Baaghi TV

Category: متفرق

  • بے لوث سلسلہ — ریاض علی خٹک

    بے لوث سلسلہ — ریاض علی خٹک

    دوستو جس دن میں صبح جلدی آفس آتا ہوں ایک منظر بڑی پابندی سے دیکھتا ہوں. یہ کوئی سفید ریش بڑے میاں ہیں جو غالباً کسی فیکٹری میں چوکیدار ہیں. آوارہ کتوں کی ان سے محبت دیدنی ہوتی ہے. اس راستے پر سینکڑوں لوگ گزر رہے ہوتے ہیں نہ وہ ان آوارہ کتوں کو نوٹس کرتے ہیں نہ کتے ان کو درخور اعتنا سمجھتے ہیں.

    لیکن جیسے ہی یہ بزرگ چوکیدار ایک شاپر لئے فٹ پاتھ پر نمودار ہوتے ہیں آس پاس دور دور سے آوارہ کتے ان کی طرف ایسے لپکتے ہیں جیسے غریب بچوں کا باپ شام کوئی شاپر لے کر گھر میں داخل ہوتا ہے. بچے ہنسنا رونا جھگڑنا کھیلنا چھوڑ کر اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں. یہ چوکیدار پھر ان کے سامنے کھانا ڈالتا ہے.

    مجھے یہ منظر اچھا لگتا ہے. مجھے کتوں سے سچی بات ہے بہت ڈر لگتا ہے. میں جب اس چوکیدار کو دیکھتا ہوں جس سے یہ آوارہ کتے لاڈ و نیاز کرتے ہیں تو ایک عجیب سا رشک اس پر آتا ہے. میں سوچتا ہوں ان سرد راتوں میں یہ آوارہ کتے اس صبح اور اس مہربان شخصیت کا کتنا انتظار کرتے ہوں گے.

    قدرت کو بھی یہ پسند آتا ہے. کیونکہ ایسے سلسلے پھر جاری رہتے ہیں. بے لوث انتظار جس میں ایک خاموش تشکر کے سوا کچھ نہ ہو کوئی بدلہ کوئی حساب نہ ہو ایسے حساب پھر قدرت اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے. کیا آپ نے بھی ایسا کوئی خاموش بے لوث سلسلہ قدرت کے ساتھ جوڑ رکھا ہے.؟ کیا آپ کا بھی کہیں خاموش انتظار ہو رہا ہوتا ہے.؟

  • جدید اصطلاحات — ابو الوفا محمد حماد اثری

    جدید اصطلاحات — ابو الوفا محمد حماد اثری

    عثمان بھائی نے جدید اصطلاحات کی بات چھیڑ دی ہے۔ ماں سے موم ماسی سے آنٹی اور آنٹی سے آنٹ کا سفر طے ہو چکا ہے۔ لوگ آگے کو بڑھ رہے ہیں اور ایک ہم فقیر ہیں مزید پچھلی اخلاقیات پر آگئے۔

    یادش بخیر ہمارے گھر والوں بے ہمیں ماسی کو آنٹی کہنا ہی سکھایا تھا، سو ہم ماسی کی مٹھاس سے محروم محض ہی تو تھے، لیکن جب ہم مشرف بہ مشرق ہوئے تو آنٹی کو ماسی کہنے لگے۔ میرے بیٹے کو گھر والوں بے بتھیری اردو سکھانے کی بات کی، ہم نے مگر ٹھٹھ پنجابی سکھائی۔

    اس کا ایسا مطلب نہیں کہ ہم کوئی ماضی گزیدہ ہوگئے ہیں یا ماضی کے ناسٹلجیا میں مبتلا ہوگئے ہیں، یہ ایک اور طرح کا شعور ہے، جو مالک سے دعا ہے تمہیں بھی نصیب ہو۔

    مسئلہ تہذیب مغرب کا ہے، جو اس کی حقیقت سے واقف ہونے لگے، اسے اس کے ہر مظہر سے چڑ ہونے لگتی ہے۔ ہم بھی ابتداء میں اسی روسیاہ کی زلف گرہ گیر کے اسیروں میں رہے۔ وہ وقت ہم پہ بھی گزرا جب ہم کسی کو بتاتے ہوئے شرماتے تھے کہ ہم مدرسہ کے طالب علم ہیں۔ ہم اس فیز سے بھی گزرے کہ مولوی یا ملا سے نفرت کر بیٹھے۔

    ہر روایت مخالف کام کو سراہنے کا بھوت سوار رہا، مجھے یاد ہے ہمارے استاذ محترم نے جب ہم سے کہا تھا کہ بیٹا! پڑھ کر کیا بننا چاہتے ہیں؟ تو جواب یہ دیا تھا کہ کم از کم روایتی مولوی نہیں، لیکن اب سوچتا ہوں کہ کاش روایتی مولوی ہی بننے کا جواب دیا ہوتا۔ کیوں کہ روایت کی مخالفت کسی دلیل کی بنا پر نہیں فیشن کی بنا پر کی جا رہی تھی۔ ہمیں بھی جدید ادیبوں کے سڑے گلے فقرے اپنی جاتی پر کسنے میں وہی سکون ملتا جو آج کل نئے جوانوں کو ملتا ہے۔

    ہم بھی اپنا مزاح ملا سے شروع کرتے اور اسی پر ختم کرتے رہے ہیں۔ ہم نے جب پہلی دفعہ اخلاق کا نعرہ لگایا تھا تو شاید لبرل ازم کے تحت ہی لگایا تھا، ہمیں بھی احادیث ج۔ہاد کھٹکتی رہی ہیں۔ ہم بھی ان میں سے رہے ہیں، جو اخلاقیات کو عقیدے سے بھی اوپر کا کوئی شعار قرار دیا کرتے تھے۔ ہم نے بھی وہ دن دیکھے جب دینی غیرت سے مجبور سخت فتوی لگانے والے عالم دین کو دین سے دوری کا سبب بتانا شعور کی معراج سمجھا کرتے تھے۔

    لیکن پھر خدا نے شعور عطا کیا، تہذیب جدید کے فہم سے کچھ حصہ ملا تو پھر زبان حال سے پکار اٹھے

    ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو

    ہاں، ہمارا تعلق اس جاتی سے ہے، جن کو عام طور پر اپنی مجلس میں بیٹھنے نہیں دیا جاتا، لیکن اس پر مطمئن ہیں۔

    ہاں ہم وہ ہیں جو پرانی اخلاقیات مانگتے ہیں۔ ہم اس گروہ عاشقاں سے ہیں، جو کو حکم خدا کے بعد کسی قسم کی تاویل کی ضرورت نہیں رہتی، ہم سے خدا کہتا ہے فلاں سے نفرت کرو تو ٹھوک بجا کے نفرت کرنے لگتے ہیں، ہمیں خدا کسی سے محبت کا کہے تو عمل گو نا کر سکیں مگر اس کی حقانیت ذہن و دل میں واضح رہتی ہے۔ ہم وہ ہیں، جنہیں تہذیب مغرب سے، اس کے مظاہر سے، اس کے ما بعد الطبیعات سے، اس کے فلسفوں سے اتنی ہی چڑ ہے۔ جتنے وہ برے اور انسانیت کے لئے ز،ہر قاتل ہیں۔

  • ہم اچھے باپ کیوں نہیں بنتے؟ — اعجازالحق عثمانی

    ہم اچھے باپ کیوں نہیں بنتے؟ — اعجازالحق عثمانی

    دنیا میں ہر جنس پر ظلم ہوتا ہے ۔ مگر سوائے بچےکے ہر عمر ، ہر طبقہ اور ہر جنس اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتا ہے ۔ مگر بچہ یہ سب نہیں کر سکتا ۔ وہ بہت کمزور ہے ۔اتنا کمزور کہ وہ اپنے حق کے لیے بول بھی نہیں سکتا۔ خواجہ سراؤں پر ظلم ہوا تو انھوں نے احتجاج کیے، خواتین نے اپنی تنظیمیں بنائی ۔ یہاں تک کہ رکشے والوں کی یونینز ہیں۔ مگر کوئی تنظیم نہیں ہے تو بچوں کی نہیں ہے ۔

    نفسیات دانوں کا شکر ہو جنھوں نے ہمیں علم نفسیات کے ذریعے بتایا کہ بھئی بچے بھی کوئی الگ شے ہیں۔ تم سے مختلف اور کمزور ہیں، جسمانی طور پر بھی اور عقلی طور پر بھی۔ انکا عقل درجہ بہ درجہ وقت کے ساتھ ترقی کی منازل طے پاتا ہے۔اگر کسی بچے کو میوزک کی آواز آرہی ہے ۔مگر آپ دور بیٹھے اسکو والیم اونچا کرنے کا کہتے ہیں تو وہ والیم تو بڑھا دے گا مگر یہ ضرور سوچتا رہے گا کہ جب اسے سننے میں کوئی دقت نہیں ہو رہی تو آپکو کیوں ہو رہی ہے۔ اگر بچہ مٹی سے کھیلتے ہوئے ہم سے پوچھ لے کہ مٹی کا رنگ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ ہم یا یہ کہہ دیتے ہیں کہ اللہ نے ایسا بنایا ہے یا کچھ اور کہہ کر بس جان چھڑوانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اکثر لوگ تو بچوں کو سوال پر ہی ڈانٹ دیتے ہیں ۔ جواب تو دور کی بات ۔۔۔۔۔۔

    اگر کوئی بچہ کم بولتا ہے تو اس مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ نکما ہے۔علم نفسیات میں ایسے بچوں کو انٹروورٹ کہا جاتا ہے ۔ ایسے بچے کچھ بڑا کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں ۔ مگر ہمارے معاشرے میں ایسے بچوں کو شرمیلا اور کمزور سمجھا جاتا ہے ۔گو کہ انٹروورٹ ہونا کوئی بری بات نہیں، یہ صرف ایک پرسنلٹی ٹریڈ ہے ۔ 90 فی صد سائنسدان، شاعر ، ادیب یا موجد انٹروورٹ ہی ہوتے ہیں ۔

    آپکا خاندان یا معاشرہ تو انٹروورٹ ہونے پر آپ کے بچے کی کبھی تعریف نہیں کرے گا۔مگر یہی انٹروورٹ بچہ زندگی میں کبھی ایسا کام ضرور کرے گا جس سے آپکا سر فخر سے بلند ہو جائے گا ۔ سو ایسے بچوں کی حوصلہ شکنی کبھی نہ کریں ۔آپ شدید حیران ہونگے یہ سن کر کہ دنیا کا ہر دوسرا امیر ترین آدمی انٹروورٹ ہے۔ٹیسلا کے ارب پتی مالک نے ایک بار ایک انٹرویو میں کہا تھا، "میں بنیادی طور پر ایک انٹروورٹڈ انجینئر کی طرح ہوں، اس لیے اسٹیج ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

    ہم بچوں کا ہر موڈ برداشت نہیں کرتے ۔ چاہتے ہیں کہ بچے ہر وقت خوش رہیں۔ ان کے بھی اپنے جذبات ہوتے ہیں ، انھیں بھی خوشی اور غمی کا احساس ہوتا ہے۔ مگر ہم اس بات کو سمجھنے سے ابھی قاصر ہیں ۔ صرف اسی بات کو نہیں، بلکہ بچوں کو بچہ سمجھنے میں بھی ابھی ہمیں صدیاں درکار ہیں ۔

    جیسے بچوں کو پیدائش کے بعد سیکھنے کے لیے سکول بھیجا جاتا ہے ۔کاش بچہ پیدا کرنے سے پہلے والدین کےلیے بھی بچے کو سمجھنے اور تربیت کی خاطر کسی ڈگری کی شرط ہوتی ۔

  • غریب اور بے وکیل — ریاض علی خٹک

    غریب اور بے وکیل — ریاض علی خٹک

    روس میں ایک بزرگ غریب عورت نے ایک دکان سے ایک چھوٹی کیتلی چرا لی. وہ پکڑی گئی. مشہور روسی وکیل نکی فوروچ نے اسکا کیس لڑنے کا فیصلہ کیا. جیوری نکی فوروچ کو جانتی تھی. اس لئے اس نے غربت کی مجبوری کا استدلال نکی فوروچ سے چھین لیا.

    جیوری نے کہا ہم جانتے ہیں یہ بہت غریب اور مجبور ہے. لیکن مسئلہ قانون اور روس کا ہے. چوری بھلے بہت سستی کیتلی کی ہوئی لیکن اگر اس پر سزا نہ دی گئی تو یہ وہ دروازہ کھول دے گی جو عظیم روس کی تباہی کا پیش خیمہ بن جائے گا. نکی فوروچ پھر کھڑا ہوا اور جج سے کہا.

    روس پر پچھلے ہزار سال میں بڑے بڑے امتحان آئے نپولین آیا جرمن آئے روس لیکن کھڑا رہا. روس نے ہر چیلنج کا سامنا کیا اسے شکست دی اور آج پہلے سے زیادہ مضبوط اور طاقت کے ساتھ کھڑا ہے. البتہ آج ایک غریب بڑھیا عورت نے ایک چھوٹی کیتلی چرائی ہے اور روس تباہی کے دہانے پر کھڑا ہوگیا ہے. جج صاحب اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ کیتلی روس کو تباہ کر سکتی ہے تو اس بڑھیا کو سزا سنا دیں. بڑھیا رہا کر دی گئی.

    ہمارے ملک نے بھی بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا کیا ہے. 75 سال ہم نے اس دنیا میں کسی نہ کسی طرح نکال لئے. لیکن آج عجیب صورتحال ہے. غریب کیلئے کوئی نکی فوروچ وکیل دستیاب نہیں ہے. جب کے امیر اور اشرافیہ کیلئے انصاف بھی ہے وکیل بھی ہے اور جج بھی دستیاب ہے. ہمارا تو غریب بھی دوسرے غریب کی وکالت نہیں کرتا. بلکہ اشرافیہ کے کسی ایک فرد کی محبت میں دوسرے غریب کو کھڑے کھڑے سزا سنا دیتا ہے.

    یہاں کسی غریب کیلئے انصاف اب نہیں رہا کوئی وکیل نہیں رہا. اس لئے لگتا ہے ہمارا ملک واقعی خطرے میں ہے. اکثریت غریب اور بے وکیل ہے.

  • خود سے اور دوسروں سے نفرت کرتے کردار — ریاض علی خٹک

    خود سے اور دوسروں سے نفرت کرتے کردار — ریاض علی خٹک

    اولمپکس میں تماشائیوں سے بھرے سٹیڈیم میں دوڑ کے چیمپئن یوسین بولٹ کے ساتھ مقابلے میں اس وقت دنیا کے بہترین سائنسدان میوزیشن اداکار استاد جج ڈاکٹر انجینئر کو دوڑا دیں. پورا سٹیڈیم یوسین بولٹ کیلئے تالیاں بجائے گا. باقی سب لوگ تو مذاق ہی بن جائیں گے. لیکن یوسین بولٹ کو باکسنگ رنگ میں مائیک ٹائسن کے سامنے کھڑا کر دیں یوسین بولٹ کی آنے والی نسل بھی باکسنگ رنگ سے نفرت شروع کر دے گی.

    ان سب کا اپنا اپنا الگ میدان ہے. یہ اپنے اپنے میدان کے چیمپین ہیں. یہی چیمپین دوسرے میدان میں دوسروں کیلئے مذاق بن جائے گا. اور اسے خود سے نفرت ہو جائے گی. ہاورڈ گارڈنر کی مشہور اور ایک تفصیلی تھیوری ہے کہ ہر فرد کی مہارت و ذہانت کا میدان الگ ہے. لتا منگیشکر کی آواز میں اسی سال کی عمر میں ترنم تھا جبکہ آپ بھلے نوجوان ہوں لیکن اگر گانا شروع تو سب ہاتھ جوڑ کر منہ بند کرنے کی فرمائش کر دیں گے.

    گارڈنز کہتا تھا ذہانت کوئی دانشورانہ صلاحیت نہیں بلکہ مختلف لوگوں کی ذہانت کا میدان الگ ہوگا. کوئی موسیقی کی صلاحیت لے کر آیا ہوگا کوئی دوسروں کے احساس سمجھنے میں ماہر ہوگا کوئی حساب کتاب و منطق میں یکتا ہوگا کوئی زبان کا ماہر ہوگا. کسی کی آنکھ اور ہاتھ کا وہ تال میل ہوگا جو اسے آرٹسٹ بنا دے گا.

    یہ خود سے اور دوسروں سے نفرت کرتے کردار وہ لوگ ہوتے ہیں جو ایسے دانشوروں کے ہاتھ چڑھ جاتے ہیں جو مچھلی کو کھیتی باڑی سکھانا چاہتے ہیں تو گائے کو تیرنا پرندے کے پر اتارتے ہیں تو ہاتھی کو آڑنے پر راضی کرنا چاہتے ہیں. دنیا کے سٹیڈیم کو یہ دانشور کچھ دیر کے قہقہے تو ضرور دے دیتے ہیں لیکن ان کے تراشے کردار پھر نفرت کرنا سیکھ جاتے ہیں.

  • 1971 سے 2022۔ پی این ایس غازی کی دھاک ،تحریر :  ثاقب حسن لودھی

    1971 سے 2022۔ پی این ایس غازی کی دھاک ،تحریر : ثاقب حسن لودھی

    1971 سے 2022۔ پی این ایس غازی کی دھاک ،تحریر : ثاقب حسن لودھی

    بلاشبہ موجودہ دنیا میں کسی بھی ملک کے لیے اس کی جغرافیائی حیثیث قیمتی اثاثہ ہوتی ہے۔ آج 4 دسمبر کا وہ تاریخی دن ہے جب پاک بحریہ کے چاق و چوبند دستے پی۔این۔ ایس "غازی” کے شہداء کی یاد میں وطن سے ہر قیمت پر وفاداری کے عہد کو ایک بار پھر دہرا رہے ہیں۔ یہ وہی ‘غازی’ ہے جو 1971 کی جنگ میں دشمن کی نظروں سے اوجھل اپنے فرائض منصبی ادا کرتے ہوئے بدقسمتی سے اپنی ہی بچھائی گئی بارودی سرنگوں کے پھٹنے سے تباہ ہو گئی تھی۔ اس کے نتیجے میں تقریبا 85افسران جام شہادت نوش کر گئے تھے جن کی جرات و بہادری کو ہر سال خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ گو کہ پی این ایس غازی بہت کم عرصہ تک پاکستانی فلیٹ کا حصہ رہی لیکن اس کی دھاک اور دہشت سے آج بھی دشمن کانپ جاتا ہے۔ اگر ہم 1971 کی جنگ کا مختصر جائزہ لیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ جنگ بھارت کی غیر قانونی و انتہا پسندانہ سوچ کی عکاسی تھی۔ عالمی قوانین کے مطابق کوئی ملک کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا اختیار نہیں رکھتا مگر بھارت کی جانب سے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مکتی باہنی کے ذریعے مشرقی پاکستان میں شورش پھیلائی گئی۔ بعد ازاں بھارت کی جانب سے باقاعدہ جنگ چھیڑے جانے کے بعد پاکستان کے پاس صرف بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا آپشن باقی تھا۔ پاک بحریہ کے پاس پی این ایس غازی کی صورت میں ڈیزل الیکٹرک سب میرین موجود تھی جو بھارت کے’وکرانت’ نامی ائیر کرافٹ کئیریر کو تباہ کرنے کے لیے کافی تھی۔ لہذا بھارتی افسران کی جانب سے وکرانت کو ‘محفوظ مقام’ پر منتقل کیا گیااور ‘غازی’ کا مقابلہ کرنے کے لیے خلیج بنگال میں دو جنگی بحری جہاز روانہ کیے گئے۔ ان سب کی نظروں سے اوجھل پی این ایس غازی بھارتی کیمپ کے انتہائی قریب پہنچنے میں کامیاب رہی۔ 4 دسمبر کی رات بھارتی بحریہ کے پڑاو میں اس وقت کھلبلی مچ گئی جس وقت زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی۔ بھارتی بحریہ کے سابق کموڈور جیکب کے مطابق دھماکے کے آوازیں اس قدر شدید تھیں کہ انہیں گمان ہوا کھ شایدپی این ایس غازی کی جانب سے شدید حملہ ہو گیا ہے۔ بعد ازاں 5 دن کی مسلسل غوطہ خوری کے نتیجے کے مطابق حقیقت معلوم ہوئی کہ پی این ایس غازی اپنی ہی جانب سے بچھائی جانے والی بارودی سرنگ کے پھٹنے کی وجہ سے تباہ ہوئی۔

    بھارت کی جانب سے اس کو اپنی کامیابی گردانا گیا اور اس وقوعہ کے 5 دن بعد 9 دسمبر کو اس کو بھارتی بحریہ کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ یاد رہے 9 دسمبر کا دن بھی وہ تاریخی نوعیت کا دن ہے جب پی این ایس ‘ہنگور ‘ نے بھارتی بحریہ کی ریڑھ کی ہڈی سمجھنے جانے والے آئی این ایس’ ککری’ کو شکست دی تھی۔ مبصرین کے مطابق ککری کی شکست سے تو جہ ہٹانے کی خاطر بدقسمت غازی کو اپنی کامیابی بتایا گیا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کار بھارتی بحریہ کی جانب سے 5 دن تک اپنی خود ساختہ کامیابی کا اعلان کیوں نہ کیا گیا ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق 2010 میں بھارتی سرکار کی جانب سے غازی سے متعلق تمام ریکارڈ کو ضائع کر دیا گیا تھا۔ یہ تمام سوالات اس حقیقت کو عیاں کرتے ہیں کہ بھارت کی جانب سے فالس فلیگ آپریشن کی طرح اپنی عوام کو بیوقوف بنانے کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے۔ حال ہی میں فروری 2017 کے قیدی بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو ایوارڈ سے نواز کر بھارت دنیا کی توجہ پاکستان کی جنگی کامیابیوں سے ہٹانا چاہتا ہے۔

    پاکستان بحریہ کا یوم آزادی پرخصوصی نغمہ ”پرچم پاکستان کا” ٹیزر جاری

    یوم آزادی، ملک بھر میں تقریبات کا آغاز، مزار قائد، اقبال پر گارڈز کی تبدیلی،صوبوں میں توپوں کی سلامی

    پاک بحریہ میں یوم آزادی کی تقریب،اکیس توپوں کی سلامی دی گئی

    پاک بحریہ کی ساتویں کثیرالقومی بحری مشق امن 2021 کا آغاز

    پاک بحریہ کے زیر اہتمام گوادر میں مقامی بچوں کے لیے سیلنگ کیمپ کا انعقاد کیا گیا

    جنگ کے طور طریقے بدل گئے ہیں اور اب غیر روایتی انداز میں دشمن کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے بھارت بالی ووڈ کے ذریعے حقائق کو مسخ کر رہا ہے۔ بھارت کا غازی سے لیکر ابھی نندن تک کے تمام جھوٹ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں۔دنیا یہ جانتی ہے کہ بحری جنگ زمینی اور فضائی جنگ سے قدرے مختلف ہے اور اس میں جنگی حکمت عملی بنا کر اپنی صلاحیت سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے بہت مشکل ہوتا ہے۔ پی این ایس غازی کا دشمن کی نظروں سے اوجھل ہو کر بھارتی کیمپ کے نز دیک پہنچ جانا اور بعد ازاں پی این ایس ہنگور کی جانب سے آئی این ایس ککری کو شکست دینا اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ پاک بحریہ جنگی حکمت عملی بنانے اور آپریشنل لیول پر اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں بھارتی بحریہ سے بہت بہتر ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج بھی سفید وردی میں ملبوس پاک بحریہ کے جوان دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں۔ پاکستان کی بحری حدود میں 50 ہزار مربع کلومیٹر کا اضافہ اورمسلسل سات ‘ امن مشقوں ‘ کا انعقاد اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ پاک بحریہ نہ صرف تمام دوست ممالک سے امن اور برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنے کی خواہاں ہے بلکہ کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ پاک بحریہ نے ماضی میں بھی قومی دفاع اور سلامتی کی خاطر جانیں قربان کی ہیں اور آج کے تاریخی دن قوم سے ایک بار پھر وعدہ ہے کہ دشمن چاہے کتنا ہی طاقت ور اور تعداد میں بڑا کیوں نہ ہو، پاکستان کی بحری افواج اپنے ملک و قوم کی ایک ایک انچ کی حفاظت کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔

    پاک بحریہ دشمن کے ناپاک منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے تیار، نیول چیف کا دبنگ اعلان

    کراچی شپ یارڈ میں پاک بحریہ کیلئے جدید جنگی ملجم کلاس جہاز کی اسٹیل کاٹنے کی تقریب

  • ایمانداری بہترین میدان ہے؟ — ریاض علی خٹک

    ایمانداری بہترین میدان ہے؟ — ریاض علی خٹک

    شوہر کا موڈ صبح صبح بہت خوشگوار تھا. اس نے اپنی بیگم سے کہا چلو واک کرنے باہر چلتے ہیں. بیگم نے غور سے اپنے شوہر کو دیکھا اور کہا یعنی تم سمجھتے ہو میں موٹی ہوں.؟ شوہر نے ہنس کر کہا نہیں یار میں نے ایسا کب کہا یہ تو تم نے نتیجہ نکال لیا.

    بیگم نے کہا اسکا مطلب تم سمجھتے ہو میں موٹی بھی ہوں اور جھوٹی بھی ہوں. شوہر نے کہا یہ کیا بے وقوفی ہے. میں نے ایسا کب کہا.؟ بیگم نے کہا مطلب تم یہ کہہ رہے ہو میں موٹی بھی ہوں جھوٹی بھی اور بے وقوف بھی.؟ شوہر نے کہا بیگم بس تم گھر بیٹھو میں خود واک کر کے آجاتا ہوں.

    بیگم نے کہا ہاں ہاں جائیں. آپ کو تو اکیلے واک پر جانے کا بہانہ چاہئے. مجھے کہاں لے کر جائیں گے. پتہ نہیں کس سے ملنا ہے کسے دیکھنا ہے اور شوہر خاموشی سے بیٹھ گیا. کیونکہ کچھ جگہوں پر بحث میں آپ جیت ہی نہیں سکتے. بھلے آپ کتنے ہی کلئیر کیوں نہ ہوں.

    بنجامن فرینکلن ایک دن جارج واشنگٹن سے ایک ضروری مشورہ کرنے گیا. واشنگٹن نے اسے کہا ایمانداری بہترین میدان ہے. تم ایمانداری سے اپنے مقام پر کھڑے رہو. بنجامن فرینکلن نے کہا نہیں جارج یہ پالیسی ہر جگہ نہیں چلتی. جیسے بیگم پوچھ لے کیا اس لباس میں، میں موٹی تو نہیں لگ رہی.؟ اب آپ ایمانداری سے یہ نہیں بتا سکتے کہ مسئلہ لباس کا نہیں ہے. تم موٹی ہی ہو.

  • لوگ خود سیکھ جاتے ہیں — ریاض علی خٹک

    لوگ خود سیکھ جاتے ہیں — ریاض علی خٹک

    امریکی ریاست اوہائیو کے ایک شراب خانے میں ایک آدمی ٹام مئیر مارا گیا اور تھامس نامی شخص کو اس کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا. تھامس نے کلیمنٹ نامی ایک وکیل کیا اور اسے کہا میں تمہیں سچ بتاوں میں نہیں جانتا ٹام کیسے مرا کس نے مارا لیکن یہ حقیقت ہے میں نے نہیں مارا.

    کلیمنٹ نے اس کیس پر کافی ریسرچ کی. مقتول ٹام کے اپنے پستول پر تحقیق کرتے اسے سمجھ آیا کہ مقتول اپنا پستول نکالتے ہوئے خود اپنی گولی سے مرا. یہ سال 1871 کی بات ہے جب گولی کی فرانزک نہیں ہوتی تھی. بھری عدالت میں وکیل نے جج کو قائل کرنے کیلئے جب اسی انداز میں وہی پستول نکالا تو گولی پھر چل گئی. وکیل کلیمنٹ کو اسی مقام پر گولی لگی جہاں ٹام مئیر کو لگی تھی اور وکیل بھی جان کی بازی ہار گیا.

    تھامس کیس جیت گیا اور رہا ہوگیا. لیکن وکیل کلیمنٹ ایک چیز بتا گیا. دوسروں کو قائل کرنا اور وکالت آسان کام بلکل نہیں ہے. روزانہ کا نیا سورج آپ کی زندگی میں آپ کیلئے ایک نیا دن بن کر آتا ہے. اسے دوسروں کی ان عدالتوں میں تاریخیں بھگتے نہ گزاریں جہاں یقین دلانے کیلئے مرنا لازم ہو جائے. آپ روزانہ تھوڑا تھوڑا کر کے مر جائیں گے.

    جولیس سیزر جیسا بادشاہ ہو یا دنیا کے مشہور فلسفی اور ادیب یہ سب ایک قول بتا کر گئے ہیں” لوگ ہمیشہ وہی مانتے ہیں جو وہ ماننا چاہیں” اس لئے منوانے کی چاہت ہی نہ رکھیں کیونکہ اس کیلئے آپ کو وکیل بننا ہوگا. بنجامن فرینکلن نے انسانی نفسیات کا تجزیہ کرتے کہا تھا کہ جب ہمیں بتایا جائے تو ہم بھول جاتے ہیں. جب ہمیں پڑھایا جائے تو یاد رہتا ہے اور جب ہم کرنے میں شامل ہوں تو سیکھ لیتے ہیں.

    لوگ خود سیکھ جاتے ہیں. ان کو اپنی زندگی جینے دیں. ہم بھی تو صرف آپ کو پڑھا رہے ہیں شائد کہ آپ کو یاد رہے. آپ کر کے سیکھ لیں.

  • فوری تسکین — ریاض علی خٹک

    فوری تسکین — ریاض علی خٹک

    دیہات کے وہ لوگ جنہوں نے مویشی پالے ہوں جانتے ہیں کہ کسی کٹے کی گردن میں پڑی رسی پکڑ کر اسے سنبھالنا کتنا مشکل ہے بنسبت ایک بھینس کے. بھینس کی رسی پکڑ لیں وہ آپ کے پیچھے آرام سے چل دے گی. لیکن کٹا آپ کو کھینچنے لگے گا. کیونکہ ابھی کٹے نے رسی سے سمجھوتہ نہیں کیا ہوتا.

    کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آپ کے ہاتھ سے آپکا قیمتی موبائل پھسل جاتا ہے لیکن گرنے سے پہلے آخری لمحے میں آپ کیچ کر لیتے ہیں. آپ سوچیں ہاتھ سے نکلنے کا دکھ زیادہ ہے یا کیچ کرنے کی خوشی.؟ آپکا دماغ فوراً بتائے گا کیچ کرنے کی خوشی زیادہ ہے. کیا اس خوشی کیلئے اب موبائل کو آپ کرکٹ کی بال بنا لیں گے.؟

    ہمارے بازار انسانی نفسیات سے کھیلتے ہیں. جیسے سود اور قرض قسطوں پر چیزیں بیچنے والے ہوں. یہ اپنا اشتہار ان الفاظ سے شروع کریں گے” ابھی پائیں” اور پھر آسان اقساط میں واپسی کریں وغیرہ. اس وقت ہمارے نفس کی مثال اس کٹے کی طرح ہو جاتی ہے جو رسی کمزور دیکھ کر سمجھتا ہے میں اس رسی پکڑنے والے کو کھینچ لوں گا.

    فوری تسکین یا instant gratification ہماری نفسیات کا حصہ ہے. ہمارا دماغ جب کچھ کیچ کرلے تو وہ یہ سوچنا نہیں چاہتا کہ گرا بھی تو مجھ سے تھا. آخر میں اتنا غائب دماغ کیوں ہوا.؟ لیکن کیچ اسے اپنا کارنامہ لگتا ہے. ان قرضوں کے جال میں وہی لوگ پھنستے ہیں جو فوراً کوئی کارنامہ کرنا چاہتے ہوں. لوگ ان کی واہ واہ کریں. بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی.

    لیکن کچھ عرصہ بعد وہ قرض ان کی گردن کی وہ رسی بن جاتی ہے جس سے وہ سمجھوتہ کر چکے ہوتے ہیں. پھر سود خور ان کا دودھ بیچ رہے ہوتے ہیں. اور یہ اسے اپنا نصیب سمجھ لیتے ہیں.

  • سیکسو فون کی ایجاد — ریاض علی خٹک

    سیکسو فون کی ایجاد — ریاض علی خٹک

    ایڈولف سیکس انیسویں صدی کی شروعات میں بیلجیئم میں پیدا ہوا تھا. ایڈولف ایک عجیب قسمت لے کر آیا تھا. حادثے اسکا پیچھا کرتے تھے. مثلاً جب وہ دو سال کا تھا تو اپنی بلڈنگ کی دوسری منزل کی کھڑکی سے گر گیا تھا. اسکا سر پھٹ گیا لیکن زندگی بچ گئی.

    چھ سال کا ہوا تو تیزاب پی لیا تھا. بمشکل زندگی بچائی گئی. 9 سال کا ہوا تو سیڑھیوں پر پھسل کر ایسا گرا کہ قلابازیاں کھاتے نیچے پہنچ گیا. بدقسمتی یہ ہوئی کہ نیچے ایک جلتے ہوئے چولہے پر گر گیا. 11 سال کی عمر میں اسے خسرہ ہوا. اتنا شدید خسرہ تھا کہ صاحب 9 دن کوما میں رہے.

    یہی نہیں 14 سال کی عمر میں بازو تڑوا دیا 19 سال کی عمر میں ایک عمارت کے اوپر سے گری اینٹ نے اسکا سر ڈھونڈ لیا. 23 سال کی عمر میں زہریلی شراب پی لی تھی لیکن بال بال بچ گیا. البتہ ایڈولف سیکس جب 29 سال کا ہوا تو اس نے سیکسو فون ایجاد کر لیا.

    قسمت اور زندگی سب اپنی اپنی لکھوا کر لائے ہوتے ہیں. بد قسمتی اگر گزر جائے اور زندگی خود کو بچا لے تو بندے کو آگے چل دینا چاہئے. ایک حادثہ ایک واقعہ پکڑ کر بیٹھ جانے والے پھر زندگی سے انصاف نہیں کر پاتے. آج جب کسی سٹیج پر یا کسی فوجی بینڈ میں کسی فنکار کو لہک لہک کر سیکسو فون بجاتے آپ دیکھیں تو ایڈولف سیکس کو یاد کر کے سوچیں کیا آپ اس سے بھی زیادہ بد قسمت ہیں.؟ وہ تو آج بھی لہک لہک کر گا رہا ہے.