Baaghi TV

Category: متفرق

  • سگریٹ  کا دھواں قریبی افراد کے لئے موت کا سایہ،تحریر:- محمد دانش

    سگریٹ کا دھواں قریبی افراد کے لئے موت کا سایہ،تحریر:- محمد دانش

    خبردار تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر ہے
    یہ سلوگن ہر سگریٹ کی ڈبی پہ لکھا ہوتا ہے اور ہم میں سے ہر کوئی اس کا مطلب جانتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ سگریٹ سے انسان کی صحت متاثر ہوتی ہے اور بہت سی بیماریوں کا سبب بنتی ہے کیونکہ سگریٹ میں تقریبا سات سو سے زائد کیمیکلز موجود ہوتے ہیں ان میں سے ایک اندازے کے مطابق 70 کیمیکلز کینسر کی وجہ بنتے ہیں اور کچھ کیمیکلز جیسا کہ امونیا فارم ایلڈی ہائڈ وغیرہ جو کہ پھیپھڑوں کی بہت سی بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں اور وہ لوگ جو سگریٹ نوشی زیادہ کرتے ہیں ان میں کورونا وائرس اور اس طرح کی بڑی مہلک بیماریوں کا اثر بھی زیادہ ہوتا ہے کیونکہ سگریٹ کا دھواں انکے جسم کے مدافعتی نظام کو پہلے ہی کمزور کرچکا ہوتا ہے جسکی وجہ سے وہ لوگ کورونا وائرس کا حملہ برداشت نہیں کر پاتے اور اس کے بچنے کے چانسز بہت کم ہو جاتے ہیں

    جو انسان سگریٹ نوشی کرتا ہے وہ خود تو ان بیماریوں کا سامنا کرتا ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ وہ شخص ارد گرد کے ماحول کو بھی آلودہ کر رہا ہوتا ہے جسکی وجہ سے وہ لوگ جو خود تو سگریٹ نوشی نہی کرتے لیکن اسکے گرد موجود ہونے کی وجہ سے ان کو بھی بالواسطہ ان سب بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور آج کل لوگ اس سے بہت زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اور مختلف بیماریاں خاص طور پہ کینسر جیسے مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں اور یہ سب اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ ہمارے ارگرد ہمارے بہت قریبی رشتے دار یا گھر کا کوئی فرد جب گھر میں سگریٹ نوشی کرتا ہے وہ اپنے ساتھ باقی سب کو بھی اس آلودگی کا حصہ بنا رہا ہوتا ہے اور اسی طرح کے مثائل سے ہمارے تعلیمی ادارے، مارکیٹیں،گاڑیوں میں موجود افراد بھی دوچار ہیں خاص طوران میں بالواسطہ سگریٹ نوشی بہت عام ہے
    میری آپ سب لوگوں سے گزارش ہے کہ سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں خود کو اور اپنے قریبی عزیزوں کو اس مہلک دھوئیں سے بچائیں تاکہ ہم بہتر صحت مند زندگی گزار سکیں اور اپنے ماحول کو آلودہ ہونے سے بچا سکیں
    میں حکومت پاکستان سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ بالواسطہ سموکنگ سے بچنے کے لئے وہ جگائیں جہاں آمدورفت زیادہ ہو اور لوگوں کا میل جول زیادہ ہو وہاں پہ یا تو سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کی جائےاور سگریٹ نوشی کرنے والے پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے خاص طور تعلیمی اداروں میں بھی سگریٹ نوشی بین ہونی چاہئے
    تاکہ ہم اس زہریلے دھوئیں سے چھٹکارا پا سکیں اور اپنے وطن عزیز کو اس طرح کی آلودگی سے پاک کر سکیں
    صاف صاف پاکستان
    پاک پاک پاکستان
    تحریر:- محمد دانش
    ‏@iEngrDani

  • بچپن کی شرارت قسط 5۔ تحریر۔طلعت کاشف سلام

    بچپن کی شرارت قسط 5۔ تحریر۔طلعت کاشف سلام

    تنبیہ۔۔۔ یہ پڑھنے والے میرا اسٹنٹ آزمانے کی بلکل کوشش نہیں کریں۔
    اب جو شرارت بتانے جا رہی ہوں اس وقت میری عمر شاید تیرا یا چودہ سال ھو گی۔
    جیسا کے میں پہلے ہی بتا چکی ہوں کے ھم لوگ ابوظہبی میں رہتے تھے اور گرمیوں میں پاکستان جایا کرتے تھے۔
    میری بڑی بہن جو کے مجھ سے ایک سال بڑی تھی اسے ابو نے کہا تھا کے اس بار پاکستان جاو تو تھوڑی بہت کسی ڈرائیونگ اسکول سے گاڑی چلانا سیکھ لینا۔
    اس لیے جب ھم پاکستان گئے تو میری بہن کو امی نے گاڑی سیکھنے کے لیے اسکول میں ڈال دیا۔ بہن جب بھی گاڑی چلانے جاتی میں اسکے ساتھ پیچھے بیٹھ جاتی۔اور ڈرائیورنگ ٹیچر کی باتوں کو غور سے سنتی رہتی۔ میری بڑی بہن گاڑی چلاتے ہوئے بہت ڈرتی تھی۔ اور میں اس وقت پیچھے بیٹھی سوچتی رہتی کے یہ کونسا مشکل کام ہے جو ثروت (میری بڑی بہن) اتنا ڈر رہی۔
    خیر اس طرح کوئی ایک ھفتہ گزر گیا۔ میں نے آمی سے ضد کی کے مجھے بھی سیکھنا ہے۔ آمی نے ڈانٹ دیا کے تم ابھی بہت چھوٹی ھو۔
    میں آمی کی بات سن کے اس وقت تو چپ ھو گئی۔ پر میری شرارتی فطرت نے اس بات کو ماننے سے انکار کر دیا۔
    زیادہ تر تو ھم سب بہن بھائی ہر وقت ساتھ ہی ھوتے تھے۔ اسلیے مجھے کافی دن تک تو کوئی موقع نہیں مل پایا۔ پر ایک دن دوپہر میں میرے بھائی سو رہے تو اس وقت مجھے خیال آیا کے بھائی اور آمی تو گاڑی چلانے دیتے نہیں ابھی موقع اچھا ہے آمی اور بھائی دونوں ہی سو رہے ہیں۔ تو کیوں نہ ان سے چھپ کے گاڑی چلائی جائے۔
    میں نے اپنا پلان چھوٹی بہن کو بتایا۔ کیونکہ صرف وہ ہی تھی جو میرا ساتھ دے سکتی تھی بڑی کو بتاتی تو اس نے بھی ڈانٹ دینا تھا۔ چھوٹی والی جھٹ سے تیار ھو گئی۔
    ھم دونوں لگے گاڑی کی چابی ڈھونڈھنے۔ جو کے کافی  ڈھونڈنے کے بعد بھی نہیں ملی۔
    پھر چھوٹی بھائی کے کمرے میں گئی۔ اور اس وقت اس نے دیکھا کے چابی تو بھائی کی پینٹ کی جیب میں ہے، یہ دیکھنے کے بعد چھوٹی میرے پاس آئی اور مجھے بتایا کے اب کیا کریں۔
    پھر ھم دونوں نے پلان بنایا کے کسی طرح جیب سے چابی نکالتے ہیں۔ میں بھائی کے کمرے میں گئی اور بڑی مشکل سے آھستہ آھستہ انکی جیب سے کسی طرح چابی نکال لائی۔

    اسکے بعد ھم دونوں خوشی سے بھاگے باہر۔ اب یہ بات زہن میں رکھیں کے اس دن سے پہلے چلانا تو دور کی بات میں نے نہ تو کبھی چابی تک گاڑی میں نہیں ڈالی تھی۔
    خیر ھم باہر آئے گاڑی باہر ہی کھڑی تھی۔ دونوں بیٹھے سن سن کے اتنا سمجھ چکی تھی کے گئیر کیسے ڈالتے ہیں۔ گاڑی اسٹارٹ کی اور گیئر ڈالا تو جھٹکے سے بند ھو گئی۔ پھر اسٹارٹ کی اور پھر کوشش کی دو بار کی کوشش سے گاڑی چل پڑی۔ ھم دونوں بڑے خوش ھوئے۔ گاڑی کیونکہ کبھی سیکھی ہی نہیں تھی اسلیے گیئر والی گاڑی ھونے کی وجہ سے بار بار جھٹکے لیتی رہی۔ گیئر بھی دو سے زیادہ نہیں ڈالنے آتے تھے۔ اور اسی طرح ہچکولے لیتی گاڑی چلاتی رہی پورے اپبے علاقے کا چکر لگایا۔ کئی بار بند ھوئی دو جگہ تو ٹکراتے ٹکراتے بچی۔
    اور چکر لگا کے لا کے واپس کھڑی کر دی۔ واپس کھڑی ویسی نہیں کر سکی جیسے بھائی نے کھڑی کی تھی۔ میں نے ٹیڑھی پارک کی۔
    اور ھمت دیکھیں کے چابی لا کے بھائی کی جیب میں واپس اندر بھی ڈالی اور انہیں سوتے میں پتہ تک نہیں چلا۔
    لیکن۔۔۔۔
    میں پھر بھی پکڑی گئی۔ چابی کی وجہ سے نہیں گاڑی غلط پارک کرنے کی وجہ سے اور محلے کی آنٹیوں کی وجہ سے۔
    اففففف یقین کریں جب آمی سے محلے کی آنٹی نے پوچھا کے طلعت بھی گاڑی چلانے لگی۔ تو سارا پول کھل گیا۔ اور آنٹی نے یہ بھی بتایا کے تین بار بند ھونے کے بعد کتنی مشکل سے گاڑی چلائی تھی۔
    پھر تو میری جو شامت آئی افففف۔ اور تو اور چھوٹی بہن بھی آمی کے ساتھ شامل ھو گئی اور امی کو کہا کے اس نے مجھے روکا تھا پر آپی زبردستی ڈانٹ کے مجھے لے گئی تھی۔
    اس دن مجھے نہ صرف گرانڈ کیا گیا بلکہ خاصی جھاڑ بھی پڑی۔
    ویسے اللہ کا شکر ہے کسی کو ٹکر نہیں ماری ورنہ یہ شرارت کافی نقصان کا باعث بن سکتی تھی۔ اب سوچتی ہوں کے اس حرکت سے کسی کی جان بھی جا سکتی تھی۔ پر جب نئی نئی جوانی ھو تو ان سب باتوں کا ہوش نہیں ھوتا۔
    آپ سب بھی سوچتے ہونگے کے طلعت کتنی شیطان کی پڑیا تھی۔

    @alwaystalat

  • دنیا کی نظر میں گیم چینجرعلاقوں کی عوام پانی کی بوند کو ترس گئے . تحریر: زاہد کبدانی

    دنیا کی نظر میں گیم چینجرعلاقوں کی عوام پانی کی بوند کو ترس گئے . تحریر: زاہد کبدانی

    1 گوادر (گوادر پورٹ ، سی پیک)
    2_نوکنڈی ۔چاغی (سیندک،ریکوڈک)
    3_خاران (راسکوہ ایٹمی تجربہ گاہ)

    اس وقت پوری دنیا کی نظریں بلوچستان کے تین ڈسٹرکٹ میں لگے ہوئے ہیں،گوادر جس کو خطے میں ایک گیم چینجر علاقے کی اہمیت حاصل ہے،دنیا کے تمام طاقتور ملکوں کی نظریں گوادر میں سرمایہ کاری کے لیے لگے ہوئے ہیں،اسی طرح دنیا میں عالمی سطح پر سونے اور تانبے کے زیادہ زخائر رکھنے والے علاقے نوکنڈی چاغی جہاں پر سیندک اور ریکو ڈک جیسی قدرتی وسائل سے مالا مال علاقہ اور خاران میں راسکوہ جہاں پر ایٹمی تجربہ کر کے پاکستان ناقابل تسخیر ملک بن گیا،لیکن دنیا کے سامنے یہی گیم چینجر علاقے زندگی کی بنیادی ضرورت پینے کی صاف پانی سے محروم ہیں،گوادر میں آئے روز نلکوں سے مختلف رنگوں کے پانی نکلتا ہے، کھبی نیلا،کھبی پیلا کھبی سیاہ آئے روز مختلف رنگ کے پانی سے وہاں کے عوام سراپا احتجاج ہیں،اسی طرح دنیا میں سونے اور تانبے کے زیادہ زخائر رکھنے والے علاقے نوکنڈی چاغی جہاں کے لوگ ایک گیلن پانی کے لیے کئی کئی گھنٹے انتظار کرتے ہیں،پاکستان کے بالا ایوان سینٹ کے چئرمین کی کرسی بھی گزشتہ پانچ سالوں سے نوکنڈی کی پانی کی قلت کا مسلہ حل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے،اسی طرح خاران میں بھی کل تک مختلف علاقوں کے مکینوں نے پانی کی قلت کے خلاف محکمہ پبلک ہیلتھ کے دفتر کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان کے حوالے سے حکمرانوں کے تمام دعوے صرف باتوں تک محدود ہیں،عملی طور پر لوگوں کی زندگی قرون وسطی کی دور سے بھی بد تر ہے،صرف مین اسٹریم میڈیا میں خوبصورت اشتہارات کے ذریعے دنیا کے سرمایہ کاروں کو بےوقوف بنایا جاسکتا ہے لیکن بلوچستان کے عوام کو مطمئن نہیں کیا جاسکتا ہے.

    @Z_Kubdani

  • خود کو سمجھو. تحریر: فضل عباس

    انسان کی سب سے بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کا قیمتی وقت دوسروں کو سمجھنے میں ضائع کر دیتا ہے انسان خود کو سمجھنے اور سنوارنے کی بجائے دوسروں کے دل میں موجود اپنی عزت دیکھنے کو ترجیح دیتا ہے

    انسان خود کو سمجھے گا تو ہی اپنی غلطیاں کم کر سکے گاجب انسان خود کو سمجھنے لگ جاتا ہے تو برائیاں اچھائیوں میں بدلتی ہے انسان نیکی کی راہ پر چلتا ہی تب ہے جب وہ خود کو پہچان لے خود کی پہچان درحقیقت نیکی کی پہچان ہے کیوں کے اگر ہم خود کو پہچان لیں تو نیکی کی راہ آسانی سے مل جاۓ گی

    انسان کو چاہیے کہ سب سے پہلے اپنی فطرت کو سمجھے پھر خود سے اپنی فطرت کا تجزیہ کرے اس میں جو غلط نظر آۓ اسے دور کرتا جاۓ جو اچھائی نظر آۓ اسے عاجزی میں بدلتا جاۓ یہ اسے ایک بہترین انسان بنا دے گا

    انسان کو چاہیے کہ اپنی طاقت کو سمجھے اسے پتہ ہو کہ کب اور کہاں طاقت کا استعمال کرنا ہے طاقت کا غلط جگہ استعمال کرنا درحقیقت بزدلی ہے طاقت ہے ہی وہ جو صحیح جگہ استعمال ہو آپ کی طاقت مظلوم کے حق میں استعمال ہو ظالم کے خلاف آپ کی طاقت کا مظاہرہ ہو
    کیوں کہ مظلوم کے خلاف طاقت کا استعمال ظلم کہلاتا ہے جب آپ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں تو سمجھیں آپ نے خود کو پہچان لیا

    انسان جب خود کو پہچان لے وہ اپنے آپ ایک طاقت ہوتا ہے کیوں کہ جب وہ اس منزل پر پہنچتا ہے اسے دوسروں کی اچھائیاں اور اپنی برائیاں نظر آتی ہیں تب وہ اپنے آپ کو برائیوں سے دور کرتا جاتا ہے اور اچھائیاں اس کے اوصاف میں شامل ہو جاتی ہیں

    اس لیے دوسروں کی بجائے خود کو سمجھیں اور ایک زبردست انسان کے طور پر ابھر کر آئیں تحریر: (فضل عباس)

  • فلاحی مقاصد کیلئے تیار کی گئی مہنگی ترین موم بتی ،قیمت کتنے لاکھ؟

    فلاحی مقاصد کیلئے تیار کی گئی مہنگی ترین موم بتی ،قیمت کتنے لاکھ؟

    دنیا کی سب سے مہنگی موم بتی فروخت کیلئے پیش کر دی گئی ہے جس کی قیمت 2021 برطانوی پاؤنڈ ہے جو قریباً چار لاکھ 40 ہزار روپے پاکستانی روپے بنتی ہے ۔

    باغی ٹی وی : فلیمنگ کریپ نامی کمپنی کی تیار کردہ موم بتی 30 گھنٹے تک مسلسل جل سکتی ہے ، سمیلز لائک کیپٹلزم نامی موم بتی جب جلتی ہے تو اس سے خالص چمڑے کے بتوے اور کرنسی نوٹوں کے جلنے کی بو آتی ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کا احساس دلاتی ہے ۔

    اس کو بنانے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ ہم اس سے حاصل ہونے والی تمام رقم بے گھر برطانوی لوگوں کی امداد پر خرچ کریں گے ، گویا یہ مہنگی ترین شے فلاحی مقصد کیلئے تیار کی گئی ہے ۔

    فلیمنگ کریپ کے مالک اولیوربور کا کہنا ہے کہ خوشبودار موم بتیوں کے بہت سے برانڈ ہیں جن کی قیمت ایک ہزار پونڈ تک ہوتی ہے تاہم اسے بیچنے والے اس ہوشربا قیمت کی کوئی وضاحت نہیں کرسکتے لیکن ہم اس رقم کو فلاحی کاموں میں استعمال کرتے ہیں۔

    اولیور نے کہا کہ تمام موم بتیاں ہاتھوں سے تیار کی جاتی ہیں جس کی تیاری میں جنون اور محبت نمایاں ہے۔ ’اس طرح ہم ایک معیاری شے تو دے ہی رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کی ہرممکن مدد بھی کررہے ہیں-

  • ترک حکومت نے جنگل میں پہلی لائبریری کھول دی

    ترک حکومت نے جنگل میں پہلی لائبریری کھول دی

    ترک حکومت کی جانب سے جنگل میں پہلی لائبریری کھول دی گئی۔

    باغی ٹی وی : ترکی اردو کے مطابق جنگلوں میں جن درختوں کی نشونما رک گئی تھی ان میں کتابوں کے فیکس بنا کر یہاں لائبریری کھولی گئی ہے حکومت کی جانب سے بنائی جانے والی اس لائبریری میں دو ہزار کے قریب کتابیں موجود ہیں –

    بچوں،نوجوانوں اور خواتین کی بڑی تعداد اس لائیبریری سے استفادہ حاصل کر رہی ہے ان کا کہنا ہے کہ اس طرح ہریالی کے درمیان بیٹھ کر کتابیں پڑھنے ک الگ ہی مزہ ہے۔

    ترکی لائبریریوں کو فروغ دینے کے لیے پہلے بھی کئی اقدامات کر چکا ہے ترکی میں اس سے قبل کچھ عرصہ پہلے پارک میں اوپن لائبریری کھولیں گئی تھی جسے لوگوں نے بہت پسند کیا تھا۔

  • “زندگی کا ایک اور سال بیت گیا “ تحریر:جواد خان یوسفزئی

    “زندگی کا ایک اور سال بیت گیا “ تحریر:جواد خان یوسفزئی

    کبھی نرمی، کبھی سختی، کبھی الجھن، کبھی ڈر
    وقت اے دوست ! بہرحال گزر جاتا ہے
    لمحہ لمحہ نظر آتا ہے کبھی اک اک سال
    ایک لمحے میں کبھی سال گزر جاتا ہے

    دوستوں نے یاد دلایا آج میراجنم دن ہے ۔ یوم پیدائش سے زیادہ اہم دن اور کون سا ہو سکتا ہے ۔ یہ دن باربار آتا ہے اور انسان کو خوشی اور دکھ سے ملے جلے جذبات سے بھر جاتا ہے ۔ ہر سال لوٹ کر آنے والی سالگرہ زندگی کے گزرنے اور موت سے قریب ہونے کے احساس کو بھی شدید کرتی ہے اور زندگی کے نئے پڑاؤ کی طرف بڑھنے کی خوشی کو بھی ۔
    زندگی کا (۲۳) واں سال ختم ہونے کو ہے۔ آج یونہی بیٹھے بیٹھے بات چھڑی کہ سال کیسا گزرا تو حسابِ سودوزیاں کرنے بیٹھی۔۔معلوم ہوا کہ۔۔
    وہی حالات، وہی رویے، وہی باتیں، وہی مخفل ۔۔کچھ خاص تبدیلی تو نہیں آئی۔۔سوائے کورونہ کی ایک لہر سے تیسری تک میں تبدیلی۔۔۔
    اس سال بھی سارے موسم ویسے ہی تھے۔۔ بے بسی اور کم مائیگی کے کہرے میں لپٹے ہوئے۔۔اس سال بھی اپنی اور دوسروں کی مجبوریوں پرجی بھر کے رونا آیا۔۔
    اس سال بھی لوگ امن و سکون کو ترستے رہے ۔
    ذاتی سطح پر دیکھوں تو بھی سب کچھ ویسا ہی ہے۔۔ذاتی کمزوریوں کی فہرست میں اضافہ ہوتادکھائی دیتا ہے۔
    آغاز سے اختتام تک یہ سال مجموعی طور پر ہم پاکستانیوں کے لئے بہت مشکل رہا۔ لیکن پھر بھی ہم رحمتِ خداوندی سے مایوس نہیں ہیں ۔۔اللہ تعالیٰ ہم سب کے لئے سب کچھ اچھا ثابت فرمائے اور انفرادی اور اجتماعی ہر دو سطح پر خوشیاں، سکون، امن و سلامتی اور کامیابیاں سب کا مقدر ہوں۔آخر میں اُن تمام دوستوں کا بہت بہت شکریہ جنہوں نے اس دن پر نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔۔۔اللہ تعالیٰ ہم سب کی مشکلیں آسان فرمائے۔۔(آمین)
    جواد خان یوسفزئی
    ٹویئٹر : Jawad_Yusufzai@

  • دانت اوورل کویٹی اور اسکی حفاظت(1) تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    دانت اوورل کویٹی اور اسکی حفاظت(1) تحریر: ڈاکٹر نبیل چوھدری

    ٹویٹر ھینڈل : @nabthedentist

    اللہ نے انسان کو اسکے جسم کو اسکی ھر ایک سانس کو قیمتی بنایا ھے اسکی حفاظت کرنا اسکا خیال رکھنا انسان پر ویسے ھی فرض ھے جیسے انسان کے لئے اعمال صالحہ کرنا انسان کا جسم اللہ کی امانت ھے اللہ خوبصورتی جمال اور طہارت کو پسند کرتا ھے اور صفائ رکھنے والے انسانوں کو اپنا محبوب رکھتا
    جسم کے تمام حصوں کی اپنی اہمیت ایسے ھی دانتوں کی بھی اہمیت ھے انکو روزانہ کم از کم دو بار صاف رکھنا ایک صبح ناشتے کیبعد ایک رات سونے سے پہلے انتہائ ضروری ھے انسان کے منہ میں زندگی میں دو بار دانت آتے پہلی بار 20 اور اگلی بار 32 پہلی بار جب دانت نکلتے تو ھم انکو دودھ کے دانت کہتے یہ چھوٹے جبڑے کے عین مطابق چھوٹے ھوتے اور پھر ابھی یہ موجود ھی ھوتے تو پیچھے پکی ڈارھیں نکلنا شروع ھوجاتی 13 سال کی عمر میں قریبی سارے پکے دانت نکل آتے سب سے آخری ڈارھ جسکو ھم عقل ڈارھ بھی کہتے وہ عموما جوانی میں نکلتی کئیوں کی یہ نکلتی بھی نھیں اور کئ کی خراب نکلتی اور پھر سرجری کرکے نکلوانی پڑھتی

    بطور ڈینٹل سرجن اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں پیدائش سے لیکر دانتوں کی مکمل عمر پہنچ جانے کے مراحل انکے مسائل اور ان سے جڑے مسئلوں کے حل پر ایک سیرپا گفتگو کرونگا جسکا مقصد لوگوں میں علم شعور پہنچانے کی اپنے تئیں کوشش ھوسکے کہ دانتوں کی کونسی بیماریاں ھیں انکا حل کیا ھے کب مریض کو ڈینٹسٹ پاس جانا چاہئے اور گھر پر ایسا کیا کریں کہ یہ مسئلے دوبارہ سر نا اٹھا پائیں
    بچوں میں جیسا کہ میں نے بتایا بچپن میں 20 دانت نکلتے دس اوپر والے جبڑے اور دس نیچے والوں میں تو 5 سال کی عمر سے لیکر 12 سال کی عمر ایسی ھوتی ھے جس میں زیادہ تر بچے دانتوں میں کیڑا لگنے کی شکایت کیساتھ ڈینٹسٹ کے پاس جاتے ھیں درحقیقت دانت بچپن سے خراب جورے تھے اثرات اس عمر میں آتے بچوں کے دانتوں کا سب سے بڑا دشمن فیڈر ھے اگر میرا بس چلے تو مارکیٹ میں جتنی کمپنیز ھیں انکے فیڈرز کو آگ سے جلادوں یہی بچوں میں rampant caries نامی بیماری پیدا کرتے یہی دانت ٹیرے کرنے میں سب سے زیادہ کردار ادا کرتے بچوں کونتکالیف درد جن کیسز میں آتا ان میں 90 فیصد فیدر استعمال کرتے بچے ھی ھوتے دوسری غلطی بچوں کے مناسب دانت صفائ نا کرنا انکو دانت صاف کرنے کا سلیقہ طریقہ نا سکھانا ھے اور جو دانت صاف کر رھے ھوں بچے انکو ھائ فلورایئڈ والے ٹوتھ پیسٹ سے دانت صاف کروانا ھے

    بچوں کا بچوں والا ٹوتھ پیسٹ دیں ٹوتھ برش دیں اور دانت دو بار صاف نھین کروانے بلکہ ھر بار جب وہ کچھ میٹھا کھائیں یا باھر کا۔کچھ کھائیں تب صاف کروانے ھیں
    بچہ 11 سال کا جب ھوجاتا یا اسکے canine جو نوکیلے دانت ھوتے وہ نکل آئیں تو اسوقت اگر آپکو لگے کے بچے کے دانت ٹیڑھے ھیں تو آپ ڈینٹل سرجن پاس جائیں ایک اچھا ڈینٹسٹ ایک اچھا صاف ستھرا کلینک اور ایک اچھی ٹریٹمنٹ بچوں کیلئے ھمیشہ ترجیحی بنیاد پر ھونے چاہئے

  • حیوان کو انسان سے خطرہ: تحریر:عمران اے راجہ

    حیوان کو انسان سے خطرہ: تحریر:عمران اے راجہ

    اللہ نے بنی نوع انسان کے ساتھ کروڑوں چرند پرند بھی پیدا کیے جن کی حیات و افزائش، نسل انسانی کے ساتھ چلتی اور معدوم ہوتی رہی۔
    جب میں ساؤتھ افریقہ شفٹ ہوا تو خاصی حیرانگی ہوئی کہ یہاں چند جانور ایسے ہیں جن کی حفاظت ہمارے وی آئی پیز کی طرح کی جاتی ہے اور انتہا تب ہوئی جب اس جانور کا شکار کرنے والے شکاری جنہیں رینجرز کی زبان میں “پوچرز” کہا جاتا ہے مقابلے کے بعد شدید زخمی اور کچھ کو ہلاک کر دیا گیا۔ جی ہاں جان سے مار دیا گیا۔
    یہ حفاظتی اقدامات تھے “گینڈے” کو شکار سے بچانے کے لیے۔ ڈائنوسارز کے زمانے سے چل رہے چند جانوروں میں اب صرف ہاتھی اور گینڈا ہی باقی رہے اور گینڈا کی نسل اس کے دانت کی وجہ سے انتہائی شدید خطرات سے دوچار ہے۔
    کچھ بعید نہیں اگر جانور زبان رکھتے تو ضرور کہتے کہ “انسان کس قدر حیوان اور وحشی ہے”۔ جانور کا بھی کرۂ ارض پر اتنا ہی حق ہے جتنا کہ عام انسان کا مگر کیا کیجیے۔
    گینڈے بارے تھوڑی تحقیق اور معلومات آپ سے شیئر کرتا ہوں جو کم ہی لوگوں کو معلوم ہیں اور کیسے ساؤتھ افریقن حکومت انہیں بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔۔
    آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں جنگلات کا خاتمہ ہوتا جارہا ہے۔ اس سے نہ صرف گلوبل وارمنگ میں اضافہ ہوا ہے بلکہ جنگلی حیات کو بھی خطرات لاحق ہیں ۔ زیادہ تر جنگلات میں جنگلی جانور نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جنوبی افریقہ کے جنگلات ان چند جنگلات میں سے ایک ہیں جہاں اب بھی مختلف اقسام کے جنگلی جانور موجود ہیں۔اس لیے یہ تمام دنیا میں بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ یہاں بہت سے ایسے جانور پائے جاتے ہیں جو اب باقی دنیا میں ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ انھی جانوروں میں سفید اور سیاہ گینڈے بھی شامل ہیں۔ گینڈوں کی نسل گزشتہ کئی دہائیوں سے معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے۔ مختلف جرائم پیشہ افراد ان کے سینگ کے حصول کے لیے ان کا شکار کرتے ہیں اور ان کو بلیک مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ جسامت کے لحاظ سے یہ ایک بکتر بند ٹینک کی طرح ہے۔ یہ لاکھوں سال سے ہمارے ساتھ اس دنیا میں موجود ہے، لیکن اب اس کو ہماری مدد کی ضرورت ہے ۔ 1970 تک گینڈوں کی تعداد 70،000 تھی جو اب 27،000 کے قریب ہے۔

    جنوبی افریقہ میں پائے جانے والے سفید اور سیاہ گینڈے میں اگرچہ رنگت کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہوتا ۔ دونوں ہی سرمئی رنگت کے ہوتے ہیں لیکن ان کو ان کی مختلف خصوصیات کی وجہ سے یہ نام دیے گئے ہیں۔
    سفید گینڈا ہاتھی کے بعد زمین پر پایا جانے والا دوسرا بڑا ممالیہ جانور ہے۔ سفید گینڈا 1900 کی دہائی کے اوائل میں 100 سے بھی کم رہ گئے تھے۔ لیکن عالمی محکمہ تحفظ جنگلی حیات اور ان کے ساتھیوں کی کوششوں سے اب ان کی تعداد بڑھ کر 17،212 اور 18،915 کے درمیان ہوگئی ہے۔
    سیاہ گینڈے کا سائنسی نام ڈیسورس بائی کارنس ہے۔ یہ سفید گینڈے کے مقابلے میں چھوٹے ہوتے ہیں۔ یہ پودے اور جڑی بوٹیاں کھاتے ہیں۔ خاص طور پر ببول ان کی پسندیدہ غذا ہے۔ سیاہ گینڈوں کی آبادی 1970 میں 70،000 سے کم ہو کر 1995 میں صرف 2،410 رہ گئی تھی۔ لیکن افریقی محکمہ تحفظ جنگلی حیات کی مسلسل کوششوں کی بدولت اس وقت ان کی تعداد 5،366 اور 5،627 کے درمیان موجود ہے۔

    معاشی ترقی اور آبادی کے پھیلاؤ کی وجہ سے جنگلات کو کاٹ کر نئے شہر اور کالونیاں قائم کی جانے لگیں۔ اس عمل سے جنگلی حیات کوناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ کیونکہ ان کے قدرتی گھر ختم ہونا شروع ہو گئے، جہاں یہ مل جل کو گروہوں کی شکل میں رہتے تھے۔ اب یہ الگ تھلگ علاقوں میں تقسیم ہو گئے، جہاں ان کی افزائش کو خطرہ ہے۔ بہت کم گینڈے قومی پارکوں اور مصنوعی جنگلوں میں زندہ رہ پاتے ہیں۔

    جنگلی جانوروں خاص طور پر گینڈوں کو بہت سے لوگ غیر قانونی طور پر شکار کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ شوقیہ طور پر بے رحمانہ طریقے سے جانوروں کا شکار کرتے ہیں۔ جس سے ان کی نسل تیزی سے معدوم ہوتی جا رہی ہے۔

    شوقیہ شکار کرنے والوں کے ساتھ ساتھ زیادہ تعداد ان افراد کی بھی ہے جو ان کا سینگ حاصل کرنے کے لیے ان کا شکار کرتے ہیں۔ ایشیاء اور باقی دنیا میں پائے جانے والے گینڈوں کا ایک سینگ ہوتا ہے۔ لیکن جنوبی افریقہ میں پائے جانے والے گینڈوں کے دو سینگ ہوتے ہیں۔ اسی لیے انھیں زیادہ شکار کیا جاتا ہے۔ لوگ یہ سینگ روایتی دوائیوں کے استعمال یا بیش قیمت تحفے کے طور پر دینے کے لیے بلیک مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔ چین اور ویتنام کی منڈیاں ان کے سینگ کی بڑی خریدار ہیں۔ چین کی ایک اہم مارکیٹ میں اس کے سینگ سے بنے نوادرات فروخت کیے جاتے ہیں۔ ویتنام میں اس کو کینسر کے علاج کے لئے بہترین سمجھا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا سینگ جسم سے زہریلے مادوں کو ختم کرتا ہے، اس لیے سنگین سے سنگین بیماری میں بھی شفا دیتا ہے۔
    دنیا بھر میں گینڈوں کی آبادی کا تقریبا 80 فیصد جنوبی افریقہ کے کروگر نیشنل پارک میں موجود ہیں ۔گذشتہ پانچ سالوں میں 5100 سے زائد گینڈے غیر قانونی طور پر شکار ہوئے جن میں سے 50 فیصد صرف کروگر نیشنل پارک میں شکار ہوئے۔ لیکن افریقہ کے جنگلات میں اب ان کی حفاظت کے لیے رینجرز، ڈرون کیمروں اور جہاں ضرورت ہو تو مسلح افواج کی بھی مدد لی جا رہی ہے۔

    اگرچہ غیر قانونی شکار پر پابندی اور مصنوعی طریقوں سے افزائش نسل کر کے ان کی آبادی کو بڑھانے کی کوشش بہت حد تک کامیاب ہے۔ لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔ ہمیں اپنے قدرتی ماحول کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا ہوگی۔ اس کا شکار زیادہ تر سینگ کے حصول کے لئے کیا جاتا ہے، اس لیے صارفین کی مانگ ختم ہو جائے تو شکاریوں اور سمگلروں کی اس میں کوئی دلچسپی باقی نہیں رہے گی۔ اس کے علاوہ قدرتی وسائل کے استعمال میں احتیاط سے کام لینا چاہیے تاکہ کم سے کم جنگلات کی کٹائی ہو۔ اور یہ قدرتی ماحول میں نسل برقرار رکھ سکیں۔

    ‏Imran A Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He has been writing for different forums. His major areas of interest are Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • پاکستان میں کاروباری ماحول . تحریر : محمد ذیشان

    پاکستان میں کاروباری ماحول . تحریر : محمد ذیشان

    پاکستان کی طرح ، دنیا بھر میں بھی کاروبار مخصوص خاندان چلاتے ہیں۔ نہ صرف یہ خاندان چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار چلاتے ہیں بلکہ انہوں نے پوری دنیا میں کامیابی کے ساتھ بڑے کاروبار بھی چلائے ہیں۔ ڈوپونٹ جیسے کاروبار کا انتظام اس خاندان نے 170 سال تک برقرار رکھا ، یہاں تک کہ سن 1970 کی دہائی میں پیشہ ورانہ منیجروں نے اسے سنبھال لیا تھا۔

    میرے نزدیک پاکستان میں کاروبار کرنے والے خاندان رحمت کا مجسمہ ہیں کیونکہ وہ لوگوں کو روزگار مہیا کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ ، پاکستان کے موجودہ تناظر میں ، کاروبار کرنا جوئے کے مترادف ہے۔ اور ناجائز حالات میں کاروبار کرنے والے نوجوان کاروباری خاندان اپنے عملی اقدامات کے ذریعہ اپنی حب الوطنی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ آج ہم ان میں سے کچھ تجاویز کا ذکر کریں گے جن سے پاکستانی کاروباروں کی پیداور میں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
    یہ کہنا بجا ہے کہ زیادہ تر ہماری کمپنیوں میں انگوٹھے کا راج ہے۔ سیٹھ صاحب کے آس پاس میں ہمیشہ خوف و ہراس رہتا ہے۔ خوف تخلیقی صلاحیتوں کو کھا جاتا ہے جیسے دیمک لکڑیاں نگل جاتا ہے۔ خوف و ہراس کے ماحول میں اپنی مرضی کا اظہار کرنے سے منع کرتا ہے اور معمول بن جاتا ہے۔ اس معاملے کی حقیقت یہ ہے کہ کاروبار ایسے مکالمے پر فروغ پزیر ہوتے ہیں جو بغیر کسی نفسیاتی عدم تحفظ کے جاری رہتا ہے۔

    خوف نفسیاتی عدم تحفظ پیدا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر خوف مفید معلومات کے تبادلے کو روکتا ہے ، اور معلومات کا تبادلہ کسی بھی کاروبار کی گروتھ کی ضمانت دیتا ہے۔ مسٹر سیٹھ کو بے ہوشی میں یہ جملہ سناتے ہوئے سنا گیا ہے ، "میں چاہتا ہوں کہ ہر ایک مجھے سچ کہے ، چاہے انہیں اس سچائی کے نتیجے میں ملازمت چھوڑنی پڑے۔” آپ بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ ان "سازگار حالات” میں سچ بولنے والا کتنا بے وقوف ہوگا۔
    خوفناک ماحول میں کام کرنے کے مضر اثرات یہ ہیں کہ ہر ملازم ایک فوری دلچسپی دیکھتا ہے اور اپنی ملازمت کو بچانے کے لئے ہمیشہ بے چین رہتا ہے۔ جو لوگ خوف زدہ ماحول میں کام کرتے ہیں وہ اپنی غلطیاں چھپاتے ہیں اور پھر جب ان قالینوں کے نیچے جان بوجھ کر چھپی غلطیوں کا پہاڑ ہمالیہ بن جاتا ہے تو پوری کمپنی گر جاتی ہے۔ ایسے افراد جو کسی کمپنی میں کام کرتے ہیں وہ صرف تب ہی اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں گے جب کمپنی کے مالکان اپنی غلطیوں کا کھل کر اعتراف کریں۔ "اگر کوئی داغ نہیں ہے تو کوئی سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے” میں بڑی حکمت ہے اور انسان غلطیوں کا پتلا ہے اور سی ای او غلطیوں سے آزاد نہیں ہیں۔ ۔
    ہماری سیٹھ کمپنیوں میں ، لوگوں کو عام طور پر شکوک و شبہات کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور یہ مفروضہ کہ "لوگ نوکری چور ہیں” بزنس الہیات کا ایک لازمی جزو بن جاتا ہے۔ نفسیات سے پتہ چلتا ہے کہ لوگ ان توقعات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیتے ہیں جو ان سے وابستہ ہیں۔ جب ہم کسی مزدور کو مزدور سمجھتے ہیں ، تب وہ حقیقت میں کام چور ہوگا۔ اس کے برعکس ، اگر ہم یہ خیال رکھیں کہ لوگ سخت محنت کرنا چاہتے ہیں اور تھوڑی حوصلہ افزائی کریں، تو ہم ان پر اعتماد کریں گے تاکہ ان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بیدار کیا جا سکے.

    ہمارے پاکستانی کاروبار میں اکثر ماضی کا غلبہ ہوتا ہے۔ ہم اپنے ادارے یہاں میموری کی بنیاد پر چلاتے ہیں۔ ماضی میں کامیابی لانے والی حکمت عملی کے ساتھ ، ہم مستقبل میں بھی کامیابی کی تحریک چاہتے ہیں۔ تاہم ، کامیابی مسلسل سوچنے کا نتیجہ ہے۔ کاروبار میں سوچ سمجھ کر درج ذیل فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
    1. ہم اپنی جبلت کے غلام نہیں بنتے ہیں۔
    2. ہم کوئی رد عمل ظاہر نہیں کرتے ہیں۔
    3. ہم آنکھیں بند کرکے احکامات پر عمل نہیں کرتے ہیں۔
    4. ہم عارضی جذبات کے بہاؤ سے گریز کرتے ہیں۔

    چاپلوسی کی وبا سیٹھ کمپنیوں میں بھی عام ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ نمو کارکردگی کی بنیاد پر کم اور چاپلوسی کے ذریعہ زیادہ تیزی سے ہوتی ہے۔ ہر ایک اپنی تعریف سننا پسند کرتا ہے اور ناپسندیدگی کو ناپسند کرتا ہے۔ تو وہ سیٹھ صاحب کو ہاں کہتے رہتے ہیں اور ترقی کی سیڑھی پر چڑھتے رہتے ہیں۔ جو لوگ جھک جاتے ہیں وہ اونچائی ڈھونڈتے ہیں اور جو اپنے آپ کو بلند کرتے ہیں وہ کسمپرسی کی زندگی گزارتے ہیں۔ بہرحال ، "سب ٹھیک ہے” کی آواز کانوں میں پگھل جاتی ہے ، جبکہ وہ لوگ جو عیب کی نشاندہی کرتے ہیں وہ من مانی گھٹن کا سبب بنتے ہیں۔
    انتظامی عہدوں پر بھرتی کے لئے، ان امیدواروں کو نظرانداز کرنا ضروری ہے جو سب کو خوش رکھنا چاہتے ہیں یا جو کسی کی خوشی کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ ایک مینیجر جو دو سالوں میں جانشین پیدا نہیں کرتا ہے وہ ایک کرسی کے لیے پاگل ہوتا ہے اور کرسی کے پاگلوں سے ادارے تباہ ہوجاتے ہیں۔
    ادارے لوگوں سے بنے ہوتے ہیں اور جب لوگوں کو مشینی حصوں کی طرح نکال دیا جاتا ہے تو پھر کمپنیاں مکان نہیں بنتی بلکہ دروازے بنتے ہیں جو آتے جاتے رہتے ہیں۔
    لہذا ہمیں ان نکات پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے تا کہ کاروباری ماحول پروان چڑھے.