Baaghi TV

Category: متفرق

  • تمباکو سے پاک پاکستان ،تحریر :  انیلا صفدر

    تمباکو سے پاک پاکستان ،تحریر : انیلا صفدر

    تمباکو سے پاک پاکستان ایک ایسا موضوع ہے ۔ جو آج کے دور میں ایک المیہ کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ پہلے لوگ تکیوں اور ڈیروں پر بیٹھ کر حقہ پیتے تھے ۔ یہ شام کے مخصوص اوقات میں جب حقہ گرم کیا جاتا تھا ۔ اور جب حقہ ڈال لیا جاتا تھا ۔ تو گرد و نواح سے دوست احباب اکٹھے ہو کر محفل کو گرمایا کرتے تھے۔

    جیسے وقت کے ساتھ باقی روایات بدلیں۔ویسے ہی حقے کو بنانے کا تردد کرنے کی بجائے بآسانی سگریٹ خرید کر اس طلب کو پورا کیا جانے لگا ۔ اور حقہ چند مخصوص لوگوں تک محدود ہو کر رہ گیا ۔ اور آہستہ آہستہ معاشرے میں تمباکو نوشی پھیلے لگی۔ کوئی عادتا پیتا ۔ اور کوئی شوقیہ دیکھا دیکھی پینے لگا۔ کوئی اپنے غم کو غلط کرنے کے لیے پیتا ہے ۔ اور کوئی اپنے آپ کو اسٹائل دینے کیلئے اس دھوئیں کو پھونکنے لگا ہے ۔ اور آج کا ہمارا المیہ ہماری نوجوان نسل ہے جونشے کی دلدل میں دھنستی جارہی ہے ۔ کیونکہ ہر نشے کا آغاز سگریٹ نوشی سے ہی ہوتا ہے۔ پہلے مذاق مذاق میں دوست ایک دوسرے سے سگریٹ لے کر پیتے ہیں۔ اور جو نہیں پیتے ان کو زبردستی پلایا جاتا ہے ۔

    اور سگریٹ نوشی کوئی کسی بھی نشے کو کرنے کی پہلی سیڑھی کہا جاتا ہے ۔ کہ سگریٹ نوشی سے جسم میں نکوٹین کی طلب بڑھتی جاتی ہے ۔اور یوں سگریٹ پینے والا اس طلب کو پورا کرنے کے لیے بار بار سگریٹ پیتا ہے ۔اور یوں وہ زندگی بھر کے لئے اس کا عادی ہو جاتا ہے ۔ تمباکو نوشی کرنے والا صرف خود کو ہی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ اس کے گرد و نواح لوگ بھی اس کے خارج کردہ دھوئیں سے متاثر ہوتے ہیں۔ بالخصوص بچوں، بوڑھوں اور بیمار لوگوں کے لئے کہا جاتا ہے ، کہ ان کی موجودگی میں سگریٹ نوشی سے پرہیز کیا جائے، کیونکہ وہ دھواں سانس کے ذریعے دوسرے لوگ اندر (inhale ) لے جاتے ہیں

    اور وہ دھواں ان لوگوں کے لیے ایسے ہی نقصان دہ ہے جیسے کسی سگریٹ نوش کے لئے ہے ۔ لیکن لوگ اس بات کی قطعی پرواہ نہیں کرتے، اور جہاں ان کا دل کرتا سگریٹ سلگھا کر محظوظ ہونے لگتے ہیں۔

    سگریٹ نوشی انسانی صحت پر بہت برے اثرات مرتب کرتی ہے ۔ جس میں سرفہرست کینسر آتا ہے ۔اس کے بعد دل کے امراض، منہ اور مسوڑوں کے مسائل، پھیپھڑوں اور سانس کے امراض لاحق ہو جاتے ہیں ۔ کچھ لوگوں کو معدے کا السر بھی ہو جاتا ہے ۔ ایسے بہت سے مسائل ہیں جو سگریٹ نوشی کی بدولت روزمرہ زندگی میں تنگی کا باعث بن جاتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود لوگ اس کو ترک کرنے سے قاصر ہیں۔

    دنیا بھر میں پانچ میں سے ایک فرد کسی نہ کسی صورت میں تمباکو استعمال کرتا ہے ۔ جس میں مرد، عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ پاکستان میں اس کے اعداد و شمار کے مطابق 2 کروڑ 90 لاکھ سے زائد لوگ اس وقت تمباکو استعمال کر رہے ہیں ۔ اور اسی حساب سے تمباکو کی وجہ سے تقریبا 3 لاکھ 37 ہزار لوگ موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔

    اس کے تدارک کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں ۔جو کہ کافی نہیں ہیں ۔

    31 مئی کو تمباکو نوشی کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔ جس کا مقصد تمباکو سے ہونے والے نقصانات سے لوگوں کو آگاہی کروانا ہے ۔ اور تمباکو نوشی کی روک تھام کے اقدام کو مرتب کرنا اور ان کے لئے لائحہ عمل کو مقرر کرنا ہے ۔کہ کیسے ہم اس لعنت سے اپنے ملک ، معاشرے، لوگوں اور نئی آنے والی نسلوں کو بچا سکتے ہیں ۔ اس تحریک کا باقاعدہ آغاز 1987 میں عالمی ادارہ صحت کی قرارداد کے ذریعے کیا گیا ۔ لیکن ابھی تک اس سے کوئی خاطرخواہ نتائج حاصل نہیں کر سکے۔ بلکہ تمباکو کمپنیوں نے اس کو مزید بہتر بناتے ہوئے ویب اور ای سگریٹ کی شکل میں نوجوانوں کو جدید تحفہ دے دیا ہے ۔ جس کو بالخصوص نوجوانوں نسل لڑکے اور لڑکیاں ایک فیشن کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اس کے لیے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور اینٹی نارکوٹکس بورڈ کو مل کر ایسا لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے ۔ جس سے نارکوٹکس کمپنیوں کی حوصلہ شکنی ہو ۔ ایسے قوانین مرتب کرنے چاہئیں، جس سے ان کاروبار کی ترسیل کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی ہوں۔اور ان کے لئے ٹیکس کا نظام اتنا سخت اور کڑا ہونا چاہیے کہ ان کو اپنا کاروبار چلانے میں خاطرخواہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

    یہی نہیں بلکہ اپنے بچوں کی تربیت اس طرح کریں کہ وہ بجائے اس کے کہ والدین اور اپنے بڑوں سے چوری یہ کام کریں، وہ خود ان چیزوں سے دور رہیں۔ اور اپنے اچھے برے کا فیصلہ کر سکیں۔ اس کی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ خود بچوں کے سامنے وہ کام نہ کریں، جس سے وہ کل کو اپنے بچے کو روکتے ہوئے جھجک محسوس کریں۔

    تمباکو نوشی کرتے ہوئے صحت کے ساتھ ساتھ مالی نقصان بھی کیا جاتا ہے ۔ کہ ہم خود اپنے ہاتھوں سے اپنا مال اور صحت دھوئیں میں اڑا دیتے ہیں ۔ اور بدلے میں نکوٹین کا زہریلا اور نشہ آور مادہ ہماری رگوں میں دوڑنے لگتا ہے اور ہم اپنے ہاتھوں سے اپنی جانوں کو جوکھم میں ڈال دیتے ہیں۔ خود ذاتی کوشش کے ساتھ اداروں کو بھی اس کاروبار کی حوصلہ شکنی کے لئے سخت اور دیرپا اقدامات کرنے پڑیں گے ۔ چند لوگوں کے مفادات کے سامنے نسلوں کی قربانی نہ دیں ۔ بلکہ ان نشے کی طرف بڑھتے ہوئے قدموں میں ابھی سے قانون کی بیڑیاں ڈال کر اپنی آنے والی نسلوں کو بچا کر تمباکو سے پاک پاکستان کی بنیاد رکھ دیں ۔
    پاکستان زندہ باد

  • تمباکو سے پاک پاکستان ،تحریر:بابر امین ابر

    تمباکو سے پاک پاکستان ،تحریر:بابر امین ابر

    تمباکو کا آغاز سب سے پہلے امریکہ کے مقامی باشندوں کے ہاں ہوا۔ ریڈ انڈینز اسے استعمال کیا کرتے تھے۔ قریباً چھ ہزار قبل مسیح میں وسطی اور جنوبی امریکہ میں تمباکو کے پودوں کی کاشت کاری کی گئی۔ ابتدائی طور پر اسے مذہب رسومات، علاج اور روحانی تقریبات میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ان کے نزدیک دھواں دعائیں آسمان پر پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔ 1492ء میں کرسٹوفر کولمبس جب امریکہ پہنچا تو اس نے مقامی لوگوں کو تمباکو پیتے دیکھا پھر وہ تمباکو کے بیج اور پتے یورپ لے گیا۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ اس کی لت پھیلنا شروع ہوئی۔ ابتدا میں لوگ اسے پینے کے لیے لکڑی اور مٹی کے پائپ استعمال کرتے تھے۔ سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں اسے بادشاہوں، فوجی حلقوں اور امراء کی شان و شوکت کی علامت سمجھا جانے لگا۔ سگار میں تمباکو بھر کر پینا بھی شان و شوکت اور امراء کی عزت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔انیسویں صدی میں مشینوں کی مدد سے سگریٹ تیار ہونا شروع ہو گئے۔ اس کے بعد تمباکو نوشی کے پھیلاؤ میں تیزی آ گئی۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں سپاہیوں کو سکون مہیا کرنے کے مواد کے طور پر سگریٹ بھی دیے جاتے تھے۔ تاہم 1950ء میں سائنس نے یہ بات ثابت کی کہ تمباکو نوشی سے پھیپھڑوں کا کینسر، سانس کے مسائل اور دل کی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔
    تمباکو نوشی ایسی عادت ہے جس سے صرف فرد واحد کی زندگی نہیں بلکہ معاشرہ تباہ و برباد ہوتا ہے۔ آج پاکستان بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں تمباکو نوشی اور منشیات کا استعمال ستعمال جنون کی حد سے گزرنے والا ہو چکا ہے۔ تمباکو اپنے اندر نکوٹین اور کئی زہریلے کیمیکل رکھتا ہے جو دل، دماغ اور پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس سے فالج ہونے کا اندیشہ بھی لاحق رہتا ہے۔ تمباکو نوشی کرنے والا صرف خود ہی متاثر نہیں ہوتا ہے بلکہ آس پاس بیٹھے لوگوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ یہ پیسو سموکنگ کہلاتا ہے۔

    آج کی نئی نوجوان نسل ملکِ عزیز کی ترقی کا زینہ بننے کی نسبت تمباکو نوشی اور دیگر نت نئے ایجاد ہونے والے نشوں میں ڈوبتے جانا زیادہ پسند کرتی ہے۔ نا صرف ذاتی زندگی تباہ و برباد کرتے ہیں بلکہ حلقۂ احباب کو بھی اس لت کا عادی بناتے ہیں۔ سگریٹ، آئس اور پائپ جیسے نشے آج بطور فیشن استعمال کیے جاتے ہیں۔ دوست احباب آپس میں مل بیٹھ کر علمی مباحث کرنے کی بجائے سگریٹ، آئس اور پائپ یا حقے کی مختلف فلیور استعمال کر کے زیادہ روحانی خوشی حاصل کرتے ہیں۔ اسے شخصی آزادی اور ہائی ویلیو سٹیٹس کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
    پاکستان میں نئی نسل کو اس برائی سے بچانے کے لیے حکومت کو اپنا ٹھوس کردار ادا کرنا پڑے گا۔ حکومتی اقدامات اور تنبیہات کے باوجود بھی تمباکو نوشی کا استعمال اپنی حدود سے تجاوز کرتا جا رہا ہے۔ اب تو سکول، کالج اور گرلز ہوسٹل بھی اس کی زد میں آ چکے ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی اس مسئلے کے سلجھاؤ کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ اساتذہ جو کہ معمارِ قوم ہیں۔ ان کے پاس علم کی نورانی قوت موجود ہے۔ انھیں چاہیے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت اور عادات پر توجہ مرکوز کریں۔ انھیں تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے بچاؤ کے لیے رہنمائی فراہم کریں اور تربیتی ورکشاپس کا انعقاد اولین ترجیح بنائیں۔ تمباکو نوشی کے خلاف آگاہی مہم چلائیں۔ والدین کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی سرگرمیوں اور بری صحبت پر خصوصی طور پر نظر رکھیں۔

    سگریٹ کی تشہیری مہم اور پروگرامز کی سختی سے حوصلہ شکنی کی جائے۔ علماء اور سماجی رہنما اس سلسلے میں معاون کا کردار ادا کریں۔ عوام میں تمباکو نوشی اور دیگر نشہ جات کے خلاف سماجی بیداری اور آگاہی کی مہم چلائیں۔

    کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے نئی نسل ایک بیش قیمت خزانہ ہوتی ہے۔ اس کی حفاظت اور کردار سازی کے لیے حکومت اور عوام کو مل جل کر کردار ادا کرنے ضرورت ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اپنی نوجوان نسل کو ہنر، مہارتیں اور ترقی کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ جبکہ پاکستان کے نوجوان بجائے مہارتوں کے حصول، فنی خدمات اور ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کے، کلف لگے اکڑے لباس پہن کر ہاتھوں میں سگریٹ اور دیگر نشے تھامے ناصرف خود کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ ملک و قوم کے نقصان کے ضامن بنتے ہیں۔

    دینِ اسلام حلال اشیاء کی ترغیب دیتا ہے اور برائی اور بری اشیاء چھوڑنے کا حکم دیتا ہے۔ اسلام ہر اس نشہ آور شے کو حرام قرار دیتا ہے جو انسان کو ہوش و حواس سے بیگانہ کرے اور اسے کسی بھی بری لت کا شکار بنائے۔
    اس ضمن میں حکومت کو خصوصی اقدامات اٹھانے اور قوانین کے نفاذ کی اشد ضرورت ہے۔ تب ہم کہیں جا کر پاکستان کو تمباکو سے پاک صاف پاکستان بنا سکتے ہیں۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان ،تحریر:تابندہ طارق عکس

    تمباکو سے پاک پاکستان ،تحریر:تابندہ طارق عکس

    جاڑے کا موسم عروج پر تھا۔گہرے کالے بادل،ہر طرف دھند ہی دھند اور دھند سے اٹھتا ہوا دھواں باہر کے ماحول کو شفافیت سے محروم کر رکھا تھا،وہاں ایک گاؤں آباد تھا جس میں ہزاروں گھر تھے،ان ہزاروں گھروں میں ایک گھر ایسا بھی تھا جس کی در و دیوار پر ہاتھوں کی دلکش کشیدہ کاری کی گئی تھی۔ہاتھ کے باریک پھول دار لکڑی کے بڑے بڑے دروازے تھے جو اس گھر کی خوبصورتی میں چار چاند لگا رہے تھے۔جیسے کسی راجا مہاراجہ کے محل کا گمان ہوتا ہو۔گہری دھند میں چودھویں کے چاند کا عروج مندمل ہوچکا تھا۔چاند کے ارد گرد اڑتا دھواں کبھی چاند کو نمایاں کرتا اور کبھی اوجھل کر دیتا۔لیکن یہ دھواں صرف آسمان پر نہیں تھا بل کہ اس شاندار گھر جس کو دیکھتے ہی کسی محل کا گمان ہوتا تھا اس گھر کے ایک کمرے کی باہر سے کھڑکیوں کے شیشے دھندلکے ہو رہے تھے۔کمرے کے اندر بھی کھڑکیوں کے شیشے داغ دار ہو چکے تھے،ان پر دھواں پڑ پڑ کر اب شیشے سے زیادہ دھواں دھار جمی ہوئی تہہ دکھائی دیتی تھی۔اس کمرے سے دھواں اٹھتا ہوا کمرے میں پھیلتا جا رہا تھا کمرے کے گوشے گوشے میں دھواں رقص کر رہا تھا اور سرخ مائلی روشنی کسی موم بتی کی طرح روشن تھی۔دروازے پر دستک ہوئی جیسے کسی نے اسے پیچھے کی سمت کھولنے کی کوشش کی ہو۔ہلکی قدموں کی چاپ سے کوئی اندر داخل ہوا، آندھرا اور دھواں اس کے ساتھ سرخ مائلی روشنی مدھم جگنو کی مانند ٹمک رہی تھی۔ایک آواز نے سارا ماحول بدل دیا تھا۔
    "سائیں! آپ اندھیرے میں بیٹھ کر آج پھر سگریٹ پر سگریٹ سلگائے جا رہے ہیں۔”
    بورڈ پر لگے بٹن کی آواز کے ساتھ کمرہ روشن ہو گیا۔
    "ٹک۔”
    ایک ٹرے اس میں رکھا کپ اور کپ سے نکلتی بھاپ جو گرم ہونے کا تاثر دے رہی تھی۔چائے پکڑتے ہوئے گویا ہوئی۔
    "یہ آپ کی چائے۔”
    "شہر بانو! آج بہت سردی ہے۔شکر ہے تم چائے لے آئی۔”
    وہ بلنگ کی دوسری طرف آکر بیٹھ گئی اور پھر سے کہنے لگی۔
    "سائیں! آپ اتنے سگریٹ مت پیا کریں،آپ جانتے ہیں یہ اچھی چیز نہیں ہے۔”

    "شہر بانو! سردیوں کی طویل راتیں،ماضی کے گہرے دکھ،آج کے گہرے سناٹے اور یہ خالی حویلی جیسے جیسے میرا جی جلاتے ہیں ویسے ہی میں اس سگریٹ سے اپنے اندر کے خلا کو جلانے کی کوشش کرتا ہوں۔”

    سائیں خیر دین جہاں دیدہ گھاگ تھا،لیکن عمر کے اس حصے میں اسے اولاد کے نہ ہونے کا دکھ اس پر تیر تلوار کی طرح کاٹتا تھا دوسری طرف شہر بانو بھی گہرے صدمے میں تھی لیکن اس کے باوجود وہ اپنے دکھ پر ضبط کر لیتی،اپنی گہری نشیلی آنکھوں میں آنسوؤں کے امنڈنے والے سمندر کو پیتی رہتی۔لیکن وہ سائیں کے سامنے خود کو بہت مضبوط ظاہر کرتی۔چائے پینے کے بعد وقت دیکھا تو کافی رات گزر چکی تھی۔لائٹ آف کرکے دونوں سو گئے۔کچھ گھنٹوں بعد اچانک ایک طرف باہر بادل گرجنے کی آواز دھرتی کو جھنجھوڑ رہی تھی اور دوسری طرف اچانک سائیں کو کھانسی کا دورہ پڑا یہ کھانسی کا دورہ بہت شدید تھا اتنا کے شہر بانو ڈر کے مارے جلدی سے آٹھ کھڑی ہوئی۔لائٹ آن کی اور جلدی سے پانی لینے کے لیے کمرے سے باہر گئی لیکن جب واپس آئی تو سائیں کی حالت دیکھ کر پانی کا گلاس ہاتھ سے چھوٹ کر گرا اور ٹوٹ گیا۔
    "سائیں! یہ کیا ہوا آپ کو؟”
    سائیں کھانستے کھانستے زمین پر گر پڑا تھا اور اس کے منہ سے خون رسنے لگا۔شہر بانو نے جلدی سے اٹھانے کی کوشش کی اور با مشکل بیڈ پر لیٹا کر منہ سے خون صاف کیا۔پھر جلدی سے اپنے رشتے داروں کو کال کرنے لگی لیکن رات کافی ہوچکی تھی اسی لیے کوئی بھی کال نہیں اٹھا رہا تھا۔گاؤں کے قریب ایک ہسپتال تھا شہر بانو نے وہاں کال کرکے ایمرجینسی ایمبولینس سے مدد لی اور سائیں کو ہسپتال لے گئی۔ڈاکٹر نے فورا چیک کیا اور کچھ ٹیسٹ لکھ کر نرس کو دیے اور کہا۔
    "نرس! یہ ٹیسٹ جلد از جلد کروائیں اور جیسے ہی رپورٹ آ جائے فورا مجھے مطلع کیجیے۔”
    شہر بانو ساری رات روتی رہی دعائیں کرتی رہی۔صبح ہوتے ہی ڈاکٹر وارڈ میں آیا تو شہر بانو جھٹ سے کہنے لگی۔
    ” ڈاکٹر صاحب! یہ ٹھیک تو جائیں گے نا زیادہ خطرے والی بات تو نہیں ہے نا؟”

    ” حد سے زیادہ تمباکو نوشی کی وجہ سے ان کے پھیپھڑے خراب ہو گئے ہیں اور انہیں کینسر بھی ہے۔آپ کوشش کیجیے یہ تمباکو نوشی ترک کر دیں۔کینسر ابھی دوسری سٹیج پر ہے تو اس پر قابو پایا جا سکتا ہے احتیاط ہی اب ان کی زندگی بچا سکتی ہے۔ورنہ سوری۔”
    شہر بانو یہ سنتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔سائیں کے پاس گئی اس کے ہاتھ پر اپنے ہاتھ کا لمس رکھا جس سے سائیں کی نیم غنودگی والی آنکھیں دھیرے دھیرے کھلنے لگی۔وہ کپکپاتی آواز سے کہنے لگا۔
    "شہر بانو! تم کیوں رو رہی ہو؟ دیکھو! میں بالکل ٹھیک ہوں۔”
    شہر بانو نے پہلی بار رعب دار آواز میں کہا۔
    "آج آپ کی ایک سخت فیصلہ کرنا ہے آپ بتائیں آپ کے لیے زیادہ اہم کون ہے میں یا پھر سگریٹ؟”

    "تم سے زیادہ اہم کوئی نہیں ہے میرے لیے شہر بانو!”
    شہر بانو نے اپنے رخسار سے اپنے پلو سے آنسوؤں کو صاف کیا اور کہنے لگی۔
    "آپ کے لیے میں اہم ہوں،تو میں آپ سے آج پوری زندگی کا پہلا تحفہ مانگتی ہوں خدارا سگریٹ چھوڑ دیجیے۔”
    "تم نے زندگی میں مجھ سے پہلی بار کچھ مانگا ہے،آج تمہارے لیے سگریٹ کو ترک کر دیا ہے۔”
    شہر بانو آج بہت خوش تھی۔وقت گزرتا گیا لیکن اس دن کے بعد سائیں نے کبھی بھی سگریٹ کو ہاتھ نہیں لگایا۔مکمل علاج کروانے کے بعد آج وہ اپنی زندگی پرسکون جی رہے تھے اور باقی لوگوں کو بھی تمباکو نوشی ترک کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہتے۔
    "تمباکو سے پاک پاکستان۔”

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:عبدالحفیظ شاہد

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:عبدالحفیظ شاہد

    کسی بھی اچھے معاشرے کی پہچان اس کی ظاہری ترقی، اس کی سڑکوں، عمارتوں یا مضبوط معیشت سے نہیں کی جا سکتی بلکہ لوگوں کی ذہنی اور جسمانی صحت اور فکری بالیدگی کسی بھی معاشرے کے بنیادی ستون ہیں۔ اگر انسان ہی کمزور، بیمار اور نشے کی زنجیروں میں جکڑے ہوں تو ترقی کے تمام دعوے کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں۔ پاکستان آج جن بڑے سماجی اور صحت کے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، ان میں تمباکو نوشی ایک ایسا مسئلہ ہے جو خاموشی سے نسلوں کو صحت کو متاثر کر رہا ہے۔ یہ صرف ایک عادت نہیں ہے بلکہ ایک ایسا رجحان ہے جو صحت، معیشت اور معاشرتی ڈھانچے تینوں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ "تمباکو سے پاک پاکستان” اسی لیے ایک خواب نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت ہے۔

    پاکستان میں تمباکو نوشی کی صورتحال تشویشناک حد تک سنگین ہے۔ مختلف قومی اور بین الاقوامی سرویز کے مطابق ملک میں تقریباً 3 کروڑ 16 لاکھ افراد کسی نہ کسی شکل میں تمباکو استعمال کرتے ہیں، جو کہ بالغ آبادی کا تقریباً 19.9 فیصد بنتا ہے۔ یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کی بربادی کی کہانی ہے۔ ہر سال تمباکو سے متعلق بیماریوں کے باعث ہزاروں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اموات کی شرح 91.1 فی ایک لاکھ افراد ہےجو کہ جنوبی ایشیا اور عالمی اوسط دونوں سے زیادہ ہیں۔
    تمباکو نوشی کے نقصانات صرف سانس کی بیماریوں یا پھیپھڑوں کے کینسر تک محدود نہیں۔ یہ دل کے امراض، فالج، منہ اور گلے کے کینسر اور مدافعتی نظام کی کمزوری کا بھی بڑا سبب ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں 80 لاکھ سے زائد افراد تمباکو سے متعلقہ بیماریوں کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، جن میں ایک بڑا حصہ ترقی پذیر ممالک کا ہوتا ہے۔ پاکستان بھی انہی ممالک میں شامل ہے جہاں صحت کا نظام پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے اور تمباکو نوشی اس بوجھ کو مزید بڑھا رہی ہے۔

    معاشی لحاظ سے دیکھا جائے تو صورتحال اور بھی تشویشناک ہے۔ پاکستان اپنی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا تقریباً 1.4 فیصد تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور پیداواری نقصان پر خرچ کرتا ہے۔ اگر اسے سادہ زبان میں سمجھا جائے تو یہ اربوں روپے بنتے ہیں جو صحت کے نظام، علاج معالجے اور کام کرنے کی صلاحیت میں کمی کی وجہ سے ضائع ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ رقم ہے جو اگر تعلیم، روزگار اور انفراسٹرکچر پر خرچ ہو تو ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے۔

    آج کل سگریٹ، شیشہ اور دیگر تمباکو مصنوعات کو بعض اوقات فیشن اور اسٹیٹس کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد محض تجسس یا دوستوں کے دباؤ میں آ کر اس عادت کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایک بار یہ سلسلہ شروع ہو جائے تو اس سے نکلنا آسان نہیں رہتا۔اگر ہم سماجی سطح پر دیکھیں تو تمباکو نوشی صرف فرد کو نہیں بلکہ پورے گھرانے کو متاثر کرتی ہے۔ ایک سگریٹ نوش نہ صرف اپنی صحت بلکہ اپنے اردگرد موجود بچوں، خواتین اور بزرگوں کی صحت کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے۔ گھر کا معاشی بجٹ متاثر ہوتا ہے، کیونکہ محدود آمدنی کا ایک حصہ تمباکو پر خرچ ہو جاتا ہے۔ یوں یہ عادت ایک خاموش معاشی بوجھ بھی بن جاتی ہے۔

    اسلامی تعلیمات بھی انسانی جان کی حفاظت پر زور دیتی ہیں۔ قرآن مجید میں انسان کو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے منع کیا گیا ہے۔ جب جدید طب یہ ثابت کر چکی ہے کہ تمباکو نوشی انسانی جان کے لیے نقصان دہ ہے تو اسے محض ایک عادت سمجھنا درست نہیں رہتا۔ یہ دراصل اپنی اور دوسروں کی صحت کے ساتھ ایک
    سنگین غفلت ہے۔

    اب سوال یہ ہے کہ تمباکو سے پاک پاکستان کیسے ممکن ہے؟
    اس کے لیے صرف قوانین بنانا کافی نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد سب سے اہم ہے۔ پاکستان میں تمباکوکنٹرول کے قوانین موجود ہیں، لیکن ان پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے کے باعث ان کے اثرات محدود رہتے ہیں۔ ضروری ہے کہ سگریٹ کی فروخت پر سخت نگرانی کی جائے، کم عمر افراد کو تمباکو فروخت کرنے پر مکمل پابندی ہو اور عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کے قوانین پر سختی سے عمل کیا جائے۔مزید یہ کہ حکومت کو چاہیے کہ تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمباکو نوشی چھوڑنے کے مراکز ہر ضلع اور تحصیل کی سطح پر قائم کیے جائیں جہاں لوگوں کو طبی اور نفسیاتی مدد فراہم کی جا سکے۔

    میڈیا کا کردار بھی اس جنگ میں نہایت اہم ہے۔ ٹی وی، فلمیں اور سوشل میڈیا اگر سگریٹ نوشی کو ”اسٹائل“ کے طور پر دکھائیں گے تو نوجوان متاثر ہوں گے۔ اس کے برعکس اگر آگاہی مہمات چلائی جائیں، حقیقی کہانیاں دکھائی جائیں اور نقصانات کو واضح کیا جائے تو سوچ میں تبدیلی آ سکتی ہے۔تعلیمی ادارے اس تبدیلی کا مرکز بن سکتے ہیں۔ اگر اسکولوں اور کالجوں میں باقاعدہ آگاہی پروگرام، ورکشاپس اور سیمینارز منعقد کیے جائیں تو نوجوان نسل کو شروع ہی میں اس عادت سے بچایا جا سکتا ہے۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ کھل کر بات کریں اور خود ایک مثال قائم کریں۔

    آخر میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ تمباکو سے پاک پاکستان صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اجتماعی قومی عزم کا نام ہے۔ یہ وہ سفر ہے جس میں ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایک استاد، ایک والد، ایک ڈاکٹر، ایک صحافی اور ایک طالب علم سب اس تبدیلی کا حصہ بن سکتے ہیں۔

    اگر آج ہم نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والے برسوں میں صحت کا نظام مزید دباؤ کا شکار ہوگا، معاشی نقصان بڑھے گا اور نئی نسلیں بیماریوں میں جکڑ جائیں گی۔ لیکن اگر ہم نے آج فیصلہ کر لیا تووہ وقت دور نہیں جب پاکستان میں سانسیں، ماحول اور آب و ہوا صاف ستھری ہوگی۔ زندگی صحت مند ہوگی اور آنے والی نسلیں ایک روشن اور محفوظ ملک میں پروان چڑھیں گی۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: ام صائمہ

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: ام صائمہ

    اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو زندگی جیسی عظیم نعمت سے نوازا ہے اور اس زندگی کو صحت و تندرستی کے ساتھ گزارنا ہر انسان کا حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ کسی بھی ملک کا اصل سرمایہ اس کے کارخانے، عمارتیں یا سڑکیں نہیں ہوتیں، بلکہ اس کے تندرست اور باشعور عوام ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے، آج ہمارا پیارا وطن پاکستان ایک ایسی خاموش وبا کی لپیٹ میں ہے جو ہماری نوجوان نسل کو اندر ہی اندر گھن کی طرح چاٹ رہی ہے۔ یہ وبا کوئی اور نہیں، بلکہ تمباکو نوشی کی بڑھتی ہوئی لت ہے۔ "تمباکو سے پاک پاکستان” صرف ایک نعرہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ یہ ہمارے محفوظ اور روشن مستقبل کے لیے ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔

    اگر ہم اپنے ارد گرد مشاہدہ کریں، تو آج سگریٹ نوشی ہمارے معاشرے میں ایک فیشن بن چکی ہے۔ کبھی دور تھا جب بڑوں کے سامنے سگریٹ پینا عیب سمجھا جاتا تھا، لیکن آج گلی محلوں، چائے کے ہوٹلوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے باہر نو عمر لڑکے اور یہاں تک کہ لڑکیاں بھی دھواں اڑاتی نظر آتی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اب روایتی سگریٹ کے ساتھ ساتھ شیشہ اور ویپ (Vape) جیسے نئے نشوں نے جنم لے لیا ہے، جنہیں نوجوان یہ سوچ کر اپناتے ہیں کہ شاید یہ نقصان دہ نہیں ہیں یا یہ جدید دور کا فیشن ہے۔ یہ ایک بہت بڑا دھوکہ ہے، جس کے پیچھے تمباکو بنانے والی کمپنیوں کی کروڑوں روپے کی مارکیٹنگ چھپی ہوئی ہے۔

    تمباکو نوشی صرف ایک انسان کی صحت کو برباد نہیں کرتی، بلکہ یہ پورے خاندان کو ذہنی اور معاشی طور پر مفلوج کر دیتی ہے۔ سگریٹ کا دھواں جب پھیپھڑوں میں جاتا ہے، تو وہ صرف کینسر، دل کے امراض اور سانس کی بیماریاں ہی پیدا نہیں کرتا، بلکہ گھر کے بجٹ کو بھی چاٹ جاتا ہے۔ ایک غریب یا مڈل کلاس گھرانے کا فرد جب اپنی محنت کی کمائی کا بڑا حصہ سگریٹ کے دھوئیں میں اڑا دیتا ہے، تو اس کے بچوں کی تعلیم اور اچھی غذا کا حق چھن جاتا ہے۔

    اس سے بھی بڑا المیہ "پیسو اسموکنگ” (Passive Smoking) ہے، یعنی سگریٹ پینے والے کے پاس بیٹھنے والے معصوم بچے اور گھر کے دیگر افراد بھی اس زہریلے دھوئیں کا شکار ہو کر انھی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جن کا انہوں نے کبھی گناہ بھی نہیں کیا ہوتا۔

    ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں ہر سال لاکھوں افراد تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ذرا سوچیے، کتنے ہی گھروں کے چراغ گل ہو جاتے ہیں،

    کتنی مائیں اپنے جوان بیٹوں سے محروم ہو جاتی ہیں اور کتنے بچے یتیم ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ نقصان ہے جس کا اندازہ پیسوں سے نہیں لگایا جا سکتا۔ ہماری نوجوان نسل، جو اس ملک کا مستقبل ہے، اگر وہ ہسپتالوں کے چکر کاٹنے پر مجبور ہو جائے گی، تو ملک کی ترقی کا خواب کیسے پورا ہوگا؟

    ایک بیمار نسل کبھی ایک مضبوط ملک کی بنیاد نہیں رکھ سکتی۔

    اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے پاکستان کو تمباکو سے پاک کیسے بنا سکتے ہیں؟

    یہ کام صرف حکومت کے اکیلے کرنے کا نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سب سے پہلی اور بڑی ذمہ داری والدین اور اساتذہ پر عائد ہوتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے دوستوں اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ ان کے ساتھ ایک دوستانہ ماحول قائم کریں تاکہ بچے کسی ذہنی دباؤ یا دیکھا دیکھی میں آ کر غلط راستے پر نہ چل پڑیں۔ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو صرف کتابی علم دینے کے بجائے کردار سازی پر توجہ دینی چاہیے اور تمباکو کے نقصانات کے بارے میں باقاعدگی سے سیمینارز اور لیکچرز منعقد کرنے چاہئیں۔

    دوسری اہم ضرورت میڈیا کی طاقت کا درست استعمال ہے۔ ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں سگریٹ پینے کے مناظر کو "بہادری” یا "اسٹائل” کے طور پر دکھانا بالکل بند ہونا چاہیے، کیونکہ نوجوان نسل اپنے پسندیدہ اداکاروں کی نقل کرتی ہے۔ اس کے برعکس، باغی ٹی وی جیسے پلیٹ فارمز کی طرح، ڈیجیٹل میڈیا پر ایسی مہم چلانی چاہیے جو تمباکو نوشی کے بھیانک انجام کو سامنے لائے، تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس زہر سے نفرت پیدا ہو۔

    اس کے ساتھ ساتھ، حکومت کو قوانین پر سختی سے عمل درآمد کروانا ہوگا۔ پبلک مقامات، پارکوں، دفاتر اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سگریٹ نوشی پر عائد پابندی کو صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ خلاف ورزی کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد ہونے چاہئیں۔

    تعلیمی اداروں کے ارد گرد تمباکو اور سگریٹ کی دکانوں پر مکمل پابندی ہونی چاہیے اور سگریٹ پر ٹیکسز اس حد تک بڑھا دیے جائیں کہ یہ عام نوجوان کی پہنچ سے دور ہو جائے۔

    آج ہمیں ایک قوم بن کر یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اس خاموش قاتل کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو ایک صحت مند، صاف ستھرا اور روشن پاکستان دینا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے گھروں، اپنے محلوں اور اپنے شہروں سے اس دھویں کا خاتمہ کرنا ہوگا۔

    زندگی اللّٰہ کی امانت ہے، اسے سگریٹ کے چند کشوں کی نذر کر کے ضائع مت کیجیے۔ آئیں، آج ہی سے عہد کریں کہ ہم خود بھی اس لت سے دور رہیں گے اور دوسروں کو بھی بچائیں گے، کیونکہ ایک صحت مند نوجوان ہی "تمباکو سے پاک پاکستان” کا ضامن ہے۔ اللّٰہ پاک ہمارے وطن کو اس زہر سے نجات دلائے اور ہمیں ایک تندرست اور مضبوط قوم بنائے، آمین۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان کی ایک نئی تعبیر،تحریر: عامر عباس ناصر اعوان

    تمباکو سے پاک پاکستان کی ایک نئی تعبیر،تحریر: عامر عباس ناصر اعوان

    رات کے سناٹے میں شہر کی ایک گلی کے نکڑ پر چند نوجوان کھڑے تھے۔ ہنسی مذاق جاری تھا، موبائل فونز کی روشنی چہروں پر پڑ رہی تھی اور درمیان میں سگریٹ کا دھواں فضا میں ایسے بکھر رہا تھا جیسے کسی نے اندھیروں کو اور گہرا کر دیا ہو۔ ان میں سے ایک لڑکا خاموش کھڑا تھا۔ اس کی عمر بمشکل سترہ برس ہوگی۔ دوستوں نے ہنستے ہوئے اُس کی طرف سگریٹ بڑھایا اور کہا،
    “لو! مرد بنو!”

    وہ چند لمحے خاموش رہا۔ اُس کے ذہن میں اپنی ماں کا چہرہ آیا، باپ کی محنت یاد آئی، چھوٹے بہن بھائیوں کی معصوم ہنسی گونجی۔ اُس نے سگریٹ لینے کے بجائے آہستگی سے ہاتھ پیچھے کر لیا۔ دوست قہقہہ لگا کر ہنس پڑے، مگر اُس لڑکے نے اسی لمحے ایک جنگ جیت لی تھی؛ اپنے نفس کی جنگ، اپنے مستقبل کی جنگ۔

    تمباکو نوشی صرف ایک عادت نہیں، یہ آہستہ آہستہ انسان سے اُس کی زندگی چھیننے والا خاموش قاتل ہے۔ یہ ابتدا میں دوست لگتی ہے مگر انجام میں انسان کو تنہائی، بیماری اور پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں دیتی۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں سگریٹ کو بعض اوقات “فیشن”، “اسٹیٹس” یا “جدید سوچ” کی علامت بنا دیا گیا ہے، حالاں کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ایک جلتی ہوئی سگریٹ دراصل انسان کی صحت، خوشیوں اور خوابوں کو جلاتی ہے۔

    پاکستان ایک نوجوان ملک ہے۔ یہاں کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی نوجوان اگر تعلیم، تحقیق، ہنر اور مثبت سوچ کی طرف آئیں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ترقی سے نہیں روک سکتی۔ مگر جب یہی نوجوان تمباکو جیسے زہر کا شکار ہو جائیں تو ان کی صلاحیتیں وقت سے پہلے مرجھانے لگتی ہیں۔ سگریٹ صرف پھیپھڑوں میں دھواں نہیں بھرتی بلکہ انسان کے ارادوں، توانائی اور زندگی کے رنگ بھی مدھم کر دیتی ہے۔

    اکثر نوجوان دباؤ، تنہائی یا وقتی پریشانی سے بچنے کے لیے سگریٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے سکون ملتا ہے، مگر یہ سکون ایسا ہے جیسے کوئی پیاسا شخص سمندر کا پانی پی لے۔ چند لمحوں کی جھوٹی راحت کے بعد نقصان کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ تمباکو انسان کو جسمانی طور پر کم زور کرنے کے ساتھ ذہنی اور معاشی نقصان بھی دیتا ہے۔ روزانہ سگریٹ پر خرچ ہونے والی رقم اگر تعلیم، کتابوں، گھر والوں یا کسی مثبت مقصد پر لگائی جائے تو نہ جانے کتنی زندگیاں سنور سکتی ہیں۔

    سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ تمباکو نوشی صرف پینے والے تک محدود نہیں رہتی۔ اس کا دھواں اردگرد موجود لوگوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ایک باپ جب اپنے بچوں کے سامنے سگریٹ پیتا ہے تو وہ صرف دھواں نہیں اڑاتا بلکہ انجانے میں ایک غلط مثال بھی قائم کرتا ہے۔ ایک ماں جب کھانسی سے تڑپتی ہے یا ایک بچہ سانس کی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو کہیں نہ کہیں اس کے پیچھے یہی زہریلا دھواں موجود ہوتا ہے۔

    ہمیں سوچنا ہوگا کہ آخر ہم کیسا پاکستان چاہتے ہیں؟ ایسا پاکستان جہاں اسپتال بھرے ہوں، نوجوان بیمار ہوں اور خواب ادھورے رہ جائیں؟ یا ایسا پاکستان جہاں کھیل کے میدان آباد ہوں، کتابیں ہاتھوں میں ہوں، چہرے صحت مند ہوں اور فضائیں تازہ سانسوں سے مہک رہی ہوں؟ فیصلہ ہمیں خود کرنا ہے۔

    آج ضرورت صرف قوانین بنانے کی نہیں بلکہ شعور بیدار کرنے کی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں سے دوستانہ تعلق قائم کریں تاکہ وہ بری صحبت یا نقصان دہ عادتوں کا شکار نہ ہوں۔ اساتذہ صرف نصاب تک محدود نہ رہیں بلکہ کردار سازی پر بھی توجہ دیں۔ میڈیا اگر چاہے تو نوجوانوں کی سوچ بدل سکتا ہے۔ فلموں، ڈراموں اور اشتہارات میں سگریٹ کو کشش کے بجائے تباہی کی علامت بنا کر پیش کیا جائے تو بہت کچھ بدل سکتا ہے۔

    لیکن اصل انقلاب اُس دن آئے گا جب نوجوان خود فیصلہ کریں گے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی کو دھوئیں میں نہیں اڑائیں گے۔ اصل بہادری یہی ہے کہ انسان برائی کو “نہ” کہنے کا حوصلہ پیدا کرے۔ دوستوں کے دباؤ میں آکر اپنی صحت تباہ کرنا بہادری نہیں، کم زوری ہے۔ طاقت ور وہ ہے جو اپنی خواہشات پر قابو پا لے۔

    تصور کریں ایک ایسے پاکستان کا جہاں کالجوں کے باہر سگریٹ کے ٹکڑے نہیں بلکہ کتابوں کی خوشبو ہو۔ جہاں نوجوانوں کے ہاتھوں میں دھواں نہیں بلکہ ہنر ہو۔ جہاں سانس لینا بیماری نہیں، زندگی کی خوشی محسوس ہو۔ ایسا پاکستان صرف خواب نہیں، حقیقت بن سکتا ہے، اگر ہم آج سے آغاز کریں۔

    آئیے! ہم سب اپنے حصے کا چراغ جلائیں۔ اپنے دوستوں کو تمباکو سے دور رکھیں، اپنے گھروں کو دھوئیں سے محفوظ بنائیں اور اپنی آنے والی نسلوں کو ایک صحت مند فضا تحفے میں دیں۔ کیونکہ جب نوجوان محفوظ ہوں گے تو قوم مضبوط ہوگی، اور جب سانسیں پاک ہوں گی تو پاکستان بھی پاکیزہ اور روشن ہوگا۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    تمباکو نوشی نہ صرف پینے والے کی صحت کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس کے اثرات معاشرے اور اس کے خاندان پر بھی مرتب ہوتے ہیں ۔

    تمباکو نوشی ایک ایسی خاموش تباہی ہے جو انسان کی صحت معیشت اور معاشرتی زندگی کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر رہی ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں افراد تمباکو کے استعمال کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ کروڑوں لوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں تمباکو نوشی ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ نوجوان نسل، طلبہ اور یہاں تک کہ کم عمر بچے بھی اس زہر کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں تمباکو سے پاک پاکستان صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ قومی ضرورت بن چکا ہے۔

    تمباکو نوشی انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ سگریٹ نسوار حقہ اور دیگر تمباکو مصنوعات پھیپھڑوں، دل، گردوں اور جگر کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو نوشی کینسر، دل کے امراض اور سانس کی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ نہ صرف تمباکو استعمال کرنے والا شخص متاثر ہوتا ہے ۔ گھروں میں بچےخواتین اور بزرگ اس دھوئیں کے سبب مختلف بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔پاکستان میں تمباکو نوشی کے بڑھتے رجحان کی ایک بڑی وجہ آگاہی کی کمی ہے۔ نوجوان اکثر دوستوں کی صحبت، فیشن یا ذہنی دباؤ کے باعث سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔ ابتدا میں یہ صرف شوق ہوتا ہے مگر بعد ازاں یہ ایک خطرناک نشہ بن جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں، بازاروں اور عوامی مقامات پر سگریٹ کی آسان دستیابی نوجوانوں کو اس طرف مائل کرتی ہے۔ اگر حکومت سخت قوانین نافذ کرے اور کم عمر بچوں کو تمباکو مصنوعات کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کرے تو اس مسئلے پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

    معاشی اعتبار سے بھی تمباکو نوشی ایک بڑا بوجھ ہے۔ ایک عام مزدور یا متوسط طبقے کا فرد روزانہ اپنی کمائی کا ایک حصہ سگریٹ پر خرچ کرتا ہے۔ اگر یہی رقم تعلیم، خوراک یا صحت پر خرچ کی جائے تو خاندان کی زندگی بہتر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب حکومت کو تمباکو سے حاصل ہونے والا ٹیکس وقتی فائدہ ضرور دیتا ہے مگر اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج پر کہیں زیادہ اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ہسپتالوں میں کینسر اور دل کے مریضوں کی بڑھتی تعداد اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے۔

    تمباکو نوشی کے خاتمے کے لیے صرف حکومت ہی نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں اس زہر کے نقصانات سے آگاہ کریں۔ اساتذہ تعلیمی اداروں میں شعور بیدار کریں جبکہ علماء کرام خطبات میں انسانی صحت کے تحفظ کی اہمیت اجاگر کریں۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ تمباکو کمپنیوں کے اشتہارات کی حوصلہ شکنی کرے اور عوامی آگاہی مہمات چلائے۔

    دنیا کے کئی ممالک نے تمباکو نوشی کے خلاف مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی، سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ اور تعلیمی مہمات کے ذریعے لاکھوں جانیں بچائی گئی ہیں۔ پاکستان میں بھی ایسے اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ ہر شہر، قصبے اور گاؤں میں انسداد تمباکو مہم شروع ہونی چاہیے تاکہ نوجوان نسل کو اس لعنت سے بچایا جا سکے۔ حقیقت بھی قابل غور ہے کہ ایک صحت مند قوم ہی ترقی کی ضامن ہوتی ہے۔ اگر ہماری نوجوان نسل بیماریوں کا شکار ہو جائے گی تو ملک کی ترقی کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکے گا۔ ہمیں اپنے بچوں کو صاف ماحول، بہتر صحت اور روشن مستقبل دینا ہوگا۔ “تمباکو سے پاک پاکستان” دراصل ایک صحت مند، خوشحال اور مضبوط پاکستان کی بنیاد ہے۔ ہم سب مل کر عہد کریں کہ نہ صرف خود تمباکو نوشی سے دور رہیں گے بلکہ دوسروں کو بھی اس کے نقصانات سے آگاہ کریں گے۔ ہر فرد اگر اپنی ذمہ داری محسوس کرے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان واقعی تمباکو سے پاک ملک بن جائے گا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ صحت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور اس نعمت کی حفاظت ہم سب پر فرض ہے۔ ہم سب مل کر ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھیں، ایسا پاکستان جہاں نوجوان صحت مند ہوں، فضاء صاف ہو اور ہر چہرے پر زندگی کی روشنی نظر آئے۔ یہی ایک کامیاب، ترقی یافتہ اور خوشحال قوم کی پہچان ہے۔

  • ‎ تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:شفق عابد

    ‎ تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر:شفق عابد

    ‎آج کے دور میں تمباکو نوشی ایک خطرناک عادت بنتی جا رہی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ سگریٹ، گٹکا، نسوار اور شیشہ استعمال کرتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے شوق سمجھتے ہیں جبکہ کچھ لوگ دوستوں کی صحبت یا ذہنی پریشانی کی وجہ سے اس عادت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تمباکو نوشی انسان کی صحت، گھر اور پورے معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اسی لیے ہمیں ایک ایسے پاکستان کی ضرورت ہے جو تمباکو سے پاک ہو۔

    ‎تمباکو نوشی سب سے زیادہ انسانی صحت کو متاثر کرتی ہے۔ سگریٹ کے دھوئیں میں ایسے زہریلے مادے موجود ہوتے ہیں جو پھیپھڑوں اور دل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ مسلسل تمباکو استعمال کرنے والے افراد کو سانس کی تکلیف، کھانسی، دل کی بیماری اور کینسر جیسے خطرناک امراض لاحق ہو سکتے ہیں۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف سگریٹ پینے والا ہی متاثر ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے اردگرد بیٹھے لوگ بھی دھوئیں سے نقصان اٹھاتے ہیں۔ خاص طور پر بچے اور بوڑھے اس سے جلد متاثر ہوتے ہیں۔

    ‎پاکستان میں نوجوان نسل تیزی سے اس بری عادت کا شکار ہو رہی ہے۔ اکثر نوجوان صرف فیشن یا دوستوں کی نقل میں سگریٹ پینا شروع کر دیتے ہیں۔ شروع میں وہ اسے معمولی چیز سمجھتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ یہ عادت بن جاتی ہے۔ بعد میں اسے چھوڑنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلبہ کی تعلیم اور صحت دونوں متاثر ہوتی ہیں۔ ایک صحت مند نوجوان ہی ملک کا روشن مستقبل بن سکتا ہے، اس لیے نوجوانوں کو تمباکو نوشی سے بچانا بہت ضروری ہے۔

    ‎تمباکو نوشی صرف صحت ہی نہیں بلکہ پیسے کا بھی ضیاع ہے۔ بہت سے لوگ روزانہ سگریٹ پر بڑی رقم خرچ کرتے ہیں۔ اگر یہی پیسہ تعلیم، خوراک یا کسی اچھے کام پر لگایا جائے تو انسان اپنی زندگی بہتر بنا سکتا ہے۔ غریب لوگ جب تمباکو پر پیسہ خرچ کرتے ہیں تو ان کے گھر کے دوسرے اخراجات متاثر ہوتے ہیں۔ اس طرح پورا خاندان مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔

    ‎تمباکو نوشی کے خلاف مہم چلانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر سخت پابندی لگائے۔ اسکولوں اور کالجوں کے قریب سگریٹ فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ سگریٹ کے اشتہارات کم کیے جائیں تاکہ نوجوان اس کی طرف راغب نہ ہوں۔

    ‎والدین اور اساتذہ بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں اچھی صحبت اختیار کرنے کی نصیحت کریں۔ اساتذہ کو اسکول میں طلبہ کو تمباکو نوشی کے نقصانات کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے۔ اگر بچپن سے ہی بچوں کو اس کے برے اثرات بتائے جائیں تو وہ اس عادت سے دور رہ سکتے ہیں۔

    ‎میڈیا بھی لوگوں میں شعور پیدا کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ ٹی وی، ریڈیو اور سوشل میڈیا پر ایسے پروگرام دکھائے جانے چاہییں جو لوگوں کو تمباکو نوشی کے نقصانات کے بارے میں بتائیں۔ جب لوگ اس کے نقصان کو سمجھیں گے تو وہ خود بھی اس سے بچنے کی کوشش کریں گے۔

    ‎اسلام بھی ہمیں ان چیزوں سے بچنے کا حکم دیتا ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ہوں۔ تمباکو نوشی چونکہ انسان کی جان اور صحت کو نقصان پہنچاتی ہے، اس لیے ہمیں اس سے دور رہنا چاہیے۔ صحت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور ہمیں اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔

    ‎آخر میں میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو پاکستان کو تمباکو سے پاک بنایا جا سکتا ہے۔ ہمیں خود بھی اس بری عادت سے بچنا چاہیے اور دوسروں کو بھی اس سے دور رہنے کا مشورہ دینا چاہیے۔ ایک صحت مند قوم ہی ترقی کر سکتی ہے۔ اگر ہمارا پاکستان تمباکو سے پاک ہوگا تو ہمارے نوجوان زیادہ صحت مند، خوشحال اور کامیاب ہوں گے۔

  • تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: عالیہ رمضان

    تمباکو سے پاک پاکستان،تحریر: عالیہ رمضان

    تمباکو نوشی اس دور کا ایک ایسا خطرناک ناسور ہے جو خاموشی کے ساتھ انسان کی صحت، خاندان کی خوشیوں اور پورے معاشرے کو تباہ کر رہا ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں لوگ تمباکو نوشی کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ کروڑوں افراد مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو کر اذیت بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں بھی سگریٹ، گٹکا، نسوار، شیشہ اور دیگر تمباکو مصنوعات کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ نوجوان نسل اس لت کا سب سے زیادہ شکار ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے مستقبل خطرے میں دکھائی دیتا ہے۔ اسی لیے “تمباکو سے پاک پاکستان” محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک قومی ضرورت ہے۔

    تمباکو نوشی ابتدا میں ایک عام عادت محسوس ہوتی ہے مگر آہستہ آہستہ یہ انسان کی زندگی پر مکمل قبضہ کر لیتی ہے۔ ایک شخص وقتی سکون یا دوستوں کی دیکھا دیکھی سگریٹ پینا شروع کرتا ہے، لیکن پھر یہی عادت اس کی مجبوری بن جاتی ہے۔ اکثر نوجوان یہ سوچتے ہیں کہ صرف ایک یا دو سگریٹ سے کچھ نہیں ہوگا، مگر یہی ایک قدم بعد میں خطرناک نشے میں بدل جاتا ہے۔ بہت سے لوگ ذہنی دباؤ، پریشانی، ناکامی یا تنہائی کے باعث تمباکو نوشی شروع کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ عادت مسائل کم نہیں بلکہ مزید بڑھا دیتی ہے۔

    سگریٹ کے دھوئیں میں ہزاروں زہریلے کیمیکل شامل ہوتے ہیں۔ یہ کیمیکل انسانی جسم کے مختلف اعضا کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ پھیپھڑوں کا کینسر، دل کے امراض، سانس کی تکلیف، دمہ، فالج، ہائی بلڈ پریشر اور گردوں کی بیماریاں تمباکو نوشی کے عام نتائج ہیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق تمباکو نوشی انسان کی قوتِ مدافعت کو کمزور کر دیتی ہے، جس کی وجہ سے جسم بیماریوں کا آسان شکار بن جاتا ہے۔ صرف تمباکو استعمال کرنے والا شخص ہی متاثر نہیں ہوتا بلکہ اس کے اردگرد موجود افراد بھی دھوئیں سے متاثر ہوتے ہیں۔ اسے “پیسو اسموکنگ” کہا جاتا ہے۔ ایک باپ اگر گھر میں سگریٹ پیتا ہے تو اس کے بچے اور اہلِ خانہ بھی انہی بیماریوں کے خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔

    پاکستان میں نوجوانوں میں تمباکو نوشی کے بڑھتے رجحان کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ بری صحبت ہے۔ نوجوان اکثر دوستوں کے دباؤ میں آ کر سگریٹ پینا شروع کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات فلموں، ڈراموں اور سوشل میڈیا پر سگریٹ نوشی کو ایک فیشن یا اسٹیٹس سمبل کے طور پر دکھایا جاتا ہے، جس سے نوجوان متاثر ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ خود کو جدید یا بہادر ثابت کرنے کے لیے بھی تمباکو نوشی کرتے ہیں۔ یہ ایک افسوسناک سوچ ہے کیونکہ حقیقت میں سگریٹ انسان کو کمزور، بیمار اور دوسروں کا محتاج بنا دیتا ہے۔

    تمباکو نوشی صرف صحت کے لیے ہی نقصان دہ نہیں بلکہ یہ معاشی مسائل بھی پیدا کرتی ہے۔ ایک غریب مزدور جو دن بھر محنت کرکے چند روپے کماتا ہے، اگر انہی پیسوں کا کچھ حصہ سگریٹ پر خرچ کرے تو اس کے گھر کے اخراجات متاثر ہوتے ہیں۔ وہ رقم جو بچوں کی تعلیم، دوائی یا کھانے پر خرچ ہونی چاہیے، دھوئیں میں اڑا دی جاتی ہے۔ اسی طرح حکومت کو بھی تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج پر اربوں روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ اسپتالوں میں کینسر اور دل کے مریضوں کی بڑی تعداد تمباکو نوشی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس طرح یہ بری عادت فرد کے ساتھ ساتھ پورے ملک کی ترقی کو نقصان پہنچاتی ہے۔

    اسلام نے بھی ہر اس چیز سے منع کیا ہے جو انسانی صحت اور زندگی کے لیے نقصان دہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو صحت ایک نعمت کے طور پر عطا کی ہے اور اس نعمت کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ تمباکو نوشی چونکہ جسم کو تباہ کرتی ہے، اس لیے یہ ایک نقصان دہ عمل ہے۔ علما کرام بھی اس کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں اور نوجوانوں کو اس بری عادت سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔ ایک باشعور مسلمان کبھی ایسا عمل نہیں کرے گا جو اس کی جان اور دوسروں کی صحت کے لیے نقصان کا باعث بنے۔

    تمباکو سے پاک پاکستان بنانے کے لیے صرف حکومت ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور انہیں اچھی تربیت دیں۔ اگر بچپن سے بچوں کو تمباکو نوشی کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے تو وہ مستقبل میں اس عادت سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں خصوصی آگاہی پروگرام منعقد کیے جائیں تاکہ طلبہ میں شعور بیدار ہو۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ نوجوان نسل کی درست رہنمائی کریں اور انہیں صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔

    میڈیا بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ڈراموں اور فلموں میں سگریٹ نوشی کو فیشن کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اس کے نقصانات دکھائے جائیں۔ سوشل میڈیا پر آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ نوجوان حقیقت کو سمجھ سکیں۔ اسی طرح حکومت کو عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی پر سخت پابندی عائد کرنی چاہیے۔ کم عمر بچوں کو سگریٹ فروخت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ سگریٹ کے پیکٹوں پر خوفناک تصاویر اور وارننگز کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگ اس زہر سے دور رہیں۔

    جو افراد تمباکو نوشی چھوڑنا چاہتے ہیں انہیں بھی حوصلہ افزائی اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاندان اور دوست اگر ان کا ساتھ دیں تو وہ اس عادت سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ کھیل، ورزش، مطالعہ اور مثبت سرگرمیاں انسان کو بری عادتوں سے دور رکھتی ہیں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی صحت، خوابوں اور مستقبل کو ترجیح دیں، کیونکہ ایک صحت مند جسم ہی کامیاب زندگی کی بنیاد ہوتا ہے۔

    آئیے ہم سب مل کر اس مہم کا حصہ بنیں اور اپنے وطن کو ایک صحت مند، خوشحال اور روشن پاکستان بنائیں۔ اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری محسوس کرے اور تمباکو نوشی کے خلاف آواز بلند کرے تو وہ دن ضرور آئے گا جب ہمارا پیارا وطن حقیقت میں “تمباکو سے پاک پاکستان” کہلائے گا۔

  • تحصیل چونیاں کے شہری صاف پانی جیسے بنیادی انسانی حق سے محروم کیوں؟تحریر: میاں عدیل اشرف

    تحصیل چونیاں کے شہری صاف پانی جیسے بنیادی انسانی حق سے محروم کیوں؟تحریر: میاں عدیل اشرف

    "جو ووٹ کی خاطر گلیوں میں دستک دینے آتے ہیں
    وہ پیاسی عوام کو سسکتا چھوڑ کر غائب ہو جاتے ہیں
    سرکاری پائپوں سے اب پانی نہیں، بیماری بہتی ہے
    یہ کیسے حکمران ہیں جو عوام کو صاف پانی تک نہیں دے پاتے..!۔”

    ایک لاکھ سے زائد کی آبادی پر مشتمل تحصیل کا درجہ رکھنے والا شہرِ چونیاں جو ایک پرانی تاریخ کا حامل قدیمی شہر ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ پورا شہر آج پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی ترین انسانی ضرورت سے بھی محروم ہو چکا ہے۔ جہاں دیگر ممالک میں صاف پانی کی فراہمی ریاست کی پہلی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے، وہی پاکستان میں شہری آج بھی کئی شہروں اور دیہات میں اس نعمت سے محروم ہیں۔ چونیاں، الہ آباد، کنگن پور اور چھانگا مانگا کے عوام کے لیے یہ بنیادی انسانی ضرورت ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔ چونیاں شہر کا زیرِ زمین پانی قدرتی طور پر کھارا یعنی نمکین ہے، جس کا واحد حل واٹر فلٹریشن پلانٹس یا منظم واٹر سپلائی سسٹم تھا۔ مگر افسوس! یہاں فلٹریشن پلانٹس نہ ہونے کے برابر ہیں اور جو گنتی کے چند فلٹریشن پلانٹس موجود ہیں، وہ انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔ رہی سہی کسر واٹر سپلائی کے ناقص نظام نے پوری کر دی ہے، چونیاں شہر میں بچھائی گیی واٹر سپلائی کی پائپ لائنیں جگہ جگہ سے لیک ہو چکی ہیں۔ نالیوں کا گندا اور بدبودار پانی ان لیکجز کے ذریعے واٹر سپلائی لائنوں میں شامل ہو کر شہریوں کے گھروں تک پہنچ رہا ہے۔ شہری اس گندے اور زہر آلود پانی کو پینے پر مجبور ہیں اور جو لوگ یہ پانی پی رہے ہیں، وہ ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس، گردوں اور معدے جیسی دیگر موذی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ کیونکہ میڈیکل سائنس کے مطابق آدھی سے زیادہ انسانی بیماریوں کی جڑ آلودہ پانی کا استعمال ہے، اور چونیاں کی عوام کو دانستہ طور پر اس دلدل میں سرعام بے فکر ہو کر دھکیلا جا رہا ہے۔

    اس مجرمانہ غفلت کے اصل ذمہ دار وہ عوامی نمائندے، اسمبلی ممبرز اور سول سوسائٹی کے نام نہاد لیڈران ہیں جو الیکشن کے دنوں میں چونیاں، الہ آباد، چھانگامانگا اور کنگن پور کی گلیوں میں ووٹ کی بھیک مانگنے آتے ہیں۔ چاہے کسی بھی سیاسی جماعت کا ایم این اے (MNA) ہو یا ایم پی اے (MPA)، ووٹ لے کر اسمبلی کے ایوانوں تک پہنچنے کے بعد ان سب کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ انہوں نے آج تک چونیاں کی پیاسی عوام کے اس سنگین مسئلے پر اسمبلی کے فلور پر آواز اٹھانا تو دور، کبھی مقامی سطح پر بھی اس کے حل کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا۔ ان عوامی نمائندوں کی ترجیحات میں عوام کی صحت نہیں، بلکہ اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات ہیں۔ ضلعی اور تحصیل انتظامیہ کی حالت یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر سے لے کر اسسٹنٹ کمشنر اور میونسیپل کمیٹی کے افسران تک، سب ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ شہریوں اس مسلئے پر ہونے ولے متعدد احتجاج، سوشل میڈیا پر اٹھتی آوازیں اور میڈیا رپورٹس ان خاموش تماشائیوں کو جگانے میں ناکام رہی ہیں۔ عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے اور مٹھی بھر بیوروکریسی پورے علاقے کے مستقبل سے کھیل رہی ہے۔

    جب ایک لاکھ سے زائد آبادی والا مرکزی شہر چونیاں اس بنیادی ترین سہولت کے حق سے محروم ہے، تو الہ آباد، کنگن پور، چھانگا مانگا اور ان سے ملحقہ سینکڑوں دیہاتوں کا تو کوئی نام لینے والا ہی نہیں ہے۔ ان دیہی علاقوں اور قصبوں میں رہنے والے لاکھوں انسانوں کو تو شاید حکومت انسان ہی نہیں سمجھتی۔ وہاں کے لوگ آج بھی دور دراز سے پانی بھر کر لانے پر مجبور ہیں یا پھر زیادہ ٹی ڈی ایس کا حامل گندا پانی پی کر اپنے بچوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔ اگر ہم عالمی سطح پر ترقی کا جائزہ لیں تو دنیا کے پسماندہ ترین ممالک میں بھی پینے کا صاف پانی ریاست بلا معاوضہ فراہم کرتی ہے۔ لیکن پاکستان میں جدید دور کے دعووں کے باوجود، پاکستان بھر میں زیر زمین پانی ہونے کے باوجود تمام شہر پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں۔ یہ اس نظام کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ آخر اس بدترین مسئلے کا ذمہ دار کون ہے؟ کس نے اس مسئلے کو حل کرنا ہے اور کب تک چونیاں اور اس کے گردونواح کے لوگ یہ زہر پی کر بیمار ہوتے رہیں گے؟ اگر عوام اپنے کسی بھی حق تلفی پر روڈ بلاک یا احتجاج کرے تو ان پر ایف آئی آر درج کر دی جاتی ہیں۔ اور ریاست اپنی ذمہ داریاں بھول چکی ہے تو عوام جائے تو کہاں جائے۔

    چونیاں شہر کا پانی تو مکمل طور پر کھارا یعنی نمکین ہونے کی بنا پر پینے لائق ہی نہیں۔ لیکن تحصیل بھر کے شہروں اور متعدد گاؤں دیہات میں جا کر جب ٹی ڈی ایس میٹر سے پانی چیک کیا گیا تو وہاں بھی پانی کے ٹی ڈی ایس 400 سے 600 تک آ رہے ہیں، جو انسانی جانوں کے لیے نقصان دہ پانی ہے۔ چونیاں تحصیل بھرکی تقریباً 9 لاکھ سے زائد لوگوں پر مشتمل آبادی آج صاف پانی جیسی عظیم نعمت سے مزید محروم ہوتی جا رہی ہے۔
    شہریوں نے نہ صرف حکومتِ پاکستان سے بلکہ عالمی اداروں سے بھی مطالبہ کیا ہے وہ یہاں اپنی ٹیمیں بھیجیں اور پانی چیک کریں۔ انہوں نے خاص طور پر ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) اور یونیسف (UNICEF) جیسی بین الاقوامی تنظیموں سے پرزور اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چونیاں میں پینے کے پانی کے اس سنگین انسانی بحران کا نوٹس لیں۔ ان عالمی اداروں کو یہاں آ کر پانی کے نمونے ٹیسٹ کرنے چاہئیں تاکہ دنیا دیکھے کہ کیسے شہریوں کو بنیادی حق سے محروم کر کے "سلو پوائزن” پلایا جا رہا ہے۔ حکومتِ پنجاب، وزیرِ اعلیٰ مریم نواز اور سیکرٹری پبلک ہیلتھ سے شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ چونیاں کی واٹر سپلائی لائنوں کو ہنگامی بنیادوں پر تبدیل کیا جائے، بند فلٹریشن پلانٹس کو چالو کر کے مزید نئے پلانٹس لگائے جائیں اور الہ آباد، کنگن پور اور چھانگا مانگا کے لیے بھی فوری طور پر کلین واٹر اسکیمیں شروع کی جائیں۔ اگر پبلک ہیلتھ اور مقامی انتظامیہ یہ بنیادی ترقیاتی کام نہیں کر سکتی، تو تحصیل اور ضلعی لیول پر تعینات تمام ناکارہ عملے کو فارغ کیا جائے تاکہ عوام کا پیسہ ان افسران کی عیاشیوں اور تنخواہوں پر ضائع ہونے کے بجائے مقامی واٹر اسکیموں پر لگے۔ چونیاں کے شہریوں کو صاف پانی فراہم کر کے ان کی زندگیوں کو بچانا اب ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے، پانی کی فراہمی نہ صرف ریاست کی ذمہ داری ہے بلکہ ہر شہری کی بنیادی ضرورت اور حق ہے۔ عوام سے ان کا کوئی بھی حق چھیننا یا فراہم نہ کرنا ریاست کو ظالم بناتا ہے۔