Baaghi TV

Category: متفرق

  • گاؤں جہاں 32 ایکڑ اراضی بندروں کے نام

    گاؤں جہاں 32 ایکڑ اراضی بندروں کے نام

    اورنگ آباد: ایک ایسے وقت میں جب لوگوں کے درمیان زمینی تنازعات عام ہیں،مہاراشٹر کے عثمان آباد ضلع کے ایک گاؤں میں بندروں کو 32 ایکڑ اراضی اپنے نام پر رجسٹرڈ ہونے کا نادر اعزاز دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست عثمان آباد میں ایک ایسا گاؤں ہے جہاں کے بندر زمیندار ہیں، اس گاؤں میں جہاں لوگوں کے پاس اپنے گھر نہیں ہیں وہاں 32 ایکڑ اراضی یہاں کے بندروں کے نام پر ہے۔

    دبئی میں دنیا کا سب سے بڑا ہیرا نمائش کےلیے پیش کردیا گیا

    گاؤں کے رہائشی بندروں کا خاص احترام کرتے ہیں جب بھی ان کی دہلیز پر بندر آتے ہیں تو وہ انہیں کچھ نہ کچھ ضرور کھلاتے پلاتے ہیں۔

    اپلا گرام پنچایت کے پاس ملے زمینی ریکارڈ میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ 32 ایکڑ زمین گاؤں میں رہنے والے تمام بندروں کے نام ہے۔

    گاؤں کے سربراہ کے مطابق ماضی میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب بندر گاؤں میں کی جانے والی تمام رسومات کا لازمی حصّہ ہوا کرتے تھے،جبکہ دستاویزات میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ زمین بندروں کی ہے، لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ جانوروں کے لیے یہ انتظام کس نے کیا اور کب کیا گیا-

    بھارت: زائرین کو لیجانے والا ہیلی کاپٹر تباہ،پائلٹ سمیت 7 افراد ہلاک

    جب بھی گاؤں میں شادیاں ہوتی تھیں، تو سب سے پہلے بندروں کو تحفہ دیا جاتا تھا جس کے بعد ہی تقریب شروع ہوا کرتی تھی تاہم اب ہر کوئی اس رواج کی پیروی نہیں کرتا،ماضی میں، بندر گاؤں میں کی جانے والی تمام رسومات کا حصہ تھے۔

    انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ مذکورہ زمین کے دستاویزات یہاں کے بندروں کے نام ہے لیکن دستاویزات میں یہ واضح نہیں ہے کہ ان کے لیے یہ انتظام کس نے اور کب کیا ہے۔ یہاں ایک مکان ہوا کرتا تھا جسے محکمہ جنگلات نے منہدم کرکے زمین پر شجرکاری کا کام کیا ہے۔

    گاؤں میں اب بندروں کی تعداد برسوں سے کم ہو گئی ہے کیونکہ یہ زیادہ دیر تک ایک جگہ نہیں ٹھہرتے، اس وقت گاؤں میں تقریباً 100 بندروں کے گھر موجود ہیں۔

    مسٹر پڈوال نے کہا کہ گاؤں اب تقریباً 100 بندروں کا گھر ہے، اور ان کی تعداد برسوں سے کم ہو گئی ہے کیونکہ جانور زیادہ دیر تک ایک جگہ نہیں ٹھہرتے۔

    تین سال کا بچہ اپنی ماں کی شکایت لے کر تھانے پہنچ گیا

    انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلات نے زمین پر شجرکاری کا کام کیا ہے اور اس پلاٹ پر ایک لاوارث مکان بھی تھا جو اب منہدم ہو چکا ہے جب بھی بندر ان کی دہلیز پر آتے ہیں گاؤں والے بھی انہیں کھلاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی بھی انہیں کھانے سے انکار نہیں کرتا-

  • تین سال کا بچہ اپنی ماں کی شکایت لے کر تھانے پہنچ گیا

    تین سال کا بچہ اپنی ماں کی شکایت لے کر تھانے پہنچ گیا

    نئی دہلی: تین سال کا بچہ اپنی ماں کی شکایت لے کر تھانے پہنچ گیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں تین سال کا بچہ اپنی ماں کے خلاف شکایت لے کر تھانے پہنچ گیا۔ بچے نے تھانے کے عملے سے ماں کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسے ٹافیاں کھانے نہیں دیتیں اورتھپڑمارتی ہیں اس لیے انہیں گرفتار کیا جائے۔


    تین سال کے صدام کو اس کے والد ضد کرنے پر تھانے لے کر پہنچے تو تھانے کا عملہ اتنے کم عمر شکایت لے کر آنے والے کو دیکھ کر حیران رہ گیا بچے نے خاتون سب انسپکٹر کو اپنی والدہ کے خلاف شکایت درج کرائی اور انہیں گرفتار کرنے کا کہا-

    اس واقعے کی ویڈیو، سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، اس میں صدام کو برہان پور کے دیتلائی میں سب انسپکٹر کو اپنی شکایت بیان کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وہ سب انسپکٹر پرینکا نائک سے کہتا ہے، "امّی نے میری مٹھائیاں چرائی، اسے جیل میں ڈال دیا۔

    ڈپریشن کے علاج کے لیے دماغ کی پہلی کامیاب سرجری

    خاتون افسر نے بچے کو پیار کیا اور جھوٹ موٹ اس کی شکایت درج کرکے ایک کاغذ پر باقاعدہ دستخط بھی کروائے بچے کی معصومیت پر اپنی ہنسی پر قابو پانے کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے، اس سے کچھ سوالات پوچھتی ہیں اور شکایت درج کروانے کا بہانہ کرتے ہوئے اپنے خدشات کو بیان کرتی ہیں۔

    پولیس افسر نے بچے کو یقین دہانی کرائی کے اس کی ماں کوگرفتار کرلیا جائے گا۔ ماں کے خلاف تھانے پہنچنے والے بچے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگی۔

    صدام کے والد نے پولیس کو بتایا کہ جب اس نے کینڈی مانگی تو اس کی ماں نے اس کے گال پر آہستہ سے پیٹا اس نے صدام کو پریشان کر دیا، اور اس نے مجھ سے اسے پولیس والوں کے پاس لے جانے کو کہا۔

    ویڈیو کلپ کے وائرل ہونے کے بعد، ریاست کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے ایک ویڈیو کال پر بچے سے بات کی اور اس سے وعدہ کیا کہ وہ دیوالی پر اسے چاکلیٹ اور ایک سائیکل بھیجے گا-

    قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے میں سعودی عرب کی کوششیں قابل تعریف ہیں،یوکرین

  • ہاکی میچ کے دوران شرٹ اتار کرگرل فرینڈ کو شادی کی پیشکش کر دی،ویڈیو

    ہاکی میچ کے دوران شرٹ اتار کرگرل فرینڈ کو شادی کی پیشکش کر دی،ویڈیو

    نیویارک: امریکا میں ایک شخص نے ہاکی میچ کے دوران اپنی گرل فرینڈ کو شادی کی پیشکش کی-

    باغی ٹی وی : خبر ایجنسی کے مطابق امریکا میں ایک آدمی نے اپنے پروپوزل کو یادگار بنانے کے لیے ایک ہاکی میچ کے دوران اپنی گرل فرینڈ کو شادی کی پیشکش کرنے کا فیصلہ کیا مگر اس کا یہ فیصلہ ایسا غلط ثابت ہوا-

    افغانستان:سنگسار کی سزا سے بچنے کیلئے لڑکی نے خودکشی کر لی

    میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ شخص اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ نیشنل ہاکی لیگ میں نیویارک آئی لینڈرز اور فلوریڈا پینتھرز کا میچ دیکھنے گیا جہاں اس نے اپنی گرل فرینڈ کو پرپوز کر دیا۔


    وائرل ویڈیومیں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس شخص نے پہلے اپنی شرٹ اتاری کیونکہ اس نے اپنے سینے پر لکھ رکھا تھا کہ ”Plz say yes“۔ اس کے ساتھ ہی آدمی ایک گھٹنے پر جھک گیا اور انگوٹھی آگے بڑھاتے ہوئے لڑکی کو شادی کی پیشکش کر دی۔

    بھارتی پولیس اہلکار کی دکان کے باہر لگے ایل ای ڈی بلب چوری کرنے کی ویڈیو وائرل

    وہاں پر موجود سینکڑوں لوگ یہ منظر دیکھ رہے تھے اور لوگوں نے مذاق میں ’just say No‘ کے نعرے لگانے شروع کردئیے مگر لڑکی نے سچ مچ انکار کر دیا لڑکی آدمی کے ہاتھ تھام کر اسے کچھ کہتی ہے اور اس کی شادی کی پیشکش کو ٹھکرا کر وہاں سے چلی جاتی ہے۔

    آدمی اس کے جانے کے بعد کچھ دیر تو سکتے کے عالم میں وہیں ایک گھٹنے پر ہی مبہوت رہتا ہے اور پھر اپنی سیٹ پر آ کر بیٹھ جاتا ہے۔

    اس وائرل ویڈیو پر کمنٹس میں اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ شادی کی پیشکش دو لوگوں کے درمیان ہونی چاہیے۔ اس طرح ہزاروں لوگوں کے بیچ کسی کو شادی کی آفر کرنا ہی غلط ہے۔

    بھارت : بابری مسجد کے بعد ہندو انتہا پسندوں نے ایک اور مسجد میں بت رکھ دیئے

  • ” موت کے بعد انسان کی 9 آرزوئیں ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” موت کے بعد انسان کی 9 آرزوئیں ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ۱- يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻣﭩﯽ ﮨﻮﺗﺎ ‏(ﺳﻮﺭة النبأ‏ 40#)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۲- يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي *
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ‏( ﺍﺧﺮﯼ ‏) ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ
    ‏( ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺠﺮ #24 ‏)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۳- يَا لَيْتَنِي لَمْ أُوتَ كِتَابِيَهْ
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﺎﻣﮧ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻧﮧ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺤﺎﻗﺔ #25)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۴- يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻓﻼﮞ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮧ ﺑﻨﺎﺗﺎ
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ #28 )
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۵- يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍللہ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﯽ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﮨﻮﺗﯽ
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻷﺣﺰﺍﺏ #66)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۶- يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﻟﯿﺘﺎ
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻔﺮﻗﺎﻥ #27)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۷- يَا لَيْتَنِي كُنتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزًا عَظِيمًا
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻨﺴﺎﺀ #73‏)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۸- يَا لَيْتَنِي لَمْ أُشْرِكْ بِرَبِّي أَحَدًا
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺷﺮﯾﮏ ﻧﮧ ﭨﮭﯿﺮﺍﯾﺎ ﮨﻮﺗﺎ
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻜﻬﻒ #42)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ۹- يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
    ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ! ﮐﻮﺋﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﻮ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﮭﯿﺠﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﮧ ﺟﮭﭩﻼﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﮞ۔
    ‏(ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻷﻧﻌﺎﻡ #27)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ﯾﮧ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺁﺭﺯﻭﺋﯿﮟ جن کا ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﻧﺎ ﻧﺎﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ، ﺍسی لئے ﺯﻧﺪﮔﯽ میں ہی اپنے عقائد و عمل کا ﺍﺻﻼﺡ کرنا ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ۔
    ﺍللہ ﺗﻌﺎﻟﯽ ہمیں ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﻋﻄﺎﺀ ﻓﺮﻣﺎئے۔

  • مقصدیت — عمر یوسف

    مقصدیت — عمر یوسف

    لائبریری میں ادھار کتاب لیتے ہوئے ایک دوست کو دوسرے نے کہا کہ چھوڑو یار ہم یہ کتاب خرید ہی لیتے ہیں ۔

    پہلے دوست نے جواب دیا کہ اگرچہ میں خریدنے کی قوت رکھتا ہوں لیکن پھر بھی نہیں خریدوں گا ۔

    لائبریری سے ادھار لی ہوئی کتاب میرے اندر یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ کتاب میری ملکیت نہیں اور یہ میرے پاس محدود وقت کے لیے ہے ۔ یہ احساس مجھے مجبور کرتا ہے کہ میں کتاب سے جلد اور زیادہ فائدہ اٹھا لوں ۔ جبکہ کتاب کی ملکیت کا احساس اس سے فائدہ اٹھانے کو ملتوی کرتا رہتا ہے یہ سوچ کر کہ چیز تو اپنی ہے بعد میں پڑھ لیں گے اور یوں انسان فائدہ اٹھانے سے محروم رہتا یے ۔

    یہی صورت حال وسیع تناظر میں انسان کی زندگانی پر منطبق ہوتی ہے ۔

    جب انسان یہ سوچتا ہے کہ یہ زندگی میری نہیں ہے اور میرے پاس وقت بھی محدود ہے تو وہ اس سے جلد اور زیادہ فائدہ اٹھاتا یے ۔

    لیکن لاشعوری طور پر لوگوں کی اکثریت اس احساس میں مبتلاء ہوتی ہے کہ زندگی میری ملکیت ہے بعد میں عمل کرلیں گے ۔

    لیکن وہ اسی غفلت میں مبتلاء ہوتا ہے کہ اچانک موت کا پنجہ اس کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور اس کے پاس خسارے کے سوا کچھ نہیں ہوتا ۔

    عقیدہ آخرت نہ صرف انسان کو مقصدیت عطا کرتا ہے بلکہ وہ اس کی آخرت کے ساتھ ساتھ اس کی دنیا کو بھی بہتر اور خوشحال کردیتا ہے ۔

  • برصغیر پاک و ہند کے مایہ ناز عالمِ دین شیخ عزیر شمس حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے مکہ مکرمہ میں انتقال کرگئے ۔

    برصغیر پاک و ہند کے مایہ ناز عالمِ دین شیخ عزیر شمس حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے مکہ مکرمہ میں انتقال کرگئے ۔

    مکہ مکرمہ:برصغیر پاک و ہند کے مایہ ناز عالمِ دین اور محقق علامہ عزیر شمس حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے انتقال کرگئے ۔برصغیر پاک و ہند کے علمی حلقوں میں شیخ محمد عزیر شمس کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ ایک بلند پایہ مصنف اور محقق تھے۔ اردو اور عربی زبان میں اب تک آپ کی متعدد تحقیقات اور مقالات و مضامین منظر عام پر آچکے ہیں۔شیخ عزیز شمس کی پیدایش دسمبر 1956ء میں مغربی بنگال (بندوستان) کے ضلع "مرشد آباد” کے علاقے "صالح ڈانگہ میں ہوئی جہاں آپ کے والد اور اپنے عہد کے جلیل القدر عالم مولانا شمس الحق سلفی مرحوم ایک دینی ادارے میں یہ سلسلہ تدریس مقیم تھے۔ آپ نے حصول علم کا آغاز مدرسہ فیض عام مئو سے کیا اور بعد ازاں ہندوستان کے نامور اداروں: دار العلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ بہار، جامعہ رحمانیہ بنارس، جامعہ سلفیہ بنارس میں طلب علم میں مشغول رہے اور 1976ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ چلے گئے اور چار سال تک عربی زبان و ادب میں تخصص کا کورس کیا۔ 1985ء میں جامعہ ام القری مکہ مکرمہ سے ایم فل کیا اور حالی کی تنقید اور شاعری پر عربی اثرات“کے عنوان سے مقالہ لکھا۔ بعد ازیں اسی جامعہ سے پی۔ ایچ۔ ڈی کرنے کا تہیہ کیا اور مطالعہ“ کے موضوع پر اپنا تھیسس مکمل کیا۔شیخ عزیر شمس ان تعلیمی مراحل کی تکمیل کے بعد واپس ہندوستان چلے گئے، لیکن کچھ عرصہ بعد الله تعالی نے دوبارہ ارض حرمین میں قیام کا راستہ پیدا کر دیا، اور فروری 1999ء میں مکہ مکرمہ واپس آگئے جہاں آپ نے کئی علمی اداروں سے منسلک ہو کر کام کیا جن میں جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ، مجمع الملک فہد مدینہ منورہ اور اسلامی فقہ اکیڈمی جدہ شامل ہیں۔ آپ 1999ء ہی سے مستقل طور پر مکہ مکرمہ کے مشہور علمی و تحقیقی ادارے "دار عالم الفوائد سے بھی وابستہ رہے جس میں آپ نے امام ابن تیمیہ، امام ابن قیم اور علامہ معلمی کی بہت سی کتابوں کی تحقیق و تدوین کے فرائض سر انجام دیے ۔شیخ محمد عزیر شمس نے تحریر و نگارش کا آغاز اردو مضمون نگاری سے کیا اور اپنا پہلا مضمون "مولانا شمس الحق عظیم آبادی کے عنوان سے علامہ عظیم آبادی کی سیرت و خدمات سے متعلق لکھا۔ شیخ عزیز شمس نے امام ابن تیمیہ سمیت کئی محدثین پر کام کیا اور کثیر تعداد میں کتب تصنیف کیں ، بلاشبہ اس ’شمس’ کی وفات سے علم و تحقیق کا ایک ’آفتاب’ غروب ہوگیا.شیخ محمد عزیر شمس کی نماز جنازہ حرم مکی میں فجر کی نماز کے بعد سوموار کے دن ادا کی جائے گی، اور تدفین معلیٰ قبرستان میں ہوگی۔

  • باتونی انسان اس حکمت سے محروم ہو جاتا ہے!!! — ریاض علی خٹک

    باتونی انسان اس حکمت سے محروم ہو جاتا ہے!!! — ریاض علی خٹک

    ایک فاسٹ باؤلر اپنا ہاتھ گھما کر ڈیڑھ سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کرا سکتا ہے. کیا ہر شخص اس رفتار سے گیند پھینک سکتا ہے.؟ اسکا جواب نہیں ہے. لیکن ایک جیسے انسانوں میں ایک جیسے ہاتھ ہوتے رفتار کا یہ فرق کیسے آیا.؟ تو اسکا جواب یادداشت ہے.

    ہمارے مسلز کی بھی اپنی ایک یادداشت ہوتی ہے. جب ہم روزانہ کچھ مسلز سے بار بار ایک ہی طرح کام لینا شروع کر دیں تو دماغ اس کی مکینکس سیٹ کرنے لگتا ہے. ہماری تربیت ہماری مستقل مزاجی اور توانائی اس مکینکس کو بہتر سے بہترین کی طرف لے جانا شروع کر دیتی ہے. اور ہمارے muscles عام لوگوں سے منفرد ہوجاتے ہیں.

    مسلز کی ہر یادداشت کو طاقت نیند دیتی ہے. جب ہم سوتے ہیں تو دماغ اپنے بہت سے کاموں میں سے ایک یہ کام بھی کرتا ہے. یعنی ہماری یادداشت بہترین کرتا ہے. اس لئے اچھی نیند فوکس یادداشت اور قوت مدافعت کیلئے بہت اہم ہوتی ہے. خاموشی حکمت یعنی wisdom کی نیند ہے. جب ہم کم بولتے ہیں تو ہمارا دماغ ہمیں فوکس تجزیہ اور سوچے سمجھے انتخاب کا وقت دیتا ہے جسے ہم حکمت کہتے ہیں.

    باتونی انسان اس حکمت سے محروم ہو جاتا ہے. پھر اس کی زبان وہ باولر بن جاتی ہے جس کے پاس رفتار اور سٹیمنا تو بہت ہوتا ہے لیکن نہ اس کی لائن ٹھیک ہوتی ہے نہ لینتھ بس وہ گیندیں پھینک رہا ہوتا ہے اور سننے والے سر پکڑ کر بیٹھے ہوتے ہیں.

  • صفر ایکشن لیا گیا ہے اور لیا جائے گا!!! — ضیغم قدیر

    صفر ایکشن لیا گیا ہے اور لیا جائے گا!!! — ضیغم قدیر

    لاہور اور کراچی دنیا کے بڑے انڈسٹریل شہر ہونے کے بغیر بھی دنیا کے سب سے زیادہ آلودہ شہر ہیں۔

    وجوہات؟

    نئی ماحول دوست مشینری کی بجائے پرانی فاسل فیول پہ چلنے والی مشینری، اور یہ مشینری بھی موسٹلی ترقی یافتہ ممالک سے سکریپ کے معاہدوں کے بعد یہاں آتی ہے۔

    نئی گاڑیوں کی بجائے پرانے سٹینڈرڈ پہ بنی نئی یا دہائیاں پرانی امپورٹڈ گاڑیاں جو کہ زہریلی گیسز خارج کرنے کا بہت بڑا سبب ہیں اور ان گاڑیوں کی ہیلتھ فٹنس چیک اپ نا ہونا، آپ لاہور کسی بھی جگہ چلے جائیں اگر آپ کو اپنے سامنے کوئی دھوئیں والی گاڑی یا رکشہ نا ملے تو سمجھ جائیں لاہور نہیں ہیں۔

    بے ہنگم آبادی جس میں سبزہ نا ہونے کے برابر ہے۔ سڑک کے گرد لگے پودے اتنے مفید کبھی نہیں ہو سکتے جتنے گھروں میں یا شہر سے باہر جنگل کی صورت میں ہو سکتے ہیں۔

    ان سب وجوہات کی بنیادی وجہ پچھلی پوسٹ میں لکھی ہے۔ دہراتا چلوں کہ ہماری حکومتیں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر اتنا زیادہ ٹیکس لگا چکی ہیں کہ ہم مجبوراً بیس سے تیس سال پرانی ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے اپنے ماحول کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں۔

    اگر لاہور اور کراچی میں سے اوپر والے دونوں فیکٹرز کو ہٹا کر سستی بجلی پر چلنے والے کارخانے ہوں اور ان کیساتھ ساتھ گاڑیوں کی ریگولیشن کرکے 2000 سے پرانی تمام گاڑیاں اور تمام سستے موبل آئلز پہ چلنے والے رکشے بند کر دئیے جائیں تو یہ شہر دو سے تین سالوں میں فضائی آلودگی میں نیچے آ جائیں گے۔

    وہیں ان شہروں میں انڈسٹریل ویسٹ کی مینجمنٹ کا بھی کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ یہاں کے کوالٹی کنٹرول آفیسرز کی سی وی میں ایم ایس انوائرمینٹل انجینرنگ کی ڈگری تو ہے مگر ہر مہینے سٹیل ملز اور پلاسٹک مینوفکرچنگ یونٹس سے آئے چیک ان کو آرام سے بیٹھنے دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آپ صبح پانچ سے دن کے بارہ تک رنگ روڈ، جی ٹی روڈ اور موٹروے پر حد سے زیادہ سموگ دیکھیں گے جو کہ ان سڑکوں کے اطرف میں موجود کارخانوں کی چمنیوں کی دین ہے۔

    حالانکہ کسی بھی مہذب ملک میں بلکہ ہمارے ملک کے قانون میں بھی ایسے کارخانے یا تو شہر سے باہر لگانے کا حکم ہے یا ان کی چمنیوں سے دھواں نکلنے سے پہلے اس کو فلٹر کرنا ضروری ہوتا ہے۔

    اسی لئے

    آپ کبھی اسلام آباد یا ٹیکسیلا آئیں، اتنی ہیوی انڈسٹری میں نے لاہور نہیں دیکھی جتنی وہاں ہے مگر پالیوشن نا ہونے کے برابر ہے کیونکہ ریگولیشن اچھی ہو رہی ہے۔

    اس وقت ہمارے ملک میں زیر استعمال مشنری کو اپ گریڈ کرنے کی اشد ضرورت ہے اور اپ گریڈ کا مطلب یہ نہیں کہ چائینہ یا جرمنی سے متروک انڈسٹریل مشینری لائی جائے بلکہ جدید ماحولیاتی سٹینڈرڈ پر مشینری یہاں بنائی جائے مگر ایسے کاموں پہ ٹیکس اتنے ہیں کہ لوگ سوچنے سے پہلے توبہ پڑھتے ہیں اور پھر دہائیوں پرانی انڈسٹریل اور آٹوموبل مشنری جو کہ ماحولیاتی آلودگی پھیلاتی ہے اس کو استعمال کرکے لوگوں کو بیمار کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔

    یاد رہے کچھ سال اس آلودگی کی شکایت بھارت نے بھی کی تھی کیونکہ ہمارے ائیر کرنٹ یا پھر ہوائی دباؤ کی وجہ سے یہ آلودگی قریبی بھارتی چہروں کو بھی گندہ کر رہی ہے۔

    مگر

    Zero actions are taken and will be taken.

  • میرا بزنس کیا ہے؟ — ریاض علی خٹک

    میرا بزنس کیا ہے؟ — ریاض علی خٹک

    یونیورسٹی آف ٹیکساس سے کاروبار میں ڈگری یافتہ طلباء کی تقریب میں میکڈونلڈ کے مالک رے کروک نے پوچھا تھا بتاو میرا بزنس کیا ہے.؟ اور سب طلباء ہنس پڑے. بھلا میکڈونلڈ کے بزنس کا کس کو پتہ نہیں ہوگا..؟

    مارکیٹ بھی ایک ایسی جگہ ہے جہاں جب آپ کسی سے پوچھتے ہیں تمہیں کاروبار کی سمجھ ہے تو اکثریت باقاعدہ ہنس کر کہتی ہے بھلا کاروبار کی سمجھ بھی کوئی مشکل کام ہے.؟ کیونکہ اکثریت کاروبار بس مارکیٹ میں اپنے نام کا بورڈ لگانا سمجھتی ہے. آپ کسی کو سفید کاغذ اور ایک قلم دے کر بولیں اپنی مرضی کا کچھ بھی لکھ دو تو اسی فیصد افراد اپنا نام لکھ لیتے ہیں. وہ نام جسے وہ اپنی پہچان سمجھتے ہیں. وہ نام جو دیا ہی کسی دوسرے نے ہوتا ہے.

    اکثریت کاروبار کو بھی ایسا ہی سمجھتی ہے. بس اپنا نام لکھ کر بورڈ مارکیٹ میں لگا دو. کاروبار ساکھ اور پہچان کا نام ضرور ہے. جیسے رے کروک کے سوال پر بزنس کی ڈگریاں لینے والے ہنس دئے. یہ بھی بھلا کوئی سوال ہے.؟ کیونکہ انہوں نے بزنس پڑھ تو لیا تھا عملی میدان میں ابھی سمجھا نہیں تھا. لیکن ساکھ کاروبار سمجھ آنے کے بعد بنتی ہے.

    رے کروک یعنی میکڈونلڈ کا بزنس بھی برگر بیچنا نہیں بلکہ رئیل سٹیٹ ہے. یہ زمین لیتا ہے. اسے فرنچائز کر کے کرایہ لیتا ہے. اپنے ہی کرائے دار کو پھر اپنی چیزیں بیچتا ہے. اور جب اس پراپرٹی کی قیمت بہت بڑھ جائے تو اسے بیچ کر کسی دوسری سستی جگہ پھر سلسلہ شروع کر دیتا ہے. آپ کیا سمجھتے ہیں میکڈونلڈ برگر بیچ کر ملٹی نیشنل کمپنی بنی ہے.؟

  • آدمی کو خود سے ہمیشہ سچ بولنا چاہئے!!!  — ریاض علی خٹک

    آدمی کو خود سے ہمیشہ سچ بولنا چاہئے!!! — ریاض علی خٹک

    ایک صاحب ریٹائرڈ ہوگئے. اچھا بھلا ریٹائرمنٹ فنڈ ملا. بچے تعلیم کے آخری مراحل میں تھے. کسی نے ان سے پوچھا کہ اب کیا پروگرام ہے. انہوں نے کہا کچھ نہیں اب اللہ اللہ کریں گے. پوچھنے والے نے کہا ایسے تو سارا فنڈ آپ گھر بیٹھ کر کھا جائیں گے. کسی کاروبار کی سوچ لیں. ان صاحب نے کہا بھائی مجھے کاروبار کی نہ سمجھ نہ تجربہ نہ شوق ہے. بجائے اپنا فنڈ مارکیٹ میں دوسروں کو کھلانے سے کیا بہتر نہیں کہ گھر بیٹھ کر خود اور اپنے بچوں کو کھلا دوں.؟

    آدمی کو خود سے ہمیشہ سچ بولنا چاہئے. ہماری مارکیٹ میں ہر دوسرے دن ایک نیا ڈبل شاہ نہ صرف پیدا ہوتا ہے بلکہ کامیابی سے سب کو چونا بھی لگاتا ہے کیونکہ ہم خود سے بھی جھوٹ بولتے ہیں. جس مارکیٹ میں دس سے بیس فیصد ریٹرن کیلئے لوگ صبح سے رات تک لڑ رہے ہوتے ہیں ایک بندہ بہت اعتماد سے بتائے گا میں آپ کو پچیس فیصد ریٹرن دوں گا.

    ڈبل شاہ ہمیں ایک ایسا لالچ دیتا ہے جس کیلئے پھر ہم خود سے جھوٹ بولنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں. ہمیں ڈبل شاہ دھوکہ نہیں دیتا ہمیں ہمارا لالچ دھوکہ دیتا ہے. مارکیٹ سب کیلئے کھلی ہے خود سے سچ تب ہی ممکن ہوتا ہے جب آپ خود مارکیٹ میں بیٹھ کر اپنے فیصلے کریں. پھر نفع ہوا یا نقصان کم از کم آپ سچے ضرور ہوں گے.