Baaghi TV

Category: متفرق

  • باطل آوازیں!!! — ریاض علی خٹک

    باطل آوازیں!!! — ریاض علی خٹک

    باطل آوازیں یا The call of the void ہماری نفسیات کا ایک حصہ ہیں. کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے آپ کسی پہاڑ کی چوٹی پر کھڑے ہیں نیچے اتھاہ گہرائی ہے. ایک قدم اور آپ نیچے گر سکتے ہیں. آپ کے دل میں خیال آتا ہے یہ ایک قدم اٹھا کر دیکھ نہ لوں.؟

    سڑک کنارے تیز رفتار آتی گاڑی کے سامنے خواہش ہوئی سامنے نہ چلا جاوں. ہجوم میں اچانک ایک تیز چیخ مارنے کی خواہش کبھی ہوئی ہے؟ . بہت سے لوگ اس کیفیت سے روشناس نہ ہوں گے. بہت سے یاد کریں گے تو ان کو یہ اندر کی آواز یاد آجاتی ہے.

    ہم سب کے پاس فیصلے کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے. ہمارا دماغ نہ صرف ایک ہی وقت بہت سے فیصلے کر سکتا ہے بلکہ اسے اپنی اس صلاحیت کا بخوبی پتہ بھی ہوتا ہے. ہم اچھے فیصلے بھی کر سکتے ہیں اور برے فیصلے بھی. ایک پہاڑ کی چوٹی پر دماغ جب نیچے کا منظر دیکھتا ہے تو یہ نہیں کہتا کہ چھلانگ لگا لو بلکہ گھبرا کر کہتا ہے ” کہیں چھلانگ ہی نہ لگا لو”

    ہر ایک کا اپنا اینزائٹی لیول ہوتا ہے. کچھ لوگ فیصلوں میں کلئیر ہوتے ہیں کچھ نہیں. کچھ کا دماغ فوری تجزیہ کرتا ہے کچھ گومگو رہتے ہیں. جو جتنا کنفیوز ہوتا ہے اتنا ہی وہ ادھوری بات لیتا ہے. اسے لگتا ہے جیسے دماغ نے خواہش کی ہو چھلانگ لگا دو. اچھے برے اعمال میں بھی یہی باطل آوازیں دماغ اٹھاتا ہے. جس کا ایمان اور یقین جتنا مضبوط ہوتا ہے اتنا ہی کم وہ یہ باطل آوازیں سنتا ہے اور جس کا جتنا کمزور ہوگا اتنی ہی زیادہ اس کی باطل خواہشات پیدا ہوں گی.

  • کبھی آپ نے یہ آیت پڑھی ہے ؟ — فرقان قریشی

    کبھی آپ نے یہ آیت پڑھی ہے ؟ — فرقان قریشی

    تمہارے رب کا کلام سچائی اور انصاف کے اعتبار سے مکمل ہے اور اس کی بات کو بدلنے والا کوئی نہیں ۔ (الانعام 06:115)

    اس آیت سے آپ نے کیا سمجھا ہے ؟

    یقیناً آپ کو اس میں قرآن پاک کی تعریف نظر آئے گی ، لیکن میں آپ کو یہ آیت ایک اور رخ سے دکھاؤں ؟

    یہ بات سنہ 627ء کی ہے جب آپ ﷺ خندقیں کھدوا رہے تھے تو زمین سے ایک بڑی سی چٹان نکلی جو صحابیوں سے نہیں ٹوٹ رہی تھی ۔

    اس پر آپؐ خود اٹھے ، اپنی چادر کو مٹی پر رکھا اور اس چٹان پر کدال ماری اور فوراً یہ آیت پڑھی کہ تمہارے رب کا کلام سچائی اور انصاف کے اعتبار سے مکمل ہے اور اس کی بات کو کوئی نہیں بدل سکتا ۔

    صحابہ کہتے ہیں کہ ہم کھڑے آپؐ کو دیکھ رہے تھے اور ہم نے دیکھا کہ آپکی ضرب سے ایک چمک پیدا ہوئی ، پھر آپؐ نے دوبارہ ضرب لگائی اور ایکبار پھر چنگاری نکلی اور آپؐ نے یہ آیت پڑھی ، اور جب آپؐ نے تیسری ضرب لگائی تو ہم نے ایک بار پھر چمک دیکھی اور وہ چٹان ریزہ ریزہ ہو گئی ۔

    لیکن جب آپؐ خندق سے باہر نکلے ، اپنی چادر اٹھائی اور بیٹھ گئے تو سلمان فارسیؓ کہتے ہیں کہ …

    یا رسول اللہؐ ! جب آپ ضرب لگا رہے تھے تب ہمیں ایک چمک نظر آئی تھی ، اس پر آپؐ نے پوچھا کہ تم لوگوں نے وہ چمک دیکھی تھی ؟ صحابی نے کہا کہ جی اور اس پر آپؐ نے فرمایا کہ …

    جب میں نے پہلی ضرب لگائی تو مجھے کسریٰ اور اس کے ارد گرد کے شہر دکھائے گئے (یعنی پرشین امپائر) جسے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ، جب میں نے دوسری ضرب لگائی تو مجھے قیصر اور اس کے ارد گرد کے شہر دکھائے گئے (یعنی رومن امپائر) جسے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور جب میں نے تیسری ضرب لگائی تو مجھے حبشہ اور اس کے اردگرد کے شہر دکھائے گئے جسے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا لیکن سنو ! حبشیوں کو ان کے حال پر رہنے دینا یہاں تک کہ وہ تمہیں کچھ نہ کہیں (سنن نسائی 3178)

    اس واقعے کے بعد آپؐ نے تین بادشاہوں کو خط لکھنا چاہا جس پر آپؐ کو بتایا گیا کہ یہ لوگ صرف وہ خط قبول کرتے ہیں جن پر مہر لگی ہو اور تب آپؐ نے چاندی کی ایک مہر بنوائی تھی جس پر محمد الرسول اللہ لکھا ہوا تھا اور تین خط لکھے اور میں آپ کو پہلے خط کے متعلق بتانا چاہتا ہوں ۔

    یہ خط پرشین امپائر کے بادشاہ کسریٰ کی طرف تھا اور اسکی دوسری لائن میں لکھا ہوا تھا کہ محمد کی طرف سے جو اللہ کے نبی ہیں ، کسریٰ کے لیے جو فارس کا بادشاہ ہے ۔

    آپ کو یاد ہے کہ میں نے اپنی ڈاکیومنٹری کے دوسرے چیپٹر میں نویں صدی کی ایک فارسی کتاب شاہنامہ کے متعلق آپ کو بتایا تھا ؟

    یہ کتاب پرشین امپائر کے بادشاہوں کی داستانوں پر مبنی ہے اور گیارہ صدیوں پہلے لکھی اس کتاب میں اس خط کے حوالے سے ایک واقعہ لکھا ہے کہ جب کسریٰ نے یہ خط پڑھا تو وہ شدید غصہ ہوا اور کہنے لگا کہ میری رعایا میں سے ایک غلام نے میرے نام کے ساتھ اپنا نام لکھنے کی جرأت کی ؟ اور یہ کہہ کر اس نے آپؐ کا خط پھاڑ کر ریزہ ریزہ کر دیا ۔

    جب آپؐ تک اس واقعے کی خبر پہنچی تو آپؐ نے کہا کہ وہ لوگ بھی اس خط کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے (بخاری 64) آپ نے یہ بھی بتایا تھا کہ کسریٰ ہلاک ہو گا اور پھر اس کے بعد کوئی کسریٰ پیدا نہیں ہو گا ، قیصر(رومن بادشاہ ceaser) بھی ہلاک ہو جائے گا اور اس کے بھی بعد کوئی قیصر پیدا نہیں ہو گا (بخاری 3618)

    اس کے علاوہ بھی آپؐ نے ایک بات بتائی تھی جو میں تھوڑا آگے چل کر بتاتا ہوں ۔

    آپ جانتے ہیں کہ اس کے بعد واقعات کا ایک سلسلہ کیسے چلا ؟

    کسریٰ بیسکلی خسرو ii کا نام تھا ، فارس کا ایک بہت بڑا بادشاہ جس نے اپنا نام ایک ایرانی لفظ haosrauuah سے أخذ کیا تھا جس کا مطلب تھا ’’عظیم الشان‘‘ …

    لیکن عجیب بات یہ ہوئی کہ اس کے اپنے ہی بیٹے نے راتوں رات اس کا تختہ الٹ کرخسرو اور اپنے سارے بھائیوں کو قتل کروا دیا یہاں تک کہ خسرو کے پسندیدہ بیٹے اور ولی عہد کو بھی بلکہ پرشین امپائر کی تاریخ میں اس پاگل پن کے دور کو mad rampage لکھا گیا ہے ۔

    خسرو کے بعد اس کی ایک بیٹی کو پرشین امپائر کی ملکہ بنایا گیا تھا اور جب آپؐ کو یہ بات پتہ چلی تو آپؐ نے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنا حکمران ایک عورت کو بنا لیا ہو (بخاری 7099)

    لوگ عموماً اس پوائنٹ پر آ کر بادشاہ اور ملکہ کی بحث میں الجھ جاتے ہیں کہ وہ حلال ہے یا حرام لیکن اس وقت boston یعنی امیرکہ کے ایک میوزیم میں سونے اور چاندی کے دو سکے رکھے ہیں جن کے متعلق ہمیں پتہ ہے کہ یہ وہ سکے ہیں جنہیں اس ملکہ نے ایشو کرایا تھا کیوں کہ ان پر اس کا نام بھی لکھا ہے اور اس کی تصویر بھی کھدی ہے جہاں اس کی بالوں کی لٹوں میں ہیرے اور جواہرات جڑے نظر آرہے ہیں ۔

    لیکن میں اس ملکہ کے متعلق آپ کو کیوں بتا رہا ہوں ؟

    خسرو کے تختہ الٹنے اور قتل کے بعد پرشین امپائر سِول وار کا شکار ہو گئی تھی ، پاورفل خاندان ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے اور شاہنامہ میں ہی لکھا ہے کہ ان لڑائیوں کو ختم کرنے کے مقصد سے ایک طاقتور خاندان نے ہماری نئی ملکہ بوران کو اپنے ساتھ شادی کی آفر کی ، ملکہ نے لڑائی سے بچنے کے لیے صاف انکار تو نہیں کیا لیکن خاموشی سے اپنے ایک جنرل کے ہاتھوں شادی کا پیغام بھیجنے والے کا قتل کروا دیا اور امپائر ایک دفعہ پھر لڑائیوں میں ڈوب گئی ۔

    اور یہی وہ ملکہ بوران تھی جس کے متعلق آپؐ کو بتایا گیا تھا کیوں کہ ان سکوں پر اس ملکہ کا نام بھی لکھا ہے ’’بوران دخت‘‘ یعنی وہ شہزادی جس کے پاس بہت سے گھوڑے ہوں ۔اور جس کے اس شخص کو قتل کرانے کے بعد امپائر ایک بار پھر خانہ جنگی میں ڈوب گئی ۔

    لیکن خانہ جنگی میں ڈوبی پرشین امپائر ابھی بھی کمزور نہیں ہوئی تھی بلکہ ابھی بھی آدھی دنیا کے لیے ایک سوپر پاور تھی اور یہ آپ ابھی دیکھ لیں گے ۔

    آپؐ کے چار سال بعد عمر بن خطابؓ نے پرشین امپائر کے ساتھ ٹکر لی اور ایک بڑی لڑائی ہوئی تھی جسے قادسیہ کہتے ہیں ، نومبر 636ء میں لڑی جانے والی قادسیہ جس میں پرشین امپائر کی طرف سے بوران کا وہی جنرل رستم فرخ زاد تھا جس نے رشتہ بھیجنے والے کا قتل کیا تھا ۔

    اور مسلمانوں کی طرف سے سعد بن وقاصؓ تھے ۔ لڑائی سے پہلے دونوں طرف کے بڑوں کے درمیان کچھ میٹنگز ہوئی تھیں ۔

    ایسی ہی ایک میٹنگ سے پہلے امپائر کے بادشاہ جو بوران کے بعد اس کا چھوٹا سا دس سالہ بھتیجہ یزدگرد تھا ، نے اپنے غلاموں کو کہا کہ اس دفعہ جب عرب آئیں تو اس کے سر پر مٹی سے بھری ایک بالٹی ڈال دینا اور یونہی ہوا ، غلاموں نے عربوں کی طرف سے آئے عاصم تمیمی کے سر پر مٹی سے بھری بالٹی ڈال دی لیکن اس پر وہ لوگ غصہ نہیں ہوئے بلکہ عربوں میں سے ایک نے کہا کہ …

    مبارک ہو ، دشمن نے اپنی مٹی اپنی خوشی سے ہمارے حوالے کر دی
    اور جنرل رستم جو ایک سمجھدار شخص تھا اس نےغلاموں کو کہا کہ یہ تم لوگوں نے کیا کیا ، خود ہی اپنی مٹی انہیں دے دی ۔

    اس واقعے کے بعد عمرؓ نے مزید کسی میٹنگ سے منع کر دیا اور قادسیہ کی لڑائی کا باقاعدہ آغاز ہوا جو پانچ دن تک لڑی جاتی رہی تھی ۔

    لیکن میں نے آپ کو بتایا تھا کہ پرشین امپائر کمزور نہیں تھی ، ان کے پاس انڈیا سے لائے گئے war elephants کی پوری پوری corps تھیں ۔
    جن کے مقابلے میں سعد بن وقاصؓ نے ایک بڑی خاص سٹریٹجی اپنائی تھی ، جس کے متعلق پھر کبھی لیکن پانچ دن تک ایک سوپر پاور کے ساتھ یہ خونریز لڑائی چلتی رہی اور تیسرے دن دونوں سائیڈز تھکان اور زخموں سے چور چور ہو کر breaking point تک پہنچ چکی تھیں یہاں تک کہ لڑائی کی تیسری رات کا نام ہی لیلۃ الحریر یعنی کراہوں کی رات رکھا گیا تھا ، زخموں سے چور لوگوں کی کراہوں کی رات ، اور اب یہ لڑائی تلوار سے زیادہ stamena کی لڑائی بن چکی تھی ۔

    اگلے دن یہ حال تھا کہ مسلمان پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے اور پرشین امپائر انہیں جیتنے نہیں دے رہی تھی کیوں کہ ان کا رستم فرخ زاد ابھی زندہ تھا لیکن پانچویں دن … ایک بہت ہی خاص بات ہوئی ۔

    ریت کا ایک طوفان آیا جس کے بعد رستم زمین پر مرا ہوا پڑا ملا ، کچھ پتہ نہیں کہ اس کی موت کیسے ہوئی تھی ، کوئی لکھتا ہے کہ وہ اونٹوں پر تلواریں ، کلہاڑے اور تیر لے کر جا رہا تھا اور وہی اس کے اوپر گر گئے ، کوئی کچھ اور لکھتا ہے لیکن ریت کے اس طوفان میں اس کی موت کیسے ہوئی ، کوئی نہیں جانتا ۔

    لیکن رستم کی موت کے بعد پرشین امپائر نے ہتھیار ڈال دیئے اور مسلمان قادسیہ جیت گئے اور اب حدیث کا وہ باقی حصہ جس میں آپؐ نے کسریٰ کے ہلاک ہونے کے بعد کا بتایا تھا کہ اللہ کی قسم تم ان کے خزانوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے (مسلم 7329)

    پرشین امپائر کی آرمی کا صرف war flag جس کا نام درفش کیوین تھا اور جس کی بیک گراؤنڈ سٹوری بہت ہی حیرت انگیز ہے ، صرف اس وار فلیگ کو ہی ضرار بن کتب نے مدینہ میں تیس ہزار دینار کا بیچا تھا ۔

    میں جانتا ہوں کہ یہ ایک طویل تھریڈ تھا اور ابھی میں اس میں سے بہت کچھ skip کر گیا ہوں مثلاً سعد بن وقاصؓ کی ہاتھیوں کے خلاف سٹریٹجی یا پرشین امپائر کے وار فلیگ کی داستان یا پھر اس شہزادی کے متعلق ڈیٹیلز جس کے پاس بہت سے گھوڑے تھے لیکن ان تمام واقعات کی شروعات کہاں سے ہوئی تھی ؟

    وہ کیا چیزیں تھیں جنہوں نے عمر بن خطابؓ کو وقت کی سوپر پاور سے ٹکر لینے پر مجبور کر دیا تھا ؟ وہ کیا چیز تھی جس نے مسلمانوں کو آلموسٹ بریکنگ پوائنٹ پرپہنچ جانے کے باوجود پیچھے نہیں ہٹنے دیا ؟ اور وہ کیا چیز تھی جس نے قادسیہ کے پانچویں دن ایک ریت کا طوفان پیدا کر کہ رستم کی پراسرار موت کے بعد پرشین امپائر کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا ؟

    خندق کی وہ چٹان توڑتے ہوئے آپؐ کو پرشین امپائر کا دکھا دیئے جانا جسے صحابیوں نے صرف ایک چمک کی طرح دیکھا ، اور جسے دیکھتے ہی آپؐ نے الانعام کی وہ آیت پڑھی تھی کہ …

    تمہارے رب کا کلام سچائی کے اعتبار سے مکمل ہے اور اس کی بات کو کوئی بدل نہیں سکتا (الانعام 06:115)

    جس آیت کو ہم نارملی ایک تعریفی آیت کے طور پر لیتے ہیں اس کی گہری سٹڈی مجھے یہ بتاتی ہے کہ آپؐ نے اس آیت کے ذریعے آنے والے واقعات کی تہہ در تہہ پوری کی پوری chronology سمجھا دی تھی کہ دیکھنا ، خسرو ٹکڑے ٹکڑے ہو گا ، بوران کی کمانڈ میں امپائر کامیاب نہیں ہو سکے گی ، رستم کی ریت میں طوفان سے موت کے بعد پرشین امپائر تمہارے پاس آ کر رہے گی اور تم ان کے خزانوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے ۔

    اور یہ سب باتیں ہمیں کیسے پتہ ؟ کیوں کہ وہ چمک دیکھ کر آپؐ نے پڑھ لیا تھا کہ …

    تمہارے رب کا کلام سچائی کے اعتبار سے مکمل ہے اور اس کی بات کو کوئی بدل نہیں سکتا ۔

    اور یہ وہ واقعہ تھا جو آج سے ٹھیک 1386 سال پہلے ، ٹھیک آج کے دن یعنی 16 نومبر 636ء کواس وقت قادسیہ میں ہو رہا تھا ۔

  • ہم دیکھیں گے!!! — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    ہم دیکھیں گے!!! — ڈاکٹر رضوان اسد خان

    اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر مغرب کیلئے آسمانی صحیفے سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ جو ملک اسکی خلاف ورزی کا مرتکب ہو گا، خواہ جزوی ہی ہو، اس سے بزور اسکی پیروی کروائی جائے گی۔ کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جائے تو مقتدر مغربی طاقتوں سے سوال کیا جائے گا کہ آپ دنیا کے پسے ہوئے اور جبر کا شکار طبقات کی مدد کیوں نہیں کرتے ( واضح رہے کہ یہاں "پسے ہوئے” اور "جبر کا شکار” اقوام متحدہ کے چارٹر کی تعریف کی رو سے ہیں، خواہ حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہ ہو)۔۔۔۔۔

    تو انصاف کا تقاضہ ہے کہ اگر آپ طاقت رکھتے ہیں تو جسے انصاف سمجھتے ہیں اسے ہر اس علاقے میں بزور نافذ کروائیں جہاں آپکی طاقت کا راج ہے۔

    حقیقت تو یہ ہے کہ یہی اس دنیا کی بنیادی اخلاقیات کی معراج ہے۔ اسلام بھی یہی کرتا ہے اور باطل بھی یہی کرتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ باطل اور اسکے دیسی چیلے یہ کام نفاق کی چادر اوڑھ کر کرتے ہیں اور اسلام ڈنکے کی چوٹ پر باطل کو چیلنج کرتا ہے اور اسکے سر پر ایسی ضرب لگاتا ہے کہ اسکا بھڑکس نکال دیتا ہے (القرآن)۔۔۔

    لیکن ایک اور بھی فرق ہے:

    اسلام کمزوری کے زمانے میں بھی آخری حد تک مزاحمت ضرور کرتا ہے۔ باطل کیلئے کبھی بھی تر نوالہ ثابت نہیں ہوتا۔۔۔

    ٹرانز جینڈرز کے حقوق ابھی شروعات ہے۔ ابھی جوائے لینڈ جیسی فلم سے اس نحوست کو یہاں نارملائز کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ حکومت نے مغربی آقاؤں کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں۔ اس فلم پر سے پابندی بالکل ویسے ہی شاطرانہ طریقے سے ہٹوا دی گئی ہے جیسے انہوں نے اپنے پچھلے دور میں ٹرانز جینڈر ایکٹ کو دھوکے سے منظور کروایا تھا۔۔۔

    یعنی ان میں تو رتی بھر بھی دینی غیرت باقی نہیں رہی۔۔۔۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کی اتحادی لاکھوں علماء والی جماعت کتنی غیرت کا مظاہرہ کرتی ہے ۔۔۔۔ اور توحید کے نام پر ووٹ لینے والے ن لیگ کے ازلی و ابدی اتحادی سینیٹر صاحب اور انکی جماعت کیا کرتی ہے، یہ بھی ہم دیکھیں گے۔۔۔

    اور اگر ابھی کچھ نہ کیا تو اگلے مرحلے پر زانیوں اور ہم جنس پرستوں کے حقوق کی تحریک چلے گی اور اس پر بھی فلمیں بنیں گی۔۔۔۔ تیار رہئیے گا۔۔۔۔!!!

  • سننا ضروری نہیں ہوتا — ریاض علی خٹک

    سننا ضروری نہیں ہوتا — ریاض علی خٹک

    ایک نوجوان انسان جس کے سننے کی قوت مکمل ٹھیک ہو بیس ہزار ہرٹز کی آواز سن سکتا ہے لیکن ایک کتا 60 ہزار ہرٹز کی آواز بھی سن لیتا ہے. اس لئے کتا کبھی کبھی جب اچانک بھونکنا شروع کردے تو ہمیں بلاوجہ ہی لگتا ہے لیکن کتا بہرحال بلاوجہ نہیں بھونک رہا ہوتا وہ کسی آواز کا جواب دے رہا ہوتا ہے جو ہم سُن نہیں پا رہے ہوتے.

    ایک شاہین کی نظر 20/5 ہوتی ہے. اور ایک مکمل صحت مند انسان کی صحت مند آنکھوں کی 20/20 ہوتی ہے. یعنی ایک شاہین 20 فٹ دور سے وہ چیز دیکھ سکتا ہے جو ہمیں 5 فٹ دوری پر نظر آئے گی. اللہ رب العزت نے ہر مخلوق کو اس کی ضرورت کے حساب سے صلاحیت عطاء کی. ہر مخلوق اپنی صلاحیت کے ساتھ خوش خوش زندگی گزار رہی ہے.

    لیکن ہم انسان زیادہ قناعت پسند نہیں ہیں. اس لئے ہم نے خوردبین و دوربین بھی بنالی تو دور دراز کی آوازیں سننے کے آلے بھی بنا لئے. ہم نے اپنی ضروریات کا دائرہ اتنا بڑا کر دیا کہ ہمیں اپنے گھر اپنے صندوق الماریاں چھوٹی لگنے لگتی ہیں. ہمیں سب کچھ چاہئے ہوتا ہے. ہمارے پاس ہر چیز کیلئے ایک ہی دلیل ہوتی ہے ” کبھی نہ کبھی تو کام آجائے گی”

    اسی دلیل پر ہم وہ چیزیں خرید رہے ہوتے ہیں جو ہم استعمال ہی نہیں کرتے. آپ اپنے گھر کی پڑتال کرلیں اشیاء کا ایک ڈھیر کھڑا ہو جائے گا جو آپ نے ضروری سمجھ کر سنبھال رکھا ہوگا لیکن اب بھول چکے ہوں گے. یہ سالوں سے استعمال ہی نہیں ہوا ہوگا.

    ایسے ہی ہم بہت کچھ سن رہے ہوتے ہیں جو سننا ضروری نہیں ہوتا دیکھ رہے ہوتے ہیں جو دیکھنا ضرورت نہیں ہوتا سنبھال رہے ہوتے ہیں جو رکھنا ضروری نہیں ہوتا. یہی کاٹھ کباڑ جمع ہوکر ہماری پریشانی ہماری ڈیپریشن اینزائٹی وہم اور اندیشے بن کر ہماری زندگی کو آلودہ کرتے ہیں. قناعت اختیار کریں زندگی آسان ہو جاتی ہے. ورنہ ایک دن شاہین کی طرح آپ بھی تنہا ہو جائیں گے. لیکن ہم انسان اکیلے جی نہیں سکتے.

  • شیر جوتے نہیں پہنتا!!! — ریاض علی خٹک

    شیر جوتے نہیں پہنتا!!! — ریاض علی خٹک

    بوٹسوانا کے گھاس کے میدانوں کے بادشاہ وہاں کے شیر ہوتے ہیں. لیکن شیر جوتے نہیں پہنتے اور ان میدانوں میں ببول کے لمبے اور تیز دھار کانٹے بھی ہوتے ہیں. تو کیا شیروں کو کانٹے نہیں چھبتے.؟

    بہت پہلے ایک ویڈیو کسی فوٹوگرافر نے بنائی تھی جس میں ایک شیر اپنے پنجے کو پہلے اپنی زبان سے چاٹتا ہے اور پھر ایک لمبا کانٹا اس میں سے اپنے دانتوں سے کھینچ لیتا ہے. شیر پھر چل دیتا ہے لیکن اس کی چال میں کوئی لنگڑاہٹ نہیں ہوتی. کیا درد بھی نہیں ہوتا ہوگا.؟

    ایوان گیٹس بیس بال کا امریکی چیمپئن اور مشہور ہٹر کیچر تھا. اس کی ایک تصویر چیمپین شپ کے بعد دیکھی جس میں وہ رو رہا تھا. اب جو ایوان گیٹس کو جانتا ہوگا اسے شائد یہ بھی پتہ ہوگا کہ اس تصویر سے دس سال پہلے وہ نیویارک میں بے گھر اور انتہائی کسمپرسی کے دور میں ایک خوفزدہ ڈرا ہوا لڑکا تھا.

    شیر جوتے نہیں پہنتا لیکن ہم پہن سکتے ہیں. شیر اپنی کمزوری اپنا رونا بھی نہیں رو سکتا کیونکہ جہاں اس نے یہ دکھائی وہ اپنے غول میں بادشاہت کھو دے گا. لیکن ہم انسان اپنی ذات پر ہی بادشاہ ہیں. دل چاہے تو آج اپنے آنسو اپنا درد چھپا لیں اور دل چاہے تو کل جب وقت بھی ہمیں بادشاہ مان لے تو آنسو بہا دیں.

  • اپنی کہانی میں ہی رہیں!!! — ریاض علی خٹک

    اپنی کہانی میں ہی رہیں!!! — ریاض علی خٹک

    سور یا خنزیر بنا ایسا ہے کہ وہ اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھ سکتا ایسے ہی رشتوں میں کچھ ناسور ہوتے ہیں جو اپنی ذات سے نکل کر دوسرے کو دیکھ نہیں سکتے یا دیکھنا نہیں چاہتے. سور پر تو قطعیت سے حرام کا حکم ہے اس لئے اس پر تحقیق کی ضرورت نہیں. لیکن اپنے تعلقات کی جانچ پڑتال کرنی چاہئے کیونکہ ہمارے تعلق ہی ہوتے ہیں جو ہمیں یا تو بناتے ہیں یا بگاڑتے ہیں.

    کچھ لوگ آپ کو تکلیف بھی دیں گے اور آپ کو باور بھی کرائیں گے کہ غلطی بھی آپ کی ہے کیونکہ آپ زیادہ حساس ہیں.

    آپ کی یادداشت اور آپ کی عقل کو مشکوک بنا کر خود پر اعتماد کمزور اور اپنی ذات پر آپکا اعتماد لے کر جائیں گے.

    آپ کبھی ان کو اپنا کوئی مسئلہ بتائیں یہ فوری اس سے بڑا کوئی اپنا مسئلہ بتائیں گے. یہ نہیں چاہیں گے آپ کی توجہ خود پر جائے.

    یہ آپ کو احساس جرم میں رکھیں گے. اپنے چھوٹے چھوٹے احسانات کو بڑا بتا کر آپ سے بڑی قربانی کا تقاضا کریں گے.

    یہ آپ کو موٹیویٹ بھی کریں گے. مثلاً آپ بہت خوبصورت دل والے بہت خاص اور مہربان شخصیت ہیں. کیونکہ یہ اپنے لئے آپ کو ایسا ہی دیکھنا چاہتے ہیں.

    انکا رویہ سب کے سامنے آپ کے ساتھ الگ اور تنہائی میں یہ الگ شخصیت رکھیں گے. کیونکہ ایسے لوگ اپنی شخصیت کو بہت سے نقابوں میں چھپا کر رکھتے ہیں.

    کبھی آپ تنگ آکر لڑ بھی لیں تو یہ آپ کو مکمل نظر انداز کریں گے. جیسے مچھلی کا شکاری مچھلی کی مزاحمت پر ڈور چھوڑ دیتا ہے کہ کہیں کانٹا ہی نہ نکل جائے.

    یہ بہت جھوٹے ہوتے ہیں ان کی کامیابیوں کی داستانیں سب من گھڑت ہوتی ہیں ان کی مہربانیوں ان کی سٹرگل کی ساری داستانیں ان کی ذہنی پیداوار ہوتی ہیں اور آپ ایک نئی کہانی ایک نئے کردار سے زیادہ اس میں کچھ نہیں ہوتے.

    لیکن آپ کی ایک اپنی کہانی ہے. بجائے دوسروں کی کسی کہانی میں ایک غلام کردار بننے کے اپنی کہانی میں ہی رہیں. ایسی ڈبہ فلموں سے فاصلہ رکھیں. ورنہ اپنی کہانی فلاپ کر لیں گے.

  • بندوں میں بندگی کے الگ الگ درجات — ریاض علی خٹک

    بندوں میں بندگی کے الگ الگ درجات — ریاض علی خٹک

    آپ بازار جانے کیلئے جیب میں پیسے ڈالتے ہیں اپنی ضروریات کی چیزوں کی ایک لسٹ سوچتے ہیں اور گھر سے نکل جاتے ہیں. بہت کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ آپ نے قیمت اور کہاں سے خریدنا ہے پہلے طے کیا ہو. اکثریت بس سوچتی ہے جہاں سے بہترین معیار اچھی قیمت ملی خرید لوں گا.

    دکاندار بھی جب دکان صبح کھولتا ہے تو اسے کوئی گارنٹی نہیں ہوتی آج کیا اور کتنی فروخت ہوگی. کون آئے گا کون نہیں.؟ بازار اندازے پر چلتا ہے. گاہک کے پاس قوت خرید ہو اور دکاندار کے پاس چیز اور دروازہ کھلا ہو تو کاروبار زندگی چلتا رہتا ہے.

    بازار میں گاہک بھی بہت ہوں اور دکانیں بھی بہت لیکن کسی ایک دکان پر زیادہ گاہک جا رہے ہوں تب ہم کہتے ہیں اس پر اللہ کا خصوصی کرم ہے. کیونکہ اس کی کوئی ایک ادا دوسروں سے بہتر ہوتی ہے. معیار اخلاق قیمت فروخت یا سروس آپ اسے کچھ بھی بول دیں لیکن جب گاہک گھر سے نکلتے فیصلہ کر لے کہ فلاں دکان پر جانا ہے تو یہ اللہ کا کرم ہوتا ہے.

    اللہ رب العزت کی نعمتیں دنیا میں بکھری پڑیں ہیں. نعمتیں بھی بے شمار تو مخلوق خدا بھی بے شمار ہے. لیکن ہم جب اپنے آس پاس دیکھتے ہیں تو کسی ایک کے پاس نعمتیں دوڑ دوڑ کر آرہی ہوتی ہیں اور کسی کی آنکھیں انتظار میں ترس جاتی ہیں. تب اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں. گلے شکوے کرتے ہیں. جن پر نعمتوں کی برسات ہو ان سے حسد کرتے ہیں.

    کم لوگ ہوتے ہیں جو اپنی اداؤں پر غور کرتے ہیں. جو سوچتے ہیں ان پر کرم کیوں نہیں ہو رہا. دنیا ان سے راضی کیوں نہیں ہو رہی.؟ کیا نعمتیں بانٹنے والا اس سے راضی ہے.؟ یہی خود احتسابی یا Audit ہمیں پھر ہماری کمی کوتاہیاں دکھاتا ہے. اور یہی کمی بیشیاں جب درست ہو جائیں تو کرم کا دروازہ کھل جاتا ہے. اللہ رب العزت اپنے سب بندوں کا ایک یکساں پروردگار ہے. ہم بندوں میں البتہ بندگی کے الگ الگ درجات ہوتے ہیں.

    ریاض علی خٹک

  • کثرت اولاد، اسلامی تصور اور موجودہ حالات — عمر یوسف

    کثرت اولاد، اسلامی تصور اور موجودہ حالات — عمر یوسف

    پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی پر ماہرین تشویش کا اظہار کرچکے ہیں لیکن مذہبی علماء اس بات پر مصر ہیں کہ زیادہ بچوں کی پیدائش فضیلت کا سبب ہے جس کے بارے متعدد احادیث بھی مروی ہیں ۔ یہاں پر ایک فقہی قاعدے کا انظباط ضروری ہے کہ بعض چیزیں علت و معلول کے تعلق سے لاگو ہوتی ہیں ۔

    چناچہ عہد نبوی میں مسلمانوں کی عددی قوت کی غرض سے یہ احکام لاگو ہوئے لیکن موجودہ دور میں آبادی بجائے فائدہ کے ایک درد سر بنی ہوئی چانچہ جنگ یا عددی قوت کی علت نہیں رہی تو زیادہ اولاد کی صورت معلول بھی نہیں رہے گا ۔ اس صورت حال کو آپ مندرجہ ذیل تحریر سے بھی سمجھ سکتے ہیں جو کہ حالیہ طور پر روسی حالات کے بارے لکھی گئی ہے دوسری جنگ عظیم میں بہت سارے روسی سپاہیوں کی ہلاکت کی وجہ سے روس نے زیادہ بچے پیدا کرنے والی ماوں کو انعامات سے نوازا بعد ازاں اس سلسلے کو روک دیا گیا تاہم حالیہ روسی جنگ کے تناظر یہ اعلان دوبارہ گیا ۔

    عہد نبوی ص میں کثرت اولاد کا حکم بھی کچھ اسی تناظر میں تھا لیکن جب حالت امن ہو ضرورت نہ ہو ۔ اور کثرت آبادی بذات خود مسئلہ بن جائے تب اولاد کی کثرت پر اسلامی حوالے سے اصرار کرنا محل نظر ہے ۔ تاہم اگر معاشی حالات مستحکم ہوں تو حالات کی نوعیت بدل جائے گی ۔ ذیل میں روس سے متعلقہ رپورٹ ملاحظہ ہو ۔

    روس نے نیم خودمختار مسلم اکثریتی آبادی والی ریاست چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوف کی اہلیہ سمیت 10 یا زائد بچوں کو جنم دینے والی خواتین کو سوویت یونین دور کا اعزازی خطاب ’مدر ہیروئن‘ ایوارڈز دینا شروع کر دیے۔

    دنیا میں جہاں بہت سے ممالک بڑھتی آبادی سے پریشان ہیں وہیں روس نے ملک کی آبادی بڑھانے کیلئے ایک دلچسپ اقدام اٹھایا۔

     روس کی آبادی میں مسلسل کمی کے باعث صدر پیوٹن نے رواں سال اگست میں 10 یا اس سے زائد بچے جنم دینے والی روسی خواتین کو سوویت یونین دور کے اعزازی خطاب ’مدر ہیروئن‘ اور 16 ہزار ڈالرز سے زائد ( 35 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد رقم) انعام میں دینے کا اعلان کیا تھا۔

    مدر ہیروئن کا اعزازی خطاب 1944 میں شروع کیا گیا تھا جو ان روسی خواتین کو دیا جاتا تھا جن کے بچے زیادہ ہوتے تھے اور وہ ان سب کی اچھی پرروش کرتی تھیں، تاہم 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے پر اسے ختم کردیا گیا تھا۔

    رپورٹس کے مطابق روسی صدر کی جانب سے یہ اسکیم کورونا وبا کے دوران بچوں کی پیدائش کی شرح میں غیر معمولی کمی اور یوکرین جنگ میں ہزاروں روسی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آئی تھی۔

    تاہم 3 دہائیوں کے بعد اب پہلی بار روس نے یہ تاریخی ایوارڈ ر مضان قادریوف کی اہلیہ سمیت دیگر کو  دے دیے ہیں۔

    رمضان قادروف اس وقت چیچن ریپبلک کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور انہوں نے اپنے  بیٹوں کو پیوٹن کی یوکرین جنگ کے لیے فرنٹ لائن پر بھیجنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

  • رائٹ ٹُولز — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    رائٹ ٹُولز — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    کمرے کے وسط میں رکھی میز پر ایک مشین رکھی ہوئی تھی اور اس کے ساتھ ایک گورا کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ وہ کل ہی دبئی کے راستے لاہور پہنچا تھا ۔ وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی کا ٹیکنیکل منیجر تھا اور آج اپنی کمپنی کے لئے اسے کچھ نئے انجنئیرز کا ٹیسٹ لینا تھا۔

    کمرے کی ایک دیوار کے ساتھ لمبی سی میز پر کئی اقسام کے ٹول پڑے ہوئے تھے جو مشینوں کو کھولنے یا اسمبل کرنے میں استعمال ہوتے تھے۔کمرے میں داخل ہونے والے ہر انجنئیر سے گورے کا ایک ہی سوال ہوتا کہ مجھے یہ مشین کھول کر دکھاؤ ۔

    ڈیل یہ تھی کہ جس انجُئیر نے اس مشین کو کھول لیا گورا اسے کمپنی کے لوکل آفس میں بہت اچھے پیکیج پر بھرتی کر لے گا اور اگر کسی نے مشین کو کھول کر اسے دوبارہ اسمبل بھی کر لیا تو اسے سیدھا انٹرنیشنل سٹاف کا حصہ بنا لے گا۔

    یہ 1998 کا سال تھا اور انجنئیرز کا سخت بے روزگاری کا دور چل رہا تھا۔ حکومت ڈاؤن سائزنگ اور گولڈن شیک ہینڈ کے ذریعے ملازموں سے جان چھڑوا رہی تھی۔ یونیورسٹی سے تازہ تازہ فارغ ہونے والے انجنئیر کو کسی جگہ عام سی جاب کے لئے بھی بہت تگ ودو کرنا پڑ رہی تھی اور یہاں تو معاملہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں جاب کا تھا۔

    جو بھی انجنئیر کمرے میں داخل ہوتا وہ جاکر کوئی نہ کوئی پیچ کس نما ٹول اٹھاتا اور ملٹی نیشنل کمپنی میں اپنا انتخاب یقینی بنانے کے لئےمشین کے ساتھ کشتی لڑنے میں مصروف ہوجاتا لیکن کسی کی دال نہ گلتی۔ مشین نے نہ کھلنا تھا نہ کھل سکی۔ ایک دو ہٹے کٹے نوجوانوں نے تو زور زبردستی لگا کر مشین کا ایک آدھا پیچ وغیرہ کھول بھی لیا جس کی وجہ سے مشین کے پیچوں کی جھریاں بھی خراب ہو گئیں لیکن پھر تنگ آکر انہوں نے بھی ہاتھ کھڑے کردئے۔

    احسن بھی امیدواروں کی قطار میں بیٹھا کافی دیر سے یہ تماشا دیکھ رہا تھا ۔ اس نے چند ماہ پہلے ہی یوای ٹی سے مکینیکل انجنئیرنگ کی تھی لیکن باوجود کوشش کے ابھی تک اسے کوئی کام نہیں مل سکا تھا۔وہ ساری رات اس انٹرویو کی تیاری کرتا رہا تھااور اب اس عجیب و غریب مشین کے بارے میں سوچ رہا تھا جس کے بارے میں کورس کی کتابیں خاموش تھیں۔

    اپنی باری پر احسن کمرے کے اندر گیا تو گورے نے اسے بھی مشین کھولنے اور اسے دوبارہ اسمبل کرنے کا ٹاسک دیا اور خود آرام سے ایک طرف منہ کرکے کتاب پڑھنے میں مصروف ہوگیا۔ تاہم کبھی کبھار وہ عینک کے شیشے کے پیچھے سے اس کی طرف بھی دیکھ لیتا۔

    احسن نے سب سے پہلے تو مشین کے چاروں طرف گھوم پھر کر اس کا جائزہ کیا۔ اس کے پیچ اور سیلیں وغیرہ دیکھتا رہا اور پھر ٹولز والی میز کے قریب جاکر مشین کے پیچوں کی مطابقت رکھنے والا ٹول ڈھونڈنے لگا تاکہ اسے استعمال کرکے مشین کھولی جا سکے ۔ تاہم باوجود تلاش کے اس طرح کے منہ والا ٹول اسے میز پر نظر نہ آیا۔ وہ سوچنے لگا کہ اس ٹول کے بغیر اور کون سے ٹول سے مشین کھولی جا سکتی ہے لیکن اسے کوئی ملتا جلتا ٹول بھی وہاں نہیں دکھ رہا تھا۔ اوپر سے ٹائم بھی ختم ہورہا تھا۔اس نے آکر مشین کو دوبارہ چیک کیا اور پھر ٹولز کو دوبارہ دیکھا لیکن اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی۔

    جب اسے میز کے پاس کھڑے کافی دیر ہوگئی تو گورے نے گلہ کنگھار کر اسے کہا کہ مسٹر احسن میرے پاس زیادہ وقت نہیں آپ جلدی سے مشین کو کھولنا شروع کریں۔ تب احسن نے اسے سچ بتانے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ سر مشین کو صحیح طریقے سے کھولنے والا متعلقہ ٹول میز پر موجود ہی نہیں اور دوسرے ٹولز کے استعمال سے مشین کے پیچ خراب ہو جانے کا خدشہ ہے۔

    گورے نے کتاب بند کی، عینک اتاری اور کرسی سے کھڑا ہوتے ہو ئے کہا “ کانگریجولیشنز ۔ یو آر ہائیرڈ” وہ دوست اب اس ملٹی نیشنل کمپنی میں بہت اعلی عہدے پر ہیں اور ماشااللّہ بہت خوش حال ہیں۔

    آج کل ڈیجیٹل سکلز سیکھنے ، سکھانے اور اس سے لمحوں میں دولت مند ہونے کا بہت رجحان ہے۔ یقینی بنائیے کہ آپ اپنا وقت اور پیسہ ایسے ٹول سیکھنے پر لگا رہے ہیں کہ جس سے آپ اپنے بہترمستقبل کی مشین کو آسانی سے کھول سکیں۔ بھیڑ چال میں الٹے سیدھے ٹولز کے استعمال سے سے اپنی ترقی کی مشین کو داغدار نہ کریں۔

  • سنا ہے آج مردوں کا عالمی دن ہے؟ —  ماسٹر محمد فہیم امتیاز

    سنا ہے آج مردوں کا عالمی دن ہے؟ — ماسٹر محمد فہیم امتیاز

    مرد۔۔۔

    جسں کی زندگی کچھ ایفرٹس کے گرد گھومتی رہتی۔۔۔ جیسے ہی ہوش سنبھالتا ہے، اس معاشرے میں سروائیو کرنے کے لیے تگ و دوو کرنا ہوتی ہے۔۔۔!!

    عمر کا ایک ہندسہ عبور ہوتے ہی گھر والے باہر والے اس کی طرف ٹیڑھی نظر سے دیکھنا شروع ہو جاتے کہ بھئی کما کر لا۔۔۔ گھر چلا۔۔۔ وہ جس نے ہزار شوق پالے ہوتے، اپنی زندگی کے حوالے سے وہ معاشرے کے پریشر گھر والوں کے سوالات رشتہ داروں کے طعنوں کی نذر ہوتے چلے جاتے آخر کار سب خواب دفن کر کے کسی بھی اوکھلی میں سر دے دیتا جس سے چار پیسے آنے لگیں، معاشرے کے منہ پر مارنے کے لیے۔۔۔

    اگر کوئی متوسط طبقے سے تو بھائیوں کو لڑکپن سے ہی یہ بات سمجھانا شروع کر دی جاتی کہ گھر میں بہنیں ہیں۔۔۔بھائی بھلے چھوٹے ہوں بھلے بڑے انہیں ذمہ دار ہونا ہوتا۔۔۔ وہ باپ کے ساتھ کندھا ملا کر بہنوں کو عزت سے رخصت کرنے کی تگ و دوو میں جت جاتے، محنت مزدوریاں کرتے، گرمی سردی دھوپ جھڑ کسی بھی چیز کی پرواہ کیے بغیر۔۔۔

    پھر جب مرد کی شادی کی بات آتی ہے تو ایک بار پھر یہ معاشرہ منہ پھاڑے کھڑا ہوتا۔۔۔

    لڑکا اچا لما ہو۔۔ کھاتا کماتا ہو۔۔ یہ تو ایک لیول۔۔ پھر ایک لیول آتا لڑکے کے پاس اپنا گھر ہو۔۔ لڑکے کے پاس اپنی گاڑی ہو۔۔۔ اپنا ایسا کاروبار ہو۔۔اتنا بینک بیلنس ہو۔۔ اتنا زیور ڈالے۔۔۔فلاں فلاں وغیرہ وغیرہ ۔۔۔

    وہ جو پہلے کچھ ذمہ داریوں سے کچھ توقعات سے بندھا تیسری دہائی پوری کرنے کو ہوتا یہ ڈیمانڈز اس کی زندگی کے کئی سال مزید کھا جاتیں۔۔۔

    فکر معاش سے نکلتے نہیں کہ فکر قماش آن پڑتی۔۔۔

    اور سب سے مزے کی بات ان سب ایفرٹس کو کسی کھاتے میں نہیں لکھا جاتا۔۔۔آپکے رشتے آپسے متعلقہ لوگ یہ بھول جاتے کہ مرد بھی انسان ہی ہوتا، اس کی کچھ ایموشنل نیڈز بھی ہوتیں ۔۔۔

    وہ جسے اس مہنگائی کے عفریت سے بھی لڑنا،جسے گھر کا چولہا بھی گرم رکھنا، جسے بچو کا پیٹ بھی بھرنا، جسے بچیوں کے ہاتھ بھی پیلے کرنے، جس نے گدھے کی طرح جتے رہنا مسلسل کب بال سیاہ سے سفید ہوئے، کب روٹی سے نکل کر بچوں کی تعلیم اور کب تعلیم سے نکل کر بچیوں کی شادیوں کی فکر آن سر ہوئی ۔۔کچھ معلوم نہیں کسی کو پرواہ بھی نہیں۔۔۔وہ مرد جو اس مشکل ترین دور میں گھر کا چولہا جلائے رکھنے کے لیے اپنا خون پسینہ ایندھن بنائے رکھتا، جو معاشرے کے جھوٹے معیاروں کو پورا کرتے کرتے کمر دوہری کروا لیتا۔۔ جو اپنے سب شوق سب خواب بھینٹ چڑھا دیتا ۔۔جو رشتہ داروں کے طنز وتشنیع سے لے کر حالات کے تھپیڑوں تک سب برداشت کرتا۔۔۔
    وہ کئی بار ساری زندگی کی کمائی لٹا کر بھی اپنا آپ بیچ کر بھی ایک بیوی تک کو خوش نہیں کر پاتا ۔۔۔

    وہ جو سارے گھر کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوتا،وہ ماں اور بیوی(ساس اور بہو) کے درمیان کی رسہ کشی میں ادھڑتا ریشہ ریشہ ہو جاتا۔۔۔
    جو زندگی کے مختلف سٹیجز میں کبھی بہنوں تو کبھی بیٹیوں کی ذمہ داریاں پوری کرتے کرتے۔۔کہیں ماں کی خواہشات کا احترام کرتے کرتے۔۔۔ کہیں بیوی کی توقعات پر پورا اترتے اترتے۔۔ قبر کنارے جا پہنچتا۔۔۔

    اس مرد کو یہ عالمی دن نہیں چاہیئے ۔۔۔

    اس کے لیے ایک احساس کافی ہے اگر کیا جائے کہ جہاں عورت کو ایک محاذ درپیش ہوتا ازدواجی۔۔۔

    وہاں مرد کو معاشی اور ازدواجی دونوں پہلووں پر بغیر کسی بھی ہمدردری کے یکساں مشقت کا سامنا ہوتا ہے ۔۔۔ اور وہ جسمانی اور ذہنی دونوں طرح سے ٹارچر سہہ رہا ہوتا۔۔۔ وہ گھر اور باہر دونوں جگہ پس رہا ہوتا، اس کے پاس سر رکھ کے رونے والا کوئی کندھا بھی نہیں ہوتا۔۔اس کے پاس مورد الزام ٹھہرانے کے لیے کوئی ولن بھی نہیں ہوتا۔۔ اس کی بھی کچھ ایموشنل نیڈز ہوتی ہیں۔۔۔اسے بھی کچھ سپورٹ کی ضرورت ہوتی، انڈرسٹینڈنگ کی ضرورت ہوتی۔۔۔بس یہ احساس کافی ہے مرد کے لیے اگر ہو تو ۔۔۔!!