Baaghi TV

Category: متفرق

  • خواتین کے ساتھ مردوں کا بھی کارخیر میں حصہ۔تحریر۔ راجہ ارشد

    خواتین کے ساتھ مردوں کا بھی کارخیر میں حصہ۔تحریر۔ راجہ ارشد

    عیدالضحیٰ مسلم کلینڈر کے آخری مہینے کی 10 ذی الحج کو منائی جاتی ہے۔ اس عید پر جانوروں کی قربانی دی جاتی ہے جس کی وجہ سے اسے عید قرباں کہا جاتا ہے۔ حُجاج قربانی کرنے کے بعد حج کے لیے پہنا گیا خصوصی لباس، احرام، اتار دیتے ہیں۔

    قربانی کا گوشت تین حصوں میں بانٹا جاتا ہے، جس میں سے ایک حصہ اپنے لیے، دوسرا رشتہ داروں کے لیے اور تیسرا غریبوں کے لیے ہوتا ہے۔
    قربانی کے جانور کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر قسم کے جسمانی نقص سے پاک ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہر کوئی تلاش میں ہوتا ہے صحت مند اور خوبصورت بکرے، بھیڑ، دمبے، اونٹ یا بیل ہی خریدے۔
    مالی استطاعت رکھنے والا ہر مسلمان اپنی طرف سے قربانی کر سکتا ہے۔ اور ایسے عید پر ایسے افراد اپنی پسند کے جانور خریدنے کے لیے مویشی منڈیوں کا رخ کرتے نظر آتے ہیں اور پھر اکثر واپسی قربانی کے اپنے پسندیدہ جانور کے ساتھ ہوتی ہے
    بڑے جانور کی قربانی میں سات افراد حصہ لے سکتے ہیں جبکہ چھوٹے جانور کی قربانی ہر شخص کو الگ الگ کرنی پڑتی ہے۔ تاہم ایسے اجتماعی قربانی کی رسم ایسی ہے کہ جس میں اب بکرے کی قربانی میں بھی حصہ مل جاتا ہے۔
    قربانی کے اہل جانور کا پتا اس کے دانت دیکھ کر بھی لگایا جاتا ہے۔ اگر اس کے دو بڑے دانت ہوں تو پھر اسے قربانی کے قابل سمجھا جاتا ہے ایسے جانور ’دوندا‘ بھی کہا جاتا ہے یعنی دو دانتوں والا۔
    جانور کو ذبح کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اسے کم سے کم اذیت پہنچے۔ عید پر جانور زیادہ ہونے کی وجہ سے جانور کو زبح کرنے میں مہارت رکھنے والوں کی طلب میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ قربانی کے جانور کو زبح کرنے سے پہلے خوب کھلایا پلایا اور گھومایا پھرایا جاتا ہے۔
    عیدالاضحیٰ پر جہاں دنیا بھر کے مسلمان ایثار و قربانی کے جذبے سے سرشار ہو کر سنّت ابراہیمی ادا کرکے جانوروں کی قربانی کرتے ہیں وہیں دوسری جانب گوشت کی تقسیم کے بعد مرحلہ آتا ہے مزے مزے کے چٹخارے دار پکوان کھانے اور بنانے کا۔

    قربانی کے گوشت سے مختلف اقسام کے چٹ پٹےکھانے بنانے کا رواج گھروں میں تو عام ہے جہاں خواتین کھانوں کی تیاری کیلئے کچن میں جُت جاتی ہیں مگر اب ہوٹلوں اورپکوانوں کی دکانوں سے بھی ذائقے دار کھانے آرڈر پرتیار کرنے کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

    عید الاضحٰی آ رہی ہے عید منائیں قربانی بھی کرئیں مگر یاد رکھیں کرونا کی چھوتھی لہر بھی آ رہی ہے حکومت کے بتائے ہوئے ایس او پس پے بھی عمل کریں

    پچھلے سال بھی عوام کو جس طرح سمجھایا گیا تھا اس کے برعکس عوام نے کام کیا اور کسی بھی طرح کسی بھی ایس او، پی پر عمل نہیں کیا ۔ عید کے بڑے بڑے اجتماعات کیے گئے، لوگوں نے خوب ڈٹ کر سماجی دوری کا ستیاناس کیا  اور خوب محفلیں جمائیں  کیونکہ عید قربان میں لوگ زیادہ پارٹیاں کرتے ہیں گوشت کی فراوانی ہوتی  ہے، یوٹیوب سے ریسیپیز لی جاتی ہیں اور خواتین کے ساتھ مرد حضرات بھی اس کارخیر میں حصہ ڈالتے ہیں ۔

    چھوٹی عید اگر روزوں کے بعد انعام ہے تو بڑی عید ہمیں ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی کی یاد دلاتی ہے مگر اب یہ اسلامی تہوار ہماری اناؤں اور روئیوں کے باعث تہواروں کے موافق لگتے ہی نہیں ہیں ۔
    ہر شخص سیر سے سوا سیر بن گیا ہے کوئی بھی کسی مسئلے پر سر جھکانے کو تیار ہی نہیں ہوتا اور چھوٹے سے چھوٹا مسئلہ رائی کا پہاڑ بن جاتا ہے ۔
    عیدوں پر جو خوشیاں ہوتیں تھیں اب وہ خاک ہوگئی ہیں ہر شخص اپنی خودنمائی اور خود پرستی کا شکار ہوگیا ہے انہیں دوسرا کوئی نظر ہی نہیں آتا۔
    اگر دیکھا جائے تو بڑی عید میں اصل قربانی باپ اور بیٹے کی گفتگو تھی۔اور دنبے کا ذبیحہ اس کا فدیہ تھا۔
    ہمیں دنبہ تو یاد رہا گفتگو یاد نہ رہی اس لیے ہماری عیدوں میں چاشنی نہیں رہی حالانکہ پہلے کی نسبت اب اچھے کپڑے اور جوتے پہنے جاتے ہیں مگر جس سے بھی پوچھا جائے وہ یہی کہتا ہے کہ عید کا مزہ نہیں رہا ۔

  • افغان جنگ اور پاکستان . تحریر:حسان خان

    افغان جنگ اور پاکستان . تحریر:حسان خان

    آجکل ٹیلی ویژن ہو یا اخبار یا پھر انٹرنیٹ پر گردش کرتی تصاویر اور ویڈیوز ہر جگہ افغانستان میں طالبان کی بڑھتی فتوحات اور افغانستان سے امریکی انخلاء کا ہی ذکر سننے کو ملتا ہے۔ بلاشبہ افغانستان خطے کا اہم ملک ہے اور وہاں وقوع پذیر ہونے والے واقعات خطے کے دیگرممالک پر اپنے اثرات چھوڑ جاتے ہیں مگر افغانستان اور افغان جنگ پاکستان کے لیے بہت اہم کیوں ہے ؟؟ کیوں ہر دوسرا پاکستانی افغان جنگ پر بات کر رہا ہوتا ہے ؟؟ آج ہم جانیں گے افغانستان کی سیاسی تاریخ اور اس میں پاکستان کا کردار اور اس افغان جنگ نے پاکستان پر کیا کیا اثرات ڈالے
    افغانستان میں 1973 تک بادشاہت کا نظام رائج رہا مگر 1973 میں بادشاہ کے چچازاد داود خان نے بادشاہ کو معزول کر دیا اور بادشاہت کو ختم کر کے افغانستان میں جمہوری نطام نافظ کر دیا اور خود افغانستان کے پہلے صدر بن بیٹھے۔ انکا دورِ صدارت زیادہ طویل نہ ہو سکا اور 1978 میں کمیونسٹ جماعت پی ڈی پی اے نے انکے خلاف بغاوت کر دی اس بغاوت میں داود خان مار دیے گئے۔ سویت یونین کی حمایت یافتہ کمیونسٹ جماعت بھی زیادہ دیر تک سکون سے حکومت نہ کر سکی اور انکے لیڈروں کے درمیان شدید اختلافات سامنے آ گئے
    اختلافات اس قدر شدید تھے کہ داود خان کے بعد صدارت سنبھالنے والے نور محمد ترکئی کو انکے اپنے وزیرخارجہ حفیظ اللہ امین نے پہلے معزول اور پھر قتل کروا دیا اور خود صدارت کی کرسی پر جا بیٹھے۔ حفیظ اللہ امین اور انکی جماعت تھی تو کمیونسٹ نظریات کی حامل مگر حفیظ اللہ امین نے امریکہ کے ساتھ بھی دوستانہ تعلقات رکھنے کی کوششیں شروع کر دیں اور انہی بوجوہات کی بناء پر 1979 میں سویت یونین نے افغانستان پر چڑھائی کر دی۔ پہلے مرحلے میں سویت یونین کے خفیہ اہلکار فضائی راستے سے افغانستان پہنچے اور پھر افغان فورسز کی وردی میں صدارتی محل میں داخل ہوکر صدر حفیظ اللہ امین کو قتل کر کے افغان حکومت گرا دی اور اپنی پسند کے ببرک کرمل کو صدر کی کرسی پر بٹھا دیا
    دوسرے مرحلے میں سویت یونین سے مزید دو ڈویژن فوج افغانستان پہنچی تاکہ نئی حکومت کو رٹ قائم کرنے میں مدد دی جا سکے
    افغانستان میں طاقت کے بگڑتت توازن اور سویت یونین کی دراندازی پر افغانستان کے اندر اور باہر شدید ردعمل آیا۔ حریت پسند افغان عوام نے روسی کٹھ پتلی حکومت کو مسترد کر دیا ساتھ ہی حکومت اور غیر ملکی افواج کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا

    امریکہ ، پاکستان ، ایران اور سعودیہ عرب نے مجاہدین کی بھرپور مدد کا اعلان کر دیا اور انہی دنوں سے پاکستان کا افغانستان میں کردار شروع ہوتا ہے۔ پاکستان چوکہ افغانستان کا ہمسایہ ملک ہے اس وجہ سے افغان مجاہدین کی معاونت اور انکی تربیت کی تمام ذمہ داری پاکستان کے سپرد کی گئی جبکہ اسکے اخراجات امریکہ اور سعودیہ برداشت کرتا رہا۔ افغان جنگ میں پاکستان کے شامل ہو جانے سے پاکستان میں "کلاشنکوف کلچر” عام ہو گیا غیر قانونی ہتھیار آسانی سے ملنے لگے جبکہ منشیات کی لعنت بھی اسی دور میں پاکستان میں عام ہوئی۔ اسکے علاوہ لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کی پاکستان آمد ہوئی جسکی وجہ سے پاکستان کو اندرونی سکیورٹی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑنا۔ امریکہ ، پاکستان اور سعودیہ کی مدد سے مجاہدین روس کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئے اور شکست خوردہ روس بلآخر 1989 میں اپنے جنگی آلات وہیں چھوڑ کر الٹے پاوں بھاگنے پر مجبور ہو گیا

    روس چلا گیا پیچھے وسیع اسلحے کے ڈھیر چھوڑ گیا ساتھ ہی مجاہدین نے بھی خود کو منظم کیا اور بلآخر 1996 میں کابل پر قبضہ کر کے افغانستان میں اپنی حکومت قائم کر لی۔ پاکستان نے اس حکومت کو تسلیم کر کے انکے ساتھ تعاون جاری رکھا اور افغانستان کے اندرونی معاملات سے سائڈ پر ہو گیا۔ پاکستان کو زیادی دیر سکون میسر نہ آئا اور 2001ء میں روس سے سبق سیکھے بغیر امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا۔ اس موقع پر امریکہ کو دوبارہ اپنا پرانا دوست پاکستان یاد آ گیا گیا اور پاکستان ایک بار پھر افغان جنگ کا فریق بن کر جنگ کی چکی میں پِسنے لگا۔ اب کی بار افغان جنگ پاکستان پر سب سے بھاری رہی "تحریک طالبان پاکستان” کے نام سے ریاست مخالف تنظیم وجود میں آ گئی جس نے پاک فوج اور عام عوام پر حملے شروع کر دیے۔ خودکش حملوں کے اُس دور نے پاکستان کو دیائیوں پیچھے دھکیل دیا بیرونی سرمایہ کاری رک گئی ، پوری دنیا کے سامنے پاکستان کا چہرہ داغدار ہو گیا اور پاکستان کا شمار دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں ہونے لگا۔ افغان جنگ میں حصہ لینے کی پاداش میں پاکستان کو 83000 جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا جبکہ معیشت کو 126 ارب ڈالر کا جھٹکا لگا اس سب کے باوجود پاکستان کو ہمیشہ Do More سننے کو ملا کبھی پاکستان کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی۔۔

    روس امریکہ کیلئے بھی افغانستان ڈراونا خواب ثابت ہوا۔ روس کو جان چھڑانے میں دس سال جبکہ امریکہ کو بیس سال لگے اور اب 2021 میں امریکہ نے افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلا لیں یوں دونوں ہی ناکام و نامراد اس خطے سے چلے گئے
    روس اور امریکہ کی ان جنگوں نے افغانستان اور پاکستان کو تباہ کر دیا ساری دنیا سے پولیو ختم ہو گیا مگر ان دو ممالک میں اب بھی موجود ہیں، ان دو ممالک کا پاسپورٹ اب بھی دنیا کے بدترین پاسپورٹوں میں شمار ہوتا ہے جبکہ دونوں ممالک کی عوام میں بھی نفرت کی خلیج پائی جاتی ہے
    افغانستان میں طالبان اب پھر سے زور پکڑ رہے ہیں پورے ملک میں انکا غلبہ ہوتا جا رہا ہے اب پاکستان کو چاہیے ممکنہ طالبان حکومت سے بس اتنے ہی تعلقات رکھے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو سکے اسکے علاوہ خود کو افغانستان اور انکے معاملات سے دور رکھے تاکہ دیرپا امن ممکن ہو سکے
    پاکستان زندہ آباد

  • صحافت اور تحقیق ۔ تحریر:روشن دین دیامری

    صحافت اور تحقیق ۔ تحریر:روشن دین دیامری

    کہتے ہیں پاکستان میں جس کو کوئی کام نہیں اتا وہ صحافت شروع کرتا ہے۔ اور اجکل تو سوشل میڈیا نے طوفان برپا کر دیا ہے۔ میرا تعلق ایک ایسے علاقے سے جہاں روز کوئی نہ کوئی ایسا حدثہ پیش اتا ہے جس پہ انٹرنشنل میڈیا سے لیکر لوکل میڈیا کا توجہ بن جاتا ہے۔ میرے عادت ہے صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے موبائیل دیکھ لیتا ہوں شاید اج کے دور میں ہر کوئی ایسا ہی کرتا ہو۔ فیس بک وٹس اپ ٹویٹر پہ اکثر ان ہونے کی وجہ سے مختلف لوگوں سے رابطہ رہتا تو اج جب صبح اٹھا تو دیکھا ایک طوفان پرپا تھا کوہستان میں دھماکہ ہوا ۔ہر طرف فیس بک ٹویٹر وٹسپ ۔کچھ دوستوں کے کالز بھی تھی جو میڈیا سے ہیں ۔

    میرا تعلق گلگت بلتستان سے ہونے کی وجہ سے اکثر احباب رابط کر کے راے لتے ہیں یا ہوچھ لیتے ہیں ۔خیر جب میرے پہلے نظر پڑھی کے کوہستان میں چائیز بس پہ حملہ ہوا دس بندے ہلاک اور انتالیس ذخمی میں تو میں بسترے سے اٹھ کے بیٹھ گیا۔ میں اپنے علاقے کے حوالے سے بہت سنجیدہ ہوں اس کا جواب اپ کو میرے ٹویٹر وال سے ملے گا میں تقریباً ہر خبر پہ نظر رکھتا ۔باوجو کے میں ایک سائنیس کے طالب علم ہونے کے شوق سے صحافت کرتا ہوں لیکن صحافت کو عبادت سمجھ کے۔ خیر پہلے اس خبر کے طرف اتے ہیں جس کے وجی سے میں چونک کے بٹھ گیا تھا میں فیس بک اور ٹویٹر پہ کچھ مخلص دوستوں کے وال دیکھا وہاں بھی کوئی خاطر خواہ انفارمیشن نہیں تھی ۔میری عادت ہے میں تحقیق کے بغیر خبر نہیں لکھتا ۔میں سب سے پہلے کوہستان میں ہمارے دوست سجمل یادون کو کال ۔ ملایا پوچھا سنا ہے کوئی بلاسٹ ہوا ہے وہ عین وقت ہسپتال میں تھے ان کا کہنا تھا چائنیز گاڑی میں بلاسٹ ہوا ۔اب یہ دھماکہ ہے سلینڈر پھٹہ ہے فل وقت کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے کسی قسم کی کوئی کنفرمیشن افیشلز کے طرف سے نہیں ائی ۔

    جب ڈی سی کوہستان سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا اب تحقیقات جاری ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔ یہ تھا اس وقت تک اصل صورت حال دوسرے طرف سوشل میڈیا پہ طوفان پرپا تھا بغیر تحقیق کے ہر کوئی اس حدثے دھماکہ بنا کے پیش کر رہا تھا ۔(اور ہاں یاد رہے گزشتہ رات کوہستان پٹن کے مقام پہ نیئٹکو کے ایک بس لینڈ سلائیڈ کے ضد میں ائی تھی جس کے وجہ سے پانچ افرا شہید ہوے تھے )۔ان میں اکثریت کاپی پیسٹ والی لوگ تھی جن کو خبر کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہوتے ان میں اکثر نیوز لینک پہ اس نئٹکو بس کے تصویر چسپاں تھی کچھ نے جنوبی پنجاب کے ایک جدثے کی تصاویر تک تک چسپاں کی تھی یہ لوگ بس کسی کے وال سے خبر اٹھاتے اور چپکا دیتے ہیں۔ اج کے اس حدثہ جس کا ابھی تک افیشل کوئی اطلاع نہیں کے دھماکے کی وجہ کیا ہے اس پہ لوگوں کے اس اس قدر غلط خبروں سے ملک کو جو نقصان ہوا ہوگا وہ شاید ہمارے سوچ سے باہر ہے۔

    ایک مممولی خبر سے ایک ملک کا امیج ذیرو ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں صحافت کے نام پہ کاپی پیسٹ چل رہا تحقیقی صحافت پاکستان میں ناہونے کے برابر ہے۔ اس تمام تر صورت حال میں حکومت وقت کچھ اصول بنانے چاے۔ ازادی اظہار رائے سب کا حق ہے لیکن جو انسان بھی خبر دے وہ ذمدار ہوگا وہ جھوٹ پہ مبنی خبر دینے کی صورت اس کی صافتی ممبر شپ معطل کردیا جاے ۔ جس بھی میڈیا گروپس کے جو بھی صحافی ہیں ان کو صحافت کی تربیت دی جاے ان کو ہر شعبے کے حواے سے ان کلاسسز ورک شاپ میں تربیت دیا جاے۔ سوشل میڈیا کے حوالے کوئی پالیسی وضع کی جائے

  • امریکہ کے خلاف زیادہ کس ملک نے جنگ جیتی .تحریر ارشاد حسین

    امریکہ کے خلاف زیادہ کس ملک نے جنگ جیتی .تحریر ارشاد حسین

    وتینام نے امریکہ کے خلاف افغانستان سے زیادہ بڑی "فتح” حاصل کی تھی لیکن تباہ ہو برباد ہوکر۔ آپ کی فوج یا دفاعی نظام کا اؤلین مقصد اپ کو ایسی تباہی سے بچانا ہوتا ہے۔ آپ کی دفاعی مشین ختم ہوجائے یا فوج تباہ ہوجائے تو پھر مزاحمت تو عوام بھی کر لیتی ہے لیکن تباہی کے ساتھ۔
    اس مزاحمت کی مثالیں دے کر اپنی افواج کو لتاڑنا جو آپ کو اس سے بچا رہی ہوتی ہیں حد درجہ بےوقوفی اور جہالت ہے۔
    یہ کہنا کہ "افغانیوں نے محض اللہ پر توکل کیا اور جیت گئے۔” زمینی حقائق اور اسلام کی سکھائی گئی حکمت و بصیرت کے خلاف ہے کیا کشمیری اللہ پر توکل کر کے نہیں لڑ رہے؟

    اور پھر ویتنامی تو غیر مسلم ہیں انہوں نے تو زیادہ بڑی فتح حاصل کی تھی۔ویتنام اور افغانستان کا ایک چھوٹا سا موازنہ پیش کرتا ہوں افغانستان پر حملہ آور افواج کی زیادہ سے زیادہ تعداد 130،000 تھی اور ان کو 180،000 ملی اردو کی مدد حاصل تھی ویتنام پر حملہ آور افواج کی تعداد 6 لاکھ تھی جن میں 547،000 صرف امریکی فوج تھی اور ان کو 850،000 جنوبی ویتنامی فوج کی مدد حاصل تھی۔
    افغانیوں نے 20 سالوں میں 2400 امریکی فوجی مارے جب کہ ویتنامیوں نے 20 سال میں 58000 امریکی فوجی مارے۔

    افغانیوں نے امریکی اتحادی ملی اردو کے 65000 فوجی ہلاک کیے جب کہ ویتنامیوں نے امریکی اتحادی جنوبی ویتنامی فوج کے 3 لاکھ فوجی ہلاک کیے افغانیوں نے نیٹو کے 22000 فوجی زخمی کیے جب کہ ویتنامیوں نے صرف امریکہ کے 303000 فوجی زخمی کیے افغانستان میں امریکہ مزاکرات کر کے جا رہا ہے جب کہ ویتنام سے بھاگ کر گیا تھا اور امریکی فوجی ہیلی کاپٹروں سے لٹکے ہوئے تھے ویتیامیوں کی کل تعداد 2 کروڑ 40 لاکھ تھی جب کہ افغانیوں کی 3 کروڑ 20 لاکھ ہے۔ افغانستان کا رقبہ 652،860 مربع کلومیٹر جب کہ شمالی ویتنام کا 157،880 مربع کلو میٹر تھا۔ یعنی افغانیوں کو گوریلا جنگ لڑنے کے لیے زیادہ بڑا اور پیچیدہ میدان جنگ دستیاب تھا اور سب سے بڑھ کر ویتنامی غیر مسلم تھے۔ یعنی ان کو کوئی آسمانی مدد حاصل نہ تھی جیسا کہ ہم افغان "سٹوڈنٹس” کے بارے میں دعوی کرتے ہیں آپ موازنہ کریں تو ویتنامی زیادہ بڑے جنگجو اور زیادہ بڑے ” م ج ہ دین” ثابت ہوتے ہیں لیکن 2 لاکھ سویلین افغانستان میں اور 3 لاکھ ویتنام میں مارے گئے۔ دونوں ملکوں کا خوب کباڑا ہوا۔ افغانی اور ویتنامی عورتوں کی عزتیں لوٹی گئیں اور لاکھوں لوگ بےگھر ہوئے یہ ہیں افغانستان اور ویتنام کی عظیم فتوحات۔

    پھر بھی ۔۔۔ آپ یہ سنتے ہونگے اخے افغان "سٹوڈنٹس” کے پاس کیا تھا؟ بس اللہ پر توکل کیا اور امریکہ کو شکست دے دی،
    ہمارے پاس ایٹم بم ہے تو اس کو چاٹیں ویتنام نے امریکہ کو شکست دیدی ہم سے دس گنا چھوٹا تھا، وغیرہ وغیرہ کیا واقعی دشمن آپ کے ملک میں گھس کر اپ کو 20 سال تک رگید کر اور تباہ و برباد کر کے چلا جائے تو یہ آپ کی فتح ہوتی ہے ان لوگون کو ذرا نہیں اندازہ کہ آپ کی فوج یا آپ کے جنگی طاقت کی وجہ سے آپ سے کسی جنگ کا ٹل جانا یا آپ کی فوج کا دشمن کو سرحدوں پر روکے رکھنا کیا معنی رکھتا ہے انڈیا کی بے پناہ بڑی جنگی مشین کو پاک فوج نے سرحدوں پر روک رکھا ہے لہذا ہمیں ٹھیک سے سمجھ نہیں آرہی۔ لیکن افغانستان نے اپنی پراکسی جنگ پاکستان کے اندر داخل کی۔ جب جنگ سرحدوں کے اندر آئی تو آپ کی چیخیں آسمان تک پہنچیں یا نہیں؟ 70 ہزار جانوں اور 150 ارب ڈالر کی تباہی کا رونا روتے ہیں یا نہیں ہم نے چار جنگیں لڑنے کے باؤجود اگر مقبوضہ کشمیر نہیں لیا تو کیا انڈیا پانچ گنا بڑی طاقت ہونے کے باؤجود آزاد کشمیر لے سکا ہے؟؟ وہ بھی تو دعوی رکھتے ہیں نا ایل او سی کے اس پار انڈیا کی 10 لاکھ فوج کے مقابلے میں ایل او سی کے اس طرف ہماری فوج 1 لاکھ سے بھی کم ہے۔ یعنی دس گنا بڑے دشمن کو فوج نے روکا ہوا ہے اور آزاد کشمیر کے لوگ محفوظ اور پرسکون ہیں (کیا انڈین بھی اپنی فوج کو ایسے ہی طعنے دیتے ہیں؟) پاک فوج نے آپ کے خون کی پیاسی ایک دنیا کو آپ سے دور رکھا ہوا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب پاک فوج اپنا خون نہ دیتی ہو۔ اس کی قدر آپ کو تب آئیگی جب آپ کی فوج بیچ میں سے ہٹ جائے گی۔

    جب پاک فوج ج سائیڈ پر ہوئی تو دشمن ہم پاکستانیوں کا خون بھی پی جائیں گے اس دھرتی ماں پر ہمارے بہت سے سے جو انہوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اب دو تین دن کے اندر ہی دیکھ لیں ضلع کرم کے علاقے زیوا میں ۔ ایک افسر سمیت دو جوان کیپٹن باسط اور سپاہی حضرت بلال شہید۔ ہوگئے تھے اور رات یعنی 14 جولائی کو ‏بلوچستان کے ساحلے علاقے پسنی میں سیکیورٹی فورسز کہ گاڑی پہ دھماکہ ہوا اس دھماکے میں ہمارا جوان کیپٹن عفان مسعود شہید، ہو گیا ہمارے بچوں کو یتیم ہونے سے بچا لیا اپنے بچے کو یتیم کر گیا شہید کیپٹن عفان مسعود کے گھر دو ماہ پہلے ہی بیٹا پیدا ہوا اور آج اپنے بیٹے کو یتیم کر کے ہمیشہ کے لئے چلا گیا ؟ اور اس دھماکے میں ہمارے 5 جوان زخمی بھی ہوئے پاکستانیوں اپنی افواج کی قدر کرو یہی افواج ہے جو دن رات اپنے خون کے نذرانے پیش کر رہی ہے اپنی پاک دھرتی کے لیے یہی پاک افواج ہے جو پہاڑوں پر سینہ تانے کھڑی ہے اور رات کو ہم اپنی سکون کی نیند سوتے ہیں جب ہم اپنی افواج کو کسی کرپٹ سیاستدان کے کہنے پر برا بھلا کہتے ہیں تو ان شہداء کے گھر والوں کے ساتھ کیا گزرتی ہوگی گھر والے کیا سوچتے ہوں گے ہم اسی دن کے لیے اپنے بیٹے قربان کیے ان کے طعنے سننے کے لیے میرے بھائیو کسی کرپٹ سیاستدان کے کہنے پر اپنی افواج کو برا بھلا نہ کہو یہی افواج ہے تو ہمارا پاکستان ہے ہم سکون سے جی رہے ہیں اللہ پاک ہمارے جوانوں کی حفاظت فرمائے اور دشمن کو نیست و نابود کردے آمین

  • قبائلی اضلاع میں دہشتگردی سے متاثرہ افراد کی بحالی ​میں افواجِ پاکستان کا کردار.تحریر: محمد عابد خان اتوزئی

    قبائلی اضلاع میں دہشتگردی سے متاثرہ افراد کی بحالی ​میں افواجِ پاکستان کا کردار.تحریر: محمد عابد خان اتوزئی

    افواج پاکستان کا شمار بھی ملک کے اُن چند اداروں میں ہوتا ہے جنہوں نے قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک ملک کی خدمت میں اہم کردار اداکیا ہے۔ افواجِ پاکستان نے نہ صرف یہ کہ ملکی سرحدوں کے دفاع کو ہمیشہ مستحکم رکھا اور کسی بھی جارحیت کی صورت میں دشمن کو منہ توڑ جواب دیا گزشتہ دو دہائیوں سے پاک فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروفِ عمل ہے۔ جس میں ہزاروں جانباز اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ افواجِ پاکستان نے ملک کی تعمیر و ترقی میں ہمیشہ بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ اور وطن عزیز کو جب بھی ہنگامی حالات کا سامنا کرنا پڑا، تو ہمیشہ سرکاری و غیر سرکاری اداروں نے افواجِ پاکستان سے مدد طلب کی ہے۔ کٹھن سے کٹھن حالات اور کڑے سے کڑے امتحانوں میں افواج پاکستان نے اپنے فرائض تندہی، جانفشانی، ایمانداری اور غیرجانبداری سے انجام دیے ہیں۔اور غیر یقینی حالات کا حل بہت خوش اسلوبی سے نکالا ہے۔

    افواجِ پاکستان کے جوانوں نے پاک سر زمین کے دفاع اور سلامتی کے لیے ناقابلِ فراموش داستانیں رقم کیں۔ افواج پاکستان کی انہی قربانیوں کی بدولت پوری قوم ان پر ناز کرتی ہے۔ پاک فوج کا سب سے بڑا مقصد ملکی سرحدوں کا دفاع کرنا ہے۔ پاک فوج نے ناصرف اپنے ملک میں دہشت گردوں کا صفایا کیا بلکہ دوسرے ممالک میں بھی اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر مشکلات میں گِھرے افراد کو زندگی کی نئی راہ دکھائی۔خیبر پختونخوا جو پچھلے کئی سال دہشت گردی کا رہا،لیکن پاک فوج کی قربانیوں کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں امن قائم ہوگیا۔

    پاک فوج نے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کرکے خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف یکے بعد دیگرے آپریشنز کیے۔ اور دہشگردی کے خاتمے کے لئے اپنی جانیں پیش کی۔امن کے قیام کے ساتھ ساتھ پاک فوج جنگ کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ بھی کرتی رہی۔ اور دہشتگری کی لپیٹ میں آنے والے علاقوں کے عوام کو سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بناتے رہے۔ پاک فوج نے دہشتگردوں کی طرف سے نصب کردہ بارودی سرنگوں اور دہشتگردی کے دیگر واقعات میں معذور ہونے والے افراد پرخصوصی توجہ دی۔اس ضمن میں پاک فوج نے مختلف سماجی اداروں کی مدد سے ان معذور افراد کی فلاح کے لئے مختلف کوششیں کیں۔

    پاک فوج نے وانا، جنوبی وزیرستان میں بارودی سرنگوں اور دھماکوں میں معذور ہونے والے افراد کے لئے ریہاب سنٹر قائم کیا۔ جہاں 194 معذور افراد کو مصنوعی ٹانگیں لگائی گئی۔ اسی طرح پاک فوج نے فاٹا ڈیسیبل ویلفیئر آرگنائزیشن کے اشتراک سے “چل فاؤنڈیشن” کے ذریعے 96 اور “پاکستان انسٹیوٹ آف پراستیٹک اینڈ آرتھوٹک سائنسز” کے ذریعے 163 معذور افراد کو مصنوعی ٹانگیں لگوائی۔پاک فوج کی مدد سے دہشت گردی سے متاثر کل 435 افراد کو مصنوعی ٹانگیں فرائم کی گئی۔ جن میں 308 کا تعلق جنوبی وزیرستان، 28 ٹانک، 7 لکی مروت،، 72 شمالی وزیرستان، 17 ضلع کرم، 2 خیبر، 6 ضلع مہمند اور 12 افراد کا تعلق باجوڑ سے تھا۔سی ایم ایچ میں بارودی سرنگ دھماکوں میں زخمی افراد کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔ مستقبل میں بھی یہ سلسلہ نہ صرف جاری رہے گا بلکہ اس کو مزید بہتر بنانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔اس کے علاوہ قبائلی اضلاع میں دہشت گردوں کے ہاتھوں بچھائی گی بارودی سرنگیں صاف کرنے کیلئے پاک فوج دن رات کام کررہی ہے۔

    پاک فوج نے مختلف علاقوں کے معذور افراد میں 700 وہیل چیئرز، بیوہ خواتین میں 590 سلائی مشینیں اور 115 بیساکھیاں تقسیم کیں۔ ضلع کرم میں 50 ضرورت مند افراد کو وہیل چیئرز، 40 عورتوں کو سلائی مشینیں، اور 15 افراد کو بیساکھیاں فراہم کی گئی۔اسی طرح شمالی وزیرستان میں 400 افراد کو وہیل چیئرز، 350 خواتین کو سلائی مشینیں اور 50 افراد کو بیساکھیاں، جنوبی وزیرستان میں 250 افراد کو وہیل چیئرز، 200 خواتین کو سلائی مشینیں اور 50 افراد کو بیساکھیاں فراہم کی گئی۔پاک فوج ہمیشہ سے پاکستان میں امن و استحکام کے قیام کے ساتھ ساتھ پاکستان کے عوام کی خیر خواہی اور فلاحی امور میں اپنی قربانیاں پیش کرتی رہی ہیں۔یہ افواج پاکستان کی انتھک کوششوں اور قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان میں امن کا قیام یقینی ہوگیا ہے۔

  • افغانستان میں شکست خور ہندوستان بوکھلاہٹ کا شکار!تحریر: محمد اختر اسلم

    افغانستان میں شکست خور ہندوستان بوکھلاہٹ کا شکار!تحریر: محمد اختر اسلم

    یہ جوحالیہ دہشت گردی ہے۔۔ اِس کے پیچھے بھارتی وردی ہے۔۔ افغانستان میں پچھلے کئی سالوں سے کی جانے والی بڑی سرمایہ کاری ضائعہونے کے پیش نظر، بھارت حسبِ معمول پاکستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ ملک میں جاری پیشرفتیں اِس کے مذموم عزائم خاک میں ملنے کی یقینی نوید ہے۔ ہندوستان سر توڑ کوشش کر ہا ہے کہ کسی طریقہ سے بھی ا فغانستان میں جنگ جاری رہے اور ملک میں امن واپس نہ آئے تاکہ بھارت ا فغانستان کی سر زمین کو پاکستان مخالف ریاستی دہشت گردی کے لیے بلکل ویسے ہی استعمال کر سکے جیسیامریکی افواج کی موجودگی میں کرتا آیا ہے۔افغانستان سے جبری طور پر امریکی جانے سے ہندوستان کے افغانستان میں پاکستان کے کردار کو روکنے کے خوابوں کو چکنا چور کردیا گیا دوسری جانب جونہی طالبان نے اپنا کنٹرول وسیع کیا تو نئی دہلی کو قندھار اور دیگر مقامات پر اپنے عہدے داروں کو ان کے قونصل خانے سے نکالنا پڑا۔

    یہ قونصل خانے مودی حکومت کی پُشت پناہی میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ معتبر ذرائع کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قندھار سے فرار ہونے والے زیادہ تر ہندوستانی عہدیداروں کا تعلق ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ انیلیسیس ونگ (را) سے ہے۔بھارت افغانستان میں تمام محاذوں پر اپنی شکست کا خود گواہ ہے، اور امریکی افواج کے انخلا نے نئی دہلی کوبوکھلاہٹ اور ششوپنج میں چھوڑ دیا ہے۔اِس بات سے ہر کوئی بخوبی واقف ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے بھارت پاکستان میں دہشت گردی کو پھیلانے کے لئے افغان سرزمین پر اپنے اڈوں کا استعمال کر رہا ہے اور بنیادی طور پر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے افغانستان میں انٹیلیجنس بنیادوں کا جال بچھا رہا ہے۔اِس ظمن میں بارہا پاکستان بین الاقوامی برادری کو دستاویزات کے ذریعہ شواہد دے چُکا ہے کہ ہندوستان افغانستان میں بعض دھڑوں کو پریشانی پیدا کرنے اور وہاں خانہ جنگی جاری رکھنے کے لئے ہتھیار فراہم کررہا ہے۔ایک معتبر ذرائع ابلاغ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بھارت کاگذشتہ کئی برسوں کے دوران افغانستان میں بنایا ہوا انٹلیجنس نیٹ ورک توڑ دیا گیا ہے، اور مزید کہا گیا ہے کہ جب اب بھارت افغانستان سے فرار ہورہا ہے وہ اب بھی افغانستان میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لئے افغان طالبان مخالف قوتوں کو اسلحہ اور گولہ بارود مہیا کررہا ہے کیونکہ پُر امن افغانستان کی جانب جاری مثبت پیشرفت بھارتی عزائم کے برعکس ہے۔ بھارت پُر زور ہے کہ افغانستان میں جنگ جاری رہے

    کیونکہ وہ پُرامن افغانستان میں اپنی شکست دیکھ رہا ہے کیونکہ پُرامن افغانستان بھارت کو کبھی بھی افغانستان اور پاکستان میں مسلمانوں کے خلاف اپنے مذموم منصوبوں کو پورا کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ افغانستان سے پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے بھارتی بڑی سرمایہ کاری ضائع ہونے پر یہ کہاوت یاد آجاتی ہے کہ دھوبی کا کُتکا نہ گھر کا نا گھاٹ کا۔۔ دوسری جانب ہر گزرتے دِن کے ساتھ افغان طالبان افغانستان پر اپنی گرفت مضبوط کرتے دیکھائی دیتے ہیں، حالیہ دنوں افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ افغان سر زمین کسی بھی فرد یا گروہ کی جانب سے کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔افغان -امریکا دوحہ مذاکرات میں پاکستان کا بہت ہی قلیدی قردار ہے۔افغانستان میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، پاکستان امن کا داعی ملک ہے کیونکہ پاکستان دُنیا کا وہ واحد مُلک ہے جس نے خطہ میں قیامِ امن کے لیے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ افواجِ پاکستان دُنیا کی وہ واحد فوج ہے جس کے آفیسر سے سپاہی تک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کی قربانیاں دی ہیں،پاکستان افغانستان کا بہت اہم پڑوسی ہے اور افغانستان کے مسئلہ کا حل طاقت کے ذریعے ممکن نہیں، جامع مذاکرات کے ذریعے ہی سیاست حل تلاش کرنا ہوگا۔امریکی افواج کے انخلا کے بعد اب یہ ذمہ داری کابل پر عائد ہوتی ہے کہ وہ افغان طالبان کے ساتھ معنیٰ خیز سیاسی مذاکرات کرے اور افغانستان کے امن کو یقینی بنائے کیونکہ افغانستان اور پڑوسی ممالکمیں معاشی استحکام لانے کے لیے دیرپا اور پائیدار امن ناگزیر ہے۔

  • دُنیا دھوکے کا گھر. تحریر: کاشف علی

    دُنیا دھوکے کا گھر. تحریر: کاشف علی

    ہر حال میں یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ ایک دن موت آ کر رہے گی ہم سب اللہ تعالیٰ کی طرف واپس لوٹیں گے یہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے

    ہمارا دُنیا کا سب کچھ رہن سہن یہ سب صرف ہمارا ضرورت ہونا چاہیے اور ہمارا مقصد آخرت کی زندگی ہونی چاہیے ہمیں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنا چاہیے ہمیں حلال حرام جائز ناجائز کو دیکھنا چاہیئے اس دنیا میں نہ کوئی سدا رہا ہے نہ رہے گا یہ دنیا دھوکے کے گھر کے علاوہ کچھ نہیں سب آخرت کی فکر کریں حقیقی زندگی وہی ہے

    آج وقت ہے موقع ہے اللہ تعالی پر پوری طرح کامل ایمان رکھنا، اپنی قبلہ کو ٹھیک کرنا، برے اعمال اور گندی چیزوں سے بچنا، انسانوں کے ساتھ معاملات ٹھیک کرنا اپنے رب کو راضی کرنا اللہ تعالی کے حضور میں توبہ کرنا

    قرآن مجید کو پڑھنا اور سمجھنا اور اس پر عمل کرنا مرنے سے پہلے آخرت کیلئے تیاری کرنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں پر اپنی زندگی گزارنا، شرک نہیں کرنا اور کسی کو اللہ تعالی کے ساتھ شریک نہیں بنانا، مال دولت کے نشے میں اپنے رب اور غریبوں کو نہ بھولنا، زندگی سے پیار کرنا لیکن آخرت اور قبر کو ہمیشہ یاد رکھنا، غرور اور تکبر سے بچنا اور ہمیشہ اپنی زندگی عاجزی کے ساتھ گزارنا

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے اور جس وقت موت آئے تو اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہوں آمین

  • ہمیں افغانستان کی صورتحال پر نظر کیوں رکھنا پڑتی ہے؟ تحریر: ارشد محمود

    ہمیں افغانستان کی صورتحال پر نظر کیوں رکھنا پڑتی ہے؟ تحریر: ارشد محمود

    افغانستان جو آج کل اخبار کی زینت بنا ہوا ہے اور ہر گزرتے وقت کے ساتھ ایک علم کو اپنے ذرائع سے خبروں کی کھیپ پہنچتی رہتی ہے ۔ تو ایسے میں ہم بھی کان لگا کر ہمہ تن گوش ہوتے ہیں کہ دیکھیے کون سی خبر ہم تک کیسے پہنچتی ہے ۔افغانستان سے ہمارا رشتہ اتنا ہی قدیم ہے جتنے کہ ہم خود ۔ ایک تو افغانستان کی اکثریت آبادی مسلم ہے ، دوسرا ہماری ہمسائیگی میں واقع ہونے کی وجہ سے ہمیں اس کے معاملات پر نظر رکھنی پڑتی ہے، تیسرا عالمی طاقتوں کی گزرگاہ ماضی کی طرح آج بھی افغان زمین کو ہی سمجھا جاتا ہے اور چوتھا ہمارا ازلی دشمن بھارت امریکی آشیرباد سے افغانستان میں اپنے خونی پنجے مضبوط کیے بیٹھا ہے جس کی وجہ سے نہ چاہتے ہوے بھی ہمیں افغانستان کی بدلتی حالت پر نہ صرف نظر رکھنا پڑتی ہے بلکہ حالات کو اپنے لیے سازگار بنانے کی جدو جہد بھی کرنا ہوتی ہے۔ پاکستان بحیثیت ریاست کبھی بھی افغانستان میں جنگ نہیں چاہتا کیونکہ ادھر جنگ کا مطلب ہے کہ اس کی تپش پاکستان تک پہنچنا ۔ ماضی قریب و بعید میں بھی پاکستان نے افغانستان میں امن کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ امریکا کو افغانستان سے نکالنے کا راستہ ملنا پاکستان کی ہی مرہون منت ہے ۔ بھارت نے جہاں افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے وہی پر اس نے افغانستان میں اپنی انٹیلی جنس ایجنسی کو ایسے استعمال کیا ہے کہ ایک طرف امریکیوں کی خبریں رکھی ہیں اور دوسری طرف پاکستان میں دخل اندازی کرکے پاکستان کے حالات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش بھی کرچکاہے۔

    کئی ایک افغانی اس گھناونے کام میں بھارت کے نہ صرف مددگار رہے ہیں بلکہ بھارتی پے رول پر کام بھی کرتے رہے ہیں۔ پاکستان نے امت واحدہ اور انسانیت کے نام پر لاکھوں بلکہ کروڑوں افغانیوں کو پناہ دی اور ان میں سے کچھ نے اپنا دین ، روایات اور اصول و ضوابط کو پس پشت ڈال کر بھارتی پروپیگنڈے سمیت خودکش دھماکوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھارت کا ساتھ دیا ہے ۔ آج کے اخبارات میں ایک خبر چھپی ہوئی ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ افغان ایجنسی بھی بھارتی ایجنسی کے ساتھ ملکر اپنے بڑے بھائی کے چھرا گھونپ رہی ہے ۔ اخبار کے مطابق طالبان کو افغان چیک پوسٹوں سے 3 ارب روپے کے قریب پاکستانی کرنسی ملی ہے ۔ یاد رہے کہ یہ چیک پوسٹیں پاکستانی سرحد پر افغان سیکیورٹی فورسز سے چھینی گئی تھیں۔ سوشل میڈیا پر بھی کچھ تصاویر موجود ہیں جن میں ایک شخص کو پاکستانی روپیوں کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ بتائی گئی معلومات کے مطابق یہ رقم افغان انٹیلی جنس ایجنسی این ڈی ایس کے کرنل کے کمپاونڈ سے ملی ہے۔ اس کمپاونڈ کے عقب میں ہی قندھار کا بھارتی قونصلیٹ تھا جو تازہ تازہ خالی ہوا تھا ۔ افغان سیکیورٹی فورسز یہ رقم سمگلروں سے بطور رشوت لیتی رہیں اور پھر یہ رقم پاکستان میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں کو دی جاتیں جو پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرتی تھیں۔

    حالیہ خبر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماضی میں ہوے دہشت گردانہ واقعات میں افغانی انٹیلی جنس کا کردار کس قدر اہم رہا ہے ۔ پاکستان پر قبضے کے خواب دیکھنے والے امریکا و نیٹو افواج کے انخلا کے بعد اپنی زمین کا دفاع کرنے میں تو نا کام ہو چکے ہیں ۔ آئے روز طالبان کی طرف سے بتایا جا رہا ہے کہ وہ فلاں قصبے میں داخل ہوچکے ہیں اور اتنے افغان فوجیوں نے ہتھیار ڈال کر پناہ مانگی ہے ۔ ایسے میں پاکستان کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے کہ افغان سرحد کے قریب چند لوگ پاکستانی سرزمین میں رہتے ہوئے بھی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے سے باز نہیں آتے ۔ امید ہے کہ جہاں بھارت کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور افغان حکومت کو اپنی حکومت بچانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں وہیں پر ان بے وقوفوں کو بھی سمجھ آجائے گی کہ وہ کن ہاتھوں میں کھیلتے رہے ہیں۔ پاکستان آج بھی کوشش میں ہے کہ افغان عوام کا کم سے کم نقصان ہو کیوں کہ افغانی ہمارے بھائی ہیں اور ہم آج بھی انھیں امن و سکون سے دیکھنا چاہتے ہیں لیکن بھارت کی کوشش ہے کہ وہ افغانی خفیہ ایجنسی کے ذریعے نہ صرف افغانستان میں جما رہے بلکہ پاکستان میں بدامنی پھیلاے ۔ بھارت یاد رکھے کہ پاکستانی عوام نہ صرف جاگ رہی ہے بلکہ افغانستان میں ہورہے واقعات پر گہری نظر رکھے معاملات کو سمجھ بھی رہی ہے ۔ ایسے میں اگر بھارت باز نہیں آتا تو اسے نکیل ڈالنے میں کوئی تردد نہ ہوگا ۔

  • ہماری آرمی ہماری محافظ .تحریر: فضل عباس

    ہماری آرمی ہماری محافظ .تحریر: فضل عباس

    پاکستان کے معرض وجود میں آتے ہی دشمنوں کی سازشیں شروع ہو گئی پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے دشمنوں نے ہر ممکن کوشش کی لیکن پاکستان آرمی نے ہمیشہ ان کے دانت کھٹے کیے
    بقول شاعر:
    انگلی مت اٹھانا بازو توڑ کر رکھ دیں گے
    غلطی سے جو للکارے گا گاڑ کے رکھ دیں گے
    ہم پاکستانی مجاہد ہیں اس دھرتی کے رکھوالے
    ہم جان کی بازی کھیل کر تجھ کو کاٹ کر رکھ دیں گے

    پاکستان بننے کے سترہ سال بعد ہمارے اذلی دشمن بھارت نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ہمارے ملک پاکستان پر حملہ کیا لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس نے اپنا ہاتھ شیر کے منہ میں دیا ہے پاکستانی افواج نے نہ صرف بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا بلکہ بھارت کو ناکوں چنے چبوا دیئے بھارت کی یہ حالت تھی کہ ایک بی آر بی نہر پار نہ کر پایا اور اس کے علاوہ چونڈہ کے محاذ پر اپنے ٹینکوں کو تباہ کروا بیٹھا آج بھی چونڈہ کو بھارتی ٹینکوں کا قبرستان کہا جاتا ہے
    اس عبرت ناک شکست کے بعد انڈیا دم دبا کر اقوام متحدہ بھاگا اور دونوں ممالک میں جنگ بندی ہوئی

    1971 میں جب ملک دو لخت ہو گیا تب افواج پاکستان نے آگے بڑھ کر سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر ملک کو سنبھالا اور پاکستان کو مستحکم حالت میں لاۓ

    1998 کی کارگل جنگ میں پاکستانی افواج نے بھارت کو جو زخم دیے وہ آج تک تازہ ہیں پاکستان کے اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے جنگ کے دوران انڈین سر زمین پر قدم رکھا اور دشمن کو للکارا اور اسے بتایا کہ ہم ہر وقت اپنے وطن کی حفاظت کے لیے تیار ہیں اگر کبھی دشمن نے پاکستان کو میلی نگاہ سے دیکھا تو اس کی وہ آنکھ باقی نہیں رہے گی جنرل پرویز مشرف کی قیادت میں افواج پاکستان نے یہاں بھی انڈیا کو دھول چٹائی

    پاکستانی افواج کی سب سے بڑی لڑائی اس کے بعد آتی ہے اور وہ ہے دہشتگردی سے لڑائی
    پاکستانی فوج دنیا کی واحد فوج ہے جس نے دہشتگردی کو شکست دی دہشتگردی سے جنگ سب سے مشکل جنگ ہے اس جنگ میں دشمن کے کئی چہرے ہوتے ہیں کبھی اپنوں کے روپ میں چھپے دشمن سے لڑنا پڑتا ہے تو کبھی بیرونی فنڈنگ پر پلنے والے غداروں سے

    لیکن افواج پاکستان نے یہ کارنامہ انتہائی کامیابی سے سر انجام دیا ہے دشمن جس روپ میں بھی تھا اس کے سر کچل دیا ہےاس سب کے لیے پاکستان آرمی نے کئی آپریشن کیے اور ان آپریشنز میں کئی دہشت گردوں کو جہنم واصل کیاان آپریشنز میں مشہور ترین آپریشن”ضرب عضب” ہے اس آپریشن دہشتگردی کا سر اس طرح کچلا کہ وہ دوبارہ اٹھ نہ سکی

    اللہ تعالیٰ پاکستانی افواج کو مزید طاقت ور بناۓ تا کہ پاکستان سمیت تمام مسلمان ممالک خود کو محفوظ سمجھیں آمین ♥️

  • بچے ہمارے عہد کے ” تحریر: فرزانہ شریف

    بچے ہمارے عہد کے ” تحریر: فرزانہ شریف

    فیس بک پر ایک خبر پڑھی کہ ایک نوجوان نمبر کم آنے پر ماں ، باپ کی ڈانٹ سے دلبرداشتہ ہو کر بیٹے نے زہر کی گولیاں کھا کر زندگی کا خاتمہ کر لیا _ انھیں ساتھ یہ بھی لکھنا چاہیے تھا کہ ماں ،باپ کے خواب ، خواہشات ، امید ، آس ، روشن مستقبل کا خاتمہ بھی ساتھ ہو گیا _یہ صرف اک زندگی نہیں ختم ہوئی بلکہ کئ زندہ لاشیں چھوڑ گیا اپنے پیچھے _ ہر سال رزلٹ آنے پر ایسے واقعات منظر عام پر ضرور آتے ہیں _ مگر مجھے کبھی بھی ان مرنے والے بچوں کے ساتھ ہمدردی نہیں ہوئی _ انھوں نے تو خود اپنی جانوں پر ظلم کیا اور بھلا ظالموں کے ساتھ کیسی ہمدردی ؟؟

    مجھے تو اس ماں کے ساتھ ہمدردی ہوتی ہے جو اک ہی دن میں بوڑھی ہو گئ ہو گی _ مجھے تو اس باپ کے ساتھ ہمدردی ہوتی ہے جسکی کمر اتنے بھاری دکھ سے جھک گئ ہو گی __
    حیرانی کی انتہا تو میری تب ہوئی جب میں نے اس پوسٹ پر کۓ جانے والے کمنٹس پڑھے وہ کچھ اسطرح تھے ” ماں ، باپ کو کچھ خیال کرنا چاہیے تھا ڈانٹتے ہوۓ جوان بیٹا تھا ” _ "ماں باپ کو نمبروں کی دوڑ سے باہر آ جانا چاہے ” __ ” بچوں کو اپنی زندگی جینے دیں ” __ ” بچوں کو وہ کرنے دیں جو وہ کرنا چاہتے ہیں ” _

    یہ سب کمنٹس پڑھ کر مجھے تعجب ہوا _ ہم کس راہ پر چل نکلے __ بچوں کو وہ کرنے دیں جو وہ کرنا چاہتے ہیں __ اک منٹ بچے کرنا کیا چاہتے ہیں آپ چند دن انھیں آزاد چھوڑ کر دیکھ لیں لور لور سڑکوں پر پھرنا چاہیں گے سارا دن موبائل میں گم رہنا چاہتے ہیں ، ساری ساری رات جاگ کر فلمیں دیکھنا چاہتے ہیں ، آدھی آدھی رات تک دوستوں کی رنگین محفلوں کا حصہ بنا رہنا چاہتے ہیں یہ سب ہی تو چاہتے ہیں بچے آزادی کے نام پر۔۔

    اگر آپ دل لگا کر پڑھتے ہیں ساتھ ساتھ آپکو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی کچھ ہاتھ پیر مارنے پڑتے ہیں ، اماں ، ابا نے کسی اچھے سکول کالج میں بھی داخل نہیں کروایا سہولیات بھی میسر نہیں آپکو اور پھر آپکے نمبر کم آتے ہیں آپکے والدین آپکو ڈانٹتے ہیں تو بیٹا اپکو حق ہے آپ دلبرداشتہ ہو جائیں گھر چھوڑ جائیں یا گولیاں کھا لیں میں آپکے ساتھ ہوں آپکے حق میں ہوں _ اگر آپکو پڑھنے کے علاوہ کوئ کام نہیں کرنا پڑتا ، آپکے ہاتھ میں موبائل بھی ہے ، آپکے کھانے پینے کا خیال بھی کیا جاتا ہے ، آپکو اچھے سکول ، کالج میں داخل کروایا گیا اور پھر آپکے نمبر کم آئیں اور والدین پوچھیں بھی نہ تو آپ غلط ہیں ، یعنی پھر آپ چاہتے ہیں والدین سے والدین ہونے کا حق چھین لیا جاۓ؟ آپکا ساتھ دینے والے بھی غلط ہیں میری ماں نے ایک دفعہ کہا تھاجن کے پلے کوئی کرتوت نہیں ہوتی وہی زیادہ اچھلتے ہیں اور یہ سچ ہے خالی برتن زیادہ شور کرتے ہیں جن بچوں میں کچھ کرنے کی طاقت نہیں ہوتی ، جو ناکام اور نکارہ زندگی چاہتے ہیں وہی والدین کے آگے تن کر کھڑے ہوتے ہیں وہی زیادہ شور ڈال کر چیخ کر چلا کر ، دھمکیاں دے کر یو پھر کبھی کبھی ان دھملکیوں پر عمل کر کے اپنے عیبوں پر پردہ ڈالتے ہیں
    صاف سی بات ہے جن والدین نے آپ پر اپنی محنت کی کمائی لگانی ہے اپنا وقت ، محبت ، توجہ نچھاور کرنی ہے انھوں نے پھر نمبروں کی دوڑ میں بھی دوڑانا ہے آپکو اتنا تو پھر حق ہے نا انکا اور پھر بدلے میں آپ انھیں اچھا رزلٹ بھی نہ دے سکو تو آپ کا قصور ہے برائے مہربانی اپنا قصور چھپانے کے لیے حرام موت کو گلے لگا کر والدین کے حصے میں قصور ڈالنا بند کریں خود چلے جاتے ہیں اور دنیا کی نظروں میں ماں ، باپ کو مشکوک کر کے ساری عمر پچھتاوؤں کے سپرد کر جاتے ہیں ۔۔۔