Baaghi TV

Category: متفرق

  • کرونا کو قابو کرنے کے لئے سرکاری احکامات پرعمل کی سخت ضرورت ہے .  تحریر: نادرعلی ڈنگراچ

    کرونا کو قابو کرنے کے لئے سرکاری احکامات پرعمل کی سخت ضرورت ہے . تحریر: نادرعلی ڈنگراچ

    کرونا وائرس سے ابھی تک جان نہیں چھڑا سکے اس کی ایک لہر پہلے والی لہر سے زیادہ خطرناک بن کر آتی ہے یے عالمی وبا ہر طرف سے انسان کی خوشبو انسان کی خوشبو کرتا ہوا آرہا ہے جیسے دنیا کے دورے پر نکلا ہوا ہو. دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اپنی عوام سے ایس او پیز پر عمل کروا کر ویکسین لگوانے کا سلسلہ تیزی سے جاری رکھا ہے پر مسئلہ ہمارے جیسے غریب ممالک کو ہے جن کے پاس محدود وسائل ہونے کی وجہ سے اس موذی مرض پر ابھی تک قابو پانے سے قاصر ہیں. پاکستان میں اکثریت لوگوں کی اس وائرس کو صرف معمولی بخار سمجھ کر نظر انداز کر رہی ہے. جب کہ پاکستان میں کرونا کی صورتحال کافی پریشان کن ہے. پچھلے 24 گھنٹوں میں کرونا کی 48 ہزار 816 ٹیسٹیں کی گئیں جن میں سے 2607 لوگوں میں اس وائرس کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ اس وائرس کا شکار ہوکر وفات پانے والوں کی تعداد 21 ہے.

    کرونا کی خطرناک قسم ڈیلٹا وائرس نے بھی پاکستان میں اپنے قدم رکھ دیئے ہیں پنجاب سمیت پورے ملک کے لوگوں کو اس خطرناک وائرس نے اپنی پکڑ میں لینا شروع کردیا ہے پنجاب میں اس وائرس کے 24 سے زائد مریض پائے گئے ہیں جن میں اکثر لوگوں کا تعلق لاہور اور گوجرانوالہ سے ہے. پنجاب حکومت نے گوجرانوالہ کے کچھ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن بھی لگا دیا ہے.

    کرونا وائرس کے خطرناک قسم ڈیلٹا وائرس بھی پاکستان میں تباہی مچانے کے لئے تیار ہے مگر حکومتی لوگ شاہی فرمان جاری کرنے کے علاوہ عملی طور پر کچھ خاص نہیں کر سکے صرف حکم نامے جاری کرنے سے کرونا پر قابو نہیں پایا جا سکتا ایس او پیز پر عمل کروانا بھی حکومت کی زمیداری ہے. صرف سکول, کالج بند کرنے سے کرونا پر قابو نہیں پایا جا سکتا بازاروں میں جو عوام کا ہجوم ہے اس کو کیسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے.

    ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اپنے جاری کردہ حکم ناموں پر سختی سے عمل کروائے لوگوں کو ماسک پہنائےسماجی فاصلہ رکھنے کے ساتھ ساتھ ان سے ایس او پیز پر عمل کرنے کا پابند بنائے اور لوگ بنا کسی الجھن کے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو کرونا وائرس سے بچنے کی ویکسین لگوانی چاہئے.

    @Nadir0fficial

  • دولہا اپنی ہونےوالی بیوی کودیکھنےکےبعد موقع سےکیوں فرارہوگیا؟

    دولہا اپنی ہونےوالی بیوی کودیکھنےکےبعد موقع سےکیوں فرارہوگیا؟

    نئی دہلی: شادی کے ’منڈپ‘سے دولہا اپنی ہونے والی بیوی کو دیکھنے کے بعد فرار ہو گیا ۔

    باغی ٹی وی : یہ نہایت ہی حیران کن واقعہ بھارت میں پیش آیا ہے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے شیئر کی جارہی ہے جس میں دولہا اور دلہن اپنے نئے سفر کے آغاز کیلئے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے جارہے تھے –

    رسم کی ادائیگی کیلئے دولہا جب اپنی نشست سے کھڑا ہوا تو ساتھ دلہن بھی اٹھنے لگی لیکن وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور لڑکھڑا کر گر پڑی –

    لڑکی کے نیچے گرنے سے اس کے چہرے سے گھونگھٹ بھی ہٹ گیا ۔ دولہے نے جب لڑکی کو دیکھا تو فوری طور پر گلے سے پھولوں کو اتار کر پھینکتے ہوئے موقع سے فرار ہو گیا ۔

    میڈیا پر چلنے والی اطلاعات کے مطابق دولہے اور دلہن نے شادی سے قبل ایک دوسرے کو دیکھا نہیں تھا اور نہ ہی کوئی ملاقات ہوئی تھی ۔تاہم ابھی تک یہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ یہ ویڈیو جعلی ہے یا اصلی اور یہ کس بھارتی علاقے سے وائرل ہوئی ہے ۔
    https://youtu.be/iUiZuRiu1f0

  • افغان جنگیں، مستقبل اور رائے . تحریر: اسحاق

    افغان جنگیں، مستقبل اور رائے . تحریر: اسحاق

    1973 میں افغانستان کی شہنشاہیت کا دور ختم ہوا تو داؤد خان نے جمہوری خطوط پر ملک کو استوار کرتے ہوئے اپنے لیے صدر کا عہدہ سنبھالا ، داؤد خان پاکستان کے سخت خلاف تھا، پاکستان کے پشتونوں اور بلوچوں کو ملک پاکستان سے علیحدگی کے لئے بہت ساری اندرونی سازشیں شروع کر کے پاکستان میں کئی دہشت گرد حملے بھی کروائے، اسی سلسلے میں اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بھی افغانستان پراکسی جنگ کا سلسلہ شروع کیا تھا جو آنے والے دن میں بڑھتا چلا گیا اور یہ آج تک پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی تعلقات کے لیے مسئلہ ہے، دیکھا جائے تو 1979 کے آخر میں جب روسسی یونین نے افغانستان پر غیر انسانی حملہ کیا اور اس بدترین حملے سے لاکھوں جانوں کا ضیاع ہوا، لاکھوں گھر اجڑے، ہر طرف خوف و حراس پھیل گیا تو لاکھوں افغانی خاندان پاکستان کے بارڈر کو کراس کر کے پاکستان آئے، پاکستان نے ان کو گھر دئیے اور ملک میں کہیں بھی رہنے کام کرنے کا اجازت نامہ دیا، اس کے علاؤہ پاکستان نے اپنے فوجی دستے اور عام عوام کو افغانستان کیلئے روس کے خلاف جہاد کرنے کیلئے بھی بھیجا، اور بالآخر 1989 کے شروع میں روس کو شکست دے کر اس خطے سے نکال دیا گیا.

    2001 میں امریکہ یورپ سمیت دنیا بھر کی پاوفل افواج افغانستان میں اتر آئیں جن کا نظریہ افغانستان سے دہشت گردوں گردہ کا خاتمہ اور امن قائم کرنا تھا جہاں ان کا تصادم افغان طالبان سے تھا جن کا نظریہ جہاد اور افغانستان میں مکمل طور پر اسلام کا قانون نافذ کرنا تھا، جہاں کوئی بھی شخص اسلام کی حدود سے باہر کوئی ذاتی طرز زندگی کا حامل نہیں ہو سکتا تھا، 20 سال تک یہ جنگ چلتی رہی مگر دنیا کی تمام طاقتور افواج افغان طالبان کو زیر نہ کر سکیں، تو بات معاہدے پر آئی جو کہ 2020 کے شروع میں کیا گیا، جس کے تحت تمام غیر ملکی افواج افغانستان سے واپس نکلنے لگیں اور معاہدے کے مطابق افغانستان سے نکلنے والی افواج ہر طالبان حملہ آور نہیں ہوں گے ،

    متحدہ ممالک کی افواج کے انخلا کے بعد اب افغانستان ایک نئی جنگ سے دوچار ہے جس میں موجودہ افغان حکومت اور طالبان مد مقابل ہیں، جہان تک طالبان کی بات ہے تو پورے ملک میں اپنی مرضی کے قوانین نافذ کرنے کی ٹھان چکے ہیں اور موجودہ حکومت کسی طرح بھی ان کو روکنے کیلئے سرگرم ہے، حتی کہ افغان حکومت کسی طرح کے معاہدے کی بھی حامل نہیں، اور طالبان کو نئے علاقوں پہ قابض ہونے سے تو اعلانیہ طور پر روک بھی رہی ہے اور طالبان کے زیر سایہ علاقے بھی واپس چھیننے کی جسارت کر رہی ہے، اس وقت ملک میں خانہ جنگی کی شدت ہے، جس کے اثرات نہ صرف افغانستان بلکہ ہمسایہ ملکوں کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی ہیں.

    افغانستان کی عوام کو اپنی موجودہ حکومت پر کوئی بھروسہ نہیں، عوام موجودہ حکومت کو کرپٹ اورچورحکومت سمجھتی ہے جس کو اپنے ملک کی عوام کی فلاح و بہبود کی کوئی فکر نہیں ہے ، مگر عوام میں طالبان کا ایک خوف طاری ہے ، عوام میں یہ بات عام ہے کہ طالبان نے جو علاقے فتح کئیے اور اپنے قوانین لاگو کئیے وہاں عورتوں کا گھرسے باہرنکلنے کی اجازت نہیں، مردوں کو ہر صورت داڑھی رکھنے کا لازم و ملزوم قانوں ہے اور مختلف اسلامی روایات کو ڈنڈے کے زور پر لاگو کرنے کے حامل ہیں، اس خوف سے عوام کا کہنا ہے کہ وہ موجودہ کرپٹ حکومت کو تو سہن کر سکتے ہیں مگر طالبان کی طرف سے سختی اور زبردستی سے لاگو کردہ قوانین کو سہن نہیں کر سکتے، جبکہ طالبان کے بیان کے مطابق اس طرح کی کوئی زبردستی قانونی حیثیت رائج نہ کی ہے اور نہ کی جائے گی.

    ایک تجزیے کے مطابق یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امریکہ نے افغانستان سے افواج کی انخلا کا عزم اس لئیے کیا تاکہ پاکستان دشمن قوتیں اپنی ضمیر فروش تنظیموں کو پاکستانی بارڈر کے ساتھ قبضہ کرنے کا موقع فراہم کرے جو پاکستان کے اندر دہشت گرد حملے کریں اور سی پیک کو نقصان پہنچائیں، جس ہر پاکستان نے اظہار تشویش بھی کیا ہے.

    عوامی رائے کی مانیں تو افغان عوام اپنی ایمان فروش حکومت سے انتہائی نالاں اور برہم ہے، تو اسی سلسلے میں افغان طالبان کو اپنے قوانین میں انفرادی آزادی، محبت اور تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ افغانستان میں ایک آزاد اسلامی ریاست کا قیام ہو، اورمزید یہ کہ پاکستان اورایران سے تمام افغان مہاجر اپنے ملک واپس جاسکیں، اس خطے میں کوئی بدامنی باقی نہ رہے، اللہ عالم اسلام کو آزادی اور سکون عطا کرے اور بدامنی اور خونریزی سے محفوظ رکھے.

    @IshaqSaqii

  • ھندوستان کے خطے میں چودھری بننے کا خواب چکنا چور . تحریر :‌  فرمان اللہ

    ھندوستان کے خطے میں چودھری بننے کا خواب چکنا چور . تحریر :‌ فرمان اللہ

    افغانستان میں امریکی فوج انخلا کے بعد ھندوستان خطے پر بادشاہت بننے کا خواب دیکھ رہا تھا اور اسی وجہ کو لیکر افغانستان میں اپنے قونصل خانے قائم کی ساتھ اپنا فوج بھی افغانستان میں تعینات کیا امریکہ اور ھندوستان کا ملی بھگت تھا کہ خطے پر ھندوستان کا راج ہوگا، یہاں ھندوستان پاکستان کو ہر طرف سے گھیرنا چاہتا تھا جبکہ امریکہ اور چین کا نہیں بنتا تو امریکہ چین پر نظر رکھنا چاہتا تھا لیکن امریکہ کو کیا پتہ کہ اس مقصد کیلئے جس کو چھنا تھا وہ ظاہری طور پر بدمعاش لیکن بزدل ملک ہے، دوسرے طرف افغان م ج ا ھ د ی ن نے ٹھوک کے رکھ دئیے اور خالات کو یکسر تبدیل کر دئیے افغانستان میں ط ا ل ب ا ن نے یکدم سب کچھ ہلا کر رکھ دی اور قابض ہوتے نظر ائے تو ایک طرف امریکہ انخلا پر مجبور ہوگئے لیکن ان سے پہلے پہلے خطے کا چودھری ھندوستان گیدڑوں کیطرح بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگئے خالات بہت دلچسپ مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں ایک طرف ط ا ل ب ا ن نے افغانستان پر قبضہ جمانا شروع کیا ہے تو دوسرے طرف چین، روس، برطانیہ، نے ط ا ل ب ا ن کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا اعلامیہ جاری کر دیا ہے خطے سمیت دنیا کے خالات بدلتے نظر ارہے ہیں.

    ھندوستان اب صرف تماشہ دیکھ رہے ہیں اور ساتھ اس غم میں مبتلا ہیں کہ م ج ا ھ د ی ن افغانستان پر قابض ہونے کے بعد کہی سلطان محمود غزنوی کا تاریخ نہ دھرا لے اور اس بات کا اندازہ اپ ھندوستانی میں میڈیا کی چیخیں دیکھ کر سکتے، افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے ہم افغانستان میں امن کیلئے اچھے خواہشات رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں اپس میں اتفاق عطاء فرمائے لیکن یہاں ایک بات ضروری سمجھتا ہوں لر بر اور سرخو کا کیا بنے گا جو لر بر کا نعرے لگاتے نہیں تھکتے تھے، افغانی حکام ہمیشہ پاکستان پر الزامات عائد کرتے رہتے ہیں لیکن حقیقت تو یہ کہ مشرف نے کھل کر امریکہ کا ساتھ دیا تھا خیر یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن پاکستان میں ہمیشہ لر بر کے نعرے لگانے والے اور پختون تحفظ موومنٹ کے نام سے بننے والے سرخو کے پیچھے ہمیشہ افغانستان کے حکام ملوث رہے پاکستان میں ھندوستانی ایجنٹ آسانی سے افغانستان سے اتے رہے ھندوستان کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف ہر ممکن کوشش کی لیکن ناکامی کے علاوہ کچھ نہیں ملا، پاکستان خطے کا زمہ دار ملک ہے خالات پر گہرے نظر رکھتے ہیں لیکن کسی بھی طرف ساتھ دینے سے فی الحال قاصر ہے اور یہی ٹھیک ہے پچھلے سولہ سال سے پاکستان کسی اعت کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور ہزاروں جانوں کی قربانی دے چکے ہیں.

    Femikhan_01

  • پرواز . تحریر: آصف راج

    پرواز . تحریر: آصف راج

    کہتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں ایک آدمی کو ایک عقاب کا چھوٹا سا بچہ مل گیا وہ اسے اٹھا کر اپنے گھر لے آیا اور گھر آ کر اس نے عقاب کے بچے کو گھر میں موجود اپنی مرغیوں اور چوزوں کے ساتھ چھوڑ دیا اب جو چیزیں مرغیاں کھائیں عقاب بھی وہی کھائے جس طرح مرغیاں چلیں عقاب بھی ویسے ہی چلے جیسا کہ سب جانتے ہیں مرغے مرغیاں پر ہونے کے باوجود زیادہ تر اڑتے نہیں ہیں اگر کبھی اڑتے بھی ہیں تو دیوار کی حد تک اب عقاب جو کہ انہی میں پل بڑھ رہا تھا اسکی پرورش بھی ویسے ہی ہو رہی تھی جیسے باقی کے مرغے اور مرغیوں کی ہو رہی تھی جیسے جیسے دن گزرتے گئے وہ سب بڑے ہوتے گئے اب وہ عقاب بھی خود کو مرغا ہی سمجھنے لگا
    لیکن رنگ نسل اور جسامت کو لیکر احساس کمتری کا شکاربھی کہ باقی سارے مرغے اور مرغیاں ایک جیسے ہیں انکی بولی اور شکل صورت بھی ایک جیسی ایک میں ہی ہوں جو ان جیسا نہیں ہوں.

    اس بات کا مرغے بھی خوب فائدہ اٹھا رہے تھے جیسے ہی سامنے کوئی دانہ دنکا آتا وہ اس پہ رعب ڈال کر خود کھا لیتے جو بچ جاتا اس میں سے عقاب کو ملتا اب جو مالک تھا وہ یہ سب کافی دنوں سے دیکھ رہا تھا اور دیکھ کر حیران بھی کہ یہ عقاب کو کیا ہو گیا یہ تو ایسے نہیں ہوتےسہمے سہمے سے اور یہ اڑتا بھی نہیں ہے شکار وغیرہ کرنا تو بہت دور کی بات اب وہ آدمی روزانہ عقاب کو اٹھائے اور اسے بولے کہ بھائی تو عقاب ہے زمین پہ چلنا تیرا کام نہیں تو آسمانوں میں اڑان بھر یہ کہہ کر وہ اسے ہوا میں پھینک دے لیکن اگلے ہی پل عقاب صاحب دوبارہ زمین پر ملیں وہ آدمی اسے پھر اٹھائے اور دوبارہ ہوا میں پھینک دے لیکن عقاب پر نا کھولے اور پھر زمین پرکافی دن ایسے ہی چلتا رہا لیکن مجال ہے کہ عقاب نے ایک بار بھی اڑان بھری ہوآدمی نے کہا کہ اب اگر تو نا اڑا تو میں تمہیں پہاڑ سے گرا آوں گا یہ کہہ کر اس نے پھر عقاب کو ہوا میں اچھالا لیکن اس بار بھی عقاب نہیں اڑا اب آدمی اسے لیکر پہاڑ کی چوٹی پہ پہنچ گیا اورعقاب سے کہا کہ دیکھ بھائی یہ تیرے پاس آخری موقع ہے .

    اگرتم نے پہلے کی طرح بزدلی دکھائی تو کچھ ہی دیر میں ہزاروں فٹ نیچے کسی پتھر پہ پڑا تڑپ رہا ہوگا اور اگر ابار تم نے دلیری دکھا دی بتو پرندوں کا بادشاہ کہلائے گا یہ بول کر آدمی نے عقاب کو پہاڑ کی چوٹی سے نیچے گرا دیا اب جیسے جیسے زمین قریب آتی گئی یقینی موت کو دیکھ عقاب نے خوف سے آنکھیں بند کر لیں اور اس آدمی کو بددعائیں دینا شروع کر دیں کہ کتنا ظلم کیا اس نے میرے ساتھ اور پھر اچانک سے اسے خیال آیا کہ یار یہ آدمی اتنے دنوں سے بول رہا تھا کہ تو عقاب ہے تیرا کام چلنا نہیں آسمانوں میں اڑنا ہے آج اسکی مان کر دیکھ ہی لوں
    ورنہ موت تو وہ ہے جو ابھی آئی کی آئی ہے یہی سوچ کر اس نے زندگی میں پہلی بار ہمت کر کے اپنے پروں کو اڑنے کے لئے کھولا تو اسے احساس ہوا کہ میرے پر عام پر نہیں بلکہ یہ وہ پر ہیں جو مجھے پر وقار ، با رعب اور وہ اونچی اڑان دیں گے کہ میں آسمانوں کا سینہ چیرتے ہوئے پرواز کروں گا ایسی پرواز جو مجھے پرندوں کا بادشاہ بنائے گی اس نے اڑنا شروع کیا کیوں کہ اب وہ جان چکا تھا کہ وہ کیا اب وہ جان چکا تھا کہ اس میں قوت پرواز ہے اب وہ جان چکا تھا کہ اس کے لئے اڑنا ممکن ہے.

    تو دوستو یہی کچھ ہمارے لئے ہے ہو سکتا ہے ہم پلے بڑھے ہی ایسے ماحول میں ہوں ہمیں کبھی ایسا موقع ہی نا ملا ہو کہ ہم خود کو جان سکیں ہمیں کبھی ایسا پلیٹ فارم ہی نا ملا ہو کہ ہم اپنی صلاحیتوں کو منوا سکیں ہم رنگ نسل اور قومیت میں ہی دب کر رہ گئے ہوں آگے بڑھنے کا خیال ہی دل سے نکال دیا ہوہم نے کبھی اونچا اڑنے کے لئے اپنے ہر ہی نا کھولے ہوں اور احساس کمتری کا شکار ہو کر زندگی گزار رہے ہوں ہم اکثر کئی کامیاب لوگوں کو دیکھتے ہیں یا کئی کامیاب لوگوں کے بارے پڑھتے ہیں وہ کوئی آسمان سے نہیں اترے ہوتے وہ بھی ہم میں سے ہی ہیں لیکن انہوں نے اپنی سوچ کو محدود نہیں رکھا انہوں نے اپنی منزل کو آسمان جانا اور حاصل کرنے کے لئے اپنے پروں کو حرکت دی تو کیوں نا ہمیں بھی ایک بار اس رنگ نسل کی سوچ سے آگے احساس کمتری سے نکل کر اپنے اندر وہ عقابی روح بیدار کرنے کی کوشش تو کرنی چاہئے اپنے اندر موجود ان صلاحیتوں کو استعمال تو کرنا چاہئے جو ہمیں دوسروں کے لئے مثال بنا دے ہمیں ہمارے وہ پر کھولنے تو چاہئے جو ہمیں پرواز کی ان بلندیوں تک لیکر جائے جس کے لئے ہم پیدا ہوئے ہیں یقین کریں ہم میں وہ سب کرنے کی قوت حوصلہ صلاحیت موجود ہے جس کا دوسرے فقط تصور ہی کر سکتے ہیں بس دیر ہے تو اپنی اس خاصیت کو ڈھونڈ کر اس پہ عمل کرنے کی.

    @pm_22

  • دانتوں کی صحت کے لیے کچھ تجاویز . تحریر : مصعب طارق

    دانتوں کی صحت کے لیے کچھ تجاویز . تحریر : مصعب طارق

    ‎صحت مند دانت کا حصول زندگی بھر کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر آپ کو یہ بتایا گیا ہو کہ آپ کے دانت اچھے ہیں ، لیکن ان کی دیکھ بھال کرنے اور پریشانیوں سے بچنے کے لئے ہر روز صحیح اقدامات کرنا اہم ہے۔ اس میں زبانی نگہداشت کی صحیح مصنوعات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی روز مرہ کی عادات کو بھی ذہن میں رکھنا
    ‎شامل ہے۔

    ان میں کچھ اقدامات ذیل ہیں
    1. دانت صاف کیے بغیر بستر پر نہ جائیں
    یہ کوئی راز نہیں ہے کہ عام دن میں ہی نے کم سے کم دو بار برش کرنا ہے۔ پھر بھی ، ہم میں سے بہت سے لوگ رات کے وقت دانت صاف کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں۔ لیکن بستر سے پہلے برش کرنے سے وہ جراثیم اور (plaque) چھٹ جاتے ہیں جو دن بھر جمع ہوتے ہیں۔
    2. مناسب طریقے سے برش کریں
    جس طرح سے آپ برش کرتے ہیں وہ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ دراصل ، دانت صاف کرنے کا ناقص کام کرنا تقریبا اتنا ہی برا ہے جتنا کہ برش نہیں کرنا۔ جراثیم کو ہٹانے کے لئے ٹوت برش کو نرم ، سرکلر حرکات میں منتقل کرتے ہوئے اپنا وقت لیں۔
    3. فلورائڈ ٹوتھ پیسٹ استعمال کریں
    جب ٹوتھ پیسٹ کی بات آتی ہے تو ، سفید دانتوں اور ذائقوں سے کہیں زیادہ اہم عناصر کو تلاش کرنا ہوتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کون سا ٹوتھ پیسٹ منتخب کرتے ہیں ، یقینی بنائیں کہ اس میں فلورائڈ موجود ہے۔
    4. فلوسنگ کو بھی برش جتنی اہمیت دیں
    بہت سے لوگ جو برش کرتے ہیں کہ فلاس سے باقاعدگی سے نظرانداز ہوتے ہیں۔ فلاسنگ سے کھانے کے ٹکڑے جو آپ کے دانتوں کے درمیان پھنس رہے ہیں نکلنے میں مدر ملتی ہے۔ عام طور پر دن میں ایک بار فلاسنگ ان فوائد کو حاصل کرنے کے لئے کافی ہے۔
    5.ماوتھ واش پر غور کریں
    اشتہارات میں ماوتھ واش پر بہت زور دیتے ہیں ، لیکن بہت سے لوگ انہیں چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کیسے کام کرتے ہیں۔ شوارٹز کا کہنا ہے کہ ماؤتھ واش تین طریقوں سے مدد ملتی ہے:
    یہ منہ میں تیزاب کی مقدار کو کم کرتا ہے ، مسوڑوں کے آس پاس اور برش والے علاقوں کو صاف کرتا ہے ، اور دانتوں کو دوبارہ معدنی بنا دیتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "چیزوں کو توازن میں لانے میں مدد کرنے کے لئے ماؤتھ واش ایک منسلک ٹول کے طور پر کارآمد ہیں۔ "میرے خیال میں بچوں اور بوڑھے لوگوں میں ، جہاں برش کرنے اور فلاس کرنے کی قابلیت مثالی نہیں ہوسکتی ہے ، وہیں ماؤتھ واش خاص طور پر مددگار ثابت ہوتی ہیں۔”
    اپنے ڈینٹسٹ سے مخصوص ماؤتھ واش سفارشات طلب کریں۔ کچھ برانڈز بچوں کے لیے بہترین ہوتے ہیں ، اور جن دانت حساس ہوتے ہیں۔
    6. زیادہ پانی پیئے
    منہ (oral health) کی صحت سمیت – پانی آپ کی مجموعی صحت کے لیے بہترین ہے۔ شوارٹز ہر کھانے کے بعد پانی پینے کی سفارش کرتے ہیں۔ اس سے برش کے بیچ میں چپچپا اور تیزابیت خوردونوشوں اور مشروبات کے کچھ منفی اثرات کو دھونے میں مدد مل سکتی ہے۔
    7. شوگر اور تیزابیت دار کھانوں کو محدود کریں
    آخر کار ، شوگر منہ میں تیزاب میں تبدیل ہوجاتا ہے ، جو پھر آپ کے دانتوں کے (enamel) کو خراب کرسکتا ہے۔ یہ تیزاب وہی ہیں جو (cavities) کا باعث بنتے ہیں۔ تیزابیت والے پھل ، چائے ، اور کافی دانتوں کے (enamel) کو خراب کر سکتے ہیں۔ اگرچہ ضروری نہیں ہے کہ آپ کو اس طرح کے کھانے سے مکمل طور پر گریز کرنا پڑے۔
    8. سال میں کم سے کم دو بار اپنے ڈینٹسٹ سے طبی معائنہ کروایں
    آپ کی اپنی روزمرہ کی عادات آپ کی مجموعی (oral) صحت کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ پھر بھی ، یہاں تک کہ انتہائی ذمہ دار برششر اور فولسروں کو بھی مستقل طور پر ڈینٹسٹ کے پاس جانے کی ضرورت ہے۔ کم سے کم ، آپ کو سال میں دو بار صفائی اور چیک اپ کے لئے اپنے ڈینٹسٹ سے ملنا چاہئے۔ ڈینٹسٹ نہ صرف (calculus) کیلکولس کو ہٹا سکتا ہے اور (cavities) کی تلاش کرسکتا ہے ، بلکہ وہ امکانی امور کو بھی تلاش کرنے اور علاج معالجے کی پیش کش کرسکیں گے

    @mussab_tariq

  •  پردیسیوں کے مسائل . تحریر :  تظخر شہزاد

     پردیسیوں کے مسائل . تحریر : تظخر شہزاد

    لفظ پردیسی پردیس سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں اپنے آبائی وطن گاؤں شہر یا علاقے کو چھوڑ کر دوسرے شہر یا ملک میں بسنے والا. آج کے ترقّی یافتہ دور میں لاکھوں پاکستانی اپنے وطن سے دور بہتر مستقبل اور خوشحالی کےلیے دنیا کے مختلف ممالک جن  میں مشرق وسطیٰ، جنوبی افریقہ، یورپ،  امریکہ اور کینیڈا  سر فہرست ہیں میں روزگار کماتے ہیں جس کی بڑی وجہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری ہے ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد تقریباً 9 ملین ہے جن میں سب سے زیادہ تعداد  تقریباً 2.6 ملین سعودی عرب میں ہے. بظاہرتو پردیسی خوشحال لگتے ہیں مگر ان کے مسائل بھی بے شمارہیں. کبھی ان کی آنکھوں میں جھانک کردیکھیں تو وہ کرب نظرآتا ہے

    جو سالوں سے اپنے دل میں چھپائے ہوتے ہیں اپنوں سے دور رہ کر دیارِغیر میں جو کرب وہ محسوس کرتے ہیں الفاظ میں  بیان کرنا مشکل ہے  پاکستان میں خاندان کے کسی فرد کو کوئی تکلیف ہو یا کوئی وفات ہو تو ہزاروں میل دور پردیسی کے شب و روز کس قدر تکلیف میں گزرتے ہیں یہ وہی جانتے ہیں. اپنے اہل و عیال کی فرمائشیں پوری کرنے کےلیے وہ عرب کے تپتے صحراؤں میں یورپ اور امریکہ کی ٹھٹھرتی سردی میں دن رات محنت کرتے ہیں کون جانے کہ وہ اپنوں کے لیے چھپ چھپ کر روتے ہے مگر اس کے لیے بولے گئے الفاظ کہ آپ نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے  سینے میں تیر کی طرح پیوست ہو جاتے ہیں اوورسیز پاکستانیوں کا ایک بڑا مسئلہ جائیداد پر غیر قانونی قبضہ بھی ہے دیار غیر میں خون پسینے کی کمائی سے خریدی جانے والی جائیداد پر قبضہ کر لیا جاتا ہے اور بعض اوقات تو اس میں رشتہ دار بھی ملوث ہوتے ہیں بیچارہ پردیسی کچھ ماہ کی چھٹی لے کر گھر جاتا ہے تو جائیداد کے تنازع میں الجھا دیا جاتا ہے اور کبھی کبھار توجائیداد سے ہاتھ دھونا پڑ جاتے ہیں.

    اس کے علاوہ پردیسیوں کے جہاں عرب ممالک میں ویزہ مسائل ہیں تو یورپ میں امیگریشن کاغذات کے مسائل جن کو حل ہونے میں کئی بار تو سالوں لگ جاتے ہیں عرب ممالک میں سب سے زیادہ مسئلہ اجرت کا ہے کئی کئی ماہ کی تنخواہیں روک لی جاتی ہیں کفالہ نظام کی وجہ سے دوسری جگہ  نوکری ڈھونڈنا محال ہو جاتا ہے.

    پردیسیوں کے مسائل حل کرنے میں مختلف ممالک میں پاکستانی ایمبیسیوں نے بھی کوتاہی برتی ہے اور اب بھی جاری ہے جہاں  کوئی غریب الوطن اگر چلا جائے تو اسے دھتکار دیا جاتا ہے گزشتہ ماہ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے  ریاض میں  پاکستانی ایمبیسی کے عملے کے 6 ارکان کو واپس بلا لیا  اور انکوائری کا حکم دیا. ماضی میں اورسیز پاکستانیوں کے مسائل کی طرف توجہ نہ دی گئی مگر موجودہ حکومت کوشش تو کر رہی ہے مگر مسائل کا انبار ہے حل کرنے کے لیے  جہاں سفارتی عملے کی اخلاقی تربیت ضروری ہےوہاں وقت بھی درکار ہے. گزشتہ ڈیڑھ سال سے کورونا کی وجہ سے جو صورتحال ہے اس کا سب سے زیادہ اثر پردیسیوں پر پڑا ہے سفری مسائل اور ملازمتوں کا بحران شروع ہو گیا ہے مشرق وسطیٰ میں کام کرنے والوں کے ویزے ختم ہونے کی وجہ سے ملازمتیں ختم ہو گئی ہیں یورپ امریکہ اور دیگر ممالک میں بے روز گاری بڑھ گئی ہے.

      جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ کے حالیہ ہنگاموں کی وجہ سے وہاں روزگار کمانے والے پاکستانی مشکلات کا شکار ہیں بنے بنائے کاروبار اور دکانیں  لوٹ لی گئیں ہیں ان کو ریسکیو کرنے کے لیے ایمبیسی کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے حکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ پاکستانیوں کی فوری مدد کی جائے آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک پاکستان کو نعمتوں سے نوازے تاکہ کوئی پردیسی وطن چھوڑنے کے کرب سے نہ گزرے.

    @tazher55

  • پاکستانی سپاہی . تحریر : مریم راجپوت

    پاکستانی سپاہی . تحریر : مریم راجپوت

    زندگی اور موت پاکستانی سپاہی کی زندگی اور موت کی داستان جسے ہم فراموش کر دیتے ہیں زندگی جس میں کسی اپنے سے کیۓ گئے وعدے پورے کرنے تھے زندگی جس میں ابھی کسی کا ہمسفر بننا تھا زندگی جس کی آمد ایک پورے گھر کی خوشی کی واحد وجہ تھی زندگی جس میں اپنی پھولوں جیسی بیٹی کے بہت سے ناز اٹھانے تھے زندگی جس میں اکلوتے بھائی نے بہنوں کے فرض سے سبکدوش ہونا تھا زندگی جسے بوڑھے باپ کا سہارا بننا تھا زندگی جو ماں کی گود میں سر رکھ کر زندگی جینا چاہتا ہے زندگی جسے اسے ابھی اپنے جگری یاروں کے ساتھ مل کر دشمنوں کے بےشمار ارادوں کو شکست دینی تھی.

    لیکن ایک سپاہی کی زندگی میں ایک ہی تمنا سب سے بڑی ہوتی ہے جس کی پوری ہونے کی دعا وہ ہر پل ہر دم کرتا ہے موت شہادت کی موت بس چند منٹوں کی بات ہوتی ہے اور زندگی اور موت کا فیصلہ ہوجاتا ہے….. وہ آنکھیں جو ابھی بہت سی خوشیاں دیکھنے کی منتظر تھی وہ بند ہونے جا رہی تھی وہ کان جو بہنوں کی چہکتی، بیٹی کی میٹھی اور ماں کی شیریں آواز سننے کے منتظر ناجانے کب سے انتظار میں تھے موت کی آغوش کو سن رہے تھے وہ دماغ آج سب ذمہ داریاں چھوڑ کر اپنی پہلی اور آخری ذمہ داری پوری کرنے میں آج اپنے ملک کے لیے قربان ہو رہا تھا اس کی آمد کا منتظر وہ چہکتا گھر وہ چڑیوں سے چہچہاتی بہنیں وہ ماں کی بے چین آنکھیں وہ باپ کا فخر بیٹی کا سوپر ہیرو اور کسی کا اپنے نام سے جڑے جانے والے سب کچھ کا انتظار چند گھنٹوں میں سبز پرچم میں لپٹے ہوۓ الوداعی سلام کے لیے پہنچ جاتا ہے .

    جو لوگ پاکستان کی ایک آواز پر اپنا گھر بار بچے ماں باپ چھوڑ کر بھاگے چلے آتے ہیں اور اپنی زندگی کا فیصلہ ایک پل میں کر دیتے ہیں خدارا ان کی عزت کیا کرۓ ان سے محبت کیا کرۓ.

    pagli_hun@

  • افغانستان اور خطے کے ممالک کا کردار ۔ تحریر : روشن دین دیامر

    افغانستان اور خطے کے ممالک کا کردار ۔ تحریر : روشن دین دیامر

    جن احباب کو افغانستان کی تاریخ کا علم نہیں تو ان کی معلومات کے لئے یہاں ایک تاریخی حقیقت بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
    تاریخ میں افغانستان پہ کسی غیر ملکی طاقت یا حکمران نے دو دفعہ حکومت کی ہے۔ ایک اشوک اعظم اور دوسرا اکبراعظم نے۔ اس کے علاوہ افغانستان پہ اج تک کسی نے حکومت نہیں کی ہے۔ اب کچھ دوست کہیں گے بھائی امریکہ نے حکومت کی تو عرض ہے امریکہ نے حکومت نہیں قبضہ کرنے کی کوشش کی جو وہ ناکام و نامراد ہوکے چلی گی۔

    اب آئے ذرا تفصیل سے موجودہ صورت حال پہ روشنی ڈالتے ہیں۔ امریکی انخلاء کے بعد افغان کا ماضی کیا ہوگا؟ اس پہ ہر کسی نے اپنا نقطہ نظر پیش کر رہے ہئں اور مختلف قیاس آرائیاں اور خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ہم بھی چند گزارشات اپ کے نظر کرتے ہیں ۔
    ایک اہم بات امریکی گزشتہ بیس سالوں میں افغانستان پہ مکمل کنڑول کبھی حاصل نہیں کر سکے تھے۔ اس کا شہری علاقوں پہ قبضہ رہا جبکہ دہاتی علاقوں پہ طالبان کی حکومت رہی ہے۔ چونکہ افغانستان ایک قبائلی معاشرہ ہے اسلئے یہاں کوئی منظم اور مضبوط حکومت کبھی نہیں رہا ہے۔ افغانستان کے گیارہ فیصد علاقہ شہری ہے جبکہ انانوے فیصد حصہ دہاتی ہے اور وہ بھی پاکستانی دہات کی طرح نہیں۔ افغان کے دہات ایک خالص قبائلی اور مزہبی ذہنت کے لوگوں پہ مشتمل ہیں۔ جو موجودہ دور میں بھی قرون وسطی جیسی سوچ ہے۔ پسماندہ قبائلی روایات بہت مضبوط ہے۔

    موجودہ طالبان بھی وہ طالب نہیں رہے جو روس کے خلاف استمال ہوے تھے۔ اب یہ لوگ گزشتہ بیس سالوں سے امریکیوں سے لڑ لڑ کے سمجھ چکے ہیں کہ ریاست چلانے کےلے معاشی و سیاسی نظام بنانا ضروری ہوتا ہے۔ اب جب اچانک امریکہ باگ نکلا تو افغانستان میں خانہ جنگی کا خطرہ پیدا ہوا ہے۔ اس کی وجہ امریکہ جاتے ہوے اپنا اسلحہ ساتھ لے کے نہیں گیا بلکہ اسے افغانستان میں چھوڑ کے جا رہا ہے۔ ابھی اگر وہ اسلحہ دائیش اور اِئی ایس جسے دہشت گردوں کے ہاتھ لگ گیا تو خطے میں امن کےمسائل پیدا ہونگے۔ ایسے میں اس خطے کے ممالک کو اس حوالے ضرور اپنی حکمت عملی بنانا ہوگا ۔پاکستان، ایران، روس، چین، تاجکستان، ازبکستان سمیت دوسرے ممالک اس وقت افغانستان کے معاملے پہ بہت سنجیدگی سے غورکر رہے ہیں ۔وہ کسی صورت افغانستان میں خانہ جنگی ہونے نہیں دینگے۔ اس حوالے سے اگست کا مہنہ بہت اہم ہے۔ میری راے میں اگست تک یا اس کے بعد افغانستان میں ایک ایسی حکومت ترتیب دینے کی ضرورت ہے جس میں تمام فریق اپس میں مل کے نظام حکومت بنائیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جو بھی حکومت ہوگی اسے بہت مشکلات کا سامنا ہوگا۔ معاشی طور پہ اور دفاعی طور پہ بھی۔ کیونکہ افغانستان اس وقت شدید افراتفری اور معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ مختلف مفادات رکھنے والے وار لارڈز اور مسلح جھتوں کا ایک جنگل بن چکا ہے۔ جسے صاف کرنے میں کچھ عرصہ تو ضرور لگے۔

    امید ہے خطے کے ممالک افغانستان کو اس دلل سے نکالنے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں گے اور ایک دفعہ پھر پر امن افغانستان ابھرے گا اور خطے کے ترقی کے لے اپنا کردار ادا کرے گا.

  • "ڈپریشن” ایک بیماری اوراسکا علاج .  تحریر : لائبہ طارق

    "ڈپریشن” ایک بیماری اوراسکا علاج . تحریر : لائبہ طارق

    آجکل ہردوسرے نوجوان میں ایک چیزمشترکہ پائی جا رہی ہے وہ ہے ڈپریشن.
    ڈیپریشن ایک ذہنی بیماری ہے جو آپ کے مزاج یعنی جسطرح سے آپ خود کو اور اپنے ارد گرد کی چیزوں کو سمجھتے ہیں اسکو متاثر کرتی ہے۔ اسکے مختلف نام ہیں جیسا کہ کلینیکل ڈپریشن(Clinical Depression)، میجر ڈیپریشن کی بیماری (Major Depressive Disorder) یا Major Depression ہے۔

    ڈیپریشن ایک ایسی بیماری ہے جو بغیر کسی وجہ کے سامنے آسکتی ہے اور یہ بیماری ایک لمبے عرصے تک ہوسکتی ہے۔ ڈیپریشن کوئی غم یا موڈ خرابی کا نام نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک چیز کا نام ہے ۔ جو لوگ ڈیپریشن سے گزر رہے ہوتے ہیں وہ لوگ خود کو بیکار اور بے یار و مددگار محسوس کرتے ہیں۔ وہ بغیر کوئی وجہ کے خود کو مجرم محسوس کرتے ہیں۔

    کچھ لوگ ڈیپریشن کا سامنا غصے اور چڑچڑاپن کی صورت میں کرتے ہیں جس سے نا صرف توجہ دینے یا فیصلے کرنے میں انکو مشکل پیش آتی ہے بلکہ زیادہ تر لوگ ایسی چیزوں میں دلچسپی کھو دیتے ہیں جن سے وہ عام زندگی میں لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اسکی وجہ سے ہی وہ خود کو بھی دوسروں سے الگ کر دیتے ہیں۔

    ان کے علاوہ ڈیپریشن کی جسمانی علامتیں بھی ہیں، جیسے کہ نیند، بھوک، توانائی اور نامعلوم درد یا تکلیف کے مسائل شامل ہیں۔ کچھ لوگ اس بیماری میں موت یا اپنی زندگی کے خاتمے (خودکشی) کے بارے جیسے مشکل خیالات کا تجربہ سے گزرتے ہیں۔ ڈیپریشن دو ہفتوں سے زیادہ عرصے تک رہتی ہے اور عموماً یہ بیماری خود ختم نہیں ہوتی ہے جو آپکی پوری زندگی کو متاثر کرتی ہے۔

    ڈپریشن سے نکلنے کے لیں اپنی طرز زندگی بدلیں پہلا قدم اٹھانا ہمیشہ سب کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ لیکن اپنے سکون کے لیے انسان کو کوشیش کرنی ہوتی ہے ۔اپنی زندگی میں ان لوگوں اور چیزوں کو شامل کر لیں جن سے آپکو خوشی ہو مثال کے طور پر سیر کیلئے جانا یا اپنی پسندیدہ موسیقی پر رقص کرنا یہ آپ کے موڈ کو بوسٹ اپ اور آپکو کافی حد تک انرجی دے سکتا ہے اپنی پسند کا کھانا تیار کرنا یا کسی پرانے دوست سے ملنے جانا ۔ ان چھوٹے لیکن مثبت اقدامات سے آپ ڈیپریشن جیسی بیماری سے چھٹکارہ حاصل کرسکتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اپ خود کو خوشحال، صحت مند اور پر اُمید محسوس کرینگے،
    اپنی نیند کا خاص خیال رکھیں ۔نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے انسان چڑچڑا ہو جاتا ہے ۔اگر آپ نے اپنی مدد آپ کے تحت اقدامات اٹھاۓ ہیں لیکن طرز زندگی میں مثبت تبدیلیاں آنے کے بجائے ڈیپریشن مزید بڑھ رھا ہے تو پھر ضروری ہے کہ پیشہ ورانہ مدد حاصل کریں۔

    ماہر نفسیات کے پاس جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کے آپ پاگل ہیں بلکہ یہ ہے کہ آپ کو خود سے پیار ہے اور اپنے اپ کو ٹھیک کرنے کے لیے مدد لے رہے ہیں ۔ماہر نفسیات تھراپی اور کونسلنگ سے آپکے مسئلے کو حل کرتا ہے اور آپ خود کو ایک بہتر انسان محسوس کرتے ہیں۔ اپنی زندگی سے منفی سوچ کو نکال دیں اور اپنے ذہنی صحت کو بھی اتنا ہی سیریس لیں جتنا جسمانی صحت کو لیتے ہیں۔

    صحتمندی اورپھرذھنی صحتمندی ایک نعمت ھے اسکی قدرکریں۔

    @LaaybaTariq