Baaghi TV

Category: متفرق

  • تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

    تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

    تمباکو نوشی مضر صحت ہے…سگریٹ کی ہر ڈبی پر یہ لکھاہوتا ہے لیکن اسکے باوجودسگریٹ خرید کرپی جاتی ہے اور اپنی صحت کا نقصان کیا جاتا ہے، سوال یہ ہے کہ جب سگریٹ مضر صحت ہے تو مضر صحت چیز کی معاشرے میں فروخت کیوں ہو رہی ہے؟ مضر صحت چیز پر حکومت پابندی کیوں نہیں لگاتی؟ کیوں ایسے قوانین نہیں بنائے جاتے کہ انسانی صحت کو نقصان پہنچانے والی چیزوں بمعہ سگریٹ پر سخت قانونی پابندیاں ہوں.لیکن جب قانون سازی کرنیوالے خود ہی سگریٹ کی تشہیر کر رہے ہوں تو ان سے کیا توقع کی جا سکتی ہے، شیخ رشید کو لے لیجیے جو کئی بار وزیر رہ چکے ہیں اب فروری کے انتخابات میں انہیں شکست ہوئی اور وہ اسمبلی نہیں پہنچ سکے انکی اکثر تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے موصوف سگار پی رہے ہوتے ہیں، ایسی تصاویر کا کیا مقصد ہے؟ تمباکو مضر صحت ہے تو اسکی اتنی تشہیر کیوں؟

    ابھی 31 مئی کو انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن گزرا، اس روز ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وفاق اور تمام صوبوں میں تقریبات ہوتیں اور انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے بھر پور آگاہی مہم چلائی جاتی ،لیکن وزیراعظم شہباز شریف ، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے صرف بیانات پر ہی اکتفا کیا ہے،اگرچہ مسلم لیگ ن ، پی ڈی ایم کی گزشتہ ڈیڑھ سالہ حکومت کے دوران تمباکو پر ٹیکس عائد کیا گیا جس سے سگریٹ کی قیمتیں بڑھیں اور فروخت میں کمی ہوئی،تاہم اب بھی بجٹ آ رہا ہے بجٹ میں حکومت کو چاہئے کہ تمباکو پر مزید ٹیکس لگایا جائے ، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کہہ چکے ہیں کہ تمباکو انڈسٹری تین سو ارب سے زائد کا ٹیکس چوری کر رہی ہے اور ہم ادھر آئی ایم ایف کی منتیں کر رہے ہیں،ایسے میں کونسا امر مانع ہے کہ تمباکو انڈسٹری پر ٹیکس کیوں نہیں بّڑھایا جاتا، قومی خزانے کو نقصان پہنچ رہا ، تمباکو انڈسٹری من مانی کر رہی اور ٹیکس چوری کر رہی،وہ بھی اربوں کا، اگر ایک غریب سو روپے کا ٹیکس نہ دے تو کیا اسکے ساتھ بھی صرف بیان دے کر ہی سلوک کیا جاتا یا اس پر ڈنڈے کے زور پر قانون لاگو ہوتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی کالی بھیڑیں جو تمباکو انڈسٹری کے ساتھ ملی بھگت کر کے ٹیکس چوری میں ملوث ہیں انکو بے نقاب کر کے کاروائی کی جائے اور تمباکو پر مزید ٹیکس عائد کیا جائے.

    chromaic

    پنجاب حکومت انسداد تمباکو نوشی کے حوالہ سے پنجاب میں متحرک ہو چکی ہے. گزشتہ دنوں تمباکو نوشی کیخلاف کام کرنیوالی غیر سرکاری تنظیم کرومیٹک کے سی ای او شارق خان، طیب رضا نے لاہور کا دورہ کیا اور پنجاب کے صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق، خواجہ عمران نذیر، وزیر تعلیم رانا سکندر و دیگر سے ملاقاتیں کیں ، بعد ازاں پنجاب کے محکمہ تعلیم و صحت کے زیر اہتمام دو الگ الگ سیمینار بھی ہوئے جن میں سی ای او کرومیٹک شارق خان نے خصوصی طور پر شرکت کی،خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر جو پنجاب میں صحت کے شعبے کے وزراء ہیں نے اعلان کیا کہ وہ تمباکونوشی کیخلاف کرومیٹک کی مہم کو نہ‌صرف سراہتے ہیں بلکہ پنجاب میں انکے ساتھ ملکر آگاہی مہم پر بھی کام کریں گے، وزیراعظم کو تمباکو پر مزید ٹیکس لگانے کی بھی سفارش کریں گے،خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ دنیا بھر میں تمباکو نوشی سے ہر سال 70 لاکھ افراد موت کا شکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں سالانہ 347 ارب روپے کی رقم تمباکو نوشی میں ضائع کرنا انتہائی افسوس ناک ہے۔ شیشہ یا تمباکو نوشی کی دیگر اقسام بھی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ نوجوان نسل کو چاہئے کہ وہ اپنی تعلیمی اور مثبت سرگرمیوں پر توجہ دیں۔دوسرے پروگرام میں پنجاب کے تعلیمی اداروں میں تمباکو نوشی کے خلاف بھر پور مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا،پاکستان میں روزانہ بارہ سو سے زائد بچوں کا تمباکو نوشی شروع کرنا تشویشناک ہے۔ سکول کے بچوں کو تمباکو نوشی سے محفوظ بنانا انتہائی ضروری ہے اور اس حوالے سے پنجاب حکومت تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔صوبائی وزیرتعلیم رانا سکندر حیات کی خصوصی ہدایت پر اساتذہ اور والدین کی رابطہ کاری کے لئے بنائے گئے واٹس ایپ گروپس میں تمباکو نوشی کے نقصات اور بچوں پر اس کے اثرات کے حوالے سے آگاہی پیغام کو پھیلایا جائے گا تاکہ لاہور کے سرکاری اور پرائیویٹ سکولز میں زیرتعلیم 20 لاکھ سے زائد بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

    tobacco day

    تمباکو نوشی کیخلاف مہم کو قومی مہم بنا کر "تمباکو سے پاک پاکستان” کا نعرہ بلند کرنا ہو گا ، گو وزیراعظم شہباز شریف نے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ تمباکو سے پاک پاکستان بنائیں گے،تاہم اس کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے، کرومیٹک جیسی این جی اوز محدود وسائل کی وجہ سے آگہی مہم محدود پیمانے پر چلا سکتی ہیں تاہم حکومت اس ضمن میں وسیع پیمانے پر وسائل کی وجہ سے کام کر سکتی ہے، کرومیٹک کی آگاہی مہم کی وجہ سے کئی نوجوان سگریٹ نوشی ترک کر چکے ہیں،سوشل میڈیا پر کرومیٹک کی آگاہی مہم جاری رہتی ہے تو وہیں مختلف تقریبات کا انعقاد،سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلہ جات بھی کروائے جاتے ہیں، کرومیٹک کے سی ای او شارق خان انتہائی متحرک ہیں، قوم کو بچوں کو تمباکو سے بچانے کے لئے وزیراعظم سے لے کر اراکین اسمبلی تک انکی ملاقاتوں کا مقصدصرف ایک ہوتا ہے کہ تمباکو پر ٹیکس لگایا جائے، تا کہ قوم کے بچے، قوم کا مستقبل سگریٹ سے محفوظ ہو، سگریٹ مہنگا ہو گا تو اسکی خریداری کم ہو گی،اور یہ تجربہ ہو چکا کہ سگریٹ مہنگا ہونے کی وجہ سے اسکی خریداری میں کمی آئی ہے.کرومیٹک کی انسداد تمباکو نوشی مہم میں پنجاب حکومت کی شمولیت انتہائی خوش آئند امر ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ کرومیٹک کی آگہی مہم کے ساتھ حکومت عملی اقدامات کرے، سگریٹ نوشی کے خلاف جو قوانین بنائے گئے ہیں ان کا نفاذ یقینی بنایا جائے، سگریٹ پر ٹیکس عائد کیا جائے،تعلیمی اداروں کے نواح میں سگریٹ کی فروخت پر مکمل پابندی ہونی چاہئے، تمباکو کی ایڈورٹائزمنٹ پر پابندی ہونی چاہئے. سگریٹ پینے والوں کی معاشرے میں بھی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے.سگریٹ پینے والا نہ صرف اپنا نقصان کر رہا ہے بلکہ ساتھ بیٹھنے والوں کا بھی نقصان کر رہا ہے. پاکستان میں تمباکو نوشی میں کمی لانے کیلئے ضروری ہے کہ قیمتوں میں اضافے کیساتھ ساتھ اس کے نقصانات کے حوالے سے خصوصی آگاہی مہم شروع کی جا ئے تاکہ عوام اس کے جان لیوا اثرات سے محفوظ رہیں اور اپنے ہاتھوں اپنی زندگیوں کا خاتمہ نہ کریں۔ پاکستان کو ٹوبیکو فری بنانے کیلئے ضروری ہے کہ سگریٹ سازی کی صنعت پر مزید بھاری ٹیکسز عائد کئے جائیں، پاکستان میں روزانہ 1200 سے زیادہ بچے تمباکو کا استعمال شروع کر رہے ہیں، اور اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں الیکٹرانک تمباکو اور نکوٹین کی مصنوعات کے پھیلاؤ کے ساتھ پاکستان کے اعداد و شمار اور بھی تشویشناک ہیں۔ تمباکو کی صنعت نوجوانوں کو ہدف بناتی ہے، تمباکو کی صنعت تمباکو کی مصنوعات کو فروغ دینے والے اشتہارات کے ذریعے گمراہ کن ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔انکو بھی روکنے اور ٹیکس لگانے کی ضرورت ہے.

    iqbal anjum

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

  • دہشت گردی کے نفسیاتی اثرات

    دہشت گردی کے نفسیاتی اثرات

    دہشت گردی سے سماجی رویوں خصوصا سرکاری اداروں پر اعتماد،ہجرت کے بارے میں خیالات، اور شہری آزادی بارے گہرا اثر ہوتا ہے،دہشت گردی کی کارروائیاں شہریوں میں منفی جذبات جیسے بے چینی، غم و غصہ، کمزوری ،بے بسی کو جنم دیتی ہیں،

    دہشت گردی کا مقصد پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے ہونے والی فوری جسمانی تباہی اور نقصان سے بھی بڑھ کر ہے۔ دہشت گرد معاشرے کو کمزور اور غیر مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی اخلاقی اقدار، اتحاد اور انتظامی ڈھانچے کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ دہشت گردوں کا مقصد وسیع پیمانے پر ذہنی اور جذباتی تناؤ کو جنم دینا ہے، جس سے معاشرے کو عدم برداشت اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ یہ سماجی و نفسیاتی نتیجہ ان کے مقاصد کے حصول کے لیے اہم ہے۔

    پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی سے نبرد آزما ہے، جس کے نتیجے میں اہم سماجی اور نفسیاتی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ تاہم دہشت گردی کے بعد ہونے والی بات چیت میں اکثر گہرے سماجی و نفسیاتی اثرات کو نظر انداز کیا جاتا ہے، اور پاکستانی معاشرے میں ان اثرات کو حل کرنے پر محدود توجہ دی گئی ہے۔

    سوات، جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان جیسے علاقوں میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی فوجی کارروائیوں نے مقامی باشندوں بالخصوص خواتین اور بچوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ ان افراد کو شدید سماجی، ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی صدمے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔مسائل کی وجہ سے بہت سے شہریوں کو اپنا گھر بار چھوڑ نا پڑا، انہوں نے نقل مکانی کی، جس سے ان کے خوف اور بے بسی کا احساس مزید بڑھ گیا ہے، نقل مکانی روزمرہ اورسماجی معاملات میں خلل ڈالتی ہے، جس سے پریشانیاں مزید بڑھ جاتی ہیں

    پاکستان معتدل اور متحرک معاشرے کے طور پر جانا جاتا ہے جو مذہبی انتہا پسندی کو مسترد کرتا ہے۔ پاکستان اعتدال پسند اسلام اور صوفی روایات کو اپناتا ہے، جو رواداری، امن اور بقائے باہمی پر زور دیتے ہیں۔ ان اقدار کی جڑیں پاکستان کی تاریخ اور ثقافت میں گہری ہیں۔ منفرد چیلنجوں کا سامنا کرنے کے باوجود، پاکستانی معاشرے نے لچک کا مظاہرہ کیا ہے اور مشکلات کا بھرپور جواب دیا ہے۔تاہم، دہشت گرد گروہوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے معاشرے کے معتدل طبقات کو تیزی سے پسماندہ کر دیا ہے۔ جیسے جیسے دہشت گرد میدان میں اترتے ہیں، وہ خوف اور تباہی کا ماحول پیدا کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں اعتدال پسند عوام کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔

    دہشت گردی کے سماجی و نفسیاتی اثرات سے نمٹنے کے لیے حکومت کو معاشرتی رویے پر دہشت گردی سے پیدا ہونے والے دباؤ کا مکمل جائزہ لینا چاہیے۔ اسے ڈیزاسٹر پلاننگ اور ٹاؤن اور ضلع کی سطح پر ٹراما سینٹرز کے قیام کے ساتھ جوڑا جانا چاہیے۔ نہ صرف دہشت گردی سے براہ راست متاثر ہونے والوں کو مدد کی ضرورت ہے، بلکہ پورا معاشرہ اس کے اثرات کو محسوس کرتا ہے، جس کے نتیجے میں معیشت متاثر ہوتی ہے اور اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری بھی رک جاتی ہے،دہشت گردی سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے مضبوط اور متحرک پالیسیاں ضروری ہیں۔ ایک جامع نقطہ نظر نفسیاتی مدد، سماجی ہم آہنگی اور اقتصادی استحکام ، پاکستان کے معاشرے پر دہشت گردی کے طویل مدتی اثرات کو کم کرنے میں مدد کرے گا۔ ان شعبوں پر توجہ مرکوز کرکے، حکومت اپنے لوگوں کو مضبوط کر سکتی ہے اور زیادہ پرامن اور مستحکم ماحول کو فروغ دے سکتی ہے۔

  • مرکزی مسلم لیگ کا یوم تکبیر کارواں،تحریر:ارشاد احمد ارشد

    مرکزی مسلم لیگ کا یوم تکبیر کارواں،تحریر:ارشاد احمد ارشد

    28مئی ۔۔۔۔پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن ہے کہ جب بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بنا ۔28مئی کو یوم تکبیر کانام دیا گیا ۔ یوم تکبیر بہت مبارک اور خوبصورت نام ہے۔ اس نام میں جوش بھی ہے جذبہ ہے ۔ جرأت بھی ہے اور ہمت بھی ہے۔تکبیر کا مطلب ہے ۔۔۔۔اللہ کی کبریائی، بڑائی اور عظمت ۔ قرون اولیٰ کے مسلمان جب تکبیر کا نعرہ بلند کرتے تو کفر کے ایوان لرز جاتے اور صنم منہ کے بل گرکے ھواللہ احد کہتے تھے ۔ آج مسلمان جھاگ کی طرح ہیں ان میں ہمت ہے اور نہ جرأت ہے اسلئے کہ دل جذبہ ایمان سے خالی ہیں ۔ جب تک دلوں میں ایمان نہیں ہوگا کوئی ہتھیار کارگر نہیں ہوسکتا ۔ کہنے کی حد تک پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے لیکن قوم میں تکبیر جیسا جذبہ پیدا کرنے کیلئے کچھ بھی عملی اقدامات نہ کیے گئے ۔ ضرورت اس امر کی تھی قوم میں تکبیر جیسا جذبہ بھی پیدا کیا جاتا ۔اسلئے کہ اسلحہ کے ساتھ جذبہ نہ ہوتو کوئی قوم نہ تو جنگ لڑ سکتی ہے اور نہ ہی جیت سکتی ہے ۔امسال اگرچہ سرکاری سطح پر یوم تکبیر کااہتمام کیا گیا تھا ۔ اسی طرح کچھ جماعتوں نے یوم تکبیر کی تقریبات کا اہتمام کیا ہوا تھا تاہم اس طرح کے مواقع پر مرکزی مسلم لیگ ہی واحد جماعت ہے جو بکھری قوم کو مجتمع کرنے ، منزل کا تعین کرنے ، دو قومی نظریہ کا سبق یاد کروانے اور تکبیر کا جذبہ پیدا کرنے کیلئے کوشاں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال 28مئی کے موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام ملک بھر میں شایان شان طریقے سے ’’ یوم تکبیر ‘‘ کی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ اس دفعہ بھی کراچی سے پشاور تک ہر شہر میں یوم تکبیر کی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا دارالحکومت لاہور ہے اور لاہور کا دل مال روڈ ہے ۔دیگر شہروں کی طرح لاہور میں بھی تکبیر کارواں کا انعقاد کیا گیاجس میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت۔
    تکبیر کارواں سے مرکزی مسلم لیگ کے قائدین نے خطاب کیا ۔ مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر چوہدری محمد سرورنے کہا کہ ایٹم بم تو ہم نے بنالیا اس کے بعد ایٹمی دھماکے بھی کرلیے اور جس دن ایٹمی دھماکے کیے گئے اس دن کانام ’’ یوم تکبیر ‘‘ رکھ دیا گیا لیکن المیہ یہ ہے کہ قوم تکبیر جیسا جذبہ پیدا کرنے کیلئے کچھ نہیں کیا گیا ۔ سال میں ایک بار یوم تکبیر منالینا کافی نہیں اصل بات یہ ہے کہ قوم کو اس امر سے آگاہ کیا جائے کہ پاکستان کو ایٹم بم بنانے اور دھماکے کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔۔۔۔؟ وہ عوامل جن کی وجہ سے پاکستان کو ایٹمی اسلحہ بنانا پڑا ۔۔۔۔وہ عوامل اور خطرات آج بھی اسی طرح موجود ہیں ۔ ہمارے دشمن بھارت نے صرف طریقہ کار بدلا ہے ۔دشمنی ختم نہیں کی ۔ وہ پہلے سے بھی زیادہ پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیاں کروارہا ہے ۔ان حالات میں جہاں پاکستان کو عسکری اعتبار سے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے وہاں تکبیر کو جذبوں کو بھی سمجھنے اور عام کرنے کی بے حد ضرورت ہے ۔

    ہم نے یوم تکبیر منانے کا اعلان کیا تو ہمیں ملامت کی گئی ڈرایا دھمکایا گیا لیکن ہم نہ ہی ڈرے اور نہ ہی پیچھے ہٹے ہیں ۔ہم آج سے اپنی تحریک کا آغاز کررہے ہیں کہ اس وطن کو لا الہ الا اللہ کا ملک بنائیں گے۔سیاسی معاشی اعتبار سے ملک کے حالات بہت ناگفتہ بہ ہیں تاہم وطن عزیز کی صورتحال پارٹیاں یا چہرے بدلنے سے تبدیل نہیں ہوگی، اسلام پر عمل سے بدلے گی۔ ہم نے صرف ووٹ کی نہیں بلکہ نظریہ کی جنگ لڑنی ہے۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے حکمران اپنوں کو پس زنداں ڈال رہے ہیں اور غیروں کے سامنے بھیگی بلی بنے ہوئے ہیں۔ ہمارا دشمن تقسیم در تقسیم کے ذریعے ہمیں تباہ کرنا چاہتا ہے۔ مرکزی مسلم لیگ پاکستان کی بقا اور سالمیت کا معرکہ سر کرے گی۔ ہم پارٹی اور دھڑے بازی کی بجائے خدمت کی سیاست کا علم لے کر نکلے ہیں ۔

    تکبیر کارواں کے ایک اہم ترین مقرر فلسطین سے آنے والے معزز مہمان الشیخ ابو عبیدہ تھے ۔ حاضرین وسامعین نے الشیخ ابوعبیدہ کا استقبال پرجوش نعروں سے کیا ۔ فلسطینی رہنما نے رقت آمیز انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ ماہ سے غزہ میں جنگی جرائم اور فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے۔اہل غزہ نے جانیں دے کر استقامت کی انمٹ مثالیں پیش کی ہیں ۔فلسطین صرف فلسطینیوں کا نہیں یہاں قبلہ اول ہے ، فلسطین انبیاء علیھم السلام کی سرزمین ہے لیکن انبیاء علیہ السلام کی سر زمین یہودیوں کے ہاتھوں لہولہان ہے ۔ فلسطینی مسلمان غزہ کی نہیں قبلہ اول کے دفاع کی جنگ لڑرہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ پورا عالم اسلام فلسطینیوں کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہوجائے ۔مرکزی مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن جرأ ت، دلیری بہادی اور شجاعت کا دن ہے۔ ہم پاکستان کے دشمنوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے وطن کے دفاع کے لئے زندہ وبیدار ہیں ۔پاکستان محمد بن قاسم ، طارق بن زیاد ، قتیبہ بن مسلم ، صلاح الدین ایوبی کے جانثاروں اور قبلہ اول سے محبت کرنے والوں کا وطن ہے ۔پاکستان کے غیور وجسور اور بہادر عوام کسی صورت بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں ہونے دیں گے۔آج جو شیخ مجیب کو ہیرو ثابت کرنا چاہتے ہیں اپنا قبلہ درست کریں۔ہم ہر چور اور ڈاکو کو کہنا چاہتے ہیں کہ تمہارا وقت پورا ہوا۔اب یہ وقت پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ لاہور کے صدر انجنئیر عادل خلیق کا کہنا تھا کہ ابن الوقت سیاستدانوں نے اپنے اپنے مفادات کی خاطر ملک میں مایوسی کی فضا پیدا کررکھی ہے۔ ایک سازش کے تحت حالات ایسے بنائے جارہے ہیں کہ نوجوان ملک سے مایوس ہوجائیں ، ہم نے ان مفاد پرست سیاستدانوں کا بھی مقابلہ کرنا ہے اور ملک کو بھی مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف گامزن کرنا ہے ۔تکبیر کارواں سے ریاض احمد احسان،عمر عبداللہ ، ادریس فاروقی ، چوہدری مختار گجر،شیخ صداقت ،ڈاکٹر عمران، امین بیگ،حافظ عثمان اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایٹمی پروگرام پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے سے باز رہے، معاشی استحکام کے لیے حکومت کفایت شعاری اور خود انحصاری کی پالیسی بنائے۔ ایٹمی صلاحیت کی بنیاد پر ہر بیرونی دشمنوں سے ہم محفوظ ہیں لیکن حالیہ بڑھتی ہوئی منافرت اور تقسیم تباہ کن ہے۔ مقتدرہ اور دیگر اسٹیک ہولڈرز مل کر وطن عزیز کو اس بحران سے نکالیں۔ اپنی اناؤں کو پس پشت ڈال کر وطن عزیز کے استحکام کے لیے کردار ادا کریں۔

    مرکزی مسلم لیگ کی ملک بھر میں یوم تکبیر کی تقریبات سے دلوں کو اک ولولہ تازہ ملا ہے، قوم کو حوصلہ ملا ہے اور دشمنوں کو یہ پیغام ملا ہے کہ پاکستانی قوم زندہ وبیدار ہے ، ہوشیار ہے ۔ اس میں شک نہیں قوم تو زندہ ہے مگر ستم یہ ہے کہ ہمارے حکمران خواب غفلت کا شکار ہیں ۔ بدقسمتی سے حکمرانوں کی ترجیحات میں ملک اور قوم نہیں بلکہ ان کی اپنی ذات اور اقتدار ہے ۔ حالانکہ یہ وقت سیاست نہیں ملک بچانے کا ہے اقتدار نہیں اقدار کے فروغ کا ہے ۔ اسلئے کہ ملک ہے تو ہم ہیں ۔ ضروری ہے کہ ہم میں سے ہر شخص ملک کو بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے ۔
    irshad arshad

  • بلوچستان پولیس کی کرپشن کہانی ،تحریر: آغاز نیاز مگسی

    بلوچستان پولیس کی کرپشن کہانی ،تحریر: آغاز نیاز مگسی

    قصے اور کہانیاں \ آغا نیاز مگسی

    بلوچستان کے محکمہ پولیس میں کرپشن کے انداز ہی نرالے ہیں ۔ ویسے اگر اس کا دیگر صوبوں سے موازنہ کیا جائے تو اخلاقیات کے لحاظ سے سندھ اور پنجاب پولیس کی نسبت بلوچستان پولیس بہت بہتر بلکہ قابل ستائش فورس ہے ۔ سندھ اور پنجاب پولیس کا عام شہریوں کے ساتھ رویہ انتہائی غیر مناسب ہوتا ہے جبکہ گرفتار یا زیر حراست ملزمان کے ساتھ ان کا رویہ غیر اخلاقی بلکہ غیر انسانی سلوک ہوتا ہے گالی گلوچ اور کرپشن تو ان کے منشور کا حصہ ہوتا ہے زیر حراست یا گرفتار ملزمان کو بدترین تشدد کے علاوہ” ہاف فرائی اور فل فرائی “کی اصطلاح کے تحت زخمی اور ہلاک کرنے کے عمل کو پولیس کے ساتھ مقابلہ قرار دینا ان کے معمول کا حصہ ہے لیکن اس کی نسبت بلوچستان پولیس کا عام شہریوں خواہ ملزمان دونوں کے ساتھ دوستانہ رویہ ہوتا ہے ہاف فرائی اور فل فرائی کا یہاں تصور ہی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود کرپشن کے حوالے سے بلوچستان پولیس بھی کسی سے کم نہیں ہے ۔ چیک پوسٹ ، قومی شاہراہ ، اسمگلنگ اور تھانوں ، منشیات و قماربازی اور فحاشی کے اڈوں سے روزانہ یا ماہانہ بھتہ وغیرہ ان کے روز و شب کے معمولات کا حصہ ہیں ۔ قومی شاہراہ پر تعینات پولیس افسران اور اہلکاروں کی چاندی ہوتی ہے وہ دن رات پیسہ بٹورنے میں مشغول رہتے ہیں منشیات ، ایرانی پیٹرول و دیگر اشیاء اور گاڑیوں کے اسمگلرز سے ان کا لین دین ہوتا ہے ایک اندازے کے مطابق بلوچستان بھر کی قومی شاہراہوں اور چیک پوسٹوں سے پولیس کو مجوعی طور پر روزانہ کروڑوں روپے کی آمدن ہوتی ہے اور یہی صورتحال صوبے کے شہروں اور قصبات میں قائم منشیات اور قمار بازی کے اڈوں کی ہے جہاں پولیس اور مذکورہ اڈہ مالکان کے درمیان معاملات طے شدہ ہوتے ہیں جن کے خاموش معاہدے کے نتیجے میں معاشرے میں مختلف قسم کی برائیاں جنم لیتی ہیں جن کی ذمہ داری پولیس پر عائد ہوتی ہے ۔ مشیات کے کاروبار اور استعمال سے ہماری نئی نسل بری طرح متاثر ہو کر اپنے خاندان اور ملک و قوم پر بوجھ بن جاتا ہے جس سے وہ اخلاقی پستی میں داخل ہو جاتی ہے جس سے بےشمار برائیوں کو فروغ مل رہا ہوتا ہے ۔

    بلوچستان کا صوبہ کافی عرصہ سے دہشت گردی کا شکار ہے جس میں عام شہریوں کے علاوہ پولیس افسران اور اہلکاروں کی بھی بڑی تعداد نشانہ بنتی ہے جس کے نتیجے میں وہ شہید اور زخمی بن جاتے ہیں اور دہشت گردی کے اکثر واقعات سیکورٹی کے ناقص انتظامات کے باعث پیش آتے ہیں ۔ ایک اطلاع کے مطابق بلوچستان کے چار اضلاع کوئٹہ ، گوادر ، حب اور لسبیلہ 2020 سے 2600 پولیس اہلکار سرکاری ڈیوٹی دینے کے بجائے بااثر سیاسی و قبائلی شخصیات گن مین یا سیکورٹی گارڈ کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور تنخواہ سرکار سے وصول کر رہے ہیں ان کی تخواہوں کی مد میں سالانہ ڈھائی ارب روپے کی رقم قومی خزانے سے جاری ہوتی ہے یہ وہ اہلکار ہیں جو پہلے لیویز فورس میں تھے 2020 میں بلوچستان پولیس میں ضم کر دیئے گئے اور اس وقت سے اب تک کھاتے پہ چل رہے ہیں جن کی تنخواہوں کا بڑا حصہ ان کے افسران کی جیب میں چلا جاتا ہے لیکن اس کا نقصان بلوچستان پولیس میں نفری کی کمی کے باعث چوری ،ڈکیتی اور دہشت گردی کے واقعات کی صورت میں بلوچستان کے شہریوں کا ہوتا ہے۔ یہ تو صرف چار اضلاع کے 2600 پولیس اہلکار ہیں جو کھاتے پر چل رہے ہیں صوبے کے باقی اضلاع کی کھاتے پر چلنے والے پولیس اہلکاروں کی مجموعی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جن میں سے نصف تعداد سیاسی و قبائلی شخصیات کے ذاتی محافظ بنے ہوئے ہیں اور نصف تعداد اپنے ذاتی کاروبار میں مشغول رہتی ہے ۔ یہ وہ صورتحال ہے جس کی وجہ سے بلوچستان پولیس کا محکمہ نفری کی کمی کا سامنا کر رہا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کی جان و مال اور قومی املاک کا مناسب تحفظ نہیں ہو رہا ہے چناں چہ بلوچستان کو ایک ایسے چیف ایگزیکٹو کی ضروت ہے جو حقیقی معنوں میں بااختیار اور اپنے صوبے اور مخلص و دیانتدار ہو تب ہی بلوچستان پولیس میں اصلاحات ممکن ہو سکیں جس سے کرپشن میں کمی اور سیکورٹی کی صورتحال بھی بہتر ہو سکے گی ۔

  • پھلوں کا بادشاہ آم.56واں مینگو فیسٹیول میرپورخاص

    پھلوں کا بادشاہ آم.56واں مینگو فیسٹیول میرپورخاص

    تحریر . غلام رضا کھوسو ، ڈائریکٹر اطلاعات میرپورخاص ڈویزن
    Ghulam raza khoso
    ضلع میرپورخاص جو این جی اوز اور سٹی آف مینگوز کے طور پر اپنی پہچان رکھتا ہے اور گذشتہ 55سالوں سے میرپورخاص میں ہر سال ضلعی انتظامیہ اور مینجمنٹ کمیٹی مینگو فیسٹیول کی کاوشوں سے ہر سال جون میں شہید بینظیر بھٹو ایگزہیبیشن ہال (فروٹ فارم) میرپورخاص میں آموں کی نمائش کا انعقاد کیا جاتا ہے . رواں سال بھی میرپورخاص میں 56واں مینگو فیسٹیول 31 مئی 2024 سے 2 جون 2024 تک سالانہ تین روزہ آموں کی نمائش لگائی جائے گی .اس سلسلےمیں ضلعی انتظامیہ،محکمہ زراعت اور مینجمنٹ کمیٹی کی جانب سے انتظامات کا آغاز کیا گیا ہے .

    میرپورخاص میں آموں کی نمائش کا آغاز سن 1965 سے کیا گیا تھا جس کا مقصد نہ فقط صوبے بلکہ ملک کے دور دراز علاقوں کے زمیندار کا آپس میں میل جول اور زرعی معلومات کا تبادلہ آموں کی پیداوار اور اقسام کا فروغ ہو سکے تاکہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں آموں کی پیداوار بہتر بنانے کے لیے کارآمد ہو سکے . حکومت سندھ کی جانب سے پانی کی کمی کے باعث ڈرپ ایریگیشن سسٹم کے ذریعے باغات کو پانی پہنچانے کے لیے کافی فنڈر مختص کئے گئے ہیں اور ابتدائی طور پر تجرباتی بنیادوں پر کام شروع کر دیا ہے ، اس ضمن میں حکومت کی جانب سے میرپورخاص میں سندھ ہارٹیکلچر ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں یہ سسٹم قائم کیا گیا ہے .سندھ ہارٹیکلچر ریسرچ سنٹر جو کہ گورنمنٹ فروٹ فارم کے نام سے 1904 میں قائم ہوا اس وقت اس کا نام زرعی فارم تھا اس کے بعد 1926 میں اس ادارے کو تجرباتی اسٹیشن بنایا گیا . 1958میں اس ادارےکو ترقی دے کر باغات کی تحقیق کا ادارہ بنایا گیا اس ادارے کے سب اسٹیشنز سندھ بھر کے مختلف اضلاع میں بھی قائم کئے گئے جس میں ٹماٹر کے لیے ضلع بدین، مرچوں کے لیے ضلع عمرکوٹ کے تحصیل کنری ، بیر اور پیاز کے لیے حیدرآباد ، چیکو ، کیلا، پپیتہ ، کھٹے میوات اور آموں کے لیے شہید بینظیر آباد ، کھجور کے لیے ضلع خیرپورمیرس ، امرود کے لیے ضلع لاڑکانہ میں تحقیقات کا سلسلہ جاری و ساری ہے جس میں کاشتکاروں کو تمام فائدہ مند مشوروں کے ساتھ ساتھ پیداوار بڑھانے کی اقسام دی جاتی ہے . اس ادارے کے پرانے آموں کے اقسام میں سندھڑی، الماس ، چونسہ ، طوطہ پری، الفانسو، کلیکٹر، لنگڑا ، صالح بھائی، دسہری، سوارنیکا، بیگن پالی ،گلاب خاصہ ، سرولی ،نیلم ، زافران ، انور رٹول وغیرہ جو ملکی و بیرون ممالک میں بے حد مشہور ہیں .نئی اقسام میں اس ادارے کی جانب سے کاشتکاروں میں متعارف کروائے گئے ہیں جن میں جاگیردار ، مہران ، شہنشاہ انمول وغیرہ شامل ہیں .

    آموں کے فوائد .
    پکے ہوئے اور کچے آموں میں بہت سے وٹامن پائے جاتے ہیں ، وٹامن اے ، وٹامن سی ، وٹامن ای ، انسان کو دل کی بیماریوں ، کینسر ، شوگر جیسی بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں. آموں میں 66فیصد تک کیلوریز ہوتے ہیں . ہمارے ملک پاکستان میں 110مختلف اقسام کے آم پیدا ہوتے ہیں ، زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ آموں کی برآمد کو بڑھانے کے لیے نئی مارکیٹوں تک رسائی کے ساتھ ساتھ آموں کی پروسیسنگ پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے جس سے آموں کی برآمد میں بھی اضافہ ہو سکے گا ،، ہمارے ملک میں آموں کے باغات کی کاشت شدہ ایراضی ساڑھے چارلاکھ ایکڑ ہے جبکہ ملک میں سالانہ 18 لاکھ ٹن آموں کی پیداوار ہوتی ہے اسی طرح ایک اندازے کے مطابق ضلع میرپورخاص میں 30 ھزار ایکڑ پر 120000 ٹن آموں کی پیداوار ہے .

    ضلعی انتظامیہ میرپورخاص کی جانب سے ڈویزنل کمشنر میرپورخاص ڈویزن فیصل احمد عقیلی اور ڈپٹی کمشنر میرپورخاص سونو خان چانڈیو کی سربراہی میں میرپورخاص میں 31 مئی 2024 سے 2 جون 2024 تک سالانہ تین روزہ آموں کی نمائش کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں کھیلوں اور ثقافتی پروگرام کا بھی انعقاد کیا جائے گا .نمائش کو کامیاب بنانے کے لیے سب کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں اس کے علاوہ نمائش میں چھوٹے چھوٹے زمینداروں کو اپنے آموں کے اسٹال لگانے کے لیے شرکت کی دعوت دی گئی ہے.

    میرپورخاص میں 56ویں سالانہ تین روزہ آموں کی نمائش کا باقاعدہ افتتاح 31 جون کو شہید بینظیر بھٹو ایگزہیبیشن ہال (فروٹ فارم) میں صوبائی وزیر زراعت کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے اسی طرح دوسرے روز زرعی سیمینار اور سندھ کا روایتی کھیل ملاکھڑا کے مقابلے اور اختتامی تقریب میں شرکت کے لیے وزیر اعلی سندھ کو دعوت دی گئی ہے جہاں وہ نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے زمینداروں میں انعامات تقسیم کریں گے .

    آموں کی نمائش لگانے کا مقصد میرپورخاص کے آموں کو بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی کے لیے متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ کاشتکاروں کو آپس میں میل جول کروانا ہے تاکہ آموں کی نئی اقسام کے متعلق آ گاہی اور بہتر طور پر دیکھ بھال کے متعلق آگاہی دینا ہے تاکہ عام آدمی نمائش میں رکھی آموں کے مختلف اقساموں کے متعلق معلومات حاصل کرتے ہیں بعد میں دوسرے دوست احباب کو تحفے کے طور بھیجتے ہیں ہر سال ٹیکنیکی سیشن زرعی سیمینار بھی منعقد کیا جاتا ہے تاکہ کاشتکاروں کو آموں کی نئی قسم ، پیداوار بڑھانے اور پیداوار کے نئے طریقوں کے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے . 56ویں آموں کی نمائش کے انعقاد کے لیے رئیس عارف خان بھرگڑی کو مینگو فیسٹیول مینجمنٹ کمیٹی کا چیئر مین جبکہ گوھرام بلوچ کو مینیجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین کا کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ 56واں مینگو فیسٹیول میرپورخاص گذشتہ سالوں کے مقابلے میں منفرد اور بہتر طور پر منعقد کیا جائے گا .

  • عالمی امن: ایک مضحکہ خیز تصور؟

    عالمی امن: ایک مضحکہ خیز تصور؟

    عالمی امن: ایک مضحکہ خیز تصور؟
    18ویں صدی کے آخر میں اپنے مقالے دائمی امن میں، فلسفی عمانویل کانٹ نے پائیدار عالمی امن کے حصول کے لیے ایک وژنری پروگرام کا خاکہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے کھڑی فوجوں کو ختم کرنے، ریاستوں کو ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت سے روکنے کے اقدامات کی تجویز دی ہے ساتھ ہی کہا ہے کہ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ قومی فنڈز کا استعمال تنازعات کو ہوا دینے کے لیے نہ ہو،فلسفی کانٹ نے عالمی مہمان نوازی کی اہمیت پر زور دیا، جہاں تمام افراد عالمی شہریوں کے حقوق سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ اس نے دلیل دی کہ یہ اصول پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکتے ہیں

    تاہم، عالمی امن کی فزیبلٹی کو مسلسل علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات کی وجہ سے چیلنج کیا جاتا ہے۔ ذاتی مفادات کا وجود ایک ناگزیر "ہم بمقابلہ ان” کی ذہنیت پیدا کرتا ہے، جو قوموں کو جوہری ہتھیاروں، جدید مہلک ٹیکنالوجیز، مصنوعی ذہانت اور کیمیائی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے ممکنہ طور پر تباہ کن جھڑپوں کی طرف لے جاتا ہے،

    اقتصادی عدم مساوات اور وسائل کی کمی کو طویل عرصے سے تنازعات میں اہم کردار کے طور پر تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ عالمی امن کو فروغ دینے کے لیے ان مسائل کاحل کرنا بہت ضروری ہے۔ دولت کی تقسیم اور وسائل تک رسائی جغرافیائی سیاسی منظر نامے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اس پر اثر انداز ہوتی ہے کہ آیا اس کا رجحان استحکام کی طرف ہے یا تنازعہ

    حکومتوں کی طرف سے وسیع تر مذاکرات اور کوششوں کے باوجود حقیقی امن نظر نہیں آتا۔ حکومتیں تشدد کو صرف سماجی طور پر قابل قبول حدود میں ہی کنٹرول کر سکتی ہیں۔ حقیقی امن سیاسی حالت کے بجائے شعور کی حالت ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی اور معاشی تفاوت جیسے مسائل اجتماعی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں، عالمی امن کے لیے بلند نظر منصوبے اب پرانے اور غیر حقیقی دکھائی دیتے ہیں،عالمی امن کے حصول کے لیے ایک وقت میں تنازعات کو حل کرتے ہوئے، مزید بڑھتے ہوئے نقطہ نظر کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ عالمی ہم آہنگی کے لیے عظیم الشان ڈیزائن عجیب لگتے ہیں، انفرادی تنازعات کو حل کرنے پر توجہ مرکوز کرنا ایک پرامن دنیا کی طرف زیادہ عملی راستہ ہو سکتا ہے۔

  • مراقبہ کو اپنی زندگی کے روزمرہ حصے کے طور پر شامل کرنا

    مراقبہ کو اپنی زندگی کے روزمرہ حصے کے طور پر شامل کرنا

    مراقبہ کو اپنی زندگی کے روزمرہ حصے کے طور پر شامل کرنا

    مراقبہ ایک صدیوں پرانا عمل ہے جس میں ذہنی و جذباتی سکون اور مجموعی طور پر تندرستی حاصل کرنے کے لیے دماغ پر توجہ مرکوز کرنا شامل ہے۔ مختلف روحانی روایات میں جڑے ہوئے، مراقبہ کو اس کے متعدد صحت کے فوائد کے لیے جدید، سیکولر سیاق و سباق میں بھی قبول کیا گیا ہے۔ آئیے دریافت کریں کہ آپ مراقبہ کو اپنی زندگی کا باقاعدہ حصہ کیسے بنا سکتے ہیں۔مراقبہ دماغ کو زیادہ باخبر اور حاضر رہنے کی تربیت دینے کا عمل ہے۔ یہ بیداری امن اور توازن کے احساس کو فروغ دے کر آپ کے معیار زندگی کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتی ہے۔ مراقبہ کی جڑیں روحانی روایات جیسے بدھ مت، ہندو مت اور تاؤ مت میں گہری ہیں۔ صدیوں کے دوران، یہ دنیا بھر میں تیار اور پھیل چکا ہے، جو ذہنی اور جسمانی صحت کو بڑھانے کا ایک مقبول ذریعہ بن گیا ہے۔
    مراقبہ کئی شکلوں میں آتا ہے، جس میں مائنڈفلنس مراقبہ میں بغیر کسی فیصلے کے موجودہ لمحے پر توجہ دینا شامل ہے۔ اس ذہنی بیداری کو برقرار رکھنے کے لیے مشق کرنے والے اکثر اپنی سانسوں، جسمانی احساسات، یا آوازوں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ ماورائی مراقبہ میں خاموشی سے ایک مخصوص منتر کو دہرانا شامل ہے تاکہ دماغ کو گہری راحت کی حالت میں بسنے میں مدد ملے۔ گائیڈڈ مراقبہ میں ہدایات اور مدد شامل ہوتی ہے، جو اسے ابتدائی افراد کے لیے آسان بناتی ہے۔ یہ سیشن مختلف ضروریات اور ترجیحات کے مطابق ایپس اور آن لائن وسائل میں مل سکتے ہیں۔مراقبہ فوائد کی ایک وسیع رینج پیش کرتا ہے۔ یہ آرام کو فروغ دینے اور تناؤ کے ہارمونز کی پیداوار کو کم کرکے تناؤ کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ باقاعدگی سے مراقبہ بلڈ پریشر کو کم کر سکتا ہے، دل کی بہتر صحت میں معاون ہے۔ یہ اضطراب اور افسردگی کی علامات کو دور کرنے میں موثر ہے، جس سے مجموعی ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے۔ مراقبہ ارتکاز اور یادداشت کو بہتر بناتا ہے، آپ کو تیز اور توجہ مرکوز رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ مراقبہ کی مشق جذباتی لچک پیدا کرتی ہے، جس سے آپ زندگی کے چیلنجوں کو زیادہ مؤثر طریقے سے نپٹ سکتے ہیں۔

    مراقبہ شروع کرنے میں زیادہ وقت یا خصوصی آلات کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ شروع کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنی مشق کو گہرا کرنے کے لیے خلفشار سے پاک ایک پرسکون، آرام دہ جگہ تلاش کریں۔ ایک ایسا وقت منتخب کریں جو آپ کے لیے بہترین ہو، چاہے وہ صبح ہو، دوپہر ہو یا شام ہو۔ مستقل مزاجی کلیدی ہے۔ گائیڈڈ مراقبہ شروع کرنے والوں کے لیے بہترین ہیں، آپ کو شروع کرنے میں مدد کے لیے ہدایات اور مدد فراہم کرتے ہیں۔مراقبہ کو اپنی زندگی کا باقاعدہ حصہ بنانے کے لیے، ان تجاویز کو آزمائیں، مراقبہ کو اپنے روزمرہ کے معمولات میں شامل کریں، چاہے یہ صرف چند منٹوں کے لیے ہو۔ مختصر سیشن کے ساتھ شروع کریں اور آہستہ آہستہ مدت میں اضافہ کریں کیونکہ آپ زیادہ آرام دہ ہو جائیں گے۔ آپ کو ٹریک پر رکھنے کے لیے گائیڈڈ مراقبہ اور یاد دہانیوں کے لیے ایپس اور آن لائن وسائل استعمال کریں۔

    ذہنی اور جسمانی صحت کو بڑھانے کے لیے مراقبہ ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ اس کی سادگی اور رسائی اسے ہر ایک کے لیے ایک دلکش عمل بناتی ہے۔ اندرونی سکون اور بیداری کے احساس کو فروغ دے کر، مراقبہ دنیا کے بارے میں آپ کے تجربے کو گہرائی سے تبدیل کر سکتا ہے۔

  • تعصبات کو سمجھنا اور ان پر قابو پانا

    تعصبات کو سمجھنا اور ان پر قابو پانا

    تعصبات، خواہ لاشعوری ہوں یا جان بوجھ کر،یہ بات ہم پر بھی اثر انداز ہوتی ہے کیونکہ جب ہم دوسروں کو دیکھنے میں مشغول ہوتے ہیں، تو یہ بات فیصلہ سازی، مواصلت، اور تعاون پر خاص طور پر متنوع اور ترقی پذیر کام کی جگہوں پر کافی اثر ڈالتے ہیں۔ لہذا ابتدا میں کسی کے تعصبات ،رویے اور نتائج پر ان کے اثرات کے بارے میں خود آگاہی پیدا کرنا ہے۔بعد کے مرحلے میں ان تعصبات کو چیلنج کرنے اور ان سے پوچھ گچھ کرنے کے لیے ایک فعال نقطہ نظر کی ضرورت ہوتی ہے، ان کی درستگی اور مطابقت کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ مختلف نقطہ نظر، تجربات، اور معلومات کی نمائش موجودہ خیالات کا مقابلہ کرنے اور اسے وسعت دینے کے ایک ذریعہ کے طور پر کام کرتی ہے۔ متفرق پس منظر اور مہارت کے حامل افراد سے مختلف ، آراء، اور بصیرت کو فعال طور پر تلاش کرنا تنوع کی وسیع تر تفہیم اور تعریف کو فروغ دیتا ہے۔اس کے بعد، اس سفر میں تعصبات کو زیادہ درست اور جامع عقائد اور اعمال سے بدلنا شامل ہے، جو ترقی کی ذہنیت کو اپنانے مسلسل سیکھنے، ارتقاء، اور اضافے کے عزم کے ذریعے سہولت فراہم کرتا ہے- آخری مرحلے میں تعصبات اور پیشرفت کی چوکس نگرانی شامل ہے، جو مخصوص، قابل پیمائش اہداف کے قیام کے ذریعے سہولت فراہم کرتا ہے۔ ان مقاصد میں متعصب ردعمل کی تعداد یا شدت کو کم کرنا، متنوع گروپوں کے ساتھ مل کر معیار اور مقدار کو بڑھانا، یا پیشہ ورانہ اور ذاتی دونوں شعبوں میں اعلیٰ نتائج حاصل کرنا شامل ہو سکتے ہیں۔

    اس کے بعد، ہمیں اپنے تعصبات کو بہتر اور زیادہ جامع عقائد سے بدلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کا مطلب ہے ہمیشہ سیکھنے اور بڑھنے کے لیے کھلا رہنا۔ہمیں اپنے تعصبات پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور ہم ان سے چھٹکارا پانے کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ کم متعصب ہونے اور مختلف لوگوں کے ساتھ بہتر تعلق رکھنے کے لیے اہداف کا تعین ہماری پیشرفت پر نظر رکھنے میں ہماری مدد کر سکتا ہے۔تعصب کو سیکھنے اور بہتر بنانے کے مواقع کے طور پر دیکھنا بھی ضروری ہے۔ جب ہم غلطیاں کرتے ہیں یا کسی کی رائے لیتے ہیں، تو ہمیں انہیں مثبت نظر سے دیکھنا چاہیے، نہ کہ صرف ناکامیوں کے طور پر۔مقصد تعصبات کو طاقتوں میں تبدیل کرنا ہے جو کام پر بہتر کرنے اور زیادہ تخلیقی اور خوش رہنے میں ہماری مدد کرتی ہیں۔ ایسا کرنے سے، تعصبات دراصل ہمیں اپنے کام میں بہتر بنا سکتے ہیں اور ایک زیادہ جامع اور کامیاب کام کی جگہ بنا سکتے ہیں۔اس سفر کے ایک اہم پہلو میں ترقی اور تبدیلی کے طور پر تعصبات کا فائدہ اٹھانا شامل ہے۔ سیکھنے کے انمول ذرائع کے طور پر غلطیوں، ناکامیوں، اور آراء کو قبول کرنا تعصب کی تبدیلی کی صلاحیت کو واضح کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، کامیابیوں اور پہچان کو تسلیم کرنا اور منانا ترقی اور پوشیدہ صلاحیت کے ٹھوس ثبوت کے طور پر کام کرتا ہے۔

  • ٹینشن کے حالات میں سکون برقرار رکھنا

    ٹینشن کے حالات میں سکون برقرار رکھنا

    ہمیں اپنی زندگی میں کسی نہ کسی صورت غصےکی کیفیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے چاہے وہ کام کے اوقات ہوں، خاندان یا ذاتی چیلنجز، سکون برقرار رکھنا ایک مشکل کام لگتا ہے۔ لیکن کیا ہوگا اگر میں آپ کو یہ بتاؤں کہ زندگی کے طوفانوں سے نمٹنے کا راز واقعات کو کنٹرول کرنے میں نہیں بلکہ ان کے ردعمل پر قابو پانے میں ہے؟یہ لچک (Resilience) کا اصل مطلب ہے، یہ ایک ایسا تصور ہے جس کے ساتھ میں نے بیوگی، سنگل مدر اور بیمار والدین کی دیکھ بھال کے پیچیدگیوں سے نمٹنے کے بعد گہرا تعلق بنایا ہے۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جس نے ایک گہری سچائی کا انکشاف کیا ہے، جو چیزیں آج بہت بڑی لگتی ہیں وہ اکثر کل معمولی سی بات بن جاتی ہیں۔ روزمرہ کی پریشانیاں جو ہمارے غصے کو جنم دیتی ہیں، دراصل زندگی کے بڑے منظرنامے میں اکثر معمولی سی باتیں ہوتی ہیں۔

    آپ کو ایک ذاتی کہانی سناتی ہوں میرے گھر میں جمعرات کا دن انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ گزرتا ہے،اس دن ریکارڈنگز اور مہمانوں کی آمد ہوتی ہے۔ میزوں پر سجی ہوئی گھر میں بنی ہوئی لذیذ غذاؤں کے ساتھ مکمل انتظامات ہوتے ہیں۔ عام طور پر میری مہمان نوازی بھی بہت مشہور ہےلیکن ایک دن میں نے اپنے آپ کو پریشانی کے دہانے پر کھڑا پایا جب غیر متوقع حالات کی وجہ سے میری باورچی کو جانا پڑا۔ ریکارڈنگ سے چند گھنٹے پہلے سب کچھ تیار کرنے کا کام ناممکن لگ رہا تھا۔پھر، ایک لمحے میں مجھے سمجھ آگئی۔ کیا یہ تبدیلی میرے اندرونی سکون کو خطرے میں ڈالنے کے قابل ہے؟ جواب ایک واضح "نہیں” تھا۔ یہ واقعہ ایک turning point بن گیا – جبکہ زندگی کی مشکلات ناگزیر ہیں، ان پر ہمارا ردعمل ہی ان سے نمٹنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ آپ ایک قریبی دوست کے بارے میں سوچیں جو رومانوی تعلقات میں ناکامی سے بہت مایوس تھا۔ سماج میں جنس کی بنیاد پر تعصب کے احساس نے اسے کافی پریشان کیا۔ ایسے پرانے سماجی تصورات مایوسی اور خود کو مورد الزام ٹھہرانے کے سلسلے کو برقرار رکھتے ہیں جب توقعات پوری نہیں ہوتیں۔ تاہم، مظلوم کا کردار ادا کرنے سے ہماری پریشانی ہی بڑھتی ہے۔سچی لچک اس بات کو تسلیم کرنے میں ہے کہ ہر مشکل ہمارے کنٹرول میں نہیں ہوتی ہے۔ غیر متوقع حالات زندگی کا حصہ ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنا فوکس خود پر ترس کھانے سے ہٹا کر خود کو بااختیار بنانے پر لگائیں، اور اپنی حدود اور پریشان کرنے والی باتوں کو نظر انداز کریں۔

    لہذا من کی تربیت (Mindfulness) کی مشقوں جیسے مراقبہ، زندگی کے ہنگامے کے درمیان پناہ گاہ فراہم کرتی ہیں۔ غیر جانبدار مشاہدے کو لے کر ہم اپنے اندرونی دنیا میں قیمتی بصیرت حاصل کرتے ہیں، خیالات، جذبات اور رویوں کے باہمی تعلق کو سمجھتے ہیں۔ غور و فکر کے ذریعے، ہم اندرونی سکون کے پوشیدہ ذخائر کو نکالتے ہیں، اپنے آپ کو مضبوط بناتے ہیں چاہے باہر طوفان ہی کیوں نہ آئے۔سکون ایک قابلِ حصول مقصد ہے – یہ ایک رہنما چراغ ہے جو ہمیں زندگی کے طوفانوں سے گزارتا ہے، اور اندرونی امن کی راہ روشن کرتا ہے۔ جیسا کہ مصنف تان ٹوان انگ نے خوبصورت الفاظ میں کہا ہے،کائنات کی وسعتوں کے درمیان، ہمیں اپنے وجود کی عارضی نوعیت میں سکون ملتا ہے۔لہذا، اگلی بار جب زندگی آپ کو مشکل میں ڈالنے کی کوشش کرے تو ، یاد رکھیں آپ کے پاس اپنا ردعمل منتخب کرنے کا اختیار ہے۔ لچک پیدا کریں، ذہن سازی کو اپنائیں، اور سب سے بڑھ کر، اس علم میں سکون حاصل کریں جو طوفان کے درمیان بھی سکون کا منتظر ہے۔

  • روشن گھرانہ پروگرام کے تحت مفت سولر پینل حاصل کرنے کا مکمل طریقہ

    روشن گھرانہ پروگرام کے تحت مفت سولر پینل حاصل کرنے کا مکمل طریقہ

    پنجاب میں روشن گھرانہ پروگرام کے تحت مفت سولر پینل حاصل کرنے کا مکمل طریقہ کار جانیں

    پہلے مرحلے میں 50,000 خاندان ایک (KV) کلو واٹ سولر سسٹم حاصل کر سکیں گے۔اس سکیم کا پہلا مرحلہ شروع ہوچکا ہے،پہلے مرحلے میں وہ خاندان مستفید ہو سکیں گے جو گزشتہ چھ ماہ سے ماہانہ 100 یونٹ تک بجلی خرچ کر رہے ہیں، پہلے مرحلے میں صرف 50 ہزار خاندان ہی سولر سسٹم حاصل کر سکیں گے، اس لیے اگر حکومت کو سولر سسٹم حاصل کرنے کے لیے 50 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوتی ہیں تو پھر 50 ہزار خوش نصیبوں کو منتخب کرنے کے لیے قرعہ اندازی کی جائے گی۔

    کون سے افراد درخواست دینے کے اہل ہیں؟
    1. اسکیم سے مستفید ہونے کے لیے خاندانوں کا تعلق پنجاب سے ہونا چاہیے۔
    2. جن خاندانوں کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ نہیں ہے وہ اس سکیم سے مستفید نہیں ہو سکیں گے۔
    3. سرکاری ملازمین اس اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔
    4. اگر کسی خاندان کے پاس پنجاب شناختی کارڈ ہے لیکن وہ کسی دوسرے صوبے میں مقیم ہے تو وہ بھی اس سکیم سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
    5. صرف وہی خاندان اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے جن کے پاس پچھلے چھ ماہ سے بجلی کا بل ہے ۔

    کون سے دستاویزات آپ کے پاس ہونے چاہیے؟
    1. آپ کے شناختی کارڈ کی کاپی۔
    2. پراپرٹی پاور دستاویزات یا جائیداد کے مالک سے اجازت نامہ۔
    3. بجلی کے حالیہ بل۔
    4. ماہانہ آمدنی کا ثبوت

    رجسٹریشن کا طریقہ کار
    1. سب سے پہلے، اپنی قریبی بینک آف پنجاب برانچ پر جائیں۔
    2. برانچ میں جانے کے بعد، وہاں کے نمائندے سے روشن گھرانہ اسکیم کا رجسٹریشن فارم حاصل کریں۔
    3. رجسٹریشن فارم حاصل کرنے کے بعد، فارم کے اندر تمام مطلوبہ معلومات پُر کریں۔
    4. فارم پر تمام ضروری معلومات کو پُر کرنے کے بعد، ضروری دستاویزات کی ہارڈ کاپیاں رجسٹریشن فارم کے ساتھ منسلک کریں۔
    5. ضروری دستاویزات کی کاپیاں منسلک کرنے کے بعد درخواست فارم واپس نمائندے کو جمع کروائیں اور آپ کی رجسٹریشن کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔

    واضح رہے کہ ” بجلی بل سے نجات روشنی کے ساتھ“،پنجاب میں 50ہزارگھرانوں کو ون کے وی سولر سسٹم دینے کی اصولی منظوری دی گئی تھی،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے فوری طور پر پائلٹ پراجیکٹ شرو ع کرنے اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل سولر سسٹم انسٹال کرنے کی ہدایت کی،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے مختلف گھروں میں ون کے وی سولر سسٹم لگا کر افادیت کا جائزہ لینے کا حکم دیا۔وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں ایک کلو واٹ کے سولر سسٹم پر ٹیکنیکل امور پربریفنگ میں بتایا گیا کہ 100یونٹ تک بجلی خرچ کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین اہل ہونگے۔ ون کے وی سسٹم میں، دو سولر پلٹیں،بیٹری، انورٹر،تاریں دی جائیں گی۔ ون کے وی سولر سسٹم سے پنکھے، لائٹیں، چھوٹی موٹر وغیر چلائی جا سکے گی۔ لتھیم آئرن بیٹری کے ذریعے 16گھنٹے تک بیک اپ حاصل کیا جا سکے گا۔ اجلاس میں بہترین کوالٹی کی سولر پلیٹس، انورٹر،بیٹریاں اور دیگرسامان استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ گھریلو صارفین کیلئے سولر سسٹم کا دائرہ کار بتدریج بڑھایا جائے گا۔ روشن گھرانہ پروگرام کا مقصدغریب آدمی کو مہنگی بجلی سے نجات دلانا ہے۔

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری