Baaghi TV

Category: متفرق

  • وقت کے بارے میں اسلاف کی احتیاط ! تحریر تعریف اللہ عفی عنه

    ❤بسم اللہ الرحمن الرحیم❤

    "علمائے سلف اپنے وقت کے بارے میںبڑے محتاط تھے ،وقت کے ضائع ہونے کا انہیں ہر وقت کھٹکا لگا رہتا کسی بزرگ سے چند لوگ ملاقات کیلئے گئے ،ملاقات کے آخر میں انہوں نے ان بزرگ سے معذرت کے طور پر کہا”شاہد ہم نے آپ کو اصل کام سے ہٹا کر مشغول کردیا”وہ بزرگ فرمانے لگے "تم ٹھیک کہتے ہو،میں پڑھنے میمصروف تھا،آپ لوگوں کیوجہ سے میں نے پڑھنا چھوڑدیا۰”

    چند لوگ حضرت معروف کرخی رح کے پاس بیٹھے ،جب مجلس انہوں نے طویل کی اور کافی دیر تک نہیں اٹھے تو حضرت معروف کرخی رح ان سے فرمانے لگے:

    "نظام شمسی چلانے والا فرشتہ تھکا نہیں (اس کی گردش جاری اور وقت گزر رہا ہے)آپ لوگوں کے اٹھنے کا کب ارادہ ہے؟

    داؤد طائی روٹی کے بجائے چورہ استعمال کرتے تھے،فرماتے تھے،دونوں کے استعمال میں کاکافی تفاوت ہے روٹی کھاتے چباتے کافی وقت لگ جاتا ہے جب کہ چورے کے استعمال سے نسبتا اتنا وقت بچ نکل آتا ہے کہ اس میں پچاس آیات تلاوت کی جاسکتی ہیں۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰عثمان باقلانی ہمیشہ ذکر میں مصروف رہتے تھے،فرماتے تھے :”چونکہ کھاتے وقت ذکر نہیں ہوسکتا اس لئے جب میں کھانے میں مشغول ہوجاتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میری روح نکل رہی ہو "حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے:”جو شخص ایک مرتبہ "سبحان اللہ وبحمدہ”کہے گا،اس کے عوض اس شخص کیلئے جنت میں کھجور کا ایک درخت لگا دیا جائے گا”

    ذرہ اندازہ کیجئے ! زندگی کی کتنی قیمتی گھڑیاں ایسی ہیں جو انسان ضائع کردیتا ہے اورءاتنے عظیم اجر وثواب سے محروم رہتا ہے ۰ دنیا کے یہ ایام اخرت کیلئے کھیتی کا درجہ رکھتے ہیں ،کون ہے ایسا جس میں  عقل ہو کہ اپنی کشت میں بیج نہ بوئے یا کاہلی وسستی سے کام لے۰اس لئے ضرورت ہی کے تحت لوگوں سے ملا جائے ،عام حالات میں صرف علیک سلیک  پر اکتفا کیا جائے،زیادہ میل جولترک کرکے خلوت اور کنج تنہائی وقت کو ضیاع سے بچانے میں بہت ممد ہے ،اس طرح کھانے کی مقدار میں کمی بھی وقت بچانے میں معاون بن سکتی ہے کیونکہ بسیار خوری بسیار خوابی کا سبب ہے،ہمارے اسلاف کی زندگیوں میں یہ چیز بڑی نمایاں نظر آتی ہے۰”

    "علمائے سلف بہتعالی ہمت تھے ،ان کی عالی ہمت کا اندازہ آپ ان کی ان تصانیف سے کرسکتے ہیں جو ان کی زندگیوں کا نچوڑ ہیں،علم میں کمال چاہنے والے طالب علم چاہیے کہ اسلاف کی کتابوں سے واقفیت حاصل کرے تاکہ ان کی عالی ہمتی دیکھ کر اس کا دل زندہ اور اس کے محنت کرنے کا عزم متحرک ہو ،نیز کتاب کسی بھی فن کی ہو فائدہ سے تو بہر حال خالی نہیں ہوتی (اس لئے اسلاف کی ہر قسم کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چایے)”

    صاحب وعیون الانباء نے امام رازی رح کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ وہ فرماتے تھے:

    "خدا کی قسم!کھانا کھاتے وقت علمی مشغلہ ترک کرنے کیوجہ سےمجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ وقت اور زمانہ بڑا ہی عزیز سرمایہ ہے۰”

    "منتقی الاحبار”کے مصنف مجدالدین ابن تیمیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے علامہ ابن رجب نے "ذیل طبقات حنابلہ”(جلد ۲،صفحہ ۲۴۹)میں ان کے متعلق لکھا ہے:

    "وہ عمر عزیز کا کوئی لمحہ ضائع ہونے نہیں دیتے تھے،زندگی کی ایک گھڑی کو کسی مفید مصرف میں لگانے کا اس قدر اہتمام تھا کہ کھبی تقاضہ اور ضرورت سے جاتے تو اپنے کسی شاگرد سے کہتے تم کتاب بلند آواز سے پٹھو تاکہ میں بھی سن سکوں اور وقت ضائع نہ ہو۰”

    بات بڑی عجیب ہے لیکن عجب چیز ہے احساس زندگانی کا !

    اٹھویں صدی کے مشہور شافعی عالم اور فقیہ شمس الدین اصبہانی کا تذکرہ کرتے ہوئے حافظ ابن حجر نے "درر کا منہ”(جلد ۶ صفحہ ۸۵)میں،اور علامہ شوکانی نے "البدر الطالع”(جلد ۲ صفحہ ۲۸۹) میں ان کے متعلق لکھا ہے  کہ "وہ کھانا اس ڈر کی وجہ سے کم کھاتے تھے کہ زیادہ کھانے تقاضہ کی ضرورت بڑھے گی اور خلا جاکر وقت ضائع ہوگا”

    حافظ ابن عساکر نے "تبیین کذب المفتری”(صفحہ ۲۶۳) میں پانچویں صدی کے مشہور عالم سلیم رازی کے بارے میں لکھا ہے کہ "لکھتے لکھتے جب ان کا قلم گھس جاتا تو قلم کا قط لگاتے ہوئے ذکر شروع کردیتے تاکہ یہ وقت صرف قط ہی لگانے میں ضائع نہ ہو”

    علم عروض کے موجد اور علم نحو کے مشہور امام خلیل بن احمد فرماتے تھے "یعنی وہ ساعتیں اجھ پر بڑی گراں گزرتی ہیں جن میں،میں کھانا کھاتا ہوں۰”

    (متاع وقت اور کاروان علم ،مصنفہ ابن الحسن عباسی رح)

    @Tareef1234

  • بلوچستان کی زرعی مارکیٹنگ میں پیچیدگیاں  تحریر: حمیداللہ شاہین 

    بلوچستان کی زرعی مارکیٹنگ میں پیچیدگیاں تحریر: حمیداللہ شاہین 

    دنیا میں بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ خوراک کی دستیابی، حفاظت اور مارکیٹنگ کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔  زرعی مارکیٹنگ وہ لائف لائن ہے جس میں زرعی پیداوار کے لیے نئی منڈیوں کی دستیابی، حفاظت اور ترقی شامل ہے۔  اس حقیقت کے باوجود کہ زراعت پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن پھر بھی مقامی منڈیوں سے قربت کے حوالے سے کاشتکاری کو بحرانوں کا سامنا ہے۔  زرعی مارکیٹنگ سے متعلق مختلف مخمصے ہیں جن پر مختصراً اس مضمون میں بحث کی جائے گی۔

     پاکستان خصوصاً بلوچستان کے کاشتکار برادری کے لیے بہت زیادہ مشکلات ہیں۔  ہم اسی مضمون میں کچھ مسائل کو جاننے کی کوشش کریں گے۔

     تمام مسائل میں سب سے اہم مسئلہ پاکستان کی صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی عدم توجہی ہے۔  نئی مقامی اور بین الاقوامی منڈیوں کی ترقی سے متعلق مسائل کو ترتیب دینے والے ریاستی محکمے اپنے نقطہ نظر میں سست اور غیر سنجیدہ ہیں۔  بلوچستان کے لوگوں کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ زراعت ہے۔  یہ صوبہ نہ صرف دیگر ممالک بلکہ پاکستان کے دیگر صوبوں سے بھی زندگی کے حوالے سے بہت پسماندہ نظر آتا ہے۔  خضدار کے علاقے نال کے رہنے والے غریب کسان اللہ بخش لانگو کی ایک دکھ بھری کہانی سناتا ہوں۔  وہ پانچ ایکڑ زمین کا مالک ہے۔  پیاز کے کاشتکار ہونے کے ناطے اس کے پاس اپنی پیداوار بیچنے کے لیے کوئی قریبی بازار نہیں ہے۔  گزشتہ جون میں کوئی قریبی مارکیٹ نہ ہونے کی وجہ سے اسے بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔  وہ اپنی پیداوار بیچنے کے لیے کراچی اور فیصل آباد آیا، جہاں اس نے اپنی پیداوار کو متعلقہ علاقوں کے دلالوں کے رحم و کرم پر ٹھکانے لگایا۔  یہی کہانی بلوچستان کے ہزاروں کسانوں کی بھی ہے، جو آخرکار اپنی بقا کی امید کھو رہے ہیں۔  ایک دن یہ صورت حال مزید خراب ہو جائے گی اور پہلے ہی باغیوں کی زد میں آنے والی زمین کو لاقانونیت کی ایک اور لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔

     ایک اور بڑا گڑبڑ متعلقہ اداروں کی مالی مدد کی کمی ہے۔  کسانوں کی برادری کریڈٹ یا قرضوں، فصلوں کی بیمہ، اور کھادوں اور کیڑے مار ادویات پر سبسڈی سے محروم ہے، جس سے ان کی پیداوار کی لاگت زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔  ان کی حتمی مصنوعات میں اضافے کی وجہ سے کسانوں کو خاطر خواہ منافع نہیں مل سکتا۔  اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر مقامی طور پر مہنگی پیداوار بین الاقوامی سطح پر سستی فصلوں کا مقابلہ کیسے کر سکتی ہے؟  یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی منڈیوں سے مقابلہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔  مائیکرو لون کے ذریعے صحیح کھادوں اور کیڑے مار ادویات کی صحیح وقت پر دستیابی آسانی سے کی جا سکتی ہے، جس سے فصل کی خالص پیداوار بڑھ جاتی ہے۔

     پیکجنگ اور گریڈنگ کے لیے پوسٹ ہارویسٹ بین الاقوامی معیارات کے بارے میں علم کی کمی  اشیاء کی پیکیجنگ اور درجہ بندی کھانے کے معیار پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔  پیداوار کا معیار مارکیٹ کی پائیداری کو یقینی بناتا ہے۔  ذخیرہ کرنے کے مراکز کی عدم موجودگی اور اشیاء کی کم شیلف لائف بھی تشویش کا باعث ہے۔  ذخیرہ کرنے کے مراکز کسانوں کو اپنی اجناس کو طویل عرصے تک ذخیرہ کرنے کی اجازت دیں گے اور جب مارکیٹ کی قیمتیں نسبتاً زیادہ ہوں گی تو وہ اپنی پیداوار فروخت کریں گے۔

     پراسیسڈ فوڈ کے پاکستانی برانڈز کو اپنی بین الاقوامی منڈیوں میں ترقی کرنی چاہیے۔  کیونکہ اب ہمارے برانڈز کی بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی مصنوعات کی زیادہ نمائش نہیں ہے۔  ایک بار جب ہمارے پراسیس شدہ کھانے کو بین الاقوامی سطح پر نمائش مل جائے گی، تب ہمارے کسانوں کو ان کی پیداوار کی بہترین قیمتیں ملیں گی۔  یہ کچھ مسائل تھے جن کا سامنا ہماری کاشتکاری کو نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک میں کرنا پڑ رہا ہے۔  اب ان پیچیدگیوں کا حل کیا ہونا چاہیے؟  ہم نے کچھ حل تجویز کیے ہیں۔

     حکومت سپلائی چین سے مڈل مین کے کردار کو نکالے۔  اس کی تعمیل میں ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی مثال لی جا سکتی ہے۔  ہندوستانی حکومت نے ہر قصبے میں خریداری مرکز تیار کیا ہے، جہاں ایک سے زیادہ گاؤں کے کسان اپنی پیداوار براہ راست حکومت کو فروخت کر سکتے ہیں۔  حکومتی ریگولیٹری اتھارٹی ہر اجناس کی قیمتیں طے کرتی ہے اور اس مرکز کا فرض ہے کہ وہ کسان کی ہر پیداوار کو تجویز کردہ نرخوں پر خریدے۔  اس پہل سے ہندوستان کی کاشتکاری برادری دن بہ دن مالی طور پر مضبوط ہوتی جارہی ہے۔

     عالمی سطح پر نئی منڈیاں تلاش کی جائیں۔  تاکہ پاکستان میں مزید تجارت ہو سکے اور اس سرگرمی سے پورے ملک کی معیشت مضبوط ہو گی۔  بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں اچھا انفراسٹرکچر اور مقامی منڈیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔  تاکہ خوشحالی بلوچستان کے کسانوں کا مقدر بن جائے۔  صوبے میں نقل و حمل یا گاڑیوں کی قیمتیں علاقے سے متعلق حکام کے ذریعہ طے کی جائیں۔  تاکہ کسانوں کو دوسرے صوبوں کے کسانوں کے برابر مراعات مل سکیں۔

     ہم امید کرتے ہیں کہ اس سے صوبے کی موجودہ حکومت کے دفاتر میں گھنٹیاں بجیں گی، تاکہ وہ بلوچستان کے کاشتکاری کے ہنگامی حالات کے مذکورہ بالا مسائل کو حل کرنے کے لیے کچھ سنجیدہ اقدامات کر سکیں۔

    @iHUSB

  • میری زندگی تحریر سعد اکرم

     

    ایک نمایاں مذہبی تحریک دنیا میں ہمیں نظر آتی ہے جس نے بڑے بڑے عبقری علماء پیدا کیئے یہ پچھلے دو سو سال میں سب سے بڑی مذہبی تحریک بن کر ابھری اور اپنے اثرات کے لحاظ سے بھی یہ بہت بڑی تحریک تھی  برصغیر میں انگریزوں کی حکومت قائم ہو گئ تھی اس سے پہلے یہاں کم وبیش ایک ہزار سال تک مسلمانوں کا اقتدار قائم رہا ہے اس اقتدار میں بھی مسلمانوں کے مدارس قائم ہوئے بڑے بڑے علماء بھی پیدا ہوئے ان کے ذریعے سے تصنیف و تالیف کی سرگرمیاں بھی ہوتی رہیں ۔ انگریز آ گئے تو انھوں نے آ کے نئے نظام تعلیم نظام معاشرت اور نئے نظام سیاست کی بنا ڈالنا شروع کی تو اس وقت مسلمانوں میں تہذیبی لحاظ سے بھی اور مذہبی لحاظ سے بھی ردعمل آیا جس میں فتاوی دئے گئے اور ہندوستان کی حیثیت متعین کرنے کی کوشش کی گئ  بتایا گے یہ دارالسلام ہے یہ دارالحرب ہے اور اب اس کی نوعیت کیا ہو گئ ہے ۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اس مسئلے کا حل سوچا کے ہم نے اگر اپنی تہذیب کو اپنے مذہب کو قائم رکھنا ہے تو اس کا راستہ یہی ہے کے ہم دین کی تعلیم کا اہتمام اعلی درجے پہ کریں ۔مسائل ختم ہو گئے تھے پرانے مسلمانوں کے اوقاف اس طرح نہیں رہے تھے انگریزوں کے آنے سے پہلے جو بادشاہوں کی طرف سے نوازشیں ہوتی رہتی تھیں وہ بھی ختم ہو گئیں تو عام مسلمانوں سے اپیل کی گئ کے وہ بندوبست کریں ۔یہاں سے جو علماء آگے آئے ان میں مولانا محمود الحسن مولانا قاسم نانوتوی مولانا اسماعیل میرٹھی مولانا رشید احمد گنگوہی یعنی بڑے غیر معمولی لوگ اپنے علم کے لحاظ سے سیرت کے لحاظ سے کردار کے لحاظ سے ۔ابھی یہاں علم زیر بحث آیا تو اس کی دو  بڑی روایات ہیں ایک وہ جس کو سلفی روایت کہتے ہیں جس کے بڑے لوگوں میں ابن تیمیہ اور ابن قیم کا نام لیا جاتا ہے اور ایک وہ روایت ہے جو فلسفہ اور تصوف کے زیر اثر پیدا ہوئ اور اس میں سرخیل کی حیثیت تو امام غزالی کو حاصل ہے ان کے بعد شیخ اکبر محی الدین عربی بھی ایک بڑا نام ہے اور بھی بہت لوگ اس میں پیدا ہوئے برصغیر میں اگر کسی کو امام الہند کی حیثیت حاصل ہے تو وہ شاہ ولی اللہ ہیں  تو شاہ صاحب کے گھرانے نے جو علمی کام کیا اس سے فکری علمی پس منظر پیدا ہوا  اس کو بھی ساتھ شامل کر لیں غزالی سے لے کر جو صوفیانہ مزاج اور ہمارا جو قدیم علم ہے اس کے پاسبانوں کی حیثیت سے ان لوگوں نے اس مدرسے کی بنیاد رکھی ۔یعنی ایک ایسے مدرسے کی بنیاد رکھی دی جائے جس میں اس تعبیر کے بڑے علماء پیدا ہوں پیش نظر تو بڑے علماء پیدا کرنا ہی تھا کیونکہ اس میں ہر درجے کے لوگ آتے ہیں اور اپنی اپنی حیثیت کے لحاظ سے سیکھتے ہیں  اور اس میں کوئی شک نہیں کے دارالعلوم دیوبند نے بہت بڑے بڑے علماء پیدا کیئے ہیں ۔مولانا حسین احمد مدنی مولانا اشرف علی تھانوی مولانا انور شاہ کشمیری مولانا بدر عالم میرٹھی ہوں یہ چند نام ہیں جو معمولی درجے کے لوگ نہیں ہیں بلکہ برصغیر کے سب سے بڑے علماء میں سے ہیں ۔اس کے ساتھ دوسری چیز وہ تھی کے لوگوں کے اندر تقوی اور اخلاص پیدا کرنے کے وہ طریقے  آزمائے جائیں جو صوفیانہ روایت سے ملیں یعنی خانقاہ کا اور مدرسے کا ایک امتزاج بنانے کی انھوں نے کوشش کی ۔ایک طرف تو دینی علوم فقہ کی تعلیم دے رہے تھے تو دوسری طرف حاجی امداداللہ مہاجر مکی جیسے بزرگوں سے طریقت کے اصول بھی سیکھ رہے تھے اور خود مدرسے کی بنیاد جن لوگوں نے رکھی وہ اپنے پس منظر کے لحاظ سے مجاہدین تھے ان کے اسلاف نے جو پہلا کام کیا تھا کے انگریزوں کی حکومت کو یہاں سے نکالا جائے اور اس میں جہاد بھی ہوا بلکہ سید احمد شہید کی تحریک بھی وہی ہے 

    اس وجہ سے وہ اپنی ذات میں اپنی شخصیت میں اپنے طرز عمل میں ہندوستان کے اندر ایک سیاسی تحریک کے بھی بانی تھے علماء کے اندر بلکہ کہا جا سکتا ہے کے گاندھی اور مسلم لیگ سے پرانی تحریک علماء ہی کی تھی ۔اور  یہ وہ ظہور ہوا جس نے افغانستان میں طالبان کی حکومت تک بات پہنچا دی  ۔اور خانقاہی صورت تھی اس نے نئ ایک صورت اختیار کی اور تبلیغی جماعت بن گئ اب چلتے پھرتے یہاں تربیت پاتے ہیں لوگ ۔جو کسی زمانے میں خانقاہوں میں جاتے تھے ۔دارالعلوم دیوبند تو ماں بن گیا اس کے بطن  سے بہت ساری درسگاہیں وجود پذیر ہوئیں ۔ اس کے اثرات دنیا بھر میں پھیلے اس کے پڑھے ہوئے لوگوں نے دنیا بھر میں علم فنون میں غیر معمولی کام کیئے ۔اسی کے اندر سے جمعیت علماء ہند پیدا ہوئ ایک موقع پر مولانا داود غزنوی  جو اہلحدیث کے بڑے عالم تھے انھوں نے مولانا  ابوالکلام آزاد سے کہا کے ہماری  جمعیت علماء ہند میں تو دیوبند ہی دیوبند ہے تو ابوالکلام آزاد نے کہا دیوبند نے علماء پیدا کیئے ہیں تو وہی ہوں گے۔ایران سعودیہ کے بعد افغانستان وہ ملک ہے جہاں ایک مسلک ہی  کی حکومت قائم ہے یعنی آپ اسے دیوبندی سٹیٹ کہ سکتے ہیں ۔پاکستان میں بھی جمعیت علماء اسلام کا ٹھیک ٹھاک وجود ہے اور یہ بھی جمعیت علماء ہند سے بنی جو دارالعلوم دیوبند سے پیدا ہوئ

    @saadAkram_

  • کیا آپ کو نیند کی کمی سے ان مسائل کا سامنا ہے تحریر عبدالوحید

    کیا آپ کو نیند کی کمی سے ان مسائل کا سامنا ہے تحریر عبدالوحید

    صحت مند زندگی گزارنے کیلئے پرسکون نیند کا آنا لازمی ہے ۔ اس لیے انسان کو تروتازہ اور تندرست رہنے کے لیے روزانا سات سے آٹھ گھنٹے نیند کرنا ضروری ہے۔ نیند نہ آنا یا نیند کی کمی کا واقع ہونا ایک بیماری ہے جس کو انسومنیا کہاجاتا ہے ۔ اس دور میں سو میں سے 98٪ لوگوں کو نیند کی کمی کا سامنا ہے ۔ اس میں بڑی تعداد میں اب نوجوان طبقہ شامل ہوگیا ہے ۔ کیونکہ ٹیکنالوجی نے اب نیند کی جگہ لے لی ہے ۔ اب ہر ایک کے پاس جدید سے جدید قسم کا موبائل فون ہے ۔ اور اس میں مختلف قسم کی گیمز ڈون لوڈ ہیں اور نوجوان طبقہ دن رات اسی گیمز میں لگے رہتے ہیں ۔ اور ان گیمز کے کھیلنے کا کوئی ٹائم ٹیبل نہیں ۔ جس کی وجہ سے وہ نیند کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اور کچھ لوگ آنلائن کاروبار کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ نیند پوری نہیں کر پاتے ۔ اور کچھ لوگ رات کو دیر دیر تک مختلف پارٹیوں میں شرکت کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ مقرر وقت پر سو نہیں پاتے اور نیند کی کمی کا شکار رہتے ہیں ۔ اگر آپ کو نیند کی کمی کا سامنا ہوگا تو دن بھر مزہ نہیں آئے گا ۔ آپ سستی کا شکار ہوں گے۔ اس دور میں تقریباً ہر ایک موبائل فون میں لگا ہوا ہے ناہی ورزش کر پاتے اور ناہی چلاک چست رہ سکتے ہیں ۔ 

    نیند کی کمی سے لاحق ہونے والی بیماریاں جس میں ذہنی صلاحیتوں میں کمی واقع ہونا ، یاداشت کا کمزور ہونا ، مدافعتی نظام کا کمزور ہونا ، شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم میموری کا متاثر ہونا ، چڑچڑے پن کا شکار ہونا ، نیند کی کمی سے ذیابیطس کا شکار ہونا ، ہائی بلڈ پریشر کا بڑھنا ، مختلف دل کی بیماریوں کا شکار ہونا جن میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ لاحق ہونا ، نیند کی کمی سے وزن کا بڑھنا ، بھوک اور پیٹ بھرنے کے احساسات کا ختم ہونا شامل ہیں ۔ 

    نیند کی کمی سے آپ چڑچڑے پن کا ہمیشہ شکار رہ سکتے ہیں۔ مکمل نیند نا کرنے کی وجہ سے آپ اسکول ، دفتر اور گھر میں سست رہیں گے۔ جو آپ کا موڈ خراب کرنے کی وجہ بن سکتا ہے ۔ جس کی وجہ سے آپ بے چینی ، ڈیپریشن جیسے مسائل سے دو چار رہ 

      سکتے ہیں اس لیے ایک کامیاب اور پرسکون زندگی گزارنے کیلئے نیند کی کمی کو پورا کرنا ضروری ہے۔ اگر آپ نیند کی کمی کو پورا نہیں کریں تو آپ کو ان مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ یہ ایک واضع اور عیاں بات ہے اس چیز سے کسی کا انکار نہیں ہوسکتا ۔ اگر آپ یا آپ کے بچے نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے ان مسائل کا سامنا ہے تو آپ ان مسائل کے حل پر غور کریں۔ کہ کیا وجہ ہے جس سے ہمیں یہ مسائل درپیش ہیں۔ آپ ایک ٹائم ٹیبل بنائیں ہر چیز کا ایک مقررا وقت بنائیں اس وقت اس وقت تک میں نے کھیلنا ۔ اس وقت سے اس وقت میں گھر کے کام کرنے ہیں اس وقت سے اس وقت تک موبائل فون استعمال کرنا ہے ۔ جس دن آپ نے وقت کو وقت کے مطابق ڈھالا اس دن سے آپ محسوس کریں گے واقعی میں چینج ہوں کیونکہ ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے ۔ سورج کا بھی

     وقت مقرر ہے صبح طلوع ہوتا ہے اور شام کو غروب ہوتا ہے اسی طرح پانچ  نمازوں کا بھی  وقت 

     متعین ہے ۔ انسان کی بڑی غلطی یہی ہے وہ وقت کی پابندی نہیں کرتا ۔ اور بہت سے مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں اس لیے وقت کی پابندی کریں ۔ اور نیند کی کمی کو پورا کریں ۔ نیند پوری ہوگی تو آپ ان مسائل سے بخوبی نکل آئیں گے۔

    عبدالوحید @Waheed_B

  • پاکستان ٹوئٹر پینل پر”شلوار” ٹاپ ٹرینڈ،صارفین کا شدید غم وغصے کا اظہار

    پاکستان ٹوئٹر پینل پر”شلوار” ٹاپ ٹرینڈ،صارفین کا شدید غم وغصے کا اظہار

    آج صبح سے پاکستان ٹوئٹرٹرینڈ نگ پینل پر "شلوار” ٹرینڈ کر رہا ہے جس پر صارفین شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : پاکستانی ٹوئٹر صارفین نے جب ٹاپ ٹرینڈ ’شلوار‘دیکھا تو حیرانی میں مبتلا ہوگئے کہ اب یہ ٹرینڈ کیا مواد لے کر آیا ہے جو ایک دم سے سر فہرست آ گیا تاہم بعد ازاں جب اس ٹرینڈ کو دیکھا تو پاکستانی صارفین یہ دیکھ کر سخت غم و غصے کی کیفیت میں آگئے کہ یہ ٹرینڈ ایک نازیبا ویڈیو کی بنیاد پر بنا-

    ویڈیو دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پاکستانی لڑکی بغیر شلوار پہنے چل رہی ہے۔ویڈیو سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ویڈیو لڑکی کی مرضی سے بنائی جا رہی ہے جس میں وہ کسی ماڈل کی طرح کیٹ واک کرتی ہوئی کیمرہ کی طرف آرہی ہے۔

    علینا نامی اکاونٹ سے یہ ویڈیو شیئر کی گئی جس میں اس لڑکی کا کہنا تھا کہ مجھے پینٹ کے بغیر باہر جانا پسند ہے۔


  • یہ محض اک جیت نہیں. تحریر:عائشہ وحید

    یہ محض اک جیت نہیں. تحریر:عائشہ وحید

    یہ محض اک جیت نہیں. تحریر:عائشہ وحید
    ایک کھیل تب تک ہی کھیل رھتا ہے جب تک اسے شوق پورا کرنے یا صرف وقت گذاری کےلئےکیھلا جائے اور جب وہی کھیل شوق سے بڑھ کر جنون بن جائے اور ہزار ہا لوگوں کے جذبات بھی اس سے جڑے ہوتو وہ کھلاڑی کی زندگی کا ایسا مقصد بن جاتا ہے جو اسے ہر ممکن صورت میں اپنے ملک کے عزت و وقار اور لوگوں کی خوشی کیلئے حاصل کرنا ہوتاھے۔
    یورپ میں جو مقام فٹبال کو حاصل ہے وہی مقام کرکٹ کو ایشیائی ممالک میں حاصل ہےیعنی لوگ جنون کی حد تک کرکٹ کے دلدادہ ہیں۔ پاکستان کا سب سے مشہور و مقبول اور زیادہ کھیلے جانے والا کھیل "کرکٹ”ہے

    پاکستان وقت کے ایک نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ جہاں اسے اندرونی طور پر بہت سے چیلنجر کا سامنا ہے وہی دوسری طرف بیرونی طاقتیں بھی اسے ٹف ٹائم دے رہی پاکستان کے عوام لمبے عرصے سے مختلف مصائب میں گھرے ہوئے ہیں اس پریشانی کے ماحول میں ہوا کا خوشگوار جھونکا” پاکستان نیوزی لینڈ سیریز” کے طورپر آ یا نیوزی لینڈ ٹیم چونکہ لمبے عرصے بعد کرکٹ کھیلنے پاکستان آ رہی تھی یہ خبر پاکستانیوں کے لیے کسی تہوار کے آ نے سے کم نہ تھی شائقین کرکٹ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی پھر سےایک امید پیدا ہوگئی کہ انشاء اللہ نیوزی لینڈ کے اس دورے کے بعد تواتر سے انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے پاکستان کے لیے کھل جائیں گے اس خوشگوار خبر کے آ تے ہی زوروشورسے تیاریاں شروع کردیں گئیں ٹیم نیوزی لینڈ کے پاکستان آ نے سے قبل روزانہ پولیس اور دیگر سیکیورٹی کے اداروں کی جانب سے اسلام آباد کے ایئر پورٹ سے ہوٹل اور پھر ہوٹل سے اسٹیڈیم تک گشت کیا جانے لگا ہر ممکن کوشش کی گئی کہ مہمان ٹیم ہر حوالے سے پاکستان کی جانب سے کیے گئے سیکیورٹی اور دیگر انتظامات سے مطمئن ہو بلآخر وہ دن بھی آ گیا جب ٹیم نیوزی لینڈ پاکستان پہنچ گئی انہیں فل پروف سیکیورٹی کے حصار میں اسلام آباد کے ایئر پورٹ سے ہوٹل پہنچا یا گیا سب معمول کے مطابق چل رہا تھا کہ نیوزی لینڈ ٹیم نے دورے کے تین چار روز بعد ایک میل تھریٹ کی بناء پر اچانک دورہ پاکستان ملتوی کر دیا اس میل تھریٹ سے فائیو آئی نامی انٹیلیجنس ایجنسی جو کے (آسٹریلیا انگلینڈ، کینیڈا، نیوزی لینڈ اور امریکہ) کی انٹیلیجنس ایجنسیز پر مشتمل ہے، نےنیوزی لینڈ آفیشلز کو اس سے آگاہ کیا اور وہ مزید تفصیلات بتائے بغیر پاکستان سے روانہ ہوگئے ۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم کی پاکستان سے یوں اچانک واپسی پر جہاں ایک طرف ملک کو مالی طور پربھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا وہیں دوسری طرف شائقین کرکٹ میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی اسی کے چلتے ہوئے انگلینڈ نے بھی اپنی کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکار کر دیا

    چند ہی دنوں میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2021 کا میلا سجنے والا تھا شائقینِ کرکٹ نے قومی ٹیم سے امیدیں باندھ لیں کہ بھارت جو پاکستان کا روایتی اور تگڑا حریف ہے اسے تو ہرانا ہی ہے مگر اس بار نیوزی لینڈ کو بھی چاروں شانے چت کرنا ہے قومی کھلاڑیوں کو بھی اس بات کا احساس تھا کہ وہ جارحانہ کھیل پیش کر کے ہی مقابل ٹیموں اور ممالک کو یہ باور کروا سکتے ہیں کہ پاکستانی کھلاڑی اپنے ہوم گراؤنڈز پر کھیل کر کے ہی متحدہ عرب امارات میں عمدہ کرکٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور پاکستان ہر لحاظ سے محفوظ اور پر امن ملک ہے۔اب کرکٹ میچ میں جیت ہی ملک کے عزتوقار کو بحال کرنے کا سنہری موقع تھا۔

    پھر وہ دن بھی آ گیا جس دن پاک بھارت میچ ہونا تھا کرکٹ دیوانوں نے میچ دیکھنے کے لیے خاص اہتمام کیا،مالز اور گراؤنڈز میں بڑی اسکرینیں لگائی گئیں پاکستان قوم کی دعائیں اور قومی ٹیم کی محنت بلآخر رنگ لے آئی۔ پاک بھارت میچ میں شروع سے آخر تک پاکستان کی میچ پر گرفت مضبوط رہی اور اس طرح بھارت کو دس وکٹوں سے عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی جیت کے ساتھ پورا ملک روشنیوں میں نہا گیا لوگوں کی آنکھوں میں خوشی کے آ نسو اور زبان پر رب تعالیٰ کی تعریف تھی۔ وطن سے محبت ایک بہت ہی انوکھا اور خوبصورت احساس ہے اور یہ وہ جزبہ ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا خواہ آ پس میں لوگ ایک دوسرے سے کتنے ہی اختلاف رکھتے ہو مخالفین ایک دوسرے پر طنز و طعنہ کے نشتر کستے ہولیکن جب بات وطن پر آ تی ہے تو سب یک زبان ہوکر پاکستان کے لیے اکٹھے ہو جاتے ہیں اور ایک بار پھر کرکٹ کے کھیل نے پوری قوم کو اکٹھا کر دیا تھا۔

    ورلڈ کپ کا دوسرا میچ پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ تھا یہ میچ بھی پاک بھارت میچ سے کم نہ تھا پاکستانی عوام کی امنگوں کے عین مطابق کھلاڑیوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا اور سنسنی خیز مقابلے کے بعد قومی کھلاڑیوں نے یہ اہم جیت اپنے نام کی اور اسی کے ساتھ نیوزی لینڈ سے دورہ پاکستان ادھورا چھوڑنے کا بدلہ بھی پورا ہوا

    اس کے بعدپاکستان ٹیم نے لگاتار اپنے گروپ کے تمام میچز جیتے اور اپنے گروپ میں پہلی پوزیشن پر قبضہ جما لیا نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیم سن نے کرکٹ مداحوں سے یوں دورہ پاکستان ادھورا چھوڑ کر جانے پر معافی مانگی۔انگلینڈ اور آسٹریلیا کے کرکٹ بورڈز نے بھی آئندہ برس پاکستان آ کر میچز کھیلنے کا اعلان کیا ہے
    گویا یہ اک کھیل نہ صرف ملک کے وقار کو بحال کر گیا بلکہ پاکستانی عوام کو پھر سے متحد کر گیا ہے۔ پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے یہ جیت بہت ضروری تھی اور اس موقع پربلا شبہ پاکستان کرکٹ ٹیم تعریف کے لائق ہے جن کی بدولت دنیا میں پاکستان کا مثبت تاثرگیا اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے معیار کو گرنے نہیں دیا بلکہ کرکٹ کے حق میں بہترین فیصلے کیے اور قومی ٹیم کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔
    شکریہ پی سی بی
    شکریہ ٹیم پاکستان

    @SuBKeHDo4

  • بھارتی مسلمانوں سے نماز کا حق بھی چھین لیا گیا،تحریر:عفیفہ راؤ

    بھارتی مسلمانوں سے نماز کا حق بھی چھین لیا گیا،تحریر:عفیفہ راؤ

    بھارت میں اس وقت ایک پورا چینی گاؤں آباد ہو چکا ہے۔ اور یہ بات میں یا کوئی پاکستانی میڈیا رپورٹ نہیں کر رہا بلکہ انڈیا کے حمایتی امریکہ کی رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ چین نے اس حد تک انڈیا کے سرحدی علاقوں پر قبضہ حاصل کر لیا ہے کہ بھارتی ریاست اروناچل پردیش کے پاس بھارتی علاقے میں اپنا ایک گاؤں بسا دیا ہے۔ جس پر انڈیا میں حکومت اور فوج دونوں ہی عجیب بوکھلاہٹ کا شکار ہیں بھارتی فوج کچھ اور بیان دے رہی ہے جبکہ بھارتی وزارت خارجہ الگ ہی راگ الآپ رہی ہے۔ وزارت دفاع کے مطابق یہ گاؤں چین کے علاقے میں ہے جبکہ بھارتی وزارت خارجہ اسے غیر قانونی تعمیرات کہہ رہی ہے۔کچھ عرصہ پہلے خود انڈین میڈیا نے بھی اس خبر کو رپورٹ کیا تھا کہ چین کا ایک گاوں بھارتی علاقے میں موجود ہے لیکن مودی سرکار اس پر خاموش رہی بلکہ اپنے میڈیا کو بھی چپ کروا دیا کہ خبردار اس پر کوئی رپورٹ نہ کرے لیکن انٹرنیشنل اداروں کو رپورٹ کرنے سے تو مودی سرکار نہیں روک سکتی اس لئے اب امریکی رپورٹ نے نہ صرف اس خبرکی تصدیق کر دی ہے بلکہ یہ بھی بتا دیا ہے کہ اس علاقے میں سو مکانات کی ایک بستی آباد کی گئی ہے اور وہاں پر تیزی سے ایسا انفراسٹرکچر تعمیر کیا جا رہا ہے جس میں ہر طرح کی جدید سہولیات لوگوں کو فراہم کی جا رہی ہیں۔ جس پر انڈای کی جانب سے طرح طرح کے بیانات دئیے جا رہے ہیں۔ وزارت خارجہ کی ترجمان ارندم بگچی کا بیان آیا ہے کہ۔۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بتایا تھا چین نے گزشتہ کئی برسوں سے سرحدی علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں اور اس میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جن پر اس نے دہائیوں سے غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔ بھارت نے نہ تو اپنی سرزمین پر ایسے غیر قانونی قبضوں کو قبول کیا ہے اور نہ ہی اس نے چین کے بلا جواز دعووں کو تسلیم کیا ہے۔ حکومت نے سفارتی ذرائع سے اس طرح کی سرگرمیوں کے خلاف ہمیشہ اپنا شدید احتجاج بھی درج کیا ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ حکومت بھارت کی سلامتی پر اثر انداز ہونے والی تمام پیش رفت پر مسلسل نظر رکھتی ہے اور اپنی خود مختاری، سالمیت اور علاقائی تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات بھی کرتی رہی ہے۔

    لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت نے اس بات کو مسترد کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس دعوے میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ لائن آف ایکچوؤل کنٹرول پر چینی گاؤں کی تعمیرات کا مسئلہ تو درست ہے۔ اور چین یہ گاؤں اس لیے تعمیر کر رہا ہے تاکہ ممکنہ طور پروہ اپنے شہریوں کو یا پھرمستقبل میں اپنی فوج کو سرحدی علاقوں میں بسا سکے۔ خاص طور ایل اے سی پر حالیہ کشیدگی کے بعد ۔۔ لیکن یہ جو نیا تنازعہ پیدا ہوا ہے کہ چینیوں نے ہمارے علاقے میں آ کر ایک نیا گاؤں بنایا ہے یہ درست نہیں ہے۔ وہ انفراسٹرکچر کی تعمیر اور ان دیہاتوں کی تعمیر ایل اے سی کے تحت اپنی سرحد کے اندر کر رہے ہیں۔ ایل اے سی کی حوالے سے جو ہمارا تصور ہے اس کے مطابق انہوں نے ہمارے علاقے میں کوئی در اندازی نہیں کی ہے۔ ہم بالکل واضح ہیں کہ لائن آف ایکچوؤل کنٹرول کہاں ہے، کیونکہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ ایل اے سی پر یہ آپ کی صف بندی ہے اور یہ وہ علاقہ ہے جس کا آپ سے دفاع کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔اب ان دو طرح کے بیانات اور انڈین فوج کی گزشتہ سال جس طرح چین کے فوجیوں سے پٹائی ہوتی رہی ہے اس کے بعد آپ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کون سا بیان حقیقت کے قریب ہے۔ ویسے ہو سکتا ہے بپن راوت ٹھیک کہہ رہے ہوں اپنی فوج کی پٹائی کے بعد وہ علاقہ انڈیا نے چین کو دے دیا ہو جس کے بعد اب وہاں چین کا قبضہ ہے اور پورا گاوں بھی آباد ہو گیا ہے کیونکہ خود کانگریس کا بھی بھارتی حکومت کے حوالے سے یہی کہنا ہے کہ مودی نے چین کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔مودی کے سپورٹرز جو بڑکیں مارتے ہوئے کہتے ہیں کہ مودی کا سینہ 56 انچ چوڑا ہے۔ ان کو نشانہ بناتے ہوئے راہول گاندھی نے ٹوئیٹ بھی کی ہے کہ ہماری قومی سلامتی سے ناقابل معافی سمجھوتہ کیا گیا ہے کیونکہ بھارتی حکومت کے پاس اس حوالے سے کوئی حکمت عملی نہیں ہے اور مسٹر 56 انچ تو کافی خوفزدہ ہیں۔ مجھے اپنے ان فوجیوں کی فکر لاحق ہے جو ہماری سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈال رہے ہیں جب کہ بھارتی حکومت کے منہ سے بس جھوٹ ہی نکل رہا ہے۔

    مودی سرکار دراصل کر کیا رہی ہے۔ مودی سرکار نے ایک تو بالکل خاموشی اختیار کر رکھی ہے کیونکہ ظاہری بات ہے اس بارے میں جتنی بات کریں گے ان کے جھوٹ کہیں نہ کہیں پکڑے جائیں گے۔ اور دوسرا کام یہ کیا جا رہا ہے کہ کنگنا رناوت جیسی مودی سرکار کی ٹاوٹ کو چھٹی دے دی گئی ہے کہ وہ جو اس کے منہ میں آئے بولے جائے ایسے بیانات دے جس سے ہندوتوا شدت پسندی میں خوب اضافہ ہو اور لوگوں کا دھیان ایسی خبروں سے ہٹا رہے۔اور اب جو کنگنا نے آزادی حاصل کرنے کے حوالے سے بیان دیا ہے اس پر سبھی حیران ہیں۔ کنگنا رناوت نے کہا ہے کہ آزادی اگر بھیک میں ملے تو کیا وہ آزادی ہو سکتی ہے؟ ساورکر، رانی لکشمی بائی، سبھاش چندر بوس۔۔ ان لوگوں کی بات کروں تو یہ لوگ جانتے تھے کہ خون بہے گا، لیکن یہ بھی یاد رہے کہ ہندوستانی-ہندوستانی کا خون نہ بہائے۔ انھوں نے آزادی کی قیمت چکائی، یقینا۔ لیکن وہ آزادی نہیں تھی، وہ بھیک تھی۔ جو آزادی ملی ہے وہ 2014 میں ملی ہے۔جس کے بعد انڈین عوام کی طرف مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کنگنا رناوت کو حال ہی میں جو پدماشری ایوارڈ دیا گیا تھا وہ واپس لیا جائے اور اس کو جیل بھیجا جائے۔رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی نے تو کنگنا پر مجاہدین آزادی کی بے عزتی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ کنگنا کی اس سوچ کو میں پاگل پن کہوں یا پھر ملک سے غداری۔ انہوں نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ۔۔ کبھی مہاتما گاندھی جی کی قربانی اور جدوجہد کی بے عزتی، کبھی ان کے قاتل کی عزت افزائی، اور اب شہید منگل پانڈے سے لے کر رانی لکشمی بائی، بھگت سنگھ، چندر شیکھر آزاد، نیتا جی سبھاش چندر بوس اور لاکھوں مجاہدین آزادی کی قربانیوں کی بے عزتی۔ اس سوچ کو میں پاگل پن کہوں یا پھر ملک سے غداری؟کانگرس کی رہنما آنند شرما نے تو اپنی ٹویٹ میں صدر رام ناتھ کووند کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ مس رناوت کو دیا گیا پدما ایوارڈ فوری طور پر واپس لیا جائے۔ ایسے ایوارڈ دینے سے پہلے نامزد افراد کے ذہنی اور نفسیاتی تجزیے کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسی شخصیات قوم اور اس کے ہیروز کی توہین نہ کر سکیں۔یہی وجہ ہے کہ ٹوئیٹر پر نہ ہونے کے باوجود بھی اس وقت کنگنا رناوت ٹوئیٹر پر ٹرینڈ کر رہی ہیں۔ لیکن میں آپ کو سو فیصد یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کے خلاف کچھ بھی نہیں ہوگا کیونکہ وہ یہ سب خود مودی جی کے کہنے پر تو کر رہی ہیں اور وہ مودی سرکار جس نے کنگنا کو سیکیورٹی فراہم کر رکھی ہے وہ کیوں اسے کچھ ہونے دیں گی۔
    اور کنگنا رناوت دو ہزار چودہ میں ملنے والی کس آزادی کی بات کر رہی ہیں یہ کیسی آزادی ہے کہ اتنی بڑی جمہوریت اور اتنے بڑے ملک میں خود وہاں کے مسلمان محفوظ نہیں ہیں ان کو اتنا حق بھی حاصل نہیں کہ وہ کہیں اکھٹے ہو کر با جماعت نماز پڑھ سکیں۔

    انڈیا کی ریاست ہریانہ کے گڑگاؤں شہر میں ہندو گروپس نے کھلی جگہوں پر مسلمانوں کی نماز رکوا دی ہے۔ہندو گروپس نے سیکٹر 12 اے میں واقع ایک جگہ پر قبضہ کرلیا۔ اور جب آس پاس کے لوگ اکھٹے ہوئے تو ان کو کہہ دیا گیا کہ وہ یہاں والی بال کورٹ بنا رہے ہیں۔ اور تو اورگراونڈ میں اور اس کے آس پاس کی جگہ جہاں مسلمان نماز ادا کرتے ہیں وہاں انھوں نے گوبر کے اپلے پھیلا دئیے تاکہ وہ جگہ ناپاک ہو جائے اور مسلمان وہاں نماز نہ ادا کر سکیں۔ دراصل پچھلے کئی ہفتوں سے مسلمانوں کو اس شہر میں مختلف مقامات پر نماز کی ادائیگی سے روکنے کے لئے دھمکیاں دی جا رہی تھیں لیکن جب کوئی فرق نہ پڑا تو انہوں نے یہ ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دئیے حالانکہ ایک ہفتہ پہلے خود اس ہندو گروپ نے اس گراونڈ میں پوجا بھی کروائی تھی۔ان کا کہنا ہے کہ یہ نماز کی جگہ نہیں ہے بلکہ عوامی مقامات ہیں۔ حالانکہ گڑگاؤں کا سیکٹر 12-Aان 29 مقامات میں سے ایک ہے جن کے بارے میں 2018 میں ہندو اور مسلمانوں کے درمیان ہوئے ایک معاہدے ہوا تحا جس میں طے کیا گیا تھا کہ یہ جگہ مسلمانوں کی نماز کے لیے مختص ہے۔لیکن نہیں ایسے لوگوں کے خلاف مودی سرکار کچھ نہیں کرے گی بلکہ ایسے واقعات تو اپنے خاص لوگوں سے جان کر کروائے جاتے ہیں تاکہ مودی سرکار کی قابلیت عوام کے سامنے نہ آجائے کہ کیسے یہ چین کے ہاتھوں مار بھی کھا رہے ہیں اور اپنے علاقے بھی ان کو دے رہے ہیں۔ لیکن اپنے ہی مسلمان شہریوں پر جگہ تنگ کی ہوئی ہے۔

  • دودھ نہ دینے پر مالک نے بھینس کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا

    دودھ نہ دینے پر مالک نے بھینس کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا

    مدھیہ پردیش: بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع بھینڈ میں مالک نے دودھ نہ دینے پر اپنی ہی بھینس کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی خبررساں ادارے’انڈیا ٹو ڈے‘ کی رپورٹ کے مطابق ضلع بھینڈ سے تعلق رکھنے والے 45 سالہ بابو اپنی بھینس کے دودھ نہ دینے پر شدید پریشانی میں مبتلا تھے، گاؤں والوں کے مشورے پر انہوں نے اس پریشانی سے نکلنے کے لیے پولیس سے رجوع کیا۔

    بھارت: گائے کے لئے پہلی ایمبولینس سروس شروع

    بابو اپنی بھینس کے ہمراہ پولیس اسٹیشن جا پہنچے جہاں انہوں نے پولیس کو بتایا کہ میری بھینس پچھلے کئی دنوں سے دودھ نہیں دے رہی، میں جب بھی دودھ نکالنے کی کوشش کرتا ہوں وہ مجھے مارنے کو آتی ہے، مجھے شبہ ہے کہ کسی نے میری بھینس پر جادو کروا دیا ہے۔

    بابو کی بھینس کو پولیس اسٹیشن لے جانے کی ویڈیو بھارت میں سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی ہے بھینس کے خلاف شکایت درج کروانے کے کچھ ہی دنوں بعد بھینس نے دوبارہ سے دودھ دینا شروع کردیا جس پر بابو پولیس اسٹیشن گئے اور پولیس کا شکریہ ادا کیا۔

    واضح رہے کہ بھارتی ریاست اُتر پردیش کے وزیر لکشمی نارائن چوہدری نے بیمار گائے کے لیے پہلی ایمبولینس سروس شروع کرنے کا اعلان کیا ہے بھارتی میڈیا کے مطابق 112 ایمرجنسی سروس نمبر کی طرح نئی سروس بیمار گائے کے فوری علاج کی راہ ہموار کرے گی لکشمی نارائن چوہدری کا کہنا ہے کہ اتر پردیش کی حکومت 515 ایمبولینسں نئی اسکیم کے لیے تیار ہیں۔

    بھارتی وزیر نے بتایا کہ ایک ڈاکٹر اور دو معاونین کے ساتھ یہ ایمبولینس سروس 15 سے 20 منٹ کے اندر بیمار گائے کے پاس پہنچ جائے گی اسکیم کے تحت شکایات وصول کرنے کے لیے لکھنؤ میں ایک کال سینٹر قائم کیا جائے گا جو دسمبر تک شروع ہو جائے گا۔

  • تابش کی تشنگی !  تحریر : تابش عباسی

    اکتوبر 2013 کو پاکستان کی عام عوام میں ایک نئی امید روشن ہوئی کہ شاید کوئی مسیحا آ نکلا ہے جس کو اپنے آپ سے زیادہ ، عام عوام کی فکر ہے – مہنگائی ، بےروزگاری ، دہشتگردی اور اس طرح کے اور کہیں مسائل سے نبرد آزما عام عوام کو ایک امید سی ہو چکی تھی کہ گویا اب جلد ہی سب ٹھیک ہو گا ۔ پوری قوم اس لیڈر کے پیچھے چل پڑی ، محنت کا ثمر ملتے ملتے پانچ سال گزر گئے اور 2018 کے عام انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پاکستان میں قائم ہوئی۔ عام عوام کے ذہنوں میں یہ بات نقش کی گئی کہ آج سے پہلے سب حکمران ، سب حکومتیں چور تھیں اور اب "امانت دار ، نیک ، صادق و امین ” حکومت قائم ہوئی ہے – پوری قوم کی امیدیں وابستہ تھیں کہ اب ان کے لیے بھی کوئی بہتری ہو گی ۔ 

    پر گزرتا دن عام عوام کے لیے کچھ نہ کچھ تکلیف دہ خبر لے کر ہی آتا – تاریخ گواہ ہے جس جس چیز کا نوٹس لیا گیا وہ مہنگی سے مہنگی ترین ہوئی اور ایک مخصوص طبقہ امیر سے امیر ترین ہوا ۔ 

    آج نومبر 2021 ، ضرورت روزمرہ اشیاء زندگی کی قیمتیں آسمان پر ہیں ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر دوسرے ہفتے بڑھتی ہیں ! والدین اپنے بچوں کو بھوک و افلاس کی وجہ سے اپنے ہاتھوں سے قتل کرتے ہیں ، خود خود کشیاں کرتے ہیں ! متوسط طبقے کے لوگ بھی غربت کی لکیر تک پہنچ گئے ہیں – چوریاں اور ڈکیتیاں عام ہیں ، اور اکثر چور جب پکڑے جاتے ہیں اور بات کھلتی ہے معلوم پڑتا ہے کہ "پیٹ کی آگ” نے اس گناہ پر مجبور کیا – کہاں گئی وہ "ریاست مدینہ ” جو کا خواب دکھلا کر پوری قوم کو امید دکھائی گئی تھی ! کہاں وہ حکمران جو دریا دجلہ کے کنارے مرنے والی بکری پر بھی خود کو ذمہ دار سمجھتے تھے اور کہاں یہ ریاست مدینہ جس کے حکمران کو خبر ہی نہیں کہ روز غربت کتنوں کو کھا جاتی ، سانحہ ساہیوال ہو گا موٹروے کا واقعہ ! کہاں ہیں ہمارے حکمران ؟ 

    وطن عزیز کی عام عوام کی حالت یہ کر دی گئ ہے کہ اب ” یہاں سب ہی سب سے ڈرتے ہیں”۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن پر سابقہ حکومت پر معن طعن کرنے والے اپنی حکومت کے 3 سال مکمل ہونے کے بعد بھی انصاف نہ دے پائے – 

    آپ خواہ بین الاقوامی پالیسی جتنی بھی بہترین کر لیں ، یا کبھی بھی کر لیں جب تک آپ کی حکومت غریب آدمی کو ریلیف نہیں پہنچا سکتی آپ کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتے – آخر کیا وجہ ہے کہ لوگ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ” ان صادق و امین سے وہ چور حکومت ہی اچھی تھی ” جس میں مہنگائی تو اتنی نہ تھی – یہ عام آدمی کی آواز ہے اور عام آدمی کی امید اگر اس حکومت سے ٹونٹی تو شاید آیندہ یہ لوگ کسی پر امید نہ رکھ پائیں ، اس کا نقصان موجودہ حکومت کو تو ہو گا ہی پر جمہوری اقدار بھی تنزلی کا شکار ہونگے –

    حکومت وقت کو یہ بات سوچنا ہوگی کہ مہنگائی کا جن ان کی حکومت کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے اور اگر سال بعد آمدہ انتخابات میں دوبارہ حکومت بنانے کا خواب ہے تو اس جن کو بند کر کے بوتل میں قید کریں – جیسے گزشتہ حکومتیں کرپشن و اقربا پروری کی بدولت آج اپنا بویا کاٹ رہی ہیں کل موجودہ حکومت کو مہنگائی کی بدولت نہ رونا پڑے-

    بہت سے اچھے اقدامات بھی اس حکومت میں شروع ہوئے جن میں غریب آدمی کی مدد کرنے کی کوشش کی گئی ( احساس پروگرام وغیرہ ) مگر یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ان اقدامات کا فائدہ عام آدمی کو بھی ہوا یا صرف سیاست کی بھینٹ چڑھا دی گیا اس کو بھی – کامیاب جوان سکیم پر پورے ملک سے آوازیں اٹھیں کہ اس پروگرام کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے – 

    نا امیدی کفر ہے ، امید تو ہے کہ یہ حکومت ، آخری سال میں عوام کی بہتری و فلاح پر کام تیز کرے گی ، خصوصاً مہنگائی کا جن قابو کر لیا جائے گا – 

  • نادرا ! علی مجاہد

    آپ 18 سال کے ہوتے ہیں تو آپ پر لازمی ہو جاتا ہے اپنا شناختی کارڈ بنانا کیوں کہ آپ سے ہر جگہ پھر یہ ہی مانگا جاتا ہے اب شناختی کارڈ بنانا اتنا آسان نہیں میں شام کے تقریباً ساتھ بجے اپنے دفتر سے نکلتا ہوں اور قریب ہی سیمینس  چورنگی سائٹ ایریا کراچی میں ایک نادرا کا میگا سینٹر ہے، کہا تو یہی جاتا ہے کہ میگا سینٹر ہے 24 گھنٹے کھلا ہے عوام کےلئے سہولت وغیرہ وغیرہ پر میں جب وہا اپنے کارڈ کےلئے جاتا ہوں تو ایک لمبی سی لائن دیکھ کر پہلے تو ارادہ کیا کہ واپس چلتا ہوں پھر سوچا آج نہیں تو کل بنوانا تو ہے ایک گھنٹے تک نمبر بھی آجائے گا، پر وہاں دیکھا تو ایک الگ ہی ماحول تھا صرف وہی حضرات اندر جا رہے تھے جن کی کوئی اندر جان پہچان تھی اور دوسرے وہاں میں نے ایک اور چیز دیکھی اندر سے کچھ سویپر ٹوکن لیکر آتے اور یہاں آکر بھیجتا پھر لوگ ان سے ٹوکن لیکر گارڈ کو ٹوکن دیکھا کر اندر چلے جاتے یہ بھی ایک بہت برا مافیا ایسی جگہوں پر موجود ہوتا ہے، گارڈ حضرات کہے رہے تھے کہ 10 افراد کو جانے دیا جا رہا ہے پر وہا پر ہر گھنٹے میں 3 یا 4 افراد کو جانے دیا جا رہا تھا پھر پورے چار گھنٹے بعد رات گیارہ بجے نادرا میگا سینٹر کے باہر لائن میں کھڑے ہونے کے بعد اندر جانے کا موقع ملا تو وہاں ٹوکن لینے کے بعد معلوم ہوا کے اب یہاں پر 3 سے 4 گھنٹے اور لگنے ہیں کیوں کہ وہاں کائونٹر تو 10 سے اوپر تھے پر ورکنگ میں صرف 2 تھے اب سوال یہ ہے کہ کیا اتنے بڑے میگا سینٹر میں صرف دو بندے رکھے گئے ہیں؟ یا سٹاف تو موجود ہے پر صرف تنخواہیں لینے کےلئے یہاں بندہ پہلے اپنا پورا دن انتظار کرے پھر جا کر اسکو ٹوکن ملتا ہے اور پھر اپنے ٹوکن کا انتظار کریں ہزاروں کی تعداد میں لوگ اپنے ٹوکن کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں پر ہزاروں لوگوں کی خدمت کےلئے صرف دو لوگ موجود اور تنخواہیں پورا اسٹاف اٹھا رہا ہوتا ہے، آپ کسی بھی سرکاری محکمے میں چلے جائیں نا ان کو کوئی بات کرنے کی تمیز ہوتی ہے نا کسی کا خیال، وہ چاھتے ہیں بس کسی نا کسی طریقے سے جتنے پیسہ ہو سکے کما لیا جائے۔ نادرا میگا سینٹر کے باہر ایک بزرگ انکل کو دیکھا بہت غصے میں تھے جب پوچھا تو بولا صبح 8 بجے کا آیا ہوں اور انکو کہا بھی مجھے معلومات لینے دو پر گارڈز نے جانے نہیں دیا ابھی جب میرا نمبر آیا تو بولا فلاں چیز نہیں ہے تو کام نہیں ہوگا یہ بھی لیکر آئیے، مطلب بندہ صبح 8 سے شام 7:30 تک انتظار کرے صرف اور صرف معلومات لینے کے لیے اور ان گارڈز کو کہو کہ معلومات لینے ہے تو وہ آپ کو اپنے دوسرے گارڈ کی طرف اشارہ کرے گا اور کہے گا یہ معلومات فراہم کر رہا ہے میں نے ان سے پوچھا یار نارمل کارڈ کی کیا فیس ہے وہ کہنے لگا بھائی اندر جائو گے تو پتا چل جائے گا مختلف فیس ہیں مطلب اتنی زیادہ معلومات دے دی کہ پھر کبھی ضرورت ہی نا پرے، پھر وہاں لوگ مجبور ہوکر کہتے ہیں اس سے اچھا تھا ہم آزاد نا ہوتے یا پاکستان نہیں بنتا وغیرہ وغیرہ، یہ محکمہ خود عوام کو مجبور کرتے ہیں کہ ہم انکو ہمارے پیارے پاکستان کو برا بھلا کہیں، ہمارے سرکاری دفاتر کے حصول و ضوابط کو بہتر کرنے کےلئے ہماری حکومت کو نادرا ڈپارٹمنٹ کو اور حکومت پاکستان کو سخت توجہ کی ضرورت ہے۔ 

    Twitter Handle ( @Ali_Mujahid1 )