Baaghi TV

Category: متفرق

  • قحط سالی کا شکار تھراوربےحس سندھ حکومت . تحریر: فرازوہاب

    قحط سالی کا شکار تھراوربےحس سندھ حکومت . تحریر: فرازوہاب

    اسلامی اقدارمیں خلیفہ کی ذمہ داری بہت اہم بنائی گئی ہے جب کوئی شخص خلیفہ کے عہدے پرفائزہوتا ہے تواپنی رعایا کے حقوق کے تحفظ کا ذمہ داربنا دیا جاتا ہے ایک صحابیِ رسول صلہ اللہ علیہ وسلم نے جب آپ صلہ اللہ علیہ وسلم سے پوچھا بہترین صدقہ کیا ہے تو آپ صلہ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’پانی پلانا‘۔

    لیکن آج اْمتِ مسلمہ پانی کی بوند کے لیے ترس رہی ہے اورارباب اقتدارجانورتو دورانسانی اموات کے ضیاع پربھی انتہائی ڈھٹائی سے کہ رہے ہیں کہ موت کا اختیار اللہ کے پاس ہے انسانوں کے بس کی بات نہیں۔ وزیراعلی سندھ ایمانداری سے بتائیں کیا وہ چھوڑ سکتے ہیں اپنے اہلخانہ کوقحط زدہ تھرمیں؟ وہ بھی بغیرپانی کے؟ ماضی میں جب وزیراعلیٰ سندھ سے تھر کے متعلق کوئی بھی سوال کیا جاتا تو انتہائی مضحکہ خیزبات فرماتے کہ تھرمیں اموات بھوک سے نہیں غربت سے ہو رہی ہیں پتا نہیں کس قسم کا نفسیاتی معاملہ ہے وزیراعلی سندھ کے ساتھ جو ان کو یہ نہیں معلوم کہ غربت ہی بھوک کو جنم دیتی ہے اورشرجیل میمن کا یہ بیان کہ پاکستان میں روز600 بچے مرتے ہیں تھرمیں مرنے پہ شورشرابہ کیوں انتہائی سنگدلی اوربے غیرتی کی مثال تھی.

    ظاہر سی بات ہے اگرتھرمیں بھٹو، تالپور، سومرو اورمگسی خاندان رہتے تو وہ منرل واٹرپرگذارا کرتے پرتھرکواس لیے نظراندازکردیا گیا کہ وہاں غریب عوام رہتی ہے جو کنویں سے پانی بھرکراونٹوں اورگدھوں پرلاد کرگھرپہنچاتی ہے اورتھرکے معصوم بچے جنہیں تعلیم کی طرف جانا چاہیے وہ بچے بھی تعلیم کے بوجھ کی بجائے پانی کا بوجھ کاندھوں پرلیے پھرتے ہیں۔ سندھ دھرتی کے دعوے داربلاول زرداری سے سوال ہے کہ اس ضمن میں انہوں نے سندھ دھرتی جسے وہ ماں کہتے ہیں کی کیا خدمت کری؟ کیا کوئی اپنی ماں کے ساتھ ایسا سلوک کرتا ہے جیسا سندھ دھرتی کو ماں کہنے والوں نے تھرکے ساتھ کیا؟

    سندھ حکومت کی بے حسی کی انتہا تو تھرمیں عیاں ہوگئی لیکن حیرت ہے وفاقی حکومت بھی غفلت کی چادراوڑھے ہوئے ہے اب تک سندھ حکومت اوروفاقی حکومت کی جانب سے تھرکے معاملے میں کوئی عملی اقدامات نظرنہیں آئے۔ تھرکے حالات سے حکمرانوں کی بےحسی کا اندازہ ہوجانا چاہیے جوپانچ کروڑکی آبادی والے صوبے کی عوام کوقحط سے ماررہے ہیں اتنی بڑی ناکامی پرسندھ حکومت کوغیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مستعفی ہوجانا چاہیے تھا۔

    @FarazWahab1

  • میرے بلوچستان کے مسائل . تحریر: آصف کریم بلوچ

    میرے بلوچستان کے مسائل . تحریر: آصف کریم بلوچ

    بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ھے. اس کا رقبہ 347190 مربع کلومیٹرھے جو پاکستان کا کل رقبے کا 43.6 فیصد حصہ بننا ھے قدرتی وسائل سے مالامال بلوچستان محل وقوع میں اہم ترین صوبہ ھے اتنے بڑے صوبے کی عوام مختلف پریشانیوں کا شکارھے.

    1. جرائم، پانی کی قلت اوربجلی کی قلت کچھ بڑے مسائل ہیں.
    2. بلوچستان میں مختلف شہروں میں بہت بڑے حادثہ ہوتے ہیں روڈ سنگل ہونے کی وجہ سے حادثے ہورہے ہیں اگرڈبل روڈ بنایا جائے تو اس مسئلہ کا سامنا نہ کرنا پڑے.
    3. بلوچستان میں جنتی بھی سرکاری زمین ہیں وہاں اکثرپرقبضہ مافیا کا قبضہ ھے وہاں سے قبضہ ختم کیا جائے تو بہترہوگا.
    4. بلوچستان قدرتی وسائل سے مالامال ھے لیکن ہرسہولت سے محروم ھے سمجھ نہیں آتی اس قصورواربلوچستان کی عوام ھے یا سیاستدان لہذا ہماری اپیل ھے کہ بلوچستان کے وسائل بلوچستان کی عوام پرخرچ کیئے جائیں توبہترہوگا.
    5. روڈوں و ہسپتالوں کے حالت ہرضلع میں خراب ھے کسی ضلع میں ہسپتال کی بلڈنگ ٹوٹی پھوٹی ھے کسی ضلع کی ہسپتال میں ڈاکٹرغیر حاضررہتے ہیں روڈوں کا ٹھیکہ سیاسی لوگوں کے بندوں کو ملتا ھے جہاں 100% فیصد میں سے 40 فیصد کام ہوتا ھے ایک مہینہ کے بعد روڈ کی حالت بگڑ جاتی ھے لہذا روڈوں اورہسپتالوں کی حالت بہتربنائی جائے.

    اس کا خلاصہ یہ ھے کہ معاملات بہت سنگین ہیں عوام کو اس طرح کی مہلک پریشانیاں کا سامنا کرنا پڑتا ھے تاہم مناسب ارادے اورعزم کے ساتھ صوبائی گورنمنٹ وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر ان مسائل کا حل نکالیں بلوچستان کے مسائل کا حل آسان ہے اگرکوئی نکالنا چاہے تو مسلہ بڑا نہیں ھے لیکن افسوس بلوچستان کے سیاستدانوں نے بڑا بنا دیا ہے. میں چاہتا ہوں صوبائی اوروفاقی گورنمنٹ بلوچستان کے پانچ بڑے مسائل پرتوجہ دیں.

    @AsifKarimBaloch

  • "پانی کی قدر و قیمت” .تحریر:نـــازش احمــــد

    "پانی کی قدر و قیمت” .تحریر:نـــازش احمــــد

    پانی کی قدر و قمیت پانی اللہ
    ﷻکی بہت بڑی نعمت ہے، انسان کے بےشمار معاملات پانی سے حل ہوتے ہیں انسان کو قدم قدم پر پانی کی ضرورت پڑتی ہے،پانی کے بغیر انسان کے لئے شاید زندہ رہنا بھی ناممکن ہوجائے ،اور زندگی کے معاملات حل کرنا دشوار ہوجائیں ،تومعلوم ہوا کہ پانی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے اور وطن عزیز پاکستان کو اللہ ﷻنے اس نعمت سے خوب نوازا ہے ،پانی وافر مقدار میں موجود ہے لہذا ہمیں چاہئے کہ ہم اس پانی کی حفاظت کریں  پانی کو ضائع نہ کریں، جتنی بڑی یہ نعمت ہے وہی حیثیت اس پانی کو دی جائے اور اس پانی کی حفاظت کی جائے اور اسے احتیاط سے استعمال کیا جائے مگر بدقسمتی کے ساتھ قدرت کے اس حسین تحفے کاضیاع بیدردی سے جاری ہے،چھوٹی چھوٹی احتیاطوں سے اس انمول تحفے کی بچت کی جا سکتی ہے۔ہم اپنے روزمرہ کے کاموں میں بہت سا پانی ضائع کردیتے ہیں۔جس کا ہمیں احساس ہی نہیں ہوتا۔ اپنے روزمرہ کے کاموں میں اگرہم تھوڑی سی احتیاط کرلیں توبڑی مقدارمیں پانی بچاسکتے ہیں۔ ٹوتھ برش کرنے کے دوران اگرکھلا نل ہم بندکردیں ،تواس سے ہم 1 منٹ میں کئی لٹرتک پانی کی بچت کرسکتے ہیں۔ نہاتے وقت اگرآپ صابن لگانے کے دوران نل یا شاوربندکردیں، توپانی کی بڑی مقدارضائع ہونے سے بچ سکتی ہے ،

    اس کے علاوہ اگر ممکن ھو تو نہاتے وقت شاور کی بجائے، بالٹی کا استعمال کیا جائے۔صابن لگاتے اوربال شیمپوکرتے وقت شاوربند کرنے کی صورت میں کافی پانی بچایا جا سکتا ہے ۔اگر اپنی گاڑی کوپانی کے پائپ کی بجائے، پانی بھری بالٹی سے دھوئیں ،تونہ صرف بہت زیادہ پانی کی بچت ہوگی، بلکہ آپ کاگیراج بھی کم گندہ ہوگا۔ پانی میں دھونے کے بجائے، اپنی سبزیاں کٹورے میں دھوئیں۔پانی اورتوانائی دونوں بچاتے ہوئے، سبزیاں کم سے کم پانی میں پکائیں۔ دھونے والے برتنوں پر،پہلے سے پانی بہاناضروری نہیں۔اگربرتنوں پرسے بچے ہوئے کھانے کوہاتھ سے کھرچ دیں گے توکافی پانی بچ سکتاہے۔ واشنگ مشین کوکپڑوں سے بھرکردھونا زیادہ بہترہے۔کیوں کہ اگرمشین کوکم کپڑوں کیساتھ دھویا جائیگا توپانی کیساتھ ساتھ توانائی بھی زیادہ خرچ ہوگی۔ ان سب کے علاوہ گھرمیں ٹپکتے، نلوں اورپانی رستے دیگرآلات کی مرمت سے پانی کی بڑی مقداربچائی جاسکتی ہے۔جبکہ بارش کاپانی محفوظ کرکے بھی کئی طرح سے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پانی کے مسائل کے بارے میں عوام میں شعور پیدا کیا جائے! اللہ ﷻہم سب کو اپنی نعمتوں کی قدر کرنے کی توفیق دے اور نعمتوں کی ناقدری کرنے اور اس کو ضائع کرنے سے بچائے۔ آمین ثم آمین!
    @itx_Nazish
    نـــازش احمــــد

  • آزاد کشمیرکی معیشت . تحریر: ذیشان وحید بھٹی

    آزاد کشمیرکی معیشت . تحریر: ذیشان وحید بھٹی

    اگرکوئی یہ سوال کرے کہ آزاد کشمیرکی معیشت کیا ہے تو جواب یہ ہے کہ ایک آزاد کشمیر کی کوئی معیشت نہیں ہے کیونکہ معیشت کا مطلب ہوتا ہے پیداوارکے ذرائع اوروسائل کا اسطرح سے انتظام کہ کم سے کم وسائل ضائع ہوں جبکہ اپنے ہاں صورت حال ایسی ہے کہ جیسے معیشت کا مطلب ہو وسائل کا ایسا انتظام ہو کے کم سے کم وسائل استعمال ہوں اور زیادہ سے زیادہ ضائع ہوں۔ یہ بھی الحاق پاکستان کی طرف ایک قدم ہے کہ آزاد کشمیرکی معیشت آزاد کشمیرکے کنٹرول میں نہ ہو بلکہ اس پرپاکستان کی نوکرشاہی، صنعت کاروں اور گماشتہ سرمایہ داروں کا قبضہ ہو تاکہ آزاد کشمیر کے اندرصنعت اورحرفت کی وبا نہ پھیل سکے اوریہ خطہ بدستور پاکستان کے مذکورہ بالا طبقوں کی منڈی بنا رہے اورآزاد کشمیر میں زیادہ سے زیادہ چھوٹا تاجر پیدا ہوسکے جس کو زیادہ بڑا کاوبارکرنا ہے وہ پنڈی لاہوراور کراچی جائے۔

    سوال کیا جا سکتا ہے اور اکثرارد گرد سے بے خبراپنے آکاؤں کے افکاراورخیالات کے بغیرسوچے سمجھے جگالی کرنے والے کرتے بھی ہیں کے آزاد کشمیر میں ہے ہی کیا کہ یہاں کی معیشت کا کوئی ڈھانچہ اٹھ سکے؟؟؟ لیکن اس کا جواب سیدھا سادہ سا ہے کہ سرمائے کے لحاظ سے یہ خطہ پاکستان کے امیرترین خطوں میں سے ہے آزادکشمیر کے بینکوں کا کڑوروں روپیہ (کوئی پانچ چھ سال پڑانی ایک تحقیق کے مطابق ڈدیال کے ایک علاقہ چھتڑو کے گرد و نواح جہاں کی آبادی تین ہزارتھی وہاں بینکوں میں پانچ کروڑ روپیہ تھا )اسی طرح ڈڈیال اورمیرپوروغیرہ کے بینکوں کا اربوں روپیہ مقامی سطح پرنہیں بلکہ کراچی اورلاہورکے صنعت کاراستعمال کرتے ہیں۔

    اس وقت تقریبا ایک ملین یعنی دس لاکھ کشمیری مزدوراورمحنت کش مشرقی وسطیٰ اوریورپ وامریکہ میں آباد ہیں اورآزاد کشمیرکی آدھی آبادی کا روزمرہ کا خرچ اٹھانے اورہزاروں کو تعمیراتی شعبے میں مزدوری فراہم کرنے اورسینکڑوں بے روزگار "پوسٹ گریجویٹوں” اور وکیلوں کو پلاٹوں کی خرید و فروخت کاشغل مہیا کرنے اوربیسیوں کو پراپرٹی ڈیلنگ کے میدان میں ملازمتیں فراہم کرنے کے علاوہ کروڑ ڈالرسالانہ زرمبادلہ بھی بھیجتے ہیں. جو سارے کا سارا پاکستانی نوکرشاہی اورسرمایہ کارہڑپ کرجاتے ہیں بغیرکوئی ڈکارمارے۔ لیکن جب سال بعد ڈھائی ارب روپیہ آزاد کشمیر کی حکومت کودیا جاتا ہے تو اخباروں میں سرخیاں لگتی ہیں اورٹی وی پربھی اس کی خبریں نشرکی جاتی ہیں یوں عام کشمیری سے لے کر بڑے بڑے پھنےخان دانشور یہ سمجھتے ہیں کے آزاد کشمیر پاکستان پربہت بڑا بوجھ ہے۔

    لیکن ظاہرہے کہ ان میں سے اکثر یا تو کشمیر سے پاکستان کو ہونے والی آمدنی سے بے خبرہوتے ہیں یا پھردوسروں کو بے خبراورکنفیوز کرنا چاہتے ہیں جنگلات، منگلا ڈیم کا پانی وبجلی، دریا، پی آئی اے کی کشمیریوں سے سلانہ آمدنی اس کے علاوہ ہے۔ یوالحاق پاکستان کی قوتوں معیشت کے میدان میں بھی کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی بنیادیں خوب مضبوط کرنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی اورحق نمک خوب ادا کیا۔ اس احساس کو عام آدمی کے ذہن میں پختہ کرنے کے لیے کہ کشمیر پاکستان کے ساتھ الحاق کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا آزاد کشمیر کے اندربرسراقتدار”بااثراورمعتبر” شخصیات کی طرف سے اس طرح سے اخباری بیان بھی اہم کرداراداکرتے ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ "ہم تو پاکستان کی سرپرستی کے بغیرایک کپ چائے بھی نہیں بناسکتے ”

    @zeeshanwaheed43

  • ایک بار پھر ایک حوا کی بیٹی غائب.تحریر: احمد لیاقت

    ایک بار پھر ایک حوا کی بیٹی غائب.تحریر: احمد لیاقت

    ایک بار پھر ایک حوا کی بیٹی غائب.تحریر: احمد لیاقت

    یہ خاتون ہمارے ایک بہت اچھے پسرور کے رہائشی بھائی کی ہمشیرہ ہیں جو کہ 11 جولاٸی 2021 کو ساڑھے تین بجے کی ٹرین میں لاھور سے کراچی جانے کے لیے اپنی 10 سالہ بیٹی کے ساتھ روانہ ھوٸیں ۔ جنہوں نے 12 جولاٸی دن 2 بجے کراچی پہنچنا تھا۔لیکن نہیں پہنچیں اور موباٸل فون بھی 11 جولاٸی رات 9 بجے سے بند ھے

    یہ وہی حوا کی بیٹی ہے جو مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئیں جس کے کانوں میں اذان دی گئی اور جسکو دین کا شرف حاصل ہوا جو ایک باپ کی عزت اور بھائی کی غیرت بنی ۔ حوا کی بیٹیاں کب تک غیر محفوظ رہیں گئیں دل خون کے انسو روتا ہے اس غریب اور بے سہارا کی آواز بنیں

    جو بچے غائب ہوئے ان کے ساتھ ظلم زیادتی کے بعد ان کو پھینک دیتے ہیں حکومت وقت کب تک دیکھتے رہیں گے اس طرح کے واقعات جب مجرموں کو کڑی سے کڑی سزا نہیں دی جاتی تب تک ایسے حوا کی بیٹیاں غائب ہوتی رہیں گی

    افسوس پاکستان کے اسکے گندے اور ناقص قانون کا یہ حال ھے کہ نہ لاھور پولیس اور نہ ھی کراچی پولیس یہ کیس لینے کو تیار ھے۔ اُ لٹا کہتے یںں جو کرنا ھے خود کریں ہم کچھ نہیں کر سکتے

    برائے مہربانی بحیثیت مسلمان اگر کوٸی کسی طرح بھی انکی خبر دے سکے تو لازمی نیچے دیئے گے نمبرز پر رابطہ کریں ‏‎جب تک سرے عام پھانسی کا قانوں لاگو نہیں ھو گا تب تک یہ درندے ایسے ہی معصوم پھولوں کی زندگیاں ختم کرتے رہیں گی اگر قوم میں شعور ہے تو ایک تحریک چلاٸیں گورنمنٹ سے پھانسی کا قانوں ایمپلیمینٹ کرواٸیں ورنہ یہ معصوم بچے آج کسی اور کے تو کل ہمارے بھی ہوسکتے ہیں۔

    اللہ پاک ان ماں بیٹیوں سمیت ہر مسافر کو محفوظ رکھے آمین۔ برائے رابطہ لواحقین فون نمبرز

    0336-7350956
    0342-2018177
    0347 1285917

  • آذان  .تحریر:ماریہ مغل

    آذان .تحریر:ماریہ مغل

    آپ نے کبھی آذان پہ غور کیا ہے اللہ تعالی کیا کہتے ہیں۔۔
    حی الصلوۃ
    کہ آو نمار کی طرف ۔۔
    جیسے ایک ماں اپنے بچے کو بلاتی ہے جو اس دور جا رہا ہو ۔۔
    پھر ایک۔بار مزید اللہ کیا کہتے ہیں
    حی الصلوۃ ۔۔
    کہ آ جاو ناں نماز کی طرف ۔۔
    ایسے میں جو اچھے اور تابع دار ہوتے ہیں وہ دوسرے بلاوے پہ ہی بھاگے بھاگے جاتے ہیں اپنے رب کی بارگاہ میں کہ اللہ ہم حاضر ہے مگر جو بچے ضدی ہوتے ہیں ان کو اپنی طرف بلانے کے لئے لالچ دینا پڑتا ہے ان کو ان کی پسندیدہ چیز یں دیکھا کہ کر ان کو متوجہ کرنا پڑتا ہے

    تو اللہ کیا کہتے ہیں کہ
    حی الفلاح ۔۔
    آ جاو فلاح کی طرف ۔۔
    یعنی آ جاو اور سمیٹ لو سارے خزانے ۔۔اب انسان اللہ کے خزانوں کو نہیں سمجھتا ۔۔اس نے خواہشات کے نام پہ چھوٹے چھوٹے پتھر رکھے ہوتے ہیں جو انسان کہ عظمت کے سامنے تو بہت چھوٹے ہیں ۔اب سوچیئے ذرا ایک بچے کو چاکلیٹ دیکھائی جائے تو وہ فورا آپ کا دوست بن جاتا ہے مگر انسان کتنا ناشکرا اور بے قدرا ہے ناں ۔۔رب اسے دونوں جہانوں کہ کامیابیاں دیتا ہے سجدے میں ۔مگر وہ حجتیں پیش کرتا رہتا ہے کبھی خود اور کبھی لوگوں کو ۔۔تو آج سے اپنے رب سے تجدید وفا کریں اپنی محبت اور آزان کی پہلی آواز پہ کہیں کہ اللہ میں لوٹ آیا ہوں یقین مانو تمہارا رب تمہیں بڑی محبت اور مان سے بلاتا ہے۔
    @l_m_Mairi
    ماریہ مغل

  • زندگی ، خوشی اور غم کا میل جول .تحریر: کاوش

    زندگی ، خوشی اور غم کا میل جول .تحریر: کاوش

    سردی کا موسم تھا اور ایک بوڑھا آدمی گھر پر اکیلا تھا اسے چائے کی طلب ہو رہی تھی اس کی بیوی اور بیٹا دونوں مارکیٹ گئے تھے اس نے سوچا ان کے آنے کا انتظار کرنے کی بجائے کیوں نہ اٹھ کر خود ہی چائے بنا لی جائے ابھی اس نے چائے بنانا شروع ہی کی تھی کہ فون کی گھنٹی بجنے لگی اس کے بیٹے کا فون تھا وہ اسے بتا رہا تھا کہ بیس منٹ میں وہ لوگ گھر پہنچ جائیں گے اور یہ کہ کیا آپ کے لیے کچھ لے کر آئیں باتوں کے دوران اس آدمی کو خیال ہی نہ رہا اور اس نے بے دھیانی میں چینی کے چار چمچ چائے میں ڈال دیئے جب اس نے چائے کا سیپ لیا تو میٹھا بہت ہی زیادہ تھا اتنی میٹھی چائے پینا بہت ہی مشکل تھا بوڑھا آدمی سوچ میں پڑگیا کہ اب وہ کیا کرے چائے میں ڈالی ہوئی ہے ایکسٹرا چینی کو باہر واپس کیسے نکالے کیا وہ ایسا طریقہ ہو جس کی مدد سے تین چمچ چینی چائے سے باہر نکال پائے اور چائے کا ذائقہ ایک دم فرسٹ کلاس ہو جائے لیکن دوستوں یہ ناممکن تھا

    زندگی میں کچھ چیزوں کی واپسی نہیں ہوتی ان کو ہم undo نہیں کر سکتے جیسے جو پانی ایک بار بہ جائے وہ واپس نہیں آتا جو تیر کمان سے نکل جو بات منہ سے نکل جائے جو وقت ایک بار گزر جائے وہ کبھی دوبارہ نہیں آتا ایسے ہی کچھ چیزیں جو زندگی میں ایک بار ہو جائیں وہ بس ہوجاتی ہیں ان کو واپس نہیں کیا جاسکتا زندگی میں کوئی undo button نہیں ہوتا چائے میں ڈالی ہوئی ایکسٹرا چینی کو باہر نکالنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا لیکن پھر بھی اس مسئلے کو حل کرنے کا ایک طریقہ تھا چائے میں چینی کم کرنے کا اس کو پینے کے قابل بنانے کا ایک ہی طریقہ تھا وہ یہ کہ اس چائے میں دو کپ اور دودھ ڈال دیا جائے اور اس بوڑھے آدمی نے ایسا ہی کیا اور اب اس کے پاس چائے کے ایک کپ کی بجائے تین کپ تھے جو اپنی بیوی اور بیٹے کو دے سکتا تھا دوستو زندگی بھی بالکل ایسی ہی ہے زندگی میں بعض دفعہ کچھ ایسی غلطیاں کچھ ایسی غلط چیزیں کچھ ایسی واقعات کو ہی جاتے ہیں انجانے میں ہو جاتے ہیں جو ہمیں تکلیف دیتے ہیں جن کا ہمیں افسوس رہتا ہے 😊 جن کو ہم بدلنا چاہتے ہیں ہماری کچھ غلط چوائسز کچھ غلط فیصلے غلط انویسٹمنٹ کچھ ایسے غلط الفاظ جو ہم بول جاتے ہیں جو ہمارے منہ سے نکل جاتے ہیں اور ہم انہیں واپس نہیں لے سکتے undo نہیں کر سکتے ایسا نہیں کہ ہم کوشش نہیں کرتے ہم اپنی پوری کوشش کرتے ہیں چیزوں کو بہتر کرنے پر کام کرتے ہیں لیکن جن چیزوں کو ہم بدل نہیں سکتے انہیں ریورس نہیں کر سکتے undo نہیں کر سکتے تو انہیں بدلنے کی ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے رہنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے چائے میں ڈالی ہوئی ایکسٹرا چینی کو باہر نکالنے کی کوشش کرنا جو ہم کبھی نہیں کر پائیں گے

    غلط چیزوں کو ٹھیک کرنے یا ریورس کرنے پر ٹائم ضائع کرنے کی بجائے ان پر ہی فوکس کرنے کی بجائے زندگی میں کچھ نئی کچھ اچھی چیزیں ایڈ کرنے کی کوششیں کرنی چاہئیں غموں کو مٹانے یا دکھوں کو ختم کرنے پر پر فوکس کرنے کی بجاۓ زندگی میں خوشیاں ایڈ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے کیوں کہ وہ خوشیاں آٹومیٹکلی غم کو ختم کردینگی غم ان کے سامنے چھوٹا بھی پڑ جائے گا جب کچھ مسائل کچھ پرابلم ہماری زندگی میں ایسی ہو جو ان کو کنٹرول نہیں کر پاتے جن کو حل نہیں کر پاتے انہیں حل کرنے کی کوشش چھوڑ دینی چاہیے اور زندگی میں کچھ ویلیو ایڈ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے مثبت ایڈ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے چائے میں سے اگر چینی نکالنی ہے تو اس میں تھوڑا
    سا دودھ ملانا چاہیے اگر آپ کے بچے کا کھلونا کسی نے توڑ دیا ہے اور کوشش کرنے پر بھی آپ اس کا جوڑ نہیں پا رہے اور بہت اداس ہے دکھی ہے تو کھلونا جوڑنے کی کوشش کرتے رہنے کی بجائے اسے کہیں گھمانے لے جائیں اس کو خوشیاں وہ خود ہی کھلونا بھول جائے گا

    @Kashii_Back

  • کیپٹن سلمان فاروق لودھی شہید تمغہ بسالت/ ستارہ بسالت  تحریر: ایمان ملک

    کیپٹن سلمان فاروق لودھی شہید تمغہ بسالت/ ستارہ بسالت تحریر: ایمان ملک

    دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جہاں ستر ہزار سے زائد پاکستانیوں نے اپنی قیمتی جانیں گنوائیں وہیں اس جنگ کے نتیجے میں متعدد سیاہ ترین واقعات بھی ہماری یاداشتوں کا حصہ بنے جو ہرگز کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ مگران سب سیاہ ترین واقعات میں جو امتیازی مقام جولائی سنہ2007ء کے سانحے کو حاصل ہے اس کی نظیر دیگر اقوام کی تاریخ میں شاید ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے۔ جب سنہ 2007ء میں پاکستان کے دارلحکومت، اسلام آباد کے وسط میں واقع ایک مسجد(لال مسجد) دہشت اور خوف کی علامت بن کر سامنے آئی۔ وہ مسجد جسے امن کا گہوارہ اور خیر کا وسیلہ ہونا چاہیئے تھا اُس نے ریاستی قوانین کو بالائے طاق رکھ کر اپنی ذاتی شرعی عدالت قائم کرنے کا اعلان کردیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے رکاوٹیں ڈالنے کی صورت میں خود کُش حملوں کی دھمکی بھی دی۔ اتنا ہی نہیں بلکہ تین چینی خواتین اور دیگر افراد کو قابلِ اعتراض بیوٹی پالر چلانے کے الزام میں لال مسجد اور جامعہ حفضہ کے طلبہ و طالبات نے گرفتار کر لیا۔ علاوہ ازیں، اسلام آباد کی رہائشی ایک خاتون پر فحاشی کا اڈا چلانے کا بہتان لگا کر اسے نہ صرف اغواء کیا گیا بلکہ اس پر ڈنڈوں سے تشدد بھی کیا گیا۔ اسی اثناء میں 4 پولیس کے اہلکاروں کا اسلحہ چھین کر انہیں یرغمال بھی بنایا گیا۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں تھما بلکہ مولونا غازی عبدالرشید(مولانا عبدالعزیز کے چھوٹے بھائی) کی جانب سے قائد اعظم یونیورسٹی کی طالبات کے چہروں پر تیزاب پھینکنے اورمولانا عبدالعزیزکی جانب سے ایک فیشن میگزین کے منتظمین کو سزائے موت کا حکم سنانے جیسے گھناؤنے اقدامات بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں جس نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا وقار مجروح کیا۔ حتٰکہ ان کے قہر سے معصوم بچوں کی لائبریری اور دیگر سرکاری املاک بھی محفوظ نہ رہ سکیں۔

    ایسی گھمبیر صورتحال کا مقابلہ کرنا پاکستان کے لئے ہرگز کسی کڑی آزمائیش سے کم نہ تھا۔ ایک طرف ریاست کی عمل داری کی بحالی کا سوال تھا تو دوسری طرف معاشرے کے ان غریب اور مسکین بچوں کی جانوں کی فکر جو اس مسجد کے انتہا پسند نظریات اور ذاتی ایجنڈے کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مدارس ان ہزاروں ناداراورمفلس بچوں کی کفالت کی ذمہ داری اٹھا رہے ہیں جن کی ضروریات ان کے غریب والدین پورے نہیں کر سکتے اور یہی وجہ تھی کہ لال مسجد اور جامعہ حفضہ و جامعہ فریدیہ کے طلبہ و طالبات نے اپنے مدرسے کے منتظمین کے حکم پر سر تسلیم خم کرتے ہوئے بندوقیں اٹھا لیں۔
    لال مسجد کی میڈیا کوریج کے دوران ایسے مناظر بھی عکس بند ہوئے جب یہ نوجوان اپنے منہ ڈھانپے اور گیس ماسک پہنے ہوئے دکھائی دیئے۔ جو کہ حیرت انگیز بات تھی کیونکہ اس قسم کے ماسکزسے ایک آدھ گھنٹے میں عادی ہونا کسی بھی انسان کے لئے ہرگز ممکن نہیں بلکہ اس کے لئے مہینوں پر محیط ایک مکمل تربیت درکار ہوتی ہے ورنہ انسان کو قے ہونے لگتی ہے۔ ان نوجوانوں کی ماہرانہ جنگی صلاحیتوں کا یہ عالم تھا کہ اُن میں سے ایک نے تواچھے خاصے فاصلے سے ایک رینجر کے اہلکار کے سر پر نشانہ لے کر اُسے شہید کر دیا۔
    بہرحال پاکستان نے پُرامن طریقے سے ان معاملات سے نمٹنے کی ہر ممکن کوشش کی اوراس ضمن میں سیاستدانوں، سماجی کارکنوں حتٰکہ اس وقت کے امامِ کعبہ کی بھی خدمات حاصل کیں۔تاکہ کسی طرح یہ نوجوان طلبہ اور طالبات ہتھیار ڈال دیں اور پُر امن طریقے سے یہ معاملہ اختتام پزیرہوجائے۔ بہت سی طالبات نے تشدد کا راستہ ترک بھی کیا اوران کے ہی بھیس میں لال مسجد اور مدرسے کے منتظمین مولانا عبدالعزیز اور اُمِ حسان نے بھی مسجد میں اپنے دیگر طلبہ کوتنہا چھوڑ کر راہِ فرار اختیار کرنا چاہی مگر وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں آگئے۔ پاکستان نے مولانا عبدالرشید کو بھی اپنے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈالنے اور انہیں ان کے آبائی علاقے میں محفوظ ٹھکانہ دینے کی شرط پر ہر ممکن آمادہ کرنے کی کوشش کی مگر وہ اپنی بات پر ڈٹے رہے اور انہوں نے مزاحمت کے راستے کو ترجیح دی۔
    بالاآخر 10 جولائی سنہ 2007ء کو علی الصبح پاک فوج کے اسپیشل سروس گروپ(ایس ایس جی) کےاعلیٰ تربیت یافتہ کمانڈوز پر مشتمل دستہ تشکیل دیا گیا تا کہ آپریشن کیا جا سکے۔ مگر اس دوران بھی حکومتِ پاکستان کی ہر ممکن کوشش تھی کہ کسی طرح بنا آپریشن کے معاملات طے پا جائیں۔ عموماً اس طرز کے آپریشنز کے لئے رات کی تاریکی کا انتخاب عسکری اعتبار سے آپریشنز کی کامیابی کے لئے نہایت سودمند سمجھا جاتا ہے۔ مگر حکومتِ پاکستان نے اس وقت کوبھی صرف اس لئے ضائع کیا کیونکہ وہ تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتی تھی۔ مگر بد قسمتی سے اس سب کے باوجود حکومتِ پاکستان کی کوششیں کارگر ثابت نہ ہو سکیں۔ اور بالاآخر ریاست کے پاس بذریعہ ملٹری آپریشن(آپریشن سائیلینس) ملک کی تاریخ کے اس سیاہ ترین باب کوبند کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
    اس ملڑی آپریشن میں حصہ لینے والے پاکستان کے بیٹوں میں سے ایک نام کیپٹن سلمان فاروق لودھی شہید تمغہ بسالت، ستارہ بسالت کا بھی ہے جو آج بھی ایس ایس جی کے چند بہترین کمانڈوز میں شمار ہوتے ہیں۔ بہاولپور سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان آفیسر کی پاکستان کے لئے دی جانی والی خدمات کا سلسلہ اتنا طویل ہے کہ یہاں اس کا صرف مختصراً ذکر کرنا ہی ممکن ہوگا۔

    کیپٹن سلمان نوعمری ہی سے پاک فوج کے دلدادہ تھے اسی لئے وہ بحیثیت کمیشنڈ آفیسر پاک فوج میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے تھے مگر ان کے والدین انہیں ڈاکٹر بنانے پر مصر تھے۔ کیپٹن سلمان نے اپنی ہمشیرہ کی معاونت سے بڑی مشکلوں سے اپنے والدین کی منت سماجت کر کے انہیں منایا۔ اور اس طرح انہیں103پی ایم اے لانگ کورس کے ہمراہ پاک فوج میں شمولیت اختیارکرنے کاموقع ملا۔
    کیپٹن سلمان نے پاک فوج میں اپنی افتادِ طبع کے مطابق ایس ایس جی گروپ کا انتخاب کیا اور بعد ازاں وہ اس کی ایک اینٹی ٹیررسٹ کمپنی’ قرار کمپنی’ سے منسلک ہو گئے۔ پاکستان کے اس جری سپوت نے سنہ 2004ء کے دوران جنوبی وزیرستان میں بھی انسدادِ دہشت گردی کے ضمن میں ‘آپریشن المیزان’ کے دوران اپنی خدمات سرانجام دیں، جب ہمارے قبائلی علاقہ جات دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کا گڑھ سمجھے جاتے تھے۔ کیپٹن سلمان کو قبائلی علاقہ جات میں ان کی گراں قدر خدمات سرانجام دینے کے عوض صدر جنرل مشرف کی جانب سے تمغہ بسالت سے نوازا گیا۔ اس کے بعد بھی انہیں مزید ایک بار تمغہ بسالت کے لئے نامزد کیا گیا مگر انہوں نے یہ کہ کر اُسے لینے سے انکار کر دیا کے باقی سپاہیوں کا بھی حق ہے لہٰذا یہ اعزازدیگر افسران میں سے کسی کودے دیا جائے۔

    اپنے مزاج سے اپنے افسران اور دیگر ساتھیوں کے دلوں کو گھر کرنے والے کیپٹن سلمان شہید کے جونیئر آفیسر کیپٹن بلال ظفر شہید اس قدر ان کے مداح تھے کہ وہ ہمیشہ اپنی جیب میں کیپٹن سلمان کی تصویر رکھتے تھے کیونکہ وہ ان کے لئے ایک استاد کا درجہ رکھتے تھے۔
    کیپٹن سلمان کی شادی کے موقع پر(لال مسجد آپریشن سے 8 ماہ قبل) ان کی ہمشیرہ نے ان کی شہادت سے متعلق خواب دیکھا جس سے وہ قلبی اضطراب میں مبتلا ہو گئیں۔ ایسے ہی متعدد خواب کیپٹن سلمان کی شہادت سے قبل کیپٹن سلمان نے خود اور خاندان کے دیگر افراد نے بھی دیکھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے اور ان کے اہل خانہ کے خوابوں کو اس وقت مقبولیت بخشی جب وہ آپریشن سائیلینس کے لئے لال مسجد میں اپنے دیگر ساتھیوں سمیت داخل ہوئے۔ کسی نے بھی یہ گمان نہیں کیا تھا کہ محض عام سے مدرسے کے طلبہ سے انہیں اس قدد مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس مدرسے کے نام نہاد طلبہ کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کے خلاف راکٹ لانچرز،ہینڈ گرینیڈز اورمشین گنز کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ غرض یہ کہ پوری لال مسجد اور جامعہ حفظہ(خواتین کے مدرسے) کا احاطہ بوبی ٹرایپ تھا اور بیشتر جگہوں پر بارودی سرنگوں کا جال بچھا ہوا تھا۔ اس طرح حربی حکمت عملی کے اعتبار سے پورے علاقے کو تیار کرنا محض مدرسے کے عام سے طلبہ کی بس کی بات نہیں لگتی۔ وہاں یقیناً تربیت یافتہ دہشت گرد موجود تھے اسی لئے جامعہ حفضہ کی صرف سیڑھیوں پرہی ایس ایس جی کے چار جوانوں کا شہید ہو جانا ہرگز اچنبھے کی بات نہیں۔
    کیپٹن سلمان کے ساتھ اس وقت آپریشن میں موجود ایک لانس نائیک کے مطابق کیپٹن سلمان نے ہی انہیں پیچھے دھکیل کر ان کی جان بچائی جب ایک گرینیڈ ان کے پاؤں کے قریب آکر گرا۔ کیپٹن سلمان کے دیگر ساتھیوں اوراس آپریشن میں شریک ان کے دوستوں کے مطابق کیپٹن سلمان بہت محتاط تھےاورانہوں نے ہرممکن کوشش کی شرپسند خود ہتھیار ڈال دیں مگر ان کی کوششیں بے کار ثابت ہوئیں۔

    اِدھر کیپٹن سلمان کے چھوٹے بھائی نے خواب دیکھا کہ کیپٹن سلمان انہیں خدا حافظ بول رہے ہیں۔ اور کیپٹن سلمان کی ہمشیرہ نے شہادت کے کلمات، اور اپنے بھائی کی شہادت کے اعلانات ہوتے ہوئے دیکھے۔ اُدھر کیپٹن سلمان اپنے وطن کی حفاظت کے عہد کو نبھاتے ہوئے اپنی آخری سانسیں بھی اس وطن پر نچھاور کر گئے۔ ایس ایس جی کے اس بہادر بیٹے کو آٹھ گولیاں لگیں جن میں سے ایک ان کےسر سے گزرتی ہوئی ان کی گردن میں لگی اور کیپٹن سلمان کو شہادت کے اعلیٰ ترین رتبے پر فائز کر گئی۔ اور یوں عظمت و ہمت کی یہ داستان سنہری حروف کے ساتھ عسکری تاریخ میں محفوظ ہو گئی۔ کیپٹن سلمان فاروق لودھی شہید کو بعد از شہادت ان کی ملکی دفاع سے متعلق لازوال خدمات کے اعتراف میں ستارہ بسالت سے نوازا گیا۔ اس طرح ابھی تک وہ واحد شہید آفیسر ہیں جو تمغہ بسالت اور ستارہ بسالت دونوں اعزاز پانے کا شرف رکھتے ہیں۔
    لہٰذامذکورہ بالا حقائق کے پیشِ نظر اس امر کا ادراک کرنا ہرگز دشوار نہیں کہ ریاستِ پاکستان نے بذریعہ مزاکرات ان معاملات کو طے کرنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ایک ہاتھ سے نہیں۔ آج اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ لال مسجد آپریشن میں ناحق لوگوں کو مارا گیا کوئی یہ نہیں سوچتا کہ پاک فوج کے 10 تربیت یافتہ کمانڈوز کو کس نے شہید کیا؟ درجنوں کمانڈوز زخمی ہوئےاورمتعدد کی ٹانگیں لال مسجد اور جامعہ حفضہ میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کی نزر ہو گئیں۔ کیا یہ سب پاکستان کے بیٹے نہیں ہیں؟ جو اپنے لواحقین کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑکرملکی دفاع کے لئے ہمہ وقت قربان ہونے کو تیار کھڑے رہتے ہیں۔ اوراس سے بھی زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ آج بھی پاکستان کے ان قومی ہیروز کے اہلِ خانہ خوف کے سائے میں اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے مجرم پاکستان کے دارلحکومت میں آج بھی دندناتے پھرتے ہیں۔
    ایمان ملک

  • بجلی بنانے والا” ٹوائلٹ” جسے استعمال کرنے پر معاوضہ بھی ملے گا

    بجلی بنانے والا” ٹوائلٹ” جسے استعمال کرنے پر معاوضہ بھی ملے گا

    جنوبی کوریا میں بجلی بنانے والا ایسا بیت الخلا تیار کیا گیا ہے جسے استعمال کرنے پر کرپٹو کرنسی بھی ملے گی۔

    باغی ٹی وی:"رائٹرز” کے مطابق جنوبی کوریا میں السان نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی (یو این آئی ایس ٹی) کے شہری اور ماحولیاتی انجینئرنگ کے پروفیسر چو جا وون نےچو جائی ویون نے اپنے اسٹوڈنٹس کے ساتھ مل کر ماحول دوست ٹوائلٹ ڈیزائن کیا ہے بائیوگاس اور کھاد تیار کرنے کے لئے اخراج کو استعمال کرتا ہے۔

    تیار کردہ بیت الخلا کو “بی وی” کا نام دیا گیا ہے اور یہ ایک خاص طرح کے ٹینک کے ساتھ منسلک ہے جس میں انسانی فضلے سے میتھین گیس اور کھاد بنانے والے جراثیم بھی بند کیے گئے ہیں۔

    انسانی فضلہ ایک ویکیوم پمپ کے ذریعے فلش کیا جاتا ہے جس کے لیے پانی کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ فضلہ ٹوائلٹ سے ٹینک میں پہنچتا ہے اور جرثومے اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔

    پروفیسر چو جائی ویون کہتے ہیں کہ ایک انسان یومیہ اوسطاً 500 گرام فضلہ خارج کرتا ہے جس سے 50 لیٹر میتھین گیس بنائی جاسکتی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ میتھین گیس کی یہ مقدار اتنی ہے کہ اس سے لگ بھگ 0.5 کلوواٹ گھنٹہ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جو ایک برقی کار کو 1.2 کلومیٹر تک لے جانے کےلیے کافی ہے۔

    پروفیسر چو جائی ویون نے ’’جی گول‘‘ کے نام سے ایک کرپٹو کرنسی بھی متعارف کروائی ہےجو ٹوائلٹ استعمال کرنے والے کو معاوضے کے طور پر دی جائے گی۔

    چو کےمطابق ماحول دوست دوستانہ ٹوائلٹ استعمال کرنے والا ہر فرد ایک دن میں 10 جی گول حاصل کرسکتا ہے طلباء اس کرنسی کا استعمال کیمپس میں سامان خریدنے کے لئے کر سکتے ہیں ، تازہ بریڈ کافی سے لے کر انسٹنٹ کپ نوڈلز ، پھلوں اور کتابیب تک خرید سکتے ہیں۔طلباء اپنی مصنوعات کو اپنی دکان پر اٹھا سکتے ہیں اور جی کول کے ساتھ ادائیگی کے لئے کیو آر کوڈ اسکین کرسکتے ہیں۔

    جی گول مارکیٹ میں پوسٹ گریجویٹ طالب علم ہی ھوئی جن نے کہا ، "میں نے کبھی سوچا تھا کہ یہ گندا ہے ، لیکن اب یہ میرے لئے بہت اہمیت کا خزانہ ہے۔”

    واٹس ایپ کا بھارت میں کریک ڈاؤن،20 لاکھ بھارتی اکاؤنٹس بند کر دیئے

  • ہر لب پہ ابتسام ہے.. تحریر :خنیس الرحمٰن

    ہر لب پہ ابتسام ہے.. تحریر :خنیس الرحمٰن

    علامہ احسان الٰہی ظہیر اس صدی کے عظیم مبلغ گزرے ہیں, اللہ نے آپ کو بیش بہا صلاحیتوں سے نوازا تھا. مسلک اہلحدیث کی وہ جان تھے. لیکن 1986 ء میں قلعہ لچھمن سنگھ لاہور میں دوران جلسہ آپ کو بم دھماکے میں شہید کردیا گیا. آپ کی شہادت کے بعد اہلحدیث ہی نہیں بلکہ پاکستان کی تمام دینی جماعتیں ایک ہیرے سے محروم ہوگئیں. وہ ہیرا جب گرجتا تھا تو پنڈال میں خاموشی چھا جاتی تھی. آج اللہ نے علامہ احسان الٰہی ظہیر کے صاحبزادوں کو بھی بہت سی صلاحیتوں سے نوازا ہے. علامہ صاحب کے بڑے صاحبزادے ابتسام الٰہی ظہیر صاحب روزنامہ دنیا سے بطور کالم نگار منسلک ہیں, عالم ہیں اور مجھے حیرانگی اس وقت ہوئی جب مجھے معلوم ہوا ابتسام الٰہی ظہیر نے 1997ء میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعہ صحافت کے لیکچرر کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ بعد ازاں انہوں نے پوسٹ گریجویٹ سطح پر شعبہ صحافت میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں لیکچر دیے۔ سیاست میں بھی بھی حصہ لیتے ہیں گذشتہ انتخابات میں ایم ایم اے کے امیدوار کی حیثیت سے قصور سے حصہ بھی لیا اور کثیر تعداد میں ووٹ حاصل کئے. لاہور کی جامع مسجد لارنس روڈ جو ان کے والد صاحب نے تعمیر کروائی اس کے خطیب بھی ہیں. ابتسام الٰہی ظہیر سے متعلق سوشل میڈیا پر گذشتہ کئی دنوں سے غیر اخلاقی تعصب پر مبنی مواد شئیر کیا جارہا ہے.

    واقعہ کچھ یوں ہے سوشل میڈیا پر اذان الہی نامی شخص نے اہل بیت کی شان میں گستاخی کی, کچھ شرپسند عناصر نے اذان الہی کو ابتسام الٰہی ظہیر صاحب کا بھتیجا قرار دے کر توپوں کا رخ ان کی طرف موڑ دیا. ابتسام الٰہی ظہیر صاحب کے خلاف ہر طرف طوفان بدتمیزی بپا کیا گیا. انہیں قتل کی دھمکیاں دی گئیں. ان کے خلاف سوشل میڈیا پر بھرپور کمپین چلائی گئی. انہوں نے واضح طور پر تردید کی کہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں اور میں خود اس کی سزا کا مطالبہ کرتا ہوں. میرے خیال کے مطابق ابتسام الٰہی ظہیر صاحب چند دنوں سے سوشل میڈیا پر کافی مقبول تھے اور دین دشمن لوگوں کو یہ بات ہضم نہیں ہورہی تھی انہوں نے یہ حربہ آزمایا. دوسری طرف آپ کو بھارت کے اس یوٹیوبر میجر کی ویڈیو یاد ہوگی جس میں وہ کہہ رہا تھا ہم پیسے دے کر پاکستان میں مسالک کو آپس میں لڑاتے ہیں اس واقعے کے پیچھے بھی مجھے اسی طرح کی کوئی کہانی لگ رہی ہے .پہلے شیعہ و سنی اور دیوبندیوں کو آپس میں لڑایا گیا اب انہوں نے اس کام کے لیے اہلحدیث عالم کا انتخاب کیا. حرمت رسول ﷺ کا مسئلہ ہو,صحابہ و اہلیت کا مسئلہ ہو, یہاں تک کے پاکستان کی سلامتی کا مسئلہ ہو میں نے انہیں صف اول میں پایا. ایسا شخص کیسے اہل بیت کی گستاخی کا سوچ سکتا ہے جس کے خود شب روز منبر رسول ﷺ پر گذرتے ہوں..

    میں ایک نشست میں تھا وہاں سب ابتسام الٰہی ظہیر صاحب سے اظہار یکجہتی کے لئے جمع تھے سب کی آنکھوں میں میں ایک تڑپ دیکھ رہا تھا. سب اپنے اس رہنماء کو کھونا نہیں چاہتے ,ان کی حفاظت کے لئے پرعزم تھے.راولپنڈی ,لاہور, گوجرانوالہ میں حافظ صاحب سے اظہار یکجہتی کے لئے پروگرام منعقد کئے گئے. آج ملک و دین کے دشمنوں نے حافظ ابتسام الٰہی ظہیر کی آواز کو دبانا چاہا لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ آج ہر لب پہ ابتسام ہے… پاکستان کی حکومت اور ادارے ابتسام الہی ظہیر صاحب کو تحفظ فراہم کریں تاکہ وہ کسی بھی سازش کا شکار نہ بن سکیں.