Baaghi TV

Category: متفرق

  • پروفیسر ڈاکٹر جارڈن پیٹرسن — ضیغم قدیر

    پروفیسر ڈاکٹر جارڈن پیٹرسن — ضیغم قدیر

    یہ پروفیسر ڈاکٹر جارڈن پیٹرسن ہیں پچھلے چھ سات سال سے میرے فیورٹ کلینیکل سائیکالوجسٹ ہیں ان سے بہتر میرے خیال سے آج کی تاریخ میں کوئی سائیکالوجسٹ زندہ نہیں ہے۔

    انکی زندگی کے متعلق اپروچ حد سے زیادہ مثبت اور حوصلہ افزاء ہے۔ خاص کر انکے پرسنالٹی پر دئیے گئے یونیورسٹی آف ٹورونٹو کے لیکچر کسی بھی سائنس کے طالب علم کو ضروری سننے چاہیں۔ وہیں انکے یہ لیکچر ان لوگوں کے لئے سننا بھی اہم ہیں جو زندگی میں کسی قسم کی ڈپریشن یا پر پریشانی سے گزر رہے ہیں اور ایک استاد کی شکل میں ایگزٹ چاہتے ہیں۔

    انکی زندگی کو لے کر چلنے والی اپروچ بہت ہی عمدہ ہے۔ پروفیسر پیٹرسن کا کہنا ہے کہ اپنا خیال ویسے ہی رکھیں جیسا آپ کسی اپنے پیارے کا رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ انکی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر آپ ڈپریشن میں ہیں تو سب سے پہلے اپنا بستر درست کرنا شروع کریں۔ یہ سادہ سی بات ہمیں بہت سی پریشانیوں سے بچا سکتی ہے۔

    مختلف شارٹ ویڈیوز میں پیٹرسن کی وجہ شہرت فیمنزم اور پوسٹ ماڈرنزم کے لتے لینے سے ہوئی ہے لیکن ہم جو انہیں ایک دہائی سے سن رہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ پروفیسر سائیکالوجی میں ایک بہت قابل نام ہیں اور انہوں نے خود آگاہی پہ جو کام کیا ہے وہ قابل دید ہے۔

    یوٹیوب پہ ایک مشہور سلیبرٹی ہونیکے ساتھ ساتھ یہ ایک جید سائنسدان ہیں جس کی سائٹیشنز کی تعداد بیس ہزار اور ایچ انڈیکس 57 ہے مطلب وہ ایک قابل سائنسدان بھی ہیں۔

    انسانی پرسنالٹی کے بارے میں انکی تمام باتیں سائنسی حقائق پہ مبنی ہیں اور اگر آپ کسی قسم کی ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہیں تو آپ کو انہیں سننا چاہیے یہ آپ کو منجدھار سے نکال باہر لائیں گے۔

    جہاں البرٹ ایلس جیسے سائیکالوجسٹس نے ہمیں فرائیڈ کے نظریات سے نکال کر جدید سائیکالوجی سے متعارف کروایا اور CBT جیسی تکنیک متعارف کروائی وہیں پیٹرسن نے البرٹ ایلس سے آگے جاکر سائیکالوجی میں ارتقائی علم کے استعمال کیساتھ ساتھ سینٹ فوکالٹ کے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کنٹرول کرکے پوسٹ ماڈرن نظریات سے نوجوان نسل کے ذہن پراگندہ کرنے کے ایجنڈے کو ناکام بنایا ہے۔ جس کا مقصد نئی نسل کے ذہن سے اقدار کو ختم کرنا ہے مگر پیٹرسن جیسی مزاحمتی آواز نے اس ایجنڈے کو پورا ہونے سے روک رکھا ہے اور یہ انکی انسانیت کے لئے کی گئی سب سے بڑی نیکی ہے۔

  • زندوں کی قدر و منزلت کریں!!! — ضیغم قدیر

    زندوں کی قدر و منزلت کریں!!! — ضیغم قدیر

    کسی کی تعریف کرنے کے لئے ضروری نہیں کہ اسکے مرنے یا جُدا کا انتظار کیا جائے۔

    ایک بار پروفیسر جارڈرن پیٹرسن اس بات پہ رو پڑے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور وہ اس احساس میں مبتلا تھا کہ اس میں کسی چیز کی کمی ہے شائد اسی وجہ سے اس کی کوئی تعریف نہیں کرتا۔ بدلے میں پیٹرسن نے اسکی تعریف کی تو وہ شخص بلک بلک رویا۔ لوگ تعریف سننے کو ترستے یہاں فوت ہوجاتے ہیں۔

    ہمارا بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ اگلے کی تعریف کرنے سے وہ شخص ان کے ساتھ اپنا برتاؤ بدل دے گا۔

    زیادہ تر گھریلو جھگڑوں کو آپ دیکھ لیں چاہے لو میرج ہو یا ارینج، شادی کے کچھ سالوں بعد لڑائیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ کیوں؟

    کیونکہ دونوں ایکدوسرے کو پہلے کی طرح نہیں سراہتے ۔

    بہت سے انسانوں کو یہ قدرتی عادت ہوتی ہے کہ وہ خوشی کے موقعے پہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ سائیکالوجیکلی اس مظہر کی کئی وجوہات ہوتی ہیں زیادہ تر بچپن کی احساس محرومیاں۔مگر یہ بات کسی بھی رشتے میں محبت کو کم کرنے کے لئے کافی سے بھی زیادہ ثابت ہوتی ہے۔

    بقول کچھ سائیکالوجسٹس ہم ایسے تعریف نا کرکے کسی کو خود اپنی ذات سے نفرت کرنا سکھا دیتے ہیں ۔ وہ لوگ یہ سمجھنا شروع ہوجاتے ہیں کہ ان میں کچھ قابل تعریف ہے ہی نہیں۔

    ہمارے معاشرے میں تو تعریف کا اسٹینڈرڈ ہی کافی گھٹیا ہے۔ اگر کسی کو کوئی پیارا لگ رہا ہو تو بجائے اس کی تعریف میں دو بول بولنے کے وہ اس پر کوئی تھرڈ کلاس جگت لگا دیتا ہے۔ جس پر اگلا بندہ شرمندہ شرمندہ سا ہوجاتا ہے۔

    بظاہر یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں۔ مگر یہ کلیئر کٹ ہے کہ کوئی بھی آپ کے دل کی بات نہیں جانتا۔ اگر آپ کسی کو یاد کر رہے ہیں تو آپ کو اگلے کو بتانا ہوگا۔ اگر کسی کو پیار کرتے ہیں تو اظہار کرنا ہوگا۔ سنا تھا کہ خدا بھی اظہار کے بغیر خود سے کی گئی محبت قبول نا کرے اور یہ بات بجا ہے۔

    اسی طرح کسی کی قبر کو آپ کی تعریف کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ کسی کی غیر موجودگی کو آپ کی تعریف کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر آپ اسکے سامنے ہوتے ہوئے اس کی دل آزاری کرتے ہیں تو آپ اسکی غیر موجودگی میں چاہے اس شخص کو حاتم طائی ثابت کردیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

    ہاں

    ضرورت ہوتی ہے تو اس وقت جب وہ پاس ہوتا ہے۔ جب وہ چلا جاتا ہے تب آپ کا کچھ بھی اس تک نہیں پہنچتا۔ انفرادی طور پہ اس عادت کو ضرور اپنائیں۔ کبھی کبھار کی تعریف کرنا سیکھیں۔

    خاص کر اپنے بچوں کی تعریف کرنا شروع کریں۔ اس نے گنتی لکھنا شروع کی تو ایک چاکلیٹ لا دیں۔ چاہے پانچ والی لا کر دیں دیکھ لیجیے گا اگلی بار وہ نیا ٹاسک جلدی سیکھے گا ۔ بچوں میں ٹاسک پہ خوش ہونا بہت کامن ہوتا ہے اگر آپ ان میں موجود ریوارڈ سسٹم کا فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو انہیں گفٹ دینا سیکھیں۔

    اپنے ملازم کی تعریف کریں۔ تعریف میں چار پیسے زیادہ دیں۔ اگلی بار دیکھیے گا کہ کیسے وہ ڈیڑھ بندوں کا کام اکیلا انجام دیتا ہے۔ کیونکہ تعریف ایک مثبت پرفارمنس بوسٹر ہے۔

    اپنے فیورٹ شخص کی تعریف کریں۔ اگلی بار دیکھیئے گا کہ کیسے وہ آپ سے اپنا پیار دو سے تین گنا کرتا ہے۔ یہ ایک واہمہ ہی ہے کہ اگر آپ اپنے پسندیدہ شخص کی تعریف کریں گے تو وہ بگڑ جائے گا یا آپ کی قدر کرنا چھوڑ دے گا بلکہ اگر وہ قدر دان ہوا تو وہ آپ کی پہلے سے زیادہ قدر کرنے لگ جائے گا سو اپنے فیورٹ شخص کی تعریف کرنا شروع کریں یہ عادت آپکے رشتے کو مضبوط بنا دے گی۔

    بس ایک بار ٹرائی کرکے دیکھیئے گا۔ کیونکہ ہم میں سے ہر کوئی اس احساس محرومی میں جی رہا ہوتا ہے کہ اس کو کوئی اپنا کبھی نہیں سراہتا جو کہ نہایت ہی غلط بات ہے۔

  • آر یا پار—عمر یوسف

    آر یا پار—عمر یوسف

    سیاست میں استحکام نہ آنے کا دکھ تو ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ زیادہ افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ وطن عزیز کے قیام کو ستر سال سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے لیکن سیاسی استحکام میں ترقی کی بجائے تنزلی کا رجحان تیز سے تیز ہوتا جارہا ہے ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ وطن عزیز دیگر بہت سے ممالک کی نسبت وسائل کی بہتات کے باوجود وہ مقام حاصل نہیں کرپایا جس کا یہ مستحق تھا جبکہ دیگر کم وسائل کے حامل ممالک آج کسی نہ کسی مقام پر کھڑے ہیں ۔

    یہاں بہت سے دانشور متعدد وجویات کی تفصیلی گفتگو کرسکتے ہیں لیکن یہ گفتگو ظاہری نوعیت کی ہوگی ۔ جبکہ ان ظواہر کے پیچھے بھی اسباب کار فرما ہیں جو ان ظواہر کے وقوع کا سبب بنے ہیں ۔

    ان خفیہ اور پوشیدہ اسباب کو ایک منطقی اور فلسفی سوچ و فکر کا حامل شخص مابعد الطبیعیات کی بنیاد پر ہی پہچان سکتا ہے ۔ کہ وہ اسباب خدائی اصولوں پر مبنی ہیں ۔

    ابتدائے آفرینش سے ہی خدائے بزرگ و برتر نے اس چیز کا فیصلہ فرما دیا کہ دو گروہ ہونگے جن میں سے ایک کو خدائی اور دوسرے کو غیر خدائی گروہ سے منقسم کیا جاسکتا ہے ۔ ان دونوں کے بارے اصول و ضوابط طے کردیے گئے ہیں کہ کامیابی و کامرانی یا حصول سہولت و آسائش کا معیار کیا ہوگا ۔

    خدا نے غیر خدائی گروہ کو دنیوی زیب و زیبائش اور آسانیوں سے نواز کر یہ فیصلہ کیا کہ یہ اپنی سرکشی میں بڑھتے رہیں اور مہلت کا وقت گزارتے رہیں لیکن اگر اسی حالت میں روح قفس عنصری کے سپرد کرتے ہیں تو ان کا انجام بھیانک و خوفناک ہوگا ۔

    اس کے برعکس خدائی گروہ کو خدا کی فوج میں مجبور کرکے شامل نہیں کیا جاتا ۔ جو شامل ہوتا ہے اپنی مرضی سے ہوتا ہے لیکن اس گروہ میں شامل ہونے کے بعد اس اصول و ضوابط کا کاربند ہونا پڑے گا اگر ایسا نہیں ہوتا تو نتیجہ ذلت و رسوائی کے علاوہ کچھ نئی نکلتا اور وائے ناکامی کی صدائیں لگاتا انسان ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے ۔

    یہاں ایک ہی صورت کامیابی ہے اور وہ خدا کی مرضی کے مطابق چلنے میں ہے ۔

    اس حقیقت کو تاریخ کے حادثات سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے ۔

    وطن عزیز کو بھی اس معیار پر حاصل کیا گیا کہ یہ ایک خدائی مملکت ہوگی جس میں نظام حیات خدائی اصولوں پر مبنی ہوگا اور نظام سیاست شرعی اصولوں کے کاربند ہوگا ۔

    خدائی گروہ میں شمولیت کے دعوی کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ خدائی اصول اپنائے جائیں لیکن اس کے برعکس نظام حیات و سیاست کی بنیاد غیر اسلامی قوانین پر استوار ہوئی اور نتیجہ سب کے سامنے ہے ۔

    انسان بحیثیت مجموعی و انفرادی یہ کرسکتا ہے کہ یا تو وہ کامیابیوں کے حصول کے لیے خدائی اصولوں کا کاربند ہوکر آر ہوجائے یا پھر ان سے پہلو تہی کرتے ہوئے پار ہوجائے اور آخرت کو برباد کرلے ۔

  • ” رویہ بدلنا ہوگا ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    ” رویہ بدلنا ہوگا ” — عبدالحفیظ چنیوٹی

    صالح اولاد اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے،والدین کی اولاد پر بہت سی ذمہ داریاں ہیں جن میں سب سے اہم ان کی اچھی اور صالح تربیت کرنا ہے تاکہ وہ معاشرے کے بہترین فرد بن سکیں۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے!اے ایمان والوں اپنے آپ کواور اپنے اہل و عیال کو (جہنم) سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں
    (سورۃ التحریم آیت نمبر ۶)

    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں ہر کوئی نگراں ہے اور ہرکوئی اپنی رعیت کے متعلق جواب دہ ہے اور آدمی اپنے گھر کا ذمہ دار ہے اس سے اس کی رعیت کے متعلق باز پرس ہوگی:۔(صحیح بخاری وصحیح مسلم)

    اولاد والدین کے لئے امانت ہے اور قیامت کے دن وہ اپنی اولاد کے متعلق جواب دہ ہونگے۔اگر انہوں نے اپنی اولاد کی تربیت اسلامی انداز سے کی ہوگی تووہ والدین کے لئے دنیا و آخرت میں باعث راحت ہوگی۔

    صحیح مسلم کی روایت ہے کہ ’’جب بندہ مر جاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہوجاتا ہے مگر تین عمل باقی رہتے ہیں (۱)صدقہ جاریہ(۲)ایساعلم کہ لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں(۳)

    صالح اولاد جو ان کے لئے دعا کرتی رہے۔‘‘

    یہ اولاد کی تربیت کا ثمرہ ہے جب ان کی صالح تربیت کی جائیگی تو وہ والدین کے لئے ان کی زندگی میں بھی فائدہ مند ہوتی ہے اور ان کی وفات کے بعد بھی۔

    والدین اس دنیا میں وہ ہستیاں ہوتی ہیں جو ہر حال میں اپنی اولاد کا ساتھ دیتی ہیں۔ والدین کا مثبت رویہ اولاد کو بنا بھی سکتا ہے اور منفی رویہ تباہ بھی کر سکتا ہے۔

    ہمارے ہاں اکثر والدین over possessive ہو جاتے ہیں جو بچے کی شخصيت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔ مطلب بچوں کی حد سے ذیادہ فکر کرنا, ہر وقت ساتھ رکھنا, اور بچوں کا ہر فیصلہ خود کرنا اور یہ کہنا کہ "ہم بہتر سمجھتے ہیں بچے کبھی خود صحیح فیصلہ نہیں کر سکتے”۔ یہ رویہ بچوں میں قوت فیصلہ, اچھائی و برائی کا فرق, اور سب سے بڑھ کر اپنی سوچ کو ختم کر دیتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اکثر والدین یہ سب اتنے پیار اور محبت سے کرتے ہیں کہ بچے سمجھ ہی نہیں پاتے کہ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ انھیں ہمیشہ والدین درست لگتے ہیں۔ اور اگر ذرا بھی یہ بچے بڑا ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو مان اور بھروسہ ان کے قدموں کی زنجیریں ثابت ہوتے ہیں۔ اور اگر اچانک کوئی مصیبت آجائے تو یہ بچے بلکل سنبھل نہیں پاتے اور نا ہی کوئی حکمت عملی طے کر سکتے ہیں۔

    کچھ والدین اپنی اولاد کے ساتھ بہت سخت گیر ہوتے ہیں۔ وہ سب کچھ اپنے ہاتھ میں رکھنے کے قائل ہوتے ہیں۔ وقت دینا, ساتھ بیٹھنا تو دور کی بات ہے وہ ہمیشہ سخت رویہ اپنائے رکھتے ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ بچوں کو ڈرا کر ہی قابو کیا جا سکتا ہے نہیں تو یہ سر پر چڑھ جاتے ہیں۔ ایسے والدین اپنے بچوں کا اعتماد, کچھ کرنے کی لگن, اور شخصیت کو مسخ کر دیتے ہیں۔ بچوں کا ڈر انھیں صرف ” جی ٹھیک ہے” کہنے کا عادی بنا دیتا ہے۔ مطلب وہ اس احکامات ماننے والے بن جاتے ہیں۔ بوقت مصیبت یہ بچے بھی اکثر حوصلہ کھو بیٹھتے ہیں۔ یہ کبھی اکثر وہ چھوڑ دیتے جو یہ چاہتے ہیں چاہے وہ کھلونے ہوں, کیریر ہو یا شادی کا فیصلہ یہ بچے وہی کرتے ہیں جو بڑے چاہتے ہیں۔ ان کا ڈر کبھی ان کی چھپی صلاحيتوں کو نکھرنے نہیں دیتا۔ یہ بچے اپنی کامیابی بھی اپنی والدین کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

    تیسرے نمبر پر وہ والدین آتے ہیں جو بہت لاپروہ ہوتے ہیں یعنی "Ignorant ” ۔ یہ والدین بچوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ان کی زندگی میں ان کا ہونا نا ہونا برابر ہوتا ہے۔ وہ نا تو کبھی پیار سے پیش آتے ہیں اور نا ہی غصے سے۔ یہ والدین بھی بچوں کو ڈیمج کر دیتے ہیں۔ کیونکہ بچوں کی شخصيت سازی میں والدین کا بہت قلیدی کردار ہوتا ہے۔ ایسے بچے اکثر نشے کے عادی بن جاتے ہیں۔ لاپرواہی اور غیر سنجیدگی ان کی نمایاں صفات بن جاتی ہیں۔ کچھ بچے اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے لئے بچپن میں ہی بڑے ہو جاتے ہیں۔ ان کی ضروریات زندگی اور تربیت اپنے سر لے کر وہ اپنی عمر سے بڑے ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ ہوتے بہت کم ہیں۔

    چوتھے نمبر وہ والدین آتے ہیں جو آئیڈیل ہوتے ہیں۔ یہ والدین اپنے بچوں سے پیار بھی کرتے ہیں اور حالات کے مطابق سختی بھی۔ یہ والدین اپنے بچوں کی بہترین تربیت کرتے ہیں جو ان شخصيت کو نکھار دیتی ہے۔ یہ بچے با اعتماد, با ہمت, اور بہترین فیصلہ ساز ہوتے ہیں۔ یہ اپنے کیریر اور زندگی کے بارے میں مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ یہ اپنی راہیں اور منزلوں کا تعین خود کرتے ہیں۔ یہ معاشرے کی تعمير و ترقی میں قلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ فیصلہ سازی, منصوبہ بندی, لیڈرشپ اور ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے میں یہ بچے بہتر ہوتے ہیں۔

  • ناگ فروش — ستونت کور

    ناگ فروش — ستونت کور

    1911 میں تاجِ برطانیہ نے ہندوستان میں اپنی راجدھانی کو کلکتہ سے دِلی منتقل کردیا ۔ آنے والے وقتوں میں ایک نیا مسئلہ سر اٹھانے لگا ، بلکہ پھن اٹھانے لگا ۔۔۔ اور وہ تھا دلی اور اس کے گرد و نواح میں ناگ کی بڑھتی ہوئی آبادی ۔

    جو کہ ناصرف ایک زہریلا اور خطرناک خزندہ ہے بلکہ اس کی بڑھتی آبادی بھی لوگوں بھی خوف و ہراس اور بےچینی کا باعث بن رہی تھی ۔
    چنانچہ برٹش حکومت نے اعلان کیا کہ جو شخص زندہ یا مردہ ناگ لے کر آئے گا اسے نقد انعام ملے گا۔

    اس طرح لوگوں نے ناگ کا شکار کرنا اور انہیں مقررہ سرکاری دفاتر لیجا کر انعام حاصل کرنا شروع کردیا ۔

    لیکن۔۔۔۔ کچھ عقلمند ہندوستانیوں نے اس موقع سے دگنا فائدہ اٹھانے کا سوچا اور انہوں نے خفیہ طور پر ناگوں کو پالنا شروع کر دیا تاکہ ان کی بریڈنگ کروا کر زیادہ سے زیادہ ناگ حکومت کو پیش کر کے خوب انعامی رقم حاصل کی جائے۔۔۔۔ اور اس طرح یہ سلسلہ چل نکلا۔

    اہلِ دلی نے اس "زہریلی گنگا” میں خوب ہاتھ پیر دھوئے بلکہ ڈبکیاں لگائیں ۔

    اور جب برطانوی حکومت کو پتا چلا کہ ہندوستانی گھر گھر ناگ پال کر انہیں دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ۔۔۔ تو انہوں نے ناگ لانے پر مقرر کی گئی انعامی رقم کو منسوخ کردیا ۔

    لیکن پھر جن سینکڑوں لوگوں نے ہزاروں ناگ پال رکھے تھے اور کوئی چارہ نہ ہونے پر انہوں نے ان ناگوں کو یہاں وہاں جھاڑیوں ، درختوں ، مٹی کے ٹیلوں پر آزاد کردیا۔۔۔ اور جب آزاد کیے سانپوں نے قدرتی ماحول میں اپنی نسل بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا تو دلی اور اس کے گرد و نواح میں ناگوں کی آبادی میں پھر سے بےپناہ اضافہ ہوگیا ۔

    اس رحجان کو آج تک Cobra effect کے نام سے یاد کیا جاتا ہے !!!

  • زندگی کا فن چلنے میں ہے — ریاض علی خٹک

    زندگی کا فن چلنے میں ہے — ریاض علی خٹک

    رتن ٹاٹا نے ایک انٹرویو میں کہا جب وہ ٹاٹا موٹرز شروع کر رہا تھا تو اس وقت اسکا کوئی دوست نہیں تھا. ایلون مسک سے ایک انٹرویو میں جب پوچھا گیا آپ اس نئے نوجوان کو کیا مشورہ دیں گے جو کل کا ایلون مسک بننا چاہتا ہے؟ مسک نے کہا میں اسے ایلون مسک بننے کا مشورہ کبھی نہیں دوں گا. اس زندگی میں کوئی fun نہیں ہے.

    دولت و شہرت کی دوڑ میں ایک مقام آتا ہے جب دوڑنے والے کو اچانک احساس ہوتا ہے میں کتنا تنہا ہوں. اسکا تجربہ اسے سمجھا دیتا ہے میرے آس پاس ہر وقت جی جی کرنے والے میری محبت میں میرے ساتھ ہیں یا اس دولت و شہرت میں اپنا حصہ لینے کیلئے.؟ کیونکہ ہماری اکثریت زندگی کی شروعات میں دوڑنے اور چلنے کا فرق نہیں سمجھ پاتی.

    ہم لوگ سمجھتے ہیں چلنے اور دوڑنے میں بس رفتار کا ہی فرق ہے. لیکن جسم کیلئے یہ دو بلکل الگ چیزیں ہیں. چلتے ہوئے ایک قدم آپ کا ہر وقت زمین پر ہوتا ہے جبکہ دوڑتے ہوئے آپ ہوا میں ہوتے ہیں. کچھ دیر زمین کو جو چھوتے بھی ہیں تو اپنے ہی جسم کا وزن تین گنا ہو کر ایک جھٹکا جسم کو دیتا ہے. ہمیں یہ جھٹکے تھکا دیتے ہیں.

    زندگی کا فن چلنے میں ہے. چلتے رہنے میں ہے. چلنا آپ کو اپنے لئے اور اپنوں کیلئے وقت دیتا ہے. زمین ہمیں تھکنے نہیں دیتی ہر قدم دوسرے قدم کیلئے حوصلہ دیتا ہے. دوڑ تھکا دیتی ہے. ہمارے پاس نہ اپنے لئے نہ اپنوں کیلئے پھر کوئی وقت ہوتا ہے. ہم بہت قیمتی لمحے کھو کر آگے نکل تو جاتے ہیں لیکن پھر ہم تنہا اور تھکن سے چور بھی ہو جاتے ہیں.

  • 8 اکتوبر!! قدرتی آفات سے بچاؤ اور آگاہی کا قومی دن — اعجازالحق عثمانی

    8 اکتوبر!! قدرتی آفات سے بچاؤ اور آگاہی کا قومی دن — اعجازالحق عثمانی

    پاکستان میں گرمی اپنے زوروں پر تھی۔کہ اکتوبر میں موسم نے انگڑائی لی اور راتیں سہانی ہونا شروع ہو گئیں۔ اکتوبر نے خنکی نے راتیں تو سہانی کر دی۔ مگر یہ ماہ خود قیامت خیز ثابت ہوا۔ قیامت خیز یوں کہ 8 اکتوبر کو زوردار زلزلے کے جھٹکے نے پاکستان کے شمالی علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ 7.6 کی شدت سے آنے والے اس زلزلے سے اسلام آباد، کشمیر اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں 86 ہزار لوگ ہلاک اور تیس لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے۔

    8 اکتوبر 2005 کے زلزلہ متاثرین سے اظہار ہمدردی و یک جہتی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے آگاہی فراہم کرنے کے لیے پاکستان میں 8 اکتوبر کو قدرتی آفات سے بچاؤ اور آگاہی کا قومی دن منایا جاتا ہے۔

    مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے آج تک کوئی منصوبہ بندی کی ہے؟ کیا صرف دن منا لینا کافی ہوتا ہے؟۔ جواب ہے ، بالکل بھی نہیں، پاکستان نے قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی بنانے کی کوشش تک نہیں کی۔ جس کی زندہ مثال 2022 کا حالیہ سیلاب ہے۔

    آج بھی ملک پاکستان کے کئی علاقے سیلاب جیسی قدرتی آفت سے متاثر ہیں۔بلوچستان کے بتیس ، گلگت بلتستان کے چھ، پنجاب کے تین، خیبر پختونخوا کے سترہ اضلاع اس ہولناک آفت کا شکار ہوئے ہیں۔ جبکہ سندھ کو سیلاب نے جتنا تباہ کیا ہے۔ اس کا تو صحیح سے اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا۔

    پاکستان میں شاید اب سیلاب ایک معمول بن چکا ہے۔ ہر چند برس کے بعد شدید بارشوں کے باعث سیلاب آتا ہے۔نشیبی اور کمزور انفراسٹرکچر والے علاقے زیر آب آ جاتے ہیں۔ کچی بستیوں کے نام و نشان تک باقی نہیں رہتے۔ لوگوں کے مویشی بھی یہ آفت ساتھ بہا کر لے جاتی ہے۔ کئی انسانی جانیں پانی کی نذر ہوجاتی ہیں۔اور پھر ان غریبوں کے ساتھ ظلم یہ ہوتا ہے کہ حکومت ان کو پوچھتی تک نہیں ہے ۔

    آج بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی امور میں ریاستی عمل داری آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ مختلف فلاحی ادارے متاثرہ علاقوں کی مدد میں مصروف ہیں۔ ان ہی فلاحی ادارے میں سب سے نمایاں نام اور کام الخدمت فاؤنڈیشن کا ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار جنوبی پنجاب ، گلگت، خیبرپختونخوا اور سندھ کے ان علاقوں تک پہنچے ، جہاں جانا خطرے سے خالی نہیں تھا۔

    افسوس حکومت وقت نا تو متاثرین کے زخموں کا مرہم بنی اور نا ہی سیلاب سے بچاؤ کے لیے کوئی اقدام کر پائی۔ قدرتی آفات سے بچاؤ یا نمٹنے کے متعلق آگاہی پھیلانے سے ہزاروں قیمتی جانیں تو بچائی جاسکتی ہیں۔مگر کاش آگاہی پھیلانے کے لیے چند بینرز لگانے اور تقاریب منعقد کروانے کے علاؤہ کوئی عملی اقدام بھی کیا جاتا۔

  • چائنا کے سستے موبائل — ریاض علی خٹک

    چائنا کے سستے موبائل — ریاض علی خٹک

    چائنا کے سستے موبائل کی کوئی اتنی قدر نہیں کرتا لیکن بہت مہنگے والا موبائل فون کوئی خرید لے تو اس کی قیمت مجبور کرتی ہے کہ اب اس کی قدر بھی کی جائے. موبائل فون استعمال کرنے والے یہ قدر مند پھر اس کی تین باتوں کا بہت خیال رکھتے ہیں.

    اول اس کے سوفٹویر اپڈیٹ کا کہ اتنی مہنگی چیز اپڈیٹ نہ ہو تو فائدہ کیا. دوسرا اس کی بیٹری ہر وقت فل چارج رہے اور تیسرا اس کی صفائی چاہے اندرونی ہو جیسے اینٹی وائرس فضول لنکس اور میموری صاف رکھنا یا بیرونی جیسے سکریچز سے بچانے کیلئے کور پروٹیکٹر وغیرہ.

    کیا آپ خود کو بھی قیمتی سمجھتے ہیں؟ کیونکہ یہی تینوں چیزیں آپ کی بھی ضرورت ہیں. کتابیں علم اور تجربات آپ کو اپڈیٹ رکھتے ہیں. اچھی نیند اور اچھی صحت آپ کی توانائی کی بیٹریاں چارج رکھتی ہیں. آپ وہ فضول عادات ختم کرتے ہیں جو آپ کی توانائی ضائع کریں. اور اندرونی بیرونی صفائی آپ کیلئے بھی لازم ہے. آپ اپنی زندگی اپنی سوچ کو صاف ستھرا رکھتے ہیں.

    اللہ رب العزت نے انسان کو بہت قیمتی بنایا ہے. یہ ہم پر ہوتا ہے کہ اللہ کے شکر گزار بندے بن کر اس نعمت زندگی کی قدر کریں یا خود کو چائنا موبائل سمجھ کر بے قدر زندگی گزار لیں. کام دونوں ہی کرتے ہیں لیکن کلاس بہت الگ ہے. جیسے ایک ہی ٹرین کی فرسٹ کلاس اور تھرڈ کلاس کا سفر ہو.

  • من کی مجلس— عمر یوسف

    من کی مجلس— عمر یوسف

    کچھ خدشات کتنے خطرناک ہوتے ہیں ۔ جیسے ہی دل و دماغ میں آتے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے روح نکل جائے گی ۔ انسان پر کتنا بھاری بوجھ ہوتے ہیں یہ خدشات ۔۔۔۔ اندر ہی اندر جیسے طوفان سا اٹھ جاتا ہے اور سکون و اطمینان کی تمام عمارتوں کو مسمار کردیتا ہے ۔

    جیسے چیخنے کو دل کرے ۔ جیسے جلدی سے آزاد ہونے کو دل کرے ۔ لیکن ہر طرف تو پنجرہ ہے جیسے انسان قید سا ہوگیا یے ۔ بے بسی بغاوت پر آمادہ کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔ کاش وہ آنسو ہی نکل آئیں جو انسان کو ہلکا کردیتے ہیں لیکن آنسو بھی تو بے وفا نکلے ۔

    مردانگی کے مان کے آگے ہار گئے اور غم ہلکا کرنے سے فرار ہوگئے ۔ کون ہے جو فرسان حال بنے ۔ جو کندھا دے اور مان بنے ۔ دل کو سمجھائے اور غمخوار بنے ۔ چاروں طرف چھائے اندھیرے ، وحشت ، دہشت ، خوف ، ڈر ، فکر ، غم کے سانپوں سے نجات دلوائے ۔ زندگی گلزار ہوجائے ۔

    جب میں تھک گیا ، ڈھے گیا ، ہار گیا ، شکست کھاگیا ، اکتا گیا امید ہار گیا تو من کی دنیا سے ہلکی سی آواز سنی جو ہولے ہولے تیز ہوتی گئی جیسے ہلکی سی روشنی کی پو پھوٹی ہو اور روشنی پھیلتی ہی جائے ۔ فطرت کی آوازیں یہ صدائیں لگا رہیں تھیں نحن اقرب الیہ من حبل الورید وہ تو تیری شہہ رگ سے بھی نزدیک ہے جس نے موسی کو سمندر ، ابراہیم کو آگ ، عیسی کو یہود ، اور محمد کریم ص کو دشمنوں سے بچا کر قدرت کاملہ اظہار کردیا ۔

    جس نے لامحدود کائنات کو اس انداز سے مستحکم کیا کہ کمی کا شائبہ تک نہیں ۔ دیو ہیکل پہاڑ ، ٹھاٹیں مارتا سمندر ، ان گنت ذرات کے صحرا ، کڑکتی بجلیاں ، دھاڑتے ہوئے شیر ، چنگارتے ہوئے ہاتھی ، سنسناتی ہوئی ہوائیں ، چمکتا چاند ، دہکتا سورج ، ٹمٹماتے تارے سب اسی کے کنٹرول میں ہیں تو تیرے غم کیا اس کی قدرت سے باہر ہیں ؟ تو چلتے ہوئے یا رب جی کہہ وہ دوڑتے ہوئے یا عبدی کہے گا ۔

  • ڈیزل سستا لیکن کوچ مالکان نے کرائے کم نہ کئے ، مسافر لٹنے پر مجبور

    ڈیزل سستا لیکن کوچ مالکان نے کرائے کم نہ کئے ، مسافر لٹنے پر مجبور

    باغی ٹی وی ،ڈیرہ اسماعیل خان(نامہ نگار) ڈیزل سستا لیکن ڈیرہ اسماعیل خان کے کوچ مالکان وہی پرانا کرایہ وصول کرنے میں مصروف۔محکمہ انڈسٹریل کے افسران واہلکاروں کی غفلت اورنااہلی کی وجہ سے کوچ مالکان کی لوٹ مارجاری،کرایوں میں اضافے کی وجہ سے مسافر پریشانی سے دوچار، ڈپٹی کمشنر ڈیرہ نصراللہ خان سے کرایوں میں کمی اورکوچ مالکان کی ہٹ دھرمی کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے ڈیزل اورپیٹرول کے ریٹ انتہائی کم کیے گئے ہیں مگرکوچ مالکا ن نے کرایوں کے وہی ریٹ رکھے ہوئے ہیں اوران میں کوئی کمی نہیں کی ہے جس کی وجہ سے مسافرزائد کرایوں پر سفرکرنے پر مجبورہیں۔محکمہ انڈسٹریل افسران واہلکاروں کی مبینہ بھتہ خوری کی وجہ سے کوچ مالکان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیاجارہاہے اورانہیں مسافروں سے لوٹ مار کی کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔ کوچ مالکان نے اپنی روش نہیں بدلی ہے اورہٹ دھرمی پر قائم ہیں اورعوام سے زائد کرایے وصول کرنے میں مصروف ہیں۔ مسافروں سے کرایوں میں کمی نہ کرنے کی وجہ سے کوچ مالکان کھلے عام لوٹ مار کاسلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ڈیرہ کے عوامی سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر ڈیرہ نصراللہ خان سے حکومت کی جانب سے پیٹرول وڈیزل کے ریٹ کم ہونے کی وجہ سے کوچ مالکان کوکرایے کم کرنے کرانے کامطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کوچ مالکان کوکرایے کم کرنے کاپابندکیاجائے تاکہ مسافرلوٹ مار سے محفوظ رہیں۔