Baaghi TV

Category: متفرق

  • پہلی جنگ عظیم کی مکمل داستان حصہ دوئم تحریر:اصغرعلی

    پہلی جنگ عظیم کی مکمل داستان حصہ دوئم تحریر:اصغرعلی

                                                       

    اس کے بعد جرمنی جو کہ بلجئیم پر قبضہ کر چکا تھا اور بیلجیئم کے راستے فرانس کے دارالحکومت پیرس کے قریب پہنچ چکا تھا اس کو ادھر  بر طانوی فوج کا سامنا کرنا پڑ گیا جیسے ہی برطانوی فوج کا سامنا ہوا تو ادھر جرمنی کی پیش قدمی پوری طرح رک چکی تھی کیونکہ فرانس اور برطانیہ  نے مل کر جرمنی کی فوج پر ایک بڑا حملہ کر دیا مجبورا جرمنی کو دفاعی پوزیشن لینی پڑی اور واپس اپنے ملک میں آہستہ آہستہ کر کے جرمن فوج چلی گئی اس لڑائی کو بیٹل آف برلن بھی کہا جاتا ہے ایک طرف سے جرمنی کو بری طرح شکست ہو چکی تھی لیکن دوسری طرف جرمنی نے روس کے تین لاکھ سپاہی مار دیے تھے یہی وہ وقت تھا جب نہ چاہتے ہوئے بھی مسلمانوں کی سب سے بڑی سلطنت سلطنت عثمانیہ نے روس پر حملہ کر دیا اور اس طرح سلطنت عثمانیہ پہلی جنگ عظیم کا حصہ بن گیا یہی وہ غلطی تھی جس کا خمیازہ مسلمانوں کی سب سے بڑی سلطنت یعنی سلطنت عثمانیہ کو اٹھانا پڑا کیونکہ اسی جنگ عظیم کے بعد سلطنت عثمانیہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی اور  سلطنت عثمانیہ کا نام و نشان تک ختم ہو گیا کیوں کہ سلطنت عثمانیہ نے جیسے ہی روس پر حملہ کیا تو اسی ٹائم روس کے فوجی اتحاد برطانیہ فرانس اور دو تین ملکوں نے سلطنت عثمانیہ پر مغرب والی سائیڈ سے ایک بڑا حملہ کر دیا لیکن سلطنت عثمانیہ بھی آخر کار عثمانی سلطنت ہی تھی اس نے مغربی اتحاد یعنی کے فرانس اور برطانیہ کی فوج کو  چند ہی گھنٹوں میں شکست سے دوچار کر دیا اور یہاں بھی مغربی اتحاد کو کامیابی نصیب نہیں ہوئی یہ وقت انیس سو سولہ کا تھا اور اس وقت تک مغربی اتحاد کے ڈھائی لاکھ فوجی مارے جا چکے تھے ادھر موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سلطنت عثمانیہ نے سوئس کینال کے علاقے پر حملہ کر دیا یہ بہت اچھی حکمت عملی تھی کیونکہ اگر کسی بھی طرح س سوئس کینال اس وقت سلطنت عثمانیہ کے قبضے میں آجاتی تو برطانیہ پہلی جنگ عظیم برے طریقے سے ہار جاتا اور اپنا سپرپاور سٹیٹس بھی گنوا بیٹھتا کیونکہ اس وقت دنیا کی تمام بڑی تجارتیں اسی سوئس کینال سے ہوا کرتی  تھی اور آج بھی یہ سوئس کنال ترکی کا حصہ سمجھی جاتی ہے مگر ایسا نہیں ہوا برطانیہ جو کہ سوپر پاور تھا اس نے سعودی عرب میں سعودی باغیوں  کو سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت پر اکسا  دیا اور ان کو فتح کی صورت میں آزادی دینے کا وعدہ کیا اس کے بعد انیس سو سولہ کے اختتام پر ایک اورجنگ ہوئی جس کو بیٹل اف سوم کے نام سے یاد کیا جاتا  ہے یہ اسرائیل کے محاذ پر ہوئی تھی جو کہ اس وقت سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا اس جنگ میں ایک دن میں 80 ہزار فوجی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے ان میں سے زیادہ تر برطانوی اور کینیڈین سپاہی تھے اب جہاں جہاں ان ملکوں کی کالونی ہوا کرتی تھی ادھر بھی جنگ شروع ہوگئی اس کے علاوہ بحرالکاہل اور چائنا میں بھی جرمنی کی کچھ کالونیاں تھیں اس پر جاپان نے حملہ کر دیا کیونکہ جاپان کے ساتھ بھی برطانوی فوجی معاہدہ ہوا تھا اسی دوران مشہور گیلی پولی کی جنگ بھی ہوئی جس میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے سپاہی  تھے یہاں پر سلطنت عثمانیہ  نے  آسٹریلوی اور نیوزی لینڈ کے سپاہیوں کو شکست دی آپ ٹی وی پر یا اخبارات پر گیلی پولی میں مارے جانے والے سپاہیوں کی یاد میں اینڈ ڈے بناتے ہوئے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو دیکھتے ہوں گے اس کے بعد ایک محاذ کے دوران جرمنی اور برطانوی فوجیں آمنے سامنے آئیں برطانیہ نے جرمنی کے بحری جہازوں کو بری طرح شکست دی اس کے بعد برطانوی جہازوں کو کو دیکھتے ہیں جرمن جاز کھلے سمندر سے غائب ہو جاتے تھے اور جرمنی نیوی اکثر بر طانوی نیوی سے کتراتی تھی اور شدید خوف اور ڈر کی وجہ سے برطانوی نیوی جہازوں کے علاوہ سواریوں کے جہازوں پر بھی جرمن نے حملے شروع کر دیے لیکن یہاں ایک بہت بڑی غلطی جرمن سے ہوگی غلطی یہ تھی کہ امریکہ سے آنے والا مشہور جہاز لوزی تانیہ جو کہ بارہ سو لوگوں کو لے کر برطانیہ جا رہا تھا اس کو نشانہ بنا دیا گیا جس میں عملے کے 25 افراد سمیت  بار دو سو سے زیادہ امریکی شہری ہلاک ہوگئے اور یہ وہ وقت تھا کہ جب امریکا اس جنگ میں شامل ہوا اس سے پہلے ریاست ہائے متحدہ امریکا ورلڈ وار ون میں ابھی تک شامل نہیں ہوا تھا امریکہ کے آ جانے کے بعد  مغربی فوجی اتحاد روس فرانس اور برطانیہ کی طاقت ڈبل ہوچکی تھی مشرق کے سائیڈ پر جرمنی کو اس کے اتحادیوں سمیت زبردست شکست ہوگئی اس کے بعد مغرب والی سائیڈ پر امریکہ کے آجانے کے بعد  1918 میں ایک معاہدے کے تحت جرمنی نے ہتھیار ڈال دیئے اس کے بعد جرمنی کی مختلف کالونیاں جو کہ چائنہ اور افریقہ میں واقع تھی وہ فرانس اور روس نے آپس میں بانٹ لیں اور جرمنی کو پہلی جنگ عظیم  کا قصوروار یا ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور اس پر بھاری تاوان ڈالا گیا یہ تاوان اتنا بڑا تھا کہ اس کی قسطیں یکم نومبر دو ہزار دس تک جرمنی ادا کرتا رہا اس کے بعد افریقہ  میں ایشیا میں اور یورپ میں ملکوں کے نئے بارڈر تشکیل دیے گئے پہلی جنگ عظیم کے خاتمے پر دنیا کی چار بڑی سلطنتیں بری طرح ٹوٹ چکی تھی تباہ اور برباد ہو چکی تھی اور مختلف ملکوں میں بٹ چکی تھی جن میں جرمن رشئین آسٹریا-ہنگیرین اور سلطنت عثمانیہ شامل تھیں اس کے بعد بہت سارے نئے ممالک نے جنم لیا جس میں آسٹریا-ہنگری پو لینڈ چیکوسلوواکیہ بوسنیا یوگوسلاویہ اور فن لینڈ وغیرہ وغیرہ شامل ہیں اس کے علاوہ مڈل ایسٹ سارا فرانس اور برطانیہ نے آپس میں بانٹ لیا تھا اور اسی جنگ عظیم کے بعد بہت ساری جدید ٹیکنالوجیز سامنے آئی تھیں جن میں ریڈیو مشین گن ٹائم بم میزائل ٹینک اور بہت سارا فوجی ساز و سامان شامل ہے اور اسی جنگ عظیم کے ختم ہونے کے ساتھ ہی دنیا میں اس وقت کی سب سے خطرناک بیماری سوائن فلو آ گئی جس سے ایک اندازے کے مطابق 5 کروڑ انسانوں کی جان گئی جبکہ پہلی جنگ عظیم میں ایک اندازے کے مطابق 80 لاکھ سے سوا کروڑ انسانی جانوں کا زیاہوا تھا یوں ایک جنگ جو کہ آسٹریا-ہنگری اور سربیا کے درمیان شروع ہوئی تھی پوری دنیا میں پھیلنے کے بعد اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی جنگ کے نتائج بہت ہی زیادہ تباہ کن تھے جس کی لپیٹ میں پوری دنیا آ گئی تھی اور اس جنگ کے بعد کچھ معاہدے ہوئے جو کہ جنگ عظیم دوئم کی وجہ بھی بنے

    Asghar Ali is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com.
    for more info visit his twitter 

            account @ali_ajkpti

  • اعتماد کا انویسمنٹ اور بدگمانی کا وائرس تحریر:حمزہ بن شکیل

    ہم لوگوں کو بدگمانی سے بچنے کی نصحت تو کرتے ہیں لیکن کیا کبھی ہم نے غور کیا کہ معاشرے میں بدگمانی کی وبا پھیلانے والے عناصر کون سے ہیں ؟

    معاملہ یہ ہے کہ ہر انسان میں اعتماد کرنے کی صلاحیت ایک خاص مقدار میں خالق کائنات نے ودیعت کی ہے ۔ اعتماد ہمارا قیمتی سرمایہ ہوتا ہے ، جب کسی پر ہم اپنے اعتماد کا سرمایہ انویسٹ کرتے ہیں تو ہم امید کرتے ہیں کہ وہ سامنے والا ہمارے اعتماد کا بدلہ اپنے حسن کردار سے دے گا، سامنے والا جب اپنے حسن کردار سے ہمارے اعتماد کو وقار بخشتا ہے، ہمارے بھروسے پر کھرا اترتا ہے تو ہمارا اعتماد کا سرمایہ بڑھتا ہے، لوگوں پر بھروسہ کرنے کا ظرف وسیع ہوتا ہے۔

    لیکن اگر جس پر بھروسہ کیا وہ بدکردار نکل گیا، تو اعتماد کرنے کی ہماری قوت کمزور پڑ جاتی ہے، دھوکہ کھایا ہوا شخص کسی پر بھروسہ کرنے کے قابل نہیں رہ جاتا ہے، ایسے شخص کو حسن ظن کی تلقین تو کی جاسکتی ہے لیکن جس شخص کو زندگی کے تجربے نے صرف دھوکے باز لوگ دیے ہوں محض تلقین اس کے اندر اعتماد کرنے کا ظرف پیدا نہیں کرسکتی۔

    لہذا بدگمانی پھیلانے میں سب سے مؤثر کردار ان دھوکے باز لوگوں کا ہے جو لوگوں کا اعتماد توڑتے ہیں۔ اپنی زبانوں سے لوگوں کا بھروسہ جیتتے ہیں اور اپنے کردار سے ان کو دغا دے جاتے ہیں، ایک دھوکے باز انسان اپنی زندگی میں اپنے غلیظ کردار سے سیکڑوں لوگوں کو بدگمانی کے جراثیم سے متاثر کردیتا ہے۔
    اس لیے غدار صرف اس شخص کا مجرم نہیں ہوتا جس کا سرمایہ اعتماد اس نے لوٹ لیا ہے اور اس کو اب کسی پر اعتماد کے لائق نہیں چھوڑا، وہ معاشرے کے ان تمام نیک کردار لوگوں کا بھی مجرم ہوتا ہے جو قابل اعتماد تھے لیکن اس غدار کی پھیلائی بدگمانی نے معاشرے سے ان نیک کردار لوگوں کا اعتبار بھی ختم کردیا ہے۔ اس طرح یہ نفاق صفت دھوکے باز پوری قوم کے مجرم ہوتے ہیں۔ اور انکا جرم بدگمانی سے بھی بڑا ہے۔

    زبان اور کردار میں فرق منافقت ہے ، حدیث میں بتایا گیا ہے کہ منافق کی علامت ہے کہ وعدہ کرکے وعدہ خلافی کرتا ہے،بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور امانت دی جائے تو خیانت کرتا ہے۔
    ذرا غور کریں! جس معاشرے میں منافقین کی کثرت ہو اس معاشرے میں کسی کو ہر کسی سے حسن ظن کی تلقین کرنا کوئی سمجھداری کی بات ہے؟ بلکہ ہر کسی پر اندھا اعتماد بے وقوفی ہے۔

    اک عمر ہم کسی پہ بھروسا کیے رہے
    پھر عمر بھر کسی پہ بھروسا نہیں کیا

  • پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کیسے آئے گی : تحریر :    عزیز الرحمن 

    پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کیسے آئے گی : تحریر :  عزیز الرحمن 

    ‏پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اپنا دوسرا قومی رابطہ جاری کیا ، کے پی میںایسی زمین کی تزئین کو دیکھنے کے لیے ، آپ کو کے پی ٹاپ نوشہرہ نظام پور وادی کے پی کے پاکستان کی پہاڑیوں پر جانا ہوگا۔ یہ ٹور آپ کا ایڈونچر ٹور ہوگا۔ اس جگہ کو نظام پور کہا جاتا ہے اور وہاں جانے کے لیے آپ کو شمال کی طرف شمال میں ایک پہاڑ پر چڑھنا پڑتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان ایک عالمی رہنما کے طور پر ابھرے ہیں جو 10 بلین درخت شروع کرنے والے ارب درختوں کو مکمل کرنے کے بعد موسمیاتی تبدیلی کی طرف ٹھوس عملی اقدامات کر رہے ہیں۔ یہ خوشی اور اعزاز کی بات ہے کہ پاکستان میزبانی کر رہا ہے۔ عمران خان نے اس منصوبے کا آغاز ہمارے زمین کی تزئین ہمارے ماحول اور مناظر کو بدلنے کے وژن کے ساتھ کیا تھا۔

    میرے وزیر اعظم عمران خان کے خیال میں پاکستان میں درخت زیادہ تر ممالک سے کم ہیں۔ پاکستان میں فی شخص صرف 5 درخت ہیں جبکہ باقی دنیا میں اوسطا2 فی شخص 422 درخت ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا کہ حکومت اس سال ملک بھر میں 10 ارب درخت لگائے گی۔ آسٹریلیا 3266 ، امریکہ 699 ، چین 130 ، برطانیہ حکومت 47 ، میرا ملک صرف 5 درخت فی شخص۔

    اگر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹا نہیں گیا تو یہ عالمی پر غذائی تحفظ کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کو پودے لگانے اور بچانے کے لیے قدرتی فنڈ قائم کرنا چاہیے۔ پاکستان کو درخت لگانے چاہئیں اور ہریالی کی اہمیت کے بارے میں شعور اجاگر کرنا چاہیے۔ ملک کو 10 ارب درختوں پر سختی سے عمل کرنا چاہیے ہم صاف اور سرسبز پاکستان چاہتے ہیں۔ کلین اینڈ گرین پاکستان (سی جی پی) مائی پی ایم عمران خان کی پانچ سالہ مہم اس مہم کے تحت حکومت نے عملدرآمد کرنا ہے۔ اگر آپ ایک درخت لگاتے ہیں تو آپ ایک زندگی ، پاکستان اور اپنی آنے والی نسل کے مستقبل کے لیے پودے لگاتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے ادارے نے حکومت کے ارب درختوں کے منصوبے کی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر آپ یہاں پرندوں کی آواز چاہتے ہیں تو پنجرہ نہ خریدیں۔ ایک لمحہ ایک دن بدل سکتا ہے ایک دن زندگی بدل سکتا ہے اور ایک زندگی دنیا بدل سکتی ہے۔ درخت لگانے کا بہترین وقت بیس سال پہلے ہے ، ایک درخت فطرت کے ساتھ ہمارا سب سے گہرا مواد ہے ، درخت کو زمین کے پھیپھڑے کہا گیا ہے۔ تو آئیے ان کی اچھی طرح دیکھ بھال کریں ان میں زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں اور پاکستان کو سرسبز بنائیں۔ زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے ، گلوبل وارمنگ ایک حقیقت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے زمین کا درجہ حرارت ابلتے پانی کی طرح بڑھ رہا ہے۔ انسانی حقوق سے گہرا تعلق لاکھوں ماحولیاتی تبدیلی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ تو کچھ جگہ یہ کافی عرصے سے خشک ہے۔ موسمیاتی تبدیلی پاکستان بھر میں بیماریوں کے پھیلنے میں معاون ہے۔ اگر ہم جلد ہی موسمیاتی تبدیلیوں کو سست نہ کریں تو مزید مہلک وبائیں آئیں گی۔ آب و ہوا کی تبدیلی اب کوئی مسئلہ نہیں ہے جو یہاں ہو رہا ہے یہ اب ہو رہا ہے۔ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی جنگ کے لیے زیادہ تر نوجوانوں کی تعداد نبرد آزما ہے۔

    ‎@Aziz_khattak1

  • پہلی جنگ عظیم کی مکمل داستان  تحریر اصغر علی                                        

    پہلی جنگ عظیم کی مکمل داستان تحریر اصغر علی                                        

               

    یہ بات 28 جولائی 1914 کی ہے جب پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی تو اس ٹائم یہی گمان کیا جا رہا تھا کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی جنگ ہے اور اس کے بعد کوئی بھی اس طرح کی بڑی جنگ نہیں ہو سکتی اور کئی لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ دنیا کی آخری جنگ ہے لیکن سب کے اندازے غلط نکلے کیونکہ اس کے کچھ ہی عرصے کے بعد انیس سو انتالیس میں جنگ عظیم دوئم شروع ہوگی پہلی جنگ عظیم آسٹریا اور ہنگری نے اس وقت شروع کی کہ جب ان کے ایک بہت ہی قریبی لیڈر کو مارا گیا اس کے بعد اسی جنگ کے دوران دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی ایک طرف دنیا کی سپر پاور سے اور دوسری طرف دنیا کے باقی ممالک ان میں سپر پاور برطانیہ روس اور فرانس ایک ساتھ تھے اور ان کے ساتھ کچھ اور ملک بھی تھے جنگ شروع ہونے کے کچھ عرصے کے بعدامریکہ جاپان اور اٹلی بھی اس اتحاد کے ساتھ شامل ہوگئے تھے  ان کے مد مقابل تھے سینٹرل پاور جن میں آسٹریا-ہنگری  سلطنت عثمانیہ جرمنی اور چھوٹے کافی ملک تھے پہلی جنگ عظیم سے پہلے یورپ ہتھیاروں کی دوڑ میں بہت آگے نکل چکا تھا جس میں مشین گن ٹائم بام ٹینک اور جدید قسم کا اس وقت کے مطابق اسلحہ یورپ میں تیار ہونے لگا تھا برطانیہ اور جرمنی یورپ میں خوب ترقی کر رہے تھے اور دونوں نے اپنے ان ہتھیاروں کو اپنی اپنی سلطنتوں کو بڑھانے میں بھی کافی استعمال کیا تھا ان دنوں میں یورپ میں طاقت کا توازن باربار بگڑا تھا اور طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف ملکوں نے آپس میں اتحاد بنانا شروع کر دیئے تھے ان ملکوں نے آپس میں فوجی اتحاد کے علاوہ خفیہ معاہدے بھی کرنا شروع کر دیے تھے ان اتحادوں میں دو اتحاد قابل ذکر ہیں triple alliance 1882 یہ جنگی اتحاد آسٹریا-ہنگری جرمنی اور اٹلی کے درمیان طے پایا اس اتحاد کا نعرہ یہ تھا کہ اگر کوئی بھی دنیا کا ملک ان تینوں میں سے کسی بھی ملک پر حملہ کرتا ہے تو یہ تینوں مل کر اس کا مقابلہ کریں گے اور ایک دوسرے کا مشکل وقت میں دفاع کریں گے جس میں بہت سارے فوجی معاہدے بھی سائن کیے ہوئے تھے جس میں ایک دوسرے کے بارڈرپر اپنی فوج ایک دوسرے کی سرحد کے اوپر سے اپنے جہاز گزارنا اور اس طرح کی بہت سارے معاہدے تھے اس اتحاد کے بعد انیس سو سات میں ایک اور بڑا جنگ اتحاد قائم ہوا جو کہ فرانس روس اور برطانیہ کے درمیان تھا اٹلی نے لڑائی کے دوران ان اپنا اپنا معاہدہ چھوڑ کر برطانیہ فرانس اور روس کے ساتھ ساتھ معاہدہ کر لیا تھا اٹلی کا اپنا اتحاد  سے الگ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ اٹلی کے کچھ علاقے پر آسٹریا-ہنگری نے قبضہ کر رکھا تھا جتنے بھی طاقتور ممالک تھے وہ افریقہ اور ایشیا میں اپنی اپنی کالونی کو بنانے میں لگے ہوئے تھے کالونیاں بنانے کا مقصد یہ تھا کہ ان جگہوں پر ان ملکوں کا قبضہ تھا اور یہ وہ دور تھا کہ جب ورلڈ وار شروع ہوئی انیسویں صدی کی شروعات میں سب سے کامیاب برطانیہ تھا کیونکہ برطانیہ نے برصغیر پاک و ہند آسٹریلیا اور 25 فیصد دنیا پر اپنا قبضہ جما لیا ہوا تھا اور یہ وہی وقت تھا جس کا ذکر بہت ساری کتابوں میں بہت سارے آرٹیکلز میں اور بہت ساری موویز میں دیکھنے کو یا سننے کو یا پڑھنے کو ملتا ہے کہ سلطنت برطانیہ اپنے عروج پر تھی اور اس کے عروج میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا یہی وجہ تھی کہ برطانیہ کے پاس بہت سارے ذریعے اور بہت زیادہ طاقت تھی کیونکہ پوری دنیا پر برطانیہ کا راج چلتا تھا پہلی جنگ عظیم میں 13 لاکھ لوگ برصغیر پاک و ہند سے صرف برطانیہ کے لیے لڑے تھے کیونکہ اس وقت برصغیر پاک وہند برطانیہ کی ایک کالونی تھا انیسویں صدی کی شروعات میں یورپ میں نیشنل ازم اپنے عروج پر تھی اس وقت یہ تصور عام تھا کہ دنیا کا سب سے کامیاب ملک وہ ہے جس نے سب سے زیادہ جنگ لڑی اور جیتی ہے یہی وجہ یا یہی وہ تصور تھا جس کی وجہ سے اس دور میں جنگیں بہت زیادہ ہوا کرتی تھی یہی وہ وجہ تھی کہ آسٹریا-ہنگری کے بادشاہ جو کہ بوسنیا میں گئے اور وہاں پر ان کو قتل کر دیا گیا ان کو قتل کرنے والا گلیلیو تھا یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کو اکیلا گیلیلیو نہیں بلکہ اور بھی بہت سارے لوگوں نے مل کر قتل کیا تھا جس کی وجہ سے آسٹریا ہنگری نے میں نے صرف یہ سے ہتھیار ڈالنے کو اور آسٹریا-ہنگری کا حصہ بننے کو کہا مگر سربیا نے اس کی یہ بات نہیں مانی اور اس نے روس سے مدد لینا چاہیے چاہیے رؤف جو کہ پہلے ہی تیار بیٹھا تھا تھا اس نے اپنی بھرپور مدد دینے کا اعلان کیا اور اس کے بعد آسٹریا-ہنگری نے جرمنی سے مدد مانگی جرمنی اور آسٹریا-ہنگری کا 1882 میں ایک معاہدہ ہوا تھا جس کے مطابق ایک دوسرے کا مشکل وقت میں ساتھ دینا شامل تھا اس کے بعد جرمنی نے آسٹریا-ہنگری کے ساتھ مل کر سربیہ پر حملہ کردیا جس کے فورا بعد بعد روس نے جرمنی پر حملہ کر دیا یا روس کے حملہ کرنے کے بعد فرانس جو کہ روس کا اتحادی تھا اس نے بھی جرمنی پر حملہ کر دیا یوں یہ جنگ جو کہ آسٹریا-ہنگری اور سربیا کے درمیان کی تھی وہ جنگ اب آسٹریا-ہنگری سربیہ جرمنی روس اور فراس  تک پہنچ چکی تھی اس کے بعد جرمنی جس پر دونوں اطراف سے حملہ ہو چکا تھا اس نے ایک سائیڈ پے میں روس اور دوسری سائیڈ پر فرانس کے ساتھ جنگ میں بری طرح الجھنے کی وجہ سے مغرب والی سائیڈ میں روس کے ساتھ دفاعی حکمت عملی اپنائی کیونکہ روس کی فوج بہت طاقتور اور تعداد میں بہت زیادہ تھی اس لیے لیے جرمنی نے روس کے ساتھ دفاعی حکمت عملی اپنائی اور مشرق والی سائیڈ سے اس نے بیلجئیم کے راستے فرانس پر حملہ کرنا چاہا اس لیے جرمنی نے بیلجیئم پر حملہ کرنے کا پلان بنایا تاکہ وہ بلجئیم کے راستے فرانس کی فوج پر پر اس کی پچھلی سائیڈ سے حملہ آور ہو کر اس کو تہس نہس کر دے اس کے بعد جرمنی نے بیلجیئم پر حملہ کر دیا بیلجیم پر حملہ ہونے کے ساتھ  کا ہیں بیلجیئم کا فوجی اتحادی برطانیہ بھی جنگ میں کود پڑا برطانیہ نے نے جرمنی پر حملہ کر دیا یوں اب جرمنی تین اطراف سے بری طرح جنگ میں گر چکا تھا اور اب اب پہلی جنگ عظیم برطانیہ سمیت دنیا کے  7  ممالک میں پھیل چکی تھی زبر دست فوجی طاقت کا مظاہرہ ایک دوسرے کی جانب سے دیکھنے کو مل رہا تھا کیونکہ برطانیہ اور روس اس وقت سپرپاور تھے اور فرانس بھی ان کا اتحادی ہونے کے ناطے اس جنگ میں کود پڑا تھا اس طرح 1907 میں بننے والا اتحاد فرانس روس اور برطانیہ یہ تینوں ہی سپرپاور اور اس جنگ عظیم میں شامل ہو چکے تھے جس کا مطلب صاف تھا کہ یورپ میں شدید تباہی آنے والی ہے اس کے بعد کیا ہوا کس طرح سلطنت عثمانیہ  آٹومن امپائر اس جنگ کا نہ چاہتے ہوئے بھی حصہ بن گئی آرٹیکل جاری ہے 

    Asghar Ali is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com.
    for more info visit his twitter 

            account @Ali_AJKPTI 

    Twitter id : https://twitter.com/Ali_AJKPTI

  • ڈاکٹر عبد القدیر خان کی پاکستان کےلئے قربانیاں ! تحریر    علی مجاہد

    ڈاکٹر عبد القدیر خان کی پاکستان کےلئے قربانیاں ! تحریر علی مجاہد

    اسلامی ایٹم بم، ہم تو کہتے ہیں پاکستانی ایٹم بم مگر جو انڈین میڈیا، مغربی میڈیا ہیں وہ اس کو اسلامی ایٹم بم کیوں کہتے رہے؟ 

    ڈاکٹر عبد القدیر خان نے اس نا ممکن کام کو کیسے ممکن بنایا اور پھر ایسے موقع پر جب پاکستان ایٹمی پروگرام بنا بھی نا تھا تو انڈیا کے چھکے چھڑا دیئے ان کی مشت تھی بہت بڑی اس مشت کی دھجیاں اڑا دیں،

     ڈاکٹر عبد القدیر خان کی پیدائش انڈیا کے شہر بھوپال میں 1936ء کو ہوئی اور پاکستان بننے کے بعد وہ پاکستان ہجرت کرکے آئے اور وہ 85 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کو آپ پاکستان کا محسن کہنا چاھتے ہیں، آپ انہیں سب سے بڑا پاکستانی کہنا چاھتے ہیں جو کہیں وہ ان پر بالکل فٹ ہوتا ہے۔ 

    ڈاکٹر عبد القدیر خان اپنی تعلیم کے سلسلے میں ہالینڈ چلے گئے انہوں نے وہاں سے آلا تعلیم حاصل کی اور پی ایچ ڈی کرنے کے بعد وہ وہاں 4 سال تک (physical dynamical research) ہالینڈ نوکری کرتے رہے، اس وقت انکو وہاں 12,000 تنخواھ ملتی تھی پر انہوں نے اپنے ملک کی خدمت کرنا چاھا پھر وہ 15 برس رہنے کے بعد بھٹو صاحب کے کہنے پر پاکستان واپس آئے جب وہ پاکستان آئے تو 71 والا بڑا مشکل وقت تھا قوم بڑی مایوس تھی تو ذولفقار علی بھٹو نے اس وقت ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی اس وقت ڈاکٹر منیر اور دیگر کام کر رہے تھے اس پر، بھٹو صاحب نے ڈاکٹر عبد القدیر صاحب سے بہت ہی سیدھا سی بات کی کہ مجھے ایٹم بم چاھیے اس وقت انکو پاکستان میں صرف 1500 تنخواھ ملتی اس بات کا کافی بار ڈاکٹر صاحب نے اقرار بھی کیا، اب آپ حیران یہ ہوں گہ کہ 1976 کو واپس آتے ہیں اور دس گیارہ سال بعد انڈیا جو بہت بڑی کور اور ڈیویژن لیول کی انڈیا کی تاریخ کی سب سے بڑی مشت تھی اب انہوں نے پاکستان کہ صوبہ سندھ پر حملہ کرنا تھا اب انکا خیال یہ تھا کہ ہم نے 71 والا کام کر لیا تو جب چاھیں کچھ بھی کر سکتے ہیں لیکن اس وقت پاکستان نے فوری طور پر فائر موف کی ان دوران مشاہد حسین سید جو کہ پاکستان کے سینیٹر ہیں انکی شادی تھی اور ایک انڈین صحافی بھی آئے ہوئے تھے انکی ملاقات ڈاکٹر عبد القدیر سے چائے پر ہو گئی تو ڈاکٹر صاحب نے ایک ایسی بات انکے کان میں ڈالی کہ اسکے بعد انہوں نے یہ بات خبر کہ صورت میں چھاپی (یو کے) ایک اخبار کو اور اس وقت تھل تھل مچ گئی اسکے بعد جو فوجیں لائن آف کنٹرول پر لگی ہوئیں تھیں اور اچانک جنرل ضیاء میچ دیکھنے انڈیا پہنچ گئے اور اس وقت کہ وزیراعظم کہ کان میں انہوں نے ایک بات کئی کہ زیادہ آور ہونے کی ضرورت نہیں جو چیز آپ کہ پاس ہے وہ ہمارے پاس بھی ہے کہنا کا مطلب یہ تھا کہ ایٹم بم پاکستان نے بنالیا ہے اور اس وقت پاکستان نے ابھی تجربا بھی نہیں کیا ہوا تھا اور اسکے بعد فوج واپس چلے گئی اور حالات معمول پر آگئ اب آپ کہیں گے پاکستان نے 1998 کو تجربہ کیا ہے 28/مئی کو لیکن ڈاکٹر قدیر کے مطابق 1987، 1988 میں پاکستان نے یہ صلاحیت حاصل کر لی تھی، جنرل ضیاء نے انکو بلایا اور کہا آپ کو کتنا وقت چاھیے تو انہوں نے کہا ہفتہ سے دس دن میں پاکستان ایٹمی تجربا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عبد القدیرخان وہ مایہ ناز سائنس دان ہیں جنہوں نے آٹھ سال کے انتہائی قلیل عرصہ میں انتھک محنت و لگن کی ساتھ ایٹمی پلانٹ نصب کرکے دنیا کے نامور نوبل انعام یافتہ سائنس دانوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ 

    گزرتو خیر گئی ہے تیری حیات قدیر

    ستم ظریف مگر کوفیوں میں گزری ہے۔
    .

  • کنگ آف کامیڈین عمر شریف تحریر:عثمان

    کنگ آف کامیڈین عمر شریف تحریر:عثمان

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی۔۔۔ 

    ایک شخص سارے جہان کو ویران کر گیا۔۔۔

    اسٹیج کے بے تاج بادشاہ کامیڈی کنگ عمر شریف جرمنی میں انتقال کر گئے اور کروڑوں مداحوں کو افسردہ چھوڑ گئے .کامیڈی کنگ عمر شریف 19 اپریل 1955 کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں پیدا ہوئے . انہوں نے اپنے کیرئر  کا آغاز 1974 میں 14 سال کی عمر میں اسٹیج اداکاری سے کیا 1980 میں پہلی بار انہوں نے آڈیو کیسٹ سے اپنے ڈرامے ریلیز کیے۔ عمر شریف کی اداکاری سے بے ساختہ قہقہوں کا طوفان سا آجاتا تھا۔ ٹی وی، اسٹیج ایکٹر، فلم ڈائریکٹر، کمپوزر ،شاعر، مصنف اور پروڈیوسر یہ تمام صلاحیتیں عمر شریف کی شخصیت کی پہچان تھی ۔ساتھی فنکاروں کا کہنا تھا کہ عمر شریف  اپنی ذات میں انجمن تھے جن سے تمام کامیڈینز نے سیکھا ہے۔اسٹیج اور تھیٹر کی تاریخ عمر شریف کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے ۔نامور فن کار نے اپنی اداکاری کے ذریعے نہ صرف ملک بھر میں بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ۔ یہ ستارا جو کروڑوں لوگوں کو ہنساتا تھا آج سب کو رُلا گیا چند روز قبل خبر آئی کہ پاکستان کے معروف کامیڈین عمر شریف کی طبیعت اچانک زیادہ خراب ہوگئی ہے ۔ان کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل تھیں جن میں انہیں  وہیل چیئر پر بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے ۔عمر شریف کے کروڑوں مداح اپنے پسندیدہ قومیڈین کی جلد صحت یابی کے لئے دعا گو تھے۔ عمر شریف نے زیادہ طبیعت خراب ہونے پر اپنے ارباب اختیار سے علاج کے لیے درخواست بھی کی تھی کیوں کہ ڈاکٹروں کے مطابق عمر شریف کا علاج امریکہ یا جرمنی میں ممکن تھا ۔تو شرم کی بات اس قوم کے لئے یہ ہے کہ ایک قومی ہیرو جس نے اس ملک پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا وہ کافی دنوں سے بیمار تھے تو یہ بات پورے پاکستان کو پتہ تھی کہ عمر شریف بیمار ہے بجائے اس کے کہ کوئی سماجی یا سیاسی شخصیت اس قومی ہیرو کی جیتے جی مدد کرتے اس قومی ہیرو کے شدید بیمار ہونے کا انتظار کرتے رہے۔۔۔۔ پھر عمر شریف جب زیادہ بیمار ہوئے تو مجبوراً عمر شریف نے خود ہی علاج کی لیے مدد کی اپیل کی اور فلم نگاروں نے بھی سوشل میڈیا پر عمر شریف کی علاج کے لیے مدد کی اپیل کی اور دعاگو بھی رہے ۔ تو کچھ دنوں بعد سندھ حکومت کو ہوش آیا اور عمر شریف کے علاج کا ذمہ اٹھایا پھر اس علاج کا کیا فائدہ جب بندہ  اتنا بیمار ہوجائے کہ اسے ہوش ہی نہ رہے۔ یہ بات بھی ٹھیک ہے کہ جو قسمت میں ہوتا ہے وہی ہوتا ہے لیکن اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ” کوشش قسمت کو بدل دیتی ہے ” تو سندھ حکومت نے عمر شریف کے علاج کے لئے 4 کروڑ روپے دینے کا اعلان کر دیا ساتھ ہی ‏ایئر ایمبولینس کا انتظام  کیا جس میں عمر شریف امریکہ کی طرف  روانہ ہوگئے پھر راستے میں عمر شریف کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو ایئرایمبولینس کو جرمنی اتارا گیا تو وہیں اسٹیج کی دنیا کے بے تاج بادشاہ کامیڈی کنگ عمر شریف انتقال کر گئے اور کروڑوں مداحوں کو افسردہ چھوڑ گئے یہ خبر سنتے ہی کروڑوں مداح، فنکار، اداکار، سیاسی، سماجی رہنماؤں، ڈرامہ نگار، کامیڈین سمیت انڈین بالی ووڈ اسٹار امیتابھ بچن،شاہ رخ خان ، عامر خان، سلمان خان،کامیڈین کپل شرما،سدھوں پاجی نے بھی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی ان اسٹاروں کا کہنا تھا کہ اب شاید ہی کوئی عمر شریف جیسا کامیڈی کنگ اس دنیا میں آئے ۔پہلے کمیڈین معین اختر پھر سکندر صنم اور اب عمر شریف اس دنیا سے کوچ کر گئے اور قومیڈی میں خلا چھوڈ گئے اب شاید ہی کوئی اس خلا کو پورا کریں ۔اور پھر  عمر شریف کو ان کی خواہش کے مطابق” عبداللہ شاہ ہجویری ” میں سپر د خاک کر دیا گیا ۔ہماری یہی دعا ہے کہ اللہ تعالی عمر شریف کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے آمین ۔۔

    زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا ہمیں ۔۔۔

    سو گئے ہم داستان کہتے کہتے ۔۔۔

    Twitter’ @Usmankbol

  • کراچی کے ذائقے تحریر: فہد احمد خان

    کراچی کے ذائقے تحریر: فہد احمد خان

    ویسے تو پاکستان کے دیگر شہروں کے کھانے بھی بہت مشہور ہیں جیسے لاہور کے مرغ چھولوں اور بلوچستان کی سجی کی تو کیا ہی بات ہے، لیکن بات کی جائے کراچی کے کھانوں کی تو کراچی سا ذائقہ پورے پاکستان میں کہیں ڈھونڈتے نہیں ملتا۔ اس بات سے وہ لوگ بخوبی واقف ہوں گے جو کراچی میں رہائش پذیر ہوں اور کسی بھی سلسلے میں پاکستان کے دوسرے شہروں میں سفر کیا ہو، ایسے افراد بھی واقف ہوسکتے ہیں جنھوں نے مختلف شہروں کا سفر کیا ہو اور ہر جگہ کے ذائقوں سے واقف ہوں۔ کراچی کے ذائقے کا مدمقابل کوئی نہیں اس بات کا اعتراف غیر ملکی بھی کرتے ہیں۔

    اگر لزیز اور چٹخاروں کے شوقین کراچی آجائیں تو یہ شہر انہیں کسی صورت مایوس نہیں کرے گا … کراچی کی مشہور فوڈ اسٹریٹس ہر قسم کے ذائقے کا ذخیرہ رکھتی ہیں جن میں برنس روڈ فوڈ اسٹریٹ، بوٹ بیسن فوڈ اسٹریٹ، حیسن آباد فوڈ اسٹریٹ، سندھی مسلم فوڈ اسٹریٹ، نارتھ ناظم آباد فوڈ اسٹریٹ، ساحلے سمندر ایک حسین اور تازی ہوا کے ساتھ دو دریا فوڈ اسٹریٹ بھی موجود ہے۔

    انہیں میں سے ایک برنس روڈ ہے جو کہ تاریخی مقام ہونے کے ساتھ ساتھ ذائقوں کا مرکز بھی بنتا جارہا ہے، پہلی ہی دہلی ربڑی, فریسکو بیکری اور آزاد بن کباب کے لئے مشہور تھا مگر اب تو شنواری سے لے کر کراچی حلیم اور وحید کباب تک سارے ہی ذائقہ ایک سڑک پر مل جاتے ہیں،

     دن بھر کی مصروف ترین اس سڑک پر رات کا اندھیرا پھیلنے کے بعد اس سڑک کے دونوں اطراف کو ٹریفک کے لئے بند کردیا جاتا ہے مغرب کے بعد ماحول ہی تبدیل ہوجاتا ہے پورا دن جہاں ٹریفک کا شور، دھواں، ہارن کی آواز یہ سب پُر سکون ماحول میں تبدیل ہوجاتی ہیں پوری فضا ہی آپ کا مصالحہ دار خوشبووں کے ساتھ استقبال کرتی نظر آئے گی …

    نہ صرف برنس روڈ بلکہ کراچی کے بیشتر علاقوں میں مشہور فوڈ اسٹریٹس قائم ہیں، جن کی شہرت نہ صرف پورے پاکستان بلکہ دنیا بھر میں پائی جاتی ہے۔ جن میں برنس روڈ کے علاوہ بوٹ بیسن، سندھی مسلم سوسائٹی، محمد علی سوسائٹی، حسین آباد اور زمزمہ شامل ہیں۔

    بوٹ بیسن کی فوڈ اسٹریٹ بھی کراچی کی پرانی فوڈ اسٹریٹ میں شامل ہیں، یہاں ہر طرح کے میسر ہیں، دیسی کے ساتھ ساتھ یہاں ولایتی کھانوں کی ورائٹی بھی پائی جاتی ہے۔

    کراچی کے پوش علاقے پر واقع سندھی مسلم سوسائٹی کی فوڈ اسٹریٹ بھی اپنی مثال آپ ہے، یہاں صرف بڑے ریسٹورانٹ ہی واقعی نہیں بلکہ کھانے کے ساتھ ساتھ لسی، جوس، کافی، اور چٹخاروں جیسی ورائٹی بھی ملتی ہے۔

    اگر کراچی کے علاقے عائشہ منزل پر واقع حسین آباد فوڈ اسٹریٹ کی بات کریں تو اس کی ایک الگ ہی بات ہے، یہاں صبح کے چار بجے بھی رات دس بجے جیسا سماع ہوتا ہے۔ یہاں ہر طرح کے کھانے ملتے ہیں لیکن یہاں کی سب سے مشہور ڈش کٹاکٹ ہے، یہاں ایک گلی گولہ گنڈا اور سوپ کی دوکانوں کی بھرمار کی وجہ سے گولہ گنڈا اور سوپ گلی کے نام سے مشہور ہے۔

    زمزمہ فوڈ اسٹریٹ کے تو کیا ہی کہنے ہیں، صبح کا ناشتہ ہو یا رات کے کسی بھی پہر لگی بے وقت بھوک، نفاست پسندوں کے لیے کراچی میں زمزمہ فوڈ اسٹریٹ سب سے بہتر انتخاب ہے، یہاں جیب ہلکی کردینے والی لیکن بہترین کھانوں کے ہے طرح کے ریسٹورانٹ موجود ہیں۔

    کراچی کے ذائقے شہر قائد کے سوا کہیں اور ملنے مشکل ہی نہیں ناممکن ہی ہوتے سوائے ایک صورت میں جب کہ پکانے والا کراچی کا ہو … 

    کراچی آنے والا کوئی شخص ان ذائقوں سے لطف اندوز ہوئے بغیر چلا گیا تو اس نے کراچی کو دیکھا تو ضرور مگر حق ادا نا کرسکا ….

    ٹیوئٹر: @fahadpremier

  • دانتوں سے خون آنا ،تحریر:ڈاکٹر نبیل چوہدری

    دانتوں سے خون آنا ،تحریر:ڈاکٹر نبیل چوہدری

    اکثر لوگ کلینک میں شکایت لیکر آتے کہ دانتوں سے خون بہت آتا اور اسکے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی سب سے زیادہ دانتوں کے حوالے سے یہی سوال اٹھایا جاتا کہ دانتوں سے خون آنے کی وجہ کیا ھے آج میرا کالم اسی ٹاپک پر ھوگا سب سے پہلے تو ھم یہ سمجھ لیں کہ خون دانتوں سے نہیں مسوڑوں سے آتا ھے دانت بذات خود ایک ھڈی ھوتے اسلئے ان سے خون ایک ھی صورت نکل سکتا جب ان میں کیڑا اتنا گہرا لگا ھو کہ دانت پورا جڑ تک کھل جائے اور جڑ میں موجود خون کی نالی میں چوٹ یا انفیکشن بن جائے تو وہاں سے خون نکلے یہ ایک یا دو تین دانتوں ساتھ ھی ھوتا اگر کوی یہ کہے کے پورے منہ سے خون آتا رات سوتے میں یا صبح جاگتے سمے تو اسکا مطلب یہ مسئلہ دانتوں کا نہیں مسوڑوں کا ھے اور اسکا حل اگر تلاش کرنا تو ھمیں مسوڑوں کی ساخت انکے مسائل انکی بیماریوں کی وجہ اور ان بیماریوں کے حل کے طریقے دیکھنے ھونگے سب سے پہلے تو یہ کہ اللہ نے جسم میں سب سے مضبوط دانت کی ھڈی اور نازک حصوں میں مسوڑوں کو بنایا ھے یہ ایک ایسا حسین امتزاج ھے کے اللہ کی اس قدرت کو دیکھ کر انسان عش عس کر اٹھتا ھے اور جو ان مسوڑوں کا حال مریض کر لاتے دیکھ ڈاکٹر غش کر بیٹھتا خیر یہ تو ازراہ مزاح بات کی اصل بات یہ کہ ان Gums میں ایک چیز ھوتی جسکو ھم collagen کہتے انکی مضبوطی کمزوری کا تعلق Gums میں سے خون آنے کو تہہ کرتا
    دنیا میں سب سے زیادہ موجود بیماری کا نام Gingivitis ھے اسکا آسان الفاظ میں مطلب مسوڑوں سے خون آنا ھے یہاں سے پتہ چلتا کہ یہ کتنی اہمیت کی حامل بیماری ھے اگر اسکا بروقت علاج نا کیا جائے تو انسان کو دل کا مرض معدے کا اور جگر کے امراض جیسے کینسر تک بھی ھوسکتے

    اب اس بیماری کی وجوہات ھین جن میں سے کچھ منہ میں موجود کچھ منہ سے باھر کی ھیں منہ میں موجود بیماری کی وجوہات میں سے کچھ دانتوں کا صاف نا ھونے کی وجہ سے ماس خورا یعنی Calculus لگ جانا یہ سب سے پہلے ایک گندی تہہ کی صورت دانتون پر لگتی پھر اسکے بعد اس پر دانت کا کیلشیم اور منہ میں موجود چینی یعنی گلوکوز کے ذرہ جڑتے اب یہ Plaque بن جاتی پھر اسکے اوپر وقت گزرنے کیساتھ بیکٹیریا بھی شامل جوکر Calculus بنادیتے اب مسوڑے کمزور ھوکر نیچے چلے جاتے اور گھر یعنی منہ گندا ھوجاتا منہ سے بو آتی دانت ھلنا شروع ھوجاتے اسکے بعد دوسری منہ کی بیماری جیسے میں نے اوپر بتایا کہ وہ دانتوں میں کیڑا لگنا ھے اور تیسری وجہ منہ میں چھالے بننا ھے اس سے بھی یہ مسئلہ پیدا ھوسکتا پھر باری آتی باھر کے معاملات کی تو اس میں سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر معدہ ھے تیزابیت والے کھانے معدے کو خراب کرنے والی خوراک کے سب سے زیادہ اثرات منہ میں جاتے اب یہ ایک دو طرفہ ٹریفک ھے یعنی منہ کے معاملات ٹھیک نہیں تو معدہ ٹھیک نہیں رہ سکتا اور دوسرا اگر معدہ ٹھیک نہیں تو منہ نہیں ٹھیک رہ سکتا اسلئے تیزابیت والی چیزوں کا استعمال کم رکھیں اور ایسی چیزیں جو ٹھنڈی تاثیر پیدا کریں جیسے تازہ پھل اور سبزیاں انکا روز مرہ زندگی کا معمول بنایئں اسکے بعد باری آتی شوگر بلڈ پریشر کی انکی وجہ سے بھی Collagen فائبر کمزور ھوتے اور مسوڑھے خراب ھوتے پھر گردے جگر کی بیماریوں سے بھی یہ مرض ھوجاتا

    اب اسکا ایک علاج ٹھنڈی تاثیر کی چیزیں کھانا صبح ناشتے کیبعد رات سونے سے پہلے دانت صاف کرنا اچھا سا ماؤتھ واش لیکر اس سے دانت صاف کرنا کلی کرنا تین سے چار بار ھے کے کیسز میں معاملات ان سے حل نہیں ھوتے تو پھر ڈینٹل کیلنک پر ڈاکٹر کے پاس جانا ضروری ھوجاتا ایسے میں وہاں ڈاکٹر مرض کی تشخیص کرتا اگر صفائ کی ضرورت ھے تو لازمی کروائیں اور اگر کسی دانت کا مسئلہ تو حل کروائیں جیسے rCt یا نکلوائیں اور اگر مسئلہ بیرونی تو پھر آپکو ھر 6 ماہ بعد لازمی دانتوں کی صفائی کروانی پڑنی جب تک کہ وہ مسئلہ حل نہیں ھوتا سکیلنگ دانتوں کی صفائی اور RCt کی تفصیل میں پچھلے کالمز میں لکھ چکا ھوں انکو لازمی پڑھ لیں اس سے یہ ٹاپک سمجھنا اور آسان ھوجایئگا

    آخر میں سب سے بڑھ کر صفائی نصف ایمان ھے پر عمل ھمیں کئی بیماریوں اور آفات سے بچاتا ھے اس پر عمل کریں لازمی کریں شکریہ

  • قومی المیہ تحریر۔محمد نسیم 

    قارئین گرامی ڈاکٹر عبدلقدیر خان صاحب کی رحلت کا علم ہوا تو سارا دن موبائل فون پر، سوشل میڈیا پر جہاں ایپ کھولتا یہ ہی خبر دیکھنے کو ملی لیکن پتہ نہیں کیوں دل مضطرب نہیں تھا آنکھوں میں آنسو نہیں اُتر سکے وہ غم و دکھ نہیں تھا جو کسی محسن کے جانے کا ہوتا ہے اور وہ شخص تو محسنِ پاکستان نہیں بلکہ محسنِ اسلام و مسلم اُمہ تھا اپنے اس عمل پر پیشمان بھی تھا اور نادم بھی مگر اس ندامت کے باوجود میرے پاس رونے کی کوئی وجہ نہیں تھی 

    کیونکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کوئی سلیبرٹی نہیں تھے اپنی ہوری جوانی کے دوران کبھی کبھار ہی انکا چہرہ ٹی وی پر دیکھنے کو ملا اور ملا بھی تو ایک مبہم سے تاریخی کردار کے طورپر جیسے کوئی غدار کہتا تو کوئی محسن پھرجب خود سے سوال کرتا کہ اگر وہ محسن پاکستان ہیں تو نظر بند کیوں ؟

    محسنوں کو تو پلکوں پر بٹھایا جاتا ہے 

    اس کی ہر راحت ہر خوشامد بجا لائی جاتی ہے اس کے چرچے کرتی دُنیا نہیں تھکتی 

    خیر قصہ مختصر کہ اسی کشمکش میں ان سے الفت نہ ہوپائی ۔

    مجھے ڈرامے کے ایک کردار "دانش” سے کافی اُلفت تھی بلکہ پورے پاکستان کو تھی اس کی ڈرامے کی غیر حقیقی موت پر بھی میرے سمیت ہر پاکستانی صدمے میں تھا اور ہر کسی کا دھاڑیں مار مار رونے کو دل کرتا تھا اور سوشل میڈیا پر ہم نے دیکھا سینکڑوں کی تعداد میں ویڈیوز آئیں جب دانش مررہا تھا اور ہفتہ بھر قوم سوگ میں رہی تھی

    مگر  ڈاکٹر عبدلاقدیر خان صاحب کی دفعہ میرے سمیت قوم کے جذبات ویسے نہ تھے ہر کوئی میری طرح اناللہ واناالیہ راجعون لکھ کر تعزیت تو کررہا تھا مگر دل پہ وہ چوٹ نہیں تھی وہ دکھ نہ تھا وہ درد نہ تھا وہ تڑپ نہ تھی جو دانش کے مرنے پر تھی 

    دانش تو ہم سب کا پیارا تھا اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئیے ڈرامے کورپیٹ کرتا اور ایک ہی قسط کو دو سے تین بار دیکھتا تھا

    مگر ڈاکٹر عبدلقدیر خان سے محبت الفت کیا ان سے ملاقات کی خواہش کبھی دل میں نہ آئی میں جیسے سلیبرٹیزکے ساتھ تصویریں کھنچوانے کے لئیے بے تاب رہتا تھا اور اپنے پسنددیدہ فنکاروں کے ساتھ باتیں کرنے ملنے کی جو چاہت میرے دل  تھی ڈاکٹر عبدالقدیر کے لئیے کبھی نہ ہوئی اور شاید آدھے سے زیادہ پاکستانیوں کا بھی یہی حال ہے 

    چنانچہ یہ سب سوچ کر میں نے اپنے اندر اُٹھنے والی ندامت کو کامیابی سے دبا دیا اور سوشل میڈیا کو چلانے لگا اچانک ایک مولانا کی ویڈیو سامنے آئی تو ان کو بھی دوسرے تجزیہ کاروں کی طرح سُن ہی لیا مولانا نے اس وڈیو میں اپنی ڈاکٹر قدیر خان سے ملاقات کا احوال بتایا کہ جب ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ڈاکٹر صاحب کے ہاتھ چوُم لئیے جس پر ڈاکٹر صاحب بھی حیران ہوئے اور پوچھا کہ مولانا صاحب سفید داڑھی کے ساتھ ایسا کیوں ؟

    مولانا نے جواب میں بڑی کمال کی بات کی اور حدیث نبوی ﷺ  کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جو تیر بنائے جو تیر پہنچائے اور جو تیر چلائے دونوں کے لئیے جنت کی بشارت ہے لہذا مولانا صاحب نے فرمایا کہ او شیرا تو تا (تم نے) تو ایٹم بم بنایا ہے 

    مولانا کی اس بات نے عبدالقدیر صاحب کے ساتھ ساتھ مجھے بھی ایک عجیب حیرت میں ڈال دیا کہ آج کے مولانا جن کی خدمتیں کرتی عوام نہیں تھکتی اور مذہبی خدمات کی وجہ سے جنکا الگ ہی پروٹوکول ہوتا جن کے ہاتھ چومتے لوگوں کے ماتھے تھکتے نہیں انہوں نے ماتھا جھکا کر ڈاکٹر عبدلقدیر صاحب کے ہاتھ کو چوُما ڈاکٹر صاحب کا یہ پروٹوکول مجھے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا سا لگا 

    چنانچہ دونوں باریش بھی نہ تھے تو کافی مماثلت بھی پیدا ہوگئی

    خیر رات ہوئی دن بھر کا تھکا ہارا پہلی فرصت بستر پر گرا اور رات کے پہلے حصے میں ہی نیند کی آغوش میں جاگرا 

    صبح صادق اُٹھا یہ صبح بھی دوسرے دنوں کی طرح نہایت پُرسکون تھی مگر موسم کی وجہ سے خنکی تھوڑی زیادہ تھی خیر نماز سے فارغ ہوکر قرآن پاک کی تلاوت کے لئیے قرآن پاک کو چُوم کر کھولا چُومنے سے ایک بار پھر مجھے مولانا کا ڈاکٹر عبدلقدیر کا ہاتھ چُُومنے والی بات یاد آگئی کہ عبدلقدیر صاحب نے ایٹم بم بنایا ہے اس لئیے ہاتھ چُومے تیروں والی حدیث بھی ذہن میں آگئی دماغ میں چلنے والی اس غیر ارادی افکار کی گھتیاں سلجھارہا تھا کہ تیر بنانے والا جنت میں کیوں جائیگا ؟

    ذرا غور کیا تو یہ ہی نتیجہ نکال پایا کہ تیر اندازوں کو تیرایجاد کرنے اور چلانے پر جنتی اعزاز سے نوازا گیا تھا بلکہ انکی خلاصی اور بخشش کی وجہ ان کے عالمِ اسلام کی سربلندی کے چلنے اور اُٹھنے والے ہاتھ تھے جب ڈاکٹر عبدلقدیر کے کام کو اس کسوٹی پر رکھا تو مولانا صاحب کے جملے پر دم بخود سا رہ گیا 

    "اوشیرا! تو تا ایٹم بم بنایا” یعنی کہ دورحاضر میں عالمِ اسلام کی اس خستہ حالی میں اسلام کو ایٹمی طاقت بناکر اسلام کا پرچم تا قیامت سر بلند کردیا 

    بس اسی سوچ کا دماغ میں آنا تھا کہ دماغ میں الجھی ساری گتھیاں سلجھ گئیں اپنے اندر کی ندامت جسے میں زبردستی بڑے زعم سے اپنے اندر چھپائے بیٹھا تھا آنسو بن کر رخساروں پر بہنے لگے اب مجھے اس ولی اللہ کے بچھڑنے کا غم منانے کی وجہ تھی 

    کہ آج ہم جس ملک پاکستان میں مذہبی آزادی کے ساتھ عبادات کرتے ہیں عیدیں مناتے ہیں ہماری داڑھیاں محفوظ ہیں اور آزادی کے ساتھ عید قرباں پر جانور اللہ کی راہ میں قرباں کرتے ہیں کیونکہ ہم دشمن کو اسی ایٹمی طاقت کی وجہ سے روکے ہوئے ہیں 

    لیکن پھر بھی اس ندامت اور نااہلی کو سہارا دینے کی کوشش کی لیکن ہائے افسوس!میری اس کوشش کے دوران بھی "آنسو ” آنکھوں کا دامن چھوڑ چکے تھے 

    جیسا کہ تحریر میں پہلے ذکر کرچکا کہ یہ سارا معاملہ تلاوت کلام پاک کے دوران پیش آیا میرے آنسو حلقہِ رخسار کو چھوڑ کر کلام الہی کے پاک صفحوں پر گرنے ہی والے تھے کہ خود کو سنبھالا دیا اور اپنے ان مجرمانہ آنسوؤں کو مجرمانہ دامن میں سمیٹ لئیے 

    سچ تو یہ ہے کہ مجھ سے یہ برداشت نہ ہوا کہ میرے یہ گناہ گار آنسو کلام پاک کو چھونے کی جسارت کریں 

    آخر پر اتنا ہی کہوں گا کہ قوم اس پیارے ملک پاکستان کو بنانے والے بابائے قوم قائداعظم اور اس ملک پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنانے والے ڈاکٹر عبدلقدیر کی احسان مند رہے گی 

    @Naseem_Khemy

  • پاکستان میں ٹریفک کا نظام تحریر: فرمان اللہ

    میں ایک اوورسیز پاکستانی ہوں کافی عرصے بعد کچھ دن پہلے پاکستان آیا ہوں۔ چونکہ ہم دوسرے ملکوں میں رہتے ہیں تو ہمارے لیے آسان ہوتا ہے دوسرے ملکوں اور پاکستان کے نظام میں فرق کرنا۔ میں ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہوں تو یہ سوچ کر آیا تھا کہ ان بنیادی مسائل کو اجاگر کروں گا جن کا تعلق صرف حکمرانوں سے نہیں بلکہ عوام سے بھی ہو اور آج ان مسائل میں سے ایک اہم مسلہ ٹریفک کا نظام ہے۔

    اس آرٹیکل میں میں پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد کے ٹریفک نظام کے حوالے سے لکھوں گا۔ ٹریفک قوانین عوام کی حفاظت کے لیے ہوتے ہیں لیکن ہمیں ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہمارے اوپر ظلم کیا جا رہا ہے۔ سب سے پہلے ذکر کروں گا ریڈ سنگل کا کراس کرنا۔ ریڈ سگنل کو ہماری عوام ایسے کراس کرتی ہے جیسے دنیا میں لوگ گرین سگنل کو کراس کرتے ہیں۔ پوری دنیا میں ریڈ سگنل کراس کرنا ایک سنگین جرم ہے لیکن ہمارے ہاں لوگ اسے جرم نہیں سمجھتے اور بہت سارے مقامات پر میں نے دیکھا ہے کہ ٹریفک پولیس بھی ریڈ سگنل کے کراس کرنے کو اتنی اہمیت نہیں دیتی جس کی وجہ سے عوام بغیر سوچے سمجھے ریڈ سگنل کراس کر لیتے ہیں جو انتہائی خطرناک ہے کسی کی جان بھی جا سکتی ہے۔

    دوسرا سیٹ بیلٹ کا نہ باندھنا
    پاکستان میں لوگ سیٹ بیلٹ کا استعمال نہ ہونے کے برابر کرتے ہیں اور سیٹ بیلٹ ایکسیڈنٹ کی صورت میں ہمارے حفاظت کرتا ہے لیکن شاید ٹریفک پولیس کی طرف سے اس کی اہمیت کو اتنا اجاگر نہیں کیا گیا اور نہ سختی کی گئی جس کی وجہ سے عوام سیٹ بیلٹ کا استعمال نہیں کرتی۔

    تیسرا یو ٹرن
    پوری دنیا میں یو ٹرین صرف ایک لائن سے کیا جا سکتا ہے لیکن پاکستان میں دو دو تین تین لائنوں سے یو ٹرن کیا جاتا ہے جو ایک جرم بھی ہے اور ایکسیڈنٹ کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔

    راونڈ اباوٹ
    پوری دنیا میں راونڈ اباوٹ میں داخل ہونے سے پہلے گاڑی روکی جاتی ہے دیکھا جاتا ہے کہ کیا راونڈ اباوٹ میں کوئی گاڑی تو نہیں اگر ہے تو اس کے گزرنے کا انتظار کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں اس کے برعکس چلا جاتا ہے۔ راونڈ اباوٹ میں داخل ہونے والا بغیر احتیاط کیے راونڈ اباوٹ میں داخل ہو جاتا ہے جبکہ راونڈ اباوٹ میں گھومنے والی گاڑی اس کے لیے راونڈ اباوٹ کے اندر ہی رک جاتی ہے جو انتہائی غلط عمل ہے۔

    اس کے علاوہ بہت سارے ایسے مسائل ہیں جن کا اگر میں زکر اس آرٹیکل میں کروں تو یہ آرٹیکل بہت لمبا ہو جائے گا میں نے کچھ اہم ایشوز کا زکر کیا ہے جن کی اصلاح انتہائی ضروری ہے۔ ٹریفک ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے ایک کوتاہی روڈ مارکنگ کا نہ ہونا جس کی وجہ سے زیادہ تر ڈرائیور لائن کی پابندی نہیں کرتے۔ ہر روڈ پر روڈ مارکنگ ہونی چاہیے اس کے علاوہ بہت سارے سگنل کام نہیں کرتے جو ٹریفک جام کا سبب بنتے ہیں۔

    ٹریفک پولیس اور عوام دونوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں ٹریفک کا نظام بہتر ہو جائے۔

    شکریہ

    Article by: Farman Ullah
    Twitter ID: @ForIkPakistan