Baaghi TV

Category: متفرق

  • ڈیرہ غازیخان: واپڈا نے ایک لاکھ 10ہزار سیلاب متاثرین کے ڈیڑھ ارب روپے کے بل معاف کردئے

    ڈیرہ غازیخان: واپڈا نے ایک لاکھ 10ہزار سیلاب متاثرین کے ڈیڑھ ارب روپے کے بل معاف کردئے

    ڈیرہ غازیخان(نامہ نگار) حکومتی پالیسی کے تحت ڈیرہ غازیخان سرکل کے سیلاب میں ڈوبے 48%فیصد علاقے میں ایک لاکھ 10ہزار سیلاب متاثرین کے ڈیڑھ ارب روپے کے بل معاف کردیے گئے۔201بیجز میں دو ماہ کے بجلی کے بل معاف کردیے گئے۔ اگست ستمبر2022کے ایک یونٹ سے لیکر 300یونٹ تک کے گھریلوبجلی کے بل معاف،جوبل اد اکرچکے انہیں اکتوبر کے بلوں میں کریڈٹ مل جائیگا۔ 300یونٹ سے زائد کے بلوں پر LPSبھی معاف کردیاگیا۔یہ بات ایس ای میپکو ڈی جی خان محمدشکیل حسنین نے اپنے دفتر میں پریس بریفنگ کے دوران بتائی ان کے ہمراہ ڈپٹی کمرشل منیجر محمدحسین قریشی بھی موجود تھے۔ انہوں نے بتایاکہ حالیہ سیلاب سے سرکل کے علاقے فورٹ منرو،وہوا،اور ٹبی قیصرانی 100%فیصد متاثر ہوئے جبکہ کوئٹہ روڈ،شاہ صدر دین،چوٹی،روجھان،داجل شادن لنڈاور تونسہ رورل 50%فیصد سے زیادہ متاثر ہوئے دیگر علاقے 50%فیصد سے کم متاثر ہونے والوں میں شامل ہیں، اس طرح سرکل ڈی جی خان کے تمام 201بیجز میں 48%فیصد بیجز متاثرہوئے جن کے ماہ اگست اور ستمبر2022کے 300یونٹ تک کے بل معاف کردئیے گئے ہیں۔جبکہ ستمبر کے بل جو 300یونٹ سے زائد کے بل ہیں ان پر FPAلگاہے اس سے کم یونٹ کے استعمال پر FPAنہیں لگایاگیا۔

  • محمد پور دیوان : نور واہ ، چک کوڑے والہ ، سڑک عرصہ 10سال سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ، پیدل چلنا محال

    محمد پور دیوان : نور واہ ، چک کوڑے والہ ، سڑک عرصہ 10سال سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ، پیدل چلنا محال

    باغی ٹی وی محمد پور دیوان(محمد جنید احمدانی نامہ نگار) نور واہ ، چک کوڑے والہ ، سڑک عرصہ 10سال سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ، پیدل چلنا محال
    محمد پور دیوان کے نواحی علاقے نور واہ نزد چک کوڑے والہ کی سڑک عرصہ 10سال سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور متعدد دفعہ مقامی نمائندوں کو بھی بتایا گیا کہ یہ سڑک عرصہ دراز سے اس قدر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جس کے باعث پیدل بھی نہیں چلا جا سکتا اور اس کے علاوہ کسی طبی امداد کے حصول کے لیے ایمبولینس بھی نہیں آ سکتی لیکن کسی بھی سردار کے کان تک جوں نہ رینگی علاقہ مکین منتیں سماجتیں کر کر کے تھک گئے آخر کار انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت چندہ اکھٹا کیا جس میں ایک مخیر حضرات نے کثیر رقم دی اور نام نہ ظاہر کرنے کی تلقین کرتے ہوئے علاقے کی اس سڑک کا کام شروع کروانے میں ہاتھ بڑاھایا جو کہ کچھ روز تک مکمل ہو جائے گی اور علاقہ مکین مقامی سرادروں سے خفا ہونے کا اظار کر چکے ہیں علاقہ مکینوں نے اے ون ٹی سے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس روڈ سے ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب مقامی سردار یا وڈیرے روڈ تک نہیں بنوا کر دے سکتے تو ہمیں دیگر سہولیات خاک دیتے رہے ہوں گے جبکہ یہ علاقہ محمد پور 1 میں آتا ہے

  • پنڈی بھٹیاں – علی پور روڑ کے ملحقہ درجنوں دیہاتوں کے لوگ اپنے مطالبات کیلئے سڑکوں پہ نکل آئے

    پنڈی بھٹیاں – علی پور روڑ کے ملحقہ درجنوں دیہاتوں کے لوگ اپنے مطالبات کیلئے سڑکوں پہ نکل آئے

    باغی ٹی وی : پنڈی بھٹیاں(شاھد کھرل)علی پور روڑ کے ملحقہ درجنوں دیہاتوں کے لوگ اپنے مطالبات کیلئے سڑکوں پہ نکل آئے پچھلے 30 سال سے علی پو روڑ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ھے جس کی وجہ سے اس علاقے کی ترقی رکی ہے علاقہ مکین اپنے حق کے احتجاجی ریلی سید نگر علی پورچھٹہ سے شروع ہو کر حافظ آباد پہنچنے پر فوارہ چوک میں پہنچ کر دھرنا دے دیا مظاہرین کے مطابق علی پور روڈ کیلئے 9 ارب کے فنڈ منظور ہوئے لیکن روٹ ہی تبدیل کر دیا گیا جو ہمیں منظور نہیں 14 فٹ کی بجائے ڈبل روڈ بنایا جائے جس سے علاقہ مکینوں سمیت دیگر شہروں کو بھی فائدہ پہنچے گا حافظ آباد علی پور روڑ کے علاقہ مکینوں کا فوارہ چوک میں ٹریکٹر ٹرالیاں کھڑی کر کے احتجاجی مظاہرہ حکومت مخالف مظاہرین نے شدید نعرہ بازی کی اور کہا انتظامیہ نے ہمارے مطالبات نہ مانے تو ہم احتجاجی دھرنا بھی دینگے ہم لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں اور ہمیں بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ھے آنے والے الیکشن میں عوامی نمائندے کس منہ سے ہم سے ووٹ مانگیں گے ہم چاہتے ہیں منتخب نمائندے ہمارا ساتھ دیں اور ہمارا بنیادی حق یہ سڑک تعمیر کی جائے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اسٹنٹ کمشنر حافظ آباد مزاکرات کے لیے آئے جسے مظاہرین یہ کہہ کر بھیج دیا ڈی سی حافظ آباد کو بلایا جائے اور رکشے پر علی پور تک سفر کرنا چاہیے

  • ایک ایماندار اور فرض شناس آفیسر۔۔۔!!!

    ایک ایماندار اور فرض شناس آفیسر۔۔۔!!!

    ایک ایماندار اور فرض شناس آفیسر۔۔۔!!!
    تحریر : شوکت ملک
    مملکت خداداد میں موجودہ دور میں کوئی بھی کام سفارش اور رشوت کے بغیر کرانا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے، دو نمبر کام کےلیے رشوت کا بازار گرم کرنے میں جتنا ہاتھ سرکاری محکموں میں بیٹھے افسران و ملازمان کا ہے اس سے کہیں زیادہ ہمارا بھی ہے، کیونکہ کسی بھی جائز و ناجائز کام کےلیے رشوت کی آفر سب سے پہلے ہم خود کرتے ہیں اور دیتے ہیں، جس کے باعث یہ ناسور اتنا پھیل چکا ہے کہ اب اس سے بچنا تقریباً ناممکن ہوچکا ہے، مگر سرکاری محکموں میں آج بھی کئی ایک ایماندار افسران بیٹھے ہیں جنہوں نے اس ناسور کیخلاف اعلان بغاوت کر رکھا ہے جن میں سے ایک نام انچارج ڈرائیونگ لائسنس ڈسٹرکٹ کیماڑی بلدیہ ٹاؤن برانچ ڈی ایس پی منیر احمد اعوان صاحب کا بھی ہے۔
    گزشتہ روز کراچی ڈسٹرکٹ کیماڑی بلدیہ ٹاؤن ڈرائیونگ لائسنس برانچ جانا ہوا، جہاں پر کرپشن اور رشوت جیسے ناسور کیخلاف انتہائی بہادری اور جرات مندانہ طریقے سے لڑنے والے انتہائی فرض شناس، ایماندار، خوش اخلاق، خوش لباس، خوش گفتار، خوش شکل ڈی ایس پی منیر احمد اعوان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا، جن کی ایمانداری اور فرض شناسی کے چرچے گزشتہ کئی ماہ سے سن رکھے تھے، اپنا ڈرائیونگ لائسنس بنانے کےلیے ڈی ایس پی آفس گیا تو ڈی ایس پی منیر احمد اعوان وہاں پر تشریف فرما اپنے کسی مہمان کو بتا رہے تھے کہ جب میری پوسٹنگ بلدیہ ٹاؤن ڈرائیونگ لائسنس برانچ ہوئی مجھے کہا گیا ڈی ایس پی صاحب یہاں لوٹ مار کا بازار اس قدر گرم ہے کہ آپ اس سسٹم کیساتھ نہیں لڑ سکتے، مگر ڈی ایس پی منیر احمد اعوان کا کہنا تھا کہ میں نے کہا وہ میرا مسئلہ ہے مجھے اچھی طرح معلوم کہ سسٹم کو کیسے رشوت خوری جیسے ناسور سے پاک کرنا ہے اور میری موجودگی میں میرے سٹاف کا کوئی بندہ رشوت لے کر دکھائے میرا کھلا چیلنج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے پورے سٹاف کو بتایا ہے کہ رشوت کا ایک روپیہ بھی اگر کسی نے لیا یا کسی شہری کیساتھ بدتمیزی کی، مِس بی ہیو کیا تو نہ صرف اس کیخلاف ایف آئی آر درج کروں گا بلکہ اس کو نوکری سے بھی فارغ کراؤں گا چاہیے اس کےلیے مجھے خود کورٹس کے چکر ہی کیوں نہ لگانے پڑیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ یہاں پوسٹنگ کے بعد بہت سارے لوگوں نے مجھے میرے آفس آ کر بھی آفرز کی اور کہا صاحب چھوڑیں جیسے پہلے سسٹم چل رہا تھا ویسے ہی چلنے دیجئے مگر میں نے کہا میری موجودگی میں ایسا کوئی سوچے بھی مت، ان کی گفتگو مکمل ہونے کے بعد میں نے کہا سر میں کچھ بات کر سکتا ہوں جس پر انہوں نے کہا بیٹا ضرور بات کریں لیکن پہلے مجھے یہ بتائیے کہ آپ سے لائسنس کے سرکاری فیس کے علاوہ کسی نے کوئی پیسے تو نہیں مانگے، میں نے کہا نہیں سر بلکل بھی نہیں، جس پر انہوں نے کہا کہ بیٹا اب آپ اپنی بات کیجئے، میں نے اپنا مختصر تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ میرا تعلق میڈیا سے ہے ایک ورکنگ جرنلسٹ ہوں اور یہ سن کر ہی یہاں آیا ہوں کہ بلدیہ ٹاؤن برانچ میں ایک ایماندار ڈی ایس پی آیا ہے جوکہ نہ رشوت لیتا ہے اور نہ ہی کسی کو لینے دیتا ہے، اور واقعی آج خود سارے پراسس سے گزر کر یقین ہوگیا کہ جہاں پر ایک ایک لائسنس کے بطورِ رشوت ہزاروں روپے بٹورے جاتے تھے وہاں پر رشوت کا نام تک موجود نہیں، میں نے کہا سر، سندھ جیسے صوبے میں جہاں کی گورنمنٹ سمیت تمام سرکاری محکمے ہی کرپشن اور رشوت خوری کا گڑھ بنے ہوئے ہیں وہاں پر ایسے ناسور کیخلاف دیدہ دلیری سے لڑنے پر آپ خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔
    جس پر ان کا کہنا تھا کہ بیٹا اس میں میرا کچھ کمال نہیں بس اللّٰہ پاک کیساتھ ایمان کا ایک ایسا مضبوط رشتہ ہے جو نہ صرف خود حرام کھانے اور اپنے بچوں کو کھلانے سے روکتا ہے بلکہ اپنے ماتحت دوسرے لوگوں کو بھی حرام کھانے کی اجازت نہیں دیتا اور نہ ہی میری سروس کے دوران کسی کی مجال ہے کہ وہ دو نمبر کاموں کے پیسے لے کر خود بھی حرام کھائے اور اپنے بچوں کو بھی کھلائے، کم از کم میرے ہوتے ہوئے ایسا ناممکن ہے، گفتگو کے اختتام پر پوچھنے پر معلوم ہوا ڈی ایس پی منیر احمد اعوان صاحب کا تعلق بھی شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین چکوال سے ہے۔ آخر میں اتنا ہی کہوں گا اگر منیر احمد اعوان جیسے ایماندار اور فرض شناس آفیسرز کو سرکاری محکموں میں بلا روک ٹوک، بغیر کسی دباؤ ایمانداری سے کام کرنے دیا جائے اور پروموٹ کیا جائے تو یقیناً ترقی و خوشحالی ہمارا مقدر ہوگی۔ اللّٰہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

  • ہمارا پیٹ بھرنے والے کسان،اپنے پیٹ کی خاطر سڑکوں پر،کیوں؟؟؟ — اعجازالحق عثمانی

    ہمارا پیٹ بھرنے والے کسان،اپنے پیٹ کی خاطر سڑکوں پر،کیوں؟؟؟ — اعجازالحق عثمانی

    گزشتہ برس بھارت میں کسانوں کی ایک تحریک نے زور پکڑا تو ہمارے میڈیا سمیت ملک پاکستان کے مالکان سب نے ان کے لیے ہمدردی اور حمایتی بول بولے۔ مگر آج پاکستان کا کسان سڑکوں پر ہے۔تو ہمارے اندر اس قدر ہمدردی کیوں نہیں نظر آرہی ہے ۔جو 2021 میں بھارتی کسانوں کے لیے نظر آئی تھی۔اسلام آباد میں ہزاروں کسان کھاد اور بیج کی وافر مقدار میں فراہمی، گندم کی خریداری کی امدادی قیمت میں اضافے اور ڈیزل و بجلی کی قیمتوں میں کمی جیسے مطالبات کے لیے سڑکوں پر ہیں۔

    پاکستان کا کسان ایک لمبے عرصے سے صرف ظلم ہی سہتا آرہا ہے۔بلند و بانگ دعوے ہر سیاسی جماعت نے کیے۔مگر کسان کے ہاں خوشحالی اتنی ہی آئی ہے۔ جتنی اس ملک میں جمہوریت۔۔۔۔۔نہ زرداری، نہ نواز وشہباز اور نہ عمران نے کسانوں کے لیے کوئی ایسا میکانزم اور لائحہ عمل تیار کیا۔ جس سے وہ خوشحال ہو سکیں۔ کھاد کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ، لاکھوں روپے میں بجلی کے بل، آسمان کو چھوتی ڈیزل کی قیمتیں، کسانوں کی خود کشی کے مترادف ہیں۔

    ہر آنے والے انتخابات سے پہلے ایسے ایسے دعوے کیے جاتے ہیں کہ لگتا ہے کہ اب تو اچھے دن آنے والے ہیں۔ ایسے ایسے سبز باغ دکھائے جاتے ہیں کہ لگتا ہے۔ کہ سبز کھیتوں میں کام کرنے والا کسان اب تو ضرور خوشحال ہوگا۔ اس کی مشکلات کم اور آسانیوں میں اضافہ ہوگا۔ مگر آسانیوں میں اضافے کی بجائے ، مشکلات اس قدر بڑھا دی گئی ہیں کہ وہ اب سڑکوں پر نکلنے کو مجبور ہوگیا ہے ۔اپنے کھیتوں کو چھوڑ کر وہ آج سڑکوں پہ ہیں۔ تہذیب انسان کا وارث ، ملک کے شہریوں کا پیٹ بھرنے والا، آج اگر اپنے پیٹ کی خاطر سڑکوں پر ہے۔ تو یہ پوری قوم کےلیے افسوس کی بات ہے ۔شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے تو کسان کو حق نہ ملنے پر ، کھیت و کھلیان جلا دینے جیسے الفاظ اپنے اشعار میں لکھے ہیں۔

    جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
    اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

    شاید علامہ اقبال جانتے تھے کہ کسان پر ظلم ہوگا۔ پوری دنیا کا پیٹ بھرے گا مگر اپنا پیٹ بھرنے کےلیے اس کو ٹھوکریں کھانی پڑیں گی۔
    کسی دور میں کسان ہی معاشرے کا سب سے خوشحال فرد ہوتا تھا ۔مگر آج کسان کے حالات اس قدر پسماندہ ہوچکے ہیں کہ گزر بسر مشکل ہوگیا ہے۔

    گندم کی بالیاں ہی وہ بیٹی کو دے سکے
    مالک میرے کسان کے کھیتوں کی خیر ہو

    ہم کیسے بھول گئے ہیں کہ یہی کسان ہمارا پیٹ بھرتا ہے۔ ہماری بھوک مٹانے کے لیے دن بھر کھیتوں میں محنت کرتا ہے۔ زمین کا سینہ چیر ہمارے لیے غذا اگاتا ہے۔ یہ خوشحال ہوگا تو ملک خوشحال ہوگا۔ یہ خوشحال ہوگا تو ہمارے پیٹ بھریں گے۔

    یہ ہری کھیتی، ہرے پودے، ہرا رنگ چمن
    تم سے ہیں آباد یہ کہسار یہ کوہ ودمن

    خوں پسینے سے بہت سینچا ہے یہ صحن چمن
    تم اگر آباد ہو، آباد ہیں گنگ و جمن

  • مریدکے میں ریسکیو 1122 کی فائرسروس اور نئی تعمیر شدہ عمارت کی افتتاحی تقریب

    مریدکے میں ریسکیو 1122 کی فائرسروس اور نئی تعمیر شدہ عمارت کی افتتاحی تقریب

    باغی ٹی وی:شیخوپورہ تحصیل مریدکے (محمد طلال سے) ریسکیو 1122 مریدکے میں فائرسروس اور نئی تعمیر شدہ عمارت کی افتتاحی تقریب ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر رانا اعجاز احمد کی سربراہی میں منعقد ہوئی۔تقریب میں ممبر قومی اسمبلی حلقہ 119 بریگیڈیئر(ر) راحت امان اللہ بھٹی اور ممبر صوبائی اسمبلی حلقہ 136 خرم اعجاز چٹھہ نے خصوصی شرکت کی اور فائر سروس کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ ریسکیو 1122 وزیرِاعلیٰ پنجاب کا ایک عظیم عوامی و فلاحی منصوبہ ہے جو لوگوں کو بہترین خدمات فراہم کرتے ہوئے ان کے جان ومال کے تحفظ کیلئے دن رات کام کر رہاہے اور بروقت ریسپانس کر کے لوگوں کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریدکے میں ریسکیو 1122 کی پہلے سے موجود عمارت موجودہ وسائل کے مطابق نہ کافی تھی جس سے گاڑیوں کی پارکنگ اور دیگر امور میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ نئی عمارت تعمیر ہونے سے ان مسائل کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فائر سروس کی دستیابی یہاں کی عوام کیلئے بہت بڑی نعمت ہے جس کی مدد سے انڈسٹریل اور گھریلو فائر ایمرجنسی پر قابو پا کراورمدد فراہم کرنے سے قیمتی جانوں و مال کو بچایا جاسکے گا۔ انہوں نے کہا ہم وزیرِ اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی اور ڈائریکٹر جنرل/سیکرٹری پنجاب ایمرجنسی سروس ڈاکٹر رضوان نصیر کے انتہائی مشکور ہیں جنہوں نے مریدکے کی عوام کو فائرسروس کی صورت میں تحفہ دیا۔

  • تلہ گنگ: نوجوان صحافی شوکت ملک سماجی تنظیم  "ہوپ گیورز فاؤنڈیشن” میں شامل ہوگئے

    تلہ گنگ: نوجوان صحافی شوکت ملک سماجی تنظیم "ہوپ گیورز فاؤنڈیشن” میں شامل ہوگئے

    تلہ گنگ: نوجوان صحافی شوکت ملک بھی "ہوپ گورز فاؤنڈیشن” کا حصہ بن گئے۔ شوکت ملک کو پاکستان ہوپ گورز فاؤنڈیشن کا حصہ بننے پر خوش آمدید کہتے ہیں، عامر عقیل، سندس ریاض
    باغی ٹی وی : تلہ گنگ (نامہ نگار) نوجوان صحافی شوکت ملک تلہ گنگ کی مؤثر ترین فلاحی تنظیم "ہوپ گیورز فاؤنڈیشن” کا حصہ بن گئے، اس موقع پر سینئر ممبران عامر عقیل اور سندس ریاض کا بھرپور طریقے سے ویلکم کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس طرح کے نامور اور ایکٹیو ممبران ہماری ٹیم کےلیے باعث فخر ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ تلہ گنگ ہوپ گورز فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے دکھی انسانیت کی خدمت کا سلسلہ بھرپور طریقے سے جاری رکھیں گے۔ تنظیم میں وسعت کےلیے مزید ممبران کی شمولیت کا سلسلہ جاری ہے، دکھی انسانیت کی خدمت کا جذبہ رکھنے والا ہر فرد ہوپ گورز فاؤنڈیشن کا حصہ بن کر غریب و لاچار اور مستحق لوگوں کےلیے مسیحا کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

  • بجلی بلوں سے غیر متعلقہ ٹیکس، سرچارج ختم کرنے اور بلنگ سسٹم کو ری اسٹرکچر کرنےکی ضرورت ہے- نیپرا رپورٹ

    بجلی بلوں سے غیر متعلقہ ٹیکس، سرچارج ختم کرنے اور بلنگ سسٹم کو ری اسٹرکچر کرنےکی ضرورت ہے- نیپرا رپورٹ

    باغی ٹی وی : اسلام آباد ( ویب ڈیسک) بجلی بلوں میں ایسے سرچارج بھی ہیں جن کا صارف کی بجلی کھپت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔پاور سیکٹر سے متعلق نیپرا کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2022 میں بتایا گیا ہے کہ ایک سال میں کیپیسٹی پیمنٹس میں 107 ارب روپے اضافہ ہوا اور 2021-22 میں 721 ارب روپے کی کیپیسٹی پیمنٹس کی گئیں جو 21 میں 614 ارب روپے تھیں۔نیپرا رپورٹ کے مطابق 2021-22میں ایل این جی کی قلت کے باعث مہنگے پاور پلانٹس چلائے گئے، ایل این جی کی قلت سے صارفین پر 19 ارب 33کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑا، ملک میں بجلی کی طلب کے باوجود بہترین صلاحیت والے پلانٹس نہیں چلائے گئے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گڈو پاور پلانٹ کے ایک یونٹ سے بجلی پیدا نہ کرنے سے 55 ارب روپے کا نقصان ہوا، چھ شوگر ملیں 2 سال سے بجلی کمپنیوں سے بجلی خریدنے کا کہہ رہی ہیں، بجلی کمپنیاں اپنے علاقوں میں پلانٹس سے سستی بجلی نہیں خرید رہیں۔نیپرا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجلی بلوں سے غیر متعلقہ ٹیکس، سرچارج ختم کرنے اور بلنگ سسٹم کو ری اسٹرکچر کرنےکی ضرورت ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ بجلی بلوں کے ذریعے بھاری ٹیکس لیے جاتے ہیں، وفاقی حکومت نے بجلی بلوں کے ذریعے ٹیکس اور سرچارج عائد کر رکھے ہیں، بجلی بلوں پر ایسے سرچارج بھی ہیں جن کا صارف کی بجلی کھپت سے تعلق نہیں، سسٹم کی ناقص کارکردگی کا بوجھ بھی سرچارجز کے ذریعے عوام بھگت رہے ہیں۔
    نیپرا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجلی بلوں کے ذریعے ٹیکسز ڈیوٹیز اور سرچارجز سمیت ٹی وی فیس وصولی سے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، یہ ادارے خود براہ راست عوام سے ٹیکس وصول کرنے کے قابل نہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئین پاکستان میں بجلی ہر شہری کا بنیادی حق ہے لیکن ہر شہری کو بجلی میسر نہیں ہے۔

  • ابھی تو اور امتحاں باقی ہیں،سیلاب متاثرین کو بے نظیر انکم سپورٹ کے تحت ملنے والی رقم کاحصول ناممکن ہوگیا

    ابھی تو اور امتحاں باقی ہیں،سیلاب متاثرین کو بے نظیر انکم سپورٹ کے تحت ملنے والی رقم کاحصول ناممکن ہوگیا

    باغی ٹی وی : قصبہ سمینہ(جواداکبرنامہ نگار )سیلاب متاثرین کے لیے امتحان کے بعدایک اور امتحان سیلاب جیسی قدرتی آفت میں اپنا جانی ومالی نقصان کے بعد بے حال ہی تھے گورنمنٹ کی طرف سے بے نظیر انکم سپورٹ کے تحت ملنے والی 25000 روپے کی رقم کے وصول کے لیے متاثرین جن میں شامل بزرگ بیمار اور خواتین جو کہ صبح نماز کے بعد اپنی لائن میں شامل ہو کر شدید گرمی اور حبس برداشت کرتے ہوئے انتظار کرنے لگتے ہیں اور شام گئے تک دھکے کھانے پے مجبور اوپر سے عملہ کا میرٹ کا قتل سب سےپہلے اپنے من پسند سفارشی ٹولہ کو رقم کی ادائیگی اور اس کے ساتھ ساتھ ہر بندے سےایک ہزار سے دو ہزار حرام رشوت بٹورنے لگےاور اس کام کے لیے کچھ اپنے مخصوص ایجنٹ چھوڑ رکھے ہوئے ہیں ،سیلاب متاثرین اور بے نظیر انکم سپورٹ کی اہل خواتین نے انتظامیہ سے درخواست ہے کہ اس مافیاء کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لیا جائے.

  • کوٹ چھٹہ: پی ٹی آئی کی نہ تجربہ کار پنجاب حکومت کی وجہ سے  ڈیرہ غازیخان کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا

    کوٹ چھٹہ: پی ٹی آئی کی نہ تجربہ کار پنجاب حکومت کی وجہ سے ڈیرہ غازیخان کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا

    باغی ٹی وی :کوٹ چھٹہ(شعیب خان لنگاہ سے)پی ٹی آئی کی نہ تجربہ کار پنجاب حکومت کی وجہ سے ڈیرہ غازیخان کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا اور عوام کو تحفے میں لاشیں دی جارہی ہیں پیپلزپارٹی کے ضلعی سیکرٹری اطلاعات فہد بھٹی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا پی ٹی آئی حکومت ، ضلعی انتظامیہ نے ڈیرہ غازیخان کو کھنڈرات میں بدل دیا کوئی محلہ گلی ایسی نہیں جہاں سیوریج کا پانی نہ کھڑا ہو سیوریج کے پانی سے کئی کئی بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے اس کے علاوہ ڈیرہ غازیخان کے مین روڈز، محلے کی گلیوں میں مین ہول کے ڈھکن نہ ہونے سے کل ماڈل ٹاون کے رہائشی فیاض کے دو جواں سالہ بچے سکول سے واپسی پہ وقار کنٹین کے ساتھ کھلے مین ہول میں جاگرے جس سے امیر حمزہ شہید ہو گیا اور محمد طیب شدید زخمی ہو گیا جسے نشتر ریفر کیا گیا حکومتی بے حسی، اور انتظامیہ کی نااہلی نے پورے شہر کی فضا کو سوگوار کر دیا پاکستان پیپلز پارٹی امیرحمزہ کے اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے پیپلزپارٹی امیرحمزہ کے اہل خانہ کو انصاف دلانے کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی ہم آر پی او، ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سے مطالبہ کرتے ہیں امیرحمزہ کے قتل کی ایف آئی آر، نا اہل ایم این اے، ایم پی اے اور ضلعی انتظامیہ، میونسپل کارپوریشن پر درج کی جائےان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی کےضلعی سیکرٹری اطلاعات فہد بھٹی نے پیپلزپارٹی کے ضلعی دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی مزید ان کا کہنا تھا کہ پورے شہر میں جہاں جہاں بھی سیوریج کا مسئلہ ہے اور پورے شہر میں مین ہول کے ڈھکن نہیں ہیں وہ فوری طور پر لگائے جائیں اگر فلفور سیوریج اور ڈھکنوں کا مسلہ حل نہ کیا گیا تو پیپلزپارٹی عوام کی بھلائی کے لیے احتجاج کرے گی اس موقع پر ضلعی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات شعیب لنگاہ بھی ہمراہ تھے