال بھرپور طریقے سے منائی ۔ انتہائی غربت کے باوجود آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ نے عید قربان پر جانوروں کی قربانیاں پیش کیں

    لیکن آج کل آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ ایک مخصوص طبقہ جو کہ اس عید کے قریب آکر ہی پراپیگنڈا شروع کر دیتا ہے کہ قربانی کا جانور تب لیں جب محلے میں کوئی آٹے کی بوری لینے والا نہ ہو ، یا ان پیسوں سے کسی کی شادی کروادیں ، پانی کا کولر لگوادیں وغیرہ وغیرہ

    لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ سب قربانی کے وقت ہی کیوں یاد آتا ہے ۔ جب مہنگے سمارٹ فونز ، کپڑے جوتے لیتے ہیں یہ سب رفاحی کام تب کیوں یاد نہیں آتے ۔ اصل میں یہ سب اسلام کی اس سنت کے خلاف پراپیگنڈہ ہے جو کہ مخصوص طریقے سے مسلمانوں میں پھیلایا جارہا ہے تاکہ وہ اس سنت مبارکہ سے دور ہو جائیں

    تو آپ سے گزارش ہے کہ ایسی کسی بھی خرافات کا حصہ نہ بنیں ۔ اگر قربانی اتنی ہی غیر اضافی ہوتی تو اسکا حکم قرآن میں نہ ملتا اور یہ حج کا ایک لازم حصہ نہ ہوتی

    خود بھی اس سنت مبارکہ کو تازہ کریں اور دوسروں کو بھی کروائیں ۔ باقی کسی کی مدد پورے سال میں جب موقع ملے ضرور کریں
    جزاک اللہ خیرا کثیرا