Baaghi TV

Category: متفرق

  • بچت ہماری سرمایہ کاری!!! — ریاض علی خٹک

    بچت ہماری سرمایہ کاری!!! — ریاض علی خٹک

    معیشت بہتر کرنے کیلئے بڑے بڑے مشورے اور منصوبے کسی فرد کو نہیں بدل سکتے. بلکہ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں اور کچھ عادتیں ہوتی ہیں جو ہماری سوچ بن جائے تو ہماری معیشت بدل جاتی ہے. مثلاً آپ اپنی خریداری کی مثال لیں. ہر شخص کی بنیادی ضروریات اسے بازار بھی لے کر جائیں گی اور خرچ بھی کرائیں گی.

    آپ نے جوتے لینے ہیں. ایک جوڑا دو ہزار کا ہوگا تو ایک پانچ ہزار کا وہیں ہزار گیارہ سو کا بھی ہوگا. مختلف رنگ ہوں گے فیشن ہوں گے. آپ نے یہاں معیار ڈھونڈنا ہے. ایک جوتا سستا ہے خوبصورت ہے لیکن آپ اسے الٹ پلٹ کر دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ معیار ایسا ہے جو ایک بارش یا کچی زمین پر چلنا زیادہ برداشت نہیں کر سکتا. دوسرا جوڑا اتنا خوبصورت اور شوخ نہیں اور مہنگا بھی زیادہ ہے. آپ چیک کرتے ہیں تو اسکا معیار بہت اعلیٰ ہے. یہ سالوں چلنے والا جوتا ہے.

    اب کچھ لوگ وقتی خوشی اور دوسروں کو متاثر کرنے کیلئے وہ سستا خوبصورت جوڑا اٹھا لیں گے تو کچھ زیادہ طویل استعمال کیلئے وہ مہنگا جوتا اٹھا لیں گے. سستے جوتے والا کچھ مہینے بعد موچی کے پاس کھڑا ہوگا تو اگلے مہینے دوبارہ جوتا خریدنے کیلئے. معیار پر مہنگا لینے والا جبکہ کئی سال کیلئے بے فکر ہوگیا.

    ہماری یہ چھوٹی چھوٹی سرمایہ کاریاں ہوتی ہیں جو ہم معیار دیکھ کر مارکیٹ سے زیادہ ریٹ پر اٹھا لیتے ہیں لیکن یہ آنے والے وقت میں ہماری بچت بن جاتی ہے. ہماری یہی بچت ہمیں نئی سرمایہ کاری کا موقع دیتی ہے اور ہماری معیار کی تلاش اور اس معیار کیلئے زیادہ ادائیگی کا حوصلہ جمع ہوکر ہمیں سرمایہ کار بناتا ہے.

    جو لوگ اپنی چھوٹی خریداری میں سرمایہ کاری نہیں سیکھ پاتے وہی لوگ بڑے بڑے منصوبے بناتے دل کی وقتی خوشی کا ساماں کرتے رہتے ہیں.

  • ایک راستہ بند کرو تو دوسرا ضرور دکھاو!!! — عمر یوسف

    ایک راستہ بند کرو تو دوسرا ضرور دکھاو!!! — عمر یوسف

    سوشل میڈیا کے دور میں نوجوانوں کی دلچسپیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ ویسے بھی عمر کے ہر مرحلے میں انسان کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں ۔ نوجوانی انسانی عمر کا جوشیلا عرصہ ہے ۔ ذرا ذرا سی بات پر بڑھک جانا ، بھر جانا ، مار دینا ، مرجانا اس عمر کی خصوصیات کے طور پر اکثریت میں دیکھا جاسکتا ہے ۔

    نوجوان گرم خون میں اسلحے کی نمائش کرتے ہیں ، اسلحہ بڑے شوق سے خریدتے ہیں پھر اس اسلحے کے استعمال کا کیڑا بھی ستاتا رہتا ہے اور وہ ہوائی فائر کرکے من کی آگ بجھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ خاندان میں نوجوانوں کا گروہ متحرک ہوتا ہے اور ہر وقت لڑائی پر آمادہ رہتا ہے اس غرض سے انہوں نے سپیشل ڈنڈے ، سوٹے ، سنگل ، نیزے ، چھرے اور طرح طرح کے خونی و باردونی ہتھیار جمع کیے ہوتے ہیں ۔

    لڑائی و مخاصمے کی فطرت ان میں اتنی شدید ہوتی ہے کہ ملکی قوانین نہ صرف بے اثر ہوجاتے ہیں بلکہ بے بس بھی ہوجاتے ہیں ۔

    انسانیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ فطرت کو دبانے کی بجائے فطرت کے اظہار کے جائز اسباب مہیا ہونے چاہئیں ۔ مثلا شہوانی جذبات ہیں تو زنا کا راستہ بند کرنے کے ساتھ شادی کو آسان بناو ۔

    دنیا سے الگ تھلگ ہونے کے جذبات ہیں تو راہبانہ زندگی پر انسداد کی مہر لگانے کے ساتھ زہد و تقوی کا راستہ دکھایا جائے ۔ اسی طرح مخاصمہ و لڑائی کے جذبات جوانی میں سکون سے نہ بیٹھنے دیں تو اس کا حل یہ ہے کہ ان نوجوانوں کو سمت دکھاو ۔ ان کو بتاو کہ آپس میں جن بھائیوں پر تم اپنی بدمعاشی جھاڑ رہے ہو یہ اصل مقام نہیں ہے ۔

    بلکہ اصل مقام یہ ہے کہ ظلم و ستم کو روکنے کے لیے اپنی جھگڑالو فطرت کی تسکین کرو ۔ اعلائے کلمہ اللہ کے راستوں کی رکاوٹوں کو ختم کرنے میں اپنا بڑھک پن دکھاو ۔ دین کی سر بلندی کے لیے اس اسلحہ و ہتھیار کی نمائش کرو ۔

    یہی دین اسلام نے راستہ بتایا ہے ۔ اور دین اسلام کی یہی تو خاصیت ہے کہ فطرت والا دین ہونے کے باعث یہ فطرت کو دباتا نہیں بلکہ فطرت کے اظہار کی راہیں ہموار کرتا ہے ۔

  • زندگی اونچ نیچ کا نام — ریاض علی خٹک

    زندگی اونچ نیچ کا نام — ریاض علی خٹک

    چار انجن کا دیو ہیکل جہاز جب پر پھیلائے رن وے پر کھڑا ہو تو بہت خوبصورت لگتا ہے. رن وے پر جب دوڑنے لگتا ہے تو اس کے حسن میں رعب و دبدبے کی گرج بھی شامل ہو جاتی ہے اور جب یہ زمین چھوڑ کر فضا کیلئے پرواز بھرتا ہے تو دیکھنے والوں کو وہ طمانیت ملتی ہے جو ان کو ایک تسلی دیتی ہے کہ یہ دیوہیکل آہنی پنجرہ اگر بلندی پرواز کر سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں.؟

    اسی جہاز کے کاک پیٹ میں بیٹھا پائلٹ لیکن یہ سب کچھ نہیں دیکھ رہا ہوتا. اُس کی نظریں اپنی مشین کی گھڑیوں پر ہوتی ہے کہاں اسے وہ رفتار ملے گی جب وہ v1 بول کر پرواز کیلئے انجن روٹیٹ کرے گا. جہاز جیسے ہی زمین چھوڑتا ہے پائلٹ کنٹرول ٹاور کو بتاتا ہے گئیر اپ. یعنی میں نے اپنے پہئے اٹھا لئے ہیں اب آگے ایک منزل ہے.

    لیکن یہ جہاز جب زمین پر اترتا ہے تب کنٹرول ٹاور اسے بتارہا ہوتا ہے تم کتنا نیچے آگئے ہو. پانچ سو فٹ چار سو فٹ یہاں تک کے سو فٹ کے بعد دس دس فٹ کے فرق سے بتا رہا ہوتا اور پھر ٹچ ڈاون ہو جاتا ہے. آپ کی زندگی کی فلائٹ بھی ایسی ہوتی ہے. عروج دیکھنے والوں کو بڑا مسحور کرتا ہے. آپ کو ضرورت ہی نہیں ہوتی باہر کون کیا کہہ رہا ہے کیا دیکھ رہا ہے.

    لیکن زندگی اونچ نیچ کا نام ہے. کسی ایک منزل سے عروج تو دوسری پر اترنا بھی ہوتا ہے. تب باہر کی آوازیں سننا لازم ٹھرتا ہے. ہم کس مقام پر کتنا نیچے آگئے ہیں یہ دوسرے ہمیں بتا سکتے ہیں. پھر جو لوگ بلندی و مقام کے تکبر میں آنکھیں اور کان بند کر دیتے ہیں وہ دھڑام سے نیچے گرتے ہیں. یہ اپنے پیروں پر کھڑے ہی نہیں ہوپاتے.

    زمین زادوں کو زمین سے رابطہ رکھنا ہی ہوتا ہے. جن کے یہ رابطے ٹوٹ جاتے ہیں وہ یا تو شکستہ ڈھانچہ اہل زمین کا تماشا بن جاتے ہیں یا فضائے بسیط میں گم ہو جاتے ہیں.

  • علم اور عمل میں فرق —  ریاض علی خٹک

    علم اور عمل میں فرق — ریاض علی خٹک

    علم اور عمل میں فرق ہوتا ہے. جیسے آپ کا سامنا کسی چیتے سے ہوجائے تو ایک ہی عمل آپ کا دماغ آپ کو بتائے گا. دوڑ لگا کر جان بچاو. لیکن علم بتاتا ہے یہ ریس آپ کبھی جیت نہیں سکتے. کیونکہ انسان زمین پر پورا پاوں رکھتا ہے اور چلنے کیلئے پورا پاوں اٹھاتا ہے. جبکہ چیتا پیر کی انگلیاں کے بل دوڑتا ہے. آپ چیتے سے تیز دوڑ نہیں سکتے تو بہتر ہے بلکل خاموش کھڑے ہو جائیں. چیتا آپ کو اپنے لئے خطرہ سمجھ کر ممکن ہےچھوڑ دے.

    دوسری طرف آپ کھانا پکانے کی سیکڑوں کتابیں پڑھ کر دنیا کے مشہور شیف نہیں بن سکتے. آپ انجینئرنگ کی کتاب پڑھ کر اینٹوں سے سیدھی دیوار کھڑی نہیں کر سکتے. آپ بزنس ایڈمنسٹریشن کی کتابیں پڑھ کر کوئی کاروبار کھڑا نہیں کر سکتے. آپ کو عملی میدان میں عمل کو سیکھنا ہوتا ہے. شیف بننے کیلئے آپ کو باورچی خانہ میں وقت دینا ہوگا تو کاروبار کرنے کیلئے مارکیٹ میں نکلنا ہوگا.

    علم بنیادی طور پر اس مشین یعنی ہمارے جسم کی پروگرامنگ ہے جس کی ملکیت ہمیں اس دنیا میں دی گئی ہے. یہ پروگرام ہمارے شعور کو وقت اور حالات کے حساب سے اپ گریڈ رکھتا ہے. جتنا آپ کا شعور اپ گریڈ ہوگا اتنا ہی بہتر اس مشین کو استعمال کر سکیں گے. ایک کامیاب زندگی کیلئے آپ کو دونوں محاذوں پر پیش قدمی کرنی ہوتی ہے. اپنے عمل کے میدان کا جتنا زیادہ علم آپ کے پاس ہوگا اتنا ہی آپ کامیاب ہوں گے. کیونکہ آپ کو چیتے کی رفتار مل جائے گی.

  • تاریخ ایک مرتبہ پھر سے اپنے آپ کو دہرا رہی ہے — فرقان قریشی

    تاریخ ایک مرتبہ پھر سے اپنے آپ کو دہرا رہی ہے — فرقان قریشی

    نام: جولیس سیزر 44 قبل مسیح
    سٹیٹس: عوامی مقبولیت اتنی بڑھ گئی تھی کہ تاحیات بادشاہ مقرر ہونے والا تھا ۔
    نتیجہ: اپنی ہی پارلیمنٹ کے ہاتھوں assassinated

    نام: حضرت عمر بن خطابؓ 644ء
    سٹیٹس: تیزی سے دنیا میں ایک منصفانہ نظام کا قیام ۔
    نتیجہ: ایک غلام جو اپنے حق میں فیصلہ چاہتا تھا ، کے ہاتھوں assassinated

    نام: حضرت عثمان بن عفانؓ 656ء
    سٹیٹس: ریاست میں قوانین کا نفاذ ۔
    نتیجہ: قانون سے بھاگنے والے مصری گروپ کے ہاتھوں assassinated

    نام: حضرت علی ابن طالبؓ 661ء
    سٹیٹس: جنگ نہروان میں سٹینڈ لیا ۔
    نتیجہ: خارجیوں کے ہاتھوں assassinated

    نام: ابراہم لنکن 1865ء
    سٹیٹس: سیاہ فاموں کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے تھے ۔
    نتیجہ: نسل پرستوں کے ہاتھوں assassinated

    نام: امیرکن پریزیڈنٹ جان کینیڈی 1963ء
    سٹیٹس: امیرکہ میں ایک سیکرٹ گورنمنٹ کی بات کرنے لگ گئے تھے ۔
    نتیجہ: assassinated

    نام: مہاتما گاندھی 1948ء
    سٹیٹس: پاکستان کے قیام کو قبول کر لیا تھا ۔
    نتیجہ : RSS کے شدت پسند کے ہاتھوں assassinated

    نام: لیاقت علی خان 1951ء
    سٹیٹس: جانی مانی راولپنڈی سازش کا شکار ۔
    نتیجہ: سعد اکبر کے ہاتھوں assassinated جسے اسی وقت کسی اور نے مار دیا تھا ۔

    نام: جورڈن کے بادشاہ کنگ عبداللہ 1951ء
    سٹیٹس: امن کی کوششیں کر رہے تھے ۔
    نتیجہ: assassinated

    نام: سعودی عرب کے بادشاہ شاہ فیصل 1975ء
    سٹیٹس: سعودی عرب کی ترقی کے لیے کوششیں کر رہے تھے ۔
    نتیجہ: امیرکہ سے آئے اپنے بھتیجے کے ہاتھوں assassinated

    نام: انور سادات 1981ء
    سٹیٹس: شدت پسندی کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہے تھے ۔
    نتیجہ: مصر کی ملٹری پریڈ کے دوران assassinated

    نام: بینظیر بھٹو 2007ء
    سٹیٹس: عوام میں بہت زیادہ مقبولیت حاصل کر گئی تھیں ۔
    نتیجہ: معلوم اور نامعلوم ناموں کے ہاتھوں assassinated

    ان سب ناموں میں آپ کو کیا pattern کامن نظر آ رہا ہے ؟

    یہ سب لوگ کسی نہ کسی صورت میں اپنے مذہب یا ملک یا اپنے لوگوں کے لیے کچھ نہ کچھ کر رہے تھے اور انہیں عوام میں مقبولیت ملنا شروع ہو گئی تھی ۔

    اور ان میں سے امیرکن پریزیڈنٹ جان کینیڈی … جو اچانک امیرکہ میں ایک shadow اور چھُپے ہوئے لوگوں کی حکومت کی بات کرنے لگ گئے تھے ان پر ایک نہیں بلکہ بیس مرتبہ assassination اٹیمپٹس ہوئی تھیں اور بالآخر ان میں سے ایک اٹیمپٹ ، کامیاب ہو گئی ۔

    اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو … لیکن تاریخ ایک مرتبہ پھر سے اپنے آپ کو دہرا رہی ہے ، اور تاریخ کے اسی پیٹرن کو دیکھتے ہوئے میری deductive logic مجھے بتاتی ہے …

    کہ وہ دوبارہ attempts ضرور کریں گے ۔

    اللہ تعالیٰ ہمارے پاکستان اور جو بھی اسلام اور پاکستان کا محسن ہے ، اسے دشمنوں سے محفوظ رکھے ۔

  • قراقرم ثانی — ریاض علی خٹک

    قراقرم ثانی — ریاض علی خٹک

    یہ تو آپ کو ہی پتہ ہوگا کہ جہاں آپ کی رہائش ہے وہاں سے دوسری بلند ترین چوٹی K2 کتنی دور ہے. لیکن آپ جہاں سے بھی آئیں گے تو کے ٹو کا راستہ پاکستان سے سب کیلئے ایک ہی ہے. 16 ہزار تین سو فٹ بلندی پر بیس کیمپ ہے. جبکہ ایڈوانس بیس کیمپ 17400 فٹ کی بلندی پر ان لوگوں کیلئے ہے جو تہیہ کر لیں ہم نے اسے سر کرنا ہی کرنا ہے.

    موسم اور حالات اگر سازگار ہوں تو سفر کیمپ اول کیلئے شروع ہوگا جو انیس ہزار نو سو فٹ بلندی پر ہے. اگلا پڑاو کیمپ ٹو پر ہوگا جو کچھ بائیس ہزار فٹ پر ہے تیسرا پڑاو کیمپ تھری پر 23 ہزار آٹھ سو پر کریں گے چوتھا 25 ہزار تین سو پر اور ہھر آخری کوشش ہوگی جس میں کوئی پڑاو نہیں بلکہ ایک تنگ راستہ ہے جسے بوٹل نیک کہتے ہیں.

    اعتماد کی بھی دو اقسام ہیں. ایک معلوم ہونے کا اعتماد اور دوسرا عمل کا اعتماد. ہماری اکثریت پہلا اعتماد رکھتی ہے. جسے معلوم ہونے کا اعتماد کہتے ہیں. آپ سے کوئی پوچھے آپ کو کے ٹو کا راستہ معلوم ہے.؟ آپ کو معلوم ہوگا تو بہت اعتماد سے فرفر بتا دیں گے ورنہ گوگل سے چیک کر لیں گے جیسے میں نے اوپر گوگل سے لکھ دیا.

    گھر میں لیٹے لیٹے بھی آپ اپنی معلومات پر دعویٰ کر سکتے ہیں کہ چونکہ مجھے معلوم ہے تو اسکا مطلب ہے میں قراقرم کے سر کا تاج کے ٹو سر کر سکتا ہوں. لیکن عمل کا اعتماد وہ ہے جو آپ کو اس سفر کیلئے گھر سے نکالنے کی جرات و ہمت دیتا ہو. یہ ہر سال کے ٹو سر کرنے والے لوگ ہوں یا دور دراز کے سفر پر نکل جانے والے ہوں یہ تاریخ میں اپنا نام لکھانے نہیں بلکہ اپنا اعتماد ہی چیک کرنے نکلتے ہیں. کیونکہ اعتماد کا بوٹل نیک یہی امتحان ہے.

    یہ امتحان ہی ہے جو ہمیں بتاتا ہے ہم کتنے پانی میں ہیں اور اس امتحان کے نمبرز ہمارا رزلٹ طے کرتے ہیں. اور یہی رزلٹ ہمارا مقام طے کرتا ہے.

  • اگناڈس – ریاض علی خٹک

    اگناڈس – ریاض علی خٹک

    پیدائش عیسی علیہ السلام سے چار صدی پیچھے ایک دن یونان کی گلیوں میں خواتین اچانک احتجاج کیلئے نکل آئیں. اس دور میں جب معاشرے میں خواتین کا کردار خاندان کی خدمت بچے پالنا اور صرف امور خانہ داری تھا یہ احتجاج ایک انوکھا کام تھا. اس کے پیچھے اگناڈس کا ایک قصہ ہے.

    یونان میں علم طب صرف مرد کا پیشہ تھا. خواتین کیلئے یہ علم ممنوع تھا. اگناڈس نام کی لڑکی لیکن اس دور کی ڈاکٹر بننا چاہتی تھی. کیونکہ زچگی میں مرد ڈاکٹروں سے فطری شرم کی وجہ سے اکثریت خواتین یہ تکلیف خود گزار دیتی لیکن ڈاکٹر کی خدمات نہ لیتی. بہت سی خواتین اس لئے زچگی میں زندگی کی اپنی جنگ ہار جاتیں. اگناڈس یہ بدلنا چاہتی تھی.

    اس نے مردانہ کپڑے پہنے بال مردانہ بنا لئے اور اسکندریہ کی علم طب کی درسگاہ میں بطور مرد داخلہ لے لیا. تحصیل علم کے بعد واپس یونان میں آکر مطب کھولا. خواتین میں سینہ بہ سینہ بات پھیلی اور حاملہ خواتین سب اگناڈس کی کلینک جانے لگیں. مرد ڈاکٹروں کو شک ہوا کہ دال میں کچھ کالا ہے. انہوں نے الزام لگایا اگناڈس ڈاکٹر خواتین کو ورغلاتا ہے.

    اگناڈس کو عدالت میں پیش کیا گیا اور وہاں اس نے اپنا لباس اتار کر ثبوت دیا کہ میں مرد نہیں عورت ہوں. اب لیکن ایک اور مقدمہ کھڑا ہوگیا. عورت نے علم طب کیسے حاصل کر لیا.؟ اس غداری پر جب کیس چلا تو خواتین سب احتجاج کیلئے نکل آئیں. یہ احتجاج اتنا پھیل گیا کہ یونان کو اپنا قانون بدلنا پڑا اور خواتین کو علم طب کی اجازت مل گئی.

    مجھے نہیں پتہ یہ یونانی قصہ کتنا سچا ہے. لیکن یہ البتہ تاریخی سچ ہے کہ جب بھی خواتین احتجاج کیلئے نکل آئیں تو تاریخ بدل جاتی ہے. آپ کسی مرد کو ڈرا سکتے ہیں لیکن اس عورت کو خوفزدہ نہیں کر سکتے جو ایک بیمار معاشرے میں نئی زندگی کیلئے نیا گھر بسانے کا حوصلہ رکھتی ہو.

  • خود پر احسان کریں — ریاض علی خٹک

    خود پر احسان کریں — ریاض علی خٹک

    بنجامن فرینکلن کا ایک سیاسی حریف اسے شدید ناپسند کرتا تھا. جبکہ دوسری طرف فرینکلن چاہتا تھا وہ اسکا دوست بن جائے. فرینکلن کو پتہ چلا اس کے پاس ایک نایاب کتاب ہے. فرینکلن نے اسے پیغام بیجھا کیا آپ کچھ دن کیلئے عاریتاً یہ کتاب مجھے پڑھنے کیلئے دے سکتے ہیں.؟ کتاب اسے دے دی گئی. کچھ دن بعد کتاب پڑھ کر فرینکلن نے اسے ایک شکریہ اور تشکر کے تحریری نوٹ کے ساتھ واپس کردی. اور ان کی دوستی کی ابتداء ہوگئی.

    بنجامن فرینکلن ایک ہی وقت میں بہت کچھ تھا. وہ سائنس دان بھی تھا اور سیاستدان بھی لکھاری بھی تھا پبلشر بھی سفیر بھی تھا اور فلسفی بھی لیکن اوپر اس کے تحریر اس تجربے کو بن فرینکلن ایفیکٹ کہتے ہیں. ہمارا دماغ دو انتہاؤں کے درمیان اکثر کنفیوز ہوتا ہے ہم اپنی تسلی اور اطمینان کیلئے پھر چیز کو یا تو سفید یا سیاہ کہتے ہیں. دن یا رات اچھا یا برا فرشتہ یا شیطان. دماغ درمیان میں کچھ رکھنا نہیں چاہتا تو دستیاب معلومات پر فوراً ایک انتہا پر چلا جاتا ہے.

    بنجامن فرینکلن نے اپنے اس حریف کو مجبور کیا وہ بنجامن پر احسان کرے. حریف کے دماغ کو اس احسان کیلئے اپنی انتہا سے کچھ نیچے اترنا پڑا. اور واپسی کے نوٹ نے کہا یار بندہ اتنا بھی برا نہیں اور ایک تعلق کی ابتداء ہوگئی. بقول امام راغب اصفہانی احسان ایسا عمل ہے جو ہر طرف سے خوبصورت ہو متوازن ہو.

    ایک حدیث میں ہے احسان دین کی تیسری ضرورت ہے. اور یہ درجہ بندے کو تب حاصل ہوتا ہے جب اس میں ایمان اور اسلام دونوں جمع ہو جائیں. یہ تب ہی ممکن ہوتا ہے جب ہم کسی انتہا پر نہ ہوں. نہ اپنے لئے اور نہ دوسروں کیلئے. اگر آپ سمجھتے ہیں دوسرے آپ کیلئے انتہا پر ہیں تو فرینکلن ایفیکٹ کی سائنس سے فائدہ اٹھائیں اور ان کو موقع دیں وہ آپ پر کوئی احسان کریں.

    لیکن اگر ہمارا نفس دوسرے کا احسان لینے پر بھی آمادہ نہ ہو تو پھر انتہا پر ہم خود کھڑے ہوتے ہیں. ایسے میں خود پر احسان کریں. انتہا سے نیچے اتریں. بندگی کا سارا حسن دو انتہاؤں کے درمیان ہوتا ہے.

  • آر  یو  او کے؟ —  انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    آر یو او کے؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    وہ ایک مسافر کو ڈراپ کرکے واپس گھر جارہا تھا کہ شہر کے پوش ہوٹل کے باہرایک قطار میں لگے درجن بھر فلیگ پوسٹس پر اسے سبز ہلالی پرچم لہراتا نظر آیا ۔اس کا دل دھک سے باہر آگیا کیونکہ یہ ناروے کا ایک دور دراز قصبہ تھا جس میں وہ واحد پاکستانی تھا- اسے یہاں رہتے ہوئے کئی برس بیت گئے تھے لیکن کسی اور پاکستانی سےاس شہر میں اس کا سامنا نہیں ہوا تھا اور وہ بھی اب اس ماحول میں رچ بس گیا تھا-غیر ارادی طور پر اس نے اپنی ٹیکسی کا رخ ہوٹل کے صدر دروازے کی طرف موڑ دیا اور ٹیکسی پارکنگ میں لگا کر وہ ہوٹل کے میں گیٹ سے استقبالیہ کی طرف بڑھا –وہ حیران ہورہا تھا کہ اندر سے یہ ہوٹل کتنا بڑا اور شاندار تھا- وہ تو بس اس کے باہر سے ہی ہر دفعہ گزر جاتا تھا اور کبھی اس کے اندر آنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی تھی-

    استقبالیہ پر بیٹھی سنہری رنگت کے بالوں والی نارویجئین لڑکی نے پیشہ ورانہ مسکراہٹ کے ساتھ اس سے پوچھا ” میں آپ کی کیا مدد کرسکتی ہوں؟”-اس نے باہر لگے پاکستانی پرچم کا پوچھا کہ اس کو آج ہوٹل کے باہر لہرانے کی کیاخاص وجہ ہے؟ ۔ لڑکی نے بتایا ” ہمارے ہاں آج ایک پاکستانی مہمان بھی ٹھہرے ہوئے ہیں تو اس وجہ سے یہ جھنڈا لگا دیا ہے۔”

    اس کا دل اس مہمان سے ملنے کے لئے مچل اٹھا جس کی وجہ سے آج اس دور دراز جگہ پر بھی سبز ہلالی پرچم لہراتا دیکھنے کا موقع ملا تھا۔اس نے اپنی خواہش کا اظہار لڑکی سے کیا جو کہ تھوڑی بہت منت ترلے کے بعد اس کا رابطہ اس پاکستانی مہمان سے کروانے پر راضی ہوگئی تھی اور اب ملِک میرے کمرے میں بیٹھا مجھے احترماًاس طرح دیکھ رہا تھا جیسے میں ابھی ابھی حج کرکے مکہ سے لوٹا ہوں۔وہ مجھے اپنے گھر آنے کی د دعوت دے رہا تھا تاہم میرا اگلے پورے ہفتے کا شیڈول ہائیڈروپاور پراجیکٹس کے لئے بک تھا اور ویک اینڈ پر ہی ملاقات ہو سکتی تھی۔

    میں خود اس طرح اتنی چھوٹی سے جگہ پر ایک ہم وطن کے ملنے پر خوش تھا اور اس سے ناروے میں ملنے والے کھانوں کے بارے میں شکوہ کر رہاتھا۔ پچھلے دوتین دن سے مسلسل ابلی ہوئی لوبیا، ابلے چاول اور آلو کھا کھا کر ٹیسٹ بڈ جواب دے چکے تھے ۔نمک مرچ کے شدید کمی کے شکار اس ملک میں اگلے چند ہفتے گزارانا مشکل نظر آرہا تھا۔ملک مجھے ناروے میں اپنی سیٹنگ بنانے کے قصے سنا رہا تھا کہ کس طرح وہ آج سے پندرہ بیس سال پہلے خالی ہاتھ کسی نہ کسی طریقے سے یہاں پہنچنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔پہلے ایک گوری سے شادی کی،پیپر ببنائے اور پھر جب کاغذ برابر ہوگئے تو پاکستان سے شادی کرکے بیگم کو لے آیا اور اب ماشااللہ اس کا ایک چھوٹا سا ریسٹورنٹ اور تین ٹیکسیاں چل رہی تھی۔ دو بچے تھے جو کہ وہیں کی جم پو تھےاور اردو بمشکل ہی سمجھ سکتے تھے۔

    میں نے کہا” یہ بتاو ملک کہ ادھر تو پاکستانی نہیں ہیں تو تمھارا ریسٹورینٹ کیسے چلتا ہے”۔ کہنے لگا ” آپ بھی بڑے سادہ ہو۔ بھئی ہم گوروں کی خوراک اور مشروبات بیچتے ہیں ۔مجبوری ہے”۔ میں نے اسے کہا کہ اس کا مطلب ہے اب تم سیٹ ہوگئے ہو اور خوب مزے ہورہے ہیں۔اس کے چہرے پر ایک رنگ آکر گزر گیا تاہم وہ سنبھلتے ہوئے رونی صورت بنا کر بولا ” کہاں بھائی؟ مزے تو پاکستان میں ہیں۔۔۔۔ ادھر تو پد مارنے کے لئے بھی حکومت کی اجازت لینی پڑتی ہے۔میں اپنے گھر میں ایک نیا باتھ روم بنانا چاہ رہا تھا۔ سب سے پہلے میونسپیلٹی کو درخواست دی۔ ان کے لوگوں نے فزیبیلٹی چیک کی کہ اس سے گھر بندوں کے لئے رہنے کی کم سے کم گنجائش تو متاثر نہیں ہوگی۔پھر ان کے لائسنس یافتہ نقشہ ساز سے گھر میں باتھ روم کا ترمیمی نقشی بنوایا۔ پھر ان کے منظور کردہ پلمبر سے پلمبنگ کا کام کروایا، بجلی والے سے بجلی اور پھر سینٹرل ہیٹنگ والے سے اس کا کام کیونکہ ہمیں یہاں باتھ روم ہر وقت خشک رکھنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں ہوتے تو جس طرح مرضی بنا لیتے”۔

    پھر مزیذ فرمانے لگا کہ” میں یہاں ٹیکسی چلاتا ہوں لیکن ادھر کے قانون کی پابندی نے میری ڈرائیوننگ ایسی خراب کر دی ہے کہ قسم سے میں اب پاکستان میں جا کر خود گاڑی ڈرائیو نہیں کر سکتا۔ ہمیشہ ٹھوک دیتا ہوں- اسی لئے اب پاکستان جاتے ہی میں سب سے پہلے رینٹ پر ڈرائیور سمیت کار لیتا ہوں جو میرے پورے قیام کے دوران میرے ساتھ رہتی ہے”۔میں نے کہا "یہ تو واقعی ظلم ہے "۔

    وہ ضد کرکے زبردستی مجھے اپنے ساتھ گاڑی میں سٹی سنٹر کا چکر لگوانے لے گیا۔پھر اس نے مجھے ریل اسٹیشن بھی دکھایا ہم نے ایک جگہ سے کافی پی ۔ اب رات ہورہی تھی اور نائٹ لائف انگڑائی لے کر اٹھ بیٹھی تھی ۔ کلب اور بار آباد ہونے لگے تھے اور سڑک کنارے سجائی گئی کرسیوں پر نوجوان جوڑے بیٹھے پینے پلانے میں مشغول تھے-ہم نے دو گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد واپسی کی راہ لی۔ سٹی سنٹر سے نکلتے ہی ایک اشارہ سرخ تھا لیکن ملک صاحب نےبائیں طرف کے بار کی طرف جاتے ہوئے ایک جوڑے کو مسلسل دیکھتے ہوئے اپنی گاڑی آگے بڑھا لی جو مخالف سمت سے آنیوالی کار کے ساتھ ٹھک گئی۔ گاڑیوں کی ٹکر کی آواز سن کر سڑک کنارے بائیں طرف کے بار میں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ داخل ہوتی لڑکی تیزی سے بھاگ کر ملک صاحب کی طرف دوڑی اور انہیں تھپتھپا کر بولی ۔۔۔”آر یو اوکے ڈیڈ”

  • جلد بازی شرمندگی کی رشتہ دار ہے!!! — ریاض علی خٹک

    جلد بازی شرمندگی کی رشتہ دار ہے!!! — ریاض علی خٹک

    ایک استاد کی ویڈیو دیکھی جو اپنے طلباء کو بتا رہا تھا کہ سخت گرمی میں چلتے مجھے ایک گھر کے ساتھ پیڑ نظر آیا. سوچا اس کے نیچے کچھ ٹھنڈک لوں پسینہ خشک کروں. میں وہاں کھڑا ہی تھا کہ اوپری منزل کی کھڑکی کھلی. ایک شخص نے باہر مجھے دیکھا میں نے اسے دیکھا. اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا پانی پیو گے.؟ میں نے ہاں میں سر ہلا دیا.

    وہ شخص کھڑکی بند کر کے چلا گیا. میں نے سوچا کتنا اچھا انسان ہے. اس گرمی میں اسے دوسروں کا احساس ہے. میں انتظار کرنے لگا دو منٹ چار منٹ سات منٹ اور پھر میں نے دل میں کہا کتنا گھٹیا انسان ہے. مجھے آسرا دے کر خود سو گیا. اچانک گھر کا دروازہ کھلا اور وہ شخص شرمندہ مسکراہٹ کے ساتھ ایک جگ گلاس اٹھائے باہر نکلا. کہنے لگا میں نے کہا کیا سادہ پانی پلاوں شکنجبین ہی پلا دیتا ہوں. اس لئے کچھ وقت لگا.

    استاد کہنے لگے مجھے پھر اپنی سوچ پر شرمندگی ہوئی. کہ کتنا اچھا بندہ ہے. اس دور میں بھی اجنبیوں کا اتنا اکرام کر رہا ہے. اس نے مجھے گلاس دیا میں نے گھونٹ بھرا وہ شربت پھیکا تھا. میں نے پھر سوچا کتنا بے وقوف انسان ہے. شکنجبین بھی کوئی پھیکا بناتا ہے. میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اس نے جیب سے پڑیا نکالی اور کہا مجھے پتہ نہیں تھا آپ میٹھا پیتے ہیں یا نہیں اور کتنا میٹھا.؟ اس لئے یہ چینی الگ سے لایا ہوں.

    کہنے لگے مجھے ایک بار پھر اپنی سوچ بدلنی پڑی. دوستو ہم وہی ہوتے ہیں جو ہم سوچ رہے ہوتے ہیں. یہ دنیا اور ہمارے آس پاس اس کے لوگ و واقعات کی اچھائی برائی ہمارا دماغ طے کر رہا ہوتا ہے. دماغ کا ایک مسئلہ ہے یہ بہت جلد باز واقع ہوا ہے. اس لئے جلد بازی کے ہمارے فیصلے ہمیں ہی شرمندہ کراتے ہیں. بار بار شرمندہ کرتے ہیں.