Baaghi TV

Category: متفرق

  • اپنے مقاصد کو کیسے حاصل کیا  جائے؟

    اپنے مقاصد کو کیسے حاصل کیا جائے؟

    بڑے اور چھوٹے، دونوں طرح کے مقاصد کا تعین اور حصول ایک پرمسرت زندگی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ارسطو نے 2000 سال پہلے مشہور کہا تھا، "اچھی طرح شروع کیا گیا کام نصف مکمل ہے۔” مقاصد ہمیں سمت، مقصد اور مصروفیت فراہم کرتے ہیں، جو ہماری خوشی میں نمایاں حصہ ڈالتے ہیں۔ اپنے مقاصد کی طرف سفر مشکل ہو سکتا ہے، لیکن یہی کوشش ہماری زندگیوں کو بھرپور بناتی ہے۔کسی ایسی چیز کی شناخت کر کے شروع کریں جسے آپ واقعی حاصل کرنا چاہتے ہیں، چاہے وہ بڑی ہو یا چھوٹی۔

    اہم بات یہ ہے کہ یہ ایسی چیز ہونی چاہیے جو آپ کو پرجوش کرے اور جسے آپ اس کی خاطر حاصل کرنا چاہتے ہوں، نہ کہ بیرونی توثیق کے لیے۔ اپنے مقاصد کو لکھنا انہیں حاصل کرنے کے لیے آپ کے عزم کو مضبوط بناتا ہے۔ واضح طور پر بیان کریں کہ آپ کامیابی کو کیسے پہچانیں گے اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایک ٹائم لائن مقرر کریں۔ بڑے، زیادہ مبہم مقاصد کو مخصوص، چھوٹے مراحل میں تقسیم کریں۔ مثال کے طور پر، اگر آپ کا مقصد "صحت مند ہونا” ہے، تو آپ ایک چھوٹا مقصد "باقاعدگی سے دوڑنا” یا "پارک کے چکر 20 منٹ میں بغیر رکے لگانا” مقرر کر سکتے ہیں۔ ان چھوٹے مقاصد کو بھی لکھیں اور ان کے لیے بھی مقررہ تاریخیں طے کریں۔ یہ طریقہ نہ صرف بڑے مقصد کو زیادہ قابل حصول بناتا ہے بلکہ ہر چھوٹی کامیابی پر خوشی کا احساس بھی دیتا ہے۔

    اپنے مقصد کی طرف آپ کا پہلا قدم تحقیق پر مشتمل ہو سکتا ہے، جیسے آن لائن معلومات تلاش کرنا، جاننے والوں سے مشورہ لینا، یا لائبریری میں متعلقہ کتابیں تلاش کرنا۔ اگلے مراحل کی بھی اسی طرح منصوبہ بندی کریں۔مقاصد کا حصول بعض اوقات مشکل اور مایوس کن ہو سکتا ہے، جس کے لیے استقامت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کوئی خاص مرحلہ کام نہیں کر رہا، تو متبادل طریقوں پر غور کریں جو آپ کو آگے بڑھائیں، چاہے وہ تھوڑا سا ہی کیوں نہ ہو۔ دوسروں سے مشورہ لیں، کیونکہ وہ نئے نقطہ نظر پیش کر سکتے ہیں۔ اگر آپ پھنس جاتے ہیں، تو وقفہ لیں اور اپنے ابتدائی مقصد پر دوبارہ غور کریں۔

    اگر ضروری ہو تو اس میں تبدیلی کریں اور اگلے چھوٹے قدم کے بارے میں سوچیں۔اپنے مقاصد کی طرف کام کرنا ایک متحرک عمل ہے، اور لچک پذیری ضروری ہے۔ مقاصد کو توڑ کر، احتیاط سے منصوبہ بندی کر کے، اور لچک دار رہ کر، ہم اپنی کامیابی کے امکانات اور اپنی مجموعی خوشی کو بڑھاتے ہیں۔

  • غزہ پالیسی ، امریکہ اسرائیل سے علیحدگی اختیار کر رہا ؟

    غزہ پالیسی ، امریکہ اسرائیل سے علیحدگی اختیار کر رہا ؟

    امریکہ اور یورپی یونین کے تعاون سے اسرائیل کے غزہ پر مسلسل اور تباہ کن حملوں کے آٹھ ماہ گزرنے کےبعد، امریکی وزیر خارجہ نے ایک بیان دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اسرائیل نے "شمالی کواڈرینٹ میں اپنی خودمختاری کو مؤثر طریقے سے کھو دیا ہے۔” انتھونی بلنکن نے لبنان کے ساتھ اسرائیل کی شمالی سرحد کے قریب شہروں کا حوالہ دیا، جہاں حزب اللہ کے راکٹ حملوں کی وجہ سے تقریباً ایک لاکھ افراد نے نقل مکانی ہے

    گزشتہ سات ماہ کے دوران امریکا نے اسرائیل پر مسلسل دباؤ بڑھایا ۔امریکہ نے نجی اور عوامی سطح پر اسرائیل کی مخالفت کی ، امریکہ نے خود کو اس قتل عام سے دور رکھا ہے جو عالمی غصے کو جنم دے رہا ہے۔ امریکہ نے اقوام متحدہ میں تنقیدی قراردادوں کو ویٹو کرنا بھی بند کر دیا ، اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں پر پابندیاں لگا دی ہیں،تاہم، اسرائیل کو ہتھیاروں اور گولہ بارود کا سب سے بڑا فراہم کنندہ ہونے کے ناطے، امریکہ خطے میں اسرائیل کے فوجی فائدے کو یقینی بنانے کے لیے سالانہ 3.8 بلین ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے۔ مئی 2024 میں، امریکی کانگریس نے 14 بلین ڈالر کی اضافی فوجی امداد دینے کا بل منظور کیا۔ تاہم، بائیڈن انتظامیہ نے پہلی بار اسرائیل کو گولہ بارود کی ترسیل میں تاخیر کی ہے، اسرائیل کو ہزاروں گولہ بارود اور بموں کی ترسیل روک دی گئی ہے

    امریکہ اب اسرائیل پر اپنا سب سے زیادہ اثر و رسوخ کیوں استعمال کر رہا ہے؟
    سب سے پہلے، امریکہ اور بہت سے مغربی ممالک کا خیال ہے کہ رفح میں حماس پر ایک مربوط حملے کے نتیجے میں بڑی شہری ہلاکتیں ہوں گی اور انسانی تباہی ہو گی۔
    دوم، امریکا کا مقصد اسرائیل کی کابینہ پر حماس کے ساتھ جنگ ​​بندی کے معاہدے کی حمایت کے لیے دباؤ ڈالنا ہے۔ لیکن حماس کے ساتھ ہمہ جہت تصادم کا مطلب کسی بھی قسم کی معاہدے کی کوششوں کو پیچھے دھکیلنا یقینی بنانا ہے۔
    آخر میں،امریکہ کی اندرونی سیاست ایک کردار ادا کرتی ہے۔ صدر بائیڈن کو ڈیموکریٹک حامیوں کی طرف سے اسرائیل کے لیے اپنی حمایت کو معتدل کرنے کے لیے کافی دباؤ کا سامنا ہے، وہ ووٹرز جو مہذب شہری ہونے کے ناطے فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی وجہ سے ناراض ہیں۔ بہر حال، بائیڈن امریکی ووٹروں کی خواہش کو مکمل طور پر نظر انداز کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا،

    اگر امریکہ اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت میں تاخیر کرتا ہے تو برطانیہ سمیت دیگر ممالک کو بھی ایسا کرنے کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگرچہ اس طرح کی پابندیاں عملی سے زیادہ علامتی ہوں گی، لیکن یہ اسرائیل کی سفارتی تنہائی میں حصہ ڈالیں گی۔
    امریکہ سے علیحدگی کے بعد اسرائیل خود کو سفارتی طور پر الگ تھلگ پائے گا.

  • اپنی قوت ارادی  کو مضبوط بنائیں،

    اپنی قوت ارادی کو مضبوط بنائیں،

    اپنی قوت ارادی کو مضبوط بنائیں،

    قوت ارادی کا جذبہ آپ کے ارادوں کو خود کنٹرول کے ساتھ نافذ کرنے کی صلاحیت ہے۔ یہ آپ کو خواہشات کی مزاحمت کرنے اور اپنے مقاصد پر توجہ مرکوز رکھنے کے قابل بناتا ہے۔ مثال کے طور پر، سوشل میڈیا کو اسکرول کرنے یا سوتے رہنے کی لالچ سے بچنا آپ کو مختصر اور طویل مدتی دونوں مقاصد حاصل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ جذبہ خود نظم و ضبط، عزم اور محرک پر مبنی ہے۔ مثال کے طور پر، آپ پیسے بچانے کے لیے مہنگی سرگرمیوں کو ترک کر سکتے ہیں۔ آپ مہنگی سیر و تفریح ​​​​خریدنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ آپ کا مقصد پیسے بچانا ہے۔

    آپ کا جذبہ آپ کو اپنے مقاصد کے حصول میں مستقل اور پُرعزم بناتا ہے۔ کیا آپ نے اپنی ملازمت کھو دی ہے؟ کوئی پیارا دوست؟ کیا آپ کو اپنے گھریلو بجٹ کو سنبھالنے میں مشکل پیش آرہی ہے؟ اپنے مقصد پر نگاہ رکھتے ہوئے، آپ وہ حاصل کرنے کے لیے حکمت عملیوں پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے جو آپ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔آپ کی خواہشات کو قابلِ پیمائی ہدف تلاش کرنے، انہیں حقیقت پسندانہ بنانے اور ان کی پیروی کرنے کی قوت ارادہ رکھنے کے بارے میں ہونا چاہیے۔ کامیابی کے امکانات بڑھانے کے لیے، ایسے سخت ہدف مت بنائیں اور نہ ہی ایک غلطی کی وجہ سے پورے دن کو بے کار سمجھنے دیں۔

    تاہم، مزاحمت کے طویل عرصے کے تناؤ سے آپ تھک جاتے ہیں، آپ کا خود کنٹرول ختم ہو جاتا ہے، اور آپ زیادہ بار ہار مان لیتے ہیں۔ میں ذاتی تجربے سے بات کر رہی ہوں۔ جب ایسا ہوتا ہے اور یقین ہے کہ ایسا ہوگا، تو توازن بنائیں۔ کیے گئے اقدامات پر اپنے آپ کو انعام دیں -اپنی پسندیدہ جگہ پر رات کا کھاناکھائیں، یا اپنے لیے کوئی تحفہ ، آپ کا پسندیدہ عطریا کچھ بھی خریدیں، پھر آپ دوبارہ توجہ دیں،اپنے جذبے کو برقرار رکھنے کا طریقہ سیکھنا آپ کو منفی اثرات سے بچنے اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں پر مثبت اثر ڈالنے میں بھی مدد دے گا۔ تاہم، کہنے سے کرنا آسان ہے! مجھے لگتا ہے، ایسا کوئی عام فارمولا نہیں ہے جو ہر کسی پر لاگو ہو۔

    تاخیری تسکین کا اطلاق کرنا بھی ایک بہترین طریقہ ہے۔ آپ اپنے آپ کو روزانہ کھانے کی فراہمی سے انکار کرنا پسند کر سکتے ہیں اور اپنی مطلوبہ چیز کو بچا سکتے ہیں۔ ایک نیا لیپ ٹاپ ہو سکتا ہے؟ نیا لباس جو بالکل آپ پر جچتا ہے اور آپ کے بجٹ سے کہیں زیادہ ہے۔ آپ اسے حاصل کر سکتے ہیں – اگر آپ معمول کے مطابق اپنے آپ کو چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو روکتے ہیں۔ایسا نہیں کہ میں ایڈولف ہٹلر کا حوالہ دوں ، لیکن اس بات سے اتفاق کروں گی جب وہ کہتا ہے، "اگر آزادی میں ہتھیاروں کی کمی ہے، تو ہمیں قوت ارادی سے اس کی تلافی کرنی چاہیے۔”

  • کیا چین ایک بھی گولی استعمال کیے بغیر تائیوان پر قبضہ کر سکتا ہے؟

    کیا چین ایک بھی گولی استعمال کیے بغیر تائیوان پر قبضہ کر سکتا ہے؟

    کیا چین ایک بھی گولی استعمال کیے بغیر تائیوان پر قبضہ کر سکتا ہے؟
    یہ خدشات کہ کمیونسٹ پارٹی کسی دن ممکنہ طور پر طاقت کے ذریعے تائیوان پر قبضہ کر سکتی ہے، حالیہ برسوں میں چینی رہنما شی جن پنگ کے خود مختار جزیرے کے بارے میں بڑھتے ہوئے جارحانہ موقف کی وجہ سے اس بارے خدشات میں شدت سامنے آئی ہے۔ یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت کرنے سے چین کے انکار نے ان خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

    اس تناظر میں، تجزیہ کاروں اور عسکری حکمت عملیوں نے طویل عرصے سے دو اہم حکمت عملیوں پر غور کیا ہے جن کو چین استعمال کر سکتا ہے: ایک مکمل حملہ یا فوجی ناکہ بندی، سنٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز (CSIS) کی ایک نئی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، چین "گرے زون” کے حربے استعمال کر سکتا ہے، جس میں جنگ کی دہلیز سے بالکل نیچے کی کارروائیاں شامل ہیں،چین چائنا کوسٹ گارڈ، اس کی میری ٹائم ملیشیا، اور مختلف پولیس کو تعینات کر کے اور میری ٹائم سیفٹی ایجنسیاں تائیوان کے مکمل یا جزوی قرنطینہ کو نافذ کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے، اس میں تائیوان کے 23 ملین باشندوں کے لیے بندرگاہوں اور توانائی جیسے ضروری سامان تک رسائی کو منقطع کرنا شامل ہو سکتا ہے۔

    حالیہ برسوں میں، چین نے تائیوان پر دباؤ بڑھایا ہے، ان خدشات کو بڑھایا ہے کہ تناؤ کھلے تنازع کا باعث بن سکتا ہے جب کہ حملے کا خطرہ بہت زیادہ ہے، بیجنگ کے پاس براہ راست حملے کے بغیر تائیوان کو مجبور کرنے یا الحاق کرنے کے دوسرے طریقے ہیں۔ ژی جن پنگ کے دور میں، تائیوان، جو کہ ایک خوشحال آزاد منڈی کی معیشت ہے، کے بارے میں چین کی فوجی اور اقتصادی دھمکی تیزی سے واضح ہو گئی ہے۔

    تائیوان پر کبھی حکومت نہ کرنے کے باوجود، حکمران کمیونسٹ پارٹی نے اس جزیرے پر دعویٰ کیا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو طاقت کے ذریعے اس کے ساتھ "دوبارہ اتحاد” کا عزم کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تائیوان کا ساحلی محافظ، صرف سمندر میں جانے والے دس بحری جہازوں اور تقریباً 160 چھوٹے جہازوں کے ساتھ، قرنطینہ کا مقابلہ کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے قانون کی ضرورت سے کہیں زیادہ مضبوط عزم کا اشارہ دیتے ہوئے بار بار کہا کہ وہ تائیوان کے دفاع کے لیے امریکی فوجی تعینات کریں گے۔ یہ مؤقف، جو کہ "اسٹریٹجک ابہام” کی پچھلی امریکی پالیسی سے ہٹتا ہے، وائٹ ہاؤس کے حکام نے کسی حد تک اعتدال کا مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم، اگر امریکی فوجی قوتیں اس میں مداخلت کرتی ہیں جسے چین قانون نافذ کرنے والی کارروائی سمجھتا ہے، تو اسے فوجی تنازعہ شروع کرنے کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔

    سنٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ قرنطینہ، ناکہ بندی کے برعکس، چین کو آبنائے تائیوان تک رسائی کو محدود کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ بین الاقوامی قانون کے تحت مداخلت کے لیے واشنگٹن کے اہم قانونی دلائل میں سے ایک کو کمزور کر دے گا، جو کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں جہاز رانی کی آزادی کو برقرار رکھنا ہے۔
    لہذا، سرخی میں جو کہا گیا، وہی ایک حتمی ہاں ہے

  • آخری وقت بہت قیمتی ہے

    آخری وقت بہت قیمتی ہے

    آخری وقت بہت قیمتی ہے
    ازقلم غنی محمود قصوری
    انسان رب العالمین کی طرف سے ایک مخصوص وقت کے لئے دنیا میں پیدا ہو کر آتا ہے اور اپنا ٹائم پورا ہونے پر مر جاتا ہے،اس دنیا سے انسان مال و دولت تو اپنے ساتھ نہیں لیجا سکتا مگر اعمال کی صورت میں وہ جمع پونجی اس کے ساتھ ضرور جاتی ہے جو اس کو اگلے مستقل جہان میں جنت و جہنم کا مالک بناتی ہے

    اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کو پرکھنے کے لئے اس دنیا میں بیجھا اور اسے مختلف چیزوں سے آزماتا ہے تاکہ پتہ چل سکے کون رب کا بندہ ہے اور کون شیطان کا پیروکار ہے

    اللہ رب العزت نے مقررہ وقت تک شیطان ملعون کو ایک خاص طاقت دے رکھی ہے جس سے انسانوں کی پرکھ ہوتی ہے،بعض اوقات ہم انسان کے اعمال دیکھ کر اس کے جنتی اور جہنمی ہونے کا خودساختہ فیصلہ قرار دے لیتے ہیں جو کہ درست بات نہیں،ہمیں ہر صورت شیطان سے پناہ مانگنی چائیے اور اپنی نیکیوں پر ناز و فخر نہیں کرنا چائیے بلکہ نیکی کرکے یہ محسوس کرنا چائیے کہ ہمارے پاس تو کوئی نیکی ہے ہی نہیں اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرتے جائیں مگر شرط نیت کا صاف ہونا ہے دکھلاوا نہیں وگرنہ وہ ساری نیکیاں بیکار ہیں اور کسی کام نہیں آئیں گیں

    ہمیں ہر وقت شیطان سے پناہ کی خاطر نماز روزہ و ذکر الہیٰ میں مشغول رہنا چائیے تاکہ ہم حالت ایمان میں شیطان سے بچ کر اس دار فانی سے کوچ کرکے آخری مستقل گھر میں اچھا ٹھکانا یعنی جنت میں بسیرہ کر سکیں،انسان کا آخری وقت بہت قیمتی ہوتا ہے کہ جس پر انسان کا خاتمہ ہوتا ہے اسی وقت خاتمہ پر اس کا فیصلہ کیا جاتا ہے

    اِنَّ العَبْدَ لَیَعْمَلُ عَمَلَ أَھلِ النَّارِ وَ انَّہُ مِنْ أَھْلِ الْجَنَّۃِ وَیَعْمَلُ عَمَلَ أَھلِ الْجَنَّۃِ وَاِنَّہُ مِنْ أَھْلِ النَّارِ۔ الأعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْمِ (بخاری عن سھل بن سعد رضی اللہ عنہ)، وفی روایۃ للامام احمدؒ فی المسند: وَاِنَّمَا الأعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْمِ۔
    امام بخاریؒ کی روایت کردہ درج بالا حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ کسی بندہ کا عمل جہنمیوں کے عمل کے مطابق ہوتا ہے لیکن وہ جنتی ہوتا ہے اور کسی بندے کا عمل جنتیوں کے عمل کے مطابق ہوتا ہے لیکن وہ جہنمی ہوتا ہے اعمال کی حقیقت تو خاتمہ (کے وقت) کے اعمال ہیں، مسند احمد میں بھی یہ روایت آئی ہے اور اس کے آخری الفاظ ہیں وَاِنَّمَا الأعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْمِیعنی اعمال کا دارومدار خاتمہ کے اوپر ہے

    ایک مشہور پرانا واقعہ پیش خدمت ہے
    بہت پرانے زمانے کی بات ہے ایک عبادت گزار کسی سلطنت میں رہتا تھا جو ہر وقت ریاضت وعبادت میں مصروف رہتا تھا اور اپنی نیکیوں پر فخر بھی کرتا تھا،اس نے سوچا اس جگہ ان لوگوں میں رہتے ہوئے زیادہ عبادت نہیں کی جا سکتی لہذہ اس نے اپنا ضرورت کا سامان پکڑا اور جنگل میں بسیرا کر لیا،بہت عرصہ اس نے ریاضت و عبادت کی اور بلآخر شیطان نے اسے بہکانے کی خاطر ایک چال چلی تاکہ اسے گمراہ کر سکے،

    شیطان نے سلطنت کی شہزادی کو جادو سے سخت بیمار کر دیا جو کہ کسی بھی علاج سے صحت مند نا ہو رہی تھی الٹا مذید بیمار ہوتی چلی جا رہی تھی
    شہزادی کے بھائی اور دیگر رشتہ دار سخت پریشان تھے اور اس کا بہت علاج کروا رہے تھے مگر سب بے سود ،ایک دن وہ شہزادی کو لے کر کہیں جا رہے تھے کہ شیطان انسانی شکل میں نمودار ہوا اور ان سے حال احوال پوچھا اور انہیں بتایا کہ اس شہزادی کا علاج فلاں جنگل میں ایک عبادت گزار نیک بندے کے پاس ہے جو دم کرے گا تو یہ شہزادی ٹھیک ہو جائے مگر شرط ہے کہ آپکو شہزادی کو اس کے ہاں چھوڑ کر آنا پڑے گا یہاں تک کہ وہ مکمل صحت مند نہیں ہو جاتی

    مگر دوسری طرف وہ عبادت گزار بھی بہت سخت مزاج ہے کسی کی مانتا ہی نہیں اگر تم اس کو قائل کر لو گے تو شہزادی ٹھیک ہو جائے گی
    شہزادوں نے اس سے کہا فکر نا کرو ہم اس سلطنت کے مالک ہیں اور اس شحض کو قائل کر لیں گے،شہزادے مطلوبہ پتہ لے کر اس شحض کے پاس پہنچے اور مدعا بیان کیا کہ ہماری بہن کو آپ کے دم سے آرام ائے گا اور آپ اسے صحت مند ہونے تک اپنے پاس رکھیں گے
    وہ شحض دم کرنے پر تو راضی ہوا مگر شہزادی کو اپنے پاس رکھنے پر راضی نہ ہوا ،کافی منت سماجت کے بعد اس نے شہزادی کو اپنے پاس رکھنے کی حامی بھر لی

    اس شحض نے شہزادی کو دم کیا وہ کچھ بہتر ہوئی تو شیطان نے اس نیک عبادت گزار شحض پر غلبہ کیا اور اسے شہزادی ساتھ بدفعلی پر مجبور کیا
    اس نے شہزادی کیساتھ بدفعلی کی تو شیطان اس کے پاس انسانی شکل میں نمودار ہوا اور اسے کہنے لگا واہ جی اب پتہ چل کہ تم تو اس جنگل میں اس لئے پناہ لئے ہوئے تھے تاکہ لوگوں سے چھپ کر حرام کاریاں کر سکو اور اپنی نیک نامی بھی بنائے رکھو سو آج تمہارا پتہ چل گیا،وہ شحص ڈر گیا اور اس کی منت سماجت کرنے لگا کہ خدا کے واسطے کسی کو کچھ مت بتانا ورنہ میں بدنام ہو جاؤں گا،اس پر شیطان نے اسے مشورہ دیا کہ میری مان اور اب اس شہزادی کو قتل کرکے لاش دفنا دے اور جب اس کے ورثاء آئیں گے تو کہنا وہ تو بیمار تھی چل بسی ،اس نے شیطان کی بات مانی اور لڑکی کو ذبح کیا اور قریبی جگہ پر دفنا دیا،شیطان نے اس دوران شہزادی کا ڈوپٹہ مٹی سے باہر نکال دیا اور اب وہ شہزادی کے بھائیوں پاس پہنچا اور بتایا کہ اب شہزادی کو واپس لے آئیں

    شہزادے وہاں پہنچے تو دریافت کرنے پر بتایا گیا کہ وہ تو بیمار زیادہ ہو گئی اور جانبر نا ہو سکی جس کے باعث میں نے اسے وہاں دفنا دیا ہے
    شہزادے کہنے لگے ٹھیک ہے اگر فوت ہو گئی ہے تو ہمیں اس کی قبر پاس لے چلو ہم اس کی تدفین شاہی رسم و رواج سے کریں گے
    وہ اسے قبر تک لیجانے میں ہچکچانے لگا تاہم اصرار پر لے گیا،قبر کشائی ہوئی تو شہزادی کی شاہ رگ کٹی ہوئی تھی جس پراسے گرفتار کر لیا گیا اور سولی پر چڑھانے لگے،جب عین آخری وقت سولی پر چڑھانے لگے تو وہ شیطان انسانی شکل میں پھر نمودار ہوا اور کہنے لگا جان بچ سکتی ہے اگر کلمہ سے انکار کر دو تویہ شہزادے تمہیں چھوڑ دیں گے

    ساری زندگی ریاضت و عبادت کرنے والے نے کہا کہ میں کلمے سے انکار کرتا ہوں اور شہزادوں کے دین پر چلنے کا اعلان کرتا ہوں میری جان بخش دو مگر شہزادے نا مانے اور اسے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ،شیطان کے جال میں آکر زنا بھی کر بیٹھا قتل بھی کر دیا اور آخری وقت میں ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا

    قارئین اس تاریخی قصے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کبھی بھی اپنی نیکیوں پر فخر و تکبر نہیں کرنا چائیے اور شیطان مردود سے ہر وقت پناہ مانگنی چاہیے اور دعا مانگنی چائیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا خاتمہ ایمان پر کرے آمین

  • پنجاب میں دفعہ 144 کا نفاذ , بچوں کیخلاف مقدمات کا اندراج و حکومتی نمائندوں کا کردار

    پنجاب میں دفعہ 144 کا نفاذ , بچوں کیخلاف مقدمات کا اندراج و حکومتی نمائندوں کا کردار

    پنجاب میں دفعہ 144 کا نفاذ , بچوں کیخلاف مقدمات کا اندراج و حکومتی نمائندوں کا کردار
    تحریر:ادریس نواز چدھڑ
    پنجاب بھر میں دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا ۔ جس کے تحت ندی نالوں میں نہانے پر پابندی لگائی گئی اور پولیس بھی متحرک دکھائی دے رہی ہے ۔ سرگودھا میں بھی حکومتی احکامات کی مطابق سکیورٹی برانچ سمیت پولیس نے نہر میں نہانے والوں کیخلاف کارروائی کی اور متعدد مقدمات کا اندراج کیا ۔ جس میں جن بچوں کے ابھی تک شناختی کارڈ بھی نہیں بنے ان پر بھی مقدمات کا اندراج کیا گیا ۔

    جس حکومت کو نوجوانوں کے مستقبل میں اہم کردار ادا کرنا چاہیئے ۔ وہی حکومت بچوں کیخلاف بھی مقدمات درج کروا رہی ہے ۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف حکومتی احکامات کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اپنے بیٹے کیساتھ گرمی دور کرنے کیلئے نہر میں نہاتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ اور شہریوں کی بڑی تعداد یہ سب دیکھ کر حیران رہ گئی۔ ان کیخلاف تو پولیس نے کوئی کارروائی نہ کی ۔ ہر قانون , اقدام و احکامات صرف غریب پر ہی لاگو ہوتا ہے ۔ بااثر کیخلاف کبھی قانون متحرک نہیں ہوتا ۔ یہ عوام کیساتھ کیسا بھونڈا مذاق ہے کہ عوام کے بچوں کیخلاف تو مقدمات درج کئے جا رہے ہیں ۔ اور انکا مستقبل تباہ کیا جا رہا ہے لیکن حکومتی نمائندے عوام کے سامنے سرعام حکومتی احکامات کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں ۔

    لگتا ھے ہمارے ملک میں دو ریاستی قانون ہے ۔ امیر کیلئے الگ اور غریب کیلئے الگ، نہر میں نہانے پر پابندی ہونی چاہیئے۔ کیونکہ ہرسال نہروں ندی نالوں میں نہانے کے دوران ڈوبنے سےکئی قیمتی جانیں لقمہ اجل بن جاتی ہیں لیکن کیا اسکا حل بچوں کیخلاف مقدمات درج کر کے کیا جا سکتا ہے ، بچوں کے مستقبل کو تباہ کر کے حکومتی اقدامات کو پورا کرنا کہاں کا قانون ہے ۔ حکومتی نمائندے و بااثر افراد کیخلاف قانون حرکت میں کیوں نہیں آ رہا ؟، ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ہر گاؤں میں بذریعہ اعلان عوام کو آگاہ کیا جاتا کہ حکومت نے نہر میں نہانے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اس لئے خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کی جائیگی تاکہ عوام کو پتہ ہوتا اور وہ نہروں میں نہانے سے اجتناب کرتے ، دوسرا ان بچوں کے والدین کو بلا کر انہیں وارننگ دیکر چھوڑا جا سکتا تھا تاکہ دوبارہ ایسا کوئی بھی اقدام نہ کریں۔

    پولیس ہمیشہ حکومتی اقدامات پر ہی متحرک ہوتی ہے کاش منشیات فروشوں و دیگر جرائم پیشہ افراد کیخلاف بھی ایسے ہی کارروائیاں کی جاتیں تو کیا ہی بات تھی ۔ حکومت وقت کو اس بارے سوچنے کی اشد ضرورت ہے ۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کو اس پر فوری نوٹس لینا چاہیئے تاکہ بچوں کے مستقبل تباہ نہ ہوں.

  • زندگی کے چیلنجز پر قابو پانے کے لیے  قوتِ ارادی کا استعمال

    زندگی کے چیلنجز پر قابو پانے کے لیے قوتِ ارادی کا استعمال

    قوتِ ارادی، جسے اکثر طویل مدتی اہداف کے حصول کے لیے قلیل المدتی فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خود پر قابو کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، زندگی کے ہمارے راستے میں آنے والے بے شمار چیلنجوں پر قابو پانے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ خواہ ذاتی، پیشہ ورانہ یا جذباتی رکاوٹیں ہوں،قوتِ ارادی کو بروئے کار لانا ہار ماننے اور کامیابی کی طرف بڑھنے کے درمیان فرق کر سکتا ہے۔

    قوت ارادی کی سائنس
    قوتِ ارادی میں دماغ کے پیچیدہ افعال شامل ہوتے ہیں جو فیصلہ سازی اور تسلسل کے کنٹرول کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اس ذہنی طاقت کو سمجھنے اور اس سے فائدہ اٹھانے سے، افراد مشکلات کو بہتر طریقے سے حل کر سکتے ہیں اور اپنے مقاصد پر اپنی توجہ مرکوز رکھ سکتے ہیں۔

    ذاتی چیلنجز پر قابو پانا
    صحت سے متعلق مسائل، جیسے متوازن غذا کو برقرار رکھنا یا ورزش کو معمول بنانا، کے لیے اہم قوت ارادی کی ضرورت ہوتی ہے۔ خود پر قابو رکھنے والے افراد ان صحت مند عادات پر عمل کرتے ہیں جس سےبالآخر انکی جسمانی اور ذہنی صحت بہتری کی طرف جاتی ہے۔ اسی طرح، تعلیم اور کیریئر سے متعلق چیلنجز، جیسے کہ مشکل پروجیکٹ کو مکمل کرنا یا امتحانات کی تیاری، مسلسل کوشش اور ارتکاز کا مطالبہ کرتے ہیں۔ قوتِ ارادی اس ضروری توجہ کو برقرار رکھنے میں مدد کرتی ہے، جس سے کارکردگی اور کامیابی میں بہتری آتی ہے۔

    جذباتی لچک
    جذباتی طور پر، قوتِ ارادی تناؤ، اضطراب اور غم کو سنبھالنے میں اہم ہے۔ زندگی کی ناگزیر مشکلات بہت زیادہ ہو سکتی ہیں، لیکن مضبوط قوتِ ارادی کے حامل افراد ان ہنگامہ خیز وقتوں کو زیادہ آسانی کے ساتھ بھلا سکتے ہیں،کیا آپ نے اپنے شریک حیات کو کھو دیا؟ آپ کا کام؟ کیا آپ کسی ایسے رشتے میں شامل تھے جس نے آپ پر توجہ نہیں دی.منفی جذبات کا شکار ہونے کی خواہش کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے، افراد ایک مثبت نقطہ نظر کو برقرار رکھ سکتے ہیں اور اپنے مقاصد کے لیے کام جاری رکھ سکتے ہیں۔

    قوت ارادی کو مضبوط کرنا
    قوتِ ارادی، مشق اور نظم و ضبط کے ذریعے مضبوط کی جا سکتی ہے۔ ذہن سازی کا مراقبہ، مخصوص اور قابل حصول اہداف کا تعین، اور صحت مند طرز زندگی کو برقرار رکھنے جیسی تکنیکیں کسی کے خود پر قابو کو نمایاں طور پر بڑھا سکتی ہیں۔ یہ حکمت عملی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے درکار لچک پیدا کرنے میں مدد کرتی ہے۔

    نتیجہ
    قوتِ ارادی زندگی کے چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے ایک اہم اثاثہ ہے۔ اس کی اہمیت کو سمجھ کر اور اسے مضبوط بنانے کے لیے حکمت عملیوں پر عمل درآمد کرنے سے، افراد غیر معمولی رکاوٹوں کو ختم کرنے اور کامیابی حاصل کرنے کی اپنی صلاحیت کو بڑھا سکتے ہیں، جس سے وہ زیادہ پرامن اور کامیاب زندگی کا باعث بن سکتے ہیں۔

  • 2024 کے بھارتی عام انتخابات: بی جے پی کی سادہ اکثریت سے محرومی کے عوامل

    2024 کے بھارتی عام انتخابات: بی جے پی کی سادہ اکثریت سے محرومی کے عوامل

    2024 کے بھارتی عام انتخابات: بی جے پی کی سادہ اکثریت سے محرومی کے عوامل

    2024 کے بھارتی عام انتخابات کے نتائج آ چکے،بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی اور اسے اہم دھچکا لگا، سیاسی، سماجی، اور اقتصادی حرکیات کے پیچیدہ تعامل کی عکاسی کرتے ہوئے کئی عوامل کی وجہ سے ایسا ہوا،

    سب سے پہلے، حکومت مخالف جذبات نے ایک اہم کردار ادا کیا۔ مودی دوبار کے لئے وزیراعظم رہ چکے ہیں، ووٹرتبدیلی کے لئے بیتاب تھے، انکے ساتھ جو وعدے کئے گئے پورے نہیں ہوئے، گورننس کے مسائل جیسے بے روزگاری، مہنگائی، اور زرعی بدحالی کی وجہ سے بھی ووٹر متاثر تھا. حکومتی کوششوں کے باوجود وبائی مرض کے معاشی نتائج نے معاش کو متاثر کرنا جاری رکھا جس کی وجہ سے درمیانی اور کم آمدنی والے گروہوں میں عدم اطمینان کا احساس پیدا ہوا۔

    دوم، اپوزیشن کے اسٹریٹجک اتحاد نے بی جے پی کی پوزیشن کو کافی حد تک کمزور کیا۔ علاقائی پارٹیاں، جو اپنی اپنی ریاستوں میں تاریخی طور پر مضبوط ہیں، نے انڈین نیشنل کانگریس اور دیگر اپوزیشن گروپوں کے ساتھ اتحاد قائم کیا۔ یہ متحدہ محاذ بی جے پی مخالف ووٹوں کو مضبوط کرنے میں کامیاب رہا، جو پہلے بکھرے ہوئے تھے، اس طرح حکمران پارٹی کے لیے ایک زبردست چیلنج بن گیا۔

    تیسرا، سماجی مسائل اور شناخت کی سیاست نے ووٹر کے رویے کو متاثر کیا۔ شہریت کے قوانین، مذہبی پولرائزیشن، اور ذات پات کی حرکیات سے متعلق تنازعات نے رائے عامہ کو ہلایا۔ بی جے پی کی پالیسیوں کو کچھ لوگوں نے تقسیم کرنے والی، اقلیتی برادریوں اور سماجی طور پر پسماندہ گروہوں کے طور پر دیکھا، اس طرح وہ اپوزیشن کو ووٹ دینے پر مجبور تھے.

    سادہ اکثریت حاصل کرنے میں بی جے پی کی ناکامی کے اثرات گہرے ہیں۔ اب بی جے پی اتحادیوں کے ساتھ ملکر مخلوط حکومت بنائے گی، جو اتحادی شراکت داروں کے درمیان مختلف ایجنڈوں کی وجہ سے پالیسی کے حوالہ سے مشکلات کا شکار ہو گی،یہ منظر نامہ فیصلہ سازی کے عمل کو سست ، اقتصادی اصلاحات اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو متاثر کر سکتا ہے۔اس سے قانون سازی کا عمل بھی متنازعہ ہو سکتا ہے، جس میں حزب اختلاف کی جماعتیں نمایاں فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ اہم قانون سازی کو پارلیمنٹ میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ممکنہ عدم استحکام اور حکمرانی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے بار بار مذاکرات کیے جاتے ہیں۔

    خلاصہ یہ کہ 2024 کے انتخابات میں سادہ اکثریت حاصل کرنے میں بی جے پی کی ناکامی متنوع اور متحرک جمہوریت میں سیاسی غلبہ کو برقرار رکھنے کے چیلنجوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مخلوط حکومت، عوامی رائے کے ایک وسیع میدان کی عکاسی کرتے ہوئے، مربوط اور تیز پالیسی کے نفاذ کے حصول میں رکاوٹوں کا سامنا کر سکتی ہے۔

  • ایک مضبوط عورت کی کہانی

    ایک مضبوط عورت کی کہانی

    ایک مضبوط عورت کی کہانی

    دس سال پہلے جب میرے شوہر کا انتقال ہوا انکے بعد میں بالکل اکیلی ہو گئی، اور بہت ساری زمہ داریاں میرے کند ھوں پہ آنے والی تھی، لیکن میں ان خوش قسمت عورتوں میں سے تھی جن کی قسمت میں ایک خیال رکھنے والا اور ذمہ دار دیور تھا ۔ اس نے یقینی بنایا کہ میرے مرحوم شوہر کے (جو اس کے ساتھ کاروبار میں شریک تھے) تمام واجبات پورے کیے جائیں۔ مجھے مالی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا جن کا اکثر خواتین کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔لیکن پھر بھی کئی مسائل تھے۔ ہمارا بیٹا صرف چودہ سال کا تھا اور اچانک سے اسکے بہت سے’ دوست’ نمودار ہو گئے۔ یہ "دوست” پنجابی روایت کے مطابق سمجھتے تھے کہ اب یہ بچہ خاندان کا سربراہ ہے اور روایات کے مطابق مالی ذمہ داری اسی کی ہے۔ ہر کوئی اس سے اپنا مطلب نکالنا چاہتا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے، ماں یعنی میرے آڑے آنے سے ان کے منصوبے ناکام ہو گئے۔ میں ان کی قانونی سرپرست تھی اور ان کے ساتھ ایک مضبوط رشتہ بنانا ایک طویل عمل تھا کیونکہ وہ ہمیشہ ان والد سے زیادہ قریب تھا جو ہم سے جدا ہو چکے تھے۔ یہ "دوست” ہمارے درمیان جتنا ممکن ہو سکے غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے تاکہ اپنا مطلب حاصل کر سکیں۔ یہ ایک لمبی لڑائی تھی جس نے واقعی میرے اعصاب خراب کر دیے۔ آخرکار، وہ لوگ آہستہ آہستہ دور ہو گئے۔

    میری زندگی بالکل بدل گئی تھی۔ ہر وہ طریقے سے جس طرح بدل سکتی تھی۔ میری 84 سالہ بیمار ماں کے علاوہ کوئی قریبی رشتہ دار نہ ہونے کی وجہ سے مجھے مختلف مردوں کی طرف سے پیش قدمیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مجھے احساس ہوا کہ شوہر کے بغیر مجھے صرف ایک ایسی عورت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، چاہے میری ساکھ کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو۔ جب میں نے یہ بات اپنے ایک پرانے دوست سے شیئر کی تو اس نے آہستہ سے کہا، "ياسمین، پنجاب میں یہی تلخ حقیقت ہے کہ ایک عورت کسی کی زوجیت میں نہ ہو ، اکثر لوگ اسے اپنی بنانا چاہتے ہیں۔” ظاہر ہے، قانونی طور پر نہیں۔

    یہ کہنا غلط ہو گا کہ مجھے رشتے کی پیشکش نہیں ملیں – وہ تو بالکل عزت والی بات ہے، لیکن مجھے ابھی اپنے خاندان کے لیے بہت سارے جنگ لڑنے تھیں، اور اسی لڑائی میں کہیں نہ کہیں میں نے اپنی خوشی، اپنا نرم مزاج اور زندگی سے محبت کھو دی۔ سنجیدہ ہونا میری دوسری فطرت بن گیا۔ ایک بات کا میں نے اپنے مرحوم شوہر سے وعدہ کیا تھا، چاہے کچھ بھی ہو جائے، جو کوئی بھی میرے گھر کی طرف دیکھے گا، وہ تباہ ہو جائے گا۔ میں نے وہی کیا جو کرنا ضروری تھا۔میری بیٹی، جو اپنے بھائی سے چار سال بڑی ہے، اپنے والد کے انتقال کے وقت لاء کالج میں داخل ہوئی تھی۔ اس نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ اپنے والد کا نام روشن کرے گی اور اس نے ایسا ہی کیا۔ وہ لندن یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری میں دنیا بھر کے 180 ممالک میں سرفہرست رہیں، اور انفرادی مضمون میں بھی دنیا بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ آج کم عمری میں ہی وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں سینئر لیگل ایسوسی ایٹ ہیں۔وہی وہ واحد تھی جو میرے روحانی ساتھی کو کھونے کے غم کو سمجھ سکتی تھی۔ ہمارے کردار بدل گئے۔ وہ میری نگہداشت کرنے والی بن گئیں۔ ان کی موجودگی مجھے اپنے شوہر کی موجودگی جیسا احساس دلاتی تھی، وہی پیار، وہی بے لوث قربانی، انہوں نے مجھے ہر چیز رکھنا،
    اس پوری جدوجہد میں ، میں نے اپنے بہت سارے دوست کھو کر تنہائی کو گلے لگا لیا، کیونکہ مجھے اپنے بچوں اور گھر کے لئے ہی کرنا تھا جو بھی کرنا تھا ،

  • تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

    تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

    تمباکو نوشی مضر صحت ہے…سگریٹ کی ہر ڈبی پر یہ لکھاہوتا ہے لیکن اسکے باوجودسگریٹ خرید کرپی جاتی ہے اور اپنی صحت کا نقصان کیا جاتا ہے، سوال یہ ہے کہ جب سگریٹ مضر صحت ہے تو مضر صحت چیز کی معاشرے میں فروخت کیوں ہو رہی ہے؟ مضر صحت چیز پر حکومت پابندی کیوں نہیں لگاتی؟ کیوں ایسے قوانین نہیں بنائے جاتے کہ انسانی صحت کو نقصان پہنچانے والی چیزوں بمعہ سگریٹ پر سخت قانونی پابندیاں ہوں.لیکن جب قانون سازی کرنیوالے خود ہی سگریٹ کی تشہیر کر رہے ہوں تو ان سے کیا توقع کی جا سکتی ہے، شیخ رشید کو لے لیجیے جو کئی بار وزیر رہ چکے ہیں اب فروری کے انتخابات میں انہیں شکست ہوئی اور وہ اسمبلی نہیں پہنچ سکے انکی اکثر تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے موصوف سگار پی رہے ہوتے ہیں، ایسی تصاویر کا کیا مقصد ہے؟ تمباکو مضر صحت ہے تو اسکی اتنی تشہیر کیوں؟

    ابھی 31 مئی کو انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن گزرا، اس روز ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وفاق اور تمام صوبوں میں تقریبات ہوتیں اور انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے بھر پور آگاہی مہم چلائی جاتی ،لیکن وزیراعظم شہباز شریف ، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے صرف بیانات پر ہی اکتفا کیا ہے،اگرچہ مسلم لیگ ن ، پی ڈی ایم کی گزشتہ ڈیڑھ سالہ حکومت کے دوران تمباکو پر ٹیکس عائد کیا گیا جس سے سگریٹ کی قیمتیں بڑھیں اور فروخت میں کمی ہوئی،تاہم اب بھی بجٹ آ رہا ہے بجٹ میں حکومت کو چاہئے کہ تمباکو پر مزید ٹیکس لگایا جائے ، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کہہ چکے ہیں کہ تمباکو انڈسٹری تین سو ارب سے زائد کا ٹیکس چوری کر رہی ہے اور ہم ادھر آئی ایم ایف کی منتیں کر رہے ہیں،ایسے میں کونسا امر مانع ہے کہ تمباکو انڈسٹری پر ٹیکس کیوں نہیں بّڑھایا جاتا، قومی خزانے کو نقصان پہنچ رہا ، تمباکو انڈسٹری من مانی کر رہی اور ٹیکس چوری کر رہی،وہ بھی اربوں کا، اگر ایک غریب سو روپے کا ٹیکس نہ دے تو کیا اسکے ساتھ بھی صرف بیان دے کر ہی سلوک کیا جاتا یا اس پر ڈنڈے کے زور پر قانون لاگو ہوتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی کالی بھیڑیں جو تمباکو انڈسٹری کے ساتھ ملی بھگت کر کے ٹیکس چوری میں ملوث ہیں انکو بے نقاب کر کے کاروائی کی جائے اور تمباکو پر مزید ٹیکس عائد کیا جائے.

    chromaic

    پنجاب حکومت انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے پنجاب میں متحرک ہو چکی ہے. گزشتہ دنوں تمباکو نوشی کیخلاف کام کرنیوالی غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان، طیب رضا نے لاہور کا دورہ کیا اور پنجاب کے صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیر، وزیر تعلیم رانا سکندر و دیگر سے ملاقاتیں کیں ، بعد ازاں پنجاب کے محکمہ تعلیم و صحت کے زیر اہتمام دو الگ الگ سیمینار بھی ہوئے جن میں سی ای او کرومیٹک شارق خان نے خصوصی طور پر شرکت کی،خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر جو پنجاب میں صحت کے شعبے کے وزراء ہیں نے اعلان کیا کہ وہ تمباکونوشی کیخلاف کرومیٹک کی مہم کو نہ‌صرف سراہتے ہیں بلکہ پنجاب میں انکے ساتھ ملکر آگاہی مہم پر بھی کام کریں گے، وزیراعظم کو تمباکو پر مزید ٹیکس لگانے کی بھی سفارش کریں گے،خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی سے ہر سال 70 لاکھ افراد موت کا شکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں سالانہ 347 ارب روپے کی رقم تمباکو نوشی میں ضائع کرنا انتہائی افسوس ناک ہے۔ شیشہ یا تمباکو نوشی کی دیگر اقسام بھی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ نوجوان نسل کو چاہئے کہ وہ اپنی تعلیمی اور مثبت سرگرمیوں پر توجہ دیں۔دوسرے پروگرام میں پنجاب کے تعلیمی اداروں میں تمباکو نوشی کے خلاف بھر پور مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا،پاکستان میں روزانہ بارہ سو سے زائد بچوں کا تمباکو نوشی شروع کرنا تشویشناک ہے۔ سکول کے بچوں کو تمباکو نوشی سے محفوظ بنانا انتہائی ضروری ہے اور اس حوالے سے پنجاب حکومت تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔صوبائی وزیرتعلیم رانا سکندر حیات کی خصوصی ہدایت پر اساتذہ اور والدین کی رابطہ کاری کے لئے بنائے گئے واٹس ایپ گروپس میں تمباکو نوشی کے نقصات اور بچوں پر اس کے اثرات کے حوالے سے آگاہی پیغام کو پھیلایا جائے گا تاکہ لاہور کے سرکاری اور پرائیویٹ سکولز میں زیرتعلیم 20 لاکھ سے زائد بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

    tobacco day

    تمباکو نوشی کیخلاف مہم کو قومی مہم بنا کر "تمباکو سے پاک پاکستان” کا نعرہ بلند کرنا ہو گا ، گو وزیراعظم شہباز شریف نے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ تمباکو سے پاک پاکستان بنائیں گے،تاہم اس کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے، کرومیٹک جیسی این جی اوز محدود وسائل کی وجہ سے آگہی مہم محدود پیمانے پر چلا سکتی ہیں تاہم حکومت اس ضمن میں وسیع پیمانے پر وسائل کی وجہ سے کام کر سکتی ہے، کرومیٹک کی آگاہی مہم کی وجہ سے کئی نوجوان سگریٹ نوشی ترک کر چکے ہیں،سوشل میڈیا پر کرومیٹک کی آگاہی مہم جاری رہتی ہے تو وہیں مختلف تقریبات کا انعقاد،سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلہ جات بھی کروائے جاتے ہیں، کرومیٹک کے سی ای او شارق خان انتہائی متحرک ہیں، قوم کو بچوں کو تمباکو سے بچانے کے لئے وزیراعظم سے لے کر اراکین اسمبلی تک انکی ملاقاتوں کا مقصدصرف ایک ہوتا ہے کہ تمباکو پر ٹیکس لگایا جائے، تا کہ قوم کے بچے، قوم کا مستقبل سگریٹ سے محفوظ ہو، سگریٹ مہنگا ہو گا تو اسکی خریداری کم ہو گی،اور یہ تجربہ ہو چکا کہ سگریٹ مہنگا ہونے کی وجہ سے اسکی خریداری میں کمی آئی ہے.کرومیٹک کی انسداد تمباکو نوشی مہم میں پنجاب حکومت کی شمولیت انتہائی خوش آئند امر ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ کرومیٹک کی آگہی مہم کے ساتھ حکومت عملی اقدامات کرے، سگریٹ نوشی کے خلاف جو قوانین بنائے گئے ہیں ان کا نفاذ یقینی بنایا جائے، سگریٹ پر ٹیکس عائد کیا جائے،تعلیمی اداروں کے نواح میں سگریٹ کی فروخت پر مکمل پابندی ہونی چاہئے، تمباکو کی ایڈورٹائزمنٹ پر پابندی ہونی چاہئے. سگریٹ پینے والوں کی معاشرے میں بھی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے.سگریٹ پینے والا نہ صرف اپنا نقصان کر رہا ہے بلکہ ساتھ بیٹھنے والوں کا بھی نقصان کر رہا ہے. پاکستان میں تمباکو نوشی میں کمی لانے کیلئے ضروری ہے کہ قیمتوں میں اضافے کیساتھ ساتھ اس کے نقصانات کے حوالے سے خصوصی آگاہی مہم شروع کی جا ئے تاکہ عوام اس کے جان لیوا اثرات سے محفوظ رہیں اور اپنے ہاتھوں اپنی زندگیوں کا خاتمہ نہ کریں۔ پاکستان کو ٹوبیکو فری بنانے کیلئے ضروری ہے کہ سگریٹ سازی کی صنعت پر مزید بھاری ٹیکسز عائد کئے جائیں، پاکستان میں روزانہ 1200 سے زیادہ بچے تمباکو کا استعمال شروع کر رہے ہیں، اور اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں الیکٹرانک تمباکو اور نکوٹین کی مصنوعات کے پھیلاؤ کے ساتھ پاکستان کے اعداد و شمار اور بھی تشویشناک ہیں۔ تمباکو کی صنعت نوجوانوں کو ہدف بناتی ہے، تمباکو کی صنعت تمباکو کی مصنوعات کو فروغ دینے والے اشتہارات کے ذریعے گمراہ کن ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔انکو بھی روکنے اور ٹیکس لگانے کی ضرورت ہے.

    iqbal anjum

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان