Baaghi TV

Category: متفرق

  • خیالات — ابو الوفا محمد حماد اثری

    خیالات — ابو الوفا محمد حماد اثری

    خیالات پرانے یا نئے نہیں ہوتے، درست یا غلط ہوتے ہیں۔ ہر نئی چیز اچھی نہیں اور ہر پرانی چیز بری نہیں ہوتی۔ سخاوت ایک پرانا خیال سہی، مگر کردار کی عظمت کا نشان آج بھی بنتی ہے۔ بہادری کا لفظ پرانا ضرور، مگر دنیا آج بھی بہادروں کی عزت کرتی ہے۔

    چالاکی ہوشیاری مکاری جھوٹ فریب دغا، گو جدید دور میں نئے ناموں کے ساتھ لانچ کر دئیے گئے مگر آج بھی برے کے برے ہیں، دنیا نئے سیاروں پر چلی جائے، چاند پہ بسیرے کر لے، سورج پہ چھاوں تلاش کر لے، انہیں جھوٹ سے نفرت کرنا ہی پڑے گی۔ فریب پوری تاریخ بدل جانے کے باوجود فریب ہی رہے گا، گھٹیا اور بودا ہی رہے گا۔ قابل احترام لفظ نہیں بن سکتا۔ قتل نفس مظلوم جرم تھا جرم رہے گا۔

    گویا کچھ تعلق نہیں نئے پرانے کی بحث کا اچھائی برائی کے ساتھ۔

    مسئلہ توحید ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک تروتازہ ہے، اہل توحید آج بھی اجنبی اور دشمنان توحید آج بھی خود کی عقل پہ نازاں۔ قوم نوح نے پانچ بت بنائے، کئی اقوام نے معبد خانے بھر دئیے، کئی شاہوں نے اپنی خدائی کا اعلان کیا اور مشرکین مکہ کے بت ہزاروں تک پہنچ گئے، کئی تہذیبوں نے ہر جاندار چیز کو خدا مانا اور کئیوں نے خود طاقت ور ہر مخلوق کے سامنے سر جھکایا، انکار خدا پر ان کے دلائل یہی ہوا کرتے کہ وہ سامنے کیوں نہیں آتا، غریبوں کو نبی بنا کر بھیج دیا، اس کے ساتھی غریب ہی کیوں ہیں،۔ہمارے اسٹیٹس کو پرابلم ہوجاتی ہے وغیرہ !

    دور جدید میں اسی توحید کے دشمنوں نے خدا کی وحدانیت کا عقیدہ چھوڑ کر انسان کو ہی خدا باور کرویا، گویا خدا کو سمجھانا پڑا کہ قبلہ آپ خدا ہیں۔ہے نا عجیب !

    پھر ایک خدا کو چھوڑ کر لاکھوں غیر مرئی طاقتوں پر ایمان لے آئے۔ پہلے مشرکین سے کہا جاتا کہ تمہارے بت کچھ کرنے کے قابل نہیں ہیں تو وہ جواب دیتے، تمہارا خدا بھی تو نظر نہیں آتا۔ آج کا جدید مشرک جب جواب دیتا تو بعینہ یہی سوال اٹھاتا ہے کہ خدا نظر کیوں نہیں آتا، بلیک ہول کے بعد تو دنیا ختم، وہاں تو خدا نہیں ہے۔ ان سے پوچھیں قوانین قدرت بھی تو نظر نہیں اتے، تس پہ جواب دیتا ہے کہ ان کے آثار تو بکھرے پڑے ہیں، جواب ہمارا بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ خود تمہارے جسم کے اندر کے نظام سے سمجھ آتا ہے، اگر تم سمجھنے کی کوشش کرو، اگر کوشش ہی نا کرو تو بے شک پہاڑ الٹا دئیے جائیں، ہدائت تب ہی ملنی جب حکم خداوند قدوس کا آجانا ہے۔

  • اج کیہہ پکائیے — ابن فاضل

    اج کیہہ پکائیے — ابن فاضل

    کھانا ہر انسان کی مادی ضرورت ہے ۔ ہمارے ہاں تو فون کی بیٹری، وائی فائی سگنلز کے بعد انسان کو سب سے زیادہ فکر دو وقت کی روٹی کی ہی ہوتی ہے، البتہ جو قومیں روٹی نہیں کھاتیں ، ان کے ہاں پتہ نہیں دو وقت کی ‘کیا’ کی فکر ہوتی ہوگی ۔ شاید چینی ایسا کہتے ہوں ‘بھئی اپنی تودو وقت کی نوڈلز بمشکل پوری ہوتی ہیں’ ۔ انگریز ماں شاید ایسے اپنے بچے کو دعا دیتی ہوگی ‘وے پیٹر… گاڈ کرے تجھے دو وقت کا برگر آسانی سے ملنا شروع ہو جائے ‘

    ہمارے محلہ کے عظیم ماہرِ معیشت و پکوائی ،بشیر تندور والے کا کہنا ہے کہ ستر فیصد لوگوں کی اسی فیصد تگ ودو روٹی کمانے کے لئے ہوتی ہے جبکہ ان کا نوے فیصد بجٹ ‘سالن’ کھا جاتا ہے۔ قریب یہی نسبت سیاستدانوں اور بیوروکریسی میں ہے ۔ ادھر روٹی کا بھی عجیب معاملہ ہے، اکثر لوگوں کو کہتے سنا ‘بھئی آج سالن بہت لذیذ تھا میں تین روٹیاں کھا گیا’ حیرت ہوتی ہے ۔بھئی اگر سالن لذیذ تھا تو سالن زیادہ کھائیں نا روٹی بیچاری کا کیا قصور ہے ۔

    کھانے میں، کمزور کا حق اور سرکار کے مال کے بعد شہد ، دہی اور ماں کی گالیاں سب سے زود ہضم غذائیں ہیں۔ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ جینے کے لیے کھاتے ہیں اور باقی کھانے کے لیے جیتے ہیں ۔ اسی لیے شاید کچھ لوگ بہت سلیقہ سے اور منتخب کھانا کھاتے ہیں ان کو عرفِ عام میں مہذب یا غیرملکی کہتے ہیں ۔اور دیگر کھانے پر ایسے حملہ آور ہوتے ہیں گویا کھانا کھا نہیں رہے فتح کر رہے ہوں۔ زیادہ کھانے والوں میں بھینسیں، بٹ، اہلیانِ گوجرانوالہ مولوی اور سیاستدان مشہور ہیں، جبکہ کم کھانے والوں میں، ماڈلز، چڑیاں ، ستر سی سی موٹر سائیکل اورموٹروے پولیس شہرت رکھتے ہیں۔

    کھانے کے معاملہ میں ہرایک کا انتخاب مختلف ہے ۔ کچھ قومیں صرف گوشت نہیں کھاتیں، جبکہ کچھ صرف گوشت کھانا چاہتی ہیں چاہے کسی بھی جانور ۔ خود ہمارے حلقہ احباب میں کئی ایسے ہیں جو کہتے ہیں گوشت ہو چاہے لگڑ بگڑ کا ہی ہو۔ ایسے لوگوں کی خواہش اور فرمائش پر ہی شاید مہربانوں نے گدھے کے گوشت کو رواج دیا۔ گو اطباء اس بات پر بضد ہیں کہ غذائی اعتبار سے گدھے کے گوشت میں کوئی کمی نہیں ، البتہ دانشورانِ ملت کا خیال ہے کہ اس کے مسلسل استعمال سے دانائی جاتی رہتی ہے ۔ قابل خرگوشوی اس انکشاف پر چنداں پریشان نہیں، فرماتے ہیں کہ ہم نے دانائی کا کرنا بھی کیا ہے، ہمیں کونسا لیپ ٹاپ اور ہوائی جہاز بنانا ہیں، آجا کے ہم نے فرقے ہی بنانے ہیں، اور وہ دانائی کے بغیر عمدہ اور کثرت سے بنتے ہیں ۔

    خود قابل خرگوشوی سے اگر پوچھا جائے کہ انہیں کھانے میں کیا پسند ہے تو کہیں گے اس کا انحصار اس بات پر ہےکہ پکا کیا ہے ۔ مثال کے طور پر اگر انڈے آلوپکے ہیں تو انہیں انڈے پسند ہیں، اور اگر آلو بینگن پکے ہیں تو آلو، اور اگر بینگن اروی پکی ہو تو انہیں اچار پسند ہے ۔ چاول کے متعلق ان کی رائے ہے کہ یہ اگانے اور برآمد کرنے کی شے ہے پکانے کی نہیں ۔

    دنیا کا سب سے آسان کام کھانا ہے اور سب سے مشکل پکانا، اور اس سے بھی مشکل یہ فیصلہ کرنا کہ ‘اج کیہہ پکائیے ‘ ۔گمانِ فاضل ہے کہ خواتین میں ‘کہاں سے لیا’، اور ‘کتنے کا ہے’ کہ بعد سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال ‘اج کیہہ پکائیے ‘ہی ہے۔ بلکہ ہمارے خیال میں تو خواتین کی تعلیم میں امورِ خانہ داری کے ساتھ ساتھ ایک مضمون ‘اج کیہہ پکائیے’ بھی ہونا چاہئے ۔ بلکہ ہم اہل علم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس حوالہ سے موبائل اپلیکیشن اور ویب سائٹس کا اجرا کریں جو اس دیرینہ مسئلہ پر موسم اور ماحول کے تناظر میں ان کی درست راہنمائی کرسکیں ۔

    کھانے کی ضد اور وجہ ہے بھوک ساحر لدھیانوی کہتے ہیں

    بھوک آداب کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی

    بات صرف آداب تک ہی نہیں رکتی صاحب بھوک چوریاں کروا سکتی ہے، ڈاکے پڑوا سکتی ہے، غیرت و حمیت کا سودا کروا سکتی ہے یہاں تک کہ عزتیں نیلام کروا سکتی ہے، گویا بھوک انسانوں سے کچھ بھی کرواسکتی ہے۔ قرآن پاک میں بھوکے کو کھانے کھلانے کی اتنی بار تاکید کی گئی ہے کہ ہمیں حیرت سے اسکی بابت استادِ محترم سے پوچھنا پڑا کہ ایسا کیوں ہے۔ فرمایا اس لیے کہ بھوک دن کئی بار لگتی ہے ۔ اگر قران پاک کو بغور دیکھیں تو جہاں متعدد بار کھانا کھلانے کی تاکید کی گئی وہیں پر اس بات کا حکم بھی ہے کہ اوروں کو اس جانب ترغیب دلائی جائے ۔ بلکہ سورۃ الحاقہ میں اللہ کریم جہنمیوں کے جرائم گنواتے ہوئے کہتے ہیں

    وَ لَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الۡمِسۡکِیۡن ۔

    کہ یہ شخص لوگوں کو کھانا کھلانے پر نہیں ابھارتا تھا ۔ اسی طرح سورۃ فجر میں اللہ کریم باغیوں اورسرکشوں کی نشانیاں بتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

    وَ لَا تَحٰٓضُّوۡنَ عَلٰی طَعَامِ الۡمِسۡکِیۡنِ ﴿ۙ۱۸﴾

    اور وہ مسکین کو کھانا کھلانے پر نہیں اکساتے .

    اور سورۃ الماعون میں تو حد ہی کردی ۔ کہ وہ شخص روزِ قیامت کا ہی منکر ہے جو نمازوں میں غفلت برتتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے پر نہیں اکساتا۔ سو برادرانِ اسلام یاد رہے کہ صرف غریبوں مسکینوں کو کھانا کھلانے سے ہی فرض ادا نہیں ہوتا اس کی ہمہ وقت ترغیب بھی ضروری ہے ۔اور میں نے آپ کو ترغیب دے دی ۔

  • حقوق کی سمجھ — ریاض علی خٹک

    حقوق کی سمجھ — ریاض علی خٹک

    ایک طویل عرصہ پاکستان کے پرائیویٹ سیکٹر میں کام کر کے ایک تجربہ حاصل ہوا. جب سالانہ تنخواہ میں اضافہ ہوتا ہے تو کوئی ورکر ملازم اس شرح پر سوال نہیں کرتا جس شرح سے کمپنی تنخواہ میں اضافہ کر رہی ہوتی ہے. نہ کسی کو اس سال کمپنی کے نفع نقصان کو جاننے میں دلچسپی ہوتی ہے. سارے اعتراض و خوشی ناراضگی اسی پر ہوتی ہے فلاں کا اضافہ مجھ سے زیادہ کیسے.؟ یا فلاں سے کم کیوں.؟

    ہمارا وہ کلچر ہے جہاں ہمیں ٹانگ کھینچنے کیلئے کسی پرائے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی. ہم خود ایک دوسرے کیلئے بہت ہیں. اس لئے ایک بڑی اکثریت دیہاڑی والی مزدور بن گئی ہے. صبح آو کام کرو شام کو جاتے تسلی لے لو آج کی دیہاڑی لگ گئی. بیماری اپنا گھر اور کل کے بڑھاپے میں جب دیہاڑی لگانا ممکن نہ ہوگا تب کیا ہو گا.؟ اس کیلئے جلد سے جلد بچے پیدا کرو ان کو بھی دیہاڑی پر لگاو تا کہ کل محفوظ ہو جائے.

    سوشل سیکورٹی پینشن کا حق کیا ہے.؟ کنزیومر رائٹس کیا ہیں.؟ ایک ٹرک ڈرائیور زندگی بھر سڑکوں پر رُلتا پھرتا ہے. اس کی زندگی رسہ ترپال کرتے یا پرانی گاڑی کے ٹائر بدلتے گزر جاتی ہے. تنخواہ اس کی چند ہزار ہوتی ہے. لیکن اس ذمہ داری کا صلہ اس کو کیا ملتا ہے؟ کیا ملک و قوم کل اس کی ذمہ داری اٹھائے گی.؟ کل سارے ٹرک والے ہڑتال کر دیں تو ملک و قوم کو پتہ چل جائے ان کمزور کندھوں پر کتنی ذمہ داری ہے.

    اشرافیہ نے طریقے سیکھ لئے ہیں. وہ زکوٰۃ صدقات تو شوق سے دیتے ہیں. لیکن مزدور کا حق دینا سب کو مشکل لگتا ہے. کل روز محشر ان کے سامنے اگر نیدر لینڈ ڈنمارک اسرائیل کی مثال رکھ دی گئی کہ بتاو ان کافروں نے بھلے صدقات و حیرات نہیں کی لیکن اپنے ہر حقدار کو اسکا پورا پورا حق دیا تب ان کو پتہ چلے گا نفس کی تسلی کے تماشے یہاں کر کے خود کو یہ تسلی دے سکتے ہیں لیکن یہ انصاف نہیں ہے.

    جب تک ہمیں اپنے حقوق کی سمجھ نہیں آئے گی ہم سب ایک دوسرے سے لڑیں گے. حقوق چھین لینے والے چین کی بانسری ہی بجائیں گے. ان سے تو کوئی سوال بھی نہیں کرتا کیونکہ ہمیں ایک دوسرے سے فرصت ہی نہیں.

  • بے ربط خیالات!!! — بلال شوکت آزاد

    بے ربط خیالات!!! — بلال شوکت آزاد

    مجھے ٹھہراؤ اور جمود کا فرق نہیں معلوم تھا, بہت طویل عرصہ لگا ان میں فرق کو سمجھتے سمجھتے لیکن اب جبکہ اس بابت جان چکا ہوں تو متنوع المزاجی اور غیر مستقل مزاجی کے فتوے پاتا ہوں لیکن میں ذاتی حیثیت میں خوش اور مطمئن ہوں کیونکہ جمود کا شکار رہ کر ایک لمبا عرصہ میں نے بیگاریں بھگتیں اور اپنا وقت اور قابلیت کھوٹی کی لیکن ٹس سے مس نہ ہوا کہ چلو خیر ہے لیکن وہ میری غلطی بلکہ فاش غلطی تھی اب میں جمود کو خیرباد کہہ چکا ہوں اور نت نئے تجربے کرتا رہتا ہوں کہ سیکھنے کو بھی ملے اور آدم شناشی کے فن میں طاق ہوسکوں۔

    لوگ آپ کو بیوقوف سمجھیں اور آپ کا استعمال کرنا چاہیں یہ قطعی انہونی اور بری بات نہیں لیکن آپ واقعی بیوقوف بن جائیں اور لوگوں سے اسی بیوقوفی میں استعمال ہوجائیں یہ ایک خطرناک بات ہے, بس اس بات کو اصول بنالیں کہ ” میں, مجھے اور میرا” کو آپ نے فوقیت دینی ہے ناکہ مدمقابل اس انسان نے جو آپ کی بیگار چاہتا ہے۔

    اپنی کور ویلیوز کو ڈی ویلیو مت کرنے دیں کسی کو, اپنے وقت کا ایک ایک لمحہ منافع بخش بنائیں خواہ اس سے کسی کی دل آزاری ہوتی ہے یا تعلق داؤ پر لگتا ہے تو لگنے دیں لیکن مفت میں کسی کو مشورہ بھی مت دیں کیونکہ جس چیز جس کام جس انسان کی قیمت طے نہ ہو, مفت میسر ہو اس کے ساتھ من و سلوی کے ساتھ بنی اسرائیل والا سلوک ہی ہوتا ہے لہذا کوئی بھی جذبہ خدمت اور عظمت رفتہ کا چورن منجن دیکر آپ کو کسی نئے نشے کا شکار کرنا چاہے تو آپ صاف صاف اپنا معاملہ اپنی قیمت منہ سے بتادیں کیونکہ "نشے سے انکار زندگی سے پیار” ایک اچھا اصول ہے۔

    75 سالوں سے پاکستان میں یہی چل رہا ہے, بہت سی خرابیاں اور برائیاں اب سوشل نارمز بن چکیں ہیں جس میں حق تلفی, خوشامد, منافقت اور مذہب, ریاست و سیاست کے نام پر بیگار لینا عام سی چیزیں ہیں۔

    دنیا کا تو پتہ نہیں لیکن پاکستان میں کاز بلڈرز کی بہتات ہوچکی ہے کیونکہ یہاں کسی بھی کاز کا نام استعمال کرنا اور راتوں رات پیسہ و شہرت بٹورنا نہایت آسان عمل ہے جبکہ جو کاز شروع ہوتا ہے بلخصوص جن کے لیے شروع ہوتا ہے ان کو اس کا رائی برابر بھی خالص فائدہ نہیں پہنچتا اور شومئی قسمت اس میں دائیں بائیں اور وسط کی کوئی تفریق اور تخصیص نہیں مطلب اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔

    آپ بطور عوام ایک ٹول اور ایسٹ بن چکے ہیں, ایک بوفے سجا ہوا ہے آپ کا سر راہ, جس شاطر اور لالچی دماغ کو دور کی کچھ سوجھ جائے وہ ایک لش پش سا نام اور نعرہ لیکر آپ کے بیچ کودی مارتا ہے اور آپ کےسجے بوفے سے من پسند عوام کو اٹھا لیتا ہے, آپ آوے آوے اور جیوے جیوے کے نعرے بلند کرکے اس کو ترجیح دیتے ہیں اور اسکی جڑیں پھیلاتے اور مضبوط کرتے ہیں اور جب وہ تناور ہوجاتا ہے تو سب سے پہلےآپ کو اپنے سائے اور پھل سے محروم کرتا ہے جبکہ جو بجز سرمایہ داری کرتے ہیں وہ اس کے سائے اور پھل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

    خیر بات لمبی ہوگئی کہ جمود کا شکار مت ہوں, ٹھہراؤ اختیار کریں کہ ایک پل ٹھہرنا اور مشاہدہ کرنا اور سیکھنا غیر منافع بخش نہیں البتہ مستقل ایک کھونٹے سے بغیر کسی معاوضے کے بندھنا نرا دنیاوی و دینوی نقصان ہے۔

    اپنے وقت, ہنر, قابلیت اور معاشرتی شناخت کا معاوضہ طے کریں اور وصولیں پھر کسی کے لیے "خدمات” کا تعین کریں۔

  • بے لوث سلسلہ — ریاض علی خٹک

    بے لوث سلسلہ — ریاض علی خٹک

    دوستو جس دن میں صبح جلدی آفس آتا ہوں ایک منظر بڑی پابندی سے دیکھتا ہوں. یہ کوئی سفید ریش بڑے میاں ہیں جو غالباً کسی فیکٹری میں چوکیدار ہیں. آوارہ کتوں کی ان سے محبت دیدنی ہوتی ہے. اس راستے پر سینکڑوں لوگ گزر رہے ہوتے ہیں نہ وہ ان آوارہ کتوں کو نوٹس کرتے ہیں نہ کتے ان کو درخور اعتنا سمجھتے ہیں.

    لیکن جیسے ہی یہ بزرگ چوکیدار ایک شاپر لئے فٹ پاتھ پر نمودار ہوتے ہیں آس پاس دور دور سے آوارہ کتے ان کی طرف ایسے لپکتے ہیں جیسے غریب بچوں کا باپ شام کوئی شاپر لے کر گھر میں داخل ہوتا ہے. بچے ہنسنا رونا جھگڑنا کھیلنا چھوڑ کر اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں. یہ چوکیدار پھر ان کے سامنے کھانا ڈالتا ہے.

    مجھے یہ منظر اچھا لگتا ہے. مجھے کتوں سے سچی بات ہے بہت ڈر لگتا ہے. میں جب اس چوکیدار کو دیکھتا ہوں جس سے یہ آوارہ کتے لاڈ و نیاز کرتے ہیں تو ایک عجیب سا رشک اس پر آتا ہے. میں سوچتا ہوں ان سرد راتوں میں یہ آوارہ کتے اس صبح اور اس مہربان شخصیت کا کتنا انتظار کرتے ہوں گے.

    قدرت کو بھی یہ پسند آتا ہے. کیونکہ ایسے سلسلے پھر جاری رہتے ہیں. بے لوث انتظار جس میں ایک خاموش تشکر کے سوا کچھ نہ ہو کوئی بدلہ کوئی حساب نہ ہو ایسے حساب پھر قدرت اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے. کیا آپ نے بھی ایسا کوئی خاموش بے لوث سلسلہ قدرت کے ساتھ جوڑ رکھا ہے.؟ کیا آپ کا بھی کہیں خاموش انتظار ہو رہا ہوتا ہے.؟

  • جدید اصطلاحات — ابو الوفا محمد حماد اثری

    جدید اصطلاحات — ابو الوفا محمد حماد اثری

    عثمان بھائی نے جدید اصطلاحات کی بات چھیڑ دی ہے۔ ماں سے موم ماسی سے آنٹی اور آنٹی سے آنٹ کا سفر طے ہو چکا ہے۔ لوگ آگے کو بڑھ رہے ہیں اور ایک ہم فقیر ہیں مزید پچھلی اخلاقیات پر آگئے۔

    یادش بخیر ہمارے گھر والوں بے ہمیں ماسی کو آنٹی کہنا ہی سکھایا تھا، سو ہم ماسی کی مٹھاس سے محروم محض ہی تو تھے، لیکن جب ہم مشرف بہ مشرق ہوئے تو آنٹی کو ماسی کہنے لگے۔ میرے بیٹے کو گھر والوں بے بتھیری اردو سکھانے کی بات کی، ہم نے مگر ٹھٹھ پنجابی سکھائی۔

    اس کا ایسا مطلب نہیں کہ ہم کوئی ماضی گزیدہ ہوگئے ہیں یا ماضی کے ناسٹلجیا میں مبتلا ہوگئے ہیں، یہ ایک اور طرح کا شعور ہے، جو مالک سے دعا ہے تمہیں بھی نصیب ہو۔

    مسئلہ تہذیب مغرب کا ہے، جو اس کی حقیقت سے واقف ہونے لگے، اسے اس کے ہر مظہر سے چڑ ہونے لگتی ہے۔ ہم بھی ابتداء میں اسی روسیاہ کی زلف گرہ گیر کے اسیروں میں رہے۔ وہ وقت ہم پہ بھی گزرا جب ہم کسی کو بتاتے ہوئے شرماتے تھے کہ ہم مدرسہ کے طالب علم ہیں۔ ہم اس فیز سے بھی گزرے کہ مولوی یا ملا سے نفرت کر بیٹھے۔

    ہر روایت مخالف کام کو سراہنے کا بھوت سوار رہا، مجھے یاد ہے ہمارے استاذ محترم نے جب ہم سے کہا تھا کہ بیٹا! پڑھ کر کیا بننا چاہتے ہیں؟ تو جواب یہ دیا تھا کہ کم از کم روایتی مولوی نہیں، لیکن اب سوچتا ہوں کہ کاش روایتی مولوی ہی بننے کا جواب دیا ہوتا۔ کیوں کہ روایت کی مخالفت کسی دلیل کی بنا پر نہیں فیشن کی بنا پر کی جا رہی تھی۔ ہمیں بھی جدید ادیبوں کے سڑے گلے فقرے اپنی جاتی پر کسنے میں وہی سکون ملتا جو آج کل نئے جوانوں کو ملتا ہے۔

    ہم بھی اپنا مزاح ملا سے شروع کرتے اور اسی پر ختم کرتے رہے ہیں۔ ہم نے جب پہلی دفعہ اخلاق کا نعرہ لگایا تھا تو شاید لبرل ازم کے تحت ہی لگایا تھا، ہمیں بھی احادیث ج۔ہاد کھٹکتی رہی ہیں۔ ہم بھی ان میں سے رہے ہیں، جو اخلاقیات کو عقیدے سے بھی اوپر کا کوئی شعار قرار دیا کرتے تھے۔ ہم نے بھی وہ دن دیکھے جب دینی غیرت سے مجبور سخت فتوی لگانے والے عالم دین کو دین سے دوری کا سبب بتانا شعور کی معراج سمجھا کرتے تھے۔

    لیکن پھر خدا نے شعور عطا کیا، تہذیب جدید کے فہم سے کچھ حصہ ملا تو پھر زبان حال سے پکار اٹھے

    ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو

    ہاں، ہمارا تعلق اس جاتی سے ہے، جن کو عام طور پر اپنی مجلس میں بیٹھنے نہیں دیا جاتا، لیکن اس پر مطمئن ہیں۔

    ہاں ہم وہ ہیں جو پرانی اخلاقیات مانگتے ہیں۔ ہم اس گروہ عاشقاں سے ہیں، جو کو حکم خدا کے بعد کسی قسم کی تاویل کی ضرورت نہیں رہتی، ہم سے خدا کہتا ہے فلاں سے نفرت کرو تو ٹھوک بجا کے نفرت کرنے لگتے ہیں، ہمیں خدا کسی سے محبت کا کہے تو عمل گو نا کر سکیں مگر اس کی حقانیت ذہن و دل میں واضح رہتی ہے۔ ہم وہ ہیں، جنہیں تہذیب مغرب سے، اس کے مظاہر سے، اس کے ما بعد الطبیعات سے، اس کے فلسفوں سے اتنی ہی چڑ ہے۔ جتنے وہ برے اور انسانیت کے لئے ز،ہر قاتل ہیں۔

  • ہم اچھے باپ کیوں نہیں بنتے؟ — اعجازالحق عثمانی

    ہم اچھے باپ کیوں نہیں بنتے؟ — اعجازالحق عثمانی

    دنیا میں ہر جنس پر ظلم ہوتا ہے ۔ مگر سوائے بچےکے ہر عمر ، ہر طبقہ اور ہر جنس اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتا ہے ۔ مگر بچہ یہ سب نہیں کر سکتا ۔ وہ بہت کمزور ہے ۔اتنا کمزور کہ وہ اپنے حق کے لیے بول بھی نہیں سکتا۔ خواجہ سراؤں پر ظلم ہوا تو انھوں نے احتجاج کیے، خواتین نے اپنی تنظیمیں بنائی ۔ یہاں تک کہ رکشے والوں کی یونینز ہیں۔ مگر کوئی تنظیم نہیں ہے تو بچوں کی نہیں ہے ۔

    نفسیات دانوں کا شکر ہو جنھوں نے ہمیں علم نفسیات کے ذریعے بتایا کہ بھئی بچے بھی کوئی الگ شے ہیں۔ تم سے مختلف اور کمزور ہیں، جسمانی طور پر بھی اور عقلی طور پر بھی۔ انکا عقل درجہ بہ درجہ وقت کے ساتھ ترقی کی منازل طے پاتا ہے۔اگر کسی بچے کو میوزک کی آواز آرہی ہے ۔مگر آپ دور بیٹھے اسکو والیم اونچا کرنے کا کہتے ہیں تو وہ والیم تو بڑھا دے گا مگر یہ ضرور سوچتا رہے گا کہ جب اسے سننے میں کوئی دقت نہیں ہو رہی تو آپکو کیوں ہو رہی ہے۔ اگر بچہ مٹی سے کھیلتے ہوئے ہم سے پوچھ لے کہ مٹی کا رنگ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ ہم یا یہ کہہ دیتے ہیں کہ اللہ نے ایسا بنایا ہے یا کچھ اور کہہ کر بس جان چھڑوانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اکثر لوگ تو بچوں کو سوال پر ہی ڈانٹ دیتے ہیں ۔ جواب تو دور کی بات ۔۔۔۔۔۔

    اگر کوئی بچہ کم بولتا ہے تو اس مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ نکما ہے۔علم نفسیات میں ایسے بچوں کو انٹروورٹ کہا جاتا ہے ۔ ایسے بچے کچھ بڑا کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں ۔ مگر ہمارے معاشرے میں ایسے بچوں کو شرمیلا اور کمزور سمجھا جاتا ہے ۔گو کہ انٹروورٹ ہونا کوئی بری بات نہیں، یہ صرف ایک پرسنلٹی ٹریڈ ہے ۔ 90 فی صد سائنسدان، شاعر ، ادیب یا موجد انٹروورٹ ہی ہوتے ہیں ۔

    آپکا خاندان یا معاشرہ تو انٹروورٹ ہونے پر آپ کے بچے کی کبھی تعریف نہیں کرے گا۔مگر یہی انٹروورٹ بچہ زندگی میں کبھی ایسا کام ضرور کرے گا جس سے آپکا سر فخر سے بلند ہو جائے گا ۔ سو ایسے بچوں کی حوصلہ شکنی کبھی نہ کریں ۔آپ شدید حیران ہونگے یہ سن کر کہ دنیا کا ہر دوسرا امیر ترین آدمی انٹروورٹ ہے۔ٹیسلا کے ارب پتی مالک نے ایک بار ایک انٹرویو میں کہا تھا، "میں بنیادی طور پر ایک انٹروورٹڈ انجینئر کی طرح ہوں، اس لیے اسٹیج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

    ہم بچوں کا ہر موڈ برداشت نہیں کرتے ۔ چاہتے ہیں کہ بچے ہر وقت خوش رہیں۔ ان کے بھی اپنے جذبات ہوتے ہیں ، انھیں بھی خوشی اور غمی کا احساس ہوتا ہے۔ مگر ہم اس بات کو سمجھنے سے ابھی قاصر ہیں ۔ صرف اسی بات کو نہیں، بلکہ بچوں کو بچہ سمجھنے میں بھی ابھی ہمیں صدیاں درکار ہیں ۔

    جیسے بچوں کو پیدائش کے بعد سیکھنے کے لیے سکول بھیجا جاتا ہے ۔کاش بچہ پیدا کرنے سے پہلے والدین کےلیے بھی بچے کو سمجھنے اور تربیت کی خاطر کسی ڈگری کی شرط ہوتی ۔

  • غریب اور بے وکیل — ریاض علی خٹک

    غریب اور بے وکیل — ریاض علی خٹک

    روس میں ایک بزرگ غریب عورت نے ایک دکان سے ایک چھوٹی کیتلی چرا لی. وہ پکڑی گئی. مشہور روسی وکیل نکی فوروچ نے اسکا کیس لڑنے کا فیصلہ کیا. جیوری نکی فوروچ کو جانتی تھی. اس لئے اس نے غربت کی مجبوری کا استدلال نکی فوروچ سے چھین لیا.

    جیوری نے کہا ہم جانتے ہیں یہ بہت غریب اور مجبور ہے. لیکن مسئلہ قانون اور روس کا ہے. چوری بھلے بہت سستی کیتلی کی ہوئی لیکن اگر اس پر سزا نہ دی گئی تو یہ وہ دروازہ کھول دے گی جو عظیم روس کی تباہی کا پیش خیمہ بن جائے گا. نکی فوروچ پھر کھڑا ہوا اور جج سے کہا.

    روس پر پچھلے ہزار سال میں بڑے بڑے امتحان آئے نپولین آیا جرمن آئے روس لیکن کھڑا رہا. روس نے ہر چیلنج کا سامنا کیا اسے شکست دی اور آج پہلے سے زیادہ مضبوط اور طاقت کے ساتھ کھڑا ہے. البتہ آج ایک غریب بڑھیا عورت نے ایک چھوٹی کیتلی چرائی ہے اور روس تباہی کے دہانے پر کھڑا ہوگیا ہے. جج صاحب اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ کیتلی روس کو تباہ کر سکتی ہے تو اس بڑھیا کو سزا سنا دیں. بڑھیا رہا کر دی گئی.

    ہمارے ملک نے بھی بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا کیا ہے. 75 سال ہم نے اس دنیا میں کسی نہ کسی طرح نکال لئے. لیکن آج عجیب صورتحال ہے. غریب کیلئے کوئی نکی فوروچ وکیل دستیاب نہیں ہے. جب کے امیر اور اشرافیہ کیلئے انصاف بھی ہے وکیل بھی ہے اور جج بھی دستیاب ہے. ہمارا تو غریب بھی دوسرے غریب کی وکالت نہیں کرتا. بلکہ اشرافیہ کے کسی ایک فرد کی محبت میں دوسرے غریب کو کھڑے کھڑے سزا سنا دیتا ہے.

    یہاں کسی غریب کیلئے انصاف اب نہیں رہا کوئی وکیل نہیں رہا. اس لئے لگتا ہے ہمارا ملک واقعی خطرے میں ہے. اکثریت غریب اور بے وکیل ہے.

  • خود سے اور دوسروں سے نفرت کرتے کردار — ریاض علی خٹک

    خود سے اور دوسروں سے نفرت کرتے کردار — ریاض علی خٹک

    اولمپکس میں تماشائیوں سے بھرے سٹیڈیم میں دوڑ کے چیمپئن یوسین بولٹ کے ساتھ مقابلے میں اس وقت دنیا کے بہترین سائنسدان میوزیشن اداکار استاد جج ڈاکٹر انجینئر کو دوڑا دیں. پورا سٹیڈیم یوسین بولٹ کیلئے تالیاں بجائے گا. باقی سب لوگ تو مذاق ہی بن جائیں گے. لیکن یوسین بولٹ کو باکسنگ رنگ میں مائیک ٹائسن کے سامنے کھڑا کر دیں یوسین بولٹ کی آنے والی نسل بھی باکسنگ رنگ سے نفرت شروع کر دے گی.

    ان سب کا اپنا اپنا الگ میدان ہے. یہ اپنے اپنے میدان کے چیمپین ہیں. یہی چیمپین دوسرے میدان میں دوسروں کیلئے مذاق بن جائے گا. اور اسے خود سے نفرت ہو جائے گی. ہاورڈ گارڈنر کی مشہور اور ایک تفصیلی تھیوری ہے کہ ہر فرد کی مہارت و ذہانت کا میدان الگ ہے. لتا منگیشکر کی آواز میں اسی سال کی عمر میں ترنم تھا جبکہ آپ بھلے نوجوان ہوں لیکن اگر گانا شروع تو سب ہاتھ جوڑ کر منہ بند کرنے کی فرمائش کر دیں گے.

    گارڈنز کہتا تھا ذہانت کوئی دانشورانہ صلاحیت نہیں بلکہ مختلف لوگوں کی ذہانت کا میدان الگ ہوگا. کوئی موسیقی کی صلاحیت لے کر آیا ہوگا کوئی دوسروں کے احساس سمجھنے میں ماہر ہوگا کوئی حساب کتاب و منطق میں یکتا ہوگا کوئی زبان کا ماہر ہوگا. کسی کی آنکھ اور ہاتھ کا وہ تال میل ہوگا جو اسے آرٹسٹ بنا دے گا.

    یہ خود سے اور دوسروں سے نفرت کرتے کردار وہ لوگ ہوتے ہیں جو ایسے دانشوروں کے ہاتھ چڑھ جاتے ہیں جو مچھلی کو کھیتی باڑی سکھانا چاہتے ہیں تو گائے کو تیرنا پرندے کے پر اتارتے ہیں تو ہاتھی کو آڑنے پر راضی کرنا چاہتے ہیں. دنیا کے سٹیڈیم کو یہ دانشور کچھ دیر کے قہقہے تو ضرور دے دیتے ہیں لیکن ان کے تراشے کردار پھر نفرت کرنا سیکھ جاتے ہیں.

  • 1971 سے 2022۔ پی این ایس غازی کی دھاک ،تحریر :  ثاقب حسن لودھی

    1971 سے 2022۔ پی این ایس غازی کی دھاک ،تحریر : ثاقب حسن لودھی

    1971 سے 2022۔ پی این ایس غازی کی دھاک ،تحریر : ثاقب حسن لودھی

    بلاشبہ موجودہ دنیا میں کسی بھی ملک کے لیے اس کی جغرافیائی حیثیث قیمتی اثاثہ ہوتی ہے۔ آج 4 دسمبر کا وہ تاریخی دن ہے جب پاک بحریہ کے چاق و چوبند دستے پی۔این۔ ایس "غازی” کے شہداء کی یاد میں وطن سے ہر قیمت پر وفاداری کے عہد کو ایک بار پھر دہرا رہے ہیں۔ یہ وہی ‘غازی’ ہے جو 1971 کی جنگ میں دشمن کی نظروں سے اوجھل اپنے فرائض منصبی ادا کرتے ہوئے بدقسمتی سے اپنی ہی بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے پھٹنے سے تباہ ہو گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں تقریبا 85افسران جام شہادت نوش کر گئے تھے جن کی جرات و بہادری کو ہر سال خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ گو کہ پی این ایس غازی بہت کم عرصہ تک پاکستانی فلیٹ کا حصہ رہی لیکن اس کی دھاک اور دہشت سے آج بھی دشمن کانپ جاتا ہے۔ اگر ہم 1971 کی جنگ کا مختصر جائزہ لیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ جنگ بھارت کی غیر قانونی و انتہا پسندانہ سوچ کی عکاسی تھی۔ عالمی قوانین کے مطابق کوئی ملک کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا اختیار نہیں رکھتا مگر بھارت کی جانب سے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مکتی باہنی کے ذریعے مشرقی پاکستان میں شورش پھیلائی گئی۔ بعد ازاں بھارت کی جانب سے باقاعدہ جنگ چھیڑے جانے کے بعد پاکستان کے پاس صرف بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا آپشن باقی تھا۔ پاک بحریہ کے پاس پی این ایس غازی کی صورت میں ڈیزل الیکٹرک سب میرین موجود تھی جو بھارت کے’وکرانت’ نامی ائیر کرافٹ کئیریر کو تباہ کرنے کے لیے کافی تھی۔ لہذا بھارتی افسران کی جانب سے وکرانت کو ‘محفوظ مقام’ پر منتقل کیا گیااور ‘غازی’ کا مقابلہ کرنے کے لیے خلیج بنگال میں دو جنگی بحری جہاز روانہ کیے گئے۔ ان سب کی نظروں سے اوجھل پی این ایس غازی بھارتی کیمپ کے انتہائی قریب پہنچنے میں کامیاب رہی۔ 4 دسمبر کی رات بھارتی بحریہ کے پڑاو میں اس وقت کھلبلی مچ گئی جس وقت زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی۔ بھارتی بحریہ کے سابق کموڈور جیکب کے مطابق دھماکے کے آوازیں اس قدر شدید تھیں کہ انہیں گمان ہوا کھ شایدپی این ایس غازی کی جانب سے شدید حملہ ہو گیا ہے۔ بعد ازاں 5 دن کی مسلسل غوطہ خوری کے نتیجے کے مطابق حقیقت معلوم ہوئی کہ پی این ایس غازی اپنی ہی جانب سے بچھائی جانے والی بارودی سرنگ کے پھٹنے کی وجہ سے تباہ ہوئی۔

    بھارت کی جانب سے اس کو اپنی کامیابی گردانا گیا اور اس وقوعہ کے 5 دن بعد 9 دسمبر کو اس کو بھارتی بحریہ کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ یاد رہے 9 دسمبر کا دن بھی وہ تاریخی نوعیت کا دن ہے جب پی این ایس ‘ہنگور ‘ نے بھارتی بحریہ کی ریڑھ کی ہڈی سمجھنے جانے والے آئی این ایس’ ککری’ کو شکست دی تھی۔ مبصرین کے مطابق ککری کی شکست سے تو جہ ہٹانے کی خاطر بدقسمت غازی کو اپنی کامیابی بتایا گیا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کار بھارتی بحریہ کی جانب سے 5 دن تک اپنی خود ساختہ کامیابی کا اعلان کیوں نہ کیا گیا ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق 2010 میں بھارتی سرکار کی جانب سے غازی سے متعلق تمام ریکارڈ کو ضائع کر دیا گیا تھا۔ یہ تمام سوالات اس حقیقت کو عیاں کرتے ہیں کہ بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشن کی طرح اپنی عوام کو بیوقوف بنانے کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے۔ حال ہی میں فروری 2017 کے قیدی بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو ایوارڈ سے نواز کر بھارت دنیا کی توجہ پاکستان کی جنگی کامیابیوں سے ہٹانا چاہتا ہے۔

    پاکستان بحریہ کا یوم آزادی پرخصوصی نغمہ ”پرچم پاکستان کا” ٹیزر جاری

    یوم آزادی، ملک بھر میں تقریبات کا آغاز، مزار قائد، اقبال پر گارڈز کی تبدیلی،صوبوں میں توپوں کی سلامی

    پاک بحریہ میں یوم آزادی کی تقریب،اکیس توپوں کی سلامی دی گئی

    پاک بحریہ کی ساتویں کثیرالقومی بحری مشق امن 2021 کا آغاز

    پاک بحریہ کے زیر اہتمام گوادر میں مقامی بچوں کے لیے سیلنگ کیمپ کا انعقاد کیا گیا

    جنگ کے طور طریقے بدل گئے ہیں اور اب غیر روایتی انداز میں دشمن کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے بھارت بالی ووڈ کے ذریعے حقائق کو مسخ کر رہا ہے۔ بھارت کا غازی سے لیکر ابھی نندن تک کے تمام جھوٹ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں۔دنیا یہ جانتی ہے کہ بحری جنگ زمینی اور فضائی جنگ سے قدرے مختلف ہے اور اس میں جنگی حکمت عملی بنا کر اپنی صلاحیت سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے بہت مشکل ہوتا ہے۔ پی این ایس غازی کا دشمن کی نظروں سے اوجھل ہو کر بھارتی کیمپ کے نز دیک پہنچ جانا اور بعد ازاں پی این ایس ہنگور کی جانب سے آئی این ایس ککری کو شکست دینا اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ پاک بحریہ جنگی حکمت عملی بنانے اور آپریشنل لیول پر اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں بھارتی بحریہ سے بہت بہتر ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج بھی سفید وردی میں ملبوس پاک بحریہ کے جوان دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں۔ پاکستان کی بحری حدود میں 50 ہزار مربع کلومیٹر کا اضافہ اورمسلسل سات ‘ امن مشقوں ‘ کا انعقاد اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ پاک بحریہ نہ صرف تمام دوست ممالک سے امن اور برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنے کی خواہاں ہے بلکہ کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ پاک بحریہ نے ماضی میں بھی قومی دفاع اور سلامتی کی خاطر جانیں قربان کی ہیں اور آج کے تاریخی دن قوم سے ایک بار پھر وعدہ ہے کہ دشمن چاہے کتنا ہی طاقت ور اور تعداد میں بڑا کیوں نہ ہو، پاکستان کی بحری افواج اپنے ملک و قوم کی ایک ایک انچ کی حفاظت کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔

    پاک بحریہ دشمن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے تیار، نیول چیف کا دبنگ اعلان

    کراچی شپ یارڈ میں پاک بحریہ کیلئے جدید جنگی ملجم کلاس جہاز کی اسٹیل کاٹنے کی تقریب