Baaghi TV

Category: متفرق

  • اینٹی انکروچمنٹ مہم اور PERA کی ناکامی سوالیہ نشانیہ؟تحریر:ملک سلمان

    اینٹی انکروچمنٹ مہم اور PERA کی ناکامی سوالیہ نشانیہ؟تحریر:ملک سلمان

    وزیراعلیٰ پنجاب کی اینٹی انکروچمنٹ مہم کو ہر مکتبہ فکر اور سول سوسائٹی کی طرف سے بہت زیادہ سراہا گیا۔ ماضی کی حکومتوں کے برعکس سٹیٹ لینڈ کی حفاظت کا جو بیڑا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اٹھایا اس کیلئے پنجاب کے ہر فرد نے دل کھول کر وزیراعلیٰ کے اس اقدام کی تعریف کی لیکن پھر وہی ہوا چند دن بعد بیوروکریسی اور سرکاری ملازمین نے اس مشن کو صرف جعلی فوٹو سیشن تک محدود کردیا۔

    بیشتر شہروں میں ایک دفعہ کے فوٹو سیشن کے بعد تجاوزات پھر سے واپس آچکی ہیں۔ لاہور میں 10فیصد سے بھی کم جبکہ پنجاب بھر میں بامشکل 20فیصد تجاوزات کا خاتمہ ممکن ہوسکا ہے۔ بیوروکریسی اور سرکاری ملازمین جس قدر کرپٹ اور قانون شکن ہوچکے تھے ان سے بیس فیصد تجاوزات کا خاتمہ کروا لینا بھی وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کا مشن امپاسبل کو پاسیبل کرنے کے مترادف ہے۔

    صوبائی دارالحکومت کو رول ماڈل ہونا چاہئے لیکن لاہور کی خوبصورتی کو تجاوزات مافیا کی سرپرستی کرنے والے ٹریفک وارڈن، اسسٹنٹ کمشنرز، میونسپل کارپوریشن اور ایل ڈی اے نے بدصورتی میں بدل دیا ہے۔ لاہور میں تجاوزات کے خاتمے میں ناکامی کی سب سے بڑی وجہ اختیارات کی جنگ ہے ایم سی ایل، اسسٹنٹ کمشنر، ایل ڈی اے ہر کوئی اختیارات تو چاہتا ہے لیکن تجاوزات ختم کرنے کیلئے نہیں بلکہ تجاوزات کو ہٹانے میں تاخیری حربے اپنانے کیلئے، خود سے تجاوزات کا خاتمہ تو درکنار متعدد بار شکایات کے باوجود کاروائی نہیں کی جارہی۔ یہی وجوہات ہیں کہ وزیراعلیٰ اور بورڈ آف ریونیو دونوں کے ”کے پی آئی“ میں لاہور مسلسل آخری نمبروں پر ہے۔ کبھی یہ دور تھا کہ لاہور کی سیاحت غیر ملکیوں کی توجہ کا مرکز ہوتی تھی اور مشہور تھا کہ جنے لاہور نئیں ویکھیا او جمیا ای نئیں۔ اب یہ صورت حال ہے کہ تاریخی عمارات کا حامل لاہور اپنی شناخت کھو چکا اور صرف یہی پہچان باقی رہ گئی کہ بے ہنگم ٹریفک اور تجاوزات۔

    صرف ضلع لاہور میں پانچ ہزار ارب سے زائد مالیت کی سرکاری زمینوں پر پرائیویٹ مافیا کے قبضے ہیں۔لاہور کی مختلف مارکیٹوں اور شاہراؤں پر عارضی تعمیرات اور تجاوزات قائم کروا کرماہانہ پانچ سو کروڑ سے زائد صرف تجاوزات کی آمدنی ہے جس میں ضلعی انتظامی افسران، ایل ڈی اے، لوکل گورنمنٹ اور دیگر محکموں کے افسران اور اہلکار برابری کی بنیاد پر بینفشریز ہیں جبکہ ٹریفک پولیس بنانمبر پلیٹ رکشوں پبلک ٹرانسپورٹ اور غیر قانونی پارکنگ سے پندرہ سو کروڑ ماہانہ اکٹھا کرتی ہے۔

    تجاوزات کے مستقل خاتمے کیلئے PERAسپیشل فورس بھی بنائی گئی۔ لاہور میں پیرا کے ایک آفیسر نے بتایا کو اس نے ناجائز تعمیرات کے خلاف کاروائی کیلئے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کو کہا کہ سر مجھے سرکاری ڈیمارکیشن نکال دیں تاکہ کاروائی کر سکیں تو اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ یہاں کچھ ٹھیک نہیں ہونے والا تم بھی اتنا جذباتی نہ ہوا کرو، سی ایم کو خوش کرنے کیلئے ریڑی والوں کے خلاف عارضی کاروائی کا فوٹو سیشن شئیر کردیا کرو باقی سکون سے اپنا خرچہ اکٹھا کرو۔ یہی وجوہات ہیں کہ لاہور میں اکثر علاقوں میں 10فیصد تجاوزات ختم کروائی گئیں جبکہ چالیس فیصد نئی تجاوزات کی تعمیرات ہوچکی ہیں۔

    پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے نئے نویلے بچے صرف ڈالا گردی اور فوٹو سیشن کرتے نظر آتے ہیں اگر تجاوزات ہٹانے کیلئے شکایت کریں تو پیرا والے کہتے ہیں کہ ہم اسسٹنٹ کمشنر کے حکم کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے، اسسٹنٹ کمشنر کہتا ہے کہ میونسپل کارپوریشن والوں کو شکایت کریں ایم سی ایل والے کہتے ہیں کہ ایل ڈی اے کا ایریا ہے جبکہ ایل ڈی اے والے کہتے ہیں کہ پیرا کو کہیں۔ عوام کو ”رولر کوسٹر” کی طرح ایک دفتر سے دوسرے دفتر کا راستہ بتا کر خود ایک ایک ریڑی اور غیر قانونی قابضین سے بھتہ لینے کیلئے سب پہنچے ہوتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سارے افسران ڈرامہ کرکے تجاوزات کے خاتمہ کی بجائے سرپرستی کرکے مال کھانے پر فوکس کیے ہوئے ہیں۔ ایسی ہی صورت حال دیگر شہروں میں ہے جہاں ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔
    تجاوزات کی کمائی کھانے والے سرکاری ملازم پورا زور لگا رہے ہیں کہ انکی حرام کمائی کا ذریعہ بند نہ ہو۔ تجاوزات مافیا کے ساتھ ساتھ تجاوزات کی سرپرستی کرنے افسران کے خلاف قانونی کاروائی بھی ناگزیر ہے۔ تجاوزات لگانے اور لگوانے والے دونوں کو جیل بھیجا جائے۔

    عارضی اور پختہ تعمیرات کی طرح غیر قانونی پارکنگ بھی سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کے مترادف ہے۔ لاہور سمیت پنجاب بھر میں گاڑیوں کے شورومز اور رپئیرنگ ورکشاپ، حتیٰ کہ سیمنٹ، بجری، اینٹوں اور دیگر کنسٹرکشن کا سامان بھی سرکاری سڑک پر رکھ کر بیچا جا رہا ہے۔ ٹریفک پولیس غیرقانونی پارکنگ سٹینڈ کی سرپرستی کرتی ہے چاہے عوام راستوں کے بندش سے خوار ہوجائے ٹریفک پولیس کو اپنی ریگولر کمائی کے سوا کسی سے کوئی غرض نہیں۔ رکشے اور ریڑیاں بیچ سڑک راستہ روکے کاروبار کر رہے ہیں اور انکو قانون کا ذرا ڈر نہیں کیونکہ انکو پتا ہے کہ قانون کی قیمت وہ سرکاری ملازمین کو نقد دیتے ہیں۔ چکڑ چوہدریوں نے جنگلے اور گیٹ لگاکر گلیاں بند کی ہوئی ہیں۔گھروں کے باہر سڑک کی زمین پر قبضہ کرکے بنائی گئی گرین بیلٹ اور گارڈ روم کے نام پر 10فٹ تک قبضہ عام روٹین ہے۔ غیر قانونی گرین بیلٹ،گارڈ روم، گلیوں بازاروں میں پتھر رکھ کر ڈیرے اور کاروباری بورڈ لگا کر سڑک پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف بھی سخت کاروائی ہونی چاہئے۔تجاوزات کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ صرف ایک دفعہ کے فوٹو سیشن تک محدود نہ رہا جائے بلکہ اس کا فالو اپ بھی لیں۔

    (پیرا) PERA اسی صورت کامیاب ہوسکتی ہے اگر "وزیراعلیٰ عوامی فیڈ بیک سیل” بنایا جائے جہاں سرکاری ملازمین کی طرف سے تجاوزات مافیا کا ساتھ دینے کی شکایات ڈائریکٹ سی ایم کو کرسکیں۔
    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • کشمیری حریت رہنما پروفیسر عبدالغنی بھٹ مرحوم کی زندگی پر ایک نظر

    کشمیری حریت رہنما پروفیسر عبدالغنی بھٹ مرحوم کی زندگی پر ایک نظر

    معروف آزادی پسند کشمیری رہنما اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے سابق چیئرمین پروفیسر عبدالغنی بھٹ مختصر علالت کے بعد مقبوضہ کشمیر کے علاقے سوپور میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر تقریباً 90 برس تھی۔

    پروفیسر عبدالغنی بھٹ مسلم کانفرنس کے چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔ انہوں نے فارسی، اقتصادیات اور سیاسیات میں گریجویشن، فارسی میں ماسٹرز اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ وہ فارسی کے پروفیسر بھی رہے، تاہم آزادی پسند سرگرمیوں کی پاداش میں قابض بھارتی انتظامیہ نے انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا تھا۔

    مرحوم 1987 میں مسلم متحدہ محاذ کے سرگرم رکن رہے اور اس دوران بھارتی انتظامیہ کی دھاندلی زدہ انتخابات کے بعد انہیں گرفتار کر کے کئی ماہ تک قید میں رکھا گیا۔پروفیسر عبدالغنی بھٹ نے 1993 میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔ وہ مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کے داعی تھے اور اپنی جدوجہد کے باعث ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

    پروفیسر عبدالغنی بھٹ زندگی بھر بھارتی مظالم کے خلاف ڈٹے رہے اور آزادی کا خواب اپنی آنکھوں میں لے کر ہی دنیا سے رخصت ہو گئے۔

    چیئرمین پی ٹی اے کی برطرفی کے خلاف اپیل، کل سماعت ہوگی

    دورہ چین، صدر زرداری کا اُرومچی پہنچنے پر شاندار استقبال

    افغانستان میں فائرنگ کے دوران بی ایل اے کمانڈر استاد مرید ہلاک

    ٹرمپ کی ٹک ٹاک پابندی کی مدت میں چوتھی بار توسیع

    ایشیا کپ: ریفری اینڈی پائی کرافٹ کی پاکستانی ٹیم سے معافی،وڈیو جاری

  • سیلاب اور مرکزی مسلم لیگ کاریسکیو و ریلیف آپریشن

    سیلاب اور مرکزی مسلم لیگ کاریسکیو و ریلیف آپریشن

    قدرتی آفات انسان کے لیے نہ صرف آزمائش ہوتی ہیں بلکہ اس کے صبر، حوصلے اور قربانی کے جذبے کی کسوٹی بھی، جب بادل پھٹتے ہیں، ندی نالے دریا بن جاتے ہیں، پہاڑوں سے گرتا پانی بستیاں بہا لے جاتا ہے، تو زمین پر انسان کی فانی حیثیت کا منظرنامہ آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی عالم رواں برس خیبر پختونخوا کےعلاقوں باجوڑ، بونیر، سوات، مینگورہ، گلگت اور سکردو میں دیکھنے کو ملا، جہاں شدید سیلاب نے قیامت صغریٰ برپا کر دی،یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب انسانیت، بھائی چارے، اور خدمت خلق کے جذبے کی حقیقی روح سامنے آتی ہے ،پاکستان مرکزی مسلم لیگ اپنے منشور خدمت کی سیاست کو عملی جامہ پہناتے ہوئے 15 اگست سے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے.خدمتِ خلق مرکزی مسلم لیگ کے چیئرمین، شفیق الرحمان وڑائچ، بونیر میں آنے والے ہولناک سیلاب کی اطلاع ملتے ہی مرکزی مسلم لیگ خیبر پختونخوا کے صدر عارف اللہ خٹک کے ہمراہ فوری متاثرہ علاقے پہنچےاورحالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا اورمرکزی قیادت کو نقصانات پر بریفنگ دی۔مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو ، سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری،نائب صدر حافظ طلحہ سعید،سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ اور پنجاب کے صدر محمد سرور چوہدری کی ہدایت پر لاہور ،اسلام آباد،فیصل آباد،راولپنڈی، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، سیالکوٹ اور پنجاب کے دیگر اضلاع جبکہ فیصل ندیم کی ہدایت پر کراچی ،حیدرآباد اور دیگر شہروں سے مرکزی مسلم لیگ کے رہنما اور رضاکار انصارکا کردار نبھاتے ہوئے، سیلاب سے متاثرہ خیبر پختونخوا کے علاقوں میں پہنچے۔ جہاں انہوں نے ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنایا اور مصیبت کی گھڑی میں متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھا،گھروں کی صفائی کی، کیچڑ نکالا،متاثرین کے گھروں تک کھانا پہنچایا، مرکزی مسلم لیگ کی مرکزی، صوبائی قیادت محمد سرور چوہدری، حمید الحسن، انجینئر حارث ڈار، حافظ یاور آفتاب،عمران لیاقت بھٹی،عبدالغفار منصور،شیخ فیاض احمد،احسان اللہ منصور،فیصل ندیم،انس محصی،عبدالغفار،انس و دیگر بھی سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو و ریلیف آپریشن کے لیے پہنچے،مرکزی مسلم لیگ لاہور کے سیکرٹری جنرل مزمل اقبال ہاشمی،فیصل آباد کے سیکرٹری جنرل احسن تارڑ،راولپنڈی کے انجینئر مبین صدیقی، گوجرانوالہ کے محمد راشد سندھو،کراچی سے مرکزی مسلم لیگ کراچی کے صدر احمد ندیم اعوان،حیدر آبار سے عقیل لغاری و دیگر مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں کے ہمراہ ریسکیو و ریلیف آپریشن میں مصروف رہے.

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی جانب سےخیبر پختونخوا ،گلگت کے سیلاب متاثرہ علاقوں باجوڑ، بونیر، مینگورہ، سوات، اورگلگت،سکردو میں مجموعی طور پر 25 ہزار سے زائد خاندانوں میں خشک راشن تقسیم کیا جا چکا ہے، مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے 7 لاکھ سے زائد افراد میں پکا پکایاکھانا تقسیم کیاگیا ہے ،مرکزی مسلم لیگ کی 32میڈیکل ٹیمیں،250ڈاکٹر، پیرا میڈیکل سٹاف خدمت میں مصروف ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے 450 میڈیکل کیمپوں میں6 لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج معالجہ کیا جا چکا ہے،سیلاب متاثرین میں 30 ہزار سے زائد بستر،چار ہزار مچھر دانیاں، آٹھ ہزار گھروں میں برتن تقسیم کئے گئے ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نے 2000 سے زائد گھروں کا ملبہ صاف کر دیا گیا،مرکزی مسلم لیگ نے گھروں کی صفائی کیلیے مرکزی مسلم لیگ نے 6000 بیلچے،4000 ہاتھ ٹرالی تقسیم کر دی،گلگت بلتستان کے دوردراز علاقوں میں سیلاب سے تباہی ہوئی، مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم گلگت پہنچے، مرکزی مسلم لیگ گلگت کے رہنما مقصود حسین سندھو، عبدالرشید ترابی بھی متاثرہ علاقوں میں خدمت انسانیت میں مصروف رہے، خشک راشن ،خوراک کی تقسیم کے علاوہ گلگت میں ایک لاکھ فٹ پانی کا پائپ منگوا کر دے دیا،غذر میں مصنوعی جھیل بننے سے راستوں کی بندش ہوئی تو فری بوٹ سروس بھی شروع کی گئی،مرکزی مسلم لیگ کراچی کی جانب سے گلگت کے متاثرین کے لئے امداد کی خصوصی کھیپ پہنچائی گئی،

    بھارتی آبی جارحیت کے نتیجے میں پنجاب کے 25 اضلاع سیلاب سے متاثر ہوئے،پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار ریسکیو و ریلیف آپریشن کے لئے پنجاب بھر میں متحرک ہیں، پنجاب میں سیلاب آیا تو خیبر پختونخوا کے مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار پیچھے نہ رہے، پنجاب کے سیلاب متاثرہ اضلاع میں 86 ہزار سے زائد شہریوں کو کشتی سروس کے ذریعے ریسکیو کیا گیا،25 لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد میں پکی پکائی خوراک تقسیم کی جا چکی ہے، میڈیکل کیمپوں میں19 لاکھ 40ہزار سے زائد مریضوں کا علاج معالجہ کیا جا چکا ہے،46 ہزار سے زائد خاندانوں میں خشک راشن تقسیم کیا جا چکا ہے،سیلاب متاثرہ تمام اضلاع میں کشتی سروس جاری ہے .بہاولپور،اوکاڑہ، مظفر گڑھ، جلال پور پیر والا،ملتان میں بھی خیمہ بستیاں قائم کی گئی ہیں،چیئرمین خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ شفیق الرحمان وڑائچ امدادی کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں،لاہور،قصور،سیالکوٹ، ننکانہ، چنیوٹ، شیخوپورہ، سرگودھا، پنڈی بھٹیاں، وزیرآباد، نارووال،جہلم،اوکاڑہ،بہاولپور، بہاولنگر، حافظ آباد،منڈی بہاؤالدین، گجرات، ساہیوال، ملتان،جھنگ،مظفر گڑھ،بوریوالہ،پاکپتن،گوجرانوالہ،ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مرکزی مسلم لیگ کے 10 ہزار سے زائد ریسکیو و ریلیف آپریشن میں مصروف عمل ہیں، سیلاب متاثرین ،انکے سامان، جانوروں کو کشتیوں کے ذریعے ریسکیو کیا جا رہا ہے جبکہ متاثرین میں پکی پکائی خوراک کی تقسیم کا عمل بھی جاری ہے

    مرکزی مسلم لیگ کی سیلاب متاثرہ اضلاع میں 14 خیمہ بستیاں قائم ہیں،مرکز ی مسلم لیگ کی خیمہ بستیوں میں24 ہزار سے زائد افراد مقیم ہیں، خیمہ بستیوں میں میڈیکل کیمپ بھی قائم ، مریضوں کا مفت علاج معالجہ کیا جا رہا ہے،جلال پور پیروالا میں خیمہ بستی سیلابی پانی کی زد میں آ گئی، لاہور،قصور،بہاولپور،مظفر گڑھ،ملتان، لودھراں، جلال پور پیروالا سمیت 14 خیمہ بستیاں قائم کی گئی ہیں،مرکزی مسلم لیگ کی خیمہ بستیوں میں خواتین ،بچے بھی مقیم،تین وقت کا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے،لاہور کی خیم بستی میں بچوں کے لئے سکول بھی قائم،خواتین کے لئے الگ واش رومز بناے گئے ہیں،مرکزی مسلم لیگ کی خیمہ بستیوں میں نماز کی ادائیگی کے لئے مساجدبھی قائم کی گئی ہیں، خیمہ بستیوں‌میں مقیم بچوں میں مسلم سٹوڈنٹس لیگ کی جانب سے گفٹ بھی تقسیم کئے گئے ہیں،موہلنوال کی خیمہ بستی میں 5 بچوں کی پیدائش ،مٹھائی تقسیم کی گئی،مسلم ویمن لیگ کی جانب سے خیمہ بستی میں خواتین میں کپڑے و دیگر اشیا بھی تقسیم کی گئیں،جلال پور پیر والا ،مرکزی مسلم لیگ کی خیمہ سٹی کوسیلاب نے اپنی لپیٹ میں لے لیا،سینکڑوں خیموں پر مشتمل خیمہ بستی مکمل طور پر پانی میں ڈوب گئی۔مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نےمتاثرہ خاندانوں کو بروقت محفوظ‌مقام پر منتقل کر دیا،مسلم ویمن لیگ کی جانب سے سیلاب متاثرین کو ریسکیو کرنے کے لئے دو کشتیاں خدمت خلق کے حوالے کر دیں،مولانا طارق جمیل فاؤنڈیشن نے بھی کشتیاں مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں کے حوالے کیں.

    دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے باعث مرکزی مسلم لیگ نے ریسکیو آپریشن مزید تیز کردیا ہے۔ متعدد متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔مرکزی مسلم لیگ سندھ کے رضاکاروں نے گھوٹکی کے علاقے امیر بخش چاچڑ گوٹھ، لوپ بند اور کچے کے مختلف دیہات سے ہندو کمیونٹی سمیت درجنوں خاندانوں کو ریسکیو کرکے محفوظ مقامات تک پہنچایا۔مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے اس وقت گڈو، کشمور، گھوٹکی، منڈو دیرو، روہڑی اور دریائے سندھ کے دیگر متاثرہ مقامات پر ریسکیو کے ساتھ ساتھ ریلیف سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ کچے کے علاقوں میں میڈیکل کیمپ قائم کرکے متاثرین کو علاج معالجے اور ادویات کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔مرکزی مسلم لیگ کا کہنا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں کسی بھی خاندان کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ریلیف آپریشن بھرپور انداز میں جاری رکھا جائے گا

    مسلم اسٹوڈنٹس لیگ بھی سیلاب متاثرہ علاقوں میں متحرک ہے، مسلم سٹوڈنٹس لیگ نے سیلاب متاثرین کی خیمہ بستیوں لاہور، باجوڑ،بہاولپور میں مددگار اسکول قائم کر دیئے ہیں،سیلا ب متاثرہ بچوں‌کو سکولوں میں تعلیم دی جا رہی ہے، مسلم سٹوڈنٹس لیگ کی جانب سے سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کو سکول بیگ، کتابیں، کاپیاں تحفتا دی گئی ہیں، مسلم سٹوڈنٹس لیگ کی مددگار ٹیم نے لاہور،موہلنوال میں خیمہ بستی میں سکول کے بعد باجوڑ خیبر پختونخواہ میں مددگار سکول قائم کیا جس کی افتتاحی تقریب میں اسسٹنٹ کمشنر خار باجوڑ کلیم جان، صدر مسلم سٹوڈنٹس لیگ انس محصی، جنرل سیکرٹری ایم ایس ایل عمر عباس، صدر مددگار ٹیم حماد عبدالرزاق، کو آڈینیٹر ایم ایس ایل کے پی کے معاویہ اعجاز اور دیگر معزز شخصیات نے خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر متاثرہ بچوں میں قرآن مجید کے ساتھ ساتھ ایجوکیشنل گفٹس بھی تقسیم کیے گئے۔بہاولپور میں خیمہ بستی میں مددگار اسکول کے افتتاح کے موقع پر صدر مسلم سٹوڈنٹس لیگ انس محصی اور علاقائی معزز شخصیات نے خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر انس محصی کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لئے مسلم سٹوڈنٹس لیگ کے نوجوان بھی متحرک ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ سیلاب متاثرین کے بچوں کی تعلیم کے لئے وقت ضائع نہ ہو اسی لئے خیمہ بستیوں میں ہی سکول بنائے گئے ہیں ،مسلم سٹوڈنٹس لیگ کی جانب سے دیگر خیمہ بستیوں میں بھی مددگار سکول بنائے جائیں گے.

    قدرتی آفات کے اس المناک موسم میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی بے لوث خدمت کی سرگرمیاں ایک دیگر سیاسی جماعتوں کے لئے ایک روشن مثال ہیں جو ووٹ لے کر عوام کو بھول جاتی ہیں،خیبر پختونخوا سے گلگت اور پھر پنجاب میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں کی شب و روز جدوجہد، متاثرین کی مدد ٹوٹے دلوں کا سہارا بنی، آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب اس کارِ خیر کا حصہ بنیں، اور متاثرین کے دکھ بانٹیں، آئیے، قدم سے قدم ملا کر ہم بھی مرکزی مسلم لیگ کے خدمت کے اس قافلے کا حصہ بنیں۔
    Markazi Muslim League Expands Rescue Operation in Jalalpur and Alipur; Hindu Community Families Rescued

    Markazi Muslim League Expands Rescue Operation in Jalalpur and Alipur; Hindu Community Families Rescued

    Markazi Muslim League Expands Rescue Operation in Jalalpur and Alipur; Hindu Community Families Rescued

    Markazi Muslim League Expands Rescue Operation in Jalalpur and Alipur; Hindu Community Families Rescued

    Markazi Muslim League Expands Rescue Operation in Jalalpur and Alipur; Hindu Community Families Rescued

    Markazi Muslim League Expands Rescue Operation in Jalalpur and Alipur; Hindu Community Families Rescued

  • فوجی قربانیوں کا جواب، دہشت گردوں کا خاتمہ قریب ،تحریر:یوسف صدیقی

    فوجی قربانیوں کا جواب، دہشت گردوں کا خاتمہ قریب ،تحریر:یوسف صدیقی

    وزیراعظم شہباز شریف نے بنوں کا دورہ کیا اور دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز کا تفصیلی جائزہ لیا، جس میں جنوبی وزیرستان میں شہید ہونے والے 12 بہادر جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت اور زخمیوں کی عیادت شامل تھی، یہ پاکستان کی قربانیوں اور افواج کے عزم کی ایک ناقابلِ فراموش علامت ہے، اور یہ پیغام دیتا ہے کہ وطن کے دشمن چاہے داخلی ہوں یا خارجی، ان کے لیے کوئی گنجائش نہیں، اور قوم کے بہادر جوانوں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ فورسز کے آپریشنز میں بھارتی پراکسیز کے 35 دہشت گرد ہلاک اور 12 بہادر جوان شہید ہوئے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستانی عوام، افواج اور ریاست متحد ہو کر دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے پرعزم ہیں۔

    وزیراعظم نے اس موقع پر بلا شبہ اور بلا ابہام واضح کیا کہ دہشت گردی کا بھرپور جواب جاری رہے گا اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی یا نرم رویہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، افغان حکومت کو صاف اور سخت پیغام دیا گیا کہ یا تو پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کریں یا خارجی دہشت گردوں اور بھارتی پراکسیز کو پناہ دینے کا خطرناک کھیل فوراً بند کریں، کیونکہ پاکستانی قوم دہشت گردی کے معاملے میں کسی بھی طرح کے سیاسی کھیل، گمراہ کن بیانیے یا نرم گوشے کو برداشت نہیں کرتی، اور ہر فرد، ہر ادارہ اور ہر افواج کے جوان اس ایک موقف پر متحد ہیں۔

    پاکستان کیخلاف افغان سرزمین کے استعمال پر آئی ایس پی آر نے انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے، اور انٹیلی جنس رپورٹس سے تصدیق ہوئی ہے کہ افغان شہری بھی پاکستان مخالف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں، جبکہ فتنہ الخوارج کی سرپرستی بھارت کر رہا ہے، جو پاکستان میں خون کی ہولی کھیلنے اور دہشت پھیلانے کے لیے افغان سرزمین کا بدترین استعمال کر رہا ہے، اور یہ ایک ناقابلِ برداشت حقیقت ہے کہ بھارت نہ صرف دہشت گردوں کو پناہ دے رہا ہے بلکہ ان کے کام کو سہولت بھی فراہم کر رہا ہے۔ آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ افغان عبوری حکومت اپنی زمہ داریاں پوری کرے اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے، اور علاقے میں موجود ہر بھارتی اسپانسرڈ خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے، جبکہ سکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔

    یہ ایک تلخ اور ناقابلِ برداشت حقیقت ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ دہشت گردوں اور خوارج کے خونریز ماضی کو نظرانداز کرتے ہوئے انہیں "بھٹکے ہوئے بھائی” کہہ کر پیش کیا، حالانکہ یہ وہی خونریز عناصر ہیں جنہوں نے ہزاروں معصوم پاکستانیوں کا خون بہایا، ملک کو خوف، دہشت اور بدامنی میں دھکیل دیا اور عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنا دیا، اور ان کے نرم رویے اور سیاسی جواز کی وجہ سے خوارج اور بھارتی پراکسیز نے طاقت پکڑی، جس کا خمیازہ آج بھی پاکستانی عوام بھگت رہی ہے، اور یہ وقت ہے کہ ان تمام سازشی عناصر کے خلاف فیصلہ کن اور کڑوی کارروائی کی جائے، تاکہ کوئی بھی یہ غلط فہمی نہ رکھ سکے کہ پاکستان میں دہشت گردوں یا ان کے سہولت کاروں کو کوئی رعایت حاصل ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں، پاکستانی عوام، ریاست اور افواج متحد ہوکر دہشت گردی کے خلاف مضبوط اور فیصلہ کن کارروائی کر رہی ہیں، اور یہ واضح پیغام ہر دشمن کے لیے ہے کہ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والوں، داخلی خوارج یا خارجی پراکسیز، چاہے وہ افغان سرزمین سے کارروائی کریں یا بھارتی سرپرستی میں ہوں، ان کے لیے کوئی معافی نہیں، ان کا مکمل خاتمہ ہو گا اور ملک کو ہر قسم کی بدامنی سے پاک کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا، کیونکہ یہ وقت صرف بیان بازی، ڈھونگ یا سیاسی کھیل کا نہیں بلکہ عمل، قربانی، اور دشمنوں کے خلاف بلا تفریق فیصلہ کن کارروائی کا ہے، اور افواج پاکستان کسی بھی حد تک جانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

  • چین خواب سے حقیقت تک،تحریر:سعدیہ مقصود

    چین خواب سے حقیقت تک،تحریر:سعدیہ مقصود

    چین ایک ترقی یافتہ ملک ہے جسے دیکھنے کا خواب شاید بہت سے لوگوں نے دل میں بسایا ہو۔پاکستان سمیت پوری دنیا چین کی ترقی کی معترف ہے۔چائنہ ڈپلومیسی ایسوسی ایشن کی دعوت پر لاہور سے صحافیوں اور شعبہ تعلیم سے وابستہ 12رکنی وفد میں مجھے بھی چین جانے کا موقع ملا۔دورہ چین میں ہم نے بیجنگ، ینچوان، گوئیانگ اور گوانگژوکا وزٹ کیا۔
    چین کے ہر شہر کی ترقی اور مثالی نظم و ضبط نے ہمیں ورطہ حیرت میں مبتلا کر دیا۔ روبوٹک کام سے لے کر فاسٹ ٹرین کے سفر تک ہر لمحہ ایک نیا تجربہ تھا۔

    سب سے زیادہ متاثر کن پہلو وہاں کا ویسٹ مینجمنٹ سسٹم تھا، جہاں کچرے اور راکھ کو ضائع کرنے کے بجائے اینٹوں میں ڈھالا جاتا ہے تاکہ تعمیرات میں استعمال ہو سکے۔ یہ وہ سوچ ہے جو نہ صرف ماحول کے تحفظ بلکہ وسائل کے بہترین استعمال کی علامت ہے۔چین میں فیکٹریوں میں مزدور اور روبوٹ ساتھ ساتھ کام کرتے ہیں۔ ڈرائیور لیس گاڑیوں کا تجربہ بھی حیران کن تھا۔ بیجنگ سے گوانگژو کے سفر نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ چین اپنی ٹیکنالوجی کو کس طرح عوامی زندگی میں ضم کر چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہاں کا Face Recognition System کمال کی رفتار سے کام کرتا ہے۔ اسی نظام کی بدولت جرائم کی شرح تقریباً صفر ہے۔ نہ کوئی اضافی فورسز بنائی گئیں اور نہ ہی کسی ہنگامہ آرائی کی ضرورت ہے۔ چین کی پولیس تیز ترین، قانون نہایت سخت اور خواتین کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتی ہے۔ وہاں کسی مرد کو یہ اجازت نہیں کہ وہ کسی خاتون کو اس کی مرضی کے بغیر شیک ہینڈ بھی کر سکے۔ یہ وہ فرق ہے جو چین کو مغربی معاشروں اور خاص طور پر برصغیر سے منفرد بناتا ہے۔

    چینی عوام اپنے رویوں میں بھی مختلف ہیں۔ خواتین کی عزت کرتے ہیں اور دوست ممالک کے ساتھ نہ صرف حکومت بلکہ عوامی سطح پر بھی عزت و احترام سے پیش آتے ہیں۔ چین میں سیکیورٹی نظام انتہائی فول پروف اور مؤثر ہے مگر مسافروں کی عزت نفس پر کوئی حرف نہیں آتا۔ سیلاب ہو یا کوئی قدرتی آفت، چین کا سیفٹی سسٹم ہمہ وقت ہنگامی بنیادوں پر تیار رہتا ہے۔چین نے اپنی ترقی اور تہذیب کو محفوظ بنانے اور اس قدیم و عظیم ورثے کو دکھانے کے لیے ہر شہر میں شاندار میوزیم قائم کر رکھے ہیں، جن میں غربت کا میوزیم، میٹرو میوزیم اور وار میوزیم شامل ہیں۔ وہاں ہمیں 7th China-Arab States Expo میں شرکت کا موقع بھی ملا، جہاں ہم نے عرب ممالک کو چین کے ساتھ ہاتھ ملاتے دیکھا۔ یہ منظر اس بات کا اعلان تھا کہ چین تیزی سے ایک نئے عالمی مرکز کی حیثیت اختیار کر رہا ہے۔
    یقیناً آنے والے دس برسوں میں چین وہ سپر پاور ہوگا جسے کوئی روک نہیں پائے گا۔ امریکہ سمیت بڑی طاقتوں کی حیثیت مدھم پڑ جائے گی اور دنیا کے ممالک خود چین کے ساتھ ہاتھ ملانے پر مجبور ہوں گے۔ پاکستان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ اس کی دوستی ایک ایسے ملک کے ساتھ ہے جو نہ صرف ترقی کی علامت ہے بلکہ دنیا کے لیے رول ماڈل بھی ہے۔

    چین کا پیغام سادہ ہے خواب حقیقت بن سکتے ہیں اگر سوچ وسیع، قانون سخت، قیادت وژنری اور عوام منظم ہوں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم بھی اپنی صبح کو بیجنگ کی صبح کی طرح روشن بنا سکتے ہیں؟ اگر ہم اس رفتار سے نا چل سکے تو شاید اندھیرا ہمارا مقدر بن جائے گا۔

  • خدارا DC اور  ٹک ٹاکر میں فرق رہنے دو،تحریر:ملک سلمان

    خدارا DC اور ٹک ٹاکر میں فرق رہنے دو،تحریر:ملک سلمان

    یہ میرے الفاظ نہیں ہیں بلکہ ایک کمشنر اور درجن بھر ڈپٹی کمشنرز کے ہیں۔ مذکورہ ڈپٹی کمشنرز کا کہنا تھا کہ چند کالی بھیڑوں نے سارے ڈپٹی کمشنرز کو گالی بنادیا ہے۔ ایک اور ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر ایکٹنگ کرنے والے گندے انڈوں نے انتہائی عزت اور فخر کی علامت "ڈپٹی کمشنر” کی سیٹ کو داغدار کردیا ہے۔ ایک اور ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ دو تین ڈپٹی کمشنر جس طرح عوامی تذلیل کرکے نمبر گیم بنانا چاہتے ہیں ایسی "بے غیرتی” انہی کو مبارک۔
    سنئیر بیوروکریسی کا کہنا تھا کہ سول سروس کو جتنا گندہ اس دور کے افسران نے کیا ماضی میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، انہوں نے کچھ سنئیر افسران کے حوالے سے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلاں اچھا خاصا سمجھدار افسر ہوتا تھا پتا نہیں یہ ”ک ن ج ر وں“والے شوق میں کیسے پڑ گیا۔

    ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران کی اکثریت کا کہنا تھا کہ وہ خود بھی سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کو لعنتی کام سمجھتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ان کے ساتھی افسران اس قدر "بے غیرت اور واحیات” ہوچکے ہیں کہ انکا بس نہیں چلتا کہ واش روم میں بھی کیمرہ لگوا لیں۔

    خوش آئند بات ہے کہ بیوروکریسی کی اکثریت سیلف پروجیکشن کے اس غیر قانون دھندے کو ناصرف لعین سمجھتے ہیں بلکہ اس کے خاتمے کے خواہشمند ہیں۔ کمشنرز اور سیکرٹریز کا کہنا تھا کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی کو چاہئے کہ سیلف پروجیکشن کے غیر قانون دھندھے پر مجرمانہ خاموشی توڑ دیں، سول سروس کو گالی بننے سے بچانے کیلئے ٹک ٹاکر افسران کو فی الفور عہدوں سے ہٹایا جائے ورنہ تاریخ میں لکھا جائے کہ ان صوبائی سربراہان کے دور میں "صوبہ بنانا ریپبلک” بنا ہوا تھا اور یہ صاحبان عوام بھاڑ میں جائے والی پالیسی اپنائے صرف”باس“ کی جی حضوری کرکے اپنی مدت بڑھاتے رہے۔
    خواتین ٹک ٹاکر افسران خاص طور پر پولیس افسران کے بارے ساتھی افسران جس طرح کے تبصرے کرتے ہیں وہ اس قدر "ذومعنی” ہیں کہ تحریر نہیں کیے جاسکتے صرف اتنی گزارش ہے کہ ”بی بی خدا دا واسطہ جے“ اپنی نہیں تو خاتون ہونے کی ہی عزت کا خیال کرلیں۔

    سوشل میڈیا پروجیکشن کی لعنت کا شکار ہونے والوں میں پولیس والے سر فہرست ہیں جبکہ اسسٹنٹ کمشنرز کی اکثریت اور نو مولود PERA والے بچے اس غلاظت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں جبکہ باقی سروسزز کے افسران بھی پیچھے نہیں رہے۔ پولیس والوں نے جتنی نفرت سوشل میڈیا سے سمیٹی ہے اتنے تو یہ ڈالر بھی نہیں کما سکے ہونگے اگر گالیوں کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو ایک ڈالر کیلئے ایوریج کم از کم پانچ ہزار بندے کی غائبانہ گالیاں سنتے ہوں گے۔ لوگ سرکاری دفاتر اور کھلی کچہریوں میں اپنے مسائل کی درخواست دینے سے اس لیے ڈرتے ہیں کہ ان کم ظرف سرکاریوں نے اپنی بے نسلی کا ثبوت دیتے ہوئے ہمارے ذاتی مسائل کی ویڈیو بنا کر پوری دنیا کو دکھا دینی ہے۔

    ٹک ٹاکر افسران کیلئے میرے سخت الفاظ کا چناؤ انہی ٹاک ٹاکرز کے ساتھی افسران کی طرف سے ان کیلئے ادا ہونے والے الفاظ اور القابات کا ہاف ہوتا ہے جبکہ عوام میں پائی جانی والی نفرت کا بامشکل 20فیصد تحریری شکل میں لاتا ہوں۔
    سیاستدانوں اور سرکاری افسران سے مایوس عوام کی آخری امید چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف سے گزارش ہے کہ خدارا عوام کو سرکاری افسران کی شہرت کی خاطر تماشا بنانا بند کروایا جائے۔

    خوددار میرے شہر کا فاقوں سے مر گیا
    راشن تو بٹ رہا تھا مگر فوٹو سے ڈر گیا

    غیرت سے عاری بے مروت سرکاری کارندوں کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ سیلاب متاثرین بھکاری نہیں ہیں جن کے ساتھ تم فوٹو سیشن کرتے پھر رہے ہو۔سرکاری افسران کو اس وقت سے ڈرنا چاہئے جب اللہ کی پکڑ آئے اور ان پر خدائی آفت ٹوٹے اور اس وقت کوئی ان جیسا بے شرم موقعے کا افسر ہو۔

  • ٹک ٹاکر افسران سول سروس کی بے توقیری ،تحریر:ملک سلمان

    ٹک ٹاکر افسران سول سروس کی بے توقیری ،تحریر:ملک سلمان

    اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں سیلابی صورت حال میں بیوروکریسی سمیت تمام سرکاری مشینری نے قابل تعریف کام کیا۔ لیکن اس آزمائش کی گھڑی میں بھی بہت سارے افسران کا سارا زور سیلف پروجیکشن پر ہے۔ ایسی ایسی واحیات اور گھٹیا ایکٹنگ کی ویڈیوز اور تصاویر سامنے آرہی ہیں کہ ان ٹھرے ہوئے سرکاری غنڈوں پر لعن تعن کیے بن رہا نہیں جاتا۔ٹک ٹاکر افسران کو عوام کی طرف جن القابات اور گالیوں کے ساتھ پکارا جارہا ہے وہ لکھنے سے قاصر ہوں۔ جتنی محنت اورجانفشانی سے یہ ایکٹنگ والی ویڈیوز بنوا رہے ہیں اس سے آدھی محنت سے سیلاب متاثرین کی بحالی کوشش کریں تو اچھے نتائج مل سکتے ہیں۔

    او بے شرم اور بے حیا سرکاری فرعونوں تمہیں غریب عوام کے ٹیکس سے تنخواہ، لگثری گاڑیاں اور گھر عوامی فلاح و بہبود کیلئے دیے جاتے ہیں نہ کہ سیلف پروجیکشن اور ایکٹنگ کیلئے۔ حرام خورو تم اپنی سیلف پروجیکشن کی ویڈیوز کیلئے عوام کی پرائیویسی خراب کر رہے ہو ان کی عزت نفس مجروح کر رہے ہو۔

    سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کے شوق میں پاگل ہونے والے واحیات ٹائپ ٹک ٹاکر افسران کی اقلیت عزت و وقار کے ساتھ کام کرنے والی بیوروکریسی کی اکثریت کا ایمج بھی خراب کررہے ہیں۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ارباب حکومت سرکاری ملازمین کی سیلف پروجیکشن کی لعنت پر واضح پابندی کے احکامات جاری کرکے بیوروکریسی اور سرکاری ملازمت کی رہی سہی عزت بچا لیں۔ سیلف پروجیکشن کیلئے ہلکان ہونے والو تمہاری ان بچگانہ اور تھڑی ہوئی حرکتوں نے سرکاری ملازمت کو گالی بنادیا ہے۔

    خواتین افسران میں ٹک ٹاکر بننے کا رجحان تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے، خاص طور پر خواتین پولیس افیسرز سوشل میڈیا کی جہالت میں اس قدر پاگل اور ذہنی مریض بن چکی ہیں کہ اپنے دفتر، وردی اور سرکاری گاڑی کو شوٹنگ/ایکٹنگ کلب سمجھ لیا ہے۔ خواتین افسران میں سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کا جنون انتہائی تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ٹک ٹاکر افسران ذاتی تشہیر کیلئے سرکاری وسائل اور طاقت کا بے جا استعمال کررہے ہیں۔سرکاری ملازمت کے قوانین میں واضح لکھا ہے کہ آپ اپنی یونیفارم، عہدے، رینک، سرکاری گاڑی اور ڈیوٹی کو ذاتی فائدے کیلئے ہرگز استعمال نہیں کرسکتے۔سیلف پروجیکشن کیلئے عوام کی ویڈیوز بنانے والے تمام قانون شکن افسران پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات کا اندراج ہونا چاہئے جبکہ اختیارات سے تجاوز پر وفاقی افسران کے خلاف ایفیشینسی اینڈ ڈسپلن جبکہ صوبائی افسران کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کاروائی کرکے نوکری سے فارغ کردینا چاہئے۔

    شہرت کے حصول کیلئے حواس باختہ ذہنی مریض ٹائپ افسران دفتر اور کھلی کچہریوں میں آنے والے معزز شہریوں کی ویڈیوز بنا کر انکی پرائیویسی خراب کررہے ہیں۔ ٹک ٹاکر افسران کی ان تھڑی ہوئی واحیات حرکتوں سے لوگوں کے دلوں سے افسران کا احترام ختم ہورہا ہے اور نفرت کا جذبہ پروان چڑھ رہا ہے۔وزیراعظم پاکستان، تمام وزراء اعلیٰ، چیف سیکرٹری اور آئی جی صاحبان سے درخواست ہے کہ خدارا سرکاری ملازمت کو گالی بننے اور عوامی نفرت سے بچانے کیلئے سیلف پروجیکشن کرنے والے افسران کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹایا جائے۔ نہ صرف فی الفور عہدوں سے ہٹایا جائے بلکہ سول سروس سے فارغ کرنا چاہئے کیوں کہ ان آفیسرز کا کام عوام کی خدمت کرنا اور ان کے مسائل کا حل ہے نہ کہ اپنی سیلف پروجیکشن کیلئے معزز شہریوں کی ویڈیوز بنا کر بے عزت کرنا۔

    سیلاب کے علاوہ دیگر اضلاع میں بھی شہری قتل ہو رہے ہیں، حوا کی بیٹیوں کی عزت لٹ رہی ہے، ڈکیٹیاں ہوتی ہیں اور دوسری طرف پولیس سوشل میڈیا پر کارگردگی دکھانے کیلئے جعلی اور پلانٹنڈ ویڈیو شوٹنگ میں مصروف ہوتے ہیں۔ جب سے سرکاری افسران نے سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کا دھندہ شروع کیا ہے کارگردگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ میں بارہا لکھ چکا ہوں کہ سوشل میڈیا سیلف پروجیکشن کرنے والے افسران ذہنی بیمار ہیں۔ سارے معاشرے کو ان کی جہالت اور پاگل پن نظر آرہا ہے لیکن سیلف پروجیکشن کیلئے ہلکان ہونے والے افسران اپنی ذہنی غلامی اور غلاظت سے باز نہیں آرہے ہیں۔سیلف پروجیکشن کرنے والوں کی ذہنی پسماندگی پر ترس آتا ہے افسر تو بن گئے ہیں لیکن اپنے اندر کی غربت اور احساس محرومی کو دور کرنے کیلئے عادت سے مجبور ہو کر "شو آف” کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ افسران کی حرکتیں دیکھ کر لگتا ہی نہیں کہ ان میں تھوڑی شرم یا افسری کا پاس باقی بچا ہے۔سیلف پروجیکشن کے غیر قانونی دھندے کو محکمے کی مثبت ایمج سازی کا نام دینا ”ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری“ جیسی انتہائی مضحکہ خیز اور سراسر بکواس سٹیٹمنٹ ہے۔محکمے کی نیک نامی عوامی فلاح و بہبود کے کام کرنے سے ہوتی ہے اختیارات سے تجاوز اور ذاتی فائدے کیلئے کی جانی والی سیلف پروجیکشن سے نہیں۔

    اسسٹنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کا پھولوں کے ہار پہنا کر استقبال ہونا، ڈرامے بازی اور جعل سازی کے سوا کچھ نہیں۔ پھول پھینکنے والے سارے منشیات فروش، زمینوں پر قبضے کرنے والے اور دیگر ٹاؤٹ ہوتے ہیں ورنہ عام معزز شہری کو کیا مصیبت کہ ان جعل سازیوں کیلئے اپنا وقت برباد کرے۔ او بے شرمو تمہیں ذرا سی بھی حیا اور شرم نہیں آتی کہ ایسی چول حرکتیں کرکے شرمندہ ہونے کی بجائے فخر محسوس کرتے ہو۔ افسران کے استقبال کی نوسربازیاں بھی مکمل بند ہونی چاہئے۔ ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ سرکاری افسران گھٹیا ٹک ٹاک سٹار بن چکے ہیں۔ سیلف پروجیکشن کی لعنت میں ہلکان ہونے والے ذہنی مریضوں کو ٹھیک کرنے کا واحد علاج عہدوں سے ہٹاکر کسی ری ہیبلیٹیشن سینٹر میں داخل کروانا ہے۔

  • میرا ملک ڈوبا نہیں ڈبویا گیا  تحریر : عائشہ اسحاق

    میرا ملک ڈوبا نہیں ڈبویا گیا تحریر : عائشہ اسحاق

    آج کل جس بھی نیوز چینل یا سوشل میڈیا پر دیکھیں تو ہر طرف تباہی مچاتے ہوئے سلابی ریلے اور درد سے بھری داستانی دکھائی دیتی ہیں اس سب کے ساتھ ہر نیوز چینل پر بڑھ چڑھ کر امدادی کاروائیوں میں مصروف ریسکیو ٹیمیں ، پاک فوج کے دستے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر سیاسی شخصیات فراٹے مارتے ہیلی کاپٹر پر سوار ہو کر سلابی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ہر نیوز چینل پر ان تمام کاروائیوں کی تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں مگر حقیقت وہی خوفناک اور دردناک ہے کہ میرا ملک ڈوبا نہیں ڈبویا گیا ہے۔ اقتدار میں بیٹھے ہوئے با اثر لوگوں سے پوچھا جائے کیا پہلی بار سیلاب آیا ہے یا گلیشرز پہلی دفعہ پگھلے ہیں ،77 سال بیت جانے کے بعد بھی یہ عمل بار بار دہرایا جاتا ہے کیونکہ قدرت کا بھی کچھ تقاضا ہوتا ہے ہر سال گلیشرز پگھلتے ہیں ہر سال بارشیں ہوتی ہیں دریاؤں ندی نالوں میں طغیانی ہوتی ہے سیلاب آے ہیں تو پھر کوئی مثبت بندوبست کیوں نہ کیا گیا؟ انڈیا کسی صورت پاکستان کو پانی دینے پر آمادہ نہیں مگر جب یہی پانی برسات کے موسم میں بھارت کو اپنی موت دکھائی دیتا ہے تو وہ بلا تاخیر سپیل کھول دیتا ہے جس سے پاکستان میں مزید تباہی مچتی ہے تو کیا ہمارے سیاسی اقتداری با اثر حکمران اس سب حقیقت سے نا واقف ہیں؟

    ہر سال لاکھوں کیوسک میٹھا پانی جو پورے ملک کو سیراب کر سکتا ہے بنجر زمینیں آباد کر سکتا ہے مگر صرف اس صورت میں جب یہاں ڈیمز بنائے گئے ہوتے یہ پانی ڈیمز میں محفوظ کیا جاتا تو یہی میٹھا پانی ہر طرف ملک میں خوشحالی لا سکتا ہے، مگر بد قسمتی سے اور حکمرانوں کی لالچی پولیسیوں کی وجہ سے یہ پانی غریبوں کی دنیا اجاڑ رہا ہے، خوشحالی لانے کی بجائے زندگی اور گرہستیاں اجاڑتے ہوئے سمندر میں جا کر ضائع ہو رہا ہے۔جی نہیں یہ سب اچانک یا قدرتی آفت نہیں بلکہ انسانیت کا لالچ ہے، جو ہر طرف خوفناک تباہی مچاتے ہوئے لاکھوں دردناک داستانیں پیچھے چھوڑ رہا ہے۔ ان اقتداریوں سے پوچھا جائے 77 سال بیت جانے کے بعد بھی ڈیمز کہاں ہیں؟ ملک ڈوبتا نہیں ہے ڈبویا جاتا ہے اور یہی آج 2025 میں بھی ہو رہا ہے۔ یہ پانی میرے وطن کے غریبوں کی ہستیاں اور بستیاں کسی ڈائن کی طرح نگل رہا ہے اور اقتداری اپنے محلوں میں محفوظ پرتیش زندگی گزار رہے ہیں ہوا میں اڑتی سواریوں پر اج بھی سالہ سال پرانی روایت کے مطابق صورتحال کا جائزہ لینے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں اجڑے ہوئے غریبوں کے نام پر اربوں روپیہ بطور امداد وصول کیا جاتا ہے۔ یہی ہوتا آیا ہے اور یہی ہو رہا ہے۔۔۔

  • سیاسی جماعتوں کا مستقبل پاکستان کی نوجوان قیادت کے ساتھ ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی جماعتوں کا مستقبل پاکستان کی نوجوان قیادت کے ساتھ ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی تین بڑی سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کی عمر دیکھتے ہوئے بغور جائزہ لیا جائے تو ان سیاسی جماعتوں کا مستقبل سامنے آ جاتا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف بڑھاپے کی طرف جا رہے ہیں اس جماعت کی ممکنہ نئی قیادت مریم نواز اور حمزہ شہباز نظر آ رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف بھی بڑھاپے کی طرف جا رہے ہیں۔ مریم نواز مستقبل میں پارٹی کی اصل جانشین سمجھی جا رہی ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری عمر اور بیماری کے باعث زیادہ متحرک نہیں رہے۔ پیپلزپارٹی کی ممکنہ نئی قیادت بلاول بھٹو زرداری پارٹی کو نوجوان قیادت دینے کی کوشش میں ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف ابھی تک عمران خان کی حد تک مقبول ہے لیکن عمران خان کی عمر اور قانونی مسائل ان کی سیاست پر اثر ڈال رہے ہیں۔ ممکنہ بظاہر نئی قیادت عمران خان کی پارٹی میں کوئی واضح جانشین نظر نہیں آرہا۔ کچھ نام زیر بحث ہیں جیسے شاہ محمود قریشی لیکن وہ بھی عمر رسیدہ ہے۔ مجموعی طور پر اگر ان تین سیاسی جماعتوں کے مستقبل کا بغور جائزہ لیا جائے تو نون لیگ کی بھاگ دوڑ مریم نواز اور حمزہ شہباز کے ہاتھ میں آئے گی۔ پیپلزپارٹی کو بلاول بھٹو زرداری آگے لے کر چلیں گے۔ پی ٹی آئی کا مستقبل سب سے زیادہ غیر یقینی ہے۔ کیونکہ عمران خان کی جماعت میں کوئی ایک شخصیت عمران خان کی طرح سب پر بھاری نہیں دکھائی دیتی۔

    اگر مریم نواز کامیاب سیاست کرتی ہیں تو مسلم لیگ ن مستحکم رہے گی ورنہ ن لیگ کا اثر صرف پنجاب تک محدود ہو جائے گا۔ بلاول بھٹو زرداری پارٹی کی مکمل کمان سنبھالیں گے سندھ میں مضبوط رہیں گے لیکن پنجاب میں مشکل ہوگی۔ اگر بلاول بھٹو نے نوجوان ووٹر کو اپنی طرف متوجہ کیا تو پارٹی قومی سطح پر دوبارہ ابھر سکتی ہے۔ بصورت دیگر پیپلزپارٹی صرف سندھ تک محدود رہ جائے گی۔ عمران خان عمر اور صحت کے مسائل کے باعث پس منظر میں جا سکتے ہیں پارٹی کو قیادت کے خلا کا سامنا ہوگا۔ کچھ نوجوان آگے آ سکتے ہیں مگر کوئی بھی عمران خان جیسی مقبولیت نہیں رکھتا۔ اگر عمران خان کو متبادل قیادت نہیں ملی تو پارٹی تقسیم یا کمزور ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر کوئی نیا کرشماتی لیڈر ابھرا تو پی ٹی آئی ایک بار پھر مضبوط ہو سکتی ہے۔ تاہم ن لیگ کا مستقبل مریم نواز کے ساتھ جڑا ہے۔ پیپلز پارٹی کا مستقبل بلاول بھٹو کے ساتھ جڑا ہے۔ پی ٹی آئی کا مستقبل غیر یقینی ہے۔ ان تینوں بڑی سیاسی جماعتوں سے وابستہ جن کو عرف عام میں مرکزی قیادت کہا جاتا ہے ان میں اکثریت عمر رسیدہ ہیں۔ مریم نواز شریف اور حمزہ شہباز کو نوجوان سیاسی قیادت پر بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ ان تینوں سیاسی جماعتوں کا مستقبل پاکستان کی نوجوان قیادت کے ساتھ جڑا ہے۔ کچھ ایسی صورتحال سے پاکستان کی مذہبی جماعتیں بھی گزر رہی ہیں۔

  • چین روس اور بھارت کا نیا بلاک محض ایک خواب،تجزیہ:شہزاد قریشی

    چین روس اور بھارت کا نیا بلاک محض ایک خواب،تجزیہ:شہزاد قریشی

    چین، روس اور بھارت کے حوالے سے جو نیا بلاک یا اقتصادی و سیاسی اتحاد کی بات ہو رہی ہے وہ اکثر (BRICS) یا اس سے آگے بڑھنے والے اقدامات کے تناظر میں سمجھا جا رہا ہے یا سمجھا جاتا ہے۔ یہ بلاک امریکہ اور ڈالر کو کمزور نہیں کر پائے گا ڈالر عالمی ریزرو کرنسی ہے۔ تقریبا 60 فیصد سے زائد غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر ڈالر میں رکھے جاتے ہیں۔ عالمی تیل و گیس کی زیادہ تر تجارت ڈالر میں ہوتی ہے۔ امریکہ کی مالیاتی منڈیاں شفاف اور مستحکم سمجھی جاتی ہیں جس سے سرمایہ کار ڈالر پر بھروسہ کرتے ہیں۔ روس پر مغربی پابندیوں نے اسے چین پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایک مشترکہ کرنسی یا مالیاتی نظام بنانے کے لیے اعتماد ادارہ جاتی ڈھانچہ اور سیاسی یکجہتی کی ضرورت ہے جو اس وقت کمزور ہے۔ امریکہ کے پاس فوجی طاقت۔ ٹیکنالوجی۔ اور عالمی اداروں آئی ایم ایف۔ ورلڈ بینک پر اثر و رسوخ ہے۔ اگرچہ کچھ ممالک ڈالر کے متبادل پر کام کر رہے ہیں لیکن عالمی سطح پر اس کی فوری گنجائش نہیں ہے۔ روس اور چین کے درمیان توانائی کے معاہدے ڈالر کے بجائے اپنی کرنسیوں میں ہو رہے ہیں لیکن یہ سب ابھی جزوی ہے عالمی نہیں۔ امریکہ اور ڈالر کی جڑیں بہت گہری ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی سچ ہے کہ عالمی نظام میں وقت کے ساتھ ساتھ دھیرے دھیرے شگاف آ رہے ہیں۔ چین روس اور بھارت کا نیا بلاک محض ایک خواب ہے نہ یہ ڈالر کو کمزور کر سکتے ہیں نہ امریکہ کی عالمی برتری کو چیلنج۔ داخلی تضادات اور اعتماد کی کمی انہیں کبھی متحد نہیں ہونے دے گی۔