Baaghi TV

Category: متفرق

  • مصر میں تین ہزار سال قبل ریت میں دبنے والا ’گمشدہ سنہری شہر‘ دریافت

    مصر میں تین ہزار سال قبل ریت میں دبنے والا ’گمشدہ سنہری شہر‘ دریافت

    ماہرین نے تحقیق کے دوران مصر کے ریگستانی علاقے سے 3 ہزار سال پُرانا’گمشدہ سنہری شہر‘ دریافت کرلیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مصر کی ارضیاتی تاریخ کے ماہر زاہی ہواس نے مصری بادشاہوں کی مشہور وادی لکسور کے قریب ریت میں دبا تین ہزار سال قدیم شہر دریافت ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مصر کی ماہرین آثار قدیمہ یہ قدیم شہر توتخ عنج آمون کے مقبرے کے بعد ملنے والا سب سے اہم اور تاریخی دریافت ہے ریت میں ہزاروں سال سے دبا یہ شہر ’’توتخ عنک آمون‘‘ کا شہر ہے۔

    اس حوالے سے آثار قدیمہ کے پروفیسر بیٹسی برائن نے بتایا کہ یہ شہر تین ہزار سال قبل ریت میں دب گیا تھا یہاں سے زیورات، رنگوں کے برتن، تصویری اینٹیں اور مٹی کی اشیاء برآمد ہوئی ہیں ان تمام چیزوں پر نویں فرعون آمون ہاٹپ کی مہر ثبت ہیں۔

    مصر میں ​​نوادرات کے سابق وزیر ہواسس نے اس دریافت کو قابل فخر کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے غیر ملکی مشن آئے اور یہاں کھدائی کرکے گمشدہ شہر کی تلاش کی لیکن کوئی بھی کامیاب نہیں ہوسکا تھا۔

  • ایک درخت پر بیک وقت 300 الگ الگ اقسام کے آم اگانے والا مینگو مین

    ایک درخت پر بیک وقت 300 الگ الگ اقسام کے آم اگانے والا مینگو مین

    لکھنو: ملیح آباد کے 81 سالہ حاجی کلیم اللہ خان نے آم کے ایک درخت پر بیک وقت 300 الگ الگ اقسام کے آم اُگا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے حاجی کلیم اللہ خان بتاتے ہیں کہ سات اقسام کے آم دینے والا ایک درخت وہ 1957 میں اس وقت اُگا چکے تھے جب وہ خود 17 سال کے تھے اور ساتویں جماعت میں فیل ہونے کے بعد اپنے پشتینی باغ میں آموں کی کاشت سے کل وقتی طور پر وابستہ ہوچکے تھے لیکن’’بدقسمتی سے وہ درخت سیلاب کی نذر ہوگیا،‘‘

    کلیم اللہ خان نے کہا آئندہ تیس سالہ تک آم کی کاشت میں تجربہ اور نمایاں مقام حاصل کرنے کے بعد، 1987 میں انہوں نے ایک بار پھر اپنے لڑکپن کے ادھورے منصوبے کو مکمل کرنے کی ٹھان لی تاہم اب کی بار انہوں نے اپنے پشتینی باغ میں آم کے ایسے درخت کا انتخاب کیا جو 100 سال پرانا اور بہت بڑا تھا۔

    وہ الگ الگ اقسام والے آموں کے درختوں کی شاخیں کاٹ کر انہیں قلموں کی شکل دیتے اور اس درخت کی کسی نہ کسی شاخ پر لگا دیتے۔

    وہ اوسطاً ہر مہینے اس درخت میں ایک نئی قسم کی قلم کا اضافہ کردیتے؛ اور یوں بالآخرمیں تقریباً پچیس سال میں وہ درخت ایک ہی وقت میں 300 سے زائد اقسام کے آم دینے کے قابل ہوگیا، جسے بھارت کی ’’لمکا بُک آف ریکارڈز‘‘ میں بھی درج کرلیا گیا۔

    آج یہ درخت اتنا بڑا ہوچکا ہے کہ اس کے سائے تلے 15 افراد بہت آرام سے پکنک منا سکتے ہیں جبکہ اس کی ہزاروں شاخیں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔

    آموں سے اپنے عشق اور آموں کی کاشت میں غیرمعمولی مہارت کی بناء پر حاجی کلیم اللہ خان کو ’’آم آدمی‘‘ کا لقب بھی مل چکا ہے۔

    بعض لوگوں کو اعتراض ہے کہ کلیم اللہ خان کا یہ کارنامہ صرف نمائشی ہے جس کا کوئی مالی فائدہ نہیں۔ لیکن دیگر افراد کہتے ہیں کہ ہر چیز کا فائدہ پیسے کے ترازو میں تولا نہیں جانا چاہیے۔

    اس کارنامے پر حاجی کلیم اللہ خان کو بھارتی حکومت کی جانب سے 2008 میں ’’پدماشری‘‘ اعزاز بھی دیا جاچکا ہے۔

  • کیا منی پلانٹ لگانے سے گھر میں دولت کی ریل پیل ہو جاتی ہے؟

    کیا منی پلانٹ لگانے سے گھر میں دولت کی ریل پیل ہو جاتی ہے؟

    منی پلانٹ کا نام تو سب نے سنا ہوگا ۔منی پلانٹ سے متعلق کئی باتیں منسوب بھی کی جاتی ہیں منی پلانٹ کا سائنسی زبان میں نباتاتی نام ایپی پرینیم منی پلانٹ کہتے ہیں منی پلانٹ ایک آرائشی، سرسبز، خوبصورت اور سدا بہار بیل ہے یہ پانی میں بھی اگائی جا سکتی ہے اور مٹی میں بھی۔ اِس کی خاص بات یہ ہے کہ اِس پر نہ کوئی پھل لگتا ہے اور نہ پھول۔ لیکن اگر یہ جنگل میں اگا ہو تو اِس پر بہت دیر بعد پھول لگ جاتے ہیں اور ایسا ہونا بہت نایاب ہے اس کا وطن جنوب مشرقی ایشیائی ممالک ہیں۔ اسے بڑھنے کے لیے گرم مرطوب موسم مون سون پسند ہے۔

    پودوں کو تین بنیادی نیوٹرینٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔ پہلا نائیٹروجن دوسرا پوٹاشیم اور تیسرا فاسفورس۔ نائیٹروجن سے پودے میں ہریالی آتی ہے یعنی پتے وغیرہ بہت اگتے ہیں۔ پوٹاشیم سے جریں شاہیں اور تنہ وغیرہ مضبوط ہوتے ہیں اور شاہیں ذیادہ اگتی ہیں اور فاسفورس سے پھول اور پھل بہت ذیادہ اگتا ہے منی پلانٹ کو کسی بھی خاص کھاد کی ضرورت نہیں ہوتی آپ اِس کو صرف پانی میں بھی لگا دیں تو یہ پھلتا پھولتا رہے گا۔

    منی پلانٹ کے فوائد:
    منی پلانٹ اپنی خوراک ہوا سے ہی حاصل کر لیتا ہے۔ اِس کی خاص بات یہ بھی ہے کہ جس گھر میں یہ لگا ہو اُس گھر میں جتنی بھی مضر صحت گیسیں ہوتی ہیں منی پلانٹ اُس کو جزب کر لیتا ہے اوراُن کو اپنی خوراک بنا لیتا ہے اور گھر کا ماحول بھی تازہ اور خوشگوار رہتا ہے۔ اِس کی ایک اور خاص بات جو دوسرے پودوں سے منفرد ہے وہ یہ کے دوسرے پودے دن میں اپنے اندر سے اوکسیجن باہر نکالتے ہیں اور کاربنڈائی اوکسائیڈ اپنے اندر جزب کرتے ہیں اور رات کو اوکسیجن اور کاربنڈائی اوکسائیڈ دونوں ہی جزب کرتے ہیں۔ لیکن منی پلانٹ دن میں بھی اوکسیجن خارج کرتا ہے اور رات میں بھی اوکسیجن ہی خارج کرتا ہے۔ جس سے گھر کے ماحول میں تازگی رہتی ہے۔

    منی پلانٹ لگانے کا طریقہ:
    منی پلاٹ گملے میں بھی لگا سکتے ہیں اور پانی میں بھی اگر گملے میں لگانا ہے تو گملے میں مٹی بھر لیجیے اور اگر پانی میں لگانا ہے تو کسی بوتل وغیرہ میں پانی بھر لیجیے۔ اس کے بعد آپ کو منی پلانٹ کی بیل کا ایک چھوٹا ٹکرا چاہیے ہو گا۔ وہ بیل کا چھوٹا ٹکڑا آپ اپنی لوکل نرسری سے بھی حاصل کر سکتے ہیں یا پھر اگر آپ کے آس پاس کسی نے منی پلانٹ لگایا ہوا ہے تو آپ اُن سے بھی بیل کا ایک چھوٹا ٹکڑا لے سکتے ہیں۔ اُس کی لمبائی کم از کم دو اینچ ہونی چاہیے۔ اب اُس بیل کے ٹکرے پر اگر پتے لگے ہوئے ہیں تو اُن کو اتار لیں صرف سرے پر جو چھوٹے پتے لئے ہوں اُن کو نہ اتاریں۔ اب آپ اِس بیل کو گملے میں لگا لیں اور کسی چھاوں والی جگہ پر رکھ دیں جہاں سورج کی روشنی آتی ہے۔

    لیکن یاد رہے کہ اِس کو دھوپ میں نہیں رکھنا۔ اسی طرح آپ اِس کو پانی میں بھی لگا سکتے ہیں۔ ایک بوتل لیں اور اُس میں پانی ڈال دیں۔ اِس کے بعد اُس بوتل میں بیل ڈال دیں۔ اور اُس کو کسی چھائوں والی جگہ پر رکھ دیں جہاں سورج کی روشنی آتی ہو۔ بیل لگانے کے ایک یا دو ہفتے کے اندر اندر آپ کی بیل کی جڑیں نکل آئیں اور آپ کی بیل بڑھنے شروع ہو جائے گی اور اُس پر نئے پتے بھی لگنے شروع ہو جائیں گے۔

    منی پلانٹ کے بارے میں اختیاطی تدابیر:
    اگر آپ نے پانی میں منی پلانٹ لگایا ہے تو جس بوتل وغیرہ میں بھی آپ نے منی پلانٹ لگایا ہے اُس میں پانی کا لیول برکرار رکھیں یعنی اگر پانی ختم ہو رہا ہو تو اُس بوتل میں دوبارہ پانی بھر دیں اگر گملے میں منی پلانٹ لگایا ہے تو اُس کو روز پانی دیں لیکن یہ یاد رہے کہ پانی گملے میں کھڑا نہیں ہونا چاہیے۔ اگر پانی گملے میں کھڑا رہا تو آپ منی پلانٹ کی جڑیں گل جائے گئیں اور وہ مرجھا جائے گا منی پلانٹ کی بیل اور پتے بہت بد ذائقہ ہوتے ہیں۔ اِس لیے کبھی غلطی سے بھی اُن کو نہ چکھیں۔

    منی پلانٹ کے بارے میں مفروضات:
    نام کی مناسبت سے یہ خیال بھی عام ہے کہ منی پلانٹ لگانے سے گھر میں دولت کی ریل پیل ہو جاتی ہے تاہم پودے بیچنے والوں کی نظر میں منی پلانٹ لگا کر امیر ہوجانے کی بات میں کوئی صداقت نہیں البتہ کہا جاتا ہے کہ صحت بڑی دولت ہے تواس لحاظ سے دیکھا جائے تومنی پلانٹ واقعی بڑا دولت بخش پودا ہے ۔ گھر کے ماحول میں چوبیس گھنٹے وافر آکسیجن سے گھر بھر تروتازہ اورہشاش بشاش رہتا ہے۔

  • پاکستان کے ساحلوں پر اچانک بڑی تعداد میں جیلی فش کیوں نظر آنے لگیں؟

    پاکستان کے ساحلوں پر اچانک بڑی تعداد میں جیلی فش کیوں نظر آنے لگیں؟

    چند روز قبل پاکستان کے صوبہ سندھ اور بلوچستان کے ساحلوں پر اچانک بڑی تعداد میں مردہ جیلی فش نظر آنے لگیں۔

    باغی ٹی وی :ایک فٹ سے لے کر نصف فٹ چوڑی اور کلو سے ڈیڑھ کلو وزنی یہ سمندری حیات سمندری لہروں کے ساتھ تیرتی ہوئی کراچی کے سی ویو سے لے کر بلوچستان کے اوڑماڑہ ساحل تک دیکھی گئیں۔

    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جیلی فش آخر آئی کہاں سے اور ان کا ساحلوں پر اس طرح نمودار ہونے کا کیا مطلب ہے؟

    اس حوالے سے غیر ملکی خبر رساں ادارے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے جنگلی حیات کے عالمی ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے معاون معظم خان کا کہنا ہے کہ جب سمندر میں جیلی فش کی تعداد بڑھی تو ماہی گیروں نے اس کا فائدہ اٹھانا شروع کیا اور اس کی ہارویسٹنگ کا آغاز ہو گیا۔

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اسے نمک اور پھٹکڑی لگا کر چین برآمد کیا جاتا ہے برآمد ہونے والی جیلی فش کی دو اقسام ہیں ایک کو ‘اصلی’ اور ایک کو ‘جنگلی’ کہا جاتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ چین کی مارکیٹ میں کویوڈ کی وجہ سے مندی کا رجحان ہے اور کویوڈ کے بعد انھوں نے برآمدات پر بھی کچھ پابندیاں لگائی ہیں اس لیے پاکستان سے وہاں جیلی فش جا نہیں رہی یا کم جا رہی ہے اس لیے اس موسم میں ماہی گیروں نے اس کی ہارویسٹنگ نہیں کی اور یہ مردہ حالت میں ساحلوں تک پہنچ گئیں۔

    معظم خان کے مطابق پاکستان میں جیلی فش کی پچاس سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں جو سندھ کی کریکس سے لے کر بلوچستان کی کلمت تک پھیلی ہوئی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ جس طرح پہاڑوں پر پھول کھلتے ہیں اس طرح سمندر میں جیلی فش کا بلوم آتا ہے جس کی وجہ سے یہ بڑی تعداد میں ملتی ہیں۔15 سال پہلے تک یہ اس تعداد میں نہیں ملتی تھیں اور اس کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تغیر ہے۔

    ان کے مطابق اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر مچھلی کا شکار اور وہ سمندری حیات جو جیلی فش کو خوراک کے طور پر استعمال کرتی ہیں ان کی تعداد میں کمی بھی جیلی فش کی تعداد میں اضافے کے ایک وجہ سمجھی جاتی ہے۔

    بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے ساحل پر ماہی گیر جال لگا کر بھی مچھلیاں پکڑتے ہیں سی ویو پر بھی ایک درجن کے قریب ماہی گیر ایک طویل جال سمندر میں لے گئے اور وہاں سے کھینچ کر کنارے تک لائے اور اس میں سے جیلی فش نکال نکال کر ساحل پر پھینکتے رہے۔

    ایک ماہی گیر آفتاب نے بتایا کہ مارچ سے لے کر مئی، جون تک جیسے جیسے پانی کی سطح بلند ہوتی ہے اور یہ گرم ہوتا ہے یہ جیلی فش ساحل کی طرف آتی ہیں

    آفتاب نے بتایا کہ عام دنوں میں جال میں مچھلی زیادہ آتی ہے لیکن ان دنوں میں جیلی فش بھی آ جاتی ہے، پہلے یہ جیلی فش چین خرید لیتا تھا ابھی ان کا بھاؤ نہیں اس لیے ہم اس کو پکڑ کر باہر پھنیک دیتے ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ایک ایسا وقت بھی تھا جب چین والوں کو جیلی فش کی طلب ہوئی تو ماہی گیروں نے مچھلی چھوڑ کر اس کا کاروبار شروع کر دیا اور ساحل پر جال لگا کر مچھلی پکڑنے والوں سے لے کر کشتی والے ماہی گیروں تک بس اس کا شکار کرتے رہے لیکن آج کل اسے کوئی نہیں خریدتا۔

    کراچی یونیورسٹی کے شعبے میرین سائنس کی سربراہ ڈاکٹر راشدہ قادری کا کہنا ہے کہ جیلی فش میں اضافے کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں Eutrophication یعنی پانی میں معدنیات اور نشوونما کے اجزا شامل ہو جانا، سیوریج سمندر میں جانے سے سمندری نباتات بڑھنا، اس کے علاوہ انسانی سرگرمیاں اور سمندری درجہ حرارت میں اضافہ شامل ہیں۔

    ’اگر ان کو کنٹرول کیا جائے تو جیلی فش کی تعداد معمول پر آ سکتی ہے۔‘

  • پینٹ شرٹ پہننے والے ہاتھی کے سوشل میڈیا پر چرچے

    پینٹ شرٹ پہننے والے ہاتھی کے سوشل میڈیا پر چرچے

    آپ نے چھوٹے پالتو جانوروں جیسے بلی، کتا یا بکریوں کو تو کپڑے پہنے دیکھا ہو گا لیکن کیا آپ نے کبھی ہاتھی کو پینٹ شرٹ پہنے دیکھا ہے؟اگر نہیں تو آج ہم آپ کو خشکی کے سب سے بڑے جانور کو پینٹ شرٹ میں دکھائیں گے۔

    باغی ٹی وی :بھارت کے ارب پتی تاجر آنند مہندرا کی جانب سے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر ہاتھی کی پینٹ شرٹ پہنے ایک تصویر شیئر کی گئی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی۔


    سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہاتھی نے جامنی رنگ کی شرٹ اور سفید رنگ کی پینٹ پہن رکھی ہے لیکن اس سے بھی دلچسپ بات یہ کہ ہاتھی نے بیلٹ بھی باندھ رکھا ہے جب کہ مہاوت (ہاتھی کے نگہبان) نے لنگی پہن رکھی ہے۔

    ہاتھی کی پینٹ شرٹ والی تصویر کو صارفین کی جانب سے جہاں بہت زیادہ پسند کیا جا رہا ہے وہیں اس پر دلچسپ تبصرے بھی کیے جا رہے ہیں۔

  • آپ دیکھنے کے خواہشمند ہیں کہ آپکے دنیا چھوڑ جانے والے عزیز و اقارب حرکت کرتے کیسے نظر آتے تھے؟

    آپ دیکھنے کے خواہشمند ہیں کہ آپکے دنیا چھوڑ جانے والے عزیز و اقارب حرکت کرتے کیسے نظر آتے تھے؟

    تو مائی ہیراٹیج نامی ویب سروس کمپنی کی جانب سے متعارف کردہ ڈیپ نوسٹالجیا ٹیکنالوجی نے ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے جس میں آپ دیکھ سکیں گے آپ کے دنیا چھوڑ جانے والے عزیز و اقارب حرکت کرتے کیسے نظر آتے تھے-

    باغی ٹی وی : مائی ہیراٹیج نامی ویب سروس کمپنی کی جانب سے متعارف کردہ ڈیپ نوسٹالجیا ٹیکنالوجی کی وجہ سے سوشل میڈیا پر پرانی تصویریں بھی حرکت کرتی خاصی وائرل ہورہی ہیں۔

    حال ہی میں متعارف کروائی گئی ڈیپ نوسٹالجیا ٹیکنالوجی کے لیے اے آئی(آرٹیفیشل انٹیلیجنس) استعمال کی گئی ہے جس کے تحت وہ سسٹم پر اپ لوڈ کی جانے والی تصویروں کو خود بخود متحرک کردیتی ہے۔


    آسان اور فری ٹرائل کے باعث نئی ٹیکنالوجی ٹوئٹر پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے جہاں صارفین اپنی پرانی خاندانی، اہم شخصیات حتیٰ کہ ڈرائنگ اور السٹریشن کا بھی اینیمیٹڈ ورژن اپلوڈ کررہے ہیں۔


    کئی صارفین کی جانب سے ڈیپ نوسٹالجیا کے فیچرکو ایک جادو قرار دیا جارہا ہے جب کہ کچھ صارفین اسے خوفزدہ قرار دیتے ہوئے اس ٹیکنالوجی کے لیے ناپسندیدگی کا اظہار کررہے ہیں۔


    https://twitter.com/sheppeyescapee/status/1366031504653090816?s=20


    ایک صارف نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ’جعلی ویڈیوز واقعی میں 2020 میں ہونے والی پریشان کن چیزوں میں سے ایک ہے۔ٹیکنالوجی میں تیزی سے بہتری آرہی ہے اور ہمیں اس کے غلط استعمال اور جعلی خبروں کو روکنے کے لیے قوانین اور قانون سازی کی ضرورت ہے۔‘


    ایک صارف نے لکھا کہ ٹیکنالوجی ایک ایسا آلہ ہے جو برے اور اچھے دونوں کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ڈیف فیک ٹیکنالوجیز غلط معلومات پھیلانے کے لئے مشہور ہیں لیکن یہ دیکھنے میں دلچسپ ہے کہ اسے اچھ .ے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے میرا ورثہ
    نامی ایک ویب سائٹ ، نے حال ہی میں دیپ نسٹالجیا کو جاری کیا ، جو تصاویر میں چہروں کو متحرک کرتا ہے-


    انہوں نے مزید لکھا کہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی ایک بہت بڑا حفاظتی مسئلہ بن جائے گی۔جھے یقین ہے کہ مستقبل قریب میں اصلی فلم کو ڈیجیٹل انداز میں بدلا جانے سے الگ کرنے کے لئے ہم کسی بھی طرح سے ویڈیو تصدیق نامے کے سامنے آئیں گے۔

    جبکہ کمپنی کا نئی ٹیکنالوجی سے متعلق کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے لاعلم رہنا خاصا مشکل ہے، اس ٹیکنالوجی کا مقصد پرانی یادوں کا ایک طرح سے استعمال ہے جو کہ آپ کے آباؤاجداد کو ایک بار پھر آپ کے سامنے متحرک کردیتاہے۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ٹام کروز کے ہمشکل کی ٹک ٹاک ویڈیو کے چرچے

  • نقشہ برائے عوام، ٹریفک پولیس کراچی

    نقشہ برائے عوام، ٹریفک پولیس کراچی

    ازدفتر ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس ٹریفک کراچی

    مورخہ 13 رجب المرجب 1442 ہجری(26 فروری2021) بوقت 1600 بجے ایک جلوس بسلسلہ ولادت حضرت علی کرم اللہ وجہہ غفور چیمبر سے نکالا جائے گا جو محفل شاہ خراساں پر اختتام پزیر ہوگا:۔
    جلوس کا روٹ:
    غفور چیمبر ، عبداللہ ہارون روڈ، شارع عراق، زیب النساء اسٹریٹ، آغا خان روڈ، ایم اے جناح روڈ، فادر جیمنس روڈ تا شاہ خراساں۔
    متبادل راستے
    بہادر یار جنگ روڈ استعمال کرنے والے
    گرومندر سولجر بازار نمبر 3 سگنل ، سولجر بازار نمبر 2 سگنل سے آنے والی ٹریفک کو سولجر بازار نمبر 1 سگنل
    کوسٹ گارڈ ، انکل سریا سگنل سے ہوتے ہوئے اپنی منزل کی طرف جا سکتے ہیں۔

    ایم اے جناح روڈ استعمال کرنے والے
    ٹاور ، فریسکو، عید گاہ چوک سے ایم اے جناح روڈ آنے والی ٹریفک کو ڈاکخانہ سے بائیں جانب جوبلی سے نشتر روڈ کی طرف موڑ دیا جائے گا۔ یا تبت سینٹر دائیں جانب ریگل چوک کی طرف جا سکیں گے۔

    عبداللہ ہارون روڈ استعمال کرنے والے
    فوارہ چوک ، زیب النساء مارکیٹ سے آنے والی ٹریفک کو پیراڈائز سگنل سے بائیں جانب پاسپورٹ آفس یا دائیں جانب صدر یا لکی اسٹار کی طرف موڑ دیا جائے گا۔

    آغا خان سوئم روڈ استعمال کرنے والے
    نشتر روڈ، گارڈن باغیچہ سے آنے والی ٹریفک کو گارڈن چوک سے دائیں جانب ایم اے جناح ، تبت چوک سے بائیں جانب ریگل چوک سے اپنی منزل کی طرف جا سکیں گے۔
    عوام الناس سے گذارش ہے کہ زحمت اور پریشانی سے بچنے کے لیے نیو ایم اے جناح روڈ (صدر دواخانہ سے پی پی چورنگی )۔ نشتر روڈ (گارڈن باغیچہ سے لسبیلہ )اور بہادر یار جنگ روڈ (گرومندر سے سولجر بازار 1 نمبر سگنل سے انکل سریا) کے متبادل راستوں کا انتخاب کریں.

  • باغی بنا مظلوم کی آواز، ملیر کے علاقے چمن کالونی میں پانی کی عدم فراہمی

    باغی بنا مظلوم کی آواز، ملیر کے علاقے چمن کالونی میں پانی کی عدم فراہمی

    کراچی: ملیر کے علاقے کھوکھراپار چمن کالونی یوسی 12 میں گزشتہ 20 روز سے پینے کے پانی سے علاقہ مکین محروم

    ملیر کھوکھراپار چمن کالونی یوسی 12 میں سوریج لائن کی کھدائی کے دوران واٹر بورڈ کی مین لائن کو نقصان پہنچا،
    جس پر علاقہ مکین کی جانب سے واٹر اینڈ سیوریج کے اعلیٰ عہدیداران کو بھی آگاہ کیا گیا
    چند دن بعد واٹر بورڈ کے عملے نے سروے کیا، سروے کے بعد دو جگہ سے متاثر شدہ لائن کو جوڈ دیا گیا،
    جو پانی کی سپلائی بحال ہونے کے بعد پھر متاثر ہوگئی
    واٹر بورڈ کی جانب سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے
    جس کی وجہ سے سیوریج لائن کا کام متاثر ہونے سے علاقے کی مین سڑک متاثر ہونے سے ٹرانسپورٹ اور کاروبار بھی متاثر ہے رہائشیوں کو بھی سخت پریشانی کا سامنا ہے.

    گہرے گڑھوں میں پانی جمع ہونے سے چھوٹے بچوں کا گرنے اور کسی بھی حادثے کا بھی خدشہ ہے

    وزیر بلدیات اس پر فوری نوٹس لیں اور کام کو جلد مکمل کروائیں۔

  • ہمارے  بچے  کہاں  غائب   ہوتے ہیں؟

    ہمارے بچے کہاں غائب ہوتے ہیں؟

    ہمارے بچے کہاں غائب ہوتے ہیں؟
    کبھی یہ سوال ہمارے دل و دماغ میں کیوں نہیں آتا؟

    اگر آتا بھی ہے تو شاید اپنے ہی مسائل میں الجھا ہوا انسان اس کو نظر انداز (ignore) کر دیتا ہے؟

    آج،
    ہم یہ جاننے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ ہمارے بچے کہاں غائب ہوتے ہیں؟

    بچوں کے غائب (missing) ہونے کا آغاز پیدا ہوتے ہی زچگی خانہ ( maternity hospital ) سے ہی شروع ہو جاتا ہے _
    غریب والدین کی غربت و افلاس کا فائدہ اٹھاکر چند ہزار روپے میں بچہ کو خریدا جاتا ہے __
    اس میں عیسائی مشینریز اور بچوں کے کاروبار کرنے والی ٹولیاں ہو تی ہیں _
    جو،
    بہت ہوشیاری اور خاموشی سے گدھ (vulture) کی طرح دواخانوں میں منڈلاتے رہتی ہیں.

    عیسائی طبقہ
    کی آبادی صرف دو فیصد ہے _ جو،
    اپنے یتیم خانوں کو بھرنے کے لئے غریب بچوں کو خریدتے ہیں. _
    اس طرح ،
    ہمارے بچے عیسائی ہوجاتے ہیں.

    بچوں کے غائب ہونے کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ پورے ملک میں بچوں کو اغواء کرنے والی ٹولیاں گھومتے رہتی ہیں ،
    جو۔۔۔،
    امیر غریب کسی کے بھی بچوں کا اغواء کرتے رہتی ہیں_
    اس میں بھی ہمارے بچوں کی قابل لحاظ تعداد ہوتی ہے _
    اس بارے میں بھی آج تک کسی کو غور کرنے کی بھی توفیق نہیں ہوئی.

    کسی بھی سماج (society)کا تقریباً تیس فیصد حصہ نفسیاتی مریضوں ( psychiatric patients ) پر مشتمل ہوتا ہے _
    جس کی غالب اکثریت بغیر کسی علاج کے زندگی گزارتے رہتی ہے.

    یہ نفسیاتی مریض شادی بھی کرتے ہیں.
    بچے بھی پیدا کرتے ہیں _
    پھر یہی بچے ان نفسیاتی مریضوں کے مظالم کا شکار بنتے ہیں.
    نفسیاتی مریض کا سب سے بڑا مسلہ یہ ہو تا ہے کہ یہ بہت غیر ذمہ دار ہوتے ہیں _
    یہ ملازمت ، نوکری ، تجارت ، محنت مزدوری کسی معاملے میں سنجیدہ نہیں ہوتے _
    بلکہ،
    ان کی بڑی تعداد شراب ، چرس، گانجہ، جوا یا کم از کم بیکاری اور رضاکارانہ بیروزگاری کی عادی ہوتی ہے _

    ایسے گھروں کے بچے باپ کے مظالم کا شکار ہو تے ہیں _

    آخرکار باپ کے مظالم ، غربت و افلاس اور بھوک سے تنگ آکر گھر سے بھاگ جاتے ہیں __

    گھر سے بھاگے ہوئے یہ مظلوم بچے انسانی درندوں اور گدھوں کا شکار ہوجاتے ہیں _

    جو بڑے ہوکر عادی مجرم بن جاتے ہیں.

    حسب روایت،
    ہم حکومت کو اس کا ذمہ دار قرار دے کر اپنی ذمہ داریوں سے فرار ہو گئے.

    کسی بھی اخبار میں اس کے اسباب پر کوئی ایک تحریر بھی نہیں آئی اور نہ ہی اس کے تدارک پر غور کیا گیا.

    سوشیل میڈیا کے ذریعہ اپنی قوم کے شعور اور ضمیر کو بیدار کرنا ضروری ہے _
    پہلے،
    یہ تو سمجھنا چاہیے کہ ہمارے مسائل کیا ہیں؟
    اور ان کا حل کیا ہے.؟

    ہر شہر ، ٹاؤن اور گاؤں میں مسلم یتیم خانہ ہونا بہت ضروری ہے _
    جہاں یتیم اور بےسہارا غریب بچوں کو پناہ مل سکے _
    ہماری قوم کا کوئی بچہ یتیم اور بے سہارا ہو جائے تو سب سے پہلے اسے سر چھپانے کے لئے محفوظ پناہ گاہ ہونا انتہائی ضروری ہے __
    جہاں اس کا معصوم بچپن محفوظ اور سلامت رہے.
    ایک یتیم اور بے سہارا بچہ کے لئے کھانے سے بڑھ کر رات کی پرسکون نیند ہوتی ہے_
    جسے فراہم کرنا ملت کی اولین ذمہ داری ہے.

    ہر شہر ، ٹاؤن ، اور گاؤں میں ایسے چھوٹے چھوٹے ہی سہی ادارے ضرور قائم کریں _
    اگر آپ کا بجٹ بہت کم بھی ہوتو مسلہ نہیں ہے.
    بچوں کو سرکاری اسکول میں داخل کریں _
    باقی آپ حسب استطاعت کچھ کریں _
    قوم کے صاحب حیثیت لوگوں سے رجوع ہوں ،
    ہمت کریں،
    معاون اور مددگار مل جائیں گی.
    انشاء اللہ۔۔

    یہ بچے۔۔۔
    جن کا بچپن گدھوں اور بھیڑیوں نے نوچ نوچ کر چھین لیا تھا_
    بڑے ہو کر جیلوں میں ہی زندگی گزار تے ہیں _
    جیل کی زندگی کیا ہوتی ہے _
    سارے مجرم ایک جگہ جمع ہوتے ہیں
    __ چرس ، گانجہ اور بدفعلی جیل کی زندگی کا خلاصہ ہے.

    جس سے عادی مجرم ایسے مانوس ہوجاتے ہیں،
    کہ
    تاحیات جیل ان کا گھر آنگن بن جاتا ہے.

    اگر ہم چاہتے ہیں کہ جیل میں ہمارا گراف کم ہو،
    تو،
    اس کا حل صرف یہی ہے کہ اپنی قوم کے بچوں سے محبت کرو.
    ان کے معصوم بچپن کا تحفظ کریں __
    ان شاء اللہ۔۔۔۔
    بڑے ہوکر وہ جیل جانے کے بجائے خیر امت کا کردار ادا کریں گے.

    اگر ہم مسلمان باعزت اور باوقار زندگی گزارنا چاہتے ہیں،
    تو کرپشن اور بدعنوانی سے پاک یتیم خانے قائم کرکے اس مسلہ کا حل تلاش کریں.

    قاضی : محمد قاسم اعوان

  • چینی موبائل فون کمپنی انفنکس انتظامیہ کی جانب سے مردوں کے بیلے ڈانس کا اہتمام

    چینی موبائل فون کمپنی انفنکس انتظامیہ کی جانب سے مردوں کے بیلے ڈانس کا اہتمام

    مشہور اردو کہاوت ہے اونچی دکان پھیکا پکوان تاہم اب حال ہی میں اس کہاوت کی ایک حقیقی سائیڈ اس وقت سامنے آئی جب پاکستان میں موبائل فون فروخت کرنے والی چینی کمپنی انفنکس موبائل فون نے 35 سے زائد ڈیلرز کو پانچ روزہ مالدیپ کا ٹور دیا-

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق پاکستان میں موبائل فون فروخت کرنے والی چینی کمپنی انفنکس موبائل فون 35 سے زائد ڈیلرز کا پانچ روزہ مالدیپ کا ٹور دیا اس ٹور کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں پانی کی سیر کے علاوہ چینی موبائل فون کمپنی Infinixانتظامیہ کی جانب سے مردوں کے بیلے ڈانس کا اہتمام بھی کروایا گیا-


    ٹور میں شامل ڈیلرز نے بتایا ہے کہ تاریخ میں پہلی دفعہ مردوں کا بیلی ڈانس کرایا گیا ہے اور بیلی ڈانس کے دوران وہ جو گیت بول رہے تھے اگر اس کا ترجمہ کروائیں تو اس کا بھی یقیناً کچھ شاندار ہی مطلب نکلے گا-