Baaghi TV

Category: متفرق

  • بلوچستان میں پاکستان کا تیز رفتار انسدادِ دہشت گردی ردِعمل، تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    بلوچستان میں پاکستان کا تیز رفتار انسدادِ دہشت گردی ردِعمل، تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    کیا ہوا — اور یہ کیوں اہم ہے
    حالیہ دنوں میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) نے ایک غیر معمولی اور پرخطر قدم اٹھایا: بلوچستان کے 12 سے 16 شہروں اور قصبوں میں بیک وقت مربوط حملوں کی کوشش۔ مقصد واضح تھا—بدامنی پھیلانا، اپنی طاقت کا تاثر دینا، اور بھرتی کے بیانیے کو دوبارہ زندہ کرنا۔
    لیکن اس کے برعکس جو ہوا، وہ حالیہ برسوں میں پاکستان کے تیز ترین اور فیصلہ کن انسدادِ دہشت گردی اقدامات میں سے ایک تھا۔
    48 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں، پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے:
    تقریباً 200 دہشت گردوں کو ہلاک کیا
    بڑی تعداد میں کارندوں کو گرفتار کیا
    دوبارہ منظم ہونے یا فرار کو روکنے کے لیے ہاٹ پرسوٹ آپریشنز شروع کیے
    عالمی انسدادِ دہشت گردی کے تناظر میں یہ ردِعمل اس لیے نمایاں ہے کہ یہاں صرف اعداد نہیں، بلکہ رفتار، ہم آہنگی اور نظامی خلل کی گہرائی اہم ہے۔

    آپریشنل پھیلاؤ (نقشہ جاتی وضاحت)
    اگرچہ اصل نقشہ تزویراتی تفصیل دکھاتا، مگر آپریشنل دائرہ یوں سمجھا جا سکتا ہے:
    حملہ اور ردِعمل کے علاقوں میں شامل تھے:
    شمالی بلوچستان کے اضلاع
    وسطی نقل و حمل اور مواصلاتی راہداریوں
    جنوبی ساحلی اور اطرافی علاقے
    یہ وسیع جغرافیائی پھیلاؤ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ:
    بی ایل اے نے صوبے بھر میں بیک وقت دباؤ ڈالنے کی کوشش کی
    پاکستان نے انفرادی ردِعمل کے بجائے صوبہ گیر انٹیلی جنس ایکٹیویشن کے ساتھ جواب دیا
    انسدادِ دہشت گردی کی اصطلاح میں یہ صوبائی سطح پر کمانڈ سنکرونائزیشن کی مثال ہے—ایک ایسی صلاحیت جس کے حصول میں کئی ریاستیں ناکام رہتی ہیں۔

    وہ اعداد جنہوں نے منظرنامہ بدل دیا
    بی ایل اے کی قوت بمقابلہ نقصانات
    زمرہ
    اندازاً تعداد
    بی ایل اے کے کل جنگجو
    ~1,500
    ہلاک کیے گئے دہشت گرد
    ~200
    ہلاک شدہ فیصد
    ~13%
    وقت
    < 48 گھنٹے سادہ الفاظ میں: دو دن میں کسی مسلح تنظیم کے دس فیصد سے زائد افرادی قوت کا خاتمہ تباہ کن ہوتا ہے۔ زیادہ تر عسکریت پسند گروہ محدود نقصانات برداشت کر لیتے ہیں، مگر وہ آسانی سے بحال نہیں ہو پاتے جب: اچانک افرادی قوت میں کمی ہو تربیت یافتہ جنگجو ضائع ہو جائیں ٹھکانوں اور سہولت کاروں کا انکشاف ہو جائےعالمی سی ٹی تجزیہ کار اسے بڑی کامیابی کیوں سمجھتے ہیں
    بین الاقوامی انسدادِ دہشت گردی جائزے صرف “کتنے مارے گئے” پر نہیں رکتے؛ وہ دیکھتے ہیں کہ کون سے نظام ٹوٹے۔
    اس آپریشن نے متاثر کیا:
    کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورکس
    شہری سلیپر سیلز
    اضلاع کے درمیان نقل و حرکت کی راہداریاں
    بھرتی کی رفتار اور تاثر
    دنیا کے کئی محاذوں—ساحل (Sahel) سے مشرقِ وسطیٰ تک—میں اسی نوعیت کی کمی حاصل کرنے میں مہینے لگتے ہیں، اکثر بیرونی مدد کے ساتھ۔
    پاکستان نے یہ کارنامہ مقامی صلاحیت کے ذریعے اور انتہائی تیزی سے انجام دیا۔
    اصل نقصان: نفسیاتی دھچکا اور بھرتی کا انہدام
    دہشت گرد تنظیموں کے لیے تاثر، اسلحے جتنا ہی اہم ہوتا ہے۔
    بی ایل اے کے اہداف تھے:
    اپنی رسائی دکھانا
    اپنی اہمیت جتانا
    نئے بھرتی حاصل کرنا
    نتیجہ مگر الٹ نکلا:
    فوری نشاندہی
    فوری غیر مؤثر بنانا
    محفوظ آپریٹنگ اسپیس کا خاتمہ
    ممکنہ بھرتی کے لیے پیغام سخت اور واضح ہے: “تم زیادہ دیر نہیں ٹکو گے۔”
    یہ خوف آئندہ بھرتی کے خلاف ایک طاقتور رکاوٹ بنتا ہے۔

    تزویراتی پیغام*Strategic Message

    بلوچستان سے آگے تک
    یہ آپریشن کئی سطحی پیغامات دیتا ہے:
    عسکریت پسندوں کے لیے: بڑے پیمانے کی ہم آہنگی تیز رفتار تباہی کو دعوت دیتی ہے
    سرپرستوں اور سہولت کاروں کے لیے: پراکسی تشدد سے دباؤ یا فائدہ حاصل نہیں ہوگا
    عالمی برادری کے لیے: پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی صلاحیت ایک فاسٹ ری ایکشن، انٹیلی جنس غالب ماڈل میں ڈھل چکی ہے
    یہ پاکستان کے اس مؤقف کو بھی مضبوط کرتا ہے کہ بلوچستان میں عدم استحکام بیرونی عناصر کے ذریعے بھڑکایا جاتا ہے، مگر اندرونِ ملک اسے عزم کے ساتھ ناکام بنایا جاتا ہے۔

    خلاصہ

    محض تاکنیکی کامیابی سے بڑھ کر
    بی ایل اے کے مربوط حملوں پر پاکستان کا ردِعمل صرف کامیاب نہیں تھا—یہ تزویراتی طور پر سبق آموز بھی تھا۔
    48 گھنٹوں سے کم وقت میں کسی دہشت گرد تنظیم کے تقریباً 13 فیصد کا خاتمہ:
    آپریشنل رفتار توڑ دیتا ہے
    حوصلہ پست کر دیتا ہے
    بھرتی کے بیانیوں کو کمزور کر دیتا ہے
    وسیع اور پیچیدہ جغرافیے میں ریاستی رِٹ کو مضبوط کرتا ہے
    جیسے جیسے ہاٹ پرسوٹ آپریشنز جاری ہیں، بی ایل اے کو صرف نقصانات نہیں بلکہ وجودی ساکھ کے بحران کا سامنا ہے۔ پاکستان کے لیے، یہ کارروائی ایک پُراعتماد اور جدید انسدادِ دہشت گردی مؤقف کی عکاس ہے جسے دنیا اب نظرانداز نہیں کر سکتی۔

    میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و تزویراتی تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹیجی اور دفاعی جدید کاری میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک امینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

  • نئے ایپسٹین دستاویزات اور غلافِ کعبہ کا سوال: مقدس علامات، تحویلِ امانت، اور تشویشناک تاثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    نئے ایپسٹین دستاویزات اور غلافِ کعبہ کا سوال: مقدس علامات، تحویلِ امانت، اور تشویشناک تاثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    میجر (ر) ہارون رشید
    دفاعی و تزویراتی تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، بازدارانہ حکمتِ عملی اور دفاعی جدید کاری میں مہارت رکھتے ہیں،اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک ایمینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

    جیفری ایپسٹین سے منسلک حال ہی میں جاری ہونے والے دستاویزات میں ایسی خط و کتابت سامنے آئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ غلافِ کعبہ (کسوہ)—جو مکہ مکرمہ میں خانۂ کعبہ کو ڈھانپنے والا مقدس کپڑا ہے—کے تین ٹکڑے بالواسطہ ذرائع کے ذریعے اس تک منتقل کیے گئے۔ اس انکشاف نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے سنگین اخلاقی اور تحویلی (custodial) سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    دستاویزات کے مطابق، اس منتقلی میں مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والی کاروباری خاتون عزیزہ الاحمدی کا کردار شامل تھا، جو دیگر واسطہ کاروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی تھیں۔ ترسیلات کو بین الاقوامی طور پر منتقل کیا گیا اور کسٹمز دستاویزات میں انہیں غیر مذہبی اشیاء کے طور پر ظاہر کیا گیا۔ تاہم، یہ دستاویزات یہ واضح نہیں کرتیں کہ ان مقدس اشیاء کی حوالگی کی اجازت کس نے دی یا انہیں کسی ایسے نجی فرد کو کیوں بھیجا گیا جس کی کوئی معروف مذہبی یا ادارہ جاتی حیثیت نہیں تھی۔

    غلافِ کعبہ کی اہمیت کیوں ہے
    غلافِ کعبہ کوئی عام یادگاری شے نہیں۔ مسلمانوں کے لیے یہ اسلام کے مقدس ترین مقام کی علامت ہے۔ طواف کے دوران لاکھوں عقیدت مند خانۂ کعبہ کو چھوتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں، آنسو بہاتے ہیں اور اپنی امیدیں اللہ کے حضور رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے غلافِ کعبہ کے کسی بھی حصے کی ترسیل یا تقسیم کے لیے سخت اخلاقی اور تحویلی ضوابط کی توقع کی جاتی ہے۔دستاویزات میں بیان کیا گیا ہے کہ ان ٹکڑوں میں ایسا کپڑا بھی شامل تھا جو حج یا عمرہ کے موسموں میں استعمال ہوا تھا—اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ تشویش مزید بڑھا دیتا ہے کہ ایسی مقدس علامات کو ان کے درست تحفظ اور نگرانی سے کیسے ہٹایا گیا۔

    اسلام، جادو، اور مسلمانوں کی تشویش کی بنیاد
    اسلام سحر (جادو)، توہمات اور باطنی یا شیطانی اعمال کی واضح اور قطعی طور پر نفی کرتا ہے۔
    قرآن و سنت مومنین کو ہدایت دیتے ہیں کہ وہ حفاظت اور مدد صرف اللہ سے طلب کریں اور کسی بھی ایسی قوت کے تصور کو رد کریں جو اللہ کے سوا خود مختار ہو۔ اس تناظر میں، اسلام کسی بھی شے—بشمول غلافِ کعبہ—کو ذاتی یا خود مختار ماورائی طاقت کا حامل نہیں مانتا۔تاہم، تاریخی اور ثقافتی طور پر یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ دشمن عناصر کبھی کبھار روحانی، نفسیاتی یا علامتی نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، اگرچہ ایسی کوششیں اللہ کے حکم کے بغیر کوئی حقیقی اثر نہیں رکھتیں۔ یہ تصور—چاہے کوئی اسے تسلیم کرے یا نہ کرے—اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ مقدس اسلامی علامات کا اخلاقی طور پر گرے ہوئے افراد کے ساتھ جڑ جانا شدید جذباتی اور دینی اضطراب کیوں پیدا کرتا ہے۔

    قرآنِ مجید جھوٹی قوتوں اور گمراہی کے خلاف خبردار کرتا ہے
    کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور سب سے بہتر پیدا کرنے والے کو چھوڑ دیتے ہو؟
    اللہ کو، جو تمہارا رب ہے اور تمہارے باپ دادا کا رب ہے
    (سورۃ الصافات 37:125–126)
    اہلِ ایمان کے لیے یہ آیات اس حقیقت کو مضبوط کرتی ہیں کہ فساد، فریب اور اخلاقی زوال بالآخر تباہی ہی پر منتج ہوتے ہیں، چاہے ان کے لیے کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جائے۔

    اصل سوال
    جاری کردہ دستاویزات میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جو یہ ثابت کرے کہ غلافِ کعبہ کے ان ٹکڑوں کو کسی رسم، جادو یا باطنی عمل کے لیے استعمال کیا گیا۔البتہ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مقدس اسلامی اشیاء ایک ایسے فرد تک پہنچیں جس کی زندگی استحصال، بدعنوانی اور اخلاقی انہدام کی علامت تھی—اور یہی حقیقت بذاتِ خود گہری جانچ کا تقاضا کرتی ہے۔لہٰذا اصل مسئلہ کسی ماورائی نیت پر قیاس آرائی نہیں، بلکہ احتساب ہے:
    ان مقدس اشیاء کو کس نے جاری کیا؟
    کس اختیار کے تحت؟
    اور تحویلی و حفاظتی نظام کیسے ناکام ہوا؟
    مسلمانوں کے لیے یہ واقعہ ایک یاد دہانی ہے کہ مقدس علامات کو کبھی تجارتی شے نہیں بننا چاہیے، نہ ہی ان کا غلط استعمال یا اخلاقی تناظر سے اخراج ہونا چاہیے—خواہ انہیں طلب کرنے والا کوئی بھی ہو۔

  • پاکستان آرمی میں YJ-17 ہائپرسونک میزائلوں کی شمولیت، صلاحیت، ساکھ اور تزویراتی اثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    پاکستان آرمی میں YJ-17 ہائپرسونک میزائلوں کی شمولیت، صلاحیت، ساکھ اور تزویراتی اثرات،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    میجر (ر) ہارون رشید،دفاعی و تزویراتی تجزیہ کار، جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدید کاری میں مہارت رکھتے ہیں، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک ایمینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن ہیں

    حالیہ دفاعی رپورٹس اور معتبر اوپن سورس مباحث سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان آرمی نے YJ-17 ہائپرسونک اسٹرائیک سسٹم کے تقریباً 300 یونٹس اپنے تزویراتی ذخیرے میں شامل کر لیے ہیں۔اطلاعات کے مطابق اس نظام کی ٹرمینل رفتار میک 5 سے میک 8 کے درمیان ہے جبکہ اس کی آپریشنل رینج تقریباً 800 کلومیٹر بتائی جاتی ہے، جو اسے واضح طور پر نئی نسل کے ہائپرسونک ہتھیاروں کے زمرے میں رکھتی ہے۔
    یہ شمولیت مبینہ طور پر ایک سابقہ میزائل ٹیسٹ کے بعد عمل میں آئی، جس کے دوران لینٹیکیولر (عدسی نما) بادل کی تشکیل دیکھی گئی—یہ ایک ایسا مظہر ہے جو عموماً ہائی انرجی ہائپرسونک پرواز سے منسلک ہوتا ہے۔ دفاعی تجزیہ کار اب اس ٹیسٹ کو وسیع پیمانے پر YJ-17 نظام سے جوڑ رہے ہیں۔

    اتنی ہی اہم بات یہ ہے کہ اس خریداری کو ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی (ToT) معاہدے کے تحت حتمی شکل دیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں پاکستان کے اندر مقامی سطح پر پیداوار یا اسمبلنگ کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ اگرچہ آئی ایس پی آر یا وزارتِ دفاع کی جانب سے تاحال باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم مختلف دفاعی حلقوں میں رپورٹنگ کا تسلسل اس پیش رفت کو قابلِ اعتبار بناتا ہے، اگرچہ تکنیکی تفصیلات جان بوجھ کر محدود رکھی گئی ہیں۔

    YJ-17 کو گیم چینجر بنانے والے عوامل
    YJ-17 کو ہائپرسونک گلائیڈ وہیکل (HGV) کے تصور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جو اسے ٹرمینل مرحلے میں حرکی (maneuvering) صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ روایتی بیلسٹک میزائلوں کے برعکس، اس کی یہ پرواز موجودہ فضائی اور میزائل دفاعی نظاموں کے لیے کھوج، ٹریکنگ اور روک تھام کو نہایت مشکل بنا دیتی ہے۔
    عملی طور پر اس کا مطلب ہے کم ردِعمل کا وقت، غیر متوقع پروازی راستے، اور زیادہ بقا پذیری—حتیٰ کہ جدید اور تہہ دار میزائل شیلڈز کے خلاف بھی۔

    بھارت،پاکستان تناظر میں تزویراتی اہمیت
    بھارت،پاکستان کے مخصوص تزویراتی ماحول میں، YJ-17 کی مبینہ شمولیت سنگین ڈیٹرنس اثرات رکھتی ہے۔بھارت نے بیلسٹک میزائل ڈیفنس (BMD)، طویل فاصلے تک درست نشانہ بنانے والے نظام، اور کولڈ اسٹارٹ جیسے تیز رفتار موبلائزیشن نظریات میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔YJ-17 جیسے ہائپرسونک نظام خاص طور پر انہی برتریوں کو غیر مؤثر بنانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، کیونکہ یہ فیصلہ سازی کے وقت کو محدود کر دیتے ہیں اور روایتی میزائل دفاعی ڈھانچوں کو بائی پاس کر جاتے ہیں۔
    پاکستان کے لیے YJ-17 تین بنیادی تزویراتی مقاصد پورے کرتا دکھائی دیتا ہے:
    اول، روایتی ڈیٹرنس کے توازن کی بحالی۔
    ہائپرسونک اسٹرائیک صلاحیت پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد روایتی کاؤنٹر فورس آپشن فراہم کرتی ہے، جس سے کسی بحران میں ابتدائی جوہری اشارہ دینے پر انحصار کم ہو جاتا ہے۔
    دوم، میزائل دفاعی اعتماد کو کمزور کرنا۔
    جب بھارت کو ایسے ہائپرسونک، متحرک ہتھیاروں کا سامنا ہو جنہیں روکنا انتہائی مشکل ہو، تو اس کے BMD عزائم متاثر ہوتے ہیں، یوں غیریقینی کے ذریعے ڈیٹرنس کا استحکام مضبوط ہوتا ہے۔

    سوم، تصادم میں کنٹرول کا اشارہ۔
    YJ-17 پاکستان کو جوہری حد سے نیچے ایک مؤثر اور درست اسٹرائیک ٹول فراہم کرتا ہے، جس سے کنٹرول شدہ عسکری ردِعمل کی گنجائش بڑھتی ہے اور بحران میں استحکام آتا ہے۔
    اس نظام کی مبینہ رینج پاکستان کو سرحد سے کہیں آگے واقع اہم فوجی، لاجسٹک اور بحری اہداف کو نشانے پر رکھنے کی صلاحیت دیتی ہے، وہ بھی اس طرح کہ تزویراتی سرخ لکیریں عبور نہ ہوں۔

    صنعتی اور طویل المدتی اثرات
    اگر ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی معاہدے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس کے تزویراتی اثرات محض تعداد تک محدود نہیں رہیں گے۔ مقامی پیداوار پاکستان کے دفاعی صنعتی ڈھانچے میں ایک معیاری تبدیلی کی علامت ہوگی، جس سے درآمدات پر انحصار کم اور مستقبل میں اپ گریڈ، مختلف ورژنز اور نظریاتی انضمام ممکن ہو سکے گا۔
    یہ پیش رفت میزائل، ڈرون اور راکٹ نظاموں میں خود انحصاری کے پاکستان کے وسیع تر رجحان سے ہم آہنگ ہے، بالخصوص آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے ارتقائی فریم ورک کے تحت۔

    اگرچہ باضابطہ تصدیق ابھی باقی ہے، تاہم 300 YJ-17 ہائپرسونک میزائلوں کی مبینہ شمولیت اور اس کے ساتھ ToT انتظامات،پاکستان کی عسکری تاریخ میں روایتی صلاحیت کی سب سے اہم اپ گریڈیشنز میں سے ایک ہو سکتی ہے۔بھارت،پاکستان تناظر میں، YJ-17 ڈیٹرنس، استحکام اور تصادم کنٹرول کو مضبوط بناتا ہے اور اس اصول کو تقویت دیتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں تزویراتی توازن کی بنیاد عددی برتری نہیں بلکہ تکنیکی ہم پلہ پن ہے۔

  • جھیلِ طبریہ: ایمان، تاریخ، سلامتی اور آخری زمانے کی پیش گوئی کا مقدس سنگم،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    جھیلِ طبریہ: ایمان، تاریخ، سلامتی اور آخری زمانے کی پیش گوئی کا مقدس سنگم،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار، جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس اسٹریٹجی اور دفاعی جدیدکاری کے ماہر، اور ریسرچ اینڈ ایویلیوایشن سیل فار ایڈوانسنگ بیسک ایمینیٹیز اینڈ ڈیولپمنٹ کے رکن

    تعارف
    جھیلِ طبریہ—جسے بحرِ طبریہ، سی آف گلیل یا کنیرت بھی کہا جاتا ہے—شمالی فلسطین/اسرائیل میں واقع ایک میٹھے پانی کی جھیل ہے جو یہودیت، عیسائیت اور اسلام تینوں میں غیر معمولی مذہبی اہمیت رکھتی ہے۔ روحانی علامت سے بڑھ کر، آج یہ جھیل مذہب، قومی آبی سلامتی اور علاقائی استحکام کے نازک امتزاج پر واقع ہے، جس کے باعث یہ مشرقِ وسطیٰ کے سب سے زیادہ زیرِ نگرانی آبی ذخائر میں شمار ہوتی ہے۔

    یہودی مذہبی اہمیت
    یہودیت میں جھیلِ طبریہ یہودی تاریخ اور علمی روایت سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔
    جھیل کے مغربی کنارے واقع شہر طبریہ، دوسرے ہیکل کی تباہی کے بعد یہودی تعلیم و فقہ کا ایک مرکزی مرکز بن گیا۔
    متعدد جلیل القدر یہودی علماء اور بزرگ اس کے اطرافی علاقوں میں مدفون ہیں۔
    تاریخی طور پر یہ جھیل ایک اہم میٹھے پانی کا ذریعہ رہی ہے، جس نے شمالی فلسطین میں زراعت اور آبادیوں کو سہارا دیا۔
    یہودی روایت میں جھیلِ طبریہ وراثت، تسلسل اور بقا کی علامت ہے۔

    عیسائی مذہبی اہمیت
    عیسائیوں کے نزدیک بحرِ طبریہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ اور تبلیغی مشن سے وابستہ مقدس ترین مقامات میں شامل ہے:
    حضرت عیسیٰؑ نے اس کے کناروں پر واقع بستیوں—کفرناحوم، بیت صیدا اور مگدلہ—میں وسیع پیمانے پر تبلیغ کی۔
    اس جھیل سے منسوب کئی عظیم معجزات بیان کیے جاتے ہیں:
    پانی پر چلنا
    طوفان کو پرسکون کرنا
    مچھلیوں کا معجزاتی شکار
    حواریوں کی دعوت
    یہ علاقہ حضرت عیسیٰؑ کی عوامی دعوت کا مرکز سمجھا جاتا ہے، اسی لیے جھیلِ طبریہ آج بھی دنیا بھر کے عیسائیوں کے لیے ایک بڑا زیارتی مقام ہے۔

    اسلامی نقطۂ نظر اور نبوی اہمیت
    اسلام میں جھیلِ طبریہ—جسے صحیح احادیث میں بحیرۂ طبریہ کہا گیا ہے—قیامت سے پہلے کے حالات (علاماتِ قیامت) میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے اور دجال کے ظہور سے براہِ راست منسلک ہے۔
    صحیح حدیث کا حوالہ
    حضرت فاطمہ بنت قیسؓ سے مروی ایک معروف روایت، جو صحیح مسلم میں مذکور ہے، میں حضرت تمیم داریؓ کا ایک جزیرے پر ایک زنجیروں میں جکڑے ہوئے شخص سے سامنا بیان کیا گیا، جسے بعد ازاں نبی اکرم ﷺ نے دجال قرار دیا۔
    صحیح مسلم، حدیث 2942
    دجال کے سوالات میں ایک سوال یہ تھا:
    کیا بحیرۂ طبریہ میں پانی موجود ہے؟
    جب بتایا گیا کہ ابھی پانی موجود ہے تو اس نے کہا:
    “قریب ہے کہ یہ خشک ہو جائے گا۔”
    نبی کریم ﷺ نے اس واقعے کی تصدیق فرمائی، یوں بحیرۂ طبریہ کا خشک ہو جانا دجال کے ظہور سے قبل کی بڑی علامات میں شامل قرار پایا۔
    علمائے اسلام اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عارضی کمی یا موسمی اتار چڑھاؤ اس پیش گوئی کے مصداق نہیں؛ بلکہ اس سے مراد جھیل کا مکمل طور پر خشک ہو جانا ہے۔
    دجال کی جسمانی علامات (جیسا کہ صحیح احادیث میں بیان ہوا)
    نبی اکرم ﷺ نے امت کو فتنۂ دجال سے بچانے کے لیے اس کی واضح نشانیاں بیان فرمائیں:
    دجال کانا ہوگا
    اس کی دائیں آنکھ اندھی ہوگی، جسے یوں بیان کیا گیا:
    “گویا ابھرا ہوا انگور” (صحیح بخاری 3438؛ صحیح مسلم 2933)
    اس کی پیشانی پر لفظ “کافر” (كافر) لکھا ہوگا، جسے ہر مومن پڑھ سکے گا
    وہ جھوٹا دعویٰٔ الوہیت کرے گا اور فریب پر مبنی کرتب دکھائے گا
    اس کا فتنہ انسانیت کے لیے سب سے بڑا امتحان ہوگا۔

    جدید اسٹریٹجک اور سلامتی کا پہلو
    موجودہ دور میں جھیلِ طبریہ قومی سلامتی اور اسٹریٹجک اہمیت بھی اختیار کر چکی ہے:
    اسرائیل قومی آبی نظم و نسق اور ماحولیاتی توازن کے باعث جھیلِ طبریہ کی سطحِ آب کی مسلسل نگرانی کرتا ہے۔
    جھیل کے گرد بعض علاقوں میں رسائی محدود ہے، اور اطراف کے کچھ حصوں کو وقتاً فوقتاً حساس یا عسکری کنٹرولڈ زون قرار دیا جاتا رہا ہے۔
    شہری نقل و حرکت، ماہی گیری اور تعمیراتی سرگرمیاں، خصوصاً اسٹریٹجک تنصیبات کے قریب، سخت ضوابط کے تحت ہیں۔
    گزشتہ دہائیوں میں پانی کی سطح میں کمی نے اس جھیل کو محض مذہبی مقام سے بڑھا کر ایک اسٹریٹجک اثاثہ بنا دیا ہے، جس پر ریاستی ادارے کڑی نظر رکھتے ہیں۔
    یہ نگرانی نہ صرف ماحولیاتی خدشات کی عکاس ہے بلکہ پانی کی قلت کے شکار خطے میں میٹھے پانی کی جغرافیائی سیاست کی حساسیت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

    اسلامی عقیدے میں حضرت عیسیٰؑ کا کردار
    اسلامی عقیدے کے مطابق دجال کے ظہور کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے قریب نزول فرمائیں گے اور بالآخر دجال کو قتل کریں گے، جس کے نتیجے میں عدل، حق اور اخلاقی نظام بحال ہوگا—اس سے قبل کہ انسانی تاریخ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو۔

    خلاصہ
    جھیلِ طبریہ ایمان، نبوت اور سلامتی کے ایک منفرد سنگم کی حیثیت رکھتی ہے۔
    یہودیوں کے لیے یہ علمی وراثت کی علامت ہے؛ عیسائیوں کے لیے حضرت عیسیٰؑ کی دعوت کی زندہ سرزمین؛ اور مسلمانوں کے لیے انسانیت کے آخری امتحانات سے جڑی ایک واضح نبوی نشانی۔
    جدید دور میں اس کی سخت نگرانی اور محدود حیثیت اس حقیقت کو مزید اجاگر کرتی ہے کہ جھیلِ طبریہ محض ایک مذہبی یادگار نہیں—بلکہ ایک اسٹریٹجک، علامتی اور نبوی مرکز ہے، جس کی اہمیت زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہے۔

  • "ماحول دشمن سیاحت ، وادیوں کے مستقبل کا سوال” تحریر: عائشہ اسحاق

    "ماحول دشمن سیاحت ، وادیوں کے مستقبل کا سوال” تحریر: عائشہ اسحاق

    شمالی علاقہ جات کی وادیاں صرف خوبصورت مناظر نہیں،
    یہ ایک زندہ تہذیب، ایک حساس ماحولیاتی نظام اور صدیوں پر محیط ثقافت کی امین ہیں۔
    مگر افسوس کہ آج جاری سیاحت فطرت دوست ہونے کے بجائے آہستہ آہستہ ماحول دشمن بنتی جا رہی ہے۔

    غیر منصوبہ بند اور بے ہنگم سیاحت کے نتیجے میں جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔بڑی تعداد میں ہوٹلز اور ریزورٹس تعمیر کیے جا رہے ہیں،جس کے باعث سرسبز وادیاں کنکریٹ کے ڈھانچوں میں بدلتی جا رہی ہیں۔یہ ترقی نہیں، فطرت سے بغاوت ہے۔

    سیاحت کے ساتھ آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر، پلاسٹک شاپرز اور ریپرز اس بات کی گواہی دیتے ہیں،کہ ہم وادیوں کو سیرگاہ نہیں بلکہ استعمال کی جگہ سمجھنے لگے ہیں۔شور شرابا، اونچی آواز میں میوزک اور ہنگامہ آرائی،فضا کو شدید صوتی آلودگی سے دوچار کر رہی ہے،جس سے انسان، فطرت اور جنگلی حیات تینوں متاثر ہو رہے ہیں۔

    انتہائی تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کئی ہوٹلز نے اپنی سیوریج اور گٹر لائنیں دریاؤں کی طرف موڑ رکھی ہیں۔وہ دریا جو ہماری زندگی، ہماری شناخت اور آنے والی نسلوں کی امید ہے،آج کچرے اور گندگی کی نذر ہو رہے ہیں ۔یہ صرف غفلت نہیں، یہ کھلا ماحولیاتی جرم ہے۔

    سیاحت کے منفی اثرات صرف ماحول تک محدود نہیں رہے۔مقامی ثقافت اور روایات کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔لباس، رویّوں اور طرزِ عمل میں عدم توازن ،مقامی معاشرے، اقدار اور خاص طور پر بچوں کی ذہنی کیفیات پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔یہ وہ نقصان ہے جو خاموش ہوتا ہے مگر گہرا ہوتا ہے۔

    آج کی سیاحت سے اصل فائدہ صرف کمرشل ازم کو ہو رہا ہے،جبکہ نقصان پوری وادی، پوری ثقافت اور پورا ماحول اٹھا رہا ہے۔

    اس بحران کا واحد پائیدار حلایکو ٹورازم (Eco-Tourism) ہے۔ایسی سیاحت جو ماحول کو نقصان نہ پہنچائے
    ، مقامی ثقافت اور روایات کا احترام کرے، فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو، ترقی کے ساتھ تحفظ کو یقینی بنائے
    سیاحوں کو ایجوکیٹ کرنا ضروری ہے تاکہ وہ وادیوں میں آ کر مقامی روایات کا خیال رکھیں، مقامی لوگوں سے میل جول رکھیں، مقامی ٹور گائیڈز، جیپس اور سروسز استعمال کریں، اپنے ساتھ لایا گیا کچرا واپس بیگ میں رکھیں یا ڈسٹ بن میں ڈالیں

    سیاحت ایک باعزت اور مقدس پیشہ ہے،
    جس سے جُڑ کر ہم سب رزقِ حلال کما سکتے ہیں۔

  • ٹرمپ، معدنیات اور مشرقِ وسطیٰ  ،تحریر : علی ابن ِسلامت

    ٹرمپ، معدنیات اور مشرقِ وسطیٰ ،تحریر : علی ابن ِسلامت

    پاکستانی حکام بارہا دعویٰ کر چکے ہیں کہ پاکستان کے پاس 60 کھرب ڈالر کی نایاب معدنیات موجود ہیں۔ التجا ہے کہ دعویٰ کرنے والے حکمرانوں کی طرح آپ نے یہ نقطہ یاد ر کھنا ہے کیونکہ عنقریب پاکستان کے 60 کھرب ڈالر اور بلوچستان ، خیبر پختونخواہ ، پنجاب ، سندھ حتی کہ کشمیر کے نوجوانوں کے مستقبل کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے۔ میں آپ کو چند اسٹرٹیجک معاملات کی سوجھ بوجھ رکھنے والوں کے حوالے دے کر بات سمجھاتا ہوں
    حنا ربانی کھر ایک پاکستانی سیاست دان ہیں، جو پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِ خارجہ اور پہلی خاتون رکن اسمبلی رہیں جو قومی بجٹ پیش کرنے کا اعزاز رکھتی ہیں، ان کے سیاسی قد کاٹھ کی وجہ سے ان کو جانا جاتا ہے کیونکہ وہ سابق گورنر غلام مصطفیٰ کھر کی بھتیجی ہیں، سال 2002 میں مظفر گڑھ سے رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئیں تھیں لہذا طویل سیاسی کیرئیر کی وجہ سے ان کے تجزیہ ، بیانات اور خبروں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر مستند سمجھا جاتا ہے
    گزشتہ روز حنا ربانی کھر نے ایک سلجھے ہوئے انداز میں الجھا ہوا بیان دیا جس نے مجھے اور چند تاریخی پسِ منظر پر نظر رکھنے والوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا، میں حیران تھا کہ پیپلز پارٹی سے بڑے قد کے سیاستدان ہمیشہ بڑی بات پر توجہ مرکوز کرواتے ہیں لیکن ان کو نظر انداز کیا جاتا ہے، یہ بیان اس لیے بھی اہم تھا کہ اس میں پاکستان کی تمام معدنیا ت اور مستقبل کی پالیسیوں کا نچوڑ موجود تھا، ان کا یہ تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا پاکستان کی تعریف کرنا پاکستان کی خوش قسمتی ہے۔ دوسری جانب آج ایک اور چونکا دینے والی خبر سامنے آئی، پاکستان دفتر خارجہ کیمطابق امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ کے لیے ’بورڈ آف پیس‘ میں وزیر اعظم شہباز شریف کو شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔

    میں پریشان ہوں کہ یہ تعریفیں ہمیشہ نقصان دیتی ہیں ، تاریخ کے اوراق اٹھا کر دیکھیں تو جب جب امریکہ نے تعریف کی ہمیں مشکل حالات اور امتحان میں ڈالا گیا۔ آج ٹرمپ اگر تعریف کر رہے ہیں تو یقیناً ہمیں بہت بڑی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ موجودہ دور میں ٹرمپ غزہ پر حکمرانی، ایران پر چڑھائی، کمبوڈیا پر قبضے ، وینزویلا پر حکومت ، گرین لینڈ کی ملکیت اور درجنوں امریکی مفادات کی پالیسیوں پر کام شروع کر چکا ہے۔
    سولہ جنوری 2025 کو ایک امریکی جریدے نے خود لکھا تھا کہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی میں ایک مستقل پیٹرن یہ ہے کہ وہ غیر ملکی بغاوتوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے مگر فیصلہ کن وقت پر پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ امریکا کی وعدہ شکنی،بغاوت پر اکسانا، پھر پیچھے ہٹ جانا ہے۔

    چیچنیا ، بوسنیا، ہوائے، عراق، ہنگری، کردستان، شام اور اب ایران تک، تاریخ گواہ ہے کہ امریکی قیادت آزادی اور حمایت کے بلند بانگ دعوے تو کرتی ہے، لیکن عملی طور پر اپنے اسٹریٹجک مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے ان تحریکوں کو تنہا چھوڑ دیتی ہےجس کا خمیازہ لاکھوں جانوں، مہاجرت اور تباہی کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ خدشہ ہے کہ ہمیں بھی ایران، افغانستان ، بھارت کے سامنے تنہا نہ کر دیا جائے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ سُپر پاور کی تعریفوں پر ننگے پاؤں ناچنے سے پہلے حنا ربانی کھر جیسی خواتین سے حکومت کو مدد ضرور لے لینی چاہیے۔ ماضی گواہ ہے کہ 1991میں صدر جارج بش نے عراقی عوام کو صدام حسین کے خلاف اٹھنے کی ترغیب دی۔امریکی اتحادی افواج نے عراق میں بغاوت پر اکسانے والے پمفلٹس بھی گرائے۔۔بغاوت کے عروج پر عراق کے 18 میں سے 14 صوبے حکومتی کنٹرول سے نکل گئے تھے۔اس کے باوجود امریکا نے باغیوں کی عملی مدد سے انکار کیا اور صدام کو انہیں کچلنے دیا۔اس کریک ڈاؤن میں 50 ہزار سے زائد افراد مارے گئے اور 15 لاکھ کرد بے گھر ہوئے۔

    یہی کام آج مڈل ایسٹ میں امریکہ کر رہا ہے لیکن شاید سمجھدار سمجھنے سے قاصر ہیں یا پھر سونے کے انڈے کے چکر میں مرغی ذبح کر رہے ہیں۔ جنگ تو جنگ معدنیات نکالنے کے منصوبوں کے ذریعے پورے پورے خطے پر قابض ہو رہا ہے۔ جہاں بس نہ چلے وہاں صدر اٹھا لیے جاتے ہیں۔ زمانہ جانتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ دنیا بھر میں سٹریٹیجک معدنیات کے حصول کے لیے چین کے مقابلے پر صف آرا ہے۔

    جب جب ہماری تعریفیں شروع ہوئیں مخالفین زیادہ ہوئے، بجا کہ مئی 2025 کی بھارت جنگ کے بعد بہت سے لوگ پاکستان کے شیدائی ہیں۔ مگر حیران کن طور پر چین کے بعد امریکہ بھی بلوچستان کی معدنیات کے میدان میں شامل ہو چکا ہوا ہے۔ چین پہلے ہی چاغی میں معدنیات کی کان کنی کر رہا ہے، 11 دسمبر 2025 کو بتایا گیا کہ امریکہ نے بھی ریکوڈک منصوبے میں بھاری سرمایہ کاری کرے گا ۔ امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے بتایا تھا کہ امریکہ کا ایکسپورٹ امپورٹ بینک (ایکسم) ریکوڈک پروجیکٹ میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔بتا یا گیا تھا کہ آنے والے برسوں میں سرمایہ کاری بڑھ کر دو ارب ڈالر ہو جائے گی جس سے چھ ہزار امریکیوں اور ساڑھے سات ہزار پاکستانیوں کو روزگار ملے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا بلوچستان کا مزدور اور پسماندہ شخص روزگار کا مستحق ہو گا؟

    یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ریکوڈک کیا ہے ،ریکوڈک دراصل بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع کان ہے جس کا شمار دنیا میں تانبے اور سونے کی بڑی کانوں میں ہوتا ہے۔ یہ کان گوادر سے آٹھ سو کلومیٹر اور کراچی سے تقریباً 13 سو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں تک رسائی دشوار گزار علاقے کے باعث بےحد مشکل ہے۔ ریکوڈک کا منصوبہ دہائیوں پرانا ہے مگر اس دوران قانونی تنازعات اور سکیورٹی خدشات کی بنا پر اس پر باقاعدہ کام شروع نہیں ہو سکا۔ حقیقت ہے کہ عسکریت پسندوں نے بلوچستان میں انفراسٹرکچر کے منصوبوں کو بارہا نشانہ بنایا جس کی وجہ ہے کہ یہاں غیر ملکی سرمایہ کار پیسہ لگانے سے گریز کرتے رہے ہیں۔

    ابھی تک ریکوڈک منصوبے میں کان کنی کے حقوق بیرک گولڈ کمپنی کے پاس ہیں۔ اس کمپنی کا صدر دفتر کینیڈا کے شہر اونٹاریو میں واقع ہے اور یہ دنیا بھر میں تانبے اور سونے کی کان کنی میں مہارت رکھتی ہے ۔بیرک گولڈ ریکوڈک کان میں50 فیصد حصے کی مالک ہے جب کہ 25 فیصد پاکستان کی وفاقی حکومت اور بقیہ 25 فیصد بلوچستان کی صوبائی حکومت کے پاس ہے۔

    چین ریکوڈک کان میں براہِ راست شراکت دار نہیں مگر چاغی ضلعے ہی میں واقع تانبے کی ایک اور کان سینڈک میں چینی کمپنی ایم سی سی کھدائی کر رہی ہے۔ ماضی میں یہی چینی کمپنی ریکوڈک میں بھی دلچسپی رکھتی تھی مگر یہ بیرک گولڈ کے پاس چلا گیا تھا ۔ چین دنیا بھر میں پیدا ہونے والا 54 فیصد تانبہ استعمال کرتا ہے۔جبکہ امریکہ ہر سال آٹھ ہزار ٹن سٹریٹیجک معدنیات درآمد کرتا ہے جن کا 70 فیصد حصہ چین سے آتا ہے۔ امریکہ کو اسی بات کی تشویش ہے کہ اگر چین اپنی سپلائی روک دے تو اس کی ہائی ٹیک امریکی صنعت بحران کا شکار ہو جائے گی۔ امریکہ اپنی صنعت کو بحران سے بچانے کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار ہو جاتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ امریکی صدر کی تعریفیں اسی دورِ حکومت میں بہت بڑی مشکلات میں ڈالنے جا رہی ہیں۔لہذا اب سوچنے کا وقت ہے کہ ہمیں اپنا معاشی قبلہ کونسا رکھنا ہے ۔

    نوٹ:لکھاری علی رضا گورنمٹ کالج ( جی سی یونیورسٹی ) لاہور کے اسکالر ہیں جو مختلف اخبارات میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ آپ مختلف بڑے نجی چینلز کے ساتھ کام کرچکے ہیں جو بین الاقوامی اور تایخی موضوعات پر خاصی مہارت رکھتے ہیں

  • امن کی پاسبانی، قربانیوں کی گواہی اور بلوچستان کا محفوظ مستقبل،تحریر:نور فاطمہ

    امن کی پاسبانی، قربانیوں کی گواہی اور بلوچستان کا محفوظ مستقبل،تحریر:نور فاطمہ

    قوموں کی تاریخ میں کچھ لمحات محض سرکاری دورے نہیں ہوتے، بلکہ وہ عزم، قربانی اور ریاستی وقار کی علامت بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک بامعنی اور باوقار موقع اس وقت دیکھنے میں آیا جب وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ہیڈکوارٹرز فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ) کا دورہ کیا۔ یہ دورہ ریاست کی سلامتی، شہداء کی قربانیوں اور بلوچستان کے پُرامن مستقبل کے عزم کی جھلک نمایاں تھی۔ہیڈکوارٹرز آمد پر آئی جی ایف سی نارتھ، میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ نے وفاقی وزیرِ داخلہ کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس استقبال میں نہ صرف عسکری نظم و ضبط کی جھلک تھی بلکہ اس جذبے کی بازگشت بھی سنائی دیتی تھی جو وطن کی حفاظت کے لیے ہر لمحہ بیدار رہتا ہے۔

    دورے کا سب سے پُراثر لمحہ وہ تھا جب وفاقی وزیرِ داخلہ نے یادگارِ شہداء پر حاضری دی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں خاموش پتھر بھی قربانیوں کی داستان سناتے ہیں اور جہاں جھکے ہوئے سر اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ آج کا امن ان جانوں کا مرہونِ منت ہے جو وطن کی مٹی پر نچھاور ہو گئیں۔ وزیرِ داخلہ نے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عہد کی تجدید کی کہ ان عظیم قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔اس موقع پر وزیرِ داخلہ کو بلوچستان میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، درپیش سیکیورٹی چیلنجز اور مستقبل کی حکمتِ عملی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ یہ بریفنگ محض اعداد و شمار تک محدود نہ تھی بلکہ اس میں ایک ایسے خطے کی تصویر پیش کی گئی جو مشکلات کے باوجود استقامت، حوصلے اور قربانی کی روشن مثال بنا ہوا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد، عوام کے تحفظ اور امن کے قیام کے لیے اپنائی گئی حکمتِ عملی نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ ریاستی ادارے ہمہ وقت متحرک اور چوکس ہیں۔

    وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ) اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مسلسل کارروائیاں اور امن کے قیام کے لیے کی جانے والی انتھک کوششیں لائقِ تحسین ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست اپنے محافظوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور بلوچستان کے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی موجودگی نے اس دورے کو مزید تقویت بخشی، جو اس بات کی علامت ہے کہ وفاق اور صوبہ یکجا ہو کر بلوچستان کے امن، ترقی اور استحکام کے لیے سرگرمِ عمل ہیں۔

    یہ دورہ اس حقیقت کا مظہر تھا کہ امن کوئی اتفاق نہیں بلکہ قربانی، مستقل مزاجی اور اجتماعی عزم کا ثمر ہے۔ فرنٹیئر کور کے جوان، سیکیورٹی ادارے اور ریاستی قیادت مل کر اس خواب کی تعبیر میں مصروف ہیں جس میں بلوچستان امن، ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بنے۔ اور جب تک یہ جذبہ زندہ ہے، کوئی اندھیرا اس سرزمین کے مستقبل کو تاریک نہیں کر سکتا۔

  • عشرت فاطمہ سے معذرت کے ساتھ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    عشرت فاطمہ سے معذرت کے ساتھ،تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    کچھ آوازیں وقت کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی ہیں، اور کچھ آوازیں تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ عشرت فاطمہ اُنہی آوازوں میں سے ایک ہیں جنہیں ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن کے ناظرین اور سامعین عشروں تک سنتے رہے۔ خبروں کی سنجیدگی، تلفظ کی شائستگی اور لہجے کی ٹھہراؤ—یہ سب اُن کی پہچان رہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عشرت فاطمہ نے پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا کے ابتدائی اور سنجیدہ دور میں اپنی محنت، ریاضت اور تسلسل سے ایک مقام بنایا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہر مقام دائمی ہوتا ہے؟ کیا ہر سفر کی کوئی منزل نہیں ہوتی؟ اور کیا ہر پیشے میں ریٹائرمنٹ کا تصور محض ایک بے معنی رسم ہے؟

    عشرت فاطمہ کا یہ کہنا کہ “ریڈیو پاکستان نے مجھے دیوار سے لگا دیا، کہا گیا کہ اب آپ کی ضرورت نہیں، آپ کام کی نہیں”—یہ جملے سن کر دکھ بھی ہوا اور حیرت بھی۔ دکھ اس لیے کہ ایک طویل عرصے تک کسی ادارے سے وابستگی رکھنے والا فرد جب یوں شکوہ کناں ہو تو بات دل کو لگتی ہے۔ اور حیرت اس لیے کہ پینتالیس برس… جی ہاں، پورے 45 سال—کیا یہ کم مدت ہے؟ کیا یہ کسی ادارے کی بے قدری کی علامت ہے یا غیر معمولی برداشت، رواداری اور احترام کی؟

    اگر ہم حساب لگائیں تو پینتالیس برس کی ملازمت کا مطلب یہ ہے کہ عشرت فاطمہ نے کم و بیش اپنی پوری جوانی، اپنی توانائی، اپنی شناخت اسی ادارے کو دی۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر کسی نے 45 سال مسلسل کام کیا ہو تو اس کی عمر ستر کے لگ بھگ پہنچ چکی ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں، خواہ وہ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر، ریاستی اداروں میں ریٹائرمنٹ کا ایک واضح اصول موجود ہے۔ کہیں ساٹھ، کہیں پینسٹھ، کہیں زیادہ سے زیادہ ستر۔ اس کے بعد نہ صرف جسمانی تقاضے بدلتے ہیں بلکہ پیشے کی نوعیت بھی۔

    ٹیلی وژن کی دنیا کو ہی دیکھ لیجیے۔ وہاں تو نیوز کاسٹر کے لیے چہرہ، عمر، اسکرین پریزنس اور تازگی بنیادی شرائط میں شامل ہیں۔ چالیس سال کے بعد تو بڑے چینلز بھی نیوز کاسٹر لینے سے گریز کرتے ہیں۔ مگر ریڈیو پاکستان—جسے ہم اکثر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں—وہی ریڈیو عشرت فاطمہ کو تقریباً ستر سال کی عمر تک برداشت کرتا رہا، موقع دیتا رہا، عزت دیتا رہا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ ادارہ بے حس تھا یا حد درجہ بردبار؟یہ کہنا کہ “مجھے دیوار سے لگا دیا گیا” شاید جذباتی ردعمل ہو، مگر یہ مکمل سچ نہیں۔ اصل سچ یہ ہے کہ وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ ادارے افراد سے بڑے ہوتے ہیں، اور اداروں کو آگے بڑھنے کے لیے نئی آوازوں، نئے لہجوں اور نئی نسل کو جگہ دینی پڑتی ہے۔ اگر ہر بزرگ آواز ہمیشہ مائیک پر قائم رہے تو پھر آنے والوں کے لیے دروازے کہاں کھلیں گے؟

    ریڈیو پاکستان نے عشرت فاطمہ کو صرف ملازمت نہیں دی، بلکہ پہچان دی، نام دیا، وقار دیا۔ ایک ایسا وقار جو آج بھی اُن کے نام کے ساتھ جڑا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ انہیں کیوں رخصت کیا گیا، اصل سوال یہ ہے کہ کیا پینتالیس برس بعد بھی رخصتی کو توہین سمجھنا درست ہے؟ کیا یہ کہنا مناسب ہے کہ “آپ کام کی نہیں”—جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان ایک وقت کے بعد کام کے اُس معیار پر پورا نہیں اترتا جو ادارے کو درکار ہوتا ہے؟ادب ہمیں سکھاتا ہے کہ شکوہ بھی ایک فن ہے، اور خاموشی بھی ایک وقار۔ بعض اوقات خاموشی، شور سے زیادہ باوقار ہوتی ہے۔ عشرت فاطمہ اگر خاموشی سے رخصت ہوتیں، اپنے ماضی پر فخر کرتیں، نئی نسل کے لیے دعا کرتیں، تو شاید ان کی آواز پہلے سے زیادہ معتبر ہو جاتی۔ مگر میڈیا پر آ کر ادارے پر الزام دھرنا—وہ ادارہ جس نے نصف صدی کے قریب آپ کو برداشت کیا—یہ رویہ دل کو زخمی کرتا ہے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ ریڈیو پاکستان کوئی ذاتی ادارہ نہیں، یہ ریاستی ادارہ ہے۔ یہاں فیصلے افراد کی پسند یا ناپسند سے نہیں بلکہ پالیسی، عمر، صحت اور ادارہ جاتی ضرورت کے تحت ہوتے ہیں۔ اگر عشرت فاطمہ کو وقت پر ریٹائر کر دیا گیا تو یہ کوئی انوکھا فیصلہ نہیں، بلکہ ایک فطری اور قانونی عمل ہے۔ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ عزت صرف مائیک پر بولنے سے نہیں ملتی، بلکہ وقت پر خاموش ہو جانے سے بھی ملتی ہے۔ بڑے لوگ وہی ہوتے ہیں جو اپنے عروج کو بھی وقار سے جیتے ہیں اور زوال کو بھی وقار سے قبول کرتے ہیں۔ عشرت فاطمہ کا ماضی قابلِ احترام ہے، مگر حال میں شکوہ کناں لہجہ اس احترام کو دھندلا دیتا ہے۔یہ کالم کسی نفی کے لیے نہیں، بلکہ ایک تلخ مگر ضروری سوال کے لیے ہے پینتالیس سال بعد بھی اگر ادارہ آپ کا ساتھ نہ دے تو کیا یہ ناانصافی ہے، یا وقت کا فطری تقاضا؟

    عشرت فاطمہ سے معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ ریڈیو پاکستان نے آپ سے بے وفائی نہیں کی، بلکہ آپ کو وہ سب کچھ دیا جو ہر کسی کے حصے میں نہیں آتا۔ عزت، شناخت، طویل وابستگی،یہ سب نعمتیں ہیں۔ شاید اب شکوے نہیں، شکر کا وقت ہے۔ کیونکہ تاریخ اُنہی کو یاد رکھتی ہے جو رخصت ہوتے وقت بھی مسکراتے ہیں، اور یہی مسکراہٹ اصل پہچان بن جاتی

  • ہم کہاں کھڑے ہیں؟تحریر: منصب علی وٹو

    ہم کہاں کھڑے ہیں؟تحریر: منصب علی وٹو

    ہم ایک ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں جہاں شور بہت ہے، مگر سوچ نایاب ہوتی جا رہی ہے۔ زبانیں متحرک ہیں لیکن ضمیر خاموش، انگلیاں دوسروں کی طرف اٹھتی ہیں مگر خود احتسابی کا آئینہ گرد آلود پڑا ہے۔ یہ سوال اب محض فلسفیانہ نہیں رہا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں، بلکہ یہ سوال ہماری اجتماعی بقا سے جڑ چکا ہے۔

    آج کا انسان معلومات سے بھرا ہوا مگر شعور سے خالی دکھائی دیتا ہے۔ سوشل میڈیا کی اسکرین پر لمحہ بھر میں رائے قائم کر لی جاتی ہے، بغیر یہ سمجھے کہ ہر سچ آدھا نہیں ہوتا اور ہر جھوٹ مکمل نہیں۔ ہم نے سوچنے کی محنت چھوڑ دی ہے اور مان لینے کو عقل مندی سمجھ بیٹھے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قومیں زوال کی پہلی سیڑھی اترتی ہیں۔

    ہمارا المیہ یہ نہیں کہ ہم مسائل کا شکار ہیں، المیہ یہ ہے کہ ہم نے مسائل کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔ مہنگائی، ناانصافی، تعصب، بے روزگاری،یہ سب اب خبروں کا حصہ نہیں بلکہ معمول کی گفتگو بن چکے ہیں۔ جب کوئی معاشرہ ظلم پر چونکنا چھوڑ دے تو سمجھ لیجیے کہ وہاں ظلم مضبوط ہو چکا ہے۔ہم اکثر قیادت کو کوستے ہیں، نظام کو گالیاں دیتے ہیں، مگر یہ سوال پوچھنے سے کتراتے ہیں کہ کیا ہم خود اس نظام کا حصہ نہیں؟ ایک رشوت لیتا ہے، دوسرا خاموش رہتا ہے؛ ایک جھوٹ بولتا ہے، دوسرا اسے شیئر کر دیتا ہے۔ یوں برائی اکیلی نہیں رہتی، اسے اجتماعی تحفظ مل جاتا ہے۔

    تعلیم کا حال یہ ہے کہ ڈگریاں تو بڑھ رہی ہیں مگر دانش کم ہوتی جا رہی ہے۔ ہم نے تعلیم کو روزگار کا زینہ تو بنا لیا، مگر کردار سازی کا ذریعہ نہ بنا سکے۔ نتیجہ یہ کہ ہنر مند تو پیدا ہو رہے ہیں، مگر دیانت دار انسان ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ قومیں عمارتوں سے نہیں، کردار سے بنتی ہیں اور کردار نصاب سے نہیں، تربیت سے بنتا ہے۔مذہب، جو ہمیں جوڑنے آیا تھا، ہم نے اسے تقسیم کا ہتھیار بنا لیا۔ ہر فرقہ، ہر گروہ، ہر جماعت خود کو حق کا ٹھیکیدار سمجھنے لگی ہے۔ ہم نے خدا کو بھی اپنی انا کے دفاع کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ حالانکہ اصل دینداری تو عاجزی سکھاتی ہے، نفرت نہیں۔

    سنجیدہ قلم کار بار بار یہ احساس دلاتے ہیں کہ اصل جنگ باہر نہیں، اندر ہے۔ وہ جنگ جو انسان اپنے ضمیر سے لڑتا ہے۔ اگر یہ جنگ ہار جائے تو بڑے سے بڑا انقلاب بھی کھوکھلا رہ جاتا ہے۔ تبدیلی نعروں سے نہیں، نیت سے آتی ہے۔ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ اصلاح کا آغاز اوپر سے نہیں، خود سے ہوتا ہے۔ جب ایک فرد سچ بولنے کا حوصلہ کرے، انصاف پر سمجھوتہ نہ کرے، اختلاف کو دشمنی نہ سمجھے تو وہی فرد معاشرے میں خاموش انقلاب کی بنیاد رکھتا ہے۔یہ وقت جذباتی نعروں کا نہیں، سنجیدہ سوالات کا ہے۔ یہ وقت دوسروں کو بدلنے کے خواب دیکھنے کا نہیں، خود کو بدلنے کی جرات کا ہے۔ اگر ہم نے آج سوچنا نہ سیکھا تو کل سوچنے کا حق بھی کھو دیں گے۔

    آخر میں سوال وہی ہے:
    ہم کہاں کھڑے ہیں؟
    اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ
    ہم کہاں کھڑا ہونا چاہتے ہیں؟

    فیصلہ ہمیں کرنا ہے،بطور فرد، اور بطور قوم۔

  • سال کا اختتام اچھا ہے ؟تحریر: اعجازالحق عثمانی

    سال کا اختتام اچھا ہے ؟تحریر: اعجازالحق عثمانی

    چکوال میں ہلکی پھلکی بوندا باندی جارہی ہے۔ ہاسٹل کے قدرے روشن ایک کمرے میں بیٹھا ہوں۔ باہر صحن گیلا ہے۔ کبھی کبھار مٹی کی خوشبو نتھنوں تک بھی پہنچ رہی ہے۔اور دل کسی پرانی کہانی کو لے کر بیٹھا جارہا ہے۔ بارش جیسے ہی تیز ہوتی ہے، تو کھڑکی کے شیشے پر لکیریں سی بن جاتی ہیں۔ یہ لکیریں کسی بد بخت آدم زاد کے نصیب سی لگتی ہیں، آڑی ترچھی، الجھی ہوئی۔
    آج دسمبر کی آخری تاریخ ہے۔ میرے حلقہ احباب کے ایک بزرگ ادیب اکثر کہتے پائے گئے ہیں کہ دسمبر کے آخری دن حساب مانگتے ہیں۔اور یہ حساب مجھے مشکلات میں ڈالے بیٹھا ہے ۔ نئی دیوار پر لگے پرانے کیلنڈر کا آخری ورق چند گھنٹوں بعد اپنا وجود کھو بیٹھے گا۔ 2025 کا واحد دسمبر ہے جو چکوال میں گزرا ہے۔ ابن آدم کی خود کو بے حد مصروف رکھنے کی کوشش کے باوجود بھی، خنک راتوں میں کلیجہ چیرتی یادوں کی ادھ بجھی آگ کی راکھ کریدتے ہوئے کئی بار دل بے قرار کو قرار دینے کی سر توڑ کوششیں کرتا رہا، مگر یہ ابن آدم ناکام رہا۔ مزاجا تو ہم آوارہ گرد ہیں، مگر جاڑے میں مجبورا۔۔۔۔۔ بقول شاعر

    ؎یادوں کی شال اوڑھ کے آوارہ گردیاں
    کاٹی ہیں ہم نے یوں بھی دسمبر کی سردیاں

    دسمبر نہ جانے کب اور کیسے اداسی کی علامت بن گیا۔ حالانکہ اسی ماہ، کئی خوش نصیب نئے سال سے پہلے نئے سفر کی شروعات کرتے ہیں۔ ڈھول بجتے ہیں،خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ مگر یہ دسمبر ہم جیسوں کے لیے ہر دور میں بھری رہا۔ ہمارے محبوب شاعر امجد اسلام امجد نے بھی،دسمبر کے آخری دنوں کے بارے میں کچھ یونہی کہا تھا۔
    وہ آخری چند دن دسمبر کے
    ہر برس ہی گِراں گزرتے ہیں
    خواہشوں کے نگار خانے سے
    کیسے کیسے گُماں گزرتے ہیں
    رفتگاں کے بکھرے سایوں کی
    ایک محفل سی دل میں سجتی ہے
    فون کی ڈائری کے صفحوں سے
    کتنے نمبر پکارتے ہیں مجھے
    جن سے مربوط بے نوا گھنٹی
    اب فقط میرے دل میں بجتی ہے
    کس قدر پیارے پیارے ناموں پر
    رینگتی بدنُما لکیریں سی
    میری آنکھوں میں پھیل جاتی ہیں
    دوریاں دائرے بناتی ہیں
    نام جو کٹ گئے ہیں اُن کے حرف
    ایسے کاغذ پہ پھیل جاتے ہیں
    حادثے کے مقام پر جیسے
    خون کے سوکھے نشانوں پر
    چاک سے لائینیں لگاتے ہیں
    پھر دسمبر کے آخری دن ہیں
    ہر برس کی طرح سے اب کے بھی
    ڈائری ایک سوال کرتی ہے
    کیا خبر اس برس کے آخر تک
    میرے ان بے چراغ صفحوں سے
    کتنے ہی نام کٹ گئے ہونگے
    کتنے نمبر بکھر کے رستوں میں
    گردِ ماضی سے اٹ گئے ہونگے
    خاک کی ڈھیریوں کے دامن میں
    کتنے طوفان سِمٹ گئے ہونگے
    ہر دسمبر میں سوچتا ہوں میں
    اک دن اس طرح بھی ہونا ہے
    رنگ کو روشنی میں کھونا ہے
    اپنے اپنے گھروں میں رکھی ہوئی
    ڈائری دوست دیکھتے ہونگے
    اُن کی آنکھوں کے خواب دنوں میں
    ایک صحرا سا پھیلتا ہوگا
    اور کچھ بے نِشاں صفحوں سے
    نام میرا بھی کٹ گیا ہوگا
    سائنسی بنیادوں پر بھی سردیوں اور اداسی کا گہرا تعلق ہے۔ہمارے موڈ کو کنٹرول کرنے والا کیمیائی مادہ (Neurotransmitter) سیروٹونن (Serotonin) بھی اس موسم میں کم پیدا ہوتا ہے، جو کہ اداسی کا سبب بنتا ہے۔ساتھ ہی، کم دھوپ کی وجہ سے دوسرا کیمیائی مادہ میلاٹونن (Melatonin) بھی متاثر ہوتا ہے، جو ہمارے موڈ اور نیند کے عمل پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اور اس اداسی کو ماہرین "سیزنل ایفکٹو ڈس آرڈر” کہتے ہیں۔ اور یہ موسمی اداسی حساس لوگوں کو قدرے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ خیر بارش جاری ہے، چپ ہے، 31 دسمبر ہے، رات کے 10 بج چکے ہیں،بقول سیماب سحر ، "سال کا اختتام اچھا ہے”-
    ؎سال کا اختتام اچھا ہے
    سرد موسم تمام اچھا ہے

    کہر میں چھپ چکی ہے باد سموم
    موسموں کا نظام اچھا ہے