Baaghi TV

Category: متفرق

  • "ایہہ پُتر روز نئیں جمدے” تحریر: اعجازالحق عثمانی

    "ایہہ پُتر روز نئیں جمدے” تحریر: اعجازالحق عثمانی

    قارئین کرام! جب پانچ ہزار طلب علموں کو ڈیجیٹل ہنر سکھانے والے اور لاکھوں ڈالرز کا زرمبادلہ پاکستان لانے والے استاد پر اپنے ہی ملک کی زمین تنگ کر دی جائیں۔ اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہو جائے کہ "ہم اپنا ملک چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں”۔ تو پھر لگتا ہے کہ جالب نے ٹھیک کہا تھا کہ

    یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
    اے چاند یہاں نہ نکلا کر

    تنویر نانڈلہ نامی نوجوان جو ملتان کے ایک گاؤں میں انتہائی متوسط گھرانے میں پیدا ہوا۔ تعلیم حاصل کرنے کا شوق تھا۔مگر مالی وسائل کی وجہ سے بہت سی مشکلات کا سامنا رہا۔ مگر ہمت نہ ہاری۔ دیکھتے دیکھتے اس نوجوان نے آئی ٹی کی دنیا میں دھوم مچا دی۔ اپنی انتھک محنت کے باعث پاکستان کا نمبر ون بلاگر بنا، اور پھر اسے حکومت پاکستان نے "پرائڈ آف پاکستان” سے بھی نوازا۔ مگر مٹی سے محبت کرنے والے اس نوجوان کو، اب اپنے ہی ملک میں رہنے نہیں دیا جارہا۔ ملتان کے ایک مقامی ایم پی اے کی پشت پناہی رکھنے والا ایک قبضہ مافیا گروپ پچھلے کئے برسوں سے تنویر نانڈلہ اور ان کے خاندان کے خلاف انتقامی کارروائیاں کررہا ہے۔ کچھ برس پہلے بھی تنویر نانڈلہ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا،مگر خوش قسمتی سے پاکستان کا یہ قیمتی آساثہ بچ نکلا۔ گزشتہ روز تنویر نانڈلہ نے فیس بک پر ایک ویڈیو اپلوڈ کی۔ جس میں انکا کہنا تھا کہ میرے بھائی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔مگر جب گولی انھیں نہ لگی تو تشدد کرکے ان کا سر پھاڑ دیا گیا۔اس ویڈیو میں تنویر نانڈلہ نے مزید کہا کہ پولیس بھی انہیں قانونی مدد فراہم نہیں کر رہی۔اور نہ ہی تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ تنویر جیسے ذہین نوجوان کی اس ملک میں حالت دیکھیے اور ماتم کیجیے کہ یہ وہ نوجوان ہے، جسے اس ملک کا خواب دیکھنے والے علامہ اقبال نے شاہین کہا تھا۔ اقبال نے ایسے ہی نوجوانوں کے لیے کہا تھا کہ:

    عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
    نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

    یہ نوجوان تنویر نانڈلہ بھی اقبال کے شاہین کی طرح اپنی منزل کےلیے محنت کرتا رہا۔اور اس نے نہ صرف اپنی منزل پر پہنچ کر اپنا نام روشن کیا، بلکہ دنیا بھر میں ملک پاکستان کے نام کے جھنڈے بھی گاڑے۔ مگر افسوس۔۔۔۔۔

    گزشتہ برس بھی ان پر قاتلانہ حملہ ہوا،مگر ایک طالب علم کی وجہ سے تنویر نانڈلہ اس حملے سے بچ گئے۔ ان کے خاندان کے لوگوں پر کئی جھوٹے مقدمات بھی درج کروائے گئے ہیں۔ادارے تو اس نوجوان کو انصاف دینے میں تاحال ناکام ہیں۔مگر پاکستانی عوام نے اپنا حق ادا کر دیا۔ تنویر نانڈلہ کے سوشل میڈیا پر ویڈیو اپلوڈ کرنے کے بعد چند گھنٹوں میں ٹوئٹر پر JusticeForTanveerNandla ٹاپ ٹرینڈ کرنے لگا۔ ورلڈ بینک سے نمبر ون بلاگر کا ایوارڈ لینے کے ساتھ ساتھ 23 مارچ کو آئی ٹی کے شعبے میں بے شمار خدمات پر حکومت پاکستان اور پاکستان آرمی کی جانب سے اسی تنویر نانڈلہ کو "پرائڈ آف پاکستان” کا اعزاز بھی دیا گیا۔ تنویر نانڈلہ پانچ ہزار سے زائد نوجوان کو ڈیجیٹل روزگار فراہم کرچکے ہیں۔اور یہ نوجوان اب تک ایک سو پانچ ملین ڈالر سے زائد کا زرمبادلہ پاکستان میں لا چکے ہیں۔ مگر اس نوجوان کے ساتھ سیاسی طاقتوں کی زیادتیاں دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ہمیں اپنے ہیروں کی قدر ہی نہیں ہے۔ ہمارے ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے والا نوجوان انصاف مان رہا ہے۔مگر اسی کی محافظ پولیس اس کو تحفظ فراہم نہیں کرپارہی۔ جھوٹے مقدمات اور قاتلانہ حملوں کے باوجود یہ نوجوان آج بھی پاکستان میں ہے۔کیونکہ اسے پاکستان سے محبت ہے۔ "ایہہ پُتر روز نئیں جمدے”۔ پلیز ان کی قدر کیجیے۔

  • ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

    پیش نظر کتاب”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“ محض بیان سیرت نہیں بلکہ امت کوبیدارکرنے اور ہمیں خانوادہ بنوت کے مہکتے پھولوں سے محبت کرنا سیکھاتی ہے۔ وہ مہکتے پھول جن کی تربیت رسول ﷺنے خود کی تھی۔یہ دونوں روضہ¿ نبوت کے خوشنما پھول ہیں جن کی مسحور کن خوشبو سے نبوی آنگن مہکتا تھا۔ اس کتاب کے ذریعے اسلام کی ان دو معتبر شخصیات سے شرفِ ملاقات کی جاسکتی ہے ۔سبط رسول جناب حسن و حسین رضی اللہ عنھما کے ساتھ محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ ان شہزادوں کو اللہ کے رسول ﷺ چوما کرتے تھے۔ ہم تک اسلام کی نعمت اس معزز گھرانے کی بدولت ہی پہنچی ہے۔ اس عظیم گھرانے نے ہم تک اسلام پہنچانے کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ جناب سیدین حسنین کریمین رضی اللہ عنھماکے حالات زندگی پڑھناسعادت اوراہل ایمان کے لئے حلاوت ہے ۔ پیش نظر کتاب” سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“ اپنے موضوع پرنہایت ہی عمدہ کتاب ہے ۔اس کتاب کے مصنف سیدحسن حسینی ہیں ۔ وہ سید سادات میں سے ہیں۔ مملکت بحرین کے نامورسکالرہیں۔ وہاں کے دینی، عملی ،ادبی حلقوں میں نہایت ہی قدرومنزلت اورمحبت واحترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ فاضل مولف سیدحسن حسینی عرصہ دراز سے سیرت حسن و حسین بیان کرتے چلے آ رہے ہیں۔ انھوں نے برس ہا برس اس موضوع پر تحقیق کی ہے، وہ تاریخ اور سیرت سے خوب واقف ہیں۔ انھوں نے یہ کتاب روایتی انداز میں نہیں لکھی بلکہ اس کتاب کو لکھ کر انھوں نے صدیوں کا قرض چکایا ہے۔ زیر نظر کتاب میں سیدنا حسن وحسین رضی اللہ عنھما کی سیرت سے متعلقہ واقعات و حقائق کا احاطہ کیا گیا ہے۔سید حسن حسینی کہتے ہیں ”یہ کتاب میرے برسوں کے مطالعہ سیرت و تاریخ کا نچوڑ ہے جسے میں اپنی بساط کے مطابق خوبصورت طریقے سے عوام الناس کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے ۔

    اس گرانقدرکتاب کوشائع کرنے کی سعادت دینی کتابوں کی اشاعت کے عالمی ادارہ ”دارالسلام “ کوحاصل ہوئی ہے ۔دارالسلام کے مینجنگ ڈائریکٹر عبدالمالک مجاہدکہتے ہیں جہاں تک اس کتاب کے علمی مواد کا تعلق ہے تو قارئین اس کتاب کو پڑھنے کے بعد ہی اس کا اندازہ کر سکیں گے۔ تاہم میں یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس موضوع پر لکھی ہوئی بہت ساری کتابوں میں سے یہ ایک لاجواب کتاب ہے۔ اس کا انداز بڑا آسان اور عام فہم ہے۔ مجھے یقین ہے کہ قارئین ہماری دیگر مطبوعات کی طرح اس کتاب کو بھی پسند کریں گے۔ان شاءاللہ اس کتاب کا مطالعہ کرنے سے اہل ایمان کی ہاشمی خاندان سے محبت میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ اس کتاب کو شائع کرتے ہوئے مجھے بڑا سکون اور روحانی مسرت ہو رہی ہے ۔ میں ہمیشہ اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ مجھے جناب سیدناحسن اورجناب سیدناحسین رضی اللہ عنھما کے گھرانے کے ساتھ محبت کرنے والوں میں شمار کرے۔“

    حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب پڑھنے والے کوخاندان اہل بیت اور سیدین حسنین کریمین رضی اللہ عنھماکی زندگی کے تمام گوشوں سے متعارف کراتی ہے۔ اس کتاب کی خاصیت یہ ہے کہ دارالسلام انٹرنیشنل نے اسے اس موضوع کے مروجہ سٹائل سے ہٹ کر نئی طرز پر تیار کیا ہے۔ کتاب کی ظاہری خوشنمائی کی طرح اس کے باطن کی ثقاہت کا بھی بھرپور اہتمام کیا ہے۔ افراط و تفریط سے اجتناب کرتے ہوئے راہِ اعتدال کو اختیار کیاگیا ہے۔ یوں اپنے موضوع پر یہ مستند دستاویز ہے جو یقینااہل ایمان کو پسند آئے گی۔کتاب چودہ ابواب پرمشتمل ہے ۔ جن میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی منگنی ، حق مہر ،جہیز ، شادی کی تقریب ، تقریب ِ ولیمہ ، سیدہ فاطمہ کی رخصتی ، سیدہ فاطمہ کاگھر، سیدین حسنین کریمین کی ولادت باسعادت ، سیدین حسنین کے نانا ،دادا ،نانی دادی ، والد،والدہ، سیدین حسنین کریمین کے سگے اورسوتیلے بہن بھائی، سیدین کی بیویاں اوراولاد،سیدین کے اوصاف واخلاق،معاشرتی زندگی،اساتذہ وتلامذہ،فضائل سیدین حسنین کریمین،حادثہ کربلااورشہادت جیسے اہم موضوعات شامل ہیں ۔کتاب کی قیمت 890روپے ہے ۔نہایت ہی خوبصورت سرورق،مضبوط جلدبندی کے ساتھ عمدہ پیپرپرشائع کردہ یہ کتاب ہرگھر ، ہر مسجد ،لائبریریز اورتعلیمی اداروں کی ضرورت ہے ۔ کتاب دارالسلام کے مرکزی شوروم لوئرمال لاہور نزدسیکرٹریٹ سٹاپ ، کراچی ،اسلام آبادمیں دارالسلام کے شورومز یاملک بھرمیں دارالسلام کے سٹاکٹس سے حاصل کی جاسکتی ہے ۔یاکتاب براہ راست حاصل کرنے کے لئے درج ذیل نمبر04237324034پررابطہ کیاجاسکتاہے ۔

    ”سیرت حسن وحسین رضی اللہ عنھما“

  • امید سحر، چائلڈ لیبر سے سکول جانے تک کا سفر

    امید سحر، چائلڈ لیبر سے سکول جانے تک کا سفر

    چائلڈ لیبر ہمارے معاشرے کی بدترین بیماریوں میں سے ایک ہے۔ جو دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔اس معاشرے کے ایک لمحہ فکریہ ہے ۔بچے کائنات کے وہ پھول ہیں جس سے کائنات کا حسن قائم ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ پھول گلیوں، سڑکوں کی دھول بن گئے ہیں۔ چائلڈ لیبر نے ان معصوم پھولوں کو روند دیا ہے بچے بلاشبہ قوم کے مستقبل کے معمار ہیں۔ ملک کا مستقبل موجودہ بچوں پر منحصر ہے۔ اگر بچوں کو صحیح طریقے سے تیار نہیں کیا گیا تو ملک کا مستقبل برباد ہو جائے گا۔ یہ بچے سکول جانے اور کھیلنے کی عمر میں اپنے خاندانوں کی بقاء اور بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مزدور کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

    شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے کوشش و کاوش جاری ہے، پاک فوج کی جانب سے کام کرنیوالے کمسن بچوں کو نہ صرف تعلیم دلوائی جا رہی ہے بلکہ انکی رہائش اور خوراک کا بندوبست بھی کیا جا رہا ہے، ایسے ہی دو بچوں کی کہانی ویڈیو میں بیان کی گئی ہے،

    میرا نام محمد ریحان ہے میں پالش کا کام کرتا ہوں، صبح جلدی اٹھتا ہوں، صبح بڑے لوگ جلدی دفتر جاتے ہیں اور سکول کے بچے بھی، کبھی مزدوری ملتی ہے کبھی نہیں،ہم دن میں جتنا کماتے اتنا آٹا خرید لیتے، اتوار کو لوگ دفتر نہیں جاتے تو روزہ رکھتے ہیں،امی کہتی ہیں کہ جب ہم جنت میں جائیں گے تو تین ٹائم کا کھانا کھائیں گے، جوتے بھی پالش نہیں کرنے پڑیںگے، اور ابو کو بھی مزدوری نہیں کرنی پڑے گی، سکول کے بچوں سے پیسے نہیں لیتا، میں بڑا ہو کر سائنسدان بننا چاہتا ہوں اور جوتے پالش کرنے کی مشین بنانا چاہتا ہوں،میرا دوسرا بڑا بھائی ہے وہ بھی جوتے پالش کرتا ہے،دوسرے بچے کی بھی یہی کہانی ہے،

    پاک فوج کے جوانوں نے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے محنت مزدوری کرنیوالے کمسن بچوں کو نہ صرف تعلیم دلوانے کا بیڑا اٹھایا بلکہ ہوسٹل میں انکی رہائش کا بھی انتظام کیا، کم عمری میں محنت کرنیوالے بچے اب نہ صرف تعلیم حاصل کر رہے ہیں بلکہ انکو انکا مستقبل بھی اچھا نظر آ رہا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لئے پاک فوج کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عملی اقدامات کئے جائیں

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    عثمان بزدار اور انکے بھائیوں سمیت انکے مبینہ فرنٹ مین طور بزدار کے خلاف انٹی کرپشن میں انکوائری شروع

    جناح ہاؤس لاہور میں ہونیوالے شرپسندوں کے حملے کے بارے میں اہم انکشافات

    جی ایچ کیو حملے میں پی ٹی آئی خواتین رہنماوں کا کردار,تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے آئی ہے،

    جناح ہاؤس میں سب سے پہلے داخل ہونے والا دہشتگرد عمران محبوب اسلام آباد سے گرفتار 

  • کیا 2025 تک پاکستان خشک اور بنجر ہوگا؟

    کیا 2025 تک پاکستان خشک اور بنجر ہوگا؟

    کیا 2025 تک پاکستان خشک اور بنجر ہو گا؟اس آنیوالی تباہی کے پیچھے محرکات کافی زیادہ ہیں،پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے پانی کی ضروریات بڑھ رہی ہیں،ایک اندازے کے مطابق موجودہ آبادی 220 ملین سے زیادہ ہے۔ ایشین لائٹ کی رپورٹ کے مطابق پانی کی طلب 191 ملین ایکڑ فٹ کے مقابلے میں 274 ملین ایکڑ فٹ تک پہنچ سکتی ہے۔

    دوسری وجہ گنے، کپاس، چاول اور گندم جیسی پانی زیادہ لینے والی فصلوں کی پیداوار ہے۔ وہ موجودہ پانی کی فراہمی کا 95% استعمال کرتے ہیں جبکہ جی ڈی پی میں 5% سے بھی کم حصہ ڈالتے ہیں۔پانی صارفین تک پہنچانے میں ضائع ہو رہا ہے۔ نہروں میں شگاف کے ساتھ پانی کی بچت کا بنیادی نظام بھی پرانا ہے۔ پاکستان اپنی فصلوں کے لیے بارش پر بھی بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ برسات میں ہونے والی تبدیلیاں، اور درجہ حرارت میں اضافہ، زرعی شعبے کے لیے کافی چیلنجز لا رہا ہے. خاص طور پر شمالی پاکستان، جہاں موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ پہلے ہی زیادہ ہے۔

    پانی کی قلت کے بحران کے اثرات 2023 کے وسط میں پہلے ہی محسوس کیے جا رہے ہیں جبکہ تقریباً 30 ملین آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔ پاکستان کے 24 بڑے شہروں میں رہنے والے 80 فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔پانی اکثر آلودہ ہوتا ہے، جس سے صحت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ پاکستان کے بہت سے شہروں میں زمینی پانی کی فراہمی ہی بنیادی ذریعہ ہے۔ "اس میں مختلف پیتھوجینز شامل ہیں جن میں بہت سے وائرل، بیکٹیریل، اور پروٹوزوئن ایجنٹس شامل ہیں، جس سے ہر سال اسہال کی بیماری پھیلتی اور اس سے 2.5 ملین اموات کا باعث بنتے ہیں۔” [ایم. کوسیک، سی. برن، اور آر ایل جیرنٹ، "اسہال کی بیماری کا عالمی بوجھ، جیسا کہ 1992 اور 2000 کے درمیان شائع ہونے والے مطالعات سے اندازہ لگایا گیا ہے” عالمی ادارہ صحت کا بلیٹن، جلد۔ 81، نمبر 3، صفحہ 197-204، 2003۔]

    پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ میونسپل سیوریج اور صنعتی گندے پانی کا مختلف مقامات پر جاری واٹر سپلائی میں شامل ہونا ہے۔ ٹریٹمنٹ پلانٹس میں پانی کی جراثیم کشی، اور پانی کے معیار کی جانچ کے موثر نظام میں بھی ناکامی ہے۔

    اگر ان مسائل کو مؤثر طریقے سے حل نہیں کیا گیا تو یہ قابل فہم ہے کہ پاکستان کو 2025 تک پانی کی شدید قلت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پانی کے بحران کو کم کرنے کے لیے، پاکستان کو پانی کے تحفظ، بنیادی نظام کی ترقی، زراعت، اور پانی کی صفائی میں نمایاں کوششیں کرنے کی ضرورت ہوگی۔ پانی کے پائیدار انتظام کو یقینی بنانے کے لیے ان اقدامات کے لیے حکومت، بین الاقوامی تنظیموں، اور عام شہریوں سے مربوط کارروائی کی ضرورت ہوگی۔

    پالیسی ساز اور اسٹیک ہولڈرز کے لیے پانی کی کمی اور اس کے منفی اثرات کے ممکنہ مستقبل کے منظر نامے کو روکنے کے لیے ان چیلنجوں کو فوری طور پر ترجیح دینا، اور ان سے نمٹنا بہت ضروری ہے۔ تاہم، اس طرح کے اقدامات کا نفاذ، اور کامیابی کا انحصار مختلف عوامل پر ہوتا ہے. جن میں سیاسی رجحان، مالی وسائل، تکنیکی ترقی، اور سماجی تعاون بھی شامل ہیں۔.

  • یوکرین روس جنگ، فائدہ کس کو؟

    یوکرین روس جنگ، فائدہ کس کو؟

    مشرقی محاذ پہ روسی اور یوکرینی افواج کے درمیان جاری تنازعہ نے یوکرین کے لیے خاصی تباہ کاری اور معاشی مشکلات پیدا کی ہیں۔ روسی حملوں میں خارکیف سمیت مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا ہے،جیسا کہ نائب وزیر دفاع حنا ملیار نے ٹیلی گرام [الجزیرہ] پر مطلع کیا۔ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کی جانب سے جوابی کارروائی کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔

    2022 میں، یوکرین پر روسی حملہ کے بعد، ملک کو شدید معاشی بدحالی کا سامنا کرنا پڑا۔ یوکرین کی جی ڈی پی میں 29.1 فیصد کمی ہوئی، اور اس کی سٹیل کی پیداوار میں 71 فیصد کمی ہوئی کیونکہ روسی افواج نے یا تو سٹیل پلانٹس کا کنٹرول سنبھال لیا، یا اسے تباہ کر دیا۔ گزشتہ مالی سال کے مقابلے برآمدات کی سطح میں 35 فیصد کمی ہوئی، جس سے افراط زراور قرضوں میں اضافہ ہوا۔ اس تنازعے نے زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کوئلے کی کان کنی، اور مینوفیکچرنگ سمیت مختلف صنعتوں پر بھی نقصان دہ اثر ڈالا ہے. کیونکہ یہ شعبے کام کرنے والے بنیادی نظام جیسے بجلی اور انٹرنیٹ تک رسائی پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ امریکی ٹیک فرمیں روس-یوکرین تنازعہ سے نمایاں منافع کما رہی ہیں۔ نیشنل ڈیفنس میگزین کے مارچ میں شائع ہونے والے "یوکرین: اے لیونگ لیب فار اے آئی وارفیئر” کے عنوان سے مضمون نے اس تنازعے کو نیٹ ورک اور اے آئی پر مبنی میدان جنگ کی سمت میں بطور اہم پیش رفت کے بیان کیا گیا ہے۔ یوکرین نئی AI ٹیکنالوجی اور مصنوعات کا ایک تجربہ گاہ بن گیا ہے. جو مغربی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے تیزی سے منافع پیدا کرنے کا منفرد موقع ہے.
    ukarin1

    اگرچہ امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ آلات کا مقصد روس کے خلاف استعمال ہے، لیکن یہ واضح رہے کہ یوکرین کا تنازعہ نادانستہ طور پر تکنیکی ترقی کے حوالہ سے تجربہ کرنے کا ایک پلیٹ فارم بن گیا ہے۔ کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین میں فعال طور پر تصفیہ اور امن کی تلاش کے بجائے، ملک کو ترقی پذیر ٹیکنالوجیز کی جانچ کے لیے ایک تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
    بالاخر یوکرین-روس جنگ کے نتیجے میں یوکرین کے لیے شدید اقتصادی مشکلات پیدا ہوئیں. روس نے بنیادی نظام اور صنعتوں کو وسیع پیمانے پر تباہ کیا۔ دریں اثنا، کچھ امریکی ٹیک کمپنیاں تنازعات کا فائدہ اٹھا رہی ہیں. اور یوکرین کو اپنی AI ٹیکنالوجیز اور مصنوعات کے لیے تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ یہ تنازعات کے دوران کیے گئے اقدامات کے پیچھے حقیقی ارادوں، اور امن کی کوششوں پر تکنیکی ترقی کو ترجیح دینے کے بارے میں خدشات کو جنم دیتا ہے۔

    ukarin2

  • معاشرہ کی اصلاح میں میڈیا کا کردار ،تحریر،چوہدری محمد سرور

    معاشرہ کی اصلاح میں میڈیا کا کردار ،تحریر،چوہدری محمد سرور

    انسان کا جسم اس کے دماغ کے تابع ہے جبکہ دماغ رہنمائی لیتا ہے قوت بصارت اور قوت سماعت سے یعنی کانوں اور آنکھوں سے ۔ انسان جو کچھ کانوں سے سنتا ہے اور آنکھوں سے جو د کچھ دیکھتا ہے دماغ اس کااثر قبول کرتا ہے ۔جبکہ دماغ کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والا میڈیا ہے ، چاہے وہ الیکڑانک ہو یا پرنٹ میڈیا ۔ امر واقعی یہ ہے کہ میڈیامعلومات فراہم کرنے اور ذہنوں کو متاثر کرنے کا ایک طاقتور ترین ہتھیا ر بن چکا ہے ۔اسی لیے میڈیا کو ریاست کے پانچویں ستون کا درجہ قرار دیا گیا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ ریاست کا ایک یہ ستون نہ صرف دیگر اداروں اور ان کی پالیسیوں پر مسلسل نظر انداز ہورہا ہے بلکہ یہ طاقت کا ایک ایسا چشمہ ہے جو تمام دیگر اداروں کو اپنی رو میں بہا لے جارہا ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ ریاست کے دیگر ستونوں میں حکومت مقننہ عدلیہ اور انتظامیہ شامل ہیں تاہم اپنی اثر انگیزی کی بنا پر میڈیا ان کے درمیان اپنی حیثیت کو منوا چکا ہے ۔ آیئے ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ میڈیا کس حد تک اپنی ذمہ داریوں کو نبھا رہا ہے اور اس کا ضابطہ اخلاق کیا ہے ؟ یا پھر یہ کہ میڈیا طاقت کے اندھے گھوڑے پر سوار سب کو روندے جا رہا ہے ۔ اس کی چکا چوند ہرچھوٹے بڑے ، مرد عورت کو متاثر کررہی ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا معاشرتی نظریاتی اصلاح اس کے پیش نظر ہے یا نہیں ؟ اور خصوصاََ نوجوانوں کے کردار پر اس کے کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔

    پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اور اس کی اساس اسلام کے وہ سنہرے اصول ہیں جو زندگی کو متوازن بناتے ہیں اور افراد کی تربیت کا ایسا نظام مہیا کرتے ہیں جو نہ صرف معاشرے بلکہ تمام اداروں کے ہم آہنگ کرنے کا فریضہ سر انجام دہتے ہیں تاکہ زندگی کا حقیقی حسن برقرار رہے ۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اکثر چینلز دین کے نام پر ایسے پروگرام کررہے ہیں جو دین کی تعلیمات اور روایات سے بالکل متصادم ہیں ۔ پروگرام میں شریک خواتین کا لباس بھی پروگرام کی روح کے منافی ہوتا ہے ۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی پروگرامز میں ایسے علماءکو بلایاجائے اور ایسے اینکرز کا انتخاب کیا جائے جو خود بھی دین کو سمجھتے ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ اعلیٰ کردار کے حامل بھی ہوں ۔ کیونکہ اسلام سب سے زیادہ کردار کی اصلاح پر زور دیتا ہے کردار میں تبدیلی در حقیقت معاشرتی توازن کو برقرار رکھنے کی ضمانت ہے اس لئے کہ انسان اپنے کردار سے ہی پہچانا جاتا ہے ۔

    اسی طرح چینلز پر دکھائے جانے والے ڈرامے نوجوانوں کے اخلاق وکردار کو تباہ کررہے ہیں، نام نہاد ماڈرن ازم کے چکر میں نئی نسل کو اپنی دینی اور معاشرتی روایات کا باغی بنا رہے ہیں نوجوان نسل کو سست اور آرام طلب بنا رہے ہیں ۔ ہمیں اس سیلاب کے آگے بند باندھنے ہونگے بصورت دیگر حالات بے قابو ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا ۔ جرائم سے بھرے ہوئے معاشرے میں میڈیا ایسے پروگرام پیش کررہا ہے جن میں تشدد اور جرائم میں ملوث افراد کو جرم کرنے کے نئے نئے انداز مل جاتے ہیںاور وہ اپنے حالات اور مواقع کے مطابق ان کا استعمال بھی کرتے ہیں جس سے جرائم میں اضافہ ہورہاہے ۔ اکثر مجرم یہ کہتے ہیں کہ ہم نے یہ جرم فلموں کو دیکھ کر کیے ہیں ۔ کیونکہ ان پروگراموں میں اکثر یہ دکھایا جاتا ہے کہ مجرم یا تو فرار ہوگئے یا انصاف نہیں ملا ۔ ان حالات میں یہ جاننا مشکل نہیں کہ جرم کی تشہیر کوئی مثبت نتائج نہیں دیتی ہے ۔ یہ پروگرام بچوں کی ذہنی نشونما پر بھی برے اثر ات ڈالتے ہیں جس سے بچے عدم تحفظ ، بے اعتمادی اور خوف کا شکا ر ہوتے ہیں ۔ کچھ ایسے پروگرام بھی پیش کیے جاتے ہیں جو قوم میں کنفیوژن پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔کچھ عرصہ پہلے ایک چینل پر پروگرام دیکھا گیا کہ پاکستان کا قومی ترانہ وہ نہیں جو قائد اعظم نے پاس کیا تھا ۔ ظاہر بات ہے کہ اب اس طرح کے ایشو اٹھانے اور ان پر بحث کرنے سے کنفیوژن ہی پیدا ہوگی ۔

    اس میں شک نہیں کہ میڈیا کی اپنی ترجیحات اور مقاصد ہیں ۔ کاروباری دنیا میں سرمایہ کار صرف اپنے منافع کے لئے سرمایہ کاری کرتا ہے ۔ نقصان اسے کسی طور پر برداشت نہیں ۔سرمایہ کار چاہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیسہ بنایا جائے اس کےلئے چاہے انہیں کسی بھی حد تک جانا پڑے ۔ ریٹنگ کے لئے ایک بری خبریں بار با ر پیش کرکے سنسنی پھیلائی جاتی ہے تاکہ لوگ ان کے چینلز کو دیکھیں اور ان کی ریٹنگ بڑھے۔ یہ معلوم نہیں کہ اس عمل سے چینلز کی ریٹنگ بڑھتی ہے یا نہیں البتہ یہ ضرور ہے کہ اس عمل سے معاشرے میں جرائم بڑھ رہے ہیں، نفسیاتی مسائل پیدا ہورہے ہیں ، جنسی بے راہ روی ، تشدد ، ڈکیتی ، چوری ، مستقبل کا خوف ، بے اعتمادی ، نافرمانی ا ور بے صبری و خوف و ہراس جیسے نفسیاتی مسائل جنم لے رہے ہیں جو کسی طور خوش آئند نہیں ۔ بلکہ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ کیا ہمارا مستقبل ایسے ہی ضائع ہوگا ؟ اس کے تدارک اور اصلاح کے لئے ضروری ہے کہ ایک اعلیٰ سطحی تھنک ٹینک بنایا جائے جس میں میڈیا کے اہم سر کردہ لوگ ، دانشور ، صحافی ، سکالرز ، ججز ، حکومتی نمائندے ، والدین ، چینلز کے مالکان اور اساتذہ شامل ہوں ۔۔۔جو میڈیا کےلئے کی تر جیحات اور ضابطہ اخلا ق طے کرے ۔آخر میں ہم میڈیا مالکان سے پھر یہ کہنا چاہئیں گے کہ خدا ۔۔۔را اپنے چینلز پر ایسے پروگرام پیش کریں جو نظریہ پاکستان اور ہماری اخلاقی روایات واقدار سے ہم آہنگ ہوںجن میں نوجوانوں کو محنت اور لگن کاسبق ملے ۔ اپنی ثقافت کو پروان چڑھایاجائے تاکہ اپنی مذہبی و معاشرتی روایات ، ثقافت کو بچایاجاسکے اور پاکستانی ہونے پر فخر کیا جا سکے ۔ ۔ کھیلوں کے پروگراموں کو فروغ دیا جائے اور ان پروگرام میں نوجوانوں کو شرکت کے مواقع فراہم کیے جائیں ۔ بچوں کے پروگرام پیش کیے جائیں ۔ اخلاقیات پر مشتمل چھوٹے چھوٹے پیغامات مختصر وقفوں میں پیش کئے جائیں تاکہ بچوں کی تربیت کی جاسکے ۔ ہر چینل کے لیے لازمی ہوکہ وہ اس طرح کے پیغامات لازمی نشر کرےں تاکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا عمل شروع ہوسکے ۔ ہمارا میڈیا تنقید تو کرتا ہے لیکن تربیت کا اہتمام نہیں کرتا لہذا ضروری ہے کہ تربیتی پرگروام پیش کئے جائیں ۔ تعلیمی پروگراموں کو اپنی نشریات کا مستقل حصہ بنایا جائے ۔ اسلامی ممالک کا تعارف ، ثقافت و کلچر پیش کیا جائے تاکہ امت مسلمہ کا تصور راسخ کیا جاسکے ۔ انٹرنیشنل ایشوز پر پروگرام کئے جائیں اور ڈاکومنٹریز پیش کی جائےں تاکہ انٹرنیشنل افئیر ز سے لوگ آگاہ ہوسکیں ۔ اس وقت ہمارا ملک بہت سے مسائل کا شکار ہے جن میں سے ایک اہم ترین مسئلہ معاشرتی تفریق اور خیلج ہے ۔ ان حالات میں میڈیا کو اداروں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جائے ، یہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے اور ہمارا قومی مفاد بھی ہے ۔ میڈیا کو اپنا مثبت رول ادا کرنے کے لئے اپنا لائحہ عمل ضرور ترتیب دینا چاہیے تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کاا مستقبل محفوظ ہوسکے ۔

  • اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں مسجد جامع الا مام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کا افتتاح

    اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں مسجد جامع الا مام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کا افتتاح

    ارشاداحمد ارشد

    مسجد ایک ایسا مقام عالی شان ہے جو روئے زمین پر اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔اسی محبت کا ثمر ہے کہ مسلمان انفرادی سطح پر بھی مساجد تعمیر کرتے ہیں اوراجتماعی طور پر بھی مساجد تعمیر کرتے ہیں۔اسی طرح وہ مسلمان ممالک جہاں صحیح معنوں میں اسلامی حکومتیں قائم ہیں وہ بھی سرکاری سطح پر مساجدکی تعمیر اور آبادکاری کااہتمام کرتی ہیں۔ اس وقت اسلامی دنیا میں مساجد کی تعمیر اور آباد کاری کے معاملے میں مملکت سعودی عرب اور سعودی این جی اوز یا سعودی جامعات سے فیض یافتگان سر فہرست ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب کاقیام حقیقی معنوں میں کلمہ توحید کی بنیاد پر عمل میں لایا گیا ہے۔ سعودی حکمرانوں نے جس طرح سے حرمین الشریفین کی خدمت وتوسیع اور تزئین کو اپنا شعار بنا رکھا ہے اس پر وہ بجا طور پر ’’ خادم الحرمین الشریفین ‘‘ کے لقب کے مستحق ہیں۔اس کے علاوہ بھی دنیا کے ہر ملک میں آل سعود نے مساجد تعمیر کروائی ہیں۔ دنیا میں جہاں بھی اذان کی آواز بلند ہورہی ہے ان میں سے بیشتر مقامات ایسے ہیں جہاں سعودی حکومت کے تعاون سے مساجد بنائی گئی ہیں۔ پاکستان کے ہر صوبے اور شہر میں بلا تفریق مسلک سعودی عرب کے تعاون سے تعمیر کی گئی مساجد سے پانچ وقت اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔ اب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں بھی سعودی عرب کے مختلف موسسات (این جی اوز ) کے تعاون سے 8 مساجد کی تعمیر کا پروگرام بن چکا ہے۔ اسلامیہ یونیورسٹی کاشمار پاکستان کی اہم ترین جامعات میں ہوتا ہے۔ اس کی بنیادریاست بہاولپور کے مسلمان عباسی حکمرانوں نے اسلامی نقطہ نظر سے رکھی تھی۔اس کی ابتدا ’’مدرسہ صدر علومِ دینیات ‘‘ کے نام سے کی گئی۔ بعد ازاں 1925ء اس کانام جامعہ عباسیہ رکھا گیا۔ریاست بہاولپور کے نواب اسے جامعہ الازہر مصر کے پائے کاایک علمی ادارہ بنانا چاہتے تھے۔ 1950ء میں والئی ریاست ہز ہائنس سر صادق محمد خان عباسی پنجم کے حکم پر صادق ایجرٹن کالج سے متصل ایک عظیم الشان عمارت تعمیر کی گئی اس طرح سے جامعہ عباسیہ کا مرکزی کیمپس وجود میں آیاجو اس یونیورسٹی کی پہچان ہے۔ 1963ء میں صدرِ پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان نے جامعہ عباسیہ کا دورہ کیا اور اسے جامعہ اسلامیہ کے نام سے موسوم کیاگیا ۔ 1975ء میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے طور پر پنجاب اسمبلی سے چارٹر قرار پائی۔جہاں تک شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب کا تعلق ہے وہ امریکی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں،نامور ماہرِ تعلیم ہیں اور مثالی منتظم ہیں۔وہ ہمہ وقت یونیورسٹی کا علمی وتحقیقی معیار بلند کرنے اور اسے اسم بامسمیٰ بنانے کیلئے مصروف عمل رہتے ہیں۔وہ اس بات کے خواہشمند ہیں کہ یونیورسٹی کے ہر کیمپس میں سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نام کی صدا گونجے اور ہر کیمپس میں مساجد تعمیر کی جائیں۔

    چنانچہ بارش کے پہلے قطرے کے طور پر اسلامیہ یونیورسٹی کے عباسیہ کیمپس شعبہ امتحانات میں پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب اور سعودی سفارت خانہ کے اسلامی شعبہ ’’الملحق الدینی،، کے نمائندہ خصوصی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشیداظہر ڈائریکٹر پاکستان اسلامک کونسل وایڈیشنل ڈائریکٹر انٹرنیشنل لنکجز اسلامیہ یونیورسٹی و ڈائریکٹر جامعہ سعیدیہ سلفیہ خانیوال نے اپنے دست مبارک سے ستمبر 2022 ء میں جامع مسجد امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ‘‘ کا سنگ بنیاد رکھا اس ایمان افروزتقریب میں اہل علم اور معززین علاقہ نے بڑی تعداد شرکت کی تھی۔سنگ بنیاد رکھے جانے کے بعد یہ مسجد صرف پانچ ماہ کے قلیل عرصہ میں پایہ تکمیل کوپہنچی ہے۔تکمیل کے بعدپروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب نے فضیلۃ الشیخ قاری صہیب احمد میر محمدی رئیس کلیۃ القرآن والتربیۃ الاسلامیہ اور فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر کے ہمراہ مسجد کا افتتاح کیا۔افتتاح کے بعد گھوٹوی ہال عباسیہ کیمپس میں ایک شاندار تقریب منعقد کی گئی۔

    افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسر انجینئر ڈاکٹر اطہر محبوب نے کہا ہماری کوشش ہے کہ اسلامیہ یونیورسٹی کو ایک اسم بامسمیٰ تعلیمی ادارہ بنایا جائے۔یہ ادارہ اسم بامسمیٰ اسی وقت بنے گا جب اس میں کثرت سے مساجد تعمیر ہوں گی اور آباد بھی ہوں گی۔ آج ہمارے لئے خوشی کا مقام ہے کہ اس سلسلہ کی پہلی عالی شان مسجد بنام’’جامع الا مام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ ‘‘ کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے۔ ڈاکٹر اطہر محبوب نے اس موقع پر حاضرین مجلس کو یہ خوش خبری بھی سنائی کہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشیداظہر کی کوششوں سے بہت جلد اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ایک بڑی مرکزی جامع مسجد اور فیکلٹی آف اسلامک لرننگ اینڈ عریبک کی تعمیر بھی ہونے جارہی ہے یہ مسجد حقیقتاََ مسجد قوت الاسلام ہو گی۔

    تقریب ِ افتتاح کے ایک اہم ترین مہمان قاری صہیب احمد میر محمدی تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر اطہر محبوب دین سے ، قرآن سے ، علما سے اور مساجد سے گہری محبت کرنے والے انسان ہیں۔ ان کے دور میں اسلامیہ یونیورسٹی نے تعمیر وترقی اور علمی مدارج کی تاریخی مزلیں طے کی ہیں نجیب الطرفین فضیلۃالشیخ ڈاکٹرحافظ مسعود اظہر بھی وطن عزیز کی نامور شخصیت ہیں اور تن تنہا دین حنیف اور تعلیم و تربیت کا کام کام سر انجام دے رہے ہیں، آپ امام محمد بن سعود اسلامک یونیورسٹی ریاض سعودی عرب سے عقیدہ، قرآن، فقہ میں سپسلائزیشن کے ڈگر ھولڈر ہیں جبکہ ماسٹر، ایم فل ، پی ایچ ڈی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے عربی زبان وادب میں مکمل کی ہے اس کے ساتھ ساتھ آپ ٫٫لجنة الافتاء والبحث العلمي٫٫ جو پاکستان کے کبار علماپر مشتمل فتوی کی کمیٹی ہے اس کے بھی رکن ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جامع الامام ابن کثیر اسلامی فن تعمیر کا شاہکار اور خوبصورتی ووسعت میں اپنی مثال آپ ہے۔ اس کا مینار مسجد نبوی کے مینار کی طرز پر تعمیر کیا گیا ہے اس کی تعمیر پر تقریباََ دو کروڑ روپے سے زائد لاگت آئی ہے۔ بہت جلد اسی طرز پر مزید مساجد بغداد الجدید کیمپس اور بہاولنگر کیمپس میں بھی تعمیر کی جائیں گی۔ انھوں نے سلسلہ گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ جامع الامام ابن کثیر معروف عالمی سکالرقاری المقری قاری صہیب احمد میر محمدی کے زیر سایہ چلنے والے ادارہ کلیۃ القرآن الکریم والتربیۃ الاسلامیہ پھولنگراور،،المجلس الاسلامی باکستان ، یعنی پاکستان اسلامک کونسل کے باہمی اشتراک سے تعمیر کی گئی ہے۔ یہ ایک عظیم الشان مسجد ہے جس میں 1000نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ اس سے پہلے صرف 300نمازی اس چھوٹی سی بوسیدہ اور قدیم مسجد میں نماز ادا کر سکتے تھے۔ اس مسجد کی تعمیر سے عباسیہ کیمپس کے دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ شعبہ قانون، شعبہ امتحانات اور ابوبکر ہال کے رہائشی طالب علم مستفید ہوں گے۔انھوں نے سلسلہ گفتگو جاری رکھتے ہوئے مزید بتایا کہ سعودی موسسات اور سعودی سفارت خانہ کے تعاون سے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں مساجد اور فیکلٹیز کے قیام سے جہاں ایک طرف ہزاروں کی تعداد میں طلباء اور ملازمین مستفید ہوں گے وہاں دوسری طرف فرقہ واریت سے بالا تر خالصتا قرآن وسنت پر مبنی دینی تعلیمات کی نشرواشاعت کے مزید مواقع بھی میسر آئیں گے جس سے عمومی معاشرہ اور بالخصوص طلبہ علم میں برداشت ، رواداری ، تحمل اور مسلکی ہم آہنگی پیدا ہوگی۔انہوں نے اپنی گفتگو میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اطہر محبوب ، خزانہ دار جناب ابوبکر صاحب ، بہاولپور پریس کلب کے سابق صدر جناب نصیر ناصر, چیئرپرسن شعبہ عربی ڈاکٹر راحیلہ خالد قریشی، ایڈیشنل کنٹرولر شعبہ امتحانات جناب عرفان غازی، سابق ایڈیشنل کنٹرولرشعبہ امتحانات غلام محمد ، ڈاکٹر عبیدالرحمان لیکچرار پوسٹ گریجویٹ کالج بہاولپور کا مسجد کے تعمیری کاموں کی نگرانی اور دیکھ بھال پر خصوصی شکریہ ادا کیا

    ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر کے بعد اسلامیہ یونیورسٹی شعبہ عربی کی چئیرپرسن ڈاکٹر راحیلہ خالد قریشی کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ انھوں کہا اللہ کا کرم ہے کہ آج ہم مسجد کے افتتاح کی تقریب میں جمع ہیں۔اس مسجد کی تعمیر وترقی کے لیے ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے دن رات ایک کئے رکھا۔کبھی بھی سفری مشکلات کی پرواہ نہ کی بلکہ وہ مسجد کی تعمیر کیلئے خانیوال اور بہاولپور کے درمیان مسلسل اس طرح سفر کرتے رہے جیسے ہم اولڈ کیمپس سے نیو کیمپس آتے جاتے ہیں۔دعاہے کہ ڈاکٹر مسعود اظہر نے کاوشوں کو قبول فرمائے۔

    تقریب کے ایک انتہائی اہم مقررپروفیسر ڈاکٹر اکرم چوھدری بھی تھے۔ ڈاکٹر اکرم چوہدری سرگودہا یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہ چکے ہیں۔ ڈاکٹر اکرم نے کہا وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب نے یونیورسٹی کی تعمیر وترقی کے لیے جو اقدامات کئے ہیں تاریخ انہیں کبھی فراموش نہیں کرسکتی ہے ان تاریخ ساز اقدامات کا میں ذاتی طور پر گواہ ہوں میں گورنر پنجاب میاں بلیغ الرحمن کی پنجاب کی تمام جامعات کے وائس چانسلرز کے ساتھ میٹینگ میں موجود تھا۔ میں نے اپنے کانوں سے سنا کہ گورنر پنجاب تمام وائس چانسلرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ آپ سب اپنا روڈ میپ اسی طرح سے بنائیں جس طرح کہ ڈاکٹر اطہر محبوب نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کابنا رکھا ہے۔ بعد ازاں وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کی طرف سے مہمانان گرامی پروفیسر ڈاکٹر اکرم چوھدری ، ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشیداظہر ، اور قاری صہیب احمد میر محمدی کی خدمت میں یادگاری شیلڈ پیش کی گئیں۔تقریب کے بعد مہمان گرامی کے اعزاز میں وائس چانسلر کی طرف سے پر تکلف ظہرانہ دیا گیا۔ اس طرح سے یہ روحانی وایمانی اور خوبصورت تقریب بخیر وخوبی اختتام پذیر ہوئی۔

  • ہنسنے کا مطلب پھنسنا، نہیں ہوتا…..

    ہنسنے کا مطلب پھنسنا، نہیں ہوتا…..

    بھارت میں خواتین کی آبادی مردوں سے زیادہ ہے، خواتین کو آبادی کے حساب سے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، زندہ رینے کی تگ و دو کے لئے خواتین نہ صرف گھروں سے نکلتی ہیں بلکہ محنت و مشقت بھی کرتی ہیں، خواتین کو گھروں سے باہر نکلنے کے لئے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے .معاشرے میں خواتین کو گھروں کی دیکھ بھال کرنے والی،ماں ، بہن، بیوی ، بیٹی سمیت دیگر کردار ادا کرنے ہوتے ہیں، بھارت کی ترقی میں خواتین کا کردار بھی نمایاں تا ہم انکے ساتھ صنفی امتیاز برتا جا رہا ہے

    بھارت میں خواتین کو جہاں ایک طرف دیوی کے طور پر جانا جاتا ہے وہیں، جہیز کے لئے خاتون کو جلا دیا جاتا ہے،لڑکیاں شادی کے لئے انتظار کرتے کرتے جوانی کھو دیتی ہیں تا ہم جہیز کی وجہ سے شادی نہیں ہو پاتی، خواتین کے ساتھ جب زیادتی، ریپ ، تشدد کے واقعات ہوں پھر بھی خواتین کو ہی اپنی عزت بچانے کے لئے بھی چپ ہی رہنا پڑتا ہے کیونکہ واویلا کرنے سے اسی کی عزت پر ہی حرف آنا ہے.

    مودی سرکار کی طرف سے بیٹی بڑھاؤ، بیٹی بچاؤ کا نعرہ تو لگایا گیا لیکن صنف نازک کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی، مجموعی طور پر دیکھا جائے تو خواتین کو ایک ’سامان‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے حد تو یہ ہوگئی ہے کہ کسی وقت یا موقع پراگر لڑکی نے کسی کو مسکرا کر دیکھ لیا تو وہ جناب فوری یہ تنیجہ آخذ کر لیتے ہیں کہ لڑکی ان پر فدا ہوگئی ہے

    انسان تو پھول، بادل، موسم، اپنے پسندیدہ جانور، چھوٹے بچوں، قوسِ قزح اور کسی بھی چیز کو مسکرا کر دیکھ سکتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب تو بالکل نہ ہوا کہ اگر کسی حضرت کو مسکرا کر دیکھ لیا تو وہ خاتون یا لڑکی اس پر فریفتہ ہوگئی ہےسماج کو ’ہنسی تو پھنسی‘ والی مضحکہ خیز اور ہتک آمیز سوچ میں تبدیلی لانے کی اشد ضرورت ہے ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کو بے وقوف سمجھ کر یا آپ کی سوچ کو ہنس کر ٹالنا چاہتی ہو یا پھر آپ کو ہنس کر نظر انداز کر رہی ہو یا آپ سے اپنی جان چھڑانا چاہتی ہو۔ خواتین کے خلاف ایسے رویے ہمارے معاشرے کا مشترکہ مسئلہ ہی نہیں، بلکہ المیہ ہیں

    تحریر:نواب علی اختر

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • محب العلما، محب المساجد عبدالمجید غازی۔  سعادت کی زندگی سعادت کی موت

    محب العلما، محب المساجد عبدالمجید غازی۔ سعادت کی زندگی سعادت کی موت

    محب العلما، محب المساجد عبدالمجید غازی۔ سعادت کی زندگی سعادت کی موت
    ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر
    انسان کی زندگی خواہ کتنی ہی لمبی ہی کیوں نہ ہو وہ ختم ہونے والی اور زوال پذیر ہے، بقاءوہمیشگی اللہ کی ذات کو ہے اور آخرت کی زندگی کو ہے جو ابدی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: البتہ آخرت کے گھر کی زندگانی ہی حقیقی زندگی ہے، کاش! یہ جانتے ہوتے۔رسول اللہ ﷺ نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی حالت اور اس کی کمتری کو بیان کرتے ہوئے بتایاکہ وہ مسافر کی طرح ہے جس نے تھوڑی دیر کے لیے آرام کیاپھر کچھ دیردرخت کے سایہ کے نیچے سو گیا پھر وہاں سے کوچ کیا اور اس جگہ کو چھوڑدیا۔البتہ بہترین زندگی وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں گزرے اور بہترین موت وہ ہے جو اسلام کی حالت میں آئے جیسا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا وقت ِ آخرت ہے وہ اپنی ساری آل اولاد کو جمع کرتے ہیں اور ان سے پوچھتے ہیں کہ میرے مرنے کے بعد تم کس کی عبادت کرو گے تو سب نے ( بالاتفاق ) جواب دیا کہ ہم اس کی عبادت کریں گے کہ جس کی آپ اور آپ کے بزرگ ابراہیم واسماعیل واسحاق عبادت کرتے آئے ہیں یعنی وہی معبود برحق جو وحدہ لاشریک ہے اور ہم اس کی ( اطاعت ) پر قائم رہیں گے ۔ اپنے بیٹے کو دین اسلام پر قائم رہنے اور اعمال صالحہ کی تلقین حضرت لقمان علیہ السلام نے بھی کی تھی بلکہ سورة لقمان اس لحاظ سے پورے قرآن مجید میں ممتاز ہے کہ اس میں درمند والد کانمونہ ہے جو اپنے بیٹے کو دین وایمان پر قائم رہنے کی تاکید کرتا ہے اور اس کو دین کے اہم اصول بتاتا ہے کہ اس پر چل کر وہ اپنی دینی اور دنیوی دونوں قسم کی زندگی سنوار سکتا ہے ۔

    ہمارے بہت ہی پیارے عزیز از دل وجان دوست اور بھائی جناب عبدالمجید غازی بھی اپنی ذاتی زندگی اور اولاد کے معاملے میں ایک ایسے ہی انسان تھے۔ انھوں نے ساری زندگی شریعت کی پاسداری اور دین کی علمبرداری میں گزاری۔ وہ حقیقی معنوں میں علماکے خادم تھے ۔بہت ہی نیک ، صالح اور بے لوث انسان تھے ،ان کا دل مساجد اور علما کے ساتھ ایسے تھا جیسے شمع کے ساتھ پروانہ اور پھول کے ساتھ خوشبو ہوتی ہے ۔ انھیں مملکت سعودی عرب کے ساتھ بھی جنون کی حد تک محبت تھی۔ وہ 1992 ءسے یعنی عرصہ 30 سال سے جامع الامیر فیصل بن فہد الریاض سعودی عرب کے خطیب فضیلة الشخ عبدالسلام کے ہاں مشرف العمال کے طور پر مصروف عمل تھے۔غازی عبدالمجید دین کے رشتے اور تعلق کی بنا پر مملکت سعودی عرب سے بے لوث محبت کرتے اور اسے اپنا اصلی گھر قرار دیتے تھے ، وہ آرزو مندتھے کہ زندگی کی آخری سانس تک مملکت سعودی عرب کا ساتھ نہ چھوٹے۔

    عبدالمجید غازی چند ماہ قبل اولاد کے شدید اصرار پر پاکستان تشریف لائے تو یہاں ان کی طبیعت ناساز ہوگئی فوراََ واپسی کی خواہش کا اظہار کیا اولاد، دوست احباب کے شدید اصرار کے باوجود بھی پاکستان میں رکنے پر رضامند نہ ہوئے۔ فرمایا کرتے تھے سعودی عرب کلمہ طیبہ کا ملک ہے ، اس کے پر چم پر بھی کلمہ طیبہ جگمگا رہا ہے، میں اسی پاک سر زمین پر زندگی کے آخری ایام گزار کر دفن ہونا پسند کروں گا ۔غازی عبدالمجید کی سعودی عرب کے ساتھ درحقیقت دین کی وجہ سے تھی ۔ مجھ سمیت تمام دوست احباب نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح علاج معالجہ کے لیے ہی چند دن پاکستان رک جائیں لیکن مصر رہے کہ میں نے ہر صورت واپس جانا ہے۔اولاد اور دوست واحباب کے شدید اصرار کے باوجود بھی رکنے پر آمادہ نہ ہوئے واپس کی ٹکٹ کنفرم کروائی اور سعودی عرب تشریف لے گئے ۔

    رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں جناب عرفان غازی جو کہ ہمارے عزیز از جان دوست عبدلمجید غازی کے فرزند ارجمند ہیں اس اعتبار سے وہ ہمارے بھتیجے بھی لگتے ہیں اور ہمارے ساتھ ہمیشہ محبت واحترام سے پیش آتے ہیں ۔۔۔اپنے دوستوں جناب غلام محمد، جناب ڈاکٹر عبید الرحمان اور جناب نصیر احمد ناصر میری خصوصی دعوت پر بہاولپور سے خانیوال افطاری کے لیے تشریف لائے تو عرفان غازی کو ہم نے بہت افسردہ ، رنجیدہ اور نمدیدہ سا پایا۔ استفسارپر فرمانے لگے کہ والد گرامی ریاض میں شدید علیل ہیں اور میں فوری طور پر سعودی عرب جانا چاتاہوں۔ ہم نے پوچھا کب رخت ِ سفر کاارادہ ہے ؟ فرمانے لگے کہ اگر آج ہی ویزہ لگ جائے تو میں ابھی ہی روانہ ہونا چاہتا ہوں۔اسلئے کہ والد گرامی کی بیماری کے بعد ایک پل بھی ان سے دور رہنا میرے لئے ممکن نہیں ہے ۔بلاشبہ سعادت مند اولاد کی اپنے ماں باپ سے ایسی ہی محبت کرتی ہے ۔ میں نے عرض کیا کہ ان شاءاللہ العزیز پہلی فرصت میں ویزہ لگوانے کی کوشش کرتا ہوں چنانچہ تین چار دن کے اندر اندر ویزہ لگوایا اور پہلی میسر فلائیٹ کی ٹکٹ اوکے کرواکر غازی صاحب کو اطلاع دی کہ سفر کی تیاری کریں آپ کا ویزہ اور ٹکٹ اوکے ہے۔

    25 اپریل کوعرفان غازی والد گرامی کی عیادت اور خدمت کے لیے الریاض سعودی عرب تشریف لے گئے۔اس کے کچھ ہی دن بعدہمارے دوست جناب غلام محمد اور جناب ڈاکٹر عبید الرحمان نے یہ جانکاہ خبر سنائی کہ عرفان غازی صاحب کے والد گرامی سعودی عرب میں بقضائے الہی وفات پاگئے ہیں۔۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔۔۔۔۔خبر سنتے ہی دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کاش کسی طرح اڑ کر الریاض پہنچ جاو¿ں اور مشکل وقت میں میں پیارے بھائی عرفان غازی کا غم بانٹ سکوں انہیں دلاسہ دے سکوں اور انکی معاونت کرسکوں۔ لیکن ویزہ اور سیٹ کی مشکلات کی وجہ سے یہ خواہش دل میں ہی دفن ہوگئی۔۔تاہم میں اپنے بھائی اپنے دوست کو کہنا چاہوں گا کہ اگر چہ آپ کے والد گرامی کی جدائی کے وقت ہم کوسوں دور بیٹھے تھے لیکن ہم تینوں دوست (راقم الحروف حافظ مسعود اظہر ، جناب غلام محمد صاحب ، جناب ڈاکٹر عبیدالرحمان صاحب) دلی طور پر آپکے ساتھ ہی تھے ۔۔آ پ کایہ۔۔۔۔ غم ہم سب کا غم ہے۔آپ ہمیشہ ہماری دعاوں میں شامل رہتے ہیں او ر اب بھی خصوصی طور پر شامل ہیں۔ بس ہمیں ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی رہنا چاہیے۔

    عرفان غازی چونکہ زندگی میں پہلی مرتبہ الریاض سعودی عرب تشریف لے گئے تھے ۔ وہ عربی زبان سے بھی زیادہ واقفیت نہیں رکھتے تھے پہلی بار بیرون ملک سفر درپیش ہو اور زبان سے بھی زیادہ واقفیت نہ ہو تو مشکلات کااحتمال ہوتا ہے ۔۔ چنانچہ میں نے اس موقع پر سعودی عرب میں مقیم اپنے دوست احباب بالخصوص مادر علمی جامعة الامام محمد بن سعود الاسلامیہ الریاض کے محترم طلبہ سے گزارش کی کہ عرفان غازی صاحب کیساتھ رابطہ کرکے ان کے والد گرامی کی تدفین اور دیگر معاملات میں ان کی معاونت کریں، حوصلہ دیں اور نماز جنازہ میں شرکت کریں۔۔۔تاکہ۔۔۔دیار غیر میں انہیں اجنبیت کا احساس بھی نہ ہو۔ویسے الحمد للہ عرفان غازی صاحب کے چچا جان اور ان کے کزن بھی الریاض میں موجود ہیں۔۔ لہذا وہ بھی لمحہ بلمحہ عرفان غازی کے ساتھ ساتھ رہے اور سارے معاملات دیکھ رہے ہیں۔

    دعا ہے کہ اللہ تعالی جناب عبدالمجید غازی (رحمہ اللہ تعالیٰ رحمة واسعة) کی مغفرت فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے ، ان کی قبر کو منور فرمائے، جنت کے باغیچوں میں سے باغیچہ بنائے، ان کے لواحقین بالخصوص ہمارے عزیز از دل وجان دوست بھائی اور محسن جناب عرفان غازی کو صبر جمیل عطا فرمائے

    مجھے بار بار جناب عرفان غازی جیسے بیٹے پر رشک آرہا ہے،کتنی محبت کرتے تھے اپنے والد گرامی کے ساتھ ، بچوں کی طرح ان کا خیال رکھتے تھے جونہی والد گرامی کی علالت کی خبر ملی تو فرمانبردار اور باپ سے بے لوث محبت کرنے والے بیٹے عرفان غازی سے صبر نہ ہوسکا ۔۔۔تمام مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یونیورسٹی سے ایک ماہ کی چھٹی لیکر فوراََ سے پہلے اپنے والد محترم کی خدمت ،انکی عیادت اور جنت کمانے کے لیے الریاض روانہ ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس فرمانبردار بیٹے کو چند دن باپ کی خدمت کی سعادت بھی عطا فرمادی۔دعا ہے کہ اللہ تعالی تمام والدین کو جناب عرفان غازی صاحب جیسی نیک ، صالح ، والدین سے محبت اور انکی خدمت کے جذ بات سے سرشار اولاد نصیب فرمائے۔۔۔آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

  • آسرا…… سفید پوشوں کا،تحریر: محمد نورالہدیٰ

    آسرا…… سفید پوشوں کا،تحریر: محمد نورالہدیٰ

    ہم روز مرہ زندگی میں متعدد واٹس ایپ گروپوں میں ایڈ کئے جاتے ہیں۔ جو واٹس ایپ گروپ غیر متعلقہ لگتا ہے اسے فوراً لیفٹ کر دیتے ہیں۔ تاہم بعض دفعہ ہم ایڈ کرنے والی ہستی کو بھی دیکھ لیا کرتے ہیں کہ کس نے گروپ میں شامل کیا ہے۔ ان میں سے بعض ایڈ کرنے والے افراد ایسے ہوتے ہیں جن کا نام دیکھ کر ہم بوجوہ گروپ چھوڑنے سے ہچکچاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک بڑے نام نے مجھے گذشتہ دنوں ایک واٹس ایپ گروپ میں ایڈ کیا۔ وہ معروف ڈرامہ رائٹر اور ادبی حلقہ میں نمایاں مقام کی حامل شخصیت ہیں۔ اس نام کی وجہ سے میں چاہتے ہوئے بھی گروپ سے خود کو خارج نہ کر پایا۔ بعد ازاں گروپ میں ہونے والے سرگرمیاں میرے نظر سے گزری، تو نہ صرف گروپ کی اہمیت کا اندازہ ہوا بلکہ گروپ نہ چھوڑنے کا اپنا فیصلہ بھی درست معلوم ہوا۔

    یہ گروپ سفید پوش ادبی شخصیات کیلئے ایک ”آسرا“ تھا۔ جس کا بنیادی مقصد ادبی برادری کو ان کا پردہ رکھتے ہوئے معاشی کرائسز میں سہارا دینا تھا۔ معروف ڈرامہ رائٹر و شاعرہ سدرہ سحر عمران نے اپنی سماجی ترقی کیلئے متحرک دوست مومنہ وحید کے ساتھ مل کر ایک چیلنج قبول کیا۔ جب انہیں معلوم ہو اکہ ایک ان کے حلقہ احباب میں موجود ایک ادبی شخصیت قرض کا بوجھ لئے دنیا سے رخصت ہو گئی اور اس کے لواحقین کو اس قرض کی ادائیگی میں اپنی آمدن کا واحد سہارا بھی فروخت کرنا پڑ رہا ہے۔ سدرہ اور مومنہ نے ادبی و سماجی حلقوں پر مشتمل اہم افراد کو ایک واٹس ایپ گروپ میں اکٹھا کر کے ان کے ساتھ مذکورہ خاندان کی پریشانی کا اظہار کیا، جس پر تمام افراد نے اپنا اپنا کردار ادا کر کے اس خاندان کے واحد ذریعہ آمدن کو بچایا۔

    سدرہ سحر عمران اور مومنہ وحید کا موقف تھا کہ ”ہمارے ادیب،شاعر،فنکار اپنے اپنے فن سے ”ریٹائرمنٹ“ کے بعد جس اذیت،افلاس،بیماری، غربت اور گمنامی کا شکار ہوکر مرتے ہیں ہمیں اس کی خبر ہی نہیں ہوپاتی۔ یہ الگ بات ہے کہ شہرت اور پیسے کے عروج کے اوقات میں لوگوں کو اپنا مشکل وقت بھی یاد رکھنا چاہئے، لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو یہ ان کا فعل ہے۔ بوقت ضرورت ان کے زخموں پر مرہم رکھنا ہمارا ظرف ہے“۔
    معاشرے کے مختلف ضرورت مند طبقات کیلئے تو بہت سے ادارے اور لوگ اپنی اپنی حد تک کوششیں کر رہے ہیں لیکن ادبی برادری بالکل نظر انداز ہے۔ ایک خاص وقت میں اس طبقے کو درپیش کرائسز سے نکالنے کیلئے انفرادی و اجتماعی کوششیں بہت ضروری ہیں۔ یہی سوچ لے کر سدرہ عمران اور مومنہ وحید نے سفید پوش آرٹسٹوں کا ”آسرا“ بن کر پہلا قدم اٹھایا ہے۔ محض گنتی کے چند گروپ ممبران کی مدد سے انہوں نے مذکورہ ادبی شخصیت کے خاندان کو لاکھوں روپے قرض کے بوجھ سے نکالا۔ مجھے ایک خاص بات یہ لگی کہ جیسے ہی مطلوبہ ٹارگٹ مکمل ہوا، مومنہ وحید اور سدرہ سحر کی جانب اعلان کیا گیا کہ گروپ ممبران مزید کوشش نہ کریں۔ وگرنہ میں نے ایسے افراد بھی دیکھے ہیں جو مطلوبہ ہدف حاصل کرنے کے بعد بھی لوگوں کو مزید امداد بھیجنے سے منع نہیں کرتے۔ یہی ”آسرا“ کی خاصیت تھی۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ ادبی برادری کیلئے اس اقدام کا آغاز سدرہ سحر عمران اور مومنہ وحید نے انفرادی طور پر شروع کیا ہے اور وہ اسے انفرادی ہی رکھنے کے قائل ہیں، اسے باقاعدہ کسی این جی وغیرہ کی شکل نہیں دینا چاہتے۔

    ہمارے ارد گرد کئی سفید پوش ایسے ہیں جو کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا گوارہ نہیں کرتے بلکہ اپنی مشکل سے خود نبٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر ملک کے معاشی حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں، یہاں سے واپسی ممکن دکھائی نہیں دیتی۔ ایسے میں عام آدمی کے کرائسز میں اضافہ ہونا یقینی امر ہے۔ ہمیں اپنے اپنے ادبی سرکل میں بے شمار ایسے افراد ملیں گے جو حالات کی ستم ظریفی کا شکار ہونے کے باوجود اپنی خود داری کی وجہ سے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے سے گریزاں ہیں۔ گذشتہ دنوں کئی دہائیاں ٹی وی سکرین پر راج کرنے والے معروف اداکار راشد محمود فالج اور دل کے عارضے کی وجہ سے مشکل حالات سے گزرے۔ نظر انداز کرنے کے حوالے سے راشد محمود کا شکوہ سوشل میڈیا پر آیا تو زمانے کو ان کے معاشی حالات کا علم ہوا۔ ذرائع ابلاغ وقتاً فوقتاً ایسی کتنی ہی کہانیاں ہمارے علم میں لاتے ہیں جن میں اپنے اپنے ادوار کی نامی گرامی شخصیات کسمپرسی سے گزر رہے ہوتے ہیں لیکن ان کے حالات ہماری نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ ان میں کھیل، ادب، صحافت، شوبز میں نمایاں رہنے والے انمول ہیرے شامل ہیں۔
    کہتے ہیں کہ جب کوئی معاشرہ اپنے مجبور و بے کس لوگوں کو خودانحصار بنانے کی جانب توجہ دے، تو یہ اس کے مہذب ہونے کی دلیل ہے۔ متوسط اور غریب طبقے کے ساتھ ساتھ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے والے سفید پوش لوگوں کی زندگی بہتر کرنے کیلئے ہر فرد کا انفرادی سطح پر کردار ہی قوم میں یکجہتی اور عروج لائے گا۔ حالات ایسے ہی تبدیل ہوتے ہیں، حقیقی تبدیلی بھی یونہی آتی ہے ……ضرورت صرف ذمہ داری محسوس کرنے کی ہے، وگرنہ احساس تو ہم خوب رکھتے ہیں۔ اس احساس کو خود میں سے مرنے مت دیں۔

    میں سدرہ سحر عمران اور مومنہ وحید کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ وہ ادبی برادری کا درد محسوس کرتے ہوئے ان کیلئے ”آسرا“ بنی۔ مجھے یقین ہے کہ ان دونوں نے مل کر جو ذمہ داری اٹھائی ہے، وہ اس پر ثابت قدم رہیں گی اور ہماری گمنام اور سفید پوش ادبی برادری کو حالات کے دھارے پر نہیں چھوڑیں گی، بلکہ اخلاقی و معاشی طور پر صحیح معنوں میں ان کیلئے ”آسر“ا ثابت ہوں گی۔ اور اس میں درد مند دل رکھنے والی ادبی و سماجی شخصیات کا بھرپور ساتھ انہیں حاصل رہے گا۔
    پلکیں ہیں بھیگی کسی کی، رخسار ہے نم کسی کا
    گر ہوسکے تو مداوا، کیوں نہ کریں ہم کسی کا