Baaghi TV

Category: متفرق

  • ظاہر جعفر کے ڈرامے بے نقاب، تحریر: عفیفہ راؤ

    ظاہر جعفر کے ڈرامے بے نقاب، تحریر: عفیفہ راؤ

    نورمقدم کیس پر اس وقت کافی تیزی سے ٹرائل ہو رہا ہے۔ عدالت میں چار چار گھنٹے کی سماعت ہو رہی ہے۔ پہلے بتایا تھا کہ کیسے جعفر خاندان کے ملازمین کے جھوٹ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے بے نقاب ہوئے تھے اور یہ بھی کہ نور نے درندے کے گھر سے ایک بار نہیں بلکہ دو بار بھاگنے کی کوشش کی تھی جو ملازمین نے ناکام بنا دی تھی۔

    عدالت میں مزید کیا کچھ ہوا سی سی ٹی وی فوٹیج کے حوالے سے عدالت نے کیا فیصلہ کیا، درندے کے موبائل فون اور لیب ٹاپ کے فرانزک کا کیا بنا، ایک بار پھر عدالت سے ظاہر جعفر کو کیوں نکالا گیا، عدالت کے سامنے وہ کیا منتیں کرتا رہا اور ملازمین کے مزید جھوٹ کون سے جھوٹ سامنے آ گئے ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج جس کو حاصل کرنے کے لئے ملزمان کے وکیل پہلے دن سے ہی بہت زور لگا رہے تھے کہ ہمیں فوٹیج دی جائے تاکہ ہمیں اپنا کیس تیار کرنے میں آسانی ہو۔ ویسے تو یہ چالیس گھنٹوں کی فوٹیج ہے لیکن اس فوٹیج میں سے کچھ اہم حصوں کو الگ کرکے بھی ایک فوٹیج تیار کی گئی ہے۔ ہر سماعت کی طرح حالیہ سماعت میں بھی ملزمان کے وکلاء نے مطالبہ کیا کہ ہمیں سی سی ٹی وی فوٹیج کی کاپی دی جائے جس پر شاہ خاور نے کہہ کہ کیوں نہ فوٹیج کو عدالت میں ایک بار دکھا دیا حائے اس کے بعد وکلاء کو دے دی جائے کیونکہ اس پورے کیس میں یہ فوٹیج سب سے زیادہ اہم ہے اور نور کی فیملی اور وکیل یہ نہیں چاہتے کہ عدالت میں فوٹیج چلنے سے پہلے یہ کہیں اور وائرل ہو۔ لیکن اس فوٹیج کے بارے میں آج عدالت نے بالآخر فیصلہ کر دیا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی پانچ کاپیاں تیار کی جائیں اور ملزمان کے وکلاء کو دے دی جائیں اس طرح اب جمعہ کے روز فوٹیج ان سب کو مل جائے گی جس پر یہ اپنے کیس کی تیاری کریں گے اس لئے آنے والی سماعتیں اب اور بھی زیادہ اہم ہوں گی۔
    اس کے علاوہ درندے کے موبائل فون اور لیب ٹاپ کو بھی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ اور اس پر جو موقف اختیار کیا گیا ہے جب میں نے وہ سنا تو یقین جانیں کہ میں نے تو اپنا سر پکڑ لیا تھا کہ آج کے دور میں بھی اس طرح کی بات کیسے کی جاسکتی ہے۔ ہوا یہ کہ عدالت میں بتایا گیا کہ یہ لیب ٹاپ اور فون پاسورڈ نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک کھل نہیں سکے اور ان کا ڈیٹا حاصل نہیں ہو سکا۔ اور اب اگر ہم اس پر بار بار غلط پاسورڈ لگائیں گے تو ہو سکتا ہے کہ ڈیٹا ہی ڈیلیٹ ہو جائے۔ سوچیں ایک کیس انڈیا میں سوشانت سنگھ کی خودکشی کا ہوا تھا جس میں انہوں نے واٹس ایپ کے ڈیلیٹ شدہ میسجز بھی Retrieveکروا لئے تھے۔ لیکن ہماری پولیس اور ایف آئی اے کا حال دیکھ لیں کہ انہوں نے صاف جواب ہی دے دیا ہے کہ جی یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اور اس طرح کے جواب پر اب تو مجھے یقین ہو گیا ہے کہ اس درندے کے خاندان کی طرف سے اس کیس پر خوب پیسہ لگایا جا رہا ہے۔ کہ پہلے تو پولیس موقع واردات سے موبائل لینا ہی بھول گئی تھی جب موبائل لے لیا گیا تو ٹوٹی ہوئی سکرین کا کہہ کر اسے پڑا رہنے دیا حالانکہ بچہ بچہ جانتا ہے کہ موبائل فون کی سکرین آرام سے تبدیل ہو سکتی ہے لیکن نہیں جب تک ہم نے آواز نہیں اٹھائی اس پر کسی کو دھیان ہی نہیں گیا اور اب جب درندہ ان کے قبضے میں ہے تو اس سے یہ موبائل اور لیب ٹاپ کا پاسورڈ نہیں اگلوا سکے حالانکہ یہ پولیس والے جب اپنی کرنے پر آتے ہیں تو ملزم سے وہ گناہ بھی منوا لیتے ہیں جو اس نے نہیں کیا ہوتا لیکن حیرت ہے کہ اسلام آباد پولیس اس درندے سے ایک پاسورڈ نہیں اگلوا سکی۔ ایف آئی اے کی بھی یہ حالت ہے کہ وہ عدالت کو یہ جواب دے رہے ہیں کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔

    اس کے علاوہ ایک بار پھر عدالت سے درندے کو باہر نکال دیا گیا کیونکہ وہ بار بار گواہوں کی جرح کی کاروائی میں خلل ڈال رہا تھا۔ اس سماعت میں درندے نے نیشنل فرانزک کرائم ایجنسی کے انچارج محمد عمران کی جرح کے دوران بولنا شروع کردیا اور ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی سے منت کرنی شروع کر دی۔ ظاہر جعفر نے کہا کہ جناب عطاء ربانی، کیا میں آپ کے قریب آ سکتا ہوں، مجھے کچھ سنائی نہیں دے رہا۔ آپ میری بات سن رہے ہیں؟ اس کے بعد درندے نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد دوبارہ بولنا شروع کر دیا اور کہا کہ جج عطا ربانی، میرا راضی نامہ کروا دیں، میں عدالت کے قریب آ کر کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔اس دوران درندے ظاہر جعفر کی والدہ عصمت آدم جی بھی عدالت میں ہی موجود تھیں۔ جس نے پچھلی سماعت پر عدالت کو بہت یقین دلایا تھا کہ درندے کی طرف سے دوبارہ ایسی کوئی حرکت نہیں ہو گی۔ خیر جب جج عطا ربانی کی جانب سے جب کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا تو درندے نے ایک بار پھر جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جناب عطاء ربانی کیا آپ مجھے سن سکتے ہیں۔ اس پر جج عطا ربانی نے ملزمان کے وکلاء سے پوچھا کیا ملزم کی کمرہ عدالت میں موجودگی ضروری ہے؟ اس کی حاضری لگوا کر بھجوا دیں۔ سوچیں آج یہ راضی نامے کی بات کر رہا ہے عدالت میں بار بار کہتا ہے میری بات سنیں۔ اب کوئی اس درندے سے پوچھے کہ جب نور اس کی اور اس کے ملازمین کی منتیں کر رہی تھی کہ اس کو جانے دیا جائے تب اس نے نور کی بات کیوں نہیں سنی کیوں اس پر تشدد کیا کیوں اسے جانے نہیں دیا۔ اس کے علاوہ محمد عمران نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ اس نے کمرے سے کیا کیا شواہد اکھٹے کئے تو اس میں چاقو، پستول جس میں ایک میگزین لگا ہوا تھا اور دوسرا میگزین بھی ساتھ میز پر رکھا تھا، ایک لوہے کا مکا تھا اور چار سگریٹ تھے جو اکٹھے کیے گئے اب ان چیزوں کی موجودگی سے آپ سوچیں اس لڑکی کو جان سے مارنے سے پہلے کتنا تشدد کیا گیا ہو گا۔ اوراس نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ نورمقدم کا سر کھڑکی کے پاس سے ملا تھا اور چاقو شیلف پر رکھا ہوا تھا۔

    لیکن یہ درندہ اس کے ماں باپ ملازمین اور تھراپی ورکس والے اپنے آپ کو معصوم ثابت کرنے کے لئے پورا زور لگا رہے ہیں۔ ویسے تو اس کیس کے شروع میں ہی جو ایک کام ہوا کہ ان سب کو فورا گرفتار نہیں کیا گیا تھا اس سے ان سب کو موقع مل گیا تھا کہ یہ آپس میں پلان کرکے ایک جیسے بیانات پولیس کو دیں لیکن پھر بھی وہ کہتے ہیں نا کہ جھوٹ کے پیر نہیں ہوتے جھوٹ آخر پکڑا ہی جاتا ہے تو جیسے جیسے کیس کی تفصیلات اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیل سامنے آ رہی ہے ان کے جھوٹ بھی پکڑے جا رہے ہیں۔ سوچیں جو ملازمین یہ بھی جانتے تھے اگر دروازہ بند ہے تو کمرے کی کھڑکی کھلی ہوئی ہے وہاں سے درندے کے کمرے میں جایا جا سکتا ہے۔ تھراپی ورکس والوں کو سیڑھی بھی انھیں ملازمین نے لا کر دی تو کیا وہ اس لڑکی کی جان بچانے کے لئے کچھ نہیں کر سکتے تھے لیکن نہیں یہ ملازمین تو جان کر گیٹ بند کر دیتے تھے تاکہ نور بھاگ نہ پائے اور اسے پکڑ کر واپس درندے کے حوالے کر دیتے تھے اور تھراپی ورکس والے جو معصوم بن رہے ہیں کہ ہمیں تو یہ بتایا گیا تھا کہ ظاہر جعفر کی حالت ٹھیک نہیں تھی ہم تو مریض کو لینے گئے تھے۔ تو کوئی ان سے پوچھے کہ مریض کو لانے کے لئے کونسی ڈاکٹرز کی ٹیم وکیل کو ساتھ لے کر جاتی ہے۔ کیونکہ تھراپی ورکس والوں کے ساتھ وکیل دلیپ کمار بھی تھا۔ اور اس کو ساتھ لے کر جانے کا مقصد یہ تھا کہ کیسے موقع واردات سے ثبوتوں کو مٹایا جائے، نور کی باڈی کو ٹھکانے لگایا جائے اور کیس کو خراب کیا جائے۔ تاکہ اس درندے کی جان بچ جائے۔ کیونکہ یاد کریں اس درندے نے اپنے باپ کو جب فون پر بتایا تھا کہ میں نے نور کو مار دیا ہے تو اس نے اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ تم پریشان نہ ہو میں سب سنبھال لوں گا۔ ٹیم آ رہی ہے وہ تمھیں یہاں سے نکال لے گی۔ اس لئے تھراپی ورکس والے اپنی پوری تیاری سے گئے تھے اور مجھے تو یقین ہے کہ امجد پر بھی جو حملہ کیا گیا وہ بھی ڈرامہ کیا گیا۔ تاکہ اس کی ذہنی حالت خراب ثابت کی جا سکے۔ ورنہ جس طرح اس کے پاس اسلحہ تھا اگر وہ مارنا چاہتا تو وہ آرام سے امجد کو مار سکتا تھا۔اور جو یہ بیان دیا گیا کہ ظاہر نے اس وقت امجد سے کہا تھا کہ میں تمھیں بھی ماروں گا اور خود بھی خودکشی کروں گا۔

    تو یہ بھی ایک ڈرامہ ہی ہے کیونکہ اگر اس نے اپنی جان لینی ہوتی تو نور کو مارنے کے فورا بعد اپنی جان لے چکا ہوتا اپنے باپ کو فون نہ کرتا کہ مجھ سے قتل ہو گیا ہے اور مجھے بچا لو۔ ابھی تک جیسے ان کے پہلے والے ڈرامے بے نقاب ہوتے رہے ہیں انشااللہ باقی کے ڈارمے بھی آنے والے دنوں میں پکڑے جائیں گے۔اب عدالت نے اگلی سماعت جو کہ سترہ نومبر کو ہوگی اس پر ہیڈ کانسٹیبل جابر، کمپیوٹر آپریٹر مدثر، اے ایس آئی دوست محمد اور ڈاکٹر شازیہ کو طلب کرلیا ہے اب ان کی گواہی اور اس پر جراح ہو گی۔ اور مزید بہت سے انکشافات اس کیس کے حوالے سے سامنے آئیں جس سے ان درندوں کے جھوٹ مزید بے نقاب ہونگے اورنور کو جلد انصاف مل سکے گا .

  • بطخ کی سرخ جوتے پہنے میراتھن ریس میں انٹری،ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    بطخ کی سرخ جوتے پہنے میراتھن ریس میں انٹری،ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

    نیویارک :میراتھن ریس میں ایتھلیٹس کے ساتھ ریس میں حصہ لینے والی بطخ کے سوشل میڈیا پر چرچے-

    باغی ٹی وی : میراتھن ریس میں ایتھلیٹس کے ساتھ ریس میں حصہ لینے والی ایک بطخ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس سے صارفین خوب محفوظ ہو رہے ہیں اور بطخ کی ریس لگاتے ہوئے ویڈیو کو خوب سراہا جا رہا ہے –

    وزیر خارجہ کا ماحولیاتی تبدیلی سے آگاہی دینے کا انوکھا طریقہ

    سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر شئیر کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک چھوٹی سی رنکل نامی بطخ سُرخ جوتے پہنے نیویارک میراتھن ریس میں ایتھلیٹس کے ہمراہ دوڑ لگاتی ہوئی نظر آرہی ہے۔

    یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا ہے کہ "رنکل نے نیو یارک میراتھن میں دوڑ لگائی، اگلے سال یہ اس سے بھی اچھا پرفارم کرے گی۔”

    انسٹاگرام پوسٹ میں میراتھن ریس میں حصّہ لینے پر بطخ کو سراہنے والے صارفین کا شکریہ بھی ادا کیا گیا ہے۔

    "ٹائم آؤٹ ” کے مطابق اگرچہ ہم اب مشہور شخصیت کی بطخ کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس کا آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ کافی عرصے سے جانوروں کی حرکات کو دائمی بنا رہا ہے۔

    لیکن یہ NYC میراتھن میں بطخ کی ظاہری شکل ہے جس نے واضح طور پر سب سے زیادہ توجہ مبذول کرائی ہے۔ نیویارک کے باشندے، برانڈز اور جانوروں سے محبت کرنے والوں نے رنکل کے بعد کی دوڑ کے بارے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔ ہمارا پسندیدہ تبصرہ TikTok کے بشکریہ آیا، جہاں Adidas نے لکھا: "”ہم ہماری ڈیزائنر ٹیم کو بھیج رہے ہیں تاکہ بطخ کے جوتوں کے نئے مجموعہ کی درخواست کی جا سکے۔

    بطخ کے سوشل میڈیا پروفائل کے مطابق، رنکل کی ماں جسٹن ووڈ ہے جبکہ اس کے والد اس کے پیارے اسسٹنٹ کے طور پر درج ہیں۔

    میراتھن ایپی سوڈ پر ٹویٹر صارفین کی جانب سے دلچسپ تبصرے کئے جا رہے ہیں-


    https://twitter.com/jwuless/status/1458487606644256777?s=20


    https://twitter.com/RunsNat/status/1458115003911966730?s=20
    https://twitter.com/gpommen/status/1457972552114999296?s=20


    علاوہ ازیں یہ بطخ بشوک فلم فیسٹیول میں ریڈ کارپٹ پر بھی اپنے جلوے بکھیر چکی ہے-

    انسانوں کی نقل کرنے والی بطخ

    واضح رہے کہ آسٹریلیا میں ایک ایسی بطخ ہے جو انسانی جملوں کو نقل کر کے دہرانے کی صلاحیت رکھتی ہےآسٹریلیا کے سائنسدان پیٹر جے فلا نے تحقیق کے دوران ایک نر بچے کو پالا جو چار سال کا ہے اسے رِپر کا نام دیا گیا ہے یہ غصے میں اول فول الفاظ ادا کرتا ہے اس کا سب سے مشہور جملہ ہے ’یو بلڈی فول‘ جو انگریزی زبان میں گالی کی طرح سمجھا جاتا ہےبطخ دروازہ بند ہونے کی آواز نکالنے کے ساتھ انسانوں کی طرح کھانسی بھی کرتی ہے، لیکن اب اس نے ایک جملہ بھی سیکھ لیا ہے اور وہ واضح انداز میں ’یوبلڈی فول‘ کہہ سکتی ہے۔

    بطخ جس کے 800 گرام پروں کی قیمت 8 لاکھ روپے

  • بھارت میں اقلیتیں غیر محفوظ،مودی سرکار کے ماتھے پر کلنک،تحریر: نوید شیخ

    بھارت میں اقلیتیں غیر محفوظ،مودی سرکار کے ماتھے پر کلنک،تحریر: نوید شیخ

    خطے میں بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم ۔۔۔ ڈھکی چھپی بات نہیں ہیں ۔ حالانکہ بھارت کی اپنی حالت کافی پتلی ہے ۔ معیشت سے لے کر ہر چیز کا بٹھہ بیٹھا ہوا ہے ۔ مگر جنونی مودی کے سر پراکھنڈ بھارت کا بھوت سوار ہے ۔ اس وقت کوئی دن ایسا نہیں جا رہا جب بھارت کو اپنے بارڈرز سمیت انٹرنیشنل سطح پر ذلت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہو۔ کبھی پاکستان تو کبھی چینی بھارتی فوجیوں کی خوب تواضع کرتے ہیں ۔ تو کبھی کشمیری ، نکسلی ، ماؤ اور دیگر بھارتی فوجیوں کو جہنم واصل کر دیتے ہیں ۔ کبھی کبھی تو اب یوں لگتا ہے کہ مودی کے آنے کی وجہ سے شکست بھارت کا مقدر بن چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ کے میدان سے لے کر کھیل کے میدان تک بھارت کو صرف مار ہی مار پڑی رہی ہے ۔ پر انڈیا امریکی آشیرباد اور طاقت کے زعم میں اس خطہ میں جو کھیل کھیل رہا ہے۔ اسکے نتائج اس خطہ کو ہی نہیں۔ پورے کرۂ ارض کو بھگتنا پڑسکتے ہیں۔ اسوقت ہندوستانی قیادت پاگل ہوچکی ہے دنیا جہاں کا اسلحہ خرید رہی ہے اور بڑی تیزی سے امریکہ فرانسیسی اور اسرائیلی ساختہ اسلحہ سرحد کے ساتھ ساتھ لگایا جا رہا ہے ۔ جس میں میزائل ، ڈرون ، نئے طیارے اور پتہ نہیں کیا کیا ہے ۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ بھارت کسی نئی جنگ کی تیاری میں ہے ۔

    ۔ بھارت کی ان ہی حرکتوں کی وجہ سے پاکستان نے بھارت میں ہونے والی افغان سیکیورٹی کانفرنس میں شرکت سے انکار کر کے خطے میں پیغام دے دیا ہے کہ ہمارا ریاستی موقف کیا ہے ۔ ہم بھارت بارے کیا سوچتے ہیں اور انڈیا کااصل چہرہ ہے کیا ۔۔۔ کیونکہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ بغل میں آپ نے چھری رکھی اور منہ سے رام رام کہہ رہے ہوں۔ پھر بھارت افغانستان میں قیام امن کا کسی طور پر بھی سٹیک ہولڈر نہیں ہے۔ الٹا خطے میں بگاڑ اور بد امنی کی تما م راہیں ہندوستان سے نکلتی ہیں۔ ہندوستان کی جنونی سرکار کے منصوبوں کی کامیابی کی راہ میں اگر کوئی ملک سامنے کھڑا ہے تو وہ پاکستان ہے۔ پاکستان اپنے پورے قد کاٹھ کے ساتھ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لئے آواز اٹھاتا ہے۔ اقوام متحدہ ہو یا اس کی سلامتی کونسل، یورپی یونین ہو یا عرب لیگ، ہر جگہ پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے لئے آواز بلند کر رہا ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہندوؤں نے قیام پاکستان کے روزِ اول سے ہی پاکستان کو ناکام ریاست بنانے اور ختم کرنے کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے کبھی اثاثہ جات کی تقسیم پر، کبھی دریاؤں کے پانی کی تقسیم پر، کبھی سیاچن، کبھی کارگل اور اب افغانستان کے مسئلے پر ہندوستان پاکستان کو نیچا دکھانے کی کاوشیں کر رہا ہے۔ افغانستان میں عبرتناک شکست کے بعد بھارت سرکار ایک بار پھر افغانستان کے حوالے سے لیڈ لینے۔ بلکہ پنگا لینے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے پر اس کی دال نہیں گلنی ۔ سیکیورٹی کانفرنس کا انعقاد اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ پر یاد رکھیں پاکستان کی شرکت کے بغیر اس کانفرنس کی حیثیت اور ساکھ قائم نہیں ہو سکے گی پاکستان نے اس لئے اس میں شرکت سے انکار کر کے ذہانت کا ثبوت دیا ہے۔

    ۔ پر آپ مودی کی دونمبریاں تو چیک کریں ایک جانب یہ افغانستان پر سیکورٹی کانفرنس کروا رہا ہے تو دوسری جانب طالبان کے ڈر کو بھارت میں الیکشنز میں خود بیچا جا رہا ہے ۔ اگر آپک یاد ہو تو چند روز پہلے یوگی آدتیہ ناتھ نے کہہ تھا کہ طالبان کی حمایت کا مطلب بھارت کی مخالفت ہے۔ یہاں تک اس فراڈیے نے تو افغانستان پر فضائی بمباری تک کی دھمکی لگائی تھی ۔ تو اب بھارت کس منہ سے افغانستان پر سیکورٹی کانفرنس کروا رہا ہے ۔ چلتے چلتے میں یوگی ادتیہ کو بھارت کی اوقات بتا دوں ۔ کہ گزشتہ ایک ہزار سال سے افغانستان سے آنے والے بنا کسی طیارے ، ٹینک کے میزائل اور جدیدہتھیاروں کے کئی مرتبہ گھڑسوار اور پیدل مٹھی بھر سپاہیوں کے ساتھ بھارت کو روند چکا ہے۔ محمود غزنوی سے لیکر احمدشاہ ابدالی تک افغانستان سے آنے والے لشکروں نے راس کماری سے لے کر بنگال تک دہلی سے لے کر کرناٹک تک کو فتح کیا اور یہاں اپنی حکومت قائم کی۔ خاندان غزنوی ہو یا لودھی ، غلاماں ہوں یا خلجی، تغلق یا غوری یا مغل یہ سینکڑوں برس ہندوستان کے فاتح اور حکمران رہے۔ ۔ اگر آدتیہ یوگی اس تاریخی حقیقت سے آگاہ ہوتا تو کبھی ایسی بڑ نہ مارتا جس کے جواب میں شرمندگی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آنا۔ آدتیہ یوگی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس بدبخت شخص کو مسلمانوں سے اسلام سے نفرت ہے۔ یہ واقعی بہت بڑی بات ہے کہ دہلی ، آگرہ ، ڈھاکہ ، کلکتہ ، بہار، حیدر آباد ، لکھنو، بنارس ، تلنگانہ ، کیرالہ اوڑیسہ تک پھیلی کسی بھی ہندو ریاست میں یا ان کے مہاراجوں میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ اپنے ہی دیس میں اپنے ہی گھر میں رہتے ہوئے ہزاروں میل دور افغانستان سے آنے والے ان مٹھی بھر مسلانوں کا مقابلہ کر کے انہیں نست ونابود کر دیتے۔الٹا لاکھوں کے لشکر، ہاتھی گھوڑوں ، اونٹوں کے باوجودیہ ہندوستانی ریاستیں ہر بار مسلمانوں کے حملے میں کاغذ کی کشتی کی طرح برساتی پانی میں بہہ جاتیں۔ یوگی ڈھونگی شایدبھول رہا ہے کہ مرہٹوں جن کی طاقت پر ہندوستانیوں کو بہت گھمنڈتھا وہ بھی بار بار زیر ہوئے۔ چھپ کر مسلم حکمرانوں پر حملے کرتے رہے مگر انہیں بھی پورے ہندوستان پر کبھی حکومت کرنا نصیب نہیں ہوئی۔ وہ ڈاکوئوں کی طرح آتے اور چوروں کی طرح بھاگ جاتے رہے۔ حتیٰ کہ پانی پت کے میدان میں لاکھوں مراٹھے گاجر مولی کی طرح کاٹ کر احمد شاہ ابدالی نے مراٹھا سامراج کا خواب چکنا چور کر دیا تھا ۔ کیا یہ سب حقائق صرف فسانے ہیں ۔ کیا یو گی ڈھونگی نے کبھی تاریخ نہیں پڑھی۔ اگر پڑھی ہوتی تو ضرور اس سے سبق سیکھتے۔

    ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت ایک شرانگیز ملک ہے جو امن قائم نہیں کر سکتا۔ بلکہ اس خطے میں امن و استحکام اور خوشحالی کے لئے ہونے والی کسی بھی کوشش کو سبوتاژ کرنے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ کارفرما ہوتا ہے کیونکہ وہ اکھنڈ بھارت والے اپنے توسیع پسندانہ ایجنڈے کی بنیاد پر علاقے کی تھانیداری کا خواہشمند ہے جس کے لئے اسے امریکی سرپرستی حاصل ہے۔ اسی لیے بھارت کے ہمسایہ ممالک اور اس خطے کا کوئی بھی دوسرا ملک ہمیشہ بھارت کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے ۔ اس وقت بھارت اعلانیہ پاکستان کی سلامتی تاراج کرنے کی دھمکیاں دیتا نظر آتا ہے ۔ ہندوستان نے پاکستان مخالفت کی وجہ سے ہی ماضی میں افغانستان کو سپورٹ کیا ۔ وہاں پاکستان مخالف عناصر کی مالی امداد کر کے انہیں خوب پالا پوسا مگر جب سے افغان طالبان نے حکومت سنبھالی ہے۔ بھارت کی ساری سرمایہ کاری نالی میں بہہ گئی ہے۔ اب اسے خطرہ ہے کہ اگر طالبان حکومت افغانستان میں مضبوط ہوئی تو اس کا اثر مقبوضہ کشمیر میں جاری مسلمانوں کی تحریک آزادی پر بھی پڑے گا اور افغان طالبان مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی اور کشمیریوں کی حمایت کریں گے۔ آپ دیکھیں پاکستان دشمنی میں مودی سرکار اس حد تک چلی گئی ہے کہ روسی وزیر کے بقول اب پاکستان کے انکار کے بعد بھارتی امریکہ کو فضائی اڈے قائم کرنے کی اجازت دینے لگے ہیں۔ جہاں سے امریکہ افغانستان میں ڈرون حملے کرنے کی پوزیشن میں آ جائے گا۔ ویسے ایسا کچھ بھی کرنے سے پہلے امیدہے بھارت سرکار ماضی کے واقعات سے ضرور سبق حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ بھارت میں مسلم کش فسادات کروا کر اگر بھارتی حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو دبا دیںگے تو ایسا نہیں ہو سکتا۔ صرف کشمیر کی مثال ہی کافی ہے جہاں 72سالوں سے بھارت اپنی لاکھوں مسلح افواج کے بل بوتے پر ہر ممکن جبر و تشددکے باوجود ان آزادی پسند کشمیریوں کی تحریک آزادی کو نہیں کچل سکا تو وہ بھلا بھارت میں پھیلے 20 کروڑ مسلمانوں کو کیا بربادکرے گا۔ اگر ایسا کرنے کی کوشش جاری رہی تو پھر یہ داستان خودبھارت کی بربادی پر ہی ختم ہو گی۔ یہ ہم نہیں کہتے زمانہ کہتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے۔

    ۔ یہ بھی سچ ہے کہ بھارت میں مسلمانوں، سکھوں اور دلت ہندوئوں سمیت کسی بھی اقلیت کو جان مال کا تحفظ حاصل نہیں اور ان کی مذہبی آزادیاں نہ صرف غصب کی جا چکی ہیں بلکہ انہیں مذہبی رسومات کی ادائیگی کے وقت ہندو انتہاء پسندوں کے حملوں اور دوسری پرتشدد کارروائیوں کا سامنا رہتا ہے جبکہ ان انتہاء پسندوں کو بھارت کی مودی سرکار کی مکمل سرپرستی حاصل ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف مسلمان ہی ہند سرکار سے نفرت کرتے ہیں مودی سرکار کی ہندو توا نے دیگر اقلیتوں پر بھی عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے سکھ، خالصتان بنانا چاہتے ہیں۔ بھارت کے 630 اضلاع میں سے 220 اضلاع پہ اس وقت آزادی پسندوں کا قبضہ ہے۔ کشمیر کے علاوہ بھارت کی درجنوں ریاستوں میں 67 علیحدگی کی تحریکیں کام کر رہی ہیں۔ جن میں 17 بڑی اور 50چھوٹی تحریکیں ہیں۔ ۔ ناگالینڈ، مینرد ورام، منی پور اور آسام سے لیکر بہار،آندھرا پردیش، مغربی بنگال اس وقت بھارت کے لیے سردرد بن چکے ہیں۔ آدھا بھارت فوجی چھاونی بن چکا ہے یہاں جگہ جگہ موبائل فون اور انٹرنیٹ پر بھی پابندیاں عائد ہیں۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھارتی فوج کے مظالم یا بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شور مچاتی ہیں تو بھارت کی سرپرست عالمی طاقتیں انھیں خاموش کرادیتی ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا کے دور میں اب کچھ بھی چھپنا ناممکن ہو چکا ہے۔ آسام میں سرکاری سرپرستی میں مسلمانوں کے قتل پر عرب سوشل میڈیا پر انڈین مصنوعات کے بائیکاٹ کی ایسی مہم چلی کہ جو پھر پھیلتی ہی چلی گئی۔ پھر مودی جس بھی ملک جاتا ہے وہاں بھارت اور اسکے خلاف احتجاج شروع ہو جاتا ہے ۔ کبھی سکھ ، تو کبھی کشمیری تو کبھی ماؤ تو کبھی نکسلی خوب بیرون ملک بھی مودی کی بینڈ بجاتے ہیں ۔ ویسے مودی کسی بھی ملک کا پہلا سربراہ ہے جسے اپنے ملک کے علاوہ بیرون ملک بھی اتنی ہی زلالت کا سامنا رہتا ہے۔ پھر ایک رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نے ہندو آبادی کو خطرناک حد تک ہندوتوا ذہنیت کے نشے میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ہندوتوا قوتیں مسلمانوں اور ان کی املاک کو نشانہ بنانا اپنا مقدس فرض سمجھتی ہیں۔ ان کی تذلیل کی جاتی ہے اور یہاں تک کہ انہیں قتل کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وبا کے عروج کے دوران بھارتی مسلمانوں پر وائرس پھیلانے کا الزام لگایا گیا تاکہ بھارت میں نظام صحت کی تباہی کو چھپایا جا سکے۔ بی جے پی اور دیگر ہندو انتہاپسندوں نے تمام مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف ایک مشترکہ مہم شروع کر رکھی ہے۔

  • فیصلہ پارٹ نمبر آخری 6 تحریر سکندر علی 

    جارج نے ایسے منہ بنایا جیسے اسے باپ کی بات پر اعتماد نہ ہو۔ اس نے جارج کی طرف دیکھ کر سر ہلایا جیسے اپنی بات

    کی سچائی پر اصرار کر رہا ہو۔

    کتنی مزے کی بات ہے کہ آج تم میرے پاس آئے، یہ پوچھے کہ کیا دوست کو اپنی منگنی کے بارے میں

    لکھوں ۔ بیوقوف لڑکے، وہ یہ بات پہلے سے جانتا ہے، سب کچھ جانتا ہے۔ میں اسے خط لکھتا رہا ہوں کیوں کہ تم میرا لکھنے

    کا سامان مجھ سے چھینا بھول گئے تھے۔ اسی لیے تو اتنے برسوں سے وہ یہاں نہیں آیا ۔ وہ ان باتوں کو تم سے بھی کئی ہزار گنا

    بہتر طریقے سے جانتا ہے۔ اپنے بائیں ہاتھ سے وہ تمھارے خطوں کو پڑھے بغیر مر کر دیتا ہے۔ اس کی دائیں ہاتھ میں

    میرے خط ہوتے ہیں جنھیں وہ پڑھتا ہے ۔”

    جوش جذبات میں اس کے باپ نے اپنا بازو سر کے اوپر جھلایا۔” وہ ہر بات تم سے ہزار گنا بہتر طرح سے جانتا

    ہے۔ وہ چلایا۔

    دس ہزار گنا بہتر جارج نے اپنے باپ کے احمقانہ پن سے مزہ لیتے ہوئے کہا۔

    برسوں میں نے انتظار کیا کہ تم ایسا کوئی سوال لے کر میرے پاس آو کیا تم سمجھتے ہو کہ مجھے کسی اور بات کی پرواو

    ہوسکتی ہے؟ کیا تمھارے خیال میں میں اخبار پڑھتا رہتا ہوں؟ دیکھ لو

    ، اس نے جارج کی طرف اخبار کا ایک صفی اچھالا

    جیسے وہ کسی طور اپنے ساتھ ہی بستر تک لے آیا تھا۔ ایک پرانا اخبار جس کا نام جارج کے لیے بالکل غیر اجنبی تھا۔

    بڑے ہونے میں کتنے سال اور لو گے تمھاری ماں اس انتظار میں مر گئی ۔ اسے یہ خوشی کا دن دیکھنا نصیب نہیں

    ہوا تمھارا دوست روس میں خراب ہورہا ہے ۔ حتی کہ تین سال پہلے وہ اتنا زرد تھا کہ چھینک دیئے جانے کے قابل، اور

    جہاں تک میرا تعلق ہے ہم جانتے ہو کی حالت میں ہوں ۔ بیردیکھنے کے لیے تمھارے پاس آنکھیں بھی ہیں ۔

    تو آپ یہاں لیٹے میرا انتظار کرتے رہتے تھے ۔’ جار چلایا۔

    غیر دوستانہ لہجے میں اس کے باپ نے افسوس کے ساتھ کہا : میرے خیال میں یہ بات تم بہت پہلے کہہ دینا چاہتے

    ہے لیکن اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، پھر اونچی آواز میں بولا اس لیے کہ اب تم جانتے ہو تمھارے اردگرد دنیا میں

    اور کیا کچھ ہے۔ اب تک تمھیں صرف اپن کریں۔ ایک معصوم بچہ ہاں، یہی ہوتی ، یہی ہی ہے لیکن اس سے بھی بڑا یہ

    ہے کہ تم ایک شیطان صفت انسان ہو اور اس لیے جھلو

    ، میں تمھیں ڈوب کر مر جانے کی سزاسناتا ہوں ۔

    جارج نے محسوس کیا کہ اسے کمرے سے باہر دھکیل دیا گیا ہو۔ جس دھماکہ خیز آواز کے ساتھ اس کا باپ پچھے کمرے میں

    اپنے بستر پرگرا تھا وہ باہر کرتے ہوئے اس کی کانوں میں گونج رہی تھی۔ زینے پر وہ بھاگتا ہوا نیچے اترا جیسے کوئی نشیب ہو وہاں

    اس کی ٹر تھیٹر صفائی کرنے والی عورت سے ہوئی جو پچھلی رات کے بعد سے اب اس کے کمرے میں صفائی کرنے آئی تھی ۔

    د خدایا وہ چینی اور اپنا چہرہ ایپرن میں چھپا لیالیکن وہ تیزی سے آگے نکل گیا۔ صدر دروازے سے نکل کر وہ بھاگا،

    سڑک پر دریا کی طرف بڑھتے ہوئے۔ وہ شئے کو یوں زور سے پڑے ہوئے تھا جیسے کوئی بھوکا آدی خوراک کوٹھی میں

    دبائے ہو۔ وہ جنگل کو پلا نگا جمناسک کے ایک غیر معمولی باہر کی طرح جیسا کہ وہ اپنی نوجوانی میں تھا، اپنے والدین کا

    فتار کمزور ہوتی ہوئی گرفت کے ساتور های تک خشگل کو پڑھے ہوئے تھا، جب اس نے جنگلوں کے درمیان میں سے

    ایک بس کو

    آتے دیکھا جو آسانی سے اس کے گرنے کے شور کور با لے گی ۔ وہ خاموی سے اور عزیز والدہ کی ، میں نے ہمیشہ

    آپ سے محبت کی ہے۔ اس سب کچھ کے باوجود اور پھر خودکو پنچ گرالیا۔

    اس لیے پل پر سے ٹریفک کا غیرفتم سیلاب گزررہا تھا۔

    ختم شد

  • فیس بک  نفرت اور تشدد کا بیج بونے لگی. تحریر: عفیفہ راؤ

    فیس بک نفرت اور تشدد کا بیج بونے لگی. تحریر: عفیفہ راؤ

    فیس بک نفرت اور تشدد کا بیج بونے لگی. تحریر: عفیفہ راؤ

    انڈیا کا مقابلہ اگر پاکستان سے کیا جائے تو وہ رقبے کے لحاظ سے ہم سے کافی بڑا ہے اس لئے وہاں کی آبادی بھی ہم سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اور آجکل زیادہ آبادی کا مطلب ہے بہت بڑی مارکیٹ ۔ لیکن اسی مارکیٹ میں بزنس سے زیادہ نفرت پھیلائی جا رہی ہے۔ ہندوتوا سوچ کو بڑھانے کے لئے ہندو انتہا پسند ہر حد پار کرتے جا رہے ہیں۔ ویرات کوہلی، عامر خان سے لیکر ایک عام بریانی والا تک ان سے محفوظ نہیں ہے۔

    مودی سرکار اپنی اس بڑی مارکیٹ کو کس طرح سے کیش کروارہی ہے۔ کیسے بڑے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی اپنی انتہا پسند سوچ کے پھیلاو کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اور یہ کمپنیز بھی ایسا ہونے دے رہی ہیں کیونکہ ظاہری بات ہے ان کا مطلب صرف اپنے بزنس اور منافع سے ہے۔ لیکن نقصان کی بات یہ ہے کہ ان کی خاموشی اور مودی سرکار کا ساتھ دینے کی وجہ سے انڈیا میں اب نفرت اور انتہا پسندی اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ وہاں چھوٹے چھوٹے کام کرنے والوں کے لئے کام کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ بی جے پی۔ آر ایس ایس اور بجرنگ دل کے حامی لوگوں کے دماغوں میں اب یہ بات پوری طرح بیٹھ چکی ہے کہ جب بڑی بڑی کمپنیوں سے ہم اپنی بات منوا لیتے ہیں تو چھوٹے کاروبار کرنے والوں سے بات منوانا کیا مشکل ہے جس کی وجہ سے حالات یہ پیدا ہوتے جا رہے ہیں کہ انڈیا میں اس دیوالی پر جشن سے زیادہ سوشل میڈیا ٹرولنگ ہوتی رہی ہے کبھی کسی سٹار کی کبھی کسی برانڈ کی۔ یعنی انڈین عوام جو مذہب کی بنیاد پر تقسیم تو تھی ہی لیکن اب زبانوں اور کھانوں پر بھی مذہب کے ٹیگز لگنا شروع ہو گئے ہیں۔ جہاں کافی عرصے سے حکومت فیس بک جیسے پلیٹ فارم کو اپنی مرضی سے استعمال کر رہی تھی وہیں اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے یہ انتہا پسند اس قدر بے لگام ہو چکے ہیں کہ اب کوئی ان کی اجازت کے بغیر بریانی بھی نہیں بیچ سکتا۔ مسلمان تو مسلمان عیسائیوں اور سکھوں پر بھی زندگی تنگ کی جارہی ہے۔ گزشتہ ماہ کے آخر میں یہ انکشاف ہوا کہ سب سے بڑی سوشل میڈیا کمپنی فیس بک استعمال کرکے لوگوں میں نفرت اور تشدد کا بیج بویا گیا جبکہ انسانوں کے سمگلرز نے لوگوں کو پھانسنے کے لئے فیس بک کااستعمال کیا۔ فیس بک اور اس کی دیگر ایپس نہ صرف بچوں کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ جمہوریت کو بھی کمزور کرتی ہیں۔ 17میڈیا ہاؤسز کا ایک کنسورشیم ہے جس نے فیس بک کی یہ متنازع پالیسیاں بے نقاب کرنا شروع کی ہیں۔ اور فیس بک پر یہ الزام کسی اور نے نہیں بلکہ فیس بک کی ہی ایک Ex-employ Frances Haugen
    نے لگایا ہے بلکہ اس نے فیس بک سے Resignبھی اسی لئے کیا کہ فیس بک Hate speech and voilenceکو پروموٹ کرتی ہے۔ اور یہ صرف الزام نہیں ہے بلکہ اس نے پروف کے طور پر ہزاروں ڈاکیومنٹس بھی پیش کئے ہیں جن کوان میڈیا ہاوسز کے کنسورشیم نے Studyکیا۔ امریکی کانگریس اور برطانیہ کی پارلیمنٹ دونوں کے سامنے یہ پیش ہوئی ہیں۔ جہاں اس نے فیس بک پلیٹ فارم کے اثرورسوخ کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور خبردار کیا کہ اس کے خلاف ایکشن نہ لیا گیا تو دنیا میں مزید فسادات اور نسل کشی کے واقعات ہو سکتے ہیں۔ ان ڈاکیومنٹس کے مطابق چھ جنوری کو امریکی کیپیٹل ہل پر سابق صدر ٹرمپ کے حامیوں کا حملہ اور میانمار اور ایتیھوپیا جسے ممالک میں ہونے والی نسل کشی جیسے واقعات میں تو فیس بک کا ہاتھ ہے ہی لیکن پاکستان اور انڈیا کے حوالے بھی جو Factsان ڈاکیومنٹس میں سامنے آئے ہیں وہ کافی خطرناک ہیں۔ فروری دو ہزار انیس میں ایک ریسرچرز کی ٹیم نے ایک Dummy account createکیا انڈین یوزر کا Experienceمعلوم کرنے کے لئے۔ اس اکاونٹ میں خود سے کوئی فرینڈز نہیں تھے نہ ہی کوئی Prefrences set کی گئی تھیں تاکہ پتہ لگایا جا سکے کہ فیس بک خود سے اس اکاونٹ کو کیا Recommendکرتی ہے۔ اور تین ہفتوں تک اس اکاونٹ کی ٹائم لائن پرجو کچھ سامنے آیا وہ کافی حیران کن تھا۔ اس اکاونٹ کی ٹائم لائن پر جو کچھ فیس بک الگورتھم کی وجہ سے Recommend کیا گیا اس میں زیادہ تر فیک نیوز، اشتعال دلانے والا اور نفرت پھیلانے والاContentتھا۔ یہاں تک کہ مرے ہوئے لوگوں کی ایسی تصاویر بھی تھیں جن کے سر تن سے جدا تھے خون خرابہ ہوا ہوا تھا اس کے علاوہ پورن مٹیریل بھی دکھایا جا رہا تھا۔ یہ اکونٹ ان دنوں میں بنایا گیا تھا جب پلوامہ حملہ ہوا تھا تو اس انڈین یوزر اکاونٹ کو وہ فیک نیوز اور Images
    دکھائے جا رہے تھے جو کہ پاکستان کے خلاف تھے۔ ایسی پوسٹ تھیں جن میں پاکستانی عوام کو گندی گالیاں دی گئیں تھیں۔

    فیس بک کی طرف سے کہا گیا کہ انھون نے اس ریسرچ ٹیسٹ کے بعد اپنے الگورتھم میں کافی تبدیلیاں کی تھیں۔ یہ بات ایک حد تک تو درست ہے کہ فیس بک نے تبدیلیاں کیں فیک نیوز کو کاونٹر کرنے کے لئے کافی بجٹ خرچ کیا گیا لیکن اس میں بھی فیس بک نے Fair dealنہیں کی۔ فیک نیوز کے خلاف جتنا بجٹ تھا اس کا 87%تو صرف امریکہ پر خرچ کر دیا گیا باقی کا
    13%دوسرے تمام ممالک پر خرچ کیا گیا۔ اور دوسری بات یہ کہ ہندی اور بنگالی کے خلاف فیس بک کی طرف سے Classifiersبھی نہیں Createکئے گئے جو کہ ان زبانوں میں فیک نیوز کو
    Detectکرسکیں۔ ان میں سے کچھ الگورتھم اب دو ہزار اکیس میں بنائے گئے ہیں لیکن یہ ابھی بھی مکمل نہیں ہیں کیونکہ انڈیا میں فیس بک بیس زبانوں میں استعمال کی جاتی ہے اور
    Classifiersصرف پانچ زبانوں کے موجود ہیں۔ جس کا انھوں نے یہ حل نکالا کہ پندرہ ہزار لوگوں کی ٹیم بنا دی جو خود سے فیس بک پوسٹس کو چیک کرتے ہیں کہ کہیں یہ فیک نیوز تو نہیں ہے یا پھر Hate speech and voilenceتو نہیں پھیلا رہے۔ اور یہ ہی فیس بک کا وہ کام ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ انڈیا کیسے فیس بک کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے اور فیس بک ایسا ہونے بھی دے رہا ہے۔ کیونکہ ان کی یہ ٹیم ان پوسٹس کو فلیگ ہی نہیں کرتی جو کہ آر ایس ایس بجرنگ دل اور بی جے پی کی طرف سے کی جاتی ہیں جو کہ زیادہ تر پاکستان کے خلاف ہوتی ہیں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلاتی ہیں۔ اور اس کی وجہ Political senstivitiesبتائی جاتی ہیں یعنی اگر فیس بک نے ان گروپس کی پوسٹس ہٹائیں تو انڈین حکومت کی طرف سے ان پر پابندیاں لگ جائیں گی اور ان کا بزنس متاثر ہو گا۔ اس پر انٹرنیشنل میڈیا میں بھی کئی آرٹیکلز لکھے گئے جس میں انڈیا اور فیس بک کی اس ملی بھگت اور دو نمبری کو ایکسپوز کیا گیا لیکن آج تک اس کا کوئی حل نہیں ہو سکا کیونکہ فیس بک کے لئے بات پیسے اور بزنس کی ہے اور مودی سرکار ویسے ہی پاکستان کے خلاف کسی حد تک بھی جا سکتی ہے۔

    اور صرف پاکستان ہی نہیں مودی سرکار اور انڈیا میں موجود دوسری انتہا پسند تنظیمیں انڈین مسلمانوں اور دوسری اکثریتوں کے بھی خلاف ہیں وہ انڈیا کو صرف ہندو دیش بنانا چاہتے ہیں۔
    اور اب انتہا پسندوں کی ایک کی اور کارستانی بھی آپ کو بتاتا چلوں کہ یہ انتہا پسند اس قدر بے لگام ہو چکے ہیں کہ اب کوئی ان کی اجازت کے بغیرانڈیا میں بریانی بھی نہیں بیچ سکتا۔ سوشل میڈیا پر اس کی ویڈیو وائرل ہورہی ہے کہ کیسے نئی دلی میں ایک ہندو انتہا پسند شخص بریانی بیچنے والے کو دکان بند کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ نئی دہلی میں سانت نگر کا علاقہ ہے جہاں یہ واقعہ ہوا۔ اس انتہا پسند شخص کا نام نریش کمار سوریاونشی ہے جو خود کو انتہا پسند بجرنگ دل کا کارکن بتا رہا ہے۔ اور یہ شخص بریانی بیچنے والے سے کہتا ہے کہ یہ ہندوؤں کا علاقہ ہے اس کی ہمت کیسے ہوئی کہ وہ یہاں بریانی بیچے اور ساتھ ہی اسے دکان بند کرنے کی بھی دھمکی دیتا ہے گالیاں بھی دیں اور کہا کہ تم نے دکان کیسے کھولی؟ کس نے تمھیں اس کی اجازت دی؟ کیا تم نہیں جانتے کہ ہندوؤں کا علاقہ ہے؟ اس نے یہ بھی کہا کہ ’آج دیوالی ہے، اس دکان کو بند کرو، تم کیا سوچ رہے ہو؟ کیا یہ تمھارا علاقہ ہے؟ کیا یہ جامع مسجد ہے؟ یہ مکمل طور پر ہندوؤں کا علاقہ ہے۔ جس کے بعد دکان میں کام کرنے والے اس میں لگی میز اور کرسیاں اٹھاتے ہیں اور دکان بند کر دیتے ہیں۔

    ویسے تو انڈیا میں ایسی کارروائیاں نئی بات نہیں بلکہ روز کا معمول بن چکی ہیں لیکن اس دیوالی پرایسے واقعات کچھ زیادہ ہی ہوئے ہیں۔ پہلے ویرات کوہلی نے کہہ دیا کہ وہ دیوالی منانے کی کچھ ٹپس شیئر کرنا چاہتے ہیں تو اس کو ٹرول کیا گیا۔ پھر فیب انڈیا کو ان کی جشن ریواز کے نام سے لانچ کی گئی دیوالی کی نئی کولیکشن کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا کہ ہندو تہوار کے لئے اردو نام کیوں؟ پھر عامر خان کو ٹرول کیا گیا ان کے اشتہار کی وجہ سے جس میں عامر خان نے یہ کہا کہ پٹاخے سوسائٹی میں بجائیں سڑکوں پر نہیں۔ لیکن ان کو یہ کہہ کر ٹرول کیا گیا کہ مسلمان سڑک پر نماز پڑھیں تو وہ نہیں بولتے پٹاخے سڑکوں پر کیوں بج رہے ہیں بس یہی نظر آتا ہے۔ اور اس کے بعد اب بریانی والی ویڈیو یعنی اب کپڑوں، زبان اور کھانوں پر بھی مذہب کے ٹیگ لگائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی ایسی مثالیں آئے دن سوشل میڈیا پر نظر آتی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ سکھوں اور عیسائیوں کے ساتھ بھی انڈیا میں نفرت انگیز سلوک بڑھتا جا رہا ہے۔ جس پر کسی عالمی برادری اور انسانی حقوق کے ادارے کی توجہ نہیں ہے انہوں نے اپنی آنکھیں مکمل طور پر بند کر رکھی ہیں لیکن اگر مودی سرکار اسی طرح نفرت پھیلنے دیتی رہی تو ایک دن آئے گا جب پوری دنیا کو یہ سب دیکھنا بھی پڑے گا اور مودی سراکر سے اس کا جواب بھی مانگنا ہو گا۔

  • مودی سرکار نے ہالی ووڈ پر راج کرنیوالے خانز کو نشانہ بنا لیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    مودی سرکار نے ہالی ووڈ پر راج کرنیوالے خانز کو نشانہ بنا لیا، تحریر: عفیفہ راؤ

    اپنے کالے کرتوت اور ناکامیاں چھپانے کے لیے مودی سرکار ہمیشہ سے مسلمانوں کو نشانے پر رکھتی آئی ہے۔ اور اس بار بی جے پی کے نشانے پر بالی ووڈ پر راج کرنے والے خانز اور ان کی فیملیز ہیں۔ آپ کو یاد ہو گا جب آریان خان کا کیس شروع ہوا تھا تو میں نے آپ کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ اس کیس میں کچھ بھی نہیں ہے یہ کیس صرف مودی سرکار کی مسلمانوں کے خلاف جو نفرت ہے اس کی تسکین کے لئے بنایا گیا ہے اوریاد کریں میں نے آپ کو یہ بھی بتا دیا تھا کہ شاہ رخ خان کے بعد اب باقی خانز اور ان کے بچوں کی بھی باری آنے والی ہے۔ اور صرف پاکستان میں ہی یہ ڈسکس نہیں ہو رہا تھا بلکہ خود انڈینز بھی یہی کہہ رہے تھےجس کی ایک مثال بھارتی اداکار اور فلمی ناقد کمال راشد خان یعنی کے آر کے کی ٹوئیٹس بھی ہیں جس میں انہوں نے دعوی کیا تھا کہ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اپنا اگلا شکار بالی وڈ کے دو مزید خانز کو بنانے والی ہے۔ ان کی اطلاعات کے مطابق بالی وڈ کے مزید 2 خان بی جے پی کی ہٹ لسٹ میں ہیں۔ اور وہ ستارے بی جے پی کا اگلا ہدف ہوسکتے ہیں جن پر پہلے ہی کچھ کیسز ہیں۔

    کمال راشد خان نے یہ بھی دعوی کیا تھا کہ آریان خان کی گرفتاری کے بعد شوبز انڈسٹری کی معروف شخصیات کے بچے ملک چھوڑنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ کیونکہ ان کے بچوں کا ماننا ہے کہ اگر آریان خان کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے تو کسی کے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ اور اب یہ سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور اس بار ٹرول ہونے والی اور کوئی نہیں سیف علی خان کی بیٹی سارہ علی خان ہیں۔ اور ان کو ایک بالکل نئے طریقے سے سازش کرکے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔ یہ کیا سازش ہے اس کے بارے میں تو میں آپ کو بتاوں گا ۔آپ کو معلوم ہی ہے کہ 90 کی دہائی سے اب تک بالی وڈ انڈسٹری پر خانز ہی راج کرتے آئے ہیں۔ کئی دوسرے فنکار بھی آئے اور گئے لیکن کوئی بھی وہ جگہ نہیں بنا سکا جو مقام خانز کو حاصل رہا ہے۔ اور خانز کی وجہ سے بالی وڈ کی فلمیں انڈیا سے نکل کر ساری دنیا میں پروموٹ ہونا شروع ہوئیں۔ جس کی وجہ سے بالی وڈ کا بزنس اتنا بڑھ گیا کہ پوری دنیا کو چکرا کر رکھ دیا۔لیکن انڈیا کو اتنی شہرت اور پیسہ کما کر دینے کے باوجود بھی مودی جیسے جنونی انسان کی نظر میں یہ خانز اپنی اہمیت نہ بنا سکے۔ ماضی میں جیسے سلمان خان پر کیسز بنتے رہے اس کو جیل کی سختیاں بھی برداشت کرنا پڑیں اور ابھی بھی کوئی نہ کوئی کیس اس پر چل ہی رہا ہے اس کی جان نہیں چھوڑی جا رہی کسی نہ کسی بات پر اس کے خلاف کوئی نہ کوئی Contrversyچلتی ہی رہتی ہے۔پھر عامرخان کو ہم نے دیکھا کہ جب ان کی فلمیں چین اور ترکی میں سپر ہٹ جا رہی تھیں تو انڈیا میں ان پر الزامات لگائے جا رہے تھے کہ یہ انڈیا کے دشمنوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اسی وجہ سے دشمن ممالک میں ان کی فلمیں اتنی زیادہ ہٹ ہو رہی ہیں۔ عامر خان کی شہرت ان کو بری لگ رہی تھی لیکن وہ پیسہ جو ان کی وجہ سے انڈیا آ رہا تھا وہ برا نہیں لگ رہا تھا اور یہ نفرت اس حد بڑھ گئی تھی کہ ان کی بیوی نے بھی یہ بیان دیا تھا کہ بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی وجہ سے انھیں اپنے بچوں کی حفاظت کا خدشہ ہے۔

    اور شاہ رخ خان جو کبھی کسی سکینڈل میں نہیں رہے کبھی کسی Controversyکا حصہ نہیں بنے ان کا کیرئیر ہمیشہ سے ہی بہت صاف ستھرا رہا ہے۔ لیکن جب مودی سرکaر ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکی تو انھوں نے ان کے بیٹے پر حملہ کر دیا اور جب وہ اس کے خلاف بھی منشیات کا کوئی ثبوت لانے میں کامیاب نہیں ہوئے تو اب این آئی اے کو ٹاسک دے دیا کہ کسی طرح آریان اور شاہ رخ دونوں کو کسی نئے شکنجے میں پھنسایا جائے شاہ رخ کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کی بھی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اور یہ معاملہ ابھی ٹھنڈا بھی نہیں ہوا کہ سیف علی خان کی بیٹی سارہ علی خان کو انڈین میڈیا اور سوشل میڈیا دونوں پر ہی بری طرح سے ٹرول کیا جا رہا ہے۔ویسے تو شاہ رخ کی طرح سیف علی خان کا بھی کیرئیر بھی ہمیشہ Controversiesسے دور ہی رہا ہے۔ لیکن کیونکہ اب ان دونوں خانز کے بچے بڑے ہو چکے ہیں تو دراصل بالی وڈ میں ہندوتوا سوچ رکھنے والے لوگوں کو یہ ڈر پڑ گیا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ ان خانز کے بعد ان کے بچے بالی وڈ پر اپنا راج قائم کر لیں اور پچھلے کئی سالوں سے انڈیا میں کیونکہ حکومت بھی بی جے پی جیسی انتہا پسند جماعت کی ہے تو ان خانز کو دبانے اور ان کو پریشان کرنے کے لئے اس سے زیادہ سنہری موقع اور کون سا ہو سکتا تھا۔اس لئے اب خانز کے بچوں کے خلاف سازشیں ہونا شروع ہو چکی ہیں۔ چند ہفتے پہلے سارہ علی خان کو اس لئے ٹرول کیا جاتا رہا کہ اس نے امیت شاہ کو سالگرہ کی کبارکباد دی تھی اس نے اپنے ٹوئیٹر اکاونٹ سے ٹوئیٹ کی تھی کہ Warmest birthday wishes and regards to the Hon’ble Union Home Minister Amit Shah ji۔۔جسے یہ رنگ دیا گیا کہ شاید اس نے این سی بی سے خود کو بچانے کے لئے اور امیت شاہ کی خوشامد کرنے کے لئے یہ ٹوئیٹ کی ہے۔ کیونکہ سوشانت سنگھ کی موت کے بعد سے ہی پورا بالی وڈ این سی بی کے ریڈار پر آیا ہوا ہے۔ان بالی وڈ سٹارز اور ان کی فیملیز کی کیونکہ آپس میں دوستیاں ہوتی ہیں تو مختلف کیسز میں این سی بی کا جب دل چاہتا ہے کسی نہ کسی سٹار کو اور اس کے دوستوں کو پکڑ کر انویسٹی گیشن میں شامل کر لیتی ہے اور جو ان کو مال کھلا دے تو اس کی جان چھٹ جاتی ہے ورنہ وہ این سی بی کے چکر ہی لگاتا رہتا ہے لیکن مسلمان سٹارز کے لئے تو مشکل یہ ہے کہ ان سے بھتہ بھی بہت زیادہ مانگا جاتا ہے اور بی جے پی کی نظر میں نمبر بنانے کے لئے ان کو لمبے عرصے تک ذلیل بھی کیا جاتا ہے۔

    خیر ابھی سارہ علی خان کی وہ ٹوئیٹ لوگوں کو بھولی بھی نہیں تھی اب اس نے جھانوی کپور جو کہ ماضی کی معروف اداکارہ سری دیوی کی بیٹی ہیں اس کے ساتھ کیدرناتھ مندر جانے کی خبر اور مندر میں بنائی گئیں مختلف تصویریں اپنے انسٹاگرام پر شئیر کیں تو سارہ علی خان پر پھر مختلف طرح کے طنز اور تانے شروع ہو گئے کہ کیا تم مسلمان ہو۔۔۔مسلمان ہوکر ایسا کام کرنے پر شرم آنی چاہیے استغفراللہ۔۔ڈرو خدا کو خوف کرو۔۔۔اور اس کو مندر جانے پر خوب ٹرول کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے پیچھے جو سازش ہو رہی ہے اب میں آپ کو وہ سمجھاتا ہوں اور سازش یہ ہے کہ سارہ علی خان پر زیادہ تر ان سوشل میڈیا اکاونٹس سے حملہ کیا جا رہا ہے جو کہ مسلمانوں کے نام سے بنائے گئے ہیں اور سارہ کے مذہب کو ہی اس میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حالانکہ میں آپ کوبتاوں کہ یہ سارے اکاونٹس بی جے پی اور آر ایس ایس کے اپنے سوشل میڈیا ونگز سے چلائے جا رہے ہیں۔اور اس کے پیچھے اصل مقصد مسلمانوں کو بدنام کرنا ہے۔ کیونکہ آریان کے کیس میں سب کھل کر سامنے آ چکا ہے کہ شاہ رخ خان کو صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے یہ سب برداشت کرنا پڑا ہے خود بالی وڈ کے ہندو لوگ اپنی ٹوئیٹس میں یہ بات کہہ چکی ہیں تو مودی سرکار کو محسوس ہوا کہ ان کا بھانڈا پھوٹ گیا ہے۔ اس لئے اب مسلمانوں کے نام سے بنائے گئے اکاونٹس سے اس طرح کے گندے ریمارکس دئیے جا رہے ہیں تاکہ پوری دنیا کے سامنے یہ دکھایا جائے کہ انڈیا میں مسلمانوں کے ساتھ زیادتی نہیں ہوتی بلکہ یہاں پر تو مسلمان خود بہت زیادہ مشتعل اور انتہا پسند ہیں اور وہ اپنے ساتھی مسلمانوں پر ہندووں کے ساتھ دوستی کی وجہ سے خود تنقید کرتے ہیں۔اس طرح یہ مسلمانوں کو بھی بدنام کرنے کے اپنے پراپیگنڈے میں کامیاب ہو رہے ہیں اور ساتھ ہی خانز کے بچوں کو ڈرانے اور دھمکانے میں بھی تاکہ وہ یہ سب حالات دیکھ کر انڈیا چھوڑ کر باہر چلے جائیں اور ان کے بالی وڈ میں سٹار بن کر آنے کے چانسز بھی ختم ہو جائیں

  • بغیر میک اپ دیکھ کا شوہر کا بیوی کو طلاق دینے کا فیصلہ

    بغیر میک اپ دیکھ کا شوہر کا بیوی کو طلاق دینے کا فیصلہ

    مصر:شوہر نے اپنی بیوی کو میک اپ کے بغیر دیکھ کر اسے طلاق دینے کا فیصلہ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : "گلف نیوز”کے مطابق دونوں کی ملاقات فیس بک پر ہوئی، مقامی میڈیا کے مطابق، ایک مصری شخص نے شادی کے صرف ایک ماہ بعد اپنی بیوی کو بغیر میک اپ کے دیکھنے پر فیملی کورٹ میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

    اس شخص نے عدالت کو بتایا کہ اسے تشویش شادی کے بعد پہلی صبح ہوئی جب اس نے اپنی بیوی کو پہلی باربغیر میک اپ کے دیکھا اس شخص کاکہنا تھا کہ میں شادی کے بعد پہلی صبح حیران رہ گیا کیونکہ میری بیوی ویسی نہیں لگی جس سے میں شادی سے پہلے ملا تھا۔

    کراچی: درندگی کی انتہا، ایک ہی خاندان کی3 لڑکیاں جنسی زیادتی کا شکار

    اس نے مزید کہا کہ مجھےمیری بیوی نے دھوکا دیا ہے کیونکہ وہ شادی سے پہلے میک اپ کرتی تھی لیکن شادی کے بعد میں نے اس کا اصلی چہرہ بغیر میک اپ کے دیکھا ، وہ بدصورت نظر آتی ہے۔

    شوہر نے عدالت کو بتایا کہ اس نے اپنی بیوی کی غیر دلکش شکل کو برداشت کرنے کی کوشش کی لیکن شادی کے ایک ماہ بعد تنگ آکر اس نے طلاق کے لیے درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا۔

    شخص نے بتایا کہ فیس بک پر خاتون ہمیشہ اپنی پرکشش تصاویر پوسٹ کرتی تھی ،چند بار اس کے ساتھ باہر جانے کے بعد بھی اس شخص نے اسے پرکشش پایا اور اس خاتون سے شادی کرنے کا فیصلہ کرلیا تاہم شادی کے ایک مہینے تک بیوی کو بغیر میک کے دیکھ ، دیکھ کروہ تنگ آگیا اور طلاق کیلئے عدالت میں درخواست دائر کردی۔

    کراچی: واش روم میں کیمروں کا مقصد کیا تھا؟ اسکول انتظامیہ کا موقف سامنے آ گیا

  • ظاہر جعفر کے ڈرامے، تحریر: عفیفہ راؤ

    ظاہر جعفر کے ڈرامے، تحریر: عفیفہ راؤ

    رندے ظاہر جعفر نے آج عدالت میں کافی تماشا کیا اور جتنی عدالت اور جج صاحب کی توہین آج اس نے عدالت میں کھڑے ہو کر کی ہے اس کی آج سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ ویسے تو جب پولیس درندے ظاہر جعفر کو گرفتار کرنے اس کے گھر پہنچی تھی تب سے لیکر۔۔ اس کے بعد جب بھی اس کو عدالت میں پیش کیا جاتا رہا تب بھی وہ ہمیشہ ہی کوئی نہ کوئی ڈرامہ کرتا ہے۔
    یاد کریں پہلے اس نے پولیس کے سامنے موقع واردات پر نور کی لاش کو کہنا شروع کر دیا تھا کہ یہ کوئی انسان نہیں بلکہ گڑیا ہے۔ اور اس طرح کی ایکٹنگ کر رہا تھا جیسے وہ کوئی ذہنی مریض ہے۔ پھر عدالت میں بھی پہلے یہ صرف انگریزی بول کر ڈرامہ کرتا تھا پھر چند دن جیل کی ہوا کھا کر اس کو اردو بھی آ گئی تھی۔ بار بار اجازت کے بغیر یہ عدالت میں بولنے کی بھی کوشش کرتا تھا۔ جب اس حرکت پر ایک دو بار اسے عدالت سے باہر نکالا گیا تو اس نے عدالت میں اور راستے میں آتے جاتے بڑبڑانا شروع کر دیا تھا۔۔ اور تو اور ایک بار تو جج صاحب کو اس نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ مجھے بتائیں کہ مزید کتنے دن لگیں گے فیصلہ ہونے میں۔۔۔ پھر کبھی یہ عدالت کے سامنے ایمبسی والوں کی بات کر کے اپنے فارن نیشنل ہونے کا رعب جمانے کی کوشش کرتا تھا۔ اور تو اور یہ بھی فرمائش کی گئی تھی کہ معافی دے دیں یا پھانسی دے دیں میں جیل میں نہیں رہ سکتا۔۔ قیدیوں کے ساتھ بھی اس کی لڑائیاں ہو چکی ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ہر وہ عجیب حرکت جیل اور عدالت میں کی ہے جو آج سے پہلے تو سننے میں کبھی نہیں آئیں۔

    لیکن آج کی سماعت میں تو اس نے پچھلی تمام حدیں ہی پار کر دیں۔آج جب کیس کی عدالتی کارروائی شروع ہوئی تو تین سرکاری گواہان کو گواہی دینے کے لیے عدالت میں طلب کیا گیا تھا۔ایک سرکاری گواہ عامر شہزاد جو کہ ایک نقشہ نویس ہے جب اس نے جائے وقوعہ کی تفصیلات بتانا شروع کیں تو ظاہر جعفر نے اچانک ہی بغیر کسی اجازت کے بولنا شروع کر دیا۔ اور جب جج صاحب نے اسے خاموش رہ کر کارروائی کا حصہ بننے کا کہا تو اس نے اونچی آواز میں کہا کہ یہ میری کورٹ ہے اور میں نے بات کرنی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ آج عدالت میں یہ کسی حمزہ نامی شخص کا نام بھی لیتا رہا کہ میں نے حمزہ کو عدالت میں بلانا ہے۔ خیر آگے چل کر جب درندے کی سائیڈ کے گواہوں کے بیانات قلمنبد کروانے کا وقت آئے گا تو ہو سکتا ہے کہ پتہ چل ہی جائے کہ یہ حمزہ کون ہے اور اس کا اس کیس سے کیا تعلق ہے۔ اس دوران جج صاحب نے درندے ظاہر جعفر کے وکیل اکرم قریشی سے پوچھا کہ کیا ظاہر جعفر کی آج کی کارروائی میں ضرورت ہے جس پر انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کی ضرورت نہیں ہے۔

    اس کے بعد عدالت نے نائب کورٹ کے ذریعے جب درندے ظاہر جعفر کو کمرہ عدالت سے باہر لے جانے کا کہا تو عصمت آدم جی کے وکیل اسد جمال نے درندے کے کان میں کچھ کہا جس کے بعد ظاہر جعفر خاموش ہو کر کھڑا ہو گیا اور کمرہ عدالت کے دروازے کے ساتھ لگ کر عدالتی کارروائی کو سنتا رہا۔کچھ دیر تو ظاہر جعفر نے عدالتی کارروائی کو خاموشی سے سنا لیکن اس کے بعد آج پھر اس کو اپنی انگریزی یاد آ گئی اور وہ انگریزی میں بولنا شروع ہو گیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ میں نے اپنی زندگی میں اتنے نااہل افراد نہیں دیکھے جتنے اس کمرے میں موجود ہیں۔ اور بار بار یہی دہراتا رہا کہ یہ میرا کورٹ ہے مجھے اور میری فیملی کو بتایا جائے کہ کیا ٹرائل چل رہا ہے۔ میں اور میری فیملی انتظار کر رہے ہیں کہ آخر آپ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ایڈشنل سیشن جج عطا ربانی نے پھر اسے بولنے سے روکا جس کے کچھ دیر بعد ظاہر جعفر نے کمرہ عدالت میں لگے پردے کو پہلے تو اوپر سے نیچے تک دیکھا اور پھر اونچی آواز میں بولا کہ پردے کے پیچھے کیا ہے؟جج عطا ربانی جو کافی دیر سے درندے کی ان تمام فضول حرکتوں کو برداشت کر رہے تھے آخر ان کا صبر جواب دے گیا اور انھوں نے ریمارکس دیے کہ ملزم یہاں پر خبر بنانے کے چکروں میں ہے اور ڈرامے بازی کر رہا ہے۔ ظاہری سی بات ہے وہ ایک قابل اور تجربہ کار جج ہیں روزانہ اتنے ملزمان کو دیکھتے ہیں ان سے زیادہ کون پہچان سکتا ہے کہ یہ درندہ اب ڈرامہ کرکے دراصل کیا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔

    جس کے بعد پھر بھی برداشت اور صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے عطا ربانی صاحب نے سکیورٹی پر مامور پولیس انسپکٹر کو حکم دیا کہ ملزم کو آرام سے کمرہ عدالت سے باہر لے جائیں۔
    لیکن جب پولیس انسپکٹر مصطفی کیانی نے ظاہر جعفر کو ہاتھ سے پکڑ کر کمرہ عدالت سے باہر لے کر جانے کی کوشش کی توآج درندے نے عدالت میں ہی اپنی درندگی دکھانی شروع کر دی۔ پولیس انسپکٹر سے جھگڑا شروع کر دیا یہاں تک کہ پولیس افسر کا گریبان بھی پکڑ لیا اور درندے کی اس حرکت کے بارے میں۔۔ میں آپ کو بتاوں کہ یہ قانونا جرم ہے کہ آپ کسی سرکاری اہلکار کو آن ڈیوٹی یونیفارم میں اس کے گریبان پر ہاتھ ڈالیں اگر اس نقطے کو اٹھایا جائے تو اس پر بھی اس درندے کی سزا بنتی ہے لیکن خیر ایسی چھوٹی موٹی سزا کا کوئی فائدہ نہیں اس کی اصل سزا تو یہی ہو گی کہ پوری قوم اس کو پھانسی کے تختے پر لٹکا ہو دیکھے۔خیر پولیس سے ظاہر جعفر کی لڑائی پر عدالت میں افراتفری مچ گئی دوسرے پولیس والے اپنے ساتھی کی مدد کرنے آگئے لیکن ظاہر جعفر اتناvoilentہوا ہوا تھا کہ وہ تین چار پولیس والوں سے تو قابو ہی نہیں ہو رہا تھا اس لئے وہاں مزید نفری بلانا پڑی اور اسے نہ صرف زبردستی کمرہ عدالت سے باہر نکالنا پڑا بلکہ باہر نکل کر بھی جب وہ قابو نہیں آ رہا تھا تو پولیس والوں کو اسے دونوں ٹانگوں اور دونوں بازوں سے پکڑ کربخشی خانے لے جانا پڑا۔لیکن اب میں آپ کو اندر کی بات بتاتا ہوں کہ پاکستان پینل کورٹ سیکشن 84کے مطابق اگر کوئی شخص پاگل ہے، نشہ کرتا ہے یا اگر اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے تو وہ جو Offenseکر رہا ہے وہ Considerنہیں کیا جاتا کیونکہ وہ ہوش و حواس میں نہیں ہوتا اور اسے پتہ ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ اور یہ بات درندہ اور اس کی فیملی بہت اچھے سے جانتے ہیں اس لئے وہ شروع دن سے ہی عجیب و غریب حرکتیں کر رہا ہے۔ اور عدالت کے سامنے بھی ڈرامہ کرنے کا یہی مقصد ہے کہ جب اس کے وکیل اپنے دلائل دیں تو اس سے پہلے ہی سب کے مائنڈ میں ہو کہ یہ درندہ تو پہلے بھی عجیب و غریب حرکتیں کرتا رہا ہے اس لئے شاید واقعی یہ ایک ذہنی مریض ہے اس طرح اس کو جیل سے رہائی بھی دلوانے کی کوشش کی جائے گی۔ اور صرف درندے کی حرکتیں ہی نہیں بلکہ اس کے ملازموں نے بھی جو 161کے بیانات ریکارڈ کروائے گئے ہیں ان میں بھی ایسی ہی باتیں کی گئیں ہیں کہ نور نے جب چھلانگ لگائی اور ظاہر اس کو پکڑنے اس کے پیچھے آیا تو ظاہر کی حالت ٹھیک نہیں تھی یہ بات ملازموں کے اپنے بیانات میں کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ جب درندے نے نور کو قتل کیا تو اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ اسی لئے جعفر فیملی جو اپنے بیٹے کے لئے وکیل نہیں کر رہے تھے انھوں نے اپنے ملازموں کو اتنے مہنگے مہنگے وکیل کرکے دئیے ہیں تاکہ ان کی Loyalityتبدیل نہ ہو جائے اور وہ ان کے بیٹے کے خلاف کوئی ایسا بیان نہ دے دیں جو اس کے خلاف استعمال ہو سکے۔

    اس مقدمے میں ابھی تک بارہ گواہوں کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں آج کی سماعت میں تین گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہونے تھے لیکن اس تمام بد تمیزی کی وجہ سے سماعت کو مختصر کرنا پڑا صرف نقشہ نویس عامر شہزاد کا ہی بیان ریکارڈ ہوا اور اس پر جراح کی گئی لیکن یہ جراح بھی ابھی نا مکمل ہے کیونکہ ذاکر جعفر کے وکیل بشارت اللہ جو کہ رضوان عباسی کی جگہ آئے ہیں وہ آج عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے اس لئے اب وہ عامر شہزاد سے اگلے سماعت پر جراح کریں گے جو کہ دس نومبر کو ہو گی۔ امید ہے کہ اگلی دو سماعتوں میں اگر کوئی بد نظمی نہ ہوئی تو تمام سرکاری گواہوں کے بیانات قلمبند ہو جائیں گے جس کے بعد دوسری پارٹی اپنے دفاع میں گواہ پیش کرے گی۔ایک اور اہم پوائنٹ اس تمام کاروائی میں یہ بھی ہے کہ عدالتی کاروائی میں دخل اندازی کا مقصد کیس کو لٹکانا بھی ہے تاکہ ٹرائل جلد پورا نہ ہو سکے۔ عام لوگ اور صحافی سب اس کیس کو فالو کرنا چھوڑ دیں اور پھر درندے کی فیملی اپنا اثر ورسوخ استعمال کرکے اپنے بیٹے کو ذہنی مریض ثابت کرتے ہوئے رہا کروا لیں۔ لیکن ایسا ہو گا نہیں نہ تو ہم اس کیس کو بھولیں گے نہ ہی لوگوں کو بھولنے دیں گے اور انشا اللہ اس درندے کا ایسا عبرتناک انجام ہوگا کہ اس خاندان کی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔

  • چمگادڑ نے سال کے ’بہترین پرندے‘ کا ایوارڈ اپنے نام کر لیا

    چمگادڑ نے سال کے ’بہترین پرندے‘ کا ایوارڈ اپنے نام کر لیا

    مقابلہ کروانے والے ادارے فوریسٹ اینڈ برڈ نے رواں ماہ چمگادڑ کو پرندوں کی فہرست میں شامل کر کے مقابلے کا پہلی بارحصہ بنایا اور لمبی دُم والے نایاب چمگاڈروں کو نیوزی لینڈ میں 2021 کے بہترین پرندے کا ایوارڈ دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق فوریسٹ اینڈ برڈ 17 سالوں سے یہ مقابلہ منعقد کر رہی ہے ، جس میں دنیا بھر سے ووٹنگ کے ذریعے بہترین پرندے کا انتخاب کیا جاتا ہے پرندوں کے مقابلے کے لیے ووٹنگ اتوار کی رات کو بند ہوئی فوریسٹ اینڈ برڈ کی لسی فینکر ہیتھر نے ریڈیو نیوزی لینڈ سے پیر کو بات کرتے ہوئے مقابلے کی جیت کا اعلان کیا۔

    58 ہزار ووٹ موصول ہونے کے بعد ادارے کا کہنا تھا کہ اس بار مقابلے میں سب سے زیادہ ووٹ ڈالے گئے جس میں نایاب چمگادڑ کو 3000 ووٹوں سے برتری حاصل ہوئی۔

    ‘پیکا پیکا توُ روا’ نامی چمگادڑ نیوزی لینڈ میں پائے جانے والے چمگادڑوں کی دو اقسام میں سے ایک ہیں ان کا سائز انگوٹھے جتنا ہوتا ہے جب کہ پیدائش کے وقت ان کا سائز شہد کی مکھی جتنا ہوتا ہے چمگادڑ نیوزی لینڈ کا واحد آبائی زمینی ممالیہ ہے اور اسے قومی سطح پر اہم سمجھا جاتا ہے۔

    چمگادڑ کو پرندوں کے مقابلے میں جگہ دینے کی وجہ یہ تھی کہ چمگادڑ کو اسی طرح کے خطرات ہیں جو دیگر قومی پرندوں کو ہیں تو اس طرح لوگوں کو اس کے بارے میں آگاہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ان چمگادڑوں کی نسل کو چوہے، پوسمز، سٹوٹس اور بلیوں سے خطرہ ہے، جو ان کی آبادی کو ہر سال پانچ فیصد سے کم کر رہے ہیں اس مقابلے میں دوسرے نمبر پر دنیا کے واحد رات بھر جاگنے اور نہ اُڑنے والے طوطے، کاکاپو، کا نام آیا ہے-

  • خالصتان بن کر رہے گا، تحریر: نوید شیخ

    خالصتان بن کر رہے گا، تحریر: نوید شیخ

    خالصتان بن کر رہے گا، تحریر: نوید شیخ

    بھارت کی مصیبتوں میں بڑی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور اس کی سب سےبڑی وجہ مودی ہے ۔ بی جے پی کے کرتوں ہیں ۔ ان کے اقلیتوں کے خلاف اقدامات ہیں ۔ سکھوں اور خالصتان پر میں نے بہت سے وی لاگز کیے ہیں مگر آج وہ دن آ گیا ہے کہ اب سکھوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ مزید بھارت کے ساتھ نہیں رہا جاسکتا ۔ اس سلسلے میں سکھوں کے علیحدہ وطن خالصتان کے قیام کیلئے لندن میں ریفرنڈم پر ووٹنگ ہوئی۔ مزے کی بات ہے کہ یہ ووٹنگ سرکاری عمارت کوئن ایلزبتھ دوئم میں ہوئی ۔ سرکاری عمارت کوئین ایلزبیتھ 2پر خالصتان کے جھنڈے بھی لگائے گئے ۔ اب لندن کے بعد برطانیہ کے دیگرشہروں میں بھی ووٹنگ ہوگی ۔

    سکھ رہنماؤں کا کہنا ہےکہ بھارتی دباؤ کے باوجود برطانوی حکومت نے ریفرنڈم کی اجازت دی جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔ سکھ رہنما پرم جیت سنگھ کا کہنا تھا کہ ریفرنڈم کی نگرانی غیر جانبدار کمیشن کر رہا ہے جبکہ سکھ رہنما پتوت سنگھ نے الزام عائد کیا کہ بھارتی حکومت نے ریفرنڈم سے روکنے کیلئے مجھ پر جعلی مقدمات بنوائے۔ پھر سردار اوتار سنگھ کا کہنا ہے کہ بھارت نے پنجاب پر قبضہ کر رکھا ہے اب سکھ اب اپنا آزاد وطن خالصتان بنا کر دم لیں گے۔۔ 50 ہزار سے زائد سکھوں نے اس ریفرنڈم میں حصہ لیا ہے ۔ یاد رکھیں یہ صرف لندن میں ہوئے ہیں ۔ برطانیہ کے باقی شہروں میں ابھی یہ ہونے ہیں ۔ تو ایک شہر کے حوالے سے اچھی خاصی تعداد ہے ۔ جس کے بعد اجیت ڈول اور مودی دونوں کے لیے یقیناً ڈوب مرنے کا مقام ہے ۔ آپ دیکھیں سکھوں کی آزادی کے سلسلے میں کینیڈا کی حکومت نرم رویہ رکھتی ہے۔ کینیڈا میں حالیہ منعقد ہونے والے عام انتخابات میں جہاں justin treudu کو کامیابی نصیب ہوئی وہاں اس دفعہ سکھوں کی کافی تعداد کینیڈا کی قومی اسمبلی کی ممبر منتخب ہوئی ہے۔ justin treudu کو اپنی حکومت بنانے کے لیے سکھوں سے مدد بھی لینا پڑی۔۔ ویسے justin treudu تو پہلے ہی سکھوں کے حق میں ہیں جس سے بھارتی حکومت ان سے سخت ناراض ہے مگر وہ بھارت کی پرواہ نہیں کرتے۔

    ۔ بھارت کے بعد برطانیہ ، کینڈا اور امریکہ میں سکھوں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے اور یہ زیادہ تر وہ لوگ ہیں جب آپریشن بلیو سٹار ہوا تھا تو یہ سکھ بھارت کو خیر آباد کہہ کر ان ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے ۔ پر وقت کے ساتھ ساتھ یہ اپنی خالصتان تحریک کو مضبوط بھی کرتے آئے ہیں اور اس کے لیے مسلسل کام بھی کرتے رہے ہیں ۔ چند روز پہلے خالصتان تحریک نے اپنا نقشہ بھی جاری کیا تھا ۔ اس کی بھی بھارت کو کافی مرچیں لگی تھیں ۔ آج صورتحال یہ ہے کہ کسی بھی مغربی ملک میں ۔۔ را ۔۔۔ کی سب سے بڑی موجودگی کینیڈا میں ہی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ بھارت کی سکھوں والی سٹیٹس نہ صرف پورے بھارت کے لئے غلہ پیدا کرتی ہیں بلکہ بھارتی فوج کیلئے سپاہیوں کی بھرتی کا سب سے بڑا مرکز بھی یہی اسٹیٹس ہیں۔۔ ان سٹیٹس کے ستر فیصد سے زائد نوجوان فوج کو جوائن کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس وقت سکھ انڈین آرمی کا پندرہ فیصد ہیں جبکہ مودی کا گجرات انڈین آرمی کو صرف دو فیصد جوان ہی دے پاتا ہے۔ یوں بھارت کی معیشت اور دفاع دونوں میں سکھ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا ۔۔۔ را ۔۔۔ کو خالصتان کے حوالے سے بہت زیادہ سرگرم رہنا پڑتا ہے۔ پھر سینتیس برس پہلے آج کے دن بھارت بھر میں سکھوں کی تاریخ کی سب سے بڑی نسل کشی ہوئی تھی ۔ 31 اکتوبر 1984 کو انڈین وزیر اعظم اندرا گاندھی اپنے دو سکھ محافظوں ستونت سنگھ اور بے انت سنگھ کے ہاتھوں قتل ہو گئیں۔ اس قتل کے فوراً بعد دہلی میں سکھ قوم کے خلاف جنونی ہندوؤں نے ایک قیامت برپا کر دی اور صرف تین دن کے اندر چھ ہزار سے زیادہ سکھ خواتین اور بچوں کو زندہ جلا دیا۔ اس وقت کے مرکزی وزراء جگدیش ، ایچ کے ایل بھگت اور سجن کمار سمیت بہت سے حکومتی رہنماؤں نے بذاتِ خود سکھوں کی نسل کشی کے عمل میں حصہ لیا اور پورے بھارت میں سکھوں کی جان و مال اس قدر غیر محفوظ ہو گئیں کہ ’’خشونت سنگھ‘‘ اور جنرل ’’جگجیت سنگھ اروڑا‘‘ کی سطح کے سکھوں کو بھی اپنی جان بچانے کیلئے غیر ملکی سفارت خانے میں پناہ لینی پڑی مگر بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی نے ان ہزاروں سکھ خواتین اور بچوں کے قتلِ عام کو جائز ٹھہراتے یہاں تک کہا کہ جب کسی بڑے درخت کو کاٹ کر گرایا جاتا ہے تو اس کی دھمک سے ارد گرد کی زمین میں کچھ تو ارتعاش پیدا ہوتا ہی ہے اور درخت کی زد میں آنے والی گھاس پھوس ختم ہو جاتی ہے۔ دنیا بھر میں رہنے والے سکھوں نے اس بھارتی بربریت کو فراموش نہیں کیا اور امریکہ میں قائم سکھ حقوق کی تنظیم ’’Sikhs For Justice‘‘ نے 31 اکتوبر 2013 کو مسز گاندھی کے قتل کی برسی کے موقع پر دس لاکھ سکھوں کے دستخطوں پر مبنی رٹ پٹیشن اقوامِ متحدہ کے ادارے UNHRC میں داخل کرائی جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کے ہاتھوں ہونے والے سکھوں کے قتلِ عام کو عالمی سطح پر سکھوں کی نسل کشی ڈکلیئر کیا جائے۔

    ۔ دیکھا جائے تو سکھ کسانوں کے خلاف جو مودی نے محاذ گرم کیا ہوا ہے وہ بھی اس بات کی کڑی ہے کہ مودی چاہتا ہے کہ کسی طرح سکھوں کو کمزور کیا جائے ۔ تاکہ یہ خالصتان کا نام نہ لیں سکیں ۔ مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے یہ تو ہو کر رہنا ہے ۔ کیونکہ جو ظلم اندرا گاندھی اور اسکے بعد آنے والوں نے سکھوں پر روا رکھا ہے ۔ اس کا کفراہ تو ادا کرنا ہی پڑے گا ۔۔ پھر جو پاکستان نے کرکٹ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کو پچھاڑا ہے اس کے بعد بھارت میں اس ہار کا بدلہ کشمیریوں اور باقی مسلمانوں سے تو لیا جا رہا ہے۔ ۔ پر بھارت کے لیے اصل درد سر سکھ بھی بنے ہوئے ہیں ۔ کیونکہ پاکستان کی اس فتح پر اس دفعہ بھارتی سکھوں نے بھی شاندار جشن منایا ہے۔ سکھ اب کھلے عام پاکستان کی تعریفیں کرتے نظر آتے ہیں ۔ وہ دراصل بھارتی حکومت کی سکھ کش پالیسیوں سے بیزار ہیں۔ سکھ کسان اپنے جائز مطالبات منوانے کے لیے ایک سال سے مسلسل دلی کے اردگرد مظاہرے کر رہے ہیں مگر مودی حکومت ان کے مطالبات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ مظاہرہ کرنے والے کئی سکھوں کو قتل کردیا گیا ہے۔۔ بی جے پی کے ایک رہنما کے بیٹے نے جان بوجھ کر کئی مظاہرین کو اپنی گاڑی سے کچل دیا تھا اس واقعے کو اب ایک ماہ ہو رہا ہے مگر اب تک قاتل کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی ۔ سکھ دراصل آزادی کے بعد سے ہی بھارت کے خلاف چلے آ رہے ہیں جس کی وجہ ان کے ساتھ نا انصافی اور حق تلفی کا ہونا ہے۔ آزادی سے قبل گاندھی اور نہرو نے واضح طور پر ان کے لیے خالصتان کے نام سے ایک آزاد اور خود مختار ملک قائم کرنے کا وعدہ کیا تھا مگر بعد میں وہ اس سے مکرگئے اور اب خالصتان کا نام لینا بھی جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ تاہم سکھ اپنے آزاد وطن کے لیے ماضی میں بھی کوشش کرتے رہے ہیں اور آج بھی وہ اس سلسلے میں سرگرم ہیں۔

    ۔ آزاد خالصتان کا نعرہ بلند کرنے پر ہی بھنڈرا والا اور اس کے ساتھیوں کو امرت سر کے گولڈن ٹیمپل میں ٹینکوں سے حملہ کرکے ہلاک کردیا گیا تھا اور گولڈن ٹیمپل کے تقدس کو نقصان پہنچایا تھا۔ سکھ اس قتل عام کو نہیں بھولے ہیں۔ اب سکھوں نے بھارتی پنجاب ، ہماچل پردیش اور ہریانہ پر مشتمل اپنے آزاد وطن خالصتان کو قائم کرنے کے لیے پھر سے جدوجہد شروع کردی ہے۔ خالصتان کی تحریک اڑتیس سال سے جاری ہے۔ اور اب اس نے وہ رفتار پکڑ لی ہے جس کے بعد کامیابی ان کا مقدر ٹھہرے گی ۔ میں ایک بات جانتا ہوں کہ اگر خالصتان واقعی وجود میں آگیا تو کشمیر کا مسئلہ خود بخود حل ہو جائے گا۔ اس لیے پاکستان کو بطور ریاست سکھوں کی اخلاقی ، قانونی اور ہر طرح کی مدد کرنی چاہیئے ۔ اور اس سلسلے میں کسی بھی پریشر کا سامنا نہیں کرنا چاہیئے یہ وہ وقت جب پاکستان کو کشمیر کی طرح خالصتان پر بھی واضح موقف لینے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ سکھ ہمارے بھائی ہیں ۔ ہماری زبان بولتے ہیں ۔ ان کا کلچر اور ہمارا کلچر سب سے زیادہ قریب ہے ۔ یہاں تک ہمارے دریا اور ندیاں بھی ایک ہیں ۔