Baaghi TV

Category: متفرق

  • پولٹری کی فیڈ اور برائلر بحران کا خدشہ!!! — عاصم چوہدری

    پولٹری کی فیڈ اور برائلر بحران کا خدشہ!!! — عاصم چوہدری

    ہم بہت عرصہ سے سنتے تھے کہ پولٹری کی فیڈ میں فلاں حرام استعمال ہوتا، فلاں استعمال ہوتا جس کی وجہ سے کافی ڈسٹربینس رہتی تھی۔ تو کچھ عرصہ پہلے پولٹری کی فیڈ پر ریسرچ کررہے تھے تو پتہ چلا کہ پولٹری میں فیڈ کا کیا حساب ہوتا ہے۔ انفارمیشن کے لیے پولٹری کی فیڈ کا یہاں بتاتا ہوں اس سے آپکو پولٹری کا موجودہ بحران سمجھنے میں شائد مدد مل سکے۔

    عام طور پر چوزے سے برائلر بننے کا عمل 45 دنوں میں مکمل ہوتا ہے۔ پاکستان میں کتنے دنوں میں یہ عمل مکمل ہوتا بے اس کا مجھے مکمل اندازہ نہیں لیکن باہر کے ملکوں میں وہ یہ عمل 45 دنوں میں مکمل کرتے ہیں اور پھر 45 دنوں کے حساب سے اس کی فیڈ بناتے ہیں جس میں مین انگریڈی اینٹ سویا بین میل، اور مکئی ہوتی یے جبکہ باقی چیزوں میں فش میل، بون میل، امائنو ایسڈز اور پری مکسڈ امائنو ایسڈز شامل ہوتے ہیں۔ مکئی میں تقریبا 8 فیصد پروٹین ہوتی ہے جبکہ سویا بین میل میں 45 فیصد پروٹین ہوتی ہے۔

    پہلی سٹیج پر جو فیڈ دی جاتی ہے اسکو سٹارٹر فیڈ کہتے ہیں جس میں مکئی تقریبا 61 فیصد اور سویا بین میل 31 فیصد ہوتی ہے۔ اور یہ سٹارٹر فیڈ پہلے 16 دن جاتی ہے۔ اس کے بعد دوسری سٹیج پر جو فیڈ دی جاتی اس کو "گرو آر” فیڈ کہتے ہیں اس سٹیج میں مکئی کی مقدار کم ہوجاتی ہے اور سویا بین تقریبا اتنا ہی رہتا ہے۔لیکن ساتھ میں کچھ چیزیں اور شامل کردی جاتی ہیں جیسے کیلشیئم کاربونیٹ۔۔جو کہ ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے اور یہ "گرو آر فیڈ” ستارہویں دن سے لیکر 30 دنوں تک دی جاتی ہے۔

    تیسری سٹیج پر جو فیڈ دی جاتی ہے اس کو فنشر فیڈ کہتے ہیں جو کہ 30 سے 38 ویں دن تک دی جاتی ہے۔جس میں مکئی کی مقدار زیادہ کردی جاتی اور سویا بین تقریبا اتنا ہی رہتا ہے۔ اس سٹیج پر برائلر تیار ہوچکی ہوتی ہے لیکن یہ برائلر دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ جیسے اس کو کچھ کھانے کو نہیں دیتے۔ پھر اس برائلر میں ہوا بھرنے یعنی اس کو موٹا تازہ دکھانے کے لیے چوتھی سٹیج کی فیڈ جس کو "فیٹنر فیڈ” کہتے ہیں دی جاتی ہے۔

    اس سٹیج میں مکئی فیڈ میں شامل نہیں کی جاتی بلکہ اس میں سویا بین کو روسٹ کرکے شامل کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ اس میں فش میل شامل ہوتی ہے۔ فش میل وہ مچھلی ہوتی ہے جو بکتی نہیں تو اس کو خشک کرکے سکھا کر اس کا پاوڈر بنالیا جاتا ہے۔ اور پھر اس کو فیڈ میں شامل کیا جاتا ہے۔۔مکئی لو فائبر اور ہائی انرجی ائیٹم ہے۔ جبکہ سویا بین ہائی انرجی، اور بریلر کے نظام انہضام کے میٹابولزم کو تیز کرنے کے کام آتا ہے۔ جبکہ فش میل پولٹری کے لیے ضروری امائنو ایسڈ جیسے لائیسین اور میتھی اون شامل ہوتے ہیں اس کے علاوہ فش میل میں ضروری منرلز شامل ہوتے ہیں۔

    اب اس ساری فیڈ میں جو چیز یا را میٹریل ہمیں باہر سے منگوانا پڑتا ہے وہ سویا بین میل ہے۔سویا بین اور سویا بین میل یہ دو مختلف چیزیں ہیں سویا بین کی جب کرشنگ کی جاتی ہے تو اس دوران جو سویا بین آئل کے ساتھ جو چیز بچتی ہے اس کو سویا بین میل کہتے ہیں۔ چوتھی سٹیج میں ہمیں روسٹڈ سویا بین چاہیے ہوتا ہے۔ اور یہ ہم باہر سے منگواتے ہیں۔

    2018 سے پہلے تک پاکستان پام آئل اور سویا بین کے ذریعے ہی ایکسٹریکشن کرکے سویا بین آئل سے ہی بناسپتی گھی اور بناسپتی آئل تیار کرتا تھا لیکن چونکہ یہ امپورٹ کرنا پڑتا یے جس امپورٹ بل متاثر ہوتا تھا تو عمران خان نے سویا بین کی بجائے سرسوں کو پروموٹ کرنا شروع کردیا۔ جس سے ایک تو سرسوں کی کاشت بہتر ہوئی اور دوسرا سویا بین سے امپورٹ بل کم ہوا۔اس سے لوکل کسان کو بھی کافی فائدہ ہوا۔

    لیکن پولٹری فیڈ میں سویا بین اور سویا بین کا متبادل کوئی نہیں ہے۔ اب روف کلاسڑہ اور طارق چیمہ کے پالتو یہ افواہیں پھیلارہے کہ سویا بین جس کمپنی کا ہے وہ کمپنی امریکن جی ایم او کمپنی ہے اور اس کا سویا بین حرام ہے، مکس بریڈ ہے وغیرہ وغیرہ۔۔جبکہ یہ چ و تیئے اس قوم کو 2018 سے پہلے اسی کمپنی کے سویا بین کا بناسپتی گھی اور بناسپتی تیل میں فرائی کرکرکے پکوڑے اور سموسے کھلاتے رہے اور مچھلی فرائی کھلاتے رہے اور اب یہ بیج حرام ہوگیا۔۔

    جبکہ اصل ایشو یہ ہے کہ ایک تو ایل سیز کی وجہ سے لوگ سویا منگوا نہیں پارہے اور جو منگوا رہے ہیں۔۔ان کے ساتھ یہ ظلم کیا جارہا ہے کہ ان لوگوں نے سویا بین پر جو سبسڈی دی ہوئی تھی عمران خان کی گورنمنٹ میں۔۔اس سبسڈی کو ختم کردیا ہوا جس کی وجہ سے امپورٹر اور امپورٹڈ حکومت کے درمیان پھڈا پڑا ہوا ہے اور سارا مال کراچی میں سیز کردیا گیا ہے اور یہاں پاکستان میں پولٹری کو فیڈ کی فراہمی ڈسٹرب ہورہی ہے۔ ابھی تو سٹاک میں موجود فیڈ چل رہی ہے۔اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو دسمبر کے بعد یہاں پولٹری پر دما دم مست قلندر ہوگا۔

  • پاکستان پیکٹ, کرومیٹک اور باغی ٹی وی کے اشتراک سے تحریری مقابلے کا انعقاد — بلال شوکت آزاد

    پاکستان پیکٹ, کرومیٹک اور باغی ٹی وی کے اشتراک سے تحریری مقابلے کا انعقاد — بلال شوکت آزاد

    سیگریٹ نوشی اور منشیات کے حوالے سے میں پہلے بھی ایک بلاگ میں بتاچکا ہوں کہ مجھے اس حرکت سے کس قدر نفرت ہے؟

    خیر پاکستان پیکٹ اور کرومیٹک اس حوالے سے پاکستان میں بہت اچھا کام کر رہے ہیں تاکہ عوام کو ناصرف تمباکو نوشی کے مضر اثرات بارے آگاہی حاصل ہو بلکہ ساتھ ساتھ یہ پلیٹ فارمز اس بات کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ریاستی اور حکومتی سطح پر ایسی قانون سازی ہو اور ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جس سے تمباکو نوشی کے عفریت کو لگام ڈالی جاسکے۔

    اس مقصد سے پاکستان پیکٹ اور کرومٹیک باہمی اشتراک سے مختلف کیمپینز اور عوامی آگاہی پروگرام اور مقابلہ جات منعقد کرتے رہتے ہیں جس میں ڈیجیٹل میڈیا کی حد تک باغی ٹی وی ان کے شانہ بشانہ رہتا ہے۔

    پاکستان پیکٹ کا مقصد حکومت پر زور دینا ہے کہ وہ ایسی اصلاحات متعارف کرائے جو ہمارے بچوں کو مہلک سگریٹ سے محفوظ رکھیں۔

    2015 میں PHW کے سائز کو فی پیک 85 فیصد تک بڑھا دیا گیا تھا۔ تاہم، تمباکو کی صنعت کے دباؤ کے تحت، حکومت نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا اور اس کے بجائے 2017 میں ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں صرف 60% PHW کا اعلان کیا گیا، جو اس وقت نافذ العمل ہے۔

    پاکستان پیکٹ کا مقصد وزارت صحت کو اس مشن میں شامل کرنا ہے کہ وہ سگریٹ کے پیک کے PHW سائز پر غور کرے اور اسے 85% تک بڑھائے۔

    مزید یہ کہ پاکستان تمباکو کنٹرول پر ایف سی ٹی سی – ڈبلیو ایچ او کے فریم ورک کنونشن کا دستخط کنندہ ہےکیونکہ پاکستان میں تمباکو کا استعمال بہت زیادہ ہے جو کہ درحقیقت اموات کی بلند شرح کی نشاندہی کرتا ہےجبکہ تمباکو کے بڑے فروخت کنندہ کی طاقت کے استعمال کی وجہ سے قوانین کے نفاذ میں اب بھی بہت سی خامیاں موجود ہیں۔

    تشویشناک بات یہ ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد بچوں پر مشتمل ہےاس لیے ہماری نسل نو کے صحت مند مستقبل کو یقینی بنانے میں ایک اہم قدم تمباکو کی مصنوعات تک رسائی کو محدود کرنا ہے۔

    تاہم، تمباکو کمپنیوں نے بھی احتیاط سے اس کی نشاندہی کی ہے اور وہ مسلسل "متبادل تمباکو نوشی کرنے والوں” کی تلاش میں ہیں۔

    لہٰذا، مخالفت کی مہمیں جو عام سے خواص دونوں طبقوں کو مربوط کرتی ہیں تمباکو کی صنعت کی مارکیٹنگ کا کامیابی سے مقابلہ کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

    انہی مقاصد کو عوام تک پہنچانے میں پاکستان پیکٹ, کرومیٹک اور باغی ٹی وی پیش پیش ہیں اور اس حوالے سے عوامی مقابلوں کا وقتاً فوقتاً انعقاد کرکے اس مقدس مشن کو پھیلا رہے ہیں۔

    اس سال پہلے پوسٹ کارڈ مقابلے کا کامیاب انعقاد کیاتھا اور اب سال کے آخر میں تحریری مقابلہ منعقد کروایا جارہا ہے حس کی تفصیل دی جارہی ہے۔

    جو لوگ لکھنے کا ہنر جانتے ہیں وہ ضرور اس تحریری مقابلے کا حصہ بن کر پاکستان پیکٹ, کرومیٹک اور باغی ٹی وی کے شانہ بشانہ ہوں۔

    تحریری مقابلہ شروع ہونے کی تاریخ یکم دسمبر 2022 ہے۔

    کرومیٹک, پاکستان پیکٹ اور باغی ٹی وی لایا ہے تحریری مقابلہ سیزن 01

    انعامی رقم

    پہلا انعام = مبلغ دس ہزار روپے صرف!!!

    فاتح کا اعلان پاکستان کے تمام ڈیجیٹل اور الیکٹرانک میڈیا کے سامنے ایک شاندار تقریب میں کیا جائے گا۔

    عنوان اور تھیم = ہیلتھ لیوی (صحت ٹیکس)

    کون کون حصہ لے سکتا ہے؟

    بھئی, کوئی بھی پاکستانی شہری جس کی عمر 12 سے 30 سال تک ہو تحریری مقابلے میں شامل ہونے کا اہل ہے۔

    کس طرح شرکت ممکن ہے؟

    اپنی انٹری یا تو بلاگ، مضمون، فیچر یا کسی بھی اور تحریری صنف میں لکھ سکتے ہیں۔

    تحاریر کیسے بھیجیں؟

    1-سب سے پہلے کرومیٹک, پیکٹ پاک اور باغی ٹی وی کے ٹوئٹر, انسٹاگرام اور فیسبک اکاؤنٹس کو فالو کریں۔

    2- دیے گئے واٹس ایپ نمبر پر اپنی تحاریر ارسال کریں۔

    3- یا اپنے نام، شہر، عمر، رابطہ نمبر اور سامنے اور پیچھے کی CNIC تصویر کے ساتھ "” ای میل کے ذریعے اپنی تحاریر ارسال کریں۔

    مزید تفصیلات کے لیے Pakistanpact.com یا trustchromatic.com یا baaghitv.com کی ویب سائٹ وزٹ کریں۔

    تحریری مقابلے کے فاتح کا اعلان 25 دسمبر 2022 میں کیا جائے گا۔

    پاکستان پیکٹ – کرومیٹک – باغی ٹی وی

    تو پھر سوچ کیا رہے ہو, اٹھاؤ قلم اور آؤ مد مقابل اور جیتو دس ہزار کی انعامی رقم وہ بھی ایک شاندار تقریب میں۔

  • کونسے رواج ختم ہونے چاہئے؟ — ریاض علی خٹک

    کونسے رواج ختم ہونے چاہئے؟ — ریاض علی خٹک

    مجھے بہت سے رواجوں سے شدید نفرت ہے. لیکن سارے رواج برے نہیں ہوتے. جیسے سواریوں والے سمندری جہازوں کا ایک رواج ہے. سمندر میں کوئی حادثہ ہو جائے تو لائف بوٹس پر سب سے پہلے بچوں کو بٹھایا جاتا ہے. اس کے بعد خواتین اور پھر مرد حضرات کی باری آتی ہے. جہاز کا کپتان سب سے آخر میں لائف بوٹ پر آئے گا.

    ہمارے معاشرے میں والد گھر کے جہاز کا کپتان ہوتا ہے. وقت کے اس سمندر میں خاندان کا سفینہ منزل کی طرف لے کر جانے کا بوجھ یہاں اکثر اسی تنہا کپتان کے کمزور کندھوں پر ہوتا ہے. وقت کا سمندر اس وقت امتحان پر ہے. مہنگائی کی منہ زور لہروں کے درمیان سے ضروریات زندگی کھینچ کر یہ سفر جاری رکھنا مشکل ہوتا چلا جا رہا ہے.

    ایسے میں کچھ رواج بہت اچھے ہیں. مرد اپنی اکثر خواہشات کا گلا گھونٹ کر گھر کے بچوں اور خواتین کی زندگی آسان کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں. لیکن کچھ معاشرتی رواج بہت برے ہیں جو کپتان کی مشکلات کو ان پہاڑ نما موجوں کے مقابل کر دیتے ہیں جن کو سر کرتے کرتے وہ خود بھی تھک کر چور ہو جاتا ہے اور گھر کا سفینہ بھی شکستہ ہو جاتا ہے.

    معاشرہ اگر اپنے ان کمزور کپتانوں پر کچھ ترس کھائے اور رسم و رواجوں کو کچھ سمیٹ لے کچھ محدود کر لے تو بہت سے لوگوں کی زندگی آسان ہو جائے گی. وقت کے اس سمندر میں تنہا سفر نہیں ہوتے. بہت کچھ ہمیں ایک دوسرے کیلئے کرنا ہوتا ہے. رواج بھی وہ بھنور ہیں جس میں سے مل کر ہی نکلا جا سکتا ہے.

    آپ لوگ بتائیں کونسے رواج ختم ہونے چاہئے.؟؟

  • کامیابی کا سفر — ریاض علی خٹک

    کامیابی کا سفر — ریاض علی خٹک

    کمر کے بل سر جھکائے پانی کے تالاب نما کھیت میں چاول کی کھیتی کبھی دیکھی ہے.؟ اکثریت سوچتی ہوگی شائد چاول کیلئے کھڑے پانی میں کاشت لازم ہے. لیکن ایسا ہے نہیں. کھڑے پانی میں چاول اس لئے لگایا جاتا ہے کہ خودرو گھاس چاول کی فصل کے جڑ پکڑنے سے پہلے کھیت میں جگہ نہ بنالے. یہ پانی گھاس اُگنے نہیں دیتا.

    کامیابی کا سفر جتنا خاموش ہو اتنا اچھا ہوتا ہے. ہماری اکثریت کامیاب ہونے کی بجائے کامیاب ہو کر دکھانا چاہتی ہے. دکھاوے کی یہ خواہش ان سے سفر سے پہلے ہی اعلانات شروع کروا دیتی ہے. آس پاس عزیز دوست رشتہ دار اپنے پرائے پھر تماشائی بن جاتے ہیں. اتنی نظروں کے بوجھ تلے یہ پھر خود بھی گھبرا جاتے ہیں اور ان کا سفر بھی ڈگمگا جاتا ہے.

    ارسطو کہتا تھا آپ تنقید سے بچنا چاہتے ہیں تو پھر نہ تو کچھ کریں نہ بولیں اور نہ ہی کچھ بنیں. لیکن اگر آپ بولنا بھی چاہتے ہیں کچھ کرنا اور بننا بھی تو تنقید لازم ہوگی. اس لئے بہتر ہے کہ تنقید کیلئے خود کو تب دستیاب کریں جب کامیابی کی فصل نے جڑ پکڑ لی ہو اور اس لہلہاتے کھیت کو چھپانا اب ممکن نہ ہو.

    فزکس میں سکیل اس مقدار کو کہتے ہیں جو ہو یعنی فاصلہ رفتار حجم کمیت وغیرہ لیکن ویکٹر اسے کہتے ہیں جہاں مقدار بھی ہو اور اس کی سمت بھی ہو. بے چینی اینزائٹی سکیلر مقدار ہے. جبکہ خوف ویکٹر ہوتا ہے. کامیابی کا سفر بے چین رکھتا ہے لیکن سفر سے پہلے اسکا شور اور اعلانات اسے باقاعدہ وہ خوف بنا دیتا ہے جو سب کی نظروں اور تنقید کے تیروں کو ایک سمت دے کر آپ کو میدان میں کھڑا کر دیتا ہے.

  • کلاسیکل کنڈیشننگ — ضیغم قدیر

    کلاسیکل کنڈیشننگ — ضیغم قدیر

    بچے اپنی ہی ماں کی پششش کی آواز پر پیشاب کرتے ہیں اسکی وجہ اکثر لوگوں کو معلوم نہیں ہے۔ لیکن اس آواز کے پیچھے بچے کے دماغ کی کنڈیشننگ چھپی ہے جس میں بچے کے دماغ کو اس آواز پر حرکت کرنے کا عادی بنا دیا جاتا ہے۔

    اس سے ریلیٹڈ ایک دلچسپ مثال کتوں پہ کئے گئے تجربے کی ہے۔

    کتے گوشت دیکھ کر منہ سے پانی نکالتے ہیں یہ دیکھ کر ایک روسی نفسیات دان پاؤلو Pavlov کافی حیران ہوا، لیکن اس نے ایک نیا تجربہ کرنے کی کوشش کی۔ اس نے گوشت دینے کیساتھ ساتھ گھنٹی بھی بجانا شروع کی، کچھ عرصہ بعد پاؤلو صرف گھنٹی بجاتا تھا اور کتوں کے منہ سے پانی نکلنا شروع ہونے لگ جاتا تھا۔

    اس کو ہم کلاسیکل کنڈیشننگ کہتے ہیں۔

    بچپن میں جب بچے شروع شروع میں پیشاب کرتے ہیں تو والدین پششش کی آواز نکالتے ہیں۔ آہستہ آہستہ بچوں کا سب کانشش دماغ اس سٹیمولائی کو پیشاب کے ایکشن سے جوڑنا شروع ہوجاتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ بچے اپنی ماں کی پششش کی آواز پہ ہی بس پیشاب کرتے ہیں۔

    یہ کنڈیشننگ اتنی مضبوط ہے کہ کچھ لوگ بڑے ہو کر بھی اس آواز پہ پیشاب کر دیتے ہیں۔ عموما بچوں کو پوٹی ٹرین کرنے کے دوران ماں کی یہ آواز اس کو اس سٹیمولائی پہ پیشاب کرنے کی عادی بنا دیتی ہے۔

  • علامہ اقبال کا کشمیر کنکشن  — اشرف حماد

    علامہ اقبال کا کشمیر کنکشن — اشرف حماد

    علامہ ڈاکٹر شیخ محمد اقبالؒ کے آبا و اجداد جنوبی کشمیر ضلع کولگام کے سوپٹ نامی گاؤں میں رہتے تھے۔ان کے والد شیخ نور محمد کشمیری تھے۔ علامہ خود کہتے تھے کہ وہ کشمیری ہیں۔ وہ کشمیری زبان میں بات بھی کرتے تھے۔ ان خیالات کا اظہار علامہ کے کشمیری خادم نے بھی ایک مقامی روز نامہ میں شائع انٹرویو میں کیا تھا۔ آغا اشرف علی اور محمد یوسف ٹینگ نے بھی ان خیالات کی تصدیق کی ہے۔

    علامہ اقبال کے استاد سید میر حسن کے متعلق بھی کہا جاتا ہے وہ کشمیری نژاد تھے۔ ڈاکٹر شیخ محمد اقبال کے پردادا شیخ جمال الدین کے چار صاحبزادے شیخ عبدالرحمان، شیخ محمد رمضان، شیخ محمد رفیق اور شیخ محمد عبداللہ کشمیر کے ابتر معاشی صورتحال سے مجبور ہو کر اٹھارویں صدی کے نصف آخر میں کشمیر سے ہجرت کرکے اور سیالکوٹ، پنجاب میں آباد ہو گئے۔ ڈاکٹر شیخ محمد اقبال کے والد شیخ نور محمد، شیخ محمد رفیق کے بیٹے تھے۔

    ڈاکٹر شیخ محمد اقبال جب سیالکوٹ سے لاہور پہنچے تو یہاں پر اُنہوں نے کشمیریوں کی قائم کردہ تنظیم ’انجمن کشمیری مسلمانان‘ میں شمولیت اختیار کی اور اس نوعیت تک اس کے سرگرم ممبر بنے کہ اُنہیں تنظیم کے ذمہ داروں نے اس کشمیری انجمن کا سیکرٹری جنرل بنا دیا۔ محمد اقبال کشمیر، پنجاب اور ہندوستان بھر میں کشمیریوں کی حالتِ زار پر رنجیدہ ہوتے اور اسے بہتر بنانے کے لئے کوششیں کرتے رہے۔ جوانی ہی میں آپ کا یہ مطالبہ تھا کہ مہاجر کشمیریوں کو ریاست کے حکمران اپنے گھروں کو واپس آنے دیں۔ اُنہیں کشمیر میں آباد ہونے اور اپنی املاک کے خود مالک ہونے کا حق دیاجائے۔ اُن کی کشمیر سے والہانہ محبت اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ ایک موقع پر اُنہوں نے فرمایا:

    سامنے ایسے، گلستاں کے کبھی گھر نکلے
    حبیب خلوت سے ، سرِطور نہ باہر نکلے

    ہے جو ہر لحظہ تجلی گر مولائے خلیل
    عرش و کشمیر کے اعداد برابر نکلے

    اس بات میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ حکیم الامت محمد اقبالؒ کو کشمیر سے روحانی، جذباتی اور بے پناہ قلبی محبت تھی جس کا اظہار اُنہوں نے اپنے کلام، مضامین، خطوط اور عمل سے کئی موقعوں پر کیا ہے۔ ڈاکٹر سر محمد اقبالؒ کو اپنے بزرگوں کے کشمیر کنکشن پر بہت ناز تھا۔ اُن کی رگوں میں دوڑنے والا لہو کشمیر کے شفق فام چناروں کی طرح سرخ تھا۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

    تنم گلے زِ خیابانِ جنت کشمیر
    دلم از حریم حجاز و نواز شیراز است
    (یعنی میرا جسم کشمیر کے چمن کا ایک پھول ہے اور میرا دل ارضِ مکہ و مدینہ اور میری صدا شیراز سے ہے‘)۔

    کشمیر سے آبائی تعلق رکھنے کے باوجود اُنہیں اس امر کا بھی گہرا احساس تھا کہ وہ اِس وادیٔ جنت نظیر کا مشاہدہ بچشم خود نہیں کرسکے۔ اسی احساسِ نے انہیں یہ اشعار کہنے پر مجبور کیا:

    کشمیر کا چمن جو مجھے دلپذیر ہے
    اِس باغ جاں فزا کا یہ بلبل اسیر ہے

    ورثے میں ہم کو آئی ہے آدم کی جائیداد
    جو ہے وطن ہمارا وہ جنت نظیر ہے

    موتی عدن سے، لعل ہوا یمن سے دور
    یا نافہ غزال ہوا ختن سے دور

    ہندوستان میں آئے ہیں کشمیر چھوڑ کر
    بلبل نے آشیانہ بنایا چمن سے دُور

    حضرت علامہؒ 1921ء میں کشمیر تشریف لائے۔ مہاراجہ پرتاب سنگھ ان کی میزبانی کے خواہش مند تھے لیکن اُنہوں نے مہاراجہ کی میزبانی سے معذرت ظاہر کی۔ انہوں نے وادی جنت نظیر کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کی سیاحت کی۔ وہ وادئ کشمیر کے قدرتی حسن سے محظوظ ہوئے۔ انہوں نے اس دوران اپنی آنکھوں سے کشمیریوں کی ناگفتہ بہ صورت حال کا بھر پور جائزہ لیا۔

    یہاں پر یہ بات اہم ہے جموں و کشمیر میں سیاسی سعی وجہد کا آغاز 1931ء میں شروع ہو چکا تھی۔ اُنہوں نے اپنی شاعری میں کشمیریوں کی بے بسی دور کرنے کا پیغام دیا۔ اُن کے دل کے آتش دان میں استقلال کی چنگاریوں کو اپنے گرم جذبات سے مزید حرارت بخشی۔ علامہ اقبال نے اپنے فرزند جاوید اقبال کے نام نصیحت نامہ کی صورت میں اپنی مشہور کتاب "جاوید نامہ” تصنیف کی ہے ۔ اصل میں یہ پوری کتاب کشمیریوں میں جاگرتی کا پیغام دیتی ہے۔ سر محمد اقبال نے اس طویل مثنوی میں کشمیر پر ایک پورا باب لکھا ہے۔ اس شعری مجموعہ میں محمد اقبال عالمِ تخیلات میں کشمیر کے عظیم اولیاء، صوفیاء اور بزرگ شاعروں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ اپنی اس تخیلاتی ملاقات کے دوران محمد اقبال کشمیر میں بانیِ اسلام میر سید علی ہمدانیؒ سے بھی ملاقات کرتے ہیں۔ وہ اُن کے حضور اپنی یہ شکایت رکھتے ہیں: ’آپ کے ماننے والے آج سخت آزمائش میں مبتلا ہیں۔ آپ نظرِ کرم فرمائیں، ہماری شکایت پر توجہ دیں ، ہمیں فرمائے کہ آپ کی مدد کب پہنچے گی’۔

    جاوید نامہ میں وہ فارسی زبان کے ایک عظیم صوفی شاعر غنیؒ کاشمیری سے بھی عالم تخیل میں باتیں کرتے ہیں۔ یہ بات بغیر کسی شک و شبہ کہی جاسکتی ہے کہ محمد اقبال کے قلب و قلم میں کشمیر رچا بسا تھا۔ 1939ء میں علامہ اقبال سفر آخرت پر روانہ ہوئے۔ اس عالمِ بقا کے سفر پر روانہ ہونے سے پہلے بھی وہ کشمیریوں کے حوصلوں کو جلا بخشتے رہے۔ انہوں نے انہی دنوں یہ دعا کی تھی:
    توڑ اس دست ز جفا کیش کو یارب جس نےروحِ آزادیِ کشمیرکو پامال کیا

    علامہ کو دُکھ تھا کہ انگریزوں نے مہاراجہ گلاب سنگھ سے 75 لاکھ نانک شاہی سکوں کا سودا کرکے پوری ریاست اس کے حوالے کی۔ علامہ اقبال نے1931ء میں کشمیریوں کی سیاسی مساعی کو منزل آشنا کرنے کے لئے ‘آل انڈیا کشمیر کمیٹی’ بھی بنائی۔ بعدازاں انہیں اس کمیٹی کا صدر منتخب کیا گیا۔ لیکن کئی مصروفیات کی وجہ سے وہ ‘آل انڈیا کشمیر کمیٹی’ کے منصب صدارت سے مستعفی ہو گئے۔ لیکن ایک فعال کارکن کی حیثیت سے کمیٹی کے تمام اجلاسوں میں باقاعدگی سے شامل ہوتے رہے۔

    غرض علامہ کا کشمیر کنکشن تاریخی، دینی، روحانی اور ثقافتی نوعیت کا تھا۔ یہ تعلق بہت مضبوط اور مستحکم تھا۔ دانائے راز عمر بھر اس کنکشن کی آبیاری اور حق ادائی کرتے رہے۔

  • لاہور میں سجے نوجوانوں کے ایک میلے کی کہانی!!! — بلال شوکت آزاد

    لاہور میں سجے نوجوانوں کے ایک میلے کی کہانی!!! — بلال شوکت آزاد

    محسنین یوتھ سکواڈ کے پہلے یومِ تاسیس پر سالانہ کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔۔۔ مورخہ ستائیس نومبر 2022 بمقام ایوانِ قائد محسنین کنونشن میں مختلف سماجی، مذہبی، صحافتی اور پیشہ ورانہ مہارت کی حامل مشہور و معروف شخصیات اور نوجوانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔۔۔

    محسنین کنونشن میں معروف صحافی و اینکر پرسن عمران ریاض خان اور موٹیویشنل سپیکر قاسم علی شاہ نے خصوصی شرکت کی جبکہ دیگر مقررین و مہمانِ خصوصی میں عبد الوارث گِل، قیصر احمد راجہ، سیف اللہ ثناء اللہ، سلیم ابنِ فاضل، فاران صدیقی، ڈاکٹر زبیر تیمی، عبید الرحمن شفیق، مدثر یوسف حجازی، حسن افضال صدیقی، عبدللہ عزام، قاری اسامہ شوکت اور میزبانوں میں قاری سیف اللہ کیلانی اور عبدالرب ساجد شامل تھے۔

    کنونشن کا باقاعدہ آغاز گیارہ بجے دن ، قاری سیف اللہ نے تلاوت قرآنِ پاک سےکیا اور بعد ازاں سٹیج سیکریٹری کے فرائض ادا کیے۔ سب سے پہلے گفتگو کے لیے جناب سیف اللہ ثناء اللہ کو دعوت خطاب دی گئی جنہوں نے تقریب کے شرکاء نوجوانوں کو وقت کی قدر پر نصیحت کرتے ہوے کہا کہ "نوجوان اس وقت کی قدر نہیں کرتے،وہ سمجھتے ہیں کہ ابھی تو ہم جوان ہیں، ابھی کافی وقت پڑا ہے، وقت سے سیکھ لیجیے، اس سے پہلے کہ وقت آپکو سکھادے۔”

    پھر جناب فاران صدیقی کو دعوت خطاب دی گئی جنہوں نے نوجوانوں کو اللہ کے پیغام بابت کہا کہ "اللہ تعالی نے ہمارے لیے قرآن مجید کی صورت میں محبت کا پیغام بھیجا ہے، لیکن ہم اسے پڑھتے ہی نہیں، وہ محبوب ہی کیا جسے محبت بھرا پیغام ملے اور وہ اسے پڑھے ہی نا”

    جناب قیصر احمد راجہ صاحب کا نوجوانوں سے کہنا تھا کہ "اگر ہم اپنی سوسائٹی میں بیلنس لانا چاہتے ہیں تو ہمیں دینِ فطرت کی طرف آنا ہوگا۔”

    جناب عبید الرحمن شفیق کا کہنا تھا کہ "پاکستان کو اللہ نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے، جن میں سے ایک بہت بڑی نعمت یہ ہے کہ پاکستان کی آبادی کا ستر فیصد نوجوان ہیں، جبکہ ہمارے ہاں لہو کو گرمایا جاتا ہے لیکن حقائق سے نظریں چرائی جاتی ہیں ۔”

    جناب عمران ریاض خان کا نوجوانوں سے خطاب میں کہنا تھا کہ "جیتنا چاہتے ہو تو مل کر چلنا پڑے گا وگرنہ کچل دیے جاؤگے۔”

    جناب قاسم علی شاہ صاحب نے کہا کہ "نوجوان یاد رکھیں کہ کرپشن کا تعلق غربت سے نہیں، بلکہ بےیقینی اور خوف سے ہے۔”

    جناب مجاہد گیلانی کا کہنا تھا کہ "ایک بات یاد رکھیے گا کہ اگر آپ کو اپنے حق کے لیے اور آزادی کے لیے قلم کی طاقت کو چھوڑ کر گن کی طاقت کا استعمال کرنا پڑتا ہے تو آپ تب بھی معتدل ہیں۔”

    اور جناب عبد الوارث گِل کا کہنا تھا کہ "اگر ہمیں پتہ چل جاتا کہ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے، تو ہم آج یہاں نہ ہوتے بلکہ اس سے دو، تین قدم آگے ہوتے۔”

    اسکے علاوہ دیگر سپیکرز سلیم ابنِ فاضل ، ڈاکٹر زبیر تیمی اور مدثر یوسف حجازی نے بھی محسنین کنونشن کے شرکاء نوجوانوں سے خطاب کیا اور انہیں معاشرے میں معتدل اور موثر رہنے کے حوالے سے راہنمائی پر مبنی خطاب کیا۔۔۔

    تقریب میں مختلف مواقعوں پر حسن افضال صدیقی، عبدللہ عزام اور قاری اسامہ شوکت نے تلاوت، نعت، اسماء الحسنی اور ترانے بھی پیش کئے۔۔۔

    جبکہ محسنین یوتھ سکواڈ کے تعارف اور سیلاب کے دوران محسنین رضاکاروں کی خدمات کے بارے میں ڈاکومنٹریز بھی پیش کی گئیں۔

    تقریب کے دوران مختلف مواقع پر محسنین یوتھ سکواڈ کے رہنما محسنین جناب عبدالرب ساجد صاحب نے شرکاء کنونشن سے کنونشن کے انعقاد کے مقاصد اور محسنین کے وژن اور نطرئیے کے بارے میں گفتگو کے دوران کہا کہ "محسنین کنونشن کسی سیاسی اور مذہبی جماعت کا پروگرام نہیں، بلکہ نوجوانوں کو روشن مستقبل دینے اوران کو عملی میدان میں راہنمائی فراہم کرنے کا ایک موثر پلیٹ فارم ہے، ہمارے نوجوان کا شعور اتنا بیدار ہوچکا ہے کہ اب وہ کسی مذہبی اور سیاسی انتہا پسندانہ بیانیے کو قبول نہیں کریں گے، ہم نوجوانوں کے شعور کو اس مقام پر لانا چاہتے ہیں کہ ان کے سامنے جو بھی گفتگو ہو یہ متاثر ہونے کے بجائے اس کو شعور کی نگاہ سے دیکھیں اور اس کے صحیح یا غلط کا فیصلہ خودکریں، نظریات کے اختلاف کو قبول کرنا معاشرے کا حسن ہے، کسی کےنظریے کا احترام اور چیز ہے اور حمایت کرنا اور چیز ہے۔”

    محسنین کنونشن شام 3 بجے تک چلا جس میں لاہور و گر د ونواح سے مختلف شعبہ زندگی سے نوجوانوں اور بزرگوں نے شرکت کی ، شرکاء محفل نے محسنین یوتھ سکواڈ کے ویژن اور مشن کو سراہا اور محسنین کنونشن کے کامیاب انعقاد پر پوری محسنین یوتھ سکواڈ ٹیم کو مبارکباد دی۔

  • موسمی "پنڈتوں” کی پیشین گوئیاں  — اشرف حماد

    موسمی "پنڈتوں” کی پیشین گوئیاں — اشرف حماد

    ’’پیش گوئی ‘‘ یا پشین گوئی فارسی ترکیب ہے یعنی دو فارسی لفظوں کا "معجون” مرکب۔ پیش کے معنی ہیں آگے یا سامنے اور گوئی کے معنی ہیں بات یا باتیں کہنا۔ اسی لیے جب کسی کے آگے یا سامنے کوئی چیز رکھتے ہیں تو اسے پیش کرنا کہتے ہیں۔ یا ماڈرن انداز میں Present کرنا کہتے ہیں۔ جیسے پیشِ خدمت ، پیش رو (یعنی آگے جانے والا)، پیشِ نظر(یعنی نظر کے سامنے)، پیش قدمی (یعنی قدم آگے بڑھانے کا عمل)اور پیش کار وغیرہ۔

    پیش امام میں بھی یہی "پیش” نتھی کیا گیا ہے یعنی ’’آگے‘‘ ہے کیونکہ وہ نماز میں سب سے آگے کھڑا ہوتا ہے۔ یا اسے آگے کھڑا کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اسے پیش امام کہتے ہیں۔ پیش امام تو اہل تشیع کا با اختیار ہوتا ہے۔ جب کہ سنیوں کا پیش امام "ڈیجیٹل” ہوا کرتا ہے۔ سلو یا فاسٹ ڈیجیٹ کے حساب سے وہ امامت کراتا ہے۔ ان ڈیجیٹس کا استعمال مسجد کمیٹی کے ریٹائرڈ ممبران بخوبی استعمال کر سکتے ہیں۔

    اسی طرح "پیش بینی” کے معنی ہیں پہلے سے دیکھ لینا اور اس سے مطلب ہے دُور اندیشی یا آنے والے حالات کا پہلے سے اندازہ کرلینا۔ دور اندیش اصل میں گھر کے بڑے بوڑھے ہوتے ہیں۔ حالانکہ نزدیکی نظر ان کی کمزور ہوتی ہے، لہٰذا انہیں عینک کا استعمال کرنا پڑتا ہے اور بہت زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ مگر دور کی نظر ان کی بہت تیز اور تیر بہدف ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بقول سعدی شیرازیؒ جو کچھ جوان آئینہ میں دیکھتا ہے وہ یہ بزرگ حضرات خشتِ خام تو کیا کنکریٹ دیوار میں بھی دیکھ سکتے ہیں، جیسے یو ٹیوب کے ایچ ڈی ویڈیوز۔

    فارسی میں اسم کے آگے ’’ین ‘‘ لگانے سے صفت بنائی جاتی ہے، جیسے نمک سے نمکین، رنگ سے رنگین،زر سے زرّین یا زرّیں، عنبر سے عنبرین، مطلب عنبر سیب سے سیب عنبرین وغیرہ۔ پتہ نہیں سیب عنبر کے متعلق کس نے بد گوئی کی تھی کہ یہ سرے سے ناپید ہوا بلکہ ناپید کیا گیا۔ اب تو یہ کسی دلہن کے خواب میں بھی نہیں آتا تاکہ اس کے بیٹا پیدا ہو جاتا۔

    اسی اصول پر لفظ پیش (پ ے ش)سے فارسی میں صفت بنی ’’پیشیِن‘‘ (پ ے ش ی ن ) ،جس کے معنی ہیں اگلا یا آگے کا، سامنے کا، پہلا۔ اسے اردو میں ’’پیشین ‘‘یعنی اعلان ِ نون کے ساتھ بھی لکھتے ہیں اور’’ پیشیں ‘‘یعنی نون غنے کے ساتھ بھی۔ لفظ پیشین سے ترکیب بنی ہے پیشین گوئی ،لفظی معنی ہیں پہلے سے کہنا ۔ جب آگے آنے والے واقعا ت و حالات کے بارے میں ان کے رونما ہونے سے پہلے بتادیا جائے تو اسے پیشین گوئی کہتے ہیں ۔جو شخص آنے والے حالات کے بارے میں پہلے سے کچھ بتا دے اسے پیشین گو کہتے ہیں، چاہے وہ سیاسی واردات ہوں یا موسم کا حالِ بد ہو۔

    لیکن ’’مستقبل کے حالات کی پہلے سے خبر دینا ‘‘کے معنوں میں پیشین گوئی بہتر ہے۔ البتہ آج کل ٹی وی پر خبریں پڑھنے والے بعض حضرات اسے ’’پیشن ‘‘ گوئی بولتے ہیں، مثلاً محکمۂ موسمیات نے بارش کی ’’ پیشن گوئی ‘‘ کی ہے ، یعنی نہ پیش اور نہ پیشین بلکہ ایک نیا خود ساختہ لفظ پیشن بولا جارہا ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے کشمیریوں نے ظہر کو پیشن میں بدل دیا ہے۔

    لفظ پیش گوئی کی تاریخ پرانی ہے۔ اگلے وقتوں میں تنجیم داں ہوا کرتے تھے جو مستقبل کے متعلق پیشین گوئیاں کرتے تھے۔ پھر جمشید کے پیالے میں گلوبل ولیج دیکھا جاتا تھا۔ بعد ازاں شاہ نعمت اللہ علیہ رحمہ نے پیشین گوئیاں کیں جو ایک ایک کرکے پوری ہو رہی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کشمیریوں اور کشمیر کے متعلق ان کی پیشین گوئیوں میں Delay Tactics سے کام لیا جارہا ہے۔
    پیشین گوئیاں موسمی، سیاسی، سماجی، نوکر شاہی اور کنبے کے "پنڈت” کرتے آئے ہیں، مستقبل میں بھی کرتے رہیں گے۔ اور گھبرائے گا نہیں وہ یہ فریضہ بلا معاوضہ انجام دیتے رہیں گے۔
    بہرحال پیشین گوئیاں تب بھی تھیں اور اب بھی ہو رہی ہیں۔ مگر اب انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا میں ان کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کو سب زیادہ ہائپ دی جارہی ہے جس سے زندگی کا کارواں رکنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ پیش گوئی ایک اندازہ ہے، امکان ہے۔ اسے ایسا ہی رہنے دیں۔ اس پر افواہیں پھیلا کر سیاست نہ کی جائے۔ یہ آپ کا اس مظلوم قوم پر بڑا احسان ہوگا۔

  • قوم بالغ ہو رہی ہے!!! — ریاض علی خٹک

    قوم بالغ ہو رہی ہے!!! — ریاض علی خٹک

    بچے اپنے خوف پیدائشی نہیں لے کر آتے. یہ خوف پالنے والے اسے دیتے ہیں. وہ اسے ڈراتے ہیں سو جاو ورنہ فلاں آجائے گا اور بچہ سہم کر آنکھیں بند کر لیتا ہے. یہ کھا لو یہ نہ کھاو ورنہ بھوت بھو بھو کرے گا. اور بچہ ڈر کر بات مان لیتا ہے. بچہ اپنے بڑوں پر اعتبار نہیں اعتماد کرتا ہے. اسکا یہ اعتماد اسے بڑوں کی باتوں کا یقین دلاتا ہے.

    کسی قوم کیلئے 75 سال بہت ہوتے ہیں. اتنے سالوں میں یہ لڑکپن سے نکل آتی ہے. آپ اسے باو بھو کر کے مزید ڈرا نہیں سکتے. یہ بچپن کا وہ دور نہیں جو ہر جھوٹی سچی کہانی پر وہ اعتبار کر لے. اب وہ خود تحقیق بھی کرتے ہیں اور تصدیق بھی. اب کمزور کہانیاں مزید چل نہیں سکتیں. خاص کر جب بڑوں پر اعتماد کمزور ہو جائے تب ایسی ہر کہانی نفرت پیدا کرتی ہے.

    قوم بالغ ہو رہی ہے. اب بڑوں کو بھی حقیقت کے میدان پر آنا ہوگا. یہ پرانے کھیل اب مزید چل نہیں سکتے. کسی قوم کو سیلاب آفات اور مشکلات نہیں مٹاسکتی. یہ تو اسے ایک قوم بناتے ہیں. قومیں تب ختم ہوتی ہیں جب ایک دوسرے پر اعتماد ہی ختم ہو جائے. تب گھر بھی بکھر جاتے ہیں اور قوم بھی.

  • محسنِ پاکستان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    محسنِ پاکستان!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ڈاکٹر عبدالسلام کی برسی پر اُنکی خدمات پر پوسٹ کی تو چند لوگوں نے کمنٹ میں خصوصی طور پر کہا کہ محسنِ پاکستان پر بھی کچھ لکھوں تو لیجیے معلومات کے لیے محسنِ پاکستان جناب عبدالستار ایدھی صاحب پر بھی ایک پوسٹ حاضر ہے۔ گو اُن جیسی قدآور شخصیت پر خاکسار کی کیا اہلِ علم۔و دانش کی لاکھوں پوسٹ یا مضامین بھی ہوں تو ناکافی ہیں مگر اہلِ علم کی تشنگی بڑھانے کے لئے گھڑے میں ایک کنکری ہم بھی ڈالے دیتے ہیں۔

    محسنِ پاکستان جناب عبدالستار ایدھی صاحب بھارتی گجرات کے چھوٹے سے قصبے بنتوا میں 28 فروری 1928 میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ یند کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آئے اور 1957 میں آنے والی چینی وبا ایشین فلو میں رضاکار کے طور پر کام شروع کیا۔ یہیں سے اُنہوں نے اپنی پہلی ایمبولینس خریدی اور انسانیت کی خدمت میں جُت گئے۔
    اپنی شریکِ حیات بلقیس ایدھی جو خود پیشے کے اعتبار سے نرس تھیں کے ساتھ ملکر ایدھی فاؤنڈیشن قائم کی جسکا مقصد پاکستان میں انسانوں ہی کہ نہیں جانوروں کی بھی زندگی بچانا اور خدمت کرنا تھا۔

    ملک بھر میں ایمبولنسیز کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا جس میں 1800 سے زائد ایمبولینسیز موجود ہیں۔
    پاکستان میں جہاں کہیں آفت ، سیلاب ، زلزلے آتے ایدھی صاحب کی فاؤنڈیشن وہاں وہاں حکومتی اداروں سے پہلے پہنچتی۔ ملک کو جب دہشتگردی نے لپیٹا تو ہر خود کش دھماکے میں پہلے پہلے اُنکی سروس پہنچتی۔ ایدھی صاحب انسانیت کو مذہب مانتے تھے۔ وہ بلا کسی رنگ، نسل، مذہب ، زبان کی تفریق کے ہر کسی کی مدد کو پہنچتے۔
    یتیموں کا پرسانِ حال یہ محسنِ پاکستان، 20ہزار سے زائد بچوں کو پالتا رہا۔ کئی یتیم بچوں کے والد کے خانے میں ایدھی صاحب کا نام اور والدہ کے خانے میں بلقیس ایدھی صاحبہ کا نام آج بھی درج ہے۔

    کوئی بھی کیسی بھی مشکل میں ہوتا، ایدھی صاحب کا در اُسکے لیےکھلا ہوتا۔ یتیم خانے، سکول، ہسپتال، ڈسپنسریاں ، بے گھر افراد کے لیے رہائش گاہ، جانوروں کے لیے محفوظ پناہگاہیں، نشے کے عادی افراد کے علاج کے سینٹر۔ غرض کیا کیا ہے جو محسنِ پاکستان عبدالستار ایدھی صاحب نے نہیں کیا۔

    اُنکا فلاحی کام محض پاکستان تک محدود نہیں تھا بلکہ دیگر ممالک میں بھی جب کوئی قدرتی آفت آتی تو ایدھی فاؤنڈیشن دل کھول کر اُنکی مدد کرتی۔ یہاں سے راشن، کپڑے، خوراک، ادوایات ان ممالک کو بھیجی جاتیں۔

    ایدھی صاحب کو اپنی زندگی میں کئی ملکی و غیر ملکی اوراڈز سے نوازا گیا مگر میں کہتا ہوں کہ یہ ان ایوارڈز کی توقیر ہے کہ اِنکو ایدھی صاحب کو دیا گیا۔

    ایدھی صاحب کے دو اقوال یہاں نقل کرنا چاہوں گا جس سے اندازہ ہو گا کہ محسنِ پاکستان عبدالستار ایدھی کس قدر بلند سوچ کے مالک تھے۔

    1.”کئی برس بیتنے کے بعد اب بھی مجھ سے کچھ لوگ سوال اور شکایت کرتے ہیں کہ آپ اپنی ایمبولینس میں کسی ہندو یا عیسائی کو کیوں لے جاتے ہیں؟ تو میں اُنہیں جواب دیتا ہوں: کیونکہ میری ایمبولینس تم سے زیادہ مسلمان ہے”.

    2. "کم تعلیم یافتہ ہونا محض اّنکے لیے معذوری ہے جو اپنی تمام عمر چلنے پھرنے اور بولنے میں گزارتے ہیں جبکہ اُنکےدماغ سوئے رہتے ہیں”.