Baaghi TV

Category: متفرق

  • ففتھ جنریشن وار کے ساتھ پاکستان میں پراکسی وار.تحریر :امان الرحمٰن

    ففتھ جنریشن وار کے ساتھ پاکستان میں پراکسی وار.تحریر :امان الرحمٰن

    افغانستان کی دن بہ دن بدلتی صورتحال کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مشترکہ دُشمن پاکستان میں وہی پراکسیز کو تیز کرنے کی کوشش میں ہیں جو آج سے چند سال پہلے مسلط کر کے اور مُنہ کی کھا چُکا ہے اب دوبارہ ایک بار پھر سے افغانستان میں شکست خُوردہ ہو کر کسی مکار لومڑی اور بُزدل دُشمن کی طرح اپنے تمامتر وسائل استعمال کرتے ہُوے پاکستان میں انتشار کی فضاء پیدا کرنےکے لئے ففتھ جنریشن وار کے ساتھ پراکسی وارمسلط کرنےجا رہا ہے بھارت اور امریکہ کے ساتھ اسرائیل میں یہ تہہ ہُوا ہےکے پاکستان کو چین کے ساتھ دوستی کی سزا ضرور ملنی چاہئےکیوں کے اب پاکستان اپنے اندرونی اور بیرونی فیصلوں میں خُود کو آزاد کر رہا ہے۔

    اور یہ دُشمن کو پسند نہیں آرہا کے پاکستان نے بھارت کو نازی سوچ سے ملا کر دنیا میں ذلیل کر کہ رکھ دیا ہے انٹرنیشنل لیول پر دنیا کو اپنے ساتھ ملایا ہے یہ بات ہضم نہیں ہو رہی کے بھارت سے کشمیر پر 370 اے لگوا کر پاکستان کو بھڑکانے میں ناکام رہے تو بھارت، امریکہ، اسرائیل ڈائریکٹ پاکستان سے لڑائی یا پاکستان پر حملہ کی گُنجائش نہیں رہی ۔
    اب جیسا کے ماضی میں پاکستان کی مسلح افواج نے دنیا کی سب سے خوفناک پراکسی وار لڑی ہے بلکہ اُن میں فتح حاصل کی ہے ، الحمدُللہ ۔
    دُشمن نے پاکستان میں باقی دنیا کی طرح سیدھا حملہ نہیں کیا جیسا کہ افغانستان پر، عراق، لیبیا ، شام یا اور ممالک میں سیدھا آکر اٹیک کیا لیکن پاکستان پر کوئی بھی حملہ نہیں کر سکا کیونکہ ہم نیوکلیئر پاور ہیں بہادر افواج بھی ہے اور لڑنے کی قابلیت بھی ہےاور شائدیہ خطرہ بھی ہو کے کہیں پاکستان ایٹمی حملہ ہی نہ کردے کہ عالمی جنگ شُروع ہو جائے اور پوری دنیا ہی تباہ ہو جائے۔

    اِسی لئے دُشمن کے پاس آسان حل یہی تھا کے ففتھ جنریشن وار کے ساتھ پراکسی وار لڑی جائے اور ساتھ جھوٹا پروپیگنڈہ جاری رکھا جائے ۔

    پچھلے 20 سالوں میں دیکھا جائے توپاکستان میں دنیا کی سب سے خطرناک پراکسی وار لڑی گئی، میرے پاکستان میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب ایک ماہ میں 40، 40 بم دھماکے ہوتے تھے پاکستان میں تب سے اب2021 تک 70 ہزار سے زائدپاکستانی شہید ہوے جن میں فوج کے جوان، پولیس، لاانفورسمنٹ ایجنسیز کے اہلکار، اور عام شہری شامل ہیں اور وہ لوگ بھی جو گُمراہ ہوے دُشمن کی باتوں میں آکر ریاست کے خلاف لڑتے ہوے مارے گئےیہ اُسی پراکسی وار کا حصہ بنے جو اب پھر دوبارہ تیز نظر آرہی ہے جیسا کے بلوچستان میں بی ایل اے، اور پی ٹی ایم، ایم کیو ایم، جسقم جئے سندھ والے، اِن سب کو "را” سی آئی اے، اسرائیل فنڈز دیتے تھے ۔

    اِ س کا ثبوت ساری دنیا کے سامنے کُلبھوشن یادیو ہے، ہیلری کلنٹن کا انٹرویو سامنے ہے کہ ہم نے یہ سب کیا پاکستان میں، اور کچھ عرصہ پہلے بھارتی ریٹائرڈ میجر گوروآریا ٹی وی پر بیٹھ کر خُود بتا رہا تھا کے ہم نے بلوچستان میں کیا کِیا اور کیا کریں گے یہ بات وہ کُھل کراکثر کرتا رہا ہے۔
    اور اب بھی یہ معملہ چل رہا ہے بلکہ اب زور پکڑ رہا ہے کیوں کے سی پیک نزدیک آگیا ہے پاکستان مستحکم ہو رہا ہے تو دُشمن نہیں چاہتا کے پاکستان میں سکون ہو پاکستان ترقی کرے۔جیسا کے پہلے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پاکستان کے بارے میں خبریں دیا کرتا تھا اب بھی دے رہا ہے جیسے کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملہ کی خبر بھارت میں بیٹھا بی بی سی کا نمائندہ دے رہا تھا کُچھ الگ انداز میں ، اور چند ماہ پہلے ایک بار پھر لال مسجد کی خبریں لگا رہا تھا جیسا پہلے لال مسجد پر خبریں دیا کرتا تھا اب پھر یہ ہمارے دینی حلکوں کو اُبھارنے کیلئے پُرانی خبریں نئے انداز میں چھاپ رہا ہے کیوں ؟

    کبھی فرقہ وارانہ فساد کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی دہشت گردی کی کسی تنظیم سے پاکستان کو جوڑنے کی ناکام کوشش ہوتی ہے یہی تو ہے ففتھ جنریشن وار فیئرجس سے ریاست کی عوام کے ساتھ ساتھ عالمی معاشی منڈی میں پاکستان کی غلط اندازمنظر کشی کی جائے ، بدنام کیا جائے اور فیٹف جیسے اِدارے کو بنا کر صرف اپنے مقاصد حاصل کرنےکے لئے استعمال کیا جائے ۔
    ہمیں ہوشیار رہنا ہو گا اور اپنے اردگرد کے لوگوں کو بھٹکنے سے بچانا ہوگا اور اِن شاءاللہ ہم اب اِس پراکسی وار کو اچھے سے سمجھ چُکے ہیں ، ہم ففتھ جنریشن وار فیئر سوشل میڈیا پر لڑنے کے ساتھ ساتھ اب ہم ٹرینڈ بھی ہو گئے ہیں کے یہ ففتھ جنریشن وار کیا بلاہے اور یہ شعور ہمیں ہمارے محسِن لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور صاحب نے اچھے سے سکھا دیا تھا جب وہ ایک مشکل وقت میں پاکستان کے لئے پاک فوج کےشعوبہِ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے عہدے پر فائز تھے وہ وقت یقیناً پاکستان کے لئے بہت کٹھن اور مشکل وقت تھا تب لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور صاحب نے ہی پاکستان کی بکھرتی ہُوئی غفلت میں ڈُوبتی ہُوئی نوجوان نسل کو اُن کا مقصد یاد کروایا تھا اور اِس نہ نظر آنے والی جنگ کو کاؤنٹر کرتے ہُوےلیڈ کرتے ہُوے رہنمائی کرتے ہوےبھرپور طریقےسے سوشل میڈیا پر ایک مضبوط عصاب کی مالک پاکستانی نوجوانوں کو دُشمن کے مقابل لا کھڑا کیا اور ہم ایک مُٹھی کی طرح متحدہو گئے، اور ہیں اور ہمیشہ متحد رہیں گےاِن شاء اللہ۔ اللہ پاک ہمارا اور ہمارے پیارے پاکستان کا حامی و ناصر ہو آمین
    پاکستان پائندہ آباد

  • ذبح عظیم .تحریر: مزمل مسعود دیو

    ذبح عظیم .تحریر: مزمل مسعود دیو

    اللہ تعالی نے اپنے انبیاء کو اس سرزمین پر مبعوث فرمایا تاکہ وہ ہم تک اللہ تعالی کا پیغام پہنچائیں۔ پھر ان انبیاء کو بہت بڑے بڑے امتحانات سے آزمایا۔ جن کو اللہ پاک نے چنا وہ سب اپنے امتحانات میں سرخرو ہوئے اور ہمارے لیے مثالیں چھوڑ گئے۔ ایسا ہی ایک امتحان جو بہت صبر آزما تھا اللہ پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لیا۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ پاک سے اولاد کی تمنا کی اور اللہ تعالی نے تقریبا 100 سال کی عمر میں اسے پورا کیا اور آپکو ایک بیٹا حضرت اسماعیل علیہ السلام عطا کیا۔ اللہ پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے امتحان لیا۔ روز خواب میں قربانی کا حکم ہوتا کہ اپنی سب سے پیاری چیز اللہ کی راہ میں قربان کرو۔ لاتعداد اونٹ اور بکریاں روز اللہ کی راہ میں قربان کیں لیکن پھر خواب دوبارہ آتا رہا حتی کہ بیٹے کی قربانی کا حکم ملا۔

    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بیوی حضرت مائی ہاجرہ کو سارا قصہ سنایا اور وہ بھی آخر نبی کی بیوی تھی اللہ پاک کے حکم پر آمین کہہ دیا اور اپنے بیٹے کو اللہ تعالی کی راہ میں قربانی کے لیے تیار کیا۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو لے کر اللہ کی راہ میں قربان کرنے نکل پڑے راستے میں شیطان آیا اور اللہ کے نبی کو ورغلانے کی کوشش کی لیکن ہر بار منہ کی کھائی اور اللہ کے نبی نے اسے تین مقام پر پتھر مارے۔ اللہ تعالی نے اپنے نبی کی اس ادا کو ہمارے لیے حج کے واجبات میں شامل کردیا۔

    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کر زمین پر لٹایا تو بیٹے نے عرض کی کہ بابا میری اور اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لیں کہیں فرط محبت میں اللہ تعالی کی حکم عزولی نہ ہوجائے۔ دونوں باپ بیٹے نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی اور اپنے لخت جگر کو زمین پر لٹا دیا۔ پوری کائنات حیرت میں چلی گئئ فرشتے، جنات کہ یااللہ یہ کیسا امتحان ہے اور یہ کیسے تیرے بندے ہیں جو تیرے حکم کو بجا لانے کے لیے ہر حال میں تیار ہیں۔

    حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بسم اللہ پڑھ کر چھری چلائی لیکن اللہ تعالی کے حکم سے چھری نہیں چلی تو آپ مسلسل چھری چلاتے رہے۔ اللہ پاک نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ میرا ابراہیم تب تک چھری چلائے گا جب تک اسکے ہاتھ کو گرم خون نہ لگا۔ جنت سے ایک دنبہ لے جاو اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو نکال کر دنبہ لٹادو ۔ پھر چھری چلی تو گرم خون ہاتھوں کو لگا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کا شکر ادا کیا۔
    جب پٹی کھولی تو حضرت جبرائیل علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام بیٹھے مسکرا رہے تھے۔ اللہ تعالی کا پیغام سنایا اور کہا کہ اللہ تعالی نے آپکی قربانی قبول کر لی اور آپ اپنے امتحان میں سرخرو ہوئے۔ اپنے بیٹے کے ساتھ گھر تشریف لائے اور اپنی بیوی کو خوشخبری سنائی کہ ہمارا رب ہم سے راضی ہو گیا۔ اللہ تعالی کو اپنے رسول کلیم اللہ کی ادا اتنی پسند آئی کہ قیامت تک جو شخص حج کے لیے جائے گا وہ اس سنت کو ادا کرے گا۔

    ‏@warrior1pak

  • نظام عدل .تحریر: ملک عمان سرفراز

    نظام عدل .تحریر: ملک عمان سرفراز

    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کی سب سے بڑی وجہ اسلامی قوانین کا نفاذ تھا کہ ایسی ریاست جہاں اسلامی قوانین کا نفاذ آسانی سے ممکن ہو

    کسی بھی ریاست کے قیام کے بنیادی ستونوں میں سے نظام عدل ایک اہم ستون ہے ہے کسی بھی معاشرے میں امن وامان کے قیام کی بڑی وجہ اس معاشرے میں عدل و انصاف کو قائم ہونا ہے مگر افسوس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک نہیں دو قوانین کی بالادستی ہے امیر کے لیے الگ قانون ہے اور غریب کے لیے الگ ۔

    یہاں اگر کوئی غریب چوری جیسے جرم کا مرتکب ہوتا ہے تو پہلے تو اس کو لوگوں کے ہاتھوں نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے اور پھر تھا نے کی ہوا الگ سے کھانا پڑتی ہے۔
    مگر ٹھہریے اگر آپ کا کوئی سیاستدان اس ملک کے خزانے لوٹتا نظر آئے گا یا کوئی با اثر شخص اس جرم کا مرتکب ہوتا نظر آئے گا تو اس کے ساتھ ہرگز برا سلوک نہ ہو گا بلکہ اس کے گلے میں ہار ہوں گے اور اس کے نعرے گونجتے نظر آئیں گے۔

    ایسا کیوں ہے کیونکہ ہمارا نظام عدل اس قدر خستہ حال ہو چکا ہے کہ وہ قانون جو کہ عدل ی بالادستی کے لئے تھا وہ امیروں کے گھروں کی باندی بن چکا ہے
    غریب کا بیٹا ہوائی فائرنگ جیسا جرم کرے گا تو جیل جائے گا مگر ایم این اے کا بیٹا یہی کام کرے گا تو قانون اندھا بن جائے گا۔

    قانون تو واقعی مکڑی کے جالے کی طرح ہے جس میں پھنسنا غریب کو ہوتا ہے اور امیر کی مثال اس مکری کی ہے جو خود اس قانون کے جالے کو بنتا ہے۔

    یہاں انصاف بکتا ہے ،یہاں فرمان بکتے ہیں
    زرا تم دام تو بدلو یہاں ایمان بکتے ہیں

    یہ کیسا قانون ہے کہ کرپٹ کے تحفظ کے لیے چھٹی والے دن بھی عدالت لگ جاتی ہے اور غریب انصاف کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔

    اگر کوئی بھی کسی بھی اس معاشر ے میں امن چاہتا ہے خوشخالی چاہتا ہے تو اس معاشرے میں نظام عدل کی بالادستی اور سب کے لیے فوری اور سستا انصاف ضروری ہے۔

    جب نظام عدل خستہ حال ہوتا ہے تو وہ معاشرہ بھی خستہ حال ہو جاتا ہے

  • ” ناکامی کی ٹہنی ” تحریر: شعیب اسلم

    ” ناکامی کی ٹہنی ” تحریر: شعیب اسلم

    بچپن میں ایک قصہ سنا کرتے تھے کہ
    ایک بادشاہ نے دو نایاب عقاب منگوائے.
    دیکھا کہ ان میں سے ایک عقاب شکار کرتا اور اڑتا تھا لیکن دوسرا ایک ٹہنی پر بیٹھا رہتا.
    بیسیوں حربے آزمائے لیکن وہ اُڑ کے نہ دیا,
    بادشاہ نے ایک ماہر شکاری کو بلوایا, اگلے دن سب نے دیکھا کہ وہی عقاب اڑانیں بھرتا پھررہا ہے.
    بادشاہ نے شکاری سے وجہ پوچھی تو شکاری نے جواب دیا کہ عقاب جس ٹہنی پر بیٹھتا تھا ,میں نے وہ ٹہنی کاٹ دی
    اسی طرح سرکس کے ہاتھی کو نازک سی رسی سے بندھا ہوا دیکھا ہوگا آپ نے,اس ہاتھی کو بچپن میں طاقتور رسی سے باندھا جاتا رہا جو وہ توڑ نہیں سکتا تھا, جس سے اسکے ذہن میں یہ بات راسخ ہوگئی کہ رسی نہیں ٹوٹے گی.

    دراصل یہ عقاب اور ہاتھی دونوں کا کمفرٹ زون تھا
    لاشعور میں یہ بات بیٹھ جائے کہ
    میں نہیں کرسکتا, مجھ سے نہیں ہوگا
    تو آسان سے آسان کام بھی پہاڑ بن جاتا ہے .
    ہم نے جگہ جگہ اپنی سوچ اپنے عمل, پر بیریئر لگا رکھے ہیں , اجتہاد سے دور بھاگتے ہیں.
    ہم میں سے ہر کوئی کسی نہ کسی نازک سی ٹہنی پر بیٹھا ہے
    ہار جانے کا خوف,ناکامی کا ڈر ہمیں چیلنج قبول کرنے نہیں دیتا
    چیلنج نہ لینے سے ہم اپنی سوچ پر ناکا لگادیتے ہیں ,
    ہمارے اندر آگے بڑھنے کی لگن ختم ہوجاتی ہے,
    ہم ایک چھوٹے سے محدود سرکل میں آرام دہ رہنے کے عادی ہوجاتے ہیں,
    سہل پسند ہوجاتے ہیں.
    یہی وہ نقطۂِ عروج ہوتا ہے جہاں سے زوال شروع ہوتا ہے.
    "تغیّر کو ہے ثبات زمانے میں”
    ایک تبدیلی ہی اس دنیا میں مستقل ہے,
    جامد و ساکت, متحرک و متغیّر کے رستے کی دُھول بن کر رہ جاتے ہیں .

    چیلنج لینا سیکھیں,
    ذہن منصوبہ بندی کا عادی ہوجائے گا,
    ذہن متحرک ہوا تو جسم اس سے ہم آہنگ ہونے کی تگ و دو کرے گا.
    پھر روح میں جوش,ہمت ولولہ اور قیادت کی صفات جنم لیتی ہیں.
    انسانی تاریخ کھنگال لیں,
    آپ کو ہر کامیابی کے پیچھے کوئی سر پِھرا, کوئی انوکھا, کوئی بہادر مُہم جُو نظر آئے گا
    ہر بڑی ایجاد کے پیچھے کوئی جدت پسند اور رسک لینے والی سوچ نظر آئے گی .
    تاریخ بڑی بے رحم ہے, اس میں کم ہمتی, ذہنی غلامی اور سخت و جامد رویوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے.
    ذرا کمفرٹ زون کی ٹہنی سے اُڑ کر تو دیکھیں, کتنے اُفق آپکی پرواز سے تسخیر ہونے کے منتظر ہیں ؟
    ذرا پاؤں کی زنجیر توڑیں تو سہی, کتنی دنیائیں, کتنے رستے آپکا نقشِ پا بننے کے لئے تیار ہیں ؟

    کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
    ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

  • افغانستان امن عمل میں پاکستان کی اہمیت ، تحریر: سید محمد مدنی

    افغانستان امن عمل میں پاکستان کی اہمیت ، تحریر: سید محمد مدنی

    ۔ افغانستان جو پاکستان کاپڑوسی ملک ہے زیادہ تر اس کا وقت جنگ لڑتے ہوئے ہی گزرا ہے اس سے پہلے کافی طاقتیں آئیں پھر روس آیا اس وقت امریکہ ایک بین الاقوامی طاقت بن رہا تھا اسے روس کی اجارہ داری پسند نہ تھی اس نے افغانستان پرحملہ کیا اور روس سویت یونین کو وہاں قابض نہ ہونے دیا بلا آخر روس ١٩٨٩، ١٩٩٠ میں سوویت یونین جسے یو ایس ایس آر کہا جاتا تھا ٹُوٹا اور اس کے ٹُکڑے ہوئے اور روس اپنی طاقت کھو بیٹھا پھر امریکہ دوبارہ کچھ سال کے بعد حملہ آور ہؤا اور نام نہاد دہشت گردی کا واقعے ١١/٠٩/٢٠٠١کی بنا پر افغانستان پر حملہ کیا جس میں بہت سی جانیں ضائع ہوئیں اب ٢٠ سال بعد ٢٠٢١ میں حالات بدلے اور امریکہ کو بھی یہ احساس ہؤا کہ اب وہ مزید جنگ جاری نہیں رکھ سکتا اس نے فیصلہ کیا ہے کہ ستمبر ٢٠٢١ تک افغانستان سے امریکی فوج کا انخلاء ہوجائےگا لیکن اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑیں گے اور پڑ رہے ہیں مگر وزیراعظم سول اور ملٹری لیڈر شپ کی بہترین حکمت عملی کام دکھا رہی ہے
    اب آتے ہیں پاکستان کی اہمیت کی طرف ماضی میں جو بھی حکومت رہی اس نے صرف اور صرف اپنا مفاد دیکھا نا کہ پاکستان کا زیادہ ماضی میں جائے بغیر اب روشنی ڈالتے ہیں حالیہ سیچوایشن پر اس وقت پاکستان میں ایک مضبوط لیڈر شپ وزیراعظم عمران خان کی شکل میں موجود ہے پچھلے کچھ دنوں امریکہ نے پاکستان پر ماضی کی طرح مرضی کی شرائط لاگو کرنا چاہیں لیکن وزیر اعظم عمران خان نے ہر وہ شرط رد کر دی جو پاکستان کے مفاد میں نہیں تھی یہاں تک کہ امریکی عہدے داران جو وزیر اعظم کے عہدے سے نچلے عہدے کا آفیشل تھا سے بات کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ اگر امریکہ کو مجھ سے بات کرنی ہےتو وہاں کا صدر بات کرے میں وزیر اعظم ہوں پروٹو کول کا خیال رکھا جائےپچھلے دنوں امریکی سیکرٹری بلنکن کا پاکستانی وزیر خارجہ کو فون آیا جس میں دو طرفہ امور اور افغان امن عمل پر بات چیت ہوئی امریکی ٹیلی فون کالز اور ملاقاتیں زیادہ اگر نہیں بھی ہوئیں لیکن امریکہ کو یہ علم ہو چکا ہےکہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کسی بھی حالت میں ایسا قدم نہیں اٹھائے گی جو ریاست پاکستان کے خلاف ہوگا ورنہ اس سے پہلے جب گیارہ ستمبر کو دہشت گردی کا واقعہ ہؤا تو امریکہ نے پاکستان پر ایک فون کر کے یہ پریشر ڈالا کہ

    Are you with us or against us ?

    مطلب کیا آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف یہ بڑا عجیب سا سوال تھا بلکل ایسے جیسے دھمکی ہو یا دھونس مگر آج بہت فرق ہے اب امریکہ کے فون آرہے ہیں تو وہ زرا بہتر انداز میں بات کرتا ہے ایک اور جگہ جب وزیر اعظم سے امریکی چینل نے انٹرویو کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا آپ امریکہ کو اپنےاڈے دیں گے تو اس پر وزیر اعظم نے واضح کہا کہ

    Absolutely Not

    یعنی ہرگز نہیں بلکل نہیں پاکستان کی سر زمین سے افغانستان پر کسی قسم کا کوئی بھی حملہ نہیں ہوگا

    اب آپ فرق دیکھ لیں کہ پاکستان نے اپنی اہمیت خود دکھائی ہے اور یہ ممکن تب ہی ہوتا ہےجب آپ کے پاس ایک مضبوط لیڈرشپ ہواور آپ خود اپنی اہمیت دکھائیں افغانستان امن عمل کے پروسیس میں جتنا اہم کردار پاکستان کا ہےکسی اور کا نہیں یہاں تک کہ افغان طالبان کو بات چیت کی میز پر لانے کے لئے پاکستان ہی نےکوششیں کیں ہیں بدقسمتی سے کچھ سیاسی جماعتیں اسے سیاسی رنگ دے رہی تھیں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ صاحب اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے تمام سیاسی پارٹیوں کو قومی سلامتی کونسل کے ان کیمرہ سیشن میں افغانستان امن عمل کے پروسیس پر بریف کیا اور کہا کہ یہ ریاست پاکستان کامسئلہ ہے دنیائے نقشے پر اس وقت پاکستان کی بہت زیادہ اہمیت ہے امریکہ جیسی سُپرپاور بھی آج پاکستان کی منت سماجت کرتی نظر آتی ہے وزیر اعظم نے یہ بھی صاف کہا کہ

    “We Will Be Your Friend, Not Your Slave’

    یعنی ہم آپ کے دوست بنیں گے لیکن آپ کے غلام نہیں

    یادرکھیں ہمیشہ کے قومیں اس وقت بنتی ہیں جب ایک لیڈر شپ مضبوط اسٹینڈ لیتی ہے آپ کا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا.

    ﷲ تعالیٰ پاکستان کاحامی و ناصر ہو آمین

  • قربانی :تحریر ارم رائے

    قربانی :تحریر ارم رائے

    مسلمانوں کے مذہبی تہواروں میں قربانی کو خاص مقام حاصل ہے۔ پانچ بڑے مذہبی تہوار جن میں "12ربی ال اول” ہے شب برات” ہے "شب معراج” ہے "عید الفطر” ہے اور "عید الاضحیٰ” ہے۔ عید الاضحیٰ جسے قربانی کہتے ہیں۔ ویسے تو ایک قربانی اور بھی تھی جو اج سے 13سو سال پہلے کربلا کے میدان میں دی گئی۔ جس میں دین اسلام کو بچانے کے لیے نواسہ رسول صلی الله والہ وسلم نے اپنے گھرانے کی قربانی دے کر بچایا۔ آج بھی ہم اگر ازان سنتے ہیں یا. اسلام ہمارے پاس اصل شکل میں موجود ہے تو یہ نواسہ رسول صلی الله عليه وسلم کی زندگی اور انکے گھرانے کی قربانی کی وجہ سے ہے۔ ایک تہوار جو ہم ان تکلیفوں کو یاد کرکے مناتے ہیں جو کربلا میں دی گئیں تو دوسری قربانی کو ہم خوشی کے طور پر مناتے ہیں کہ کیسے الله کی راہ میں بیٹا قربان کیا اور الله نے قربانی قبول کی۔زوالحج کے مہنیے میں دس ذوالحج کو قربانی کی جاتی ہے حلال جانور کی۔ اور یہ قربانی یاد دلاتی ہے ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی کی جو انہوں نے الله کی محبت میں الله کی راہ میں اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دی۔ اللہ کی بارگاہ میں وہ قربانی قبول ہوئی ۔ حضرت ابراہیمؑ علیہ السلام کا الله سے عشق مکمل ہوا اور فرمان سے انحراف نا کیا۔ تب سے لے کے اب تک مسلمان اس عظیم قربانی کی یاد میں ہرسال کروڑوں جانور زبح کر کے اس عظیم قربانی کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ قربانی کے لیے کچھ شرائط مقرر کی گئیں۔
    شرائط یہ ہیں۔
    پہلی کہ جانور گھر کا ہو مطلب خود پالا ہو اونٹ گائے بھیڑ بکری وغیرہ۔
    جانور کی پوری ہو جیسے بھیڑ کا بچہ چھ ماہ میں پوری کر لیتا ہے جبکہ بکری ایک سال میں اسی طرح گائے دو سال میں جبکہ اونٹ پانچ سے میں اپنے سامنے والے دو دانت گرا دیتے ہیں۔
    تیسری شرط: عیب سے پاک ہو مثلاً اس کی آنکھ کان ٹانگ پر کوئی واضح ضرب نا ہو یا ٹوٹی نا ہو۔
    چوتھی شرط: ایسا پدائشی لنگڑا جو باقی جانوروں کے ساتھ چل نا سکتا ہو۔
    پانچویں شرط: یعنی بہت لاغر اور کمزور نا ہو۔

    قربانی واجب ہونے کا نصاب وہی ہے جو صدقہ یا فطر کا ہے۔ یعنی جس عاقل، بالغ، مقیم، مسلمان مرد یا عورت کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں، زمہ میں واجب الادا اخراجات ادا کرنے کے بعد اتنا مال ہو یا سامان جسکی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو یا اس سے زائد ہو ان سب پر قربانی کی ادائیگی فرض ہے اور ایسے لوگ زکوٰۃ نہیں لے سکتے۔
    پاکستان میں بھی یہ مذہبی تہوار بہت عقیدت اور محبت سے منایا جاتا ہے کچھ سال پہلے تک یہ اتنا مشکل نہیں تھا کیونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور زراعت سے وابستہ لوگ اپنے گھروں میں اورزمینوں پر جانور پالتے تھے۔ ہر سال کروڑوں روپے کا ریوینیو حاصل ہوتا تھا کئی لوگوں کے روزگار وابستہ تھا۔ لیکن کچھ سالوں سے لائیوسٹاک پر توجہ نہیں دی گئی جسکی وجہ سے جانور نا صرف ضرورت سے کم ہیں بلکہ مہنگے بھی بہت ہے۔ لائیوسٹاک ماہرین کہتے ہیں کہ بہتر حکمت عملی سے دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں حلال جانوروں کی تعداد سترہ کروڑ ہے۔ جس، میں گائیوں کی تعداد 3کروڑ 92لاکھ، بھینسوں کی تعداد 3کروڑ 42 لاکھ بھیڑوں کی تعداد 6کروڑ 80 لاکھ، جبکہ اؤنٹوں کی تعداد 10لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔اس تنادب سے دیکھا جائے تو دودھ کی پیداوار پچاس ہزا ٹن بڑے گوشت 2ہزار ٹن، چھوٹے گوشت مٹن کی تعداد 7ہزار ٹن اور مرغی کے گوشت کی پیدا وار 12 سو ہزار ٹن سے تجاوز کرگئی۔ ماہرین کے مطابق اگر حکومت کی جانب سے فارمرز حضرات اور کاشتکاروں کی اگر مناسب تربیت کی جائے اور جدید ٹیکنالوجی سے استفاده حاصل کیا جائے تو اس میں مزید بہتری لائی جاسکتی ہےاس وقت لائیوسٹاک کا ملک پیداوار میں 12فیصد اور زراعت کا مجموعی طور پر 55فیصد ہے۔پنجاب سمیت ملک کی تقریباً چار کروڑ کے قریب دیہی ابادی لائیوسٹاک سیکٹر سے منسلک ہے۔ جو اپنی روزمرہ کی ضروریات کا 35سے 40 فیصد لائیو سٹاک سے پورا کرتی ہے۔بڑھتی ہوئی ابادی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے ان غذاؤں کی کھپت میں اضافہ ہو لیکن اسے بڑھانے کی طرف توجہ کم ہونے کی وجہ سے ان اشیاء کی قیمتوں میں بے پناہ ضافہ ہوا ہے۔ جو عام لوگوں کی پہنچ سے دور جارہی ہیں اور بکر عید یعنی عید قربان میں ان جانوروں کی قیمت کو پر لگ جاتے ہیں۔ جو کہ متوسط طبقے کے لیے بڑے تکلیف دہ حالات یوجاتے ہیں۔ جو چھوٹا جانور پہلے 10سے 20ہزار میں ملتا تھا وہ اب 25سے 30 تک چلا گیا ہے۔ اور بڑے جانور میں حصہ جو کہ 7ہزار سے 10 ہزار تک تھا وہ 15سے 25 تک کا ہوگیا ہے۔ یوں اس مذہبی تہوار کو منانے کے لیے بھی ہزاروں لوگ محروم رہ جاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کچھ سال پہلے تک لوگوں کے گھروں میں کام کرنے والی ماسیاں بھی اپنی تنخواہ سے پیسہ اکٹھا کر کے قربانی کیا کرتی تھیں اور جو سکون اور طمانیت انکے چہرے پر ہوتی تھی وہ قابل دید ہوتی تھی۔ لیکن اب تنخواہ دار ہو یا چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والا اس کے لیے قربانی کا جانور خریدنا نا قابل برداشت ہوتا جارہا ہے۔یہ مذہبی تہوار مہنگائی کی وجہ سے تکلیف کا باعث بن رہا ہے۔اس لیےحکومت سے درخواست ہے جس طرح باقی انڈسڑیز کو چلایا جارہا ہے ہنگامی بنیادوں پر بلکل اسی طرح لائیوسٹاک پر بھی توجہ دی جائے۔ تاکہ لوگوں کا روزگار اس سے وابستہ ہو، لوگوں کو خالص غذا ملے اور پاکستان بھی ایکسپورٹ کرنے والے ممالک میں شامل ہو۔ اور یہ مذہبی تہوار اسی جوش و جذبے سے منا سکیں جیسے پہلے منایا کرتے تھے۔
    جزاک الله

  • پونے: دلہن کی گاڑی کے بونٹ پر بیٹھ کر شادی میں انٹری ، ویڈیو وائرل

    پونے: دلہن کی گاڑی کے بونٹ پر بیٹھ کر شادی میں انٹری ، ویڈیو وائرل

    بھارتی شہر پونے میں دلہن نے گاڑی کے بونٹ پر بیٹھ کر شادی کے مقام پر انٹری کی-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بہت وائرل ہورہی ہے جس میں 23 سالہ دلہن کو عروسی لباس پہنے شادی کی تقریب کے مقام پر گاڑی کے اندر بیٹھ کر جانے کے بجائے بونٹ پر بیٹھ کر جاتے دیکھا جاسکتا ہے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد دلہن سمیت دلہن کے رشتے دار بھی مشکل میں پڑگئے۔

    بھارتی پولیس کی جانب سے دلہن اور اس کے رشتے داروں کے خلاف موٹر وہیکل ایکٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کرلیا جبکہ مقدمے میں کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں جس کے تحت دلہن سمیت رشتے داروں نے بھی ماسک نہیں لگایا ہوا-

  • بحیثیت پاکستانی ہمارے فرائض.تحریر : علی حسن

    بحیثیت پاکستانی ہمارے فرائض.تحریر : علی حسن

    ہمارے وطن عزیز پاکستان کے حالات ناقابل یقین مراحل میں ہیں. اس کی بنیادی وجہ ہم سب جانتے ہیں ایک تو ہمارے سیاست دان ملک کو لوٹتے رہے ہیں اور دوسرا بحیثیت قوم ہماری تربیت نا ہو سکی.
    قومیں کس طرح ترقی کرتی ہیں یہ شعور آنا بہت ضروری ہے.
    ہر کوئی صرف خود کو بنانے کے لیے دوسرے کو نقصان پہنچا رہا ہے.
    رشوت خوری، ٹیکس چوری اور ذخیرہ اندوزی کر کہ مہنگائی کو پروان چڑھانا سنگین جرائم ہیں بد قسمتی سے حکومتیں ان جرائم پر قابو نا پا سکیں.

    ہمارا ملک ہمارے گھر کی مانند ہے اور ہمارے ملک کی عوام گھر کے افراد کی مانند ہیں. جب ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو نقصان پہنچانے کی بجائے فائدہ دینے کی کوشش کریں گے تو ہم ایک عظیم قوم بن جائیں گے ہمارا مقابلہ کوئی نہیں کر سکے گا.

    جس طرح اپنے گھر کو بنانے کے لیے محنت کی جاتی ہے اسی طرح پاکستان کو دنیا کی سپر پاور بنانے کے لیے کام کرنا ہو گا.
    ملک کی ترقی کا دارومدار ملک کی آمدنی پر ہے.
    سرمایہ دار لوگوں کا بہت اہم کردار ہوتا ہے ملک کی تعمیر و ترقی میں.
    سرمایہ دار لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک میں کاروبار کرنے کو ترجیح دیں نا کہ باہر کے ممالک میں.
    پاکستان میں کاروبار سے لوگوں کو روزگار ملے گا غربت کا خاتمہ ہو گا. ملک کی آمدنی بڑھے گی.

    ہر شعبے کے افراد کو چاہیے کہ پاکستان کی ترقی میں انفرادی طور پر اپنا حصہ ضرور شامل کریں.
    ہمارے ملک کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے سرکاری ملازمین غریب شہریوں سے رشوت وصول کر رہے ہیں، تاجر حضرات غیر قانونی منافع لے رہے ہیں، وکلاء کی بہت بڑی تعداد بھی عام آدمی کو انصاف فراہم نہیں کر پا رہی.

    ہم اپنا کردار کس طرح ادا کر سکتے ہیں؟
    ہمارا تعلق جس بھی شعبے سے ہو مثلاً ڈاکٹر، وکیل، ٹیچر، دکاندار، فیکٹری مالک اور باقی تمام شعبے،
    پولیس شہریوں کی مدد کرے نا کہ رشوت لے، ڈاکٹرز غریب لوگوں کا علاج کچھ کم پیسوں میں کر دیں، وکلاء عام آدمی کے لئے انصاف کی فراہمی کی کوشش کریں، تاجر حضرات غیر قانونی منافع نا لیں لوگوں کو مناسب دام میں اشیاء فروخت کریں ، فیکٹری مالکان اپنے ورکرز کی تنخواہوں کا خاص خیال رکھیں.

    ہر ایک طبقے کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک کی ترقی کے لئے اپنے ملک کی عوام کو سکون اور راحت پہنچائے تاکہ عام آدمی بھی اپنی زندگی بدلنے کی طرف جا سکے.

    ہمیں غریب عوام کا بہت زیادہ احساس کرنا ہو گا. غریب لوگوں کو عزت والی زندگی میسر آنی چاہیے جو بیچارے اپنی بیٹی کی شادی کے وقت پریشان، کوئی بیماری آ جائے تو پریشان اور کوئی معمولی سی پریشانی بھی ان کے لیے پہاڑ بن جاتی ہے.

    عام آدمی کو اٹھنے کا موقع ملے گا تو ملک ترقی کرے گا اس طرح کے نظام میں امیر امیر تر ہوتا چلا جا رہا ہے اور غریب غریب تر.

  • ٹک ٹاک سنیپ چیٹ اور نوجوان نسل .تحریر: ڈاکٹر نبیل چوہدری

    ٹک ٹاک سنیپ چیٹ اور نوجوان نسل .تحریر: ڈاکٹر نبیل چوہدری

    ٹک ٹاک سنیپ چیٹ ایک ایپ ہے، جو آج کل پاکستانی نوجوانوں اور بچوں میں بہت مقبول ہورہی۔ بچے اس کو مفت ڈاؤن لوڈ کرتے اور اس کے بعد ان کی مرضی ہے کہ وہ جو چاہیے اس میں کریں، گانے پر لب ہلائیں یا رقص کریں یا کسی ڈائیلاگ کو بول کر اپنی ویڈیو زریکارڈ کریں یا کسی کی ویڈیو پر جوابی ویڈیو بنائیں۔ دوسری طرف ان بچوں کے والدین کو پتا بھی نہیں ہوتا کہ ان کے بچے کس خرافات میں پڑھ چکے۔ آج کل کے ماں باپ بچوں کی ضد کے آگے ہار جاتے، انہیں موبائل خرید دیتے ہیں، ٹیب، لیپ ٹاپ و دیگر الیکٹرانک گیجٹس بچوں کے پاس موجود ہیں اور ان کے گھروں میں 24 گھنٹے انٹر نیٹ چل رہا ہوتا ہے۔ بچے اپنے کمروں میں کیا کررہے؟ ان کے اکثروالدین کو معلوم نہیں ہوتا، کیونکہ اکثر بچوں کے ماں باپ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ وغیرہ استعمال نہیں کرتے اس بات کا فائدہ بچے اٹھاتے اور وہ اپنی من مانی کرنا شروع کردیتے اور ان چیزوں کی طرف چلے جاتے، جو آگے چل کر ان کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتی۔

    ان ایپس پر بچے بچیاں تیار ہوکر کسی گانے پر رقص کرتے اس کو اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر پوسٹ کرتے ، تو اس پر ایسے ایسے کمنٹس آتے کہ اگر بچوں کے والدین اس کو پڑھ لیں تو ان کو پھر کبھی موبائل استعمال نہ کرنے دیں۔ ٹک ٹاک پر کوئی بچوں کے حسن کو سراہتا، تو کوئی ان کو اپنا فون نمبر دے رہا ہوتا، کوئی ان کو اپنے ساتھ گھومنے پھرنے کی پیشکش کررہا ہوتا۔ یوں ان ایپس پر بچے اجنبیوں کے ساتھ رابطے میں آجاتے۔ پہلے تو سب اچھا اچھا رہتا ہے، کیونکہ یہ اجنبی بچوں کو پیسے اور تحفے دیگراپنے قریب لے آتے، بعد میں یہ جرائم پیشہ افراد، بچوں کو پھانس لیتے اوران کو بلیک میل کرتے۔ ان کی ویڈیوز تصاویر بنا کر پیسوں کی ڈیمانڈ کرتے۔ یوں بچے اپنے ہی گھر میں چوریاں کرنے پر مجبور ہوجاتے۔ کچھ کیسز میں بچے جنسی تشدد کاشکار بھی ہوجاتے اور بات خود کشی تک پہنچ جاتی۔ اس حوالے سے جب تک ماں باپ کی آنکھیں کھلتی، تب تک ان کے بچے کی زندگی تباہ ہوچکی ہوتی ہے۔

    میں قدامت پسند نہیں، آرٹ و کلچر کو پسند کرتا ہوں، لیکن آپ سے سوال کہ کیا آپ پسند کریں گے کہ کوئی بھی معصوم بچہ اور بچی سڑک پر رقص کرے اور لوگ اس پر ذومعنی جملے کسیں؟ اس کو مختلف نا زیبا پیشکشیں کریں؟ ہرگز نہیں، کسی کی بھی خواہش نہیں ہو سکتی کہ اس کا بچہ پڑھنے لکھنے کے بعد اپنے لئے کسی ایسے نامناسب شعبے کا انتخاب کرے، اگر بچہ آرٹ و کلچر، رقص یا شوبز میں بھی آنا چاہتا ہوتو بالغ ہونے کے بعد آئے۔ اس سے پہلے والدین اس کو تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے کہتے۔ اب، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کم عمر بچے بچیوں کی بہت بڑی تعداد ان ایپس پر موجود ہے، جو اپنی معصومیت یا شوبز کی چکا چوند سے متاثر ہوکر یہاں آتے اور جب وہ اپنی ویڈیوز اپ لوڈ کرتے ہیں تو وہ پبلک کے ہاتھ لگ جاتی ہیں۔ اب، یہ ان کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ ان کی ویڈیوز کا استعمال کس طرح سے کرتے۔ معصوم بچے بچیوں کی ویڈیوز مختلف فورمز پر فحش کیپشنز کے ساتھ پھیلا دی جاتی، ان کو گالیاں دی جاتی ہیں، ان کی کردار کشی کی جاتی۔ یوں بہت سے بچے سوشل میڈیا پر منفی مہم کا نشانہ بن جاتے

    فالورز کی تعداد بڑھانے کی خواھش، ہیرویا ہیروین بننے کی چاھت، بچوں کے مستقبل کو تباہ کردیتی۔ وہ سارا دن فون استعمال کرتے رہتے اور نہ کھاتے پیتے، نہ آرام کرتے اور نہ ہی اپنی پڑھائی پر بھرپور توجہ دیتے۔ والدین شروع میں اس ایپ کے نقصانات سمجھ نھیں پاتے، لیکن جب ان کے بچوں کی ویڈیوز منفی انداز میں پھیل کر فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر ہر شخص کے پاس پہنچ جاتی، تو ان کو اندازہ ہوتا کہ ان کابچہ کتنی بڑی مصیبت میں پھنس چکا

    ان ایپلیکیشنز پر ایک اور طبقہ بھی پایا جاتا، جو اپنے نمبرز ویڈیوز ساتھ پوسٹ کرتا۔ پہلے یہ کام رات کے اندھیروں میں ہوتا۔ اب، کھلے عام گاہک ٹک ٹاک کے ذریعے سے ان لوگوں تک پہنچ جاتے لڑکے لڑکیاں جان بوجھ کر اپنے جسموں کی نمائش کرتے، تاکہ پیسے کماسکیں۔ یہ ایک بہت گھٹیا عمل جس سے فحاشی و عریانی مزید پھیل رہی اس کے ساتھ ساتھ یہ ویڈیوز دوسری سوشل میڈیا ایپلیکیشن پر پہنچتی اور یہ یوں یہ برائی مزید پھیلتی۔ ہمیں اس برائی کو روکنا ہوگا، لیکن یہ دیکھا گیاہے کہ بہت سے متنازع کرداروں کی رسائی تو طاقت کے ایوانوں تک ہے۔ اس میں دو ٹک ٹاکرز نے مبینہ طور پر معروف افراد کو بدنام کیا۔

    یاد رکھیں فحش گوئی ذومعنی جملے جسم کی نمائش آرٹ اور کلچر میں نہیں آتا۔ ہمیں اس وقت ڈراما سیریلز؛ ایلفا براوو چارلی، سنہرے دن، دھواں، خدا زمین سے گیا نہیں ہے، عہد وفا اور فصلِ جاں سے آگے جیسے معلوماتی و تفریحی ڈراموں کی ضرورت ہے۔ جو کچھ ٹک ٹاک پر ہورہا ہے، وہ فن و ثقافت اور تفریح کے زمرے میں نہیں آتا۔ اس آرٹیکل کے لیے جب میں نے ٹک ٹاک سنیپ چیٹ پر ریسرچ کی تو سر شرم سے جھک گیا کہ ہماری نوجوان نسل چھوٹے کپڑوں ذومعنی گفتگو اور ہیجان آمیز گانوں پر رقص کررہی یہ نئی نسل اسلامی تعلیمات اور نظریہ ٔپاکستان سے بہت دور جاچکی ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ ہمیں نئی نسل کو پاکستان کی ثقافت اور مذہب کے حوالے سے آگہی دینا ہوگی۔

    بچوں اور نئی نسل کیلئے ڈرامے اور فلمیں بنائی جائیں۔ ان کیلئے یوٹیوب، انسٹاگرام، ٹویٹر فیس بک پر تہذیب و اصلاح پر مبنی ڈاکیومینٹریز ویڈیوز نشر کی جائیں اور یہ کام وزراتِ اطلاعات و نشریات، پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان بخوبی کرسکتے ہیں اور امید ھے فواد چوھدری اس پر عمل ضرور با ضرور کرینگے ان ایپلیکیشنز کو بین کرنا مسئلے کا حل نھیں انکو ریگولیٹ کرنا ان میں جو خرافات ھیں انکو دور کرنا ضروری ھی نھیں مجبوری بن چکا

  • ‏افغانستان اور طالبان کا مستقبل .تحریر:محمد عادل حسین

    ‏افغانستان اور طالبان کا مستقبل .تحریر:محمد عادل حسین

    افغانستان سے امریکہ کا انخلاء کئی سوالات چھوڑ کر جا رہا ہے
    امریکا نےافغانستان سے انخلاء کا مختلف ٹائم فریم دیا پہلے 11 ستمبر 2021 پھر 14جولائی 2021 کی اور ایک کانفرنس میں اگست سے پہلے پہلے انخلاء مگر ان سب پہلے ہی نکل گیا۔
    امریکہ نے افغان جنگ میں کھربوں ڈالڑ کانقصان کیا وہاں وسط ایشائی ممالک خصوصا پاکستان نے بھی کافی معاشی نقصان اٹھایا ۔

    ایک پریس کانفرنس میں امریکی صدر واضح کہہ چکے ہم کامیاب نہیں ہوۓ مگر مشن اس دن مکمل ہوگیا تھا جب اسامہ بن لادن کو شہید کیا اور امریکہ کی دونسلیں اس جنگ میں لڑی اب ہم اگلی نسل کو بھی اس شکار نہیں بنائیں گے۔ افغان مستقبل کے بارے بھی کہا امریکہ ان سے مکمل تعاون جاری رکھا گا۔

    امریکہ ایک طرف اپنی ہار بھی مان رہا ہے اور جب اپنا آخری کیمپ بلگرام ائیر بیس خالی کیا تو جہاں اشیاۓ خورد نوش چھوڑ گیا وہاں جنگی سازوسامان گاڑیاں کافی مقدار اسلحہ اور پانچ ہزار طالبان جو وہاں قید تھے ان کو بھی رہا کر گیا وہ اسلحہ ساتھ نہیں لیجاسکتا تھا مگر اس کو خاکستر یاپھر افغان فورسز کے سپرد بھی کر سکتا تھا صاف ظاہرہے کہ وہ یہ سب جان بوجھ کے کرکے گیا یہ سب اور پھراشرف غنی کااچانک اپنی فیمیلی اور عزیز و اقربا کے ہمراء غائب ہوجانا افغان فورسز کے اہکاروں کا استعفے دینا اور طالبان کے ساتھ مل جانا۔

    دوسری طرف انڈیا کو اپنی فکر ہونے لگی افغانستان میں اس کے بناۓ گے ڈیم پر طالبان نے قبضہ کرلیا اس نے پنے بچاؤ کیلۓ افغان فورسز کو جنگی سازوسامان کاایک جہاز بھیج دیا ساتھ میں بھارتی میڈیا پہ یہ پرپیگنڈہ بھی جاری ہے کہ افغانستان میں طالبان کے علاوہ لشکرطیبہ اور جیش محمد بھی موجود ہیں اورفغانستان میں طالبان اور لشکر طیبہ کا اتحاد ہوگیا ہے افغانستان میں میں لشکر طیبہ کے 8000 مجاہدین موجود ہیں لشکر طیبہ اور جیش محمد افغان مجاہدین کے ساتھ مل کر جنگ لڑ رہے ہیں
    اب بات افغانستان تک نہیں رکے گی جموں کشمیر پر بھی مجاہدین کے مضبوط ہونے کی سائے منڈلا رہے ہیں اور کشمیر ہاتھ سے جاتادکھائی دے رہا ہےتھا اسی لیۓ پری پلین گیم ہے کہ

    ایک طرف امریکہ اسلحہ طالبان کیلۓ چھوڑ گیا اوردوسری طرف بھارت کافورسز سے خیر خواہی اصل میں فورسز اور طالبان کو لڑانااور افغانستان کو خانہ جنگی کی طرف جھونکنے کا اشارہ ہے کہ طالبان یہیں مصروف رہیں کہیں ہماری طرف نہ آجائیں

    کیا پاکستان ان سب سے محفوظ رہ سکے گا اگرچہ وزیراعظم عمران خان کئی بار کہہ چکے کہ” ہم کسی پرائی جنگ کاحصہ نہیں بنے گے ” یااس کے اثرات ہم پر بھی مرتب ہونگے اگر مرتب ہوۓ تو نتیجہ کیا نکلے گا۔