Baaghi TV

Category: متفرق

  • جوتے وہی اچھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔      آغا نیاز مگسی

    جوتے وہی اچھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آغا نیاز مگسی

    دنیا میں ایسا کوئی شخص وہ مرد ہو خواہ عورت بوڑھا ہو یا بچہ غریب ہو یا امیر جوتوں کی خواہش سب کو ہوتی ہے اور یہ سب کی ضرورت ہے موت اور زندگی کی طرح جوتے بھی ہر اس انسان کے لیے ضروری ہوتے ہیں جس کے پاں سلامت ہوں اگر ایک پیر والا ہے وہ بھی اپنے لیئے ایک جوتا رکھتا ہے اگر خدانخواستہ کوئی دونوں پاؤں سے معذور یے تو پھر اسے جوتوں کی ضرورت اور خواہش نہیں ہوتی۔

    جوتے سستے بھی اور انتہائی مہنگے بھی ہوتے ہیں کس کے نصیب میں کیسے جوتے ہوتے ہیں یہ ہر ایک کے مقدر کی بات ہوتی ہے ،جس کو جوتوں کا شوق ہو تو پھر پتہ نہیں وہ کیسے جوتے حاصل کر لیتے ہیں ہمارے یہاں عام طور پر ملٹی نیشنل کمپنی باٹا اور سروس کے اور مقامی لیول پہ پشاور کے پشاوری چپل کوئٹہ کے نوروزی اور سعادت اور ملتان کے ملتانی کھسے بہت مشہور ہیں یہاں تک تو بات ٹھیک ہے لیکن اگر کسی غریب کو جوتے لینے یا خریدنے کی سکت نہ ہو تو وہ جوتے چرانے پر مجبور ہو جاتا ہے اور مسلمانوں کے معاشرے میں جوتے چرانے کی آسان ترین جگہ مساجد اور اولیائے کرام کے مزارات و درگاہیں اور شادی بیاہ اور دعوت ولیمہ جیسی تقریبات ہوتی ہیں نمازی حضرات کے جوتے جتنے مہنگے اور قیمتی ہوتے ہیں مسجد میں نماز پڑھتے وقت اس کی توجہ جوتوں کی طرف بھی ہوتی ہے کہیں چوری نہ ہو جائیں ۔

    متحدہ ہندوستان میں ریاست بہار کی رانی اندرا دیوی بہت قابل اور ذہین اور با صلاحیت حکمران عورت تھی اس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ برصغیر کی پہلی عورت تھی جس نے یوگا کی تربیت حاصل کی تھی اور بعدمیں استاد کی حیثیت سے اپنے شاہی خاندان کے افراد کو بھی سکھاتی تھی لیکن اس کو جوتوں کا جنون کی حد تک شوق تھا اس دور میں اٹلی میں جوتے بنانے کا ایک ماہر سیلیٹور فریگامو کے جوتے دنیا بھر میں مشہور تھے اس کی خواہش نے بھی انگڑائی لی اور شاہی فرمان جاری کر دیا کہ اس کو میرے دربار میں لایا جائے چناچہ اس کو اٹلی سے لایا گیا اندرا دیوی نے اس سے کہا کہ مجھے ایسے جوتے چاہیئے جو آج تک دنیا بھر میں کسی عورت نے نہ پہنے ہوں فریگامو سوچ میں پڑ گیا اور اس نتیجے پرپہنچا کہ آج تک کسی عورت نے ہیرے اور جواہرات سے جڑے جوتے نہیں پہنے ہیں جس پر رانی نے خوش ہو کر اس کو اپنے لیئے ایسے 600 جوتے تیار کرنے کا حکم دیا اور وہ سارے جوتے ہیروں جواہرات سونے اور نایاب پتھروں سے بنائے گئے ایسے مہنگے اور قیمتی جوتوں کا سن کر ملکہ برطانیہ حسرت سے آہ بھر کر رہ گئی کیونکہ وہ ایسے جوتے نہیں خرید سکتی تھی ان کے ملک میں احتساب کا خوف ہے

    جب جوتوں کی بات چل ہی نکلی ہے تو جدید دور کی موجودہ اکیسویں صدی میں مشہور شخصیات اور حکمرانوں پر نفرت کے اظہار کے طور پر جوتے پھینکنے کا خطرناک رواج چل نکلا ہے جس کی ابتداء عراق کے ایک صحافی المنتظری نے دنیا کے طاقتور ترین حکمران سپر پاور امریکہ کے صدر جونیئر بش پر یکے بعد دیگرے دو جوتے پھینک کر کی اور پھر یہ سلسلہ دنیا بھر میں چل نکلا ہے اور یہ جوتے پاکستان کے حکمرانوں تک بھی پہنچ گئے،جوتوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا رواج خواتین نے شروع کیا ، ہمارے ملک کے نیوز چینلز پر آئے دن ایسے مناظر دکھائے جاتے ہیں جن میں خرانٹ قسم کی بہادر اور باہمت خواتین اور لڑکیاں آوارہ اوباش اور لفنگے اور چھیڑ چھاڑ کرنے والے مرد اور لڑکوں کو جوتوں سے ٹھکائی کرتے ہوئے دکھائے جاتے ہیں ، نفرت کے طور پر کسی معتوب شخص کو جوتوں کے گلے میں ہار بھی پہنائے جاتے ہیں تو کسی کے سر پر برسائے جاتے ہیں چنانچہ جوتوں کے شوق اور استعمال میں بڑے احتیاط کی ضرورت ہے خاص طور پر حکمران اور اونچے طبقہ کے لوگ آجکل جوتوں کے خوف میں مبتلاء نظر آتے ہیں کہ کہیں سے کوئی لہراتا ہوا جوتا نہ آجائے اس لیئے جوتے وہی اچھے جو پاؤں میں پہنے یا پہنائے جائیں لیکن گلے میں اور سر پر جوتے پڑنے سے اللہ پاک سب کو محفوظ رکھے تاہم اس سے بچنے کے لیے بہتر کردار کی ضرورت ہے ۔

  • دمشق حملے کے بعد اسرائیل ایران تنازعہ بّڑھ گیا

    دمشق حملے کے بعد اسرائیل ایران تنازعہ بّڑھ گیا

    دمشق حملے کے بعد اسرائیل ایران تنازعہ بّڑھ گیا

    شام کے شہر دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر حالیہ اسرائیلی فضائی حملے نے اسرائیل اور ایران کے درمیان دیرینہ تنازعہ بڑھا دیا ہے۔ اس حملے میں سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز کور کے دو اعلیٰ کمانڈرز بھی شامل تھے، جو شام میں تعینات تھے۔

    یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے ایران اور شام میں خفیہ کارروائیوں کے سلسلے میں تازہ ترین حملہ تھا جس میں ایرانی اہلکاروں، جوہری تنصیبات اور پراکسی گروپوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیل پر خطے میں ایرانی اہداف پر متعدد خفیہ حملے کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس میں ایرانی سائنسدانوں، انجینئروں، اسلامی انقلابی گارڈز کے کمانڈروں کا قتل اور شام میں ایرانی اور حزب اللہ کے اہداف پر حملے شامل ہیں۔

    دمشق میں اسرائیلی حملے کے بعد ایران جوابی کاروائی کی طرف بڑھا اور ایران نے پہلی بار براہ راست اسرائیل پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون داغے۔ یہ تنازعہ میں ایک تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جو پہلے پراکسیز کے ذریعے لڑا گیا تھا، جیسے غزہ میں حماس، جسے ایران سے فنڈنگ اور مدد ملتی ہے۔

    اسرائیل پر ایران کا براہ راست حملہ خطے میں وسیع جنگ کے امکانات کے بارے میں خدشات کو جنم دیتا ہے۔ اگر ایران محسوس کرتا ہے کہ اس کا ردعمل کافی ہے تو صورت حال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔ تاہم، اگر اسرائیل نے ایران کے حملے کو کامیاب سمجھا، تو اسرائیل کی جانب سے جوابی کارروائی کا امکان ہے جس کے بعدد ممکنہ طور پر پورے خطے میں جنگ پھیل سکتی ہے

    اسرائیل اور ایران کے درمیان کئی دہائیوں سے تنازع جاری ہے، جس میں وقتاً فوقتاً کشیدگی میں اضافہ ہوتا رہتا ہے،حماس جیسے فلسطینی عسکریت پسند گروپوں کے لیے ایران کی حمایت ایک بڑا تنازعہ رہا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق، ایران فلسطینی عسکریت پسند گروپوں بشمول حماس کو تقریباً 100 ملین ڈالر سالانہ فراہم کرتا ہے۔

    اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے حالیہ حملے میں ایران کی طرف سے داغے گئے 99 فیصد میزائلوں کو ناکارہ بنا دیا ہے، لیکن براہ راست تصادم اس تنازع میں ایک نئے دور کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان براہ راست ڈرون و میزائل حملوں کے تبادلے سے تنازع کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ایران کے اسرائیل پر براہ راست حملے کے مضمرات بہت دور رس ہیں، جس میں ایک وسیع علاقائی جنگ کا امکان ہے جس میں متعدد اداکار شامل ہیں۔ امریکہ، جو تاریخی طور پر اسرائیل کا ایک مضبوط اتحادی رہا ہے، اس تنازعے کی طرف بڑھ سکتا ہے، جو ممکنہ طور پر دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ ایک وسیع تر تنازعے کا باعث بن سکتا ہے۔

  • سعودی وزیر دفاع  کی یوم پاکستان تقریب میں شرکت ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    سعودی وزیر دفاع کی یوم پاکستان تقریب میں شرکت ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    اس میں شک نہیں کہ پاکستان اسلام کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا ہے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ صرف پاکستان ہی واحد ملک ہے جو اسلام کی بنیاد پر قائم ہوا تو یہ بات قابل اصلاح ہے اسلئے کہ سعودی عرب بھی اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے بلکہ قیام پاکستان سے پہلے ہی سعودی عرب منصہ شہود پر آچکا تھا البتہ جب پاکستان کے قیام کی تحریک چلی اور یہ نعرہ لگا کہ ’’ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ ‘‘ تو اس نعرہ کی گونج سعودی عرب تک بھی پہنچی اب چونکہ سعودی عرب بھی کلمہ توحید اور دین کی بنیاد پر قائم ہوا تھا جبکہ ہمارا دین دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک دوسرے کی مدد وحمایت کا حکم بھی دیتا ہے اسی بنیاد پر سعودی عرب کے حکمرانوں نے قیام پاکستان کے مطالبے کی حمایت کی اور جب پاکستان بن گیا تو بھی ہمارے ملک کی ہمیشہ اور ہر مشکل وقت میں مدد وحمایت کی ہے ۔

    سعودی عرب کی پاکستان کے ساتھ جو محبت اور دوستی ہے اس کے اظہار کیلئے 23مارچ یوم پاکستان کے موقع پر سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعودکو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا ۔یہ اسلئے کہ 23مارچ ۔۔۔۔۔پاکستان کی تاریخ کا بہت اہم دن ہے۔ اس دن ملک بھر میں خصوصی تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں سے سب اہم تقریب مسلح افواج کی پریڈ ہے ۔ جس میں پاکستان اپنی فوجی طاقت کا بھرپور اور اعلانیہ اظہار کرتا ہے ۔ ٹینک ، لڑاکا طیارے ، توپیں اور میزائل نمائش کیلئے پیش کئے جاتے ہیں ۔ اسی طرح پاکستان کے بہترین کمانڈو دستے ، سپیشل سروسز گروپ کے جوان بھی فوجی پریڈ میں اپنی قوت اور طاقت کااظہار کرتے ہیں ۔ پاکستان کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ 23مارچ کی فوجی پریڈ میں بہترین دوست ملک کی کسی اہم شخصیت کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا جائے ۔دوست ملک کی اہم شخصیت کا تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرنا بلاشبہ پاکستان کیلئے اعزازا ورافتخار کی بات ہوتی ہے ۔

    چنانچہ امسال 23مارچ کی تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان کے بہترین دوست سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود تھے ۔ شہزادہ خالد بن سلمان۔۔۔۔۔سعودی عرب کی اہم ترین شخصیت ہیں وہ ۔۔۔۔ سعودی بادشاہ کے بیٹے اور ولیعہد محمد بن سلمان کے سگے بھائی ہیں ۔ وہ 2017ء میں امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر بھی رہ چکے ہیں ۔ واضح رہے کہ پاک فوج کے سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر نے گذشتہ ہفتے سعودی عرب کے دورے کے دوران ولیعہد شہزادہ محمد سلمان سے ملاقات کی اور سعودی وزیر دفاع کو دورے کی دعوت دی تھی ۔ شہزادہ خالد بن سلمان مسلح افواج کی مشترکہ پریڈ میں بطور گیسٹ آف آنر شرکت کیلئے پہنچے تو وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے ان کا استقبال کیا۔یہ ایک شاندار اور پروقار تقریب تھی جس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، سروسزچیفس نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ وفاقی وزرا ارکان اسمبلی اور پاکستان میں غیرملکی سفرا بھی شریک ہوئے۔تقریب کے مہمان خصوصی شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیزالسعود نے شاندار جوائنٹ سروسز پریڈ کا مشاہدہ کیا۔پاک فوج کے مختلف یونٹوں کے دستوں نے مہمان خصوصی کو سلامی پیش کی جبکہ پاک فضائیہ کے جدید طیاروں جے ایف 17، ایف سولہ اور میراج طیارے نے فضائی مظاہرہ کیا۔ پاک فضائیہ میںنئے شامل کردہ جے 10 سی، مقامی طور پر بنائے گئے ایف 16، جے ایف 17 اور میراج لڑاکا طیاروں کے ساتھ ساتھ AWACs، P-3C اورین اور ATR نے بھی فلائی پاسٹ میں حصہ لیا اور حاضرین وسامعین کے لہو کو گرماکر دشمنوں کو یہ پیغام دیا کہ
    اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا
    تیرے بیٹے تیرے جانباز چلے آتے ہیں

    مسلح افواج کی پریڈ کے بعد دوسری اہم ترین تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی جس میں صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وزیر دفاع اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان سمیت دیگر اعلی شخصیات نے شرکت کی جبکہ اس تقریب میں پاکستان میں متعین سعودی عرب کے سفیر نواف سعید المالکی بھی موجود تھے ۔اس شاندار اور پروقار تقریب میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کو پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز ’’ نشان پاکستان ‘‘ سے نوازا گیا۔ وزیر اعظم نے پاکستان کا سب سے اعلیٰ سول ایوارڈ ’’ نشان پاکستان ‘‘ ملنے پر سعودی وزیر دفاع کو مبارک باد دی جبکہ وزیر دفاع نے وزیر اعظم کو منصب سنبھالنے پر مبارک باد پیش کی اوران کیلئے نیک خواہشات کااظہار کیا ۔

    بعد ازاں سعودی وزیر دفاع کی آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر سعودی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تاریخی اور مضبوط برادرانہ تعلقات ہیں، سعودی عرب اور پاکستان ہمیشہ ایک دوسرے کے خیر خواہ رہے ہیں۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور مختلف شعبوں بالخصوص دفاع میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔سعودی وزیر دفاع نے پاکستان کے دورے کی دعوت پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا ۔ قبل ازیں وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے سعودی عرب کے وزیر دفاع عزت مآب شہزادہ خالد بن سلمان بن عبد العزیز آل سعود کی ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ امور پر تفصیلی بات چیت، علاقائی امن و سلامتی اور خطے کی سیکیورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دونوں ممالک کے درمیان دفاع ، سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔وزیراعظم نے خادم حرمین شریفین سلمان بن عبدالعزیز آل سعود ، سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور سعودی وزیر دفاع سے کہا کہ ہم آپ کے بڑے بھائی سعودی ولی عہد عزت مآب جناب محمد بن سلمان کے پاکستان کے دورے کا انتظار کر رہے ہیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ ایسے حالات میں جبکہ دشمن پاکستان کو تنہا کرنے کے درپے ان حالات میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کا دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ نئی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز کی یوم پاکستان کی تقریب میں شرکت اور پھر پاکستانی عہدیداران سے ملاقاتین صدر پاکستان کی طرف اعلی ترین سول ایوارڈ نشان پاکستان سے نوازنا آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا بذات خود سعودی عرب جا کر شہزادہ خالد کو تقریب کی دعوت دینا پاک سعودی تعلقات اور بلخصوص موجودہ حکومت کے ساتھ ساتھ سعودی تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں ۔اللہ نے چاہا تو پاک سعودی تعلقات مضبوط تر ہوں گے ان شاء اللہ ۔

  • آہ . ظفر صدیقی بھی چل بسے،کچھ یادیں، کچھ باتیں

    آہ . ظفر صدیقی بھی چل بسے،کچھ یادیں، کچھ باتیں

    یہ مضمون ٹیلی بز پروڈکشن کے معروف سی ای او، سی این بی سی پاکستان کے چیئرمین، سماء ٹی وی کے بانی، کے پی ایم جی کے جنوبی ایشیا کے نائب صدر کے بارے میں نہیں بلکہ یہ ان کامیابیوں کے پیچھے آدمی کے جوہر کو تلاش کرتا ہے۔ آٹھ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا جن میں میری والدہ ایک تھیں۔ یہ اس شخص کے بارے میں ہے جس نے 25 سال کی عمر میں اپنے کزن کو اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 35 سال تک وہ ایک کمپنی کا سربراہ بن جائے گا اور 45 سال تک وہ ایک کمپنی کا مالک ہو گا۔

    ظفر صدیقی کی ایک نمایاں خصوصیت ان کا شوخ انداز لباس تھا، جو رنگوں سے مزین تھا جسے بہت کم لوگ اپنے مزاج کے ساتھ لے جا سکتے تھے۔ اس کی مسکراہٹ، زندگی کے لیے اس کے جذبے، خطرات مول لینے کی خواہش اور زندگی کے بے شمار تجربات سے لطف اندوز ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔

    بچپن سے ہی وہ شرارتی تھے،وہ چیلنجز قبول کرتے تھے اور اپنے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے تھے، وہ یوکے میں چارٹرڈ اکاؤنٹنسی کے لئے گئے تو انہوں نے اپنی پوری توجہ ڈگری حاصل کرنے رکھی، انہوں نے اپنے اہداف حاصل کیے، اپنی پیشہ ورانہ کامیابی سے آگے اس میں ایک غیر معمولی خوبی تھی۔ اس نے اپنی بیوی، خاندان، بہن بھائیوں اور ان کے بچوں کے لیے محبت اور حمایت کی چھتری بڑھا دی۔ اس نے واپسی کی توقع کے بغیر غیر متزلزل دیکھ بھال، اخلاقی مدد اور مالی مدد کی پیشکش کی۔

    جس چیز نے اسے سب سے ممتاز کیا وہ تھا اس کا وقت بانٹنے کی سخاوت تھی، نو سال سے زیادہ عرصے تک میرے شوہر کے کھونے کے بعد، ہم تقریباً روزانہ بات چیت کرتے رہے۔ وہ میرا بااعتماد، میری طاقت کا ستون بن گیا۔ ان کے حسن سلوک بہت گہرے تھے، لاہور میں میری بیٹی کی سالگرہ پر پھول بھیجنے سے لے کر جب وہ دبئی میں رہتے تھے تو نقد تحائف تک، ان کی بے پناہ سخاوت کی عکاسی کرتا تھا۔
    1985 میں، وہ بیرون ملک سے دو شاندار برانڈڈ ہینڈ بیگ واپس لائے، ایک اپنی بیوی کے لیے اور ایک میرے لیے۔ جب میں انتخاب کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتا تھا، تو اس نے اصرار کیا کہ میں دونوں کو لے لوں،یہ اس کی بے لوثی کی مثال دے رہی ہوں

    ہر کزن اپنے ساتھ پیاری یادیں رکھتا ہے، ہر ایک کا احساس منفرد طور پر پیار کرتا ہے، پھر بھی یہ سب اس کے بے پناہ دل اور خاندان سے عقیدت کا ثبوت ہے۔
    اب جب ہم اسے الوداع کہہ رہے ہیں، کینسر کی وجہ سے وہ بہت جلد چلا گیا "اللہ تعالیٰ اسے جنت عطا فرمائے” کے جذبات مسکراہٹ لاتے ہیں۔ وہ نہیں تو اور کون؟ وہ ایک ایسا آدمی تھا جس نے خدا کی تخلیق کی قدر کی۔
    میں نے اپنا گلاس سلامی میں اٹھایا،ایک ہی سطر میں، اس کی زندگی کا خلاصہ اس طرح کیا جا سکتا ہے: "اس نے زندگی گزاری۔”

  • سعودی عرب میں 3لاکھ 47ہزار 6سو 46افراد حلقہ بگوش ِ اسلام ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    سعودی عرب میں 3لاکھ 47ہزار 6سو 46افراد حلقہ بگوش ِ اسلام ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    کچھ خبریں اور باتیں ایسی ہوتی ہیں جنھیں سن کر ایمان بڑھ جاتا اور دل خوشی سے بھر جاتا ہے ۔ انہی میں سے ایک نہایت ہی خوش کن اور خوش آئند خبر یہ ہے کہ سعودی عرب میں 3لاکھ 47ہزار 6سو 46افراد حلقہ بگوش ِ اسلام ہوئے ہیں۔ یہ ایمان افروز خبر سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے دنیا کو بتائی اور سنائی ہے ۔ بلاشبہ یہ بہت ہی خوشی کی خبر ہے جس پر ہم خادم الحرمین ملک سلمان بن عبدالعزیز ، ولیعہد محمد بن سلمان اور سعودی عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس سعی کو قبول فرمائے ۔دریں حالات جبکہ عالم اسلام سخت ابتلاءوآزمائش کا شکار ہے ان حالات میں اس خبر سے اہل اسلام کے حوصلے بلند ہوئے اور دل خوشی ومسرت سے لبریز ہوئے ہیں ۔اس نوید مسرت سے ایک طرف اسلام کی صداقت وحقانیت واضح ہورہی ہے تو دوسری طرف مملکت سعودی عرب کے حکمرانوں کی اسلام کے ساتھ بے پایاں محبت بھی واضح ہے۔یہ خبر اس امر کااظہار بھی ہے کہ سعودی معاشرہ اور سعودی عرب کے حکمران اسلام کے سچے خادم ہیں ، اسلام سے محبت کرتے ہیں اور اسلام کی تبلیغ واشاعت کےلئے تمام وسائل بروئے کار لارہے ہیں ۔جس مقصد کی خاطر سعودی عرب معرض ِ وجود میں آیا آج بھی اس پر قائم ہے ۔سعودی عرب کے بانیوں نے اپنے ملک کے قیام کے وقت اللہ سے جو وعدے کئے تھے۔۔۔۔۔ آج بھی ان ۔۔۔۔۔ وعدوں پر کاربند ہیں ۔

    اب ہم آتے ہیں اصل موضوع کی طرف ۔ مضمون کی ابتدا میں ہم سعودی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ کی پریس کانفرنس کا ذکر کرچکے ہیں ۔ ڈاکٹر عبد اللطیف نے حلقہ بگوش اسلام ہونے والوں کی جو تفصیل بتائی اس کی ترتیب درج ذیل ہے :سال 2019ءمیں 21654افراد نے اسلام قبول کیا۔ سال 2020ءمیں 41441افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے ، سال2021ءمیں3 2733 افراد شرف ِ اسلام سے سرفراز ہوئے ، سال 2022ءمیں 93899افراد نے اسلام قبول کیاجبکہ سال 2023ءمیں 163319 افراد شرف ِ اسلام سے سرفراز ہوئے اس طرح اسلام قبول کرنے والوں کی مجموعی تعداد 3لاکھ 47ہزار 6سو 46بنتی ہے۔ یہ اعداد وشمار صرف 2019ءسے ابتک کے ہیں ۔ اگر سعودی عرب کے قیام سے ابتک اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد جمع کی جائے تو بلاشبہ وہ کروڑوں میں بنتی ہے ۔ اسی طرح دوسرے ممالک میں سعودی داعی اور مبلیغین کی کوششوں سے بھی ہر سال ہزاروں لوگ حلقہ بگوش اسلام ہورہے ہیں ۔۔۔ ۔جیسا کہ یہ بات پہلے ذکر ہوچکی ہے کہ سال 2023ءسعودی عرب میں ایک لاکھ 63ہزار3ہزار 3سو19افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے ہیں ۔ اگر اس تعداد کو سال کے 365دنوں پر تقسیم کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سعودی عرب میں ایک دن میں 447افراد نے اسلام قبول کیا جو کہ الحمد للہ بہت بڑی تعداد ہے اور یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں روزانہ کی بنیاد پر اتنی تعداد میں لوگ اسلام قبول نہیں کررہے ہیں ۔

    سعودی عرب میں ہر سال بڑی تعداد میں غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہورہے ہیں تو اس کی بہت سی وجوہات ہیں مثلاََ یہ کہ سعودی عرب کے حکمران اسلام سے محبت کرتے ہیں ۔ حکومتی سطح پر بھی اور عوامی سطح پر بھی اسلام کی تبلیغ واشاعت کےلئے کوششیں کی جاتی ہیں۔ حکومتی سطح پر مملکت کے ہر خطے میں داعی اور مبلغین تعینات کئے گئے ہیں ۔اسی طرح سعودی عرب کے اہم ترین کارنامے جو دنیا بھر میں اسلام کی تبلیغ واشاعت کےلئے بے حد ممد ومعاون ثابت ہورہے ہیں ان میں سے چند ایک یہ ہیں ۔۔۔۔

    اولاََ۔۔۔۔۔ سعودی حکومت نے قرآن مجید کی تعلیمات کو عام کرنے کا خاص اہتمام کررکھا ہے۔اس مقصد کی خاطر خادم الحرمین الشریفین شاہ فہد بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ نے اپنے دور میں ” کنگ فہد قرآن پرنٹنگ کمپلیکس “ کے نام سے مدینہ منورہ میں ایک عظیم الشان اشاعتی ادارہ قائم کیا جو بلاشبہ دنیا بھر میں قرآن مجید کی طباعت واشاعت کا سب سے بڑا ادارہ ہے ۔ اس مبارک پراجیکٹ کا سنگ بنیاد 2 نومبر 1982 ءمیں رکھاگیا ۔ یہ کمپلیکس فن تعمیر کا دلکش اور خوبصورت شاہکار ہے۔ اس پرنٹنگ کمپلیکس میں اعلی معیار کے اور غلطیوں سے پاک قرآن مجید کے نسخے طبع کرکے پوری دنیا میں مفت تقیم کیے جاتے ہیں۔ قیام سے لے کر اب تک اس کمپلیکس سے مختلف انواع سائز کے کروڑوں کی تعداد میں 40سے زبانوں میں نسخے شائع ہو چکے ہیں ۔ شاہ فہد رحمہ اللہ علیہ نے قرآن مجید کو گھر گھر پہنچانے اور اس کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے دنیا کی مختلف زندہ زبانوںمیں اس کے ترجمے و تفاسیر اور اس کی توضیح اور تقسیم کر کے کے جو عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے وہ قیامت تک یاد رکھا جائے گا ۔ قرآن مجید کی طباعت واشاعت کے علاوہ کتب ِ تفاسیر واحادیث اور دیگر کتب بھی شائع کرکے مفت تقسیم کی جاتی ہیں جن پر ہر سال کروڑوں ریال خرچ کئے جاتے ہیں ۔

    ثانیاََ۔۔۔۔ دینی تعلیم کے فروغ کے لیے 1944ءمیں جامعہ ازہر کی طرز پرمدینہ منورہ میں” الجامعة الاسلامیہ “ کے نام سے یونیورسٹی قائم کی جواس وقت علوم اسلامیہ کے فروغ میں اسلامی دنیاکی سب سے بڑی یونیورسٹی بن چکی ہے جہاں پوری دنیاسے طلبہ تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں اور حصول کے بعد سعودی عرب سمیت دنیا بھر میں اسلام کی تبلیغ واشاعت کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔

    ثالثاََ۔۔۔۔۔ سعودی حکومت نے اپنی مملکت سمیت پوری دنیا میں مستقل بنیادوں پراسلام کے مراکز ، مساجد اور مدارس قائم کئے ہیں جن میں داعی ، مبلغین ، اساتذہ کرام، قرائے عظام اور علمائے کرام اور مبعوث تعینات کئے گئے ہیں جن کی تعداد کئی ہزار ہے۔ ان کی سرپرستی سعودی حکومت اور سعودی خیراتی ادارے کرتے ہیں۔ یہ مبلغین ومعلمین خالص توحید اور قرآن و سنت کی روشنی میں لوگوں کو صحیح عقیدے کی دعوت دیتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ اپنے عقائد کی اصلاح کرتے اور مشرف بہ اسلام ہوتے ہیں۔

    رابعاََ ۔۔۔۔۔۔مملکت سعودی عرب میں دعوت وتبلیغ کیلئے 457 دینی ودعوتی جمعیتیں اور این جی اوز مختلف خطوں میں سرگرم عمل ہیںجو مملکت میں روزگار کےلئے غیر مسلموں کو اور سعودی عرب میں بغرض ِ سیاحت آنے والے غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دیتی ہیں ۔

    آخر میں اس بات کا ذکر بھی بے حد ضروری ہے کہ کچھ لوگ مملکت سعودی عرب کے بارے میں پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ محمد بن سلمان اب سعودی عرب کو یورپ بنا رہے ہیں، دین اسلام کو مٹا رہے ہیں، مگر وہاں تو عملاً اس جھوٹے پروپیگنڈے کے برعکس کام ہو رہا ہے، اس سے پہلے کسی بھی سعودی بادشاہ کے دور میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ مسلمان نہیں ہوتے تھے جس قدر پچھلے چند سالوں میں ہوئے ہیں اور دن بہ د ن اسلام لانے والوں کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے، مطلب یہ ہوا کہ سعودی عرب میں اب دعوت دین پر پہلے سے زیادہ سنجیدگی سے اور بہتر انداز میں ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ سعودی حکومت اور وہاں کے سلفی علماءکی دین اسلام کی اشاعت کیلئے محنتوں کو قبول فرمائے اور رب کریم انہیں اس باسعادت مشن کیلئے مزید آگے سے آگے بڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین !

  • پانچ فروری اظہار یکجہتی کشمیر کاسوال ،فیصلہ کن اقدام کاوقت کب آئے گا ؟تحریر: ڈاکٹر سبیل اکرام

    پانچ فروری اظہار یکجہتی کشمیر کاسوال ،فیصلہ کن اقدام کاوقت کب آئے گا ؟تحریر: ڈاکٹر سبیل اکرام

    مقبوضہ جموں کشمیرکی خصوصی حیثیت کاخاتمہ بھارت کے ترکش کاآخری تیر تھاجسے اس نے تحریک آزادی کشمیرکوکچلنے اورناکام بنانے کے لئے استعمال کیا ہے گویا اب بھارت کے ترکش میں کوئی ایسا تیر نہیں بچا جسے وہ کشمیریوں پرچلااورتحریک آزادی کودباسکے۔ یہ درست ہے کہ ظلم کے ان حربوں اورہتھکنڈوں سے اہل کشمیر کے سینے شق اورلہولہان ہیں لیکن ان کے حوصلے بلندہیں۔ مقبوضہ جموں کشمیر میں جوکچھ ہورہا اوربھارتی نیتا ﺅں کے پاکستان کے بارے میں جو عزائم وارادے ہیں یہ حالات بھارتی جارحیت کے سامنے مضبوط بندباندھنے اور مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے عملی اقدام کے متقاضی ہیں۔یہ بات معلو م ہے کہ کشمیرتقسیم ہندکانامکمل ایجنڈاہے ان حالات میں یہ کافی نہیں کہ ہم سال میں ایک باراظہاریکجہتی کرلیں اور اس کے بعد لمبی تان کرسوجائیں ۔پانچ فروری تجدید عہد کادن ہے ۔ اس بات کاعہد کہ کشمیری ہمارے بھائی ہیں،مظلوم ہیں ،پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑرہے ہیں اور ان کی مددوحمایت کرنا ہمارافرض ہے۔

    پانچ فروری اظہار یکجہتی کا مقصدمظلوم کشمیریوں کی آواز اور پیغام کو دنیا تک پہنچانا ، بین الاقوامی سطح پرمسئلہ کشمیر کواجاگر کرنااوراہل کشمیرکویہ بتلانا مقصودہے کہ آزادی کے سفرمیں وہ تنہانہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم ان کے ساتھ ہے۔پانچ فروری اظہار یکجہتی میں ہمارے لئے یہ بھی پیغام ہے کہ مسئلہ کشمیر کسی فرد یاجماعت کانہیں بلکہ پوری قوم کااجتماعی مسئلہ ہے۔انگلی،بازو،ہاتھ،پاﺅں کٹ جائے توانسان زندہ رہ سکتاہے لیکن شہ رگ کٹنے کے بعد روح اورجسم کارشتہ برقراررہنے کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ۔بانی پاکستان نے کہاتھا ”کشمیرہماری شہ رگ ہے“پھراس بیان کوحقیقت میں بدلنے کے لئے عملی قدم بھی اٹھایا تھا۔بعدازاں جب 1947میں جہادکشمیر شروع ہواتو پاکستانی قوم نے ایمانی جذبے کے ساتھ اس میں حصہ لیا تھا۔

    1947ءکی طرح آج بھی کشمیری مسلمان ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں اور اپنے وطن میں ہونے کے باوجودہر قسم کی خوشی سے محروم قید بامشقت کی زندگی بسر کررہے ہیں۔80لاکھ آبادی والے خطے میں 10لاکھ بھارتی فوجی دندنارہے ،کشمیریوں کا خون بہا رہے اوران کی لاشیں گرار ہے ہیں۔ ہردس کشمیریوں پرایک خونخوار فوجی بندوق تانے کھڑاہے۔ اتنی کم آبادی والے خطے میں اتنی بڑی تعدادمیں فوج کے تعینات ہونے کی دنیا میںکوئی مثال نہیں ملتی ہے۔

    آج مقبوضہ جموں کشمیرکی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ظالمانہ اقدام کوساڑھے پانچ سال ہوچلے ہیں ۔ جیساکہ یہ بات پہلے ذکر ہوچکی ہے کہ یہ اقدام بھارت کے ترکش کاآخری تیر ہے جووہ آزماچکااور چلاچکا ہے ۔ 5اگست2019ءکے اقدام کے بعد بھارتی فوج نے مقبوضہ جموں کشمیرمیں جوظلم کیاوہ 1947ءکے بعد اب تک کے تمام مظالم پر حاوی اور بھاری ہے ۔ بھارتی فوجی بستیوں کا گھیراﺅ کرتے ، رگوں میں خون جمادینے والی یخ بستہ ہواﺅں ، برفباری میں بچوں،ب وڑھوں،خواتین اور بیماروں کو گھروںسے باہر کھلے آسمان تلے گھنٹوں کھڑارکھتے ہیں ۔

    ایک طرف برفانی موسم کی سختیاں ہیں تودوسری طرف بھارتی فوج کے مظالم ہیں۔بھارتی فوج کے ہاتھوں بستیاں، مکانات، باغات، دکانیں،تباہ اورنذرآتش ہونے کی وجہ سے ہزاروں لوگ بے روزگاراوربے گھر ہوچکے ہیں۔5اگست 2019 کے دنیا کے طویل ترین کرفیو کے نفاذ کے بعد کشمیری تاجروںکو اربوں روپے کانقصان ہواہے ۔نہایت ہی قابل احترام بزرگ سید علی گیلانی قید کی حالت میں وفات پاگئے جبکہ سید شبیرشاہ،میرواعظ عمر فاروق،مسرت عالم بٹ،یسین ملک اور آسیہ اندرابی سمیت حریت کانفرنس کی تقریباََ ساری قیادت اس وقت سے جیلوں میں قید ہے یاگھروں میںنظربندہے ان کومساجدمیں نماز جمعہ اداکرنے کی بھی اجازت نہیں ہے ۔
    جموں کی حالت وادی سے بھی بدتر ہے۔شیوسینا،بجرنگ دل،آرایس ایس،وی ایچ پی کے مسلح دستے جموں کی شاہراﺅں ،راجوری،بدرواہ،کشتواڑ اوردیگر علاقوں میں گشت کرتے اورمسلمانوں کی بستیوں پرحملے کرتے ہیں۔وہ بھارتی غیر ریاستی ہندو فوجی جنہوں نے کسی وقت ریاست جموں کشمیر میں خدمات انجام دی تھیں ۔۔۔ان کی نسلوں کوجموں میں لایا اورآبادکیا جارہا ہے۔ جب1990ءمیں تحریک شروع ہوئی تب ایک لاکھ پنڈت بھارت جابسے تھے اب ایک لاکھ کی بجائے نولاکھ پنڈتوں کی آباکاری کامنصوبہ ہے۔اس طریقے سے بھارتی حکمران اسرائیلی طرز پرجموں میں آبادی کاتناسب بدلنے اوراسے فوجی چھاﺅنی بنانے پرتلے بیٹھے ہیں۔

    جہاں تک مقبوضہ جموں کشمیرکے مسلمانوں کاتعلق ہے وہ نامساعد اورسخت ترین حالات میں بھی خوف زدہ اورپسپا ہونے کی بجائے آزادی کی تحریک جاری رکھے ہوئے ہرقسم کی جانی ومالی قربانیاں دے رہے ہیں۔بھارتی فوج کے ظلم وستم کا کوئی بھی حربہ ان کے پائے استقلال میں لغزش پیدا نہیں کرسکاہے ۔ وہ آج بھی
    ”پاکستان سے رشتہ کیالاالہ الااللہ۔۔۔۔“
    کے نعرے لگاتے ہیں اور اس بات کا پختہ عزم وارادہ کئے ہوئے ہیں کہ آخری بھارتی فوجی کے انخلا اوروطن کی آزادی تک تحریک جاری رہے گی۔بھارتی فوج تمام تر مظالم کے باوجود آزادی کاجذبہ کچلنے میں ناکام ہے اس کاغصہ وہ سویلین کشمیریوں پر اتارتے ہیں ۔

    حقیقت یہ ہے کہ تحریک آزادی کشمیر فیصلہ کن موڑ پرپہنچ چکی ہے ۔۔۔۔ اب یا کبھی نہیں کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔بچوں ،بوڑھوں ،جوانوں،خواتین کے عزم وحوصلے بلند تر ہیں ۔ یہ بات واضح ہے کہ اہل کشمیر اپنا حق اداکررہے ہیں ۔اس لئے کہ ۔۔۔۔۔پاکستان توکشمیری بچوں ،جوانوں ،بزرگوں اور ماﺅں بہنوں کاجزوِ ایمان ہے پاکستان ان کے دلوں میں بستا ہے۔بھارت کشمیر کے اٹوٹ انگ ہونے کادعوی کرتاہے ،کشمیری جب یہ دعوی سن کر پاکستان کی طرف امدادطلب نظروں سے دیکھتے ہیں تویہاں سے جواب ملتاہے ہم مجبورہیں،مصلحتوں اورمفادات کے اسیرہیںلہذاآپ اپنے مسائل خود حل کریں۔حالانکہ اس وقت سیاچن، سرکریک، زراعت، تجارت،معیشت، پانی،بجلی ، سکیورٹی ، سلامتی ، دہشت گردی اورملک کے استحکام سمیت جتنے مسائل درپیش ہیں ۔۔۔سب کاحل صرف اورصرف مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ مشروط ہے۔گویا ایک ہی بات ہے کہ اگر۔۔۔۔۔ مسئلہ کشمیر حل ہوجائے توہمارے تمام مسائل خودبخود حل ہوجائیں گے۔یہ ایسی حقیقت ہے جسے75سال کاعرصہ گزرنے کے باوجود ہم سمجھ نہ سکے جبکہ بھارتی حکمرانوں نے تقسیم ہندسے پہلے ہی اس حقیقت کوجان لیا تھا۔بھارتی پالیسی ساز سمجھتے ہیں کہ جس دن مسئلہ کشمیرحل ہوگیا پاکستان جغرافیائی اعتبار سے مکمل ہوجائے گا۔بات صرف جغرافیائی تکمیل کی نہیں اہل کشمیر کے ساتھ ہمارادین وایمان کارشتہ بھی ہے جوہم سے عملی مدد واقدام کامتقاضی ہے۔

    بھارت کے تمام سیاستدان، جماعتیں ،اخبارات ،چینلز کشمیریوں پرظلم ڈھانے اور اپنی پالیسیاں اہل کشمیر پالیسی مسلط کرنے کے بارے میں یکسوہیں۔ایسے میں ہمارافرض بھی ہے کہ ہم مظلوم کشمیری مسلمانوں کی مدد کے لئے یک دل ویک جان اوریک قدم ویک آوازہوجائیں۔ خاص کرایسے حالات میں کہ جب بھارت کے پاکستان کے بارے میں ارادے بالکل واضح ہیں۔

    بھارتی نیتا پوری ڈھٹائی وبے شرمی سے پاکستان میں کھلی اوراعلانیہ مداخلت کے مطالبے کررہے ہیں اوردوسری طرف دکھ یہ ہے کہ ہمارے حکمران کشمیرکی آزادی کے لئے عملی قدم اٹھاتے ہوئے ،شرماتے اورگھبراتے ہیں۔ ہم 1990ءسے پانچ فروری کادن اظہار یکجہتی کشمیرکے طور پر مناتے چلے آرہے ہیں لیکن مسئلہ کشمیرکے حل کے لئے آج تک ایک بھی عملی قدم نہیں اٹھاسکے ۔ جبکہ پانچ فروری کادن عملی اقدام کامقتاضی ہے ۔پانچ فروری کے دن میں ہمارے لئے پیغام ہے کہ ظلم وجبرسے قوموں کودبایا اورغلام نہیں بنایاجاسکتا۔ انگریز اورہندوتقسیم ہندکے خلاف،پاکستان کے قیام دشمن اورمسلمانوں کوغلام بناکررکھناچاہتے تھے لیکن پھرجو ہواوہ دنیا نے دیکھا انگریز اورہندودونوں ناکام ہوئے ،ہندوستان تقسیم ہوااورپاکستان قائم ہوا۔ ایسے ہی ہماراایمان ہے کہ ان شاءاللہ مقبوضہ جموں کشمیر بھی بھارتی تسلط سے آزادہوگا۔ لہذا ضروری ہے کہ ہمارے حکمران اسے نتیجہ خیز بنانے کے لئے عملی قدم اٹھائیں۔بھارت کے ساتھ تعلقات،ترجیحات اورمذاکرات میں مسئلہ کشمیر سرفہرست رکھیں،دنیا کے تمام ممالک میں موجود پاکستانی سفارت خانوں میں کشمیر ڈیسک قائم کئے جائیں،مظفرآباد کوصحیح معنوں میں بیس کیمپ بنائیں اورسلامتی کونسل کی قراردادوں کوبنیادبناتے ہوئے عالمی عدالت انصاف سمیت تمام بین الاقوامی فورمز سے رجوع کریں۔

  • شمالی کوریا کے کروز میزائل فائر کرتے ہی ایک اور محاذ کھل گیا

    شمالی کوریا کے کروز میزائل فائر کرتے ہی ایک اور محاذ کھل گیا

    شمالی کوریا کے کروز میزائل فائر کرتے ہی ایک اور محاذ کھل گیا
    سیول نے رپورٹ کیا ہے کہ شمالی کوریا نے اپنے مشرقی ساحل سے کروز میزائل فائر کیے ہیں، جس سے حالیہ میزائل تجربات کے درمیان علاقائی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ بدھ کو شمالی کوریا نے Pulhwasal-3-31، ایک نئے اسٹریٹجک کروز میزائل کا تجربہ کیا، شمالی کوریا نے 2022 کے آغاز سے لے کر اب تک ایک سو سے زیادہ میزائلوں کا تجربہ کیا ہے۔

    شمالی کوریا کی جانب سے میزائلوں کے تجربے تشویش کو جنم دیتے ہیں،کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ان کا مقصد یوکرین پر روس کے حملے سے عالمی توجہ ہٹانا ہے اور ساتھ ہی ساتھ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو بھی آگے بڑھانا ہے۔ خاص توجہ شمالی کوریا کی جانب سے ہائپرسونک میزائلوں کا تعاقب ہے، جو نسبتاً کم اونچائی پر چلتے ہوئے آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ رفتار سے سفر کر سکتے ہیں۔ ہائپرسونک میزائلوں کا اہم فائدہ رفتار کے بجائے ان کی چالبازی میں مضمر ہے، جو انہیں روایتی میزائل ڈیفنس سسٹم کے خلاف مضبوط بناتا ہے۔

    رائٹرز کی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے پانچ سالہ منصوبے میں ہائپرسونک ہتھیاروں کی حفاظت کو ایک اہم مقصد کے طور پر شناخت کیا ہے جس کا مقصد فوجی طاقت کو تقویت دینا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ٹھوس ایندھن والے ICBMs اور ایٹمی آبدوز کی ترقی ہے۔ ان پیش رفتوں کے پیچھے سٹریٹجک ہدف میزائل شیلڈز اور ارلی وارننگ سسٹم کو روکنا ہے، جس سے شمالی کوریا کی جارحانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہو گا۔

    یہ تیز رفتار میزائل شمالی کوریا کے ابھرتے ہوئے جوہری خطرات کے جواب میں جنوبی کوریا اور امریکہ کے مشترکہ جوہری ڈیٹرنس کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے فیصلے کے موافق ہیں۔ پیانگ یانگ نے نہ صرف متعدد میزائل تجربات کیے ہیں بلکہ ایک جاسوس سیٹلائٹ بھی لانچ کیا ہے، جو علاقائی سلامتی کی حرکیات کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔

    جغرافیائی سیاسی صف بندیوں کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوئی ہے، چین شمالی کوریا کی حمایت کر رہا ہے جبکہ امریکہ اور جاپان جنوبی کوریا کی حمایت کر رہے ہیں۔ اتحادوں کا یہ پیچیدہ جال خطے میں عدم استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے بالادستی کے لیے کوشاں عالمی طاقتوں کے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔

    شمالی کوریا کے مسلسل میزائل تجربات، خاص طور پر ہائپر سونک ہتھیاروں کا تعاقب، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو اجاگر کرتا ہے اور بنیادی سلامتی کے خدشات کو دور کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

  • رام مندر کی تعمیر ۔۔۔سوگئی قوم مسلم کی تقدیر ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    رام مندر کی تعمیر ۔۔۔سوگئی قوم مسلم کی تقدیر ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    مولانا ابوالکلام آزاد کی سیاسی سوچ اور اپروچ سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن ان کی علمی وجاہت اور ثقاہت سے انکار ممکن نہیں ۔ مولانا ابولکلام آزاد کی ایک مشہور تقریر کااقتباس ہے جس میں وہ ہندوستان کے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں ” وہ ہمارے ہی آباءتھے جو سمندروں میں اتر گئے ، پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا ، بجلیاں آئیں تو ان پہ مسکرا دیے ، بادل گرجے تو قہقہوں سے جواب دیا ، صرصر اٹھی تو رخ پھیر دیا، ہوائیں چلیں تو کہا جاﺅ تمہارا راستہ یہ نہیں۔۔۔۔۔ آج ہمارے ایمان کی جان کنی کا یہ عالم ہے کہ بڑے بڑے شہنشاہوں کے گریبانوں سے کھیلنے والے آپس میں دست وبہ گریبان ہیں اور خدا سے اس درجہ غافل ہیں کہ جیسے کبھی اس پر ایمان نہ تھا ۔ یاد کرو ۔۔۔۔! وہ وقت جب تم ہندوسان میں آئے ، تب تم انگلیوں پر گنے جاتے تھے تم نے گنگا اور جمنا کے پانیوں سے وضو کرکے بتکدہ ہند میں نعرہ توحید بلند کیا تھا ۔ اس وقت تمہارے لئے نہ خوف تھا نہ ڈر تھا ۔“

    توحید کی برکت سے جس ہندوستان پر مسلمانوں نے آٹھ سو سال حکومت کی تھی ۔۔۔آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسی ہندوستان کی سرزمین مسلمانوں کےلئے اجنبی ہوچکی ہے ۔ اس ہندوستان میں مسلمانوں کی عزتیں محفوظ رہیں ، نہ مسجدیں اور نہ جان ومال ۔ جس کی تازہ مثال بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر ہے ۔ بابری مسجد نہ تو اچانک شہید کی گئی تھی اور نہ ہی اس جگہ راتوں رات رام مندر تعمیر ہوا ہے بلکہ سالہاسال میں یہ دونوں پایہ تکمیل کو پہنچے ہیں ۔ بابری مسجد جب شہید کی گئی اس وقت بھارت کے مسلمانوں نے مقدور بہ احتجاج کیا اگرچہ اس احتجاج کی انھیں بھاری جانی مالی قیمت ادا کرنا پڑی لیکن اب جبکہ نریندر مودی نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی پہلی منزل کا افتتاح کیا ہے تو چہار سو سناٹا ہے ۔پاکستان جو بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کا وکیل تھا اس پاکستان کے حکمرانوں نے رام مندر کی تعمیر کو ایک اخباری بیان پر ٹرخا دیا ہے ۔ جہاں تک بھارت کے مسلمانوں کا تعلق ہے ۔۔۔وہ بیچارے کریں تو کیا کریں۔۔۔۔ جائیں تو کہاں جائیں ۔ جس پاکستان کے قیام کےلئے انھوں نے جانی مالی قربانیاں دی تھیں ۔۔۔۔اس پاکستان نے ان سے آنکھیں پھیر لی ہیں ۔ اب تو یوں لگتا ہے جیسے بھارتی مسلمانوں میں احتجاج کی سکت بھی نہیں رہی ۔ یہ سب اسلئے ہورہا ہے کہ پاکستان بھارت میں رہ جانے والے اپنے مسلمان بھائیوں کو بھول چکا ہے۔پاکستان کے قیام کےلئے سب سے زیادہ قربانیاں ان علاقوں کے مسلمانوں نے دی تھیں جہاں وہ خود اقلیت میں تھے اور ہندو اکثریت میں تھے ۔ اقلیتی علاقوں کے مسلمانوں نے پاکستان کےلئے سب کچھ قربان کرنے کا نہ صرف عہد کیا بلکہ یہ عہد ایفا بھی کردیا تو وہ علاقے جہاں مسلمان اکثریت میں تھے انھوں نے کہا تھا ہمارے بھائیو۔۔۔۔! پاکستان بن جانے کے بعد ہم تمہیں بھولیں گے نہیں ۔

    23مارچ 1940ءکو جب لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس ہوا تو اس میں ہندوستان بھر کے مسلمانوں نے شرکت کی تھی ۔ اس اجلاس میں جب وہ قراداد پیش کی گئی جو تاریخ میں قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی تو اس کے بعد مسلمانوں کی خوشی کا دیدنی عالم تھا ۔ تب میرٹھ سے تعلق رکھنے والے ایک نمائندے سید رﺅف شاہ نے مسلم اکثریتی صوبوں سے آئے ہوئے وفود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا”جان سے عزیز بھائیو!جب آپ آزاد اور خود مختار ہوجائیں گے تو بھارت کے ہندو ہمیں نیست ونابود کر دیں گے۔ ہمیں پاکستان کے ساتھ محبت کی سزا دی جائے گی ،ہمیں شودروں کی طرح زندگی بسر کرنا ہوگی،اس کے باوجود ہم خوش ہوں گے کہ کم از کم آپ تو آزاد فضا میں سانس لیں گے۔جب آپ آزاد ہو جائیں اور آزاد مملکت میں زندگی بسر کرنے لگیں تو کبھی کبھی ہمارے لئے بھی دعائے مغفرت کر لیا کرنا۔“سید رﺅف شاہ اپنی ساری تقریر کے دوران روتے رہے ،ہزاروں شرکائے اجلاس کوبھی رولادیا ۔ آخر میں کہنے لگے”بھائیومیرے آنسو اس لئے نہیں کہ ہندو ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے،ہمیں چیریں پھاڑیں گے بلکہ یہ تو خوشی کے آنسو ہیں کہ آپ ایک ایسے ملک میں زندگی بسر کریں گے جو آزاد ہو گا اور جس کی بنیاد لا الہ الا اللہ پر ہو گی۔“سید رﺅف شاہ نے جب یہ بات کہی تو مجمع پر عجب کیفیت طاری ہو گئی،آنسو بے قابو ہو گئے ، ضبط کے بند ھن ٹوٹ گئے اور ہچکیاں بندھ گئیں۔تب حاضرینِ اجلاس میں سے بعض اٹھے اور کہاپاکستان صرف ہمارا ہی نہیں آپ کابھی ہو گا ،یہ اسلام اور قرآن کا ملک ہو گا۔ ہم بھارت میں رہ جانے والے اپنے بھائیوں کوبھولیں گے اور نہ بے یارومددگا ر چھوڑ یں گے۔آپ کا تحفظ اور مدد ہمارا اولین فرض ہو گا۔بھارت میں رہ جانے والے مسلمان سمجھتے تھے کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہوگا ان کی عزت وعصمت کا محافظ ونگہبان ہوگا ۔ پاکستان سے پھر محمد بن قاسم اور محمود غزنوی جیسے مجاہد پیدا ہوں گے جو ان کی ماﺅں بہنوں ، بیٹیوں اور مسجدوں کی حفاظت کریں گے ۔ان کی طرف بڑھنے والے ہندﺅوں کے ہاتھ کاٹیں گے ۔

    یہ تھے 23مارچ1947ءکے موقع پر مسلمانوں کے احساسات اور جذبات ۔افسوس صد افسوس آج ہم یہ سب کچھ بھول گئے ۔ بابری مسجد شہید کر دی گئی ہماری غیرت ایمانی نہ جاگی ۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر ہوگیا ۔۔۔۔۔تب بھی ہمارے حکمران ، سیاستدان ،تمام مذہبی سیاسی جماعتیں اور میڈیا خاموش تماشائی بنے رہے ۔

    بابری مسجد۔۔۔۔ جو کعبہ کی بیٹی تھی ،عالی شان تھی اس کانام ونشان بھی مٹادیا گیا ۔بابری مسجد کو شہید لکھتے ہوئے قلم کانپتا ہے ، آنکھیں بھیگ جاتی ہیں یہ سوچ کر کہ جب گاﺅ ماتا اور بتوں کے پجاری اس کے گنبدوں پر چڑھے ، ان پر کدالیں چلانا شروع کیں تو کعبے کی بیٹی چلاتی رہی کہ محمود غزنوی کے فرزند کدھر ہیں ؟ ظہیر الدین بابر کے گھوڑوں کے ٹاپوں کی آوازیں کیوں خاموش ہیں ؟ ۔۔۔۔ کوئی ہے جو میری مدد کو پہنچے ، کون ہے جو مجھے گاﺅ ماتا کے پجاریوں سے بچائے ۔

    بابری مسجد کو بچانے پاکستان پہنچا نہ کوئی دوسرا مسلمان ملک ۔ مسجد کو بچانے کےلئے صدائے احتجاج بھارت کے مسلمانوں نے ہی بلند کی جس کی انھیں بھاری جانی مالی قیمت چکانا پڑی ۔ اس کے بعد مسلمان سپریم کورٹ پہنچے ان کا خیال تھا کہ شائد سے انھیں یہاں سے انصاف ملے گا ، وہ سمجھتے تھے کہ یہ عدلیہ کا سب سے اعلیٰ ادارہ ہے جہاں انصاف کا ترازو تھامے منصف بیٹھے ہیں ۔۔۔۔ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ عدلیہ میں بیٹھے جج بھی ہندو پہلے اور جج بعد میں ہیں ۔یہی وجہ تھی کہ جس طرح بابری مسجد کی شہادت کے وقت جنونی ہندﺅوں نے مسلمانوں کا خون بہایا ایسے ہی بھارتی عدلیہ نے بھی انصاف کا قتل عام کیا ۔ سپریم کورٹ نے مسلمانوں کی پٹیشن کے جواب میں جو فیصلہ سنایا وہ بھی دنیا کی تاریخ کا انوکھا فیصلہ تھا ججوں نے اپنے فیصلے میں لکھا اگرچہ ہمیں کسی مندر کے آثار نہیں ملے تاہم جھگڑا نمٹانے کےلئے ضروری ہے کہ یہاں مندر بنادیا جائے ۔ بہر حال مندر بن گیا اس کا افتتاح بھی ہوگیا ۔ حقیقت میں دیکھاجائے تو یہ مندر زمین پر نہیں مسلمانوں کی غیرت ایمانی سے تہی لاشوں پر بنا ہے ۔ جب غیرت مر جائے اور ایمان مردہ ہوجائیں تو پھر یہی کچھ ہوتا ہے ۔ اب بھی وقت ہے مسلمان سنبھل جائیں ، پاکستان کے حکمران ،سیاستدان ، جرنیل اپنی ذمہ داری کو سمجھیں نفرت اور انتقام کی جس آگ میں ہمارے ہندوستانی مسلمان جل رہے ہیں اسے بجھائیں ورنہ وہ وقت دور نہیں کہ جب یہ آگ ہمیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی ۔

  • ایران کا پاکستان پر حملہ ، وجوہات

    ایران کا پاکستان پر حملہ ، وجوہات

    پاکستا ن پر ایران کے حالیہ حملہ ، جو اس نے علیحدگی پسند گروپ جیش العدل پر کیا، نے بہت سے لوگوں کو اس طرح کے اقدام کے پیچھے محرکات پر سوالیہ نشان چھوڑ اہے۔ ایران کا یہ حملہ عسکریت پسند تنظیم پر سٹریٹجک حملے کے بجائے علامتی دکھائی دیتا ہے،

    واقعات کا سلسلہ اس وقت سامنے آیا جب ایران نے پاکستان پر توجہ مرکوز کرنے سے پہلے عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے اور شام میں میزائل داغے۔ ایران کے جیش العدل پرحملے کے نتیجے میں کم از کم دو بچوں کی المناک موت واقع ہوئی۔ اس کے جواب میں پاکستان نے فوی جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے.

    یہ حقیقت ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، اس پر ایران کا حملہ عالمی سطح پر بھی بات ہوئی، تجزیہ کار ان جارحانہ چالوں کی وجہ ایران کو درپیش بڑھتے ہوئے اندرونی اور بیرونی دباؤ کو قرار دیتے ہیں۔ اسرائیل کے ہاتھوں سید رازی موسوی کا حالیہ قتل، اس کے بعد ایران کے IRGC کے مرحوم سربراہ قاسم سلیمانی کی یادگار پر حاضری دینے والے سوگواروں پر تباہ کن حملہ، جس کا دعویٰ افغانستان کی ISIL نے کیا ، ہو سکتا ہے کہ ایران کو مزید حملوں کا خطرہ ہو، مزید برآں، جیش العدل کی جانب سے راسک پولیس اسٹیشن پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے، جس کے نتیجے میں 11 ایرانی سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے نے مزید تناؤ پیدا کر دیا۔

    ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کی جانب سے ممکنہ انٹیلی جنس کی کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اپنی سرحدوں میں سرگرم عسکریت پسند گروپوں کے بارے میں مسلسل شکایات کے باوجود، صورتحال سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی حد تک نہیں بڑھی۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان پر ایران کے حملے کے روز ہی نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کو ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان سے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ دونوں ممالک آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں بیک وقت مشترکہ بحری کارروائیاں کر رہے تھے۔

    جہاں ایران کے حملے کو امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، وہیں پاکستان کا فوری ردعمل افغانستان کو ایک اشارہ دیتا ہے۔ چین کے دونوں ممالک میں مفادات کے ساتھ ہر طرح کے تصادم کا خطرہ قابل فہم نہیں لگتا۔ امید ہے عالمی برادری کشیدگی کو مزید بڑھنے سے پہلے کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

  • موسمیاتی تبدیلی کے دور رس نتائج

    موسمیاتی تبدیلی کے دور رس نتائج

    موسمیاتی تبدیلیوں کے ہمارے سیارے پر بڑے پیمانے پر نقصان دہ اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جس کے اثرات شدید موسمی واقعات سے لے کر آرکٹک سمندر کی برف میں خطرناک حد تک کمی تک ہیں۔ یہ اثرات مختلف ڈگریوں کے باوجود پوری دنیا میں قابل مشاہدہ ہیں۔

    شدید موسمی واقعات، شدید گرمی اور سردی کی لہروں کی خصوصیت تیزی سے عام ہو گئے ہیں۔ طویل اور زیادہ شدید گرمی کی لہریں مٹی کو خشک کر کے،پانی کی فراہم پر اضافی دباؤ ڈال کر، خشک سالی کو بڑھاتی ہیں ، یہ مشرقی افریقہ جیسے خطوں میں واضح ہے، جہاں چالیس برسوں سے بدترین خشک سالی جاری ہے۔ انسانی سرگرمیاں خاص طور پر گرم موسم کے دوران پانی کے لیے زرعی مطالبات، پانی کے وسائل پر دباؤ میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔

    موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل (IPCC) اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی جنگل کی آگ کے پھیلاؤ کے لیے سازگار حالات پیدا کر رہی ہے۔ جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھتا ہے، زمین اور پودوں کی نمی ختم ہو جاتی ہے، جس سے جنگل کی آگ کے اگنیشن اور تیزی سے پھیلنے کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوتا ہے۔

    سپیکٹرم کے دوسرے سرے پر، موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والی شدید بارش سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، اور انفراسٹرکچر کی تباہی کا باعث بنتی ہے، مویشیوں کو متاثر کرتی ہے۔ فصلوں کے کھیتوں میں پانی بھر جانے کے نتیجے میں فصلوں میں نمایاں نقصان ہوتا ہے

    آرکٹک، خاص طور پر، سمندری برف میں زبردست کمی ہو رہی ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہتا ہے تو پیشین گوئیاں بتاتی ہیں کہ آرکٹک 2040 تک برف سے پاک ہو سکتا ہے۔ اس طرح کے منظر نامے سے عالمی سطح پر گرمی کی لہروں میں شدت آتی ہے، جس سے خوراک کی قلت پیدا ہوتی ہے،ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ نے خبردار کیا ہے کہ آرکٹک برف اور پرما فراسٹ کے پگھلنے سے بڑی مقدار میں میتھین خارج ہوتی ہے، جو ایک طاقتور گرین ہاؤس گیس ہے، جس سے عالمی حدت کی شرح کو تباہ کن فیڈ بیک لوپ میں بڑھایا جاتا ہے۔

    سمندر کی گرمی گلوبل وارمنگ کا واضح اشارہ ہے، جو سمندر کی سطح میں اضافے اور برف کے پگھلنے میں تیزی لانے میں معاون ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، نتیجے کے اثرات میں آب و ہوا سے متعلق خطرات کا بڑھ جانا اور 2050 تک کئی سو ملین لوگوں کے لیے غربت میں اضافہ شامل ہے۔

    موسمیاتی تبدیلی سے لاحق کثیر جہتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے اجتماعی اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومتوں، تنظیموں اور افراد کو پائیدار طریقوں کو ترجیح دینی چاہیے، قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے، اور ایسی پالیسیوں کو نافذ کرنا چاہیے جو بدلتی ہوئی آب و ہوا میں تخفیف اور موافقت پذیر ہوں۔ بے عملی کے نتائج سنگین ہیں، اور یہ ہم پر فرض ہے کہ ہم آنے والی نسلوں کے لیے ایک پائیدار اور لچکدار مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے بامعنی اقدامات کریں۔