Baaghi TV

Category: متفرق

  • آؤ کچھ نیا کر جائیں —  انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    آؤ کچھ نیا کر جائیں — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    اس سال سیلاب کی تباہی سے اگر کوئی ایک اہم سبق سیکھا جا سکتا ہے تو وہ ہے۔۔۔“وقت سے پہلے تیاری”۔۔۔۔تاہم اب تک این ڈی ایم اے، فیڈرل فلڈ کمیشن یا واپڈا سمیت کوئی بھی ادارہ بارش یا سیلابی پانی کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کرکے مستقبل کی پیش بندی کے لئےکسی بھی قسم کی مفید اور فوری قابل استعمال معلومات سامنے نہیں لائے۔ محکمہ موسمیات بھی ڈیٹا بیچنے کے چکر سے نکل کر مفاد عامہ کے لئے اسے پبلک اور قابل رسائی نہیں کرسکا۔

    دوسری طرف سیلابی نظام معیشت خوب پھل پھول رہا ہے۔ نقصانات کے اعدادوشمار 30 ارب ڈالر کا ہندسہ بتا رہے ہیں۔ ساہوکار خوش نما عالمی بنکوں اور مالیاتی اداروں کے روپ میں قرض دینے کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں اور ہماری پٹاری میں اس قرض کو خرچ کرنے کے لئے کوئی قابل عمل منصوبے نہیں۔ الماریوں میں کئی سالوں سے پڑے پی سی ون کی جھاڑ پونچھ کرکے کنکریٹ، مٹی اور پتھر سے بننے والے منصوبوں پر قرض کی رقم خرچ کرنے کی تیاری ہو رہی ہے۔تاہم عوامی بھلائی کے لئے اہم منصوبوں کا فقدان ہے جن پر اصل توجہ ہونی چاہیے۔

    غیر معمولی سیلاب سے ہونے والی تباہی ہم سے کچھ نیا کرنے کو مانگتی ہے کیونکہ ایسے حالات میں معمول کی ترکیبیں یا اقدامات کام نہیں آئیں گے۔

    ۱-سیلاب کا پیشگی اطلاعاتی اور فوری ردعمل کا نظام

    زلزلے یا کووڈ کے برعکس سیلاب ایک ایسی قدرتی آفت ہے جس کی اب جدید نظام پیمائش کے ذریعے قبل از وقت پیش گوئی کرنا ممکن ہے۔ بہت سے کمپیوٹر ماڈل اور سیٹیلائٹ ڈیٹا نے اس کو ممکن بنا دیا ہے۔ خود ہمارے ہاں محکمہُ موسمیات اس سال طوفانی اور سیلابی صورت حال کی پیش گوئی دو ماہ پہلے ہی مئی کے اوائل میں کر چکا تھا۔تاہم یہ ایک بہت سطحی انداز میں کی گئی اور متعلقہ ادارے ملک میں جاری سیاسی کشمکش کے مزے لینے میں مصروف تھے اور اس سے صرف نظر کر گئے۔پاکستان میں ایسا نظام دریائی سیلاب کی پیشگوئی کے لئے تو کسی حد تک کام کر رہا ہے لیکن دریائی نظام سے باہر اس کا وجود نہیں۔ اس سال کوہ سلیمان، کیرتھر رینج اور شمال مغربی بلوچستان سیلاب کا نشانہ تھے جو کہ انڈس روور سسٹم باہر ہیں۔

    ۲- محکمہ موسمیات کے نظام پیمائش کو جدید بنانا اور اس کی پہنچ کو بہتر بنانا

    محکمہ موسمیات کے پاس موجود بیش تر ریڈار اور آلات وقت سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ جب کہ دنیا میں اس وقت سیٹیلائٹ ٹیکنالوجی سے کئی ماہ پہلے موسمیاتی پیش گوئی کرنا ممکن ہوچکا لیکن ہمارے ہاں کوہ سلیمان اور شمالی بلوچستان کی سیلابی بارشوں کو وقت سے پہلے نہ پکڑا جاسکا۔ ژوب کے بعد محکمے کا اگلا موسمیاتی اسٹیشن ہی تین سو کلومیٹر دور کوئٹہ یا بارکھان میں ہے جب کہ سیلابی تباہی درمیان میں قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، پشین، لورالائی اور ہرنائی وغیرہ میں ہوتی رہی۔لہذا موسمیاتی اسٹیشنوں کا نیٹ ورک بڑھانا ہوگا اور عوامی مفاد میں پچھلے ۷۵ سالوں کا موسمیاتی ڈیٹا پبلک اور فری اور ہر کسی کے لئے قابل رسائی کرنا ہوگا۔

    ۳- ملکی سطح پر فلڈ میپنگ ، فلڈ زوننگ اور فلڈ زون بائی لاز

    ملک کےسیلابی علاقوں کی نقشہ بندی کرکے آفت کی صورت میں محفوظ پناہ کے علاقے تلاشنے ہوں گے۔پورے ملک کی فلڈ زوننگ ہونی چاہئے اور تمام انفراسٹرکچر منصوبوں کے لئے فلڈ زون بائی لاز بننے چاہئیں۔ تمام انفراسٹرکچر منصوبے بشمول سڑکیں پانی دوست بنانا ہوں گے۔ سیلابی پانیوں کو راستہ دینا ہوگا اور ان کی راہ میں ہر قسم کی رکاوٹوں کو ختم کرنا ہوگا۔ سیلاب کے بعد کھڑے ہونے والے پانی کی نکاسی کے مقامی پلان بنانے ہوں اور ان سب کاموں میں معیشت کو مضبوط کرنے کے بے انتہا مواقع چھپے ہوئے ہیں۔

    ۴۔ قدرتی آفات سے بچاو کے اداروں کا مقامی سطح تک پھیلاؤ

    قدرتی آفات سے بچاو کے اداروں کا نظام کم ازکم تحصیل یا ٹاون کی سطح پر فوری طور پر استوار کیا جائے۔ یہ کام جتنا زیادہ سے زیادہ مقامی سطح پر ہوگا،اتناموثر ہوگا۔ مرکز یا صوبوں کی سطح پر قائم ادارے فوری اور موثر رد عمل نہیں دے سکتے۔

    ۵۔آفت سے پہلے بچاو کا انتظام

    خیمہ بستی والی اونچی جگہوں پر ایمرجنسی میں چند گھنٹے کے نوٹس پر خیمہ بستی قائم کرنے کا بندوبست، خوراک ادویات اور مشینری وقت سے پہلے موجود ہو مستقبل کی آفت کی تیاری کے عمل میں مقامی تربیت یافتہ لوگ اور رفاہی تنظمیں ریڑھ کی ہڈی ہیں جو آگے بڑھ کر مقامی طور پر لوگوں کی ذہن سازی، عوامی بیداری اور آفت سے پہلے بچاو کے پروگراموں کو عوام میں کامیاب بنا سکتے ہیں۔

    ۶-فلڈ ریسکیو اینڈ ریلیف ایپ

    آئی ٹی کی جدت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسی ایپ لانچ کی جائے جوکہ سیلابی صورت حال سے وقت سے پہلے آگاہ کرسکے اور پانی سے بچاو کے لئے راہنمائی کرے۔ اس ایپ میں تمام نشیبی علاقوں اور پناہ گاہوں کی نہ صرف نشاندہی ہو بلکہ اس علاقے میں کام کرنے والی تمام فلاحی تنظیموں اور محکموں کی معلومات اور آن لائن روابط ہوں اور ریسکیو کے لئے موجود لوگوں اور کشتیوں کی لوکیشن اوبر اور کریم طرز پر آرہی ہو اور قریب ترین کشتی کو بلا کر ریسکیو کیا جائے۔ اس سلسلے میں کسی بھی مناسب پروپوزل کو گوگل میپ، اوبر ، کریم اور فیس بک یقیناً سپورٹ کریں گے۔

    ۷- سیلاب موافق عمارتیں

    سیلابی پانی سے بچاو کرنے والے گھر بنائے جائیں جوکہ سیلابی پانی کی سطح سے اونچے ہوں۔ اس سلسلے میں بنگلہ دیش اور مالدیپ ک جیسے ملکوں کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ کم ازکم تمام حکومتی اداروں (سکول، ہسپتال۔ دفاتر) کی عمارتیں تو ضرور اس ڈیزائن پر بنائی جائیں جن میں سیلاب کے دوران ایمرجنسی طور پر پناہ لی جا سکے۔ ان عمارتوں کو چھتیں پیدل چلنے والوں کے لئے پل بنا کر آپس میں جوڑ دی جائیں۔

    ۸۔ ریسکیو کاموں میں جدت اور مقامیت

    اس سال سیلاب کے گندے پانی کو پینے کے قابل بنانے والے بہت سے مقامی فلٹر پلانٹ سامنے آئے ہیں جنہیں بھر پور سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔خشک خوراک اور ادویات کے واٹر پروف پیکٹ اور تین چار کلومیٹر رینج میں ڈرون سے اون سپاٹ ڈیلیوری بھی کی جا سکتی ہے۔ آفت کی صورت میں پانی، خوراک اور آمدورفت کو رواں رکھنے کے مستقل راستوں کی باقاعدہ نشاندہی ہو۔

    ۹۔ تربیتی پروگرام

    این ڈی ایم اے , ریسکیو 1122 اور اس جیسے دوسرے اداروں کے ذریعے مقامی لوگوں کو ایمرجنسی طور پر تیراکی، کشتی بنانے اور ڈوبتے کو ریسکیو کرنے کی تربیت دینی چاہئے۔ ان علاقوں کے اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹی کے طلبا پر ان مہارتوں کو سیکھنا لازمی ہواور این سی سی کی طرح اس کے نمبر ان کے ایف ایس سی کے رزلٹ یا یونیورسٹی کے داخلے میں شامل ہوں۔

    ۱۰۔ مستقبل کی عارضی پناہ گاہیں

    قدرتی آفات کی روک تھام کے ادارے این ڈی ایم اے کو ملک کے سیلاب زدہ علاقوں میں اونچی اور محفوظ جگہوں پر قائم خیمہ بستیوں کی جگہوں کو باقاعدہ طور پر مون سون سیزن کے لئے محفوظ عارضی پناہ گاہیں بنا دینی چاہئیں۔ حج کے دوران منی میں قائم عارضی خیمہ بستی شہر کا ماڈل اس کام کے لئے سامنے رکھا جا سکتا ہے جہاں ہر سال بیس سے پچیس لاکھ لوگوں کے پانچ روزہ قیام کے لئے زبردست بندوبست ہوتا ہے۔

    ۱۱۔ موبائل ہسپتال اور موبائل صاف پانی

    سیلابی پانیوں میں گھرے لوگوں تک صحت اور خوراک پہنچانا سب سے مشکل مگر اہم کام ہے اور موبائل ہسپتال اور صاف پانی کے یونٹ سب سے موثر اور وسیع الاثر ثابت ہوتے ہیں۔لیڈی ہیلتھ ورکرز کی طرز پر موٹر سائیکل بردار پیرا میڈیکل سٹاف اس معاملے میں سب سے اہم ہیں۔ اس معاملے میں الخدمت اس سال بھی کام کر رہی ہے لیکن اسے حکومتی سطح پر پھیلانا ہوگا اور بلوچستان ، چولستان اور سندھ کے دور دراز علاقوں کے لئے تو یہ نظام سارے سال کی بنیاد پر استوار کر دینا چاہئے۔

    موسمیاتی تبدیلی کا حل اس آفت کو قابو کرنے کی بجائے اسے گلے لگانے اوراپنے آپ کو آفت کا عادی بنانے میں ہے۔اس ساری صورت کا مثبت پہلو درد دل رکھنے والے وہ افراد یا سماجی بھلائی کی تنظیمیں ہیں جو آفت کے آتے ہی اپنے آپ متحرک ہوئیں اور ریسکیو، ریلیف دیا اور اب بحالی کے کانوں میں مصروف ہیں۔ تاہم اگلے سیلاب سے نپٹنے کی تیاری کون کر رہا ہے؟؟ آؤ کچھ نیا کر جائیں۔

  • اپنی ذات کا آڈٹ کرتے ہیں — ریاض علی خٹک

    اپنی ذات کا آڈٹ کرتے ہیں — ریاض علی خٹک

    بے شک ہم دیکھ نہیں سکتے لیکن ہماری جلد سے ہر منٹ ہزاروں مردہ سیل جھڑ کر گر رہے ہوتے ہیں. جسم ان کی جگہ جلد کے نئے سیلز بنا رہا ہوتا ہے. اللہ رب العزت نے ہمارے جسم میں یہ ایک خودکار نظام بنایا ہے. شُکر کریں اللہ نے روزانہ کی یہ مرمت ہمارے ذمہ نہیں لگائی ورنہ تو آج کا کام کل اور کل کا پرسوں پر چھوڑ کر ہم سب بھوت بن چکے ہوتے.

    گاڑی بھی جب سڑک پر چلتی ہے تو اسے ڈینٹ بھی پڑتے ہیں خراشیں بھی آتی ہیں اور بدقسمتی ہو تو ایکسیڈنٹ بھی ہو جاتے ہیں. شکر ہے ہم میں کچھ لوگ ڈینٹر پینٹر بن گئے یہ کاریگر ایسے ہیں کہ گاڑی کو دوبارہ وہی شکل دے دیتے ہیں جیسے نئی گاڑی ہو. ورنہ سڑکوں پر کباڑ دوڑ رہا ہوتا.

    کسی بھی ڈینٹر پینٹر استاد سے پوچھیں آپ کے اوزار میں سے اہم اوزار کیا ہے تو وہ آپ کو جو چند اوزار دکھائے گا اس میں ریگمال ضرور ہوگا. یہی ریگمال ہماری شخصیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے. تکلیف تو ہوتی ہے لیکن اپنی مرمت کیلئے پہلے ہمیں اپنی سطح صاف کرنی ہوتے ہے ہموار کرنی ہوتی ہے. تب ہی اس پر وہ نیا رنگ چڑھتا ہے جو بے جوڑ نہ ہو.

    کچھ کام اللہ نے ہمارے ذمہ نہیں لگائے. ہم اپنے سیلز کی مرمت خود ہر منٹ نہیں کر سکتے. لیکن کچھ ہمارے ذمہ لگائے ہیں جو ہمارے اعمال کا حساب بناتے ہیں. ان اعمال کو اپنی عادت بنانے کیلئے شخصیت میں پڑے ڈینٹ اور خراشیں صاف کرنی ہوتی ہے. بری عادت کو کھرچ کھرچ کر نکالنا ہوتا ہے. اسی پر نئی اچھی عادات کا رنگ بھرا جاتا ہے.

    اپنی ذات کا آڈٹ کرتے ہیں . دیکھتے ہیں مجھے اور آپ کو کونسے نمبر کا ریگمال لگے گا.؟

  • ظاہر پر مت رہیے!!! — ضیغم قدیر

    ظاہر پر مت رہیے!!! — ضیغم قدیر

    ٹین ایج میں جب آیا تو ایک چیز ہر طرف نوٹس کی کہ میرے تمام دوست بڑی داڑھی رکھنے کا شوق رکھنے لگ پڑے ہیں۔ یہ کبیر سنگھ جیسی داڑھی، اوپر بڑے سے بال اور انکلز والا لباس، لیکن جب انکی داڑھی نہیں آ رہی تھی تو وہ پریشان ہونے لگ پڑے جیسے ایک بہت ہی خاص چیز ان کو نہیں مل رہی ہے۔

    ایسے ہی اپنی ہم عمر لڑکیوں کو دیکھا تو وہ ایک ایسے جسم کی مالک لڑکی بننے کی طرف چلنے لگی جس کی جلد دو کلومیٹر دور سے بھی چمکتی نظر آئے۔ جس کے جسمانی خدوخال ایسے ہوں کہ ہر دوسرا شخص ان کو نوٹس کرے اور انکی طرف جانے کی خواہش رکھے۔

    ان دو پیراگرافس کا تعلق بائیولوجیکل فینامینا سے ہے جس کا تعلق ہمارے ہارمونز سے ہے۔ پہلا خاصہ جو لڑکے اپنانے کی کوشش کرتے ہیں اس کو ہم مسکولینیٹی یا پھر مردانہ وجاہت کہتے ہیں دوسرا خاصہ زنانہ خوبصورتی کے انڈر آتا ہے۔

    مگر یہ دونوں چیزیں وقت کے ایک خاص دورانیے میں اپنا اظہار کرتی ہیں۔

    لیکن یہاں ایک گڑبڑ پیدا ہوگئی ہے۔

    ٹی وی چینلز میں جو چیز بطور ٹین ایجر متعارف کروائی جاتی ہے وہ ٹین ایجرز میں ہو ہی نہیں سکتی۔ اس وقت آپ نیٹ فلکس سے لیکر کسی لوکل پروڈکشن تک، کسی بھی ٹین ایج ڈرامہ سیریز کو دیکھ لیں سب میں ایک پچیس سے تیس سال کے شخص کو ٹین ایجر جبکہ چالیس سال کے شخص کو ایک جوان شخص بنا کر دکھایا جاتا ہے۔

    اب جبکہ وہ بائیولوجیکل سٹیج جو کہ ایک شخص تیس سال کی عمر میں پا رہا ہے وہ سٹیج ڈرامہ دیکھ کر ایک پندرہ سولہ سال کا بچہ یا بچی پانے کی کوشش کرتی ہے ایسے ہی پینتیس سال کے شخص کے روپ کو وہ لڑکا یا لڑکی بیس پچیس سال کی سٹیج میں اپنانے کی طرف چلی جاتی ہے۔

    اس بات کا ہماری فزیکل اپیئرنس کو حد سے زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔

    آپ اپنے گرد جتنے بھی لوگ دیکھیں گے اگر وہ لڑکا ہیں تو وہ بیس سال کی عمر میں ہی ایک میچور مرد کی طرح داڑھی رکھ کر اپنی شکل کسی سنجیدہ فلم کے کردار میں ڈھالنے کی کوشش کرے گا وہیں پہ ایک لڑکی اپنے جسمانی خدوخال کو بیس سال کی عمر میں ہی ایسا کرنے کی طرف لے جائے گی جو اس کو دو بچے ہونے کے بعد ملنا تھی۔

    اب چونکہ ایک شخص خود سے دو دہائیاں بڑے شخص کی فزیکل اپیئرنس کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے تو اس میں بہت سی بائیولوجیکل تبدیلیاں آتی ہیں۔یہ تبدیلیاں اس کے ظاہری خدوخال کو بڑھانے کی طرف لے جاتی ہیں مطلب اس شخص کی aging کی رفتار تیز کر دیتی ہیں۔ اور ہمارا کلچر ایسا ہے کہ یہاں پہ زندگی میں پہلے پچیس سال مکمل سکون ہوتا ہے اور اگلے پانچ سالوں میں اتنا سٹریس ملتا ہے کہ وہ شخص جوانی میں ہی ہمت ہار بیٹھتا ہے۔ سو جہاں وہ شخص 15-25 سال کی عمر کے دوران ایک 25-40 سال کے شخص کے روپ کو آئیڈیلائز کرکے خود کو بڑا دیکھنے کی خاطر ویسی فزیکل اپئیرنس اپناتا ہے تو وہیں پہ 25 کے بعد جب اس کو مشکلات والی زندگی ملتی ہے تو وہ آٹو میٹیکلی ایک بوڑھا شخص بن جاتا ہے۔

    حتی کہ آپ دیکھیں گے کہ لڑکے 25-26 سال کی عمر میں ایسے لگتے ہیں جیسے تین پندرہ سالہ بچوں کے باپ ہوں یا پھر لڑکیاں ایسی بن جاتی ہیں جیسے کوئی خالہ ہو۔ اور ان باتوں کے پیچھے ان لوگوں کا مائنڈ سیٹ ہوتا ہے۔

    مگر اکیلا مائنڈ سیٹ ایسی تبدیلی کر سکتا ہے؟

    اس کا جواب نہیں ہے۔ مگر اس کی وجہ سے ہمارا کھانے پینے کا پیٹرن بدلتا ہے۔ اب پندرہ سال کی عمر میں 25 والا روپ اپنانے کی خاطر ایک skinny جسم کی بجائے موٹا جسم چاہیے سو اسکی تلاش میں بچے reactive oxygen species والی خوراک کھاتے ہیں جسے عرف عام میں ہم high fat یا پھر high carbohydrates والی خوراک کہہ سکتے ہیں یا زیادہ عام الفاظ بولیں تو زیادہ چربی اور میٹھے کو کھانا شروع کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے ایجنگ کا پراسس تیز ہو جاتا ہے اور وہ اپنی عمر سے پہلے ہی بوڑھا لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یاد رہے ایسی خوراک ہماری جلد کی چمک کو بھی ختم کر دیتی ہے۔

    اس ضمن میں ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ اپنی خوراک کا پیٹرن بدلیں جس کو بدلنے کے لئے آپ کو اپنا مائنڈ سیٹ بدلنے کی ضرورت ہے اور وہ تب ہی بدل سکتا ہے جب آپ ماڈلز کو آئیڈیلائز کرنا چھوڑ دیں گے۔

    یاد رہے آپ کا جسم جس حالت میں ہے پیارا ہے آپ عمر کیساتھ ساتھ بڑے بھی ہونگے اور موٹے بھی، نوعمری میں انکل بننا اور جوانی میں خود کو بڑھاپے والے روپ کی طرف لیجانا آپ کی اوسط عمر کے لئے خطرناک ہے سو ایسی تمام کوششوں سے بچیں۔ بیس بائیس سال کی عمر میں گھنی داڑھی رکھ کر ایک میچور شکل والا مرد یا سڈول جسم والی عورت بننے کی بجائے عمر کا یہ فیز انجوائے کریں میچور شکل خود بخود تیس کے بعد مل جائے گی۔

    وہیں سکن چمکنے والی خاصیت اگر آپ کی خوراک اچھی ہو تو خود ہی آپ کے ہارمونز کی وجہ سے بیس سال کے بعد آنا شروع ہو جاتی ہے آپ کو کسی کریم کی ضرورت نہیں رہتی ہے۔ وہیں ایک بات یاد رکھیں جس نے آپ کو قبول کرنا ہے وہ آپ کی داڑھی یا سڈول جسم سے متاثر ہوئے بغیر بھی قبول کر لے گا اور جس نے قبول نہیں کرنا اسکے سامنے آپ کچھ بھی بن جائیں وہ نہیں کرے گا سو یہ ‘خوبصورتی ‘ بڑھانے کی سوچ کو چھوڑ کر ٹینشن فری جینا شروع کریں جس میں آپ کا کوئی بھی آئیڈیل نا ہو۔

  • نامعلوم انجمن —  انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    نامعلوم انجمن — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    تاریخ کا نہایت ہی اہم میچ شروع ہوا ہی چاہتا ہے ،ٹاس ہو چکا ہے لیکن ابھی تک کھیلنے ٹیم کا اعلان ہی نہیں ہوا ۔ یہ میچ اس لئے بھی اہم ہے کہ تمام دنیا پاکستان کو سننے کے لئے آرہی ہے۔ آپ کے دکھ درد بانٹنا چاہتی ہے۔

    نومبر پاکستان میں COP کی تبدیلی کا مہینہ ہے۔ایک اور سرخ نومبر ہمارے سامنے کھڑا ہے ۔ بدقسمتی سی بد قسمتی ہے کہ وہ ساری توجہ جو COP27 پر مرکوز ہونی چاہیے تھی وہ 29 نومبر پر ہے۔ تمام بڑے اپنی اپنی سودا بازی میں مصروف ہیں جب کہ دنیا شرم الشیخ مصر میں آپ کو سننے کے لئے آرہی ہے۔

    کانفرنس آف پارٹیز (COP27) اقوام متحدہ کے موسمیاتی تبدیلی فریم ورک کنونشن پر نظر رکھنے کے لئے قائم کی گئی جسے 1992 میں دنیا کے 154 ممالک نے دستخط کیا۔دنیا کے ماحول کو گندہ کرنے والے تمام ممالک اس معاہدے کے تحت ماحول کی بہتری کے اقدامات کرنے کے پابند ہیں جب کہ اس سے متاثرہ ممالک کو ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچانے کے قابل عمل منصوبوں کے لئے امداد دی جاتی ہے۔

    ‏COP کی 27 ویں سالانہ میٹنگ 6 نومبر کو شروع ہونے جارہی ہے لیکن ابھی تک منظر عام پر نہیں آیا کہ اس میں پاکستان کی نمائندگی کون کر رہا اور پاکستان کون کون سے قابل عمل منصوبے اس میں فنڈنگ کے کئے لے کر جا رہا ہے۔کس طرح لابنگ اور مذاکرات ہوں گے؟ پاکستان دنیا کے موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ٹاپ کے دس ممالک میں شامل ہے اور حالیہ سیلابی تباہ کاریوں کے بعد دنیا ہمیں سننے کو بے تاب ہے۔ ہماری مدد کرنا چاہتی ہے۔

    چند دن پہلے وزیراعظم کی زیر صدارت اس بارے اجلاس بھی بھی ہوا لیکن اس میں انہیں COP پر بریفنگ دی گئی مگر پاکستانی وفد کے ناموں پر تاحال خاموشی ہے۔ دیکھتے ہیں اس بار شرم الشیخ مصر جانے کا ہما کس کس کے سر پر بیٹھتا ہے کیونکہ کانفرنس 6 نومبر سے شروع ہورہی ہے ۔ ٹاس ہو چکا ہے میچ شروع ہونے جارہا ہے لیکن پلئیرز کو ابھی تک پتہ نہیں کہ کس نے کھیلنا ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری صاحب ایک نوجوان ، متحرک اور پڑھے لکھے وزیر خارجہ ہیں۔وہ پالیسی لیول پر تو اچھا بول لیتے ہیں لیکن نچلی کمیٹیوں کی سطح پر ان کے ساتھ اس کانفرنس میں اچھی ، سمجھدار اور کام کرنے والی ٹیم ہونی چاہئے۔ یہ موقع پھر نہیں ملے گا۔ امید ہے وہ اس دفعہ ایک مستعد ٹیم کا انتخاب کریں گے جو پاکستان کا مقدمہ بہتر انداز میں لڑ سکے۔

  • انداز بدلیں اور گیم جیتیں — عمر یوسف

    انداز بدلیں اور گیم جیتیں — عمر یوسف

    بادشاہ وقت کو بھیانک خواب نے ہلا کر رکھ دیا ۔ ایسے برے خواب نے بادشاہ کے دل کا چین وسکون برباد کردیا ۔ وقت کے اعلی معبرین تعبیر بتانے والے بلائے گئے ۔

    بادشاہ وقت نے بتایا کہ رات خواب میں دیکھتا ہوں کہ یکے بعد دیگرے سارے دانت ٹوٹ رہے ہیں اور پھر سارے ہی جھڑ گئے ۔

    معبرین سوچ میں پڑگئے حساب کتاب لگائے اور پھر تعبیر بادشاہ کے سامنے تھی ۔

    بتایا گیا ۔۔۔۔ حضور خواب کی تعبیر یہ ہے کہ آپ کی زندگی میں ہی آپ کے سارے بیٹے فوت ہوجائیں گے ۔

    بادشاہ کو اس تعبیر نے اتنا پریشان کیا کہ مارے بوکھلاہٹ کے حقائق سمجھ کی بجائے معبرین کو پھانسی دیکر غصے کی آگ بجھائی ۔

    جو معبر آتا ایسی ہی یا اس سے ملتی جلتی تعبیر بتاتا ۔

    بادشاہ پھانسی دیے جاتا ۔

    پھر ایک معبر کو بلایا گیا وہ ساری صورت حال سن چکا تھا ۔

    پھر جان کی خلاصی پانے کا سوچنے لگا ۔

    جب بادشاہ کے سامنے پیش ہوا تو تعبیر یوں بیان کی ۔

    کہ حضور آپ کی خواب بہت ہی خوبصورت ہے اور عمدہ حالات پیشین گوئی کرتی ہے ۔

    حضور اللہ نے آپ کو سارے خاندان میں لمبی عمر دینی ہیں۔ لوگ بہت لمبے عرصے آپ کے زیر سایہ محکوم رہیں گے ۔ اور آپ کی بادشاہت آپ کی لمبی عمر کی وجہ سے بہت عرصہ تک قائم رہے گی ۔

    فرسٹریشن کا مارا بادشاہ یہ سن کر انتہائی مسرور ہوا ۔

    پہلی بھی ایک حقیقت تھی یہ بھی حقیقت ہے ۔ فرق دونوں میں نہ تھا بتانے کے انداز نے پریشان کیا اور بتانے کے ہی انداز نے انتہائی مسرور کر دیا ۔

    انداز بدلنے والے معبر کو درہم و دینا اور اشرفیوں سے مالا مال کر کے بھیج دیا گیا ۔

    آپ بھی دیکھیے کو نسا انداز آپ کو نقصان دے رہا ہے ۔

    پھر انداز بدل کر نقصان کو نفع میں تبدیل کردو ۔

    بہترین انداز کا پتہ چلانا ہو تو تمہارے سامنے ایک اسوہ حسنہ ہے وہ اسوہ محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اس اسوے میں سارے نفع مند انداز مل جائیں گے ۔

  • اتحاد امت کیوں ضروری ؟ — حاجی فضل محمود انجم

    اتحاد امت کیوں ضروری ؟ — حاجی فضل محمود انجم

    کچھ دن پہلے ہمارے شہر منچن آباد کے ایک مشہور و معروف عالم دین اور معلم سے کچھ دوستوں کے ہمراہ ملاقات ہوئی اور یہ ملاقات ایک تبلیغی اور اصلاحی محفل میں تبدیل ہو گئی۔اس محفل کا لب لباب اور حاصل یہ تھا کہ فی زمانہ ہم اپنے آپ کو مسلمان کہلانے کی بجاۓ مسلکی اعتبار سے اپنی پہچان کروانا اور اسی لحاظ سے اپنے آپ کو پروموٹ کروانا زیادہ اچھا خیال کرتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارا یہ رویہ اتحاد امت اور قومی یکجہتی کے بلکل منافی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمارا اسلامی تشخص اب پارا پارا ہونے کو ہے۔ان کا یہ کہنا تھا کہ آج صورت حال یہ ہو چکی ہے کہ ہم ان حقوق کو بھی اپنے مسلکی نکتہ نظر سے دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں جو بطور مسلمان ہم پہ فرض ہیں۔حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد کہ "ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہے کہ اگر کوئی

    (1)-سلام کرے تو اس کا جواب دیا جاۓ

    (2)- کوئی بیمار ہے تو اس کی عیادت کی جاۓ

    (3)-کوئی فوت ہو جاۓ تو اس کے جنازے میں شرکت کی جاۓ

    لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے ان فرائض کی ادائیگی کو بھی اہنے مسلک کے ساتھ نتھی کر لیا ہے۔ہم سلام اسی شخص سے لینا زیادہ پسند کرتے ہیں جو ہمارا ہم مسلک ہے۔بیمار کی عیادت اسی کی کرتے ہیں جو یمارے اپنے مسلک کا ہے اور نماز جنازہ بھی اسی کی پڑھی جاتی ہے جو مسلکا” ہمارے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور ساتھ ہی نماز جنازہ کی ادائیگی بھی اپنے مسلک کے مدرسے میں رکھنی ہے۔ہمیں کسی غیر مسلک کی وفات پر اتنا دکھ نہیں ہوتا جتنا اپنے ہم مسلک شخص کی وفات پر ہوتا ہے ۔

    ایک مسلمان اور حضور کا امتی یہ دنیا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے چھوڑ کر جا رہا ہے لیکن ہم اسے بھی اپنے مسلک کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔

    حالانکہ آقاۓ دو جہاں کی تعلیمات یہ نہیں ہیں۔آپ نے تو یہاں تک کیا کہ ایک یہودی بچے کے بیمار ہونے پہ اسکی عیادت اس کے گھر جا کر کی جو حضور کے ساتھ مسجد نبوی میں بیٹھا کرتا تھا اور ایک کافر عورت جوکہ حضور کے گلی سے گزرتے ہوۓ سر مبارک پہ کوڑا پھینکا کرتی تھی اس کی بھی بیمار پرسی کی۔ہمارا یہ رویہ بطور مسلمان ہمارے اتحاد کو ٹکڑے ٹکڑے کر رہا ہے۔

    اس پہ کام کرنے کی ضرورت ہے اس سے پہلے کہ ہمارے اس روئیے کی بناء پر یہ امت انتشار کا شکار ہو جاۓ۔ان کا کہنا تھا کہ ان باتوں پہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم کیوں اس قسم کے رویوں کا شکار ہو رہے ہیں؟۔ہمیں اتحاد امت کو فروغ دینا چاہئے اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ "اپنا مسلک چھوڑو نہیں اور دوسرے کو چھیڑو نہیں” اللہ پاک ہمیں ہدائت دے۔

  • "انسان ماحول کا قاتل ہے’ — اعجازالحق عثمانی

    "انسان ماحول کا قاتل ہے’ — اعجازالحق عثمانی

    اس کائنات میں اربوں کہکشاؤں کے درمیان جینے کی سہولت فقط ہمارا ہی سیارہ (یعنی زمین) فراہم کرتا ہے۔ زمین پر زندگی گزارنے والے انسانوں کا اس سیارے اور اسکے ماحول کا محافظ اور نگہبان ہونا چاہیے تھا ۔مگر یہی انسان زمین کے ماحول کا دشمن بن گیا۔صنعتی انقلاب نے جتنا انسانی زندگی کو آسان بنایا ہے، اس سے کہیں بڑھ کر ماحول کو تباہ کیا ہے۔ماحول اس قدر تباہ ہوچکا ہےکہ اب اس کے واضح اثرات کرہ ارض پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔صنعتی انقلاب کے آغاز میں سبھی ممالک نے زمینی وسائل کا بےردیغ استعمال کرکے زمین کو شدید نقصان پہنچایا۔ 1972 میں جب اقوام متحدہ کے زیر انتظام، پہلی بین الاقوامی ماحولیاتی کانفرنس منعقد ہوئی ۔تب تک انسان ماحول کا قتل کر چکا تھا ۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ستر لاکھ اموات ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ پلاسٹک کے استعمال کی وجہ سے سرطان کی شرح میں بھی بے حد اضافہ ہوا ہے۔

    ماحولیاتی آلودگی نا صرف زمین کو تباہ کر رہی ہے۔ بلکہ انسانی جسم کے گارڈ یعنی دفاعی نظام کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ بیماریوں میں اضافے کا سبب بھی بن رہی ہے۔ماحولیاتی آلودگی کی کئی اقسام ہیں ۔ مگر زیادہ اثرات دو کے ہی ہیں۔

    • آبی آلودگی:

    آب یعنی پانی؛ مختلف آبی ذخائر مثلاً سمندر، دریا، اور جھیلوں وغیرہ کو آلودہ کرنے میں انسان نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ صنعتی اور گھریلو فضلہ ہم پانی میں جب تک نا پھینکیں ہمارا کھانا ہی ہضم نہیں ہوتا شاید۔ کوڑا کرکٹ بھی ہم پانی کے سپرد ہی کرتے ہیں۔انسان نے اپنی سہولت کے لیے بڑے بڑے بحری جہاز بنائے۔ جو چلتے ہوئے زہریلے مادے خارج کرتے ہیں۔ ان جہازوں کا تیل اور زہریلے مادے آبی آلودگی کی وجوہات میں سب سے نمایاں ہیں۔

    • فضائی آلودگی:

    فضائی آلودگی، آلودگی کی سب سے زیادہ خطرناک قسم ہے۔ بے ہنگم ٹریفک کا دھواں ، صنعتوں میں استعمال کیے جانے والے فوسل فیولز ، تمباکو نوشی ، سپرے ، بھٹوں اور چمنیوں سے نکلنے والا دھواں ماحول کو آلودہ کرنے میں سب سے آگے ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق روازنہ کی بنیاد پر لاکھوں افراد فضائی آلودگی سے متاثر ہوتے ہیں۔ متاثرہ افراد دمہ ،سینے کے انفیکشن، ہارٹ اٹیک جیسی مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    ماحول انسان کا لازمی جزو ہے ۔ اور انسانی غیر قدرتی سرگرمیاں ہی ماحولیاتی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنانے کے ساتھ ساتھ کرہ ارض پر خلیفہ بنا کر بھیجا۔ دنیا کی تمام تر نعمتیں حتی کہ زمین اور اسکا ماحول بھی انسان ہی کے لیے تخلیق کیا گیا۔ قرآن کریم میں تقریباً دو سو کے قریب آیات ماحول کے متعلق ہیں۔

    "اللہ تعالیٰ کی کاریگری ہے ۔جس نے ہر چیز کو مضبوطی کے ساتھ بنایا ہے”۔ (النحل)

    "پھر انسان کو تسخیر کی قوت بھی عطا کی گئی ہے۔کائنات کے خزانوں کے استعمال اور ان کو جاننے کی جستجو اس کی طبیعت میں ودیعت کی گئی ہیں۔علم جیسی قیمتی دولت سے نواز کر اس کو کل مخلوقات میں ممتاز و منفرد بنایا ہے”۔(البقرہ)

    قرآن مجید کے علاؤہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ سے بھی ہمیں ماحول کو آلودگی سے بچانے کی ترغیب ملتی ہے۔

    حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:

    "جب کوئی مسلمان شجر کاری یا کاشتکاری کرتا ہے پھر اس میں سے کوئی پرندہ ، انسان یا حیوان کھاتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے”۔(بخاری: 2320)

    ماحولیاتی آلودگی اور اسکے اثرات ویسے تو ایک بین الاقوامی مسئلہ اور عمل ہیں۔ لیکن کیا پاکستان کے حکمرانوں نے اس ملک اور عوام کو ماحولیاتی آلودگی کے اثرات سے بچانے کےلئے کوئی عملی اقدام اٹھایا ہے؟۔ تو یقیناً جواب ہوگا، ‘بالکل بھی نہیں’۔ عالمی ماحولیاتی اداروں نے کئی برس قبل یہ بتا دیا تھا کہ اگر پاکستان نے ماحولیاتی تبدیلیوں کی طرف توجہ نہ دی تو 2020 سے 2025 کے درمیان پاکستان دنیا کے ان دس ممالک میں سے ایک ہوگا۔ جو شدید موسمی تبدیلیوں اور ماحولیاتی آلودگی کے اثرات کے شکار ہونگے۔ لیکن ہمارے حکمرانوں نے اس بھیانک الارم کی طرف بھی کوئی توجہ نہ دی۔ عوام حکمرانوں سے بھی دو ہاتھ آگے ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ماحولیاتی آلودگی کے اثرات کو سنجیدہ لینے کو تیار ہی نہیں ہیں۔ کوڑا کرکٹ سر راہ ہم پھینک دیتے ہیں۔ یا کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں کو آگ لگا دیتے ہیں۔ ہم درخت لگانے کی بجائے دھڑا دھڑ کاٹے جا رہے ہیں۔

    دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ماحولیاتی ادارے موجود ہیں۔ مگر انکا کردار بہت افسوس ناک ہے۔ دھڑا دھڑ درخت کاٹے جارہے ہیں، غیر قانونی فیکٹریاں ماحول کو آلودگی کرنے میں معروف ہیں۔ مگر پاکستان کے ماحولیاتی ادارے صرف خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اعلیٰ حکام کو ہوش کے ناخن لینے ہونگے۔ مگر وہ ہوش کے ناخن کہاں لیں گے۔ وہ تو صرف ووٹ ہی لیں گے۔ بطور ذمہ شہری ہم سب کو ماحولیاتی تحفظ کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے چاہیے۔ کیونکہ جب تک پوری قوم اجتماعی طور پر ماحولیاتی آلودگی کی روم تھام میں اپنا کردار ادا نہیں کرے گی ۔تب تک اسے ختم کرنا ناممکن ہے ۔ اگر ہم سب انفرادی طور پر ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں تو نہ صرف ہم خود اس کے اثرات سے بچ سکتے ہیں۔ بلکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی اس کے اثرات سے محفوظ رہ سکتی ہیں ۔

  • تیسری راہ موجود نہیں — عمر یوسف

    تیسری راہ موجود نہیں — عمر یوسف

    ایک شخص اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ پر اپنے بیمار بلے(بلی کا مذکر) کی تصویر لگاتا ہے اور اپنے جذبات بیان کرتے ہوئے یہ واضح کرتا ہے کہ یہ ابھی چھوٹا سا تھا تب سے میرے پاس ہے اور میں خود اس کی حفاظت کرتا ہوں ۔ اب یہ بیمار ہے اور اس کی بیماری نے مجھے غمزدہ کردیا ہے ۔ میں اسے ڈاکٹر کے پاس بھی لے گیا چیک اپ کے بعد ڈاکٹرز نے انجیکشن اور دوائیاں دیں ۔ جس کے بعد اس کی طبیعت کچھ بہتر ہے ۔ سب دوست دعا کریں کہ یہ ٹھیک ہوجائے ۔۔۔

    اس منظر کے بعد اگلا منظر کچھ یوں ہے کہ لوگ اپنی سوچ وفکر کے مطابق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں ۔

    کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر یہ جانوروں کا اتنا خیال رکھتا ہے تو انسانوں کا کتنا رکھتا ہوگا ۔ اور اس جذبہ شفقت پر تعریف کرتے ہیں لیکن کچھ بلکل اس کے برعکس جواب دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جتنا خیال کتے کا رکھتے ہو کبھی اپنے ماں باپ کا کبھی رکھا ہے ؟

    انسان کو اس دنیا میں رنگ برنگے لوگ ملیں گے جن کے نظریات و افکار بلکل جدا ہونگے ۔ اور کوئی اپنی خاص فکر کے مطابق اپنا لائحہ عمل طے کرتا ہے ۔

    اس دنیا میں رہنے کا راز یہ ہے کہ انسان اس اختلاف کو ختم کرنے کی بجائے اس کے ساتھ رہنا شروع کردے ۔

    انسان کو اگر کسی کا نکتہ نظر اچھا نہیں لگتا تو وہ اسے اپنے مطابق کرنے کی بجائے اس سے رواداری کرنا شروع کردے ۔

    اگر کوئی اس کے نکتہ نظر کو پسند نہیں کرتا تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے مخالف سے نفرت بھی نہ کرے اور مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے طے کردہ اصولوں پر کاربند رہے ۔

    اس کے علاوہ تیسری راہ سراسر فساد کی راہ ہے جس پر سوائے ناکامی کے کچھ حاصل نہ ہوگا ۔

    یہی اصول و ضوابط مذہبی ، سیاسی سماجی فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے اکسیر ہیں ۔

  • We are traped badly — عمر یوسف

    We are traped badly — عمر یوسف

    انسان کو خوشی ملتی یے تو دماغ سے ڈوپامائن نامی ہارمون ریلیز ہوتا ہے ۔ لذت کا یہ احساس انسان سے تقاضا کرتا ہے کہ یہ کام دوبارہ کیا جائے تاکہ مزید لذت محسوس ہو ۔ یا اس جیسا کام بار بار کیا جائے ۔ اس کو ایک مثال سے سمجھ لینا چاہیے ۔ پارک میں جانے کے لیے بچے جوشیلے ہوتے ہیں ۔ واپسی پر وہی بچے انتہائی سست دکھائی دیتے ہیں ۔ ڈوپامائن اپنے پیک پر جانے کے بعد جب واپس ہوتا ہے تو انسان جتنا جوشیلا ہوتا ہے پھر اتنا ہی شکست خوردہ دکھائی دیتا ہے ۔ اس کا نفس تقاضا کرتا یے کہ یہ کام دوبارہ کیا جائے لیکن کام گراں و ثقیل ہونے کی وجہ سے نئی ہوپاتا ۔

    اب جب یہی خصوصیات رکھنے والا انسان موبائل پکڑتا ہے تو رنگا رنگ دنیا دیکھتا ہے ۔ کہیں ایڈوانچر کہیں کامیڈی کہیں ٹریجڈی کہیں ایموشنل ڈرامہ کہیں میسٹری کہیں رومانس کہیں تھرلر کانٹینٹ اور کہیں سیاحت پر مبنی مواد ہوتا ہے ۔

    ایک کے بعد ایک انسان من کی خواہش پورا کرنے کے لیے لگا رہتا ہے ۔ ڈوپامائن ریلیز ہوتا جارہا ہے ۔

    آہستہ آہستہ نفس بڑے سے بڑے عمدہ و تھرلر کی ڈیمانڈ کررہا ہے ۔ اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب سب کچھ بورنگ محسوس ہونے لگتا ہے ۔

    ڈوپامائن پیک پر ہونے کے بعد واپس ہورہا ہے اور انسان کو جوشیلے پن سے دگنی سستی و اکتاہٹ مل رہی ہے ۔

    یہ اکتاہٹ انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی انسان کو اپنی ذمہ داریاں زہر محسوس ہونے لگتی ہیں ۔ پڑھنا ، کام کرنا اور ذمہ داری پوری کرنا اسے پہاڑ محسوس ہونے لگتا ہے ۔ اور پھر وہ کوئی بھی بامعنی کام کرنے کے قابل نہیں رہتا ۔

    موبائل میں اگرچہ مفید و با معنی ایکٹیویٹیز بھی ہوتی ہیں لیکن نفس کو اس مفاد سے کوئی غرض نہیں اسے وحشیانہ پن اور لہو و لعب درکار ہے ۔ انسان اپنے آپ سے وعدہ کرتا ہے اب ان فضول سرگرمیوں سے جان چھڑا کر بامعنی کام کرنا ہے لیکن اگلے دن گدھا وہیں پر کھڑا ہوتا ہے جہاں کل تھا ۔

    سوشل میڈیا و موبائل کا ناسور انسان کے لیے اس قدر مصیبت بن چکا ہے کہ اس سے جان چھڑانا لگ بھگ ناممکن ہوگیا ہے ۔ اس ساری سائیکلنگ کو سمجھنے کے بعد نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ آج کا انسان بری طرح پھنس چکا ہے ۔

  • دیت کے قانون کی مخالفت، آخر کیوں؟ — نعمان سلطان

    دیت کے قانون کی مخالفت، آخر کیوں؟ — نعمان سلطان

    شاہ رُخ جتوئی مقتول شاہ زیب کے لواحقین کے ساتھ راضی نامہ ہونے کی وجہ سے سپریم کورٹ سے بری ہو گیا ہے افواہیں ہیں کہ لواحقین نے معقول پیسے لے کر راضی نامہ کیا جب کہ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ مقتول کہ لواحقین کو ڈرا دھمکا کے راضی نامے پر مجبور کیا گیا ۔

    اب دو صورتیں ہیں اگر ڈرا دھمکا کر راضی نامے یا خون بہا لینے پر مجبور کیا گیا تو یہ ہمارے نظام انصاف کی خامی ہے جس کا میں نے اپنی ایک سابقہ پوسٹ میں ذکر بھی کیا جس میں چیف جسٹس نے حاضرین سے سوال کیا جن کو پاکستان کے نظام انصاف پر یقین ہے وہ ہاتھ کھڑا کریں تو حاضرین میں سے کسی ایک شخص نے بھی اپنا ہاتھ کھڑا نہیں کیا ۔

    اگر مقتول کے لواحقین نے دیت (خون بہا) لیا تو یہ ان کا شرعی حق ہے اس کے لئے بھی شرط ہے کہ مرحوم کے تمام شرعی وارث اگر دیت (خون بہا) لینے پر راضی ہوں تب راضی نامہ ہو گا اب اگر آپ یا میں مرحوم کے شرعی وارث ہیں تو ہمارا دیت لینے پر اعتراض کرنا بنتا ہے اگر ہم شرعی وارث نہیں تو ہم اخلاقی یا قانونی طور پر مرحوم کے لواحقین کے دیت (خون بہا) لینے پر کسی قسم کا اعتراض نہیں کر سکتے ہیں ۔

    البتہ اس قتل کے کیس میں ریاست مدعی بن سکتی تھی اور وہ بنی بھی، شاہ رخ جتوئی پر اس قتل کے کیس میں 7ATA لگی جو کہ دہشت گردی کی دفعہ ہے یہ ناقابل ضمانت ہے اور مقتول کے لواحقین کی طرف سے راضی نامہ ہونے کے باوجود شاہ رخ جتوئی کی رہائی نہ ہونے کی وجہ یہی دہشت گردی کی دفعہ تھی بہرحال شاہ رُخ جتوئی کے وکیلوں نے عدالت میں دلائل دے کر دہشت گردی کی دفعہ اس پرچے سے خارج کرا دی اس کے بعد مقتول کے لواحقین کا راضی نامہ عدالت میں پیش کرنے پر عدالت نے شاہ رخ جتوئی کو رہا کر دیا ۔

    اب اس سارے معاملے کی بنیاد پر سوشل میڈیا پر لوگوں کی رائے منقسم ہو گئی ہے چند دوست احباب مقتول کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں اور شاہ رخ جتوئی کی بریت کی وجہ اس کی بے تحاشہ دولت اور اختیارات کا ناجائز استعمال بتا رہے ہیں جب کہ چند دوست حقائق سے ناواقفیت کی بنیاد پر دیت (خون بہا) لینے کو مقتول کے لواحقین کی لالچ سے تعبیر کر رہے ہیں یا کہہ رہے ہیں کہ جب انہوں نے پیسے لے کر راضی نامہ کر لیا تو اب ان سے ہمدردی کس بات کی جب کہ اسی بات کی آڑ لے کر چند احباب اسلامی دیت (خون بہا) لینے کے قانون پر تنقید کے نشتر چلا رہے ہیں ۔

    ہم اسلامی نکتہ نظر سے دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قاتل کے بارے میں قرآن پاک میں کیا حکم دیتے ہیں اور قصاص لینے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں یا دیت (خون بہا) لینے کی
    ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ

    وَمَن یَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِداً فِیْہَا وَغَضِبَ اللّہُ عَلَیْْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَاباً عَظِیْماً (النساء ۴:۹۳)

    ’’اور وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ، اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے ‘‘

    مقتول کے لواحقین کی دلجوئی کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں الگ سے آیات نازل کیں اور اس میں ان پر مقتول کا قصاص لینے کا حکم دیا اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جب لوگوں کو علم ہو گا کہ قصاص میں لازمی ہم بھی قتل کئے جائیں گے تو وہ اشتعال میں آنے سے گریز کریں اور فساد فی الارض کے مرتکب نہیں ہوں گے ۔

    ۔يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثَىٰ بِالْأُنثَىٰ ۔۔۔۔﴿البقرة: ١٧٨﴾

    ’’اے ایمان والو تم پرمقتولین کا قصاص فرض کیا گیا ہے، آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت۔”

    لیکن اب مسئلہ یہ تھا کہ ہر کوئی قتل منصوبہ بندی کر کے یا فوری اشتعال میں آ کر نہیں کرتا اتفاق سے بھی قتل ہو جاتا ہے جیسے ایکسیڈنٹ میں کسی کی موت وغیرہ تو اسے شریعت کی اصطلاح میں قتل خطا کہتے ہیں اور اس میں مقتول کے لواحقین کو کہا گیا ہے کہ وہ دیت (خون بہا) لے کر یا اللہ واسطے قاتل کو معاف کر دیں ۔

    وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ إِلَّا أَن يَصَّدَّقُوا ۔۔۔۔﴿النساء: ٩٢﴾

    ’’کسی مومن کا یہ کام نہیں کہ دوسرے مومن کو قتل کرے، الا یہ کہ اُس سے خطا ہو جائے، اور جو شخص کسی مومن کو خطا سے قتل کر دے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ ایک مومن غلام کو آزاد کرے اور مقتول کے وارثوں کو دیت دے۔‘‘

    یعنی قرآن پاک میں جان بوجھ کر کر قتل کرنے کے لئے قصاص کا حکم ہے اور غیر ارادی قتل کی صورت میں دیت (خون بہا) لینے کا حکم ہے لیکن ہم لوگ ان واضح احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی سہولت کے مطابق ان کا استعمال کرتے ہیں اور قتل عمد میں بھی دیت (خون بہا) لے لیتے ہیں یا ایسے ہی راضی نامہ کر لیتے ہیں ۔
    ۔
    ایک سچا واقعہ آپ کو سناتا ہوں تاکہ بات مزید واضح ہو جائے، والدین کے صرف دو ہی بیٹے تھے بڑا بیٹا شادی شدہ جب کہ چھوٹے بیٹے کی منگنی ہوئی تھی لیکن بڑے بھائی کی بیوی چاہتی تھی کہ دیور کی شادی میری بہن سے ہو اور منگنی ٹوٹ جائے اس بات پر دونوں بھائیوں میں اختلافات پیدا ہوئے جو لڑائی جھگڑے تک جا پہنچے اور ایک دن لڑائی کے دوران بڑے بھائی نے مشتعل ہو کر چھوٹے بھائی کو قتل کر دیا اب والدین مجبور ہو گئے ان کے صرف دو ہی بیٹے تھے ایک قتل ہو گیا اگر دوسرے کو معاف نہ کرتے تو اسے پھانسی ہو جاتی اس لئے مجبوراً انہوں نے بڑے بیٹے کو معاف کر دیا ۔

    اب اس واقعے میں مقتول کے وارث قاتل کے ماں باپ تھے انہوں نے دیت (خون بہا) کے قانون کا غلط استعمال کیا اور جانتے بوجھتے سب نے نظر انداز کر دیا لیکن ہر واقعے میں ایسے نہیں ہوتا مقتول کے شرعی وارثوں کی پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہم قاتل کے ناپاک وجود کو اس دھرتی پر مزید برداشت نہیں کر سکتے اس لئے ہمیں ہر صورت میں قصاص چاہیے ۔

    لیکن بعض مرتبہ قاتل کی سماجی حیثیت اتنی مضبوط ہوتی ہے یا وہ اتنا بڑا بدمعاش ہوتا ہے کہ اس سے اپنے باقی اہل خانہ کی جان بچانے کے لئے مقتول کے وارثوں کو مجبوراً راضی نامہ کرنا پڑتا ہے اور اس کے لئے دیت (خون بہا) کے قانون کا ہی سہارا لیا جاتا ہے اب اگر ریاست مضبوط ہو اور مقتول کے وارثین کو یقین ہو کہ قصاص لینے کی صورت میں ہمیں قاتل یا اس کے خاندان کی طرف سے کسی قسم کی انتقامی کاروائی کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا تو وہ کبھی بھی دیت (خون بہا) نہ لیں ۔

    قتل فساد فی الارض ہے اور اس کو روکنے کا سب سے بہترین طریقہ قصاص ہی ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ قصاص کے خوف سے کوئی قتل کا ارتکاب ہی نہیں کرے گا اور اگر کرے گا تو قصاص لینے کی صورت میں زمین سے ایسے شخص کا بوجھ کم ہو جائے گا لیکن دیت ہم پر بوجھ نہیں بلکہ رب کی رحمت ہے کہ اگر نادانستگی میں کسی سے ناحق قتل ہو جائے تو قاتل سے دیت (خون بہا) لے کر اسے ایک موقع دیا جائے۔

    اگر دیت نہ ہوتی تو قصاص پر روشن خیالوں کا ہی اعتراض ہوتا کہ اسلام کی نظر میں قتل عمد اور قتل خطا ایک برابر ہیں جو کہ نا انصافی ہے لیکن دیت کی وجہ سے وہ قصاص پر اعتراض نہیں کر سکتے تو اپنا بغض نکالنے کے لئے اب وہ دیت پر اعتراض کر رہے ہیں اس لئے اسلامی قانون پر اعتراضات کے بجائے اگر ان کو ان کی روح کے مطابق نافذ کرنے پر توجہ دی جائے تو یقیناً اس کے اثرات دیکھ کر معترضین بے ساختہ کہہ اٹھیں گے کہ واقعی اسلام دین فطرت ہے ۔