Baaghi TV

Category: متفرق

  • چھتر بلوچستان کا ”کچا“علاقہ،ایس ایچ او  شہریوں کے بجائے اپنی جان بچانے کی فکر میں

    چھتر بلوچستان کا ”کچا“علاقہ،ایس ایچ او شہریوں کے بجائے اپنی جان بچانے کی فکر میں

    نصیر آباد کا کمشنر ، ڈی آئی جی، ڈی سی اور ایس ایس پی ”بندوق کے سائے میں“
    چھتر کے دو اسسٹنٹ کمشنرز اور ایک صحافی
    چھتر کا ایس ایچ او شہریوں کے بجائے اپنی جان بچانے کی فکر میں ہوتا ہے

    آغا نیاز مگسی

    ضلع نصیر آباد کا چھتر شہر عام شہریوں خواہ سرکاری افسران کے لیے نو گو ایریا بلکہ سندھ اور پنجاب کے ڈاکوؤں کے ”کچے“ کے علاقہ کی مانند ہے یہاں پر کوئی بھی محفوظ نہیں ہے ۔ گزشتہ 40 سال سے بلوچستان حکومت چھتر کے علاقہ کو محفوظ علاقہ نہیں بنا سکی اور نہ ہی یہاں پر اسسٹنٹ کمشنر کو اس کے دفتر میں بٹھا سکی ہے ما سوائے دو اسسٹنٹ کمشنرز کے ۔ 1995 میں سردارزادہ سرفراز احمد ڈومکی کو اسسٹنٹ کمشنر تعینات کیا گیا۔ وہ پہلے اسسٹنٹ کمشنر تھے جو اپنے دفتر میں بیٹھنے لگے اور اسی دور میں چھتر کی تاریخ کا واحد صحافی میں (آغا نیاز مگسی) تھا جو وہاں ڈیرہ مراد جمالی سے روزنامہ انتخاب حب \کراچی کے نامہ نگار کی حیثیت سے رپورٹنگ کرنے کے لیے گیا جہاں مجھے دیکھ کر چھتر کے مکین حیران ہو گئے میں نے سرفراز خان ڈومکی سے ملاقات کر کے وہاں کی انتظامی صورتحال کا جائزہ لیا اور اس کے بعد مجید شاہ کہیری کے ساتھ چھتر شاہ کا جائزہ لیا اور یہاں کے شہریوں کے مسائل معلوم کیے۔ چھتر کے شہریوں نے مجھے ایک مرشد کی طرح کا احترام اور پروٹوکول دیا تھا اور وہ رات میں نے وہاں قیام کیا تھا ۔ سرفراز خان ڈومکی نے اپنے والد سردار چاکر خان ڈومکی کی وفات پر اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے سے استعفی دے دیا اور اپنے والد کی جگہ ڈومکی قبیلے کا سردار بنا ۔ سردار سرفراز خان اس وقت بلوچستان کے صوبائی وزیر بلدیات ہیں ۔ سردار سرفراز کے کافی عرصہ بعد محمد عظیم عمرانی دوسرے اسسٹنٹ کمشنر تھے جو وہاں اپنے دفترمیں بیٹھنے لگے اس کے بعد آج تک دوسرا کوئی اسسٹنٹ کمشنر چھتر میں نہیں بیٹھ سکا ہے .

    وہاں کے امن و امان کی صورتحال اور خوف کا یہ عالم ہے کہ نصیر آباد کے کمشنر،ڈپٹی کمشنر، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی سخت سیکورٹی اور پیرا ملٹری فورس کے تعاون کے بغیر چھتر کا ”وزٹ“ تک نہیں کر سکتے ۔ چھتر کا ایس ایچ او مقرر ہونا اپنی موت کے وارنٹ پر دستخط کرنے کے مترادف ہے چناںچہ چھتر کا ایس ایچ او شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی بجائے ہر وقت اپنی جان بچانے کی فکر میں رہتا ہے ۔ چھتر اور اس کے گرد و نواح کے شہری ایف سی \پیراملٹری فورس کی وجہ سے وہاں مقیم ہیں ورنہ چھتر کا علاقہ عام شہریوں کی آبادی سے خالی اور کچے کی طرح ڈاکوؤں کی آماجگاہ بن چکا ہوتا ۔ جس علاقے کا اسسٹنٹ کمشنر اپنے دفتر نہیں بیٹھ سکتا اور جہاں کا کمشنر، ڈی آئی جی، ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی بندوق کے سائے میں کئی سال بعد ایک دو گھنٹے کا وزٹ کر کے آئے تو اس علاقہ کے مکینوں کی زندگی کس طرح گزرتی ہے اس صورتحال کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے ۔

    بلوچستان سے بگٹی قبیلے کے کچھ افراد کچے کے ڈاکوؤں سے لڑنے کے لیے گئے ہیں ان سے پوچھا جائے کہ وہ چھتر کو ڈاکوؤں سے کب خالی کرائیں گے .؟

  • اسلام میں مزدور کے حقوق اور حیثیت، تحریر:حیدرعلی صدیقی

    اسلام میں مزدور کے حقوق اور حیثیت، تحریر:حیدرعلی صدیقی

    @HWriter27672

    زندگی مختلف شعبوں کا مجموعہ ہے، اور یہ شعبے ایک دوسرے سے باہم یوں جڑے ہوئے ہیں کہ ہر شعبہ جتنا بھی ترقی کا سفر طے کرے لیکن کسی نہ کسی موڑ پر وہ دوسرے شعبہ کا محتاج ضرور رہتا ہے۔ ایسے ہی ایک شعبہ مزدور طبقے کا بھی ہے، ہم میں سے کون نہیں جانتا کہ مزدور کے بغیر اسکی زندگی کیسے گزر سکتی ہے! مزدور کی ضرورت اور اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ ہم کتنے ہی کامیاب اور کروڑ پتی کیوں نہ ہوجائے لیکن ہمارا کوئی بھی کام مزدور کے بغیر چل نہیں سکتا۔ ایک متوسط فرد سے لے کر بڑے سے بڑے افسر اور بیوروکریسی تک زندگی کے ہر شعبے سے وابستہ فرد مزدور کا محتاج ہے۔ اب بنیادی بات یہ ہے کہ مزدور طبقہ کی اس ضرورت اور اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں خود سے پوچھنا ہے کہ کیا ہم مزدوروں کے ساتھ وہ سلوک اور رویہ اختیار کرچکے ہیں جو مذہب اور انسانیت کا تقاضا ہے؟ اگر جواب نہیں میں آئے تو لامحالہ ہمیں مزدور کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

    مزدور طبقہ عام انسانوں پر مشتمل ہے، انکی تخلیق میں کوئی جسمانی اور ذہنی کمی نہیں ہے سوائے اسکے کہ مزدور لگژری زندگی سے بہت دور ہیں اور انکے بعض افراد تو خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ جدید دنیا اور انسانی حقوق کے اداروں کے ہوتے ہوئے بھی مزدوروں کے ساتھ جو سلوک اپنایا گیا ہے، اس سے بعض اوقات گمان ہوتا ہے کہ شاید یہ انسان بھی نہیں اور نہ انھیں راحت و آرام کی زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ مزدور کو کمتر سمجھنے اور اسکا معاشی استحصال کرنے میں ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ہم میں سے ہر کوئی مزدور سے زیادہ سے زیادہ کام حاصل کرنے کا خواہش مند ہے لیکن معاوضہ بھی ہم اپنی پسند کا دیتے ہیں جس سے مزدور زندگی کی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں کرسکتا۔

    ہم انکی عام اجرت میں زائد وقت کا کام بھی لیتے ہوئے اسے مجبور کرتے ہیں اور انکار کی صورت میں اسے کام سے فارغ کرنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ مزدور سے اسکی طاقت سے زیادہ کام لینا گویا ہمارے لیے فخر کی بات ہے، لیکن اجرت دیتے وقت ہمارا انداز یہ ہوتا ہے جیسے ہم اس پر احسان کررہے ہیں۔

    آج دنیا میں یوم مزدور منایا جاتا ہے، سارے سرمایہ دار چھٹی انجوائی کرتے ہیں لیکن کسی نے جاننے کی کوشش کی ہے کہ اس دن مزدور بھی چھٹی کرلیتے ہیں یا کام کرتے ہیں؟ مزدور کے ساتھ یکجہتی کےلیے چھٹی منانا اچھی بات ہے لیکن یہ جاننے کےلیے ہم نے کبھی کوشش کی کہ مزدور کو اسکے حقوق میسر ہیں بھی کہ نہیں؟
    اسلام نے مزدور و مالکان دونوں کے فرائض کو واضح طور بیان کردیا ہے اور ہر ایک کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنے فرائض کی ادائی میں کوتاہی نہ کریں۔ اسلام نے مزدوروں کو ان کا جائز حق دیا اور مالکان کو پابند کیا کہ مزدوروں کو کم تر نہ سمجھیں، اگر مزدور سے کام لیا جائے تو اسکو اس کا حق فوراً دے دے۔

    اسلام نے مزدور کا جو تصور دیا ہے وہ اقوام عالم کےلیے مشعل راہ ہے۔ مزدور کے بابت اسلام نے جو رہنمائی کی ہے اگر اسکو عملی کیا جائے تو مزدور کا حق ضائع نہ ہوگا اور اسی طرح وہ اپنے کام کو خوب محنت اور ایمانداری سے پورا کرے گا، یوں مزدور اور مالک دونوں مطمئن رہیں گے۔ اسلام کا نقطۂ نظر یہی ہے کہ مزدور افراد تمہارے ہی ہم شکل، ہم جنس اور تمہارے بھائی ہیں، بات اتنی ہے کہ اللہﷻ نے انھیں آپ کا ماتحت بنادیا ہے، سو جو آپ کھاتے ہیں وہ انکو بھی کھلائیں! اور جو آپ پہنتے ہیں وہ انکو بھی پہنائیں! اور اس سے اسکے وقت اور طاقت سے زیادہ کام نہ لیں! اگر لینا ہے تو اسکی مدد کریں! اور زائد وقت کی مزدوری بھی دیں!

    اسلام کا مندرجہ بالا اصول کتنا زبردست اور واضح ہے! مگر کیا ہم اس کو عملی کرنے کی کوشش کریں گے؟اسلام کا حکم ہے کہ مزدور کو اسکی مزدوری اسکا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کیا جائے لیکن ہماری صورتحال کیا ہے؟ اسکا ہم سب کو بخوبی اندازہ ہے۔ حضور اکرمﷺ کے ارشاد گرامی کا مفہوم ہے کہ قیامت کے دن جن تین افراد کے خلاف میں مدعی بنوں گا ان میں ایک وہ شخص ہے جو مزدور سے کام تو پورا لے لیکن اسکی مزدوری پوری نہ دے یا کم دے یا بغیر کسی عذر کے اس میں تاخیر کرے۔
    مزدور کے ذمہ کچھ فرائض مذہبی بھی ہیں جن کو ادا کرنا اس پر لازم ہے، اسلام کے رو سے جس طرح مزدور کو اس کی اجرت کا وقت پر دینا لازم ہے اسی طرح مالکان پر یہ بھی لازم کیا گیا ہے کہ کام کے دوران فرائض و واجبات مثلاً نماز وغیرہ کا وقت آجائے، تو مزدوروں کو اس کی ادائیگی کےلیے وقت اور جگہ فراہم کی جائے۔
    غلطی سے کوئی بھی انسان مبرا نہیں ہے! مزدور سے بھی غلطی سرزد ہوسکتی ہے لیکن اسکو معاف کرنا چاہیے! حدیث کا مفہوم ہے کہ اگر مزدور ستر مرتبہ غلطی کرے تو بھی اسے معاف کریں۔

    مزدور کے متعلق اسلام نے جس طرح مالکان کےلیے ہدایات بیان کی ہے بالکل اسی طرح مزدور کےلیے بھی ہدایات بیان کی ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے مزدور اس امر کا ذمہ دار ہے کہ:
    * وہ اپنا کام معاہدے کے مطابق بروقت ایمانداری اور اخلاق کے ساتھ پورا کرے۔
    * مزدور مالک کے کام کا امانت دار ہے، سو وہ اس بات کا پابند ہے کہ وہ کام اور اسکے متعلق اشیاء کا ایمانداری سے حفاظت کرے، اور اسے کام کے بعد مالک کے حوالے کرے۔ اگر کوئی چیز اتفاقاً خراب ہوجائے تو مزدور پر کوئی تاوان نہیں ہے لیکن اگر مزدور نے اسے قصداً خراب کیا تو اس چیز کا تاوان دے گا۔
    • اگر مزدور مالک کے ہدایت کے خلاف کام کرے اور اس میں کوئی نقصان پیش آئے تو مزدور اسکا تاوان ادا کرے گا۔
    * جتنے دن کےلیے کام کا معاہدہ ہوا ہے تو مزدور کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کام پورا کیے بغیر اس کو چھوڑ دے۔

    اسلام کے یہ رہنمائی کتنی واضح ہے! اس جامع اور رہنما اصولوں کو اپنائے بغیر معاشرے میں مساوات اور خوشحالی کا قیام ناممکن ہے، ان اصول کو اپنانے سے ہی مزدور کا استحصال ختم ہوگا اور مالکان کو ان کا کام پورا ملے گا۔ اب ہماری ذمہ داری یہی ہے کہ مزدور کی روایتی چھٹی منانے کے بجائے زیادہ توجہ اپنے اور مزدوروں کے حقوق اور ذمہ داریوں کو پہچاننے پر دیں اور ان حقوق اور ذمہ داریوں کے مطابق اپنے کاموں کو آگے بڑھائے۔

  • امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    دعوت ولیمہ کا کارڈ موصول ہوا،کارڈ پر والدین کا نام لکھا تھا اور والد و والدہ کے نام کے سامنے مرحوم لکھا تھا، یعنی مرحوم والدین کی طرف سے بیٹے کے ولیمہ میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے، ولیمہ بھی کہاں…وہ بھی "آغوش” میں، یتیم خانے میں،ولیمے کا کارڈ دیکھ کر خوشی ہوتی لیکن یہاں منظر کچھ اور تھا…آںکھوں میں آنسو …سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ ولیمے کا کارڈ….مرحوم والدین کی طرف سے دعوت…آج ہمارے انتہائی پیارے دوست سید امجد حسین بخاری کے والدین اگر حیات ہوتے تو کتنے خوش ہوتے…بخاری صاحب نے زندگی کی تین دہائیاں گزار دیں، چوتھی دہائی میں آ کر شادی کے بندھن میں بندھ گئے ..دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انکی نئی شروعات کو کامیابی سے ہمکنار کرے، آمین

    سید امجد حسین بخاری کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں، صحافی بننے کا جنون انہیں لاہور لے آیا، میدان صحافت میں وہ معاشرے میں ہونے والی ناانصافیوں، زیادتیوں کا مقابلہ کرنے اور حق کا علم بلند کرنے کے لئے آئے،غائبانہ تعارف تو تھا ہی لیکن گزشتہ برس لاہور سے سوات سفر ایک ساتھ کیا اور تین دن ہمسفر رہے، وہ تین دن کا سفر ایسی "یاری” میں بدلا کہ اب شاید کوئی ہفتہ ایسا نہیں گزرتا جب چائے،کھانے پر ان سے ملاقات نہ ہو، بیٹھ جائیں تو گھنٹوں بیٹھ کو گپ شپ کرتے ہیں،اور کئی بار تو چائے کے بھی تین چار دور چل جاتے ہیں، میری طرح میٹھا کم اور پتی تیز چائے پینے والے چائے کے”نشئی” بھی ہیں،ہماری ملاقات اکثر ایسے ہی ہوتی..سر چائے…اور اگلے چند منٹوں بعد ساتھ بیٹھ کر چائے پی رہے ہوتے.

    سید امجد حسین بخاری سے جب بھی ملاقات ہوئی، مسکراتے چہرے کے ساتھ…انتہائی نفیس انسان، ہمدرد،اور انتہائی شریف بھی،باصلاحیت بھی،کبھی انکو”غصے” میں نہیں دیکھا،پروقار شخصیت،عمدہ بات چیت، مشکلات کو بھی خاموشی سے سہنے والے، دوسروں کی ہمیشہ مدد میں سب سے آگے رہنا انکا شیوہ ہے،وہ جس سے بھی ملتے ہیں پہلی ملاقات میں ہی "دوستی” کا نہ ٹوٹنے والے رشتہ قائم ہو جاتا،میں حیران ہوں کہ ہاسٹل میں جب بھی انکے پاس گیا ہر بار اک نیا چہرہ، نیا دوست ملا اور یوں اپنی دوستیوں کا سلسلہ بھی سید امجد حسین بخاری کے توسط سے ہی وسیع تر ہوتا چلا گیا،وہ اپنے دوستوں کو دوست سے زیادہ بھائیوں جیسی اہمیت دیتے ہیں،انکے دل میں دوستوں کے لئے "غیر معمولی تڑپ” نظر آتی ہے،اپنی نوکری گئی لیکن پریشان نہ ہوئے البتہ دوسرے بے روزگار دوستوں کے لئے ہروقت پریشان نظر آئے،زندگی میں دوست کی اہمیت کا اندازہ مشکل میں ہی ہوتا ہے، دوست وہی ہوتا ہے جو مشکل میں جان چھڑانے کی بجائے اپنوں سے بھی آگے ہو کر مضبوط سہارا بن کر ساتھ دے، سید امجد حسین بخاری ایسے ہی دوست ہیں جن کو خود سے زیادہ دوستوں کی فکر ہی رہتی ہے، اسی فکر میں انہوں نے تین دہائیاں‌گزار دیں اور اب کہیں چوتھی دہائی میں بھی ہماری بھابھی محترمہ کو بھی "بخاری صاحب ” کا دیدار نصیب ہو گیا جس کا بڑی شدت سے سب کو انتظار تھا.

    ہمارے دوست سید امجد حسین بخاری کی شادی کیسے طے پائی؟ دوستوں کی دعائیں ہی رنگ لائیں،خصوصی طو رپر برہان کی جو ابھی بھی شادی کے انتہائی شدت سے شادی کا لڈو کھانے کے لئے بیتاب ہیں،نکاح کی تقریب لاہور میں ہوئی تو ولیمہ آغوش شیخوپورہ میں رکھا گیا، آغوش جماعت اسلامی کے رفاہی ادارے الخدمت فاؤنڈیشن کا ادارہ ہے جس میں یتیم بچوں کی کفالت کی جاتی ہے، الخدمت فاؤنڈیشن کے ملک کے کئی شہروں میں "آغوش” موجود ہیں،جہاں یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے،خوراک، صحت کی مفت سہولیات بھی انکے لئے میسر ہیں، مخیر حضرات کے تعاون سے الخدمت فاؤنڈیشن یہ پروگرام چلا رہی ہے، ملک بھر میں قائم الخدمت کے آغوش میں ہزاروں یتیم بچے مقیم ہیں، یتیم بچوں کی کفالت بلا شبہہ نیکی کا کام ہے اور اس خدمت کا بیڑہ الخدمت نے اپنے سر اٹھایا ہوا ہے، دعوت ولیمہ میں‌شرکت کے لئے لاہور سے دوستوں مخدوم اطہر صاحب، نوید شیخ، ندیم انجم کے ہمراہ نکلے اور شیخوپورہ میں قائم آغوش پہنچ گئے، آغوش شیخوپورہ کا رقبہ سترہ ایکڑ پر مشتمل ہےیہ جگہ شیخ افضل نے یتیم بچوں کے لئے وقف کی تھی،آغوش شیخوپورہ میں یتیم بچوں کے لئے رہائش کے ساتھ ساتھ تعلیم کا انتظام بھی کیا گیا ہے، سکول بھی آغوش میں ہی موجود ہے، جہاں دینی و دنیوی تعلیم دی جاتی ہے،آغوش مرکز میں مسجد بھی بنائی گئی ہے جہاں باجماعت نماز کی ادائیگی ہوتی ہے، بچوں کی جسمانی تربیت کے لئے پلے گراؤنڈ بھی بنایا گیا ہے جہاں انہیں کھیل کی سہولیات بھی میسر ہیں،الخدمت فاؤنڈیشن سے ملنے والی معلومات کے مطابق آغوش ادارے میں پانچ سال سے لے کر چودہ سال تک کے بچے رہائش پزیر ہیں، صبح بچے نماز کے وقت اٹھتے ہیں، باجماعت نماز کی ادائیگی کے بعد ناشتا اور اسکول کی تیاری کا مرحلہ ہوتا ہے۔ بعد ازاں بچے اسکول جاتے ہیں، ہر بچے کو دوسرے روز کپڑے تبدیل کرائے جاتے ہیں، اس کے علاوہ ہر بچے کو تولیہ، صابن، ٹوتھ پیسٹ، کنگھی، تیل اور ضروریات زندگی کی دیگر اشیاء فراہم کی جاتی ہیں،اسکول کے بعد بچوں کے لیے کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ دوپہر میں کچھ وقت آرام کے بعد بچے شام کی چائے پیتے اور کھیل کود میں وقت گزارتے ہیں جس کے بعد اساتذہ انھیں ہوم ورک کراتے ہیں،دن بھر کے اوقات میں پانچ باجماعت نمازیں پڑھائی جاتی ہیں جن میں درس قرآن اور درس حدیث بھی شامل ہوتے ہیں۔ رات کھانے کے بعد بچوں کو پینے کے لیے دودھ دیا جاتا ہے،بچوں کی حفظان صحت کے لیے ایک ڈاکٹر ہمہ وقت ادارہ میں موجود رہتا ہے جو بچوں کا باقاعدگی کے ساتھ معائنہ کرتا ہے.کھانے کے لئے ابھی ہفتہ وار مینو بنایا گیا ہے جس میں بچوں کو ناشتے و کھانے میں گوشت، قیمہ، پلاؤ سمیت مختلف ڈشز دی جاتی ہیں.

    ولیمہ کی تقریب میں مہمانوں کی آمد جاری تھی، دولہا سید امجد حسین بخاری دلہن کے ہمراہ مہمانوں سے قبل ہی مہمانوں کا انتظار کر رہے تھے، دعوت ولیمہ میں ترجمان جماعت اسلامی قیصر شریف، شمس الدین امجد، فرید رزاقی، کاشف بھٹی، خالد شہزاد فاروقی، سید بدر سعید، نورالہدیٰ، احمدبن ناصر، برہان ،شہزاد روشن گیلانی و دیگر بھی شریک ہوئے، دعوت ولیمہ میں خاص مہمان آغوش کے یتیم بچے تھے، ہال میں یتیم بچوں کو دیگر مہمانوں کے ہمراہ بٹھایا گیا، دولہا سید امجد حسین بخاری کالے رنگ کے پینٹ کورٹ میں ملبوس،چہرے پر مسکراہٹ سجائے مہمانوں سے مل رہے تھے وہیں کھانا شروع ہوا تو دولہا سید امجد حسین بخاری اٹھے اور بچوں کے میز پر جا کر دلہن کے ہمراہ انکو کھانا ڈال کر دینے لگے، چکن قورمہ، بریانی کے ساتھ مہمانوں کی تواضع کی گئی، اسی دوران یتیم بچوں میں دولہا اور دلہن نے گفٹ بھی تقسیم کئے.

    عموما شادی کی تقریبات میں فضول خرچی، بے جا اخراجات اور خواہ مخواہ کی رسومات دیکھنے میں‌ملتیں لیکن یہاں ہمارے دوست کی شادی کی تقریب انتہائی سادگی سے ہوئی، آغوش میں دعوت ولیمہ دے کر سید امجد حسین بخاری نے ایک عمدہ مثال قائم کر دی،تحریک لبیک کے امیر حافظ سعد حسین رضوی کی شادی ہوئی تھی تو انہوں نے بھی اپنا ولیمہ یتیم خانے کے بچوں کے ہمراہ کیا تھا، سید امجد حسین بخاری نے بھی اپنا دعوت ولیمہ آغوش میں کر کے نہ صر ف ولیمے کے شرکا بلکہ سب کو پیغام دیا کہ اپنی خوشیوں میں انکو بھی شریک کرنا چاہئے جن کے والدین اس دنیا میں نہیں، سید امجد حسین بخاری کے والدین کی بھی رب تعالیٰ مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین.

    امجد بخاری صاحب تو اب شادی شدہ افراد کی صف میں شامل ہو گئے،اب برہان کی باری ہے، دعا ہے جلد وہ بھی اپنے مشن میں کامیاب ہوں اور جلد انہیں بھی "گھر” والی مل جائے، آمین.

    شادی کے بعد امجد بخاری نے دعوت ولیمہ کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ 28اپریل کو میری اور سیدہ نجمہ گیلانی کی جانب سے دعوت ولیمہ کی سادہ مگر پروقار تقریب سجائی گئی، ہم دونوں نے اس تقریب میں کسی وی وی آئی پی شخصیت کو نہیں بلایا بلکہ ہمارے مہمان باہمت بچے تھے۔ ولیمہ کی تقریب کسی پرتعیش ہوٹل یا شادی ہال میں سجانے کی بجائے الخدمت کے آغوش ہال میں منعقد کی گئی۔ بیگم کی خواہش پر ہم دونوں نے بچوں کا استقبال خود کیا، ویٹر بن کر انہیں کھانا سرو کیا۔ یقین جانیں بچوں کی جانب سے ملنے والی دعائیں اور نیک خواہشات ہمیں ولی کامل کی مناجات سے زیادہ سکون دے رہی تھیں۔ انکی جانب سے ہمیں قرآن کا تحفہ اور پھول لاکھوں روپے کی سلامیوں سے زیادہ قیمتی لگے۔ اس تقریب کے دو ہی مقاصد تھے، پہلا مقصد باہمت بچوں کی حوصلہ افزائی کرنا جبکہ دوسرا مقصد ان 2کروڑ سے زائد نوجوانوں کی ہمت بڑھانا جوکہ مہنگائی کے طوفان میں شادیاں کرنے سے قاصر ہیں۔ اس تقریب کے انعقاد سے اگر کوئی ایک نوجوان جوڑا بھی فصول رسومات کیخلاف کھڑا ہو جاتا ہے تو یقینا یہ میری اور نجمہ کی کامیابی ہے۔

  • پاک ایران بیان میں کشمیر کا ذکر اور بھارت کا ردعمل

    پاک ایران بیان میں کشمیر کا ذکر اور بھارت کا ردعمل

    پاک ایران بیان میں کشمیر کا ذکر اور بھارت کا ردعمل
    ایک حالیہ مشترکہ بیان میں پاکستان اور ایران نے مسئلہ کشمیر پر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق پرامن طریقوں سے اس کے حل پر زور دیا، یہ اعلان ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے پاکستان کے دورے کے بعد سامنے آیا ہے۔ تاہم، بھارت نے اس پیش رفت پر فوری رد عمل کا اظہار کیا بھارتی وزرات خارجہ کے ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ نےایرانی حکام سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے خدشات سامنے رکھے،

    بیان میں ابھرتی ہوئی علاقائی اور عالمی حرکیات کو تسلیم کیا گیا، مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا۔ تاہم، بھارت کا ردعمل مسئلہ کشمیر سے جڑی پیچیدگیوں اور کشمیریوں کے حقوق کو مساوات سے نکال کر علاقائی استحکام پر اس کے وسیع تر مضمرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
    بھارت کی پالیسیوں، دفعہ 370 کی منسوخی اور 2019 میں شہریت ترمیمی قانون سی اے اے کے نفاذ، نے ملکی اور بین الاقوامی دونوں طرح کی بحثوں کو ہوا دی ۔ سی اے اے مذہبی اقلیتوں کو خاص طور پر مسلمانوں کو چھوڑ کر بھارتی شہریت کی پیشکش کرتا ہے، اور اس نے بھارت کے آئین میں درج سیکولرازم اور شمولیت کے اصولوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔

    ناقدین کا استدلال ہے کہ سی اے اے، جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی اور ایودھیا کے فیصلے کے ساتھ، بھارتی حکمرانی میں ہندو قوم پرستی کے وسیع تر رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات ہندوستان کے سیکولر تانے بانے کو کمزور کرتے ہیں اور اس کی مسلم آبادی کو پسماندہ کرتے ہیں، ان پالیسیوں کا مجموعی اثر، جسے ہندو قوم پرستی کی عینک سے دیکھا جاتا ہے، بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کی سمت کے بارے میں تشویش پیدا کرتا ہے۔ ان پیشرفتوں کے ارد گرد بیانیہ خصوصیت پسند نظریات کی طرف ایک تبدیلی کی تجویز کرتا ہے، جو ممکنہ طور پر فرقہ وارانہ کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے اور ہندوستان کی سیکولر اخلاقیات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
    خلاصہ یہ کہ پاکستان اور ایران کے مشترکہ بیان میں کشمیر کے تذکرے پر بھارت کا ردعمل مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت میں تبدیلی اور اس کے اندر "شہریت” کی اصطلاح کی تشریح کو نظر انداز کرتا ہے۔

    یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کی کوئی بھی مہذب قوم مذہب کی بنیاد پر شہریت کی اجازت دیتی ہے؟ اس بنیادی سوال کے جواب کے لیے ’شہری‘ کی تعریف کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔
    "شہری – ایک آزاد شہر کا ایک رکن… تمام حقوق کا حامل ہے جو اس کے آئین کے تحت کوئی بھی فرد حاصل کرسکتا ہے۔”
    آرٹیکل 370 اور 35-A کو ختم کرنے سے اصل شہریوں کو ان کی اپنی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل کر دیا گیا ہے جس کی روشنی میں بھارتی حکومت متنازعہ علاقے میں ہندوؤں کو آباد کر رہی ہے۔

  • جوتے وہی اچھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔      آغا نیاز مگسی

    جوتے وہی اچھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آغا نیاز مگسی

    دنیا میں ایسا کوئی شخص وہ مرد ہو خواہ عورت بوڑھا ہو یا بچہ غریب ہو یا امیر جوتوں کی خواہش سب کو ہوتی ہے اور یہ سب کی ضرورت ہے موت اور زندگی کی طرح جوتے بھی ہر اس انسان کے لیے ضروری ہوتے ہیں جس کے پاں سلامت ہوں اگر ایک پیر والا ہے وہ بھی اپنے لیئے ایک جوتا رکھتا ہے اگر خدانخواستہ کوئی دونوں پاؤں سے معذور یے تو پھر اسے جوتوں کی ضرورت اور خواہش نہیں ہوتی۔

    جوتے سستے بھی اور انتہائی مہنگے بھی ہوتے ہیں کس کے نصیب میں کیسے جوتے ہوتے ہیں یہ ہر ایک کے مقدر کی بات ہوتی ہے ،جس کو جوتوں کا شوق ہو تو پھر پتہ نہیں وہ کیسے جوتے حاصل کر لیتے ہیں ہمارے یہاں عام طور پر ملٹی نیشنل کمپنی باٹا اور سروس کے اور مقامی لیول پہ پشاور کے پشاوری چپل کوئٹہ کے نوروزی اور سعادت اور ملتان کے ملتانی کھسے بہت مشہور ہیں یہاں تک تو بات ٹھیک ہے لیکن اگر کسی غریب کو جوتے لینے یا خریدنے کی سکت نہ ہو تو وہ جوتے چرانے پر مجبور ہو جاتا ہے اور مسلمانوں کے معاشرے میں جوتے چرانے کی آسان ترین جگہ مساجد اور اولیائے کرام کے مزارات و درگاہیں اور شادی بیاہ اور دعوت ولیمہ جیسی تقریبات ہوتی ہیں نمازی حضرات کے جوتے جتنے مہنگے اور قیمتی ہوتے ہیں مسجد میں نماز پڑھتے وقت اس کی توجہ جوتوں کی طرف بھی ہوتی ہے کہیں چوری نہ ہو جائیں ۔

    متحدہ ہندوستان میں ریاست بہار کی رانی اندرا دیوی بہت قابل اور ذہین اور با صلاحیت حکمران عورت تھی اس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ برصغیر کی پہلی عورت تھی جس نے یوگا کی تربیت حاصل کی تھی اور بعدمیں استاد کی حیثیت سے اپنے شاہی خاندان کے افراد کو بھی سکھاتی تھی لیکن اس کو جوتوں کا جنون کی حد تک شوق تھا اس دور میں اٹلی میں جوتے بنانے کا ایک ماہر سیلیٹور فریگامو کے جوتے دنیا بھر میں مشہور تھے اس کی خواہش نے بھی انگڑائی لی اور شاہی فرمان جاری کر دیا کہ اس کو میرے دربار میں لایا جائے چناچہ اس کو اٹلی سے لایا گیا اندرا دیوی نے اس سے کہا کہ مجھے ایسے جوتے چاہیئے جو آج تک دنیا بھر میں کسی عورت نے نہ پہنے ہوں فریگامو سوچ میں پڑ گیا اور اس نتیجے پرپہنچا کہ آج تک کسی عورت نے ہیرے اور جواہرات سے جڑے جوتے نہیں پہنے ہیں جس پر رانی نے خوش ہو کر اس کو اپنے لیئے ایسے 600 جوتے تیار کرنے کا حکم دیا اور وہ سارے جوتے ہیروں جواہرات سونے اور نایاب پتھروں سے بنائے گئے ایسے مہنگے اور قیمتی جوتوں کا سن کر ملکہ برطانیہ حسرت سے آہ بھر کر رہ گئی کیونکہ وہ ایسے جوتے نہیں خرید سکتی تھی ان کے ملک میں احتساب کا خوف ہے

    جب جوتوں کی بات چل ہی نکلی ہے تو جدید دور کی موجودہ اکیسویں صدی میں مشہور شخصیات اور حکمرانوں پر نفرت کے اظہار کے طور پر جوتے پھینکنے کا خطرناک رواج چل نکلا ہے جس کی ابتداء عراق کے ایک صحافی المنتظری نے دنیا کے طاقتور ترین حکمران سپر پاور امریکہ کے صدر جونیئر بش پر یکے بعد دیگرے دو جوتے پھینک کر کی اور پھر یہ سلسلہ دنیا بھر میں چل نکلا ہے اور یہ جوتے پاکستان کے حکمرانوں تک بھی پہنچ گئے،جوتوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا رواج خواتین نے شروع کیا ، ہمارے ملک کے نیوز چینلز پر آئے دن ایسے مناظر دکھائے جاتے ہیں جن میں خرانٹ قسم کی بہادر اور باہمت خواتین اور لڑکیاں آوارہ اوباش اور لفنگے اور چھیڑ چھاڑ کرنے والے مرد اور لڑکوں کو جوتوں سے ٹھکائی کرتے ہوئے دکھائے جاتے ہیں ، نفرت کے طور پر کسی معتوب شخص کو جوتوں کے گلے میں ہار بھی پہنائے جاتے ہیں تو کسی کے سر پر برسائے جاتے ہیں چنانچہ جوتوں کے شوق اور استعمال میں بڑے احتیاط کی ضرورت ہے خاص طور پر حکمران اور اونچے طبقہ کے لوگ آجکل جوتوں کے خوف میں مبتلاء نظر آتے ہیں کہ کہیں سے کوئی لہراتا ہوا جوتا نہ آجائے اس لیئے جوتے وہی اچھے جو پاؤں میں پہنے یا پہنائے جائیں لیکن گلے میں اور سر پر جوتے پڑنے سے اللہ پاک سب کو محفوظ رکھے تاہم اس سے بچنے کے لیے بہتر کردار کی ضرورت ہے ۔

  • دمشق حملے کے بعد اسرائیل ایران تنازعہ بّڑھ گیا

    دمشق حملے کے بعد اسرائیل ایران تنازعہ بّڑھ گیا

    دمشق حملے کے بعد اسرائیل ایران تنازعہ بّڑھ گیا

    شام کے شہر دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حالیہ اسرائیلی فضائی حملے نے اسرائیل اور ایران کے درمیان دیرینہ تنازعہ بڑھا دیا ہے۔ اس حملے میں سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور کے دو اعلیٰ کمانڈرز بھی شامل تھے، جو شام میں تعینات تھے۔

    یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے ایران اور شام میں خفیہ کارروائیوں کے سلسلے میں تازہ ترین حملہ تھا جس میں ایرانی اہلکاروں، جوہری تنصیبات اور پراکسی گروپوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیل پر خطے میں ایرانی اہداف پر متعدد خفیہ حملے کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس میں ایرانی سائنسدانوں، انجینئروں، اسلامی انقلابی گارڈز کے کمانڈروں کا قتل اور شام میں ایرانی اور حزب اللہ کے اہداف پر حملے شامل ہیں۔

    دمشق میں اسرائیلی حملے کے بعد ایران جوابی کاروائی کی طرف بڑھا اور ایران نے پہلی بار براہ راست اسرائیل پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون داغے۔ یہ تنازعہ میں ایک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جو پہلے پراکسیز کے ذریعے لڑا گیا تھا، جیسے غزہ میں حماس، جسے ایران سے فنڈنگ اور مدد ملتی ہے۔

    اسرائیل پر ایران کا براہ راست حملہ خطے میں وسیع جنگ کے امکانات کے بارے میں خدشات کو جنم دیتا ہے۔ اگر ایران محسوس کرتا ہے کہ اس کا ردعمل کافی ہے تو صورت حال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔ تاہم، اگر اسرائیل نے ایران کے حملے کو کامیاب سمجھا، تو اسرائیل کی جانب سے جوابی کارروائی کا امکان ہے جس کے بعدد ممکنہ طور پر پورے خطے میں جنگ پھیل سکتی ہے

    اسرائیل اور ایران کے درمیان کئی دہائیوں سے تنازع جاری ہے، جس میں وقتاً فوقتاً کشیدگی میں اضافہ ہوتا رہتا ہے،حماس جیسے فلسطینی عسکریت پسند گروپوں کے لیے ایران کی حمایت ایک بڑا تنازعہ رہا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق، ایران فلسطینی عسکریت پسند گروپوں بشمول حماس کو تقریباً 100 ملین ڈالر سالانہ فراہم کرتا ہے۔

    اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے حالیہ حملے میں ایران کی طرف سے داغے گئے 99 فیصد میزائلوں کو ناکارہ بنا دیا ہے، لیکن براہ راست تصادم اس تنازع میں ایک نئے دور کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان براہ راست ڈرون و میزائل حملوں کے تبادلے سے تنازع کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ایران کے اسرائیل پر براہ راست حملے کے مضمرات بہت دور رس ہیں، جس میں ایک وسیع علاقائی جنگ کا امکان ہے جس میں متعدد اداکار شامل ہیں۔ امریکہ، جو تاریخی طور پر اسرائیل کا ایک مضبوط اتحادی رہا ہے، اس تنازعے کی طرف بڑھ سکتا ہے، جو ممکنہ طور پر دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ ایک وسیع تر تنازعے کا باعث بن سکتا ہے۔

  • سعودی وزیر دفاع  کی یوم پاکستان تقریب میں شرکت ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    سعودی وزیر دفاع کی یوم پاکستان تقریب میں شرکت ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    اس میں شک نہیں کہ پاکستان اسلام کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا ہے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ صرف پاکستان ہی واحد ملک ہے جو اسلام کی بنیاد پر قائم ہوا تو یہ بات قابل اصلاح ہے اسلئے کہ سعودی عرب بھی اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے بلکہ قیام پاکستان سے پہلے ہی سعودی عرب منصہ شہود پر آچکا تھا البتہ جب پاکستان کے قیام کی تحریک چلی اور یہ نعرہ لگا کہ ’’ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ ‘‘ تو اس نعرہ کی گونج سعودی عرب تک بھی پہنچی اب چونکہ سعودی عرب بھی کلمہ توحید اور دین کی بنیاد پر قائم ہوا تھا جبکہ ہمارا دین دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک دوسرے کی مدد وحمایت کا حکم بھی دیتا ہے اسی بنیاد پر سعودی عرب کے حکمرانوں نے قیام پاکستان کے مطالبے کی حمایت کی اور جب پاکستان بن گیا تو بھی ہمارے ملک کی ہمیشہ اور ہر مشکل وقت میں مدد وحمایت کی ہے ۔

    سعودی عرب کی پاکستان کے ساتھ جو محبت اور دوستی ہے اس کے اظہار کیلئے 23مارچ یوم پاکستان کے موقع پر سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعودکو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا ۔یہ اسلئے کہ 23مارچ ۔۔۔۔۔پاکستان کی تاریخ کا بہت اہم دن ہے۔ اس دن ملک بھر میں خصوصی تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں سے سب اہم تقریب مسلح افواج کی پریڈ ہے ۔ جس میں پاکستان اپنی فوجی طاقت کا بھرپور اور اعلانیہ اظہار کرتا ہے ۔ ٹینک ، لڑاکا طیارے ، توپیں اور میزائل نمائش کیلئے پیش کئے جاتے ہیں ۔ اسی طرح پاکستان کے بہترین کمانڈو دستے ، سپیشل سروسز گروپ کے جوان بھی فوجی پریڈ میں اپنی قوت اور طاقت کااظہار کرتے ہیں ۔ پاکستان کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ 23مارچ کی فوجی پریڈ میں بہترین دوست ملک کی کسی اہم شخصیت کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا جائے ۔دوست ملک کی اہم شخصیت کا تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرنا بلاشبہ پاکستان کیلئے اعزازا ورافتخار کی بات ہوتی ہے ۔

    چنانچہ امسال 23مارچ کی تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان کے بہترین دوست سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود تھے ۔ شہزادہ خالد بن سلمان۔۔۔۔۔سعودی عرب کی اہم ترین شخصیت ہیں وہ ۔۔۔۔ سعودی بادشاہ کے بیٹے اور ولیعہد محمد بن سلمان کے سگے بھائی ہیں ۔ وہ 2017ء میں امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر بھی رہ چکے ہیں ۔ واضح رہے کہ پاک فوج کے سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر نے گذشتہ ہفتے سعودی عرب کے دورے کے دوران ولیعہد شہزادہ محمد سلمان سے ملاقات کی اور سعودی وزیر دفاع کو دورے کی دعوت دی تھی ۔ شہزادہ خالد بن سلمان مسلح افواج کی مشترکہ پریڈ میں بطور گیسٹ آف آنر شرکت کیلئے پہنچے تو وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے ان کا استقبال کیا۔یہ ایک شاندار اور پروقار تقریب تھی جس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، سروسزچیفس نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ وفاقی وزرا ارکان اسمبلی اور پاکستان میں غیرملکی سفرا بھی شریک ہوئے۔تقریب کے مہمان خصوصی شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیزالسعود نے شاندار جوائنٹ سروسز پریڈ کا مشاہدہ کیا۔پاک فوج کے مختلف یونٹوں کے دستوں نے مہمان خصوصی کو سلامی پیش کی جبکہ پاک فضائیہ کے جدید طیاروں جے ایف 17، ایف سولہ اور میراج طیارے نے فضائی مظاہرہ کیا۔ پاک فضائیہ میںنئے شامل کردہ جے 10 سی، مقامی طور پر بنائے گئے ایف 16، جے ایف 17 اور میراج لڑاکا طیاروں کے ساتھ ساتھ AWACs، P-3C اورین اور ATR نے بھی فلائی پاسٹ میں حصہ لیا اور حاضرین وسامعین کے لہو کو گرماکر دشمنوں کو یہ پیغام دیا کہ
    اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا
    تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے آتے ہیں

    مسلح افواج کی پریڈ کے بعد دوسری اہم ترین تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی جس میں صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وزیر دفاع اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان سمیت دیگر اعلی شخصیات نے شرکت کی جبکہ اس تقریب میں پاکستان میں متعین سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی بھی موجود تھے ۔اس شاندار اور پروقار تقریب میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کو پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز ’’ نشان پاکستان ‘‘ سے نوازا گیا۔ وزیر اعظم نے پاکستان کا سب سے اعلیٰ سول ایوارڈ ’’ نشان پاکستان ‘‘ ملنے پر سعودی وزیر دفاع کو مبارک باد دی جبکہ وزیر دفاع نے وزیر اعظم کو منصب سنبھالنے پر مبارک باد پیش کی اوران کیلئے نیک خواہشات کااظہار کیا ۔

    بعد ازاں سعودی وزیر دفاع کی آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر سعودی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تاریخی اور مضبوط برادرانہ تعلقات ہیں، سعودی عرب اور پاکستان ہمیشہ ایک دوسرے کے خیر خواہ رہے ہیں۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور مختلف شعبوں بالخصوص دفاع میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سعودی وزیر دفاع نے پاکستان کے دورے کی دعوت پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا ۔ قبل ازیں وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے سعودی عرب کے وزیر دفاع عزت مآب شہزادہ خالد بن سلمان بن عبد العزیز آل سعود کی ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ امور پر تفصیلی بات چیت، علاقائی امن و سلامتی اور خطے کی سیکیورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان دفاع ، سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔وزیراعظم نے خادم حرمین شریفین سلمان بن عبدالعزیز آل سعود ، سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور سعودی وزیر دفاع سے کہا کہ ہم آپ کے بڑے بھائی سعودی ولی عہد عزت مآب جناب محمد بن سلمان کے پاکستان کے دورے کا انتظار کر رہے ہیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ ایسے حالات میں جبکہ دشمن پاکستان کو تنہا کرنے کے درپے ان حالات میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کا دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ نئی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز کی یوم پاکستان کی تقریب میں شرکت اور پھر پاکستانی عہدیداران سے ملاقاتین صدر پاکستان کی طرف اعلی ترین سول ایوارڈ نشان پاکستان سے نوازنا آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا بذات خود سعودی عرب جا کر شہزادہ خالد کو تقریب کی دعوت دینا پاک سعودی تعلقات اور بلخصوص موجودہ حکومت کے ساتھ ساتھ سعودی تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں ۔اللہ نے چاہا تو پاک سعودی تعلقات مضبوط تر ہوں گے ان شاء اللہ ۔

  • آہ . ظفر صدیقی بھی چل بسے،کچھ یادیں، کچھ باتیں

    آہ . ظفر صدیقی بھی چل بسے،کچھ یادیں، کچھ باتیں

    یہ مضمون ٹیلی بز پروڈکشن کے معروف سی ای او، سی این بی سی پاکستان کے چیئرمین، سماء ٹی وی کے بانی، کے پی ایم جی کے جنوبی ایشیا کے نائب صدر کے بارے میں نہیں بلکہ یہ ان کامیابیوں کے پیچھے آدمی کے جوہر کو تلاش کرتا ہے۔ آٹھ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا جن میں میری والدہ ایک تھیں۔ یہ اس شخص کے بارے میں ہے جس نے 25 سال کی عمر میں اپنے کزن کو اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 35 سال تک وہ ایک کمپنی کا سربراہ بن جائے گا اور 45 سال تک وہ ایک کمپنی کا مالک ہو گا۔

    ظفر صدیقی کی ایک نمایاں خصوصیت ان کا شوخ انداز لباس تھا، جو رنگوں سے مزین تھا جسے بہت کم لوگ اپنے مزاج کے ساتھ لے جا سکتے تھے۔ اس کی مسکراہٹ، زندگی کے لیے اس کے جذبے، خطرات مول لینے کی خواہش اور زندگی کے بے شمار تجربات سے لطف اندوز ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔

    بچپن سے ہی وہ شرارتی تھے،وہ چیلنجز قبول کرتے تھے اور اپنے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے تھے، وہ یوکے میں چارٹرڈ اکاؤنٹنسی کے لئے گئے تو انہوں نے اپنی پوری توجہ ڈگری حاصل کرنے رکھی، انہوں نے اپنے اہداف حاصل کیے، اپنی پیشہ ورانہ کامیابی سے آگے اس میں ایک غیر معمولی خوبی تھی۔ اس نے اپنی بیوی، خاندان، بہن بھائیوں اور ان کے بچوں کے لیے محبت اور حمایت کی چھتری بڑھا دی۔ اس نے واپسی کی توقع کے بغیر غیر متزلزل دیکھ بھال، اخلاقی مدد اور مالی مدد کی پیشکش کی۔

    جس چیز نے اسے سب سے ممتاز کیا وہ تھا اس کا وقت بانٹنے کی سخاوت تھی، نو سال سے زیادہ عرصے تک میرے شوہر کے کھونے کے بعد، ہم تقریباً روزانہ بات چیت کرتے رہے۔ وہ میرا بااعتماد، میری طاقت کا ستون بن گیا۔ ان کے حسن سلوک بہت گہرے تھے، لاہور میں میری بیٹی کی سالگرہ پر پھول بھیجنے سے لے کر جب وہ دبئی میں رہتے تھے تو نقد تحائف تک، ان کی بے پناہ سخاوت کی عکاسی کرتا تھا۔
    1985 میں، وہ بیرون ملک سے دو شاندار برانڈڈ ہینڈ بیگ واپس لائے، ایک اپنی بیوی کے لیے اور ایک میرے لیے۔ جب میں انتخاب کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتا تھا، تو اس نے اصرار کیا کہ میں دونوں کو لے لوں،یہ اس کی بے لوثی کی مثال دے رہی ہوں

    ہر کزن اپنے ساتھ پیاری یادیں رکھتا ہے، ہر ایک کا احساس منفرد طور پر پیار کرتا ہے، پھر بھی یہ سب اس کے بے پناہ دل اور خاندان سے عقیدت کا ثبوت ہے۔
    اب جب ہم اسے الوداع کہہ رہے ہیں، کینسر کی وجہ سے وہ بہت جلد چلا گیا "اللہ تعالیٰ اسے جنت عطا فرمائے” کے جذبات مسکراہٹ لاتے ہیں۔ وہ نہیں تو اور کون؟ وہ ایک ایسا آدمی تھا جس نے خدا کی تخلیق کی قدر کی۔
    میں نے اپنا گلاس سلامی میں اٹھایا،ایک ہی سطر میں، اس کی زندگی کا خلاصہ اس طرح کیا جا سکتا ہے: "اس نے زندگی گزاری۔”

  • سعودی عرب میں 3لاکھ 47ہزار 6سو 46افراد حلقہ بگوش ِ اسلام ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    سعودی عرب میں 3لاکھ 47ہزار 6سو 46افراد حلقہ بگوش ِ اسلام ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    کچھ خبریں اور باتیں ایسی ہوتی ہیں جنھیں سن کر ایمان بڑھ جاتا اور دل خوشی سے بھر جاتا ہے ۔ انہی میں سے ایک نہایت ہی خوش کن اور خوش آئند خبر یہ ہے کہ سعودی عرب میں 3لاکھ 47ہزار 6سو 46افراد حلقہ بگوش ِ اسلام ہوئے ہیں۔ یہ ایمان افروز خبر سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے دنیا کو بتائی اور سنائی ہے ۔ بلاشبہ یہ بہت ہی خوشی کی خبر ہے جس پر ہم خادم الحرمین ملک سلمان بن عبدالعزیز ، ولیعہد محمد بن سلمان اور سعودی عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس سعی کو قبول فرمائے ۔دریں حالات جبکہ عالم اسلام سخت ابتلاءوآزمائش کا شکار ہے ان حالات میں اس خبر سے اہل اسلام کے حوصلے بلند ہوئے اور دل خوشی ومسرت سے لبریز ہوئے ہیں ۔اس نوید مسرت سے ایک طرف اسلام کی صداقت وحقانیت واضح ہورہی ہے تو دوسری طرف مملکت سعودی عرب کے حکمرانوں کی اسلام کے ساتھ بے پایاں محبت بھی واضح ہے۔یہ خبر اس امر کااظہار بھی ہے کہ سعودی معاشرہ اور سعودی عرب کے حکمران اسلام کے سچے خادم ہیں ، اسلام سے محبت کرتے ہیں اور اسلام کی تبلیغ واشاعت کےلئے تمام وسائل بروئے کار لارہے ہیں ۔جس مقصد کی خاطر سعودی عرب معرض ِ وجود میں آیا آج بھی اس پر قائم ہے ۔سعودی عرب کے بانیوں نے اپنے ملک کے قیام کے وقت اللہ سے جو وعدے کئے تھے۔۔۔۔۔ آج بھی ان ۔۔۔۔۔ وعدوں پر کاربند ہیں ۔

    اب ہم آتے ہیں اصل موضوع کی طرف ۔ مضمون کی ابتدا میں ہم سعودی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ کی پریس کانفرنس کا ذکر کرچکے ہیں ۔ ڈاکٹر عبد اللطیف نے حلقہ بگوش اسلام ہونے والوں کی جو تفصیل بتائی اس کی ترتیب درج ذیل ہے :سال 2019ءمیں 21654افراد نے اسلام قبول کیا۔ سال 2020ءمیں 41441افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے ، سال2021ءمیں3 2733 افراد شرف ِ اسلام سے سرفراز ہوئے ، سال 2022ءمیں 93899افراد نے اسلام قبول کیاجبکہ سال 2023ءمیں 163319 افراد شرف ِ اسلام سے سرفراز ہوئے اس طرح اسلام قبول کرنے والوں کی مجموعی تعداد 3لاکھ 47ہزار 6سو 46بنتی ہے۔ یہ اعداد وشمار صرف 2019ءسے ابتک کے ہیں ۔ اگر سعودی عرب کے قیام سے ابتک اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد جمع کی جائے تو بلاشبہ وہ کروڑوں میں بنتی ہے ۔ اسی طرح دوسرے ممالک میں سعودی داعی اور مبلیغین کی کوششوں سے بھی ہر سال ہزاروں لوگ حلقہ بگوش اسلام ہورہے ہیں ۔۔۔ ۔جیسا کہ یہ بات پہلے ذکر ہوچکی ہے کہ سال 2023ءسعودی عرب میں ایک لاکھ 63ہزار3ہزار 3سو19افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے ہیں ۔ اگر اس تعداد کو سال کے 365دنوں پر تقسیم کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سعودی عرب میں ایک دن میں 447افراد نے اسلام قبول کیا جو کہ الحمد للہ بہت بڑی تعداد ہے اور یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں روزانہ کی بنیاد پر اتنی تعداد میں لوگ اسلام قبول نہیں کررہے ہیں ۔

    سعودی عرب میں ہر سال بڑی تعداد میں غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہورہے ہیں تو اس کی بہت سی وجوہات ہیں مثلاََ یہ کہ سعودی عرب کے حکمران اسلام سے محبت کرتے ہیں ۔ حکومتی سطح پر بھی اور عوامی سطح پر بھی اسلام کی تبلیغ واشاعت کےلئے کوششیں کی جاتی ہیں۔ حکومتی سطح پر مملکت کے ہر خطے میں داعی اور مبلغین تعینات کئے گئے ہیں ۔اسی طرح سعودی عرب کے اہم ترین کارنامے جو دنیا بھر میں اسلام کی تبلیغ واشاعت کےلئے بے حد ممد ومعاون ثابت ہورہے ہیں ان میں سے چند ایک یہ ہیں ۔۔۔۔

    اولاََ۔۔۔۔۔ سعودی حکومت نے قرآن مجید کی تعلیمات کو عام کرنے کا خاص اہتمام کررکھا ہے۔اس مقصد کی خاطر خادم الحرمین الشریفین شاہ فہد بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ نے اپنے دور میں ” کنگ فہد قرآن پرنٹنگ کمپلیکس “ کے نام سے مدینہ منورہ میں ایک عظیم الشان اشاعتی ادارہ قائم کیا جو بلاشبہ دنیا بھر میں قرآن مجید کی طباعت واشاعت کا سب سے بڑا ادارہ ہے ۔ اس مبارک پراجیکٹ کا سنگ بنیاد 2 نومبر 1982 ءمیں رکھاگیا ۔ یہ کمپلیکس فن تعمیر کا دلکش اور خوبصورت شاہکار ہے۔ اس پرنٹنگ کمپلیکس میں اعلی معیار کے اور غلطیوں سے پاک قرآن مجید کے نسخے طبع کرکے پوری دنیا میں مفت تقیم کیے جاتے ہیں۔ قیام سے لے کر اب تک اس کمپلیکس سے مختلف انواع سائز کے کروڑوں کی تعداد میں 40سے زبانوں میں نسخے شائع ہو چکے ہیں ۔ شاہ فہد رحمہ اللہ علیہ نے قرآن مجید کو گھر گھر پہنچانے اور اس کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے دنیا کی مختلف زندہ زبانوںمیں اس کے ترجمے و تفاسیر اور اس کی توضیح اور تقسیم کر کے کے جو عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے وہ قیامت تک یاد رکھا جائے گا ۔ قرآن مجید کی طباعت واشاعت کے علاوہ کتب ِ تفاسیر واحادیث اور دیگر کتب بھی شائع کرکے مفت تقسیم کی جاتی ہیں جن پر ہر سال کروڑوں ریال خرچ کئے جاتے ہیں ۔

    ثانیاََ۔۔۔۔ دینی تعلیم کے فروغ کے لیے 1944ءمیں جامعہ ازہر کی طرز پرمدینہ منورہ میں” الجامعة الاسلامیہ “ کے نام سے یونیورسٹی قائم کی جواس وقت علوم اسلامیہ کے فروغ میں اسلامی دنیاکی سب سے بڑی یونیورسٹی بن چکی ہے جہاں پوری دنیاسے طلبہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں اور حصول کے بعد سعودی عرب سمیت دنیا بھر میں اسلام کی تبلیغ واشاعت کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔

    ثالثاََ۔۔۔۔۔ سعودی حکومت نے اپنی مملکت سمیت پوری دنیا میں مستقل بنیادوں پراسلام کے مراکز ، مساجد اور مدارس قائم کئے ہیں جن میں داعی ، مبلغین ، اساتذہ کرام، قرائے عظام اور علمائے کرام اور مبعوث تعینات کئے گئے ہیں جن کی تعداد کئی ہزار ہے۔ ان کی سرپرستی سعودی حکومت اور سعودی خیراتی ادارے کرتے ہیں۔ یہ مبلغین ومعلمین خالص توحید اور قرآن و سنت کی روشنی میں لوگوں کو صحیح عقیدے کی دعوت دیتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ اپنے عقائد کی اصلاح کرتے اور مشرف بہ اسلام ہوتے ہیں۔

    رابعاََ ۔۔۔۔۔۔مملکت سعودی عرب میں دعوت وتبلیغ کیلئے 457 دینی ودعوتی جمعیتیں اور این جی اوز مختلف خطوں میں سرگرم عمل ہیںجو مملکت میں روزگار کےلئے غیر مسلموں کو اور سعودی عرب میں بغرض ِ سیاحت آنے والے غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دیتی ہیں ۔

    آخر میں اس بات کا ذکر بھی بے حد ضروری ہے کہ کچھ لوگ مملکت سعودی عرب کے بارے میں پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ محمد بن سلمان اب سعودی عرب کو یورپ بنا رہے ہیں، دین اسلام کو مٹا رہے ہیں، مگر وہاں تو عملاً اس جھوٹے پروپیگنڈے کے برعکس کام ہو رہا ہے، اس سے پہلے کسی بھی سعودی بادشاہ کے دور میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ مسلمان نہیں ہوتے تھے جس قدر پچھلے چند سالوں میں ہوئے ہیں اور دن بہ د ن اسلام لانے والوں کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے، مطلب یہ ہوا کہ سعودی عرب میں اب دعوت دین پر پہلے سے زیادہ سنجیدگی سے اور بہتر انداز میں ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ سعودی حکومت اور وہاں کے سلفی علماءکی دین اسلام کی اشاعت کیلئے محنتوں کو قبول فرمائے اور رب کریم انہیں اس باسعادت مشن کیلئے مزید آگے سے آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین !

  • پانچ فروری اظہار یکجہتی کشمیر کاسوال ،فیصلہ کن اقدام کاوقت کب آئے گا ؟تحریر: ڈاکٹر سبیل اکرام

    پانچ فروری اظہار یکجہتی کشمیر کاسوال ،فیصلہ کن اقدام کاوقت کب آئے گا ؟تحریر: ڈاکٹر سبیل اکرام

    مقبوضہ جموں کشمیرکی خصوصی حیثیت کاخاتمہ بھارت کے ترکش کاآخری تیر تھاجسے اس نے تحریک آزادی کشمیرکوکچلنے اورناکام بنانے کے لئے استعمال کیا ہے گویا اب بھارت کے ترکش میں کوئی ایسا تیر نہیں بچا جسے وہ کشمیریوں پرچلااورتحریک آزادی کودباسکے۔ یہ درست ہے کہ ظلم کے ان حربوں اورہتھکنڈوں سے اہل کشمیر کے سینے شق اورلہولہان ہیں لیکن ان کے حوصلے بلندہیں۔ مقبوضہ جموں کشمیر میں جوکچھ ہورہا اوربھارتی نیتا ﺅں کے پاکستان کے بارے میں جو عزائم وارادے ہیں یہ حالات بھارتی جارحیت کے سامنے مضبوط بندباندھنے اور مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے عملی اقدام کے متقاضی ہیں۔یہ بات معلو م ہے کہ کشمیرتقسیم ہندکانامکمل ایجنڈاہے ان حالات میں یہ کافی نہیں کہ ہم سال میں ایک باراظہاریکجہتی کرلیں اور اس کے بعد لمبی تان کرسوجائیں ۔پانچ فروری تجدید عہد کادن ہے ۔ اس بات کاعہد کہ کشمیری ہمارے بھائی ہیں،مظلوم ہیں ،پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑرہے ہیں اور ان کی مددوحمایت کرنا ہمارافرض ہے۔

    پانچ فروری اظہار یکجہتی کا مقصدمظلوم کشمیریوں کی آواز اور پیغام کو دنیا تک پہنچانا ، بین الاقوامی سطح پرمسئلہ کشمیر کواجاگر کرنااوراہل کشمیرکویہ بتلانا مقصودہے کہ آزادی کے سفرمیں وہ تنہانہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم ان کے ساتھ ہے۔پانچ فروری اظہار یکجہتی میں ہمارے لئے یہ بھی پیغام ہے کہ مسئلہ کشمیر کسی فرد یاجماعت کانہیں بلکہ پوری قوم کااجتماعی مسئلہ ہے۔انگلی،بازو،ہاتھ،پاﺅں کٹ جائے توانسان زندہ رہ سکتاہے لیکن شہ رگ کٹنے کے بعد روح اورجسم کارشتہ برقراررہنے کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ۔بانی پاکستان نے کہاتھا ”کشمیرہماری شہ رگ ہے“پھراس بیان کوحقیقت میں بدلنے کے لئے عملی قدم بھی اٹھایا تھا۔بعدازاں جب 1947میں جہادکشمیر شروع ہواتو پاکستانی قوم نے ایمانی جذبے کے ساتھ اس میں حصہ لیا تھا۔

    1947ءکی طرح آج بھی کشمیری مسلمان ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور اپنے وطن میں ہونے کے باوجودہر قسم کی خوشی سے محروم قید بامشقت کی زندگی بسر کررہے ہیں۔80لاکھ آبادی والے خطے میں 10لاکھ بھارتی فوجی دندنارہے ،کشمیریوں کا خون بہا رہے اوران کی لاشیں گرار ہے ہیں۔ ہردس کشمیریوں پرایک خونخوار فوجی بندوق تانے کھڑاہے۔ اتنی کم آبادی والے خطے میں اتنی بڑی تعدادمیں فوج کے تعینات ہونے کی دنیا میںکوئی مثال نہیں ملتی ہے۔

    آج مقبوضہ جموں کشمیرکی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ظالمانہ اقدام کوساڑھے پانچ سال ہوچلے ہیں ۔ جیساکہ یہ بات پہلے ذکر ہوچکی ہے کہ یہ اقدام بھارت کے ترکش کاآخری تیر ہے جووہ آزماچکااور چلاچکا ہے ۔ 5اگست2019ءکے اقدام کے بعد بھارتی فوج نے مقبوضہ جموں کشمیرمیں جوظلم کیاوہ 1947ءکے بعد اب تک کے تمام مظالم پر حاوی اور بھاری ہے ۔ بھارتی فوجی بستیوں کا گھیراﺅ کرتے ، رگوں میں خون جمادینے والی یخ بستہ ہواﺅں ، برفباری میں بچوں،ب وڑھوں،خواتین اور بیماروں کو گھروںسے باہر کھلے آسمان تلے گھنٹوں کھڑارکھتے ہیں ۔

    ایک طرف برفانی موسم کی سختیاں ہیں تودوسری طرف بھارتی فوج کے مظالم ہیں۔بھارتی فوج کے ہاتھوں بستیاں، مکانات، باغات، دکانیں،تباہ اورنذرآتش ہونے کی وجہ سے ہزاروں لوگ بے روزگاراوربے گھر ہوچکے ہیں۔5اگست 2019 کے دنیا کے طویل ترین کرفیو کے نفاذ کے بعد کشمیری تاجروںکو اربوں روپے کانقصان ہواہے ۔نہایت ہی قابل احترام بزرگ سید علی گیلانی قید کی حالت میں وفات پاگئے جبکہ سید شبیرشاہ،میرواعظ عمر فاروق،مسرت عالم بٹ،یسین ملک اور آسیہ اندرابی سمیت حریت کانفرنس کی تقریباََ ساری قیادت اس وقت سے جیلوں میں قید ہے یاگھروں میںنظربندہے ان کومساجدمیں نماز جمعہ اداکرنے کی بھی اجازت نہیں ہے ۔
    جموں کی حالت وادی سے بھی بدتر ہے۔شیوسینا،بجرنگ دل،آرایس ایس،وی ایچ پی کے مسلح دستے جموں کی شاہراﺅں ،راجوری،بدرواہ،کشتواڑ اوردیگر علاقوں میں گشت کرتے اورمسلمانوں کی بستیوں پرحملے کرتے ہیں۔وہ بھارتی غیر ریاستی ہندو فوجی جنہوں نے کسی وقت ریاست جموں کشمیر میں خدمات انجام دی تھیں ۔۔۔ان کی نسلوں کوجموں میں لایا اورآبادکیا جارہا ہے۔ جب1990ءمیں تحریک شروع ہوئی تب ایک لاکھ پنڈت بھارت جابسے تھے اب ایک لاکھ کی بجائے نولاکھ پنڈتوں کی آباکاری کامنصوبہ ہے۔اس طریقے سے بھارتی حکمران اسرائیلی طرز پرجموں میں آبادی کاتناسب بدلنے اوراسے فوجی چھاﺅنی بنانے پرتلے بیٹھے ہیں۔

    جہاں تک مقبوضہ جموں کشمیرکے مسلمانوں کاتعلق ہے وہ نامساعد اورسخت ترین حالات میں بھی خوف زدہ اورپسپا ہونے کی بجائے آزادی کی تحریک جاری رکھے ہوئے ہرقسم کی جانی ومالی قربانیاں دے رہے ہیں۔بھارتی فوج کے ظلم وستم کا کوئی بھی حربہ ان کے پائے استقلال میں لغزش پیدا نہیں کرسکاہے ۔ وہ آج بھی
    ”پاکستان سے رشتہ کیالاالہ الااللہ۔۔۔۔“
    کے نعرے لگاتے ہیں اور اس بات کا پختہ عزم وارادہ کئے ہوئے ہیں کہ آخری بھارتی فوجی کے انخلا اوروطن کی آزادی تک تحریک جاری رہے گی۔بھارتی فوج تمام تر مظالم کے باوجود آزادی کاجذبہ کچلنے میں ناکام ہے اس کاغصہ وہ سویلین کشمیریوں پر اتارتے ہیں ۔

    حقیقت یہ ہے کہ تحریک آزادی کشمیر فیصلہ کن موڑ پرپہنچ چکی ہے ۔۔۔۔ اب یا کبھی نہیں کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔بچوں ،بوڑھوں ،جوانوں،خواتین کے عزم وحوصلے بلند تر ہیں ۔ یہ بات واضح ہے کہ اہل کشمیر اپنا حق اداکررہے ہیں ۔اس لئے کہ ۔۔۔۔۔پاکستان توکشمیری بچوں ،جوانوں ،بزرگوں اور ماﺅں بہنوں کاجزوِ ایمان ہے پاکستان ان کے دلوں میں بستا ہے۔بھارت کشمیر کے اٹوٹ انگ ہونے کادعوی کرتاہے ،کشمیری جب یہ دعوی سن کر پاکستان کی طرف امدادطلب نظروں سے دیکھتے ہیں تویہاں سے جواب ملتاہے ہم مجبورہیں،مصلحتوں اورمفادات کے اسیرہیںلہذاآپ اپنے مسائل خود حل کریں۔حالانکہ اس وقت سیاچن، سرکریک، زراعت، تجارت،معیشت، پانی،بجلی ، سکیورٹی ، سلامتی ، دہشت گردی اورملک کے استحکام سمیت جتنے مسائل درپیش ہیں ۔۔۔سب کاحل صرف اورصرف مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ مشروط ہے۔گویا ایک ہی بات ہے کہ اگر۔۔۔۔۔ مسئلہ کشمیر حل ہوجائے توہمارے تمام مسائل خودبخود حل ہوجائیں گے۔یہ ایسی حقیقت ہے جسے75سال کاعرصہ گزرنے کے باوجود ہم سمجھ نہ سکے جبکہ بھارتی حکمرانوں نے تقسیم ہندسے پہلے ہی اس حقیقت کوجان لیا تھا۔بھارتی پالیسی ساز سمجھتے ہیں کہ جس دن مسئلہ کشمیرحل ہوگیا پاکستان جغرافیائی اعتبار سے مکمل ہوجائے گا۔بات صرف جغرافیائی تکمیل کی نہیں اہل کشمیر کے ساتھ ہمارادین وایمان کارشتہ بھی ہے جوہم سے عملی مدد واقدام کامتقاضی ہے۔

    بھارت کے تمام سیاستدان، جماعتیں ،اخبارات ،چینلز کشمیریوں پرظلم ڈھانے اور اپنی پالیسیاں اہل کشمیر پالیسی مسلط کرنے کے بارے میں یکسوہیں۔ایسے میں ہمارافرض بھی ہے کہ ہم مظلوم کشمیری مسلمانوں کی مدد کے لئے یک دل ویک جان اوریک قدم ویک آوازہوجائیں۔ خاص کرایسے حالات میں کہ جب بھارت کے پاکستان کے بارے میں ارادے بالکل واضح ہیں۔

    بھارتی نیتا پوری ڈھٹائی وبے شرمی سے پاکستان میں کھلی اوراعلانیہ مداخلت کے مطالبے کررہے ہیں اوردوسری طرف دکھ یہ ہے کہ ہمارے حکمران کشمیرکی آزادی کے لئے عملی قدم اٹھاتے ہوئے ،شرماتے اورگھبراتے ہیں۔ ہم 1990ءسے پانچ فروری کادن اظہار یکجہتی کشمیرکے طور پر مناتے چلے آرہے ہیں لیکن مسئلہ کشمیرکے حل کے لئے آج تک ایک بھی عملی قدم نہیں اٹھاسکے ۔ جبکہ پانچ فروری کادن عملی اقدام کامقتاضی ہے ۔پانچ فروری کے دن میں ہمارے لئے پیغام ہے کہ ظلم وجبرسے قوموں کودبایا اورغلام نہیں بنایاجاسکتا۔ انگریز اورہندوتقسیم ہندکے خلاف،پاکستان کے قیام دشمن اورمسلمانوں کوغلام بناکررکھناچاہتے تھے لیکن پھرجو ہواوہ دنیا نے دیکھا انگریز اورہندودونوں ناکام ہوئے ،ہندوستان تقسیم ہوااورپاکستان قائم ہوا۔ ایسے ہی ہماراایمان ہے کہ ان شاءاللہ مقبوضہ جموں کشمیر بھی بھارتی تسلط سے آزادہوگا۔ لہذا ضروری ہے کہ ہمارے حکمران اسے نتیجہ خیز بنانے کے لئے عملی قدم اٹھائیں۔بھارت کے ساتھ تعلقات،ترجیحات اورمذاکرات میں مسئلہ کشمیر سرفہرست رکھیں،دنیا کے تمام ممالک میں موجود پاکستانی سفارت خانوں میں کشمیر ڈیسک قائم کئے جائیں،مظفرآباد کوصحیح معنوں میں بیس کیمپ بنائیں اورسلامتی کونسل کی قراردادوں کوبنیادبناتے ہوئے عالمی عدالت انصاف سمیت تمام بین الاقوامی فورمز سے رجوع کریں۔