Baaghi TV

Category: متفرق

  • کیا خچر،گدھے اورجنگلی گھوڑے اپنی پیاس بجھانے کے لئے کنویں کھودتے ہیں ؟

    کیا خچر،گدھے اورجنگلی گھوڑے اپنی پیاس بجھانے کے لئے کنویں کھودتے ہیں ؟

    سائنسدانوں نے گدھوں، خچروں اور جنگلی گھوڑوں کے متعلق انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنی پیاس بجھانے کے لیے کنویں کھودتے ہیں بعد ازاں اس کا پانی دیگر جانور وں کے پینے کے کام آتا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق آرہس یونیورسٹی، ڈنمارک ایرک لیونڈ گرن اور ان کے ساتھیوں نے ایریزونا کے سونورن ریگستان میں چار چشموں کا بغور مشاہدہ کیا ہے اگرچہ یہ چشمے زمین سے پھوٹتے ہیں لیکن جلد ہی خشک ہوجاتے ہیں-

    سائنسدانوں کی ٹیم نے 2015،2016 اور2018 کے موسمِ گرما میں کئی بار ان چشموں کو جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ اس علاقے کے گدھے اور گھوڑے زمینی پانی نکالنے کے لیے کنویں کھودتے ہیں۔

    ایرک کے مطابق یہ بہت گرم اور خشک ریگستان ہے اور کئی جادوئی جگہیں ایسی ہیں جہاں آپ تازہ پانی دیکھ سکتے ہیں گھوڑے اور گدھے دو میٹر گہرائی تک گڑھا کھودتے ہیں جسے کنواں کہا جاسکتا ہےتحقیقی ٹیم نے ان جانوروں کے کنووں پر 59 اقسام کے فقاریئے جانوروں کو دیکھا جن میں سے 57 ان کنووں کا پانی پی رہے تھے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ جن علاقوں میں کنویں عام تھے وہاں دیگر بنجر علاقوں کے مقابلے میں 51 زائد اقسام کے جانور دیکھے گئے جو عین اسی عرصے میں دونوں جگہوں پر ریکارڈ ہوئے۔

    اس طرح جانوروں میں ہرن، گلہریاں، عام بٹیر، سیاہ ریچھ اور دیگر جانور شامل تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانی کے یہ وسائل کس طرح اور کتنی اقسام کے جانوروں نے استعمال کئے۔ پھران کنووں کو پودوں کی افزائش کا اہم وسیلہ بھی قرار دیا گیا ہے جن میں پیپل، شاہِ بلوط اور دیگر اقسام کے مفید درخت شامل ہیں۔ اس طرح گدھے اور گھوڑے ایک ریگستان کو سبز بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

  • دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت

    دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت

    پولینڈ کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے 2 ہزار سال قدیم ممی کے اسکین کے بعد دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت کی ہے یہ اپنی طرز کی واحد دریافت ہے-

    باغی ٹی وی : جمعرات کو جرنل آف آرکیالوجیکل سائنس میں چھپنے والی ایک مضمون کے مطابق یہ دریافت وارسا ممی پراجیکٹ کے محققین نے کی ہے۔

    2015 میں شروع ہونے والے پراجیکٹ میں وارسا کے نیشنل میوزیم میں رکھے گئے نوادرات کی جانچ پڑتال کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہےپہلے خیال تھا کہ یہ کسی مرد پجاری کی ممی ہے جو پہلی صدی قبل از مسیح یا پہلی صدی عیسوی کے درمیان زندہ تھے لیکن سکین سے پتہ چلا کہ یہ کسی عورت کی ممی ہے جو حمل کے آخری مراحل میں تھی۔

    اس منصوبے کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کسی ایسی خاتون کی باقیات ہیں جو 20 اور 30 سال کی عمر کے پیٹے میں تھی اور اس کا تعلق کسی اونچے خاندان سے تھا، جو پہلی صدی قبل مسیح کے دوران وفات پا گئی تھی۔

    جرنل میں چھپنے والے مضمون میں انہوں نے اپنی دریافت کا اعلان کرتے ہوئے لکھا کہ پیش ہے ایک حنوط شدہ حاملہ عورت کی ممی کی پہلی مثال اور اس طرح کے جنین کی پہلی ریڈیولوجیکل تصاویر۔

    جنین کے سر کے گھیرے سے انھوں اندازہ لگایا کہ جب ماں کی موت نامعلوم وجوہات کی بنا پر ہوئی تو اس وقت اس کی عمر 26 اور 30 ​​ہفتوں کے درمیان ہو گی۔

    منصوبے میں شامل پولینڈ اکیڈمی کے سائنسدان ووجیچ ایجسمنڈ نے کہا کہ ‘ہم نہیں جانتے کہ ماں کے پیٹ سے ممی بنائے جانے کے وقت ان بچوں کو کیوں نہیں نکالا گیا’، انہوں نے مزید کہا کہ ‘اسی لیے یہ ممی منفرد نوعیت کی ہے، ہم نے اس سے پہلے اس طرح کے کیسز نہیں دیکھے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری دریافت دنیا کی پہلی حاملہ ممی ہے۔

    سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ اسے کیوں نہیں نکالا گیا اور الگ کیا گیا، لیکن ان کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس کا تعلق بعد کی زندگی یا اسے نکالنے میں مشکلات سے ہو۔

    وزیرک سزیلک نے اندازہ لگایا ہے کہ شاید حمل ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہو یا پھر اس کا تعلق اس وقت کے دوبارہ جنم لینے کے عقائد سے متعلق ہوسکتا ہے۔

    سائنسدانوں کو اب یقین ہے کہ یہ اس سے بھی قدیم زمانے سے تعلق رکھتی ہے اور وہ اب اس کی ہلاکت کی وجوہات تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ممی کھولی نہیں گئی ہے تاہم اسکین میں عورت کے لمبے گھنگریالے بال اس کے کندھے پر دیکھے جاسکتے ہیں۔

    اشاعت کے مطابق یہ محفوظ کی گئی حاملہ خاتون کی دریافت کا پہلا کیس ہے، اس کے ذریعے قدیم وقتوں میں حمل اور زچگی سے متعلق نئے ممکنات پر تحقیق کے موقع ملیں گے-

    فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق یونیورسٹی آف وارسا کی ماہر بشریات (anthropologist) اور ماہر آثار قدیمہ (archaeologist) مرزینہ اوزیرک سزیلک نے صحافیوں کو بتایا کہ ‘میرے شوہر اسٹینسلا، ایک ماہر مصری آثار قدیمہ، اور میں نے ممی کا ایکسرے دیکھا جس میں مردہ حاملہ عورت (ممی) کے پیٹ میں تین بچوں کے آثار دیکھائی دیئے-

    انھوں نے بتایا کہ ٹیم امید کرتی ہے کہ اب وہ ممی کے جسم میں سے کچھ ٹشو حاصل کر کے حنوط شدہ خاتون کی موت کی وجہ کا بھی تعین کرے گی۔

    محققین کے مطابق ممی بہت اچھی حالت میں محفوظ‘ ہے لیکن اس کی گردن کے گرد کپڑے کو پہنچنے والے نقصان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کسی وقت قیمتی سامان ڈھونڈنے والوں نے کیا تھا۔

    ماہرین کہتے ہیں کہ کم از کم 15 اشیا جن میں ممی کی طرح کے تعویذ کا ایک ’مہنگا سیٹ‘ بھی شامل ہے، ممی کے اندر لپٹا ہوا برآمد ہوا ہے۔

    مذکورہ ممی کو 19ویں صدی میں پولینڈ منتقل کیا گیا تھا اور اسے وارسا یونیورسٹی کے نوادرات کے کلیکشن کا حصہ بنایا گیا تھا اس ممی کو 1917 میں نیشنل میوزیم میں رکھا گیا جسے علامتی تابوت کے ساتھ عوام کے دیکھنے کے لیے پیش کیا گیا۔

  • مصنوعی ذہانت سے قدیم ترین پُراسرار تحریر کا راز انکشاف ،قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک نیا موقع ہے  محققین

    مصنوعی ذہانت سے قدیم ترین پُراسرار تحریر کا راز انکشاف ،قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک نیا موقع ہے محققین

    محقیقن نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ذریعےبحیرہ مردار کے قریب غاروں سے سکرولزکی صورت میں برآمد ہونے والی پراسرار قدیم دستاویزات کا راز جان لیا ہے –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی ویب سائٹ بی بی سی اردو کے مطابق محققین نے ان قدیم طوماروں کے مخطوطات میں سے ‘عظیم كتاب أشعيا’ کہلانے والی دستاویز پر تجربات کیے تھے جن سے پتہ چلا کہ شاید دو نامعلوم افراد نے قدیم زمانے میں اُس وقت کی زبان میں ہاتھ سے لکھے گئے الفاظ کی ہُو بہُو نقل تیار کی تھی۔

    ان قدیم مخطوطات جو کے طومار کی صورت میں یعنی گول لپٹے ہوئے کاغذات کی صورت میں غاروں میں ملے تھے، کہا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک انجیل کے عہد نامہِ قدیم کا ایک نُسخہ ہے 70 برس پہلے برآمد ہونے والے یہ مخطوطات آج کے لوگوں کے لیے باعثِ حیرت ہیں اور ابھی تک راز ہی بنے ہوئے ہیں-

    ان قدیم مخطوطات کا ایک حصہ بحیرہِ مردار کے قریب قمران نامی پہاڑ کے ایک غار سے مقامی بدوؤں کو ملا تھا اب غرب اردن کے یہ پہاڑ اسرائیل کے قبضے میں ہیں۔

    ان میں زیادہ تر ایسے مسودے ہیں جو عبرانی، آرامی اور یونانی زبان میں لکھے ہوئے ہیں، اور ان کے بارے میں خیال ہے کہ ان کا تیسری صدی قبل مسیح کے دور سے تعلق بنتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق كتاب أشعيا ان 950 مختلف مخطوطات میں سے ایک ہے جو ان غاروں سے سنہ چالیس اور سنہ پچاس کی دہائیوں میں ملے تھے۔ یہ مخطوطہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس کے 54 کالم نصف حالت میں تقسیم کیے گئے ہیں اور یہ ایک ہی انداز سے لکھے گئے ہیں۔

    ہالینڈ میں یونیورسٹی آف گرونینجن کے محققین نے كتاب أشعيا کے جائزے کے لیے مصنوعی ذہانت اس وقت سب سے زیادہ جدید اور نمونوں کو سمجھنے کے طریقے کا استعمال کیا۔ انھوں نے عبرانی زبان کے ایک حرف ‘الف’ کا تجزیہ کیا جو کہ اس کتاب میں 5000 مرتبہ درج تھا۔


    فوٹو بشکریہ بی بی سی اردو

    محققین ملادن پوپووچ، معرو ف ضالع اور لمبرٹ شومیکر اپنے ایک تحقیقی مقالے میں لکھا کہ وہ اس قدیم روشنائی کے نشانات کو سمجھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو ڈیجیٹل امیجز پر ظاہر ہوئے تھے۔

    ان محققین کے مطابق قدیم روشنائی کے نشانات کسی بھی شخص کے بازو اور ہاتھوں کے پٹھوں کی حرکات و سکنات کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ ہر فرد کے اپنے انداز کی مخصوص ہوتی ہیں انھوں نے اس بات کو سمجھنے کے لیے کہ آیا ایک مخطوطے کے لکھنے میں ایک سے زیادہ افراد شامل تھے اس طریقے کا استعمال کیا۔

    محققین کے مطابق زیادہ امکان ہے کہ دو کاتبین مل جل کر کام کرتے رہے تا کہ وہ ایک جیسا طرز تحریر برقرار رکھ سکیں لیکن ساتھ ساتھ اپنی منفرد خصوصیت کو بھی ظاہر کر سکیں۔

    محققین کے مطابق کتابت میں یکسانیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ کاتبین کو کسی ایک مدرسے یا ایک خاندان میں ایک جیسی تربیت دی گئی ہو، مثال کے طور پر دونوں کو ان کے والد نے لکھنے کی تربیت دی ہو کاتبوں کی ایک دوسرے کی نقل کرنے کی صلاحیت اتنی بہترین تھی کہ اب تک کے کئی ماہرین ان دو کاتبوں کے درمیان کوئی فرق نہیں سمجھ سکے تھے-

    معروف ضالع نے اس تحقیق کا پہلا تجزیاتی ٹیسٹ کیا ٹیکسٹوریل اور ایلوگرافک خصوصیات کے ان کے تجزیہ سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ عظیم كتاب أشعيا کے طومار میں متن کے 54 کالم دو مختلف گروہوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں جنہیں تُکّے سے تقسیم نہیں کیا گیا تھا، بلکہ ان کے کلسٹرڈ منظم انداز میں بنے ہوئے تھے۔

    اس تبصرہ کے ساتھ کہ اس طومار کے ایک سے زیادہ کاتب ہو سکتے ہیں، ضالع نے ان اعداد و شمار کو اپنے ساتھی محقق شومیکر کے حوالے کیا، جنھوں نے اب حروف کے ٹکڑوں کے نمونوں کا استعمال کرتے ہوئے کالموں کے مابین مماثلتوں کا جائزہ لیااس دوسرے تجزیاتی مرحلے نے دو مختلف کاتبوں کے ہونے کی تصدیق کردی-

    عظیم کتاب اشعیا کا یہ تجزیہ اور اس مخطوطے کی کتابت میں دوسرے کاتب کی شناخت کرنے میں کامیابی اب یہ قمران سے ملنے والے دوسرے قدیم مخطوطوں کا تجزیہ کرنے کے بھی نئے امکانات کھولتی ہے۔

    اب محققین دونوں کاتبوں کے لکھے ہوئے طومار کی تحریروں کے مائکرو لیول تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور احتیاط سے مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ انھوں نے ان مخطوطات پر کس طرح کام کیا۔

    پوپووچ کے مطابق یہ بہت دلچسپ بات ہے کیونکہ اس سے قدیم دنیا کو سمجھنے کا ایک نیا موقع بنتا ہے جو ماہرین اور محققین کے مابین ان کاتبوں کے درمیان بہت زیادہ پیچیدہ روابط کا انکشاف کر سکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس مطالعے میں ہمیں ایک بہت ہی ایک جیسے طرز تحریر کے شواہد ملے ہیں جو عظیم اشعیا کے اسکرول کے مشترکہ دو کاتبوں کی ایک جیسی تربیت یا اصلیت کا پتہ دیتے ہیں ہمارا اگلا مرحلہ دیگر طومار کی تحقیقات کرنا ہے، جہاں ہمیں ان کے مختلف کاتبوں کی ابتدا یا تربیت کے بارے میں معلومات مل سکتی ہیں۔

    اس طرح سے ہمیں ان معاشروں کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہو سکیں گی جنھوں نے بحیرہ مردار کے طومار تیار کیے تھے اب ہم مختلف لکھنے والوں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم ان کے نام کبھی نہیں جان پائیں گے لیکن 70 سال کے مطالعے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بالآخر ہم ان کی لکھاوٹ کے ذریعہ ان سے مصافحہ کر لیں گے۔

  • ایک کروڑ80 لاکھ مربع کلومیٹرسمندری علاقےکومحفوظ بنانےکیلئےعالمی منصوبہ

    ایک کروڑ80 لاکھ مربع کلومیٹرسمندری علاقےکومحفوظ بنانےکیلئےعالمی منصوبہ

    ورجینیا: ہمارے سمندروں کو کئی عارضے لاحق ہوچکے ہیں تاہم اب ان سمندروں کو محفوظ کرنےا کا ایک عالمی منصوبہ تشکیل دیا گیا ہے

    باغی ٹی وی : تحقیقی ہفت روزہ جریدے نیچر میں شائع رپورٹ کے مطابق ایک کروڑ 80 لاکھ مربع کلومیٹر سمندری علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے عالمی منصوبہ شروع کیا گیا ہے جسے ’بلیو نیچر الائنس‘ کا نام دیا گیا ہے۔

    بلیو نیچر الائنس میں کئی ادارے اور فلاحی تنظیمیں ہیں جو مل کر پانچ برس تک اس منصوبے پر کام کریں گی۔ ابتدا میں اہم نوعیت کے تین بحری مقامات یعنی فجی کے قریب واقع لاؤ سی اسکیپ، انٹارکٹیکا میں سدرن اوشن اور جنوبی بحرِ اٹلانٹک میں ٹرسٹان ڈی کنہا کے تحفظ اور بحالی پر کام کیا جائے گا۔
    https://twitter.com/nature/status/1383061640451604483?s=20
    بلیو نیچر الائنس میں شامل اوشن یونائٹ نامی تنظیم کی سربراہ کیرن سیک کہتی ہیں کہ ہمارے سمندر بحران کے شکار ہیں اور ان کی نوعیت بہت پیچیدہ ہے۔ عالمی منصوبے کے تحت بحری نوعیت کے اہم علاقوں کے تحفظ اور فطری مقامات کو بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔ اس دوران مقامی آبادیوں کو منصوبے میں شامل کیا جائے گا۔

    سائنسداں متفق ہیں کہ اگر ہمارے سمندر تندرست اور صاف رہتے ہیں تو انسان کی بقا بھی انہی سے وابستہ ہے۔ آلودگی اور پلاسٹک کا کچرا تیزی سے سمندر میں پھیل رہا ہے اور اب جانوروں کی بڑی تعداد کو ہلاک کررہا ہے۔

    ہم انسان ہر سال640,000 ٹن کچرا اور پلاسٹک سمندر میں ڈال رہے ہیں۔ ان میں ماہی گیری کے پرانے جال بھی ہیں جن میں وہیل سے لے کر کچھوے تک پھنس کر مر رہے ہیں۔

    سمندر ہمیں غذا اور دنیا کی نصف آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔ پھرعالمی حدت اور کلائمٹ چینج سے سمندروں کی تپش بڑھ رہی ہے۔ دوسری جانب کورل ریف اور مرجانی چٹانیں تباہ ہورہی ہیں جو اکثر سمندری حیات کی نرسریاں اور گھر ہوتی ہیں۔ پھر پوری دنیا میں بحری سطح بلند ہورہی ہے اور سمندر کی لہریں ساحلوں کو کاٹ رہی ہیں۔

    معاہدے کے تحت فوری طور پر سمندری اور ساحلی علاقوں کا اہم ترین 30 فیصد حصہ بچایا جائے گا اور اس میں اقوامِ متحدہ کی تائید ومدد بھی حاصل ہوگی۔ اس کے علاوہ بحری تحفظ والے علاقوں (مرین پروٹیکٹڈ ایریاز) یا ایم پی اے میں بھی اضافہ کیا جائے گا اور مناسب وسائل خرچ کیے جائیں گے۔

    اگرچہ 2020ء تک دس فیصد عالمی سمندر کو محفوظ کرنا تھا لیکن یہ ہدف 7.65 ہی حاصل ہوسکا ۔ تاہم 1985ء سے تحفظ شدہ بحری علاقوں کی تعداد 430 سے بڑھ کر اب 18500 ہوچکی ہے جو ایک اچھا قدم ہے۔

    لیکن اب بھی بہت بڑے ایم پی ایز علاقوں میں ماہی گیری، کان کنی اور ڈرلنگ وغیرہ جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے اس مشقت کے باوجود سمندری علاقوں کو تحفظ شدہ علاقے قرار دینے کی اسکیم پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔ ان علاقوں میں مرجانی چٹانیں تیزابیت اور تباہی کی شکار ہورہی ہیں۔

    دوسری جانب اب بھی یہ تاثر عام ہے کہ سمندری مسکن اور علاقوں کو بچانے سے نازک بحری حیات کا بہت فائدہ ہوسکتا ہے اور وہاں نایاب جانوروں کی نسل خیزی کا عمل جاری رکھا جاسکتا ہے تاہم بلیو نیچر الائنس کے اس اقدام کو دنیا بھر کے سائنسدانوں اور ماہرینِ ماحولیات نے مجموعی طور پرسراہا ہے۔

  • ایک ساتھ 30 سے زائد خواتین کو محبت کے جال میں پھنسا کر لوٹنے والا جعلساز گرفتار

    ایک ساتھ 30 سے زائد خواتین کو محبت کے جال میں پھنسا کر لوٹنے والا جعلساز گرفتار

    ٹوکیو: جاپانی پولیس نے گزشتہ دنوں ایک ہی وقت میں 35 الگ الگ خواتین کو محبت کے جال میں پھنسا کر قیمتی تحفے بٹورنے والے شخص کو گرفتار کیا ہے-

    باغی ٹی وی :’سورا نیوز 24‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ جاپان کے علاقے کنسائی کا 39 سالہ رہائشی تاکاشی میاگی پچھلے دو سال سے خواتین کو اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر ان سے قیمتی تحفے تحائف بٹور رہا تھا۔

    مبینہ طور پر اس نے اپنی کارروائیوں کا سلسلہ تب شروع کیا جب وہ غسل خانے اور شاور سے متعلق مصنوعات بنانے والی ایک کمپنی کی مختلف چیزیں گھر گھر جا کر فروخت کیا کرتا تھا جو عام طور پر خواتین کےلیے ہوتی تھیں۔

    اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تاکاشی میاگی نے خاص طور پر ادھیڑ عمر خواتین کو دوست بنانا شروع کیا، جن میں سے بیشتر یا تو غیر شادی شدہ تھیں یا پھر اُن کی ازدواجی زندگی میں کڑواہٹ گھلی ہوئی تھی۔

    تاکاشی میاگی نے ان میں سے ہر خاتون کو یقین دلایا کہ وہ اس سے پوری طرح مخلص اور سچا دوست ہے ان خواتین کی عمریں 40 سے 47 سال تک بتائی گئی ہیں جبکہ جاپانی پولیس کے مطابق ان خواتین کی تعداد کم از کم 35 ہے۔

    میاگی نے ان میں سے ہر خاتون کو اپنی مختلف تاریخِ پیدائش بتائی اور اپنی سالگرہ کے بہانے ان سے قیمتی تحفے تحائف لیتا رہا۔

    پولیس کے مطابق، وہ ان تمام عورتوں سے مجموعی طور پر ایک لاکھ ین (ڈیڑھ لاکھ پاکستانی روپے) مالیت کے تحائف لے چکا ہے جن میں میں تقریباً 30 ہزار ین جتنی مالیت کا ایک قیمتی سوٹ بھی شامل ہے۔

    دلچسپی کی بات یہ ہے کہ میاگی کو پکڑوانے کےلیے اس کی جھوٹی محبت کا نشانہ بننے والی خواتین نے پولیس کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کی کیونکہ وہ اس فراڈیئے سے واقف ہوچکی تھیں اور اسے کیفرِ کردار تک پہنچانا چاہتی تھیں۔

    فی الحال جاپانی پولیس میاگی سے تفتیش کررہی ہے تاکہ مزید خواتین کے بارے میں جان سکے جنہیں وہ اپنی محبت کے جال میں پھانس کر تحفے بٹور چکا ہے۔
    https://youtu.be/-UAmRRnfC8U

  • کیا ڈولفن میں بھی خود غرضی اور مطلب پرستی جیسے منفی جذبات رکھتی ہیں؟

    کیا ڈولفن میں بھی خود غرضی اور مطلب پرستی جیسے منفی جذبات رکھتی ہیں؟

    آسٹریلیا: مطلب پرستی، بغض اور خودغرضی صرف ہم انسانوں تک ہی محدود نہیں پہلے یہ منفی جذبات، پرائمیٹس میں دریافت ہوئےاور اب سمندر کی ہمیشہ ہنستی مسکراتی ذہین ترین مخلوق ڈولفن میں بھی اس رویے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : تحقیقی ہفت روزہ جریدے نیچر میں شائع رپورٹ کے مطابق مغربی آسٹریلیا میں شارک بے کے مقام پر سائنسدانوں نے بعض تجربات کے بعد کہا ہے کہ یہ سمندری ممالیہ بھی آپس میں بغض و عداوت رکھتے ہیں۔

    سائنسدانوں کے مطابق بوٹل نوز ڈولفن کے نر اپنے انہی ’ساتھیوں‘ کی پکار پر توجہ دیتے ہیں جو ماضی میں انہیں بچانے یا مدد کے لئے آئے ہوں جبکہ مدد نہ کرنے والے ڈولفن گروہ کی پکار پر وہ کان نہیں دھرتے اور نظرانداز کردیتےہیں۔

    برسٹل یونیوررسٹی نے اسے’اتحادی نیٹ ورک‘ قرار دیا ہے جو نر ڈولفن کے درمیان قائم ہوتا ہے عین سماجی رویے کی طرح ڈولفن کے غول ملکر شکار کرتے ہیں یا پھر مل کر ایک دوسرے کی شکاریوں سے حفاظت کرتے ہیں۔

    تحقیق کی سربراہ اسٹیفنی کنگ کہتی ہیں کہ ڈولفن سماجی جانوروں کی طرح اپنی ہم انواع میں تعلقات کی درجہ بندی کرتے ہیں عین اسی طرح ہم بھی اپنے ہم جنسوں کی ایسے ہی درجہ بندی کرتے رہتے ہیں ’انسانوں سے ہٹ کر بوٹل نوز ڈولفن میں اتحاد اور تعاون کا بہت پیچیدہ نظام ہوا ہے جسے ہم سمجھنا چاہتے تھے-

    اسٹیفنی کنگ نے مزید بتایا کہ ڈولفن یاد رکھتی ہیں کہ کس نے ان کی مدد کی تھی اور اس کے جواب میں انہیں کس کے کام آنا ہے پھر اپنی مخصوص سیٹی نما پکار سے یہ ایک دوسرے کو پہچانتی ہیں کیونکہ ہر ڈولفن کی مخصوص آواز زندگی بھر یکساں رہتی ہیں اسی لیے مشکل میں ڈولفن کا ایک گروہ دوسروں کو بلاتا ہے۔

  • واٹس ایپ کے ذریعے بھیک مانگنے والا’سائبر بھکاری‘ گرفتار    دبئی پولیس

    واٹس ایپ کے ذریعے بھیک مانگنے والا’سائبر بھکاری‘ گرفتار دبئی پولیس

    دبئی: بھکاریوں کے خلاف تازہ کارروائی میں دبئی پولیس نے واٹس ایپ کے ذریعے اپنی دکھ بھری داستان سنا کر بھیک مانگنے والا بھکاری گرفتار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :د بئی پولیس کے مطابق انہوں نے ایک عرب ’سائبر بھکاری‘ گرفتار کیا ہے جو مقامی واٹس ایپ صارفین کے نمبر حاصل کرکے انہیں اپنی دکھ بھری داستان لکھ بھیجتا تھا اور ’اللہ کے نام پر‘ مالی امداد مانگتا تھا۔


    اس حوالے سے اپنی ایک ٹویٹ میں دبئی پولیس نے عوام کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ وہ درد بھری کہانیاں سنانے والے بھکاریوں کے جھانسے میں نہ آئیں کیونکہ یہ جعلساز ہوتے ہیں اور ان کا واحد مقصد عام لوگوں کو بے وقوف بنا کر رقم اینٹھنا ہوتا ہے۔

    ٹویٹ میں ’سوشل میڈیا استعمال کرنے والے بھکاریوں‘ سے متعلق بتایا گیا کہ جو رمضان کے مقدس مہینے میں زکوۃ، صدقات و خیرات سمیٹنے کےلیے سرگرم ہوگئے ہیں اور منظم گروہوں کی شکل میں کام کررہے ہیں۔

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کے قانون کے مطابق، وہاں بھیک مانگنے والوں، بھیک منگوانے والوں اور بھیک منگوانے کی غرض سے مقامی یا غیر مقامی لوگوں کو بھرتی کرنے والوں کےلیے سخت سزا کے علاوہ ان پر ایک لاکھ درہم جرمانہ بھی کیا جا رہا ہے۔

  • پاکستانی شخصیت نے دوسری بیوی کی تلاش کے لیے ویب سائٹ لانچ کردی

    پاکستانی شخصیت نے دوسری بیوی کی تلاش کے لیے ویب سائٹ لانچ کردی

    پاکستان کی ارب پتی شخصیت اور کامیاب انٹرپرینیور آزاد چائے والا نے منفرد ویب سائٹ متعارف کراکر ایک بار پھر سب کو حیران کردیا ہے

    باغی ٹی وی : جی ہاں پاکستانی نوجوانوں کو انٹرپرینیورشپ اور دیگر ہنر فراہم کرنے والی مشہور شخصیت آزاد چائے والا نے دوسری بیوی کی تلاش کے لیے ویب سائٹ لانچ کردی۔

    آزاد چائے والا نے اس بار ایک منفرد اورحیران کن ویب سائٹ سیکنڈ وائف ڈاٹ کام (Secondwife.com) متعارف کروائی گئی ہے، ویب سائٹ مسلمانوں کو ازدواجی خدمات فراہم کرے گی اور اس کے ذریعے مسلمان اسلامی تعلیمات کے مطابق دوسری ،تیسری اور چوتھی شادی کرسکیں گے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ویب سائٹ متعارف کرانے کا مقصد ایسی خواتین کی مدد کرنا ہے جن کو شوہروں کی تلاش ہے اور انہیں ایسے مردوں سے رابطے میں لانا ہے جو دوسری، تیسری یا چوتھی بیوی کی تلاش میں ہیں۔

    آزاد چائے والا نے مزید کہا کہ ہم نے اس پراجیکٹ پر بہت سا پیسہ اور وقت خرچ کیا ہے اور اس کی کامیابی پر بھرپور یقین رکھتے ہیں۔

    خیال رہے کہ اس قبل آزاد چائے والا اپنی ایک ویڈیو میں بتایا تھا کہ وہ شادی کے موضوع پر ایک ویب سائٹ پر کام کر ہے ہیں جس میں gomarry.com انگلش لوگوں کے لئے اور Secondwife.com مسلمانوں کے لئے ہے-

    کروڑ پتی آزاد چائے والا نے بتایا تھا کہ ایک عرصہ آزاد کشمیر میں ٹافیاں بھی بیچی ہیں بارہ سال کی عمر میں انہوں نے بھمبر میں ستاون روپے کی ٹافیاں خریدی اور لوگوں کو بیچی، کچھ عرصہ یہ کام چلا لیکن پھر والد کے کہنے پر انکو یہ کام بند کرنا پڑا انکے مطابق انہوں نے 53 روپے سے شروع ہونے والے کاروبار سے کچھ ہی دنوں میں اپنی والدہ کو تقریباً بائیس سو روپے کما کے دئیے-

    انکا کہنا تھا کہ پندرہ سال کی عمر میں گھریلو مجبوریوں کی وجہ سے انگلینڈ جانا پڑا وہاں اکیس سال کی عمر تک قریب چھ سال ریڑھی لگائی، بطور سیلز مین کام کیا اور مختلف چھوٹے موٹے کام کئے انکا کہنا تھا کہ اس سارے عرصے میں نے آئی ٹی کا کام جاری رکھا اور پھر بائیس سال کی عمر میں اپنا پہلا گیمنگ پروجیکٹ مکمل کر لیا-

    آزاد نے بتایا کہ گیم بنانا انکی زندگی کا بڑا ٹرننگ پوائنٹ تھے اسکے بعد میں دبئی چلا گیا اور کئی اور آئی ٹی پروجیکٹ لانچ کئے آزاد نے مزید بتایا کہ آئی ٹی سے کمانے کے بعد میں نے دبئی اور برطانیہ میں ریل اسٹیٹ میں انویسٹ کیا اور آج یہ پراپرٹیز بھی کروڑوں میں ہے-

    آزاد چائے والا نے نو جوانوں کو پیغام دیا کہ ڈگری کریں مگر ہنر سیکھیں، شروع میں نوکری کریں لیکن اپنا چھوٹا موٹا کاروبار ضرور کریں زندگی میں معاشی کامیابی کا گر کاروبار ہی ہے

  • ائیر کنڈیشنرٹیکنالوجی کی چھٹی: گرمیوں میں گھرکو ٹھنڈا رکھنے والا ‏انتہائی سفید روغن دریافت

    ائیر کنڈیشنرٹیکنالوجی کی چھٹی: گرمیوں میں گھرکو ٹھنڈا رکھنے والا ‏انتہائی سفید روغن دریافت

    انجینئرز نے گرمیوں میں گھروں کی تپش سے چھٹکارا پانے کا سستا طریقہ ڈھونڈ نکالا، دنیا کا ‏انتہائی سفید روغن دریافت کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی :سائنس الرٹ کی رپورٹ کے مطابق سفید ترین روغن ( وائٹیسٹ پینٹ) سے حدت کم ہو جائے گی اور ایئرکنڈیشن ٹیکنالوجی کی ‏ضرورت نہیں پڑے گی۔

    اگرچہ الٹرا بلیک میٹریل آج کل 99.9 فیصد سورج کی روشنی کو جذب کرسکتا ہے ، لیکن یہ نیا سپر سفید کوٹ اس میں آنے والے تمام فوٹون میں سے 95.5 فیصد کی عکاسی کرسکتا ہے۔

    انتہائی سفید روغن 98 فیصد سے بھی زائد سورج کی روشنی کو منعکس کرنے کی صلاحیت رکھتا ‏ہے۔ یہ تناسب بازار سے ملنے والے روغن کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ کارگر ثابت ہو گا۔

    براہ راست روشنی میں گرم ہونے کے بجائے ، اس نئے ایکریلک مادے سے پینٹ کی گئی اشیاء سورج کے نیچے بھی اپنے آس پاس کے درجہ حرارت سے ٹھنڈا رہ سکتی ہیں ، جس سے گھروں کے اندر درجہ حرارت پر قابو پانے کے لئے ایک نئی توانائی سے موثر طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔

    دیگر "حرارت کو مسترد کرنے والے پینٹ” ہمارے پاس فی الحال صرف 80 سے 90 فیصد سورج کی روشنی کی عکاسی کر سکتے ہیں اور وہ ماحول سے کم درجہ حرارت حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔

    اس روغن میں بیریم سلفیٹ نامی کیمیائی مرکب شامل کیا گیا ہے جو کہ حدت کو کم کرتا ہے جو ‏گھر کو گرمی سے بچانے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔

    اس نئی دریافت کے انڈیانا میں بورڈو یونیورسٹی کے انجینئرز نے تیار کیا ہے جن کا دعویٰ ہے کہ ‏اس کے استعمال سے ایئرکنڈیشن کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔یہ ریڈی ایٹو کولنگ کے وسیع پیمانے پر استعمال اور عالمی حرارت کی گرمی کے اثر کو ختم کرنے کے لئے اہم ہے۔

    1970 کی دہائی سے ، سائنس دان یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کس طرح سورج کی روشنی کی عکاسی کی جاسکے لہذا غیر فعال کولنگ ایک فعال ائیر کنڈیشنر سے زیادہ موثر ہے حال ہی میں ، کچھ نے یہاں تک کہ ‘ریورس سولر پینلز’ بھی اکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے ، جو رات کے وقت بھی ، ہیٹ جذب کر کے اسے توانائی میں تبدیل کرسکتے ہیں۔

    لیکن یہ ابھی تک صرف تصورات ہیں اور یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس طرح کے آلات محض نقالی سے باہر کام کرسکتے ہیں کم از کم مستقبل قریب میں رہائشی اور تجارتی عمارتوں کو سپر وائٹ میں پینٹ کرنا زیادہ ممکنہ نقطہ نظر ہوسکتا ہے ،

    دو دن تک مختلف مقامات پر اور مختلف موسمی حالات کے تحت فیلڈ ٹیسٹ کے دوران ، محققین نے پینٹ کی شعاعی ٹھنڈک صلاحیتوں کا تجربہ کیا اور معلوم کیا کہ یہ رات کے وقت محیط درجہ حرارت سے 10 ڈگری سینٹی میٹر اور محیط درجہ حرارت سے کم سے کم 1.7 ڈگری سینٹی میٹر تک ،دوپہر میں سورج کی روشنی کا 95.5 فیصد جذب کر سکتا ہے-

    حادثات سے بچانے والی اینڈرائیڈ ایپلیکیشن

    50 ہزار روپے قیمت رکھنے والاجدید ٹیکنالوجی سے لیس فیس ماسک

    باسی کھانوں اور جان لیوا اعصابی گیسوں کی منٹوں میں شناخت کرنے والا دستی قلم

  • گزشتہ 143 سال میں جاپان سے دریافت ہونے والا پہلا 200 ملی میٹرلمبا جنگلی کنکھجورا

    گزشتہ 143 سال میں جاپان سے دریافت ہونے والا پہلا 200 ملی میٹرلمبا جنگلی کنکھجورا

    ٹوکیو یونیورسٹی اور ہوسی یونیورسٹی کے ماہرین نے مشترکہ طور پر اوکیناوا اور تائیوان کے جنگلات میں بڑی جسامت والے کنکھجورے کی ایک نئی قسم دریافت کی ہے-

    باغی ٹی وی : آن لائن ریسرچ جرنل ’زُوٹیکسا‘ کے حالیہ شمارے میں شائع کردہ رپورٹ کے مطابق کنکھجورے کی یہ نئی نسل پانی کے علاوہ خشکی پر بھی رہ سکتی ہے، یعنی اس کا شمار ’جل تھلیوں‘ (amphibians) قسم کے جانوروں میں ہوتا ہے۔

    اس کا سائنسی نام Scolopendra alcyona ہے جس سے ظاہر ہے کہ اس کا تعلق بڑی جسامت والے کنکھجوروں کی جنس ’اسکولوپینڈرا‘ (Scolopendra) سے ہے جبکہ اس کی نوع ’ایلسایونا‘ (alcyona) ہے۔

    گزشتہ 143 سال میں یہ جاپان سے دریافت ہونے والا پہلا نیا کنکھجورا ہے جس کی لمبائی 200 ملی میٹر (20 سینٹی میٹر) اور موٹائی 20 ملی میٹر (2 سینٹی میٹر) جتنی ہے اسے جاپان میں ’رایوکو‘ جزائر کے سلسلے میں واقعات جنگلات سے دریافت کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ کنکھجوروں کی جنس ’اسکولوپینڈرا‘ کی اب تک تقریباً 100 انواع دریافت ہوچکی ہیں جن میں سے بیشتر منطقہ حارہ کے جنگلات میں پائی جاتی ہیں اس کے باوجود، اب تک جاپان اور تائیوان کے جنگلات میں ان کنکھجوروں کی صرف پانچ اقسام ہی دریافت ہوسکی ہیں۔

    اسکولوپینڈرا بڑی جسامت کے خطرناک کنکھجورے ہوتے ہیں جو بعض اوقات اپنے سے بڑی جسامت والے جانوروں اور کیڑے مکوڑوں پر حملہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

    ان کی بیشتر اقسام بھربھری مٹی میں بل بنا کر رہتی ہیں جبکہ نئی دریافت ہونے والی نوع سمیت، صرف تین اقسام ہی ایسی ہی جو بیک وقت خشکی اور پانی میں رہنے کے قابل ہیں۔

    ماہرین کے مطابق ان کی یہ قسم خطرے سے دوچار ہے ، اور فی الحال جنگل کی نہروں میں آباد ہے جہاں لوگ نہیں جاتے ہیں۔ ٹیم کو امید ہے کہ وہ کو محفوظ رکھتے ہوئے ایک فاصلے سے ان کی نگرانی اور اس کا مطالعہ جاری رکھے گے۔