Baaghi TV

Category: متفرق

  • بندوں میں بندگی کے الگ الگ درجات — ریاض علی خٹک

    بندوں میں بندگی کے الگ الگ درجات — ریاض علی خٹک

    آپ بازار جانے کیلئے جیب میں پیسے ڈالتے ہیں اپنی ضروریات کی چیزوں کی ایک لسٹ سوچتے ہیں اور گھر سے نکل جاتے ہیں. بہت کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ آپ نے قیمت اور کہاں سے خریدنا ہے پہلے طے کیا ہو. اکثریت بس سوچتی ہے جہاں سے بہترین معیار اچھی قیمت ملی خرید لوں گا.

    دکاندار بھی جب دکان صبح کھولتا ہے تو اسے کوئی گارنٹی نہیں ہوتی آج کیا اور کتنی فروخت ہوگی. کون آئے گا کون نہیں.؟ بازار اندازے پر چلتا ہے. گاہک کے پاس قوت خرید ہو اور دکاندار کے پاس چیز اور دروازہ کھلا ہو تو کاروبار زندگی چلتا رہتا ہے.

    بازار میں گاہک بھی بہت ہوں اور دکانیں بھی بہت لیکن کسی ایک دکان پر زیادہ گاہک جا رہے ہوں تب ہم کہتے ہیں اس پر اللہ کا خصوصی کرم ہے. کیونکہ اس کی کوئی ایک ادا دوسروں سے بہتر ہوتی ہے. معیار اخلاق قیمت فروخت یا سروس آپ اسے کچھ بھی بول دیں لیکن جب گاہک گھر سے نکلتے فیصلہ کر لے کہ فلاں دکان پر جانا ہے تو یہ اللہ کا کرم ہوتا ہے.

    اللہ رب العزت کی نعمتیں دنیا میں بکھری پڑیں ہیں. نعمتیں بھی بے شمار تو مخلوق خدا بھی بے شمار ہے. لیکن ہم جب اپنے آس پاس دیکھتے ہیں تو کسی ایک کے پاس نعمتیں دوڑ دوڑ کر آرہی ہوتی ہیں اور کسی کی آنکھیں انتظار میں ترس جاتی ہیں. تب اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں. گلے شکوے کرتے ہیں. جن پر نعمتوں کی برسات ہو ان سے حسد کرتے ہیں.

    کم لوگ ہوتے ہیں جو اپنی اداؤں پر غور کرتے ہیں. جو سوچتے ہیں ان پر کرم کیوں نہیں ہو رہا. دنیا ان سے راضی کیوں نہیں ہو رہی.؟ کیا نعمتیں بانٹنے والا اس سے راضی ہے.؟ یہی خود احتسابی یا Audit ہمیں پھر ہماری کمی کوتاہیاں دکھاتا ہے. اور یہی کمی بیشیاں جب درست ہو جائیں تو کرم کا دروازہ کھل جاتا ہے. اللہ رب العزت اپنے سب بندوں کا ایک یکساں پروردگار ہے. ہم بندوں میں البتہ بندگی کے الگ الگ درجات ہوتے ہیں.

    ریاض علی خٹک

  • کثرت اولاد، اسلامی تصور اور موجودہ حالات — عمر یوسف

    کثرت اولاد، اسلامی تصور اور موجودہ حالات — عمر یوسف

    پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی پر ماہرین تشویش کا اظہار کرچکے ہیں لیکن مذہبی علماء اس بات پر مصر ہیں کہ زیادہ بچوں کی پیدائش فضیلت کا سبب ہے جس کے بارے متعدد احادیث بھی مروی ہیں ۔ یہاں پر ایک فقہی قاعدے کا انظباط ضروری ہے کہ بعض چیزیں علت و معلول کے تعلق سے لاگو ہوتی ہیں ۔

    چناچہ عہد نبوی میں مسلمانوں کی عددی قوت کی غرض سے یہ احکام لاگو ہوئے لیکن موجودہ دور میں آبادی بجائے فائدہ کے ایک درد سر بنی ہوئی چانچہ جنگ یا عددی قوت کی علت نہیں رہی تو زیادہ اولاد کی صورت معلول بھی نہیں رہے گا ۔ اس صورت حال کو آپ مندرجہ ذیل تحریر سے بھی سمجھ سکتے ہیں جو کہ حالیہ طور پر روسی حالات کے بارے لکھی گئی ہے دوسری جنگ عظیم میں بہت سارے روسی سپاہیوں کی ہلاکت کی وجہ سے روس نے زیادہ بچے پیدا کرنے والی ماوں کو انعامات سے نوازا بعد ازاں اس سلسلے کو روک دیا گیا تاہم حالیہ روسی جنگ کے تناظر یہ اعلان دوبارہ گیا ۔

    عہد نبوی ص میں کثرت اولاد کا حکم بھی کچھ اسی تناظر میں تھا لیکن جب حالت امن ہو ضرورت نہ ہو ۔ اور کثرت آبادی بذات خود مسئلہ بن جائے تب اولاد کی کثرت پر اسلامی حوالے سے اصرار کرنا محل نظر ہے ۔ تاہم اگر معاشی حالات مستحکم ہوں تو حالات کی نوعیت بدل جائے گی ۔ ذیل میں روس سے متعلقہ رپورٹ ملاحظہ ہو ۔

    روس نے نیم خودمختار مسلم اکثریتی آبادی والی ریاست چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوف کی اہلیہ سمیت 10 یا زائد بچوں کو جنم دینے والی خواتین کو سوویت یونین دور کا اعزازی خطاب ’مدر ہیروئن‘ ایوارڈز دینا شروع کر دیے۔

    دنیا میں جہاں بہت سے ممالک بڑھتی آبادی سے پریشان ہیں وہیں روس نے ملک کی آبادی بڑھانے کیلئے ایک دلچسپ اقدام اٹھایا۔

     روس کی آبادی میں مسلسل کمی کے باعث صدر پیوٹن نے رواں سال اگست میں 10 یا اس سے زائد بچے جنم دینے والی روسی خواتین کو سوویت یونین دور کے اعزازی خطاب ’مدر ہیروئن‘ اور 16 ہزار ڈالرز سے زائد ( 35 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد رقم) انعام میں دینے کا اعلان کیا تھا۔

    مدر ہیروئن کا اعزازی خطاب 1944 میں شروع کیا گیا تھا جو ان روسی خواتین کو دیا جاتا تھا جن کے بچے زیادہ ہوتے تھے اور وہ ان سب کی اچھی پرروش کرتی تھیں، تاہم 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے پر اسے ختم کردیا گیا تھا۔

    رپورٹس کے مطابق روسی صدر کی جانب سے یہ اسکیم کورونا وبا کے دوران بچوں کی پیدائش کی شرح میں غیر معمولی کمی اور یوکرین جنگ میں ہزاروں روسی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آئی تھی۔

    تاہم 3 دہائیوں کے بعد اب پہلی بار روس نے یہ تاریخی ایوارڈ ر مضان قادریوف کی اہلیہ سمیت دیگر کو  دے دیے ہیں۔

    رمضان قادروف اس وقت چیچن ریپبلک کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور انہوں نے اپنے  بیٹوں کو پیوٹن کی یوکرین جنگ کے لیے فرنٹ لائن پر بھیجنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

  • رائٹ ٹُولز — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    رائٹ ٹُولز — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    کمرے کے وسط میں رکھی میز پر ایک مشین رکھی ہوئی تھی اور اس کے ساتھ ایک گورا کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ وہ کل ہی دبئی کے راستے لاہور پہنچا تھا ۔ وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی کا ٹیکنیکل منیجر تھا اور آج اپنی کمپنی کے لئے اسے کچھ نئے انجنئیرز کا ٹیسٹ لینا تھا۔

    کمرے کی ایک دیوار کے ساتھ لمبی سی میز پر کئی اقسام کے ٹول پڑے ہوئے تھے جو مشینوں کو کھولنے یا اسمبل کرنے میں استعمال ہوتے تھے۔کمرے میں داخل ہونے والے ہر انجنئیر سے گورے کا ایک ہی سوال ہوتا کہ مجھے یہ مشین کھول کر دکھاؤ ۔

    ڈیل یہ تھی کہ جس انجُئیر نے اس مشین کو کھول لیا گورا اسے کمپنی کے لوکل آفس میں بہت اچھے پیکیج پر بھرتی کر لے گا اور اگر کسی نے مشین کو کھول کر اسے دوبارہ اسمبل بھی کر لیا تو اسے سیدھا انٹرنیشنل سٹاف کا حصہ بنا لے گا۔

    یہ 1998 کا سال تھا اور انجنئیرز کا سخت بے روزگاری کا دور چل رہا تھا۔ حکومت ڈاؤن سائزنگ اور گولڈن شیک ہینڈ کے ذریعے ملازموں سے جان چھڑوا رہی تھی۔ یونیورسٹی سے تازہ تازہ فارغ ہونے والے انجنئیر کو کسی جگہ عام سی جاب کے لئے بھی بہت تگ ودو کرنا پڑ رہی تھی اور یہاں تو معاملہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کا تھا۔

    جو بھی انجنئیر کمرے میں داخل ہوتا وہ جاکر کوئی نہ کوئی پیچ کس نما ٹول اٹھاتا اور ملٹی نیشنل کمپنی میں اپنا انتخاب یقینی بنانے کے لئےمشین کے ساتھ کشتی لڑنے میں مصروف ہوجاتا لیکن کسی کی دال نہ گلتی۔ مشین نے نہ کھلنا تھا نہ کھل سکی۔ ایک دو ہٹے کٹے نوجوانوں نے تو زور زبردستی لگا کر مشین کا ایک آدھا پیچ وغیرہ کھول بھی لیا جس کی وجہ سے مشین کے پیچوں کی جھریاں بھی خراب ہو گئیں لیکن پھر تنگ آکر انہوں نے بھی ہاتھ کھڑے کردئے۔

    احسن بھی امیدواروں کی قطار میں بیٹھا کافی دیر سے یہ تماشا دیکھ رہا تھا ۔ اس نے چند ماہ پہلے ہی یوای ٹی سے مکینیکل انجنئیرنگ کی تھی لیکن باوجود کوشش کے ابھی تک اسے کوئی کام نہیں مل سکا تھا۔وہ ساری رات اس انٹرویو کی تیاری کرتا رہا تھااور اب اس عجیب و غریب مشین کے بارے میں سوچ رہا تھا جس کے بارے میں کورس کی کتابیں خاموش تھیں۔

    اپنی باری پر احسن کمرے کے اندر گیا تو گورے نے اسے بھی مشین کھولنے اور اسے دوبارہ اسمبل کرنے کا ٹاسک دیا اور خود آرام سے ایک طرف منہ کرکے کتاب پڑھنے میں مصروف ہوگیا۔ تاہم کبھی کبھار وہ عینک کے شیشے کے پیچھے سے اس کی طرف بھی دیکھ لیتا۔

    احسن نے سب سے پہلے تو مشین کے چاروں طرف گھوم پھر کر اس کا جائزہ کیا۔ اس کے پیچ اور سیلیں وغیرہ دیکھتا رہا اور پھر ٹولز والی میز کے قریب جاکر مشین کے پیچوں کی مطابقت رکھنے والا ٹول ڈھونڈنے لگا تاکہ اسے استعمال کرکے مشین کھولی جا سکے ۔ تاہم باوجود تلاش کے اس طرح کے منہ والا ٹول اسے میز پر نظر نہ آیا۔ وہ سوچنے لگا کہ اس ٹول کے بغیر اور کون سے ٹول سے مشین کھولی جا سکتی ہے لیکن اسے کوئی ملتا جلتا ٹول بھی وہاں نہیں دکھ رہا تھا۔ اوپر سے ٹائم بھی ختم ہورہا تھا۔اس نے آکر مشین کو دوبارہ چیک کیا اور پھر ٹولز کو دوبارہ دیکھا لیکن اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔

    جب اسے میز کے پاس کھڑے کافی دیر ہوگئی تو گورے نے گلہ کنگھار کر اسے کہا کہ مسٹر احسن میرے پاس زیادہ وقت نہیں آپ جلدی سے مشین کو کھولنا شروع کریں۔ تب احسن نے اسے سچ بتانے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ سر مشین کو صحیح طریقے سے کھولنے والا متعلقہ ٹول میز پر موجود ہی نہیں اور دوسرے ٹولز کے استعمال سے مشین کے پیچ خراب ہو جانے کا خدشہ ہے۔

    گورے نے کتاب بند کی، عینک اتاری اور کرسی سے کھڑا ہوتے ہو ئے کہا “ کانگریجولیشنز ۔ یو آر ہائیرڈ” وہ دوست اب اس ملٹی نیشنل کمپنی میں بہت اعلی عہدے پر ہیں اور ماشااللّہ بہت خوش حال ہیں۔

    آج کل ڈیجیٹل سکلز سیکھنے ، سکھانے اور اس سے لمحوں میں دولت مند ہونے کا بہت رجحان ہے۔ یقینی بنائیے کہ آپ اپنا وقت اور پیسہ ایسے ٹول سیکھنے پر لگا رہے ہیں کہ جس سے آپ اپنے بہترمستقبل کی مشین کو آسانی سے کھول سکیں۔ بھیڑ چال میں الٹے سیدھے ٹولز کے استعمال سے سے اپنی ترقی کی مشین کو داغدار نہ کریں۔

  • سنا ہے آج مردوں کا عالمی دن ہے؟ —  ماسٹر محمد فہیم امتیاز

    سنا ہے آج مردوں کا عالمی دن ہے؟ — ماسٹر محمد فہیم امتیاز

    مرد۔۔۔

    جسں کی زندگی کچھ ایفرٹس کے گرد گھومتی رہتی۔۔۔ جیسے ہی ہوش سنبھالتا ہے، اس معاشرے میں سروائیو کرنے کے لیے تگ و دوو کرنا ہوتی ہے۔۔۔!!

    عمر کا ایک ہندسہ عبور ہوتے ہی گھر والے باہر والے اس کی طرف ٹیڑھی نظر سے دیکھنا شروع ہو جاتے کہ بھئی کما کر لا۔۔۔ گھر چلا۔۔۔ وہ جس نے ہزار شوق پالے ہوتے، اپنی زندگی کے حوالے سے وہ معاشرے کے پریشر گھر والوں کے سوالات رشتہ داروں کے طعنوں کی نذر ہوتے چلے جاتے آخر کار سب خواب دفن کر کے کسی بھی اوکھلی میں سر دے دیتا جس سے چار پیسے آنے لگیں، معاشرے کے منہ پر مارنے کے لیے۔۔۔

    اگر کوئی متوسط طبقے سے تو بھائیوں کو لڑکپن سے ہی یہ بات سمجھانا شروع کر دی جاتی کہ گھر میں بہنیں ہیں۔۔۔بھائی بھلے چھوٹے ہوں بھلے بڑے انہیں ذمہ دار ہونا ہوتا۔۔۔ وہ باپ کے ساتھ کندھا ملا کر بہنوں کو عزت سے رخصت کرنے کی تگ و دوو میں جت جاتے، محنت مزدوریاں کرتے، گرمی سردی دھوپ جھڑ کسی بھی چیز کی پرواہ کیے بغیر۔۔۔

    پھر جب مرد کی شادی کی بات آتی ہے تو ایک بار پھر یہ معاشرہ منہ پھاڑے کھڑا ہوتا۔۔۔

    لڑکا اچا لما ہو۔۔ کھاتا کماتا ہو۔۔ یہ تو ایک لیول۔۔ پھر ایک لیول آتا لڑکے کے پاس اپنا گھر ہو۔۔ لڑکے کے پاس اپنی گاڑی ہو۔۔۔ اپنا ایسا کاروبار ہو۔۔اتنا بینک بیلنس ہو۔۔ اتنا زیور ڈالے۔۔۔فلاں فلاں وغیرہ وغیرہ ۔۔۔

    وہ جو پہلے کچھ ذمہ داریوں سے کچھ توقعات سے بندھا تیسری دہائی پوری کرنے کو ہوتا یہ ڈیمانڈز اس کی زندگی کے کئی سال مزید کھا جاتیں۔۔۔

    فکر معاش سے نکلتے نہیں کہ فکر قماش آن پڑتی۔۔۔

    اور سب سے مزے کی بات ان سب ایفرٹس کو کسی کھاتے میں نہیں لکھا جاتا۔۔۔آپکے رشتے آپسے متعلقہ لوگ یہ بھول جاتے کہ مرد بھی انسان ہی ہوتا، اس کی کچھ ایموشنل نیڈز بھی ہوتیں ۔۔۔

    وہ جسے اس مہنگائی کے عفریت سے بھی لڑنا،جسے گھر کا چولہا بھی گرم رکھنا، جسے بچو کا پیٹ بھی بھرنا، جسے بچیوں کے ہاتھ بھی پیلے کرنے، جس نے گدھے کی طرح جتے رہنا مسلسل کب بال سیاہ سے سفید ہوئے، کب روٹی سے نکل کر بچوں کی تعلیم اور کب تعلیم سے نکل کر بچیوں کی شادیوں کی فکر آن سر ہوئی ۔۔کچھ معلوم نہیں کسی کو پرواہ بھی نہیں۔۔۔وہ مرد جو اس مشکل ترین دور میں گھر کا چولہا جلائے رکھنے کے لیے اپنا خون پسینہ ایندھن بنائے رکھتا، جو معاشرے کے جھوٹے معیاروں کو پورا کرتے کرتے کمر دوہری کروا لیتا۔۔ جو اپنے سب شوق سب خواب بھینٹ چڑھا دیتا ۔۔جو رشتہ داروں کے طنز وتشنیع سے لے کر حالات کے تھپیڑوں تک سب برداشت کرتا۔۔۔
    وہ کئی بار ساری زندگی کی کمائی لٹا کر بھی اپنا آپ بیچ کر بھی ایک بیوی تک کو خوش نہیں کر پاتا ۔۔۔

    وہ جو سارے گھر کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوتا،وہ ماں اور بیوی(ساس اور بہو) کے درمیان کی رسہ کشی میں ادھڑتا ریشہ ریشہ ہو جاتا۔۔۔
    جو زندگی کے مختلف سٹیجز میں کبھی بہنوں تو کبھی بیٹیوں کی ذمہ داریاں پوری کرتے کرتے۔۔کہیں ماں کی خواہشات کا احترام کرتے کرتے۔۔۔ کہیں بیوی کی توقعات پر پورا اترتے اترتے۔۔ قبر کنارے جا پہنچتا۔۔۔

    اس مرد کو یہ عالمی دن نہیں چاہیئے ۔۔۔

    اس کے لیے ایک احساس کافی ہے اگر کیا جائے کہ جہاں عورت کو ایک محاذ درپیش ہوتا ازدواجی۔۔۔

    وہاں مرد کو معاشی اور ازدواجی دونوں پہلووں پر بغیر کسی بھی ہمدردری کے یکساں مشقت کا سامنا ہوتا ہے ۔۔۔ اور وہ جسمانی اور ذہنی دونوں طرح سے ٹارچر سہہ رہا ہوتا۔۔۔ وہ گھر اور باہر دونوں جگہ پس رہا ہوتا، اس کے پاس سر رکھ کے رونے والا کوئی کندھا بھی نہیں ہوتا۔۔اس کے پاس مورد الزام ٹھہرانے کے لیے کوئی ولن بھی نہیں ہوتا۔۔ اس کی بھی کچھ ایموشنل نیڈز ہوتی ہیں۔۔۔اسے بھی کچھ سپورٹ کی ضرورت ہوتی، انڈرسٹینڈنگ کی ضرورت ہوتی۔۔۔بس یہ احساس کافی ہے مرد کے لیے اگر ہو تو ۔۔۔!!

  • آرٹ کے مخالف دقیانوسی مولوی؟؟؟ — ڈاکٹر عزیر سرویا

    آرٹ کے مخالف دقیانوسی مولوی؟؟؟ — ڈاکٹر عزیر سرویا

    علیزے فرام لَمز کہتی ہے کہ آرٹ کو بَین کرنا انتہائی بری بات ہے اور آزادی اظہار کی نفی ہے۔ اس کا مزید کہنا ہے کہ اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی کہ آرٹ کے مخالف دقیانوسی مولوی لوگوں کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ ان کے عقائد یا اقدار ایک آرٹ فلم سے خطرے میں پڑتے ہیں۔ علیزے فرام لَمز یہ بھی کہتی ہے کہ جس نے آرٹ کا جو نمونہ دیکھنا ہو وہ اس کی مرضی ہونی چاہیے، کسی فرد یا ریاست کو پابندی لگانے کا کوئی حق نہیں۔

    اب مسئلہ یہ ہے کہ لَمز والی علیزے کی یہ روشن خیالی سے بھرپور باتیں جناب بارُود خان نے سوشل میڈیا پر سُن لی ہیں۔ اتفاق سے وہ ایک ریاست مخالف اور عسکریت پسند گروہ کے میڈیا مینیجر بھی ہیں۔ ان کی پراپیگنڈا ویڈیوز گروہ کے لیے نئے رنگرُوٹ لانے کے لیے مشہور ہیں۔ لیکن حکومت سے وہ نالاں ہیں کہ سوشل میڈیا پر اُن کی خواہ مخواہ سرکوبی کرتی رہتی ہے۔ اب انہوں نے علیزے فرام لَمز کی باتوں سے انسپائر ہو کے اپنی بارودی ویڈیوز کو دوبارہ ریلیز کرنے کا سوچا ہے اور اس بار وہ اسے “آرٹ” کہہ کر مارکیٹ میں لائیں گے تاکہ علیزے اور اس کے تمام فرینڈز ممکنہ پابندیاں لگنے پر میدان میں بارود خان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ آخر پراپیگنڈا “آرٹ” سے کسی کے عقائد یا اقدار خطرے میں کیسے پڑ سکتے ہیں؟ ریاست کو کیا لگے، جس نے بھی “آرٹ” کا جو نمونہ دیکھنا ہے وہ دیکھے!

    بارود خان کے ساتھ قصور کے رہائشی مونی بَٹ نے بھی علیزے فرام لَمز کی باتوں سے انسپائریشن پکڑ لی ہے۔ وہ بچوں کے پورن کے دھندے میں ہے اور حکومت کی سینسر شپ سے پریشان ہے۔ اب اس نے سوچا ہے کہ اپنی فوٹیج کو اینیمیٹ کروا کے اسے “آرٹ” کہہ کے مارکیٹ میں پھینکنے کی تیاری کرے۔

    جس طرح فیمنسٹ بہنوں نے ٹرانس حقوق کی وکالت کرتے کرتے معاملات یہاں تک پہنچا دیے ہیں کہ اب ناکام مرد اتھلیٹ آپریشن سے عورت بن کے عورتوں کو ہی گیمز میں ہرانے کی بنیاد ڈال چکے ہیں، اسی برح بارود خان اور مونی بٹ بھی علیزے فرام لَمز اور اس کے لبرل دوستوں کو انہی کی گیم میں گُھس کر بِیٹ کرنے والے ہیں۔

    پس تحریر: دنیا کا ہر ذی شعور انسان جانتا ہے کہ تحریر و تصویر سے لے کر آڈیو ویڈیو تک کوئی بھی میڈیئم ہو، وہ سماج پر اثر انداز ہونے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہر زندہ سماج میڈیا پر اپنے اقدار کے حساب سے پابندیاں عائد کرتا ہے۔ جیسے دہشت گردی یا چائلڈ پورن معاشرے کا ناسور ہیں ویسے ہی یہ ل-ج-ب-ٹ بھی سماج کے لیے تباہی ہے۔ اور اس کی تشہیر و حوصلہ افزائی کرتے مواد پر پابندی لگانا اسلامی نہیں بلکہ بنیادی منطق کا تقاضا ہے کیونکہ اسلام سے بڑھ کر یہ انسانیت کی بقاء کے لیے بھی خطرناک ہے۔ اس کے حامی بس یہ فرض کر لیں کہ اگر ان کی والدہ یا والد اس عادت کا شکار ہوتے تو وہ اس آزادی کا پرچار کرتے آج دنیا میں موجود ہی نہ ہوتے۔

  • کامیاب زندگی سےمطمئن زندگی بہتر — ریاض علی خٹک

    کامیاب زندگی سےمطمئن زندگی بہتر — ریاض علی خٹک

    ایک کامیاب زندگی سے ایک مطمئن زندگی ہزار درجہ بہتر ہے. آپ کتنے کامیاب ہیں.؟ یہ ہمیشہ آپ کو یا تو دوسرے بتائیں گے یا آپ کو دوسروں سے پوچھنا پڑے گا لیکن اطمینان روح سے نکلتا ہے. آپ کو پوچھنا نہیں پڑتا.

    مکمل سچ آپ کے منہ پر اس دنیا میں سنا ہے تین قسم کے لوگ ہی بول سکتے ہیں. ایک جو نشے میں دھت ہو دوسرا جو سخت غصے کی کیفیت میں ہو اور تیسرے بچے جو من کے ہی سچے ہوتے ہیں. آپ ان تینوں سے پوچھ سکتے ہیں آپ کتنے کامیاب ہیں.؟ یہ دنیا روز اپنے ہیرو بدلتی ہے کل کا ہیرو آج زیرو ہوگا. یہاں روز فیشن بدلتا ہے. لوگوں کی خواہشات اور توقعات روز بدلتی ہیں. آپ تھک جائیں گے ان کی نظر میں کامیاب کہلاتے کہلاتے.

    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے "جس کی نیت اور اس کا مقصد اپنی تمام تر کوشش سے طلب آخرت ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو دل کی بے نیازی یعنی مخلوق کا محتاج نہ ہونا اور دل کا اطمینان نصیب فرما دیتے ہیں۔‘‘

    روح اپنے سفر آخرت پر ہے. یہ راستہ مخلوق خدا کے درمیان سے گزرتا ہے. اپنے لئے اور آس پاس چلتی اللہ کی مخلوق کیلئے یہ سفر آسان بنانے میں روح کو خوشی ملتی ہے. اپنی اور دوسروں کی زندگی اگر ہم پیچیدہ نہ کریں تو یہ آج کا اطمینان اور کل کی کامیابی ہے.

  • سونے جیسے قیمتی لوگ — ریاض علی خٹک

    سونے جیسے قیمتی لوگ — ریاض علی خٹک

    جاپانی کچھ باتوں میں بڑی کمال سوچ رکھتے ہیں. جیسے یہ اپنے گھر اور اس میں موجود اپنے روایتی برتنوں فرنیچر کا بڑا دھیان رکھتے ہیں. صاف ستھرے گھر میں جوتوں کے ساتھ نہیں گھومتے یا گھر کے سلیپر الگ رکھتے ہیں. لیکن ایک خوبی بڑی کمال ہے. انکا کوئی قیمتی خاندانی پیالی کیتلی ٹوٹ جائے تو اس کی مرمت سونے یعنی گولڈ سے کر لیتے ہیں.

    ٹوٹ کر دوبارہ جوڑ بنانے کو یہ ایسا قیمتی بنا دیتے ہیں کہ وہ جوڑ خود ایک کمال بن جاتا ہے. ایک پرانی عربی کتاب میں کوئی عربی کہاوت یاد آتی ہے جسکا مفہوم ہے کہ مرنا کوئی نہیں چاہتا ورنہ اسے گہرے پانی میں پھینک دو یہ فوراً ہاتھ پیر چلانا شروع کردے گا. پھر لوگ اپنی زندگی سے ایسے بے زار ہوکر بیٹھ کیوں جاتے ہیں کہ مرنا ان کو مشکل نہیں لگتا.؟

    وہ اصل میں اندر سے ٹوٹ جاتے ہیں. اندر کی یہ جنگ ان کو تنہا لڑنی پڑ جاتی ہے. جیسے گہرے پانی میں انسان بقا کی جنگ لڑ رہا ہو اور اسے تیرنا بھی نہ آتا ہو تو اپنی ساری طاقت و توانائی خرچ کر کے وہ بے بسی سے یا پھر ڈوبنے کا انتظار کرتا ہے یا کسی ایسے ہاتھ کا جو اسے کھینچ کر نکال لے. اب بھلے زندگی کا ہاتھ پہلے پہنچا یا موت کا.

    ہمارے آس پاس سب ہی تیراک نہیں ہوتے. تنہا اپنی جنگ جیت لینے والے سورما نہیں ہوتے. اس لئے کسی کو تنہا نہ چھوڑیں. جاپانی جیسے اپنے برتن کا جوڑ سونے سے بنالیتے ہیں ایسے ہی کسی ٹوٹے ہوئے کو جوڑنے میں مدد دینے والے بھی سونے جیسے قیمتی لوگ ہوتے ہیں. اس لئے حقوق العباد کے اعمال سونے جواہرات کے ساتھ تولے جائیں گے.

  • ہمیں چلتے رہنا ہوتا — خطیب احمد

    ہمیں چلتے رہنا ہوتا — خطیب احمد

    چند دن پہلے سکول سے واپسی پر گاؤں جا رہا تھا تو میرے آگے بائیک ایک لڑکے کے پیچھے کوئی ستر سے اسی سالہ بزرگوں کی جوڑی بیٹھی جا رہی تھی۔ سنگل سڑک تھی اگر انکو کراس کرتا تو ان پر بہت زیادہ دھول مٹی پڑنی تھی کہ آجکل دیہاتی سڑکوں پر ٹریکٹر ٹرالیوں اور بڑی مشینوں کے چلنے کیوجہ سے بہت دھول بن جاتی ہے۔ فصل کٹنے کے بعد ٹریکٹر ٹرالیوں پر جانے والی مٹی سڑک کر گرتی وہ بھی بہت دھول بناتی ہے۔ میں بائیک کے پیچھے پیچھے آرام سے گاڑی چلا رہا تھا کہ دس کلو میٹر تک جہاں بھی انکو کراس کرتا انہوں نے مٹی میں نہا جانا تھا۔ بائیک ڈرائیور نے ایک دو بار خود ہی مجھے سپیس دی مگر میں نے کراس نہیں کیا۔ آدھے راستے میں جاکر بائیک والے نے بائیک روک لی کہ میں گزر جاؤں۔ میں نے پیچھے ہی گاڑی روکی اور خود اتر کر آگے گیا۔

    اور اس لڑکے سے کہا کہ میں خود ہی آگے نہیں جا رہا آپ چلتے جائیں۔ پریشان نہ ہوں۔ مجھے راستہ نہ دیں میں پیچھے ہی آؤں گا۔ میں پیچھے آنے ہی لگا تھا کہ مجھے بوڑھی ماں نے آواز دی کہ پتر میری بات سنو۔ تم کیوں نہیں آگے جا رہے؟

    میں نے کہا کہ میں اگر آگے گزروں گا تو آپ پر مٹی پڑے گا جو میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ میں کسی پر بھی مٹی ڈال کر اسے کراس نہیں کرتا چاہے جتنی بھی جلدی میں ہوں۔ اماں نے پوچھا تم کہاں سے آئے ہو اور کیا کرتے ہو؟ میں نے کہا نوشہرہ ورکاں سے آیا ہوں اور بھڑی شاہ رحمان میرا گھر ہے ایسے سپیشل بچوں کے ایک سرکاری سکول کا ٹیچر ہوں جو دیکھ نہیں سکتے یا بول اور سن نہیں سکتے یا چل پھر نہیں سکتے۔ بس میرے یہ بات کہنے کی ڈیر تھی وہ اماں پیچھے سے اتری اور مجھے گلے لگا کر میرا منہ ماتھا چومتے ہوئے ڈھائیں مار کر رونے لگ گئی۔ بابا جی اترے اور وہ بھی گلے لگ کر رونے لگ گئے۔ اتنی دیر میں پیچھے بھی سڑک پر چند گاڑیوں اور رکشوں کی لائن لگ گئی۔ مگر کوئی بھی ہارن نہیں بجا رہا تھا کہ راستہ چھوڑو۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے بس کار سائیڈ پر کر لینے دیں ادھر ہی رکیں۔

    گاڑی سائیڈ پر لگائی کہ پیچھے کی چیزیں گزر سکیں۔ اور انکے پاس آیا۔ اماں جی نے بتایا کہ میں نے جو بات کہی ہے یہ بات مجھے الہام ہوئی ہے۔ یہ بات انہی الفاظ میں انکا اکلوتا بیٹا کہا کرتا تھا جو چھ سال قبل 30 سال کی عمر میں شیخوپورہ روڑ پر ایک روڑ ایکسیڈنٹ میں موقع پر ہی وفات پا گیا تھا۔

    انہوں نے بتایا کہ انکی شادی کے 20 سال بعد اللہ نے بیٹا دیا جب وہ اولاد کی امید ہی چھوڑ چکے تھے۔ جب وہ بائیس سال کا ہوا تو غیر قانونی راستے سے یونان چلا گیا۔ 8 سال وہاں رہا جب کاغذ بنے تو چھٹی آیا اور اسکا رشتہ دیکھ رہے تھے کہ ایک روڑ ایکسیڈنٹ میں وفات پا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ انکا اس دنیا میں واحد سہارا تھا۔ اماں نے کہا کہ وہ یونان جانے سے پہلے جب مجھے اور تمہارے چاچے کو بائیک پر کہیں لے کر جاتا تھا ناں۔ اور لوگ کراس کرتے ہوئے دھول اڑا جاتے تھے تو وہ کہتا تھا اماں جب میرے پاس گاڑی آئے گی ناں تو میں کسی پر بھی دھول نہیں ڈالوں گا۔ چاہے ایک گھنٹے کا سفر تین گھنٹوں میں ہی کیوں نہ طے کروں۔ یہ کیسے لوگ ہیں جو کراسنگ میں دھول کے بادل اڑا کر بائیک والوں اور سائیکل سواروں کے سارے کپڑے گندے کر جاتے ہیں۔

    وہ یونان سے آکر گاڑی خریدنے ہی والا تھا کہ اللہ کا حکم آگیا اور وہ اگلے جہان چلا گیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آرہے اور کہاں جا رہے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ ہم نوشہرہ ورکاں دوائی لینے گئے ہوئے تھے اور یہ لڑکا ہمارا ہمسایہ ہے بائیک ہماری اپنی ہے جو ہمارے بیٹے کی تھی اسے ساتھ بطور ڈرائیور لائے ہیں۔ لوکل گاڑیاں بہت دیر لگا دیتی ہیں۔

    میں نے اس لڑکے سے کہا تم بائیک لیکر چلو میں اماں اور چاچا جی کو لیکر تمہارے پیچھے ہی آرہا ہوں۔ مگر رہو گے تم آگے ہی اور سپیڈ سے چلو زرا اب۔

    اماں کو میں نے فرنٹ پر بٹھایا اور چاچا کو پیچھے اور گاڑی انکے گاؤں کی طرف موڑ لی۔ رستے میں اماں جی نے بتایا کہ تمہارا چاچا جوانی میں پالتو جانوروں کی ٹوٹی ہوئی ہڈیاں جوڑا کرتا تھا۔ بڑی دور سے لوگ آکر لیجایا کرتے تھے اور چھوڑ بھی جاتے تھے۔ تب ہر گھر میں مویشی ہوا کرتے تھے۔ اور گاہے بگاہے کام آتا رہتا تھا چند کنال زمین بھی تھی جس سے گھر کے چاول گندم آجاتے تھے۔ وہ بیٹے کے یونان جانے پر بیچ دی تھی۔ جو جانوروں کی ہڈیاں جوڑنے کا فن جانتا ہوں وہ انسانی ہڈیاں کیوں نہیں جوڑ سکتا۔ مویشی کم ہوئے تو انسانی ہڈی جوڑ کا کام شروع کر دیا اور انکی جوڑی ہوئی ہڈی کبھی خراب نہ ہوتی تھی۔ یہ کام بیٹے کی وفات تک چلتا رہا۔ جب وہ فوت ہوا تو کام چھوڑ دیا اب بس روتے رہتے ہیں۔

    انہی باتوں میں ہم انکے گھر پہنچ گئے۔ کوئی چھ سات مرلے کا ڈبل سٹوری گھر ماشاءاللہ بہت اچھا بنا ہوا تھا۔ جو انکے بیٹے نے یونان سے پیسے بھیجے تو بنایا گیا تھا۔ اماں نے مجھے پوچھا تمہیں کوئی جانے کی جلدی تو نہیں؟ میں نے کہا بلکل بھی نہیں میں تو رات یہاں ہی رکوں گا۔ میری یہ بات سننے کی دیر تھی کہ وہ دونوں میاں بیوی جیسے خوشی سے نہال ہو گئے۔ اماں نے کہا تم بیٹھو میں گوشت لیکر آتی ہوں۔ میں نے کہا آپ بیٹھیں میں لے آتا ہوں۔ مجھے ہانڈی پکانی آتی ہے آپ اجازت دیں تو میں ہانڈی پکا لوں ؟ اماں پھر میرے گلے لگ گئی کہ میرے غلام فرید کو بھی ہانڈی پکانی آتی تھی کہ وہ ہماری بیٹی اور بیٹا دونوں تھا۔

    ہانڈی میں نے پکائی اماں کو آٹا گوندھ کر دیا اور اماں نے روٹیاں پکائیں۔ کھانا کھایا اور پھر سے باتیں کرنے بیٹھ گئے۔ رات کوئی بارہ بجے تک ہم باتیں کرتے رہے۔ اماں نے بتایا کہ بیٹا ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ بیٹے کے اکاؤنٹ میں اتنے پیسے پڑے ہیں جو ہمارے لیے کافی ہیں۔ جو اسنے یونان سے کمائے تھے۔ جتنی ضرورت ہو ہم کسی کے ساتھ جاکر بنک سے لے آتے ہیں۔ وہ جاتے ہوئے ہمیں کسی کا محتاج نہیں چھوڑ کر گیا۔ ہم نے کسی سے کبھی ایک پیسے کی بھی مدد نہیں لی بلکہ کسی ضرورت مند کی مدد کرتے رہتے ہیں۔ بنک کا مینجر بھی ہماری بڑی عزت کرتا ہے۔ اماں ہی زیادہ بات کرتی تھی۔ چاچا بس کبھی کبھار کوئی بات کرتا اور ہماری باتیں سنتا رہتا۔ اماں نے بتایا کہ بیٹا پہلے ہم دعا کرتے تھے کہ اللہ ہمیں اولاد دے۔ جب دعا چھوڑ دی تو اللہ نے بیٹا دے دیا اور بیٹا بھی ایسا فرمانبردار جیسے فرزند ابراہیمی کی صحبت پائی ہو۔ ہم خوش تھے کہ بڑھاپے کا سہارا ہے اب پوتے پوتیاں ہونگے کہ اللہ کا حکم آگیا اور ہم پھر تنہا ہوگئے۔

    اسکے حکم بڑے ڈاڈھے ہیں۔ ماننے پڑتے ہیں۔ اسکے راز وہ ہی جانتا ہے۔ ہم اسکی رضا میں خوش ہیں۔ سوچتے ہیں وہ اولاد دیتا بھی نہ تو ہم کیا کر سکتے تھے۔ اسنے اولاد دی اور ایک وقت مقررہ تک اسے زندگی بھی دی۔ ہم بھی اپنی زندگی پوری کریں گے اور وہاں پھر اپنے بیٹے سے مل لیں گے۔ جہاں ہم پھر کبھی بھی جدا نہ ہو سکیں گے۔ کہ غیب کی باتیں اور حکمتیں تو وہی جانتا ہے۔ ہم سب کا یہاں ایک متعین رول ہے جو پلے کرکے ہم چلے جائیں گے۔ یہی باتیں کرتے ہم سو گئے صبح اٹھ کر میں سکول آگیا اس وعدے کے ساتھ کہ مہینے میں ایک بار ضرور ملنے آیا کروں گا۔

    کہیں سے بھی ملنے والے دکھ درد تکلیفیں اور حادثے زندگی کا لازمی حصہ ہیں یارو۔ زندگی وہ ہر گز نہیں ہے جو ہم سوچتے ہیں بلکہ وہ ہے جو ہمارے ساتھ پیش آتا ہے۔ مگر زندہ تو رہنا ہوتا ہے اور یہی زندگی کی حیثیت اور حقیقت ہے۔ آج غم ہیں تو خوشی ضرور آئے گی اور کبھی خوشیوں کو اچانک سے غم بھی آلے گا۔ بس ہمیں چلتے رہنا ہوتا اور اپنا ایک متعین سفر جاری رکھنا ہوتا۔

  • شیخ زید ہسپتال رحیمیارخان اور پریشان مریض — عبدالقدیر رامے

    شیخ زید ہسپتال رحیمیارخان اور پریشان مریض — عبدالقدیر رامے

    پچھلے پانچ دن سے چھوٹی بہن شیخ زید ہسپتال رحیمیارخان میں داخل ہیں ڈلیوری کیس تھا پلیٹ لیس کم ہونے کی وجہ سے طبیعت خراب ہو گئی تھی ان کا علاج چل رہا ہے.

    ہسپتال کے حالات یہ ہیں کہ زچہ بچہ وارڈ میں ایک بیڈ پر دو سے تین مریض موجود ہیں. رات بچے کی پیدائش ہوئی تو اسے بھی فوراً نومولود بچوں کی وارڈ میں داخل کروانا پڑا.

    وہاں بچوں کو جنگلہ نما ٹوکری میں ڈالا جاتا ہے ایک ٹوکری میں ایک بچے کی گنجائش تھی لیکن وہاں بھی دو دو بچے ایک ٹوکری میں موجود ہیں.

    بچوں کے ورثاء کو وہاں رکنے کی اجازت نہیں ہے. وہ وارڈ کے دونوں دروازوں پر پہرہ لگا کر پورا دن اور پوری رات کھڑے ہوتے ہیں کہ بچہ اغواء نہ ہو جائے. کیونکہ ایسے واقعات سرکاری ہسپتالوں میں ہو چکے ہیں.

    اس کے علاوہ سنیں.. یہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہے اور اکلوتا اکلوتا میڈیکل کالج صرف یہی ہے لیکن سرکاری کاغذات میں اس کا سٹیٹس نیم سرکاری ہسپتال کا ہے یہاں پر اِن ڈور میں ایڈمٹ مریضوں کی ادویات بھی جیب سے خرید کر دینا پڑتی ہیں. یعنی کہ بس مریض کا چیک اپ اور رہائش فری ہے علاج کے پیسے لگتے ہیں یہاں پر ضلع رحیمیارخان کے علاوہ ضلع راجن پور اور ضلع گھوٹکی سندھ تک کے مریض آتے ہیں.

    اب دوست کہیں گے کہ یار تم لوگ صحت کارڈ پر پرائیویٹ علاج کیوں نہیں کرواتے؟ تو عرض یہ ہے کہ یہاں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں جدید مشینری ہی موجود نہیں جس کی ضرورت انتہائی نگہداشت کے مریضوں کیلئے پڑتی ہے اسلیے وہ سیریئس مریض کو دیکھ کر پہلے ہی ہاتھ کھڑے دیتے ہیں کہ بھائی اسے رحیمیارخان لے جاؤ..

    ہم بھی پہلے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں گئے تھے لیکن وہاں سے ریفر کیا گیا.

    ہمارے مریض کے بارے میں ڈاکٹر کا اندازہ تھا کہ بچے کو پیدائش کے بعد کچھ وقت کیلئے شیشے میں رکھنا پڑے گا اسلیے ہمیں جانا پڑا..

    تعلقات کی بناء پر کہیں سے سفارش کروا کر ماں اور بچے کو اکیلے اکیلے بیڈ دلوا سکتے تھے لیکن وہ بھی نہیں کیا کہ اس بیڈ سے جس مریض کو منتقل کیا جائے گا وہاں مریض زیادہ ہو جائیں گے ان بیچاروں کی زندگی مزید تنگ ہو جائے گی اس لیے اس بھی گریز کیا..

    اس کے علاوہ اس ہسپتال کے فضائل سناؤں تو آپ عش عش کر اٹھیں گے.. یہاں پر ایم آر آئی اور سی ٹی سکین کروانے کیلئے تین مہینے کا انتظار کرنا پڑتا ہے البتہ یہ نیم سرکاری ہسپتال ہے تو آپ انہیں کیش پر کرنے کا بولیں تو ایم آر آئی فوراً ہو جائے گا.

    سی ٹی سکین والی مشین یہاں اکثر خراب رہتی ہے کیونکہ سی ٹی سکین والے کھاتے کے انچارج ڈاکٹر صاحب کا اپنا کلینک ہسپتال کے بالکل سامنے ہے وہ کروڑوں روپے خرچ کرکے وہاں مشینیں لائے تھے اب سب کا سی ٹی سکین سرکاری ہسپتال میں کریں گے تو انہیں کروڑوں روپے خرچ کرنے کا کیا فائدہ ہو گا.. اس لیے اس نیم سرکاری ہسپتال کی مشینری اکثر خراب رہتی ہے ٹھیک کرنے کیلئے باقاعدہ ٹینڈر نکلتا ہے..

    ان حالات میں مجھ سے کوئی پوچھے کہ نئے آنے والوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گے تو میرا پیغام یہی ہے کہ نئے پیدا ہونے والے نہ آئیں تو ہی بہتر ہے.. یہاں حالات بالکل بھی ٹھیک نہیں ہیں.

  • میرا عبدل ایسا نہیں ہے!!! — سیدرا صدف

    میرا عبدل ایسا نہیں ہے!!! — سیدرا صدف

    امین پونے والا اور شردھا والکر (ہندو) ممبئی میں ملے۔۔۔نزدیکیاں بڑھیں۔۔شردھا اپنے والدین کی ناراضی کی پرواہ کیے بنا امین کے ساتھ دہلی لیو ان ریلیشن میں آ گئیں۔۔شردھا کی جانب سے شادی کے دباؤ کے بعد لڑائیاں ہونے لگیں۔۔امین نے شردھا کو قتل کیا اور اسکے جسم کے 35 ٹکرے کر کے فریج میں محفوظ کرنے کے بعد مرحلہ وار دہلی کی مختلف علاقوں میں پھینک دیے۔۔۔امین کا تعلق مزید لڑکیوں سے بتایا بھی بتایا جا رہا ہے۔۔۔یہ سب معلومات امین کی گرفتاری کے بعد پولیس کی طرف سے جاری کی گئی ہیں۔۔۔

    یہ کیس ایک بنیادی معاشرتی مسئلے کا نتیجہ ہے۔۔امین کردار سے عاری انسان ہے جس میں اسکا مذہب ثانوی اہمیت کا حامل ہے۔۔۔دوسری جانب شردھا کا کسی نوجوان لڑکی کی طرح صرف "محبت” کی خاطر سب کشتیاں جلا دینا اس میں بھی مذہب مدعا نہیں ہے۔۔۔۔

    امین کو پارسی مذہب سے تعلق رکھنے کا بھی کہا جا رہا ہے۔۔لیکن درج ایف آئی آر میں بطور مسلمان نامزد کیا گیا ہے۔۔۔۔اہم یہ ہے کہ کرمینل ذہنیت کے حامل افراد مذہب کے تناظر میں جرم نہیں کرتے ہیں۔۔۔امین اگر اچھا مسلمان ہوتا تو کیا کسی غیر مسلمان خاتون کی والدین کے خلاف جانے پر حوصلہ افزائی کرتا۔۔۔کیا بنا نکاح تعلقات قائم کرتا۔۔۔کیا نکاح سے پہلے مسلمان یا اہل کتاب عورت کی شرط کا خیال نہ رکھتا۔۔؟؟یقیناً نہیں امین کا کردار بتاتا ہے کہ اس کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔۔۔

    لیکن اس جرم کو "مسلمان” اور "دین” سے جوڑ دیا گیا ہے۔۔سوشل ,پرنٹ اور الیکٹرونک بھارتی میڈیا پر ہندو انتہا پسند لابی "میرا عبدل ایسا نہیں ہے” یعنی ہر عبدل(مسلمان) نوجوان ایک جیسا ہے اور "لو جہاد” یعنی محبت کے نام پر ہندو لڑکیوں کو ٹریپ کرنا جہاد ہے ٹرینڈ چلا رہی ہے۔۔۔بنیادی طور پر لفظ "عبداللہ” پر ہی اٹیک کیا گیا جسے کچھ لبادے میں رکھنے کو عبدل کر دیا گیا ہے۔۔

    بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کے روزانہ ہزاروں کیسز درج ہوتے ہیں کیا سب کی بنیاد مذہب ہے۔۔۔دہلی ریپ کیس کے ملزمان مسلمان تھے کیا۔۔۔دلت لڑکیوں کو اٹھا کر زیادتی کے بعد درختوں پر لٹکانے والے اونچی ذات کے ہندوؤں کے جرائم کے بعد "رام” یا "ارجن” کو طنز کا نشانہ کیوں نہیں بنایا جاتا ہے۔۔۔؟

    دین, عبداللہ,جہاد اور مسلمان پر طنز و تضحیک بارڈر پار میرے لیے تکلیف کا باعث ہے کیونکہ کسی شخص کے انفرادی جرم کو اللہ اور دین سے جوڑا جا رہا ہے۔۔۔وہ بھارتی نمایاں مسلمان شخصیات جوکہ اپنے "دیش بھگت” ہونے ثبوت پاکستان سے الجھ کر دیتے ہیں۔۔کیا "دین بھگت” ہونے کا ثبوت بھی باطل سے الجھ کر دیں گے۔۔؟ اور کب دیں گے۔۔۔ہمیں تو ہر معاملے میں اپنی تعداد بتاتے ہیں کہ ہم پاکستانیوں سے زیادہ ہیں۔۔۔باطل قوتوں کو کب بتائیں گے۔۔۔۔؟