Baaghi TV

Category: متفرق

  • مغل شہزادیوں کا پسندیدہ عرق گلاب اور کلرکہار  — اعجازالحق عثمانی

    مغل شہزادیوں کا پسندیدہ عرق گلاب اور کلرکہار — اعجازالحق عثمانی

    کلرکہار یوں تو اپنے قدرتی حسن اور منفرد تاریخ کی وجہ سے پاکستان بھر میں جانا جاتا ہے ۔ مگر بیشتر لوگ اس بات سے لاعلم ہیں کہ یہاں بڑے اعلیٰ معیار کا عرق گلاب بھی دیسی طریقے سے کشید کیا جاتا ہے۔ تاریخی کتب کے مطابق مغل شہنشاہ نور الدین جہانگیر کی بیوی نور جہاں کو کلرکہار کا عرق گلاب اس قدر پسند تھا کہ وہ خصوصی طور پر یہاں سے عرق گلاب منگوایا کرتی۔چند دہائیاں قبل بازاری کاسمیٹکس تو تھا ہی نہیں۔ خواتین اپنے چہرے کو تر و تازہ رکھنے کی غرض سے گلاب کا عرق استعمال کرتیں۔ ملکہ بھی شاید اسی مقصد کے لیے کلرکہار سے عرق گلاب منگواتی ہونگی۔

    گلاب کی پنکھڑیوں سے نکالا گیا عرق ہاتھوں کی تازگی، آنکھوں کی چمک اور جلد کو نرم وملائم کرنے میں انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس میں اینٹی آکسیڈینٹس بھی ہوتے ہیں۔ سو یہ جلد کو مضبوط کرتا ہے۔عرق گلاب مختلف اشیا مثلاً آئس کریم، کیک، بسکٹ اور دیگر مٹھائیوں میں ذائقے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ طبعی طور پر اس کے بہت سارے فوائد ہیں ۔

    گلاب کے فوائد کے ساتھ ساتھ اسکی رنگت میں اس قدر کشش ہے کہ سبھی شعرا نے اس کو تختہ مشق بنایا ۔ کسی کو محبوب کے ہونٹ گلاب کی پنکھڑی لگے تو کسی کو اس کی رنگت سے رخسار محبوب کی یاد نے گھیرا ۔ چند اشعار پیشِ خدمت ہیں ۔

    ؎ وہ پاس بیٹھے تو آتی ہے دلربا خوشبو
    وہ اپنے ہونٹوں پہ کھلتے گلاب رکھتے ہیں

    ؎ عرق نہیں ترے رو سے گلاب ٹپکے ہے
    عجب یہ بات ہے شعلے سے آب ٹپکے ہے

    ؎ آ نکھوں سے ہٹے نہ خواب جیسا
    وُہ شخص کہ ہے گلاب جیسا

    ؎ نازکی اس کے لب کی کیا کہیے
    پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

    کلرکہار میں بنائے جانے والے عرق گلاب کی تیاری میں صرف پیتل کے برتنوں کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ مٹی سے بنی بھٹی کے اوپر بڑے سے برتن میں پانی اور گلاب کی پنکھڑیاں ڈال کر برتن کا ڈھکن بند کر دیا جاتا ہے ۔ اسی برتن سے ایک پائپ بھی منسلک ہوتا ہے ۔جس سے بھاپ گزر کر ٹھنڈے پانی میں پڑے ایک برتن میں جا گرتی ہے۔ جو بعد میں عرق کی صورت اختیار کر لیتی ہے ۔انھی بھٹیوں میں عرق چوعرقہ، عرق سونف ، عرق پودینہ ، عرق لوٹاٹ وغیرہ بھی کشید کیا جاتا ہے ۔ اگر آپ واقعی خالص عرق گلاب کے متلاشی ہیں تو کلرکہار جائیے بے فکر ہو کر خالص عرق گلاب خریدیئے ۔

  • 23 ستمبر اشاراتی زبانوں کا عالمی دن جو خاموشی سے گزر گیا!!! — اعجازالحق عثمانی

    23 ستمبر اشاراتی زبانوں کا عالمی دن جو خاموشی سے گزر گیا!!! — اعجازالحق عثمانی

    تین دن قبل یہ دن اتنی ہی خاموشی سے گزر گیا جتنی خاموش یہ زبان ہے، خیر اشاراتی زبان سے مراد ، جسم کے مختلف حصوں مثلاً ہاتھوں ، انگلیوں اور کندھوں وغیرہ کی مدد سے گفتگو کرنا ہے۔ گونگے افراد بولنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں تو وہ اشاروں کی مدد سے اپنی بات دوسروں کو سمجھاتے ہیں ۔دسمبر 2017 کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے ،2018 میں اقوام متحدہ نے پہلی دفعہ 23 ستمبر کو اشاروں کی زبان کا عالمی دن قرار دیا۔یوں تو 17 ویں صدی سے ہی مغربی دنیا میں اشاراتی زبان کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔1620 میں ایک ہسپانوی پادری نے بہرے لوگوں کو اشاروں کی مدد سےتقریر سیکھانے کے موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی تھی۔ لیکن آج کے اس سائنسی دور میں ہم آج بھی بہت پیچھے کھڑے ہیں ۔

    ڈبلیو ایف ڈی کی جانب سے جاری کئے گئے ڈیٹا کے مطابق تقریبا 7.2 کڑور افراد دنیا بھر میں بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔

    سماعت سے محروم 80 فیصد افراد کا تعلق ترقی پزیر ممالک سے ہے۔ یہ لوگ مجموعی طور پر تقریباً 300 سے زائد زبانوں کی مدد سے اپنی روزمرہ کی زندگی میں گفتگو کرتے ہیں۔

    ڈیٹا کے مطابق” پاکستان میں تقریباً دو لاکھ چالیس ہزار افراد قوت سماعت و گویائی سے محروم ہیں۔ جو کہ ملک میں موجود معذور افراد کا7.4 فیصد بنتے ہیں”۔

    انٹرنیشنل ڈے آف سائن لینگویجز یا اشاروں کی زبان کا عالمی دن گویائی اور سماعت سے محروم افراد کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے منایا جاتا ہے۔ مگر صرف اظہار یک جہتی سے کیا ہوگا؟۔۔۔۔۔۔انڈونیشیا کے شہر یوگیاکارتا میں ایک مدرسہ ہے۔ جہان کبھی بھی تلاوتِ قرآن کی آواز نہیں سنی گئی۔یہ اشاراتی زبان سمجھنے والے بچوں کے لیے بنایا گیا ایک مدرسہ ہے جہاں اشاروں کی مدد سے قرآن کی تلاوت سیکھائی جاتی ہے ۔ لیکن سوچیے پاکستان میں اشاراتی زبان سمجھنے والوں کے لیے اس اندھی قوم نے کیا گیا ہے۔ یہاں صرف انکا مذاق اڑایا جاتا ہے ۔ ان کو اپنے سے کم تر سمجھا جاتا ہے ۔اس اندھی قوم سے اور توقع بھی کیا کی جاسکتی ہے۔ لیکن اس اشاراتی زبان کی خوبصورتی تو دیکھیے۔ خاموشی اور سکوت میں سب کچھ ہی کہہ جاتی ہے۔

    کہاں سے سیکھا ہے تو نے ہنر محبت کا
    کلام کرتی ہے دنیا سے تیری خاموشی

    اشاروں کی زبان سمجھنے والوں کے اشاروں سے یاد آیا کہ فطرت بھی تو انسان سے اشاروں میں گفت و شنید کرتی ہے۔ فطرت کے اشارے چاروں جانب پھیلے ہوئے ہیں ۔ اشاراتی زبان فطرت کے بہت قریب تر ہے ۔ جب اس ننھے سیارے پر زندگی کا آغاز ہوا ہوگا تو زبان نام کی تو کوئی شے نہیں ہو گی۔ تب بھی تو حضرت انسان نے اپنے خیالات دوسروں تک منتقل کرنے کےلیے اشاروں کا ہی سہارا لیا ہو گا۔

    ہمیں سماعت سے محروم لوگوں کو معاشرے میں عزت وتکریم کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔ اشاروں کی زبان سمجھنے والے لوگ آنکھوں پر پٹی بندھی اس قوم سے بہت سے امیدیں وابستہ کیے بیٹھے ہیں ۔

    پاکستان کو قوت سماعت اور گویائی سے محروم افراد کےلیے ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

  • تلہ گنگ: تمباکو کی نئی مصنوعات پر مکمل پابندی, تحصیل سطح پر ٹوبیکو کنٹرول سیل قائم کیاجائے

    تلہ گنگ: تمباکو کی نئی مصنوعات پر مکمل پابندی, تحصیل سطح پر ٹوبیکو کنٹرول سیل قائم کیاجائے

    باغی ٹی وی : تلہ گنگ (نامہ نگار) ہر چار منٹ کے بعد ایک فرد تمباکو کے باعث موت کے منہ میں چلا جاتا ہے، ہر روز 1200 سے 1500 نئے بچے تمباکو کا استعمال شروع کرتے ہیں، جبکہ تمباکو کے استعمال کے باعث 610 ارب روپے سالانہ صحت کے بجٹ پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور تمباکو کے باعث سالانہ 160000 افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں تمباکو سے بچنے اور اپنی آئندہ نسلوں کو اس سے بچانے کےلئے انسداد تمباکو قوانین کا اطلاق بہت ضروری ہے اور تمباکو کے مضر اثرات سے آگاہ کرنے کےلئے اس کو نصاب کا حصہ ہونا چاہیئے، ان خیالات کا اظہار تلہ گنگ میں منعقدہ ایک روزہ آگاہی ورکشاپ بعنوان "ٹوبیکو انڈسٹری مانیٹرنگ اور انسداد تمباکو قوانین” سے کولیشن فار ٹوبیکو کنٹرول پاکستان (سی ٹی سی پاک) کے نیشنل کوآرڈینیٹر ذیشان دانش نے کیا، ورکشاپ کا اہتمام سوشل ویلفیئر سوسائٹی (تلہ گنگ) نے کیا۔ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر طاہر زمان نیازی، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ملک محمد صفدر، تحصیل ڈرگ انسپکٹر صبیح الرحمان، سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ سے سلیم اقبال، ڈسٹرکٹ زکوٰۃ کمیٹی سے فاروقی ملک، اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی، سوشل ویلفیئر سوسائٹی کے صدر فیاض احمد گھاڑا نے ورکشاپ کے شرکاء کا خیر مقدم کیا اور تلہ گنگ گرد و نواح کے علاقوں میں انسداد تمباکو قوانین کے اطلاق کے بارے میں بریفنگ دی۔ فیاض احمد نے کہا کہ انسداد تمباکو قوانین کی صحیح معنوں میں اطلاق کی ضرورت ہے۔ انسداد تمباکو قوانین پر عملدرامد نہیں ہو رہا۔ کھلے سگریٹ سر عام فروخت ہو رہے ہیں، پبلک مقامات پر سائن بورڈ آویزاں نہیں ہیں۔ دوکاندار حضرات بچوں کو بھی تمباکو سے بنی اشیاء فروخت کرتے ہیں، جبکہ تعلیمی اداروں کے پچاس میٹر کے دائرے میں کسی بھی قسم کی تمباکو مصنوعات کا بیچنا، ذخیرہ کرنا، اس کی تشہیر کرنا قانون کے خلاف ہے لیکن ان قوانین کا خیال نہیں کیا جاتا، فیاض احمد کا کہنا تھا کہ انسداد تمباکو قوانین پر عملدرامد کروانے کے لئے پولیس اور سول سوسائٹی کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہو گی اس سلسلے میں آگہی کو پھیلانا ہو گا تاکہ قوانین سے واقفیت کی بناء پر عوام اپنا فرض ادا کریں اور انسداد تمباکو قوانین کی خلاف ورزی نہ کریں۔ سی ٹی سی پاک کے کمیونیکیشن آفیسر اشفاق احمد نے تمباکو کی نئی مصنوعات جیسے ای سگریٹ، ویپ اور ویلو وغیرہ کے بارے میں شرکاء ورکشاپ کو آگاہ کیا کہ کیسے تمباکو انڈسٹری نئے ہتھکنڈوں سے نوجوان نسل کو اپنی طرف راغب کر رہی ہے۔ ورکشاپ کے اختتام پر مطالبہ کیا کہ تمباکو کی نئی مصنوعات پر مکمل پابندی لگنی چاہیئے اور چکوال کو تمباکو سے پاک کرنے کے لئے ضلع اور تحصیل سطح پر ٹوبیکو کنٹرول سیل کا قیام عمل میں لانا چاہیے۔

  • پنڈی  بھٹیاں : محمود پور کے مقام پر 120ملین کی لاگت سے حفاظتی بند بنایا جائے گا

    پنڈی بھٹیاں : محمود پور کے مقام پر 120ملین کی لاگت سے حفاظتی بند بنایا جائے گا

    بپنڈی ھٹیاں محمود پور کے مقام پر 120ملین کی لاگت سے حفاظتی بند بنایا جائے گا،ہماری ذمہ داری ہے کہ اس نقصان کو روکا جائے جس کیلئے حفاظتی بند بنا یا جارہے ہے چیئرپرسن ٹیوٹا میاں مامون جعفر تارڑ
    باغی ٹی وی : بپنڈی بھٹیاں(شاھدکھرل) جلالپور بھٹیاں کے گاؤں محمود پور سمیت دیگر دیہات کو دریائے چناب کے کٹاؤ سے بچانے کیلئے 120ملین کی لاگت سے حفاظتی بند تعمیر کیا جائیگا۔ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹرمینجمنٹ کمیٹی نے حفاظتی بند کی تعمیر کیلئے سمری کمشنرکو ارسال کردی۔ڈپٹی کمشنر حافظ آباد توقیر الیاس چیمہ اور چیئرپرسن ٹیوٹا و ایم پی اے مامون جعفر تارڑ نے محمود پور کا دورہ کیا، اوروہاں دریاکے کٹاؤ اور حفاظتی بند کی تعمیر کا جائزہ لیا۔اسسٹنٹ کمشنر پنڈی بھٹیاں بلاول علی، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ حافظ مبشر الحسن محکمہ انہار کے افسران اور مقامی معززین بھی اس موقع پر موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ محمود پور اور قریبی بستیوں کے رہائشی دیہاتوں کے جان و مال اور قیمتی زرعی اراضی و فصلوں کو دریائے چناب کے کٹاؤ سے بچانے کیلئے ایک میگا پراجیکٹ تیار کیا گیا ہے،اور محمود پور کے مقام پر 120ملین کی لاگت سے حفاظتی بند بنایا جا ئیگا،اور اس سلسلہ میں ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹرمینجمنٹ کمیٹی نے سمری کمشنر کو ارسال کر دی ہے۔ جس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کی سربراہی میں صوبائی کابینہ اس منصوبے کے لیے فنڈ ز کے اجراء اور تعمیراتی کام کی منظوری دے گی۔انکا کہنا تھا کہ حفاظتی بند کی تعمیر سے لوگوں کا قیمتی جان و مال، زرعی اراضی اور فصلیں محفوظ ہو سکیں گی۔اس موقع پر چیئرپرسن ٹیوٹا و مقامی ایم پی اے مامون جعفر تارڑنے کہا ہے کہ محمود پور کے مقام پر حفاظتی بند کی تعمیر انکی اولین ترجیح ہے، اور انشاء اللہ وہ جلد وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی سے اس منصوبے کیلئے باقاعدہ فنڈز منظور کر وا کر تعمیراتی کام شروع کروائینگے۔انہو ں نے کہا ہے کہ دریاکے کٹاؤ سے عوام کے قیمتی جان و مال کا جو نقصان ہور ہا ہے ہماری ذمہ داری ہے کہ اس نقصان کو روکا جائے جس کیلئے حفاظتی بند بنا یا جارہے ہے اور انشاء اللہ اس حفاظتی بند کی تعمیر سے محمود پور سمیت دیگر دیہات بھی دریا کے کٹاؤ اور سیلابی صورتحا ل سے محفوظ رہ سکیں گے۔

  • محمد پور دیوان اور گردونواح کے سیلاب سے متاثرہ 200 خاندانوں میں راشن ،بستر،کپڑےاور پانی تقسیم

    محمد پور دیوان اور گردونواح کے سیلاب سے متاثرہ 200 خاندانوں میں راشن ،بستر،کپڑےاور پانی تقسیم

    باغی ٹی وی : محمدپوردیوان( جنید احمدانی)منہاج ویلفئیر فاونڈیشن راجن پور کے زیرانتظام محمد پور دیوان اور گردونواح کے سیلاب سے متاثرہ 200 خاندانوں میں راشن ،بستر،کپڑےاور پانی تقسیم کیا گیا۔جس میں مہمان خصوصی مرکزی نائب ناظم اعلی سردار شاکر خان مزاری،ڈاکٹراختر عباس کوارڈینیٹر منہاج ویلفئیر فاونڈیشن یو ۔کے ،ملک عبدالروف مصطفوی کوارڈینیٹر ایم ڈبلیو ایف راجن پور اور ڈائریکٹر جامعہ منہاج القرآن راجن پور ،خالد بلال اعوان ،محمد اشرف ملک،غلام مصطفیٰ مغل نے خصوصی شرکت کی۔۔۔اس موقع پر منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ذمہ داران کا کہنا تھا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے فلسفے اور ان کے منشور کے مطابق ہر مشکل گھڑی میں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن بلا رنگ و نسل دکھی انسانیت کی خدمت میں ہمیشہ پیش پیش نظر آتی ہے راجن پور ،ڈی جی خان سمیت پورے پاکستان کے سیلابی علاقوں کے لوگ خود کو تنہا نا سمجھیں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن اس مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے متاثرین کی ہر ممکن مدد کی بھی جا رہی ہے اور آئندہ بھی ہر ممکن مدد کی جائے گی اس کے علاؤہ فاضل پور میں سیلاب متاثرین کیلئے تقریباً 50 خیموں پر مشتمل خیمہ بستی بھی لگائی گئی ہے جس میں لوگوں کو کھانے پینے کے ساتھ ساتھ میڈیکل کی سہولیات اور بچوں کو تعلیم بھی دی جا رہی ہے جو کہ ایک احسن اقدام ہے

  • تلہ گنگ- الخدمت فاؤنڈیشن  نے ستر لاکھ روپے کا امدادی چیک صوبائی قیادت کے حوالے کر دیا

    تلہ گنگ- الخدمت فاؤنڈیشن نے ستر لاکھ روپے کا امدادی چیک صوبائی قیادت کے حوالے کر دیا

    باغی ٹی وی :تلہ گنگ (شوکت ملک سے) اہلیانِ تلہ گنگ کا الخدمت فاؤنڈیشن پر بھرپور اعتماد، الخدمت فاؤنڈیشن تحصیل تلہ گنگ نے ستر لاکھ روپے کا امدادی چیک صوبائی قیادت کے حوالے کر دیا، تفصیلات کے مطابق اہلیانِ تلہ گنگ نے الخدمت فاؤنڈیشن پر بھرپور اعتماد کرتے ہوئے الخدمت فاؤنڈیشن تحصیل تلہ گنگ کو سیلاب متاثرین کی بھاری امداد فراہم کرکے ریکارڈ قائم کر دیا، صدر الخدمت فاؤنڈیشن تحصیل تلہ گنگ افتخار افتی نے دیگر ضلعی عہدیداران کے ہمراہ ستر لاکھ روپے کا امدادی چیک صدر الخدمت فاؤنڈیشن پنجاب شمالی رضوان احمد کے حوالے کر دیا۔

  • کندھ کوٹ : برساتی سیلاب زدہ علاقوں میں  تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے متاثرین میں راشن اور ادویات تقسیم

    کندھ کوٹ : برساتی سیلاب زدہ علاقوں میں تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے متاثرین میں راشن اور ادویات تقسیم

    باغی ٹی وی .کندھ کوٹ (نامہ نگار)کندھ کوٹ میں سیلاب اور برساتی سیلاب زدہ علاقوں میں تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے متاثرین میں راشن اور ادویات تقسیم کئے گئے کندھ کوٹ کشمور اور تنگوانی میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا
    تفصیلات کے مطابق کیمپ میں ماہر ڈاکٹر، چائلڈ اسپیشلسٹ اور تمام امراض کو ڈاکٹروں نے چیکپ کیا کیمپ میں 500 سے زائد مریضوں کا معائنہ کیا اور انہیں ادویات فراہم کیں مختلف علاقوں اور دیہاتوں میں کندھ کوٹ تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے متاثرین کی بحالی کے لیے تمام مثبت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تحریک لبیک پاکستان کندھ کوٹ کی جانب سے راشن اور ادویات سمیت دیگر امدادی سامان متاثریں تقسیم کرنے کا عمل جاری تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے بستروں کمبل پانی اودیات اور دیگر ضروریات کے سامان غریب مستحق برسات متاثرین میں تقسیم تحریک لبیک پاکستان کندہ کوٹ بارشوں سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لئے دن رات کوشاں میں مصروف عمل اس موقع پر تحریک لبیک ضلع کشمور کے امیر مفتی محمد قاسم سکندری اور ناظم اعلیٰ مقصود احمد اعوان نے کہا کہ ہم اعلیٰ قیادت کے حکم پر سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے کندھ کوٹ کشمور کے مختلف علاقوں میں فری میڈیکل کیمپ لگائی ہیں تحریک لبیک کے ناظم اعلیٰ مقصود احمد اعوان نے مزید کہا کہ فری میڈیکل کیمپ کا مقصد یہ ہے کہ ضلع کے بارانی علاقوں میں عوام کو ڈیلی ویجز پر صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی وبائی امراض کو روکا جا سکے۔

  • سمندر سے  1300 سال قبل ڈوبنے والے جہاز کی باقیات اور اس میں موجود نوادرات دریافت

    سمندر سے 1300 سال قبل ڈوبنے والے جہاز کی باقیات اور اس میں موجود نوادرات دریافت

    تل ابیب: اسرائیل کے ایک ساحل سے سمندر کے اندر سے 1300 سال قبل ڈوبنے والے جہاز کی باقیات دریافت کی ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق جہاز سے کئی قیمتی سامان بھی ملا ہے یہ جہاز ساتویں صدی کے لگ بھگ سمندر میں ڈوب گیا تھا اور اس وقت اسے کوئی نہیں بچا سکا تھا دو شوقیہ غوطہ خوروں نے نیچے سے لکڑی کا ایک ٹکڑا چپکا ہوا دیکھا اور حکام کو اس کی اطلاع دی۔

    پرتگال: یورپ کے سب سے بڑے ڈائنوسار کی ہڈیاں برآمد

    ماہرین کیلئے حیران کن بات یہ ہے کہ اب تقریباً 1300 سال بعد یہ پرانا جہاز مل گیا ہے اور اس وقت جہاز میں جو بھی چیزیں رکھی گئی تھیں وہ اب بھی محفوظ پائی گئی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اس جہاز میں تقریباً 200 دیگیں قیمتی چیزوں سے بھری ہوئی تھیں۔ جہاز بحیرہ روم کے زمانے کے سامان سے لدا ہوا تھا تاہم جہاز کن وجوہات کی بنا پر غرق ہوا، یہ سبب سامنے نہیں آیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ساتویں صدی میں اسلامی سلطنت کے قیام کے بعد بھی مغربی ممالک سے لوگ تجارت کے لیے یہاں آتے رہے ہوں گے یہی نہیں بلکہ جہاز کے اردگرد ملنے والے نوادرات سے لگتا ہے کہ یہ جہاز مصر یا ترکی سے یہاں آیا تھا۔

    یہ وہ وقت تھا جب بڑی تعداد میں عیسائی بازنطینی سلطنت مشرقی بحیرہ روم کے اس علاقے پر اپنی گرفت کھو رہی تھی اور اسلامی حکومت اپنی رسائی کو بڑھا رہی تھی۔

    حیفا یونیورسٹی کی ایک سمندری آثار قدیمہ کے ماہر اور کھودنے کی ڈائریکٹر ڈیبورا سیویکل نے کہا کہ بحری جہاز کی تباہی، جس کی تاریخ 7ویں یا 8ویں صدی عیسوی ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ بحیرہ روم کے باقی حصوں کے ساتھ مذہبی تقسیم کے باوجود تجارت برقرار رہی-

    مراکش:9 میٹر لمبی سمندری چھپکلی کی باقیات دریافت

    انہوں نے کہا کہ ہاں ہمارے پاس ایک بڑا جہاز کا ملبہ ہے، جس کے بارے میں ہمارے خیال میں اصل جہاز تقریباً 25 میٹر (82 فٹ) لمبا تھا، اور. بحیرہ روم کے تمام سامان سے لدا ہوا تھا ڈیک پر موجود نوادرات سے پتہ چلتا ہے کہ جہاز قبرص، مصر، شاید ترکی اور شاید شمالی افریقہ کے ساحل تک بہت دور تھا۔

    کھدائی اسرائیل سائنس فاؤنڈیشن، آنر فراسٹ فاؤنڈیشن اور ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف ناٹیکل آرکیالوجی کی مدد سے کی گئی اسرائیل کا ساحل ہزاروں سالوں میں ڈوبنے والے بحری جہازوں سے بھرا ہوا ہے۔

    ملبے بحیرہ روم میں کسی اور جگہ کے مقابلے میں مطالعہ کے لیے زیادہ قابل رسائی ہیں کیونکہ یہاں کا سمندر اتھلا ہے اور ریتلی تہہ میں نوادرات محفوظ ہیں۔

    اس تلاش میں تقریباً 200 ایسے برتن ملے ہیں جن میں کھانے پینے کی اشیا ہیں جو بحیرہ روم کے علاقوں سے وابستہ ہیں۔ فی الحال اسے متعلقہ محکمے کے حوالے کر دیا گیا ہے اور بڑے پیمانے پر اس کی چھان بین اور تفتیش کی جا رہی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی محققین نے یروشلم میں ایک پتھر دریافت کیا تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ 2700 سال پرانا ہے اس پتھر کو لوگ بیت الخلا کے طور پر استعمال کرتے تھے، بتایا جاتا ہے کہ یہ پرتعیش بیت الخلاء تھا علاوہ ازیں ماہرین آثار قدیمہ نے 1500 سال پہلے کی شراب کی فیکٹری دریافت کی تھی۔

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

  • پانچ ماہ سے محکمہ بلڈنگز کے ورک چارج ملازمین تنخواہوں سے محروم

    پانچ ماہ سے محکمہ بلڈنگز کے ورک چارج ملازمین تنخواہوں سے محروم

    ڈیرہ ڈویژن محکمہ بلڈنگز کے ورک چارج ملازمین تنخواہوں سے محروم ،گھروں میں فاقے
    باضی ٹی وی : ڈیرہ غازیخان(نامہ نگار) آل پاکستان پی ڈبلیو ڈی ورکر یونین سی بی اے محکمہ بلڈنگز ڈیپارٹمنٹ ڈویژن ڈیرہ غازی خان کے عہدیداروں نے کہاہے کہ پانچ ماہ سے محکمہ بلڈنگز ڈویژن ڈیرہ غازی خان کے ورک چارج ملازمین کو تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے ملازمین خودکشی کرنے پر مجبور اور گورنمنٹ کے ریگولر آرڈر دینے کے باوجود ٹائم پرٹائم دے رہے ہیں حکومت پنجاب نے ورک چارج ملازمین کو ریگولر ورک مین کر دیا پچھلے پانچ ماہ سے نہ ہی تنخواہ دی، نہ ہی آرڈر دیے ،ورک چارج ملازمین کا اعلی حکام و کمشنر ڈیرہ غازی خان سے نوٹس لیکر ملازمین کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیاہے.

  • اغوا کاروں کی انوکھی واردات: بھاری تاوان کیلئے بن مانس کے بچے اغوا کر لئے

    اغوا کاروں کی انوکھی واردات: بھاری تاوان کیلئے بن مانس کے بچے اغوا کر لئے

    کانگو: ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں اغوا کاروں نے بن مانس کے 3 بچوں کو اغوا کرکے بھاری تاوان مانگ لیا اور ان چمپینزیز کی ہاتھ پاؤں بندھی ویڈیو بھی بھیجی۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کےمطابق افریقی ملک جمہوریہ کانگو میں ایک بحالی سینٹر سے 3 بن مانس غائب ہوگئے عملے نے پہلے تو سمجھا کہ شرارتی بن مانس پنجرے سے نکل کر بھاگنے میں کامیاب ہوگئے تاہم حیران کن طور انھیں اغوا کاروں کی کال آئی۔

    ہماری زمین پر چیونٹیوں کی تعداد کتنی ہے؟ محققین نے رپورٹ جاری کر دی

    سی این این کےمطابق پناہ گاہ کے بانی فرینک چینٹیرونے کہا کہ دنیا میں یہ پہلا موقع ہے کہ بچے بندروں کو تاوان کے لیے اغوا کیا گیا تھا-

    چنٹیریو نے بتایا کہ اغوا کار 9 ستمبر کی صبح 3 بجے کے قریب پناہ گاہ میں داخل ہوئے، اور پانچ بچوں میں سے تین بن مانسوں کو لے گئے چنٹیرو کی بیوی کو اغوا کاروں کی طرف سے تین پیغامات اور اغوا شدہ چمپس کی ایک ویڈیو موصول ہوئی۔

    اغوا کاروں نے بتایا کہ تینوں بن مانس ان کی قید میں ہیں اور بحالی مرکز ان کی رہائی کے لیے بھاری تاوان ادا کرے۔ عملے نے اسے مذاق سمجھتے ہوئے بن مانسوں کے ان کی قید میں ہونے کا ثبوت مانگا۔

    عودی شہری کا 53 شادیاں کرنے کا دعوی

    جس پر اغوا کاروں نے بحالی مرکز کے عملے کو ایک ویڈیو بھیجی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بن مانسوں کے ہاتھ پاؤں باندھے ہوئے ہیں۔ تاوان کے لیے بن مانسوں کے اغوا کی یہ اپنی نوعیت کی پہلی واردات ہے۔

    جس بحالی سینٹر سے یہ بن مانس اغوا ہوئے وہاں اس نسل کے 40 جانور ہیں جب کہ معدومی کے شکار بندر بھی ہیں۔ اغوا ہونے والے بن مانسوں کی عمریں 2 سے 5 سال کے درمیان ہے۔

    چینٹیرو نے کہا کہ ظاہر ہے، ہمارے لیے تاوان ادا کرنا ناممکن ہے،نہ صرف ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں، بلکہ آپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم ان کے راستے پر چلتے ہیں، تو وہ دو ماہ میں یہ کام بہت اچھی طرح سے کر سکتے ہیں، اور ہمارے پاس اس بات کی بھی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ وہ بچے ہمیں واپس کر دیں گے۔

    چینٹیرو کو یہ بھی خدشہ تھا کہ اس سے مزید اغوا کا دروازہ کھل جائے گا پورے براعظم میں 23 پناہ گاہیں یہ کام کر رہی ہیں۔ اگر ہم تاوان ادا کرتے ہیں، تو یہ ایک مثال قائم کر سکتا ہے اورکئی دوسرے لوگوں کو متوجہ کر سکتا ہے، اس لیے ہمیں انتہائی چوکس رہنا چاہیے-

    درخت جس کے پاس جانے سے 5 ہزار ڈالر جرمانہ اور 6 ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے