تھر پارکر کی دکھ بھری داستان۔۔۔!!!
تحریر: شوکت ملک
گزشتہ روز چیئرمین قرآن و سنہ موومنٹ علامہ ابتسام الٰہی ظہیر کے ہمراہ اندرون سندھ سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کا موقع ملا جہاں پر دیگر علاقوں کی طرف تھرپارکر بھی سیلابی پانی میں ڈوبا ہوا ہے، لوگ بیچارے اپنے ڈوبتے گھروں کو مجبوراً چھوڑ کر سڑک کنارے خیمے لگا کر زندگی بسر کرنے پہ مجبور ہیں، سڑک کنارے بےبسی کی تصویر بنے روڈ کنارے کھڑے بچے بوڑھے بزرگ امداد کےلیے ترس رہے ہیں، جب سڑک سے گزرتی گاڑیوں کا قافلہ دیکھتے ہیں تو اپنے خیموں سے نکل کر امداد کےلیے ہاتھ پھیلائے نظر آتے ہیں، چھوٹے بچے بچیوں کے جسم پہ دو گز کپڑا تک نہیں یہ رقت آمیز مناظر دیکھ کر دل خون کے آنسو رونے لگا، کسی مسیحا کے منتظر یہ بے بس مجبور و لاچار لوگ اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کی بےحسی پہ بھی کئی سوالات لیے کھڑے تھے، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر کا قافلہ جب تھرپارکر سے گزرا اور ان کی جانب سے نقد رقم تقسیم کرنا شروع کی گئی تو گویا وہ چند ہزار روپے کے نوٹ لیکر ان کے چہروں پہ جو خوشی آرہی تھی اور ہاتھ اٹھا اٹھا کر دعائیں دے رہے تھے گویا کہ ان کو مہینوں کی امداد مل گئی ہو، سیلاب متاثرین کی اس قدر بےبسی کو دیکھ کر یوں معلوم ہو رہا تھا کہ ان کو کبھی کسی نے امداد دی ہی نہ ہو، سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین اب بھی امداد کے منتظر ہیں ہم سب کو مل کر ابھی مزید اپنے ان بھائیوں کی مدد کرنا ہوگی تاکہ وہ بھی کم از کم اپنی دو وقت کی روٹی تو کھا سکیں، ملک اس وقت انتہائی نازک حالات سے گزر رہا ہے، حکمرانوں کو بھی بے حسی کی چادر اتار پھینک کر ان بے بس مجبور و لاچار لوگوں کے بارے سوچنا ہو گا، اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سب کو قدرتی آفات سے محفوظ اور ہماری مشکلات کو آسان فرمائے۔ آمین
Category: متفرق
-

تھر پارکر کی دکھ بھری داستان۔۔۔!!!
-

کندھ کوٹ – صفائی ستھرائی کا کام تیزی سے جاری
باغی ٹی وی : کندھ کوٹ(نامہ نگار) صفائی ستھرائی کا کام تیزی سے جاری
کندھ کوٹ میونسپل کمیٹی کے چیف سپروائزر منیر احمد ملک کے ہدایت پر انسپکٹر سکندر علی شیخ اپنی ٹیم کے ہمراہ وارڈ نمبر 12 وارڈ نمبر 13 وارڈ نمبر 14 سمیت دیگر وارڈوں میں صفائی ستھرائی کا کام زور شور سے جاری
تفصیلات کے مطابق کندھ کوٹ میونسپل کمیٹی کے چیف سپروائزر منیر احمد ملک کے ہدایت پر انسپکٹر سکندر علی شیخ اپنی ٹیم کے ہمراہ وارڈ نمبر 12 وارڈ نمبر 13 وارڈ نمبر 14 سمیت دیگر وارڈوں میں صفائی ستھرائی کا کام زور شور سے جاری ہے اس موقع پر میونسپل کمیٹی کے انسپکٹر سکندر علی شیخ نے کہا کہ ہم اپنی حدود کی گلیوں محلوں میں نکاسی آب اور روڈ راستون پر صفائی ستھرائی کا کام اپنی ٹیم کے ساتھ دن رات کر رہے ہیں نے کہا کہ صفائی ستھرائی کرنے والا ہمارا عملہ جھان بھی گندگی ہوتی ہے بغیر کسی کے کہنے پر فورن پھنچ کر وہاں اپنے کام میں لگ جاتے ہیں صفائی ستھرائی کے کام میں کبھی بھی غفلت نہیں کرتے ہم اپنی ٹیم کو سارا سارا دن کام کرواتے ہیں چیف سپروائیزر منیر احمد ملک نے مزید کہا کہ ہماری کوشش جاری ہے کندھ کوٹ شھر کی گندگی کو مکمل طور پر ختم کریں گیں کسی بھی حدود کے لوگوں شکایت نہیں ملے گی۔

-

شیخوپورہ: محکمہ ریونیو اور پٹوارخانے پرائیویٹ منشیوں کے حوالے، عوام لٹنے پر مجبور
باغی ٹی وی: شیخوپورہ تحصیل مریدکے(محمد طلال سے) محکمہ ریونیو پٹوارخانوں میں پرائیویٹ منشیوں کی شہریوں سے رشوت ستانی کی لوٹ مار سرکاری دستاویزات حوالے رجسٹری برانچ افسر کے کرپشن کی داستانیں اعلیٰ افسران تک منتھلیاں دینے کے انکشافات شہری سراپا احتجاج وزیراعلی پنجاب اور چیف سیکرٹری سیکرٹری بلدیات سے نوٹس کا مطالبہ۔باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پٹوارخانوں میں پٹواریوں اور پرائیویٹ منشیوں کی شہریوں سے رشوت ستانی کی لوٹ مار شاہی افسری پٹواری کا دفتر میں تاخیر سے آنا پرائیویٹ منشیوں نے دفتر کھول کر آئے سائلین سے فرد دینے پر مبینہ مک مکا کرنا معمول بن گیا۔ تحصیل کمپلیکس میں ٹوکن و سکیننگ سے لیکر رجسٹری برانچ تک کرپشن کی بھرمار رجسٹری برانچ میں تعینات افسر پر سابق کرپشن کے مقدمات لمحہ فکریہ لیکن سفارشات نے دوبارہ تعینات کروا دیا سائلین رل گئے پرائیویٹ منشیوں کے ہاتھوں میں عوام کی ملکیتی اراضیوں کے ریکارڈ میں خوردبرد کے انکشافات جبکہ بڑھتی کرپشن کے سبب ہائی کورٹ نے بھی پرائیویٹ منشی رکھنے کی پٹواری پر پابندی لگا رکھی ہے جسکو ہوا میں اڑا دیا گیا ہے۔ کرپشن کے معاملے پر جب اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر آفیسرز سے رابط کیا گیا تو موقف دینے سے انکار کر دیا سائلین و شہریوں نے وزیرِاعلیٰ پنجاب چیف سیکرٹری پنجاب سیکرٹری بلدیات سے مطالبہ کیا ہیکہ کرپشن روکنے کیلئے احسن اقدامات پر عمل کیا جائے اور پرائیویٹ منشیوں کا پٹوارخانوں سے خاتمہ کیا جائے۔
-

مریدکے شیخوپورہ کا حصہ ہے جہاں باقی اضلاع کی نسبت طویل لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے. ایکسیئن واپڈا
مریدکے،شہریوں کے نمائندہ وفد کی ایکسیئن واپڈا سے ملاقات،ظالمانہ لوڈ شیڈنگ پر عوامی جذبات سے آگاہ کیا
باغی ٹی وی: شیخوپورہ (محمد طلال سے) شیخوپورہ تحصیل مریدکے امیر جماعتِ اسلامی مریدکے سید تائید منظور کے ہمراہ آج ایکسیئن واپڈا سے ملاقات ہوئی۔ دو رکنی وفد نے دورانِ ملاقات ظالمانہ لوڈشیڈنگ پر عوام کے جذبات سے انہیں آگاہ کیا۔ اس دوران گزشتہ اتوار کے عوامی احتجاج کا تذکرہ ہوا نیز واپڈا لائن مین راناقیصر محمود کی روح کو ایصال ثواب کے لئے دعائے مغفرت کی گئی۔ واپڈا آفیسر نے لوڈ شیڈنگ شیڈول کے سبب عوامی مشکلات پر اظہار افسوس کیا تاہم اس میں کمی بیشی پر اپنے کردار بارے بے بسی ظاہر کی اور بتایا کہ یہ شیڈول اوپر سے آتا ہے اور وہ اسے فالو کرنے کے پابند ہیں۔ ان کا کہنا تھا توقع ہے جلد لوڈ شیڈنگ شیڈول میں کمی ہوگی جس دن بھی ایسا کرنے کا حکم ملا بلاتاخیر اس کا فائدہ عوام تک منتقل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور، شیخوپورہ اور ڈسٹرکٹ گوجرانوالہ کاالگ الگ لوڈشیڈنگ شیڈول ہے۔ مریدکے شیخوپورہ کا حصہ ہے جہاں باقی اضلاع کی نسبت طویل لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے۔ فرینڈز آف مریدکے کی جانب سے ظالمانہ لوڈ شیڈنگ شیڈول بارے ایم این اے تحریک انصاف راحت امان اللہ بھٹی کو گزشتہ روز آگاہ کر دیا گیا۔ برگیڈیئر بھٹی کے قریبی ذرائع نے اس بارے لیسکو چیف سے بات چیت کا کہا گیا تاہم اڑتالیس گھنٹے گذر جانے کے باوجود ابھی تک اس بارے کسی مثبت پیش رفت کی اطلاع نہیں۔ ادھر مریدکے شہر کے مرکزی علاقے آج کسی مبینہ خرابی کے سبب تقریباً چھ گھنٹوں تک مسلسل بجلی سے محروم رہے۔ -

بات سے بات — عمر یوسف
میرے ایک دوست نے کہا کہ برطانوی سامراج نے جاتے ہوئے متحدہ ہندوستان کو آفر کی کہ تمہارا نگران میں ہی رہتا ہوں اندرونی معاملات میں تم آزاد ہو جیسے چاہو انجام دو ۔
اگر متحدہ ہندوستان یہ آفر قبول کرلیتا تو آج ہم دیگر اقوام کی طرح طبقاتی کشمکش میں مبتلا نہ ہوتے اور دولت کی مساوی تقسیم ہوتی ۔
کیونکہ آج بھی کچھ ممالک برطانیہ کے ماتحت ہیں لیکن ان کی معاشی حالت بہتر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ برطانیہ بڑے احسن انداز سے ان ممالک کے وسائل کی کمی کے باوجود معاملات انجام دے رہا ہے ۔
شاید یہ سوچ بھی ذہن میں آئے کہ نگرانی کے بدلے وہ ہم سے مال و زر بھی لیتا ۔
تو اس شبہ کا ازالہ یوں ہوگا کہ اگر وہ کچھ لے بھی لیتا تو بدلے میں نظام تو بہتر رکھتا ۔ جب کہ جتنا اس نے لینا تھا اس سے سو گنا زیادہ ہمارے کرپٹ سیاستدان ہم سے لے چکے ہیں ۔
معاشی حالات کی بات کی جائے تو یہ بات دل کو لگتی ہے ۔
دوسری طرف مذہب پسند علماء و عقلاء کا یہ خیال ہے کہ ایسا اگر ہوجاتا تو اسلام کو پنپنے کا موقع نہ ملتا یعنی اسلامی غلبہ و قوت انگریز کی ماتحتی میں ممکن نہ ہوتے اور اسلام مغلوب ہی رہتا ۔
مذہبی علماء کی یہ بات بھی دل کو لگتی ہے کیونکہ انگریز سامراج کی تاریخ تو اسلام اور مسلمان دشمنی پر ہی مشتمل ہے ۔
لیکن یہ نکتہ نظر بھی قابل تردید نہیں کہ موجودہ مغربی افکار سیکولر سوچ پر مبنی ہیں اور ہر ایک کو اس کی مرضی کے مطابق جینے کا حق دینے پر زور دیتے ہیں لہذا آج کا دور میں ایسا نہ ہوتا ۔
دونوں طرح کے موقف سامنے آنے کے بعد خلاصہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کسی بھی چیز کے بارے جب فیصلہ دیتا ہے تو وہ مخصوص حالات کے زیر تاثر دیتا ہے ۔ مثلا معاشی حالات ٹھیک نہیں تو اس صورت حال میں ایسے نظام کو سپورٹ کیا جائے گا جس میں معیشت کے استحکام کی یقینی کیفیت سامنے آرہی ہو لیکن لاشعوری طور پر حالات کے دیگر کئی پہلو تلف ہوجائیں گے ۔
اب علماء بھی اپنی جگہ حق بجانب ہیں وہ اس طرح کہ افراد تو افراد اقوام بھی تعصب کے جراثیموں سے پاک نہیں ہوسکتی ۔ وقتی مصلحت کی خاطر شاید کہ جاذب قلب پالیسیاں بنائی جاتی ہوں لیکن اگر حالات غیر موافق ہوجائیں تو یہ ساری پالیسیاں ڈھیر ہوجائیں گی ۔
لہذا پاکستان کو نعمت گردانتے ہوئے شکر گزاری اس انداز سے کی جائے کہ ملک تمام پہلووں سے ترقی کی جانب گامزن ہو ۔
اس کے برعکس ماضی کی دلفریب مگر بوگس باتوں کو یاد کرنا شکوہ و شکایت کے سوا کچھ نہیں ۔
-

قاصدِ آشتی!!! — طلحہ ملک
فضائی آلودگی؛نقصانات اور حل:
آب و ہوا ہر جاندار کی زندگی کی ضمانت ہے آلودہ فضائی ماحول انسانوں کے لیے مضرِ صحت ہے ہوا کی آلودگی یعنی گندگی بعض اوقات تو پاک صاف علاقوں میں بھی واقع ہو جاتی ہے جس کی بنیادی وجہ موسمی تبدیلی ہوتی ہے عام طور پر ہر شخص کے مشاہدے میں یہ بات ہو گی کہ موسم کی تبدیلی خرابئ صحت کا باعث بنتی ہے تبدیلی کے اس مختصر عرصہ میں عموماً نزلہ زکام بخار اور گلا خراب جیسی شکایات ہر دوسرے فرد کو رہتی ہیں، فضائی آلودگی کی دیگر وجوہات میں ٹریفک کا دھواں، بھٹیوں کا دھواں، کارخانوں اور مِلوں کے زہریلے گیس وغیرہ شامل ہیں جو پلاسٹک، کچرا، ربڑ کے ٹائر اور دیگر ضائع مواد جلانے سے پیدا ہوتے ہیں۔
یہ زہریلے گیس قدرتی ہوا میں شامل ہو کر فضاء کو آلودہ کر دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حکومتوں کے بس میں ہو تو وہ سانس لینے پر بھی ٹیکس لگا دیں یہاں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ یہ ٹیکس تو مِل مالکان عوام پر لگا ہی چکے ہیں جس میں حکومت برابر کی شریک ہے۔
ہم ہسپتالوں کا جائزہ لیں تو یہاں مریضوں کی کُل تعداد کا نصف سے زائد حصہ فضائی آلودگی کی وجہ سے ان شفا خانوں کا مستقل گاہک ہے۔ اصل میں یہ کم علم غریب عوام حسبِ استطاعت اپنی سانس کا ٹیکس ادا کرنے قطاروں میں کھڑے، ویل چیئرز پر بیٹھے یا بے بس لیٹے ہوئے ہوتے ہیں۔
فضائی آلودگی کے نقصانات سے حکومتی ادارے اور کارخانے دار لا علم تو نہیں مگر بے پرواہ ضرور ہیں۔ لیکن یاد دہانی عرض کیے دیتا ہوں کہ صحت کے عالمی اداروں کے مطابق مبینہ طور پر تمام بیماریوں کی بڑی وجہ فضا میں موجود زہریلے ذرات ہوتے ہیں کہ جن سے پھیپھڑوں کے کینسر اور دمے جیسے بڑے امراض سمیت اعصاب کی کمزوری دماغ پر برے اثرات جگر کے فیل ہونے اور چند چھوٹے امراض الٹی آنا، چکر آنا گلا خراب اور خشک کھانسی وغیرہ شامل ہیں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ ہر سال دنیا بھر میں صرف فضائی آلودگی کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 70 لاکھ سے زائد ہے میری معلومات کے مطابق گذشتہ ایک دہائی میں پاکستان کے فضائی آلودگی والے شہروں میں ماہِ اکتوبر اور نومبر میں ہائی الرٹ اور ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے ان مہینوں میں موسمی تبدیلی تو خرابئ صحت کی بڑی وجہ بنتی ہی ہے مگر فیکٹریوں سے نکلنے والے دھوئیں اور ان سے پیدا ہونے والی زہریلی گیسیں صحت مند افراد کے لیے بھی مضر ثابت ہوتی ہیں اور شہر بھر کے اسپتالوں اور نجی کلینکس پر شہریوں کا جمِ غفیر موجود رہتا ہے ایسے حالات میں بے بس انتظامیہ روز اخبارات میں چند آلودگی پھیلانے والی فیکٹریوں کو سیل کرنے کی فوٹو لگا کر عوام الناس کے جذبات کو تسکین پہنچانے کی نیم کامیاب کوشش کرتی ہے مگر کارخانے دار چند روپیوں کے عوض غریب کے سانس پر ٹیکس لگانے کا اجازت نامہ دوبارہ حاصل کر لیتے ہیں اور پھر پورا سال آزادی سے انتظامیہ کی سرپرستی میں آلودگی پھیلانے کا کام بخوبی سر انجام دیتے ہیں۔
یاد رہے یہ ایسے ملک کی حالت ہے کہ جنہیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ گذشتہ کچھ سالوں سے ان کا ملک دنیا بھر میں فضائی آلودگی میں اول یا دوم رہا ہے، کراچی، لاہور، گوجرانوالہ اور بہاولپور وغیرہ پاکستان کے نہیں بلکہ دنیا بھر کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہو جاتے ہیں کیا خوب ہو کہ قبل از وقت ان معاملات پر ایمرجنسی بنیادوں پر ان مشکلات کے حل کے لیے کام کر لیا جائے .
چند سرکاری افسر جو اپنے فرائض کو انجام دینے کے لیے حکومتی حکم ناموں کا بھی انتظار نہیں کرتے ایسے لوگ آج بھی ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں اچھے آفیسرز اپنے فرائض پر کبھی کمپرومائز نہیں کرتے وہ مسئلے کا حل تلاش کرتے ہیں اور عمل درآمد کے لیے ہر ممکن کوشش کر جاتے ہیں۔
ٹریفک پولیس بھی اگر ایمانداری کے ساتھ پورا سال لوگوں کو ذہریلے دھوئیں کے مضر اثرات سے آگاہ کرے اور خلاف ورزی کرنے والے کو مناسب جرمانہ کرے اسی طرح دیگر ایسے عوامل جو ماحول کی آلودگی کا سبب بن رہے ہیں حکومتی سطح پر اس کی آگاہی مہم پورا سال چلائی جائے اور عوام الناس کو درخت لگانے کے فوائد سے آگاہ کیا جائے، درخت لگانے کے لیے جا بجا سہولتیں دی جائیں اور ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تو فضائی آلودگی کے شدید ترین نقصانات سے کافی حد تک بچا جا سکتا ہے جس میں بہر صورت عوام الناس کے تعاون کے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔
-

چونیاں – ملاوٹ شدہ ، دودھ اور دہی کی فروخت دھڑلے سے جاری
باغی ٹی وی : چونیاں(نامہ نگار) گردونواح میں ناقص اجزاء سے ملاوٹ شدہ دودھ اور دہی کی فروخت عروج پر، دوکاندار انسانی جانوں سے کھیلنے لگے کوئی پرسان حال نہیں جبکہ تحصیل انتظامیہ اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کی مبینہ خاموشی سے شہریوں میں تشویش کی لہر، چونیاں کے مختلف علاقوں چھانگا مانگا، چونیاں، الہ آباد، کنگن پور, تلونڈی و دیگر علاقوں میں دکاندار انسانی جانوں سے کھیلنے لگے رات و رات امیر بننے کے چکر میں ملاوٹ شدہ کیمیکل پوڈر والا دودھ ڈرموں میں بھر کر شہر لایا جاتا ہے اور مختلف علاقوں محلوں اور گلیوں میں من پسند قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے۔ باہر سے آنے والے ملاوٹ شدہ کیمیکل دودھ کو خالص بتا کر من پسند قیمت میں فروخت کیا جاتاہے۔ شہر بھر میں مضر صحت دودھ کی سپلائی جاری پنجاب فوڈ اتھارٹی ملاوٹ شدہ دودھ کی سپلائی روکنے میں ناکام چونیاں شہر کو ملاوٹ شدہ دودھ سے کب پاک کیا جائے گا۔ اس کا جواب کسی بھی متعلقہ محکمے کے پاس نہیں شہریوں نے ڈی سی قصور فیاض موہل سے اس ناقص دودھ دہی فروخت کرنے والے ان ظالم دودھ فروشوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اور انتظامیہ سے خاص طور پر ڈی سی قصور سے اپیل کی ہے کہ تحصیل انتظامیہ اور فوڈ اتھارٹی قصور ان ظالم ملاوٹ مافیا کو لگام دلوائیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
-

جراثیم کش ادویات کے باعث ہونے والی آبی آلودگی ، آبی حیات پر بری طرح اثر انداز ہورہی ہے۔
باغی ٹی وی : شیخوپورہ (محمد طلال سے) صوبائی وزیر قانون پنجاب خرم شہزاد ورک نے کہا ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادیوں ، فیکٹریوں سے کثیر مقدار میں آلودہ پانی کے اخراج اور زرعی مقاصد کے لئے استعمال ہونے والی جراثیم کش ادویات کے باعث ہونے والی آبی آلودگی ، آبی حیات پر بری طرح اثر انداز ہورہی ہے۔ دریاؤں و قدرتی آبی گذر گاہوں پر بیراجوں اور ان کے کناروں پر بندوں کی تعمیر سے مچھلی کی قدرتی افزائش گاہیں تقریبا معدوم ہوگئی ہیں ، جس سے ان کی قدرتی طور پر ہونے والی افزائش میں تیزی سے کمی واقع ہورہی ہے۔ انہوں نے یہ بات شیخوپورہ کے تاریخی و سیاحتی مقام ہرن مینار میں فش سیڈ سٹاکنگ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ضلع انتظامیہ اور محکمہ ماہی پروری نے آبی حیات کی بقا کے پیش نظر شیخوپورہ کے تاریخی و سیاحتی مقام ہرن مینار میں فش سیڈ سٹاکنگ کا انعقاد کیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی وزیر قانون پنجاب خرم شہزاد ورک تھے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز شیخوپورہ فروا رسول ، ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر فیصل جاوید ، محکمہ ماہی پروری کے افسران اور فش فارمرز بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز شیخوپورہ فروا رسول نے ہرن مینار میں 10 ہزار سے زائد فش سیڈ سٹاک چھوڑ کر اس مہم کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب سرکاری پیداواری مراکز پر مصنوعی نسل کشی سے حاصل شدہ فش سیڈ سٹاک کی قدرتی پانیوں میں سٹاکنگ پروگرام کے تسلسل کا حصہ ہے۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز فروا رسول نے کہا کہ محکمہ ماہی پروری آبی حیات کے تحفظ اور اس کی معدوم ہوتی ہوئی نسلوں کی افزائش کے لئے ہر ممکن اقدامات کررہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت ماہی پروری کے ذریعے صوبے کی آمدن میں اضافے اور غذائی ضروریات کو پورا کرنے کی غرض سے مچھلی کی صنعت کو ترقی دے رہی ہے اور اس سلسلے میں نہ صرف سرکاری سطح پر مچھلی کی آفزائش کے لئے ہچری کو فروغ دیا جا رہا ہے بلکہ نجی شعبہ کی بھی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے ، جس سے نہ صرف مچھلی کی صنعت فروغ پائے گی بلکہ صوبے میں روزگار کے وسیع ذرائع میسر آئیں گے۔
-

شیخوپورہ ـ حافظ آباد روڈ ٹوٹ پھوٹ کاشکار،عام شہریوں سمیت سکول کی طالبات بھی مشکلات کاشکار
باغی ٹی وی: شیخوپورہ (محمد طلال سے) حکومتیں تو بدلتی رہیں مگر شیخوپورہ سے حافظ آباد روڈ کے حالات نہ بدل سکے،روڈ خراب ہونے کی وجہ سے مقامی اور یہاں سے سفر کرنے والے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے-
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شیخوپورہ سے حافظ آباد روڈ پر واقع یہ علاقہ زرعی پیداوار کے حوالے سے ملک بھر کے شہروں کی منڈیوں میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے مگر ملحقہ روڑ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے زرعی اجناس دیگر شہروں کی منڈیوں تک لے جانا بھی ایک خواب بن کر رہ چکا ہے،اسی روڈ پر واقع سکولوں میں بچوں اور بچیوں کی رسائی بھی مشکل ہوچکی ہے دوسری جانب اسی حلقہ سے منتخب ہونے والے ایم پی اے اور ایم این اے بھی خاموش تماشائی بنے ہوے ہیں علاقہ مکینوں نے وزیراعلی پنجاب سے بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا۔


-

شیخوپورہ – روٹی 100گرام 8 روپے اورنان 120گرام 15 روپے ،زیادہ نرخ اور کم وزن پر کارروائی ہوگی۔ڈپٹی کمشنر
باغی ٹی وی: شیخوپورہ (محمد طلال سے) شیخوپورہ کے شہریوں کو اشیائے خوردونوش کی سستے داموں فراہمی یقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ متحرک۔ حکومت پنجاب کی ہدایت پر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے بھر پور اقدامات جاری۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ روٹی کا وزن 100 گرام اور وزن کے حساب سے قیمت 8 روپے جبکہ نان و خمیری روٹی کا وزن 120 گرام اور وزن کے حساب سے قیمت 15 روپے مقرر کی گئی ہے۔ مقرر کردہ معیار ، وزن اور قیمت پر مکمل چیک اینڈ بیلنس رکھا جا رہا ہے۔ مقرر کردہ قیمت سے زائد اور مقررہ وزن سے کم روٹی ، نان اور خمیری روٹی فروخت کرنے والے نانبائیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ بعض علاقوں میں روٹی کے مقرر وزن میں کمی کی جارہی ہے ، جو کہ عوام کے استحصال کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ تندور مالکان و نان بائیوں نے روٹی کا وزن کم اور نرخوں میں خود ساختہ اضافہ کر رکھا ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے پرائس کنٹرول مجسٹریٹسں کو ہدایت کی کہ خود ساختہ اضافہ اور وزن میں کمی کرنے والے تندور مالکان و نان بائیوں کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتیں تا کہ شہریوں کو سستے داموں معیاری روٹی مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ تندور مالکان حفظان صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے صفائی ستھرائی کا بہترین انتظام کریں تا کہ شہریوں کو صحت مند خوراک میسر ہو اور لوگ بیماریوں سے بچ سکیں۔