Baaghi TV

Category: متفرق

  • کیا ہم تیار ہیں; تحریر فرازرؤف 

    انسان کی تاریخ جنگوں اور لڑائیوں سے بھری پڑی ہے کبھی یہ جنگ علاقہ پر قبضہ کرنے کے لئے کی گی اور کبھی مزہب کے نام پر، فوجیں ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتیں جو فوج تعداد میں زیادہ ہوتی وہ جیت جایا کرتی تھی۔

    پھر جنگوں میں جدید ہتھیار اہم ہو گئے اور ٹیکنالوجی سب پہ حاوی ہونے لگی۔ ہتھیاروں کی دوڑ کے بعد معیشت زیادہ اہم ہوئی۔ یہ سب اصطلاح کے مطابق فرسٹ جنریشن وار فیئر، سیکنڈ جنریشن وارفیئر ، تھرڈ جنریشن وار فیئر تھے۔ فورتھ جنریشن وار فیئر میں دہشت گردی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ مختلف ممالک میں دہشت گرد تنظیمیںپیدا ہوئیں یا کی گئیں اور انہیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا۔ کچھ جگہوں پر کمزور معیشت کمزور عسکری قوت ہونے کے بعد بھی کامیابی نہ ملتی تھی اس میں قومی یکجہتی حائل ہو جاتی تھی، یکجہتی کو ختم کرنے کے لیے ففتھ جنریشن وار فیئر کی اصطلاح نکالی گئی جس سے ملکوں میں افراتفری پھیلائی جاتی اور انہیں مذہبی ثقافتی بنیادوں پر لڑایا جاتا اور ان کی قومی یکجہتی کو ختم کیا جاتا۔

    ففتھ جنریشن وار ایک خاص قسم کی جنگ ہے ، جسے آج کل کی جنگوں کا طریقہ کار بھی کہتے ہیں۔ بڑی طاقتوں کو کھلی جنگ میں سیاسی طور پر بہت مزاحمت اور سفارتی سطح پر بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔جسکی مثالیں عراق اور افغانستان ہیں جہاں انہوں نے کھلی جنگیں کیں مگر ففتھ جنریشن وار میں کسی بھی ملک کو معاشی طورپر تباہ کرنا ،سفارتی سطح پر تنہا کرنا ،سیاسی طور پر دنیا میں بدنام کرنا ،دوسروں کی نظر میں گرانا ،میڈیا اور کسی حد تک ملٹری ، انٹیلی جنس آپریشن شامل ہیں پھر فالس فلیگ آپریشنز کیے جاتے ہیں جن میں کوئی چھوٹی موٹی کارروائی کر کے دوسروں کے نام لگا دی جاتی ہے۔ یہ خاص طور پر پاکستان اور افغانستان کے سلسلے میں ہورہا ہے ۔پاکستان میں واردات ہندوستان کرتاہے اور نام افغانستان کا لگا دیاجاتاہے

    یہ ایسی خطرناک سٹریٹجی ہے جو  آپ کو چاروں طرف سے جکڑ لیتی ہے، اس کو ففتھ جنریشن وار کہا جاتا ہے، اس کے اندر میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا بہت اہم کردارا دا کرتاہے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کچھ عرصہ پہلے واضح انداز میں کہا تھا کہ ہائبرڈ وار فیئر کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان کو مکمل طور پر تیار رہنا چاہئے اور ففتھ جنریشن وار جو بھارت کے ساتھ دیگر ممالک پاکستان پر لانچ کیے ہوئے ہیں۔ بھارت اپنے مذموم عزائم اور خطرناک منصوبوں کے ذریعے خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں دھشت گردی کرنے کے ساتھ ساتھ لسانی، علاقائی اور سیاسی اختلافات کو ہوا دینے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے جبکہ سی پیک کو محور و مرکز بنا کر اب اس کا اگلا ٹارگٹ گلگت بلتستان ہے اس وقت ہمیں ناصرف بے حد محتاط رہنا ہوگا بلکہ پاکستان کے باشعور عوام کو ارد گرد کے ماحول پر نگاہ رکھتے ہوئے اپنے ملی و قومی بیداری کے کردار کو بھرپور طور پرانجام دینا ہوگا۔

    دشمن تو ہمیشہ باہر سے وار کرتا رہے گا لیکن اندر سے وار کرنے کے لیے دشمن کو اندر سے مدد چاہیے ہوتی ہے بدقسمتی سے پاکستان میں کچھ عناصر موجود ہیں جو لسانی اور مذہبی بنیادوں پر اندر سے لوگوں کو تقسیم کرنے میں لگے ہیں ہر روز ایک نیا فتنہ پیدا کیا جاتا ہے اور اس فتنے کے ختم ہونے کے بعد پھر ایک نیا فتنہ کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ اس فتنے کو پھیلانے میں پاکستان کا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    آج میں فخر سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے ملک میں موجود دفاعی ادارے اس پروپیگنڈا وار جسے  ففتھ جنریشن وار بھی کہا جاتا ہے کا مکمل ادراک رکھتے ہیں جس کی وضاحت آئی ایس پی آر کے سابقہ ڈی جی آصف غفور اپنی پریس کانفرنسیز میں کئی بار یہ بات کہہ چکے ہیں کہ ہم پر غیر اعلانیہ ففتھ جنریشن وار کا حملہ کیا جا چکا ہے جس کا پاکستان کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو مکمل ادراک ہے اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں ففتھ جنریشن وار کو مضبوط انداز میں لڑا اور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان نے اس جنگ میں بہتر انداز میں بھارت سے سبقت حاصل کی۔

    دشمن کے ارادوں کو جانے بغیر آپ اس سے سبقت حاصل نہیں کر سکتے، ہم نے دشمن کے عزائم کو جان کر ان سے بہتر تدبیر کی اسی لئے آج میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہاں ہم تیار تھے اور تیار ہیں۔ ہم اپنے بیرونی دشمنوں کو پہچانتے ہیں اب وقت آ چکا ہے کہ ہم اپنے اندرونی اختلافات اور خلفشار ختم کر دیں تاکہ ہم ایک قوم بن کر دشمن کے لیے ایک سیسہ پھلائی دیوار ثابت ہوں۔

    "پاکستان زندہ باد”

    Author: Faraz Rauf 

    Twitter ID: @farazrajpootpti

  • مادہ ہتھنیاں بغیر دانتوں کے کیوں پیدا ہو رہی ہیں حالیہ تحقیق میں انسانیت سوز انکشافات

    مادہ ہتھنیاں بغیر دانتوں کے کیوں پیدا ہو رہی ہیں حالیہ تحقیق میں انسانیت سوز انکشافات

    نیویارک: افریقی ہاتھیوں کی مادائیں اپنے خوبصورت دانتوں پر شکاریوں کے دباؤ کے تحت اب بغیر دانت کے پیدا ہورہی ہیں جس کے کئی شواہد ملے ہیں اور ان میں جینیاتی تبدیلی اور ارتقا کے مشاہدات بھی شامل ہیں حال ہی میں موزمبیق میں تحقیق کی گئی ہے-

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق 1977 میں اس خطے میں شدید خانہ جنگی شروع ہوئی جو 1992 تک جاری رہی دونوں اطراف کے دھڑوں نے جنگ کے دوران ہاتھی دانت کےلئے بے زبان جانوروں کو مارنا شروع کردیا ہاتھی جیسے حساس جانور نے اس دباؤ کو محسوس کیا اور بہت ہی جلد ان میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہوئیں کہ مادہ ہتھنیوں کے دانت غائب ہونے لگے ہیں گورونگوسا نیشنل پارک میں موجود ہاتھی اس کا ہدف بنے۔

    اس کے سب سے پہلے عکسی ثبوت تصاویر اور ویڈیو سے سامنے آئے جنہیں پرنسٹن یونیورسٹی شین کیمپبیل اسٹیٹن اور ان کے ساتھیوں نے دیکھا اور بتایا کہ اب 19 سے 15 فیصد مادہ ہاتھی بغیر دانتوں کے پیدا ہورہی ہیں۔

    میکسیکو کے ہد ہد سمیت جانوروں کی 23 اقسام دنیا سے ناپید

    شماریاتی تجزیہ بتاتا ہے کہ یہ تبدیلی جینیاتی انتخابی دباؤ کے بغیر ممکن نہیں ہوتی لیکن یہ آثار بھی ملے ہیں کہ جنگ ختم ہونے کے بعد بغیر دانت والی ہتھنیوں کی پیدائش بھی کم ہوئی ہے جبکہ جنگ کے دوران ان کی شرح زائد تھی یہ بھی معلوم ہوا کہ 1972 سے 2000 کے درمیان بغیر دانت کی ماداؤں میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔

    قیمتی ہاتھی دانت کے لیے افریقی ہاتھیوں کا شکار دیگر مقامات پر بھی جاری ہے مثلاً سری لنکا میں نرہاتھیوں کی صرف پانچ فیصد تعداد ہی اپنے دانتوں کے ساتھ موجود ہے حیرت انگیز طور پر تمام افریقی نر ہاتھیوں نے شدید شکار کے باوجود اپنے دانت برقرار رکھے اور اس کی وجہ جینیاتی ہے۔

    ماہرین اب تک جینیاتی تحقیق کررہے ہیں کہ آخر ماداؤں کے دانت کیوں غائب ہورہے ہیں لیکن ابتدائی تحقیق بتاتی ہے کہ غالباً اے ایم اے ایل ایکس نامی جین میں اس کی وجہ ہے جو ایکس کروموسم میں پایا جاتا ہے یہ جین دانتوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    18 ہزار سال قبل انسان مرغیاں نہیں بلکہ خطرناک پرندہ پالتے تھے

    ماہرین کا خیال ہے کہ اس جین کی تبدیلی دیگر اہم جین پر بھی اثراندازہوتی ہے۔ ماداؤں کے پاس ایکس کروموسوم کی دو نقول ہوتی ہیں اور اگر ان میں سے ایک نقل نہیں بدلتی تو اس میں موجود جین اپنا درست کام کرتا رہتا ہے لیکن مرد یا نر کے پاس اس کی ایک ہی کاپی ہوتی ہے اور اگر وہ بھی بگڑ جائے تو کئی بیماریوں بلکہ جان لیوا امراض کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔

    ہاتھی دانت صرف دکھانے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ وہ ہاتھیوں کے بہت کام آتے ہیں ہاتھی کے دانت اس کا بہت قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں اگرچہ بے زبان ہاتھی کےدانت تو اسمگلر لے جاتے ہیں لیکن ان کی بقیہ زندگی بہت مشکل بلکہ پرخطربھی ہوجاتی ہے۔

    مچھلی کو بچانے کے لیے 70 ہزار روپے خرچ

  • دو رنگا تاریخی شہر۔۔ تحریر ملک صداقت فرحان

    اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں بیک وقت چار چار موسم موجود ہوتے ہیں۔۔۔ جہاں ہر قسم کی سبزی ہر قسم کا پھل اور ہر قسم کی جڑی بوٹی اگتی ہے۔۔۔ جہاں دنیا کے ذہین ترین لوگ پائے جاتے ہیں۔۔۔ جہاں دنیا کے خوبصورت ترین اور دلکش سیاحتی مقامات موجود ہیں۔ وطن پاکستان جہاں اللہ کی عطا کردہ تمام تعمتوں سے مالامال ہے وہیں وطن عزیز پاکستان کے چند علاقے ایسے ہیں جو اللہ کے بندوں کی لالچ، بغض اور حسد کی بھینڑ چڑگئے ہیں ان علاقوں میں بدصورتی راج کرتی ہے۔۔۔ ان بدنصیب علاقوں میں سے ایک علاقہ لاہور ہے۔

    لاہور وہ علاقہ ہے جو موجودہ دور میں پنجاب کی سیاست کا مرکز ہے اور ماضی میں برصغیر کی قدیم تاریخ کا اہم حصہ رہا ہے لاہور میں تاریخ کے کچھ ان مٹ نقوش ابھی بھی موجود ہیں جو لاہور کے تاریخی ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہیں مثال کے طور پر بادشاہی مسجد، شیش محل، شاہی قلع، شالیمار باغ اور مقبرہ جہانگیر وغیرہ یہ الگ بات ہے کہ ان کی دیکھ بھال اور حفاظت نہ ہونے کے برابر ہے خیر۔۔۔

    لاہور پچھلے کئ سالوں سے مختلف سیاستدانوں کی آپسی رنجش اور سیاست کی وجہ سے پس رہا ہے۔۔۔ کچھ عرصہ پہلے تک لاہور کافی خوبصورت اور صاف ستھرا تھا لیکن آج کل لاہور کسی مچھلی بازار کا منظر پیش کررہا ہے لاہور میں کئی کئی گھنٹے سڑکیں بلاک رہتی ہیں (شہری بہت پریشان ہیں آئے روز سڑکیں بلاک کی وجہ سے کہیں نہ کہیں لڑائی جھگڑا ہوتا ہے شہری اپنی اپنی منزلوں پر وقت پر نہیں پہنچ پاتے)، گٹروں کا گندا پانی سڑکوں پر جمع رہتا ہے (جس کی وجہ سے ہر آنے جانے والوں کے کپڑے پلیت ہوتے ہیں اور انہیں بو الگ سونگھنی پڑتی ہے)، اکثر گاڑیاں گردو غبار اڑاتے اور دھواں چھوڑتے ہوئے گزرتی ہیں، (جس کی وجہ سے جلد کی بیماریاں نزلہ ذکام کھانسی ہوتی ہے)، پورے لاہور میں پینے کا پانی ناقابل استعمال حد تک گندا ہوچکا ہے جوکہ کئی بیماریوں کی وجہ بن رہا ہے۔

    جب الیکشن قریب آتے ہیں تو سوئے ہوئے امیدوار جو پچھلی بار عوام کے ووٹوں سے ایم این اے یا ایم پی اے منتخب ہوئے ہوتے ہیں تو قرسیوں کے مزے لوٹ کر دوبارہ ووٹ مانگنے آ کھڑے ہوتے ہیں جھوٹے لارے لگا کر عوام کو بے وقوف بناکر ووٹ لے کر منتخب ہوکر پھر اگلے پانچ سالوں کے لیے غائب ہو جاتے ہیں عوام ہر بار کی طر خجل کی خجل ہوتی رہتی ہے۔ قصور عوام کا ہے جو ہر بار ایک ہی جگہ سے ٹھڈا کھاتی مگر گزرتی پھر بھی ادھر سے ہی ہے۔۔۔

    لاہور کو شریف برادران نے سیاست میں آکر ایک نئی شکل دے دی۔۔۔ شریف برادران نے سیاست میں آکر جگہ جگہ میٹرو اور اورنج لائن میٹرو ٹرین کے فلائی اوورز، سڑکیں اور انڈر گراؤنڈ پاسز بنا دیے باقی لاہور ویسے کا ویسے ٹوٹا پھوٹا پڑا ہے اگر نواز حکومت نئے فلائی اوورز، سڑکیں اور انڈر پاسز بنانے کی بجائے لاہور پر توجہ دیتی، لاہور کے تمام مسائل ختم کرتی اور لاہور کو آلودگی سے پاک کرتی تو آج لاہور بہترین اور خوبصورت شہر کا حسین منظر پیش کر رہا ہوتا۔

    میری حکومت وقت سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ لاہور پر توجہ دے لاہور کو صاف ستھرا کرے لاہور کے سیورج کا نظام ٹھیک کرے سڑکیں ٹھیک کرے فلٹریشن پلانٹس لگاکر پانی کو قابل استعمال بنائے، بڑی گاڑیوں کا داخل شہر میں ممنوع قرار دے اور ٹریفک کا ٹریفک کی روانگی کا مناسب انتظام کرے یعنی لاہور کی تمام خامیوں کو دور کرے تاکہ آئندہ دنیا کے خوبصورت ترین شہروں کی فہرست میں اسلام آباد کے بعد لاہور کا نام آئے۔

  • سخن اور پوچھ کا تماشا تحریر: محمد عتیق گورائیہ

     

    ؎میں بھلا کب تھا سخن گوئی پہ مائل غالبؔ

    شعر نے کی یہ تمنا کے بنے فن میرا

    حضرت غالب کا تو کیا ہی کہنا۔ مذکورہ شعر میں لفظ سخن پر کچھ دیکھا، سنا اور پڑھا ہے جسے آج قارئین کے سامنے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔فارسی زبان سے اردو زبان میں یہ لفظ آیا ہے اور اس سے مراد نطق، گفتار، قول،معاملہ اور اعتراض و شک ہے۔اگر اس کے مترادفات کی بات کروں تو سنسکرت سے بات، فارسی سے گرفت اور عربی سے کلام کو دیکھا جاسکتا ہے۔سخن کو اگر انگریزی میں دیکھیں تو اس کا مترادف Sayبنتا ہے۔اب اگر اسی Sayکو لے کر چلوں تو یہ لفظ قدیمی جرمن کے لفظ "ساخن” سے نکلا ہے۔ آج کل کہنا کو جرمنی زبان کے لفظ ساگن میں دیکھا جاسکتا ہے۔مجھے انگریزی زبان کا لفظ Saga(لمبی کہانی) اسی ساگن سے ماخوذ لگتاہے۔ قدیمی انگریزی زبان کے لفظ secganکو جرمنی زبان سے لیا گیا ہے جسے saggjanکہتے ہیں اور اس کا مطلب”کہنا”ہی ہے۔یہی بعدمیں seyenہوا اور پھر شکل بدل کر Sayہوگیا۔مفروضے کے مطابق ہندیورپی زبانوں سے قبل کے ایک لفظ Sekwسے اسے لیا گیا ہے جس کے تعلقات جرمنی کے مغربی زبانوں سے دیکھے جاسکتے ہیں۔ اب اگر فارسی و اردو کے سخن کو سامنے رکھ کر قدیمی جرمن زبان کے ساخن پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ کچھ نہ کچھ انسانوں کی طرح ان زبانوں میں بھی مشترکہ رہا ہے جو اپنی شکلیں تبدیل کرتے کرتے ترقی یافتہ تو ہوچکی ہیں لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ اصل لیے بیٹھی ہیں۔ ضمناََ عرض کردوں کہ لفظ بات کی اصل "واتترا” ہے جس سے بات نکلا اور پھر اس قدر استعمال ہوا کہ اردو زبان کا ہی لفظ بن گیا اس پر بات کسی اور دن کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔سخن کے مرکبات دیکھیں تو سخن سرائی،سخن سنج،سخن سناشی،سخن آرائی،سخن آفرین، سخن پروراور سخن طراز وغیرہ کی ایک لمبی فہرست ہے۔اظہر فراغ کا شعر ہے

    ؎اس سے ہم پوچھ تھوڑی سکتے ہیں

    اس کی مرضی جہاں رکھے جس کو

    اس شعر میں لفظ پوچھ کا استعمال تو ہمارے ہاں عام سی بات ہے۔اس پر کبھی غور کرنا گوارا ہی نہیں کیا کہ کون پوچھتا پھرے جہاں بھر سے۔یہ لفظ سنسکرت کے لفظ پرچھاسے بنا ہے۔ رگ وید میں یہ لفظ پرچھتی (وہ پوچھتا ہے)کی شکل میں استعمال ہوا ہے جہاں اس کا ایک اور روپ پرشتابھی ہے۔ ماہرین لغت کہتے ہیں کہ ان لفظوں میں بنیادی لفظ پرچ (Prach) ہے۔ سنسکرت کا یہ لفظ فارسی، پشتو اور روسی زبانوں کے قریب ہے۔ روسی زبان میں پوچھنا Pros ہے جو کہ روسی لفظ Prositبمعنی پوچھنا میں ظاہر ہوتا ہے۔پشتو میں یہی لفظ Pos(پوس)ہے جہاں پر”ر” گرا کر کام چلایا گیا ہے اور پھر اسی سے لفظ تاپوس بن جاتا ہے۔فارسی میں پرسیدن میں یہ شکل مجھے نظرآتی ہے۔ جب ہم روسی Vopros، پشتو تاپوس اور ہندی پرشن کو دیکھتے ہیں تو اردو والا پوچھنا ان کا خونی رشتے دار لگتا ہے۔ میری مونئرولمیزکی لغت کے مطابق پوچھنے اور دریافت کرنے جیسے لفظوں میں مادہPrachضرور آتا ہے۔جرمنی زبان کے Fragen(فراگے) کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ یہ لفظ پہلے Vrage (وراگے)تھا جو Frahen (فراہن) سے بنا تھا۔ اس کا مادہ Prk(پرک) بتایا جاتا ہے جو پرچ کے مشابہہ لگتا ہے۔آگے ایک لمبی فہرست ہے جو کہ انگریزی زبان میں اسی مادے سے الفاظ کو مختلف شکلوں اور معنوں میں ڈھال لیتی ہے۔پشتو زبان کی طرح لاطینی زبان میں بھی "پوس” ملتا ہے جو کہ انگریزی زبان کے لفظ Postulateمیں نظر آتا ہے جوکہ لاطینی Procereسے بنا ہے۔یہ لفظوں کا سمندر تو مزید گہرا ہوتا جارہا ہے اور ہم ابھی اتنے ماہر نہیں ہوے ہیں کہ لمبی تیراکی کرسکیں۔راغب دہلوی کہتے ہیں کہ

    ؎قطروں سے سمندرکا بنانا نہیں مشکل

    قطرے میں سمندرکوسمونے کی ادا سیکھ

  • ٹریفک کے مسائل اور ان کا حل !  تحریر: احسن ننکانوی 

    ٹریفک کے مسائل اور ان کا حل !  تحریر: احسن ننکانوی 

    یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر لاکھوں لوگ روزانہ بحث کرتے ہیں یہ ہمارے معاشرے کا ایک اہم مسئلہ ہے کیونکہ لاکھوں کے حساب سے لوگ ایک ہی شہر میں گھروں سے باہر نوکریوں سکولوں کالجوں اور بزنس وغیرہ کے لئے نکلتے ہیں۔

    ان میں زیادہ تر درمیانے طبقے کے لوگ ہوتے ہیں جنہیں سواری نہ ہونے کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ پر آنا جانا پڑتا ہے روزانہ ہی مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ جس طرح ہمارے ملک میں باقی شعبوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے اسی طرح ٹریفک کے مسئلہ کو بھی نظر انداز ہی کیا جاتا رہا ہے حالانکہ اس کے لیے مکمل لاحہ عمل تیار کرکے اسے رائج کیا جائے۔

    حالانکہ اس کے لئے ایک مکمل لائحہ عمل تیار کرکے اسے رائج کیا جائے ٹریفک کا انتظام عملی طور پر کرنا چاہیے نہ کے کاغذات کی حد تک کہ دنیا میں کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہے جو حل نہ کیا جا سکے ۔

    بس ضرورت ایک اچھے انسان کی ہوتی ہے۔

    ملک میں روزانہ بے شمار لوگ سٹاپ پر کھڑے بسوں اور ویگنوں کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ ان میں مرد عورتیں بچے سے بھی شامل ہوتے ہیں جنہیں صبح دفتر و کالج سکولوں کو جانا ہوتا ہے صبح اور شام دونوں دفعہ بسوں ویگنوں کے انتظار میں لائنیں لگ جاتی ہیں جب یہ دنیا بس اسٹاپ پر آتی ہیں لوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح سوار کروایا جاتا ہے ۔

    رش کے وقت ویگنوں اور بسوں کو کم کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ویگنوں والے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ایک ہی ویگن یا بس پر سوار کر کے زیادہ سے زیادہ پیسے کماتے ہیں۔

    مرد لوگ تو بھاگ کر بس یا ویگن میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں لیکن عورتوں اور چھوٹے بچوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے عورتوں کے لئے ویگنوں اور بسوں میں بہت کم جگہ رکھی جاتی ہے جس کی وجہ سے کھڑے ہونے کی مناسب جگہ بھی نہیں ملتی ان کے ساتھ چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں زیادہ پریشانی سے دوچار ہونا پڑتا ہے بسوں اور ویگنوں والے اسکول کے چھوٹے بچوں کو سوار کرنے سے کتراتے ہیں۔ کیونکہ اکثر بچے خود ہی جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کو کرایہ دینے کے باوجود بھی مناسب جگہ نہیں ملتی ان کے مسائل کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

    ہمارے ڈرائیور بھی اکثر ماہر نہیں ہوتے وہ تیزرفتاری سے کام لیتے ہیں اور اپنے پیسے بنانے کے چکر میں اکثر لوگوں کو کچل دیتے ہیں۔ ہمارے یہاں ٹریفک حادثات میں روزانہ کتنے ہی لوگ مرتے اور زخمی ہوتے ہیں۔ کیونکہ ٹریفک کے بہت کم ہیں اصول ہیں جن پر عمل کیا جاتا ہے۔ اکثر لوگ ابھی اتر رہے ہوتے ہیں کہ نیچے سے لوگ چڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ قطار بنانے کا ہمارے یہاں کوئی رواج نہیں ۔

    ہر کوئی ایک دوسرے کو دھکا دے کر یا پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہتا ہے اگر کام اصول اور طریقے سے کیا جائے تو بہت سے مسائل ختم نہیں تو کم ضرور کیے جا سکتے ہیں۔

    کوئی کام بہتری اچھا کرنے کے لئے سب لوگوں کا ساتھ ہونا چاہیے اگر حکومت کوئی لائحہ عمل بناتی ہے تو اس پر اچھے طریقے سے لوگوں سے عمل کروائے کیونکہ ہمارے ہاں صرف جنگل کا قانون یا جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اصول اپنائے جاتے ہیں حکومت کو ٹریفک کے مسائل حل کرنے کے لیے سارا نظام بدلنا چاہیے ڈرائیوراور کنڈیکٹرز ماہر ہو بلکہ باقاعدہ ان کے لئے کورسز ہوں جنہیں پاس کرکے لائسنس دیا جائے یا تیز رفتاری پر سب کو ایک جیسی سزا دی جائے تاکہ قانون کا احترام کریں۔

    بزرگوں کو چاہیے کہ وہ نئے آنے والے بچوں کو بھی شروع سے ہی اچھا نمونہ دیں۔ تاکہ جب وہ بڑے ہو تو اچھے اصول اپنائیں کیونکہ جب صبح سکول جاتے ہیں اپنے ساتھ ڈرائیور اور کنڈکٹروں کا سلوک دیکھتے ہیں تو باغی ہونا شروع کر دیتے ہیں۔

    بوڑھے افراد یا عورتیں ابھی بس یا ویگن پر سوار بھی نہیں ہوتی تو بس یا ویگن چلنا شروع کر دیتی ہے۔ اس طرح روزانہ کئی حادثے دیکھنے یا سننے میں آتے ہیں۔

    اگر مؤثر طریقے بنائے اور ان پر عمل کروایا جائے تو بہت سے مسائل کم ہو جاتے ہیں ہمارے ہاں کرایا مناسب ہونا چاہیے۔ جو کہ ہر فرد آسانی سے ادا کرسکیں کیونکہ لوگوں کی فی کس آمدنی بہت کم ہے۔ اس کے لئے کوئی انتظام کرنے سے پہلے حکومت کو ہر پہلو مدنظر رکھنا چاہئے۔ نہ کہ صرف اپنا فائدہ دیکھیں ٹریفک کروڑ لوگوں کا مسئلہ ہے۔ اور یہ مسئلہ اس وجہ سے بھی مزید بڑھ گیا ہے۔ کہ گزشتہ چند سالوں سے بنکوں نے گاڑیاں آسان قسطوں پر دینا شروع کی ہیں۔ جس کے باعث سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد کئی گنا زیادہ ہوگئی ہے۔ جبکہ دوسری طرف زیادہ ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لیے کسی قسم کی مناسب منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہم سب مل کر حکومت کو تجاویز دیں کہ اس مسئلے کا حل نکال سکتے ہیں

    @Ahsannankanvi

  • جے ٹی آئی کا مشن      ۔۔۔ نسل نو کی تربیت تحریر احسان اللہ خان

    19 اکتوبر 1969ء سے 19 اکتوبر 2021ء تک حریتِ فکر کے متوالوں کا یہ عظیم قافلہ سو بمنزل ہے، اس انقلابی تنظیم کی آبیاری اکابرین نے اپنے پسینے اور خون سے کی ہے۔ کراچی سے خیبر تک صالح نوجوانوں کا یہ پرعزم قافلہ قربانیوں اور جدوجہد کی لازوال داستان رکھتی ہے، آج بھی اپنے اکابرین کے دیئے ہوئے سبق کو ہم بھولے نہیں۔

    نوجوان کسی بھی معاشرے کا وہ حصہ ہوتا ہے کہ جو سماج پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت سے بھر پور ہوتا ہے دنیا میں جتنے انقلابات آئے ہیں اس میں نوجوان کا رول سب سےزیادہ ہے ۔ چونکہ نوجوانان مستقبل کے معمار ہوتے ہیں اور انہی نے تمام ذمہ داریوں سے عہدہ براں ہونا ہوتا ہیں اس لیے ان کی تعلیم وتربیت اہم ترین فریضہ ہے ۔ یہ تعلیم وتربیت تین مراحل میں ہوتی ہے،

     اول گھر، 

    دوم سماج، 

    سوم جامعات۔ 

    بچہ سب سے پہلے والدین اور گھر کے افراد سے شعوری ولا شعوری تعلیم وتربیت پاتا ہے، 

    دوسرے درجہ میں وہ گھر سے باہر گلی ومحلے میں جب قدم رکھتا ہے تو دوست واحباب اور معاشرے کے رویے اس کی شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ 

    تیسرے درجہ میں وہ جب کسی مکتب واسکول اور جامعہ میں پہنچتا ہے تو معلم اس کو اپنے قول وفعل سے تعلیم دیتا ہے۔ تب جاکر وہ میدان عمل میں وہ داخل ہوتا ہے اور ذمہ داریوں کو نبھاتا ہے۔ ہم چونکہ دور زوال سے گزر رہے ہیں اگر ہم اپنے ماحول پر نگاہ ڈالیں تو صورتحال سامنے آتی ہے کہ اول تو شرح خواندگی کم ہے جس کی وجہ سے اکثر والدین ناخواندہ ہیں یا اگر خواندہ ہیں تو معاشی مجبوریوں یا اعلی معیار زندگی کی دوڑ نے ان کو اتنا مصروف رکھا ہے کہ وہ بچوں کی تربیت پر توجہ نہیں دے پا رہے ہیں ۔ پھر اس مادہ پرستانہ ماحول سے جو سماج بنتا ہے وہ اس بچہ ونوجوان کو مسلسل یہی پیغام دے رہا ہوتا ہے کہ اصل کامیابی مادہ کا حصول ہے اور اس کے لیے جس قسم کی چالاکی دھوکہ دہی کی جاسکتی ہے وہ جائز ہے اور اس مادہ پرستانہ ماحول سے جو اخلاقی تنزلی پیدا ہوتی ہے وہ ہمارے پورے معاشرے سمیت ان نونہالان پر اثر انداز ہوتی ہے۔

    تیسرے نمبر پر جو معاصر جامعات ہیں وہاں پر گو عصری فنون کا تعارف تو پڑھایا جاتا ہے لیکن فکری ونظریاتی تربیت وہاں ناپید ہے، اسی طرح جو دینی مدارس ہیں وہاں علوم عربیہ تو پڑھائے جاتے ہیں لیکن نظریاتی تربیت وہاں بھی نہیں ہے۔ یہی وجوہات ہیں کہ مدارس کا نوجوان شدت پسندی اور جذباتیت کا شکار ہور ہا ہے اور کالج کا نوجوان اخلاقی بے راہ روی کا شکار بنتاہے اور فکری لحاظ سے مغرب کے سامنے مایع بنتا جارہا ہے۔ اسی حالات کو مد نظر رکھ کر جمعیت علمائے اسلام نے نوجوانوں کی فکری وسیاسی تربیت کے لیے جمعیت طلبائے اسلام قائم کی ہے ، تاکہ مسٹر وملا کے فرنگی گمراہ کن تقسیم کو ختم کیا جاسکے اور مدرسہ اور اسکول کے طلباء کو ایک پیج پر جمع کیا جاسکے اور انکی باہم منافرت کو، باہمی اخوت میں بدلا جاسکے، اسلامی خطوط پر ان کی فکر ی ونظریاتی تربیت ہوسکے۔

    ماضی کی تاریخ اگر ہم مطالعہ کریں تو بعض جہات میں اس تنظیم نے بہترین خدمات پیش کیے ہے اس تنظیم نے سینکڑوں نوجوانوں کی فکری وسیاسی تربیت کی ہے چنانچہ مولانا فضل الرحمن اسی شجر کا میوہ ہے اور الحمد اللہ موصوف جمعیت علماء کی بہترین اندازمیں قیادت فرما رہے ہیں۔ اب چونکہ ایک طرف جذباتیت اور دوسری طرف مغرب سے مرعوبیت کا چیلنج در پیش ہے بلکہ اس دور میں تو نوجوانوں کو سیکولر ازم اور لبرل ازم سے ہوتے ہوئے فکری الحاد کا بھی سامنا ہے اس لیے اس دور میں جمعیت طلباء کی از حد اہمیت بڑھ جاتی ہے ۔

    جمعیت طلباء کے حوالے سے ہنگامی طور پر ان کاموں کی طرف توجہ کرنی چاہیے کہ وہ ہر صوبہ ہر ضلع ہر تحصیل اور ہر یونٹ کی سطح پر معلمین کا انتخاب کرے اور ہفتہ وار درس اور مجلس مذاکرہ کا انتظام کرے، اور اپنا سابقہ لٹریچر ہر یونٹ کی سطح تک پہنچائے، مطالعہ اور دروس کا سلسلہ تیز کرے ماہانہ بنیاد پر تربیتی ورکشاپس رکھوائے ، نوجوانوں میں تقریر وتحریر کے مہارات پیدا کرے، ان کی اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کو سوشل میڈیا کے درست استعمال سے واقف کرائے، قصبہ قصبہ ، دیہات اور شہروں میں داعیوں کی ٹیمیں تشکیل دے اور امت کے نسل نو تک اسلام کا معتدل اور متناسب پیغام پہنچائے۔باقی عہد جدید کے تقاضوں کے مطابق نصاب میں تبدیلی اور اضافات کی ضرورت ہے جس پر مرکزی جماعت اور ذیلی جماعت کے ذمہ داران کو باہم بیٹھنا چاہیے تاکہ فوری طور پر اس پر عمل در آمد ممکن ہوسکے۔ چونکہ جمعیت علماء اسلام کا میدان فقط انتخابی سیاست نہیں بلکہ ہمہ جہت انقلاب ہے، اس کے لیے مکاتب ، رسائل ، شعبہ دعاۃ وغیرہ کا انتظام بھی ہے اس حوالے سے بھی باہمی غور فکر کی ضرورت ہے۔

    جمعیت طلباءاسلام پاکستان   یومِ تاسیس کے موقع پر اپنے اکابرین سے تجدیدِ عہدِ وفا کرتے ہیں کہ ہم نئے جذبے، ولولے سے سامراجی قوتوں کے خلاف میدانِ کارزار میں جدوجہد کرتے رہیں گے۔ ان شاء اللہ وطن عزیز میں اسلام کا بول بالا کرینگے یا جان دے دیں گے۔ درمیان میں کوئی تیسرا راستہ قبول نہیں۔

    خونِ دل دے کر نکھاریں گے رخِ برگِ گلاب

          ہم گلشن کی تحفظ کی قسم کھائی ہے

    Twitter /  @IhsanMarwat_786

  • احساس کو ہے سب کا احساس    تحریر: ذیشان اخوند خٹک

    احساس کو ہے سب کا احساس  تحریر: ذیشان اخوند خٹک

    احساس کو ہے سب کا احساس

    احساس کا نام سنتے ہی انسان کے ذہن میں محبت، خدمت کا نظریہ سامنے آجاتا ہے. احساس بہت ضروری چیز ہے اگر یہ احساس انسانوں کی زندگی سے نکل جائے تو وہ دنیا کے آخری دن ہونگے.
    دنیا جو اب تک چل رہی ہے وہ یہی احساس کے مرہون منت ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے کا احساس ہے.

    جب دنیا کے حکمرانوں بے حس ہوچکے تھے اور اسے اپنے رعایا کا احساس نہیں تھا تو قومیں زوال کا شکار ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے ان سے حکومت چھین لی.
    مسلمانوں نے جب حکومت سنبھالی تو اس نے فلاحی ریاست بنائی جس کا مقصد ایک دوسرے کا احساس تھا. فلاحی ریاست میں امیر المومنین کو اپنے رعایا کا اتنا احساس ہوتا تھا کہ راتوں کو بھیس بدل کر گلیوں میں گھومتے اور لوگوں کا حال احوال لیتے. اس احساس کی وجہ سے اس کی حکومت پھیلتی گئی.

    پاکستان کا بھی یہی حال ہے کہ پہلے پہل حکمرانوں کو رعایا کا احساس نہیں تھا. وہ ہیلی کاپٹر میں کھانے کے سامان اپنے ساتھ لے جاتے تھے مگر عوام بھوک سے مر رہے تھے.
    بینظیر بھٹو شہید ہوگئی تب حکمرانوں کو کچھ احساس ہوا مگر وہ بھی اپنے سیاسی کیریئر کیلئے استعمال ہوا کیونکہ اس پروگرام کا نام بینظیر پروگرام رکھ دیا اور پیپلز پارٹی نے اپنے حاص لوگوں اور حمایتی جماعت جمیعت علماء اسلام کے حاص لوگوں کے سفارش پر پروگرام سے لوگ مستفید ہوتے رہے اور اصلی غریب لوگ اس پروگرام سے رہ گئے.

    جب 2018 میں عمران خان وزیراعظم بنے تب انہوں نے اپنے انتخابی وعدے کے مطابق مدینہ جیسے فلاحی ریاست کا اعلان کیا.
    یہ صرف اعلان نہیں تھا بلکہ ان پر عمل بھی شروع کردیا. مارچ 2019 میں احساس کے نام سے ایک ایسا پروگرام شروع کیا جس نے بلاتفریق عوام کی خدمت کی. اس پروگرام کے چیئرپرسن کیلئے ثانیہ نشتر کا انتخاب کیا جس نے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کیا تھا. کرونا وائرس کے آتے ہی سارے دنیا میں غریبوں پر سائے منڈلانے لگے تب احساس پروگرام کے چیئرپرسن ثانیہ نشتر نے ایک ایسا پلان بنایا کہ احساس پروگرام سے بلاتفریق غریب عوام مستفید ہوئے اور اس زبردست پلان کے دنیا نے بھی تعریف کرڈالی.

    احساس نے پرانے مستحقین کی چھان بین کی اور ان سے اٹھارہ گریڈ جیسے افسران کو نکال دیا جو سفارش کے تحت مستحق لوگوں کے فہرست میں شامل ہوئے تھے.
    حال ہی میں احساس نے ایک نیا سروے شروع کیا جس سے نئے مستحق لوگوں کو فہرست میں شامل کردیا. اس سروے پر نا تو کوئی ایم این اے اثرانداز ہوا اور نا کوئی ایم پی اے بلکہ ایک شفاف ڈیجیٹل سروے ہوا.

    احساس نے صرف عوام کا اتنا احساس نہیں کیا بلکہ مزدوروں کیلئے لنگرخانے، کاروبار کیلئے بلاسود قرضہ، مسافروں کیلئے پناہ گاہ، چھوٹے بچوں کے تعلیم کیلئے وظیفے، غریب عورتوں کیلئے وظیفے، غریب یونیورسٹی کے طلباء و طالبات کیلئے احساس شکالرشپ اور کمزور بچوں کیلئے بہتر نشوونما کیلئے مراکز بھی قائم کئے اور ان کے اور بھی سہولتی پروگرام شروع کئے ہیں جن کی تفصیل ان کی ویب سائٹ پر موجود ہے.

    عمران خان کی حکومت میں واقعی مہنگائی تھوڑا زیادہ ہوگئی مگر یہ پہلے حکمران ہے کہ انہوں نے فلاحی ریاست کا نعرہ لگایا اور رعایا کا احساس کرکے احساس پروگرام شروع کیا.
    احساس پروگرام نے احساس ایمرجنسی سکیم کے تحت جس طرح کرونا کے وقت جس طرح غریبوں کی مدد کی وہ لحاظ سے قابل ستائش تھی.
    سسٹم پرانا ہونے کے تحت اس میں کچھ مسئلے تھے مگر احساس کے انتطامیہ نے غریبوں کو مستفید کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کی.

     ٹویٹر ہینڈل

    @ZeeAkhwand10 

  • ضروری نیند پر سمجھوتہ ہر گز نہیں تحریر:محمد عدنان رضا

    ضروری نیند پر سمجھوتہ ہر گز نہیں تحریر:محمد عدنان رضا

    مناسب دورانیے تک سونا آپ کے دل،وزن اور ذہن سمیت ہر چیز کی صحت کے لیے بہترین ثابت ہو تا ہے، مصروف ترین زندگی نے نیند کا اوسط دورانیہ 6 گھنٹوں تک پہنچا دیا ہے جبکہ طبی ماہرین 7 سے 8 گھنٹے تک سونے کا مشورہ دیتے ہیں
    انسان کے جسم کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ جہاں یہ سرگرم رہنے سے ٹھیک رہتا ہے وہاں اس آرام کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور خاص کر نیند کی صورت میں اس کی توانائی بحال ہوتی ہے_  مناسب دورانیے تک سونا آپ کے دل،وزن، اور ذہن سمیت ہر چیز کی صحت کیلئے بہترین ثابت ہو تا ہے_ مگر آج کے دور کی مصروفیات نے نیند کا اوسط دورانیہ 6 گھنٹوں تک پہنچا دیا ہے جبکہ طبی ماہرین 7 سے 8 گھنٹے تک سونے کا مشورہ دیتے ہیں_ لگ بھگ ہر ایک کو اچھی نیند کی اہمیت کے بارے میں علم ہے مگر یہاں ایسے کچھ نقصانات بتائیے جارہے ہیں جو کم نیند لینے والے افراد پر اثر انداز ہو تے ہیں_ ان میں سے اہم چڑچڑا پن ہے_ بے خواب راتوں کے نتیجے میں چڑچڑے پن اور جذباتی پن کی شکایت عام ہوجاتی ہے_ یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی جس میں بتایا گیا کہ منفی جذبات نیند متاثر ہونے کا نتیجہ ہوتے ہیں اور آس سے دفتری کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے_ سر درد بھی ان نتائج میں سے ہے_ جن کا بے خوابی کی صورت میں سامنا ہوسکتا ہے_ سائنسدان اس حوالے سے پر یقین نہیں کہ نیند کی کمی سر درد کا باعث کیوں بنتی ہے مگر ایسا ہوتا ضروری ہے_ بے خواب راتوں کے نتیجے میں آدھے سر کا درد ہونے لگتا ہے جبکہ خراٹے لینے والے 36 سے 58 فیصد افراد صبح سر درد کا شکار ہو تے ہیں_ اسطرح کم نیند کے نتیجے میں لوگوں کا جسمانی ہارمون توازن بگڑ جاتا ہے جس کے نتیجے میں کھانے کی اشتہا خاص طور پر بہت زیادہ کیلوریز والی غذاؤں کی خواہش پیدا ہوتی ہے_ اپنی خواہشات پر کنٹرول کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے اور یہ دونوں بہت خطرناک امتزاج ہیں کیونکہ اس کا نتیجہ موٹاپے کی شکل میں نکلتا ہے جبکہ تھکاوٹ کا احساس الگ ہر وقت طاری رہتا ہے_ نیند کی کمی بینائی کی کمزوری، دھند لاپن اور ایک کی جگہ دونظر آنے کی شکل میں بھی سامنے آسکتا ہے_ جتنا زیادہ وقت آپ جاگ کر گزارتے ہیں اتنی ہی بینائی میں خرابی کا امکان بڑھتا ہے جبکہ واہموں کے تجربے کا امکان بڑھ جاتا ہے_ ایک تحقیق کے دوران لوگوں کو 88 گھنٹے تک سونے نہیں دیا گیا جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر اوپر گیا جو کہ کوئی زیادہ حیران کن آمر نہیں تھا مگر جب ان افراد کو ہررات صرف 4 گھنٹے تک سونے کی اجازت دی گئی تو دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھ گئی جبکہ ایسے پروٹین کا ذخیرہ جسم میں ہونے لگا جو امراض قلب کا خطرہ بڑھتا ہے_ نیند پوری نہ کرنے والے افراد کو سست ردعمل کا بھی سامنا ہوتا ہے یعنی جب نیند پوری نہ ہو تو کسی بھی واقعے پر ردعمل کا اظہار سست ہو جاتا ہے_ ایک تحقیق کے دوران لوگوں کو فوری فیصلے کرنے کے ٹاسک دئے گئے، جن میں سے کچھ کو کو ٹیسٹ کے دوران سونے کا موقع ملا انہوں نے ٹیسٹ میں بہتر کارکردگی دکھائی جبکہ دیگر افراد کی کارکردگی بدتر اور ردعمل بہت سست رہا_ اس کے ساتھ ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ جسمانی دفاعی نظام کو طاقتور کیسے بنایا جاسکتا ہے خاص طور پر کسی کھلے زخم ہر پر جلد انفکشن نہیں ہوتا؟ وہ نیند ہے_ آگر آپ نیند کی کمی کے شکار ہو یہاں تک کہ ایک رات کی کمی بھی جراثیموں کے خلاف جسم کے قدرتی دفاع پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے_ توجہ کی صلاحیت متاثر ہونا بھی نیند کی کمی کا نتیجہ ہوسکتا ہے_ کیا پڑھتے یا سنتے ہوئے توجہ مرکوز کرنے میں مشکل کا سامنا ہے کسی ایسے کام کو کرنے میں جدوجھد کرنا پڑ رہی ہے جس میں زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے توجہ مرکوز کرکے ہونے والے ٹاسک نیند کی کمی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں_ ایک تحقیق کے مطابق اگر آپ زہنی طور پر چوکنا اور ہوشیار رہنا چاہیے ہیں تو نیند پوری کرنی چاہیے ورنہ ذہن غنودگی کی کیفیت کا شکار ہو جاتا ہے اور کچھ بھی کرنا کافی مشکل ہوجا تا ہے_ نزلہ زوکام کے دائمی کا شکار ہو نے کا خطرہ بھی نیند پوری نہ ہونے کی صورت میں بڑھ جاتا ہے_ آگر آپ ہر وقت نزلہ زوکام کا شکار رہنے پر پریشان رہتے ہیں اور کہیں بھی جانے پر پریشان رہتے ہیں اور کہیں بھی جانے پر فلو حملہ آور ہوجاتاہے تو اس کی ایک ممکنہ وجہ ناکافی نیند بھی ہے_ ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ 7 گھنٹے سے کم نیند لیتے ہیں ان میں بیماری ہونے کا خطرہ تین گنا زیادہ ہوتا ہے_ پیٹ کے مختلف امراض یعنی معدے میں سوجن وغیرہ نیند کی کمی کے نتیجے میں بدتر ہو جاتے ہیںسات سے آٹھ گھنٹے کی نیند پیٹ کے امراض سے کافی حد تک تحفظ دیتی ہے مگر اس میں کمی خطرہ بڑھا دیتی ہے کیونکہ نیند کے دوران ہمارا جسم میٹا بولزم میں آنے والی خرابیوں کو دور کرتا ہے اسلئے زیادہ وقت جاگ کر گزارنے کے نتیجے میں انسولین کی حساسیت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جس کا نتیجہ ذبابیطس ٹائپ ٹو کی شکل میں نکلتا ہےایک تحقیق کے مطابق نیند کے دورانیے میں اضافہ ممکنہ طور پر ذیابیطس کا خطرہ کم کرتا ہے جبکہ ایک اور تحقیق میں کم سونے کو معمول بنانے اور ذیابیطس کے خطرے کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئیطبی ماہرین نے نیند اور کینسر کے درمیان تعلق کے حوالے سے تحقیقات کی ہے اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ جسمانی گھڑی کے نظام میں مداخلت سے جسمانی دفاعی نظام کمزور ہو تا ہے اور ان میں مخصوص اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اس طرح درمیانی عمر میں نیند کی کمی سے دماغی ساخت میں تبدیلیاں آتی ہیں جو کہ طویل المیعاد یا دداشت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں جبکہ نوجوانوں میں بھی نیند کی کمی سے یادداشت خراب ہونے کے مسائل دیکھے جاسکتے ہیں ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ زیادہ سونے ان کی یاد داشت بھی اچھی ہوتی ہے

    My Offical Twitter Account 

    @Adnanrazapak

  • ڈاکٹر عبدالقدیر خان صا حب ہم سے بھول ہوئی  تحریر:اختر علی

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان صا حب ہم سے بھول ہوئی تحریر:اختر علی

    جذبات سے موجزن اور احساس سے لبریز حقائق پر مبنی  کہانیاں تو سبھی نے ہی پڑھی اور سنی ہوں گی لیکن کبھی کبھار ان کو پڑھتے ہوئے موجوں کی روانی کی طرح جذبات یوں  امڈتے ہیں کہ ان کے رستے میں آنے والے بند بھی ریت کی دیوار ثابت ھوتے ہیں۔ رفتہ رفتہ چھلکتے ہوئے آنسو دل کو چیر کر جگر کو پارہ  پارہ کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ قارئین محترم! ایسی ہی کچھ  تذبذب کی حالت سے  چند دن پہلے مجھے گزرنا پڑا  جب محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کا ایک انٹرویو  سنا۔ آپ کے اس فقرہ نے تو رلا دیا ”مجھے اس قوم کے لیے کام کر کے پچھتاوا ہوا۔’ ‘  ایسی ہی بہت سی دلخراش  باتیں ڈاکٹر صاحب  کی ز بان سے سنی  تو دل خون کے آنسو رونے لگا۔

       ڈاکٹر صاحب عالم اسلام  کے وہ  نڈر،  بیباک اور محب وطن  فرد ہیں جن کی شبانہ رو ز  محنت کے نتیجہ میں پاکستان عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بنا۔جنھوں نے دن دیکھا نہ  رات دیکھی,  مال دیکھا نہ صحت دیکھی، صرف اس مشن کی خاطر کام کرتے رہے کہ انڈ یا کے مقابلہ میں پاکستان کا دفاع  نا قابل تسخیر ہو جائے۔ شائد اگر ان کی مخلصانہ  کاوش نہ ہوتی تو آج ہماری حالت عراق، افغانستان، کشمیر، برما،فلسطین اور دیگر اسلامی ممالک جیسی ہوتی۔ یہ بات ضرور ہے ک امریکہ کو  اس کا قرض چکانہ ہو گا، مسلم امہ ایک دن ضرور بیدار ہو گی،کوئی صلاح الدین ایوبی بھی آئے گا۔(انشااللہ)  لیکن بات ڈاکٹر صاحب کی چل رہی ہے کہ انھوں نے گھمبیر صورتحال میں پاکستان کا مستقبل محفوظ کیا، آج ہم عالیشان محلات میں رہ رہے ہیں، اعلی پائے کی گاڑیوں میں امریکی اور روسی ڈرون طیاروں کے خوف کے بغیر سفر کرتے ہیں تو ان تمام کا سہرا ڈاکٹر صاحب کے سر سجتا  ہے۔

    لیکن! لیکن جب میں آج ڈاکٹر صاحب کی حالت زار دیکھتا  ہوں تو کلیجہ پھٹ جاتا ہے، اعضاء شل ہو جاتے ہیں۔ وہ عظیم لیڈر جس پر  گل  نچھاور کرتے کرتے پھولوں کا فقدان ہو جانا چاہیے  تھا  لیکن بدقسمتی سے اس کے لئے فٹ پاتھ اور قیدو بند کی صعوبتیں  ہی بچی ہیں۔ کیا محض ” محسن پاکستان” کا لقب دے دینا ہی کافی تھا،  چلیں غیروں کی بات تو ہم نہیں کرتے انھوں نے نہ ہی آپ کو نوبل پرائز دینا تھا نہ دیا، جو اپنے ہیں انھوں نے کیا دیا؟؟؟ کیا ہم نے شہدائے پاکستان کے خون سے  یہ وفا کی ہے کہ جتنا کوئی  بڑا چور، ڈاکو،  لٹیرا اور رہزن ہواسے اتنی ہی زیادہ عزت دی جائے اور مخلص محبان وطن کو پابند

     سلاسل کر دیا۔ ارے! جس شخص نے اکیس کروڑ افراد کی حفاظت کی تو ہم سب اس ایک فرد کی حفاظت نہ کر سکے اور انہیں نظر بند کر دیا،چلیں یہ بھی بات مان لی کہ حکومتی  صفوں میں چھپے بھیڑیوں  نے یہ سب کروایا لیکن بحثیت قوم ہم نے آپ کے لیے کیا کیا؟ ان کی سیاسی جماعت کی بھی سپورٹ نہ کر سکے۔جس شخص کے لیے اگر جان کا  نذرانہ بھی پیش کرنا پڑتا تو گھاٹے کا سودا نہ تھا، اس کے لیے ہم ووٹ کی پرچی بھی نہ دے سکے۔ شائد میرا لہجہ تلخ ہو رہا ہے لیکن ہم نے جو کھرے اور کھوٹے کا معیار سٹ کیا ہے وہ ٹھیک نہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم پستیوں کی طرف دھکیلے چلے جا رہے ہیں اور دنیا پر ہمارا دبدبہ ختم ہو رہا ہے۔ ایٹمی طاقت ہونے کہ باوجود بھی ہم دبک رہے ہیں۔ آج ایٹمی طاقت کا حصول بھی کسی اور جماعت کے  لیڈر سے منسوب کیا جا رہا ہے حالانکہ  ڈاکٹر صاحب کی ٹیم نے 1984 میں ہی پروگرام کو حتمی شکل دے دی تھی۔ اس سے کہیں بعد1998  میں باقاعدہ ایٹمی دھماکے کئے اور پوری د نیا کے  مسلمانوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں۔آج اسی پروگرام کے روح رواں  کے ساتھ اتنی زیادتی  آخر کیوں؟

    میں جب محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب کی باتیں سنتا یوں دل خون کے آنسو روتا ہے، آخر کیا محرکات تھے  جنھوں نے ڈاکٹر صاحب کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا؟  ان محرکات کو  ‘on air’  کرنا مڈیا کی  ذمہ داری ہے۔  میاں محمد بخش نے اسی تناظر کو الفاظ کا روپ دیا تھا

                                                                اصلاں نال جے نیکی کرئیے  نسلاں بعد  نہیں  بھلدے

      بے اصلاں نال  جے نیکی کرئیے پٹھیاں چالاں چلدے

    اللہ رب العزت ڈاکٹر صاحب کو  عمر خضر عطا فرمائے، لیکن ایک دن خالق حقیقی سے بھی  تو ملنا ہے، میں دعوے سے کہتا ہوں آپ کا جناز ہ  ‘تاریخی جنازہ’  ہو گا، آپ پر ستم کر نے والے  بھی  پہلی صف میں نظر آئیں گے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ جو افراد  ہماری زندگیوں کے ضامن ہیں کیا  ہم نے  ان سے  وفا بھی ان کے جنازہ  پہ جا کر ہی کرنی ہے؟  کیا ہمارا جنازہ پڑھنا ان کے ساتھ کی جانے وا لی  زیادتیوں کا ازالہ کر دے گا؟  اگر جواب نفی میں ہے تو ہمیں آج عملی محاذ پر آپ کے حق میں آواز بلند کرنا ہو گی۔ تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کریں کہ اگر وہ نگران وزیر اعظم کے لیے ڈاکٹر صاحب کا نام پیش کرتے ہیں تو ہم ان کی سپورٹ کریں گے  ورنہ ہمارے صبر کا پیما نہ  لبریز ہو چکا  اب ہمارے رستے  جدا ہیں۔ اگر ہم نے ڈاکٹر صاحب سے وفا کی ہوتی تو آج ہمیں بجلی کے بحران سے پالا نہ پڑتا۔ اگر آپ کو مناسب منصب پر فائز کیا جاتا تو آج لوگ اپنی اولادوں کو گلوکار بنا نے کی بجائے  ٹیکنا لوجی کے رستے میں ڈال کر سائنسدان بناتے۔ ہمیں  ٹیکنا لوجی کا انحصار دوسرے ممالک سے نہ کرنا پڑتا۔ ڈاکٹر صاحب  ہم نے آپ کو حقیقی معنوں میں لیڈر نہ مان کر سنگھین غلطی کی۔  ڈاکٹر صا حب ہم سے بھول ہوئی!  ڈاکٹر صا حب ہم سے بھول ہوئی!

  • چھاتی کے سرطان سے آگاہی۔ پنک ربن تحریر شائستہ سرور آرائیں

    بریسٹ کینسر جیسے اردو زبان میں چھاتی کا سرطان کہا جاتا ہے۔پاکستان میں ہر سال تقریباً چالیس ہزار خواتین چھاتی کے سرطان کی وجہ سے جان کی بازی ہار دیتی ہیں وجہ آگاہی نہ ہونا خصوصاً ہماری دیہات کی خواتین تو اس بیماری کے نام سے بھی نا واقف ہیں علاج تو پھر دور کی بات ہے۔ ہمارے معاشرے کی یہ ذہنی پسماندگی کہہ لیں عورت چاہے پڑھی لکھی ہو یا انپڑھ  اپنے جسم کے پوشیدہ گوشوں میں درد کوئی تکلیف محسوس کریں گی تو خود سے دوائیاں کھا لیں گی مگر  بے پردگی جھجک شرم میں ڈاکٹر کے پاس نہیں جائیں گی چاہے موت بھی سامنے ہو ایڑیاں رگڑنے پر مجبور ہو جائیں گی مگر مجال ہے لبوں سے اپنی اذیت بیان کریں اور چھاتی کا سرطان بھی جسم کے حساس حصّے کا کینسر ہے اس پر ہمارے معاشرے میں  بات کرنا بہت ہی مشکل چیلنج ہے۔ ہمارے ملک میں کئ علاقوں میں لیڈی ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے بھی خواتین مرد ڈاکٹرز کے پاس جانے کی ہمت ہی نہیں کر پاتی ہیں اور ایسے میں وقت ہاتھ سے نکل جاتا۔
    اکثر آپ نے اپنے اردگرد دیکھا ہو گا عورت بیمار ہے جی فلاں نے جادو کر دیا پیر سائیں کے پاس دم کروایا ہے وغیرہ وغیرہ باتیں سننے کو ملتی ہیں اور اس چکر میں بیماری کا بر وقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے عورت ایک زندہ لاش بن جاتی ہے۔ چھاتی کے سرطان جیسی بیماری میں چھاتی میں گلٹی محسوس ہوتی ہے درد اتنا نہیں ہوتا اور ایسے میں ان دم کرنے والوں کی چاندنی ہو جاتی ہے اور مریضہ گھر کے کام کاج با آسانی کر رہی ہوتی ہے تو اسے لگتا ہاں جی میں ٹھیک ہوں ایسے کرتے بیماری کی ایک سٹیج کراس ہو جاتی ہے یعنی کے لا علمی یہی وجہ ہے کہ پہلی سٹیج پر تشخیص چار فیصد سے بھی کم ہے۔
    اس وقت پاکستان میں ہر نو میں سے ایک خاتون کو چھاتی کے سرطان کا خطرہ لاحق ہے یہلے ہم یہ سنتے تھے کہ یہ مرض بڑی عمر کی خواتین میں پایا جاتا ہے لیکن اب کم عمر بچیاں بھی اس بیماری میں مبتلا ہو رہی ہیں۔ اس موذی بیماری سے متعلق  شعور اجاگر کرنے کے لئے عالمی دنیا سمیت پاکستان میں اکتوبر کے مہینے کو بریسٹ کینسر سے بچاؤ کے طور پر منایا جاتا یے۔ مختلف پروگرامز منعقد کئے جاتے ہیں ڈاکٹرز ٹاک شوز کے ذریعے اس بیماری سے متعلق آگاہی دے رہے ہوتے ہیں۔
    اس مہینے آپ کسی کو فون کریں آپ کو چھاتی کے سرطان سے آگاہی کا پیغام  سنائی دے رہا ہو گا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ اب لوگ اس بیماری پر بات کرتے ہیں انہیں شعور آیا ہے جس تیزی سے یہ بیماری پھیل رہی ہے اس طرح کے پروگرام  بس اکتوبر کے مہینے تک محدود نہیں رکھنے چائیے بلکہ ہر ماہ  دیہی علاقوں میں خاص کر ایسے پروگرامز منعقد کرانے چائیں تاکہ خواتین باشعور ہونے کے ساتھ خود اعتماد بھی ہو سکیں۔
    اب  بات کر لیتے ہیں چھاتی کے سرطان کی علامات پر سب سے پہلے عورت کو یہ پتا ہونا ضروری ہے کہ چھاتی دکھتی کیسی ہے تاکہ اگر کسی قسم کی تبدیلی ہو تو وہ بر وقت جان سکے اپنا جسمانی معائنے کے ساتھ وہ میمو گرام اور کلینیکل بریسٹ ایگزام کروا سکے یہ ہی وہ ٹیسٹ ہیں جس کی وجہ سے کینسر کی تشخیص ممکن ہوتی ہے۔ علامات پر ہم نظر ڈالیں تو چھاتی میں درد محسوس ہونا جلد کا سرخ کھردرا ہونا چھاتی کے مختلف  حصوں یا پوری چھاتی پر سوجن جلن کا ہونا دھبے پڑ جانا بغل یا چھاتی پر گلٹی کا ہونا نپل میں تبدیلی سرخ ہونا  سخت ہونا سائز اور ان کی ساخت میں تبدیلی کا ہونا چھاتی  سے دودھ کے علاوہ خون یا کسی اور مادے کا اخراج یا پیپ کا نکلنا۔ اس کے علاؤہ جینیاتی وجوہات، خاندانی ہسٹری ماہواری میں بے قاعدگی،بچوں میں وقفے کی دوائیوں کا استعمال الکوحل کا زیادہ استعمال موٹاپا وغیرہ  اگر ان میں سے لگے یہ علامات آپ کو ہیں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں خود سے ڈاکٹر نہ بنیں یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ چھاتی کا سرطان ہی ہو گلٹی کی کئ اور بھی وجوہات ہوتی ہیں اس لیے وقت ضائع کئے بغیر اپنے معالج سے رابطہ کریں۔
    خواتین کو چاہیے کہ تیسں سال کی عمر میں پہنچ کر پانچ سال میں ایک مرتبہ اپنا میمو گرافی لازمی کروائیں اگر چالیس سال میں ہیں تو ہر دو سال کے بعد اپنا معائنہ کروائیں کیوں کہ چھاتی کے سرطان کا خطرہ اوسط چالیس سال کی عمر میں زیادہ ہوتا ہے اور پچاس سال کی عمر میں پہنچ کر ہر سال میمو گرافی کروانی چاہیے۔ چھاتی کے سرطان کی تشخیص کے لئے میمو گرافی کے علاؤہ تھری ڈی میموگرافی بریسٹ الٹراساونڈ ایم آرآئی ٹیسٹ بھی کیے جاتے ہیں انکے فوائد بھی ہوتے ہیں رسک بھی اس لئے خواتین ڈاکٹر کے مشورے سے ہی ٹیسٹ کروائیں۔
    ڈاکٹروں کے مطابق چھاتی کے سرطان کو چار سٹیج میں تقسیم کیا گیا ہے پہلی سٹیج میں سرطان چھاتی تک محدود رہتا دوسری سٹیج میں بغل تک تیسری میں گردن تک اور چوتھی سٹیج میں پھیپھڑوں، جگر،ہڈیوں اور جسم کے دوسرے دور دراز حصوں تک پہنچ جاتا۔ ہمارے یہاں دیکھا گیا ہے کہ چھوٹے شہر کی بات کریں یا کسی بڑے شہر کی پڑھے لکھے لوگ بھی اکثر ڈاکثر کے پاس جانے میں دیر کر دیتے ہیں اگر مریض پہلی یا دوسری سٹیج پر ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے تو اس سٹیج میں مرض قابل علاج ہوتا ہے مریض ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرے تو وہ مکمل صحت یاب ہو جاتا ہے۔سٹیج تیسری اور چوتھی میں مریض کا مکمل علاج بہت مشکل ہوتا ہے جتنا مرضی اچھا علاج کروا لے پیچیدگیوں کا سامنا درپیش رہتا ہے۔ مریض کو کس قسم کے علاج کی ضرورت ہے اس کا انحصار کینسر کی سٹیج اور اس کی قسم پر منحصر ہوتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ اس چیز کو سمجھیں کہ چھاتی کے سرطان کا اگر بروقت علاج کیا جائے تو یہ بیماری قابل علاج ہے۔
    خود کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لئے اپنا طرز زندگی بدلیں گھر کے کاموں سے فارغ ہو کر ورزش کریں روانہ کچھ دیر چہل قدمی کریں متوازن غذا کا استعمال کریں میں نے کوشش کی بہت سادہ الفاظ میں اس بیماری سے متعلق آگاہی فراہم کروں الفاظ کا چناؤ ایسا کروں کہ ہر کوئی میری بات با آسانی سمجھ سکے۔
    اپنا اور اپنے پیاروں کا خیال رکھیں ان سے بات کرتے رہیں انہیں وقت دیں اللّٰہ سب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے آمین ثم آمین۔۔!!
    از قلم : شائستہ سرور آرائیں
    @Shasii_Arain