Baaghi TV

Category: متفرق

  • تعلیمی اداروں میں کلرک مافیا کا راج اورکرپشن کا زور . ‏تحریر: محمد دانش

    تعلیمی اداروں میں کلرک مافیا کا راج اورکرپشن کا زور . ‏تحریر: محمد دانش

    ‏کسی بھی تعلیمی ادارے کو چلانے کے لئے اساتذہ کے ‏ساتھ ساتھ کلیکریکل سٹاف کی ضرورت بھی ناگزیر ہے استاذہ کو ادارے میں اپنی سیلری ایشو کروانے کے لئے، اپنی چھٹی کو منظور کروانے کے لئے، اپنے الاوئنسز کو لگوانے کے لئے اور بہت سارے کاموں کے لئے کلیریکل سٹاف کی ضرورت پڑتی ہے. ‏لیکن اب تک جتنا بھی مشاہدہ کیا گیا ہے یہ ہی دیکھا گیا ہے کہ کلریکل سسٹم اتنا مضبوطی سے کرپشن میں اپنی جڑیں پھیلا چکا ہے کہ کوئی بھی ان کے خلاف  کچھ نہیں کرسکتا ہے.

    جب کوئی استاد اپنی اعلی ڈکری اور ٹیسٹ انٹرویو پاس کرنے کے بعد اس ادارے میں خوشی خوشی سلیکٹ ہوکرآتا ہے تو اس کی خوشی اس وقت بھاپ بن کراڑجاتی ہے جب اسے اپنے چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے کلرک حضرات کی منت کرنی پڑتی ہیں اورزرا سا معمولی سا کام بھی کروانا ہو تو جب تک آپ خرچہ پانی جو کہ رشوت کا ایک متبادل نام ہے نہیں دیتا اس کا کام نہیں ہوسکتا ہے.

    وہ انسان جو ساری زندگی اس رشوت سسٹم سے دوررہا ہو اپنا ہرکام ایمانداری سے کرتا ہو کبھی رشوت کانام بھی نہ لیتا ہو اس کو بھی اس ادارے کو جوائن کرنے کے بعد اپنے جائز کاموں کروانے کے لئےکلرکوں کو پیسے دینے پڑتے ہیں اور ایسا  بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی ایماندار کلرک ادارے میں موجود ہو لیکن  وہ بھی آپکا کام چاہ کر بھی بنا پیسے دیئے نہیں کرواسکتا کیونکہ یہ لوگ ایک دوسرے سے اتنے انٹرلنکڈ ہوتے ہیں کہ آپ کا کام نہیں ہونے دیتےاگر آپ پیسے نہیں دیتے توجان بوجھ کرآپکی فائل یا آپکا بل ادھرادھرکردیتے ہیں یا آپکو مختلف جگہوں کے چکرلگواتے ہیں.

    ‏اس کی مثال اس طرح لے سکتے ہیں کہ جب ایک نیا استاد ادارے کو جوائن کرتا ہے تو اس کو جوائن کے بعد اپنی سیلری سٹارٹ کروانی ہوتی ہے جو کہ ادارے کے ایڈمنسٹریٹرسٹاف کی زمہ داری ہوتی ہے اورحکومت نے ان کو رکھا بھی سٹوڈنٹس اوراساتذہ کے ان اکاؤنٹ ایشوزکو حل کرنے لئے ہی ہے لیکن یہ لوگ آپکو بل بنا کرنہیں دیں گے اورکہیں گے یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہوتی۔ آپ پریشان ہوں گے کہ بل کیسے بنے گا تو پہلے سے موجود لوگ آپکو بتائیں گے کہ آپ خرچے کے نام پہ پیسے دیں تو بل بھی بن جائے گا ورآپکی سیلری بھی سٹارٹ ہو جائے گی اگر آپ بہت ایماندار ہوں گے اور چاہیں گے کہ پیسے نہ دینے پڑیں تب یہ لوگ اس طرح سے حالات بنا دیتے ہیں کہ آپکی فائل اکاونٹ آفس تک نہ پہنچ سکے اور اگر پہنچ جائے تو اکاونٹ آفس والے آپکو بلاوجہ چکرلگوائیں گے اور آخرکارتنگ آکرانسان مجبورہوجاتا ہے اور اپنے جائز کام کے لئے بھی اپنی حق حلال کی کمائی سے پیسے دینے پڑ جاتے ہیں اور وہ گناہ کا مرتکب ہو جاتا ہے
    ‏کیونکہ ایک حدیث کے مطابق
    ‏”رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں ”

    ‏اسی طرح طالب علموں کو جب بھی ایڈمیشن سے متلقعہ کوئی ایشو ہوتا ہے توطالب علم کو اسی طرح اتنا ڈرا دیا جاتا ہے کہ آپکا ایڈمیشن فارم میں یہ غلطی ہے آپکو یونیورسٹی یا بورڈ میں جانا پڑے گا اورآپکا سال ضائع ہو سکتا ہے آپکا ایڈمیشن نہیں ہوگا یا ایڈمیشن کی تاریخ گزرگئی ہے اورطالب علم خاص طور وہ لوگ جو گاؤں یا قصبے سے تعلیمی حصول کے  لئےآتے ہیں ان سب سے گھبرا جاتے ہیں اوراس پوائنٹ پہ آکرکلرک حضرات اپنا داؤ کھیلتے ہیں اورہمدرد بن کر کہتے ہیں کہ آپ ہمیں اتنی اماؤنٹ دے دیں ہم آپکا کام کروا دیں گے اورطالب علم بیچارے ان کو اپنا خیرخواہ مان کر پیسے دے دیتے ہیں اوراس طرح ان کی جیب بھر جاتی ہے اورتب جا کرطالب علموں کا کام ہوتا ہے اوروہ بیچارے سکون کا سانس لیتے ہیں اوروہ ایشو جو بنا پیسے کے حل ہوجانا چاہیے تھا ڈھیرسارے پیسوں کے عوض ہوتا ہے
    ‏اب یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ اگراس حد تک یہ لوگ تنگ کرتے ہیں ضرورت اس امرکی ہے کہ یہ سب معلومات اعلی حکام اورسربراہوں کے علم میں ہونی چاہیے کیونکہ اساتذہ اورطالب علم کے مسائل کو حل کرنا انکی زمہ داری میں شامل ہے.

    ‏لیکن افسوس تو اسی بات پہ ہے کہ ادارے کے سربراہ اوراعلی حکام سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان بنے ہوتے ہیں کیونکہ وہ وہ خود بھی ان کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنے ہوتے ہیں ‏اوراگر کبھی ان تک ان لوگوں کی شکایات پہنچائی جائیں تو آگے سے ہمیں ہدایت کرتے ہیں کہ آپ کلرکوں کو پیسے دے کراپنا کام کروالیں اب اگراعلی حکام بھی اس مافیہ کا حصہ ہوں تو اساتذہ اورطالب علم اپنے مسائل کے حل کے لئے کونسے حکام بالا تک رسائی حاصل کریں ؟

    ‏ایک اوراہم بات خاص طورپہ خواتین کے تعلیمی اداروں میں بہت اہمیت کی حامل ہے کہ والدین بہت بھروسہ کرکے اپنی بچیوں کو ان تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہیں تاکہ وہ اعلی تعلیم سے مستفید ہوسکیں جبکہ طالبات اپنے کچھ تعلیمی معاملات جنکا تعلق کلیریکل سٹاف سے ہوتا ہے انکو حل کروانے کے لئے کلرک حضرات کے پاس جانا پڑتا ہے جس کا وہ ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے طالبات کو ہراساں کرتے ہیں اور انکے پرسنل نمبر، سوشل میڈیا پلیٹ فارم تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ انکا پرسنل بائیو ڈیٹا آفس میں موجود ہونے کی وجہ سے اس تک انکی رسائی حاصل ہوتی ہے جسکا وہ غلط استعمال کرتے ہیں جو کہ غیراخلاقی فعل ہے وہ ادارہ جو تعلیم دینے کے لئے ہوتا ہے وہاں بہت ساری طالبات اس غلط روئیےکی وجہ سے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہیں.

    ‏مزید یہ کہ ‏اداروں کے بہتر تعلیمی نتائج کے لئے اساتذہ دن رات محنت ‏کرت ہیں ‏اور وہ طالب علم جو پورا سال کبھی بھی ادارے میں نہیں آتے ‏تو اصولی طورپہ تو ان کا داخلہ نہیں بھیجا جانا چاہئے تاکہ ان طالب علم کو اس بات کا احساس ہو کہ ادارے میں غیر حاضررہ کر آپ تعلیمی امتحان کا حصہ نہی بن سکتے اوراس مقصد کے لئے استاد ایسےطالب علموں کی نشاندہی کرکے ادارے کے سربراہ کے علم میں لاتا ہے جہاں سے یہ نام کلیریکل حضرات کو پہنچائے جاتے ہیں تاکہ وہ ان طالب علموں کے ناموں کو ادارے سے خارج کردیا جائے اوراس بات سے استاد بھی مطمئن ہو جاتا ہے کہ اس نے سب طالب علموں کے ساتھ انصاف کیا ہے لیکن جب طالب علموں کی رولنمبر سلپ آتی ہیں ان طالب علموں کے نام بھی موجود ہوتے ہیںاقر یہ چیزاستاتذہ کے لئے یہ چیز انتہائی حیران کن ثابت ہوتی ہے کہ جن طالب علموں کے نام انہوں نے لسٹ سے خارج کرنے کے لئے دیے تھے وہ کس ترہاں شامل لسٹ ہوئے ۔

    پھرتحقیق کرنے پرپتہ چلتا ہے کلرک نے رشوت لے کر‏ادارے کے استاتذہ کو دھوکے میں رکھا اور ایڈمیشن بجھیج دیے اب اگرآپ احتجاج کریں بھی تو کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ طالب علم شامل لسٹ ہو چکا ہوتا ہے اورایگزام میں بھی حاضرہوچکا ہوتا ہے اس ترہاں امتحان دینے پر نتیجہ فیل ہونے کی صورت میں آتا ہے اوراسکا خمیازہ اساتذہ اورادارہ کو بھگتنا پڑتا ہے اسکا ایک اورغلط نتیجہ اس صورت میں بھی نکلتا ہے کہ جو طالب علم پورا سال حاضررہ کرامتحان کا حصہ بنتے ہیں انکی دل آزاری ہوتی ہے اور وہ ادارہ کی انتظامیہ کہ اس رویہ سے بہت مایوس ہوتے ہیں۔

    ‏ان تمام معملات کومد نظررکھتے ہوئے میں اس نتیجہ پے پہنچا ہوں کہ ہمارے تعلیمی اداروں کا کلریکل سٹاف یا تو خواتین کی صورت میں ہو یا پھران کے خیلاف سخت سے سخت ایکشن ہو تاکہ اپنے تعلیمی اداروں کو کرپشن جیسی امراض سے پاک کیا جا سکے.
    ‏پاکستان پائندہ باد

    ‏⁦‪@iEngrDani

  • "جذبہ ایمانی”تحریر.زوہیب خٹک

    "جذبہ ایمانی”تحریر.زوہیب خٹک

    تاریخِ انسانی میں ہمشیہ حق و باطل کی جنگ رہی ہے ۔

    مسلمان ہمیشہ آزمائشیں دیکھتے رہے وجہہِ کائنات سرورِ کونین میرے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے غربت کی زندگی گزاری صحابہ کرام جو مالدار تھے وہ بھی اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں وقف کر کہ فقیری کی زندگی جئیے ۔ مسلمانوں نے کبھی عیاشی کی زندگی نہیں گزاری کبھی تخت و تاج محلات مسلمانوں کی خواہش نہیں رہی ۔پیوند لگے کپڑوں کے ساتھ روم اور فارس کے عظیم تخت اکھاڑ پھینکنے۔ یہ جزبہ ایمانی ہی تھا کہ آدھی دنیا کے حکمران حضرتِ عمر رضی اللہ عنہہ بیت المال سے وظیفہ لیتے تھے۔ لیکن جب زلزلے سے زمین کانپی تو پاؤں کی ٹھوکر سے زمین کو رک جانے کا حکم دیا اور پوچھا کیا تجھ پر عمر عدل نہیں کرتا ۔؟؟

    یہ جزبہ ایمانی ہی تھا کہ تین سو تیرا ہزار کے مقابلے میں لڑ کر فتح یاب ہوتے یہ جزبہ ایمانی ہی تھا جس نے قیصر و قصریٰ کا غرور خاک میں ملایا یہ جزبہ ایمانی ہی تھا جس کی بدولت سلطان صلاح الدین ایوبی نے پورے یورپ سے اکیلے ٹکر لی اور فتح کے جھنڈے گاڑے یہ جزبہ ایمانی ہی تھا کہ سترہ سالہ محمد بن قاسم سندھ فتح کر گیا یہ جزبہ ایمانی ہی تھا جی ہاں یہ جزبہ ایمانی ہی ہے کہ سکندرِ اعظم برطانیہ روس اور امریکہ جیسی طاقتیں نیٹو افواج سمیت افغانستان کی سر زمین پر نیست و نابود ہوگئیں ۔۔ کیا خوب کہا ہے علامہ اقبال نے کافر ہو تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی ۔۔
    جزبہ ایمانی جب تک ہماری میراث رہے گی دنیا کی کوئی طاقت ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی لیکن اگر یہ جزبہ ایمانی نا رہا تو پھر جدید اسلحہ جدید میزائل سسٹم بڑی سے بڑی فوج بھی راکھ کا ڈھیر ثابت ہوگی۔ یاد رکھیں جنگیں ہتھیاروں سے ضرور لڑی جاتی ہونگی پر جنگیں جزبوں سے جیتی جاتی ہیں اور بے شک جزبہ پھر ایمان کا ہو تو آج بھی دنیاوی عالمی طاقتیں اس جذبے کے سامنے ڈھیر ہو جائیں گی۔

    اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نا کر
    خاص ہے ترکیب میں قومِ رسول ہاشمی

  • اپنا مقام پیدا کر.تحریر : ملک عمان سرفراز

    اپنا مقام پیدا کر.تحریر : ملک عمان سرفراز

    انسان کو  اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے کیونکہ انسان
    اور باقی تمام مخلوقات  میں واضح فرق فہم و فراست کا ہے۔
    دنیا میں کم و بیش 18 ہزار مخلوقات ہیں ان میں سے انسان کو سب سے افضل بنایا گیا ہے انسان کو اشرف المخلوقات (سب مخلوقات میں سب سے اعلی) کہا گیا ہے۔ انسان کو دنیا میں بھیج کر اللہ پاک نے فرشتوں سے کہا میں نے روح زمین پے اپنا خلیفہ بھیجا ہے اور پھر اللہ پاک نے فرشتوں سے انسان کو سجدہ کرایا۔ وہ انسان آج اللہ پاک کے ہر حکم ہر بات کا انکار کر رہا ہے  جو انسان ایک سانس کا بھی محتاج ہے ایک سانس اندر لے تو اس کو یقین نہیں وہ باہر نکال سکے گا یا نہیں
    یوں تو  جانوروں کو دیکھا جائے تو وہ بھی کھاتے ہیں ، پیتے ہیں اور سوتے ہیں  مگر فرق  شعور کا ہے وہ شعور  جو انسان کے پاس  موجود ہے

    انسان انسانیت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوجاتا ہے جب وہ اس شور کو استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو پہچانتا ہے اپنے مرتبے کو پہچانتا ہے
    اگر انسان اپنی زندگی کھانے پینے اور سونے کا کام کرنے پر گزار دے تو انسان اور جانور میں فرق کیسا ؟؟

    جب انسان کس چیز کی جستجو رکھتا ہے جس کی لگن ہے تو وہ اس کام کو ہر طریقے سے بھرپور طریقے سے مکمل طور پر سر انجام دینا چاہتا ہے اور پھر وہ کام اس کا عشق بن جاتا ہے جس طرح علامہ اقبال نے فرمایا

    دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر !​
    نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر​

    خدا اگر دلِ فطرت شناس دے تجھ کو​
    سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر​

    اٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں​
    سفالِ ہند سے مینا و جام پیدا کر​
    اس وقت  ضرورت ہے اپنے آپ کو پہچاننے کی کہ ہمیں کیوں کب اور کس لئے اس دنیا میں بھیجا گیا آخر ہمارے  آنے کا مقصد کیا ہے جب انسان سب سمجھ لیتا ہے تو انسانیت کے بلند مرتبے پر فائز ہو جاتا ہے

    انسان جتنی مرضی ترقی کر لے آسماں کو چھو لے یا پانی کی گہرائی تک پہنچ جائے جب تک وہ اپنے آپ کو نہیں پہچانے گا اپنے مقام کو نہیں سمجھے گا ۔اس کی سب ترقی بے کار ہے

    ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں جو چیز کی جستجو ہے ہمیں اپنی اس جستجو کے حصول میں خود کو اتنا مگن رکھنا ہےکہ ہمارا اپنا ایک مقام بن جائے

  • افغان امن عمل.تحریر: چوہدری یاسف نذیر

    افغان امن عمل.تحریر: چوہدری یاسف نذیر

    ‎سال 1988 میں ایک کانفرنس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ افغانستان میں غیرملکی افواج کی موجودگی برداشت نہیں کی جائے گی اور غیر ملکی افواج کے انخلاء کی حمایت کی جائے گی، اس میٹنگ میں امریکہ پیش پیش تھا اور یہ قرارداد روس کے خلاف تھی کیونکہ انکی افواج افغانستان میں موجود تھی۔۔۔‏ٹھیک 31 سال بعد 2019 میں یہ اعلان کیا گیا افغانستان میں غیر ملکی افواج کی موجودگی برداشت نہیں کی جائے گی اور غیر ملکی افواج کی انخلاء کی حمایت کی جائے گی، اس میٹنگ میں روس پیش پیش تھا اور یہ قرارداد امریکہ کےخلاف تھی، تاریخ نے 30 سال بعد ایک دفعہ پھر خود کو دوہرایا _ اور تقریبا وہی کچھ ہوا جو 30 سال پہلے ہوا، امریکی فوج کا جلد بازی میں افغانستان سے انخلاء ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اربوں ڈالرز لگانے کے باوجود 20 سالہ جنگ ہار گیا

    یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان دو مختلف تنظیمیں ہیں، طالبان کا آغاز جہاد اور اسلامی نظام کے قیام کے اعلان سے ہوا جبکہ تحریک طالبان پاکستان بھارت اور غیرملکی ایجنسیوں کی آلہ کار ہے، گزشتہ کئی سال سے افغانستان میں موجود بھارتی سفارتخانے پاکستان کے خلاف منظم سازشوں میں ملوث رہے ہیں، ہر دہشتگردی کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے تھے، امریکی انخلاء کے بعد بھارت کی سرمایہ کاری بھی ڈوب گئی

    امریکی اںخلاء کے بعد طالبان تیزی سے پیش قدمی کر رہے ہیں جبکہ افغان حکومت شدید دباؤ کا شکار ہے اور اسی دباؤ کی وجہ سے آئے دن اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جارہا ہے حالانکہ پاکستان کئی دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھارہا ہے، طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے پاکستان نے ہر ممکن تعاون فراہم کیا، افغانستان میں کاروائیوں کے لیے فضائی اڈوں کی امریکی خواہش کو پاکستان نے Absolutely Not جیسے واضح الفاظ کے ساتھ مسترد کیا اور افغانستان کو باور کرایا کہ ہم اپنی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اسلئے آپ بھی سرحد پار سے پاکستان میں داخل ہونے والے دہشتگردوں کا راستہ روکیں

    افغان حکومت اور طالبان کا موجودہ تنازعہ انکا اندرونی معاملہ ہے لیکن پاکستان ہر سطح پر معاونت کی پیشکش کا اظہار کرچکا ہے کیونکہ پرامن افغانستان ہی پرامن خطے کی ضمانت ہے، روس، چین، ایران اور پاکستان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان قابل عمل معاہدے کی کوشش میں ہیں، جبکہ بھارت نے گزشتہ ہفتے اسلحے سے بھرے جہاز افغانستان پہنچا کر یہ واضح کردیا ہے کہ وہ افغان طالبان کے خلاف افغان حکومت کا ہر ممکن ساتھ دے گا چاہے اسکے لئے امن کو داؤ پر لگانا پڑے

    اچھی بات یہ ہے کہ امریکی انخلاء کے پیش نظر پاکستان نے کافی حد تک تیاری مکمل کرلی تھی، 2600 کلومیٹر طویل سرحد پر باڑ لگانے کا کام تکمیل کے مراحل میں ہے، باڑ لگاتے وقت پاک فوج نے شہادتوں کے نذرانے دئیے لیکن اس کٹھن کام کی رفتار میں کمی نہ آنے دی، موجودہ حالات میں مزید افغان مہاجرین کی آمد متوقع ہے جنہیں سرحد کے قریب ہی ٹھہرایا جائے گا، جبکہ آئندہ ہفتے اسلام آباد میں افغان امن کانفرنس بھی منعقد ہونے جارہی ہے، انتظار کرنا ہوگا کہ افغان حکومت ماضی کی طرح الزامات لگاتی رہے گی یا پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہے گی

  • راستہ اور منزل .تحریر: بختاور گیلانی

    راستہ اور منزل .تحریر: بختاور گیلانی

    انسان کو جب اس دنیا میں بھیجا گیا تو ایک مقصد کے ساتھ بھیجا گیا اور جب سے انسان اس دنیا میں آیا تو وہ اس مقصد کے حصول کے لیے محنت کرنے لگا ا اور جب اس نے اس مقصد کو سمجھنا شروع کیا اس کی جستجو کرنا شروع کی تو اس نے اس مقصد کے ساتھ ہی اپنی منزل کی راہوں کو سمجھنا شروع کر دیا ان سے مقصد کے حصول کے لیے محنت لگن اور جستجو رکھنے لگا تو وہ ایک راہ پر نکل پڑا تاکہ وہ اپنی منزل تک پہنچ جائے۔
    اور کچھ ایسے بھی لوگ تھے جنہوں نے جب اپنی منزل کی جستجو رکھنا شروع کی مگر وہ صرف اس ڈر سے راستے پر نہ نکل  سکے کہ کہیں وہ اپنے راستے سے بھٹک نہ جائیں تو بس اس خوف نے ان کو ان کے راستے سے دور رکھا اور ان کو انکی منزل تک پہنچنے نہ دیا ۔

    جو یقین کی راہ پر چل پڑے
    انہیں منزلوں نے پناہ دی
    جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا
    وہ قدم قدم پر بہک گئے

    جب انسان منزل پر پہنچنے کے لیے سفر پر نکلتا ہے تو یقیناً وہ یقین مستحکم کے ساتھ سفر پر نکلتا ہے
    کون کہتا ہے کہ خواب حقیقت نہیں بنتے تو یاد ہوگا علامہ اقبال کا خواب  جو کہ حقیقت میں تبدیل ہوا اس کے لیے محنت لگن اور  جستجوشامل تھی۔
    جس طرح علامہ اقبال کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے لئے قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی انتھک محنت کی ہے تو پھر انہوں نے اپنی منزل حاصل کرلی قائد اعظم محمد علی جناح نے اور مستحکم کے ساتھ راستے پر سفر کیا اور اپنی منزل کی طرف گامزن ہے اور آخر کار اپنی منزل کا حصول ممکن بنایا۔

    منزل تک پہنچنے کے لیے یقین مستحکم اور جستجو کا ہونا لازم ہے ۔ ب انسان ارادہ کر لے تو کوئی طوفان اس کے ارادے کو ہرا نہیں سکتا ہے ۔پس جستجو کا ہونا لازم ہے

    لیکن یہ بات سمجھ لیں کہ تعبیروں کے سفر میں کٹھن رستوں کا آنا طے ہے۔ پریشانیوں کا ہمیں گھیر لینا بھی کوئی انوکھی بات نہیں۔ یاد رہے! خوابوں کے جزیروں میں بسنے والے مشکلات سے فرار حاصل کرنے کی بجائے ان کا سامنا کرتے ہیں اور وہ کبھی اتنے پست حوصلہ نہیں ہوتے ہیں کہ کٹھن راستوں اور تنگ گھاٹیوں کو عبور نہ کر پائیں۔ اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کرنے والوں کو منزل پر پہنچنے سے پہلے ناچار ہو کر بیٹھنا نہیں آتا۔

    منزل کی جستجو میں
    کیوں پھر رہا ہے راہی!
    اتنا عظیم ہوجا کہ منزل تجھے پکارے .

  • ‏ہمیں سزا قبول کرنے کی عادت ڈالنا پڑے گی:تحریر: عرفان محمود گوندل

    ‏ہمیں سزا قبول کرنے کی عادت ڈالنا پڑے گی:تحریر: عرفان محمود گوندل

    گزشتہ کچھ دنوں سے اسلام آباد میں ویڈیو سکینڈل کے حوالے سے سوشل میڈیا پہ کافی گفتگو جاری ہے ۔
    ابھی تک کی اپ ڈیٹس کے مطابق معاشرے کے بہت سے طبقات خفیہ طور پر اس گناہ پر مٹی ڈالنے اور مجرمین کو سزا سے بچانے کی سر توڑ کوشش کررہے ہیں ۔ ہر طرح کے جوڑ توڑ جاری ہیں ۔۔
    معاشرے قوانین پر عمل کرنے سے پھلتے پھولتے ہیں ۔۔ نبی پاکؐ کی حدیث اور واقع موجود ہے کہ چوری کے مجرم کے لئے سفارش آگئی تو آپؐ نے فرمایا کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی یہ جرم کرتی تو یہی سزا دیتا۔
    سزا کسی بھی معاشرے میں جرائم کو روکنے کا راستہ ہوتا ہے ۔ لیکن ہمارے ہاں صورت حال اس کے الٹ ہوتی ہے ۔۔ ہم لوگ سزا سے بچانے کی کوشش شروع کردیتے ہیں ۔
    پچھلے کچھ عرصے میں ملتان کا ایک ایسا ہی زنا کا واقعہ زیر بحث ہے۔
    جس میں بیٹی نے باپ پر زنا کا الزام لگایا اور بعد میں مکر گئی ۔۔
    اور کچھ دن پہلے کا ‎#مولوی_سکینڈل بھی آپ کے سامنے ہے ۔
    میری ایک وکیل دوست سے بات ہوئی ۔ ان کا کہنا تھا کہ زنا اور تشدد کے کیس میں سوائے قصور والے کیس کے یا ایک دو اور کیسز میں کسی مجرم کو سزا نہیں ہوئی صلح ہوجاتی ہے ۔۔
    میں نے اپنے علم کے مطابق پھر سوال کیا کہ زنا گناہِ کبیرہ ہے جس کی صلح کا کوئی تصور نہیں ہے یعنی سزا ہی ملنی ہے تو پھر صلح کیسے ہوتی ہے ؟
    وکیل نے کہا جو فریق مجرم قرار دیا جائے وہ مدعی کو پیسے کا لالچ دے کر اس بات پہ آمادہ کرتا ہے کہ مدعی اپنے پہلے بیان سے مکر جائے اور عدالت میں یہ بیان دے کہ اندھیرے کی وجہ سے میں نے غلط بندے پہ الزام لگایا یہ وہ شخص یا عورت نہیں ہے ۔۔
    جبکہ بیک ڈور چینل میں کچھ ” قوتیں ” صلح کی گواہ بن جاتی ہیں ۔ اس طرح ایک جرم پہ پردہ ڈال دیا جاتا ہے ۔۔
    مدعی کو پیسے مل جاتے ہیں اور مجرم سزا سے بچ جاتا ہے ۔
    مجرم کو شہہ ملتی ہے ۔ ایسے لوگ جو اس طرح کی نیت کررہے ہوتے ہیں وہ بھی حوصلہ پاتے ہیں اور اس طرح کے جرائم میں اس لئے شامل ہوجاتے ہیں کہ صلح کرنے کا راستہ موجود ہے ۔۔
    اس طرح پورا معاشرہ آہستہ آہستہ گناہ کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے ۔۔
    ہمارے پاکستان میں یہ روایت بن چکی ہے ۔۔ کہ جیسے ہی کسی سے جرم سرزد ہوتا ہے اس کے لواحقین دھوتیاں اور تھِگڑیاں سنبھال کے بڑے بڑے سیاسی ڈیروں کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں کہ کسی طرح جرم کی سزا نہ ہو ۔ ۔
    ہمارا معاشرہ ہر صورت مجرم کو پناہ دینے کا عادی ہوچکا ہے ۔۔ اس کے پیچھے محرکات کیا ہوتے ہیں ان میں کچھ تو واضح ہیں
    سرکاری افسر ہمیشہ اس طرح کی ” مرغی ” کو ذبحہ کرتے ہیں جو کسی جرم میں پھنس چکی ہو۔۔

    ہم لوگ تو وہ ہیں کہ سڑک پہ چالان ہوجائے تو بجائے اپنا جرم تسلیم کرنے کے ہم کسی بڑے کو فون ملا کے سفارش کرواتے ہیں ۔
    بعض دفعہ یوں لگتا ہے جیسے ہمارے معاشرے میں مجرم ہے ہی کوئی نہیں ۔۔ یہاں سارے فرشتے ہی رہتے ہیں یہاں کے سارے لوگ سچے ہیں ، یہاں کے سارے لوگ جو کچھ کہتے ہیں وہی درست ہوتا ہے یہاں تک قانون غلط ہوجاتا ہے ، شراب کی بوتل شہد کی بوتل میں تبدیل ہو جاتی ہے لیکن ہم اپنا جھوٹ تسلیم نہیں کرتے ۔۔
    جب ایک معاشرہ ایسا ہوگا جس میں جرم ہوگا لیکن سزا نہیں ہوگی بلکہ مجرم جب جیل سے بھاری رشوت کے عوض جیل سے رہا ہوتا ہے تو اس پہ گل پاشی کی جاتی ہے اسے پھولوں کے ہاروں سے لاد دیا جاتا ہے وہ وکٹری کا نشان بنا کے بڑی گاڑی میں کھڑا ہو کے عوام سے داد وصول کرتا ہے اور ہمارے قانون کا مذاق اڑاتا ہے ، آیان علی جیسیاں ہمارے قانون کو انگلی دکھاتی ہیں۔ نواز شریف اور الطاف حسین جیسے قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک کر باہر کے ملکوں میں بیٹھ کے عیاشی کرتے ہیں ۔۔
    ہونا اسلام آباد ویڈیو سکینڈل میں بھی ایسے ہی ہے ۔۔ جیسا کہ وکلا کہہ رہے ہیں کہ انجام صلح ہی ہونی ہے ۔ صرف ریٹ کا مسلہ ہے
    یہ صرف اسی کیس میں نہیں بلکہ ہر کیس کا حال ہے ۔۔۔ جو بھی جرم ہوتا ہے اس میں انجام کار صلح ہوتی یا مجرم کو بچانے کے لئے ہر طرح کے سیاسی سماجی اثرو رسوخ کو استعمال کیا جاتا ہے ۔
    چلیں ہم بھی دیکھتے ہیں کہ کیا انجام ہوتا ہے ۔۔

  • افغانستان کو چھوڑنا غلطی ہے نتیجہ سنگین ہوگا جارج بش …تحریر عینی سحر

    افغانستان کو چھوڑنا غلطی ہے نتیجہ سنگین ہوگا جارج بش …تحریر عینی سحر

    امریکہ کے سابق صدر جارج بش نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کے انھیں بہت تشویش ہے امریکی اور نیٹو کی فوج کا افغانستان سے انخلا غلطی ہے اور اسکا نتیجہ ناقابل یقین حد تک برا ہوگا افغانستان کے لوگ وہاں کے بے رحم لوگوں کے ہاتھوں میں چھوڑ دئیے گۓ ہیں جو انھیں بے رحمی سے ذبح کرینگے انہوں نے کہا یہ سوچ کر انکا دل ٹوٹنا ہے جارج بش کا یہ بیان امرکی صدر جو بایڈن کے امریکی فوجوں نے افغانستان سے انخلا کے بیان
    کے ایک ہفتے کے بعد آیا جس میں انہوں نے فیصلے پر کڑی تنقید کی اور اسے واضح طور پر ایک غلطی قرار دیا_
    امرکی سابق صدر بش اس فیصلے کے بالکل حق میں نہیں اور سمجھتے ہیں کے اس فیصلے سے افغانستان کی خواتین کے حقوق کا استحصال ہوگا اور ان سے دوسرے درجے کے شہری کی حثیت جیسا سلوک ہوگا

    اس سے قبل مئی میں سابق صدر بش نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا وو نہیں سمجھتے یہ درست فیصلہ ہےافغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا سے خطے میں خلا پیدا ہوگا جو کے بھرا نہ جاسکے گا یہ سب کرنا ضروری نہیں تھا امریکی چلے جائیں گے تو وہاں کے لوگ خواتین کو دوسرے درجے کے شہری سمجھیں گے اور ان سے ناروا سلوک کرینگے جو قربانیاں ہماری فوج اور انٹیلیجنس نے دی ہیں وہ سب بھلا دی جائیں گیں
    انہوں نے کہا یہ سب غیر ضروری تھا اب دعا یہ ہے کے یہ فیصلہ درست ثابت ہو

    صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے فوجی انخلا کی متوقع تاریخ جو کے ستمبر کی ہے اس سے قبل اکتیس اگست تک تمام امریکی فوجی واپس آچکے ہونگے

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی پریس سیکٹری جین میکاسی کا ہفتہ پہلے یہ بیان آیا کے یہ نہیں کہا جاسکتا کے ‘مشن اکامپلش ‘ کالمحہ آگیا ہو بیس سالہ کی اس جبگ کو عسکری لحاظ سے جیتا نہیں گیا جب جو بائیڈن سے پوچھا گیا کیا مشن اکامپلش ہوا انہوں نے کہا نہیں لیکن اتنا ہدف حاصل ہواکے انہوں نے القاعدہ کے مستقبل کے حملوں کو روک دیا اور اسامہ بن لادن کو ہلاک کر کے کسی حد تک کا مشن اکامپلش کیا

    جو بائیڈن نے کہا یہ افغانستان کے لوگوں کا حق ہے وہ جیسے چاہیں ویسے اپنا ملک چلائیں انکی حکومت کی ذمہ داری ہے کے خودمختاری کی حفاظت کریں انہوں نے کہا ہم افغان فوج کو فضائی ، اخلاقی اور انسانی بنیادوں پر خاص طور پر خواتین کے حقوق کیلئے مدد جاری رکھیں گے لیکن پھر انہوں نے اس حوالے سے کے وہ یہ سب کیسے کریں گے جب وہ وہاں ایک بھی امریکی فوجی چھوڑنا نہیں چاہتے تواس پر انہوں نے سوال پوچھاآخر ہم امریکہ کے اور کتنے بیٹے اور بیٹیوں کو خطرے میں ڈالیں گے ؟
    ان سے سوال پوچھا گیا کیا اب طالبان قبضہ نہیں کرینگے ؟ تو جو بائیڈن نے دو ٹوک کہا نہیں کیوں کے اب افغانستان محفوظ ہاتھوں میں ہے اب وہاں محض پچھتر ہزار طالبان کیخلاف تین لاکھ تربیت یافتہ مسلح افغان فوج ہے .
    انہوں نے اپنی دلیل دیتے ہوۓ کہا آخر کب تک آپ اپنی فوج کو وہاں رکھیں گے لیکن اب میں امریکہ کی ایک اور نسل وہاں جنگ میں نہیں جھونکوں گا

    یاد رہے افغانستان کی جنگ امریکہ کی سب سے لمبی جنگ رہی جسمیں چوبیس سو ہلاکتیں اور اکیس ہزار زخمی ہوۓ
    اس بیس سالہ قیام میں امریکہ نے افغانستان کی تین لاکھ فوج کو طالبان سے مقابلے کی تربیت دی لیکن اس ساری تربیت کے باوجود طالبان اب تک پچاس ڈسٹرکٹ پر قبضہ کر چکے ہیں

    یہی وہ نکتہ تھا جو پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں واضح کیا تھا کے کسی کیلئے بھی افغانستان میں جنگ جیتنا ممکن نہیں

  • پاکستان عالمی طاقتوں کی مجبوری . تحریر: محمد عثمان

    پاکستان عالمی طاقتوں کی مجبوری . تحریر: محمد عثمان

    پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا اور پوری دنیا کا ساتواں ایٹمی ملک ہے.
    ایٹمی ملک ہونا پاکستان کوجہاں ناقابل شکست و تسخیر بناتا ہے وہاں بے پناہ مسائل کا شکار بھی کرتا ہے.

    پاکستان معاشی لحاظ سے ایک کمزورملک ہے جس کی بدولت طاقتورممالک اس خطے کو اپنے مفادات کی خاطراستعمال کرتے ہیں.
    پچھلی دو دہائیاں اس بات کا غمازکرتی ہیں جس طرح امریکہ نے اپنے مفادات کی خاطر پاکستان کواستعمال کیا. صرف امریکہ ہی نہیں دیگرمغربی ممالک بھی پاکستان کی معاشی کمزوری کی بدولت اس کو مفادات کی جنگ میں گھیسٹتے ہیں. جہاں چائنہ پاکستان کے ساتھ دوستی کا دم بھرتا ہے وہاں اپنے مفادات کے لیے پاکستان کو اچھے طریقے سے استعمال بھی کررہا ہے.

    تمام ایٹمی ملک سپرپاورکی دوڑمیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے اوراپنی برتری ثابت کرنے کے لیے پاکستان جیسے کمزورملک کو استعمال کررہے ہیں. پاکستان بھی ان ترقی یافتہ ممالک کی طرح اس سپرپاورکی دوڑمیں شامل ہوگیا ہے. اگرچہ ناگفتہ بہ معاشی حالات ہیں مگرجیوگرافکل اورجیوپولیٹیکل صورتحال کے پیش نظراب منظر نامہ تبدیلی کی طرف گامزن ہوگیا ہے.

    پاکستان پہلے برطانیہ وامریکہ کا اتحادی شمارہوتا تھا جس کے لیے پاکستان نے بے پناہ قربانیاں بھی دیں اوراپنی معیشت بھی برباد کی مگر حاصل کچھ نہ ہوا. پرائی جنگ میں ساجھے داربن کراربوں ڈالرزکے infrastructure کا نقصان کیا لکھوں جانیں قربان کیں اوربدلے میں دہشتگردی کا لیبل لگوایا. اب پاکستان نے جو چائنہ کے ساتھ مل کر پاکستان چائنہ اکنامک کوریڈورشروع کیا ہے اس سے پوری دنیا میں منظرنامہ تبدیل ہو کررہ گیا ہے.

    عرب ممالک جو اسلامی بنیاد پرپاکستان کے دوست ممالک سمجھے جاتے ہیں اب نظربدل رہے ہیں کیونکہ اماراتی سمندری بالادستی ختم ہونے جا رہی ہے اس لیے انہیں بھی شدید تکلیف پہنچ رہی ہے. ازلی دشمن بھارت جس نے کبھی بھی کوئی موقع جانے نہیں دیا پاکستان کو نیچا دکھانے کے لیے خواہ وہ کوئی بھی پلیٹ فارم ہو. یہ الگ بات ہے کہ اسے ہربارمنہ کی کھانی پڑی ہے. اب پاکستان نے بھی اپنی strategy بدل لی ہے امریکہ بہادرکوabsolutely not کا میسج دے کر پاکستان نے واضح کردیا ہے کہ ہم آپ کے محتاج نہیں اورنہ آپ کے ذرخرید غلام ہیں.

    جیو پولیٹیکل اورجیولاجیکل فیکڑ پردیکھیں تو افغانستان میں وقت سے پہلے امریکی انخلا اورپاکستان کا کرارا جواب دنیا کے منظر نامے پر نئی راہیں متعین کرنے کا اعلان ہے. پاکستان، چائنہ، روس، ترکی اورملائشیا نیا اتحاد ہونے جا رہا ہے. جس سے اسرائیل، بھارت اورامریکہ شدید شش و پنج میں مبتلا ہیں. امریکہ کی افغانستان سے وقت سے پہلے انخلا پربھارت نوحہ کناں ہے بھارت نے پاکستان کے خلاف افغانستان میں بہت زیادہ investment کر رکھی تھی اب وہ ساری ڈوبنے کے امکان روشن ہیں.

    طالبان کی افغانستان میں بڑھتی مقبولیت اورحکومت بنانے کے واضح اثرات دیکھ کر بھارت شدید خائف ہوکراسرائیل کی طرف بھاگا ہے کہ امریکہ کو افغانستان میں روکے مگرامریکہ تو شاید بہانے کے انتطار میں تھا اوربگرام ائیر بیس کو رات کی تاریکی میں خاموشی سے خالی کر کے دم دبا کربھاگ رہا ہے یہ سب دیکھ کر بھارت شدید رنج اور پریشانی میں ایک ایک کر کے افغانستان میں اپنے کونصل خانے خالی کر رہا ہے.

    اس فیصلے پراسرائیلی حکومت امریکہ کو بھارتی نقصان باورکرانے کے لیے ایک کانفرنس کرنا چاہتی ہے. مگرایک امریکی اعلی عہدے دار کا ماننا ہے کہ اس میٹنگ میں پاکستان کا ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا بھارت کا کیوں کہ پاکستان اتنا ہی اہم ایٹمی ملک ہے جتنا بھارت اگرچہ پاکستان کی اکنامک پوزیشن بھارت کے مقابلے کم ہے لیکن دفاعی لحاظ سے اہمیت برابر ہے.

    سپرپاور کیلئے زیادہ سہولت ہے اگر جغرافیائی اعتبار سے محفوظ مقام پرہو دوسرے اہم قوت ہونے کیلئے معیشت اورعسکری قوت کے ساتھ ایک اور چیز ہے اوروہ ہے قدرتی جغرافیائی نقشہ جس پرپاکستان مکمل پورا اترتا ہے. بھارت پاکستان سے 6 گنا بڑا ہے. معیشت بھی اچھی ہے اورآبادی بھی بہت ہے لیکن جغرافیائی اعتبار سے وہ ایک بند مقام پر ہے اسے opening دستیاب ہی نہیں ہے. ایک طرف پاکستان دوسری طرف چین اور پھر ایک مشکل پہاڑی ملک نیپال غیراہم بھوٹان اوربنگلہ دیش جہاں سے محض مشرق بعید کے ایک دو ممالک تک رسائی ہے.

    بھارت جغرافیائی اعتبار سے کبھی بھی وہ اہمیت حاصل کر ہی نہیں سکتا جو پاکستان کو ہے. چائنہ اپنا ٹارگٹ فٹ کیے بیٹھا ہے آنے والی طالبان حکومت سے سب کچھ طے شدہ پروگرام کے تحت سٹریم لائن ہے طالبان بھی اب جبر و تشدد کو ترک کر کے عمدہ حکومت کے لیے پرامید ہیں. اگرطالبان سے معاملات طے پا جاتے ہیں تو روس پہلے ہی پاکستان کو blank check آفر کر چکا ہے کہ اب پاکستان کو دیکھنا ہے کہ اس کا مفاد کس جگہ پر کتنا اہم اورکتنا بڑا ہے.

    ترکی آنے والے وقتوں میں ایک بڑی معیشت ہے جو براہ راست پاکستان کے لیے خوش آئند ہے، ملائشیا پہلے ہی پاکستان میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے. اب اگر پاکستان چاہے تو ان تمام اتحاد کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرسکتا ہے مگر معاشی بد حالی اورکچھ غیرمعمولی نادیدہ قوتیں اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دے کرپاکستان کو محکوم رکھیں گے. لیکن عالمی سیاسی منظر نامے پراورسنٹرل ایشائی ممالک میں طاقت کے توازن میں پاکستان غیر معمولی حیثیت حاصل کرچکا ہے. اب پاکستان کے بغیرسپرپاوربننا ناممکن ہے اس تناظرمیں اگردیکھا جائے تویہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان ہی اصل میں سپرپاورہے.

    ‎@one_pak_

  • راوی ریوراربن پراجیکٹ شہری زندگی میں ایک انقلابی قدم . تحریر: صہیب اسلم

    راوی ریوراربن پراجیکٹ شہری زندگی میں ایک انقلابی قدم . تحریر: صہیب اسلم

    انسان نے جب سے ہوش سنبھالا تب سے اپنی زندگی کو آسان بنانے کیلئے آسائش و سہولیات کا ہرممکن راستہ تلاش کیا۔

    کہا جاتا ہے کہ انسانی زندگی کا آغازجنگل سے شروع ہوا جہاں انسان نے اپنا پہلا گھربنایا پھر جیسے جیسے وسائل دستیاب ہوئے انسان بھی اپنی سہولیات میں اضافہ کرتا گیا۔ پھرایک وقت آیا جب قصبوں سے گاؤں آباد ہوئے اور پھر گاؤں کے بعد باقاعدہ شہری آبادکاری شروع ہوئی جہاں قصبوں اور گاؤں کی نسبت ضروریات زندگی کی تکمیل کیلئے زیادہ وسائل دستیاب ہوئے لیکن پھرایک وقت ایسا بھی آیا جب بڑے بڑے شہربھی انسانی آبادکاری کیلئے چھوٹے پڑ گئے جس کی سب سے بڑی وجہ بے ہنگم وبغیر کسی منصوبہ بندی کے آبادکاری ہے جہاں رہائشی دباؤ اس قدرشدید ہوگیا کہ انسانی ضروریات کو پورا کرنے والی بنیادی چیزیں بھی کم پڑگئیں۔

    بد قسمتی سے پاکستان بھی انہی ممالک میں سے ایک ہے جہاں سوائے وفاقی دارالحکومت اسلام اباد کے باقی تمام شہر بغیر کسی منصوبہ بندی کے بنائے گئے۔

    آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا دوسرا بڑا شہرلاہور ہے جو اس وقت شہری آبادکاری کے دباو کی وجہ سے بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہوتا جا رہا ہے اور اسی نقصان کو وقت سے پہلے بھانپتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ لاہور شہر کے ساتھ دریائے راوی پر ایک نئے شہر کو آباد کیا جائے جس کیلئے باقاعدہ ایک اتھارٹی قائم کی گئی جس کا نام راوی ریوراربن پراجیکٹ رکھا گیا جس کا مقصد دریائے راوی پر ایک ایسے شہرکو آباد کرنا ہے جہاں نہ صرف تمام بنیادی ضروریات کو پورا کیا جائے گا بلکہ لاہور پر آبادکاری کے بڑھتے شدید دباؤ کو بھی کم کیا جائے گا اورساتھ ہی لاہورشہرکی سب سے اہم اوربنیادی ضرورت صاف پانی کی کمی کو پورا کیا جاسکے گا.

    راوی ریوراربن پراجیکٹ اپنی نوعیت کا سب سے منفرد اورپاکستان کا پہلا شہرہوگا جسے نہ صرف باقاعدہ بہترین منصوبہ بندی کے ذریعے بنایا جا رہا ہے بلکہ لاہورشہرکی بنیادی ضرورت یعنی صاف پانی کی کمی کو بھی پورا کیا جائے گا۔

    راوی ریوراربن پراجیکٹ دریائے راوی کی دونوں اطراف شمال مشرق سے جنوب مغربی رقبے پرتعمیرکیا جا رہا ہے جس کیلئے پہلے 44 ہزارایکڑ رقبہ مختص کیا گیا تھا جسے بعد میں 44 ہزارسے بڑھا کرایک لاکھ ایکڑ کردیا گیا۔

    ریور راوی اربن پراجیکٹ پرتقریبا پانچ کھرب پاکستانی روپے خرچہ ہوگا جس کو بنانے کیلئے سب سے پہلے دریائے راوی پر46 کلومیٹر طویل جھیل بنائی جائے گی جس کے دونوں اطراف اس شہر کو بسایا جائے گا۔ اس جھیل پر6 بیراج تعمیرکئے جائیں گے اورساتھ ھی پانی کو صاف رکھنے کیلئے ویسٹ واٹرمینیجمنٹ سسٹم بھی بنایا جائے گا۔ اس جھیل میں نہ صرف بارش کے پانی کو اکٹھا کیا جائے گا بلکہ اسی جھیل سے لاہورشہرکا زیرزمین مسلسل خطرناک حد تک کم ہوتے پانی کی سطح کو بھی کنٹرول کیا جائے گا۔

    راوی ریوراربن پراجیکٹ کا 70 فیصد رقبہ جنگلات و سرسبز ہریالی پرمنحصر ہوگا جو نہ صرف راوی ریوراربن بلکہ لاہورکو بھی ماحولیاتی آلودگی جیسے گرد وغباراورسموگ سے پاک رکھے گا جبکہ 30 فیصد رقبہ رہائشی و صنعتی ہوگا جو بارہ مختلف سیکٹرز پر مشتمل ہوگا اور ہرسیکٹرایک باقاعدہ شہر ہوگا جہاں صحت عامہ، درس و تدریس، صنعت و تجارت اورکھیل و تفریح سمیت ایک ایسا انسان دوست ماحول ہو گا جو نہ آنے والی نسلوں کی تعمیرکرے گا بلکہ صدیوں یاد رکھا جائے گا۔

    اس منصوبے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ اس سے 12 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کو نوکریاں دستیاب ہوں گی اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والا 90 فیصد میٹیریل پاکستان میں ہی تیار کیا جاتا ہے جس سے پاکستان کی مقامی صنعتوں کو بے تحاشا فائدہ ہوگا۔

    اس منصوبے کو2014 میں تجویزکیا گیا تھا لیکن ماضی کے حکمرانوں نے اسے اپنی سیاست کی نظرکرتے ہوئے انسان دوست منصوبے کی فائلوں میں دفن کردیا لیکن وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کے خواب ترقی یافتہ نیا پاکستان کی تکمیل میں جاری اس سفرمیں بڑے اور طویل المدتی منصوبوں میں یہ پہلا بارش کا قطرہ ثابت ہوگا جو آنے والے وقت میں ایک نئے ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد رکھ رہا ہے۔

    @Salahuddin_t2

  • ففتھ جنریشن وار جاری ہے.‏تحریر: لاریب اطہر

    ہنگری کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی ایک ریسرچ کے مطابق فرسٹ جنریشن وار فیئر جنگوں کی وہ شکل ہے جس میں بڑی سلطنتیں ایک دوسرے کے خلاف جنگ لڑ رہی ہوتی ہیں۔ ان جنگوں کو ‘فری انڈسٹریل وارز’ بھی کہا گیا ہے۔

    اس جنریشن میں انفنٹری یا فوج کے دستے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوتے ہیں اور انسانی قوت کو کامیابی کا منبہ سمجھا جاتا ہے یعنی جتنی بڑی فوج ہوگی اتنی ہی زیادہ کامیابی ہوگی۔

    یہ پہلی جنریشن17 ویں صدی کے وسط سے لے کر 19 ویں صدی کے آخر تک چلتی رہیں اور انھی اصولوں پر دنیا بھر میں مخلتف جنگیں لڑی گئیں۔

    میرے پاکستانی قوم پر دشمن نے مختلف طریقوں سے حملہ آور ہوا لیکن اللّٰہ تعالیٰ کے فضل میں نے اپنے قوم کے جوانوں کی مدد سے دشمن کے ہرحملے کو ناکام بنایا۔
    کبھی لسانیت کے بنیاد پر تو کبھی قومیت کے بنیاد تو کبھی سیاسی بے روزگاری کی بنیاد پر کبھی فرقہ واریت کی بنیاد پر کبھی صوبائیت کی بنیاد پر سب حربوں کو دشمن کے ناکام کیا اب نئے طریقے سے حملہ آور ہوا ہے
    مذہبی فساد کے بنیاد پر اپنے درمیان دشمن کے سلیپنگ سیلز کے لوگوں کو پہچانیں۔
    ہم میں موجود کچھ سیاسی بے روزگار پوری مغربی میڈیا اور دشمن سوشل میڈیا پر پورے پاکستان میں خانہ جنگی کا نیوز چلا رہا ہے
    جھوٹ اور پروپیگنڈہ پھیلایا جارہا ہے ۔۔
    خدا کے لیئے چند سیکنڈز کے لیئے سوچیں اپنے بچوں کے مستقبل کا سوچیں ایسا نہ ہو شام کی طرح پورے پاکستان میں خانہ جنگی کو ہوا دی جائے ہم سب کا دشمن ایک ہے،
    اپنے پاک وطن میں دشمن کے پروپیگنڈہ کو ہوا مت دیں
    امن محبت کا درس دیں۔
    پاکستان زندہ باد
    اسلام زندہ باد
    ختم نبوتﷺزندہ
    پاک فوج زندہ باد
    آئی ایس آئی زندہ باد