Baaghi TV

Category: متفرق

  • مسلمان اور سائنس ، تحریر:حیدرعلی صدّیقی

    مسلمان اور سائنس ، تحریر:حیدرعلی صدّیقی

    مسلمان اور سائنس کا رشتہ بہت قدیم سے قائم ہے، ایک وقت تھا جب مسلمان علم و تحقیق کے میدان میں سب سے بڑھ کر تھے، جب ان کو علم و فکر کا جنون کے حد تک شوق تھا تب علوم و فنون اور سائنسی تجربات کے میدان میں ان کا کوئی مقابل نہیں تھا۔ دنیا میں سب سے پہلے درسگاہیں مسلمانوں نے ہی قائم کیے، اس وقت انھی درسگاہوں سے ماہر علماء، حاذق اطباء، محققین اور ایسے سائنسدان نکلے جنھوں نے علمی و تحقیقی میدان میں امت مسلمہ کا لوہا منوایا۔ اور اقوام عالم کی خدمت و سہولت کے لیے ایسے ایسے تجربات اور ایجادات کیں کہ دنیا انگشت بدنداں رہ گئی۔ ایسے ایسے مقالات (Theses) کتابیں اور تحریریں لکھے کہ آئندہ کی نسلوں کے لیے ایک ذخیرہ جمع ہوگیا، جس کا اقرار غیر مسلم بھی کرچکے ہیں۔
    عصر حاضر میں مسلمان مایوسی، احساس کمتری اور لاعلمی کا شکار ہے، انھیں دنیا کے سارے ایجادات و تجربات مغربی دنیا کی مرہون منت نظر آتے ہیں۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کا سائنس میں کوئی بھی کارنامہ نہیں ہے۔ ایسے باتیں عام طور ان لوگوں سے سننے کو ملتی ہیں جو ذہنی طور مغرب سے متاثر ہوتے ہیں۔ اور یہی تصور لاعلم اور متعصب تعلیم یافتہ مغربی افراد کے ہاں بھی پایا جاتا ہے کہ وہ اسلام کو ایک تنگ نظر، نسل پرست اور غیر سائنسی مذہب قرار دیتے ہیں۔ جبکہ اگر ہم تعصب کا عینک اتار کے تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھے تو ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ دنیا میں مسلمان نہ صرف سائنسدان گزرے ہیں بلکہ سائنس اور سائنسی تجربات و مشاہدات کے اصل خالق و موجد ہی مسلمان تھے۔ جنھوں نے اپنے علم و تحقیق سے یہ مشقت طلب کارنامہ سر کیا ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ موجودہ دور کے مسلمان علم و تحقیق اور مطالعہ کے کمی کے وجہ سے مسلمان سائنسدانوں سے لاعلم ہیں، علم و تحقیق کا شوق مسلمانوں میں آج نہ ہونے کے برابر ہے۔ اور اسی طرح وہ مغرب کے طرف سے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کا شکار ہیں۔ اس لیے ضروری سمجھا کہ چند ایک مسلمان سائنسدانوں کا تذکرہ ہوجائے تا کہ مسلمان اپنے ہیروز کو پہچانے اور مغرب کے تعصب زدہ پروپیگنڈے سے متاثر نہ ہوجائیں۔ مسلمان سائنسدانوں کی فہرست اور انکا تذکرہ بہت طول طلب موضوع ہے جو ایک کالم یا مضمون میں سمیٹنا مشکل ہے۔ چند مشہور مسلمان سائنسدان مندرجہ ذیل ہیں:۔

    ٭ جابر بن حیان: ان کے نام سے ہر کوئی واقف ہے، عالمی شہرت کے حامل ایک عظیم سائنسدان ہیں۔ مغربی و مشرقی سائنسدانوں کے ہاں مقبول اور علم کیمیائی کے ماہر ہیں۔ آپ کی مہارت فن و خدمات کے صلے میں آپ کو بابائے کیمیا (Father of chemistry) بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کی ایجادات و تحقیقات میں آکسیڈیشن (Oxidation)، بخارات (Evaporation)، عمل کشید یعنی بخارات کو مائع اور مائع کو بخارات میں تبدیل کرنے کا اہم کیمیا اور گندھک کے تیزاب (Sulfuric Acid) جیسی ایجادات شامل ہیں۔

    ٭ ابوالقاسم زَہراوی: ابوالقاسم زَہراوی اَندلس میں پیدا ہوئے تھے، آپ ایک بلند پایہ سائنٹسٹ تھے۔ سرجری کے آلات (Surgical Instruments) آپ ہی کی ایجاد کردہ ہیں۔ پوری دنیا میں استعمال ہونے والے آج کل کے سرجیکل آلات کم و بیش وہی ہیں جو آپ نے ایجاد کیے تھے۔

    ٭ ابوبکر محمد بن زکریا رازی: آپ اپنے عصر کے بہت بڑے محقق، طبیب اور ڈاکٹر تھے۔ جراثیم اور انفیکشن کے درمیان تعلق آپ ہی نے معلوم کیا۔ الکوحل اور ایتھانول (Ethanol) آپ ہی کی ایجادات ہیں۔

    ٭ ابن سینا: آپ کے نام سے کون واقف نہیں! آپ علم طبیعیات (Physics) کے ماہر سائنسدان تھے۔ روشنی کے رفتار کی حدود کو سب سے پہلے آپ نے بیان کیا۔ انسانی آنکھ کی رگوں اور پٹھوں کی تفصیل سب سے پہلے آپ نے پیش کی۔ زہرہ سیارے کو آپ نے بغیر کسی آلے کے دیکھا تھا۔ سمندر میں پتھر کیسے بنتے ہیں اور سمندری مردہ جانوروں کی ہڈیاں کیسے پتھروں میں تبدیل ہوتے ہیں؟ یہ بھی آپ نے معلوم کیا۔

    ٭ ابن الہیثم: علم بصریات (Optics) کے ماہر سائنسدان تھے، آپ نے علم بصریات میں جامع کتاب ”کتاب المَناظر“ لکھ دی۔ آتشی شیشے (Burning Glass) اور کروی عدسے (Spherical Lens) آپ نے بنائے۔ آپ ہی کی تحقیق کی بنیاد پر مائیکرو سکوپ اور ٹیلی سکوپ کی ایجاد ممکن ہوئی۔ دنیا کا سب سے پہلا کیمرا پن ہول کیمرا (Pin Hole Camera) اور اسی طرح دنیا کا پہلا کیمرہ آبسکیورہ (Camera Obscura) ابن الہیثم کی ایجاد کردہ ہیں۔ فوٹوگرافرز کہتے ہیں کہ روشنی جس سوراخ سے تاریک کمرے میں داخل ہوتی ہے وہ سوراخ جتنا چھوٹا ہوگا اتنی ہی تصویر عمدہ بنے گی، یہ تحقیق بھی ابن الہیثم کی ہے۔

    ٭ عبدالمالک اصمعی: اصمعی نامور سائنسدان گزرے ہیں، آپ علم حیاتیات (Biology) اور علم حیوانات (Zoology) کے ماہر محقق و سائنسدان تھے۔ زولوجی کے موضوع پر آپ نے پانچ کتابیں لکھی ہیں، جنھیں زولوجیکل سائنس میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ بالترتیب آپ کی پانچ کتابوں کے نام یہ تھے: اونٹ، گھوڑا، بھیڑ بکریاں، جنگلی درندے اور تخلیق انسانی۔

    ٭ محمد بن موسی خوارزمی: آپ کا تعلق عراق سے تھا، الجبرا (Algebra) کے ماہر سائنسدان تھے اور اس موضوع پر دنیا کی پہلی کتاب ”الکتاب المختصر فی حساب الجبر والمقابلة“ خوارزمی نے لکھی ہے۔ اس کتاب میں آپ نے صفر سے 9 تک ہندسے بھی پیش کیے تھے، اس سے پہلے لوگ ہندسوں کے بجائے حروف کا استعمال کرتے تھے۔

    ٭ حسن الرماہ: آپ شام کے نامور سائنسدان تھے، ملٹری ٹیکنالوجی (Military Technology) پر آپ نے سن 1280ء میں کتاب لکھی تھی، جس میں آپ نے راکٹ کا ڈائی گرام پیش کیا تھا۔ اس کتاب میں آپ نے گن پاؤڈر بنانے کے اجزائے ترکیبی بھی بیان کیے تھے۔

    ٭ ابواسحاق زرقالی: آپ اندلس کے مشہور سائنسدان گزرے ہیں، آپ ستاروں کی مشخص (اسٹرونامیکل آبزرور، Astronomical Abserver) سائنسدان تھے۔ آپ نے ایک اصطرلاب بنایا تھا جس سے سورج کی گردش و حرکت کا مشاہدہ کیا جاسکتا تھا۔ آپ نے سب سے پہلے تحقیق کرکے یہ انکشاف کیا تھا کہ آسمانی کرے بیضوی مدار میں گردش کر رہے ہیں۔ اور یہ اعتراف غیرمسلم سائنسدان کیپلر (Kepler) نے صدیوں بعد کیا تھا۔

    مسلمان سائنسدانوں اور انکی تحقیقات و ایجادت کی فہرست طویل ہے، یہ چند نام بطور ”مشت از نمونہ خروارے“ کے پیش خدمت ہیں۔ تا کہ مسلمان اپنے محسن اور ہیروز سے آگاہ ہوجائے اور کسی بھی قسم کی غلط فہمی اور مایوسی کا شکار نہ ہوجائے۔ متعصب لوگوں نے بہت ہی چالاکی سے یہ تاثر دنیا کو دیا ہے کہ مسلمان سائنس کو نہیں مانتے اور نہ ان کے پاس کوئی سائنسی تحقیق موجود ہے۔ یہ بات بعید از عقل ہے کہ ایک بندہ اپنے ہی تحقیق و ایجاد کو نہ مانے۔ مغربی دنیا اور لبرلز کہتے ہیں کہ مسلمانوں کا سائنس میں صفر کارگردگی بھی نہیں ہے، تو ان متعصبین کو تعصب سے پرے ہو کر پتہ ہونا چاہیے کہ جس صفر کا تم مسلمانوں کو طعنہ دے رہے ہو یہی صفر بھی مسلمان سائنسدان خوارزمی ہی کی ایجاد ہے۔

  • بجلی کے بل میں ریلیف کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت

    بجلی کے بل میں ریلیف کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت

    ڈان اخبار میں حالیہ شائع ہونے والے ایک مضمون میں، وزیراعظم کی جانب سے طلب کیے گئے ہنگامی اجلاس میں بجلی کے بلوں میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے متعدد تجاویز پر غور کیا گیا۔ ایک قابل ذکر تجویز میں قسطوں میں بل ادا کرنے کا اختیار شامل تھا۔ اگرچہ یہ خیال پہلی نظر میں قابل فہم معلوم ہو سکتا ہے، لیکن بغور جائزہ لینے سے بعض چیلنجوں اور پیچیدگیوں کا پتہ چلتا ہے جو اسے ناقابل عمل بنا دیتے ہیں۔

    اس کی وضاحت کے لیے، آئیے فرض کریں: 30,000 روپے ماہانہ آمدنی اور 12,000 روپے کا بل۔ اس صورت میں، بل کی ادائیگی کا %50 اگلے مہینے تک موخر کر دیا جاتا ہے۔ اگلے مہینے میں 10,000 روپے کا بل آتا ہے، جس میں مزید 50 فیصد تاخیر ہوتی ہے۔ نتیجے کے طور پر، اس مہینے میں ادا کرنے کے لیے 11,000 روپے کا بل آتا ہے۔ یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، اور ممکنہ طور پر مالی دباؤ کا باعث بنتا ہے۔ تجویز اس کی طویل مدتی پائیداری، فرد کے مالی استحکام اور ادائیگی کی صلاحیت پر اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں سوالات اٹھاتی ہے۔

    فی الحال، سالانہ 12 لاکھ روپے تک کی آمدنی ٹیکس سے مستثنیٰ ہے۔ نان فائلرز کے لیے شرح کا مطلب بجلی کے بل میں شامل اضافی ٹیکس ہیڈ ہے۔ تاہم، ہر سال 12 لاکھ سے کم آمدنی والے افراد اور سالانہ 12 لاکھ سے زیادہ کمانے والے، پر ٹیکس ادا کرنے کے اہل ہونے کے درمیان فرق کرنے کا طریقہ کار ابھی تک واضح نہیں ہے۔ وضاحت کی یہ کمی ایک مزید بہتر طریقہ کار کی ضرورت پر زور دیتی ہے جو ٹیکس کی پالیسیوں کو بجلی کے بلنگ کے ساتھ ہم آہنگ کرے۔

    غور طلب ایک اہم نکتہ بجلی کی کھپت کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کا نظام ہے۔ یہ نظام ایک ایسا طریقہ استعمال کرتا ہے، جس کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی کھپت کی شرح میں اضافہ ہے۔ منصفانہ اور شفافیت کو فروغ دینے کے لیے، ابتدائی یونٹس کے استعمال پر بجلی کے استعمال کے لیے فلیٹ ریٹ متعارف کرانا سمجھداری کا کام ہے۔ یہ ایڈجسٹمنٹ نہ صرف بلنگ کو آسان بناتی ہے بلکہ صارفین کے لیے ٹیکسوں میں کمی کا باعث بھی بنتی ہے۔

    چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا پہلے دن معطل ہو جانا چاہئے تھی ،

    توشہ خانہ کیس میں رہائی کے حکم کے بعد سائفر مقدمے میں دوبارہ گرفتاری

     لاڈلے کی سزا معطل ہوئی ہے ختم نہیں ہوئی

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    واپڈا ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (XWDISCOs) کی طرف سے ہونے والے نقصانات کے مسئلے کو حل کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کمپنیوں کو بجلی چوری، لائن لاسز اور ناکافی وصولیوں کی وجہ سے 150 ارب روپے کے سالانہ نقصانات کا سامنا ہے۔ ان نقصانات کو ادائیگی کرنے کے لئے اسے صارفین پر مستقل طور پر منتقل کرنے کے بجائے، حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسے حل کو ترجیح دے جو ان بنیادی مسائل کو براہ راست نشانہ بناتے ہوں۔ روک تھام اور احتساب پر توجہ دے کر، قانون کی پابندی کرنے والے صارفین پر بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے۔ (ایکسپریس ٹریبیون، 2022) ان مسائل کے حل کو روایتی طور پر نظر انداز کیا گیا ہے، خسارہ کو بل ادا کرنے والوں تک پہنچایا جاتا رہا ہے۔

    آخر کار یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ بجلی کے شعبے میں ہونے والے نقصانات کی بنیادی وجوہات کو حل کرے اور ایسے ٹھوس اقدامات پیش کرے جو صارفین پر سے واقعی بوجھ کو کم کریں۔ بامعنی اور موثر حل کے بغیر، یہ مسئلہ برقرار رہے گا، جس سے شہریوں کو حقیقی ریلیف کے بغیر انہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

  • بلندی سے جانیں بچانے کا ڈرامائی ریسکیو آپریشن

    بلندی سے جانیں بچانے کا ڈرامائی ریسکیو آپریشن

    سولہ گھنٹے کا طویل ترین ریسکیو آپریشن، ہر لمحے دل کی دھڑکنیں تیز ہو رہی تھی، پتہ نہیں کیا ہو گا؟ تا ہم چھ بچوں سمیت آٹھ افراد کو کامیابی کے ساتھ بچا لیا گیا، یہ آٹھ افراد پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقے بٹگرام کے پہاڑی علاقے میں ایک کھائی کے تقریبا 900 فٹ اوپر چیئر لفٹ، ڈولی میں پھنس گئے تھے

    خیبر پختونخواہ کے کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں ایک مقام سے دوسرے مقام پر جانے کے لئے چیئر لفٹ کا ہی سہارا لیا جاتا ہے، بٹگرام میں بھی اسی طرح کی کہانی ہے،چیئر لفٹ میں پھنسنے والے بچے روزانہ ہی سکول جانے کے لئے اسی چیئر لفٹ پر سفر کرتے تھے،کیونکہ انکے پاس کوئی متبادل راستہ نہیں تھا، انفراسٹرکچر کی کمی ہے، یہ صورتحال دو اہم کوتاہیوں کو سامنے لاتی ہے، دودراز علاقوں میں تعلیمی اداروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے طلبا کو یہ سفر کرنا پڑتا ہے اور اس سفر کے لئے انہیں چیئر لفٹ کا ہی سہارا لینا پڑتا ہے اگر وہ پیدل جانے کا سوچیں تو انہیں دو گھنٹے لگیں ،یہی چیئر لفٹ وہی دو گھنٹوں کو پیدل سفر چار منٹ میں طے کروا دیتی ہے

    بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، محبت شاہ نامی ایک مقامی رہائشی نے محدود سفری آپشنز پر زور دیا۔ ڈولی پر سواری کی لاگت 10 روپے فی مسافر یک طرفہ ہے، جبکہ اسی مقام پرپہنچنے کے لیے ٹیکسی کا کرایہ تقریبا 2000 ہو جاتا ہے،ڈولی سسٹم کے لیے پہل مقامی باشندوں نے کی، جنہوں نے شہر کے معاملات کی نگرانی کرنے والے متعلقہ حکام سے اجازت طلب کی۔ ڈولی جانگری اور بٹنگی گاؤں کے درمیان سفر کی سہولت فراہم کرتی ہے، جہاں اسکول واقع ہے۔ ڈولی یا چیئر لفٹ،پک اپ ٹرک اور موٹر سائیکلوں کے اجزا سے بنائی گئی ہے،

    مقامی شہریوں کو چیئر لفٹ ، ڈولی کی اجازت سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت اپنے شہریوں کو یکساں ضروری خدمات فراہم کرنے میں ناکام ہے وہیں، ایسی سہولیات کی دیکھ بھال کی ذمہ داری کس پر بنتی ہے؟ اگر کوئی ذمہ دار ادارہ ہوتا تو ڈولی کے کمزور پوائنٹس کی نشاندہی ہوتی اور اس واقعہ کو رونما ہونے سے روکا جا سکتا تھا

    خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت اس واقعہ کی جوابدہ ہے، کے پی کے کئی علاقوں میں تعلیمی اداروں کا نہ ہونا یہ بھی وضاحت طلب ہے، تحریک انصاف کی گزشتہ برسوں کے پی میں حکومت رہی، کے پی کے اکثر علاقوں میں نقل و حمل کے لیے چیئر لفٹ کا استعمال کیا جاتا ہے اور شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت یہ ڈولی لگائی ہوتی ہیں،ان علاقوں میں نقل و حمل کے لئے متبادل سرمایہ کاری کی کمی خدشات کو جنم دیتی ہے،باقاعدہ دیکھ بھال اور مرمت ، اس کا بھی خیال رکھنا چاہئے،کیا خیبر پختونخواہ کے سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو ان مسائل کو حل کرنے کے لیے آگے بڑھنا چاہیے؟

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    صوبہ بھر کی چئیر لفٹس کے معائنہ کی ہدایت

    آرمی ریسکیو ہیلی کاپٹر کے لفٹ کے قریب پہنچتے ہی ڈولی نے ہلنا شروع کر دیا 

  • رضوانہ اور فاطمہ: خراب نظام کے دو شکار

    رضوانہ اور فاطمہ: خراب نظام کے دو شکار

    سول جج کے گھر میں کمسن 14 سالہ ملازمہ رضوانہ کے دلخراش کیس نے قوم کو صدمے میں ڈال دیا۔ اس تکلیف دہ واقعے نے جج کی اہلیہ کے ہاتھوں شدید جسمانی تشدد کی وجہ سے عوام کی توجہ حاصل کر لی، سول جج کی اہلیہ کی شناخت مرکزی مجرم کے طور پر کی گئی ۔ رضوانہ کو دوران ملازمت ڈنڈوں سے بے تحاشا مارنے کے ساتھ ساتھ جج کی بیوی کی طرف سے لاتیں اور تھپڑ بھی مارے جاتے ہیں۔ حیران کن طور پر، تشدد میں دن بدن اضافہ ہوتا رہا اور وہ کئی دنوں تک ایک کمرے میں بند رہتی تھی، اسے بھوکا رکھا جاتا تھا، اور کمرے سے باہر کسی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔ رضوانہ نے یہاں تک انکشاف کیا کہ ملازمت کے دوران اسے اپنے والدین سے ملنے کا حق نہیں دیا گیا اور اس کے زخموں کا علاج نہیں کیا گیا۔

    کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد کے بعد تحقیقات کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) قائم کی گئی۔ رضوانہ کو ملازم رکھنے والے سول جج کو سوالات کے جوابات دینے کے لیے بلایا گیا، لیکن وہ جے آئی ٹی میں پیش نہیں ہوئے۔ اس حوالے سے خدشات پیدا ہوتے ہیں کہ قانونی نظام میں موجود افراد بھی قانون کا احترام نہیں کرتے۔ ان کی اہلیہ، صومیہ عاصم کو گرفتار کر لیا گیا لیکن 100,000 روپے کے ضمانتی مچلکے دینے کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ اس نے رضوانہ پر تشدد اور ناروا سلوک کے تمام الزامات کی تردید کی، جبکہ معجزانہ طور پر رضوانہ اس خوفناک آزمائش سے بچنے میں کامیاب ہو گئی۔

    افسوسناک بات یہ ہے کہ رانی پور سے تعلق رکھنے والی 9 سالہ فاطمہ کی کہانی بھی اسی طرح کی اور ایک تاریک داستان بیان کرتی ہے، فاطمہ کو ایک امیر مقامی مذہبی رہنما کے گھر میں ایک وحشیانہ انجام کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاں اسے نہ صرف انتہائی جسمانی تشدد بلکہ جنسی زیادتی کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔ اس کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے، اور ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے عصمت دری کے بھی ثبوت ملے۔ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ اسے پوسٹ مارٹم کے بغیر ہی دفن کر دیا گیا تھا، لیکن بعد میں اس کی لاش کو نکالا گیا۔ میڈیکل رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے جسم سے ڈی این اے ٹیسٹ اور سیرولوجی کے لیے نمونے جمع کیے گئے تھے، جن میں حویلی میں رہنے والے ممکنہ مجرموں بشمول مالک، پیر اسد شاہ کی شناخت کی گئی تھی،

    رضوانہ اور فاطمہ کے کیس اس پریشان کن حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انصاف کے نظام مستقل طور پر انصاف کے وعدے کی پاسداری نہیں کرتے۔ یہ مقدمات بچوں کے حقوق اور بہبود کے تحفظ کے لیے نظام عدل کے اندر جامع اصلاحات کی فوری ضرورت کی واضح یاد دہانی کے طور پر کام کرتے ہیں، اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ گھناؤنے کاموں کے ذمہ داروں کو ان کے اعمال کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

    جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

     اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

    راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا

  • اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

    نام کتاب : اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات
    مﺅلف : عبدالمالک مجاہد
    ناشر دارالسلام انٹرنیشنل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال ، لاہور
    صفحات : 304
    برائے رابطہ : 042-37324034
    پیش نظر کتاب ” اخلاق نبوی ﷺ کے سنہرے واقعات اپنے موضوع پر شاندار ، لاجواب اور خوبصورت کتاب ہے جسے دارالسلام انٹر نیشنل کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہد نے بڑی محبت ، محنت اور جانفشانی سے ترتیب دیا ہے ۔کتاب میں اخلاق نبوی کے چیدہ چیدہ 100واقعات جمع کردیے گئے ہیں ۔ نبی ﷺ کے اخلاق وکردار کو عام کرنے ، پڑھنے اور سمجھنے کا شوق رکھنے والوں کے لیے یہ بیمثال ہدیہ ہے ۔بات یہ ہے کہ سیرت النبی ﷺ کا اصل پیغام انسانوں کے اخلاق وکردار کی اصلاح ہے ۔سیرت النبی ﷺ کا پیغام دوسروں تک پہنچانے کی ہر دور میں ضرورت رہی ہے ۔ فی زمانہ اس کی ضرورت اس اعتبار سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے کہ معاشرے میں رواداری، تحمل اور برداشت کا فقدان ہے ۔بدتہذیبی اور بداخلاقی حد سے بڑھتی جارہی ہے اس کاحل صرف ایک ہی ہے کہ نبی ﷺ کے اخلاق وکردار کو عام کیا جائے ۔ پیش نظر کتاب اس موضوع پر رہنما کتاب کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اخلاق کے معنی بے حد وسیع ہیں ۔ تمام اچھی صفات کے مجموعے کا نام اخلاق ہے ۔ دنیا کے انسانوں میں پائی جانے والی تمام اعلیٰ و ارفع صفات کو جمع کیا جائے اور پھر ان کا اللہ کے رسول ﷺ کی مبارک زندگی کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ تمام خوبیاں اللہ کے رسول ﷺ کی ذات با بر کات میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں کیونکہ آپ کی تربیت خود اللہ تعالیٰ نے فرمائی تھی ۔ آپ ﷺ کا تزکیہ اس خوبصورت انداز میں فرمایا کہ آپ اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اخلاق والے بن گئے ۔ سیرت کے حوالے سے قرآن و حدیث اور کتب سیرت و تاریخ میں بے شمار معلومات اور واقعات ملتے ہیں ۔ ان واقعات میں اللہ کے رسول ﷺ کے اخلاق کی جھلکیاں نظر آتی ہیں جن سے ہمیں آپ ﷺ کے اعلیٰ اخلاق کے بارے میں راہنمائی ملتی ہے ۔ سیرت سرور عالم ایک سدا بہار موضوع ہے ۔ ایسا موضوع جس کی خوشبو سے کبھی مسلمان سیر نہیں ہوتے ۔ اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت مطہرہ پر صدیوں سے لکھا جارہا ہے اور قیامت تک لکھا جاتا رہے گا ۔ ہر مﺅلف اپنے انداز میں اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ محبت اور پیار کا اظہارکرتا ہے اور ان کی سیرت پاک کے مختلف پہلو نمایاں کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ بلاشبہ سیرت پاک پر مختلف زبانوں پر آج تک ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں ۔ اللہ کے رسول ﷺ کے ہر پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے ۔ آپ کی مبارک زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جسے سیرت نگاروں نے بیان نہ کیا ہو ۔

    یاد رکھیے ! کسی بھی شخصیت کے بارے میں جاننا ہوکہ اس کے اخلاق کیسے ہیں تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کا برتاﺅ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ، رشتہ داروں ، دوستوں ، گھر والوں ، ہمسایوں اور مخالفین کے ساتھ کیسا ہے ۔ سب سے پہلے اس کے اخلاق کے بارے میں معلوم کیا جاتا ہے ۔ جہاں تک اللہ کے رسول ﷺ کا تعلق ہے تو ان کی تربیت خود اللہ تعالیٰ نے فرمائی تھی ۔ آپ کا تزکیہ اس خوبصورت انداز میں فرمایا کہ آپ ﷺ اس کائنات میں سب سے اعلیٰ اخلاق والے بن گئے ۔اپنے اخلاق وکردار کو سنوارنے کے لیے زیر تبصرہ کتاب ” اخلاق نبوی ﷺ “ کے سنہرے واقعات “ ہمارے لئے مشعل راہ ہے ۔کتاب کے مﺅلف عبدالمالک مجاہد کہتے ہیں میں نے پوری کوشش کی ہے کہ اس کتاب میں کوئی من گھڑت ، موضوع ، ضعیف یا خود ساختہ واقعہ درج نہ ہونے پائے ۔ دارالسلام کی اعلیٰ روایات کے مطابق یہ کتاب دیدہ زیب سرورق اور عمدہ جلد بندی کے ساتھ شائع کی گئی ہے ۔ یہ کتاب ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے مرد وخواتین ، بچوں اور جوانوں کےلئے لاجواب تحفہ ہے ۔کتاب کی اہمیت کااندازہ کتاب میں دیے گئے موضوعات سے کیا جاسکتا ہے ۔ کتاب میں شامل کئے گئے چند ایک واقعات کے عنوانات درج ذیل ہیں : ” پیارے بچے ! جاﺅ میرا یہ کام تو کر آﺅ ، جاﺅ بہن ! تمہاری خاطر ان مجرموں کو معاف کیا ، دشمن جاں پر مہربانی ونوازش ، پیارے ساتھی تم شادی کیوں نہیں کرلیتے ، جب بیٹا باپ کے سامنے تلوار سونت کر کھڑا ہوگیا ، انھیں جب بھی دیکھا آنکھیں بے اختیار بہنے لگیں ، بھٹکا ہوا خوش قسمت راہی ، غزوہ احد سے بھی زیادہ مشکل دن ، امام الانبیاءکی پاکیزہ جوانی ، میں تو نبوت کی نشانیاں تلاش کررہا تھا ، بچوں پر شفقت اعلیٰ اخلاق کی علامت ، معمولی چرواہے کے لیے منصب جلیل ، گھر میں آکر گالی دینے والوں کے لیے بھی معافی ، بہن کااکرام واحترام ، وہ جو اللہ کے رسول ﷺ کو قتل کردینا چاہتی تھی ، باوفااہلیہ کی یادیں ، غلاموں ، یتیموں اور مسکینوں کے والی “ ۔ کتاب میں دیے گیے باقی موضوعات بھی اسی طرح دلچسپی کے حامل ہیں ۔ موضوع اور واقعاتی اعتبار سے اس کتاب کا ہر گھر میں ہونا اور ہرفرد کے لیے اس کا مطالعہ بے حد ضروری ہے ۔
    نام کتاب : اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات

  • ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کیجیے

    ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کیجیے

    پاکستان ،ان دنوں کئی مسائل کا شکار ہے، ایک طرف دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر ہے تو دوسری جانب مہنگائی، بے روزگاری نے غریب عوام کا جینا دو بھر کر دیا ہے، عوم سے غربت کے خاتمے کے وعدے کر کے حکومتیں کرنے والے عوام کے ساتھ ہر پانچ سال بعد وعدے ہی کرتے ہیں مگر عملی جامہ پہنانے کی توفیق نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام کے کسی بھی حکومت میں مسائل حل نہ ہوئے اور نہ ہی غربت، بے روزگاری میں کمی آ سکی،ایسے میں فلاح و رفاہی ادارے ، این جی اوز جو خدمت خلق کے جذبے سے سرشار عوام کی خدمت میں مصروف عمل ہیں انکی خدمات لائق تحسین ہیں،

    ہیلپنگ ہینڈ کا معذور افراد کی بحالی کا پروگرام
    گزشتہ دنوں لاہور سے محترم سید امجد بخاری کی قیادت میں لاہور کے صحافیوں کے ہمراہ سوات کا دورہ کیا، دورے کے دوران جہاں وادی سوات کو دیکھنے کا موقع ملا وہیں ایک فلاحی تنظیم "ہیلپنگ ہینڈ” کے کام کو بھی قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ، تین روزہ دورے میں ہیلپنگ ہینڈ کے تین مختلف پروگراموں میں شرکت کی، سب سے پہلے تالاش میں ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام معذور بچوں کے لئے بنائے گئے سنٹر کا دورہ کیا،معذوری رب کی طرف سے آزمائش،لیکن ہمارے معاشرے میں معذوری کو عیب سمجھا جاتا ہے ایسا ہر گز نہیں، میں خود دو ڈس ایبل بچوں کا والد ہوں، بڑے بیٹے نے سپیشل ایجوکیشن میں میٹرک کا امتحان رواں برس اے گریڈ میں پاس کیا ہے،چھوٹا بیٹا بھی زیر تعلیم ہے، سپیشل بچوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا جائے تو وہ معاشرے کے کارآمد شہری ثابت ہوتے ہیں،ہیلپنگ ہینڈ بھی معذور بچوں کی فلاح کے لئے کام کر رہی ہے،تالاش میں وسیع و عریض مقام پر معذور بچوں کے لئے بنائے گئے سنٹر میں نہ صرف بچوں کا علاج معالجہ کیا جاتا ہے بلکہ انکی تعلیم و تربیت کا انتظام بھی کیا گیا ہے،سنٹر میں موجود ڈاکٹر طاہر نے اس موقع پر صحافیوں کو انتہائی مختصر بریفنگ دی اور سنٹر کا وزٹ کروایا، ڈاکڑوں کی ٹیم کیسے معذور بچوں کا علاج معالجہ دیکھ بھال کرتی ہے؟ اسکا بھی معائنہ کروایا گیا، ڈاکٹر طاہر نے بریفنگ میں بتایا کہ ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام پاکستان کے سات شہروں میں معذور بچوں کے لئے سنٹر ہیں، سماعت سے متاثرہ بچوں کا بھی علاج معالجہ کروایا جاتا ہے تو وہیں ذہنی معذور،چل نہ سکنے والے بچوں کا بھی علاج کیا جاتا ہے، تالاش،شہید بینطیر آباد، کراچی، کوئٹہ ، مانسہرہ ، لکی مروت بنوں، بہاولپور اور چکوال، مظفر آباد میں معذور بچوں کے لئے سنٹر ہیں جبکہ گلگت میں اگلے سال سنٹر بنانے کا پروگرام ہے جو جلد ہی کام شروع کر دے گا، ہیلپنگ ہینڈ کن علاقوں میں سنٹر بنا رہی ہے اس حوالہ سے ڈاکٹر طاہر کا کہنا تھا کہ ہم نے وہ علاقے منتخب کیے جہاں معذوری کی ریشو ہائی ہے۔ کے پی میں لوئر دیر میں معذوری کی ریشو زیادہ تھی اسلیے یہاں سنٹر بنایا،انہوں نے شکوہ کیا کہ معذور افراد کو وہ سہولیات معاشرے میں نہیں دی جاتیں جو انہیں ملنی چاہیے،معذور بچوں کے ب فارم تو بن جاتے ہیں لیکن انکا معذوری سرتفکیٹ نہیں بنوایا جاتا، معذور بچوں کا نارمل بچوں کی طرح خیال نہیں رکھا جاتا ، جو انکا حق ہے، ڈاکٹر طاہر نے تالاش میں سنٹر بارے مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ 1650 بچے معذور ہمارے پاس رجسٹرڈ ہیں ہمارے پاس ڈاکٹر ہیں جو بچوں کے علاج انکی ضروریات کا خیال کرتے ہیں بچوں کو واکر، ہیئرنگ ایڈ، وہیل چیئر فراہم کرتے ہیں، تھراپی بھی کروائی جاتی ہے،برتھ سرٹفکیٹ اور شناختی کارڈ بھی بنواتے ہیں ہمارے پاس جو 1650 بچے تھے ان میں سے 10 فیصد کے پاس کارڈ تھے،ہم نے باقیوں کے بھی بنوائے اب سب بچوں کے پاس ڈس ایبل کارڈ ہیں،جو بچے پڑھ سکتے ہیں انکو فری پک اینڈ ڈراپ کی سہولت دیتے ہیں یونیفارم بھی دیتے ہیں، کوالیفائیڈ میڈیکل ڈاکٹر موجود ہیں جو ان بچوں کا علاج معالجہ کرتے ہیں،تالاش کے سنٹر میں 200 بچے ہیں، تمام سہولیات دیتے ہیں جو انکی ضرورت ہوتی ہے۔ڈاکٹر طاہر کا یہ بھی کہنا تھا کہ دنیا میں رہتے ہوئے اخروی زندگی بہتر کریں۔ ہیلپنگ ہینڈ اگر محدود وسائل کے ساتھ کام کر سکتا ہے تو حکومت کو بھی سوچنا چاہئے اور معذور افراد کی زندگی بہتر بنانے کے لئے کام کرنا چاہئے، معذوری کیوں ؟ اس پر ڈاکٹر طاہر کا کہنا تھا کہ معذوری کی ریشو مختلف ہیں کزن میرج بھی کہا جاتا ہے پانی کے ایشوز بھی ہو سکتے ہیں اس پر تحقیق کی ضرورت ہے،فیملی ان بچوں کو چھپا کر رکھتی ہے پڑھے لکھے لوگوں نے بچوں کو چھپا کر رکھا کیونکہ لوگ طعنے دیتے ہیں، جو بچے پڑھتے ہیں انکو پڑھائی کے ساتھ ساتھ ،سکل کے ساتھ ٹول بھی دیتے ہیں کمپیوٹر کی سکل، الیکٹریشن ، سیلز مین جو بچہ جو کام کر سکتا ہے اسکو کروایا جاتا ہے،تالاش کے سنٹر میں بریفنگ کے بعد ڈاکٹر معذور بچوں کا علاج کیسے کرتے ہیں؟ انکی تھراپی کیسے کی جاتی ہے؟ سب عملی طور پر صحافیوں کے سامنے کیا، سنٹر میں بچوں کے لئے تھراپی کے لئے مشینیں موجود ہیں ، ایکسرسائز بھی کروائی جاتی ہے، سماعت سے متاثرہ بچوں کو سپیچ تھراپی بھی کروائی جاتی ہے، سنٹر میں ایمبولینس بھی موجود ہے جو بچوں کو گھر سے سنٹر لانے اور واپس چھوڑنے کے لئے ہے، غرض معذور بچوں کے لئے ہیلپنگ ہینڈ مثالی کام کر رہی ہے

    جماعت اسلامی کے رہنما بھی ہیلپنگ ہینڈ کی خدمات کے معترف
    تالاش سے نکلے تو راستے میں جماعت اسلامی کے رہنما ،سابق صوبائی وزیر بلدیات عنایت اللہ خان نے ظہرانہ دیا اور وہ بھی ہیلپنگ ہینڈ کے کاموں کی تعریف کئے بنا نہ رہ سکے، جماعت اسلامی کی اگرچہ الخدمت فاؤنڈیشن ملک بھر میں کام کر رہی ہے تا ہم عنایت اللہ خان ہیلپنگ ہینڈ کے بھی مداح نظر آئے اور انکے کام کو سراہا، عنایت اللہ خان کا کہنا تھا کہ ہیلپنگ ہینڈ اس علاقے میں بہت اچھا کام کر رہی ہے پانی کے منصوبوں پر کام جاری ہے ، انکا کام پھیلتا جا رہا ہے ، ہیلپنگ ہینڈ کے کوالٹی کے کام ہیں جن میں وسعت آ رہی ہے اس طرح کی آرگنائزیشن کو علاقے میں ویلکم کرتا ہوں ریاست ہر کام نہیں کر سکتی کچھ چیزیں کمیونٹی کو کرنی پڑتی ہیں پبلک ہیلتھ کی بڑی بڑی سکیمیں ہیں لیکن وہ فنکشنل نہیں۔ ہیلپنگ ہینڈ اور دیگر این جی اوز کے کام عوامی مدد سے ہوتے ہیں

    ہیلپنگ ہینڈ کا آرفن پروگرام،شائننگ سٹارز
    ہیلپنگ ہینڈ یتیم بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے بھی کام کر رہی ہے،کالام سے واپسی پر مدین میں دریا کنارے قیام کیا ، وہاں ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام یتیم بچوں کے اعزاز میں مینگو پارٹی تھی، جس میں صحافی بھی شریک ہوئے، جب پارٹی میں پہنچے تو ہال میں کرسیاں لگی ہوئی تھیں، اور معصوم بچے جن میں لڑکے اور لڑکیاں بھی شامل تھیں،وہ کرسیوں پر ایک ترتیب سے بیٹھے تھے ،کوئی شور شرابا نہیں تھا، کوئی ہنگامہ نہیں تھا یہ ہیلپنگ ہینڈ کی تربیت کا ہی اثر تھا کہ بچوں نے صحافیوں کے پہنچنے پر انکا پرجوش استقبال کیا اور پھر اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے،اس موقع پر محترم سید عابد بخاری نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آج کی اس پارٹی میں موجود بچے صرف مدین کی ایک یونین کونسل سے آئے ہیں، مدین سے 200 یتیم بچوں کی کفالت ہیلپنگ ہینڈ کر رہی ہے، انکو شائننگ سٹار کہتے ہیں اور تین کیٹگری میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ ایج گروپ کے تحت انکی ایکٹوٹیز کی جاتی ہیں،بڑے بچوں کو سکل سکھاتے ہیں کورسز کرواتے ہیں وہ یونیورسٹی لیول پر جائیں تو بہتر سکل انکے پاس ہو،کچھ بچے حفظ بھی کر رہے ہیں دس ہزار چار سو بچوں کو پورے پاکستان میں سپانسر کر رہے ہیں ہیلپنگ ہینڈ کا آرفن کا پروجیکٹ 50 سے زائد شہروں میں چل رہا ہے، بچوں کی تعلیم، خوراک کا انتظام کیا جاتا ہے، یتیم بچوں کے لئے ہیلپنگ ہینڈ انکے گھر والوں کی مالی اعانت کرتی ہے اور انکی کفالت کرتی ہے،

    یتیم بچوں کی کفالت بلاشبہ نیک کام ہے اور اس نیک کام کو جاری و ساری رکھنے کے لئے ہیپلنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے،ہیلپنگ ہینڈ پاکستان میں قدرتی آفات میں بھی ریلیف و بحالی کے کام کر رہی ہے، بلوچستان سندھ کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں گھروں کی تعمیر جاری ہے تو وہیں واٹر پروجیکٹ کے حوالے سے بھی منصوبے مکمل ہوئے ہیں، سوات میں بھی پانی کے منصوبے مکمل کئے گئے جس کی عنایت اللہ خان نے بھی تعریف کی،پاکستان کے دیگر دور دراز علاقوں جہاں شہریوں کو پانی کے مسائل ہیں وہان واٹر پروجیکٹ پر کام جاری ہے،

    ہیلپنگ ہینڈ کا غریب عوام کے لئے مفت بازار
    ہیلپنگ ہینڈ سفید پوش اور غریب عوام کے لئے ایک مال آف ہیومنٹی پروگرام بھی کرتی ہے، ایک ایسا بازار جہاں گاہک تو آتے ہیں خریدار تو ہوتے ہیں لیکن پیسے لینے والا کوئی نہیں ہوتا، سوات میں ہی ایک ایسا ہی بازار دیکھنے کو ملا، ایک سکول میں مہنگے کپڑے، جوتے، کھلونے موجود تھے، میزوں پر سامان موجود تھا ، بچوں کے لئے کھلونے بھی موجود تھے،اس بازار میں خواتین اور بچے آئے انہوں نے اپنی ضرورت کے مطابق کپڑے، جوتے، کھلونے لئے اور جاتے رہے، کوئی روکنے والا، کوئی پیسے لینے والا نہیں تھا بلکہ جو بھی آتا اپنی ضرورت کی چیز اٹھاتا اور ہیلپنگ ہینڈ کو دعائیں دیتا نکل جاتا، ٹوپی والے برقع میں آئی خواتین کی کثیر تعداد موجود تھی مگر اس مفت کے بازار میں کوئی دھکم پیل نظر نہیں آئی، اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام یہ بازار کئی شہروں میں لگایا جاتا ہے اور اسکے لئے علاقے میں سروے کیا جاتا ہے، مستحق خاندانوں کو سروے کے بعد ایک ٹوکن دیا جاتا ہے اور پھر انہیں بازار لگنے کی اطلاع دی جاتی ہے، شہری آتے ہیں اور ضرورت کی چیزیں لے کر چلے جاتے ہیں، لاہور کے بازاروں میں جو سوٹ،چھ سات ہزار کا مل رہا ہے وہ مفت بازار میں ہیلپنگ ہینڈ مفت دے رہی تھی

    ہیلپنگ ہینڈ کے رفاہی کام وسیع تر ہیں اور انکا نیٹ ورک ملک بھر میں پھیلا ہوا ہے، ہیلپنگ ہینڈ کے پاکستان میں میڈیا ہیڈ سید عابد بخاری سے بات ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ "ہیلپنگ ہینڈ خدمت کے جذبے کے تحت کام کر رہی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ غریب عوام کو خوشیاں دے سکیں انکے چہروں پرمسکراہٹ لا سکیں. ہیلپنگ ہینڈ کے زیر اہتمام،یتیم بچّوں کی کفالت کا پروگرام، معذور افراد کی جامع بحالی، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، ایمر جینسی ریلیف، تعلیمی معاونت، معذور بچّوں کا علاج،اسکلز ڈویلپمنٹ اورہیلتھ کیئر پروگرامز،منصوبے جاری ہیں،”

    آئیے، ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کریں
    مہنگائی اور نفسا نفسی کے اس دور میں خدمت خلق کرنے والوں کو جہاں رب کریم اجر دے گا وہیں دنیا میں انہیں غریب عوام کی دعائیں بھی مل رہی ہیں ، حکومتیں تو صرف دعوے کرتی ہیں لیکن ہیلپنگ ہینڈ جیسی این جی اوز اپنی استطاعت اور عوام کے تعاون سے عوام کی خدمت میں مصروف ہیں، اس میں انکا کوئی ذاتی مفادنہیں نہ ہی انہیں ووٹ یا کرسی کا لالچ ہوتا ہے بلکہ صرف رضائے الہی مقصود ہوتی ہے،بلا شبہ ہیلپنگ ہینڈ کے رضاکار ملک و قوم کی خدمت کر کے اللہ رب العزت کے ہاں سرخرو ہو رہے ہیں ۔خدمت کے اس عظیم کام کو جاری رکھنے کے لئے پاکستانی قو م کو چاہئے کہ خدمت کے اس کام کو مزید وسیع تر کرنے کے لئے ہیلپنگ ہینڈ کے ہاتھ مضبوط کرے۔اہل پاکستان کو نیکی کے اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہو گا،تا کہ ہیلپنگ ہینڈ کے جو منصوبہ جات جاری ہیں انکو پورا کیا جا سکے۔

  • بھارت کی چاول کی برآمد پر پابندی، عالمی سطح پر اناج کی سپلائی پر دباؤ

    بھارت کی چاول کی برآمد پر پابندی، عالمی سطح پر اناج کی سپلائی پر دباؤ

    بھارت کا غیر سفید باسمتی چاول کی برآمد پر پابندی لگانے کا فیصلہ ممکنہ طور پر عالمی غذائی بحران کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ پابندی چاول کی گھریلو قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو کم کرنے کے لیے لگائی گئی تھی، شدید بارشوں سے فصلوں کو نقصان پہنچا اس اقدام سے بھارت سے چاول کی برآمدات کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ کم ہو جائے گا، جو عام طور پر عالمی اناج کی تجارت کا 40 فیصد ہوتا ہے۔

    بھارتی چاول کے اہم خریدار نائجیریا، چین اور فلپائن ہیں. جبکہ دیگر ممالک ضرورت پڑنے پر اپنی گھریلو پیداوار کو پورا کرنے کے لیے بھارتی چاول کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔ ماہرین کے تجزیے کے مطابق، پابندی کے نفاذ کے ساتھ، اناج کی قیمتوں میں 15 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

    صورتحال اس وجہ سے ابتر ہے کہ نئی فصل مزید تین ماہ تک دستیاب نہیں ہوگی۔ پاکستان جو چاول کا ایک اور بڑا برآمد کنندہ ہے میں بارشیں اور سیلاب ہے، بھارت میں بھی مون سون کی بارشیں، چاول کی پیداوار کے لیے اضافی مشکلات کا باعث ہیں۔ بھارت، دنیا کے دوسرے سب سے بڑے چاول پیدا کرنے والے ملک ہونے کی حیثیت سے، اس بات کا خدشہ ہے کہ غیر معمولی بارشیں چاول کی فصلوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے،
    rice02

    مزید یہ کہ درآمد کنندگان کو کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے پہلے ہی زیادہ اخراجات کا سامنا ہے۔ بھارتی چاول کی برآمدات پر پابندی سے سپلائی کرنے والے ممالک پر اس نازک دور میں چاول کی مانگ پوری کرنے کے لیے مزید دباؤ بڑھ جاتا ہے۔اس پابندی کا وقت خاص طور پر تشویشناک ہے، کیونکہ بھارت آنے والے مہینوں میں اہم ریاستی انتخابات، اور اگلے سال عام انتخابات کی تیاری کر رہا ہے۔ مودی کی زیر قیادت ہندوستانی حکومت اس حساس سیاسی وقت کے دوران اشیائے خوردونوش کی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے بے چین ہے۔

    پابندی بحیرہ اسود کے اقدام کی تجدید نہ ہونے، اور گندم کی سپلائی متاثر ہونے کے ساتھ موافق ہے. بھارت کے چاول کی برآمدات روکنے کے فیصلے سے عالمی اناج کی سپلائی میں مزید تناؤ آنے کی توقع ہے۔تاہم، بھارت نے پابندی کو نافذ کرنے میں حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے. کیونکہ اس نے کئی افریقی ممالک کوچاولوں کی کچھ اقسام برآمد کیے، اور ایک قسم کو بنیادی طور پر بنگلہ دیش کو برآمد کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بھارت اور دیگر افریقی ممالک کے درمیان کسی بھی منفی سفارتی اثرات سے بچنا ہے، جن کے ساتھ بھارت مثبت تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہا ہے

    rice04

  • درد ،ناکامی،اور تجربات ،تحریر:صدف ابرار

    درد ،ناکامی،اور تجربات ،تحریر:صدف ابرار

    درد ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی حسی اور جذباتی تجربہ ہے جو جسم کے لیے ایک وارننگ کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ ایک ناخوشگوار احساس ہے جو عام طور پر ٹشو کو پہنچنے والے نقصان یا ممکنہ چوٹ سے منسلک ہوتا ہے، یہ انسان کو نقصان سے بچانے کے لیے کارروائی کرنے پر اکساتا ہے۔ درد مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے ، جیسے ہلکی تکلیف سے لے کر شدید اذیت تک، ہو سکتا ہے۔درد انسانی تجربے کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔ اپنی پوری زندگی میں، ہمیں درد کی مختلف شکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، چاہے وہ جسمانی ہو، جذباتی یا نفسیاتی ۔ اگرچہ درد سے بچنے کے طریقے تلاش کرنا ایک فطری عمل ہے، لیکن یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ درد ایک طاقتور استاد بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارے درد تکلیف یا ناکامی کو قبول کرنا اور اس سے سیکھنا ذاتی ترقی، خود اعتمادی یا اپنے اور دوسروں کے بارے میں مزید جاننے کا باعث بن سکتا ہے، درد سے سیکھنے کا پہلا قدم ہماری زندگی میں اس کی موجودگی کو تسلیم کرنا ہے۔ درد ایسی چیز نہیں ہے جسے ایک طرف رکھ کر نظر انداز کیا جا سکے، لہذا اسے انسانی تجربے کے ایک درست اور ضروری پہلو کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ کیو نکہ درد یا ناکامی سے انکار، یا اسے دبانا جذباتی جبر اور حل نہ ہونے والے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

    درد کو زندگی کے ایک فطری حصے کے طور پر قبول کرنا ہمیں ہمت اور عزم کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنے کی قوت عطا ہوتی ہے، درد کی جانچ کرنا اپنے آپ اور ہمارے حالات کے بارے میں قیمتی بصیرت فراہم کرتا ہے۔ درد مختلف ذرائع سے ہوسکتا ہے، جیسے ماضی کے صدمات، ناکام تعلقات، مایوسی، یا جسمانی بیماریاں۔ بنیادی وجوہات کو سمجھنے سے، ہم یہ واضح کرسکتے ہیں کہ بعض واقعات یا حالات ہم پر کس طرح گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ جو سمجھ بوجھ اور ترقی کے دروازے کھولتا ہے، درد سے سیکھنا لچک کو فروغ دیتا ہے – جیسے مشکلات اور ناکامیوں سے واپس مقابلہ کی صلاحیت۔ جیسا کہ ہم درد کا مقابلہ کرتے ہیں اور اس پر قابو پاتے ہیں، ہم طاقت اور موافقت پیدا کرتے ہیں۔ لچک ہمیں زیادہ اعتماد اور عزم کے ساتھ مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت دیتی ہے۔ درد پر قابو پانے کا ہر تجربہ ہماری زندگیوں کے لیے ایک لچکدار بنیاد بناتے ہوئے ایک عمارت کا حصہ بن جاتا ہے۔ درد کا تجربہ ہمارے اندر ہمدردی پیدا کر سکتا ہے۔ جب ہم خود درد کو جان لیتے ہیں نا تو ہم دوسروں کے دکھوں سے بھی زیادہ ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔ ہمدردی کا یہ بلند احساس ہمیں لوگوں کے ساتھ گہری سطح پر جڑنے کے قابل بناتا ہے، اور دوسروں کی مدد اور سمجھ بوجھ کی پیشکش کرنے کی ہمت دیتا ہے۔ ہمارے درد کے تجربات ایک پل بن جاتے ہیں جو ہمیں مشترکہ انسانیت کے وسیع تر احساس سے جوڑتا ہے۔

    درد ذاتی ترقی کے لیے ایک طاقتور دوا کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ ہمیں اپنے کمفرٹ زون سے باہر دھکیلتا ہے اور ہمیں اپنے عقائد، انتخاب اور ترجیحات کا دوبارہ جائزہ لینے پر مجبور کرتا ہے۔ جب ہم درد سے گزرتے ہیں، تو ہم خود سے آگاہی اور خود شناسی کا ایک نیا احساس پیدا کرتے ہیں۔ درد کے ساتھ ہر تصادم سیکھنے اور ذاتی ارتقاء کا موقع فراہم کرتا ہے۔
    ناکامی یا درد سے سیکھا ہوا سبق ہمیں اپنی زندگیوں اور دوسروں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کی ترغیب دے سکتا ہے۔ درد ہمیں مقصد یا جذبے کے گہرے احساس کو دریافت کرنے کی طرف لے جا سکتا ہے، جو ہمیں معاشرے میں بامعنی شراکت کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اپنے درد کو مقصد میں بدل کر، ہم اپنی جدوجہد میں معنی تلاش کرتے ہیں اور اپنے ارد گرد کی دنیا پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں،

    درد مشکل اور تکلیف دہ ہو سکتا ہے، لیکن یہ ایک طاقتور استاد بھی ہے۔ درد کا ہر تجربہ خود کی عکاسی اور ذاتی تبدیلی کا ایک موقع ہے۔ اپنے درد کو تسلیم کرنے اور اس سے سیکھنے سے، ہم مشکلات کو طاقت میں بدل سکتے ہیں اور اپنی زندگی میں مقصد کے نئے مواقعوں کو تلاش کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، درد سے جو سبق ہم سیکھتے ہیں وہ بالآخر ہمیں ایک مزید خود کو پہچاننے اور اپنی شخصیت کو مزید نکھارنے اور نہ ختم ہونے والی کا میابیوں کی طرف گامزن کر سکتا ہیں،

  • یوکرین ،امن کا عمل کامیاب ہو گا؟

    یوکرین ،امن کا عمل کامیاب ہو گا؟

    یوکرین ،امن کا عمل کامیاب ہو گا؟
    اقوام متحدہ کی ایک انتہائی تشویشناک رپورٹ کے مطابق، بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے نتیجے میں 136 بچے ہلاک ہوئے۔ یوکرین اپنے اختیار میں ہر چیز کے ساتھ لڑائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس انسانی تباہی کا واحد نتیجہ مزاکرات سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، میدان جنگ میں نہیں۔

    روس کے ساتھ جاری تنازعہ کے دوران شہریوں کی جانوں، اور بنیادی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کے ساتھ یوکرین کی صورت حال بلا شبہ افسوسناک ہے۔ جدہ میں ہونے والےمزاکرات امن کے قیام اور جنگ کا حل تلاش کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ یہ بات دلچسپ ہے کہ بھارت اس میں حصہ لینے والا ہے. جیسا کہ امریکہ میں بھارت کی سابق سفیر نروپما راؤ نے CNBC کو واضح طور پر کہا کہ، اس بات کا امکان نہیں ہے کہ نئی دہلی روس کی دفاعی صنعت کے ساتھ اپنے تعلقات ترک کرے، کیونکہ کریملن یوکرین میں اپنا مسلح تنازعہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

    جدہ میں ہونے والی آئندہ سمٹ میں جہاں مختلف ممالک کی شمولیت، مذاکرات میں شامل ہونے پر آمادگی کا اشارہ دیتی ہے، وہیں مذاکرات کے اس دور میں روس کی عدم شرکت کی بھی وجوہات ہوسکتی ہیں۔

    روس کے ان مخصوص مذاکرات کا حصہ نہ بننے کی دو ممکنہ وجوہات معلوم ہوتی ہیں۔ سب سے پہلے، اتحاد کا یہ ماننا ہو سکتا ہے کہ روس کو شروع سے شامل کرنا پرامن حل کے لیے حکمت عملی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ دوسرا، وہ روس کو اس وقت شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہوں گے جب کچھ اتفاق رائے ہو جائے اور ایک امن منصوبہ پیش کیا جا سکے۔

    جنگیں ختم کرنے کے لیے مذاکرات درحقیقت ایک بنیادی ذریعہ ہیں. لیکن ان کی تاثیر کا انحصار اس بات پر ہے کہ دونوں فریق ایک مشترکہ مقصد کے لیے کام کرنے کے لیے تیار ہیں، اور زیر بحث مسائل پر ایک ہی صفحے پر ہیں۔ روس کے خدشات کو نظر انداز کرنا کسی بھی امن عمل کی کامیابی کو ممکنہ طور پر خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ مذاکرات کی پچھلی کوششیں، جیسے کہ 2014 میں منسک معاہدے، ناکام ہو گئے کیونکہ انہوں نے کریملن کی طرف سے اٹھائے گئے مسائل کو مناسب طریقے سے حل نہیں کیا۔

    روس یوکرین کو اپنی سلطنت کا حصہ سمجھتا ہے اور وہ اپنے دعوے کو آسانی سے ترک نہیں کرے گا۔ تاہم، برسوں کی جنگ اور کیف کی حمایت کے بعد، یوکرین کے حامیوں کے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ تنازعہ کا پرامن حل تلاش کریں۔ امن عمل کی کامیابی کا بہت زیادہ انحصار مشترکہ بنیاد تلاش کرنے اور یوکرین اور روس دونوں کے بنیادی خدشات کو دور کرنے پر ہوگا۔

    یوکرائن کا منظم امن عمل، نتائج دے سکتا ہے اگر وہ تمام متعلقہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کا انتظام کرے، اور تنازعہ کو ہوا دینے والے بنیادی مسائل کو حل کرے۔ یہ ایک مشکل کام ہو گا، لیکن جنگ کی وجہ سے انسانی مصائب اور تباہی کے خاتمے کے لیے سفارت کاری کے ذریعے امن کا حصول بہت ضروری ہے۔

  • ویل ڈن سمیرا صدیق مگر مستقبل میں احتیاط ،تحریر:- عزیزخان ایڈووکیٹ

    ویل ڈن سمیرا صدیق مگر مستقبل میں احتیاط ،تحریر:- عزیزخان ایڈووکیٹ

    دوستو آپ نے انڈین فلم کا ایک گانا تو ضرور سُنا ہوگا ”
    پاپا کہتے ہیں بڑا نام کرے گا بیٹا ہمارا ایسا کام کرے گا” اور اسی گانے کو چھانگا مانگا چوکی کوڑے سیال پیٹرولنگ پوسٹ کی کانسٹیبل سمیرا صدیق نے سچ کر دیکھایا سمیرا صدیق نے پاکستان کی تاریخ میں فرض شناسی کی انوکھی مثال قائم کردی۔

    خبر کے مطابق پنجاب ہائی وے پیٹرول پولیس کی ہیڈ کانسٹیبل سمیرا صدیق ناکے پر کھڑی چیکنگ کررہی تھیں کہ اسی دوران اچانک ان کے والد صاحب موٹر سائیکل پر رونما ہوئے سمیرا نے دیکھا کہ والد صاحب نے ہیلمٹ نہیں پہنا ہوا تو اُس کے دماغ میں پاسنگ آوٹ پریڈ پر اُٹھایا حلف گونج اُٹھا کہ "قانون کی راہ میں سگا باپ بھی آجائے تو اُسے معاف نہیں کرنا "چناچہ سمیرا نے فرض کی راہ میں سگے باپ کو قربان کرنے کا فیصلہ کرلیا اُس نے ساتھ کھڑی ساتھی کانسٹیبل کو کہا ویڈیو بناو میں زرا ابا جی کا چالان کر لوں اور پھر ہیلمٹ نہ پہننے کی پاداشت میں سمیرا نے اپنے والد کا چالان کردیا اس پر بھی سمیرا کا دل نہ بھرا ساتھ جرمانہ کی رقم مبلغ دو سو روپے بھی اباجی سے وصول کرلی جو صدیق والد سمیرا نے ہنسی خوشی بیٹی کو ادا کردی

    سمیرا صدیق کے والد نے کہا کہ میری بیٹی نے میرا چالان کیا اور 200 روپے بھی وصول کیے، مجھے خوشی ہوئی ہے میری بیٹی نے ایسا کیا قانون کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ باپ ہو یا ماما ہو سب کے لیے ایک ہی قانون ہونا چاہیے میں آئندہ میں رات کو بھی ہیلمٹ پہن کر سوں گا اور قانون کبھی نہیں توڑوں گا

    لیڈی کانسٹیبل کا کہنا تھا کہ اگر میرے گھر والے بھی قانون پرعمل درآمد نہیں کریں گے توان کے ساتھ بھی کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔

    میں لیڈی کانسٹیبل سمیرا کی فرض شناسی اور قانون پر عملدرامد کے اس جزبہ کی قدر کرتا ہوں اور ایک مشورہ بھی دیتا ہوں بیٹا یہ غریب تو آپ کا اپنا ابا تھا جس نے خاموشی سے چالان کروایا اور جرمانہ بھی ادا کردیا لیکن اگر تُم نے اسی طرح کی فرض شناسی میں کبھی کسی مریم نواز کے ابا،بلاول کے ابا،قاسم کے ابا،مولانا مسعود کے ابا یا اُنکی پارٹی کے دیگر اباوں کا چالان کرنے کی کوشش بھی کی تو نہ یہ چالان بک رہے گی اور نہ چالان کرنے والی سمیرا صدیق