کیا پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں خاموش سفارت کاری کا نیا مرکز بن رہا ہے؟
دنیا اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ صرف دو ملکوں کو نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو جنگ، معاشی بحران اور توانائی کے طوفان میں دھکیل سکتا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اب صرف سیاسی اختلاف نہیں رہی بلکہ یہ عالمی طاقت، خلیجی سلامتی، تیل کی منڈیوں اور ایٹمی توازن کا حساس معاملہ بن چکی ہے۔ ایسے ماحول میں اسلام آباد کی خاموش سفارت کاری نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا پاکستان ایک بار پھر عالمی مذاکرات کے پسِ پردہ اہم کردار ادا کررہاہے
کئی دہائیوں سے امریکی پابندیوں، معاشی دباؤ اور سفارتی تنہائی کا سامنا کر رہا ہے، مگر اس کے باوجود تہران نے خطے میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھا ہوا ہے۔ شام، عراق، لبنان اور خلیج کی سیاست میں ایران کا کردار امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے ہمیشہ ایک چیلنج رہا ہے، جبکہ ایران خود کو مزاحمت، خودمختاری اور اسلامی سیاسی طاقت کی علامت کے طور پر پیش کرتا ہے۔
امریکا اور ایران کی کشیدگی کی جڑیں 1979 کے ایرانی انقلاب میں پیوست ہیں، مگر وقت کے ساتھ یہ تنازع مزید پیچیدہ ہوتا گیا۔ کبھی خلیج میں امریکی جنگی بحری بیڑے حرکت میں آتے ہیں، کبھی تہران پر نئی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، اور کبھی اسرائیل کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھایا جاتا ہے۔ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت اور اس کے بعد ایران کے ردِعمل نے دنیا کو کئی بار ایک بڑی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔
اس پورے منظرنامے میں موجودہ امریکی صدر Donald Trump کی شخصیت بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ان کی جارحانہ زبان، سوشل میڈیا بیانات اور طاقت کے غیر روایتی انداز نے امریکی خارجہ پالیسی کو ایک غیر یقینی رخ پر کھڑا کر دیا ہے۔ رات گئے سوشل میڈیا پوسٹس، مخالفین پر طنزیہ حملے اور ایران کو براہِ راست دھمکیاں اب عالمی سیاست کا مستقل حصہ بنتی جا رہی ہیں اے آئینی مدد سے ٹویٹ اور فوٹوز کا پوسٹ ان کی نفسیات پہ سوالیہ نشان ہے
امریکی اداکار Robert De Niro نے ایک موقع پر ٹرمپ کو “sociopathic, psychopathic malignant narcissist” قرار دیا تھا۔ دوسری جانب بعض ماہرینِ نفسیات بھی ٹرمپ کی شخصیت پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں۔ ماہرِ نفسیات ڈاکٹر جون کے مطابق ٹرمپ “personality disorder” کی ایک ایسی شکل کا مظہر ہیں جسے “malignant narcissism” کہا جاتا ہے۔ اس اصطلاح کو اصل میں جرمن نژاد ماہرِ نفسیات Erich Fromm نے متعارف کرایا تھا، جو نازی جرمنی سے فرار ہو گئے تھے اور جنہوں نے Adolf Hitler کی نفسیات کا بھی تفصیلی مطالعہ کیا تھا۔
ڈاکٹر جون کا کہنا ہے کہ جب 2015 میں ٹرمپ امریکی سیاست میں ابھرے تو انہیں اسی وقت اندازہ ہو گیا تھا کہ ایک “malignant narcissist” شخصیت اقتدار میں آنے کے بعد عالمی اقدار، سفارت کاری اور سیاسی توازن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ناقدین کے مطابق طاقت، انا اور غیر متوقع فیصلوں کا یہ امتزاج عالمی سطح پر بے یقینی کو بڑھاتا ہے، جبکہ حامی اسے “جارحانہ قیادت” کا نام دیتے ہیں۔
اسی دوران پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں نے خطے کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ پاکستانی اعلیٰ شخصیات کے بار بار ایران کے دورے، تہران اور اسلام آباد کے درمیان مسلسل رابطے، اور پسِ پردہ مذاکراتی ماحول اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان خطے میں ایک مثبت اور متوازن کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان نہ صرف ایران کا ہمسایہ ہے بلکہ امریکا کے ساتھ بھی اس کے سفارتی اور دفاعی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ یہی توازن اسلام آباد کو ایک منفرد حیثیت دیتا ہے۔
پاکستان بخوبی جانتا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کھلی جنگ پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کشیدگی کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، سرحدی سلامتی، توانائی منصوبوں اور علاقائی استحکام پر پڑے گا۔ اسی لیے اسلام آباد اپنے میوچل انٹرسٹ کے تحت یہ چاہتا ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر آئیں اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جائے۔
اس پورے منظرنامے میں چین کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ چین کبھی کھل کر کسی ایک فریق کی مکمل گارنٹی نہیں دے گا کیونکہ بیجنگ اپنی عالمی معاشی پوزیشن اور سفارتی توازن کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا، لیکن یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ چین مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے کہ ایران اور امریکا کسی نہ کسی سطح پر مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔ چین جانتا ہے کہ خلیج میں جنگ اس کی توانائی سپلائی، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں اور عالمی تجارت کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے۔
خطے کی جغرافیائی سیاست میں آبنائے ہرمز کی اہمیت بھی مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ اس اہم گزرگاہ پر ایران اور عمان کا جغرافیائی کنٹرول ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے۔ امریکا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے ذریعے ہر مسئلے کا حل ممکن نہیں، اور خلیجی استحکام کے لیے ایران کے کردار کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے ماضی میں بھی بڑے عالمی سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکا اور چین کے درمیان خفیہ سفارتی راستہ کھولنے میں اسلام آباد نے بنیادی کردار ادا کیا تھا، جبکہ افغان مذاکرات میں بھی پاکستان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکا۔ آج اگر ایران اور امریکا کے درمیان کوئی بیک ڈور ڈپلومیسی آگے بڑھتی ہے تو اسلام آباد ایک قابلِ قبول اور متوازن مقام بن سکتا ہے۔
پاکستان کی انہی سفارتی کوششوں پر پڑوسی ملک انڈیا میں بے چینی محسوس کی جا رہی ہے۔ بھارت خود کو خطے کی بڑی سفارتی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے، اس لیے اگر ایران اور امریکا جیسے اہم فریق اسلام آباد کے ذریعے قریب آتے ہیں تو یہ پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی تصور ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی میڈیا کے بعض حلقوں میں اس حوالے سے سخت ردِعمل بھی دیکھنے میں آیا۔
دنیا پہلے ہی یوکرین اور غزہ کی جنگوں سے تھک چکی ہے۔ عالمی معیشت دباؤ میں ہے، تیل کی قیمتیں غیر یقینی کا شکار ہیں اور مشرقِ وسطیٰ مسلسل بارود کے ڈھیر پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ ایسے وقت میں شاید سب سے بڑی ضرورت میزائلوں کی نہیں بلکہ مذاکرات کی ہے، دھمکیوں کی نہیں بلکہ تدبر کی سیاست کی ہے۔
اب سوال صرف یہ نہیں کہ ایران اور امریکا کیا چاہتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا دنیا واقعی ایک اور جنگ کی متحمل ہو سکتی ہے؟ اور اگر اسلام آباد ایک بار پھر مذاکرات کی میز سجانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو کیا پاکستان اس بار صرف ثالث نہیں بلکہ خطے میں امن کی نئی سفارتی امید کے طور پر یاد رکھا جائے گا
