Baaghi TV

Category: متفرق

  • سی پیک کے بعد ایک اورانقلابی پروجیکٹ . تحریر: احمد حسن

    سی پیک کے بعد ایک اورانقلابی پروجیکٹ . تحریر: احمد حسن

    سی یپک کے بعد خطے کےلیے ایک اور تاریخی پروجیکٹ آنے والا ہے جس کو آج عمران خان نے خطے کےلیے انقلابی پروجیکٹ کا نام دیا۔

    یہ پروجیکٹ پاکستان افغانستان ازبکستان ریلوے منصوبہ ہے ۔ پاکستان، افغانستان اور ازبکستان ریلوے کے درمیان اس منصوبے کیلئے573 کلو میٹر تک ریلوے ٹریک بچھایا جائے گا اور اس ریلوے منصوبے پر تقریبا 4 ارب 80 کروڑ ڈالرز لاگت آئے گی۔ یہ منصوبہ پاکستان کو براہ راست وسطی ایشیائی ریاستوں سے جوڑ دے گا جس کے بعد تیز ترین تجارت ہو گی ۔ تاجکستان اور ترکمانستان سمیت دیگر وسطی ایشیائی ممالک بھی مجوزہ ریلوے منصوبے میں شامل ہو سکیں گے۔

    اس منصوبے سے خطے میں پاکستان کا اثر ورسوخ بڑھے گا۔ افغانستان اس کا مرکزی کردار ہے لہذا پاکستان اور ازبکستان مل کر لائحہ عمل ترتیب دے رہے ہیں۔ اس منصوبے کے بعد افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں میں پاکستان ہر قسم کی اجارہ داری کو کاؤنٹر کر پائے گا۔ یہ سفارتی ، سیاسی اور اقتصادی اعتبار سے ایک انقلابی پروجیکٹ ہے جس سے پاکستان کی ترقی کی رفتار تیز تر ہو جائے گی۔

    افغانستان اور ازبکستان کے درمیان 144 کلو میٹر کی سرحد ہے۔ خود ازبکستان کے اہم وسطی ایشیائی ریاستوں کرغیزستان ، تاجکستان اور ترکمانستان سے بارڈر لگتے ہیں۔ ازبکستان سے باقی وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ ساتھ قزاقستان تک بھی تیز ترین رسائی ہو گی جو ان قریبی وسطی ایشیائی ریاستوں میں سب سے بڑی ریاست ہے اور اس سے روس تک رسائی ہو گی۔ قازقستان میں اس قدر قدرتی وسائل ہیں کہ ہر ملک اس سے تجارت کا خواہاں ہے ۔ آئل کے حساب سے دیکھا جائے تو قازقستان دنیا کا سب سے بڑا آئل ایکسپورٹر بن سکتا ہے۔ اس کی جغرافیائی اہمیت بھی مسلمہ ہے۔

    یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کےلیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ سی پیک کے بعد اس منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد ہم واضح کہہ سکیں گے کہ پاکستان خطے میں اپنی معاشی اجارہ داری قائم کر چکا ہے۔ دنیا کی پانچویں بڑی مارکیٹ یعنی پاکستان ایسے منصوبوں کی بدولت جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیائی ریاستوں کےلیے خصوصاً اور پورے ایشیا کےلیے مرکزی حثیت اختیار کر جائے گا ۔ معاشی برتری کے بعد پاکستان خارجہ سطح پہ بھی مضبوط ہو گا۔

    عمران خان نے حکومت میں آتے ہی اس اہم منصوبے کےلیے رابطے شروع کیے تھے اور پھر 11 دسمبر 2018 کو ازبکستان ، روس ، قازقستان ، افغانستان اور پاکستان کے مابین ، ایک مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام اور مزار شریف -کابل – پشاور ریلوے کی تعمیر کے لئے مالیاتی کنسورشیم کے لئے ایک پروٹوکول پر دستخط کیے تھے ۔ اس کے بعد فزیبلٹی سٹڈی جاری رہی تاہم کسٹم،امیگریشن اور بارڈر اتھارٹیز کے معاملات میں کچھ مشکلات رہیں ۔ کرونا وائرس اور افغانستان کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر منصوبہ تاخیر کا شکار رہا ہے ۔ ان شاءاللہ اب اس پہ باقاعدہ کام شروع ہو جائے گا ۔ اس سال فروری میں اہم معاملات طے پا گئے ہیں۔ ان شاءاللہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان نہ صرف اپنے لیے بلکہ خطے کےلیے بھی ترقی کا مرکز بنے گا۔

    @IAhmadPatriot

  • پاکستان اورافغان امن . تحریر: فرزانہ جنت

    پاکستان اورافغان امن . تحریر: فرزانہ جنت

    افغانستان اورپاکستان خطے میں انتہائی اہمیت کے حامل دو اسلامی برادر ملک ہیں. پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا اور اسلام ہمیں پر امن طریقے سے زندگی گزارنے کا درس دیتا یے. بحیثیت مسلمان یہ ہم پاکستانیوں کا مذہبی فریضہ ہے کہ خطے میں امن و امن کو برقرار رکھیں. اسی لئے پاکستان اپنے ملک اور باقی تمام اسلامی و غیر اسلامی ممالک میں امن چاہتا ہے.

    پاکستان ہمیشہ سے افغانستان کا خیر خواہ.رہا ہے. مستحکم اور خوشحال افغانستان اپنے اور اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پاکستان کے بھی مفاد میں یے. کیوں کہ افغانستان میں امن کا مطلب ہے پاکستان میں امن__ خطے میں امن و استحکام افغانستان میں دیرپا امن سے منسلک ہے
    ہمارے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ ایک پرامن افغانستان کا مطلب بالعموم ایک پرامن خطہ اور بالخصوص ایک پرامن پاکستان ہے ، اور کہا : "ہم ہمیشہ ‘افغان امن عمل’ کی حمایت کریں گے۔”

    پوری تاریخ میں ، پاکستان واحد طاقت رہی ہے جو واقعتا یہ سمجھتی ہے کہ افغانستان میں استحکام اور قیام امن ازحد ضروری ہے. پاکستان سے زیادہ کسی اور ملک نے افغانستان میں امن کی خواہش نہیں کی۔ پاکستان نے افغان امن عمل کی لئے لازوال قربانیاں دی ہیں. ہزاروں قیمتی انسانی جانوں کے ساتھ کھربوں روپے مالیت کا معاشی بوجھ برداشت کیا. معاشی و اقتصادی پابندیاں اس کے علاوہ ہیں. چالیس سال سے زائد عرصہ سے لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں قیام پذیر ہیں جن کی وجہ سے ملک کو منشیات، ناجائز اسلحے کی بہتات اور امن وامان کے حوالے سے سنگین مسائل نے لپیٹ میں لیے رکھا. ان تمام نہ مساعد حالات کو برداشت کیا گیا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ افغان امن کے بغیر خطے کی سلامتی اورپاکستان کے استحکام کوممکن نہیں بنایا جا سکتا۔ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لئے ٹھوس کردار ادا کیا اور افغان طالبان اور عالمی برادری کے درمیان کامیاب مذاکرات کی راہ ہموار کی۔ پاکستان کے اندرونی حالات چاہے پیچیدہ ہوں لیکن پاکستان کبھی دوسرے ملک کا برا نہیں سوچ سکتا ہے. یہ پاکستان کی ہی مخلصانہ کوششوں کا ثمر ہے کہ امریکا اور افغان طالبان کے درمیان تاریخ ساز امن معاہدہ طے پایا.

    اس سب کے باوجود پاکستان پر الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ پاکستان امن کی راہ میں رکاوٹ ہے اور دہشتگردی کو فروغ دے رہا ہے. لیکن یہ صرف بےبنیاد الزامات ہیں . جن کی حقیقت کچھ بھی نہیں. حقیقت میں ، پاکستان نے افغانستان میں صرف اسٹریٹجک استحکام اور امن کی کوشش کی ہے۔ پاکستان پورے خطے میں استحکام چاہتا ہے۔ پاکستان ہمیشہ اپنے برادر ملک کے ساتھ کھڑا ہے ان شاء الله. ہمیشہ انکی مدد کرے گا

    @_J786

  • عید قربان اور انسان .تحریر : شانزے علی

    عید قربان اور انسان .تحریر : شانزے علی

    عید کا تہوار قریب تر ھے،ہر طرف گہما گہمی کا عالم ھے،بچے بوڑھے اور جوان سر گرم نظر آ رھے ھیں۔گائے ، بیل،بکرے،بھیڑ ،اونٹ جگہ جگہ بندھے ھوئے ھیں۔بچوں کا شور ،بڑوں کی آوازیں اس پر جانوروں کی دوڑ اور نوجوانوں کی شرطیں۔
    زبردستی چارہ کھلانے اور پانی پلانے کاجنون۔
    اک عجب سا منظر ھے شاید جانور بھی سوچ رہا ھے جانور کون ھے؟؟
    میرے گھر کی تیسری منزل سے کئی روز سے میں یہ مناظر دیکھتی ھوں اونٹوں کی نکیل ان کی ناک سے جڑی ھوتی ھے۔بچے اس رسی کو بے دردی سے کھینچتے ھوئے اونٹ کو زبردستی بھاگنے پر مجبور کرتے ھیں۔اور جب وہ رکتا نہیں ھے تو نکیل کو جھٹکا دے کر روکنے کی کوشش کرتے ھیں ۔
    کیا وہ جاندار نہیں؟کیا اسے درد نہیں ھوتا؟کیا قربانی سے پہلے وہ آپکا کھلونا ھے؟؟
    دوسری جانب گلی میں ایک بیل ھے جو دو بار رسہ تڑوا کر بھاگ چکاھے اور کل اس کی گردن پر رسہ کھینچنے کی وجہ سے زخم ھو گیا ھے۔
    کسی نے وجہ جانی یا سوچا؟
    جب جانور کے کھیتوں یا کسی فارم ہاؤس یا ڈیری فارم سے لایا جاتا ھے نازوں سے رکھا جاتا ھے۔وقت پر کھلایا پلایا اور نہلایا جاتا ھے۔
    یہاں گرمی ،غلاظتوں کا ڈھیر اس پر شور اسے تکلیف دیتے ھیں۔ پھر وہ بھاگتا ھے اور انسان عید کے گوشت کے پیچھے بھاگتا ھے۔

    کیا قربانی گوشت کا نام ھے؟
    وہ گوشت جسے بس ذبح کرو،فریز کرو،مہینوں جمع رکھو،رشتے داروں میں شاپر بھر بھر بانٹو جو خود بھی قربانی کرتے ھیں؟؟
    باربی کیو بناؤ؟؟پارٹیاں اڑاؤ؟
    ذرا سوچئے!!کیا آپ کو عید قربان کا معنی و مفہوم معلوم ھے؟؟ اسی کی مخلوق کو درد اور تکلیف میں ڈال کر اپنا اور اپنے بچوں کا نفس خوش کر کے کیا قربان کر رھے ھیں آپ گوشت یا اپنی پیار سے پالی ھوئی چیز راہ خدا میں رضائے خدا کے لئے ؟

  • شاید کہ کسی دل میں اتر جائے میری بات .تحریر۔ ہماعظیم

    شاید کہ کسی دل میں اتر جائے میری بات .تحریر۔ ہماعظیم

    ‏یہ تحریر ہر لڑکی کے لٸیے ہے۔۔کیونکہ اس نے کبھی نہ کبھی ماں بننا ہے۔ اور ایک نسل کی زمہ دار ہے ہر لڑکے کے لٸیے بھی کہ وہ ایک نسل کا محافظ ہوگا
    یہ بات زہن میں رہنی جب بچہ کوکھ میں ہوتا ہے تو بچے کی فطرت بنتی ہے۔۔اور فطرت کبھی نہیں بدلتی۔۔اور فطرت بناتی ہے ماں۔۔
    ماں ہر حرکت بچے میں منتقل ہوتی ہے۔۔ماں کا دیکھنا سننا کوٸی کام کرنا۔۔۔
    سو صرف نو ماہ عورت ‏اللہ کے لٸیے گزارو۔۔روزہ رکھے آنکھوں کا کانوں کا ہاتھوں کا منہ کا۔۔بےشک نیک ہو پاک ہو ۔۔مگر گانے دیکھے گی۔کوٸی فحش ویڈیو۔۔کوٸی فضول ڈرامہ یا فلم۔۔بچے پر کہیں نہ کہیں اثر پڑے گا۔۔ماں جھوٹ بولے گی۔۔غیبت کرے گی۔۔کوٸی چیز بنا پوچھے لے کر استعمال کر لے گی بچےپر اثر آۓ گا۔۔ماں کسی غلط ‏ارادے سے چل کے جاۓ گی۔۔پھر بعد میں سوچے گی میرا بچہ غلط رستے پر کیسے نکل گیا۔۔

    ایک ماں کا واقعہ ہے۔۔وہ ایک بزرگ کے اس پہنچی اور کہا۔۔میرے بچے نے آج چوری کی۔۔جب کہ میں نے اسکی تربیت ایسی نہیں کی۔۔۔
    بزرگ نے کہا تم یاد کرو تم نے حمل کے دوران کچھ ایسا کام کیا ہوگا جو تمہیں نہیں ‏کرنا چاہیٸے تھا۔۔وہ عورت سوچنے لگی۔پھر بولی ہاں میرے پڑوس میں ایک پھلدار درخت ہے۔۔حمل کے دوران ایک آنگن میں بیٹھی تھی کہ پھل کی کچھ ڈالیاں لٹک کر میرے گھر آرہیں تھی۔۔میرے دل نے چاہا میں کھا لوں۔۔اور بنا پوچھے میں نے اس میں سے کچھ کھا لیا۔۔۔
    بزرگ بولے بس تمہیں جب شیطان نے بہکا دیا

    اسی طرح جب شیخ عبدaلقادر جیلانی اس دنیا میں تشریف لاۓ تو انہیں چودہ سپارے مادر شکم سےحفظ تھے۔۔معلوم پڑاکہ والدہ حالت حمل میں قرآن کی تلاوت کیا کرتی تھیں۔۔
    ‏اب آپ اندازہ لگا لیں۔۔۔کتنا اثر ایک ماں کا اسکی اولاد پر۔۔ماں کو اگر کوٸی درجہ دیا گیا ہے تو یہی وجہ ہے وہ اپنا دل مارتی ہے۔چاہت ختم کر دیتی ہے اولاد کے لٸیے۔۔احساس میں صرف وہ درد ہوتا ہے جو اولاد کے لٸیے ہوتا ہے۔تو آج بھی خالید بن ولیدؒ۔قاسمؒ اور غزنویؒ پیدا ہو سکتے ہیں۔جو ماں قربانی ‏دے گی اس کے بچے وہ پیدا ہونگے دنیا اس پر قربان جاۓ گی
    فطرت کے بعد بنتی ہے عادت جو ماں کی گود اور ماں تربیت جب تک بچہ اس کی دسترس میں رہتا ہے باہر نہیں نکلتا۔دوست نہیں بناتا۔۔تب تک ماں کی محنت ہے کہ وہ بچے کو کون سے سانچے میں ڈھالتی ہے۔اچھے برے اور غلط صحیح کا کیا معیار اس کےدماغ ‏میں ڈالتی ہے۔اسے معاشرے کے لٸیے سود مند بناتی ہے یا پھر زمانے کے لٸیے ایک مشکل بنا دیتی ہے۔یہ ایک ماں ہاتھ میں ہے

    فطرت کے بعد آتی ہے عادت۔ یہ بھی ماں کا ہنر ہے بچہ جب تک گود میں ہے آپکی دسترس میں ہے۔آپ کی حرکات سکنات اپ کی باتیں ماں کا سمجھانا ماں اس کے سامنے اس کے ساتھ جو روٹین بناٸیں گی۔۔۔اس کے زہن میں نقش ہوتی جاۓ گی اور بڑھاپے تک اس کے ساتھ رہے گی۔
    جب بچہ گود سے نکل جاتا ہے باہر کی ہوا کھاتا ہے تو پھر وہ لوگوں کو دیکھتا سمجھتا ہے۔۔پھر امتحان شروع ہوتا ہےماں کی دی فطرت کا بناٸی گٸی عادت کا۔
    وہ پھر زمانے سے لڑنا سیکھتا ہے یہ دونوں چیزیں اس کا بازو اس کی طاقت بنتی ہیں۔وہ اپنا رستہ چنتا ہے صحیح یا غلط۔۔اگر اوپر کی لاٸینز کے مطابق ماں کوشش کر گٸی ہے تو براٸی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
    ماں کے بعد کردار ہے باپ کا کلیدی مضبوط کردار۔
    باپ کے عہدے پر فاٸز مطلب اپنی نسل کا زمہ دار ہونا
    جیسے عورت کا مرتبہ اسے ایسے نہیں ملتا۔۔وہ ماں بنتی بچے کی عادت اور فطرت میں جتنا اسکا ہاتھ ہے اتنا ہی باپ کا ہاتھ ہے۔۔۔
    والد کی کماٸی ۔والد کا رویہ۔اس بچے کے اوپر اثر انداز ہوتا ہے۔
    والد حلال کماٸی اسے ولی بنا دیتی ہے حرام نوالہ اسے معاشرے پر بوجھ بنا دیتا ہے۔ حرام کماٸی معاشرے میں ایک شیطان کا اضافہ کر سکتی ہے
    والد کا رویہ بچے کے لٸیے رول ماڈل ہے۔والد کا
    لہجہ اس کا لہجہ بناتا ہے۔آج باپ جو اپنے گھر والوں کے لٸیے ہے۔۔کل وہ بنے گا ۔
    لہزا ایک باپ ہونے کے ناطے اپنے اوپر ایسے توجہ دی جاۓ جیسے کسی کے آگے پیش ہونا ہے۔ایک باپ کو اپنا اخلاق اور رویہ ‏اپنے اقدار کو ایسے سنوارنا چاہٸیے کہ اس نے اللہ سے پہلے اپنی اولاد کے آگے پیش ہونا ہے۔۔پھر وہ اسے دیکھ کے آگے والوں کے آگے اور اللہ کے پیش ہونے کے قابل بنے گی

    شاید کہ کسی دل میں اتر جائے میری بات

    @DimpleGirl_PTi

  • سر زمین اقصیٰ روتی ہے!   تحریر  آٸمہ چودھری

    سر زمین اقصیٰ روتی ہے! تحریر آٸمہ چودھری

    انبیاء کی سر زمین فلسطین کو یہودی ریاست میں تبدیل کرنا مشرق وسطیٰ کے بحران کی بنیادی وجہ ہے۔ یہودیوں کے ان ناپاک عزاٸم کی ابتداء 1857ء میں تھیوڈر ہرزل کی تحریک پر پہلی صہیونی کانگرس میں ہوٸی۔ مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلہ اول خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ یہاں کے مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف (عربی: الحرم القدسی الشریف) کہتے ہیں۔ یہ مشرق میں یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل قابض ہے۔ میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجاٸش کے ساتھ یہ دنیا کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ 2000ء میں الاقصیٰ انتفاضہ کے آغاز کے بعد سے یہاں غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔ مسجد اقصی کے نام کا اطلاق پورے حرم قدسی پر ہوتا تھا جس میں سب عمارتیں جن میں اہم ترین قبۃ الصخرۃ ہے جواسلامی طرز تعمیر کے شاندار نمونوں میں شامل ہے۔ تاہم آج کل یہ نام حرم کے جنوبی جانب والی بڑی مسجد کے بارے میں کہا جاتا ہے ۔ یروشلم/بیت المقدس میں مسجد اقصی کے قریب موجود ایک تاریخی چٹان کے اوپر سنہری گنبد کا نام ہے۔ الصخرۃ (Dome of the Rock) کہا جاتا ہے۔ یہ اونچی عمارت پچھلی تیرہ صدیوں سے دنیا کی خوبصورت ترین عمارتوں ميں شمار ہو رہی ہے۔ اور حرم قدسی کا ایک حصہ کہلاتی ہے۔ یہاں کے رہنے والے (مسیحی اور یہودی) اسے (Dome of the Rock) کہتے ہیں۔ عربی زبان میں قبۃ کا مطلب گنبد اور الصخرۃ کا مطلب چٹان ہے۔
    حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معراج کے سفر کے دوران مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ پہنچے تھے اور یہاں تمام انبیا کی نماز کی امامت کروائی۔

    قرآن مجید کی سورہ بنی الاسرائیل میں اس کا ذکر اللہ پاک نے ان الفاظ میں فرمایا :

    ” پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے تا کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالٰی ہی خوب سننے اوردیکھنے والا ہے (سورہ الاسرائیل آیت نمبر 1)ایک حدیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں ، کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے۔

    حضرت عمر فاروق کے دور میں جب مسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا تو حضرت عمر نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا اور یہاں انہوں نے اپنے ہم راہیوں سمیت نماز ادا کی۔ یہی مسجد بعد میں مسجد اقصٰی کہلائی کیونکہ قرآن مجید کی سورہ( بنی اسرائیل) کے آغاز میں اس مقام کو مسجد اقصٰی کہا گیا ہے۔

    اس کا رقبہ 144000 مربع میٹر ہے۔احاطہ اقصیٰ کے چودہ دروازے ہیں۔ تاہم صلاح الدین ایوبی نے جب اس مسجد کو آزاد کروایا تو اس کے چاروں دروازوں کو بعض وجوہات کی بنا پر بند کروادیا, یایوں موجودہ دروازوں کی تعداد دس ہے۔

    ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان اگست 1969ء کو قبلۂ اول کو آگ لگا دی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرق کی جانب سے عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔اسی دوران محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہو گیا جسے سلطان صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ صلاح الدین ایوبی نے قبلہ اول کی آزادی کے لیے تقریبا 16 جنگیں لڑیں اور دوران جنگ وہ اس منبر کو اپنے ساتھ رکھتے تھے تا کہ فتح ہونے کے بعد اس کو مسجد میں نصب کریں۔
    چونکہ یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اس عبادت گاہ کو گرا کر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں جب کے وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل یہ ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا۔
    عالم اسلام کی تاریخ کی ورق گردانی مسجد اقصیٰ کی تاریخی حیثیت اور اس کی بنیاد کے مکمل ، ٹھوس اور واضح ثبوت رکھتی ہے۔

    گزشتہ 73 برس اسرائیل وقتاً بوقتاً فلسطینیوں پر حملے کرتا آ رہا ہے، جس میں ہزاروں افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اور لاکھوں نقل مکانی پر مجبور کیے گئے۔اسرائیلی کارروائیوں سے 7 سے 18 مئی 2021 کی سہ پہر تک 58 بچوں اور 34 خواتین سمیت 201 افراد جاں بحق ہوچکے تھے.رواں برس فلسطین تنازعے کے طور صیہونی ریاست اسرائیل نے مسلمانوں کے لیے اہم مہینے رمضان المبارک میں مقدس ترین رات ليلۃ القدر کے موقع پر فلسطینیوں پر مظالم اور حملوں کا آغاز کیا۔ عالمی ادارہ اقوام متحدہ سمیت دنیا کے تمام ادارے فلسطین کی سرزمین ہر ہونے والی دہشت گردی کو اسرائیل – فلسطین تنازعے کے طور پر رپورٹ کرتے ہیں، جبکہ پوری مسلم دنیا سمیت دنیا کے 135 سے زائد ممالک کو اس پر اعتراض رہتا ہے۔

    حال ہی میں ہونے والی اسرائیلی دہشت گردی کے نتیجے میں ایک مرتبہ پھر مشرق وسطیٰ مسلمانوں کے خون سے سرخ ہو چکی ہے۔ اور ان بے ضمیر اسرائیلی افواج نے بربریت کی انتہا کر کے بالخصوص مسلمان فلسطینی بچوں کو نشانہ بنا کر مسلمانوں کی نسل کشی کی طرف اقدام اٹھاۓ ہیں۔علاوہ ازیں غزہ شہر بمباری کے نتیجے میں بری طرح تباہ ہوا ہے۔
    اسی طرح اسرائیلی دہشت گردی مہذب دنیا اور اقوام عالم کی متحدہ قیام امن کی کاوشوں پر سیاہ دھبہ کی مانند ہے۔
    اسرائیلی ظلم و تعدی کے مقابلے اور مسجد اقصیٰ کے دفاع کی خاطر مسلمانوں کو مالی، جانی، اخلاقی اور سیاسی طور پر فلسطینی عوام کا ساتھ دینا ہو گا۔

  • خطے کوآگ وخون میں دھکیلنے کا مودی پلان . تحریر : فرمان اللہ

    خطے کوآگ وخون میں دھکیلنے کا مودی پلان . تحریر : فرمان اللہ

    مودی اجیت ڈوول اوراین ڈی ایس نے مل کر اس خطے کو آگ و خون میں دھکیلنے کا جو پلان بنایا ہے وہ بہت حطرناک ہے تاشقند کے اندر پاکستان کے سامنے بیٹھ کردس ہزارجنگجو افغانستان بھجنے کا الزام لگانا اور بھارت سے فوجی مدد لینے کا عندیہ دینا دراصل را اوراین ڈی ایس کا نیا پلان ہے جو وہ اگلے آنے والے دنوں میں رچانے جا رہے ہیں اس کے لیے یہ سارا اسٹیج تیار کیا جارہا ہے. مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس وقت بھارت نے افغانی ایما پر اپنے تین ہزار فوجی کابل میں پہنچا دیے ہیں جو بلکل فوجی وردیوں میں نہی ہیں.

    بلکہ ان کو افغانی وردیاں پہناٸی جاٸیں گی اورمصدقہ اطلاعات کے مطابق چھ ویڈیو بلکل تیارکرلی گٸی ہیں جن میں افغانی جو بھارتی پے رول پہ ہیں انہوں نے یہ ساری سٹوری ایڈٹ کرلی ہے جس کے مطابق ان ویڈیو میں عورتوں کو بڑے بے رحم طریقے سے مارا جاۓ گا ان کو سنگسار کیا جاۓ گا فوجیوں کے گلے کاٹے جاٸیں گے اور پھر وہ ایجنٹ خود کوطالبان بنا کر پیش کریں گے یوں طالبان کے خلاف بھارت بہت بڑی سازش رچنے جا رہا ہے کیونکہ طالبان نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ عالمی قوانین کی پابندی کریں گے یوں برطانیہ یورپ طالبان کو تسلیم کرنے کے لیے تیارہیں.

    اس وقت ٹی ٹی پی پاکستان بلوچ ریجمنٹ اورداعش کے تمام سربراہ بھارت کے اندر موجود ہیں اور اجیت ڈوول کے زیراثرہرقسم کی دہشت گردی میں اس خطے کودھکیلنے کے لیے تیارکھڑے ہیں. اس لیے پاکستان مکمل طور پر ان کے ان کاٶنٹرکے لیے تیار ہے یہ پچھلے کٸی دنوں سے ہمارے فوجیوں پر حملے بہت زیادہ بڑھ گٸے ہیں جو ایک غیر معمولی بات ہے ۔ مگریہ سب اس سے بھی واقف ہیں کہ جہاں ان کی سچ حتم ہوتی ہے وہاں سے مارخور اپنا کام شروع کرتے ہیں ۔
    اللہ پاکستان کو قیامت تک قاٸم و داٸم رکھے ۔ آمین

    Femikhan_01

  • گاڑیوں کی قیمتوں کی پرواز ویسی.تحریر.ام سلمیٰ

    گاڑیوں کی قیمتوں کی پرواز ویسی.تحریر.ام سلمیٰ

    وفاقی وزیر صنعت خسرو بختیار نے 7 جولائی بروز بدھ کہا ہے کہ مالی سال 2022 کے بجٹ میں گاڑیوں پر ٹیکس اور ڈیوٹی میں کمی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کے کاروں کی نئی کم قیمتوں کو کچھ دنوں میں لاگو کیا جانے کہ اعلان کیا جاۓ گا۔جو کے اب تک صحیح طرح لاگو نہ ہوسکی کیوں کے گاڑیوں کی کمپنیوں نے گاڑیوں پر اؤن بڑھا کر پرانی قیمت ہی وصول کر رہی ہیں اب تک کی تازہ اطلاع کے مطابق.

    نئی آٹو پالیسی کے پہلوؤں کے بارے میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صنعت نے متعدد قسموں سے تعلق رکھنے والی متعدد کاروں کا نام لیا اور قیمتوں میں ہونے والی کمی کا اعلان کیا.

    انہوں نے کہا ، "ان تمام کاروں کے لئے نئی قیمتوں کا نفاذ ایک دو دن میں ہو جائے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں جلد ہی ایک نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ اس سے آٹوموبائل سیکٹر میں مانگ میں اچانک اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ کاروں کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا۔ "میں یہ خوشخبری بھی دینا چاہتا ہوں کہ جیسے ہی ہم کاروں کی پیداوار میں اضافہ کریں گے اس سال اس [آٹوموبائل] سیکٹر میں تقریبا 300،000 نئی ملازمتیں فراہم کی جائیں گی۔”

    خسرو بختیار نے کہا کہ اس سال آٹوموبائل کی پیداوار کو 300،000 کاروں تک بڑھانے اور مراعات اور دیگر اقدامات کے ذریعہ اپنی طلب کو بڑھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

    "اس آٹوموبائل شعبے کے لئے سب بنیادی مقصد یہ ہے کہ قیمتیں کم ہونے پر طلب میں اضافہ ہو
    لیکن کہیں بھی قیمتیں کم ہوتی نہں دکھائی دے رہی گاڑیوں کی کمپنیاں وہی قیمت دوسرے طریقے اپنا کر حاصل کر رہی ہیں جب کے سرکاری اعلان کے مطابق اون بھی ایک مقرر کردہ حد کے مطابق لیا جہ سکتا ہے لیکن کمپنیاں ابھی تک اپنے خود کے مقرر کردہ طریقے سے اون وصول کر رہی ہے گاڑی کی قیمت میں کمی کے بعد گاڑیوں کی کمپنیوں نے فوری اون میں اضافہ کر دیا ہے اور قیمت اون ملا کر اب بھی وہی وصول کی جہ رہی ہے جو بجٹ سے پہلے تھی۔

    جب کے حکومت نے چھوٹی کاروں پر سیلز ٹیکس میں کمی کے ساتھ کاروں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) اور اضافی کسٹم ڈیوٹی (اے سی ڈی) کو بھی ختم کردیا ہے۔” خسرو بختیار نے اور بتایا تھا کے

    حکومت ان اقدامات کا مقصد صارفین کو کچھ ریلیف فراہم کرنا تھا ، لیکن اب تک قیمتیں برقرار ہیں پچھلی سطح پر.

    وفاقی وزیر نے یہ بھی وضاحت کی تھی کہ کار تیار کرنے والی کمپنیاں صارفین کو 60 دن سے زیادہ گاڑی کی فراہمی کی کمپنی کی طرف سے تاخیر کرنے پر صارفین کو جرمانے کی ادائیگی بھی کریں گی اور صارفین اپنی گاڑی کے موجودہ مینوفیکچرنگ اسٹیج کو آن لائن چیک کرسکیں گے۔

    اب حکومت کی توجہ کار کے معیار کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے ، جیسے جدید حفاظتی خصوصیات کا تعارف تاکہ گاڑیوں کی بر آمد کا سلسلہ بھی شروع کیا جا سکے۔ترقی کو مستحکم رکھنے کے لئے اور قیمتوں کو کم رکھنے کے لئے ملک کی انجینئرنگ اور مینوفیکچرنگ اڈے میں اضافہ کرنا ضروری ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اب لوکلائزیشن پر توجہ دے ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی میں بھی لوکلائزیشن پر توجہ دی گئی ہے۔
    ڈیوٹی ، ٹیکس میں کمی کے باوجود کار ساز لوگ قیمتوں میں ریلیف میں تاخیر کررہے ہیں حکومت اس مسئلے پر فوری توجہ دے تاکہ بجت میں دیا گیا ریلیف عوام تک صحیح معنی میں پنہچ سکے۔
    @umesalma_

  • نشے کا بڑھتا رجحان. تحریر: سحر عارف

    نشے کا بڑھتا رجحان. تحریر: سحر عارف

    اسلام بہت خوبصورت دین ہے جس نے انسان کو حلال اور حرام چیزوں سے باخوبی آگاہ کیا ہے اور اسلام نے حرام اور حلال چیزوں کے حوالے سے کچھ حدود رکھی ہیں اور بتایا ہے کہ حرام چیزوں سے بچا جائے یہ انسان کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کردیتی ہیں۔ حرام چیزوں کے استعمال سے انسان نہ دنیا کا رہتا ہے نہ آخرت کا رہتا یے۔ ٹھیک اسی طرح نشہ بھی حرام ہے۔ ہر وہ چیز جو انسان کو مدہوش کردے، اسے اس کے رب سے دور کردے، جو انسان کے دماغ کو ماؤف کردے اور اس کے پورے جسم میں نشہ پیدا کردے جس کی وجہ سے وہ اپنے رشتے اور معاشرے کو بھول جائے اور انقصان پہنچائے حرام ہے۔ اور آج پوری دنیا میں نشہ عام چیز ہوگیا ہے۔ جہاں پوری دنیا نشے کی لت میں جکڑ چکی ہے وہیں یہ لعنت پاکستان کی نوجوان نسل کو تباہ و برباد کررہی ہے۔ افسوس کے ایک اسلامی ملک جس کا تو دین یہ کہتا ہے کہ نشہ حرام ہے وہاں اس حرام چیز کی مقدار اور اس کے چاہنے والے اور اس سے اثرانداز ہونے والے افراد کی تعداد میں روز کے روز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ پہلے تو منشیات فروش اپنا کام کچھ مختص کیے گئے مقامات پر کرتے تھے پر اب تو یہ غلیظ دھندہ سرعام ہورہا ہے اور یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس ملک کے ادارے اور وہ تمام لوگ کہاں سو رہے ہیں جن پر منشیات کی روک تھام حکومت پاکستان کی طرف سے فرض کی گئ ہے؟ پاکستان میں سب سے زیادہ نشے سے اس ملک کی نوجوان نسل برباد ہورہی ہے۔ کسی بھی ملک کے نوجوان اس ملک کا اثاثہ ہوتے ہیں اور آج افسوس ہے کہ اس ملک کا اثاثہ بربادی کی طرف گامزن ہوتا چلا جارہا ہے۔ نوجوانوں میں نشہ کرنے کے کئ طریقے سامنے آئے ہیں جن میں سگریٹ، شراب، آیوڈکس، گٹکا، نشہ آور دوائیں اور ہیروئن وغیرہ شامل ہیں اور ان میں سب سے زیادہ تعداد سرنج سے نشہ کرنے والے افراد کی ہے اور اس طریقے سے نشہ کرنے کی وجہ سے ایچ آئی وی ایڈز اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق ایسے نشے سے متاثر افراد ایک دوسرے کی سرنجیں استعمال کرتے ہیں جس وجہ سے وہ ان بیماریوں کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔

    جہاں نشہ معاشرے کو اپنی جکڑ میں لے رہا ہے وہاں پہ تعلیمی ادارے بھی خاصے متاثر ہوئے ہیں۔ وہ ادارے جن کو تعلیم کے حصول کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ نوجوان وہاں سے پڑھ لکھ کر ملک کی ترقی میں اپنا حصّہ ڈال سکیں اب وہ بھی منشیات فروشوں سے محفوظ نہیں ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے الیکٹرونک میڈیا پہ اس حوالے سے کافی ہلچل مچی ہوئی ہے کہ اب تعلیم اداروں میں کچھ طالب علم اپنے اساتذہ کے ساتھ مل کر منشیات کی خریدوفروخت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے ڈی ڈبلیو کو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھتے ہوئے بتایا کہ ” میں نے آئس نامی نشہ آور مادے کا استعمال کافی کیا اور اس وجہ سے اپنی تعلیم کے دو سال بھی ضائع کردیے، پہلے میں صرف دوستوں کے ساتھ مل کر تفریح کے لیے اس کا استعمال کرتا تھا پر پھر مجھے اس سے سکون ملنے لگا۔ اس نشے سے میرے دل و دماغ کو بہت زیادہ سکون اور عجیب و غریب سرور ملتا تھا تو مجھے اس کی عادت ہوگئی، عادت اتنی بڑھی کے اس کہ میرے لیے اس کے بغیر رہنا ناممکن ہوگیا اس کو حاصل کرنے کے لیے میں گھر میں چوریاں کرنے لگا بار بار ایسا کرنے پر ایک بار میں چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا تو والدین کو اس ساری صورتحال کا علم ہوا اور پھر انھوں نے مجھے ایک ایسے مرکز میں داخل کروایا جہاں نشے سے متاثر افراد کا علاج کیا جاتا ہے اور اب میں کافی حد تک اپنی پرانی زندگی میں واپس آگیا ہوں”۔ سن 2015 میں سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو منشیات کے حوالے سے یہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ پاکستان میں کل 70 لاکھ سے زائد افراد نشہ آور ادویات کے عادی ہیں جن میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی شامل ہیں۔ منشیات فروش ملک کے دشمن ہیں جو منشیات کی مدد سے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ نشے سے متاثر افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کی کچھ اور اہم وجوہات بھی ہیں جن میں سب سے پہلے تو ہمارے ان اداروں کی غفلت ہے جو منشیات کی روک تھام کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ پھر کچھ حصّہ ملک میں بڑھتی ہوئی بےروزگاری کا بھی ہے۔ جب ملک میں بےروزگاری بڑھتی ہے اور نوجوانوں کو کمانے کا کوئی ذریعہ نہیں ملتا تو پھر وہ منشیات فروشوں کے شکنجے میں آجاتے اور ان کے ساتھ مل کر اس کام میں اپنا حصّہ ڈالتے ہیں اور پھر وہ افراد جو زندگی کے ان مشکل حالات سے گھبرا جاتے ہیں اور ہار مان لیتے ہیں، طرح طرح کی ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں تو وہ سکون کی تلاش کے لیے نشے کا استعمال شروع کرنے لگتے ہیں۔ بحیثیت انسان ہمیں چاہیے کہ ہم اس غیر قانونی اور حرام چیز کے خلاف آواز اٹھائیں اور اس کی روک تھام میں حکومت کا ساتھ دیں اور ایسے لوگوں کا سہارا بنتے ہوئے ان کا بھی ساتھ دیں جو نشے کی وجہ سے اپنی زندگیاں برباد کر کے ہیں تاکہ وہ واپس اپنی پہلے والی زندگیوں میں آنے کی کوشش کریں اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو چاہیے کہ ملک میں زیادہ سے زیادہ نوکریوں کا اہتمام کرے تاکہ پڑھے لکھے نوجوان اس سے مستفید ہوسکیں اور نشے جیسی لعنت سے بچ سکیں اور پاکستان کی آنے والی نسلیں ایک صاف و شفاف اور ابھرتا ہوا ملک دیکھیں جو نشے کی لعنت اور منشیات فروشوں کے ناپاک وجودں سے پاک ہو۔

  • علما حق ہمارے سروں کے تاج .تحریر : راجہ ارشد

    علما حق ہمارے سروں کے تاج .تحریر : راجہ ارشد

    الحمداللہ ہم مسلمان ہیں
    اللہ تعالٰی کو ایک ماننے والے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا آخری نبی مانتے ہیں دنیا میں رہنے کے لیے زندگی گزارنے کے لئے اصول و ضوابط اور حدود مقرر کر دی گئی ہیں،

    ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ بحیثیت مسلمان ہم سیدھے اور غلط راستے کا انتخاب خود کرنے کی بجائے دوسروں پر انحصار کرتے ہیں اور یہی بنیادی وجہ مذہبی انتشار اور تفرقہ بازی کا سبب بنتی ہے بغیر تحقیق کے اور سمجھے بغیر نام نہاد مُلائوں کے پیچھے آنکھیں بند کر کے چلتے ہیں جس سے معاشرے میں نفرت پیدا ہو رہی ہے خود کو عالم کہنے والے ایسے افراد مفاد پرست ہوتے ہیں جن کے پیچھے مقاصد عوام کو تقسیم کرنا اور مذہب کے نام پر عوام کے جذبات سے کھیلنا ہوتا ہے۔

    یہی وہ لوگ ہیں جو کبھی قبضہ مافیا کے ساتھ مل کر سرکاری زمینوں پر قبضے کر کے مقاصد حاصل کرتے ہیں کبھی بچوں کے ساتھ زیادتی میں شامل ہوتے تو کبھی کفر کے فتوے لگا کر بے نقاب ہو رہے ہیں مذہب کو اتنا مشکل بنا دیا گیا ہے ممبر پر بیٹھ کر جنت اور جہنم کے فیصلے کرنے والے یہی وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالٰی کی محبت پیدا کرنے اور اس کی بیشمار رحمتوں کے بارے میں بتانے کی بجائے خوف پیدا کر دیتے ہیں۔

    جذباتی بلیک میل کر کے افراد کو جہالت کے اندھیروں میں دھکیلنے والے ایسے چند مفاد پرست مولوی درحقیقت خود بھی دین کی سمجھ نہیں رکھتے علما حق ہمارے سروں کے تاج انبیاء کے وارث ہیں جو آج بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے دین کو لوگوں سے بیان کرتے آ رہے ہیں لیکن مذہبی انتشار پھیلانے والے نام نہاد مُلائوں نے اس قوم کو صدیوں پیچھے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے سیاسی مفادات کے لیے ایک ہو جانے والے دوسرے فرقے سے تعلق رکھنے والے مسلمان کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے حلال حرام کی تمیز کیئے بغیر مال کھانے والے کس طرح سیدھے راستے پر لوگوں کو لے کر جا سکتے ہیں۔

    مدرسوں کے اندر ریپ ہو رہے ہیں منہ پر سنت رسول رکھنے والوں سے آج شریف والدین کو خوف آنے لگتا ہے کوشش کریں اپنے بچوں کے محافظ خود بنیں اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات خود دیں یا ایسے علما کا انتخاب کریں جو اعلی کردار کے مالک ہوں جن کا ظاہر اور باطن صاف ہو جو صرف اسلام کی تبلیغ کرتے اور اس پر خود بھی عمل کرتے ہوں جن کے اعمال ان کی صداقت کی گواہی دیتے ہوں جن کے عمل ان کی پاکیزگی کی ضمانت ہوں خود کو اس قابل بنائیں کہ آپ خود نمازیں پڑھا سکیں نکاح اور جنازے پڑھا لیں ضروری نہیں آپ کسی کے محتاج ہوں علماء حق کی عزت کرنا ہمارا فرض ہے۔

    لیکن معاشرے میں اس ظلم کے خلاف جہاد جاری رکھیں جس سے بچوں کو درباروں مدارس کے اندر بیوقوف بنا کر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے جنت حاصل کرنا مشکل نہیں ہے جتنا ان مفاد پرستوں نے اس دور میں مشکل بنا دیا ہے اللہ پاک ہم سب کا ہمارے بچوں کا حامی و ناصر ہو آمین

    @RajaArshad56

  • ایبٹ آباد میں قبضہ مافیا کا راج . تحریر : علی معصوم

    ایبٹ آباد میں قبضہ مافیا کا راج . تحریر : علی معصوم

    پاکستان کا سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ امیرترین شہرایبٹ آباد ہے۔ ایبٹ آباد پاکستان کو اللّه کی طرف سے ایک ایسا انعام ہے جہاں صرف سیاحت کو فروغ دے کرپاکستان قرضوں کی دلدل سے آسانی سے نکل کرسکتا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان کے اس خوبصورت شہر پے قبضہ مافیا کا راج ہے۔ ایبٹ آباد کے کمیشنر ڈی سی سے لے کر ایک عام سپاہی، کلرک اورمحکمہ مال کے اندر موجود مالی اور سیپر تک سب کے سب پراپرٹی ڈیلر بن چکے ہیں۔

    غریب لوگو کی جاهیداديں جیلی کاغذات اور انتقال کے ساتھ فروخت کی جا رہی ہیں لوگو کو انجان رکھ کے ان کے شجرہ مکمل طور پر تبدیل کر کے جیلی کاغذات سے ذمینوں پے قبضے کیے جا رہے ہیں جن میں پٹواری، سیاست دان، محکمہ مال، اور کمشنر، ڈی سی سے سپاہی تک اکثریت لوگ موجود ہیں۔

    قانون کے رکھوالے بھی اس گیم میں شامل ہیں اگر اس قبضہ مافیا کو روکا نا گیا تو ایبٹ آباد جیسا خوبصورت شہر تباہ ہو جاہے گا۔ جو بھی شخص پٹوار خانے کی طرف جاہے گا اور اپنی زمین پے قبضہ مافیا کو دیکھے گا تو لوگو کے درمیان خون ریز لڑاہیاں ہونگی حالات اس قدر خراب ہو سکتے ہیں کے جو کسی نے سوچا بھی نا ہو گا کیونکے ایبٹ آباد میں حویلياں شہر سے لے کر ناران کاغان تک ہر جگہ قبضہ مافیا کا راج ہے لیکن سب سے زیادہ قبضہ مافیا ایبٹ آباد شہر کے اندر ہے جہاں پٹواری، اور کمیشنر سے لے ایک عام سپاہی تک اور محکمہ مال کا عملہ مکمل طور پر پراپرٹی ڈیلر بنا ہوا ہے۔ چونکے ایبٹ آباد شہر پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کی وجہ سے سیکورٹی رسک ہے اس لیے اگر یہاں کے لوگو کو اس مافیا کے بارے میں علم ہو گیا تو یہاں خون ریز جنگیں ہو گی حالات حد سے زیادہ خراب ہو سکتے ہیں۔

    میری حکومت پاکستان اور قانون نافذ کرنے وال اداروں سے گزارش ہے اس مافیا کو روکے۔ ایبٹ آباد میں موجود پٹواری کی تنخواہ 20 سے 25 ہزار ہے لیکن وه کروڑوں کے مالک بن چکے ہیں کیسے ؟؟؟ پٹواری اور محکمہ مال کے اندر موجود ہر شخص کی بے نامی پراپرٹی ہے یہ سب کہاں سے ہو رہا ہے؟؟؟ ان کا احتساب کرے انہیں چیک کریں کیونکے فلحال ایبٹ آباد کے لوگ اس بات سے نا واقف ہیں کے کیسے یہ سب مل کے لوگو کا شجرہ نسب تک تبدیل کر رہے ہیں اگر ان لوگو کو یہ سب معلوم پڑ گیا تو یہاں بھی اکثریت پٹھان قوم ہے حالات اتنے خراب ہو سکتے ہیں جس کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا اور اگر یہاں حالات خراب ہو گےتو اس سب کی ذمہ دارحکومت ہوگی۔

    @AM03100