Baaghi TV

Category: متفرق

  • پانی کی شاخوں پر لٹکتے خواب.تحریر: اقصیٰ جبار

    پانی کی شاخوں پر لٹکتے خواب.تحریر: اقصیٰ جبار

    یہ زمین ہمیشہ سے پانی کی مہربانیوں سے زندہ رہی ہے۔ دریاؤں کی روانی نے دھرتی کو زرخیز کیا، کھیتوں کو سنہری خوشبو بخشی اور بستیوں میں زندگی کے چراغ جلائے۔ مگر کبھی کبھی یہی پانی جلال میں آ کر سب کچھ بہا لے جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں بادلوں نے زمین کو پھر آزمایا۔ بوندوں نے پہلی بار دھوکہ نہیں دیا، لیکن جب یہ بوندیں ریلوں میں ڈھلیں تو بستیاں ان کے حصار میں آ گئیں، اور خواب پانی کی شاخوں پر جھولتے رہ گئے۔

    یہ منظر نیا نہیں۔ ہم ہر سال یہی تماشہ دیکھتے ہیں۔ سیلاب آتا ہے، زندگیاں بہا لے جاتا ہے، اور پیچھے چھوٹی چھوٹی امیدوں کی مٹی رہ جاتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہم کب بدلیں گے؟ پانی تو اپنا راستہ لے گا، یہ قدرت کا قانون ہے۔ لیکن انسان کے حصے میں تدبیر ہے، منصوبہ بندی ہے۔ جن قوموں نے پانی کو رحمت بنایا، انہوں نے مضبوط بند باندھے، ذخائر بنائے، اور آنے والے دنوں کے لیے تیاری کی۔ ہم نے کیا کیا؟ ہم نے اپنے خواب سیاست کے دھارے میں بہا دیے۔ ڈیم کے فیصلے میزوں پر سوتے رہے اور دریاؤں نے بستیاں جگا دیں۔

    اکثر کہا جاتا ہے کہ بھارت سے آنے والا پانی تباہی کا سبب ہے۔ یہ جزوی سچ ہے، لیکن کیا یہ پوری کہانی ہے؟ نہیں۔ اگر ہمارے پاس بڑے ذخائر ہوتے، چھوٹے ڈیمز کی قطاریں ہوتیں، اگر ہم نے اپنے حصے کا کام کر لیا ہوتا، تو یہ پانی ہماری زمین کی پیاس بجھاتا، ہمارے مستقبل کو روشن کرتا۔ مگر ہم نے وقت کو کھو دیا، اور اب پانی ہماری کوتاہیوں کا ماتم کر رہا ہے۔

    یہ وقت الزام تراشی کا نہیں، فیصلہ سازی کا ہے۔ ہمیں پانی سے دشمنی ختم کرنی ہوگی۔ یہ وہ دشمن نہیں جس سے جنگ جیتی جا سکے، یہ وہ دوست ہے جس سے تعلق نبھانا سیکھنا ہوگا۔ اگر ہم نے آج بھی دیر کی، تو آنے والے برسوں میں یہ سوال اور کڑا ہوگا:
    “ہم نے پانی کو دوست کیوں نہ بنایا؟”

    پانی کی یہ یلغار ہمارے لیے سبق ہے۔ ہمیں سیکھنا ہوگا کہ قدرت سے لڑا نہیں جا سکتا، اس کے ساتھ جیا جا سکتا ہے۔ اگر آج ہم نے چھوٹے بڑے ذخائر، واٹر مینجمنٹ، اور قومی اتفاقِ رائے پر کام نہ کیا تو خواب یونہی پانی کی شاخوں پر لٹکتے رہیں گے۔

  • بھارت کا چین ،روس کی جانب جھکاؤ،پاکستان کیلئے خطرہ ؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    بھارت کا چین ،روس کی جانب جھکاؤ،پاکستان کیلئے خطرہ ؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    تینوں ممالک کا اتحاد ہوگیا تو اسلام آباد کو خارجہ پالیسی بدلنا ہوگی
    خلیجی ممالک ،ترکیہ سے تعلقات مضبوط،چین سے روایتی دوستی نبھانا ہوگی
    ملکی مفادات،معیشت اور دفاع کو سامنے رکھنا ہوگا،آئی ایم ایف کا اعتماد بھی ضروری
    تجزیہ ،شہزاد قریشی
    اگر چین اور بھارت واقعی زیادہ قریب آجاتے ہیں جو تاریخی سرحدی تنازعات کی وجہ سے آسان نہیں، تو یہ بڑی تبدیلی ہوگی جبکہ چین پاکستان کے ساتھ بھی کھڑا ہے تاہم اگر بھارت اور چین کے تعلقات بہتر ہوجائیں ، وہ روس کے ساتھ بھی ایک بلاک میں آجائیں تو پاکستان کے لئے سفارتی دباؤ بڑھ سکتا ہے،کیوں کہ روایتی اتحادی چین اور کبھی کبھار روس بھارت سے بھی تعلقات مضبوط کریں گے، ایسے منظر نامے میں پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کو زیادہ توازن کے ساتھ چلانا ہوگا، مثلاً خلیجی ممالک میں ترکیہ حتی ٰکہ مغربی طاقتوں سے تعلقات کو بہتر کرنا، امریکہ کے لئے یہ صورت حال چیلنج ہوگی کیونکہ اگر روس، چین، بھارت ایک دوسرے کے قریب آجاتے ہیں تو یہ ملٹی پولر ورلڈ آرڈر کو مضبوط کرے گا ، اگر بھارت چین کے قریب ہو جائے تو یہ امریکی پالیسی کو جھٹکا لگے گا، اگر ایسا ہوا تو پھر امریکہ پاکستان اور دیگر خطے کے ممالک کو زیادہ اہمیت دینے لگے گا تاکہ وہ چین، روس، بھارت بلاک کے مقابلے میں توازن قائم کرے، تاہم چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعات ایک بڑا چیلنج ہے، عالمی تبصرہ نگاروں کے مطابق چین اور بھارت کا سرحدی تنازع ان کو ایک دوسرے کے قریب آنے سے روک سکتا ہے، اگر چین روس اور بھارت واقعی ایک بلاک بن جاتے ہیں تو پاکستان کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ اُس کا قریبی اتحادی چین بھارت سے بھی قریبی تعلق سمجھے گا، جس سے پاکستان کو اپنی پالیسی میں نئے توازن کی ضرورت پڑے گی، امریکہ کے لئے یہ ایک بڑی جیو پوٹینیکل شکست ہوگی،کیوں کہ بھارت کو وہ چین کے لئے استعمال کرتا رہا ہے اور بھارت ہوتا رہا ہے، عالمی بدلتی ہوتی صورت حال کے پیش نظر ملکی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ صورت حال میں اسٹیبلشمنٹ قومی سیاسی جماعتوں کو ملکی مفادات، جن میں دفاع، معیشت کو سامنے رکھتے ہوئے کانفرنس کرنی چاہیے، پاکستان کی ایسی پالیسی ہونی چاہیے آئی ایم ایف سپورٹ جاری رہے۔ چینی سرمایہ کاری برقرار رہے، پاکستان کی ایک عالمی بلاک تک محدود نہ ہو، چین کے عسکری و اقتصادی تعلقات برقرار رکھے جائیں، امریکہ اور نیٹو کے کے ساتھ تعلقات و دیگر امور جاری رہیں ، نئی بلاک پالیسی سے بچتے ہوئے اپنی پالیسی ایسے رکھے جس سے ملکی مفادات برقرار رہیں

  • انسانیت کے خدمت گار.تحریر:عتیق گورایا، فیصل آباد

    انسانیت کے خدمت گار.تحریر:عتیق گورایا، فیصل آباد

    سنہ 2005ء میں زلزلہ آیا تو پاکستان بھر سے خدمت خلق کے پروانے دیوانہ وار مشکل ترین راستوں کو عبور کرتے ، جہاں تک گاڑیوں سے رسائی ممکن ہوتی سفر جاری رہتا اور جہاں گاڑیاں ساتھ چلنے سے انکاری ہوجاتیں وہاں یہ محبان قوم و ملت قدموں کا سہارا لیتے اور سامان کو کندھوں پر ، گدھوں اور خچروں پر لاد کر دوردراز کے علاقوں میں پہنچ کر ریلیف اور خدمت کے کاموں میں مصروف ہوجاتے۔خدمت خلق میں ایسے تجربہ کار ہوئے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھی خدمت انسانیت سے پیچھے نہ ہٹ سکے ۔معین راہی کی غزل کا کیا خوب صورت مطلع ہے کہ
    خاک کو کندن بنانا آگیا
    وقت کی بھٹی میں تپنا آگیا

    اورپھر آج جب بارشوں نے اپنا زور دکھایا ، بدلتے موسم نے عندیہ دیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر اس خطہ پر بھی شدید پڑے گا اور گزشتہ سارے ریکارڈ ایک طرح سے بارشوں اور سیلاب کے ٹوٹ جائیں گے تو یہی خدمت گار پھر سے میدان میں موجودہیں۔ میدان سیاست میں دو جماعتیں ایسی ہیں جنھوں نے خدمت کے میدان میں اپنا آپ منوایا ہے ایک جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم الخدمت فاؤنڈیشن اور دوسری پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی خدمت خلق ہے ۔گلگت بلتستان اورخیبرپختونخواہ کے علاقوں بونیر،باجوڑ، مینگورہ،شانگلہ اور دیگر علاقوں میں سیلاب اپنی تباہی کے ساتھ ساتھ بھاری پتھر بھی لے آیااور یہ پتھر اس قدر وزنی ہیں کہ بھاری مشینری سے ہی انھیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ممکن ہے اور اب تک کی معلومات کے مطابق شاید یہ ابھی ممکن نہیں ہوسکا کیوں کہ راستوں کی بندش کے ساتھ ساتھ بارش کی گاہے گاہے آمد نے اسے مشکل بنادیاہے ۔ جب دیگرجماعتیں حتٰی کہ حکمران قیادت بھی جمع تفریق میں لگی ہوئی تھی یہ الخدمت فائونڈیشن (جماعت اسلامی )اور خدمت خلق (پاکستان مرکزی مسلم لیگ) والے اپنے اپنے علاقوں سے نکلے اور تباہ شدہ راستوں سے ہوتے ہوئے بونیر، باجوڑ، شانگلہ اور مینگورہ سمیت دیگر علاقوں میں جاپہنچے ۔

    دامے درمے سخنے جو ہوسکا پہلے ہاتھ ساتھ لے گئے ، زخمیوں کو نکالااورمرہم لگایا، لاشوں کو نکالااور دفنایا،لواحقین کو سینے سے لگایا ، بھوکوں کو کھانا کھلایا اور پیاسوں کے لیے پانی کا بندوبست کیا۔ پھر جب ذرا وقت تھما تو محسوس ہوا کہ وسائل کم ہے اور مسائل زیادہ ہیں ۔پھر تو پاکستان بھر نے ریلیف کے کام میں اپنا آپ کھپا دیا۔راشن اس قدر پہنچا کہ خدمت میں مصروف تنظیموں کو کہنا پڑا کہ خوراک کی نہیں اب بھاری مشینری، خیموں اور ادویات کی ضرورت ہے تاکہ قیام کا عارضی بندوبست کیا جاسکے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ اور جماعت اسلامی سمیت دیگر تنظیموں کی ماہر اور تجربہ کار میڈیکل ٹیموں نے میڈیکل کیمپ لگانے شروع کیے اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر پھیلتی وبائوں پر قابو پانے کی کوشش کی۔ کراچی سے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی ٹیم فیصل ندیم اور ندیم اعوان کی معیت میں پہنچی اور خدمت میں جُت گئی اور ان کے خیبرپختونخواہ میں موجودگی کے وقت میں ہی کراچی میں بارش نے اپنا زور دکھا کر کراچی کو پانی میں ڈبو دیا لیکن یہ خدمت کے شیدائی اپنے گھروں کو پانی میں ڈوبا ہوا جان کر بھی ٹس سے مس نہ ہوئے ۔پاکستان بھر سے امدادی قافلے ابھی بھی جانب منزل رواں دواں ہیں کہ مسلمان کا شیوہ نہیں کہ اپنے بھائی کو تکلیف میں اکیلا چھوڑے۔صرف اہل فیصل آباد کی طرف سے ہی محمد احسن تارڑ جنرل سیکرٹری پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے 1200سے زائد متاثرہ خاندانوں کے راشن پیک ، کپڑے،جوتے ، برتن اور ادویات وغیرہ تقسیم کی ہیں جب کہ اس سے قبل بھی فیصل آبادی ڈاکٹر ظفر اقبال چیمہ کی معیت میں خشک راشن جس میں چاول ، چینی ، اچار، دالیں ،چنے ، چائے ، گھی ، آٹا اور مچھردانیاں تقسیم کرچکے ہیں ۔ اسی طرح پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی دیگر شہروں کی ٹیمیں بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہمہ وقت مصروف ہیں ۔

    ابھی اہل پاکستان کے پی کے میں آئی اس آفت سے نبرد آزما تھے کہ راوی، ستلج اور چناب بپھر چکے ہیں اور اپنے ساتھ ساتھ ندی نالوں میں بھی جولانی لے آئے۔ شہراقبال مسلسل بارش کے باعث ڈوبا تو شہرسے گزرتے قدیمی نالوں میں پانی نے اپنا آپ اس طرح سے دکھایا کہ تادم تحریر سیالکوٹ سیلاب زدہ ہے ، شکرگڑھ ، نارووال ، وزیرآباف اور پسرور بھی سیلابی پانی میں بہہ گئے ہیں ۔ دیہاتوں کے دیہات پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور رہائشی گھروں میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ ریسکیو1122، پولیس اور دیگر حکومتی ادارے بھی اپنے اقدامات میں مصروف ہیں اور مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار بھی ان اداروں کے ساتھ مل کر خدمت میں مصروف ہیں۔ دریائے چناب میں تاریخ کا بلند ترین سیلاب ہے جو اپنے ساتھ بے شمار مصائب ومشکلات بھی لارہا ہے۔ بارشوں کے لمبے دورانیے نے ایک مشکل صورت حال پیدا کی ہوئی تھی اور اس صورتحال میںبھارتی آبی جارحیت نے مزید تباہی مچائی۔اس پانی کی غیر متوقع اور بے پناہ مقدار نے فصلوں کو تباہ کر دیا اور ہزاروں خاندانوں کو بے گھر ہونے پر مجبور کر دیاہے۔

    یہ سیلاب ہمارے لیے ایک سنگین سبق ہے اگر ہم سمجھ سکیں کہ ہمیں آئندہ اس طرح کی آفات سے نمٹنے کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ماہرین ماحولیات کے مطابق ڈیمز کی تعمیر، پانی کے ذخائر میں اضافہ اور دریااؤں کے اطراف میں مضبوط حفاظتی دیواریں بنانا ضروری ہے ۔اس کے ساتھ ہی جدیدearly warning systemکا قیام بھی ناگزیر ہے تاکہ عوام کو وقت پر آگاہ کیا جا سکے کیوں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث یہ سیلاب اور اسی جیسی دیگر آفات اب کئی سال تک ہمارے ساتھ رہیں گی۔ حکومت کو چاہیے کہ موسمیاتی تبدیلی پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹھوس اقدامات کو ہنگامی بنیادوں پر پورا کرے تاکہ پاکستان ان قدرتی آفات سے کم سے کم متاثر ہو۔

  • سیلاب اور بارشوں سے  تباہی،قوم کو متحد ہونا ہوگا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیلاب اور بارشوں سے تباہی،قوم کو متحد ہونا ہوگا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے،غیرمنصوبہ بندی ہمیں بڑے سانحہ میں مبتلا کرسکتی
    کلائوڈ برسٹ عام ہوگیا،ناگہانی آفات کا مقابلہ کرنے کیلئے ازلی اقدامات ضروری
    پاکستانی حکمت عملی کامیاب،مودی پالیسیوں سے بھارت تقسیم ،پڑوسی ممالک نے بھی منہ موڑ لیا
    تجزیہ، شہزاد قریشی
    بھارت، پاکستان اس وقت شدید بارش اور سیلاب کی زد میں ہیں پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ جاری ہے، گلگت ، بلتستان اور لداخ کے علاقوں میں گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں جس سے دریائوں میں اچانک پانی کا بہائو بڑھ گیا ، اس میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے ساتھ ساتھ انسانی غفلت بھی شامل ہے، جنگلات کی کٹائی ، غیر منصوبہ بندی ، رہائشی اور تجارتی تعمیرات، بارش کے قدرتی بہائو کو روک دیتی ہیں جس سے سیلابی شکل صورتحال پیدا ہوتی ہے، سائنسدانوں کے مطابق بادل کا پھٹنا اس عمل کو کہتے ہیں جب بہت کم وقت میں محدود دائرے میں اچانک شدید بارش ہو اگر کسی علاقے میں 30-20 مربع کلومیٹر کے دائرے میں ایک گھنٹے میں 100ملی میٹر بارش ہو تو اسے بادل کا پھٹنا کہا جا سکتا ہے، ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے طویل المدتی اقدامات کئے جائیں، ایسی صورتحال اس وقت پنجاب ، کے پی کے ،صوبہ سندھ اور دیگرجگہوں پر دیکھی جا رہی ہے ایک دوسرے پر تیر برسانے کے بجائے غور و فکر کیا جائے، ایک دوسرے کی تذلیل اور تحقیر کے سلسلے روکے جائیں اور خود احتسابی کی جائے، عملی اقدامات کئے جائیں، بھارت ایک طرف سیلاب کی زد میں ہے تو دوسری طرف مودی کی ناکام پالیسیوں اور پاک فوج کی سفارتی حکمت عملی اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کی کوششوں سے امریکہ اور چین دونوں ممالک سے نظرانداز کیا جا رہا ہے، ٹرمپ کے اقدامات سے مایوس مودی نے چین کا رخ کیا ہے یاد رکھیئے! چین مودی کی پرانی باتوں اور پالیسیوں اور فیصلوں کو بھولا نہیں، مودی کا داخلی قوم پرستی کا بیانہ، پاکستان کے خلاف رویہ کشمیر کو واپس لینے کی دھمکیاں، آرٹیکل 370 جیسے اقدامات نے دشمنی کو بڑھایا مودی کی جارحانہ پالیسیوں کی وجہ سے نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا نے بھی بھارت سے منہ موڑ لیا ہے، بھارت کے داخلی صورتحال بھی بگڑ چکی ہے ہندوتوا مودی پالیسی نے ہندوستان کو بانٹ دیا ہے بھارت پر عالمی اعتماد کم ہو رہا ہے، مودی پالیسیوں سے بھارت داخلی تقسیم ہونے جا رہا ہے، جبکہ پاکستان کی پاک فوج کی سفارتی حکمت عملی اور وزیر خارجہ اور ان کی ٹیم کی سفارتی حکمت عملی سے آج پاکستان کو عالمی سطح پر وہ مقام حاصل ہے جس کی قوم خواہش کرتی تھی۔

  • سیلاب متاثرین کیلئے سعودی امداداخوت ومحبت کا اظہار .تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    سیلاب متاثرین کیلئے سعودی امداداخوت ومحبت کا اظہار .تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    پاکستان ایک بار پھر قدرتی آفت کی زد میں ہے۔ صوبہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں بارشوں، تباہ کن سیلابوں اور کلائوڈ برسٹ نے نظامِ زندگی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ ہزاروں خاندان اپنے گھر بار اور بنیادی سہولیات سے محروم ہو گئے ہیں۔ یہ پاکستان کیلئے نہایت ہی مشکل وقت ہے ۔ایک طرف معاشی مشکلات ہیں دوسری طرف دہشت گردی کا عفریت ہے جس نے پاکستان کے دو صوبوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے ایسے حالات میں تباہ کن سیلاب نے حکومت اور عوام کی مشکلات میں بے حد اضافہ کردیا ہے ۔موسلا دھار بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں شدید تباہی ہوئی ہے ۔ درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، سینکڑوں گھر، مکانات اور انفراسٹرکچر تباہ ہوا، کھیت کھلیان بہہ گئے اور ہزاروں خاندان بے یارو مددگار کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔تباہی کا یہ سلسلہ ابھی جاری ہے جو دیگر صوبوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے ۔ تباہی اتنی زیادہ ہے کہ پاکستان کیلئے اس سے نمٹنا مشکل ہے ۔ ایسے نازک لمحات میں دنیا کے مختلف ممالک اور اداروں کی طرف سے مدد اور ہمدردی کے پیغامات موصول ہوئے۔ لیکن عملی قدم ہمیشہ کی طرح سعودی عرب نے ہی اٹھایا ہے ۔

    سب سے پہلے سعودی عرب کے فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے خیبر پختونخوا کے سیلاب اور کلاؤڈ برسٹ کے متاثرین سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس سلسلہ میں باقاعدہ صدر مملکت آصف علی زرداری کو خط لکھا ۔ یہ پیغام اور خط محض سفارتی نوعیت کا نہیں بلکہ دلی محبت اور بھائی چارے کا مظہر تھا۔

    بعد ازاں شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولیعہد محمد بن سلمان کی ہدایت پر سعودی عرب کے امدادی ادارے "کنگ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر” نے فوری طور پر پاکستان میں ریلیف آپریشن شروع کیا اور متاثرین کیلئے امدادی سامان روانہ کیاجو دس ہزار شیلٹر کٹس، دس ہزار فوڈ پیکجز ، سولر پینل اور کچن سیٹس پر مشتمل ہے ۔ شیلٹر کٹس میں متاثرہ خاندانوں کے لیے مکمل رہائشی سامان شامل ہے جبکہ فوڈ کٹس میں روزمرہ ضرورت کی تمام اشیائے خورونوش موجود ہیں جو متاثرہ گھرانوں کے لیے وافر انتظام فراہم کریں گی۔ہر فوڈ پیکج کا وزن پچانوے کلوگرام ہے، جس میں آٹا، چاول، دالیں، چینی، چائے اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔ یہ پیکجز ستر ہزار سے زائد متاثرین کو ایک ماہ تک خوراک فراہم کرنے کے لیے کافی ہیں۔ شیلٹر کٹس میں متاثرہ خاندانوں کے لیے خیمے، بستر، کمبل اور دیگر بنیادی رہائشی ضروریات شامل ہیں تاکہ بے گھر افراد کو فوری سہارا مل سکے۔ امدادی سامان میں سولر پلیٹ اور بلب بھی شامل ہیں تاکہ متاثرہ علاقوں کے لوگوں عارضی طور پر بجلی کا متبادل میسر آ سکے۔ یہ امداد مجموعی طور پر 10 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد مالیت کی ہے ۔

    کنگ سلمان ریلیف سینٹر کے کنٹری ڈائریکٹر عبد اللہ البراک کی نگرانی میں امدادی سامان پاکستانی حکام کے سپرد کیا گیا۔اس مقصد کی خاطر اسلام آباد کے سپورٹس کمپلیکس میں ایک باوقار تقریب ہوئی جس میں سعودی عرب کے سفیر جناب نواف بن سعید المالکی اور مشیر برائے الصوبائی رابطہ رانا ثناء اللہ نے خصوصی شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعودی سفیر جناب نواف بن سعید المالکی نے کہا یہ امدادی سامان سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی خصوصی ہدایات پر روانہ کیا جا رہا ہے۔ حالیہ بارشوں اور کلائو ڈ برسٹ کے نتیجے میں پاکستان میں ہونے والی تباہ کاریوں پر سعودی قیادت کو گہرا افسوس ہے اور اس مشکل گھڑی میں سعودی عوام اپنے پاکستانی بھائیوں کے ساتھ ہے۔انھوں نے کہا یہ امداد صرف وقتی ریلیف نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کی عکاسی بھی ہے۔ سعودی عرب مستقبل میں بھی پاکستان کے ساتھ انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت تعاون جاری رکھے گا تاکہ متاثرہ خاندان جلد از جلد اپنی معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔اس موقع پررانا ثنا ء اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیااور کہا کہ ہم خادم الحرمین ملک سلمان بن عبدالعزیز اور ولیعہد محمد بن سلمان اور سعودی عوام کے شکر گزار ہیں کہ وہ ہمیشہ ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیتے ہیں۔
    پاکستانی عوام نے بھی سعودی عرب کی اس بروقت مدد پر نہایت مثبت ردعمل دیا۔ سعودی قیادت اور عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔ خیبر پختونخوا کے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان وصول کرنے والے متاثرین نے ہاتھ اٹھا کر سعودی عرب کے لیے دعائیں کیں۔

    اگر ہم اس پورے واقعے کا تجزیہ کریں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عالمی سطح پر تعلقات محض سیاسی و تجارتی بنیادوں پر استوار نہیں ہوتے بلکہ حقیقی تعلقات وہی ہوتے ہیں جو دکھ درد میں ساتھ دینے سے پروان چڑھتے ہیں۔ سعودی عرب کی طرف سے امداد صرف ایک وقتی سہولت نہیں بلکہ ایک مضبوط پیغام ہے کہ پاک سعودی تعلقات وقت کے ساتھ مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے سیلاب اور کلاؤڈ برسٹ نے پاکستانی عوام کو شدید آزمائش میں ڈالامگر ان لمحات میں سعودی عرب کی ہمدردیاں اور عملی امداد ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح ثابت ہوئیں۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کے پیغامات نے پاکستانی عوام کے دل جیت لیے، کنگ سلمان ریلیف سینٹر کی امداد نے متاثرین کی زندگیوں میں آسانی پیدا کی، اور سعودی سفیر کے وعدوں نے امید کی نئی کرن روشن کی۔یہ واقعہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض دو ریاستوں کے تعلقات نہیں بلکہ دو بھائیوں کے رشتے کی مانند ہیں۔ یہ رشتہ اسلامی اخوت، قربانی، اعتماد اور محبت پر مبنی ہے، جو ہر آزمائش میں مزید مضبوط ہوتا ہے۔ یہی تعلق آنے والے وقتوں میں امت مسلمہ کی وحدت اور طاقت کی بنیاد بنے گا۔

  • "قصہ زیست” میری یادوں کا،”اپووا شان پاکستان”،تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    "قصہ زیست” میری یادوں کا،”اپووا شان پاکستان”،تحریر:قرۃالعین خالد(سیالکوٹ)

    یادوں کی پٹاری کھولوں تو 14 اگست 2025 کو بھی اپنی مٹھی میں بند کرنا چاہوں گی۔ میری یادداشت بھی عجیب ہے کبھی کبھی تو عرصہ دراز کے واقعات یاد ہوتے ہیں تو کبھی کل کی بات بھول جاتی ہوں۔ سفر زیست میں مجھے ہر طرح کے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا، الحمدللہ! مجھے اچھی باتیں اور اچھے لوگ یاد رہ جاتے ہیں اور بری باتیں اور برے لوگوں کو میں خود فراموش کر کے سفر زیست میں آگے بڑھ جاتی ہوں۔ گلا شکوہ نہیں کرتی بلکہ وہ راستہ اور اس طرف جانے والے ہر راستے کو چھوڑ دیتی ہوں۔ اس یقین کے ساتھ کہ اللّٰہ ہی بہترین کار ساز ہے۔ ارے ہم باتوں باتوں میں کہا نکل گئے۔ ہم تو بات کر رہے تھے ماہ اگست کی، اگست کا مہینہ آزادی کی خوشخبری کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللّٰہ رب العزت نے ہمیں پاکستان جیسی نعمت سے نوازا جہاں ہم اپنی مرضی سے دین اسلام کی پیروی میں آزاد ہیں۔ میں ایک سادہ سی گھریلو خاتون ہوں جو نعمتیں میرے پاس ہیں اس میں خوشی تلاش کر لیتی ہوں جو میرے رب نے عطا نہیں کیں اسے رب کی حکمت سمجھتے ہوئے مطمئن رہتی ہوں۔ دور حاضر میں قلب مطمئن سے بڑھ کر بھی کوئی نعمت ہو گی بھلا۔ میں کبھی بڑی خوشیوں کا انتظار نہیں کرتی ہمیشہ چھوٹی چھوٹی سی خوشیوں کو بھی بڑی خوشیوں کی طرح مناتی ہوں۔ ایسا ہی ایک پیغام میرے موبائل کے ان باکس میں آیا پرانے زمانے کی بات ہوتی تو میں کہہ سکتی تھی کہ کھڑی کھول کے دیکھو یہ کون پیغام رساں آیا ہے مگر اس دور میں تو پیغام موبائل پر ہی آتے ہیں تو میں بات کر رہی ہوں اپووا استحکام پاکستان کانفرنس کی اور مجھے "شان پاکستان” ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا۔ دل کی سچی بات بتاؤں؟ شاید یہ بات پڑھ کر بہت سے افراد کو برا بھی لگے لیکن میں تو اپنے قصہ زیست کی داستان سنا رہی ہوں بھلا کیوں کسی کو برا لگے گا۔ ایورڈ ملنے سے ذیادہ خوشی مجھے لوگوں سے ملنے میں ہوتی ہے۔ تقریب کے دن قریب آ رہے تھے اور میرا سٹریس بڑھ رہا تھا کہ کیسے جاؤں لاہور؟ بچوں کی چھٹیاں ان کے اسکول کا کام، امتحانات کی تیاری اور بہت کچھ لیکن الحمدللہ فائنلی پروگرام بن ہی گیا۔ ارے یہ کیا! جانے سے ایک دن پہلے سعد کی طبیعت کافی خراب ہو گئی اب تو مجھے لگا کہ لاہور جانا ناممکن ہے تو خاموشی سے بس اللّٰہ کے فیصلے کا انتظار کرنے لگی آخر کار سب ٹھیک ہو گیا اور میرا چھوٹا سا قافلہ لاہور جانے کو تیار ہو گیا۔ جلدی جلدی گھر کے سارے کام سمیٹ کر گاڑی میں بیٹھے لاہور جانا اپنے آپ میں خاص ہے۔ یہ جو لاہور سے محبت ہے دراصل کسی اور سے محبت ہے تو یہ بات مجھ پر بالکل صحیح ثابت ہوتی ہے۔ نانی امی کا گھر سب ماموں ان کی محبت اور سب پیارے رشتے وہیں تو ہیں میرے اب تو میرے بچے بھی لاہور سے اور لاہور والوں سے محبت کرنے لگے ہیں۔ یہ سچ ہے جہاں محبت اور عزت ملے وہیں پر انسان کا دل لگتا ہے تو بات ہو رہی تھی اپووا استحکام پاکستان کانفرنس کی تو لاہور پہنچتے ہی بچوں کو ماہ پارہ اور بھابھی کے پاس چھوڑا سب سے مل کر میں پاک ہیری ٹیج ہوٹل پہنچی جہاں کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا۔ علی بھائی، سفیان بھائی اور اسلم بھائی بہت جی جان سے کانفرنس کی تیاری کر رہے تھے۔ ان سب سے مل کر میں واپس گھر آئی اور اگلے دن کی تیاری کرنے لگی۔

    اگلی صبح بہت خوبصورت تھی۔ طلوع فجر سے ہی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے سلسلے کا آغاز ہو گیا تھا ہلکی ہلکی بوندا باندی نے ماحول کو مذید خوش گوار بنایا تھا۔ وہ جو کہتے ہیں نا کہ موسم کے اثرات آپ کی طبیعت کو بدل دیتے ہیں تو کچھ ایسا ہی ہوا اس دن، میں سوچ رہی تھی اٹہتر سال پہلے بھی مسلمانوں نے جب سر زمین پاک پر قدم رکھے ہوں گے تو ان کو بھی لاہور کی فضا اتنی ہی حسین اور پر سکون لگی ہو گی۔ ہجرت کے غموں کو بھول کر جب پاک زمین کی مٹی کو چوما ہو گا تب ان کے دل خوشی سے سر شار ہوئے ہوں گے۔ آج جس ملک میں ہم آزادی سے گھومتے پھرتے ہیں وہاں تک پہنچنا آسان نہیں رہا ہو گا۔ کتنی ہی قیمتی جانیں قربان ہوئی ہوں گی۔ ماؤں نے بیٹے، بیویوں نے سہاگ، بہنوں نے بھائی قربان کئے ہوں گے تب جا کر یہ آزادی ہمارا مقدر بنی ہو گی۔ دعا ہے کہ اللّٰہ رب العزت ہمیں اپنے شکر گزار بندوں میں شامل فرما لے اور نعمتوں کا قدر کرنے والا بنائے۔ آمین!

    اپنی گزشتہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے آل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن نے بھی یوم آزادی کے حوالے سے ایک تقریب منعقد کی جہاں دنیائے ادب کے عظیم شاہکاروں کو اکٹھا کیا، وہیں نومولود پودوں کو فراموش نہیں کیا گیا۔ یہ ننھے ادیب ان ننھے پودوں کی ہی طرح ہیں جن کو اپنے بڑوں کے سائے سے بہت کچھ سیکھنے کے مواقع اپووا فراہم کرتی ہے۔ بہت سے افراد اکثر پروپگنڈا کرتے نظر آتے ہیں کہ ہیں یہ کیا ہو رہا ہے مختلف ادبی تنظیموں کے اندر ایوارڈ ایوارڈ کھیلا جاتا ہے اور میں ہمیشہ کہتی ہوں نفسا نفسی کے اس دور میں جہاں ہر جگہ دوسرے کی ٹانگ کھینچا، کسی دوسرے پر منفی تنقید کرنا ہر بندہ اپنا فرض سمجھ کرتا ہے وہیں اگر کچھ اپووا جیسی تنظیمیں دوسروں کی زندگی میں چند پل خوشی کے دیتی ہیں تو جلنے والوں کا پھر منہ کالا ہی اچھا ہے۔ یہاں میں کسی تنظیم کا ساتھ نہیں دے رہی غیر جانبدار ہو کر بات کروں گی کیونکہ قلم آزاد ہے۔ جو بھی افراد معاشرے میں مثبت کام کر رہے ہیں وہ قابلِ عزت ہیں، قابل تعریف ہیں۔ چلیں جی بہت سنجیدہ باتیں ہو گئیں اب کچھ غیر سنجیدہ گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔ خواتین کا ازلی مسلہ، کسی بھی تقریب میں جانا ہو تو بھری ہوئی الماریاں بھی خالی ہی لگتی ہیں ایسا لگتا ہے ڈھنگ کا کچھ ہے ہی نہیں ہمارے پاس لیکن خوش قسمتی سے میرا شمار ان خواتین میں نہیں ہوتا کیونکہ جو میرے پاس ہے اس پر اللّٰہ کا شکر ہے تو فیصلہ ہوا کہ بہت پہلے سے خریدا ہوا سفید عیابا پہنا جائے جو میں صرف خاص موقعوں پر ہی نکالتی ہوں تو ثابت ہوا استحکام پاکستان کانفرنس بہت خاص تھی جلدی سے تیار ہو کر میں اور بی بی پاک ہیری ٹیج پہنچے، جہاں سب سے پہلے اپووا کے روحِ رواں ایم ایم علی بھائی سے ملاقات ہوئی۔ علی بھائی سے رشتہ بہت خاص ہے مگر اس وقت زاہد بھائی کی کمی شدت سے محسوس ہوئی یقیناً علی بھائی کو بھی ان کی کمی محسوس ہوئی ہو گی۔ عموماً اپووا کی تقریبات میں علی بھائی ہال کے اندر کے انتظامات سنبھالتے ہیں اور استقبالیہ پر ہمیشہ زاہد بھائی ہی ہوتے ہیں۔ جی تو آپ سوچ رہے ہوں گے اگر اتنے ہی خاص ہیں زاہد بھائی تو وہ کہاں ہیں تو جناب اللّٰہ کے فضل و توفیق سے وہ ان دنوں عمرہ کی سعادت حاصل کر رہے تھے۔ استقبالیہ پر علی بھائی نے تروتاز پھولوں کا گلدستہ پیش کیا وہیں پر پیارے چھوٹے بھائی نادر فہمی سے ملاقات ہوئی۔ ایسے سلجھے ہوئے نوجوان بچوں کو دیکھ کر دل سے دعا نکلتی ہے۔ نادر! اللہ پاک آپ کو ڈھیروں کامیابیاں نصیب فرمائے آمین! تو اب چلتے ہیں اندر ہال میں جو ماشاءاللہ کھچا کھچ ادبی دنیا کے ستاروں سے بھرا ہوا تھا۔ اتنے ستارے اکٹھے زمین پر سجے بہت خوش نما لگ رہے تھے۔ سب سے فرداً فرداً ملی مجھے لوگوں سے ملنا ان سے بات کرنا ان کو اپنی یادوں میں سمیٹنا بہت پسند ہے۔ میں کبھی انتظار نہیں کرتی کہ کوئی مجھ سے آ کر ملے میں خود آگے بڑھ کر ملنا پسند کرتی ہوں۔ سفیان بھائی، اسلم بھائی، مسکراتی مدیخہ کنول، زندگی سے بھر پور اقرا لاریب، بہت پیاری ایمن سعید اور عابدہ نذر سے ملاقات کے بعد جیسے ہی نشت سنبھالی تو پیاری حفصہ خالد کی آمد نے دل کو باغ و بہار کر دیا۔ سلامت رہیں حفصہ آپ مجھے ہمیشہ بہت پیاری لگتی ہیں۔ اللّٰہ رب العزت آپ کو استقامت عطا فرمائے اور آپ سے راضی ہو جائے۔ آمین!
    آج کا دن ایک خاص فرد کے نام جس سے میرا رابطہ کسی ادبی گروپ کے ذریعے ہوا اور مجھے چھوٹے بھائیوں کی طرح عزیز ہو گیا۔ اب آپ سوچ سکتے ہیں کہ سب کی تعریف ہی کر رہی ہوں میری زندگی میں کوئی دھوکے باز، منفی سوچ اور غلط افراد کیوں نہیں تو جناب بتایا نا کہ ایسے افراد کو میں بھول جاتی ہوں۔ اسامہ معاویہ چکوال سے تشریف لائے اور سب افراد مصروف تھے تو میں نے ہی اپنے بھائی کا پھولوں سے استقبال کر لیا پھر اسے نادر سے ملوایا اور اس کے حوالے کیا۔ اسامہ میرے لیے چکوال سے وہاں کی خاص ریوڑی لائے اور جو ڈائری میں اس کے لیے لائی فورا اسے دے دی ان تمام قیمتی مناظر کو کیمرے کی آنکھ میں قید کرنا نہ بھولی۔ سلامت رہیں اسامہ اللہ پاک آپ سے راضی ہو جائے۔ آمین! اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اپووا نے اپنے مہمانوں کے لیے پر تکلف ناشتے کا اہتمام کیا۔ دور دراز سے آئے ادبی ستارے پیٹ پوجا کے بعد ایک دم تروتاز ہو گئے۔ ناشتے کے بعد پرچم کشائی کی گئی۔ میرے لیے یہ بالکل ایک نیا تجربہ تھا۔ آج سے پہلے میں نے یہ منظر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ شکریہ اپووا! الحمدللہ رب العالمین میرے سوہنے رب جس نے وطن عزیز کی پر امن فضا عطا فرمائی۔ موسم بھی بہت سہانا تھا۔ ہلکی ہلکی بارش اور ہوا میں پرچم آسمان میں لہرایا گیا۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز سفیان بھائی نے تلاوت قرآن پاک سے کیا۔ ایک بار پھر مجھے زاہد بھائی کی کمی محسوس ہوئی۔ عائشہ شکیل کی نعت سے ماحول میں تازگی آ گئی۔ قومی ترانے نے جو دل کے تاروں کو مزید جوش و جذبہ عطا کیا۔ ایمان کی ساٹھ شاخیں ہیں وطن سے محبت بھی ایمان کے پودے کی ایک شاخ ہے۔ وقت کو ضائع نہ کرتے ہوئے مدیخہ کنول نے پروگرام کو آگے بڑھایا اور ایوارڈز کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ننھے ادبی ستاروں کے جھرمٹ میں بہت روشن ستاروں کی موجودگی باعث رحمت تھی۔ پروگرام کی صدارت ناصر بشیر صاحب نے کی جو نہایت ہی عاجز اور سادہ انسان ہیں۔ اس کے علاؤہ اورنگزیب لغاری صاحب جو کہ بے حد خوش اخلاق اور ملنسار انسان ہیں۔ عذرا آفتاب صاحبہ اپنی دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسٹیج کی رونق کو بڑھا رہی تھیں۔ طارق بلوچ صحرائی صاحب کو مل کر ایسا لگا کہ آپ بلند اپنے کام اور کرادر سے ہوتے ہیں۔ ان کے مزاج کی سادگی ہی ان کی کامیابی ہے۔ اختر عباس صاحب کی آمد نے سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی۔ علی بھائی کے ایک جملے نے ساری فضا کو تازگی بخش دی۔ جب ان کی واسکٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا کہ شاید وہ اپنی شادی پر بھی اتنے اچھے نہیں لگتے ہوں گے تو اس بات کا انہوں نے جواب دیا کہ "وہ قید کا دن تھا اور آج 14 اگست آزادی کا دن ہے۔” اس بات نے سب کے چہروں پر ایک تبسم بکھیر دیا۔

    اب تقریب میں آمد ہوتی ہے ایک خاص انسان کی جن کا سینہ قرآن پاک سے منور ہے۔ جی تو میں بات کر رہی ہوں قومی ایوارڈ یافتہ قاری القرآن عمر دراز خان صاحب کی۔ ان کی پر سوز آواز نے تقریب میں موجود ہر فرد کے دل کو چھو لیا۔ سر! اللہ پاک آپ کی عمر دراز کرے آمین! سر شہزاد نیر کی باتیں اور کلام ہمیشہ کی طرح بہت جاندار تھا۔ گوجرانولہ کی پیاری شاعرہ کی شاعری اور آواز دونوں دل کو چھو گئے۔ ارے اس سفر میں مجھے ایک پیاری سی لڑکی قرۃالعین حیدر بھی ملی جو اپنے بابا کے ساتھ تھی۔ اس کو میں فیس بک پر اس کے بابا کے ساتھ تصاویر میں دیکھا۔ مجھے لگا اس کا اپنے بابا سے ویسا ہی رشتہ ہے جیسا میرا میرے ابو جی کے ساتھ۔ کتنے پیار سے رکھتے ہیں نا باپ اپنی بیٹیوں کو، ان کو سپورٹ کرتے ہیں اور کتنا آئیڈلائز کرتی ہیں نا بیٹیاں اپنے باپ کو، مجھے لگتا ہے بیٹیاں اپنے شریک حیات میں ہمیشہ اپنے والد والی خوبیاں تلاش کرتی رہ جاتی ہیں اور یہیں پر وہ غلطی کرتی ہیں۔ او! کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہو گیا معاملہ۔ چلو بھی ڈھونڈ لاتے ہیں پیارے بچپن کو، میرے بچپن کی حسین یادوں میں سے ایک یاد "عینک والا جن” بھی ہے۔ ہائے! وہ بھی کیا دن تھے جب ہم مسجد میں قاری صاحب سے بہانے بنا بنا کر گھر کی طرف بھاگتے تھے کہ عینک والے جن کا کوئی سین مس نہ ہو جائے۔ اپووا کی اکثر تقریبات میں حسیب پاشا صاحب کو دیکھا لیکن ملنے کا موقع آج ملا۔ ان سے بات کر کے لگا ہی نہیں کہ وہ اتنے بڑے آدمی ہیں انتہائی عاجزی سے ملے۔ واقعی بڑے سچ ہی کہتے ہیں جو ڈالی جھک جاتی ہے اس پر پھل ذیادہ لگتا ہے۔ انہوں نے جٹ سے اپنا کارڈ نکالا اور بچوں کو عینک والا جن دیکھنے کی دعوت دی۔ پروگرام اپنے اختتام کی طرف بڑھنے لگا لیکن میری پسندیدہ شخصیت لگتا ہے اس پروگرام میں بھی نہیں آ سکیں گی۔ اسامہ معاویہ کو واپس چکوال جانا تھا تو اسے اللّٰہ حافظ کرنے میں باہر آئی۔ ارے یہ کیا سر افتخار افی کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا جٹ سے سر کو سلام کیا، اسامہ کو اللہ خافظ کہا اور دوبارہ سے ہال میں واپس آ گئی۔ سر کو ڈائری گفٹ کی اور تصویر بنائی۔ میرا تو دن بن گیا بعض دفعہ کسی کی کہی روٹین کی عام سی باتیں آپ کے لیے خاص بن جاتی ہیں اور آپ کو آگے بڑھنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔ ہمیشگی صرف اللّٰہ رب العزت کا خاصا ہے انسان تو بس آتے ہیں اور جاتے ہیں۔ لوگوں کے آنے اور جانے سے کاروان زندگی رکتا نہیں۔ کسی کے جانے سے کوئی مر نہیں جاتا ہاں مگر زندگی گزارنے کا انداز بدل جاتا ہے اور یہ بھی جانے والے اور پیچھے رہ جانے والے کے رشتے پر منحصر ہے کہ زندگی کس انداز میں بدلتی ہے۔ ملک یعقوب اعوان صاحب کو اپووا کی تقریب میں مہمان کی صورت دیکھا تھا آج ان کی میزبانی و قیادت میں ایک مکمل اور بھر پور پروگرام دیکھ کر اندازہ ہوا کہ کاروان زندگی کبھی کسی کے لیے نہیں رکتا یہ تو چلتا ہی جاتا ہے۔ زندگی ویسے ہی رہتی ہے بس زندگی کے اسٹیج کے کردار بدل جاتے ہیں۔ یہ دنیا فانی اس کا ہر رشتہ فانی ہے جانے والوں کو کوئی یاد نہیں کرتا اگر انسان اپنے سے جڑے رشتوں کا جوگ پال لے تو زندگی میں آگے بڑھنا ممکن نہیں ہوتا۔ میں آل پاکستان رائٹرز ایسوسی ایشن کی تمام ٹیم کو اتنے شاندار پروگرام کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ دنیا اگر مکمل لگنے لگے تو انسان اسی میں دل لگا لیتا، دنیا کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ یہ نامکمل ہے۔ ہر چیز کی کمی اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ مکمل تو رب کی ذات ہے۔ بہت سے افراد کو شاید استحکام پاکستان کانفرنس میں کچھ کمی محسوس ہوئی ہو مگر اپنی سوچ کو مثبت رکھیں کوتاہیوں اور غلطیوں کو نظر انداز کریں اور کوششوں کو سراہا سیکھیں۔ زندگی جو دے ان حسین لمحوں کو وقت کی مٹھی میں قید کرتے ہوئے میں نے اپنے اس دن کے ہمسفر الماس العین خالد کے ساتھ واپسی کی راہ لی۔ بچے بھی گھر پر منتظر تھے۔ ہمیشہ دوسروں کی زندگیوں میں آسانیاں بانٹیں مثبت رہیں۔ ان شاءاللہ! پھر کسی قصہ زیست کے ساتھ ملیں گے۔ اے میری پیاری ڈائری اللّٰہ نگہبان!

  • راہ چلتے ملی پرچی اور میاں عامر محمود کے 33 صوبے .تحریر:سید امجد حسین بخاری

    راہ چلتے ملی پرچی اور میاں عامر محمود کے 33 صوبے .تحریر:سید امجد حسین بخاری

    میں فیلڈ جرنلسٹ نہیں ہوں، میں ڈاٹس کونیکٹ کرکے خبر تلاش کرتا ہوں اور اسے خبر کی بنیاد پر تجزیہ پیش کرتا ہوں، جو کم و بیش درست ہوتا ہے۔ آج سپیرئیر یونیورسٹی کے تاریخی ہال میں نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود تھی، یہ وہی ہال تھا جہاں چند سال پہلے میں نے لفافہ جرنلزم پر اپنا ریسرچ پیپر پیش کیا تھا، لیکن آج کی میٹنگ مختلف نوعیت کی تھی، سٹیج پر سپیرئیر گروپ کے کاروباری حریف میاں عامر محمود صوبوں کی تقسیم پر دلائل دے رہے تھے، انہوں نے تجویز پیش کی کہ ہر ڈویژن کو ایک صوبہ بنایا جائے، اور ملک کو 33 انتظامی یونٹس میں تقسیم کیا جائے، ہر صوبے میں 16 محکمے بنانے کی تجویز کے ساتھ ساتھ انہوں نے کمشنر کو چیف سیکرٹری بنا دیا جائے، انہوں نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ "ابھی آتے ہوئے کسی نے ایک لفافہ دیا ہے، جس میں کچھ مزید تجاویز ہیں جو میری نظر میں قابل عمل ہیں۔” لفظ کسی کو سنتے ہی میں نے ڈاٹس ملانا شروع کر دئیے، معدنیات بل کی مخالفت، نہروں کے معاملے پر احتجاج، ستائیسویں ترمیم پر شور شرابا، ان تین نکات نے مقتدر حلقوں کو دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کر دیا ہے۔ پاکستان میں صوبوں کی تقسیم سے فی الحال سیاسی جماعتوں کا اثر کم کرنے کا تاثر ملتا ہے، جیسے پیپلز پارٹی کو دیہی سندھ تک محدود کرنا، کراچی، حیدر آباد اور سکھر پر پرو اسٹیبلشمنٹ ایم کیو ایم کا اثر بڑھے گا، پنجاب میں ن لیگ کو جی ٹی روڈ یا شمالی پنجاب کی جماعت بنانا جبکہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کو اثر کم ہو جائے گا، کیا تقسیم سے زیادہ بلدیاتی نظام کو بہتر نہیں بنانا چاہیے؟ کیا اس تقسیم سے اپنی پسند کا وزیرِ اعلیٰ لانے میں آسانی نہیں ہو جائے گی؟ اس ساری بحث سے لگ رہا ہے کہ مسائل حل کرنا مقصود نہی بلکہ عوام کو مزید چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں تقسیم کر کے کمزور کرنا ہے تاکہ نظام کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ ہو۔ بہرحال ہال میں موجود نوجوانوں نے اسی سے ملتے جلتے سوالات کئے، لیکن کسی سوال کا جواب نہیں ملا اور تشنگی ابھی باقی ہے،

    بہرحال سپیرئیر کے ریسرچ ہال میں بریانی، قورمہ اور چائے پی کر میں نے دفتر کی راہ لی، کمرے میں بیٹھ کر تصویر بنائے اور اپنے گھر میں بستر پر بیٹھے یہ روداد تحریر کردی ہے، بہرحال مولانا فضل الرحمان، زرداری ، نواز شریف اور ایم کیو ایم اگر وسیع تر قومی مفاد میں ایک ہوسکتے ہیں تو لاہور کی دو بڑی کاروباری حریف شخصیات کے ساتھ بیٹھنے پر بھی حیرانی ہر گز نہیں ہونی چاہیے، جنریشن زی کو خواب دکھانے کے سفر کا آج آغاز ہوچکا ہے، ون یونٹ سے لیکر اٹھارویں ترمیم تک تجربے ہوچکے ہیں، ایک اور تجربہ سہی، کیونکہ پاکستان ایک تجربہ گاہ ہے اور یہاں جنگ کے ڈیزائن بھی سیاست دان ہی بناتے ہیں

  • کردار سے تنہائی اور بدحالی کا شکار  بھارت مکار،تحریر: غنی محمود قصوری

    کردار سے تنہائی اور بدحالی کا شکار بھارت مکار،تحریر: غنی محمود قصوری

    دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت بھارت کو مانا جاتا ہے اور خود کو چوھدری ثابت کرنے کیلئے ہر جگہ پنگے لیتا ہے مگر الٹا ذلیل ہو کر اپنی معیشت تباہ کروا رہا ہے،بھارت کے 6 زمینی اور 2 دو سمندری حدود پر مشتمل ہمسایہ ممالک ہیں،بنگلہ دیش 4096 کلومیٹر ،چائنہ 3488 کلومیٹر ،پاکستان 3323 کلومیٹر،نیپال 1751 کلومیٹر،میانمار 1643 اور بھوٹان کی 699 کلومیٹر سرحد بھارت کیساتھ ملتی ہے جبکہ سری لنکا اور بھوٹان کی زمینی سرحد بھارت کیساتھ نہیں بلکہ ان کی سمندری سرحد اس سے ملتی ہے

    قابل ذکر بات ہے کہ بھارت کی اپنے تمام ہمسایہ ممالک میں سے کسی ایک کیساتھ بھی اچھے تعلقات نہیں ہیں بلکہ ان کیساتھ کئی بار جنگیں و جھڑپیں ہو چکی ہیں،چائنہ بھارت تنازعات کا آغاز 1950 میں ہوا اور بھارت بالآخر تبت پر قبضہ کروا بیٹھا،1959 میں بھارت نے چائنہ کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کو باوجود چائنہ کے منع کرنے کے، پناہ دی جس کی وجہ سے حالات کشیدہ ہوتے گئے اور بالآخر 1962 میں بھارت چائنہ جنگ ہوئی، 1967 میں پھر سے ناتھولا اور چولا جھڑپیں ہوئیں اور 2017 میں داکلام اور اس کے بعد وادی گلوان میں 2020 کو پھر جھڑپیں ہوئیں جس میں بھارت کو سخت نقصان پہنچا ، تاحال چائنہ اور بھارت کے حالات سخت کشیدہ ہیں

    بھارت کی جانب سے میانمار کے اندر مسلسل اندرونی مداخلت کے باعث 2015 میں میانمار کے ماؤ نواز باغیوں نے بھارت پر بہت بڑا حملہ کیا جس میں بھارت کے 18 فوجی مارے گئے تھے،سری لنکا میں بھارت نے 1980 میں اندرونی مداخلت کرکے علیحدگی پسند تنظیموں کو سپورٹ کرنا شروع کیا اور خود ہی اندرونی خانہ جنگی کو کنٹرول کرنے کیلئے 1987 میں اپنی فوج سری لنکا میں بیجھی تاہم اپنے 1500 فوجی مروا کر 1990 میں فوج واپس بلا لی جس کے باعث سری لنکن گروپ ایل ٹی ٹی ای نے 1991 میں بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کو قتل کیا جسے مالدیپ کے باغیوں کی بھی حمایت حاصل تھی،3 نومبر 1988 کو مالدیپ میں انڈین فوج نے تامل باغیوں کے خلاف آپریشن میں حصہ لیا جس کی وجہ سے آج دن تک تامل باغی انڈین علاقوں پر حملے کرتے رہتے ہیں

    بھوٹان میں 2017 کو،ڈوکلام میں بھوٹان اور چائنہ کے متنازعہ سنگم پربھارت نے اس میں شامل ہوکر اپنی فوج بیجھی اور 73 دن تک خود اور بھوٹان کو چائنہ سے مار پڑوا کر بالآخر فوجوں کی واپسی کروائی جس کے نتیجے میں بھوٹان نے چائنہ سے راہ رسم بڑھایا تو آجکل بھوٹان اور بھارت کے تعلقات کچھ خراب ہو چکے ہیں

    سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش میں بھارت نے 1971 میں پاکستان کے خلاف جنگ لڑی اور الگ ملک بنگلہ دیش بنوایا اور اس کا کنٹرول عملاً اپنے پاس رکھا تاہم 2001 میں اگرتلہ اور راجشاہی کے علاقے میں بنگلہ دیش اور بھارتی فوج کے مابین شدید خونریزی ہوئی جس کے باعث دونوں کے حالات خراب ہوتے گئے اور بالآخر اگست 2024 میں حسینہ واجد کے تختہ الٹنے کے بعد بھارت نے حسینہ واجد کو پناہ دی جس کے بعد پھر حالیہ چندہ ماہ قبل بنگلہ دیش و بھارت کے مابین سخت جھڑپیں ہوئیں اور اب بھی وقفے وقفے سے جاری رہتی ہیں جو کسی بھی وقت بڑی جنگ میں بدل سکتی ہیں

    شروع دن سے ہی نیپال سے بھی بھارت کے تعلقات اچھے نہیں رہے ،مسلسل اندرونی مداخلت اور کالا پانی، لیپولیخ اور لمپادھورا تنازعات سے پریشان نیپال نے جون 2020 میں سیتا مڑھی کے علاقے میں ایک انڈین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جس کے باعث دونوں ممالک کے حالات کشیدہ ہوئے تو نیپال نے اپنا نیا نقشہ جاری کیا جس میں کالا پانی،لیپولیخ اور لمپادھورا کو نیپال کا حصہ قرار دیا گیا اس پر بھارت نے سخت احتجاج کیا تاہم نیپال نا مانا اور پوری دنیا میں بھارت کی جگ ہنسائی ہوئی

    بھارت کے سب سے زیادہ خراب تعلقات پاکستان کیساتھ ہیں کہ جس نے اپنے وجود کے محض 80 دن بعد 1947 میں ہی مقبوضہ کشمیر کا 13297 مربع کلومیٹر کا علاقہ چھین کر آزاد ریاست جموں و کشمیر قائم کی اس کے بعد 965,1971,1999 میں پاک بھارت جنگیں ہوئیں اور اب گزشتہ چند ماہ قبل مئی میں جنگ ہوئی جس میں بھارت نے منہ کی کھائی اور پوری دنیا کے سامنے ذلیل ہوا،8 دہائیاں گزرنے کے باوجود بھارت آزاد کمشیر کو واپس لینے کے دعوے تو کرتا رہا مگر ہر بار منہ کی کھاتا رہا ہے،اور اپنے اسی روئیے کے باعث بھارت دنیا بھر اور خاص طور پر اپنی ہمسائیگی میں مکمل تنہاء ہو چکا ہے اور اس کی معیشت بڑی تیزی سے تباہ ہو رہی ہے،5 اگست 2019 کو بھارت نے نہتے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی آزادی پر شب و خون مارتے ہوئے خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 اے و 35 اے ختم کیا مگر الحمدللہ حالیہ پاک بھارت جنگ نے امید کی ایک نئی کرن دکھائی کہ اب ایک بار پھر سے مقبوضہ کمشیر کا علاقہ بھارت کے ہاتھوں نکل کر آزاد کشمیر کا حصہ بنے گا اور دنیا بھارت کی تباہی کا تماشہ ایک بار پھر سے دیکھے گی
    ان شاءاللہ

  • ناکامی کا خوف ،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    ناکامی کا خوف ،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    ہم ایک ایسی دُنیا اور معاشرے میں رہتے ہیں جہاں ناکامی کا خوف اس قدر شدید ہے کہ انسان اپنے اندر قدرتی صلاحیتوں کو دیکھنے کی بجائے خوف کے سیایہ میں زندگی بسر کر رہا ہے۔

    ہمارے معاشرے میں ہر انسان کامیاب ہونا چاہتا ہے ناکام ہونا نہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ناکامی کا خوف اور کامیابی کا دباؤ ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ناکامی کا تصور اس قدر منفی اور محدود ہے کہ ناکامی کا لفظ سنتے ہی ہم حواس باختہ ہوجاتے ہیں۔ بچپن ہی سے ہمارے ذہنوں اور دلوں میں ناکامی کا ڈر اس قدر انڈیل دیا جاتا ہے کہ ہم ناکامی کے خوف سے ساری زندگی باہر ہی نکل پاتے ہیں۔ ناکامی کے لفظ کے ساتھ جُڑی شرمندگی اور نفرت ہمیں مجبور کردیتی ہے کہ ہم کامیابی کے لیے جستجو کرنے ہی کو ضروری نہیں سمجھتے ہیں۔

    کچھ لوگوں کو ناکامی کا نہیں ناکافی کا خوف مار دیتا ہے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ کامیابی اور ناکامی کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ ناکامی کا خوف ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے ڈر ہر انسان کو ہر بڑا مشکل اور کھٹن کام کرنے کے آغاز میں لگتا ہے۔ نامعلوم کا خوف ان جانے راستے کی پریشانی ناکامی کا ڈر اور سب سے بڑا خوف اپنے اندر کے خوف پر فتح ناکام لوگ اس ڈر سے ڈر جاتے ہیں اور فاتح اپنے اندر کے ڈر پر قابو پالیتے ہیں۔

  • جرائم کا خاتمہ محفوظ معاشرے کی بنیاد،تحریر: غنی محمود قصوری

    جرائم کا خاتمہ محفوظ معاشرے کی بنیاد،تحریر: غنی محمود قصوری

    جس مملکت و ریاست میں جرائم ہو گا وہاں خوشحالی نہیں ہو گی وہاں بدامنی اور غربت کا راج ہو گا
    جدید سعودی عرب کا باضابطہ قیام 1932 میں ہوا اس سے قبل سعودی عرب پسماندہ اور بدامن ترین ملک تھا کہ جہاں چوری،ڈکیتی قتل،شراب نوشی اور قبائلی جھگڑوں سے ہلاکتیں تک عام بات تھیں
    حتی کہ دنیا بھر سے جانے والے عازمین حج کو بھی لوٹ لیا جاتا تھا لوگ مقدس فرض حج کیلئے جانے سے کترانے لگے تھے کیونکہ تمام راستے غیر محفوظ ہو گئے تھے قانون و ریاست نام کی کوئی چیز موجود ہی نا تھی

    1927 سے پہلے موجودہ جدید مملکت سعودی عرب کو حجاز مقدس اور نجد کے نام سے جانا جاتا تھا جو کہ ایک انتہائی بدامن اور مالی طور پر کمزور ترین علاقہ تھا جہاں سینکڑوں قبائل آباد تھے جن کے درمیان مسلسل جھگڑے،لوٹ مار اور قتل و غارت گری عام تھی حتی کہ ہر قبیلہ اپنا الگ قانون رکھتا تھا جبکہ مشترکہ مرکزی قانون و حکومت کا نام و نشان تک نا تھا
    اسی باعث ہی ان لوگوں کے ہاتھوں حاجیوں کے قافلے بھی لٹ جایا کرتے تھے
    سلطنت عثمانیہ کا کنٹرول محض مکہ،مدینہ اور جدہ تک ہی محدود تھا
    پورے خطے میں کوئی مالیاتی نظام موجود نا تھا اور زیادہ تر قبائل بدوی زندگی شدید غربت میں گزارتے تھے
    بارشیں نا ہوتیں تو کئی کئی سال تک قحط رہتا لوگ بھوکے مرتے تھے کیونکہ آبپاشی کا باقاعدہ نظام نا تھا جس کی وجہ مرکزی حکومت کا نا ہونا تھا
    1902 میں شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود نے ریاض پر قبضہ کر لیا اور 1913 میں عثمانیوں سے احسہ کا علاقہ لے لیا اور 1924 سے 1925 تک مکہ،مدینہ اور طائف پر کنٹرول کر لیا اور 1926 میں مشترکہ طور پر شاہ عبدالعزیز بادشاہ حجاز مقدس و نجد مقرر ہوئے

    جرائم کو کنٹرول کرکے مملکت کو جدید بنانے،امن و امان و خوشحالی کی خاطر
    1927 سے 1930 تک سعودی ریاست نے مختلف علاقوں جیسے کہ نجد،حائل،عیسر اور حجاز وغیرہ میں، چوری،ڈکیتی اور قتل و شراب نوشی کے ملزمان کو سزائیں دیں

    ایک اندازے کے مطابق 1000 سے زائد لوگوں کو پھانسیاں دی گئی یا پھر تلوار سے گردن اتاری گئی
    لوٹ مار اور قتل و غارت گری میں اخوان تحریک سے تعلق رکھنے والے ملزمان بھی شامل تھے جن میں سے بیشتر کا تعلق مختلف قبائل سے تھا ان کو بھی قتل کیا گیا
    سعودی عرب کا امن برباد کرنے والے یہ لوگ گروہ بنا کر قافلوں کو لوٹتے تھے اور ریاستی اقتدار کو چیلنج کرتے تھے

    ایسے فسادی اور ملک دشمن عناصر کہ جن کی وجہ سے امن و امان برباد ہو جائے اور جینا مشکل ہو جائے ان لوگوں بارے قرآن مجید کچھ اس طرح بیان فرماتا ہے

    اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیۡنَ یُحَارِبُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ یَسۡعَوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ فَسَادًا اَنۡ یُّقَتَّلُوۡۤا اَوۡ یُصَلَّبُوۡۤا اَوۡ تُقَطَّعَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ اَرۡجُلُہُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ اَوۡ یُنۡفَوۡا مِنَ الۡاَرۡضِ ؕ ذٰلِکَ لَہُمۡ خِزۡیٌ فِی الدُّنۡیَا وَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ

    جو اللہ تعالٰی سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا انہیں جلا وطن کر دیا جائے یہ تو ہوئی انکی دنیاوی ذلت اور خواری اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے

    جبکہ ایسے لوگوں کیلئے حدیث رسول ہے

    ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں پر حملہ کر دیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پیر کاٹ دیئے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں
    بحوالہ سنن ابن ماجه/كتاب الحدود/حدیث 2579
    دوسری روایت میں ہے کہ وہ پیاس کے مارے تڑپتے رہے لیکن کسی نے ان کو پانی نہیں دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے یہ آنکھیں پھوڑنا اور پانی نہ دینا تشدد کے لئے نہ تھا بلکہ اس لئے تھا کہ انہوں نے کئی کبیرہ گناہ کئے تھے، ارتداد، قتل، لوٹ پاٹ، ناشکری وغیرہ
    بعضوں نے کہا کہ یہ قصاص میں تھا کیونکہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کے ساتھ ایسا ہی کیا تھا، غرض بدکار، بدفعل، بے رحم اور ظالم پر ہرگز رحم نہیں کرنا چاہئے، اور اس کو ہمیشہ سخت سزا دینی چاہئے تاکہ عام لوگ تکلیف سے محفوظ رہیں، اور یہ عام لوگوں پر عین رحم و کرم ہے کہ ظالم کو سخت سزا دی جائے، اور ظالم پر رحم کرنا غریب رعایا پر ظلم ہے
    قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
    قال الشيخ زبير على زئي:إسناده

    دیکھا جائے تو آج پاکستان میں بھی حجاز مقدس اور نجد جیسے برے حالات ہیں

    قتل و غارت گری،ڈکیتی،زنا،شراب نوشی اور لوگوں کی زمینوں پر قبضے کرنا جواء کھیلنا اور کھلوانا،غریب اور کمزور لوگوں پر ظلم کرنا
    عام ہو چکا ہے جس کے باعث امن و امان کی صورتحال خراب ترین ہو چکی ہے
    عام اور کمزور و غریب لوگوں کا جینا مشکل تر ہو چکا ہے

    امن و امان قائم رکھنے اور جرائم کو ختم کرنے کیلئے ویسے تو پولیس و دیگر ادارے پہلے سے موجود ہیں مگر ان کی کارکردگی نا ہونے کے برابر ہے اسی لئے پنجاب گورنمنٹ نے اب امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے اور جرائم کو ختم کرنے کیلئے فروری 2025 میں پولیس آرڈیننس 2025 کے تحت کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ یعنی سی سی ڈی کا قیام عمل میں لایا ہے
    سی سی ڈی کی حتمی منظوری اپریل میں ہوئی جبکہ اس محکمے میں تقریباً 4300 اہلکار ہیں جو جدید ترین سہولیات سے آراستہ ہیں
    فی الوقت تو سی سی ڈی کی کارکردگی اچھی ہے خدانخواستہ اگر اس کی کارکردگی بھی پنجاب پولیس کی طرح رہی اور لوگوں کو وڈیروں،جاگیرداروں اور سیاستدانوں کے کہنے پر قتل کیا گیا تو پھر امن و امان درست ہونے کی بجائے مذید خراب ہو گا
    فی الوقت سی سی ڈی کی اچھی اور اعلی سطحی کاروائیوں سے جرائم پیشہ لوگ ڈر کر توبہ تائب کر رہے ہیں اور بیشتر بھاگ بھی گئے ہیں
    بہت سے جرائم پیشہ اور دہشت کی علامت لوگ ویڈیو کی صورت میں بیان حلفی دے رہے ہیں کہ ہم آئندہ شریفانہ زندگی گزاریں گے جو کہ ایک انتہائی خوش آئند بات ہے
    اللہ کرے یہ محکمہ اسی طرح میرٹ پر کام کرے اور کسی جاگیردار،سیاست دان و وڈیرے کا آلہ کار نا بنے تاکہ امن و امان کی صورتحال بہتر ہو کر پاکستان ترقی کرے اور پاکستانی قوم بھی ایک محفوظ اور ترقی یافتہ معاشرے کا حصہ بنے
    آمین