Baaghi TV

Category: متفرق

  • اپنی زندگی کو سگریٹ سے مت جلائیں .تحریر: محمد زمان

    اپنی زندگی کو سگریٹ سے مت جلائیں .تحریر: محمد زمان

    اپنی زندگی کو سگریٹ سے مت جلائیں .تحریر: محمد زمان
    کتنے بے خبر ہیں ہم لوگ خود اس راستے پر قدم رکھ چکے ہوتے ہیں جو زندگی کا اختتام ہے ساتھ ہی اپنے سے جڑےرشتوں کو بھی اس اذیت میں مبتلا کر جاتے ہیں کہ بالآخر ان کا انجام بھی یہی ہوتا ہے۔ کمرے میں ناگوار بو ہر بات کا آغاز کھانسی سے اور بات مکمل بھی نہیںکہ پھر کھانسی کا دورہ اور تمباکونوشی ایسی بلا ہے جو آپ اور آپ کے ساتھ اردگردر رہنے والوں کو جان لیوا مرض میں مبتلاکر جاتی ہے۔مگر ہم کب سوچتے ہیں؟

    سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سگریٹ نوشی یا تمباکونوشی ایک تشویش ناک عادت ہے جو عصر حاضر میں خواتین و حضرات کیلئے ہےشمار صحت اور معاشی مسائل کا پیش خیمہ ہے اور یہ عادت روز بروز بڑھتی جارہی ہے اس کے خلاف پوری دنیا میں صرف چھ ملکوں میں پابندی لگائی گئی ہے۔ لیکن باقاعدہ طور پر اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا ،سگریٹ نوش عام طور پر تیس یا چالیس سال کی عمر میں تمباکو کے زہریلے اثرات کا شکار ہوکر دل کے امراض میں مستقل طور پر مبتلا ہو جاتے ہیں اور سگریٹ نوشی میں 20 فیصد امراض دل کے ہوتے ہیں اور سالانہ120,000 افراد تمباکونشی کیوجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں کیونکہ تمباکو میں نیکوٹین ( Nicotine ) جیسا زہریلا مادہ ہوتا ہے۔ جو کہ دل کی نالیوں اور بلڈ ویسلر ( Blood vessels ) کو بری طرح متاثرکرتا ہے ،نیکوٹین سے کئی دیگر اعصابی امراض بھی جنم لیتے ہیں کیوند نیکوٹین اور دھوئیں سے (Internal Nervous system ) بری طرح متاثر ہوتا ہے اور مسلز کمزور ہوکررہ جاتے ہیں جس سے وہ اپنا بہتر طریقے سے کام سرانجام نہیں دے سکتے اور مجموعی طورصحت خراب ہوجاتی ہے۔ تمبا کوکا دھواں ک(Cardiovascular Diseases ) کا باعث بنتا ہے اور ہارمونز کے نظام کو بھی متاثر کر کے (Oestrogen ) کی کمی کا سبب بنتا ہے۔ کینسر ایک مہلک ترین مرض ہے اور ہر سال تقریبا 48 فیصد لوگ سگریٹ کے دھوئیں سے اس مرض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کینسر میں گئے، منہ ، زبان اور خوراک کی نالی کے کینسرسرفہرست ہیں۔ علاوہ ازیں سانس کی نالی اور پھیپھڑے بھی بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ جس سے سانس کے امراض جنم لیتے ہیں۔ یہ امراض بڑھتے بڑھتے بالآخر پھیپھڑوں کا کینسر بن جاتے ہیں۔

    پھیپھڑوں اور سانس کے امراض کے باعث دیگر کئی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ جن میں فلو نزلہ، زکام، کھانسی اور ( Pneumonia ) وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم ان سب امراض کی بڑی وجہ سگریٹ نوشی ہے۔ خواتین میں بڑھتی ہوئی اس عادت سے بانجھ پن اور دیگر زنانہ امراض پیدا ہوتے ہیں ۔ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ عورتوں میں 30 فیصد جنسی امراض دھوئیں اور نیکوٹین کے مضر اثرات کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ حاملہ خواتین میں ہی مضر اثرات زیادہ شدید صورت اختیار کر جاتے ہیں مثلا نومولود بچے اور زچہ دونوں کی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ جنسی امراض میں سگریٹ نوشی مردوں کو بھی متاثر کرتی ہے جس سے جنسی خواہش میں کمی اور بانجھ پن یعنی جرثومے متاثر ہوتے ہیں ۔ اعصابی تناؤ ،ڈیپریشن اور دیگر نفسیاتی مسائل بھی سگریٹ نوشی سے پیدا ہوتے ہیں ۔ ان امراض سے نوجوان طبقہ خاص طور پر متاثر ہورہا ہے۔ عام طور پر اس کا سبب بے روزگاری اور غربت بھی ہے جس سے لوگ پریشان ہو کر مزید تین عادات میں مبتلا ہورہے ہیں۔ سگریٹ نوشی سے پیٹ کے امراض بھی پیدا ہوتے ہیں جن میں سینے کی جلن، تیزابیت اور بھی قابل ذکر ہیں۔ علاوہ ازیں عام طور پر سگریٹ نوش حضرات سگریٹ نہ پینے والوں کی نسبت کم عمر پاتے ہیں اور مجموعی صحت کے مسائل میں ہمیشہ مبتلا رہتے ہیں ۔سماجی اور معاشی مسائل بھی جنم لیتے ہیں اور سگریٹ نوشی سے ایک کثیر دولت دھوئیں کی نظر ہو جاتی ہے۔

    یہ بات حقیقت ہے کہ سگریٹ نوشی صحت کیلئے مضر ہے اس لئے بہت سے افراد نے اس سے چھٹکارا پانے کی کوشش تو کی ہوگی لیکن خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے ہوں گے۔ کیونکہ سگریٹ میں نکوٹین ہوتی ہے اور اسکا عادی بمشکل ہی اس سے جان چھڑاسکتا ہے بہر حال درج ذیل میں اس لعنت سے چھٹکارا پانے کیلئے چند ہدایات درج ذیل ہیں۔ اہم ترین اور سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ پہلے آپ مضبوط ارادہ کریں کہ سگریٹ نوشی ترک کرنا ہے۔ پھر جب بھی سگریٹ کی طلب ہو اٹھ کر صاف اور تروتازہ ماحول میں لمبے لمبے سانس لینا شروع کر دیں۔ زیادہ نہ ہو سکے تو دن میں تین بارتو ضرور یہ کام سرانجام دیا جائے اس سے بہت حد تک آ پکو سکون محسوں ہوگا اور دوبارہ یہی طریقہ دوہرانے کو بھی جی چاہے گا۔ ابتدائی دنوں میں ایسا کرنے سے آپکو قدرے مشکل پیش آئے گی لیکن آہستہ آہستہ مثبت نتائج برآمد ہوں گے لہذا شروع میں پانی کا استعمال زیادہ کر دیں ۔ اس سے ایک تو سگریٹ کی طلب سے دھیان بٹ جائے گا اور دوسرا جسم سے نیکوٹین کے زہریلے مادے بھی خارج ہونے میں آسانی ہوگی۔ بعض لوگ سگریٹ سے پیچھا چھڑوانے کیلئے پان ،نسوار یا کافی وغیرہ کی عادت ڈالتے ہیں لیکن یہی نقصان دہ اثرات مرتب کرتے ہیں اس لئے مثبت عادات اور قدرتی طریقوں سے اس عادت کو ترک کرنے کی کوشش کی جائے۔ کھانا کھانے کے بعد سگریٹ کے عادی حضرات سگریٹ ضرور پیتے ہیں ان کو چاہیے کہ بجائے سگریٹ کے وہ ایک کپ پودینہ چائے کا پئیں جس سے ہاضمہ بھی متاثر نہیں ہوگا اور سگریٹ سے بھی چھٹکارا حاصل ہوجائے گا۔ سگریٹ پینے والے دوستوں کی محفل سے دور ہیں۔ اپنے گھر سے تمام سگریٹ، ایش ٹرے اور حتی کہ اپنے سب کپڑے وغیرہ دھوڈالیں تا کہ سگریٹ کے دھوئیں وغیرہ سے دوبارہ سگریٹ پینے کو بھی جی نہ چاہے۔ صبح سویرے اٹھنے کا معمول بنالیں اور تازہ ہوا میں لمبے لمبے سانس لیں۔ اور ہلکی پھلکی ورزش کریں تا کہ مجموعی طور پرصحت بحال رہے اس کے علاوہ دن کے کسی بھی حصے میں تفریح کیلئے کوئی انڈور گیم یادلچسپ مووی دیکھیں اس طرح بتدریج آپکی نفسیاتی خواہش سگریٹ سے دور ہوتی جائے گی۔ اپنے دوستوں، گھر والوں اور آفس میں سب کو بتادیں کہ میں سگریٹ چھوڑ چکا ہوں البتہ وہ بھی مزید حوصلہ افزائی سے مددکریں گے۔ بعض ہسپتالوں میں سگریٹ نوش حضرات کا علاج بذریہ ادویات بھی کیا جاتا ہے جہاں وہ نیکوٹین کے متبادل ادویات استعمال کرواتے ہیں لیکن وہ بھی مضر صحت ثابت ہوتی ہیں ۔ اس لئے کوشش کریں کہ خود قدرتی اور سادہ طریقے سے اس لعنت سے چھٹکارا پائیں

  • کرونا کے بعد سموگ کا علاج بھی چھٹیاں ہی ہیں ؟؟ ازقلم صداقت علی ڈوگر

    کرونا کے بعد سموگ کا علاج بھی چھٹیاں ہی ہیں ؟؟ ازقلم صداقت علی ڈوگر

    پاکستانی عوام چھٹیوں سے بڑی خوش ہوتی ہے اور پاکستان کے طالب علم بھی چھٹیوں سے بہت خوش ہوتے ہیں
    بلکہ حکومت نے ہر مسئلے کا ہل چھٹیاں ہی بنا لیا ہے پچھلے دو سال سے وبائی مرض کرونا نے اتنی تباہی نہ مچائی ہو گی جتنی ہماری حکومت کی طرف سے تعلیمی اداروں کو بند کرکے مچائی گئی ہے
    کرونا نے محض چند ہزار لوگوں کو پاکستان میں متاثر کیا ہو گا لیکن کرونا کی وجہ سے بند ہونے والے پاکستان کے سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے بہت سارے طالب علم جو کہ کرونا کی وجہ سے تعلیم اور تربیت سے محروم ہو گئے ہیں
    گیارہ سو نمبر والے بہت سے بچے این ٹی ایس میں فیل ہو گئے ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے گیارہ سو نمبر حاصل کرنے والے بہت سے خوش نصیب طالب علم آگے کی بہت سی قابلیت سے محروم رہ گئے ہیں اصل میں جن بچوں نے گیارہ سو نمبر حاصل تو کر لئے لیکن سائنس پریکٹیکل ورک اور تعلیمی قابلیت سے محروم ہوگئے ہیں

    اب یہ بچے نہ تو دوبارہ پیپر دے سکتے ہیں اور نہ کچھ کر سکتے ہیں ان بچوں نے جو سیکھنا تھا وہ نہیں سیکھ سکے اب یہ آگے ان چیزوں کو کیسے سیکھیں گے جن کی بنیاد ان بچوں نے پچھلی کلاسز میں چھوڑ دی ہے؟
    ابھی لوگ کرونا کے خیالات سے نمٹے نہیں ہیں کہ اب ایک اور مصیبت آن پڑی ہے جسے سموگ کہتے ہیں
    سموگ کا علاج ڈھونڈنے کی بجائے اس کا علاج صرف چھٹیوں میں ڈھونڈ لیا ہے اور اب سموگ کا علاج ہفتہ اتوار اور پیر کی چھٹیوں سے دریافت کر لیا گیا ہے

    لاہور جو اس وقت آلودگی میں ایشیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے اس میں سموگ اور آلودگی سے بچنے کے لیے ہفتہ اتوار اور پیر کی چھٹیوں سے اس کا حل سمجھ لیا گیا ہے جو کہ سمجھ سے بالاتر ہے

    یہ چھٹیاں پچھلے پندرہ دن سے جاری ہیں لاہور کے اسکولوں اور کالجز و یونیورسٹیز میں استعمال ہونے والی گاڑیاں ایک منٹ کے لئے بھی نہیں روکی گئیں
    اصل میں سموگ ٹرانسپورٹ اور بھٹہ خشت کی وجہ سے بنتی ہے اور بھٹہ خشت کے سسٹم سے اتنی زیادہ آلودگی پیدا ہوتی ہے جس کا آپ اندازہ لگا ہی نہیں سکتے
    حکومت نے بھٹہ خشت کے لیے زگ زیگ کا سسٹم متعارف کروایا جو کہ عام آدمی کے لیے لگانا بہت مشکل ہے اسی سسٹم کو پاکستانیوں نے نئے انداز میں لگاتے ہوئے ایک ایسا سسٹم بنایا ہے جسے ہر بندے نے اپنے بھٹہ خشت پر لگا لیا ہے جس سے دھواں تو سفید بظاہر بے ضرر نکل رہا ہے لیکن صرف نام کا بے ضرر نکل رہا ہے
    سموگ اور آلودگی ویسے ہی ہیں جیسے پہلے تھی بس فرق صرف اتنا ہے پہلے رنگ کالا تھا اب رنگ سفید ہو گیا ہے اور اسی طرح ہماری پاکستان کی ٹرانسپورٹ کا حال ہے ہر گاڑی پر ناکارہ انجن استعمال کر رہے ہیں اور ناکارہ انجن والی گاڑیاں اتنا دھواں چھوڑ رہی ہیں کہ جس کا کوئی حساب نہیں
    بجائے اس کے ٹرانسپورٹ اور بھٹ خشت کے سسٹم کو دیکھا جائے ہماری حکومت نے اس کا علاج صرف چھٹیوں کو ہی بنا لیا ہے
    حکومت پنجاب نے سموگ پر قابو پانے کے لیے کون سے عوامل اور کون سی مہم چلائی؟
    دھواں دینے والی کتنی گاڑیاں بند کی گئی ہے ؟
    نیز دو نمبری سے چلنے والے کتنے بھٹے بند کیے ہیں؟
    ہمارا مستقبل خطرے میں ہے جوش کی بجائے ہوش سے کام لیجئے ہر مسئلے کا حل چھٹیاں نہیں ہیں خدارا ہماری حکومت سے اپیل ہے کہ چھٹیاں نہ کریں بلکہ اس کا کوئی اور حل سوچیں اور پاکستان کے طالب علموں کا اور بیڑا غرق نہ کریں بلکہ پاکستان کو ایک اچھا ملک بنانے میں مدد کریں نہ کہ ایک بغیر تعلیم کے ملک، کیوں کہ جو حالات ہیں اس میں پاکستان واحد ملک ہوگا جس میں آنے والے وقت میں سب آفیسر اور انجینئر بغیر تعلیم کے ہوں گے اگر یہی حال پاکستانی حکومت کا رہا تو
    خدارا کچھ سوچئے چھٹیاں نہیں تدابیر کیجئے

  • برہنہ ویڈیوز کا سلسلہ ختم کیوں نہیں ہو رہا، تحریر:نوید شیخ

    برہنہ ویڈیوز کا سلسلہ ختم کیوں نہیں ہو رہا، تحریر:نوید شیخ

    کپیٹن صفدر نے کہا ہے کہ اتنی گندی ویڈیوز ریلیز ہونے والی ہیں کہ دیکھنے کے بعد عرق گلاب سے آنکھیں دھونی پڑنی ہیں۔ اب یہ ویڈیوز تو پتہ نہیں کب منظر عام پر آنی ہیں ۔ مگر اس وقت پورے پاکستان میں برہنہ ویڈیوز اور لیک ویڈیوز ہونے کا ایک ایسا رواج چل پڑا ہے کہ ہمارا پورا کا پورا معاشرہ ننگا ہو کر رہ گیا ۔ معاشی اور سیاسی طور پر تو ہم پہلے ہی زوال کا شکار ہیں ۔ پر ساتھ اب ہمارے ملک کا اخلاقی طور پر بھی جنازہ نکل رہا ہے ۔ کبھی فیصل آباد میں کاغذ چننے والیوں کی برہنہ ویڈیوز سامنے آتی ہیں تو کبھی تھیڑاداکاروں کی ویڈیوز تو کبھی ایسے ایسے جنسی اسکینڈل نکل کر سامنے آرہے ہیں کہ مجھے تو ٹی وی اور اخبار اٹھاتے ہوئے اب ڈر لگنے لگا ہے ۔

    ۔ جو کل کوئٹہ سے اسٹوری سامنے آئی ہے ۔ اس نے تو اوسان خطا کر دیے ہیں ۔ سب کچھ بتانے سے پہلے میں واضح کر دوں کہ میری نظر میں ان تمام چیزوں کی سب سے بڑی ذمہ داری ریاست اور حکومت پاکستان کی ہے ۔ کیونکہ جس ملک میں نظام عدل کا وجود نہ ہو ۔ جس ملک کی حکومت بیرون ملک پلٹ نکمے کھلاڑیوں پر مشتمل ہو ۔ وہاں پھر ایسے درندے ۔ ایسے جرائم پیشہ لوگ دلیر ہوجاتے ہیں ۔ کیونکہ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ جب مرضی اس قانون کے جالے کو پھاڑ کر ہم نکل جائیں گے ۔ اس لیے جو کرنا ہے کر گزرو۔۔۔ اور یہ جو کچھ بھی اس وقت پاکستان میں ہو رہا ہے ۔ اسکی سب سے بڑی ذمہ داری حکومت وقت پر پڑتی ہے ۔ یہ جو کوئٹہ میں اسٹوری سامنے آئی ہے یہ اتنی خوفناک ہے کہ دل دہل جاتا ہے ۔ یہ میری زندگی کی مشکل ترین اسٹوری ہے ۔ جس کو آپ تک پہنچتے ہوئے ۔ روح کانپ اٹھی ہے ۔ ہوا کچھ یوں کہ کوئٹہ میں ملزمان لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر بلاتے ۔ پھر جھانسہ دے کر نشہ آور مواد پلایا جاتا اور اس کے بعد نازیبا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کیا جاتا تھا ۔ ان ویڈیوز میں نظر آنے والے مناظر نہایت دردناک ہیں، ان میں لڑکیوں کو برہنہ کرکے ان کے گلے میں رسی ڈال کر ان کو گھسیٹا جاتا ہے، تھپڑوں سے مار جاتا ہے، بال نوچے جاتے ہیں، پاؤں انکے منہ پہ مارے جاتے ہیں غرض جس قدر درندگی ہوسکتی ہے ان ویڈیوز میں موجود ہے اس لیے ہدایت خلجی کا ڈارک ویب سے بھی تعلق نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

    ۔ یہ 200 سے زائد بچیاں ہیں جن کو نوکری اور روزگار کا جھانسہ دے کر نشے کا عادی بنا کر انہیں تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر برہنہ ویڈیوز بنانے اور بلیک میل کرنے والے گروہ کا سرغنہ، بدنامِ زمانہ ڈرگ ڈیلر حبیب اللہ کا بیٹا سابقہِ کونسلر ہدایت خلجی نامی درندے نے یہ گھناؤنا کھیل بلوچستان یونیورسٹی کی طالبات سے شروع کیا۔ اس سارے گندے کھیل میں اسے بااثر سیاسی افراد کی پشت پناہی حاصل رہی جن کے پاس لڑکیوں کو بھیجا جاتا تھا اس لیے بھی اس کے خلاف کبھی کوئی خاص کاروائی نہیں ہوئی۔ اب مختلف کیسز اور متاثرہ خواتین کی شکایات سامنے آنے کے بعد ہدایت خلجی اور اسکے بھائی کو بظاہر گرفتار کرلیا گیا ہے ان کے قبضے سے سینکڑوں لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز برآمد کرکے لیپ ٹاپ، متعدد موبائلز اور دیگر ڈیوائسز قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ تاہم سیاسی دباؤ کی وجہ سے پولیس کاروائی کرنے کی پوزیشن میں نہیں اس لیے کوئی خاص ایکشن نظر نہیں آ رہا۔ ہدایت خلجی کے اثرورسوخ کا اندازہ ایک خاتون کے اس بیان سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس میں ایک متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ جب وہ قائد آباد کوئٹہ کے SHO شیخ قاضی کے پاس ملزم ہدایت خلجی کے خلاف مقدمہ درج کرنے گئی تو شیخ قاضی ایس ایچ او نے بھی متاثرہ لڑکی کو اپنے پاس رکھا اور ذیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد میں پریشر ڈالنے کے لیے مجھے، میری بہن اور میرے بھائی کو اٹھا کر لے گئے، میرے بہن، بھائی کا ابھی تک علم نہیں کہ وہ کہاں، کس حال میں ہیں۔

    ۔ ہدایت خلجی سے جو ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں ان میں 6 ہزارہ، 221 پشتون، 63 بلوچ اور 22 اردو بولنے والی لڑکیاں شامل ہیں۔ اس وقت ملزمان ہدایت اللہ اور خلیل 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں مقدمے میں زیرحراست ملزمان سمیت 3 افراد نامزد کئے گئے ہیں پولیس کے مطابق ملزمان سے تحقیقات جاری ہیں ۔ ملزمان سے برآمد کئے گئے موبائل فون، لیپ ٹاپ، ویڈیو، کو پنجاب فرانزک لیبارٹری بھجوا دیا گیا ہے۔ ویڈیو کی تحقیقات کے لئے ایس ایس پی آپریشنز کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے۔ جو تحقیقات کر رہی ہے۔ کیس میں نامز د ملزم شائی کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں ۔ پھر ملزمان کی جانب سے اغوا کی گئی 2 لڑکیاں افغانستان میں ہیں ۔ لڑکیوں کی واپسی کے لیے وفاقی سطح پر افغان حکومت سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔

    ۔ ان نازیبا ویڈیو کیس کے حوالہ سے ڈی آئی جی کوئٹہ کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں، بہت انکشافات سامنے آئی ہیں۔ ملزمان ویڈیوز کب سے بنا رہے تھے اس کی بھی تحقیقات جاری ہیں ،ملزم ہدایت کے خلاف دو مقدمے درج ہیں، ملزم نے کسی بھی لڑکی کو بلیک میل کیا ہو تو وہ ہم سے رابطہ کرے ، نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا، ہم چاہتے ہیں ملزمان کے خلاف زیادہ سے زیادہ ثبوت ملیں اور کیس مضبوط ہو تا کہ ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا مل سکے۔۔ مجھے نہیں پتہ کب تک اس ملک میں صرف قانون ہی بنتے رہیں گے، کب یہ اندھا، گونگا، بہرہ نظام انصاف جاگے گا۔ کب تک لوگ خود قانون ہاتھ میں لیں گے۔ کب تک ایسے درندے ہمارے معاشرے میں دندناتے پھریں گے۔ کب تک ہماری مائیں،بہنیں اور بیٹیاں مجبوری کے ہاتھ تنگ آ کر ان درندوں کے ہاتھ استعمال ہوتی رہیں گی۔ ایسے درندوں کو لٹکا دینا چاہیے انکے سیاسی یاروں کو جو خدمت کے نام پہ ووٹ لیکر فرعون بن جاتے ہیں عزتوں سے کھیلتے ہیں، مجرموں، زانیوں، قاتلوں اور منشیات فروشوں کی پشت پناہی کرتے۔ ان گندے کرداروں کا نام بھی سامنے آنا چاہیئے ۔ تاکہ عوام جان سکیں کہ کیسے گندے لوگ حکمران بنے بیٹھے ہیں ۔ میرا حکومت سے بھی سوال ہے کہ جب آپ اپنے سیاسی معاملات کے ایجنسیز کو استعمال کرسکتے ہیں تو ایسے گھناونے کرداروں کا قلع قمع کرنے کے لیے ان ایجنسیوں کو استعمال کیوں نہیں کرتے ۔ کیا عوام کا دکھ درد آپ کو دیکھائی نہیں دیتا ۔ یادرکھیں ایک سب نے مر جانا ہے ۔ اور اس وقت نہ کوئی رتبہ ، عہدہ ، پیسہ اور زمین کام نہ آئے گی ۔ ایسا اسکینڈل اور اسٹوری کسی اور ملک میں آئی ہوتی تو ابھی تک اس ملک کے تمام ادارے ، حکومتیں ، عوام جت جاتے کہ ان درندے صفت کرداروں کا قلع قمع کیا جائے ۔ پر یہ پاکستان ہی ہے جہاں وزیر اعظم سے لے کر وزیر اطلاعات تک روز دسیوں پر بار ٹی وی پر آتے ہیں ۔ ان کو اپوزیشن کی بینڈ بجانا یاد رہتا ہے یہ عوام کے دکھ دیکھائی نہیں دیتے ۔ میری شکایت اعلی عدالتوں سے بھی ہے جن کے کسی جج کا نام آجائے تو
    suo motoلے لیا جاتا ہے ۔ مگر یہاں دو سو سے زائد بچیوں کی زندگی زندہ درگوں کردی گئی ۔ مگر ہماری حکومت ، ہماری عدالت ، ہمارے ادارے سب خاموش ہیں ۔

  • ملک عدنان۔۔ ایک روشن اُمید  ،تحریر:سیدہ ذکیہ بتول

    ملک عدنان۔۔ ایک روشن اُمید ،تحریر:سیدہ ذکیہ بتول

    ایک طرف ہجوم خود کو عاشق رسول اور پراینتھا کمارا کو گستاخ رسول قرار دیکر لبیک یارسول اللّٰہ کے نعروں کے ساتھ ملزم پر ڈنڈے لاٹھیاں مکے اور گھونسے برساتا پوری دنیا کو پیغام دے رہا تھا کہ قانون اور اداروں کی موجودگی میں وہ ہجوم اس قدر طاقتور ہے کہ مذہب کے نام پر سزا جزا کا حقدار تک ٹھہر چکا جبکہ دوسری جانب اسی ہجوم میں واحد شخص جو تشدد روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتا رہا مار سہتا رہا مگر انسانیت کو مقدم جانتے ہوئے بہادری سے ایک انسان کو ظلم سے بچانے کی اپنے تہی کوشش کرتا رہا۔۔ مارنے والوں پہ اس قدر جنون طاری تھا کوئی بات کوئی وعدہ کوئی قانون ماننے کو تیار نہ تھے ایک ہی ضد تھی کی ریاست کے قانون کو پاؤں تلے روندو اداروں کو ٹھینگا دکھاؤ اور جسے وہ” گستاخ ” کہہ بیٹھے اسے مار مار کے مار ڈالو۔

    ملک عدنان کہتا رہا کہ پراینتھا کو پولس کے حوالے کریں گے مقدمہ چلائیں گے یقین کر لیجیے مگر اسی بحث وتکرار میں سری لنکن مہمان جتھے کے ہاتھ چڑھا پھر ظلم وستم اور درندگی کی جو داستاں رقم ہوئی وہ” ظالموں "میں سے کئی کے کیمروں کی گیلری میں بھی محفوظ ہوئی۔۔

    ملک عدنان اسی فیکٹری میں پروڈکشن مینیجر ہے ایک مذہبی اسٹیکر ہٹانے پر جب پراینتھا کو سزا دینے کا فیصلہ ہوا تو عدنان نے سمجھانے کی کوشش کی ” نام کے عاشقان "سے کہا کہ وہ غیر مسلم ہے نہیں پڑھ سکا کیا تحریر تھا اسلیے اسٹیکر ہٹاتے وقت خیال نہ رکھا ہم جلد اسے فیکٹری سے نکال دیں گے اور ایف آئی آر بھی درج ہوگی ایسے میں ایک نے نعرہ لگایا لبیک یا رسول اللہ اور ٹھنڈا پڑتا جوش دوبارہ جاگ اُٹھا عدنان نے پریانتھا کو بچا کر فیکٹری کی چھت پر موجود ایک کمرے میں بند کر دیا جب غصےاور جہالت سے بھری عوام چھت پر پہنچی تو انہوں نے پرینتھا کو زبردستی کمرے سے نکالا نیچے چوراہے پر گھسیٹتے لے گئے ہزاروں کا مجمع تھا اور عدنان پرینتھا کو بچانے والا واحد شخص جو اسوقت بنا جان کی پرواہ کیے چالیس منٹ تک ڈھال بن کر خود تشدد سہتا رہا کہتا رہا مت کریں ایسا اس سے فیکٹری میں ہزاروں لوگ بے روزگار ہو جائیں گے فیکٹری بند ہو جائے گی پاکستان کا نام بدنام ہوگا مگر وہ” نام نہاد عاشقان” نہ اس وقت مسلمان تھے نہ اسلامی ریاست کے باسی۔۔ایک جنونی جتھہ تھا جسکو سوائے” گستاخ” کے اسوقت نہ کچھ دکھائی دے رہا نہ سنائی دے رہا تھا۔

    ملک عدنان تن تنہا اس جتھے سے کیا مقابلہ کر پاتا ایک وقت آیا کہ پرینتھا کو مارنے والوں نے اس "دینی فریضے” میں اپنا اپنا حصہ ڈالا جتنا مار سکتے تھے مارا انسانیت کو جس قدر شرمندہ کیا جاسکتا تھا کیا لاش تک جلا ڈالی کپڑے تک اتار دئیے حد یہ کہ جن کا ہاتھ مارنے کے فرض سے رہ گیا وہ موبائل نکال کر”ایمان افروز”مناظر کو فلمند کرتا سیلفیاں لیتا لبیک یارسول اللہ کہتا خود کو "ڈیڑھ مسلمان” سمجھتا رہا پرینتھا مر گیا ایک غیر ملکی مہمان چند ایک فسادیوں کی شدت پسندی کی بھینٹ چڑھ گیا مگر ملک عدنان ایک ایسی مثال قائم کر گیا جو اس سے پہلے نہ دیکھی نہ سنی کیونکہ مذہب کے نام پر یہاں غلط کو غلط اور صیح کو صیح کہنے والے کا انجام بھی وہی ہوتا ہے جو اس سے پہلے کئی پرینتھا بھگت چکے۔ ہزاروں لوگوں کے سامنے عدنان کی بہادری اور انسانیت نے ایک امید روشن کی کہ جو مذہب کے نام پر فتنہ فساد برپا کرے اسکے سامنے ڈٹ جاؤ کم از کم ظلم کو ہر ممکن حد تک روکنے کی کوشش تو کرو۔

    اور دیکھا جائے تو اسلام کی تعلیمات بھی تو یہی ہیں کہ ظلم پر خاموش رہنے والا بھی ظلم میں شریک مانا جاتا ہے۔
    حکومت پاکستان کی جانب سے باہمت عدنان کو تمغہ شجاعت دیا جارہا ہے سراہا جارہا ہے عدنان پاکستان کا وہ مثبت چہرہ ہے جو اس مملکت کی اصل پہچان ہے اسلام کے نام پر بننے والی ریاست میں سوائے چند کے ہر ایک عدنان ہے جو نہ ظلم سہتا ہے نہ کسی پر ہونے دیتا ہے مگر توہین مذہب کی دھمکی دے کر ایسے جتھے سبکو دیوار سے لگا دیتے ہی۔ بدقسمتی یہی ہے کہ آٹے میں نمک کے برابر اُن چند جنونیوں کی وجہ سے سات دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی ہم مذہب کے نام پر گندہ کھیل کھیلنے والوں سے چھٹکارا نہ پا سکے۔۔آج پرینتھا کی جان گئی کل کو اسی طرح کا ہجوم کسی اور کو بنا ثبوت کے توہینِ مذہب کی آڑ میں اپنے مفادات کی آگ میں جھونک سکتا ہے کسی بھی انسانی جان پر ظلم وستم کر کے اپنی خار نکالی جا سکتی ہے ماضی میں بھی کئی نامی گرامیوں نے اسلام کے نام پر ریاست اور شہریوں کو نقصان پہنچایا۔سوال یہ ہے کہ ایک خودمختار ریاست میں مذہب کارڈ کا استعمال اتنی آسانی سے کیوں کر کیا جاتا رہا قوانین کی موجودگی میں کوئی کیسے قانون کو دین کے نام پر بلیک میل کر کے بے توقیر کرتا رہا ریاست چند ایک لوگوں کے ہاتھوں کیوں یرغمال بنی رہی؟

    اس واقعے نے ہر باشعور ذہن کو جھنجھوڑ ڈالا ہمارا پیارا وطن جسکی بنیاد ہی اسلامی قدروں، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور تمام بسنے والوں کے ساتھ برابری کے سلوک پہ رکھی گئی آج یہ ملک دشمن عناصر اسے خدانخواستہ تباہ کرنے پہ تُلے ہیں۔انہی کیوجہ سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے جبکہ ایسے واقعات معاشرے میں عدم برداشت کو بھی ہوا دیتے ہیں ہمیں معاشرے میں سکون اور امن کے لیے عدنان جیسے کردار کی سخت ضرورت ہے جبکہ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت عدنان کو سراہنے کے ساتھ ساتھ پرینتھا کے قاتلوں کو بھی قرار واقعی سزا دے تاکہ ایسے واقعات دوبارہ رونما ہو کر روشن پاکستان کے چہرے پہ سیاہ دھبہ نہ ثابت ہوں۔

  • امریکہ کے لئے نیا امتحان۔ تحریر:عفیفہ راؤ

    امریکہ کے لئے نیا امتحان۔ تحریر:عفیفہ راؤ

    انڈیا کے لیے اس وقت عالمی سطح پرجو چیز سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے وہ اس کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور دو بڑے ممالک امریکہ اور روس کے درمیان بدلتے رشتوں میں توازن قائم رکھنا ہے۔ ساتھ ہی اس وقت امریکہ کے لئے بھی امتحان ہے کہ وہ روس سے دفاعی نظام خریدنے پر کیا انڈیا کے ساتھ بھی وہی سلوک کرے گا جو اس نے باقی ممالک کے ساتھ کیا۔ انڈیا کے یہ دونوں دوست یعنی امریکہ اور روس ایک دوسرے کے شدید مخالف ہیں۔ دونوں اکثروبیشتر ایک دوسرے پر کئی الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔لیکن اس وقت یہ تعلقات ڈسکس کرنے کی وجہ حال ہی میں روس کے صدر پیوٹن کا چند گھنٹوں کا کیا گیا انڈیا کا دورہ ہے جس میں اس نے مودی سے ملاقات کی اور مختلف معاہدوں ہر دستخط بھی کئے۔ صدر پیوٹن اور وزیراعظم مودی نے
    2019 کے بعد پہلی مرتبہ نئی دہلی میں براہ راست ملاقات کی ہے۔ کورونا کے بعد روسی صدر کا یہ دوسرا غیرملکی دورہ ہے۔ اس سے پہلے پیوٹن نے جنیوا میں صرف امریکی صدر جوبائیڈن کے ساتھ ایک ملاقات کی تھی۔ ورنہ اس سال ہونے والے کئی اہم ایونٹس میں بھی یا تو پیوٹن نے شرکت سے معذرت کی تھی یا پھر ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی جاتی رہی ہے۔جس بات پر انڈین میڈیا بہت خوش ہورہا ہے اور جشن منایا جا رہا ہے وہ پیوٹن کا یہ بیان ہے کہ ہم بھارت کو ایک عظیم طاقت، ایک دوست ملک اور مختلف اوقات میں آزمائش کردہ دوست کے طور پر دیکھتے ہیں۔ساتھ ہی بھارت اور روس نے فوجی اور تجارتی تعلقات کو مضبوط کرنے کے لئے کئی معاہدوں پر دستخط بھی کیے۔ کامرس اور تجارت سے متعلق اٹھائیس سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں اسٹیل، بحری جہاز تیار کرنے، کوئلے، اور توانائی کے شعبے شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ دس سال پر مبنی دفاعی تکنیکی تعاون کا معاہدہ اور ایک سال کا تیل کا معاہدہ بھی کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی بھارت نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ روسی دفاعی میزائل سسٹم
    S-400کی فراہمی بھی بھارت کو اسی ماہ سے شروع کر دی جائے گی۔ تقریبا پانچ ارب ڈالر کی یہ ڈیل 2018 میں طے کی گئی تھی۔ جس پرامریکا نے اپنی ناپسندیدگی بھی ظاہر کی تھی۔ لیکن مودی سرکار اپنی حرکت سے باز نہیں آئی اور یہ معاہدہ امریکہ کی مرضی کے خلاف چلتا رہا۔S-400دنیا کے جدید ترین دفاعی نظاموں میں سے ایک ہے یہ دنیا کے سب سے جدید ترین زمین سے فضا میں مار کرنے والے دفاعی نظام میں سے ایک ہے۔ اس کی رینج400کلومیٹر تک ہے اور یہ بیک وقت 80 اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے اور ایک ہی وقت میں دو میزائل کا نشانہ بھی لے سکتا ہے۔یہ دفاعی نظام حاصل کرنے کے بعد انڈیا کو ایک اہم دفاعی صلاحیت حاصل ہوجائے گی اور یہی وجہ ہے کہ اس نے امریکی پابندیوں کی دھمکیوں کے باوجود اس میزائل سسٹم کی خریداری کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد اندازہ یہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ معاہدہ امریکہ اور انڈیا کے درمیان تناؤ پیدا کر سکتا ہے۔کیونکہ واشنگٹن نے کئی روسی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ روس، ایران اور شمالی کوریا کو اقتصادی اور سیاسی پابندیوں کا نشانہ بنانے کے لیے2017 میںCountering Americas Adverseries through sanctions ACTمتعارف کرایا گیا تھا۔ جو کسی بھی ملک کو ان ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدوں پر دستخط کرنے سے روکتا ہے۔معاہدوں کے ساتھ ساتھ مودی اور پیوٹن نے سیاسی اور دفاعی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ جس کے بعد نریندر مودی نے بیان دیا کہ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران دنیا نے بہت سی بنیادی تبدیلیاں دیکھی ہیں اور کئی نئے جیوپولیٹیکل گٹھ جوڑ سامنے آئے ہیں لیکن بھارت اور روس کی دوستی برقرار ہے۔خیر ان دونوں کی دوستی تو ان کے درمیان ہونے والے مصافحے اور مودی کی روایتی جپھی سے نظر بھی آرہی تھی۔ لیکن اب چیلنج یہ ہے کہ مودی سرکار آنے والے سنگین حالات اور چیلنجز سے کیسے نمٹے گی۔ کیونکہ دونوں ممالک نے پچھلے کچھ عرصے کے دوران جس طرح کے جغرافیائی اور سیاسی فیصلے کئے ہیں ان کے اثرات علاقائی اور عالمی سیاست پرظاہر ہونا لازمی بات ہے۔

    خاص کر امریکہ کے معاملے میں انڈیا جو کہ پچھلے کچھ عرصے سے امریکہ کا ایک اہم اتحادی بنا ہوا ہے وزیراعظم مودی نے 2020میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے جس طرح سے ایک بڑی ریلی منعقد کی تھی جب وہ انڈیا کے دورے پر آئے تھے۔ یہ انڈیا کی طرف سے واشنگٹن کی حمایت کا ایک جیتا جاگتا ثبوت تھا۔اس کے علاوہ جب انڈیا نے امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ چار ملکی اتحاد کواڈ میں شمولیت اختیار کی تھی تو روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے اس وقت کھل کر بات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جس پر انڈیا کا کہنا تھا کہ کواڈ ایک غیر فوجی اتحاد ہے اور اس کا مقصد کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے لیکن روسی وزیر خارجہ لاوروف اس سے متفق نظر نہیں آئے تھے۔لیکن ماسکو نے کافی حد تک اس طرح کی پریشان کن چیزوں کو نظر انداز کیا ہے، جبکہ دوسری طرف ماسکو کے واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات مسلسل خراب ہوتے رہے ہیں۔ اس لئے اب روس کو موقع مل گیا ہے کہ جو کچھ اس نے برداشت کیا وہ اس کا بدلا لے سکے اس لئے اب برداشت کرنے کی باری امریکہ کہ ہے۔ اس صورت حال کو جو چیز مزید مشکل بنا رہی ہے وہ انڈیا اور چین کے حالیہ بگڑتے ہوئے تعلقات ہیں۔ گذشتہ سال حالات اتنے بگڑ گئے تھے کہ دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان لداخ کی گلوان وادی میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر لاٹھیوں اور پتھروں سے خون ریز جھڑپ ہوئی جس میں کئی انڈین فوجی مارے گئے تھے۔ اس کے علاوہ انڈیا افغانستان میں بھی اپنا کھویا ہوا اثرورسوخ واپس حاصل کرنا چاہتا ہے جس کے لئے انڈیا کی آخر امید روس ہی ہے کیونکہ اس وقت روس، چین، پاکستان اور افغانستان آپس میں کافی قریب ہیں۔ اس لئے انڈیا نے امریکہ کی ناراضگی کا خطرہ مول لیتے ہوئے روس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہے کہ وہ چین اور افغانستان کے ساتھ تعلقات میں اس کی مدد کرے۔ اور یہ لازمی بات ہے کہ مودی اور پیوٹن کے درمیان اس پر بات چیت بھی ہوئی ہوگی۔ لیکن ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکہ کو کن حالات میں جنگ چھوڑ کر افغانستان سے نکلنا پڑا تھا اور دوسری طرف امریکہ اور چین کے درمیان بھی معاملات کئی محازوں پر کافی کشیدہ ہیں۔ یہاں تک کہ امریکہ نے بیجنگ کے سرمائی اولمپکس2022 کا بھی سفارتی بائیکاٹ کرتے ہوئے کسی امریکی عہدیدار کو نہ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ وجہ بتاتے ہوئے وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ چین میں انسانی حقوق کے خدشات کی وجہ سے کسی سرکاری وفد کو ان کھیلوں میں نہیں بھیجا جائے گا۔ دوسری طرف چین نے بائیکاٹ کی صورت میں جوابی اقدامات کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔ تو کیا ان حالات میں امریکہ برداشت کر پائے گا کہ اس کا انڈیا جیسا اتحادی اس گروپ کے ملک کے ساتھ تعلقات بڑھائے جس کے چین کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں؟تو اس سوال کا جواب ہے بالکل نہیں امریکہ کبھی اس بات کو برداشت نہیں کرے گا۔

    کچھ عرصہ پہلے جب چین اور ترکی نے روس سے S-400دفاعی نظام خریدنے کا معاہدہ کیا تھا تو امریکہ نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا لیکن جب امریکہ کی ناراضگی کے باوجود یہ دونوں ممالک باز نہ آئے تو امریکہ کی جانب سے ان پر پابندیاں لگا دی گئیں تھیں۔ اس لئے اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے انڈیا پر پابندیاں لگائی جائیں گی۔۔یعنی انڈیا میں جو روسی صدر کے دورے پر خوشیاں منائی جا رہیں ہیں وہ بہت جلد کھٹائی میں پڑنے والی ہیں۔ کیونکہ ان دس سالوں کے معاہدوں میں دس سال تک انڈیا سے پیسہ روس جاتا رہے گا۔ اور اس کے بدلے جو ہتھیار حاصل کئے جائیں گے وہ بھی انڈیا کے کسی کام نہیں آنے والے ان کا بھی وہی حال ہوگا جو کہ رافیل طیاروں کا ہوا تھا کیونکہ ان کو چلانے والے تو آخر انڈین ہی ہوں گے نا۔ اس کے علاوہ انڈیا روس کے زریعے چین اور افغانستان کے ساتھ جو تعلقات بہتر بنانے کا خواب دیکھ رہا ہے وہ بھی نہیں ہونے والا کیونکہ چین جس طرح سے آگے بڑھ رہا ہے اب انڈیا کے لئے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ چین کو اپنے علاقوں میں آنے سے روک سکے ویسے بھی چین کبھی بھی انڈیا کو اس خطے میں مضبوط نہیں ہونے دے گا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ مودی پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا آج اگر چین انڈیا کے ساتھ ہاتھ ملا بھی لے تو وہ دوبارہ کسی بھی وقت جا کر امریکہ کی گود میں بیٹھ سکتا ہے جو کسی بھی طرح چین کو نہیں برداشت اور نہ ہی روس کو برداشت ہوگا۔ اس لئے روس صرف ایک ہتھیار بیچنے والے ملک کے طور پر تو ضرور انڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات قائم رکھے گا لیکن ان دونوں ممالک کے درمیان اس سے زیادہ کچھ نہیں ہونے والا۔

  • گاڑیوں بسوں کو دھکا لگاتےتو دیکھا ہوگا اب جہاز کو بھی دھکا لگانے کی ویڈیو وائرل

    گاڑیوں بسوں کو دھکا لگاتےتو دیکھا ہوگا اب جہاز کو بھی دھکا لگانے کی ویڈیو وائرل

    آپ نے اکثر راستے میں خرابی کے باعث گاڑیوں کو دھکا لگاتے دیکھا ہوگا مگرا ب جہاز کو گھکا لگانے کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی ہے جو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی: نیپال کے ایک ہوائی اڈے سے ایک عجیب و غریب ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں ایک درجن سے زائد افراد طیارے کو رن وے سے ہٹانے کے لیے پوری قوت سے دھکیل رہے تھے یہ ویڈیو "العربیہ ” نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شئیر کی ہے-

    رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت


    العربیہ کی جانب سے شئیر کی گئی ویڈیو میں لوگوں کو جہاز کو دھکا لگاتے دیکھا جا سکتا ہے رپورٹ کے مطابق یہ ویڈیو بدھ یکم دسمبر کو دارالحکومت کھٹمنڈو سے 7,000 کلومیٹر سے زیادہ کے فاصلے پر مغربی نیپال کے سوڈورباچیم ضلع کے باگورا کے کلتی میونسپل ایئرپورٹ پربنائی گئی تھی۔

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مسافرہوائی اڈے پر پروازپکڑنے کا انتظارکر رہے تھے ان کا جہاز ہوائی اڈے پر اترنا تھا لیکن ایسا نہیں ہو سکا کیونکہ تارا ایئر کا ایک اور طیارہ رن وے کے بیچ میں پھنس گیا تھا۔

    فرانس: معمر شخص کے گھر سے 100 بلیوں کی لاشیں، گلہریوں اور چوہوں کی باقیات برآمد

    نیپال نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق جو لوگ طیارے کو رن وے سے دھکیل رہے تھے ان میں سے ایک نے تصدیق کی کہ اس کے ایک ٹائر میں پنکچر لگنے کی وجہ سے یہ رن وے کے درمیان میں کھڑا تھا اپنی پرواز پکڑنے کے لیے مسافروں نے چھوٹے طیارے کو رن وے سے دھکیل دیا تاکہ دوسرا طیارہ لینڈ کر سکے۔

    روزانہ 500 گرام ریت کھانے والی 80 سالہ خاتون

  • جعفرز اور آدم جی فیملی کا مکروہ چہرہ ،تحریر:عفیفہ راؤ

    جعفرز اور آدم جی فیملی کا مکروہ چہرہ ،تحریر:عفیفہ راؤ

    آخر وہی ہوا جس خدشے کا اظہار میں نے نور مقدم قتل کیس کے حوالے سے اپنی شروع میں بتایا تھا آج اس کیس کی سماعت کے دوران ایک ایسی درخواست عدالت میں جمع کروائی گئی ہے جس کے بارے میں جان کر مجھے کوئی حیرت تو نہیں ہوئی لیکن دکھ ضرور ہوا کہ کس طرح سے اس درندے کو بچانے کے لئے چالیں چلی جا رہی ہے۔ اس درندے کو خود اس کی ماں پاگل ثابت کر رہی ہے کیونکہ اس کا مقصد صرف ایک ہے کہ کسی بھی طرح اس کی جان بچا لی جائے کسی طرح یہ سزائے موت سے بچ سکے۔ اس کوشش میں اس کی ماں یہ بھی بھول گئی ہے کہ اس نے کیسے ایک معصوم لڑکی کا سر کاٹ کر دھڑ سے جدا کر دیا تھا کیا اس سے زیادہ کوئی درندگی ہو سکتی ہے جو عصمت آدم جی کے اس درندے بیٹے نے کی لیکن نہیں ان کے لئے تو ان کا بیٹا معصوم ہے اس نے جو کیا وہ پاگل پن کی حالت میں کیا۔

    درندے ظاہر جعفر کے وکیل کی جانب سے آج درخواست جمع کروائی گئی ہے کہ اس کی ذہنی حالت کو جانچنے کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔ اور یہ وہی وکیل ہیں سکندر ذوالقرنین سلیم جن کے بارے میں۔۔ میں نے آپ کو اس کیس کے حوالے سے اپنی پچھلی ویڈیو میں بتایا تھا۔ اور اہم بات یہ ہے کہ درندے ظاہر جعفر نے اس کو اپنا وکیل تسلیم ہی نہیں کیا تھا نہ ہی وکالت نامے پر دستخط کئے تھے لیکن سکندر سلیم صاحب نے پچھلی سماعت پر استغاثہ کے گواہ سے جرح بھی کی تھی اور اب ان کی طرف سے یہ اہم درخواست بھی سامنے آ گئی ہے جو اس کیس کا پانسہ پلٹ سکتی ہے۔ یہ وکیل دراصل عصمت آدم جی کی طرف سے کیے گئے ہیں جو اب اس کیس کو لمبے عرصے کے لئے لٹکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور یہ بات میں نے آپ کو اس وقت ہی بتا دی تھی جب اس عورت کی ضمانت منظور ہوئی تھی کہ اب جیل سے باہر آ کر یہ اپنی تمام چالیں چلے گی کہ کسی طرح اپنے خاوند اور بیٹے کو جیل سے باہر نکالا جا سکے۔ اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ درندہ ظاہرجعفرمنشیات کے استعمال کی وجہ سے ایک لمبے عرصے سےschizoaffective disorderنامی ذہنی بیماری میں مبتلا ہے اور جس دن اسے گرفتار کیا گیا اس وقت بھی وہ اسی کیفیت میں مبتلا تھا۔ کتنی حیرانگی کی بات ہے کہ ویسے اس درندے کے والدین کہتے ہیں کہ ہم تو کراچی میں تھے ہر بات سے لاعلم تھے ان کا کوئی قصور ہی نہیں ہے لیکن ان کو یہ ضرور پتہ ہے کہ اس وقت اس درندے پر بیماری کا دورہ پڑا ہوا تھا۔ یہ اپنے اس بیمار بیٹے کو اتنے دنوں کے لئے اکیلے، گولیوں سے بھری پستول اور چاقو کے ساتھ چھوڑ کر خود کراچی چلے گئے تھے۔ فون پر یہ اپنے بیٹے اور ملازمین کے ساتھ رابطے میں تھے تو اس وقت ان کو نہیں پتہ چلا کہ اس کی ذہنی حالت کیا ہے کہ وہ نور مقدم کے والدین کو فون کردیتے یا پھر نوکروں کو ہی کہہ دیں کہ نور کو وہاں سے نکالیں۔ وہ نور جو کئی بار کوشش کرتی رہی اس گھر سے بھاگنے کی لیکن ان کے درندے بیٹے اور نوکروں نے اس کو نکلنے نہیں دیا۔ اور آج یہ درخواست دے رہے ہیں کہ میڈیکل بورڈ بنایا جائے کیونکہ ان کا بیٹا پاگل ہے اور قتل کے وقت اس پر پاگل پن کا دورہ پڑا ہوا تھا۔

    اس کے علاوہ اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ مقامی پولیس اور تفتیشی ایجنسی ملزم کی ذہنی حالت بتانے میں ناکام رہی ہے اور کیونکہ شکایت کنندہ ایک سابق سفیر ہیں اور بااثر شخص ہیں ان کے Power corridorsمیں رابطے ہیں اس لیے پولیس نے جان بوجھ کر ملزم کی ذہنی حالت کو چھپایا ہے۔ لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ کیا یہ خود کوئی معمولی لوگ ہیں جعفرز اور آدم جی خاندانوں کو کون نہیں جانتا کہ ان کے کہاں کہاں تک تعلقات ہیں اور کتنا پیسہ ہے ان کے پاس۔۔۔ کیا خواجہ حارث جیسا وکیل انہوں نے بغیر پیسے اور اثرورسوخ کے ہی کر لیا تھا۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ کیسے انہوں نے خود کو بچانے کے لئے پیسے کی بوریوں کے منہ کھولے ہوئے ہیں۔ اور اگر وہ یہ کہتے کہ آدم جی فیملی ان کے ساتھ نہیں ہے تو یہ بھی غلط بیانی ہوگی۔ یہ صرف شروع کی بات ہے کہ آدم جی خاندان نے اپنی ساکھ بچانے کے لئے یہ اعلان کیا تھا کہ ان کا اب اس جعفر فیملی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کی تمام تر ہمدردی مقدم فیملی کے ساتھ ہے لیکن یہاں میں آپ کو یاد دلاوں کہ سکندر سلیم سے پہلے جو وکیل ملک امجد درندے ظاہر جعفر کے لئے ہائر کیا گیا تھا جسے اس نے ماننے سے ہی انکار کر دیا تھا وہ ظاہر جعفر کے ماموں کی طرف سے ہی ہائر کیا گیا تھا۔ اس لئے یہ کہنا کہ یہ دونوں خاندان الگ ہیں یا یہ اس درندے کا ساتھ نہیں دے رہے تو یہ بات بالکل غلط ہے۔ اب آپ فیصلہ کریں پیسے اور اثرورسوخ میں یہ فیملی آگے ہے یا نور مقدم کے والد؟البتہ درندے کی طرف سے کسی بھی وکیل کو اپنا وکیل نہ ماننا بھی پلان کا حصہ تھا

    اس کے علاوہ ایک اوراہم بات جو درخواست میں کی گئی وہ یہ کہ درندے ظاہرجعفر نے عدالت کے سامنے بھی جو برتاؤ کیا جو کہ ملزم کی ذہنی حالت بتاتا ہے اور میڈیا نے بھی عدالت کے سامنے اس کے رویے کو رپورٹ کیا یعنی وہ میڈیا جس کو آپ ہر ممکن کوشش کرتے رہے کہ وہ اس کیس سے دور رہے آج اپنے فائدے کی بات آئی تو اسی کی مثالیں دی جا رہی ہیں۔ اور جہاں تک درندے کے عدالت میں رویے کا تعلق ہے جس پر اس کو دو بار عدالت سے باہر بھی نکالا گیا تھا جج صاحب بھی اس کی ماں عصمت آدم جی کو بار بار کہتے رہے کہ اس کا رویہ ٹھیک کروائیں لیکن وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا تھا کیونکہ یہ تو اس کی ماں کے پلان کا ہی حصہ تھا۔ اس پر ہر کوئی یہ ہی رپورٹ کر رہا تھا کہ یہ تمام ڈرامہ کیا جا رہا ہے جان بوجھ کر یہ عدالت میں ایسی حرکتیں کرتا ہے تاکہ آنے والے دنوں میں اس کو پاگل کہہ کر ریلیف لیا جائے اور آج وہی کچھ ہو بھی گیا ہے یہ درخواست عصمت آدم خور کی سازشوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
    دراصل اپنے بیٹے کو پاگل ثابت کرکے اور میڈیکل بورڈ بنوا کر یہ اس کیس کو لٹکانا چاہتے ہیں تاکہ اپنے درندے بیٹے کو بچا سکیں۔ اس لئے اس درخواست میں صاف کہا گیا ہے کہ جب عدالت نے درندے ظاہر جعفر اور باقی تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کیا تو اس پر ظاہر جعفر نے کوئی رد عمل نہیں دیا کیونکہ اس کو عدالتی کارروائی کی کوئی سمجھ ہی نہیں آرہی تھی حالانکہ ٹرائل شروع ہونے سے پہلے ظاہر جعفر کو پوری چارج شیٹ پڑھائی گئی تھی۔ اب یاد کریں کہ درندہ عدالت میں اکثر یہ شور مچاتا تھا کہ اس کو آواز نہیں آ رہی اس کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تو وجہ یہی تھی کیونکہ یہ سب اس خاندان کا پلان تھا کہ پہلے اس درندے سے یہ ایکٹنگ کروائی جائے اور اب اس کے تمام رویے کو بنیاد بنا کریہ درخواست دے دی گئی ہے۔

    ساتھ ہی درخواست میں یہ موقف بھی اپنایا گیا ہے کہ عدالت مرکزی ملزم کی ذہنی حالت کا مشاہدہ کر چکی ہے لیکن اس کے باجود گواہوں کے بیانات ملزم کی غیر موجودگی میں ریکارڈ کرتی رہی جس سے نہ صرف ٹرائل متاثر ہوتا ہے بلکہ آئین کے آرٹیکل10اے کے تحت ملزم کو فیئر ٹرائل کے حق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ کیا مذاق ہے کہ ایک طرف کہہ رہے ہیں کہ اس کو کچھ سمجھ نہیں آتی کیونکہ وہ پاگل ہے اور دوسری طرف یہ بھی اعتراض ہے کہ اس کی غیر موجودگی میں ٹرائل کیوں چلتا رہا۔ اور ساتھ ہی درخواست میں کہہ دیا کہ عدالت قانون کے مطابق درندے ظاہر جعفر کی ذہنی حالت کو جانچنے کے لیے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دے۔ مختصر الفاظ میں۔۔ میں آپ کو بتاوں کہ اب ان کی پلاننگ یہ ہے کہ اپنے بیٹے کو پاگل تو خود ہی یہ ثابت کر چکے ہیں۔ اب یہ چاہتے ہیں کہ بورڈ بنے پہلے وہ اس کی جانچ کرے اور میں آپ کو بتا دوں اس بورڈ سے بھی اس کی شاطر ماں نے اسے پاگل قرار دلوا دینا ہے اور ایک بار ایسا ہو گیا تو یہ کیس اتنا لٹک جائے گا کہ آپ کی سوچ ہے کیونکہ اس کے بعد پہلے اس درندے کا علاج ہو گا اور جب تک وہی بورڈ اس کو مکمل صحت یاب نہیں قرار دے دے گا یہ کیس آگے نہیں چل سکے گا ٹرائل جو دو ماہ میں پورا ہونا تھا اور وہ دو ماہ بھی گزرے کئی دن ہو چکے ہیں وہ ٹرائل یہیں رک جائے گا۔ پہلے اس درندے کو ٹھیک کرنے کے بہانے جیل سے نکالا جائے گا اور اس کے علاج میں ایک لمبا عرصہ لگائیں گے تاکہ لوگ اس کیس کو بھول جائیں اس کے بعد پھر سے ٹرائل ہوگا اور دوبارہ نئے سرے سے کیس کو چلا کراپنی مرضی کا فیصلہ لینے کو کوشش کی جائے گی۔

    اور ابھی تک درندہ جو کسی بھی وکیل کو اپنا وکیل نہیں مان رہا اس کے پیچھے ان کی سازش یہ ہے کہ ظاہر جعفر کے وکیل کے بغیر ہی جتنا ٹرائل چلنا ہے وہ چلتا رہے۔ تاکہ یہاں سے ٹرائل میں جو بھی فیصلہ ہو اس کو یہ اس سے اوپر والی عدالت میں یہ کہہ کرچیلنج کر سکیں گے۔۔ کہ اس ٹرائل کے دوران مرکزی ملزم کا تو کوئی وکیل نہیں تھا اس لئے انصاف کا تقاضا پورا نہیں ہوتا جس کے بعد اس پورے ٹرائل کو بے معنی کر دیا جائے۔ یہ ہے جعفرز اور آدم جی فیملی کا وہ مکروہ چہرہ جو وقت کے ساتھ ساتھ کھل کر سامنے آ رہا ہے۔ لیکن اس کیس پر جو بھی اہم پیش رفت ہو گی ہم آپ تک وہ ضرور پہنچاتے رہیں گے تاکہ لوگ اس کیس کو بھولنے نہ پائیں اور نور مقدم کو انصاف مل سکے۔ انشااللہ

  • ورزش کونسی کرنی چاہئے، تحریر: عفیفہ راؤ

    ورزش کونسی کرنی چاہئے، تحریر: عفیفہ راؤ

    جب بھی ہم اپنے ادرگرد لوگوں کو موٹاپے اور مختلف بیماریوں کی شکایت کرتے سنتے ہیں تو جو سب سے پہلا خیال ہمارے دماغ میں آتا ہے وہ یہی ہوتا ہے کہ کیونکہ یہ ورزش نہیں کرتے اس لئے ان کی صحت خراب ہے یہ موٹاپے کا شکار ہیں اور موٹاپے کے ساتھ پھر باقی بیماریاں تو سمجھیں مفت میں ہی انسان کو گھیر لیتی ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو روزانہ جم یا ورزش کرتے ہیں اپنی فٹنس کا خیال رکھتے ہیں ان کے بارے میں ہم یہ ہی خیال کرتے ہیں کہ ان کوکبھی کوئی بیماری ہو ہی نہیں سکتی اور بیماریاں نہ ہونے کی وجہ سے ظاہری بات ہے کہ ان کی عمر بھی بہت لمبی ہو گی۔لیکن آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ پاکستان میں ہرسال صرف دل کے مریضوں میں تقریبا دولاکھ افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسی ہی کچھ صورتحال انڈیا میں بھی ہے۔جبکہ دل کی بیماری ایک ایسی بیماری ہے جس کے بارے میں ابھی تک بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ یہ بیماری شاید بڑھاپے میں ہی ہوتی ہے لیکن اس وقت سب سے تشویشناک بات یہ ہے پچھلے چند سالوں میں کم عمرافراد میں ہارٹ اٹیک کے کیسز بہت زیادہ رپورٹ ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ 2017میں ایس جے آئی سی ایس آر کی جانب سے دو ہزار لوگوں پر ایک سروے کیا گیا تھا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ25سے40سال کی عمر کے لوگوں میں ہارٹ اٹیک کے کیسزمیں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ صرف ایک سال میں دل کی بیماری والے مریضوں میں پچھلے سال کی نسبت
    22فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا۔اس سے بھی زیادہ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ایسے نوجوان جو بظاہر بہت صحتمند اور فٹ لگتے تھے روزانہ جم اور ورزش کرتے ہیں ان کو کم عمری میں دل کا دورہ پڑا جوان کی جان لے گیا۔ اس کی دو بہت ہی مشہور مثالیں جو ہمارے سامنے ہیں وہ انڈیا کی ہیں۔

    ایک مثال جنوبی انڈیا کی ریاست کرناٹک کے مشہور اداکار پنیت راجکمار ہے جس کی عمر صرف 46سال تھی کہ اچانک دل کا دورہ پڑنے سے اس کی موت ہو گئی۔اور دوسری مثال انڈین ٹیلی وژن کا نوجوان اداکار سدھارتھ شکلا ہے جس کی 40سال کی عمر میں اچانک دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی تھی۔پنیت راجکمار جنوبی انڈیا کی ریاست کرناٹک کا ایک بے حد مشہور اداکار، گلوکار، ٹی وی میزبان، اور فلم پروڈیوسر تھا اور اس کے بارے میں عام طور پر یہ ہی خیال کیا جاتا تھا کہ وہ بے حد فٹ یا صحت مند ہے۔وہ نہ صرف خود صحت مند دکھائی دیتا تھا بلکہ وہ ایک ڈاکٹر کا بیٹا تھا اس کے والد کا نام راج کمارہے۔ جس سے ایک عام طور پر ذہن میں یہ ہی خیال آتا ہے کہ اس کے گھر کا ماحول بھی صحت کے حوالے سے بہت اچھا ہوگا۔لیکن اس کی اچانک موت نے نہ صرف اس کے مداحوں اور پوری فلم انڈسٹری کو صدمے میں ڈال دیا ہے بلکہ عام انسان بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ایک ایسا انسان جس کی عمر اتنی کم تھی وہ ہر لحاظ سے صحت مند اور فٹ دکھائی دیتا تھا روزانہ جم اور ورزش کرتا تھا تو اس کو کیسے اچانک دل کا دورہ پڑ سکتا ہے کہ جو اس کی جان ہی لے گیا۔دراصل ہوا یہ کہ پنیت راجکمار کو جم میں ورزش کرتے ہوئے سینے میں درد کی شکایت ہوئی جس پر اس نے اپنے فیملی ڈاکٹر اور مشہور کارڈیالوجسٹ رامنا راؤ سے رابطہ کیا۔ جس اس ڈاکٹر نے پنیت کی نبض اور بلڈ پریشر کا جائزہ لیا تو وہ نارمل تھیں۔ لیکن جب اس کے ڈاکٹر نے اس سے پوچھا کہ اسے اتنا پسینہ کیوں آرہا ہے تو اس نے بتایا کہ جم کرتے ہوئے اسے بہت پسینہ آتا ہے۔ خیر اس کی ای سی جی کروائی گئی اور فورا ہسپتال لے جایا گیا۔لیکن پنیت کو راستے میں ہی دل کا دورہ پڑ گیا اور اسے بچانے کی ساری کوششیں ناکام رہیں۔اب پنیت راجکمار کی موت سے صرف دو ماہ پہلے ستمبر میں اداکار سدھارت شکلا کی ایسے ہی اچانک موت ہوئی تھی تب بھی لوگوں کو بہت صدمہ ہوا تھا کہ بظاہر ایک بے حد فٹ انسان جس کی عمر صرف چالیس سال تھی وہ کیسے اچانک اس دنیا سے چلا گیا؟سدھارتھ شکلا انڈین ٹیلی وژن کا انتہائی مقبول اداکار تھا۔ اور ساتھ ہی وہ فلم انڈسٹری میں بھی انٹری کر چکا تھا۔ اور اہم بات یہ کہ وہ بھی اپنی صحت کا خاص خیال رکھتا تھا۔ روزانہ جم جا کر ورزش کرتا تھا۔ اسے بھی پنیت کی طرح اچانک دل کا دورہ پڑا تھا جو جان لیوا ثابت ہوا تھا۔حالانکہ یہ وہ افراد تھے جن کو دل سے متعلق پہلے سے کوئی بیماری یا شکایت نہیں تھی۔ ان میں کوئی ایسی عادتیں جیسے تمباکو نوشی جو دل کی بیماری کا خطرہ پیدا کرتی ہے وہ عادت بھی نہیں تھی اور نہ ہی ان کی اس بیماری کی کوئی خاندانی ہسٹری تھی۔ انھیں ذیباطیس، ہائپرٹینشن اور ہائی کولیسٹرول بھی نہیں تھا۔اب ان دونوں کی موت کے بعد اس بات پر کافی بحث ہو رہی ہے کہ بہتر صحت اور ایک فٹ باڈی کی خواہش میں جم جانے والے افراد کہیں نہ کہیں کوئی ایسی غلطی کر رہے ہیں جو کہ اس کم عمری میں جان لیوا دل کے دورے کی وجہ بن رہی ہے۔

    اور میں آپ کو یہ بتا دوں کہ اس طرح کے واقعات پاکستان میں بھی کافی زیادہ ہو رہے ہیں لیکن ابھی تک کسی مشہور شخصیت کے ساتھ ایسا نہیں ہوا تو یہاں بڑے پیمانے پر اس بحث نے جنم نہیں لیا ورنہ یہ خطرہ ہمارے سروں پر بھی اتنی شدت سے ہی منڈلا رہا ہے جتنا کہ انڈین عوام کے۔۔۔دراصل آج کے دور میں نوجوانوں کو جم جاکر مسلز بنانے کا جنون سا پیدا ہو گیا ہے۔ جم میں تو کوئی ڈاکٹر ہوتا نہیں ہے پھر وہ خود بھی کسی ڈاکٹر سے مشورہ نہیں لیتے اور جم جا کر نہ صرف سخت قسم کی ورزش کرتے ہیں بلکہ Gym instructorکے کہنے پر پروٹین سپلیمنٹ بھی کھانا شروع کر دیتے ہیں۔ بہت سے instructorsنوجوانوں کوsteroidsلینے کا بھی مشورہ دیتے ہیں جو کہ صحت کے لیے بالکل اچھے نہیں ہوتے۔اس حوالے سے کئی ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ دراصل جب لوگ وزن اٹھانے جیسی ورزش کرتے ہیں تو ان کے پٹھوں میں تناؤ ہو جاتا ہے۔ ساتھ ہی وزن اٹھانے کی وجہ سے نسوں پربھی دباؤ پڑتا ہے۔ اس لئے ایک حد سے زیادہ ورزش دل کے Valvesکے لیے انتہائی خطرناک ہوتی ہے۔دراصل آج کل کے نوجوان مختلف Actors and playersوغیرہ کو دیکھتے ہیں اور باڈی بنانے کے چکر میں جم جاتے ہیںSupliments and steroidsکھاتے ہیں۔ حالانکہ یہ ایکٹرز یا کھلاڑی اگر کوئی سپلیمنٹ استعمال کرتے ہیں تو وہ اپنے ڈاکٹرز اور ہیلتھ کوچز کے مشورے کے بعد کرتے ہیں۔اس کے علاوہ آپ نے ایک محاورہ تو ضرور سنا ہوگا کہ Excess of everything is badیعنی کوئی بھی کام جب آپ اپنی برداشت سے زیادہ شروع کر دیں تو وہ لازمی آپ کے لئے خطرناک ہوگا۔حالانکہ کوئی بھی سخت والی ورزش کرنے سے پہلے ہمیں کسی cardiologistسے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔اس کے علاوہ جم جاتے ہیHigh intensityورک آؤٹ نہیں شروع کرنا چاہیے۔ پہلے جم جا کر ہلکی پھلکی ورزش کر کے اپنے جسم کوWarm upکرنا چاہیے۔ اورمشکل یا زیادہ سخت والی وزرش روزانہ نہیں کرنی چاہیے۔ ورنہ دوسری صورت میں ایسا کرنے سے دل سے جڑے مسائل کی شروعات ہو سکتی ہے۔اور ورزش کا انتخاب ہمیشہ اپنی جسمانی صلاحیت کے مطابق کرنا چاہیے کہ کون سی ورزش کرنی ہے اور کون سی نہیں۔اور اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ کہیں آپ بہت دیر تک تو اس طرح کی ورزش نہیں کر رہے۔ کیونکہ اگر آپ کا جسم باہر سے اچھا دکھائی دے رہا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کا دل بھی صحت مند ہے۔اور ایک چیز جس کا خیال جم والوں کو بھی کرنا چاہیے وہ یہ کہ جم میں لوگوں کی جسمانی صحت پر نظر رکھنے کے لیے ایک ڈاکٹر بھی ضرور ہونا چاہیے۔ جو لوگوں کو ان کی جسمانی صورتاحل کے مطابق مشورہ بھی دیں اور ایمرجنسی کی صورت میں لائف سپورٹ بھی فراہم کرسکیں۔ کیونکہ ڈاکٹرز کے مطابق اگر پنیت راجکمار دس منٹ پہلے ہسپتال پہنچ گئے ہوتے یا ان کو میڈیکل ایڈ مل گئی ہوتی تو شاید انھیں بچایا جا سکتا تھا۔ جس کے بعد وہ مزید کئی سالوں تک زندہ بھی رہ سکتے تھے

  • ظالم باپ خود ہی اپنی بیٹی کو نگل گیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    ظالم باپ خود ہی اپنی بیٹی کو نگل گیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    نور مقدم کیس کا مکمل چلان پیش ہونے کے بعد آج ایک اہم سماعت ہوئی۔ آج کی سماعت میں کیا اہم پیش رفت ہوئیں۔ پولیس کی جانب سے جو مکمل چالان پیش کیا گیا ہے اس میں کیا ڈبل گیم کی گئی ہے اس پر بھی بات کریں گے۔ لیکن پہلے اسلام آباد میں ہونے والی ایک اور درندگی کے بارے میں بات ہو گی،اب سے تقریبا دو ہفتے پہلے آٹھ نومبر کی صبح اسلام آباد کے میٹرو سٹیشن میں موجود زیر تعمیر واش روم سے پولیس کو ایک نامعلوم بچی کی لاش ملی تھی۔ اس بچی نے سفید لباس پہنا ہوا تھا اور اس کی گردن کے سامنے والی ہڈی فریکچر تھی اور چہرے پر نشانات تھے۔اسی روز اسلام آباد پولیس نے ٹوئٹر پر تلاش ورثا کے عنوان سے ایک اپیل پوسٹ کی جس میں شہریوں سے بچی کی شناخت میں مدد دینے کو کہا گیا۔ پہلے تو کئی دنوں تک اس پر کوئی ریسپانس نہ آیا لیکن پولیس نے دوبارہ مزید تفصیل کے ساتھ پوسٹ کی اور تصویر بھی ساتھ ڈالی گئی جس کے بعد اس کے چند رشتےداروں نے اس کو پہچان لیا انہوں نے پہلے تو اس کے والد سے رابطہ کیا لیکن والد نے اپنے رشتےداروں سے بھی بولا کہ وہ بچی اس کے پاس ہی ہے اور سو رہی ہے جس پر اس کے رشتے داروں نے پولیس سے رابطہ کیا۔ اور جب پولیس نے تفتیش کی تو پتہ چلا کہ خود کو غمزدہ اور مظلوم دکھانے والا باپ ہی اصل میں وہ درندہ ہے جس نے اس معصوم بچی کو قتل کیا۔ ابھی یہ تفتیش ہونا تو باقی ہے کہ کہیں اس بچی کے ساتھ قتل سے پہلے زیادتی تو نہیں کی گئی۔ لیکن اس درندے باپ نے یہ کہتے ہوئے اپنے جرم کا اعتراف کیا ہے کہ وہ بچی اس پر بوجھ تھی اس لئے اس نے بچی کو مار کر اس سے جان چھڑا لی اور ظلم کی انتہا دیکھیں کہ قتل کے فورا بعد وہ ایک دفتر میں گیا اور وہاں جاکر کہا کہ میں اپنی بیٹی کو اس کے چچا اور دادی کے پاس چھوڑ آیا ہوں اس لئے مجھے نوکری دے دی جائے۔ اس طرح پولیس کو معلوم ہونے سے پہلے ہی وہ فتح جنگ میں کسی کے ہاں ڈرائیونگ کی نوکری بھی حاصل کر چکا تھا۔ اور اب جب اس درندے کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ہے تو وہاں یہ خود کو بچانے کے لئے ڈرامہ کر رہا ہے کہ اس نے اپنی بیٹی کو غیرت کے نام پر قتل کیا ہے۔اب بات کرتے ہیں دوسرے درندے ظاہر جعفر کی۔۔ نور مقدم قتل کیس کی ایک اہم سماعت ہوئی۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جو 29 سمتبر کو کیس کا ٹرائل آٹھ ہفتوں میں مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔ وہ آٹھ ہفتے آج پورے ہو گئے ہیں۔ ویسے تو ملزمان کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا لیکن سپریم کورٹ نے18 اکتوبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا آٹھ ہفتوں میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم نامہ برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا تھا۔ اب وہ آٹھ ہفتے تو پورے ہو گئے ہیں لیکن مکمل چالان بھی دو دن پہلے پیش ہوا ہے اور ابھی تک صرف گیارہ گواہان کے بیانات قلمبند کرائے جا چکے ہیں جن پر جرح مکمل کر لی گئی ہے لیکن مزید سات گواہان کی بیانات قلمبند کروانے باقی ہیں۔

    آج تھراپی ورکس کے سی ای او طاہر ظہور کے وکیل اکرم قریشی کی درخواست پر سماعت جلد کی گئی جبکہ مدعی کے وکیل سپریم کورٹ میں مصروفیت کے باعث عدالت میں پیش نہ ہوسکے اور ان کی جگہ بابر حیات کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ملزمان کے وکیل اکرم قریشی کی جانب سے سی سی ٹی وی فوٹیج ویڈیو وائرل ہونے سے متعلق دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جائے وقوعہ کی فوٹیج وائرل ہونے سے کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی ہے۔ عدالت اس حوالے سے کوئی مناسب حکم نامہ جاری کرے۔ انہوں نے عدالت سے ایک بار پھر درخواست کی کہ عدالت اس کیس کو ان کیمرا رکھنے اور میڈیا کوریج پر مکمل پابندی کا حکم نامہ جاری کرے۔ میں آپ کو بتا دوں کہ درندے اور اس کے خاندان کی یہ بہت پرانی خواہش ہے کہ کسی طرح میڈیا کو اس کیس سے دور رکھا جائے تاکہ عوام تک اس کیس کی کوئی اپ ڈیٹس نہ پہنچ سکیں انصاف کے لئے کوئی پبلک پریشر نہ ہو اور اس کے بعد جس طرح سے یہ اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے کیس کا رخ موڑنا چاہیں وہ موڑ سکیں۔ میڈیا کوریج سے روکنے کے لئے وکیل کی جانب سے یہ بھی دلیل دی گئی کہ ہمیں گالیاں پڑ رہی ہیں ہمارا میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے ہماری فیملیز مشکل میں ہیں حالانکہ ہم تو یہاں صرف قانون کے مطابق Factsپر بات کر رہے ہیں۔ تو میرا سوال ان وکلا سے یہ ہے کہ جب آپ کو آپکی فیس سے بھی کئی گنا زیادہ پیسے لگائے گئے اور آپ نے یہ کیس لڑنے کی حامی بھری تو اس وقت آپ نے کیوں نہیں سوچا کہ جس درندے اور اس کے خاندان کو آپDefendکرنے جا رہے ہیں ان کا مکروہ اور گھناونا عمل تو پہلے ہی پوری دنیا کے سامنے کھل کر سامنے آ چکا ہے۔ جب آپ اتنی درندگی کرنے والے خاندان اور ان کے حمایتیوں کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے تو پھر یہ سب تو ہو گا۔ اور ساتھ ہی وکیل اسد جمال نے مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے سے متعلق دلائل دیے۔ وکیل نے کہا کہ ہمیں صرف کچھ منٹس کے کلپس ہی فراہم کیے گئے ہیں ملزمان کا حق ہے کہ مکمل فوٹیج فراہم کی جائے تاکہ انہیں دفاع کا موقع دیا جا سکے۔ حق تو ملزمان کا ضرور ہے لیکن عدالت پہلے ہی ان کو کچھ کلپس دے کر دیکھ چکی ہے کہ وہ انھوں نے کیسے وائرل کروائے تھے اس لئے اب ان کو مکمل فوٹیج دینا بھی کسی خطرے سے خالی نہیں ہے۔ ویسے تو یہ اسد جمال صاحب کو چاہیے کہ فوٹیج میں جو کچھ یہ دیکھنا چاہتے ہیں اس کی تفصیلات یہ اپنی موکلہ عصمت آدم جی سے پوچھ لیں کیونکہ وہ تمام سی سی ٹی وی کیمرے عصمت آدم، درندے ظاہر جعفر اور ذاکر جعفر کے فون کے ساتھ لنک تھے۔ یہ دونوں خود نور مقدم پر ہونے والے ظلم کے تمام مناظر اپنے فونز پر دیکھتے رہے ہیں اور صرف دیکھتے ہی نہیں رہے یہ نور مقدم کی چیخ و پکار بھی سنتے رہے ہیں۔ اب اس فوٹیج کی آڈیو بھی سامنے آچکی ہے لیکن کیونکہ پیمرا کی جانب سے اجازت نہیں ہے تو وہ آپ کو سنوائی نہیں جا سکتی۔

    وکلا کی جانب سے سی سی ٹی وی فوٹیج کے وائرل ہونے اور مکمل فوٹیج حاصل کرنے کے حوالے سے دلائل کے بعد ان دونوں درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔ جو کہ اگلی سماعت پر سنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ آج کی سماعت میں استغاثہ کے گواہ محمد جابر جو کہ کمپیوٹر آپریٹر ہے اس کا بیان بھی قلمبند کیا گیا اور اس پر جرح بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ لیکن درندے ظاہر جعفر نے آج پھر عدالت میں وہی ڈرامہ کیا جو کہ وہ کئی بار کر چکا ہے آج کی سماعت تقریبا ایک گھنٹے تک جاری رہنے رہی اور ملزمان کو سماعت کے آخر پر کمرہ عدالت میں لایا گیا۔ آج کی سماعت پر پھر درندے ظاہر جعفر کی جانب سے ایک اور وکیل پیش ہوا جس کا نام سکندر ذولقرنین سلیم ہے جو کہ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج ہیں۔ ان کو درندے کی فیملی کی جانب سے ہی ہائر کیا گیا لیکن پچھلی سماعت کی طرح ان وکیل صاحب کے پاس بھی وکالت نامے پر درندے کے دستخط نہیں تھے۔ اور جب درندے کو عدالت میں لایا گیا اور اس سے دستخط کروانے کو کہا تو اس نے ایک بار پھر انکار کر دیا اور کہا کہ میں وکیل سے میٹنگ کرنے کے بعد اپنا وکیل مقرر کروں گا۔ اس کی فرمائشیں دیکھا کریں آپ کہ جیسے پتہ نہیں کونسا اعلی کارنامہ کرکے یہ موصوف بیٹھے ہیں حالانکہ اس نے جو کچھ کیا ہے اس کے بعد تو یہ انسان کہلانے کے بھی لاءق نہیں ہے۔اس کے علاوہ عصمت آدم جی کی درخواست پر کمرہ عدالت میں ہی ان کی درندے ظاہر جعفر اور ذاکر جعفر سے ملاقات کرائی گئی۔ اپنے وکیل کی موجودگی میں پہلے عصمت آدم جی نے درندے ظاہر جعفر سے کچھ دیر بات چیت کی اس کے بعد جب درندے کو کمرہ عدالت سے باہر لے جایا گیا۔ تو عصمت آدم جی نے کچھ دیر اپنے شوہر ذاکر جعفر سے بھی ملاقات کی۔اور اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ پولیس کی جانب سے جو پورا چالان پیش کیا گیا اس میں کیا ڈبل گیم کی گئی۔ ایک طرف تو پولیس نے اپنے آپ کو نیوٹرل ثابت کرنے کے لئے تمام کے تمام لوگوں کو ملزمان کی فہرست میں شامل کیا تھراپی ورکس کی جانب سے درخواست کے باوجود ان کو گواہان میں شامل نہیں کیا گیا۔ یہاں تک تو سب بہت اچھا ہے۔ لیکن سوچیں کہ یہ پولیس درندے سے اس کے فون کا پاسورڈ نہیں لے سکی۔ کیا یہ پولیس کی نااہلی نہیں ہے۔ پھر اس سے بھی بڑی نااہلی ایف آئی اے کی ہے جس نے صاف انکار کر دیا کہ ہم فون کا ڈیٹا نہیں نکال سکتے۔ یعنی اب جو مکمل چالان ہے اس میں درندے کے فون اور لیب ٹاپ کا ڈیٹا شامل ہی نہیں ہے سوچیں کہ اس ڈیٹا کے بغیر کیا گیا ٹرائل کیسے مکمل اور انصاف پر مبنی ہو سکتا ہے۔ ویسے تو جج صاحب نے بھی پولیس والوں کو کہا تھا کہ اگر آپ سے نہیں ہوتا تو مارکیٹ سے کسی ہیکر کو پکڑ کر فون کھلوا لیں لیکن نہیں پولیس نے کوئی کوشش نہیں کی۔ اور اگر اسلام آباد پولیس اتنی ہی نا اہل ہے تو اس درندے کو پنجاب پولیس کے حوالے ہی کر دیں جب ان کے ہاتھ درندے کو لگیں گے تو اس کو خود ہی پاسورڈ یاد آجائے گا۔ لیکن خیر اب اس عدالتی کاروائی پر میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ اب تو دیکھنا ہے کہ کب ٹرائل پورا ہو گا اور اس کا کیا نتیجہ سامنے آئے گا۔

  • کی اس نے میرے قتل کے بعد جفا سے توبہ تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم حالات کی تلخیاں اس تحریر کا پیش خیمہ ہیں.ایک خبر نظر سے گزری کہ "ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی آخری دستخط شدہ درخواست سماعت کے لیے مقرر”. ظلم نہیں کہ ایک شخص جسے قوم نے جیتے جی ستایا ہو.اس کی ہر کوشش کے صلے میں اس پہ ایک مقدمہ کیا گیا ہو.

    حقائق میری تحریر سے متضاد ہو سکتے ہیں ممکن ہے کہ وقت کا تقاضا ہو کہ مقدمات قائم ہوئے.

    مگر یہ موت کے بعد مقدمات کی سماعت ہونا کب تک جاری رہے گا.

    مشہور انگریزی مقولہ ہے.

    Justice delayed is Justice denied.

    موت کے بعد عدالت سے بریت کا فیصلہ آتا ہے.

    پھانسی کے بعد بے گناہی ثابت ہو جاتی ہے.

    مجرم طبی بنیادوں پہ چند ہفتے کی کی ضمانت پہ دو سال نکال کر عدالت کے فیصلے کے پرخچے اڑاتا نظر آتا ہے .دوسری طرف اسی مجرم کی سزا یافتہ بیٹی کو اس مجرم کی عیادت کے لیے ضمانت ملی ہوئی ہے جو ملک میں موجود نہیں.عام آدمی مجرم ہو تو معاشرے میں کھڑا نہیں ہو سکتا مگر مجرم دولت مند ہو تو جلسے جلوس بھی کرتا ہے.کیا توہینِ عدالت نہیں ہے. 

    کیوں عدالتی فیصلے زیرِ التوا رہتے ہیں.

    کیوں فوری انصاف نہیں ملتا؟ موت کے بعد بریت کا فیصلہ کب تک ہماری روحیں جھنجوڑتا رہے گا؟ 

    یہ سوال توہین نہیں ہیں.میرا  اس اسلامی جمہوریہ کہ شہری ہونے کے ناطے حق ہے سوال کروں کہ کب تک اسی طرح غیروں سے لیا گیا نظامِ عدل ہمارے ملک میں لاقانونیت کا محرک رہے گا.رشوت سفارش دھونس دھاندلی والے مطمئن ہیں بے چین ہے تو شریف آدمی اور اسکی شرافت اسے کورٹ کچہری نہیں جانے دیتی.

    طاقتور مجرم بچتے ہیں تو قانون کی کمزوری نہیں سزا کے عمل کی کمزوری ہے.کسی بھی مضبوط معاشرے کا مطالعہ کریں بنیادوں میں مضبوط نظام عدل ہوگا.

    کسی بھی خوشحال معاشرے کی خوشحالی عدل کے بغیر ممکن نہیں.

    جہاں نظم و ضبط دیکھا جانچ کے بعد معلوم ہوا اس وطن کے شہری قانون توڑنے کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتے کہ سزائیں سخت اور فوری ملتی ہیں.

    ہم نے ویکسین جرمانے اور باقی ماندہ تھریٹس کے پیشِ نظر لگوائی کہ فوری برطرف کیا جا رہا تھا.

    ہم کب تک دوسرے معاشروں کی مثالیں دیتے رہیں گے؟ 

    جب تک فوری اور سستا انصاف نہیں ملتا.

    جب  ہم جیتے جی تمغے دینے لگے. زندہ کو بری کرنے لگے ہم بھی کامیاب قوم بن جائیں گے.

    اب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے مقدمے کا فیصلہ ہوگا.

    ان کو معزز ٹھہرایا جائے گا.قوم نے قصیدے پڑھنے شروع کر دیے.

    مگر ڈاکٹر صاحب جنتوں کے مکین ہو جانے کے بعد اس شعر کے مصداق مسکراتے ہوئے اپنی قوم کو دیکھ رہے ہوں گے

    کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

    ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا 

    Twitter:@Hsbuddy18