Baaghi TV

Category: متفرق

  • کیا بھروسہ ہے زندگانی کا …. فرحان شبیر

    کیا بھروسہ ہے زندگانی کا …. فرحان شبیر

    کیا بھروسہ ہے زندگانی کا
    آدمی بلبلہ ہے پانی کا
    ” ہم سب رنگ منج کی کٹھ پتلیاں ہیں عالم پناہ ، جنکی ڈور اوپر والے کے ہاتھوں میں ہے کب کسکا کردار ختم ہوجائے کوئی نہیں جانتا ۔ ہا۔۔ہا۔۔ہا۔۔۔ہا۔۔۔ہا۔۔۔”
    اگر آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں تو اسکا مطلب یہ ہے کہ آپ ابھی زندہ ہیں آپکا دل دھڑک رہا ہے اور اعضاء بھی کام کر رہے ہیں ۔ دل اس لئیے دھڑک رہا ہے کہ خون کو سارے جسم میں گھمادے تاکہ خون میں موجود ہیموگلوبین کے ذریعے پھیپھڑوں سے آکسیجن کو جسم کے ایک ایک مسام تک پہنچا دے اور کاربن ڈائی آکسائڈ کو جسم کے ایک ایک مسام سے پکڑ کر پھیپھڑوں کے ہی راستے واپس باہر فضا میں خارج کرا دے ۔ حضرت انسان کے سانس لینے کا یہ عمل جب تک رواں رہتا ہے انسان زندہ رہتا ہے سانسوں کی مالا ٹوٹتے ہی زندگی کی ڈور بھی ٹوٹ جاتی ہے ۔ ہم کھانے کے بغیر تقریبا 30 دن ، پانی کے بغیر تین سے چھ دن تک زندہ رہ سکتے ہیں لیکن آکسیجن کے بغیر چند منٹ سے زیادہ بھی نہیں گذار سکتے ۔ اور یہ ایسی حقیقت ہے جو ہم سب اچھی طرح سے جانتے ہیں ۔

    دو ارب سال پہلے زمین پر آکیسجن کا آج کی طرح گیس کی صورت علیحدہ سے کوئی وجود نہیں ہوتا تھا یہ مرکب یعنی Compound form میں پائی جاتی تھی ۔ جیسے پانی میں ( H2O ) یا کاربن ڈائی آکسائیڈ ( CO2) . یہ تو اس وقت پیدا ہونے والے سائینو بیکٹیریاز کا احسان کے انہوں نے سمندروں سے لیکر پہاڑوں تک اپنی آبادیوں کو پھیلایا اور کاربن ڈائی اکسائیڈ کو اپنے اندر لے کر آکسیجن بناتے چلے گئے اور یہ سلسلہ آنے وال دو چار سال نہیں بلکہ اگلے 150 کروڑ سالوں تک اسی طرح نان اسٹاپ چلتا رہا ۔ ہر سائینو بیکٹیریاتا یہی کام کرتا رہا ۔ وہ جنم لیتا تھا اپنے حصے کی CO2 کو آکسیجن O2 میں تبدیل کرکے ختم ہوجاتا تھا ۔ یہ انہی سائینو بیکٹیریاز کی سانسیں لے کر چھوڑی ہوئی آکسیجن ہے جو آج ہماری زندگی کی بنیاد ہے جس کے بغیر ہماری زندگی کا کوئی تصور ہی نہیں ہے ۔

    دو ارب سال پہلے زمین پر حیات ، زندگی یا life بہت ہی اممیچیور فارم یعنی اپنی ابتدائی حالت میں تھی یعنی اس وقت life یونی سیکولر سیل اور تھوڑے بہت ملٹی سیکولر سیل کی سطح تک ہی پہنچی تھی ۔آسان الفاظ میں دو ارب سال پہلے زمین پر چاروں طرف جہاں کہیں بھی زندگی تھی تو وہ صرف بیکٹیریاز کے ہی پیکر میں پائی جاتی تھی ۔ ان بیکٹیریاز میں سب سے زیادہ تعداد جس مخصوص بیکٹیریا کی تھی اسے سائینس کی دنیا نے سائینو بیکٹیریا کا نام دیا ہے ۔

    یہ سائینو بیکٹیریا 13 ارب سال پہلے وجود میں آنے والی اس کائنات میں life یعنی حیات نامی سپر ڈوپر ہٹ فلم کا بڑا ہی اہم اور بڑا ہی خاموش سا کردار رہا ہے خدا کی اس کائنات میں اس سیارہ زمین پر دو ارب سال پہلے جنم لینے والے اس سائینو بیکٹیریا نے وہ کام کیا جس پر ہم انسانوں کو اسکا شکر گذار ہونا چاہئیے ۔ کیونکہ یہ سائنو بیکٹریا اس وقت کی فضا پر چھائی زندگی کے لئیے نقصان دہ گیس کاربن ڈائی آکسائڈ کو inhale کرکے آکسیجن کو ریلیز کرتا تھا اور آج ہمارے اردگرد کی فضا میں موجود آکسیجن O2 اسی ننھے سے نہ نظر آنے والے سائنو بیکٹیریا کے کروڑ ہا کروڑ سالوں تک اسی طرح سانس لینے کا نتیجہ ہے ۔

    آپ بھی سوچ رہے ہونگے کہ بات شروع کہاں سے کی تھی اور کہاں پہنچ گئی لیکن ذرا تصور کریں اگر میں اور آپ بھی ایسے ہی کوئی سائینو بیکٹریا ہوتے جو اس کائنات میں صرف اتنا ہی کردار ادا کرتے کہ اپنے حصے کی کچھ کاربن ڈائی آکسائڈ وصول کرتے اسکو آکسیجن میں کنورٹ کرتے اور کچھ ہی منٹوں کی زندگی گذار کر اس جہان فانی سے کوچ کرجاتے تو کیا ہمیں اپنی وہ ننھی سی زندگی بے مقصد اور ب کار نا لگتی ۔ کیا ہم اپنے اس وقت کے بیکیریائی شعور کی سطح پر اپنے اس چھوٹے سے کردار کو اس بڑی ساری کائنات کے گرینڈ ڈیزائن میں کبھی سمجھ بھی پاتے ؟ کیا ہمیں اندازہ بھی ہو سکتا تھا کہ ہمارے ہی سانس لینے سے پیدا ہونے والی آکسیجن ڈیڑھ سو سے دو ارب سالوں کے ایک طویل ترین عرصے بعد اتنی اہمیت کی حامل ہوجائیگی کہ زمین پر پائے جانے والے ہر جاندار کے لئیے لازم و ملزوم ہوجائے ۔

    وہ بیکٹیریا اتنا شعور نہیں رکھتا تھا کہ یہ ساری باتیں سوچتا لیکن ہم انسان تو شعور رکھتے ہیں ہمیں سمجھنا ہوگا کہ اس سائنو بیکٹیریا کی طرح ہم بھی شاید اپنے شعور کی موجودہ سطح پر اس وقت خدا کی اس کائنات میں اپنا کردار شاید سمجھ نہیں پائیں اور کائنات کے اس گرینڈ ڈیزائن میں ہم انسانوں کا کردار بھی ہمارے شعور کی موجودہ سطح سے کچھ اوپر کی چیز ہو ۔ فرق صرف یہ ہے کائنات کی ہر شے خدا کی طرف سے اسے دی گئی پروگرامنگ پر چلنے پر پابند ہے جب کہ ہم انسانوں کو خدا نے اختیار و ارادہ کی دولت سے مالا مال کیا ہے۔

    اب یہ ہم انسانوں پر ہے کہ ہم اس کائنات اور اس زمین پر اپنی کیسی چھاپ چھوڑ کر جاتے ہیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو کیسے رنگ میں دیکھنا چاہتے ہیں ۔ یہ تو خدا ہی جانے کہ کس کے اعمال اسے حیات ابدی دلاتے ہیں اور کس کے اعمال اسکے لئیے ابدی خسارے کا سبب بنتے ہیں لیکن جینٹیکس سے لیکر سائیکالوجی تک کے علوم یہ بتاتے ہیں کہ ہر انسانی بچہ اپنی پشت پر کچھ وراثتی اثرات کا بوجھ لاد کر لاتا ہے جس میں اسکے Genes جینز کا بہت اہم کردار ہوتا ہے اور وہ زندگی کے اکثر و بیشتر فیصلے انہی جینیاتی اور وراثتی اثرات کے تابع رہ کر کرتا ہے جیسے باپ جیسا غصہ رکھنا ، مجرمانہ ذہنیت یا مثبت سوچ ، حتی کہ شوگر اور اس جیسی کئی بیماریاں نسلوں تک منتقل ہوتی چلی جاتی ہیں ۔

    خدا ہر ماں اور باپ کو یہ اعزاز دیتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کی ایسی پرورش کریں کہ انکی آنے والی نسلیں انسانوں کو فائدہ پہنچائیں ۔ اور اسکے لئیے کوئی بہت مشہور یا بڑا آدمی بننا ہی ضروری نہیں بلکہ ایک اچھا انسان بننا ضروری ہے ۔ ہر باپ اپنی اولاد کا پہلا ہیرو اور پہلا آئیڈیل ہوتا ہے ۔ آپ کےاچھے برے اعمال اور فیصلے نہ صرف آپکی اولادبلکہ آنے والی نسلوں اور قوموں تک متاثر کرسکتاہے ۔ کسے پتہ کہ کسی ان پڑھ کا اپنے خون جگر سے بچوں کو تعلیم دلوانا بعد میں اسکی نسل میں کسی آئن اسٹائن کی پیدائش کا سبب بن جائے ۔

    میرے والد بچپن میں ہی یتیم ہوگئے تھے لیکن انہوں نے اپنی یتیمی کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا اپنے پیروں پر بہت جلد ہی کھڑے ہوگئے خود تو پڑھ لکھ نہیں پائے لیکن مجھے انہوں ماسٹرز تک تعلیم دلائی اور اس طرح اپنی برسوں سے چلی آرہی فیملی Tree کے Gene میں تعلیم کا ٹانکا لگا کر اور اپنے اچھے کردار و عمل سے ہماری اچھی نگہداشت اور پرورش کرکے اپنی آنے والی نسلوں کے Genes کو آپ گریڈ کر گئے ۔ ہمارے باپ کا اتنا ہی احسان کم نہیں کہ اس نے ہمیں اچھے برے کی تمیز صرف الفاظ سے نہیں اپنے عمل سے بھی دکھائی ۔ مجھے یقین ہے کہ خدا نے جو کام بحیثیت انسان انکے حوالے کیا تھا وہ انہوں نے بخوبی پورا کیا ۔ آج وہ اپنے رب کے پاس خوش و خرم ہونگے ۔

    زندگانی تھی تیری مہتاب سے تابندہ تر
    خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر
    مثل ایوان سحر، مرقد فروزاں ہو تیرا
    نور سے معمور یہ خاکی شبستان ہو تیرا
    آسماں تیری لحد پے شبنم افشانی کرے
    سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

  • خوشحال پاکستان، مگر کیسے؟ ؟؟ محمد عبداللہ گِل

    خوشحال پاکستان، مگر کیسے؟ ؟؟ محمد عبداللہ گِل

    "خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں ”
    یہ ایک نہایت ہی اہم مقولہ ہے اس میں فرد کی ترقی سے لے کر قوم کی ترقی تک کا راز مضمر ہے ۔ ایک قوم کی ترقی شخصی ترقی پر منحصر ہوتی ہے ۔ایک قوم اس وقت ترقی یافتہ ہوتی ہے جب اس کی عوام پرجوش ،باشعور اور باکردار ہوتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ عوام جذبہ کے ساتھ بغیر کسی انعام و اکرام کے لالچ سے محنت کرتے ہیں تو قوم ترقی یافتہ بن جاتی ہے۔ پاکستان جو کہ اسلامی ملک ہے اس میں قانون اسلام کا ہے ۔ 14 اگست1947ء کو معرض وجود میں آیا ۔اگر تاریخ پاکستان کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے سب سے پہلا کام قیام پاکستان سے پہلے قائد اعظم محمد علی جناح نے ہر فرد کی کردار سازی کی پھر 1940ء کو قرارداد پاکستان پیش کی ۔پھر سات سال ہی میں آزادی مل گئی۔پاکستان بننے کے بعد مختلف حکومتیں آئیں ۔سیاست کی گئی۔پاکستان ترقی یافتہ اس لیے نہیں کہ یہاں حکمران اچھے نہیں آئے یہ عموما سمجھا جاتا ہے ۔لیکن ایسا ہرگز نہیں عوام جیسی ہوتی ہے ویسا ہی حکمران ان ہر حکومت کرتا ہے۔حکمران انھی عوام میں سے ہوتے ہیں مریخ سے تو نہیں آتے۔پاکستان ترقی یافتہ اس لیے نہیں کہ ہماری عوام کو شعور ہی نہیں ۔ہمارے اندر سے "اپنی مدد آپ” کا جذبہ اٹھ گیا ہے ۔اپنی مدد آپ وہ اصول ہے اگر ایک شخص اس کو اپنا لے تو وہ ترقی یافتہ بن جاتا ہے اور اگر قوم کی قوم اس کو اپنا لے تو قوم ترقی یافتہ بن جاتی ہے۔ پاکستان کا غیر ترقی یافتہ ہونے میں جدھر تک حکمرانوں کی بے بسی شامل ہے اتنا ہی قصور عوام کا ہے ہماری عوام میں قومی حمیّت رفع دفع ہو چکی ہے ۔آج مملکت پاکستان میں عوام یہ تو کہتی ہیں کہ فلاں حکمران کرپشن کرتا ہے جس کی وجہ سے ہم معاشی بدحالی کا شکار ہے ۔یہ بالکل صحیح ہے لیکن عوام خود کو نہیں جانچتے کہ آج ایک ریڑھی والے کو دیکھا جائے تو وہ پھل دیتا ہے اور چپکے سے صحیح پھلوں کے ساتھ خراب پھل بھی ڈال دیتا ہے ۔یہ بھی کرپشن ہے ۔اسی طرح چھوٹے ملازم چپڑاسی سے لے کر پارلیمنٹ میں بیٹھے حکمران تک سب کرپشن کرتے ہیں ۔اس کے علاوہ پاکستان کی معاشی بدحالی کے باعث حکمران بے بس ہیں وہ دوسرے ملکوں سے قرض لیتے ہیں تو عالمی اداروں کی مشکل شرائط ماننے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
    قومی ترقی کی تعریف سر سید احمد خان نے یوں کی :-
    "قومی ترقی شخصی ترقی،شخصی محنت ،شخصی خودارادیت ،شخصی صلاحیت کا مجموعہ ہے ”
    اسی طرح قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے :-
    "انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کے لیے وہ کوشش کرتا ہے ”
    اگر قرآن کی اس آیت پر غور کیا جائے تو واضح ہے کہ اگر پاکستانی قوم اپنی ترقی کے لیے کوشش کرے تو انھیں یہ ترقی ضرور ملے گی ۔آج ہم نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا اور پستی کی طرف چلے گئے۔
    حکمران کی ذمہ داری ہوتی کہ وہ عوام کا جذبہ بڑھائیں۔ عوام کو ملکی ترقی کی طرف راغب کریں ۔لیکن ہمارے ہاں تو حکمرانی کا دستور ہی کچھ اور ہے ۔سیاستدان عوام کی کردار سازی کی طرف توجہ بالکل ختم کر چکے ہیں ۔اگر پاکستان ترقی کی طرف گامزن ہو گا تو اسی وقت کہ پہلے عوام کی کردار سازی کی جائے ان کو ملکی ترقی میں حصہ لینے کے لیے آمادہ کیا جائے اس کے بعد سیاستدان اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تو ملک پاکستان ترقی یافتہ ملک بن جائے گا۔ حکمرانوں سے لے کر عوام تک سب کو جذبہ "اپنی مدد آپ” کے تحت کام کرنا چاہیے۔ اور پوری قوم کو متحد ہو جانا چاہیے یہ سیاسی انتقامات چھوڑ دینے چاہئیں۔ اسی طرح آج مسلمانان پاکستان کو چاہیے کہ تفرقہ بازی سے باز آ جائیں۔ اور ہر قسم کی تفریق اور گروہ بندی سے دور رہیں۔ تو ملک ترقی یافتہ بن جائے گا ۔
    اے میرے عزیز ہم وطنو! ہمیں ملک کی ترقی کے لیے تگ و دو شروع کر دینی چاہیے۔ بہت سی اقوام ہمارے بعد وجود میں آئیں اور آج ہم سے آگے ہیں۔ ہمیں پرعزم ہو کر دلجمعی سے متحد ہو کر یکسوئی سے عمل کی ضرورت ہے یقیناً جلد ہی ہم ترقی یافتہ اقوام میں سر فہرست ہوں گے۔

  • پی ٹی ایم  تحریک طالبان پاکستان کے طرز عمل پر… غنی محمود

    پی ٹی ایم تحریک طالبان پاکستان کے طرز عمل پر… غنی محمود

    پشتون تحفظ موومنٹ PTM کی بنیاد 2014 میں تحریک طالبان پاکستان TTP کی ناکامی کے بعد رکھی گئی جو کہ درحقیقت TTP کا سیاسی ونگ ہے اس تنظیم کا لیڈر منظور محسود جو کہ اب منظور پشتین کے نام سے مشہور ہے TTP کے ٹاپ کمانڈر قاری محسن محسود کا سگا بھائی ہے اور خود بھی TTP کا سر گرم کارکن رہ چکا ہے اس تنظیم کی مشہوری جنوری 2018 میں بدنام زمانہ سندھ پولیس کے ایس ایس پی راءو انوار کے ہاتھوں بیگناہ نقیب اللہ معسود کی ماورائے آئین و عدالت شہادت سے ہوئی اس سے پہلے لوگ اس تنظیم سے اتنے زیادہ واقف نا تھے یوں تو اس ٹولے کا ایجنڈہ لاپتہ افراد کی بازیابی شمالی وزیرستان سے فوجی چیک پوسٹوں کا خاتمہ ہے مگر آہستہ آہستہ ان کے منشور میں شامل پاکستان مخالف ایجنڈہ بھی سامنے آنے لگا جس میں کئی بار ان کے کارکنان ناجائز اسلحہ،منشیات اسمگلنگ اور افغانی خود کش بمباروں کی معاونت میں پکڑے گئے اور یوں ان پر ریاست پاکستان کے ساتھ غداری کے جرم میں مقدمات بھی بنتے رہے ان کا پاک فوج کے خلاف نعرہ ،یہ میجر ،کرنل ،جنرل سب بیغیرت بھی شدت اختیار کرتا چلا گیا جسے پاک فوج کے جوان اور افسران برداشت کرتے چلے گئے ایسے ہی مقدمات میں ملوث کارکنان کو چھروانے کی خاطر اور لوگوں میں پاک فوج کے خلاف نفرت پیدا کرنے کیلئے 26 مئی 2019 صبح تقریبا 10 سے گیارہ بجے کے درمیان پشتون تحفظ موومنٹ کے شدت پسند جھتے جس کی قیادت محسن داور ایم این اے NA 48 اور علی وزیر ایم این اے NA 50 لیڈران تنظیم ہذہ کر رہے تھے اور اس جتھے میں بیسیوں کارکنان ساتھ تھے ان لوگوں نے خر کام چیک پوسٹ بویا شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے خلاف نفرت انگیز نعرے بازی کی اور پوسٹ پر موجود اہلکاروں سے بدتمیزی بھی کی تاہم سیکیورٹی فورسز کی جانب سے صبر کا مظاہرہ کیا گیا ان کے کارکنان نے فوج کے جوانوں کو ویڈیو بنانے سے روکا اور مذید اشتعال انگیز نعرے بازی کی اور خار دار تار پار کرکے جوانوں سے ہاتھا پائی بھی کی ہاتھا پائی کے دوران علی وزیر اور محسن داور کے گارڈز نے چیک پوسٹ کی جانب سیدھی فائرنگ کی جس سے 5 فوجی جوان زخمی ہو گئے بعد میں فوج نے دفاعی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 3 کارکن جانبحق جبکہ 8 زخمی ہوئے جنہیں علی وزیر اور محسن داور چھوڑ کر بھاگ نکلے تاہم فوری پیچھا کرتے ہوئے فوج نے 8 کارکنان سمیت علی وزیر کو گرفتار کر لیا اور انہی کے زخمی کارکنان کو فوری سی ایم ایچ پشاور علاج کیلئے پہچایا گیا جہاں 2 فوجی جوان شہید ہو گئے اسی فوج کہ جن کو یہ ناپاک اور مرتد فوج کہتے ہیں نے انہی دہشتگردوں کا علاج معالجہ شروع کیا اب سوچنے کی بات ہے ہے کارکنان اور فوج کے درمیان فساد برپا کروا کر یہ دونوں لیڈر کیوں بھاگے ؟ صرف اس لئے کہ فوج اور کارکنان کے تصادم کو بنیاد بنا کر دنیا میں فوج کا امیج خراب کیا جائے مگر یہ لوگ بھول گئے کہ ناں تو یہ بنگال ہے اور ناں ہی 1971 ان شاءاللہ پوری قوم بشمول غیور پشتونوں کے اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی ان شاءاللہ انڈین لے پالک TTP کی طرح یہ ناکام ہوچکے ہیں اور ان کے ارادے مذید خاک آلود ہونگے ان شاءاللہ

  • دیکھنا کہیں وقت گزر نہ جائے؟؟؟ صفی اللہ کمبوہ

    دیکھنا کہیں وقت گزر نہ جائے؟؟؟ صفی اللہ کمبوہ

    آج وقت ہے ہر پاکستانی اپنا کردار ادا کرے
    سوشل میڈیا کا مورچہ سنبھالے. پوسٹ, ویڈیو پیغام اور کمنٹ کے ساتھ اپنے ملک کی سالمیت اور افواج پاکستان کے لیے بھرپور آواز اٹھائے.
    PTM ہو یا ان کی حمایتی کوئی بھی سیاسی جماعت اور اس کے نام نہاد لیڈر جوکہ ملک دشمنوں اور دہشت گردوں کے دوست ہیں. ان سب کی گز گز لمبی زبانوں کو بند کروانا آج ہر محب وطن پاکستانی کی ذمہ داری ہے.

    آج اپنی سیاسی وابستگی کسی سے بھی ہو.. مطلب کسی سے بھی.. کسی بھی سیاسی پارٹی سے. مگر ہمیں سیاسی وابستگی نہیں دیکھنی بلکہ ملک کی سالمیت دیکھنی ہے. جو ملک کے دشمنوں کو افطاریوں میں دعوت دیں وہاں پلان بنائیں, آرمی کی چیک پوسٹ پر حملہ کریں وہ دہشت گرد گروہ اور سیاسی گماشتے ان کی سپورٹ کریں زبان درازی کریں اپنے اداروں پر, افواج پاکستان پر. یہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہوسکتا.
    میں مرسکتا ہوں مگر اپنے شہدا, کے خون سے غداری نہیں کرسکتا. پاک فوج ہماری فوج ہے. ہر پاکستانی اس خطرناک سازش کو سمجھیں. ڈراموں, فلموں, کہانیوں, کارٹونوں اور میچوں سے باہر نکل کر زرا حیقیت کی دنیا میں آجاو. اب وقت نہیں ہے زیادہ کہ ہم غفلت کی نیند سوئیں. دشمن اب پھر گھیرا ڈال رہے ہیں. اندر اور باہر سے ملک مخالف آوازیں اٹھانے والے متحرک ہوچکے ہیں. منظور پشتین, گلالئی اسماعیل, علی وزیر, محسن ڈارڑ, محمود اچکزئی, اسفند یار ولی, ملالہ اور دیگر سیاسی جماعتوں میں چھپے ہوئے دہشتگردوں کے حمایتی اپنا کام پوری محنت سے کررہے ہیں. مگر پاکستانی نوجوان سویا ہوا ہے. لڑکوں لڑکیوں کو پتا ہی نہیں کہ ملک کے خلاف کتنی بڑی سازش ہورہی ہے, کل میں نے ایک تقریب میں لڑکوں کی بڑی تعداد سے پوچھا کہ بتاو PTM کیا ہے اور اس نے پاکستان کے خلاف کیا محاذ گرم کیا ہوا ہے تو کوئی بتانے والا نا تھا , کیونکہ ہماری نوجوان نسل کی دلچسپی کچھ اور ہے. شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے. اقبال کا شاہین ایسا تو نا تھا. پاکستانی نوجوان, مسلمان عوام, کو ایسا ہونا چاہیے کہ یہ حالات کی نبض پر ہاتھ رکھ کر دیکھیں تو پتا چل جائے کہ صورتحال کیا ہے اور میرے کرنے کا کام کیا ہے.
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے وہ مجاہد سپاہی وہ لشکر جو تکفیری اور ملک دشمنوں سے ٹکرا گئے وہ پاک فوج کے جانباز جو دفاع وطن میں جان کی بازی ہار گئے ان کو کل قیامت کے دن کیا منہ دکھاؤ گئے. سوچو زرا ؟؟؟
    ان شہدا نے کس بات پر قربانیاں دی ہیں کبھی خیال تو کرو. آؤ آگے بڑھو اور کردار ادا کرو ایک ایک دوست کو, کلاس فیلو, رشتہ دار کو, ہمسائے کو, امام مسجد کو, سکول ٹیچر کو, عالم دین کو, تاجر کو, ریڑھی والے کو, محنت کش کو, کسان کو, مزدور کو, دکاندار کو, ہر پاکستانی بھائی جان کو آج صورتحال سے آگاہ کرو اور ذہن سازی کرو ورنہ کہیں کل ہم بھی عراق, شام, فلسطین, افغانستان نا بن جائیں.
    اللہ تیری پناہ مانگتے ہیں ہم.
    اللہ ہمیں توفیق عطا فرما ہم تیرے دئیے ہوئے ملک کی حفاظت کریں اللہ ہماری افواج پاکستان کے سپاہیوں اور مجاہدوں کو ہمت و حوصلہ عطا فرما تاکہ دشمنان پاکستان کو نیست و نابود کریں.
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

  • تخم بلنگوا، بڑھاپا بھگائیں، صحت بھی پائیں ۔۔۔ محمد نعیم شہزاد

    تخم بلنگوا، بڑھاپا بھگائیں، صحت بھی پائیں ۔۔۔ محمد نعیم شہزاد

    طاقت، صحت اور توانائی ہر ایک کے لیے پسندیدہ ہیں اور ہر کوئی چاہتا ہے کہ بے پناہ طاقت و قوت حاصل کرے۔ اس کے برعکس بڑھاپا ایک غیر پسندیدہ چیز ہے اور ہر کوئی جوان نظر آنا چاہتا ہے۔

    اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار انعامات سے نوازا ہے مگر اکثر ہم ان قیمتی انعامات کی بے قدری کرتے ہیں۔ حالانکہ ان سے مستفید ہو کر ہم مہنگے علاج معالجے سے بھی بچ سکتے ہیں اور صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں۔

    تخمِ بالنگوا جسے عام زبان میں تخم ملنگا بھی کہا جاتا ہے ایک نایاب  قدرتی نعمت ہے جسے عموماً نظر انداز کیا جاتا ہے اور کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ حالانکہ تخم بلنگوا صحت کا ایک خزانہ اور طبی فوائد سے بھرپور چیز ہے۔

    اس کا اکثر استعمال تو مشروبات میں ہی نظر آتا ہے مگر یہ اس کے علاوہ بھی بہت سی خصوصیات کا حامل ہے۔ ازطق سپاہی جنگ سے پہلے اسے کھاتے تھے کیونکہ یہ توانائی سے بھرپور ہوتا ہے۔ اسی بنا پر تخمِ بلنگوا کو دوڑنے والے کی غذا بھی کہا جاتا ہے۔

    تخمِ بلنگوا کی 28 گرام مقدار میں 137 کیلوریز، 12 گرام کاربوہائیڈریٹس، ساڑھے چار گرام چکنائی، ساڑھے دس گرام فائبر، صفر اعشاریہ چھ ملی گرام مینگنیز، 265 ملی گرام فاسفورس، 177 ملی گرام کیلشیئم کے علاوہ وٹامن، معدنیات، نیاسین، آیوڈین اور تھایامائین موجود ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ تخمِ بلنگوا میں کئی طرح کے اینٹی آکسیڈنٹس بھی پائے جاتے ہیں۔

    اب تخمِ بلنگوا کے بعض نایاب فوائد کا ذکر کیے دیتے ہیں۔

    جلد نکھارے اور بڑھاپا بھگائے

    میکسکو میں تخمِ بلنگوا پر تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں قدرتی فینولِک (اینٹی آکسیڈنٹ) کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے اور یہ جسم میں فری ریڈیکل بننے کے عمل کو روکتا ہے۔ اس طرح ایک جانب تو یہ جلد کے لیے انتہائی مفید ہے تو دوسری جانب بڑھاپے کو بھی روکتا ہے۔

    ہاضمے کے لیے مفید

    فائبر کی بلند مقدار کی وجہ سے تخمِ بلنگوا ہاضمے کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ السی اور تخمِ بلنگوا خون میں انسولین کو برقرار رکھتے ہیں اور کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کو بھی لگام دیتے ہیں۔ طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ فائبر پانی جذب کرکے پیٹ بھرنے کا احساس دلاتا ہے اور وزن گھٹانے کے لیے انتہائی مفید ہے۔ اس کا استعمال معدے کے لیے مفید بیکٹیریا کی مقدار بڑھاتا ہے۔

    قلب کو صحتمند رکھے

    تخمِ بلنگوا کولیسٹرول گھٹاتا ہے، بلڈ پریشر معمول پر رکھتا ہے اور دل کے لیے بہت مفید ہے۔ اس کا باقاعدہ استعمال خون کی شریانوں کی تنگی روکتا ہے اور انہیں لچکدار بناتا ہے۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کی وجہ سے یہ دل کا ایک اہم محافظ بیج ہے۔

    ذیابیطس میں مفید

    تخمِ بلنگوا میں الفا لائنولک ایسڈ اور فائبر کی وجہ سے خون میں چربی نہیں بنتی اور نہ ہی انسولین سے مزاحمت پیدا ہوتی ہے۔ یہ دو اہم عوامل ہیں جو آگے چل کر ذیابیطس کا خطرہ کم کرنے کی وجہ بنتے ہیں۔ اسی لیے تخم بلنگوا کا باقاعدہ استعمال ذیابیطس کو روکنے میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔

    توانائی بڑھائے

    جرنل آف اسٹرینتھ اینڈ کنڈشننگ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق تخمِ بلنگوا ڈیڑھ گھنٹے تک توانائی بڑھاتا ہے اور ورزش کرنے والوں کے لیے بہت مفید ہے۔ یہ جسم میں استحالہ (میٹابولزم) تیز کرکے چکنائی کم کرتا ہے اور موٹاپے سےبھی بچاتا ہے۔

    ہڈیوں کی مضبوطی

    ایک اونس تخمِ بلنگوا میں روزمرہ ضرورت کی 18 فیصد کیلشیئم پائی جاتی ہے جو ہڈیوں کے وزن اور مضبوطی کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس میں موجود بورون نامی عنصر مینگنیز اور فاسفورس جذب کرنے میں مدد دیتا ہے اور یوں ہڈیاں اور پٹھے مضبوط رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ زنک اور دیگر اجزا منہ اور دانتوں کی صحت برقرار رکھتے ہیں اور قوت مدافعت بھی بڑھاتے ہیں۔

    موسم گرما میں بآسانی اسے مشروبات میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تو اگر اس قدر فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ابھی سے اسے اپنی غذا کا حصہ بنائیں اور تندرستی و توانائی کے حصول کے ساتھ بڑھاپے کو بھی بھگائیں۔

  • انجمن آڑھتیان غلہ منڈی حافظ آباد کا ہنگامی اجلاس،

    حافظ آباد(نمائندہ باغی ٹی وی)انجمن آڑھتیان غلہ منڈی حافظ آباد کا ہنگامی اجلاس سینئر نائب صدر چودھری محمد اعظم ڈھلوں کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں انجمن آڑھتیان غلہ منڈی حافظ آباد کے صدر چودھری محمد اعظم سمور کے خلاف من گھڑت، بے بنیاد اور جھوٹی ایف آئی آر کی شدید مذمت کی گئی۔ اجلاس میں غلہ منڈی کے آڑھتیان نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر نائب صدر محمد اعظم ڈھلوں، نائب صدر چودھری جاوید اشرف ہنجرا اور جنرل سیکرٹری عبدالحمید رحمانی نے کہا کہ انجمن آڑھتیان غلہ منڈی کے صدر چودھری محمد اعظم سمور کے خلاف مذکورہ جھوٹی ایف آئی آر کو فوری طور پر خارج کیا جائے کیونکہ ایف آئی آر میں بنائے جانے والے وقوعہ کا سرے سے کوئی وجود نہیں ہے بلکہ ایف آئی آر کے لیے دی جانے والی درخواست کے مطابق جہاں لڑائی جھگڑا ہوا وہاں چودھری محمد اعظم سمور موجود نہیں تھے۔اجلاس میں متفقہ طور پر ریجنل پولیس آفیسر گوجرانوالہ سے مطالبہ کیا گیا کہ انجمن آڑھتیان غلہ منڈی حافظ آباد کے صدر چودھری محمد اعظم سمور کے خلاف من گھڑت، بے بنیاد اور جھوٹی ایف آئی آر کو فوری طور پر خارج کیا جائے بصورت دیگر انجمن آڑھتیان غلہ منڈی حافظ آباد جھوٹے مقدمات درج ہونے کے لیے احتجاج پر مجبور ہوں گے۔

  • چھ عادتیں اپنائیں، اپنا گھر ہمیشہ سمٹا پائیں ۔۔۔ شوکت سلفی

    چھ عادتیں اپنائیں، اپنا گھر ہمیشہ سمٹا پائیں ۔۔۔ شوکت سلفی

    گھر اور زندگی کو آرگنائز رکھنا بہت مشکل کام ہے لیکن ناممکن بالکل نہیں ہے۔ زندگی گزارنے کے کچھ طور طریقے ہوتے ہیں کچھ اصول ہوتے ہیں جس پر چل کر ہی انسان انسان کہلاتا ہے۔ اسی طرح گھر میں بھی ترتیب اور اصول بہت ضروری ہے لیکن یہ تب ہی ممکن ہوسکتا ہے جب گھر اور معاملاتِ زندگی کو منظم انداز میں چلایا جائے۔

    گھر ایک ایسی جگہ ہے کہ جس کے بارے میں سوچتے ہی ہمارے ذہن میں سب سے پہلا خیال سکون و راحت کا آتا ہے۔ تھکا ہارا جب انسان گھر لوٹتا ہے تو وہ اپنے گھر کے ہر حصے کو صاف اور نفاست سے سجا دیکھنا چاہتا ہے۔ کمرہ ہو یا واش روم، کچن ہویا ڈرائنگ روم ہر ایک جگہ میں انسان آرام تلاش کرتا ہے۔ الماری میں کپڑے بکھرے رہنا، کمرے میں بے ترتیبی، واش روم کی صفائی نہ ہونا، کچن میں ہر چیز بے ترتیب انداز میں ہونا یہ سب جہاں سستی اور کاہلی کی نشانی ہے وہیں یہ بے ترتیبی انسان کی زندگی پر منفی اثر بھی چھوڑتی ہے۔ ناصرف گھر خوبصورت نظر آنے کے لیے بلکہ ذہنی سکون کیلئے بھی گھر میں صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا بےحد اہم ہے کیونکہ اسکا اثر براہِ راست انسان کی شخصیت اور مزاج پر پڑتا ہے۔ ہم آپ کو چند ایسی عادتیں بتاتے ہیں جنھیں اگر آپ اپنا لیں تو گھر کو صاف رکھنا بے حد آسان ہو جائے گا۔

    1۔جو چیز جہاں سے اٹھائیں وہیں رکھیں

    سامان کا بکھرنا اور چیزوں کو اِدھر اُدھر پھیلا دینا گھر کی بے ترتیبی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ کپڑوں کا پلنگ پر بکھرا ہونا، اخبارات کا ٹیبل پر پڑا رہنا، ڈریسنگ ٹیبل پر لپ اسٹک یا پاﺅڈر کھلے پڑے رہنا یہ سب بےقاعدگی کی نشانی ہے۔ الماری میں کپڑے طے کرکے رکھیں۔ روز مرّہ کے کپڑے ایک طرف رکھیں اور دعوتوں، شادیوں کے کپڑوں کو الگ شیلف میں رکھیں۔ ضروری کاغذات کو اِدھر اُدھر پھیلانے کے بجائے الماری کے دراز میں کسی فولڈر میں رکھیں۔ کپڑے، پرس، جیولری یہاں تک کے جوتوں کی بھی جگہوں کو الگ رکھیں۔

    2۔باکسزکا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں

    کوشش کیا کریں کہ چیزوں کو رکھنے کے لیے باکس کا استعمال کریں ۔چاہے وہ چارجر ہو یا ائیر فون۔ نیل کٹرسے لے کر ہیئرپن تک کے لیے باکسز بنائیں تاکہ دراز میں بھی چیزیں بکھری نہ پڑی رہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کہیں جانے کی جلدی ہو اور مذکورہ چیز نہ مل رہی ہوتو ڈھونڈنے کے چکر میں پندرہ سے بیس منٹ ضائع ہوجاتے ہیں۔ چیزوں کو باکس کے اندر رکھنا سیکھئے تاکہ کھونے یا گُم جانے کے چکر سے بچا جاسکے۔ باکس پر نام بھی لکھا جا سکتا ہے یا رنگ کے حساب سے چیزوں کو رکھا جا سکتا ہے جیسے نیلے ڈبے میں چوڑیاں ہیں تو پیلے ڈبے میں بال پن۔

    3۔کچن کا سلیب ہمیشہ صاف رکھیں

    کچن گھر کا وہ حصہ ہے جوکہ گھر کی خواتین کے لیے ہر وقت مصروفِ عمل رہنے کی جگہ ہوتی ہے اور اسی سے خواتین کے سگھڑپن کا اندازہ بھی لگایا جاتا ہے۔ کچن کو صاف رکھنا اور کھانا پکاتے وقت چیزوں کو نہ پھیلانا بھی ایک آرٹ ہے جسے ہر عورت کو آنا چاہیئے۔ غیر ضروری برتن نکالنے سے گریز کیا کریں۔ مصالحے کے ڈبے کو ہمیشہ ترتیب سے رکھیں۔سنک سے لے کر اوون تک کی صفائی اہم ہے۔ ہفتے میں ایک بار کیبنٹ اندر سے ضرور صاف کریں۔

    4۔گھر میں بے جا سامان نہ بھریں

    گھر کو صاف اور اچھا رکھنے کیلئے جہاں صفائی اور مینٹیننس ضروری ہے وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ بے جا اور غیر ضروری سامان سے پرہیز کیا جائے۔ کبھی کبھی یہ بھی ضروری ہے وہ بھی ضروری ہے کے چکر میں سامان کا انبار جمع ہو جاتا ہے ۔ وہ کچن ہو یا گھر کا کوئی بھی حصہ صرف یہی نہیں اکثر لوگ اپنے گھروں کی چھتوں میں کاٹھ کباڑ کا پہاڑ اکھٹا کرکے رکھتے ہیں۔ گھر کو اچھا، پرسکون اور آرام دہ رکھنے کیلئے یہ بھی ناگزیرہے کہ صرف وہی اشیاء رکھیں جوکہ کام کی ہیں غیر ضروری اور پرانی ہوچکی چیزوں کو رکھنا بالکل بے کار ہے کیونکہ نہ تو اسے استعمال میں آنا ہے اور نہ ہی صحیح ہونا ہے اس سے بہتر ہے کہ اسے نکال کر گھر کو خراب لگنے سے بچالیں ۔

    5۔روزانہ ڈسٹنگ کریں

    گھر کو صاف ستھرا رکھنے کیلئے روزانہ کی جھاڑبونچھ اور ڈسٹنگ بہت ضروری ہے ۔دھول مٹی اور گردوغبار کے جمع ہوجانے سے گھرنا صرف خراب لگتا ہے بلکہ چیزیں خراب ہوجاتی ہیں جیسے قالین یا گھر کا دیگر سامان۔

    6۔چھوٹی موٹی مرمتیں کراتے رہیں

    وہ رنگ ہو یا مرمت ہر چیز حفاظت مانگتی ہے کپڑے بھی اگر پھٹ جائیں تو ہم سی لیتے ہیں اسی طرح گھر کی کوئی چیز خرابی کا شکار ہوجائے تو اسکی مرمت بہت ضروری ہے تاکہ چیزوں کو بُرا لگنے اور خرابی سے بچایا جاسکے۔کوشش کریں کہ تھوڑی بھت توڑ پھوڑ پر ہی مرمت کرالیں ۔ کیونکہ زیادہ دیر لگانے سے بعض اوقات چھوٹا کام بھی بڑا خرچہ کرا دیتا ہے ۔

  • ٹرانسپورٹ اے سی ایسوسی ایشن کی باڈی تحلیل، اگلے الیکشن کب ہوں گے؟

    ٹرانسپورٹ اے سی ایسوسی ایشن کی باڈی تحلیل، اگلے الیکشن کب ہوں گے؟

    گجرات( نمائندہ باغی ٹی وی)ٹرانسپورٹ یونین اے سی ایسوسی ایشن گجرات کے چیئرمین چوہدری حمید اللہ نے تمام باڈی کو تحلیل کر دیا 40دن بعد نئے الیکشن کروانے کا اعلان گزشتہ روز باقاعدہ طور پر ایسوسی ایشن کا اجلاس ہوا جس میں تمام اے سی یونین ٹرانسپورٹ کے ممبران نے شرکت کی اور چیئرمین کے فیصلے کی تائید کی کہ سابقہ تمام عہدیداروں کارکردگی کوئی تسلی بخش نہیں تمام ڈرائیوروں کے لیے کوئی خاص اقدامات نہ اٹھائے جا سکے ہیں لہذا تمام عہدے ختم کر دئیے گے ہیں نئے الیکشن کا شیڈول جاری کیا جائے گا جو چالیس دن بعد ہوں گے۔اجلاس میںاعجاز وڑائچ،امتیاز وڑائچ،چوہدری خاور،فیاض نت،ظفر وڑائچ امداد شاہ ودیگر معززین نے شرکت کیں۔

  • لودھراں: سستے رمضان بازار کیوں ویران ہیں وجہ معلوم ہو گی ہے

    لودھراں (نمائندہ باغی ٹی وی) رمضان بازار برائے نام سستے بازار ہیں جبکہ حقیقت برعکس ہے رمضان بازاروں میں ناقص اشیاء مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہیں صرف لیموں کی فی کلو قیمت 500 تک ہے جس میں رس بھی نہیں ہے باقی اشیاء بھی اسی طرح مہنگی فروخت کی جا رہی ہیں عوام کو اس طرح دھوکہ دینا بند کیا جانا چاہئیے رمضان بازاروں میں مہنگائی کا ایک طوفان دیکھنے کو مل رہا ہے جس کی وجہ سے وہاں عوام خریداری کے لئے بلکل نہیں جا رہی

  • پاکستانی قومی ٹیم کے سابقہ کرکٹر عبدالرحمان کی گارمنٹس کی دکان کے افتتاح کے موقع پر قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی گفتگو

    پاکستانی قومی ٹیم کے سابقہ کرکٹر عبدالرحمان کی گارمنٹس کی دکان کے افتتاح کے موقع پر قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی گفتگو

    سیالکوٹ (نمائندہ باغی ٹی وی ) پاکستانی قومی ٹیم کے سابقہ کرکٹر عبدالرحمان کی گارمنٹس کی دکان کے افتتاح کے موقع پر قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی گفتگو کامران اکمل نے کہا کہ شاہد آفریدی کی عزت کی طرح سب کی عزت ہے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی نہیں کرنی چاہئیے شاہد آفریدی نے آئی سی سی سینچری بنائی اس وقت عمر بتا دیتے تو اچھا ہوتا انہوں نے کہا ورلڈ کپ سے پہلے نیٹ سیریز جیتنا بہت اہم ہ پاکستانی ٹیم بہت اچھا پرفارمنس کرے گی بھارتی میڈیا کھلاڑیوں اور فوج کے متعلق باتیں کرتا رہتا ہے سعید اجمل کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ کے لئے منتخب ہونے والوں کو مبارکباد دیتے ہیں محمد عامر کی بالنگ بہت اچھی ہے حسن علی کے علاوہ کوئی بالر نہیں ہے سعید اجمل نے کہا سئنیرز کی عزت سب کو کرنی چاہئیےجاوید میانداد لیجنڈ ہیں انکی عزت کرنی چاہئیے تقریب میں آئے عثمان شنواری نے کہاورلڈ کپ کی ٹیم پر مطمئن ہیں کوچ اور ٹیم بہترین ہے امید ہے ورلڈ کپ جیت جایئں گے شاہد آفریدی کی کتاب کے سوال پر انہوں نے کہا آئے گی تو سب واضح ہو جائے گا