سوشل میڈیا محض دھوکہ۔۔۔!
تحریر : شوکت ملک
سوشل میڈیا نے گزشتہ ایک عرصے سے جہاں مختلف امور میں اپنا لوہا منوایا ہے، نوجوان نسل کو ایک دوسرے کے قریب لاکھڑا کیا، علاقائی و ملکی مسائل پر سوشل میڈیا کی آواز نے اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اس کے علاوہ دیگر مثبت پہلوؤں کیساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے کئی ایک ایک منفی پہلو بھی سامنے آئے ہیں، جن میں سے ایک سوشل میڈیا فرینڈز، فالورز اور فینز کا سراب ہے، ہم اپنے ہزاروں لاکھوں میں سوشل میڈیا فرینڈز، فالورز، فینز کو گویا اپنی فیملی سمجھ کر ان سے ڈھیر ساری امیدیں وابستہ کرلیتے ہیں، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، یہ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں فالورز اور فینر ایک دھوکے کے سوا کچھ بھی نہیں، جب کبھی آپ پہ مشکل وقت آیا آپ کی فیملی اور چند قریبی مخلص ساتھیوں اور دوستوں کے علاوہ یہ فرینڈز، فالورز اور فینز دور دور تک نظر نہیں آتے، بلکہ آپ کا حال احوال تک پوچھنا بھی گوارہ نہیں کرتے، گزشتہ دونوں ڈینگی فیور کے دوران اس تجربے سے گزرنے کے بعد اس بات کا قوی یقین ہوگیا ہے کہ یہ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں فالورز فینز ایک سراب اور دھوکے کے علاوہ کچھ بھی نہیں، آپ سوشل میڈیا پر ایکٹو رہیں تو آپ کی بلے بلے واہ واہ اور چند دن غائب ہو جائیں تو کوئی حال احوال پوچھنا بھی گوارہ نہیں کرتا، لہٰذا ان فرینڈز، فالورز اور فینز کو عارضی اور ٹائم پاس ہی کنسڈر کریں اور ان کو اہمیت دینے اور بلاوجہ اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے کی بجائے اپنے حقیقی رشتوں، مخلص دوستوں اور اپنی فیملی کو ٹائم دیں ان کی قدر کریں تاکہ مشکل وقت میں آپ کے کام آ سکیں۔ اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں اپنے حقیقی رشتوں کی قدر کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین
Category: متفرق
-

سوشل میڈیا محض دھوکہ۔۔۔!
-

ڈی جی خان میں پہلا ٹی ہاؤس بنانے کا فیصلہ ،کمشنر کا آرٹس کونسل میں مجوزہ جگہ کا معائنہ
باغی ٹی وی : ڈیرہ غازیخان (نامہ نگار)کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن لیاقت علی چٹھہ نے کہا کہ پڑھے لکھے شہریوں،ادیب اور شعراء کرام کےلئے ڈویژن کا پہلا ٹی ہاؤس ڈی جی خان میں قائم کرنے جارہے ہیں جس کےلئے ڈی جی خان آرٹس کونسل میں جگہ مختص کردی گئی ہے۔ایک ماہ کے اندر ڈی جی خان ٹی ہاؤس کا تعمیراتی کام شروع کردیا جائیگا۔آج ڈی جی خان ٹی ہاؤس کی مجوزہ جگہ کا معائنہ کیا ہےڈی جی خان ٹی ہاؤس کے 15 روز کے اندر ٹینڈر جاری کردئیے جائیں گے منصوبہ پر پانچ کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ابتدائی فنڈز جاری کردئیے گئے ہیں۔کمشنر لیاقت علی چٹھہ نے کہا کہ ڈی جی خان ٹی ہاؤس کی جاذب نظر عمارت بنائی جائے گی۔ادیب،شعراء اور پڑھے لکھے افراد کو ڈی جی خان ٹی ہاؤس کی ممبرشپ دی جائے گی۔اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما محمد لطیف پتافی ،ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ عبید الرشید اور ڈائریکٹر آرٹس کونسل نعیم اللہ طفیل اور دیگر موجود تھے۔ ایکسئین بلڈنگز اصغر علی نے بریفنگ دی
-

ڈیرہ اسماعیل خان – حاجی کفیل احمد نظامی کی کوشش سے یو سی ڈیوالہ سلطانی مسجد کا ٹرانسفارمر مرمت کرا دیاگیا
باغی ٹی وی :ڈیرہ اسماعیل خان( نامہ نگار)ترقی کے رنگ مولانا برادران کے سنگ،مولانا برادران کے خصوصی تعاون سے سابق امیدوارتحصیل میئر حاجی کفیل احمد نظامی کے بروقت رسپانس سے یو سی ڈیوالہ سلطانی مسجد کا ٹرانس فارمر مرمت کروا کر اہلیان علاقہ کے دل جیت لیے، اہلیان علاقہ یوسی ڈیوالہ نے مولانا برادران اورحاجی کفیل احمد نظامی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آئندہ جنرل الیکشن میں اپنی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرادی۔تفصیلات کے مطابق یوسی ڈیوالہ سلطانی مسجد کا ٹرانس فارمر گزشتہ کئی دنوں سے خراب تھا جس کی وجہ سے نمازیوں کو مشکلات پیش آتی تھیں۔ ٹرانس فارمر خراب کے متعلق سابق امیدوارتحصیل میئر حاجی کفیل احمد نظامی سے رابطہ کیاگیا جنہوں نے اپنی جیب سے یوسی ڈیوالہ سلطانی مسجد کاٹرانس فارمر مرمت کراکر نصب کرادیا۔ٹرانس فارمر نصب ہونے پر اہلیان علاقہ یوسی ڈیوالہ نے ٹرانس فارمر مرمتی پرسابق امیدوارتحصیل میئر حاجی کفیل احمد نظامی کابے حدشکریہ اداکیا ہے۔انہوں نے کہاکہ سابق امیدوارتحصیل میئر حاجی کفیل احمد نظامی نے ہماری مشکلات کا مداواکیا ہے جس پر انہیں زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے آئندہ جنرل الیکشن میں مولانابرادران اورسابق امیدوارتحصیل میئر حاجی کفیل احمد نظامی کواپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نے مولانابرادران اورسابق امیدوارتحصیل میئر حاجی کفیل احمد نظامی کوبھاری اکثریت سے کامیاب کرانے کا اعلان کیاہے۔
-

ڈیرہ اسماعیل خان – ضلعی جنرل سیکرٹری جے یو آئی اشفاق ایڈووکیٹ کے کزن محمد خلیل کی وفات پر ان کے لواحقین سے فاتحہ خوانی اور مغفرت کی دعا
باغی ٹی وی : ڈیرہ اسماعیل خان( نامہ نگار)سابق امیدوارتحصیل میئر وجمعیت علماء اسلام کے رہنماء حاجی کفیل احمد نظامی کی ضلعی جنرل سیکرٹری جے یو آئی اشفاق ایڈووکیٹ کے کزن محمد خلیل کی وفات پر ان کے لواحقین سے فاتحہ خوانی اورمغفرت کااظہار،اس موقع پران کے ہمراہ شریف چوہان اورراشدببلوبھی موجودتھے۔اللہ پاک سے مرحوم حاجی محمد خلیل کے درجات بلندی اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاکرنے کی دعاکی گئی۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں جمعیت علماء اسلام کے ضلعی جنرل سیکرٹری اشفاق ایڈووکیٹ کے کزن محمدخلیل وفات پاگئے تھے۔ ان کی وفات کے سلسلے میں سابق امیدوارتحصیل میئر وجمعیت علماء اسلام کے رہنما حاجی کفیل احمد نظامی نے ضلعی جنرل سیکرٹری جے یو آئی اشفاق ایڈووکیٹ کے کزن محمد خلیل کی وفات پر ان کے لواحقین سے فاتحہ خوانی اوردعائے مغفرت مانگی۔انہوں نے ضلعی جنرل سیکرٹری جے یو آئی اشفاق ایڈووکیٹ کے کزن محمدخلیل کی وفات پران کے لواحقین سے تعزیت کااظہارکیااوراللہ پاک سے مرحوم کے درجات بلندی کیلئے دعامانگی۔اس موقع پرشریف چوہان اورراشدببلوبھی سابق امیدوارتحصیل میئر وجمعیت علماء اسلام کے رہنماء حاجی کفیل احمد نظامی کے ہمراہ تھے۔ضلعی جنرل سیکرٹری جے یو آئی اشفاق ایڈووکیٹ کے لواحقین نے سابق امیدوارتحصیل میئر وجمعیت علماء اسلام کے رہنماء حاجی کفیل احمد نظامی کی آمداورفاتحہ خوانی پران کاشکریہ اداکیا۔
-

روجھان – بجلی سمیت تمام ترقیاتی منصوبوں کو فوری طور پر مکمل کیاجائے.سردار ریاض محمود مزاری
باغی ٹی وی : روجھان( ضامن حسین بکھر کی رپورٹ) چیئرمین برائے اسٹینڈنگ کمیٹی پاور ڈویژن رکن قومی اسمبلی سردار ریاض محمود مزاری کی صدارت میں میٹنگ بجلی سمیت تمام تر ترقیاتی منصوبوں کو فوری طور پر مکمل کرنے کی ہدایت ۔
چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی پاور ڈویژن سردار ریاض محمود مزاری بجلی کے جاری ترقیاتی منصوبوں کو فوری طور پر جلد سے جلد مکمل کرنے کے احکامات صادر کیئے ، پریس ریلیز کے مطابق حالیہ فلڈ کے نقصانات اور ان کے تخمینہ کے لئیے کیبنیٹ نے بریفننگ لیا جائے گا جس کے لئیے خصوصی طور پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال صاحب کو اگلے میٹنگ میں مدعو کیا جائگا نے، اور کسانوں کے بجلی کے مسائل کے حل کے لئیے کیبنٹ ڈویژن کو ان کے مسائل کے حل کے لئیے کمیٹی بنانے کی تجویز دی اور مسائل حل کرنے کی سفارش کی جس پر کمیٹی قائم کی جائے گی اور تب تک کسانوں کے کنکشن منقطع نہیں کئیے جائیں اور نہ ہی ان کے بجلی کے بلز پر لیٹ فیس جرمانہ لگے لگا ، اس معاملے کے حل کے لئیے وزارت نے تمام تقسیم کار کمپنیوں کو مراسلہ جاری کر دیا۔ -

ضلع تلہ گنگ کے قیام کے حوالے سے دی گئی ڈیڈ لائن کا کل آخری روز،
باغی ٹی وی : تلہ گنگ (شوکت علی ملک سے) ضلع تلہ گنگ کے قیام کے حوالے سے دی گئی ڈیڈ لائن کا کل آخری روز، اہلیانِ تلہ گنگ نوٹیفکیشن کے اجراء کےلیے پُرامید، نوٹیفیکیشن کے اجراء پر ق لیگی قیادت کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کرنے کا فیصلہ، نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے پر الٹی گنتی شروع کرنے پر غور، گزشتہ ایک ڈیڑھ ماہ سے تلہ گنگ ضلع کے قیام کے حوالے سے مختلف پیشن گوئیاں اور قیاس آرائیاں جاری ہیں، مختلف ذمہ دار ذرائع نے ماہِ ستمبر کے آخر میں تلہ گنگ ضلع کے نوٹیفیکیشن کے بلند و بانگ دعوے کر رکھے تھے، جس کا کل آخری روز ہے، عوامی حلقوں نے اگلے چند گھنٹوں میں تلہ گنگ ضلع کا نوٹیفکیشن جاری ہونے پر ایم پی اے حافظ عمار یاسر سمیت تمام ق لیگی مقامی قیادت کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم اگر دی گئی ڈیڈ لائن تک نوٹیفکیشن جاری نہ کیا گیا اور مسلسل تاخیری حربے استعمال کیے گئے اور کسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی کوشش کی گئی تو الٹی گنتی شروع کرنے کا بھی اصولی فیصلہ کر رکھا ہے، عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ متعدد بار تلہ گنگ ضلع کے نام پر اپنی سیاسی ہٹیاں چمکانے کی کوشش کی گئی اور ہمارے جذبات کیساتھ کھیلا گیا مگر اب کی بار کوئی گنجائش باقی نہیں، لہذٰا ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلا حیل و حجت اور بغیر کسی تاخیری حربے کے تلہ گنگ ضلع کا نوٹیفکیشن جاری کرکے ہمارا دیرینہ اور دِلی مطالبہ پورا کرکے شکریہ کا موقع فراہم کیا جائے۔
-

ڈیرہ غازیخان- پروفیسرشعیب رضا کا اعزاز، پنجاب ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے فوٹوگرافی کے مقابلہ میں جنوبی پنجاب کی نمائندگی کی
باغی ٹی وی : ڈیرہ غازیخان (شہزاد خان ) پروفیسر شعیب رضا کا اعزاز، پنجاب ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے فوٹوگرافی کے مقابلہ میں جنوبی پنجاب کی نمائندگی کی۔
الحمرا آرٹ گیلری لاہور میں پنجاب ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کی طرف سےعالمی یوم سیاحت کی مناسبت سے تاریخی ورثہ کے موضوع پر دو روزہ تصویری نمائش کا انعقاد کیا گیا۔پنجاب لیول کی اس نمائش میں جنوبی پنجاب سے ڈیرہ غازی خان کے پروفیسر شعیب رضا نےحصہ لیا ، پنجاب کے خوبصورت ورثہ کے حوالے سے ان کی تین تصاویر کا انتخاب کیا گیا جن میں ایک تصویر ملتان کی تاریخی انگریز دور کی عمارت گھنٹا گھر کی ہے۔ اس عمارت کا سنگ بنیاد 1884 میں رکھا گیا تھا، یہ عمارت ہر دور میں سیاحوں کے لیے پر کشش رہی ہے اور آج بھی ملتان آنے والے ملکی و غیر ملکی سیاح قلعہ ملتان کے ساتھ اس عمارت میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔علاوہ ازیں پروفیسر شعیب رضا کی اٹک خورد کے انگریز دور کے ریلوے اسٹیشن کی تصویر پوری نمائش میں خصوصی توجہ کا مرکز رہی۔ اس تصویری نمائش میں پنجاب بھر سے فوٹو گرافرز نے حصہ لیا اور عوام کی خاصی تعداد نے اس نمائش کو دیکھا، اس نمائش کے انعقاد کا سہرہ پنجاب ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے فوکل پرسن عثمان قریشی صاحب کو جاتا ہے جنہوں نے پنجاب بھر سے فوٹو گرافرز کو موقع دیا کہ وہ اپنی بہترین تصاویر نمائش میں پیش کریں ۔ ایسی تصویری نمائشوں سے پرانے فوٹو گرافرز کی پذیرائی ہوتی ہے اور نئے ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، پروفیسر شعیب رضا نے کہا کہ ایسی تصویری نمائشیں پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی منعقد ہونی چاہیئیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ایسی مثبت سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملے اور فوٹوگرافی کے آرٹ کوفروغ ملے۔ -

کبھی بڑے نہیں ہوں گے!!! — ریاض علی خٹک
میں نے بار بار ہوائی سفر کیا ہے لیکن مجھے آج بھی اس لمحے سے ڈر لگتا ہے جب جہاز ٹیک آف کے وقت زمین سے اٹھنے لگتا ہے. کچھ دیر کیلئے مجھے ایسا لگتا ہے جیسے جہاز وقت زندگی اور سانسیں سب اپنی جگہ کھڑے ہوگئے ہوں .
لیکن اسی جہاز میں وہ لمحات جب میں ایئرپورٹ کے آس پاس کی آبادی کو اوپر سے دیکھتا ہوں تو مجھے بہت اچھا بھی لگتا ہے. بڑے بڑے گھر اور بڑی بڑی آبادیاں چھوٹی چھوٹی سی لگتی ہیں. اور میں سوچتا ہوں ان چھوٹے چھوٹے گھروں میں ہم اپنے چھوٹے چھوٹے سے مسائل کو کیسے پہاڑ سمجھ لیتے ہیں. ان کے بوجھ تلے ہماری سانس گھٹ رہی ہوتی ہے.
مسائل کس کی زندگی میں نہیں ہوتے.؟ اللہ رب العزت نے اس دنیا کو بنایا ہی امتحان ہے. لیکن یہ مسائل جب ہم سر پر سوار کر لیتے ہیں تو چھوٹا سا مسئلہ بھی پہاڑ لگتا ہے لیکن جب ہم مسائل کو اپنے قدموں کے نیچے کرلیں تو بڑے بڑے مسائل بھی چھوٹے لگتے ہیں. جیسے کوئی چھوٹا بچہ اپنے جس مسئلہ پر رو رہا ہوتا ہے بڑے کو اس رونے پر ہی ہنسی آجاتی ہے.
مسائل لے کر بیٹھ نہ جائیں چلنا سیکھیں. آج کے مسئلے کیلئے کل آپ بڑے ہوں گے, آپ کو خود پر ہنسی آئے گی. لیکن اگر آپ نے چلنا نہ سیکھا تو آپ کبھی بڑے نہیں ہوں گے.
-

مہربان ہوجاؤ!!! — عارف انیس
اگر تمہارے پاس کچھ بھی ہونے کا اختیار ہو، تو بس مہربان ہو جاؤ!!!
اگر تمہارے پاس کچھ بھی کرنے کا اختیار ہو، تو بس مہربانی کر جاؤ.
دنیا میں آٹھ ارب سے زائد لوگ بستے ہیں. دیکھنے کو درجنوں رنگ، ترنگ، ادائیں، رویے، سٹائل ہیں. دیکھنے میں لگتا ہے کہ ہر ایک کے اندر ایک الگ کائنات آباد ہے. بھانت بھانت کے روپ، بہروپ ہیں. کوئی عاجز تو کوئی میر شہر، کوئی سوالی تو کوئی موالی، لیکن بہت اندر سے ہم ایک ہی ہیں. پیار کے متلاشی، یہی کہ کندھے پر کوئی تھپکی دے دے، جب گرنے لگیں تو کوئی تھام لے. اگر گر پڑیں تو کوئی ہاتھ بڑھا دے، بغیر طعنہ دیے اٹھنے دے، اٹھ کر چلنے دے.
پھر ہم میں سے ہر ایک شخص کسی نہ کسی جنگ میں ہے. جنگ نہ سہی، لڑائی سہی. کچھ لوگ اپنے اس نصیب کے ساتھ حالت جنگ میں ہوئے ہیں، جس کے ساتھ وہ پیدا ہوئے ہیں، مگر اس پر راضی نہیں ہیں. وہ سمجھتے ہیں کہ وہ شاید اس سے بہتر کے حقدار ہیں.
کچھ محبت کے حصول کے لیے کشمکش میں ہیں. شعوری، لاشعوری طور پران میں چاہے جانے کی تمنا ہے، جو کائنات کی ساری آسائشیں حاصل کرنے کے بعد بھی ماند نہیں پڑتی. محبت انہیں راتوں کو جگاتی ہے اور بدن میں لکڑیاں جلاتی ہے.
کچھ روگ پال لیتے ہیں. کسی کا دل دھڑکنا بھول جاتا ہے تو کسی کے اندر خلیے بے قابو ہوجاتے ہیں کوئی بصارت کھو دیتا ہے تو کسی کی بصیرت لاپتہ ہوجاتی ہے.
پھر ہم سب اندرونی خوف کے ساتھ دست پنجہ کرتے ہیں. پیدائش سے لے کر بڑے ہونے تک ہم بہت سےخوف دل میں پال لیتے ہیں. وہم ہیں جو ہم سےسکون چھین لیتے ہیں، انہونی کا ڈر، چھننے کا ڈر، کم ہونے کا ڈر، کیسے کیسے آسیب ہمارے اندر چھپے بیٹھے ہیں.
پھر ایک باہر کی دنیا ہے جواب ہمارے گھروں، کپڑوں، گاڑیوں اور چالیس ڈھال کو دیکھتی ہے، ہماری پہنچ اور ہماری دسترس کو ناپتی ہے. ہمیں کامیاب یا ناکام کے خانے میں ڈالتی ہے ترازو میں تولتی ہے اور ہماری قیمت لگاتی ہے. کامیابی کا سکہ جمتا ہے، اس کے دام اونچے ہیں، مگر یاد رہے کہ ہم سب اپنی اپنی جگہ پر ناکام بھی ہوتے ہیں اور ہمیں اپنی کرچیاں بعض اوقات پلکوں سے چننی پڑتی ہیں.
ہم انسان کوہکن بھی ہیں، فرہاد بھی ہیں، کہنے اور کرنے کو پتھروں کا سینہ چیر کر نہر بھی کھود لیتے ہیں. تاہم کبھی کبھی ایک چھوٹا سا وہم بھی ہمیں کھا جاتا ہے، کمر دوہری کردیتا ہے اور سانسیں صلب کرلیتا ہے.
ہمیں چاہت کی طلب ہوتی ہے، ہم دوستیاں بھی پالتے ہیں، اب تو ہمارے گرد ڈیجیٹل دوستوں کی بھرمار ہوتی ہے. کچھ دوست واقعی ہمارے ہونے پر مہر ثبت کرتے ہیں، مگر سچی بات یہی ہے کہ ہمیں زندگی کی اکثر جنگیں پرائیوٹ طور پر لڑنی پڑتی ہیں، بہت دفعہ تو ہم کسی کو آواز بھی نہیں دے پاتے. یاد رکھیں کہ جو لوگ ہمیں سب سے زیادہ محبوب ہوتے ہیں، ہم اکثر انہی کو دکھ دیتے ہیں.
اسی دنیا میں ہم لوگوں کو ملتے ہیں، انہیں نظروں ہی نظروں میں تولتے ہیں اور ان کے بارے میں رائے قائم کرلیتے ہیں. پھر ہم اس رائے کا اظہار کرتے ہیں، ہمارا لہجہ بلند اور تلخ ہوجاتا ہے. ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے پاس سارا سچ موجود ہے، پھر ہم اشارے کرتے ہیں اور نعرے لگانے لگ جاتے ہیں.
اپنی زندگی میں، ہزاروں لوگوں کے مسائل سنے. ان میں شاہی خاندان والے بھی تھے اور دریوزہ گر بھی. کارپوریٹ کنگ بھی اور ہتھ ریڑھی کھینچنے والے بھی. بہت سے ایسے زرداروں اور زورآوروں کو سنا جن کے بارے میں لوگ قسم کھا سکتے تھے کہ ان کو پوری زندگی کسی تڑخن کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہوگا. دیکھا کہ زندگی ہر ایک کو اپنی جگہ مارتی ہے، توڑتی ہے، بے بس کرتی ہے. ہم ناکام بھی ہوتے ہیں، ٹوٹتے بھی ہیں، جڑتے بھی ہیں، شاید ٹوٹنا ہمارے ہونے کا حصہ ہے کہ بعض اوقات اسی جگہ سے روشنی ہمارے اندر داخل ہوتی ہے.
بعض اوقات میں سوچتا ہوں کہ اگر ہم اپنا اپنا لگیج اٹھائے ہوئے نظر آئیں اور ہماری کمر کے پیچھے کوئی سٹکر لگایا ہو تو لوگوں کو کیسا لگے گا؟ شاید ہم زیادہ عاجزی کے ساتھ ایک دوسرے کو برداشت کر پائیں گے، یا گالی دینے سے، یا آوازہ کسنے سے گریز کرسکیں گے یا ججمنٹ عارضی طور پر ملتوی کردیں گے.
زندگی مشکل ہے. آسانی ہے، پھر مشکل ہے. راستہ ہے جو کاٹنا ہے، آہستہ آہستہ اپنے پیار کرنے والوں سے محروم ہونا ہے. ہمارے والدین، ہمارے زندگی سے رخصت ہونے والے تقریباً سب سے پہلے افراد ہوتے ہیں. کوئی بھی کتنے بڑے صدمے میں ہو، دیگیں کھڑکتی رہتی ہیں، زندگی ہمیں اپنے چرخے پر چڑھا کر چکر دے دیتی ہے. اور ہمیں "بھوں” چڑھ جاتے ہیں.
ہمارے ارد گرد خودکشیاں عام ہوتی جارہی ہیں. ہم نہیں جانتے کہ جسے ہم جج کر کے، منصف بنتے ہوئے، پھانسی کی سزا سنارہے ہوتے ہیں وہ کن کن جاں گسل مرحلوں میں زندگی کو سہار رہا ہوتا ہے. کیا ہی بہتر ہو ہم منہ بھر کر گالی دیتے وقت، اپنی ججمنٹ دیتے وقت، فیصلہ سناتے وقت، ہارن دیتے وقت، چیختے، غراتے، باؤلے ہوتے وقت یہ یاد رکھیں کہ ہر شخص عرصہ محشر میں ہے، زندگی میں اپنی جنگ کے کسی نہ کسی مرحلے میں ہے اور کیا پتہ ہمارا اس کے گلے کی طرف اٹھتا ہوا ہاتھ اگر اس کے کندھے پر رکھ دیا جائے تو شاید اس کی زندگی اور امید بچائی جاسکتی ہو.
زندگی امتحان ہے اور کڑا امتحان ہے. اکثر لوگ اس لیے بھی ناکام رہ جاتے ہیں کہ وہ دوسروں کا پرچہ نقل کرلیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ زندگی ہر ایک کو مختلف قسم کا پرچہ پکڑاتی ہے. زندگی میں ہوسکتا ہے کچھ لوگ سفر میں ساتھ چلیں، پر سفر اپنا اپنا اور الگ الگ ہے. کوئی جتنا چاہے دوسرے کا پینڈا نہیں بھگتنا سکتا.
آپ ہر چیز پر قابو نہیں ہا سکتے، مگر اپنے اوپر زین کس سکتے ہیں. اپنے لہجے کو نرم کر سکتے ہیں، تلخی کو جھٹک سکتے ہیں، چہرے پر مسکراہٹ لاسکتے ہیں، غلطیاں معاف کر سکتے ہیں تاکہ آپ کو بھی معاف کیا جاسکے.
کریم بنئے, کرم کی چادر اوڑھیے تاکہ وہ کریم آپ کے ساتھ مہربان ہو کہ کریم اپنے غلاموں کو رسوا نہیں کرتا.
(مصنف کی کتاب "صبح بخیر زندگی” سے ری براڈکاسٹ)
-

اُستاد کیا کرے؟ — اسامہ منور
اُستاد کسی بھی معاشرے کے لیے ہمہ وقت ایک مفکر، ایک مصلح، ایک دردِ دل رکھنے والا انسان، مخلص دوست، روحانی باپ اور پیشوا ہوتا ہے. اُستاد اپنا تن، من، دھن اپنے شاگردوں کی زندگیوں کو بہتر سے بہترین کرنے میں لگا دیتا ہے اور وہ یہ کام خالصتاً رضائے الٰہی کے حصول کے لیے کرتا ہے. ایک اچھا اور بہترین اُستاد ایک مکمل معاشرے کو سنوارنے میں اور اس کے مستقبل کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے. پڑھانا نوکری نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے اور اسی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے اللہ وحدہ لم یزل کی طرف سے اُستاد کو یہ ذمہ داری سونپی جاتی ہے. اُستاد چنیدہ ہوتا ہے اور چنیدہ لوگوں کی ذمہ داریاں بہت بڑی ہوتی ہیں.
نبی آخر الزماں خاتم النبیین جنابِ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بھی اس بات پر فخر کیا تھا کہ انھیں معلم بنا کر بھیجا گیا اور آپ ص نے جس طرح اصحابِ صفہ کی تربیت کی اُس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی. بات یہ ہے کہ معلم اور متعلم کا رشتہ بہت منفرد اور بے غرض ہوتا ہے. لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج کا اُستاد یہ کام کر رہا ہے؟ کیا آج کا اُستاد بچوں کی اخلاقی تربیت کر رہا ہے؟ عصرِ حاضر کا معلم بچوں کو وہ دے رہا ہے جس کی انھیں ضرورت ہے؟ کیا ہماری موجودہ نوجوان نسل مستقبل کے لئے کارآمد ثابت ہو گی؟ کیا معاشرے کے بگڑتے ہوئے حالات میں اُستاد کا ہاتھ بھی ہے؟ اور کیا بچوں کی اخلاقیات میں خامیاں اساتذہ کی وجہ سے ہیں؟
یہ اور اس جیسے سینکڑوں سوال ہمارے ذہن میں اُبھرتے ہیں اور ہم اُن کے جواب تلاش کرنے کی بجائے اُس کبوتر کی طرح لا پروا ہوئیے بیٹھے ہیں جو بلی کے آنے پر آنکھیں بند کر لیتا ہے. موجود حالات کو دیکھتے ہوئے ہر کوئی یہی بات کہہ رہا ہے کہ بچوں کی تربیت نہیں ہو رہی. گھر والے دھیان نہیں دیتے. اُستاد اب پہلے جیسے نہیں رہے. بچوں کے اخلاق بگڑ رہے ہیں اور وہ ہاتھوں سے نکل رہے ہیں. والدین کی نہیں مانتے، بڑوں کا احترام نہیں کرتے. جو بات کرے اسے آگے سے غیر مہذب انداز سے پیش آتے ہیں. بچے روحانی طور پر کمزور ہو رہے ہیں.
جس کو دیکھو وہ اُستاد سے بچوں کے متعلق شکایت کر رہا ہے. لوگوں کی باتیں اپنی جگہ درست ہیں لیکن دیکھتے ہیں کہ کیا عصرِ حاضر میں اُستاد کو وہ مقام و مرتبہ مل رہا ہے جس کا وہ حقدار ہے؟بچے کی سب سے پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہوتی ہے لیکن اب دیکھنے میں آیا ہے کہ اسے ماں سے ہی تربیت نہیں مل رہی. ماں بچوں کو دودھ پلاتے ہوئے موبائل پر لگی ہوتی ہے. بچہ تھوڑا بڑا ہوتا ہے تو اُس پر انفرادی توجہ کرنے کی بجائے اسے موبائل تھما دیا جاتا ہے یا ٹی وی پر عجیب و غریب (poems) نظمیں اور کارٹون لگا دیے جاتے ہیں. وہ توجہ چاہتا ہے اور گھر سے اسے موبائل مل جاتا ہے. باپ کام کاج سے واپس آتا ہے تو بچے کو وقت دینے کی بجائے موبائل میں مصروف ہو جاتا ہے اور یوں دھیرے دھیرے بچہ موبائل اور اس کے متعلقات کو اپنے ذہن میں بٹھا لیتا ہے اور یوں اُس کو سکول بھیج دیا جاتا ہے جہاں پر یہ کہہ کر جان چھڑا لی جاتی ہے کہ اُستاد توجہ نہیں دیتے. بچے کی عادات پہلے ہی بگڑ چکی ہوتی ہیں اور سکول میں آ کر اسے ہر رنگ کے بچے مل جاتے ہیں اور یوں اس کی اچھی بری عادات کو ہوا ملتی ہے. اُستاد کو تدریس کے علاوہ اور بہت ساری پیچیدہ ذمہ داریوں میں زبردستی دھکیل دیا گیا ہے کہ وہ بیچارہ اپنی نوکری کو بچانے کے پے در پے ہی رہتا ہے. اُستاد صرف ایک کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور وہ ہے تدریس. جب معاشرہ معلم سے وہ کام ہی نہیں لے رہا جس کے لیے وہ آیا ہے تو پھر معلم معاشرے کو وہ کیوں کر دے سکتا ہے معاشرہ جس کا متمنی ہے؟
سزا و جزا کا تصور ختم کر کے بچوں کو دلیر اور استاد کو کمزور بنا دیا گیا ہے. بچہ گھر سے نکل کر جہاں مرضی جائے، قصور استاد کا ہے. اس کی پڑھائی اچھی نہیں، قصور استاد کا، اس کا نتیجہ اچھا نہیں، قصور استاد کا، وہ غیر حاضر ہے، قصور استاد کا، وہ بدتمیر ہے قصور استاد کا،وہ بد اخلاق ہے قصور استاد کا.
تو بات یہ کہ ہم اگر یونہی چوہے بلی کا کھیل کھیلتے رہیں گے اور ایک دوسرے کو ہی موردِ الزام ٹھہراتے رہیں گے تو ہماری آنے والی نسل نا صرف تعلیمی لحاظ سے بلکہ جسمانی و روحانی لحاظ سے بھی لاغر و ضعیف ہو جائے گی اور ہم سب ایک دوسرے کا منھ تکتے رہیں گے. اچانک ہی یہ سب نہیں ہو جاتا بگاڑ اور سنوار میں ایک عرصہ لگ جاتا ہے.
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتاپرانے زخم مندمل ہوتے وقت لگتا ہے اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر کوئی اپنا کام ایمانداری سے کرے اور ہر ایک کو وہی کام کرنے دیا جائے جو کام وہ بہتر طریقے سے کر سکتا ہے تاکہ مستقبل قریب میں ہم اپنے معاشرے کو تمام طرح کی غیر اخلاقی روایات سے محفوظ بنا سکیں