مکہ مکرمہ:برصغیر پاک و ہند کے مایہ ناز عالمِ دین اور محقق علامہ عزیر شمس حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے انتقال کرگئے ۔برصغیر پاک و ہند کے علمی حلقوں میں شیخ محمد عزیر شمس کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ ایک بلند پایہ مصنف اور محقق تھے۔ اردو اور عربی زبان میں اب تک آپ کی متعدد تحقیقات اور مقالات و مضامین منظر عام پر آچکے ہیں۔شیخ عزیز شمس کی پیدایش دسمبر 1956ء میں مغربی بنگال (بندوستان) کے ضلع "مرشد آباد” کے علاقے "صالح ڈانگہ میں ہوئی جہاں آپ کے والد اور اپنے عہد کے جلیل القدر عالم مولانا شمس الحق سلفی مرحوم ایک دینی ادارے میں یہ سلسلہ تدریس مقیم تھے۔ آپ نے حصول علم کا آغاز مدرسہ فیض عام مئو سے کیا اور بعد ازاں ہندوستان کے نامور اداروں: دار العلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ بہار، جامعہ رحمانیہ بنارس، جامعہ سلفیہ بنارس میں طلب علم میں مشغول رہے اور 1976ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ چلے گئے اور چار سال تک عربی زبان و ادب میں تخصص کا کورس کیا۔ 1985ء میں جامعہ ام القری مکہ مکرمہ سے ایم فل کیا اور حالی کی تنقید اور شاعری پر عربی اثرات“کے عنوان سے مقالہ لکھا۔ بعد ازیں اسی جامعہ سے پی۔ ایچ۔ ڈی کرنے کا تہیہ کیا اور مطالعہ“ کے موضوع پر اپنا تھیسس مکمل کیا۔شیخ عزیر شمس ان تعلیمی مراحل کی تکمیل کے بعد واپس ہندوستان چلے گئے، لیکن کچھ عرصہ بعد الله تعالی نے دوبارہ ارض حرمین میں قیام کا راستہ پیدا کر دیا، اور فروری 1999ء میں مکہ مکرمہ واپس آگئے جہاں آپ نے کئی علمی اداروں سے منسلک ہو کر کام کیا جن میں جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ، مجمع الملک فہد مدینہ منورہ اور اسلامی فقہ اکیڈمی جدہ شامل ہیں۔ آپ 1999ء ہی سے مستقل طور پر مکہ مکرمہ کے مشہور علمی و تحقیقی ادارے "دار عالم الفوائد سے بھی وابستہ رہے جس میں آپ نے امام ابن تیمیہ، امام ابن قیم اور علامہ معلمی کی بہت سی کتابوں کی تحقیق و تدوین کے فرائض سر انجام دیے ۔شیخ محمد عزیر شمس نے تحریر و نگارش کا آغاز اردو مضمون نگاری سے کیا اور اپنا پہلا مضمون "مولانا شمس الحق عظیم آبادی کے عنوان سے علامہ عظیم آبادی کی سیرت و خدمات سے متعلق لکھا۔ شیخ عزیز شمس نے امام ابن تیمیہ سمیت کئی محدثین پر کام کیا اور کثیر تعداد میں کتب تصنیف کیں ، بلاشبہ اس ’شمس’ کی وفات سے علم و تحقیق کا ایک ’آفتاب’ غروب ہوگیا.شیخ محمد عزیر شمس کی نماز جنازہ حرم مکی میں فجر کی نماز کے بعد سوموار کے دن ادا کی جائے گی، اور تدفین معلیٰ قبرستان میں ہوگی۔
Category: متفرق

باتونی انسان اس حکمت سے محروم ہو جاتا ہے!!! — ریاض علی خٹک
ایک فاسٹ باؤلر اپنا ہاتھ گھما کر ڈیڑھ سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرا سکتا ہے. کیا ہر شخص اس رفتار سے گیند پھینک سکتا ہے.؟ اسکا جواب نہیں ہے. لیکن ایک جیسے انسانوں میں ایک جیسے ہاتھ ہوتے رفتار کا یہ فرق کیسے آیا.؟ تو اسکا جواب یادداشت ہے.
ہمارے مسلز کی بھی اپنی ایک یادداشت ہوتی ہے. جب ہم روزانہ کچھ مسلز سے بار بار ایک ہی طرح کام لینا شروع کر دیں تو دماغ اس کی مکینکس سیٹ کرنے لگتا ہے. ہماری تربیت ہماری مستقل مزاجی اور توانائی اس مکینکس کو بہتر سے بہترین کی طرف لے جانا شروع کر دیتی ہے. اور ہمارے muscles عام لوگوں سے منفرد ہوجاتے ہیں.
مسلز کی ہر یادداشت کو طاقت نیند دیتی ہے. جب ہم سوتے ہیں تو دماغ اپنے بہت سے کاموں میں سے ایک یہ کام بھی کرتا ہے. یعنی ہماری یادداشت بہترین کرتا ہے. اس لئے اچھی نیند فوکس یادداشت اور قوت مدافعت کیلئے بہت اہم ہوتی ہے. خاموشی حکمت یعنی wisdom کی نیند ہے. جب ہم کم بولتے ہیں تو ہمارا دماغ ہمیں فوکس تجزیہ اور سوچے سمجھے انتخاب کا وقت دیتا ہے جسے ہم حکمت کہتے ہیں.
باتونی انسان اس حکمت سے محروم ہو جاتا ہے. پھر اس کی زبان وہ باولر بن جاتی ہے جس کے پاس رفتار اور سٹیمنا تو بہت ہوتا ہے لیکن نہ اس کی لائن ٹھیک ہوتی ہے نہ لینتھ بس وہ گیندیں پھینک رہا ہوتا ہے اور سننے والے سر پکڑ کر بیٹھے ہوتے ہیں.

صفر ایکشن لیا گیا ہے اور لیا جائے گا!!! — ضیغم قدیر
لاہور اور کراچی دنیا کے بڑے انڈسٹریل شہر ہونے کے بغیر بھی دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ شہر ہیں۔
وجوہات؟
نئی ماحول دوست مشینری کی بجائے پرانی فاسل فیول پہ چلنے والی مشینری، اور یہ مشینری بھی موسٹلی ترقی یافتہ ممالک سے سکریپ کے معاہدوں کے بعد یہاں آتی ہے۔
نئی گاڑیوں کی بجائے پرانے سٹینڈرڈ پہ بنی نئی یا دہائیاں پرانی امپورٹڈ گاڑیاں جو کہ زہریلی گیسز خارج کرنے کا بہت بڑا سبب ہیں اور ان گاڑیوں کی ہیلتھ فٹنس چیک اپ نا ہونا، آپ لاہور کسی بھی جگہ چلے جائیں اگر آپ کو اپنے سامنے کوئی دھوئیں والی گاڑی یا رکشہ نا ملے تو سمجھ جائیں لاہور نہیں ہیں۔
بے ہنگم آبادی جس میں سبزہ نا ہونے کے برابر ہے۔ سڑک کے گرد لگے پودے اتنے مفید کبھی نہیں ہو سکتے جتنے گھروں میں یا شہر سے باہر جنگل کی صورت میں ہو سکتے ہیں۔
ان سب وجوہات کی بنیادی وجہ پچھلی پوسٹ میں لکھی ہے۔ دہراتا چلوں کہ ہماری حکومتیں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر اتنا زیادہ ٹیکس لگا چکی ہیں کہ ہم مجبوراً بیس سے تیس سال پرانی ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے اپنے ماحول کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں۔
اگر لاہور اور کراچی میں سے اوپر والے دونوں فیکٹرز کو ہٹا کر سستی بجلی پر چلنے والے کارخانے ہوں اور ان کیساتھ ساتھ گاڑیوں کی ریگولیشن کرکے 2000 سے پرانی تمام گاڑیاں اور تمام سستے موبل آئلز پہ چلنے والے رکشے بند کر دئیے جائیں تو یہ شہر دو سے تین سالوں میں فضائی آلودگی میں نیچے آ جائیں گے۔
وہیں ان شہروں میں انڈسٹریل ویسٹ کی مینجمنٹ کا بھی کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ یہاں کے کوالٹی کنٹرول آفیسرز کی سی وی میں ایم ایس انوائرمینٹل انجینرنگ کی ڈگری تو ہے مگر ہر مہینے سٹیل ملز اور پلاسٹک مینوفکرچنگ یونٹس سے آئے چیک ان کو آرام سے بیٹھنے دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آپ صبح پانچ سے دن کے بارہ تک رنگ روڈ، جی ٹی روڈ اور موٹروے پر حد سے زیادہ سموگ دیکھیں گے جو کہ ان سڑکوں کے اطرف میں موجود کارخانوں کی چمنیوں کی دین ہے۔
حالانکہ کسی بھی مہذب ملک میں بلکہ ہمارے ملک کے قانون میں بھی ایسے کارخانے یا تو شہر سے باہر لگانے کا حکم ہے یا ان کی چمنیوں سے دھواں نکلنے سے پہلے اس کو فلٹر کرنا ضروری ہوتا ہے۔
اسی لئے
آپ کبھی اسلام آباد یا ٹیکسیلا آئیں، اتنی ہیوی انڈسٹری میں نے لاہور نہیں دیکھی جتنی وہاں ہے مگر پالیوشن نا ہونے کے برابر ہے کیونکہ ریگولیشن اچھی ہو رہی ہے۔
اس وقت ہمارے ملک میں زیر استعمال مشنری کو اپ گریڈ کرنے کی اشد ضرورت ہے اور اپ گریڈ کا مطلب یہ نہیں کہ چائینہ یا جرمنی سے متروک انڈسٹریل مشینری لائی جائے بلکہ جدید ماحولیاتی سٹینڈرڈ پر مشینری یہاں بنائی جائے مگر ایسے کاموں پہ ٹیکس اتنے ہیں کہ لوگ سوچنے سے پہلے توبہ پڑھتے ہیں اور پھر دہائیوں پرانی انڈسٹریل اور آٹوموبل مشنری جو کہ ماحولیاتی آلودگی پھیلاتی ہے اس کو استعمال کرکے لوگوں کو بیمار کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔
یاد رہے کچھ سال اس آلودگی کی شکایت بھارت نے بھی کی تھی کیونکہ ہمارے ائیر کرنٹ یا پھر ہوائی دباؤ کی وجہ سے یہ آلودگی قریبی بھارتی چہروں کو بھی گندہ کر رہی ہے۔
مگر
Zero actions are taken and will be taken.

میرا بزنس کیا ہے؟ — ریاض علی خٹک
یونیورسٹی آف ٹیکساس سے کاروبار میں ڈگری یافتہ طلباء کی تقریب میں میکڈونلڈ کے مالک رے کروک نے پوچھا تھا بتاو میرا بزنس کیا ہے.؟ اور سب طلباء ہنس پڑے. بھلا میکڈونلڈ کے بزنس کا کس کو پتہ نہیں ہوگا..؟
مارکیٹ بھی ایک ایسی جگہ ہے جہاں جب آپ کسی سے پوچھتے ہیں تمہیں کاروبار کی سمجھ ہے تو اکثریت باقاعدہ ہنس کر کہتی ہے بھلا کاروبار کی سمجھ بھی کوئی مشکل کام ہے.؟ کیونکہ اکثریت کاروبار بس مارکیٹ میں اپنے نام کا بورڈ لگانا سمجھتی ہے. آپ کسی کو سفید کاغذ اور ایک قلم دے کر بولیں اپنی مرضی کا کچھ بھی لکھ دو تو اسی فیصد افراد اپنا نام لکھ لیتے ہیں. وہ نام جسے وہ اپنی پہچان سمجھتے ہیں. وہ نام جو دیا ہی کسی دوسرے نے ہوتا ہے.
اکثریت کاروبار کو بھی ایسا ہی سمجھتی ہے. بس اپنا نام لکھ کر بورڈ مارکیٹ میں لگا دو. کاروبار ساکھ اور پہچان کا نام ضرور ہے. جیسے رے کروک کے سوال پر بزنس کی ڈگریاں لینے والے ہنس دئے. یہ بھی بھلا کوئی سوال ہے.؟ کیونکہ انہوں نے بزنس پڑھ تو لیا تھا عملی میدان میں ابھی سمجھا نہیں تھا. لیکن ساکھ کاروبار سمجھ آنے کے بعد بنتی ہے.
رے کروک یعنی میکڈونلڈ کا بزنس بھی برگر بیچنا نہیں بلکہ رئیل سٹیٹ ہے. یہ زمین لیتا ہے. اسے فرنچائز کر کے کرایہ لیتا ہے. اپنے ہی کرائے دار کو پھر اپنی چیزیں بیچتا ہے. اور جب اس پراپرٹی کی قیمت بہت بڑھ جائے تو اسے بیچ کر کسی دوسری سستی جگہ پھر سلسلہ شروع کر دیتا ہے. آپ کیا سمجھتے ہیں میکڈونلڈ برگر بیچ کر ملٹی نیشنل کمپنی بنی ہے.؟

آدمی کو خود سے ہمیشہ سچ بولنا چاہئے!!! — ریاض علی خٹک
ایک صاحب ریٹائرڈ ہوگئے. اچھا بھلا ریٹائرمنٹ فنڈ ملا. بچے تعلیم کے آخری مراحل میں تھے. کسی نے ان سے پوچھا کہ اب کیا پروگرام ہے. انہوں نے کہا کچھ نہیں اب اللہ اللہ کریں گے. پوچھنے والے نے کہا ایسے تو سارا فنڈ آپ گھر بیٹھ کر کھا جائیں گے. کسی کاروبار کی سوچ لیں. ان صاحب نے کہا بھائی مجھے کاروبار کی نہ سمجھ نہ تجربہ نہ شوق ہے. بجائے اپنا فنڈ مارکیٹ میں دوسروں کو کھلانے سے کیا بہتر نہیں کہ گھر بیٹھ کر خود اور اپنے بچوں کو کھلا دوں.؟
آدمی کو خود سے ہمیشہ سچ بولنا چاہئے. ہماری مارکیٹ میں ہر دوسرے دن ایک نیا ڈبل شاہ نہ صرف پیدا ہوتا ہے بلکہ کامیابی سے سب کو چونا بھی لگاتا ہے کیونکہ ہم خود سے بھی جھوٹ بولتے ہیں. جس مارکیٹ میں دس سے بیس فیصد ریٹرن کیلئے لوگ صبح سے رات تک لڑ رہے ہوتے ہیں ایک بندہ بہت اعتماد سے بتائے گا میں آپ کو پچیس فیصد ریٹرن دوں گا.
ڈبل شاہ ہمیں ایک ایسا لالچ دیتا ہے جس کیلئے پھر ہم خود سے جھوٹ بولنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں. ہمیں ڈبل شاہ دھوکہ نہیں دیتا ہمیں ہمارا لالچ دھوکہ دیتا ہے. مارکیٹ سب کیلئے کھلی ہے خود سے سچ تب ہی ممکن ہوتا ہے جب آپ خود مارکیٹ میں بیٹھ کر اپنے فیصلے کریں. پھر نفع ہوا یا نقصان کم از کم آپ سچے ضرور ہوں گے.

پروفیسر ڈاکٹر جارڈن پیٹرسن — ضیغم قدیر
یہ پروفیسر ڈاکٹر جارڈن پیٹرسن ہیں پچھلے چھ سات سال سے میرے فیورٹ کلینیکل سائیکالوجسٹ ہیں ان سے بہتر میرے خیال سے آج کی تاریخ میں کوئی سائیکالوجسٹ زندہ نہیں ہے۔
انکی زندگی کے متعلق اپروچ حد سے زیادہ مثبت اور حوصلہ افزاء ہے۔ خاص کر انکے پرسنالٹی پر دئیے گئے یونیورسٹی آف ٹورونٹو کے لیکچر کسی بھی سائنس کے طالب علم کو ضروری سننے چاہیں۔ وہیں انکے یہ لیکچر ان لوگوں کے لئے سننا بھی اہم ہیں جو زندگی میں کسی قسم کی ڈپریشن یا پر پریشانی سے گزر رہے ہیں اور ایک استاد کی شکل میں ایگزٹ چاہتے ہیں۔
انکی زندگی کو لے کر چلنے والی اپروچ بہت ہی عمدہ ہے۔ پروفیسر پیٹرسن کا کہنا ہے کہ اپنا خیال ویسے ہی رکھیں جیسا آپ کسی اپنے پیارے کا رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ انکی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر آپ ڈپریشن میں ہیں تو سب سے پہلے اپنا بستر درست کرنا شروع کریں۔ یہ سادہ سی بات ہمیں بہت سی پریشانیوں سے بچا سکتی ہے۔
مختلف شارٹ ویڈیوز میں پیٹرسن کی وجہ شہرت فیمنزم اور پوسٹ ماڈرنزم کے لتے لینے سے ہوئی ہے لیکن ہم جو انہیں ایک دہائی سے سن رہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ پروفیسر سائیکالوجی میں ایک بہت قابل نام ہیں اور انہوں نے خود آگاہی پہ جو کام کیا ہے وہ قابل دید ہے۔
یوٹیوب پہ ایک مشہور سلیبرٹی ہونیکے ساتھ ساتھ یہ ایک جید سائنسدان ہیں جس کی سائٹیشنز کی تعداد بیس ہزار اور ایچ انڈیکس 57 ہے مطلب وہ ایک قابل سائنسدان بھی ہیں۔
انسانی پرسنالٹی کے بارے میں انکی تمام باتیں سائنسی حقائق پہ مبنی ہیں اور اگر آپ کسی قسم کی ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہیں تو آپ کو انہیں سننا چاہیے یہ آپ کو منجدھار سے نکال باہر لائیں گے۔
جہاں البرٹ ایلس جیسے سائیکالوجسٹس نے ہمیں فرائیڈ کے نظریات سے نکال کر جدید سائیکالوجی سے متعارف کروایا اور CBT جیسی تکنیک متعارف کروائی وہیں پیٹرسن نے البرٹ ایلس سے آگے جاکر سائیکالوجی میں ارتقائی علم کے استعمال کیساتھ ساتھ سینٹ فوکالٹ کے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کنٹرول کرکے پوسٹ ماڈرن نظریات سے نوجوان نسل کے ذہن پراگندہ کرنے کے ایجنڈے کو ناکام بنایا ہے۔ جس کا مقصد نئی نسل کے ذہن سے اقدار کو ختم کرنا ہے مگر پیٹرسن جیسی مزاحمتی آواز نے اس ایجنڈے کو پورا ہونے سے روک رکھا ہے اور یہ انکی انسانیت کے لئے کی گئی سب سے بڑی نیکی ہے۔

زندوں کی قدر و منزلت کریں!!! — ضیغم قدیر
کسی کی تعریف کرنے کے لئے ضروری نہیں کہ اسکے مرنے یا جُدا کا انتظار کیا جائے۔
ایک بار پروفیسر جارڈرن پیٹرسن اس بات پہ رو پڑے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور وہ اس احساس میں مبتلا تھا کہ اس میں کسی چیز کی کمی ہے شائد اسی وجہ سے اس کی کوئی تعریف نہیں کرتا۔ بدلے میں پیٹرسن نے اسکی تعریف کی تو وہ شخص بلک بلک رویا۔ لوگ تعریف سننے کو ترستے یہاں فوت ہوجاتے ہیں۔
ہمارا بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ اگلے کی تعریف کرنے سے وہ شخص ان کے ساتھ اپنا برتاؤ بدل دے گا۔
زیادہ تر گھریلو جھگڑوں کو آپ دیکھ لیں چاہے لو میرج ہو یا ارینج، شادی کے کچھ سالوں بعد لڑائیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ کیوں؟
کیونکہ دونوں ایکدوسرے کو پہلے کی طرح نہیں سراہتے ۔
بہت سے انسانوں کو یہ قدرتی عادت ہوتی ہے کہ وہ خوشی کے موقعے پہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ سائیکالوجیکلی اس مظہر کی کئی وجوہات ہوتی ہیں زیادہ تر بچپن کی احساس محرومیاں۔مگر یہ بات کسی بھی رشتے میں محبت کو کم کرنے کے لئے کافی سے بھی زیادہ ثابت ہوتی ہے۔
بقول کچھ سائیکالوجسٹس ہم ایسے تعریف نا کرکے کسی کو خود اپنی ذات سے نفرت کرنا سکھا دیتے ہیں ۔ وہ لوگ یہ سمجھنا شروع ہوجاتے ہیں کہ ان میں کچھ قابل تعریف ہے ہی نہیں۔
ہمارے معاشرے میں تو تعریف کا اسٹینڈرڈ ہی کافی گھٹیا ہے۔ اگر کسی کو کوئی پیارا لگ رہا ہو تو بجائے اس کی تعریف میں دو بول بولنے کے وہ اس پر کوئی تھرڈ کلاس جگت لگا دیتا ہے۔ جس پر اگلا بندہ شرمندہ شرمندہ سا ہوجاتا ہے۔
بظاہر یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں۔ مگر یہ کلیئر کٹ ہے کہ کوئی بھی آپ کے دل کی بات نہیں جانتا۔ اگر آپ کسی کو یاد کر رہے ہیں تو آپ کو اگلے کو بتانا ہوگا۔ اگر کسی کو پیار کرتے ہیں تو اظہار کرنا ہوگا۔ سنا تھا کہ خدا بھی اظہار کے بغیر خود سے کی گئی محبت قبول نا کرے اور یہ بات بجا ہے۔
اسی طرح کسی کی قبر کو آپ کی تعریف کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ کسی کی غیر موجودگی کو آپ کی تعریف کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر آپ اسکے سامنے ہوتے ہوئے اس کی دل آزاری کرتے ہیں تو آپ اسکی غیر موجودگی میں چاہے اس شخص کو حاتم طائی ثابت کردیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ہاں
ضرورت ہوتی ہے تو اس وقت جب وہ پاس ہوتا ہے۔ جب وہ چلا جاتا ہے تب آپ کا کچھ بھی اس تک نہیں پہنچتا۔ انفرادی طور پہ اس عادت کو ضرور اپنائیں۔ کبھی کبھار کی تعریف کرنا سیکھیں۔
خاص کر اپنے بچوں کی تعریف کرنا شروع کریں۔ اس نے گنتی لکھنا شروع کی تو ایک چاکلیٹ لا دیں۔ چاہے پانچ والی لا کر دیں دیکھ لیجیے گا اگلی بار وہ نیا ٹاسک جلدی سیکھے گا ۔ بچوں میں ٹاسک پہ خوش ہونا بہت کامن ہوتا ہے اگر آپ ان میں موجود ریوارڈ سسٹم کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو انہیں گفٹ دینا سیکھیں۔
اپنے ملازم کی تعریف کریں۔ تعریف میں چار پیسے زیادہ دیں۔ اگلی بار دیکھیے گا کہ کیسے وہ ڈیڑھ بندوں کا کام اکیلا انجام دیتا ہے۔ کیونکہ تعریف ایک مثبت پرفارمنس بوسٹر ہے۔
اپنے فیورٹ شخص کی تعریف کریں۔ اگلی بار دیکھیئے گا کہ کیسے وہ آپ سے اپنا پیار دو سے تین گنا کرتا ہے۔ یہ ایک واہمہ ہی ہے کہ اگر آپ اپنے پسندیدہ شخص کی تعریف کریں گے تو وہ بگڑ جائے گا یا آپ کی قدر کرنا چھوڑ دے گا بلکہ اگر وہ قدر دان ہوا تو وہ آپ کی پہلے سے زیادہ قدر کرنے لگ جائے گا سو اپنے فیورٹ شخص کی تعریف کرنا شروع کریں یہ عادت آپکے رشتے کو مضبوط بنا دے گی۔
بس ایک بار ٹرائی کرکے دیکھیئے گا۔ کیونکہ ہم میں سے ہر کوئی اس احساس محرومی میں جی رہا ہوتا ہے کہ اس کو کوئی اپنا کبھی نہیں سراہتا جو کہ نہایت ہی غلط بات ہے۔

آر یا پار—عمر یوسف
سیاست میں استحکام نہ آنے کا دکھ تو ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ زیادہ افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ وطن عزیز کے قیام کو ستر سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن سیاسی استحکام میں ترقی کی بجائے تنزلی کا رجحان تیز سے تیز ہوتا جارہا ہے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ وطن عزیز دیگر بہت سے ممالک کی نسبت وسائل کی بہتات کے باوجود وہ مقام حاصل نہیں کرپایا جس کا یہ مستحق تھا جبکہ دیگر کم وسائل کے حامل ممالک آج کسی نہ کسی مقام پر کھڑے ہیں ۔
یہاں بہت سے دانشور متعدد وجویات کی تفصیلی گفتگو کرسکتے ہیں لیکن یہ گفتگو ظاہری نوعیت کی ہوگی ۔ جبکہ ان ظواہر کے پیچھے بھی اسباب کار فرما ہیں جو ان ظواہر کے وقوع کا سبب بنے ہیں ۔
ان خفیہ اور پوشیدہ اسباب کو ایک منطقی اور فلسفی سوچ و فکر کا حامل شخص مابعد الطبیعیات کی بنیاد پر ہی پہچان سکتا ہے ۔ کہ وہ اسباب خدائی اصولوں پر مبنی ہیں ۔
ابتدائے آفرینش سے ہی خدائے بزرگ و برتر نے اس چیز کا فیصلہ فرما دیا کہ دو گروہ ہونگے جن میں سے ایک کو خدائی اور دوسرے کو غیر خدائی گروہ سے منقسم کیا جاسکتا ہے ۔ ان دونوں کے بارے اصول و ضوابط طے کردیے گئے ہیں کہ کامیابی و کامرانی یا حصول سہولت و آسائش کا معیار کیا ہوگا ۔
خدا نے غیر خدائی گروہ کو دنیوی زیب و زیبائش اور آسانیوں سے نواز کر یہ فیصلہ کیا کہ یہ اپنی سرکشی میں بڑھتے رہیں اور مہلت کا وقت گزارتے رہیں لیکن اگر اسی حالت میں روح قفس عنصری کے سپرد کرتے ہیں تو ان کا انجام بھیانک و خوفناک ہوگا ۔
اس کے برعکس خدائی گروہ کو خدا کی فوج میں مجبور کرکے شامل نہیں کیا جاتا ۔ جو شامل ہوتا ہے اپنی مرضی سے ہوتا ہے لیکن اس گروہ میں شامل ہونے کے بعد اس اصول و ضوابط کا کاربند ہونا پڑے گا اگر ایسا نہیں ہوتا تو نتیجہ ذلت و رسوائی کے علاوہ کچھ نئی نکلتا اور وائے ناکامی کی صدائیں لگاتا انسان ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے ۔
یہاں ایک ہی صورت کامیابی ہے اور وہ خدا کی مرضی کے مطابق چلنے میں ہے ۔
اس حقیقت کو تاریخ کے حادثات سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے ۔
وطن عزیز کو بھی اس معیار پر حاصل کیا گیا کہ یہ ایک خدائی مملکت ہوگی جس میں نظام حیات خدائی اصولوں پر مبنی ہوگا اور نظام سیاست شرعی اصولوں کے کاربند ہوگا ۔
خدائی گروہ میں شمولیت کے دعوی کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ خدائی اصول اپنائے جائیں لیکن اس کے برعکس نظام حیات و سیاست کی بنیاد غیر اسلامی قوانین پر استوار ہوئی اور نتیجہ سب کے سامنے ہے ۔
انسان بحیثیت مجموعی و انفرادی یہ کرسکتا ہے کہ یا تو وہ کامیابیوں کے حصول کے لیے خدائی اصولوں کا کاربند ہوکر آر ہوجائے یا پھر ان سے پہلو تہی کرتے ہوئے پار ہوجائے اور آخرت کو برباد کرلے ۔

” رویہ بدلنا ہوگا ” — عبدالحفیظ چنیوٹی
صالح اولاد اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے،والدین کی اولاد پر بہت سی ذمہ داریاں ہیں جن میں سب سے اہم ان کی اچھی اور صالح تربیت کرنا ہے تاکہ وہ معاشرے کے بہترین فرد بن سکیں۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے!اے ایمان والوں اپنے آپ کواور اپنے اہل و عیال کو (جہنم) سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں
(سورۃ التحریم آیت نمبر ۶)اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں ہر کوئی نگراں ہے اور ہرکوئی اپنی رعیت کے متعلق جواب دہ ہے اور آدمی اپنے گھر کا ذمہ دار ہے اس سے اس کی رعیت کے متعلق باز پرس ہوگی:۔(صحیح بخاری وصحیح مسلم)
اولاد والدین کے لئے امانت ہے اور قیامت کے دن وہ اپنی اولاد کے متعلق جواب دہ ہونگے۔اگر انہوں نے اپنی اولاد کی تربیت اسلامی انداز سے کی ہوگی تووہ والدین کے لئے دنیا و آخرت میں باعث راحت ہوگی۔
صحیح مسلم کی روایت ہے کہ ’’جب بندہ مر جاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہوجاتا ہے مگر تین عمل باقی رہتے ہیں (۱)صدقہ جاریہ(۲)ایساعلم کہ لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں(۳)
صالح اولاد جو ان کے لئے دعا کرتی رہے۔‘‘
یہ اولاد کی تربیت کا ثمرہ ہے جب ان کی صالح تربیت کی جائیگی تو وہ والدین کے لئے ان کی زندگی میں بھی فائدہ مند ہوتی ہے اور ان کی وفات کے بعد بھی۔
والدین اس دنیا میں وہ ہستیاں ہوتی ہیں جو ہر حال میں اپنی اولاد کا ساتھ دیتی ہیں۔ والدین کا مثبت رویہ اولاد کو بنا بھی سکتا ہے اور منفی رویہ تباہ بھی کر سکتا ہے۔
ہمارے ہاں اکثر والدین over possessive ہو جاتے ہیں جو بچے کی شخصيت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔ مطلب بچوں کی حد سے ذیادہ فکر کرنا, ہر وقت ساتھ رکھنا, اور بچوں کا ہر فیصلہ خود کرنا اور یہ کہنا کہ "ہم بہتر سمجھتے ہیں بچے کبھی خود صحیح فیصلہ نہیں کر سکتے”۔ یہ رویہ بچوں میں قوت فیصلہ, اچھائی و برائی کا فرق, اور سب سے بڑھ کر اپنی سوچ کو ختم کر دیتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اکثر والدین یہ سب اتنے پیار اور محبت سے کرتے ہیں کہ بچے سمجھ ہی نہیں پاتے کہ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ انھیں ہمیشہ والدین درست لگتے ہیں۔ اور اگر ذرا بھی یہ بچے بڑا ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو مان اور بھروسہ ان کے قدموں کی زنجیریں ثابت ہوتے ہیں۔ اور اگر اچانک کوئی مصیبت آجائے تو یہ بچے بلکل سنبھل نہیں پاتے اور نا ہی کوئی حکمت عملی طے کر سکتے ہیں۔
کچھ والدین اپنی اولاد کے ساتھ بہت سخت گیر ہوتے ہیں۔ وہ سب کچھ اپنے ہاتھ میں رکھنے کے قائل ہوتے ہیں۔ وقت دینا, ساتھ بیٹھنا تو دور کی بات ہے وہ ہمیشہ سخت رویہ اپنائے رکھتے ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ بچوں کو ڈرا کر ہی قابو کیا جا سکتا ہے نہیں تو یہ سر پر چڑھ جاتے ہیں۔ ایسے والدین اپنے بچوں کا اعتماد, کچھ کرنے کی لگن, اور شخصیت کو مسخ کر دیتے ہیں۔ بچوں کا ڈر انھیں صرف ” جی ٹھیک ہے” کہنے کا عادی بنا دیتا ہے۔ مطلب وہ اس احکامات ماننے والے بن جاتے ہیں۔ بوقت مصیبت یہ بچے بھی اکثر حوصلہ کھو بیٹھتے ہیں۔ یہ کبھی اکثر وہ چھوڑ دیتے جو یہ چاہتے ہیں چاہے وہ کھلونے ہوں, کیریر ہو یا شادی کا فیصلہ یہ بچے وہی کرتے ہیں جو بڑے چاہتے ہیں۔ ان کا ڈر کبھی ان کی چھپی صلاحيتوں کو نکھرنے نہیں دیتا۔ یہ بچے اپنی کامیابی بھی اپنی والدین کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
تیسرے نمبر پر وہ والدین آتے ہیں جو بہت لاپروہ ہوتے ہیں یعنی "Ignorant ” ۔ یہ والدین بچوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کی زندگی میں ان کا ہونا نا ہونا برابر ہوتا ہے۔ وہ نا تو کبھی پیار سے پیش آتے ہیں اور نا ہی غصے سے۔ یہ والدین بھی بچوں کو ڈیمج کر دیتے ہیں۔ کیونکہ بچوں کی شخصيت سازی میں والدین کا بہت قلیدی کردار ہوتا ہے۔ ایسے بچے اکثر نشے کے عادی بن جاتے ہیں۔ لاپرواہی اور غیر سنجیدگی ان کی نمایاں صفات بن جاتی ہیں۔ کچھ بچے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے لئے بچپن میں ہی بڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کی ضروریات زندگی اور تربیت اپنے سر لے کر وہ اپنی عمر سے بڑے ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ ہوتے بہت کم ہیں۔
چوتھے نمبر وہ والدین آتے ہیں جو آئیڈیل ہوتے ہیں۔ یہ والدین اپنے بچوں سے پیار بھی کرتے ہیں اور حالات کے مطابق سختی بھی۔ یہ والدین اپنے بچوں کی بہترین تربیت کرتے ہیں جو ان شخصيت کو نکھار دیتی ہے۔ یہ بچے با اعتماد, با ہمت, اور بہترین فیصلہ ساز ہوتے ہیں۔ یہ اپنے کیریر اور زندگی کے بارے میں مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ یہ اپنی راہیں اور منزلوں کا تعین خود کرتے ہیں۔ یہ معاشرے کی تعمير و ترقی میں قلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ فیصلہ سازی, منصوبہ بندی, لیڈرشپ اور ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے میں یہ بچے بہتر ہوتے ہیں۔

ناگ فروش — ستونت کور
1911 میں تاجِ برطانیہ نے ہندوستان میں اپنی راجدھانی کو کلکتہ سے دِلی منتقل کردیا ۔ آنے والے وقتوں میں ایک نیا مسئلہ سر اٹھانے لگا ، بلکہ پھن اٹھانے لگا ۔۔۔ اور وہ تھا دلی اور اس کے گرد و نواح میں ناگ کی بڑھتی ہوئی آبادی ۔
جو کہ ناصرف ایک زہریلا اور خطرناک خزندہ ہے بلکہ اس کی بڑھتی آبادی بھی لوگوں بھی خوف و ہراس اور بےچینی کا باعث بن رہی تھی ۔
چنانچہ برٹش حکومت نے اعلان کیا کہ جو شخص زندہ یا مردہ ناگ لے کر آئے گا اسے نقد انعام ملے گا۔اس طرح لوگوں نے ناگ کا شکار کرنا اور انہیں مقررہ سرکاری دفاتر لیجا کر انعام حاصل کرنا شروع کردیا ۔
لیکن۔۔۔۔ کچھ عقلمند ہندوستانیوں نے اس موقع سے دگنا فائدہ اٹھانے کا سوچا اور انہوں نے خفیہ طور پر ناگوں کو پالنا شروع کر دیا تاکہ ان کی بریڈنگ کروا کر زیادہ سے زیادہ ناگ حکومت کو پیش کر کے خوب انعامی رقم حاصل کی جائے۔۔۔۔ اور اس طرح یہ سلسلہ چل نکلا۔
اہلِ دلی نے اس "زہریلی گنگا” میں خوب ہاتھ پیر دھوئے بلکہ ڈبکیاں لگائیں ۔
اور جب برطانوی حکومت کو پتا چلا کہ ہندوستانی گھر گھر ناگ پال کر انہیں دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ۔۔۔ تو انہوں نے ناگ لانے پر مقرر کی گئی انعامی رقم کو منسوخ کردیا ۔
لیکن پھر جن سینکڑوں لوگوں نے ہزاروں ناگ پال رکھے تھے اور کوئی چارہ نہ ہونے پر انہوں نے ان ناگوں کو یہاں وہاں جھاڑیوں ، درختوں ، مٹی کے ٹیلوں پر آزاد کردیا۔۔۔ اور جب آزاد کیے سانپوں نے قدرتی ماحول میں اپنی نسل بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا تو دلی اور اس کے گرد و نواح میں ناگوں کی آبادی میں پھر سے بےپناہ اضافہ ہوگیا ۔
اس رحجان کو آج تک Cobra effect کے نام سے یاد کیا جاتا ہے !!!









